جہاں بیٹی ماں کی کوزہ گری کرتی ہے

ایک عجیب سے خلجان میں مبتلا ہیں ہم! سمجھ ہی نہیں پاتے کہ اس سے ہمارا رشتہ ہے کیا؟ ایسا کب ہوا؟ احساس میں تبدیلی کب آئی،کچھ خبر نہیں۔ گزرے برسوں میں پلٹ کے دیکھتی ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ بہت نامعلوم طور پہ ہم دونوں نے ایک دوسرے سے اپنی جگہ بدلی ہے اور روایتی رشتہ کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ زندگی کے اس سفر میں بے شمار ذمہ داریوں کی گھٹڑی زاد سفر کے طور پہ ساتھ

Read more

کنول جھیل کا رستہ اور وہ لڑکی

میرا پاؤں کیبل میں الجھا، ایک سرے سے ٹرائی پاڈ پر رکھا کیمرا ڈول گیا، اور دوسرے سرے پر بوم راڈ کھنچ گیا، سبھی میری طرف متوجہ ہوئے، جس ناہنجار کی وجہ سے رکارڈنگ کا عمل ڈسٹرب ہو گیا تھا۔ ہدایت کار نے نا گواری سے کہا، ”کیا کر رہے ہو؟ تمھارا دھیان کہاں ہے“ ؟ یقیناً میرا چہرہ شرمندگی سے لال پڑ گیا ہو گا۔ میں واقعی وہاں تھا، نہیں تھا، کہیں اور کھویا ہوا تھا۔ جس چاند میں کھویا تھا، کنکھیوں سے اسے دیکھا وہ میری حالت پر زیر لب مسکرا رہی تھی۔ یہی کوئی چوبیس پچیس سال پرانی بات ہے، کنول جھیل کے اطراف میں ایک ٹی وی ڈرامے کی رکارڈنگ تھی۔ آج قریب اتنے ہی برس ہوئے، میں پلٹ کے کنول جھیل نہیں گیا۔

Read more

فلائٹ پی کے 8303 کے مسافروں کو تو گھر پہنچنا تھا

وہ چلے گئے۔۔۔ ابھی ان کے جانے کاوقت تو نہیں تھا۔۔۔۔ ان کی جانے کی کوئی تیاری نہ تھی۔۔۔ بہت سارے کام کرنے تھے انہوں نے ۔۔۔۔ ڈھیروں ادھورے سپنے دیکھ رکھے تھے۔۔۔۔ چھوٹے چھوٹے خواب تھے۔۔۔۔  ہاں یاد آیا۔۔۔ کچھ نہایت اہم چیزیں بہت سے وعدے بہت سی پلاننگز ایک نہایت اہم پراجیکٹ پے کام چل رہا ہے۔۔۔۔ جیسے ہی اس سے فرصت ملے گی دوستوں کے ساتھ کھانے کا پلان ڈن اگلے مہینے چھوٹی بہن کی سالگرہ آ

Read more

ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

بیج کو پودا، پودے کو درخت بننے میں خاصا وقت اور اچھی دیکھ بھال درکار ہوتی ہے۔ ایک خاص عمر کے بعد اس درخت کی جسامت پر کسی خزاں اور بہار کا کوئی اثر نہیں ہوتا سوائے پتوں کے جو خزاں میں گر جاتے ہیں اور بہا ر میں نئے نکل آتے ہیں۔ بعض درخت جن کی عمریں لمبی اور چھاوں بھی گھنی ہو تی ہے۔ وہ سب کے لیے خیر اور مل بیٹھنے کا بہانہ بن جاتے ہیں۔ افسانوی

Read more

پرواز پی کے 8303

شہادت کا رتبہ بہت عظیم سہی، والدین کبھی بھی اتنا حوصلہ نہیں رکھتے کہ جوان اولاد کی شہادت کی عظمت اپنے نحیف کندھوں پہ اٹھا سکیں۔ شہادت کی موت ہر ایک کا خواب ہو سکتی ہے لیکن ایک ماں ”خواب“ میں بھی اپنے بچے کی موت دیکھے تو اس کی روح تک لرز جاتی ہے۔ جب اولاد کے ”لاشے“ باپ کو وصول کرنے پڑ جائیں تو شہادت کی عظمت میں سر بے شک ”اٹھا“ ہو لیکن اولاد کی موت کا دکھ کندھے ”جھکا“ دیتا ہے۔ ساری عمر اولاد کو کندھوں پہ اٹھانے والے والدین عمر کے کسی بھی حصے میں اولاد کی ”میت“ کا بوجھ اٹھائیں تو جیتے جی مر جاتے ہیں۔

Read more

جانور راج! – فارم کیسا بن گیا؟

سال گزرے۔ موسم آتے اور جاتے رہے، جانور کی مختصر زندگیاں گزر گئیں۔ ایک وقت آیا کہ سوائے کلوور، بنجامن، منوا اور چند سؤروں کے سوا کوئی بھی ایسا نہ رہ گیا جسے انقلاب سے پہلے کا زمانہ یاد ہو۔

میورئیل مر چکی تھی؛ بلیو بیل، جیسی اور پنچر مر گئے تھے۔ جانی صاحب بھی مر گیا تھا۔ وہ کسی دور گاؤں میں ایک چانڈو خانے میں مرا تھا۔ سنو بال کو بھلا دیا گیا تھا۔ سوائے ان چند کے جو اسے جانتے تھے، باکسر کو بھی بھلا دیا گیا تھا۔ کلوور اب ایک بوڑھی، فربہ گھوڑی تھی، جس کی آنکھیں بہتی تھیں اور گھٹنوں کو گٹھیا مار گیا تھا۔ وہ ریٹائرمنٹ کی عمر سے بھی دو سال پھلانگ چکی تھی، مگر حقیقت میں کوئی بھی جانور کبھی بھی ریٹائرڈ نہیں ہوا تھا۔

Read more

سیکورٹی سٹیٹ، کرنیل اور ٹھیکیدار وغیرہ

آپ لوگوں میں سے جو کوئی بھی حالات حاضرہ سے باخبر رہنے کی عادت بد میں مبتلا ہے اسے ”لوٹ گیا، کھا گیا، بھاگ گیا، نہیں چھوڑیں گے، پیٹ پھاڑ دیں گے“ وغیرہ جیسی بڑھکوں سے گزرتے ہوئے اور وزیر نامہ کی دلدل میں سے پائنچے اٹھائے چلتے ہوئے بھولے سے میڈیائی درشن پا لینے میں کامیاب ہونے والی ایسی خبروں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جو کچھ دیر کو منہ کا ذائقہ خراب کر دیتی ہیں اور کچھ دیر کو آپ کے جذبہ ترحم کو ابھارتی ہوئی ”ہور سناؤ کی حال اے“ کی عافیت پر آکر دم توڑ دیتی ہیں۔ ان زہریلی، کٹیلی خبروں کا موضوع عوام نامی مخلوق ہوتی ہے کچھ اس طرح:

ریلوے کراسنگ پر پھاٹک نہ ہونے کے باعث بچوں کی سکول وین ٹرین سے ٹکرا گئی، اتنے بچے ہلاک ؛ فارم ہاؤس میں گائے گھس آنے پر وزیر مکرم کے محافظوں نے غریب کے گھر پر دھاوا بول دیا، بچوں سمیت سارا کنبہ حوالات میں بند ؛ نمبر دار کی شکایت پر تھانے میں پرائمری سکول ٹیچر کی چھترول ؛

Read more

اپنے مرد کا گناہ دوسری عورت کے سر پر کب تک؟

ہم میں سے کئی لوگ بالخصوص ٹویٹر صارفین عظمیٰ خان تشدد کیس کے بارے میں بخوبی جان گئے ہوں گے۔ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے ایک رشتے دار کا ماڈل و اداکارہ عظمیٰ خان سے معاشقہ ویب میڈیا کی زینت بن چکا ہے۔ پرنٹ میڈیا پر بھی شاید خبریں آئی ہوں لیکن نظر سے نہیں گزریں۔ عظمیٰ خان نے اس واقعے کے بعد لاہور پریس کلب میں میڈیا کانفرنس کی لیکن یہ کسی ٹی وی چینل پر نہ دکھائی گئی۔ البتہ یوٹیوب، انسٹاگرام، ٹویٹر وغیرہ پر اس کی موبائل سے بنی ہوئی وڈیوز ضرور موجود ہیں۔ ظاہر ہے ایسے سکینڈلز میں کوئی معروف شخصیت یا اس کا کوئی قریبی رشتہ دار ملوث ہو تو بھلا میڈیا کی جرات کہ وہ خبر دکھائے یا چلائے۔ البتہ ٹویٹر پر یہ ٹرینڈز بنتے رہے :

Read more

پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احسن: مسیحا روپ استاد کورونا سے ہار گیا

سنتے آئے ہیں کہ ڈاکٹر مسیحا کا روپ ہوتا ہے۔ جب میڈیکل کالج میں قدم رکھا تو بہت سے نام سنے اور پھر کئی معجزے دیکھے۔ اس زمیں پر اعجاز احسن کو وہ مسیحا پایا جو کہ اوتار تو نہیں تھے لیکن نو آموز ڈاکٹرز، سنئیر سرجن اور دکھیارے مریض ان کے سامنے عقیدت سے سرنگوں رہتے تھے۔ ان کے ہاتھ کا قلم و نشتر اتنے احسن طریقے سے اعجاز رقم کرتا کہ مادر زاد روگی اپنے دکھوں کی پوٹ

Read more

خاندانی لوگ اور انسانی محبت

سردیوں کی ایک یخ بستہ شام میں اور میرا بیٹا حسن اپنے فلیٹ کے فرنٹ روم میں ہیٹر کے آگے بیٹھے کافی پی رہے تھے۔ بابا جان۔ میری ایک دوست اور کلاس فیلو آپ سے ملنا چاہتی ہے۔ بیٹے نے کہا۔ کیوں کوئی خاص بات ہے، میں نے پوچھا۔ باباجانی، کوئی خاص بات نہیں، بس اس نے تین چار دفعہ آپ سے ملنے کا اشتیاق ظاہر کیا۔ خیر رہنے دیں اگر آپ مصروف ہیں تو کوئی بات نہیں پھر کبھی

Read more

بچھڑنا مقدر تھا

” بیٹا تم ایک بار پھر سوچ لو اس بارے میں۔“ ”امی، جب مجھے اتنی جلدی شادی کرنی ہی نہیں ہے اور نہ ہی اتنی دور جانا ہے تو پھر آپ کیوں زور دے رہی ہیں؟“ اریبہ نے جھنجھلاتے ہوئے لہجے میں پوچھا۔ ” جلدی تو نہیں ہے خیر صحیح عمر ہے بیٹا یہ۔ گریجویشن بھی مکمل ہو گیا ہے اور ماسٹرز تو تم شادی کے بعد بھی کر سکتی ہو۔ بلکہ جو بھی کرنا چاہو وہ کر سکتی ہو،

Read more

جب ٹیگور اور دیگر کے نوبل پرائز چوری ہوئے۔۔۔

اس دنیا میں شاید ہی کوئی شریف شخص چوروں کے ہاتھوں کی کارستانی سے محفوظ رہا ہو! ہر کسی کو اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی چھوٹے یا بڑے چوروں کی مصیبت سے نبرد آزما ہونا ہی پڑتا ہے، مگر یہاں ذکر ایک بعد از وفات چوری کی ہو رہی ہے، جو بھی کسی عام شخص کی نہیں، بلکہ مشہورعالم بنگالی و انگریزی شاعر، اسکالر، مصور، ڈرامہ نویس، تھیئٹر اداکار و ہدایتکار، شانتی نکیتن میں ”وسوا بھارتی“ جیسی عظیم درسگاہ

Read more

طیارہ حادثے میں شہید ہونے والا سید دانش اور اس کے دوست

سید دانش جیسے ہنس مکھ، خوبرو، خوش شکل، خوش اخلاق اور خوش گفتار نوجوان کو مرحوم لکھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے، روح تڑپ اٹھتی ہے اور دل گھائل ہو جاتا ہے۔ دانش بلا شبہ ان نوجوانوں میں سے تھا جو پہلی ملاقات میں ہی دل میں اتر جاتے ہیں۔ سرخ و سفید رنگ، گلابی ہونٹ، گہری نیلی آنکھیں جن میں اپنائیت جھلکتی تھی، ملائم، چمکیلے سنہری ریشمی بال اور داڑھی، روشن اور کشادہ پیشانی، موتیوں جیسے چمکتے دانت،

Read more

کیا آپ محمڈن ہیں؟

محمڈن۔ کیا آپ محمڈن ہیں؟ یہ جملہ آج سے برسوں پہلے میں نے بھارت کی راج دھانی میں ایک ہندو رائٹر سے سنا تھا۔ مگر یہ فقط جملہ نہ تھا ایسی کیفیت تھی جس سے اس سے قبل میں آشنا نہ تھی۔ محمڈن۔ میں کبھی اسے بٹ بٹ دیکھتی تھی۔ اور کبھی اپنے میلے، غلیظ و جود کو، جسے اتنی بڑی فضیلت کھڑے کھڑے مل گئی تھی۔ مگر کیا میں واقعی اس قابل تھی کہ محمڈن کہلا سکوں؟ محمڈن۔ جیسے

Read more

یہ ہوتا ہے لیڈر، یہ ہوتا ہے میٹر

ٹی وی پر ایک ہونہار اینکر نے شیخ رشید سے پوچھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کیسے انسان ہیں۔ شیخ رشید نے کہا اور بہت پیار سے کہا کہ وہ میٹر آدمی ہیں۔ پہلے تو مجھے بھی تھوڑا سا پیار آیا کیونکہ شیخ رشید صاحب کے لہجے میں وہ شفقت تھی جو ماں کے لہجے میں ہوتی ہے، جب بیٹا تین بار فیل ہونے کے بعد پاس ہوتا ہے یا جب رسہ گیر کا بیٹا اپنی پہلی بھینس چوری کر کے گھر لاتا ہے۔

شیخ رشید نے عید کے سیزن میں ہر ٹی وی چینل کو برابر عیدی دی ہے۔ پہلے عید شوز پر فلمی ستاروں وغیرہ کو بلایا جاتا تھا، اب کون سا شان اور کون سی ریما۔ ہر طرف شیخ صاحب ہی شیخ صاحب تھے۔

Read more

عیدالفطر سے جڑی کچھ خوشگوار اور کچھ دل فگار خبریں

اس عید کے موقع پر جہاں ایک طرف کئی خوشگوار خبریں سننے کو ملیں تو دوسری طرف کچھ ایسے واقعات بھی پیش آئے جن سے دل بڑا رنجیدہ ہوا۔ خوشگوار خبروں میں سے پہلی خبر یہ تھی کہ طویل عرصے کے بعد ملک کے چاروں صوبوں نے دو اور تین عیدوں کی بجائے ایک ہی دن کو ایک ہی عید مناڈالی۔ بعض لوگ عید پر اس اتحاد کا کریڈٹ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی جناب فواد چوہدری کو دیتے ہیں جبکہ

Read more

سانحہ کراچی اور انسانیت کی سودے بازی

سانحہ کی بحث زندگی اور موت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ سانحہ کی مختصر تعریف یہ ہو گی کہ ”ایسی موت جس سے ہر آنکھ اشکبار ہو اور انسان کے دل میں دکھ کا احساس پیدا ہو اس کو عمومی طور پر سانحہ کا نام دیا جاتا ہے۔ کچھ سانحات ایسے ہوتے ہیں جن سے فقط چند انسان متاثر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی کا جوان بیٹا فوت ہو جائے تو یہ محض والدین یا اس کے

Read more

سیانے کی بات: ٹینڈے سے ٹِنڈ تک

ہمارے ہاں گرمیوں کا موسم جہاں اور بہت سی سوغاتیں لے کر آتا ہے وہاں ایک سوغات ٹِنڈ بھی ہے۔ گویا ایک خاص عرصے میں جس طرح ہمارے ہاں ٹِینڈوں کا موسم ہوتا ہے ویسے ہی ٹِنڈوں کا موسم بھی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں کے نام ہی نہیں شکل میں بھی اچھی خاصی مماثلت پائی جاتی ہے اور چھونے میں بھی دونوں ایک جیسے ”کُولے“ یعنی نرم و ملائم اور ریشمی محسوس ہوتے ہیں۔ ویسے ان

Read more

اقبال اور ہم نوجوان

کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے؟
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے ایک ٹوٹا ہوا تارا
اقبال کا پیغام اور ہم نوجوان!
ملت واحدہ کا قیام، ملت اسلامیہ کا دوام، مرد مومن کے لیے علم لولاک کا مقام ہے۔

پاکستان کی آبادی میں نوجوان 70 فیصد ہیں جو پاکستان کا مستقبل ہیں۔ پاکستان کے نوجوان مایوسی کا شکار ہیں کیونکہ پاکستان میں ایسی مشکل صورتحال ہے جس سے آج کا نوجوان کنفیوز ہے۔ نوجوان اگر علامہ اقبال کی فکر اور فلسفے سے راہنمائی حاصل کریں تو وہ یقیناً مثالی اور معیاری انسان بن کر پاکستان کی بہتر خدمت کر کے پاکستان کے تمام مسائل حل کر سکتے ہیں۔ اقبال نے اپنے نوجوانوں سے امید لگائے ہوئے ہیں لیکن علامہ اقبال اپنی نسل کے بزرگوں سے بہت مایوس تھے کیونکہ وہ جمود اور تقلید کا شکار تھے اور تبدیلی پر مائل نہیں ہوتے تھے علامہ اقبال نے بزرگ نسل کے بارے میں یہ کہا تھا

Read more

غیر قانونی مگر جائز؟

گلگت بلتستان کا نام سنتے ہی ذہن میں قدرت کے شاہکاروں کا ایک نقشہ سا کھنچ جاتا ہے جس کا تصور کرنا، تصور بہشت سے کہیں کم نہیں! جہاں لوگ اس کے قدرتی حسن اور مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں وہیں اس کے باسیوں میں ایک طرح کا خلاء پایا جاتا ہے جسے تشخص کا خلاء کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ جہاں اس خطے کو اپنی قدرتی حسن کی بدولت دنیا میں ایک مقام حاصل ہے وہی پہ

Read more

عمران خان کا ویژن اور ہمارے راؤ غلام مصطفیٰ

عزیزم راؤ غلام مصطفیٰ کی تحریریں ”ہم سب“ کے لئے تواتر سے موصول ہوتی ہیں اور رائے کے کسی ممکنہ اختلاف سے قطع نظر من و عن شائع کی جاتی ہیں۔ راؤ غلام مصطفیٰ زود نویس ہیں۔ ان کی تحریروں میں وسطی پنجاب کے متوسط طبقے کے تاریخی شعور اور سیاسی نفسیات کی جھلک ملتی ہے۔ مہ و سال کے اعتبار سے راؤ صاحب اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے عہد میں سن

Read more

پی کے 8303 کی ہونہار نیلم برکت علی

جمعۃ الوداع کی روز گرنے والے پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 میں ہواباز اور کپتان سجاد گل سمیت ستانوے روشن چراغ گل ہو گئے۔ ہر متاثرہ شخص اپنی زندگی میں چمکتا دمکتا ستارہ تھا۔ اپنے خاندان کے باغ کا گل تھا، جن کے دم سے بہار بھی بہار تھی اور خزاں بھی دل کش معلوم ہوتی تھی۔ افسوس کہ ان سب گلوں میں نامکمل رنگ بھرے گئے تھے، جن کی زندگیوں کے الاؤ بیچ آسماں کے بجھنے تھے سو زندگی کی اوطاق پر جلتی سب روشنیاں مدھم ہوگئیں جو دوبارہ کبھی روشن نہ کی جائیں گی۔

Read more

کرنل کی بیوی: تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے

مادر وطن میں چیک پوسٹوں کی اتنی بہتات ہے کہ بعض اوقات یہ چیک پوسٹوں کا دیس لگتا ہے۔ قومی شاہراہوں، بین الصوبائی شاہراہوں اور اندرون شہر شاہراہوں پر رکاوٹیں اور تحکمانہ انداز میں پوچھ گچھ، سامان تلاشی، جامہ تلاشی اور گاڑی تلاشی دیکھ کر انسان اپنے آپ کو ایک اجنبی، جاسوس اور خطرناک مفرور تصور کرنے لگتا ہے۔ صرف راولپنڈی اور اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں سو سے اوپر چیک پوسٹیں ہیں جہاں پر موجود اہلکار شہریوں

Read more

سنہ 2020 کی لاپتہ عید

غم کیا ہے، کسی غمزدہ آنکھ سے پوچھیے۔ موت کے رقص میں زندگی کے معنی کیا ہیں، خوف سے پوچھیے۔ سانس سے وابستہ آس کیا ہے، اُمید سے پوچھیے۔ گذشتہ جمعے کو آس، اُمید، زندگی سب ہار گئے۔۔۔ جیتا تو فقط خوف۔

کورونا کے خوف کے سائے میں عید پہلے ہی کچھ خاص پر لطف نہ تھی اور پھر جہاز کے حادثے نے تو گویا تمام رنگ ہی چھین لیے۔

Read more

میرا بچپن، میرے جگنو، میری گڑیا لا دو

بچپن کا دور کسی بھی انسان کی زندگی کا سب سے یادگار دور ہوتا ہے جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ یہ وہ قیمتی متاع ہے جس کے کھونے کا اور دوبارہ نہ پا سکنے کا دکھ اسے ساری زندگی رہتا ہے۔ بچپن کا دور بے فکری کا دور ہوتا ہے۔ جو خوشیوں سے بھرا ہوتا ہے۔ اس دور میں اگر دکھ بھی ملیں تو ہنس کر سہنے اور انہیں دل سے نہ لگانے کی عجیب خاصیت انسان میں موجود ہوتی ہے۔ بچپن کی اہمیت تب سمجھ آتی ہے جب ہم بچپن کی دہلیز پار کر چکے ہوتے ہیں۔ بچپن ہماری حسین یادوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ یہ یادوں کی وہ پٹاری ہے جسے ہم تا مرگ سنبھال کر رکھتے ہیں۔ کہنے کو تو بچپن چار حروف کا مجموعہ ہے مگر یہ اپنے اندر ایک الگ ہی دنیا رکھتا ہے۔ بقول شاعر

Read more

تبلیغی جماعت اور نور کی چادر

وہ مجھے تبلیغی جماعت کے اجتماع میں لے جانا چاہتے تھے تبلیغ اور تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ میں بنیادی طور پرایک غیر مذہبی قسم کا انسان ہوں۔ جب چھوٹا تھا تو گھر قرآن بھی پڑھایا گیا، نماز بھی سکھائی گئی۔ اسکول میں بھی نماز پڑھتا تھا اور گھر میں دادی جان ہمیشہ نماز کے وقت ٹوک دیا کرتی تھیں کہ نماز پڑھ لو۔ جب تک وہ زندہ رہیں میں پابندی سے نماز پڑھتا رہا۔ ان کی موت کے بعد بھی کافی دنوں تک نماز میں بے قاعدگی نہیں ہوئی مگر کالج آکر کچھ ایسا ہوا کہ ظہر کی نماز پابندی سے چھوٹنے لگی۔ پھر نہ جانے کیسے میں نے پانچ وقت نماز پڑھنی چھوڑ دی تھی۔

Read more

جنسی آسودگی کا خواہشمند شاعر: میرا جی

ایسی شاعری جس کی دنیا میں تخلیقی اظہار کے حدود اخلاقیات کے دائروں میں محدود ہوں۔ جہاں عاشق کا پیشہ محبوب کے حسن کے بیان اور وصال کے تصور پر قائم ہو۔ ہجر اور فراق کے راگ الاپنا اس کا مقدر قرار دیا گیا ہو۔ وہاں عورت کے جسم کے حصول کی باتیں کرنا۔ یا اس سے وابستہ مرد کی جنسی خواہش اور نفسیاتی الجھنوں کے زائیدہ کرب کا اظہار روایتی شعر ی طریقہ کار سے سراسر انحراف ہی ہوسکتا

Read more

ہمارے بچپن کی عید

شام سے ہی عید کی تیاری شروع ہو جاتی، چاند دیکھنے کا اہتمام ہوتا، چھت پر چڑھ کر چاند دیکھنے کی ناکام کوشش کی جاتی، ہر بندہ چھت پر چڑھا ہوتا، جدھر نظر جاتی بندے نظر آتے سب چھت پر چڑھ کر چاند کو ڈھونڈ رہے ہوتے، چاند صاحب کو اپنی اہمیت کا اندازہ ہوتا اس لیے وہ کہیں دور پہاڑوں کے اس پار چھپے ہوئے ہماری بے تابی اور اضطراب سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے اور اپنے سب عاشقوں کی بے قراری اور بے کلی کو دو چند کر رہے ہوتے، آتش شوق کو اور بھڑکا رہے ہوتے۔

Read more

چند سیکنڈ میں رن وے تک : ائر بس 320 کے کریش ہونے کے تناظر میں ایک سچی کہانی

کراچی میں جناح ائرپورٹ کے رن وے کے قریب پی آئی اے ائر بس 320 کے کریش ہونے کے تناظر میں ایک سچی کہانی۔

اس کی عمر 34 سال تھی۔ وہ لندن میں پی ایچ ڈی کی سٹوڈنٹ بھی تھی۔ اللہ نے اس کو تین خوبصورت بیٹے عطا کیے تھے۔ برطانیہ میں کرونا وائرس کے خطرناک دنوں میں وہ بہت اداس رہتی تھی۔ ہر روز شام کو اپنے گھر کی بالکونی پر کھڑے ہو کر وہ اپنے شوہر سے کہتی ”میں پاکستان جانا چاہتی ہوں۔ مجھے پاکستان لے چلو“۔

Read more

لاشوں سے لقمے اٹھانے والے گدھ

یہ جملہ نہیں ایک طمانچہ ہے، جو ایک سیاسی رہنما نے بڑی بے رحمی سے نام لے کر ملک کے نامور ترین صحافی کو مارا ہے۔ نہ تو نام ضروری ہیں اور نہ ہی اس بحث کی اہمیت کہ کیا اپنایا گیا لب و لہجہ شائستگی اور تہذیب سے باہر تھا یا فرد کے حق آزادی اظہار رائے کے اندر۔ اصل اہمیت اس مسئلے کی ہے جس کی طرف جانے انجانے میں اشارہ کیا گیا ہے اور وہ ہے قومی

Read more

اور پھر جمہوریت کفر نہ رہی۔۔۔

ہمارے دیس کا ہر شہر اپنی مثال آپ ہے۔ مگر جس جگہ آپ کا جنم ہوتا ہے بچپن اور جوانی گذرتی ہے وہ جگہ آپ چاہتے ہوئے بھی بھول نہیں سکتے اس جگہ سے پیار ایک فطری عمل ہے۔ ساندل بار کی اس بستی کا تین بار نام بدلنے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ ہمارا یہ وسیب جہاں ماں باپ سے زیادہ بستی کے لوگ ایک دوسرے کا خیال کرتے تھے۔ بزرگ برا بھلا سمجھایا کرتے تھے۔

Read more

علمائے کرام اور وسعت قلبی کی ضرورت

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اختتام کو پہنچا۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہوں نے اس مہینے کے فیوض و برکات کے حصول کے لئے عبادتیں اور ریاضتیں کیں اور اپنی آئندہ زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کا عہد کیا۔ دوسری طرف ہمارے ٹیلی ویژن چینلز نے حسب سابق بے مقصد اور بھونڈے پروگراموں کے ذریعے نوجوان نسل کے شکوک و شبہات میں اضافہ کیا۔ خصوصا ایک چینل پر نشر ہونے والے پروگرام، جس میں تمام فرقوں یا

Read more

سائنسی چاند بمقابلہ رویتی چاند

بچپن میں دادی نانی سے سنا کرتے تھے چندا ماموں دور کے بڑے پکائیں بور کے۔ ۔ ۔ اپ کھائیں تھالی میں ہم کو دیں پیالی میں۔ ۔ ۔ پیالی گئی ٹوٹ۔ ۔ ۔ چندا ماموں گئے روٹھ۔ اور یہ کہ چاند پر ایک بوڑھی ماں چرخا کاتتی ہے۔ اس کے بعد لڑکپن کا دور آیا تو اردو ادب کے شاعروں کا چاند دل کو بھانے لگا اور گھوڑا گھاس کھاتا ہے کے مصداق ہمیں بھی اپنے اردگرد چاند کی

Read more

رند و زاہد بہک رہے ہیں

ارسطو ( 384۔ 323 ق م) سے منسوب اس قول کو عمرانیات اور سیاسیات کے دانشور صدیوں سے بیان کرتے آ رہے ہیں کہ انسان ایک سماجی جانور ہے۔ جہاں ارسطو نے کم سے کم الفاظ میں جو کہنا تھا وہ کہہ ڈالا وہیں اس نے انسان اور جانور کا موازنہ بھی کر ڈالا ورنہ کہاں جانور اور کہاں انسان! بعد کے دانشوروں نے وہی بات اپنے اپنے الفاظ میں ایسے ادا کی کہ سچ بھی بیان ہو جائے اور

Read more

بادشاہ کی رحم دلی اور انصاف کی تلوار

برسوں پہلے کا قصہ ہے۔ ہر طرف خوشحالی تھی۔ راوی ہر وقت چین ہی چین لکھتا رہتا تھا۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ پہ پانی پیتے رہتے تھے۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ پہ پانی کیوں نہ پیتے بادشاہ سلامت جو انصاف پسند ہوئے۔ انصاف بھی وہ جس کے چرچے چار سو۔ کامیابی وہ جو دشمن مانے۔ اپنے تو اپنے بیگانے بھی بادشاہ سلامت کے انصاف کے تعریف کیے بنا نہ رہتے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں تھی مقدمہ اگر بادشاہ سلامت کے حضور پہنچا تو پھر انصاف ہو کے رہے گا۔

Read more

عید الفطر: میر باقر علی داستان گو اور سو برس پہلے دلی کی عید

داستان گوئی ہندوستان کی ایک قدیم صنف ہے جس کا آغاز 16ویں صدی میں ہوا اور یہ سلسلہ 20ویں صدی کے تیسرے عشرے تک جاری رہا۔

اس سلسلے میں جن داستان گو شخصیات نے شہرت پائی ان میں محمد حسین جاہ، احمد حسین قمر، میر کاظم علی اور میر باقر علی کے نام سرِفہرست ہیں۔

ان تمام شخصیات میں میر باقر علی نے داستان گوئی کے فن کو جو جہت عطا کی وہ دوسروں کے حصے میں نہیں آئی۔ ان کی داستان گوئی کا زمانہ وہی ہے جو پارسی تھیٹر کے عروج کا زمانہ ہے۔

پارسی تھیٹر کے اداکار جدید تکنیک سے آراستہ ہونے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں تو میر باقر علی داستان گوئی کی

Read more

علما کرام اور وسعت قلبی کی ضرورت

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اختتام کو پہنچا۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہوں نے اس مہینے کے فیوض و برکات کے حصول کے لئے عبادتیں اور ریاضتیں کیں اور اپنی آئندہ زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کا عہد کیا۔ دوسری طرف ہمارے ٹیلی ویژن چینلز نے حسب سابق بے مقصد اور بھونڈے پروگراموں کے ذریعے نوجوان نسل کے شکوک و شبہات میں اضافہ کیا۔ خصوصاً ایک چینل پر نشر ہونے والے پروگرام، جس میں تمام فرقوں یا

Read more

وبا کے دنوں کا رمضان

ایک زمانہ ہونے کو ہے آوارہ گردی اور بیٹھکوں کا شوق موقوف ہوئے۔ اب گھر میں سوا قرار ملتا ہے اور آسودگی۔ وگرنہ کوئی دن تھے کہ ملتان نامی اس شہر قدیم کی شب کا دوسرا، تیسرا پہر ہمیں شہر کی راہوں، شاہ راہوں کا سینہ روندتے پاتا یا پھر کسی شب زندہ دار چائے خانے کی نیم شکستہ کرسیوں اور بنچوں کی پشت پر۔ دو تین وجوہات ہیں اس کایا پلٹ کی۔ ایک تو وہ جو ندیم ہائے دیرینہ تھے اور راز داران شب و روزینہ، پتہ نہیں انہیں کیا جلدی تھی کہ قریباً سب کے سب ہی موت کا جام چڑھا گئے۔ اب آوارہ گردیوں میں قدم سے قدم ملانے والا کوئی نہیں رہا ماسوائے ملک فیاض اعوان کے، اللہ پاک اسے صحت و تندرستی کے ساتھ تادیر سلامت رکھے۔

Read more

غلام نسلوں کا واویلا

کرنل محمد فاروق نے اگست دو ہزار اٹھارہ میں ایبٹ آباد کے مقام پر پولیس کے ساتھ بدتمیزی کی، انہیں گالیاں تھیں اور انہیں پیچھے سے گولی مارنے کی دھمکی دیتے ہوئے قانون کی دھجیاں اڑائیں، بدلے میں پولیس افسر نے بھی کمال بہادری کا مظاہرہ کیا اور وہی گالیاں بالکل اسی انداز میں کرنل کو بھی دے ڈالیں اور دونوں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، معاملہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ تک پہنچا جس پر انھوں نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کرنل فارق کا کوئٹہ ٹرانسفر کر دیا اور یوں معاملہ رفع دفع ہوگیا۔

Read more

کورونا کو ہم جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں

عرفان صاحب کے گھر میں دو کمرے ہیں اور ایک لاؤنج ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ان صاحب کو کرونا کا مرض لاحق ہو گیا ہے اور وہ کافی بڑھ گیا ہے۔ شدید بخار ہے اور سر میں درد بہت زیادہ ہے۔ سانس لینے میں دشواری اتنی شدید ہے کہ اپنے ہی کمرے کے ساتھ ملحق باتھ روم تک جانے سے بھی ان کی سانس اکھڑ جاتی ہے۔ ان کے کمرے کے ساتھ لاؤنج ہے۔ لاؤنج میں ان کی بیگم رہ رہی ہیں۔ انہیں بھی کرونا کی علامات شروع ہوچکی ہیں اور ان کا ٹیسٹ بھی پازیٹیو آیا ہے۔

Read more

طیارہ حادثہ، شکوہ یا جواب شکوہ

ملیر ماڈل کالونی کی گلیوں میں ایک ادھیڑ عمر مجہول شخص جذب کے عالم میں حمزہ، حمزہ پکار رہا تھا۔ اس کا گریبان چاک تھا اور بال بکھرے بکھرے ہوئے تھے۔ سرخ آنکھوں سے امڈتے آنسو گویا سمندر کی بے لگام لہروں کی طرح بے بسی کے اظہار کے بجائے ایک خطرناک طوفان کے آنے کا پتہ دے رہی تھیں۔ درجنوں کی تعداد میں موجود ایدھی اور چھیپا کی ایمبولینسز کانوں کو چیر دینے والے سائرن سیکڑوں رضاکاروں، پولیس، رینجرز اور آرمی کے دستوں اور میڈیا کے نمائندوں اور اردگرد کے رہائشیوں کے چیخنے چلانے کے باوجود ادھیڑ عمر مجہول کی صدا آسمان کا سینہ چیرتی ہوئی اپنے خالق سے شکوہ کناں تھی۔

Read more

وہ جنھیں موت کھینچ کر حادثے والے طیارے میں لے گئی

جمعہ کو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے طیارے پی کے 8303 کو کراچی میں پیش آنے والا بدنصیب حادثہ کئی کہانیاں اور انمٹ نقوش چھوڑ چکا ہے جو اس حادثے کے متاثرین کے لواحقین کو ہمیشہ یاد رہیں گے۔

ایسا ہی ایک واقعہ اس پرواز کے عملے میں شامل ایئر ہوسٹس انعم خان کا ہے جو اس طیارہ حادثے میں ہلاک ہو گئی ہے۔

Read more

جانتے نہیں ہو میں کون ہوں؟ کیونکہ ہم حیوانوں کے معاشرے میں بستے ہیں

ایک کرنل صاحب کی بیوی کی چیختی چنگھاڑتی وڈیو سامنے آئی ہے اور جس انداز تنفر سے وہ پولیس والوں سے مخاطب ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد ان کو سوشل میڈیا پر ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور وہ ہر جگہ ہر وال پر ٹاپ ٹرینڈ رہیں۔

لیکن سوچ رہی ہوں کیا یہ اختیارات حاصل ہونے کا اپنے آپ کو زمین کا خدا سمجھنے کا کوئی پہلا واقعہ ہے۔ کیا اس قوم پر مسلط فرعونوں کا عذاب ختم ہوگیا ہے؟

Read more

محتاجوں کو عزت نفس سے آشنا کیجئے!

شاہد کاردار عالمی بنک کے نائب صدر اور پنجاب کے وزیر خزانہ رہنے کے بعد پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے چیئرمین تعینات ہوئے۔ ایک روز مجھے بتایا گیا کہ تھوڑی دیر میں پیف کے سربراہ پہنچنے والے ہیں۔ ادارے کے پی آر او سے کچھ معلومات لے کر سوالات ترتیب دیے۔ شاہد کاردار پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان حفیظ کاردار کے فرزند ہیں، یہ ان سے پہلی ملاقات تھی، بھلے آدمی ہیں۔ اپنی بات جلدی مکمل کرتے ہیں۔ 52 منٹ کے ٹی وی پروگرام کے لئے میں نے معمول سے دو گنا سوال تیار کیے۔

پروگرام 47 منٹ چلا کہ میرے سوالات شاہد کاردار کی سبک گفتاری کے باعث ختم ہو گئے۔ شاہد کاردار نے اپنی بات یوں ختم کی کہ ان کا ادارہ غریب بچوں کو کتابیں اور یونیفارم دیتا ہے۔ دور دراز کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں والدین بچوں کو کپڑے تک نہیں دے سکتے۔ ان علاقوں میں کئی بار ایک بچہ دو سکولوں میں داخل کرایا جاتا ہے تاکہ اسے دو یونیفارم مل جائیں یوں وہ پورا سال ان دو وردیوں میں گزار دیتا۔ میرے ہاتھ پروگرام کا وقت پورا کرنے کا سرا آ گیا۔

Read more

ابن آدم پہ ہاتھ ذرا ہلکا رکھے

رب تعالیٰ نے تخلیق کائنات کے بعد دو جنسوں کو بھی تخلیق کر دیا۔ ان کی تخلیق کا مقصد ایک دوسرے کے ساتھ پیار و محبت کا سلوک روا رکھنا، دکھ درد بانٹنا اور ایک اچھا رفیق بننا تھا۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ مرد اور عورت انسانی زندگی کی گاڑی کے دوپہیے ہیں، کوئی بھی گاڑی ایک پہیہ سے مسافت طے نہیں کرسکتی۔ چنانچہ زندگی کے بناؤاوربگاڑمیں دونوں جنسوں کا برابر کاہاتھ ہوتاہے۔ مگر بد قسمتی سے صدیوں

Read more

پاک آرمی کو خدا سلامت رکھے

جب انسان بچہ ہوتا ہے۔ تب اس کے والدین ہر وقت اس کے آگے پیچھے لٹو ہوئے پھرتے ہیں۔ ادھر اس کے منہ سے ایک چھوٹی سے آہ نکلی نہیں کہ ادھر اس کے ماں باپ اس کے پاس دوڑے چلے آتے ہیں۔ یہ پوچھنے کے لیے کہ ہمارے فرزند کو کچھ ہوا تو نہیں۔ پھر جوں جوں بچہ پروان چڑھتا ہے۔ تب والدین کے دل میں بچے کے لیے فکر اور بھی بڑھنے لگتی ہے۔ کہیں کسی موڑ پر

Read more

شرمسار باپ کا خواجہ سرا کو آخری پیغام

جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے گھر میں خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ لوگ مبارک باد دیتے ہیں۔ مٹھائیاں تقسیم ہوتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے۔ فلاں کے گھر بچہ ہوا ہے۔ کئی خوبصورت نام ڈھونڈنے کے بعد سب سے خوبصورت نام رکھا جاتا ہے۔ اور جب تک وہ انسان اس دنیا میں زندہ رہتا ہے اسے اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔ میرا نام تو رکھا گیا پر عارضی کہا نام تو بڑے ہوتے ہی اس نے تبدیل کرلینا ہے میں وہ بچہ تھا جسے پیدا تو کیا گیا مگر اس کے آنے پہ خوشیاں نہیں منائی گئی پہلے تو میرے پیدا ہونے کو چھپایا گیا اور جب بات پھیلی تو لوگوں نے مبارک باد کی جگہ میرے گھر والوں سے افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

میرے پیدا ہوتے ہی گھر میں طوفان برپا ہوگیا۔ ابو نے تو اسی وقت کہا مار دو اسے۔ لیکن وہ کہتے ہیں نہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ سو یوں زندگی میں درد برداشت کرنے کے کے لئے میں زندہ بچ گیا۔ میں وہ زندہ انسان تھا جسے نہ زندوں میں شمار کیا جاتا ہے نہ مردوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ جب ہم یہ کہتے ہیں ہر شخص کو اللہ پیدا کرتا ہے اور کائنات کی ہر شے کو بنانے والا اللہ ہے تو پھر ہم جیسوں کو بنانے پہ اعتراض کیوں ہوتا ہے لوگوں کو؟

Read more

نواب رئیسانی اور بلوچستان کا ناکام مقدمہ

بلوچستان کی دھرتی کو ہم ماں سمجھتے اور ماں کہتے ہیں۔ ماں کی طرح اس کی عزت و تکریم کرتے ہیں۔ اس کے ریگستانوں اور پہاڑوں سے پیار کرتے ہیں۔ اس دھرتی پر بسنے والی تمام ماؤں کے دکھ کو سمجھتے ہیں۔ ہر بیٹے کی طرح اس کی تکلیف پر بے چین ہو جاتے ہیں۔ لیکن آج یہ سسکیاں لے کر رو رہی ہے۔ شاید اس لیے کہ اس کا مان ٹوٹ چکا ہے۔ اس پر بھروسا نہیں کیا جا رہا۔ کیا یہ بانجھ ہو چکی ہے۔ کیا اس دھرتی ماں نے کوئی ایسا سپوت نہیں جو اس کے حقوق کا دفاع کر سکے اس کا قرض لوٹا سکے۔ اس کے پرانے زخموں پر مرہم رکھ سکے۔

Read more

سجدہ سہو

سعدیہ پانچوں نمازیں پڑھتی اور پانچوں وقت سجدہ سہو کرتی۔ انتہای توجہ سے نماز کا آغاز کرتی۔ رکوع سجود میں آہستگی برتتی، الگ الگ لفظ ادا کرتی مگر نہ جانے لڑی کہاں سے ٹوٹتی، موتی کدھر سے بکھرتے کہ آخیر تک پہنچتے پہنچتے گمشدہ ہو جاتی۔ کتنی رکعت ہو گییں اور کتنے سجود کچھ حساب نہ رہتا۔ فقط رہ جاتی اک نارسای۔ ایسی ٹوٹی پھوٹی عبادتوں کو جوڑ لگانے کا ایک ہی طریقہ تھا اس کے پاس، سجدہ سہو! تین

Read more

سڈنی شیلڈن: خود کشی سے مقبول ترین فکشن رائٹر تک

”سترہ سال کی عمر میں شکاگو میں ڈرگ سٹور پر ایک سامان پہنچانے والے لڑکے کے طور پر کام ایک بہترین نوکری تھی۔ کیونکہ اس کے ذریعے خودکشی کے لیے نیند کی گولیاں چرانا ممکن تھا۔“ منصوبہ بندی کے عین مطابق سڈنی نے گھر میں بیس گولیاں اور شراب اکٹھی کرلی کیونکہ نیند کی گولیاں اور شراب ایک مار دینے والا جوڑ ہیں۔ گھر کی تنہائی میں سڈنی جب منصوبے کی تکمیل کے لیے ہاتھ میں گولیاں لیے موت سے

Read more

جماعت اسلامی کے ایک پڑھے لکھے دانشور کا المیہ!

محترم شاہ نواز فاروقی۔۔۔ جماعت اسلامی کے پڑھے لکھے افراد میں شمار ہوتے ہیں اور جماعت کے آرگن روزنامہ جسارت میں کالم لکھتے ہیں۔ ان سے میرا غائبانہ تعارف ہے اور میں ان کی مختلف وڈیوز دیکھتی رہتی ہوں اسی لئے مجھے ان کی فکر سے کچھ آگہی ہے بالخصوص ان کی سر سید احمد خان پر تنقید اورتحریک علی گڑھ کے منفی نتائج۔ موصوف کا ایک حالیہ کالم روزنامہ جسارت میں مورخہ17 مئی 2020ء کو شائع ہوا ہے (https://www.jasarat.com/2020/05/17/200517-03-7/)

Read more

اماں جس پر لکھتے لکھتے یہ دن آ گیا

میں اور اماں دو پکی گوڑی سہیلیاں اوپر تلے کی جیسے دو بہنیں ایک گھر میں مثل دو سوکنیں میرے بہت سے رشتوں کی ابتدا اور انتہا ان کی ذات سے شروع ہو کر ان پر ہی ختم ہوتی تھی صبح اگر پانی پت کا میدان گرم ہوتا تو شام کو ہم گھنٹے سے گھٹنا جوڑے اپنا ”کیتھارسس“ سیشن جاری کرتیں پھر دل کی چال چلتی اماں کو برین ہیمرج ہو گیا اور میں نے پورے پچیس دن ان کا

Read more

جھولی پھیلانے کی جسارت

جب حاکمِ وقت خود جھولی پھیلائے اپنی رعایا سے بھیک کی استمداد کر رہا ہو، تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ ایسے وقت میں رعایا کا چندہ مانگنے کی جسارت کرنا کہیں جرم قرار نہ پائے۔ میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ میری قوم کے خدا ترس، نیک اور پارسا مخیر حضرات جب اس مشکل وقت میں ایثار، قربانی اور توکّل کے سب اسباق کو پس ِپشت ڈال کر حالات کی خرابی کا رونا روتے ہوئے زیادہ سے زیادہ پس

Read more

گھبرانا نہیں، ہم نے ریت میں سر چھپا لیا ہے

میں نے مصمم ارادہ کر لیا تھا کہ اب کے بعد کرونا وائرس سے پھیلی مبینہ وبا کے بارے میں کچھ نہیں لکھوں گا، کچھ نہیں کہوں گا اور کچھ نہیں سوچوں گا۔ میں جس ریاست میں رہتا ہوں وہاں کے ولی جس کی اطاعت قانونی، آئینی، شرعی اور مذہبی طور پر مجھ پر فرض ہے اس نے فرمان جاری کر رکھا ہے کہ وبا جیسی کوئی بات ہی نہیں ہے ہے اس سے زیادہ خطرناک تو نزلہ، زکام اور ٹریفک سے ہونے والے حادثات ہیں لہذا مجھے گھبرانا نہیں ہے۔

اولو الامر کے حکم کی اطاعت ایک طرف مگر قاضی القضاۃ کے اس فیصلے کے خلاف کچھ کہنے پر حد بھی نافذ ہو سکتی ہے جس میں عید کے جوڑے کی اہمیت اور افادیت کے تقدم کو حفظان صحت کے اصولوں پر تقدیس دے کر تاجروں کو اپنا فرض ادا کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور حکومت کو بجا آوری کی ہدایت۔ میں ایک اطاعت گزار شہری کی حیثیت سے اب کچھ کہنے کی توفیق نہیں رکھتا لہذا آمنا و صدقنا سرتسلیم خم ہے۔

Read more

ایسے تو کبھی چھوڑ کے بیٹے نہیں جاتے

روایات کے بت کدے میں پوجا پاٹ کرتی سرد مہری کے ماتھے پہ ابھرتی شکنوں کی چبھن اس کے بدن میں اس وقت پیوست ہوتی گئی جب پہلوٹی کی اولاد بیٹی کو جنم دینے پہ پہلا خطاب کرماں جلی اس کے نام کے ساتھ جڑ گیا۔ اس سے ملتے جلتے خطابات کی ناگواریوں کے نہ تھمنے والے سلسلوں کے سامنے بے بسی کے بند باندھتی، درگاہوں اور خانقاہوں کی بالکونیوں میں منتوں کے چراغ جلاتی، درباروں و آستانوں کے بوڑھے

Read more

رمضان ان لوگوں کا کیا بگاڑ سکتا ہے؟

میں ایک ہجوم کے شور میں گم ہوئی جا رہی ہوں کرب کے زندہ وجود میں اپنی شناخت کھوئے جا رہی ہوں قدم اٹھانے کی کوشش کرتی ہوں تو نہنگ اور چیتھڑوں میں ملبوس بچہ میری ٹانگوں سے لپٹ کر سسکیاں بھر رہا ہے اور یوں لگتا ہے کہ اس کی ہر ایک سسکی میری روح نکال دے گی۔

Read more

محبت میں کامیاب ہوئے تو خاوند، ناکام ٹھہرے تو فلسفی

کم و بیش تین لاکھ سال پہلے ہمارے آبا و اجداد ارتقاء کے عمل سے گزرتے ہوئے انسانی سطح تک پہنچے۔ انسان، یعنی قدرت کا وہ شاہکار جس نے ثابت کیا کہ زمین پر اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے زور بازو لازم و ملزوم نہیں، یہی کام دماغ کے بہتر استعمال سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ انسان کے اس وجود کا خاصہ ایک کمزور اور ناتواں جسم نہیں بلکہ تیزی سے ارتقائی عمل سے گزرتا دماغ تھا۔ اس دماغ نے جہاں اپنی ذہانت کے سر اس بات کو یقینی بنایا کہ انسان ہی اس دھرتی کا شہنشاہ و وارث کہلائے وہاں نسل انسانی کے لیے جوابات کی جستجو کی ایک لا محدود کہکشاں کو بھی جنم دیا۔ انسان خود کو دیکھتا، اپنے ماحول کو دیکھتا، اس کے ذہن میں سوال پنپتا، جواب کریدتا، جواب مزید سوالات کا سبب بنتا اور یوں ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔

Read more

عورت کے بارے میں ہمارا سماجی رویہ

عورت سوال کو سمجھنے کے لئے ہمیں اپنے سماجی رویوں کا تنقیدی جائزہ لینا ہوگا۔ مشہور فرانسیسی رائٹر سیمون دی بوا  جنس کو ایک سماجی عمل یعنی سوشل فارمیشن کہتی ہیں، وہ عورت اور مرد کے درمیان فرق کو فطری کی بجائے سماجی نوعیت کا تصور کرتی ہیں۔

انسانی فطرت عادات و اطوار قطعی اور جامع نہیں ہوتے بلکہ ہر وقت ارتقائی عمل سے گزرتے رہتے ہیں جبکہ سماجی اور ثقافتی عوامل اس ارتقا پر اپنے اثرات مرتب کرتے ہیں۔

Read more

عورت کو ذہنی مریض بنانے والے مردوں کا کیا کریں؟

باتوں باتوں میں یاد آیا ”زیرو پوائنٹ پر کھڑی عورت“ جو ڈاکٹر نوال اسعدوی کی تحریر ہے۔ یہ حقیقت پر مبنی ایک کہانی ہے۔ جس میں عورت کو اپنے وجود کو سنبھالنے یا یوں کہہ لیں کے اپنے آپ کو ایک خوددار عورت ثابت کرنے کے لیے جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ بتایا گیا ہے۔

اس کہانی میں جو اہم کردار ہے۔ وہ فردوس نامی عورت کا ہے۔ فردوس کی کہانی اس کی اپنی زبانی بیان کی گئی ہے۔ فردوس کا تعلق انتہائی غریب گھرانے سے ہے۔ اس گھرانے میں عورت کو خاندانی اعتبار سے کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے باپ کے ظلم و ستم اس پر کافی نہیں تھے کہ زندگی اسے مزید تلخیوں کا سامنا کرواتی ہے۔ اس کے ماں باپ کے مرنے کے بعد اس کے چچا جو کہنے کو بہت مذہبی انسان ہیں، فردوس کا نہایت خیال رکھتے ہیں۔ بھتیجی کو اپنے ساتھ شہر، اپنے گھر لے گئے جہاں وہ اکیلے رہتے تھے۔ ایک روز ان کا ایمان اس طرح بہکتا ہے، کہ وہ معصوم بچی اس معتبر شخص کی ہوس کا شکار ہو جاتی ہے۔ اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ بچیاں اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں۔

Read more

قومی مالیاتی کمیشن میں صوبوں کو حاصل مالی وسائل میں کمی کی کوشش

پاکستان چار یونٹس پر مشتمل ایک وفاقی ریاست ہے، یہ چار یونٹس سندھ، پنجاب، خیبر پختون خوا (کے پی کے) اور بلوچستان ہیں، جب کہ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر براہ راست وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہیں۔

این ایف سی ایوارڈ کا قیام 1951 میں عمل میں لایا گیا اور پھر 1973 کے متفقہ پاکستانی آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت معاشی پروگرام کا باقاعدہ حصہ بنا دیا گیا۔ آئین کے اس آرٹیکل کے مطابق صدر مملکت پر لازم ہے کہ ہر پانچ سال گزرنے پر اگلے پانچ سال کی مدت کے لئے اگلے نئے این ایف سی کی تشکیل دے تاکہ تمام وفاقی یونٹس کی متفقہ رائے سے ایوارڈ منظور کیا جائے اور اگلے پانچ سالوں کے لئے نافذ کر دیا جائے۔

Read more

قصہ دہلی کی افطار پارٹیوں کا

گو کہ مودی نے آتے ہی وزیر اعظم ہاؤس میں افطار کا سلسلہ تو بند کروادیا، مگر صدر پرناب مکھرجی نے صدارتی محل میں اس کو موقوف نہیں کیا تھا۔ 2017 ء تک اپنی مدت صدارت ختم ہونے تک انہوں نے اس سلسلہ کو جاری رکھا۔ تمام ممالک کے سفرا، اپوزیشن لیڈران و دیگر افراد اس میں شرکت تو کرتے تھے، مگر پروٹوکول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مودی نے کبھی بھی اس میں شرکت نہیں کی۔ مگر ایک یاد و وزیر حکومت کی نمائندگی کرنے پہنچ جاتے تھے، جو صدر کی ہال میں آمد پر ان کا استقبال کر کے فوراً ہی رخصت ہو جاتے تھے کہ کہیں دیگر مہمانوں سے ملنے جلنے کے دوران کی فوٹو نہ کھنچے۔

Read more

ووہان کا ڈاکٹر لیو اور آخری غروب آفتاب کا نسخہ

”ڈاکٹر، ۔ ۔ ۔ میں۔ ۔ ۔ اپنی زندگی کا۔ ۔ ۔ آخری۔ ۔ ۔ غروب آفتاب۔ ۔ ۔ دیکھنا۔ ۔ ۔ چاہتا ہوں۔“ ڈاکٹر کو یاد آیا کہ اس سے قبل بھی کچھ مریض اپنی خواہشات کا اظہار کر چکے ہیں، لیکن وہ ایسی نہیں تھیں کہ انھیں پورا کیا جا سکتا۔ اکثر مریض باہر طویل چہل قدمی اور بعض صرف تھوڑی دیر کے لیے ٹہلنا چاہتے، جو کسی طور ممکن نہیں تھا۔ لیکن ایک عمررسیدہ مریض کی ایسی

Read more

حقیقت پہ مبنی حلیمہ کی کہانی

حلیمہ تین بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی اور اپنے ایک بھائی سے چھوٹی اور دو بھائیوں سے بڑی تھی۔ حلیمہ اور اس کے بڑے بھائی کو اس کی خالہ نے پالا پوسہ جنہوں نے اپنی زندگی اپنے بہن بھائیوں پر شادی نہ کر کے قربان کی، کیونکہ ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا۔ جب حلیمہ کی سب سے چھوٹی خالہ صرف چھ ماہ کی تھی۔

حلیمہ کی خالہ (صغراں ) جنہوں نے ان دونوں بہن بھائی کو ماں بن کر پالا تھا بہت نیک اور باہمت خاتون تھی۔ اپنے بہن بھائیوں کی شادی کرنے کے بعد صغراں نے ان دونوں بچوں کی اپنی جان سے بڑھ کر حفاظت کی اور پڑھایا لکھایا۔ حلیمہ اور اس کا بھائی اپنی خالہ کو اماں کہ کر پکارتے، نہ صرف حلیمہ اور اس کا بھائی بلکہ صغراں کے اپنے بہن بھائی بھی انہیں اماں کہتے تھے کیونکہ انہوں نے سب کو ماں بن کے پالا تھا۔

حلیمہ بڑی ہو رہی تھی وہ اپنی اماں کی سب سے لاڈلی تھی اس کی اماں نے اسے پھولوں کی طرح رکھا ہوا تھا۔

Read more

انصاف کے تقاضے ادھوے کیوں؟

آج سے ایک سال قبل 21 اپریل 2019 ایک مجذوب شخص جس کا نام شوکت تھا اپنے آبائی شہر تراڑکھل سے اچانک گم ہو جاتا ہے۔ جب شوکت اپنے گھر نہیں لوٹتا تو اس کے ورثا بہت پریشان ہو جاتے ہیں اور شوکت کی تلاش میں نکل جاتے ہیں۔ شوکت کی کوئی خبر نہ ملنے پر اس کے ورثا تھانے میں درخواست دائر کرواتے ہیں اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ شوکت گم ہو چکا ہے اس کو ڈھونڈا جائے۔ شوکت کی اچانک گمشدگی پر اس کے آبائی شہر میں طرح طرح کی افواہیں گردش کرتی ہیں کہ شوکت کو ایجنسی (خفیہ ادارے ) والوں نے پکڑ لیا ہے اور وہ شوکت کو ضروری تفتیش کے بعد دو تین دن میں واپس چھوڑ دیں گے۔

Read more

ارطغرل پاکستان میں اہالیان پاکستان! مبروک، مبروک، مبروک

فخر ملت اسلامیہ، امیر غازی ارطغرل بن سلمان شاہ قایوئی ترکمانی بہ اذن وزیر اعظم ملک خداداد پاکستان، بہ قالب اردو، اپنے گھوڑے جوگانی اور جنگجو ساتھیوں سمیت پی ٹی وی پر تشریف لا چکے ہیں۔ مرحبا، مرحبا، مرحبا۔

جناب غازی ارطغرل کی آمد نے عوام پاکستان میں، جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے احیاء سے قریب قریب مایوس ہو چکے تھے، امید کی نئی جوت جگا دی ہے۔ نوجوانان ملت بیضا، جس مجاہد عصر کا انتظار کر رہے تھے وہ آخر، خواہ ٹیلی ویژن سکرین ہی پر سہی، آن پہنچا ہے۔ فرزندان امت مسلمہ، جناب عزت مآب وزیر اعظم صاحب کے اس نعمت غیر مترقبہ کی ترسیل پر تہہ دل سے مشکور ہیں۔

عوام پاکستان کی ان مسرتوں کے وفور سے البتہ کچھ مسائل بھی جنم لے رہے ہیں جن میں سب سے اہم گھوڑوں کی

Read more

مگر میرا بیٹا نہیں سمجھتا

ڈیڈی ہم مر کیوں جاتے ہیں! ڈیڈی ہم مرنے کے بعد کہاں چلے جاتے ہیں! ہم لائٹ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر کیوں نہیں آتا؟ فیش مر کیوں جاتی ہے! ڈیڈی سپائیڈر مین رئیل میں کیوں نہیں ہوتا۔ یہ سوالات جب میرا پانچ سال کا بیٹا میرے بازو پر سر رکھ کر بڑی ہی معصومیت سے پوچھتا ہے تو اس وقت میرا دماغ کمرے سے باہر چلا جاتا ہے۔ میرے پاس ان سوالات کا جواب نہیں ہے مگر میرا بیٹا مجھے دنیا کا سب سے عقل مند انسان سمجھتا ہے اس کو پتا ہے کہ اس کے ڈیڈی دنیا کی ہر چیز جانتے ہیں اور ان کو ہر چیز کا پتا ہے۔

Read more

ریمنڈ ڈیوس کیس اور شاہ محمود قریشی کا بہکاوا

بات وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی صاحب کی اسمبلی میں پیپلزپارٹی پر سندھ کارڈ کھیلنے کے الزام سے شروع ہوئی۔ بلاول بھٹو نے جوابی وار میں موصوف کی پارٹی سے راہیں جدا کرنے کا سبب ان کا وزیراعظم بننے کا شوق بتایا۔ جس کی شاہ جی نے تردید کرتے ہوئے حسب توقع وضاحت دی کہ ناچاقی کی اصل وجہ تو ریمنڈ ڈیوس کیس تھا۔ قریشی صاحب نے شام کو ایک ٹالک شو میں شرکت کی، گھوم پھر کر گفتگو متعلقہ

Read more

کورونا بمقابلہ ارطغرل

میرے پانچ سالہ بیٹے نے ٹی وی ہیڈ لائنز دیکھ کر خوف زدہ آنکھوں کے ساتھ سوال کیا، ماں! کیا کورونا بہت خطرناک ہے؟ میں نے رٹے ہوئے طوطوں کی طرح گذشتہ دو ماہ کے دوران ازبر کیے ہوئے جواب دہرانے شروع کر دیے۔

اسے سمجھایا کہ کورونا جان لیوا ہے، سماجی دوری کے فوائد اور بار بار ہاتھ دھونا وغیرہ۔ مگرصاحبزادے نے قطعی درگزر کر کے روکا اور پوچھا کہ کیا ’اتغور‘ یعنی ارطغرل کورونا کا مقابلہ کر سکتا ہے؟

Read more

گھر میں قید بچوں کی تربیت کیسے کی جائے؟

انسان ایک ایسے دور میں داخل ہوچکا ہے جس میں تقریباً ہر کام مشینی انداز میں کیا جارہاہے ۔ٹیکنالوجی سے ہم اپنی جان چھڑا نہیں پارہے ۔انسانی جذبات بھی کافی حد تک میکانکی ہوچکے ہیں۔ مگر خوش قسمتی سے ایک جذبہ ابھی بھی سادگی سے لبریز ہے بالکل ویسے ہی جیسے ہم نے کبھی بہت خلوص کی مثال دینی ہوتوہم کہتے ہیں کہ اب ”پرانے دور والی باتیں نہیں رہیں“۔ مگر یہ جذبہ بالکل ویسے ہی تروتازہ ہے جیسے دنیا

Read more

حوریم سلطان سے کوسم سلطان تک: سلطنتِ عثمانیہ کی شاہی کنیزیں جو کسی ملکہ جتنی بااثر تھیں

یہ سنہ ہے 1603 اور منظر ہے سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان احمد اول کے اقتدار کے پہلے سال میں ترک شاہی حرم کا!
یونان کے گاؤں سے سلطان کے لیے تحفے کے طور پر اغوا کر کے لائی گئی ایک دبلی پتلی سی لڑکی نئے سلطان کی دادی صفیہ سلطان کے قدموں میں گر کر گھر واپس جانے کی بھیک مانگ رہی ہے۔

صفیہ سلطان اسے بتاتی ہیں کہ اب یہ ناممکن ہے اور پھر پیار سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے ایک مشورہ دیتی ہیں۔ ’دیکھو بیٹی،ایک عورت کو اپنی زندگی میں کئی کردار نبھانے پڑتے ہیں۔ وہ زندگی کے ہر مرحلے میں ایک مختلف انسان ہوتی ہے۔ ایک بچی، ایک عورت، ایک ماں، اور، اگر وہ سمجھدار ہے اور اس پر خدا کی مہربانی ہے تو وہ سلطانہ بھی بن سکتی ہے۔ فرق صرف اس بات سے پڑتا ہے کہ وہ خود اپنے لیے کیا انتخاب کرتی ہے۔‘

پھر صفیہ سلطان اپنی بات ختم کرتے ہوئے انستاسیا نامی اس لڑکی سے کہتی ہیں کہ ’اطمینان رکھو، تمہارا مستقبل بہت روشن ہے۔‘

یہ تو تھا انستاسیا کی زندگی پر بنی ترک ٹی وی سیریز کوسم سلطان کا ایک منظر۔ اب سلطنت عثمانیہ کے مختلف حصوں سے اغوا ہو کر اور غلام بن کر شاہی حرم میں پہنچنے والی کچھ لڑکیوں کی حقیقی زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں، جن کا بعد میں شمار اپنے دور کی طاقتور ترین عالمی شخیصات میں ہوا۔

Read more

میاں بیوی کی بات چیت بھی معیوب، دیور بھابھی کا فحش مذاق بھی جائز؟

باسط شاید اپنے ہار اور شیروانی وغیرہ اتار رہا تھا۔ کمرے میں اتنی خاموشی تھی کہ نیچے کی باتوں کہ ہلکی ہلکی آوازیں اور باسط کے کپڑوں کی سرسراہٹ بھی سنائی دے رہی تھی۔ ”بسمہ!“ باسط نے بیڈ کے پاس آکر ہلکے سے اسے پکارا بسمہ نے آہستہ سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ آج باسط کی رنگت کافی کھلتی ہوئی لگ رہی تھی۔ نقوش اس کے ویسے بھی جاذب نظر تھے، وہ مجموعی طور پہ کافی اچھا لگ رہا

Read more

’میری اہلیہ نے مجھے دس سال تک جنسی ہوس کا نشانہ بنایا‘

گھریلو تشدد کے زیادہ تر واقعات کی شکایات خواتین کی جانب سے آتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ایک تہائی خواتین اپنی زندگی میں جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔

اس کے مقابلے میں شاذ و نادر ہی ایسا واقعہ سننے کو ملتا ہے جس میں کسی مرد پر جسمانی یا جنسی حملہ کیا گیا ہوتا ہے۔

مردوں کے ساتھ گھریلو تشدد کے واقعات اور ان کے بارے میں بات کرنا معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے اور اس کے شکار مردوں کو اکثر اپنی مشکلات اکیلے ہی جھیلنی پڑتی ہیں۔

Read more

ملائیشین مائیں اپنا دودھ بچوں کے لیے جمانے پر کیوں مجبور ہیں؟

اپنی جاب برقرار رکھنے کی خواہشمند سینکڑوں ملائیشین مائیں اپنی فیملی سے کٹ گئیں اور اپنے نوزائیدہ بچوں کو اپنا دودھ پلانے سے محروم ہو گئیں۔

ملائیشیا میں مارچ کے وسط سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے شہریوں کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اپنی جاب برقرار رکھنے کی خواہشمند سینکڑوں ملائیشین مائیں اپنی فیملی سے کٹ گئیں اور اپنے نو زائیدہ بچوں کو اپنا دودھ پلانے سے محروم ہو گئیں۔

Read more

میرے لاڈلے بلے کی کہانی میری زبانی

ہمارے ہاں مڈل کلاس گھرانوں میں گھر پر پالتو جانور رکھنا ایک ٹیبو ہے۔ بالخصوص کتے یا بلی کو رکھنا تو بالکل قابل قبول نہیں کہ اس حوالے سے خود ساختہ مذہبی توجیہات اور دیگر توہمات کی بھرمار ہے۔ زیادہ سے زیادہ طوطے رکھ لیتا ہے کوئی۔ ہمارے گھر میں بھی کوئی دس سال سے ایک طوطا موجود ہے جو ہمارا چھٹا فیملی ممبر ہے۔ ہم اسی طوطے کو بطور پالتو جانور رکھ کر خوش تھے۔ کبھی سوچا نہ تھا کہ کبھی کوئی اور پالتو جانور ہمارے گھر یا دل میں جگہ بنا سکتا ہے مگر قدرت کے کھیل بھی نرالے ہوتے ہیں۔ اس نے ہمیں ایک سرپرائز دینے کا فیصلہ کر لیا۔

Read more

تعلیم دشمن وائرس

لاک ڈاؤن میں نرمی آتے ہی دو دن میں 8 ارب کا کاروبار ہوا اس سے یہ بات تو ظاہر ہے کہ عوام کے پاس پیسہ تو ہے۔ لیکن کہیں کہیں ایسا بھی دیکھنے کو آیا کہ ماں نے اپنے کان سونے کر دیے بالیاں نکال دیں اور لاک ڈاؤن میں نرمی آتے ہی اپنی شادی کی بالیاں سونار بیچ دیں، بیٹی کا نیا جوڑا جو خریدنا تھا۔ لوگ کیا کہتے اگر بیٹی عید پر پرانا جوڑا پہنتی، ایک تو اس غریب کو لوگ کیا کہیں گے مار دیتا ہے۔

خیر اس صورتحال سے قبل راشن تقسیم کا کام جاری تھا کچھ دوستوں کی مدد سے تب تو ہر کوئی مجبور نظر آ رہا تھا لیکن کچھ واقعی مجبور تھے۔ دوستوں کی مدد سے کچھ د ن یہ کام جاری رہا مختلف افراد جنہوں نے تعاون کیا ان کی جانب سے اور ٹیم کی جانب سے سوشل میڈیا پر چندے کی درخواست بھی ہوئی۔ جس دن سوچتے آج آخری دن ہے اسی دن کوئی نہ کوئی ضرورت مند سامنے آ جاتا لہذا دوبارہ دوستوں سے رابطہ کرنا پڑتا اسی طرح ایک دن کو کام کا آخری دن سمجھ کر لیٹا ہی تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی موبائل اٹھا کر دیکھا تو محلے کے قاری صاحب کا فون تھا۔ قاری صاحب اسلام علیکم کیسے ہیں آپ؟ جی میں ٹھیک ہوں آپ خیریت سے ہیں؟ جی میں خیریت سے ہوں۔ بھائی وہ معلوم پڑا تھا آپ راشن تقسیم کر رہے ہیں۔

قاری صاحب کی یہ بات سن کر میں چکرا گیا۔ قاری صاحب کی تنخواہ صرف 15 ہزار ہے خدا جانے مسجدوں میں

Read more

احساس کمتری میں مبتلا ہونے کی وجہ اور خود اعتمادی

انسان ایک معاشرتی حیوان ہے اسے اپنے دکھ سکھ بانٹنے خوشی کا اظہار کرنے کے لئے ایک دوسرے کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے۔ انسان کبھی ایک دوسرے کے لئے راحت و اطمینان اور کبھی رنج و غم کا باعث بنتے ہیں۔ ہمارے رویے اور طرز عمل اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

خوداعتمادی ایک ایسی ذہنی صلاحیت ہے جس کے بل بوتے پر ہم منزل پہ منزل طے کرتے جاتے ہیں۔ اپنی خواہشات کی تکمیل سے ہمیں ذہنی سکون میسر آتا ہے۔ یہ ہمیں دوسروں میں منفرد کرتی ہے اور ہماری شخصیت کو نکھارتی ہے۔

Read more

قومی مفاد اور پاکستان؟

جب ہم قومی مفاد کے کتانچے میں نظر دوڑاتے ہیں تو بھت سے حالات ’واقعات اور حقیقتوں سے روشناس ہوتے ہیں جن میں سے مندرجہ ذیل پانچ قابل غور و فکر ہیں۔ یہ قومی مفاد میں تھا کہ۔ ۔ ۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان جن کو سید اکبر نامی شخص نے ہزاروں افراد کے سامنے گولی مار کر قتل کیا مگر بدقسمتی سے قتل کے محرکات پاکستانی قوم آج تک نہیں جانسکی۔ حالانکہ جس نے گولی چلائی

Read more

ماں

لفظ ماں جسے ادا کرنے کے لئے لب بھی آپس میں ملتے ہیں تو جدا ہونے کا نام نہیں لیتے۔ ماں وہ عظیم ہستی ہے جس کے قدموں تلے خدا کے محبوب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنت بتلائی ہے۔ وہ ہستی جو دسمبر کی یخ ٹھنڈی راتوں میں کوک سے جنم دینے والے بچے کو خشک جگہ پر سلا کر خود بچے کی پیشاب سے گیلی ہو جانے والی جگہ پر سوتی ہے وہ ماں ہوتی ہے۔ چوٹ

Read more

کھول دو بمقابلہ چھوڑ دو

”کھول دو“ سعادت حسن منٹو کے مقبول ترین افسانوں میں سرفہرست ہے۔ اس افسانے میں تقسیم برصغیر اور ہجرت کے دوران ایک لڑکی سکینہ کے ساتھ ہونے والے مظالم کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ جن سے اس کی ذہنی حالت اس قدر متاثر ہو جاتی ہے کہ کہ وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں جب کھڑکی کے لیے ڈاکٹر کے منہ سے کھول دو کے الفاظ سنتی یے تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس افسانے میں بری سوچ، غلط

Read more

کورونا کے ساتھ رہنا سیکھنا ہوگا مگر ریاست کیا کر رہی ہے؟

ار پاکستان میں کرونا وائرس کوپہلے پہل قبول نہیں کیا گیا حتیٰ کہ حکومت بھی خاموش رہی اور کرونا وائرس تیزی کے ساتھ ملک میں داخل ہوتا گیا۔ جب پانی ناک تک پہنچ گیاتو وزیر اعظم عمران خان نے خطابات کا سلسلہ شروع کیا مگر فیصلہ نہیں کر سکے کہ کرنا کیا ہے۔ لاک ڈاؤن، کرفیو، سمارٹ لاک ڈاؤن پر بحث کرتے رہے۔ جس طرح کشمیر کے ایشو پر مودی اور آر ایس ایس کے نظریات کے لیکچر دیتے تھے۔

Read more

عرفان صدیقی صاحب کی کتاب ”جو بچھڑ گئے“

معروف کالم نگار جناب عرفان صدیقی کے کالموں کا مجموعہ ”جو بچھڑ گئے“ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ تمام کالم صدیقی صاحب کے ساتھ کسی نہ کسی طرح منسلک لوگوں کے نام ہیں، جو اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ صدیقی صاحب نے اپنی کتاب میں 28 اکتوبر 2010 کو روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والا کالم ”آغا جی“ شامل کیا ہے جو ”آغا شورش کاشمیری“ کے بارے میں ہے۔ مصنف نے آغا صاحب کو عطاء اللہ شاہ بخاری کے بعد

Read more

آسٹریلیا والی لڑکی کی کہانی

صبا سے ملاقات سڈنی آسٹریلیا میں ہوئی۔ ہم ایک پارٹی میں مدعو تھے۔ میرے پاس کی کرسی پر ایک نہایت خوش اخلاق خاتون تھیں۔ دھیرے سے میرے کان میں بولیں” میں بن بلائی مہمان ہوں” پھر کھلکھلا کر ہنسی۔ ” میں صبا ہوں۔ میلبورن میں رہتی ہوں۔ سڈنی ایک کام سے آئی تھی۔ میری دوست مدعو تھی زبردستی مجھے ساتھ لے آئی”۔ اس کی چنچلتا، حاضر جوابی اور خوش اخلاقی نے بہت متاثر کیا۔ ہم نے بھی اپنا تعارف کرایا۔

Read more

وبا کے دنوں میں عید کی خریداری

کورونا کی ستم کاریاں اپنی جگہ مگر عید کا تصور دل کو بالکل ویسے ہی گدگداتاہے جیسے ہم بچپن میں بے قراری سے عید کا انتظار کیا کرتے تھے۔ ہفتوں پہلے خریداری شروع ہوتی، رنگ برنگ کپڑے، ہم رنگ جوتے، پرس، کلپ اور جانے کیا کچھ۔ چاند رات گزرنے میں ہی نہ آتی اور اس کی طوالت دل کو بے چینی میں مبتلا کرتی۔ صبح کاذب کے ساتھ ہی اچھل کے بستر سے برامد ہوتے، عیدی کا تصور آنکھوں میں

Read more

بچیوں کے بہکنے کی خبر لیجیے

دستک اتنی ہلکی بلکہ دبی دبی سی تھی کہ بمشکل ہی گیٹ کھولا گیا۔ باہر دیکھا تو وہ دوسرے گیٹ پر کھڑی تھی۔ اشارے سے بلایا، جھجکتا سمٹا سمٹایا سا نسوانی وجود۔ چہرہ دوپٹے سے نقاب کیا گیا تھا۔ وبائی حالات میں اس کی حالت زار ہمارے کسی سوال کی متحمل نظر نہ آتی تھی۔ انجانی نقاب پوش کو دیکھ کر ہماری جھجک کو وہ بھانپ گئی اور فوراً ہی اپنے اور شوہر کے شناختی کارڈز کی کاپیوں کو سامنے کر دیا۔

”آپ گھبرائیے نہیں میں کوئی پیشہ ور مانگنے والی نہیں ہوں۔ تیسرا دن ہوگیا، بچے روٹی کے لیے ضد کر رہے ہیں تو مجبوراً مانگنے نکلی ہوں۔“ گھر کے حالات سے معلوم ہوا اس کے نو بچوں میں آٹھ بیٹیاں ہیں، کچھ بڑی شادی شدہ اور باقی چھوٹی بچیاں گھر میں سب سے چھوٹے بھائی اور معذور باپ کے ساتھ۔ دوران گفتگو وہ اپنی بچیوں کی شرافت، دینی رنگ اور سلائی کے ہنر کا ذکر کرتی رہی کہ کورونا کے ڈر سے لوگ کپڑے نہیں سلوا رہے۔ مجھ سے حالات درست ہونے پر کپڑے سلوانے کا اصرار کیا۔ قصہ مختصر خوش اور مطمئن حالت میں رخصت ہو گئی۔

چند دن بعد اس کی بیٹیوں کی سلائی کا کام یاد آنے پر اس کے دیے گئے نمبر پر بات کرنا چاہی۔ ماں کے گھر پر موجود نہ

Read more

کچھ پڑھنے کے بارے میں

انسانی متون کیسے پڑھیں جائیں؟ اس سوال کی سیاسی جہت واضح ہے۔ قاری کو حق حاصل ہے کہ وہ کیا پڑھے اور کیسے پڑھے۔ قاری سے مراد ایک بالغ نظر شخص ہے جو دنیا کو اپنی نظر سے دیکھنے میں یقین رکھتا ہے اور اپنی نظر کو معتبر بھی جانتا ہے۔ جب ہم اس بالغ نظر شخص کو یہ بتانے کی کوشش کریں کہ وہ فلاں کتاب پڑھے اور اس کے لیے ایک مخصوص طریقہ اختیار کرے تو گویا ہم

Read more

ایماندار وزیراعلی کی بلی تھیلے باہر

بلوچستان نے بطور صوبہ بڑی عجیب قسمت پائی ہے۔ اس کی صلہ رحمانہ آغوش میں جنم لینے والے نہ قوم پرست، نہ پیر پرست، نہ اسلام پرست، اور نہ ہی وفاق پرست۔ سیاست کرنے والے اس کے اپنے فرزندوں نے اس بدقسمت صوبے کے مفادات کا تحفظ کیا اور نہ ہی کبھی اس پر صلہ رحمی کی بلکہ ماں کے احساس محرومی کو کیش کرنے کی کوششیں کی بلوچستان میں کرپشن پر شور ہوتا تو احتسابی عمل کے شروع ہونے کی نوید سنا دی جاتی ہے اور کاغذی دنیا میں انکوائریاں جاری رہتی ہیں اور پھر اگلا سیزن آتا ہے پھر کرپشن کا شور ہوتا ہے۔ پھر اگلی انکوائری شروع ہوجاتی ہے اور یوں یہ کاروبار جاری رہتا ہے۔ آج تک کسی ذمہ دار کا تعین ہوا ہے۔ نہ ہی کسی کو سزا ہوئی ہے کیونکہ کوئی بھی واردات کرنے کے لیے پہلے بڑی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ اس کے جزئیات پر پوری تفصیل سے گفتگو ہوتی ہے۔ اور کوشش ہوتی ہے کہ وار خطا نہ ہو۔ ہر پہلو سے اس کا جائزہ لے کر پھر وار کیا جاتا ہے۔

Read more

پیدائش سے پہلے مرنے والا خوش نصیب بچہ

میں خیرمقدم کرتا ہوں ان سورما جہادیوں کا جنھوں نے گذشتہ منگل کو کابل کے ایک زچہ بچہ ہسپتال میں کافر نوزائیدہ بچوں، ان کی دس دین دشمن ماؤں، اغیار کی ایجنٹ چند نرسوں اور ایک مشرک سیکورٹی گارڈ سمیت چوبیس ناپاک روحوں کو قتل اور سولہ کو زخمی کر دیا اور وہ بھی ایک ایسے ہسپتال میں جس کا انتظام و انصرام یہود و نصاری کی پروردہ تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (ایم ایس این) کے ہاتھ میں ہے۔

Read more

کیا میاں بیوی طلاق کے بعد بھی دوست رہ سکتے ہیں؟

ڈاکٹر صاحب!
آپ کی تحریر اور اپنے موضوع نفسیات پہ گرفت نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا ہے۔ آپ کا ہر کالم میرے لیے سوچ کے نئے در وا کرتا ہے۔ مجھے خود بھی کافی حد تک انسانی نفسیات اور رویوں کو پڑھنے، سمجھنے اور سلجھانے کی کافی دلچسپی ہے۔ انسانی تعلق جو ایک مرد اور عورت کے درمیان محبت، ریلیشن شپ یا شادی کا ہے ایک ایسا موضوع ہے جو مجھے اپیل کرتا ہے۔ میں جانتی ہوں کہ تعلق بنتے ہوئے کافی وقت لیتا ہے لیکن جب اسے توڑا جاتا ہے تو عموماً ایک تلخی کے ساتھ ختم کیا جاتا ہے جیسے اس میں کبھی محبت اور مٹھاس نہ رہی ہو۔ ایک طرح کی تلخی اور نفرت کے جذبے سے تعلق ختم کیا جاتا ہے۔

Read more

ایک مکالمہ: کیا تم اگلی زندگی پر یقین رکھتے ہو؟

انسان جب موت کو لبیک کہتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ وہ کہاں چلا جاتا ہے؟ کیا پھر سے کسی صورت میں کوئی زندگی اس کی منتظر ہوتی ہے؟ یہ ایسے سوال ہیں جن کے جواب انسانی عقل و دانش ایک مدت سے تلاش کررہی ہے۔ اتنے طویل علمی سفر کے بعد تین چار بڑے بڑے نظریات سامنے آئے ہیں۔ ایک تو مذہبی ہے جو زرتشت سے لے کر ادیان ابراہیمی تک مماثل چلا آتا ہے کہ دنیا دارالامتحان ہے، یہاں اپنے عمل سے جو لکھا اس کے نتائج ایک خاص دن کو نکلیں گے جب پھر سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا، پھر جنت یا جہنم کی مکانیت اور ایک لامحدود زندگی۔

Read more

سائنس کا پول بھی کھل ہی گیا – ایک عرض

غضنفر عباس صاحب کا مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ مضمون کی نوعیت سے لگتا ہے کہ سائنس سے کافی نالاں ہیں۔ بھلا ہو ان کا جنہوں نے غضنفر صاحب کو سائنس کے متعلق ایسی باتیں بتائیں کہ یہ تو کسی بھی مسئلے کا حل یوں نکال لیتی ہے جیسے کوئی شعبدہ باز اپنی چھڑی سے سانپ بنا لیتا ہے۔ جتنے بھی بڑے سائنسدان حال میں موجود ہیں یا ماضی میں گزرے ہیں کسی نے بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ سائنس کے پاس ہمارے تمام مسائل کا فوری حل موجود ہے۔

سائنس تو بذات خود حضرت انسان کی اس کائنات کو سمجھنے کی سعی ہے اور اس کی اساس انسان میں پائی جانے والی جستجو اور تجسس ہے۔ نظام قدرت کو سمجھنے کی لگن میں ہی ہم یہاں تک پہنچے ہیں جہاں ہم موجود ہیں۔ ہم اپنے اردگرد جو کچھ بھی دیکھتے ہیں اور اس ٹیکنالوجی سے مزین دنیا میں جتنے بھی لوازمات کا لطف اٹھاتے ہیں وہ انسانی ضرورت ہی کی دین ہیں۔ کبھی یہ ضرورت ہے تو کبھی بقا کی جنگ کا نتیجہ۔ بالکل جیسے کہتے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔

Read more

نئی عورت کا رول ماڈل

وہ چھوٹی تھی تو اس کی رول ماڈل اس کی ماں تھی جو اس سے محبت کرتی اور مزیدار کھانے بناتی تھی۔ وہ سکول گئی تو اس کی رول ماڈل اس کی ٹیچر تھی جو خوبصورت لباس پہنتی تھی اور اچھا کام کرنے پر اسے مسکرا کر شاباش دیتی تھی۔ وہ لڑکپن میں تھی تو ڈائجسٹ کی ہیروئن اس کی رول ماڈل بنی جو گھریلو کاموں میں مشاق تھی اور اسے بہت اچھا بے عیب شوہر بھی مل جاتا تھا۔ لیکن پھر وہ بڑی ہوگئی، دوچار کتابیں پڑھ لیں، نوکری کرلی اور گھر سے باہر کی دنیا کا شعور آیا تو رول ماڈلز کا جعلی بھرم ٹوٹ گیا۔ اب اصل دنیا ہے اور اس کے اصل چیلنجز ہیں۔ اب اس کا رول ماڈل کون بنے گا؟

Read more

نظریات پر سودے بازی کے نتائج

یہ پاکستان سے صرف پانچ ماہ بعد برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے والے برما (میانمار) کی ایک آہنی عورت کی کہانی ہے۔ اس کا باپ ملک کا پانچواں وزیراعظم تھا جسے برما کی آزادی سے صرف چھ ماہ قبل قتل کر دیا گیا۔ والد کاقتل ہوا تو وہ بمشکل دو سال کی تھی۔ نئی حکومت نے اس کی ماں کو بھارت میں سفیر نامزد کیا تو وہ اسے اور باقی بچوں کو لے کر دہلی چلی گئی۔ اس نے ابتدا

Read more

جبر کے دور میں پھیلی وبا کی کہانی

وہ عجب نوعیت کا مرض تھا کہ جو شہر میں وبا کی صورت پھیلتا ہی جا رہا تھا۔ مزے کی بات تو یہ تھی کہ اس کی علامات اور دوسرے امراض کی طرح نہ بخار تھا نہ کھانسی نہ چکر، وہ تو بس ایک کیفیت تھی جو ہر متاثر کنندہ کے ذہن پہ طاری ہوجاتی اور جب وہ کیفیت اپنے عروج پہ ہوتی تو بندہ جس کیف و اضطراب کے عالم سے گزرتا وہ شاید وہ ہی جانتا۔ اس کے

Read more

پاکستانیو، حلیمہ سلطان صرف ارطغرل کی ہے

عمر اور دانش فیس بک بحث و مباحثہ میں مشغول تھے۔ عمر بہت دیر سے دانش کو سمجھا رہا تھا کہ خدارا اپنا غیر شرعی طرز زندگی بدل لے اور راہ راست پہ آ جائے۔ دوسری جانب دانش اپنی ضد پہ اڑا تھا کہ تم تو ہو ہی دقیانوسی خیالات کے مالک تمہیں کیا پتہ کہ لبرل ہی انسانیت کے حقیقی علمبردار ہیں۔ عمر نے دانش سے کہا میں تھک گیا ہوں تمہیں سمجھا کر کل بات ہو گی ابھی

Read more

ایک مشرقی عورت کے وفا کی سچی کہانی

ہم مجموعی طور پر جس سماج میں بستے ہیں وہاں رشتے اپنی مرضی و خواہش سے بنانے اور نبھانے کے لیے تشکیل نہیں دیے جاتے بلکہ معاشرتی رسوم و رواج کو مذہب کے مقدس لبادے میں لپیٹ کر سسکنے اور کراہنے کے لیے چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ منافقت اور تقدس کے خول میں لپٹے یہ جبر کے رشتے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی حقیقی معنویت کو کھو دیتے ہیں اور ایک ایسے سسٹم میں ڈھل جاتے ہیں کہ جہاں پر ان رشتوں کو نیم دلی یا جبر کی وجہ سے گھسیٹا جاتا ہے۔

یہ بے جوڑ اور زبردستی کے رشتے بے بسی اور لا چارگی کی ایک ایسی تصویر بن جاتے ہیں جس کا سارا خمیازہ ایک مشرقی عورت کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ہمارے سماج میں شادیوں کا مطلب ایک مذہبی فریضہ ادا کرنے کے علاوہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ان شادیوں کا مطلب دو جیتے جاگتے باشعور لوگوں کا آزادانہ فیصلہ اور ملاپ نہیں ہوتا بلکہ ایک معاشرتی جبر ہوتا ہے، جس جبر کی قیمت پوری کی پوری ایک عورت کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ گھر اور سماج سے نیاز مندی، تابعداری اور فرمانبرداری کے بھاشنوں کے درمیان پروان چڑھنے والی یہ بے بس عورت جس کو والدین یہ تنبیہ کر کے اپنے گھر سے رخصت کرتے ہیں کہ ”اب یہ گھر تمہارا نہیں رہا اور اب صرف تمہاری لاش ہی اس گھر میں واپس آسکتی ہے“ غور طلب بات یہ ہے کہ ان ظالمانہ جملوں کی سماعت کے بعد وہ اپنی زندگی کا آغاز کرتی ہے۔

Read more

من کی ملکہ

گزشتہ چار دن کی بارش نے پورے شہر کو جل تھل کر دیا تھا۔ آسمان غریب کی چادر کی طرح جگہ جگہ سے پھٹا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ آج پہلا دن تھا کہ آسمان کے چھید رفو ہوتے محسوس ہوئے۔ آج صبح بھی بارش ہوئی تھی مگر مختصر سے وقت کے لیے۔ پھر سورج نے پلکیں جھپکائیں تو گویا زندگی جاگ اٹھی۔ روز بہ روز پرانے ہوتے شہر کہاں اتنی شدت کی تاب لا سکتے تھے۔ شہر کی ہر گلی میں نکاسی کا مناسب بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے پانی کھڑا تھا۔

”بھائی صاحب ذرا سنبھل کے، اس طرف سامنے گڑھا ہے، اس میں نہ سائیکل سمیت گر جائیں۔ اس طرف سے آئیے راستہ صاف ہے۔“ آسمانی کپڑے پہنے، کمر سے نیچے تک سیاہ لچھے دار بال پھیلائے، قدرے دل پذیر نقوش والی لڑکی ایک دروازے سے نمودار ہوئی۔ ایک پٹ کھلا، دوسرا بند۔ دونوں سائیکل سواروں نے اس پر ایک نگاہ ڈالی۔ سانولی کی سنجیدگی کو دیکھ کر ذرا زیادہ ہی ٹپ ٹاپ لڑکے کو خود کو مہذب ثابت کرنے کا خیال آیا اور سائیکل ہاتھ سے تھامے، مڑ کر بولنا چاہا۔ ۔ ۔ ”بہت شکریہ میڈم“

مگر صرف میڈ ہی منہ سے نکل سکا ”م“ کچھ سے کچھ بن گیا۔ کیونکہ اگلے ہی لمحے دونوں لڑکے سائیکلوں سمیت غڑاپ سے۔ ۔ ۔ پانی کے اندر تھے۔ نہ جانے کہاں کہاں چھپی ہوئی لڑکیوں کی ہنسی کے جلترنگ پانی بھری گلی میں بجنے لگے۔ دونوں لڑکوں کی حالت قابل دید تھی۔ کیچڑ میں پھنسی سائیکلیں نکالیں۔ خود ان کا اپنا حال بھی برا تھا۔ ذرا دیر پہلے کی رنگارنگ ستھری شرٹس اور نہائے دھوئے چہرے کچھ سے کچھ ہو چکے تھے۔ واپسی کا سفر بھی وہی گلی تھی کہ آگے جانے کا کوئی راستہ نہ تھا۔

لڑکیاں حلق پھاڑ پھاڑ کر ہنس رہی تھیں۔ نسبتاً صاف رنگت والے لڑکے نے گھور کر آفت کی پرکالہ کی طرف دیکھا۔

Read more

پاکستان میں ریپ وکٹم سروائیو کیوں نہیں کر سکتا

ہمارا سماج ایک روایتی سماج ہے۔ یہاں بہت سی سو کالڈ روایات اور رواج ہیں جنہیں تہذیب اور اخلاق کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جس میں بہت سے ایسے موضوعات کو ٹیبو بنا دیا گیا ہے جو ہمارے ارد گرد عام موجود ہیں لیکن ان کے بارے میں بات کرنا، ڈسکشن کرنا شدت سے برا سمجھا جاتا ہے۔ انہیں معاملات میں ایک معاملہ سیکس کا بھی ہے۔ جس پہ بات کرنا سخت معیوب سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ ایک جبلی ضرورت ہونے کی وجہ سے ہر انسان اس کے متعلق اگاہ ہے۔

لیکن یہ آگاہی کسی بھی تربیت یا تعلیم سے بالکل نابلد ہے کیونکہ اس کے بارے میں بات کرنا منع ہے۔ تو یہ جذبہ ایک حیوانی شکل اختیار کر جاتا ہے جسے سدھایا نہیں گیا ہوتا۔ اس لیے اس کا اظہار بھی انتہائی غیر مہذب انداز سے کیا جاتا ہے۔ گلیوں کوچوں میں دی جانے والی گالیوں سے لے کر کسی کو سنجیدہ دھمکی دینے تک کہیں نہ کہیں سیکس کا ذکر ضرور ہوتا ہے جس میں محترم رشتوں کو گھسیٹا جاتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہے کہ محض دبائے جانے کی وجہ سے یا اس حقیقت سے آنکھیں چرانے کی وجہ سے ایک انسانی ضرورت کا اظہار کس قدر لازم اور بد صورت ہو چکا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ دس میں سے سات بچے پندرہ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے کسی نہ کسی قسم کی جنسی

Read more

وحدت الوجود۔ ۔ ۔ فلسفہ، نظریہ یا مشاہدہ

ماننے سے جاننے کا عمل مشاہدہ ہے۔ صاحبان مشاہدہ۔ اولی الالباب۔ بصارت کے ساتھ ساتھ بصیرت رکھنے والے۔ سر کی آنکھوں کے علاوہ دل کی آنکھوں سے بھی دیکھتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے رب نے کوئی چیز عبث پیدا نہیں کی۔ اگر نگاہ حق سے دیکھا جائے تو کچھ بھی باطل نہیں۔ اگر خلق کی نگاہ سے دیکھیں تو حق و باطل کی آویزش دکھائی دیتی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اہل مشاہدہ اس کائنات کو مخلوق کی نگاہ سے نہیں بلکہ خالق کے نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ بچہ بن کر دیکھیں، تو بھائی بہنوں میں اختلاف نظر آئے گا، کوئی شریف اور کوئی شرارتی دکھائی دے گا، شریف بمقابلہ شریر بحثیں ہوں گی، ماں کی نگاہ سے دیکھیں تو سب اسی کے ہیں، سارے ہی پیارے ہیں، ماں کی نگاہ رحمت و ربوبیت میں سب ہی راج دلارے ہیں۔ اس کی آنکھ کے تارے ہیں۔

Read more

بہشتی برگیڈ کا حلیمہ سلطان پر حملہ

جس طرح فا ئیر بریگیڈ کا کام کہیں بھی لگی ہوئی آگ کو بجھانا ہے تو ہم پاکستان والوں کے پاس ایک فا ئیر بریگیڈ ایسا ہے جو کہیں بھی آگ لگانے کا کام بخوبی جانتا ہے۔ یہ آگ مخالف کے تن بدن میں بھی ہو سکتی ہے اوراپنے دل و دماغ میں بھی۔ آ گ لگانے کے ساتھ ساتھ یہ جتھہ اپنے تئیں لوگوں کی نقل و حرکت اور افعال پر گہری نظر رکھتا ہے۔ اپنی آسانی کے لئے

Read more

والدین کی محبت یا بچوں کے ارمانوں کا سودا

یہ اتنی کم ظرفی کیوں برتتی جاتی ہے؟ با اختیاری کیا تنگ دامانی کا پرمٹ دیتی ہے؟ کسی اور پہ گزرتی تکلیف خود پہ گزری یاد کیوں نہیں دلاتی؟ یا یاد دلاتی بھی ہے تو شاید با اختیاری کے نشے میں بھلا دی جاتی ہے۔ ہزاروں نوجوان کالج کی کسی اوٹ میں بیٹھ کر بے بسی کے فشار کو محسوس کرتے ہیں۔ ان کی آنکھوں سے ٹپکتے لاچارگی کے آنسو محض احباب تکتے ہیں جو انھی کی طرح بے اختیار

Read more