اسد عمر ہمارے حلقے سے منتخب نمائندہ بھی ہیں اس لئے اس کی وزارت کے جانے کا ہمیں زیادہ دکھ ہونا چاہیے مگر نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ صاحب صرف انتخابات کے موقع پر ایک آدھ بار جلوہ دکھانے پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ وہ بھی جانتے ہیں کہ ووٹ کون دے گا اور کیوں دے گا۔ حلقے کے لوگ بھی ان سے کوئی امید نہیں رکھتے کیونکہ کوئی بھی براہ راست ان سے شناسائی نہیں رکھتا اور جو ان کے شناسا ہیں وہ وہ بھی شاکی ہیں پر چپ رہنے پر مجبورہیں کیونکہ ان کو بھی چپ چاپ ووٹ دینے کے احکامات کہیں اور سے آتے ہیں جہاں شکایت کرتے ہوئے ان کے بھی پر جلتے ہیں۔
اسد عمر کے بڑی توپ ہونے کی خبر یں پچھلی حکومت کے دوران ہی گرم ہوئی جب وہ اسحاق ڈار اور نواز شریف کی حکومت کو اسمبلی میں اپنی شستہ اردو اور صاف انگریزی زبان کے ساتھ نشانے پر رکھتے تھے۔ بغل میں فائلیں دبائے جب اسمبلی کے فلور پر آتے تھے تو بغیر داڈھی اور گھنی مونچھوں کے کلین شیو اسد عمر ہمارے روایتی سیاستدانوں کے برعکس ایک لائق فائق شائستہ اور مخلص صاحب بصیرت معلوم ہوتے تھے جن کی موٹے عدسوں والی نظر کی عینکوں کے پیچھے سے عقابی نگائیں پس پردہ حقائق کا بھی ادراک رکھتی ہیں۔
Read more