لٹیرا تبدیل کرنے میں حرج ہی کیا ہے؟

کہتے ہیں زندگی ایک ایسا کھیل جس میں آپ جیت نہیں سکتے ہیں برابر نہیں ہو سکتے ہیں اور نہ ہی آپ نہ کھیلنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ زندگی ایسا کھیل ہے جس میں کھلاڑی کو جونہی سمجھ آ جاتی ہے اس کو ریٹائرڈ کر دیا جاتاہے۔ کتنا عجیب ہے یہ کھیل۔ اس کھیل میں کسی دن آپ سو رنز کر جاتے اور دوسرے دن صفر پہ آؤٹ ہو جاتے ہیں۔ عجیب معمہ ہے نا زندگی۔ کسی دن آپ آسمان کو چھوتے مسائل چٹکیوں میں حل کر لیتے ہیں اور کسی دن چٹکی جتنے مسائل سالوں حل نہیں کر پاتے۔ کبھی کبھی سامنے کی بات انسان کی سمجھ میں نہیں آتی تو کبھی گمبھیر سوالوں کا جواب لمحوں میں مل جایا کرتا ہے۔

Read more

ریڈ کراس کی دوروزہ ہیومینیڑین بلاگنگ ورکشاپ

وطن عزیز کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے تعاون سے سنٹر آف ایکسیلینس اِن جرنلزم IBA کراچی میں ہیومینٹیرین بلاگنگ کے حوالے سے دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے چیدہ چیدہ بلاگرز اورڈیجیٹل رپورٹرز کو مدعو کیا گیا۔ اس ورکشاپ کا بنیادی مقصدنمائندہ لکھاریوں کی توجہ انسانی مسائل اوران کے حل کی جانب مبذول کرانا تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لئے انٹر نیشنل کمیٹی آ ف ریڈ کراس کے نمائندے فرنود عالم، رمشہ قریشی اور یٰسین کامران مستعدی کے ساتھ دونوں دن کام کرتے نظر آئے۔

Read more

پیپلز پارٹی انٹرنیشنل اور مقامی سٹیبلشمنٹ کے لیے فلیکسی بَل جماعت

”ڈیوَن“ انگلینڈ کی ایک پرانی کاؤنٹی تھی۔ وہاں 1210 ء میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کانام ”ہنری بریکٹن“ رکھا گیا۔ وہ بڑا ہوکر چرچ میں مذہبی رہنما اور قانون کا استاد بنا۔ ہنری بریکٹن نے اُس وقت ایک ایسا نظریہ پیش کیا جو آٹھ سو برس بیت جانے کے بعد بھی دنیا کے غیرجمہوری حکمرانوں کا پسندیدہ نظریہ ہے۔ ہنری بریکٹن کے اِس زہرِ جمہوریت نظریے کو ”نظریہ ضرورت“ یا ”ڈاکٹرائن آف نیسے سٹی“ کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس کی پہلی مشہور مثال 1954 ء میں فیڈرل کورٹ کے چیف جسٹس محمد منیر کی طرف سے گورنر جنرل ملک غلام محمد کے قانون ساز اسمبلی کو برخواست کرنے کے اقدام کو نظریہ ضرورت کے تحت درست قرار دینا تھا۔

Read more

شخصیت کی تعمیر میں ’سوچ‘ کا کردار

میں نے محسوس کیا ہے کہ اسکول میں عموماً جن بچوں کو ناغہ کرنے کی عادت ہوتی ہے، وہ کسی نہ کسی بہانے سے اسکول ناغہ کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر ان کے پاس کوئی بہانہ نہ ہو تو بسا اوقات فطری طور پر انہیں کوئی بہانہ مل جاتا ہے۔ مثلاً وہ بیمار پڑ جاتے ہیں، گھر میں مہمان آ جاتے ہیں، کسی رشتہ دارکی شادی ہو جاتی ہے، کوئی ناخوشگوار واقعہ ہو جاتا ہے وغیرہ۔ اس کے برخلاف پابندی سے اسکول آنے والے بچے شاید ہی کبھی بیماری یا کوئی اور عذر لے کر آتے ہیں۔ایک بار میری جماعت کا ایک بچہ ایک ہی سال میں تیسری مرتبہ شادی کے نام پر چھٹی مانگنے آیا تو میں نے جماعت کے ان بچوں سے جو پابندی سے اسکول آتے ہیں، ہنستے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ کے خاندان میں سب لوگ کنوارے ہی رہتے ہیں؟ آپ لوگوں نے کبھی شادی کے نام پر چھٹی نہیں مانگی؟ میرے اس سوال پر کلاس کے سبھی بچے مسکرانے لگے۔

Read more

دہائی اور رہائی

دنیا کے مہذب معاشروں کے سیاستدان تعمیر ریاست کے لئے سیاست کرتے اوراپنے ہم وطنوں کے لئے نجات دہندہ بن جاتے ہیں مگرہمارے ہاں سیاستدانوں کے روپ میں سرمایہ دار طبقہ ریاست کے ساتھ سیاست جبکہ قومی وقاراور مفادکوبلڈوز کرتاہے۔ بدقسمتی سے اقتدارپرست اہل سیاست کوریاست پر رحم آتاہے اورنہ رعایا کے ساتھ انہیں کوئی ہمدردی ہے۔ ہمارے ہاں ضیائی آمریت کے بعدسے نظریاتی سیاست اورنظریاتی صحافت ناپیدہوگئی، مالیاتی سیاست اورمالیاتی صحافت نے ریاست اورنظام کونیم مردہ کردیا۔سیاستدان اپنے بچاؤکے لئے ایک گہری سازش کے تحت ریاست کونہایت کمزورکر تے رہے، آج ریاست قومی چوروں کوچھوڑنے کامژداسناتے ہوئے ان سے اپنے پیسوں کی واپسی کے لئے بھیک مانگنے پرمجبور ہے کیونکہ اب ریاست میں چوروں کوزیادہ دیرتک حراست میں رکھنے کی سکت نہیں رہی۔ ہمارے نام نہادرہبرو ں نے ایساآئین بنایاجوان کے لئے موم کی ناک جبکہ عام آدمی کے لئے لوہے کاچنا ہے۔ مٹھی بھربدعنوان، بدزبان اوربے لگام سیاستدان پاکستان سمیت اس کے ریاستی نظام کوتختہ مشق بنائے ہوئے ہیں۔

Read more

ایک روزہ انٹرنیشنل کرکٹ میں ورلڈ کپ کا سہرا کسں کسں کے سر رہا

کرکٹ کا ایک روزہ انٹرنیشنل کا ورلڈ کپ 30 مئی 2019 کو کو انگلینڈ کے شہر لندن میں شُرُوع ہو رہا ہے، جس میں پاکستان سمیت 10 ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں یہ ایک روزہ انٹرنیشنل کرکٹ کا بارہواں ورلڈ کپ ہو گا، اِس سے پہلے ابھی تک ایک روزہ انٹرنیشنل کرکٹ کے 11 ورلڈ کپ کھیلے جا چکے ہیں جس میں، 1975 اور 1979 میں کلائیو لائیڈ کی قیادت میں ویسٹ انڈیز چیمپئن بنا۔ 1983 میں کیپل دیو کی قیادت میں انڈیا حیران کن طور پر چیمپئن بن گیا۔

19877 میں پہلی بار ایشیاء میں ہونے والا ورلڈ کپ آسٹریلیا نے ایلن بارڈَر کی قیادات میں جیتا۔ 1992 میں پاکستان نے اگر مگر کی کنڈیشن میں کسی طرح سیمی فائنل میں جگہ بنائی اور پہلے مضبوط ترین ٹیم نیو زی لینڈ کو سیمی فائنل میں ہرایا اور پِھر فائنل میں میلبورن کے نوے ہزار کراوڈ کے سامنے رمضان کے با برکت مہینے میں انگلینڈ جیسی مضبوط ٹیم کو ہرا کر عمران خان کی قیادت میں پہلی بار اور اب تک آخری بار ایک روزہ انٹرنیشنل کرکٹ میں چیمپئن ہونے کا اعذاز حاصل کیا۔

Read more

لالچی ڈاکٹر مسیحا نہیں

اس بات سے کسی کو اختلاف نہیں کہ تندرستی ہزار نعمت ہے۔ بلکہ تندرستی انسان کی وہ دولت جو ایک بار لٹ جائے تو پھر انسان کی زندگی عذاب بن کر رہ جاتی ہے۔ہماری بدقسمتی تو دیکھو ہم اس عظیم نعمت کی قدر کرنے کے بجائے اسے ایسے برباد کرتے ہیں جیسے ہم اپنی صحت کے دشمن ہوں۔ پھر ہم ڈاکٹرز کو مسیحا مان کر ان کی خدمت میں حاضر ہو جاتے ہیں۔ مگر ڈاکٹرز کا راویہ نا قابل بیان ہے۔ وہ ضرورت سے زیادہ ادویات تجویز کرکے مرض کو ختم کرنے کے بجائے دیگر بیماریوں میں مبتلا ہونے کے راستے کھول دیتے ہیں۔

Read more

مختصر کہانی: بربادی کی وجہ

وہ نیا نیا مسلماں ہوا تھا۔ اس نے اپنے تئیں مطالعہ کرکے اسلام کو دل سے اپنایا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ مسجد میں عبادت سرانجام دے۔ اسے بتایا گیا تھا کہ مسلمان اپنی عبادت مسجد میں کرتے ہیں اور مسجد اللہ کا گھر اور مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ وہ گزشتہ کئی دنوں سے سفر کررہا تھا۔ آج بھی عازم سفر تھا تبھی کسی خیال کے تحت وہ بس سے اترا اور راستے میں موجو دقریبی مسجد میں چلا گیا۔لیکن اسے گیٹ پر ہی روک لیا گیا۔مسجد پر ”اسلامی مسجد“ کے عنوان سے نصب شدہ بورڈنظر نہیں آرہا تھا، صرف فرقے کے نام کا ٹیگ تھا۔حالات ٹھیک نہیں ہیں لہذا آپ اندر نہیں جاسکتے۔ پہلے اپنے بارے میں بتائیے۔ چوکیدار نے اسے روکتے ہوئے پوچھا۔جی مذہب اسلام سے تعلق رکھتا ہوں۔ نو مسلم ہوں۔ نماز پڑھنے کے لیے آیا ہوں۔ اس کو یہی جواب سوجھا۔

Read more

موت کے سودا گر

روزانہ ہزاروں لوگ لا چاری کے عالم میں موت کا شکار ہوجا تے۔ متعدد لوگ کھلی ہوا میں آکر اپنی آخر ی سانسیں لیتے جبکہ بہت سے دیگر اپنے گھر وں کے اندر ہی جان دے دیتے اور پڑوسیوں کو لاش کی بدبو سے موت کی خبر ملتی، پورا شہر مُردوں سے بھر پڑا تھا۔ لوگ لاشوں کو محض اس خوف کے مارے گھروں سے باہر نکال کر دروازوں کے سامنے رکھ دیتے کہ کہیں اُن کے گلنے سڑنے سے اُنہیں بھی مرض نہ لگ جا ئیں۔ بلخصوص صبح کے وقت گھر سے باہر نکلنے والوں کواپنے ارد گرد بے شمار لاشیں نظر آتی تھی تب وہ جاکر تابوت لاتے اور کچھ کو تختے پر ہی ڈال دیتے ایک تابوت میں دو تین لاشیں ہوتی بس ایک مرتبہ ہی ایک تابوت میں ایک لاش دیکھی نہ ہی یہ دیکھا جاتا کہ کس تابوت میں شوہر اور بیوی، دو یا تین بھائی، باپ اور بیٹا وغیرہ ہیں۔ معاملات یہاں تک پہنچے کے لوگ لاشوں کو اس طرح دیکھتے جیسے آج کل مردہ بکر یوں کو دیکھ جا تاہے۔

یہ سولہویں صدی کے اٹلی کے شہر وینس کا منظر ہے۔ اور کم و بیش پورے ملک اور براعظم میں کچھ اسی طرح کے شب و روز تھے۔ یہ وہ وقت ہے جب یورپ میں طاعون کی وبا پھیلی جس نے سارے براعظم کواپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس وبا کو ”کالی موت“ کے نام سے تاریخ میں جانا جا تاہے۔ لا کھو ں لوگ اس بیماری کا شکار ہو کر موت کے گھاٹ اتر گئے اور کم و پیش دس سال تک اس دہشت کا راج رہا۔

Read more

ایک خواب

میرا ایک خواب ہے کہ خدا کرے ہر گھر میں گھر کے افراد کے مابین فکری تبادلے ہوں، اختلاف رائے کا احترام ہو، نئی سوچوں کو آزادانہ بیان کرنے اور کھلے دل سے سننے کا رواج ہو۔ کسی ایک فرد کا نقطئہ نظر ماننا سب کے لیے لازم نہ ہو اور اس کے ساتھ ساتھ سب افراد محبت اور احترام سے رہیں۔ اس خواب کے پیچھے جو وجوہات ہیں وہ یہ ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ اس تحریر

Read more

سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی اثرات

پچھلی چند دہائیوں میں جدید ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا بھر کے لوگ ایک دوسرے سے نزدیک آگئے ہیں، اب فاصلوں کی دوری کوئی بڑی بات نہیں رہی۔ جدید ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسانی تعلقات کی نت نئی شکلیں پیدا کر کے ان کے دائرے کو وسیع کردیا ہے۔ 2000 کے بعد انٹرنیٹ کی دنیا میں کچھ ایسی ویب سائٹ سامنے آئیں۔ جنہوں نے نہ صرف لوگوں کو ایک دوسرے سے قریب کردیا بلکہ ہزاروں کلومیٹر کے فاصلے کو بھی ختم کردیا۔ فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور دیگر سنیپ چیٹ جیسی سائٹس نے مرد جواتین، نوجوان اور بوڑہوں کے ساتھ بچوں کو بھی اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔ لیکن ہمیں یہ چیز نہیں بھولنی چاہیے کہ جہاں کسی چیز کے فوائد ہوتے ہیں وہاں نقصانات بھی ہوتے ہیں۔

Read more

تسطیر، سب نیلا ہے۔کتاب پر تبصره

سہ ماہی تسطیر کا شمارہ موصول ہوا۔ خوبصورت سرورق کی مصورہ عینہ عارف راجہ کا تعارف، حمدیہ و نعتیہ اشعار کے بعد ”سب نیلا ہے“ نصیر احمد ناصر کی ادارتی تحریر نے بچپن کی نیلی چڑیا۔ نیلی پری۔ نیلے بال پوائنٹ کی یاد دلا دی، ہم کزنز نے ایک ننھی سی بلیو برڈ پکڑی تھی، جو ہمارے دادا کے گھر کے لان میں چہچہاتی تھی، اور جب ہم نے بہت جتن سے اس کو پکڑا تو وہ خوف سے خاموش

Read more

ہیرے کی قیمت جوہری ہی سمجھے

جو لوگ شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں انہیں احساس ہوگا کا اس شعبے میں کس قدر بے ضابطگیاں ہیں۔ پورا شعبہ صرف چند کاغذوں پہ ہی چل رہا ہے۔ لکھا ہوا آرڈر آتا ہے اور ویسے ہی آرڈر کی تعمیل کی جاتی ہے۔ بھیجنے والا بھی وجہ اور اثرات سے نا آشنا ہے۔ اور عمل کرنے والے کو اپنی نوکری کی فکر ہے۔ بہت سی پالیسیاں ایسی آتی ہیں جو زمینی حقائق کو یکسر نظر انداز کر کے بنائی جاتی

Read more

مولانا تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ کیوں؟

چند برس قبل پاکستان گیا تو ہمارے ایک دیرینہ دوست نے فون کیا اور خوشخبری دی کہ آج ان کے یہاں حضرت مولانا تقی عثمانی تشریف لا رہے ہیں ملنا چاہو تو آ جاؤ۔ میرے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا تھا کہ حضرت کی صحبت میسر ہوتی واضح رہے کہ جب ہم پاکستان میں رہتے تھے تو میں آپ سے متعدد مرتبہ ملاقاتوں کا شرف حاصل کر چکا تھا مگر ایسی نیک و صالح اور سراپا فکر عمل

Read more

کہانی چوبیس گھنٹوں کی

روز اس شہر میں اک حکم نیا ہوتا ہے کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کیا ہوتا ہے ہم داستانِ امیر حمزہ تو لکھ نہیں سکتے نہ ہمارا زبان و بیان اتنا پختہ نا ہی لفظوں پر دسترس البتہ چوبیس گھنٹوں پر طبع آزمائی کی جا سکتی، کبھی پاگل خانے اگر جانے کا اتفاق ہو تو وہاں پر جو ایک پاگل کرتا سبھی کرنے لگتے ہیں، ایک طرف سے جو آواز آئے سبھی ایک آواز ہوجاتے وہی آواز زبان

Read more

سوشل میڈیا۔ کم سن کے ہاتھ ہتھیار

کوئی معاشرہ جامد یا غیر متحرک نہیں ہوتا۔ تبدیلی اور تغیر معاشرے کے ارتقا کا لازمی جزو ہے۔ یہ عمل غیر محسوس طریقے سے جاری و ساری رہتا ہے۔ تبدیلی اور تغیر کا عمل مقابلے یا مسابقت کی فضا میں پھلتا پھولتا ہے اور معاشرے کی مثبت اٹھان کا سبب بنتا ہے۔ دنیا کے ہر معاشرے میں خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، دیہی ہو یا شہری، خواندہ ہو یا ناخواندہ، ترقی یافتہ ہو یا غیر ترقی یافتہ، انسانوں کے درمیا

Read more

گورنمنٹ کالج میرپور کے سابق طلبا کی تنظیم اولڈ سروشنیز یونین

میرپور آزاد کشمیر کا ایک قدیمی اور سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ ایک بہت خوبصورت شہر ہے جسے مِنی لندن بھی کہا جاتا ہے۔ گو کہ یہ شہر آج کل زبوں حالی کا شکار ہے۔ یہ شہر 1640 عیسوی میں ایک حکمران میراں شاہ غازی نے آباد کیا۔ قدیمی شہر 1960 کی دہائی میں منگلا ڈیم بننے کی وجہ سے ڈیم کے پانی میں ڈوب گیا۔ اور اس کی جگہ منگلا جھیل کے کنارے بلاہ گالا کی پہاڑیوں پر

Read more

اکبر سومر و کے ناول ’کھماچ‘ پر تبصرہ

ایک فلیٹ میں ہم جنس پرست اُنس رہتا ہے جس کی دوست مونا ہے۔ اُنس کے ساتھ کچھ ماہ گزارنے کے بعد مونا اس کی غیر سنجیدہ روّیے اور اُنس کے بوائے فرینڈ شہاب پوپی کے ساتھ اس کی اٹیچمینٹ سے بیزار ہوجاتی ہے۔ اسے اُنس کے ساتھ اپنی زندگی بے معنی لگنے لگتی ہے۔ کچھ روز بعد اُنس اپنے آپ کو شدید تنہائی کا شکار پاتا ہے۔ وہ مونا سے جھگڑا کر کے مونا کو گھر سے نکال دیتا ہے۔

آگے چل کر مونا عماد کی قربت بھی حاصل کرتی ہے۔ خاندان اور عزّت کے نام پر بلیک میل کر کے زارا کی منگنی زبردستی اس کے اَن پڑھ کزن سے کر دی جاتی ہے۔ منگنی کے دوسرے روز زار ا زہر کھا کر خود کشی کر لیتی ہے جس سے عماد کو شدید صدمہ پہنچتا ہے۔ زارا کی موت کے لئے عماد اپنے آپ کو بھی ذمیدار سمجھتا ہے۔ زارا کی یادوں سے چھٹکارا پانے کے لئے عماد ربیعہ سے تولقات استوار کر لیتا ہے۔ جب رومیسا کو عماد کے ربیعہ کے ساتھ بھی تعلقات کا پتہ چلتا ہے تو وہ پہلے کی طرح عماد کو محبتوں کے سیراب میں چھوڑ دیتی ہے۔

Read more

یہ حادثہ بھی لکھو معجزوں کے خانوں میں

جمہوریت وہ طرزِ حکومت ہے جس میں انسانوں کی گنتی کی جاتی ہے۔ آپ کی رائے اہم بھی ہے۔ یہ بھی جمہوریت ہے۔ مگر جمہوریت کو کیا خطرات لاحق ہے اس کی وجوہات آپ ایک حمام میں بیٹھے لوگوں کی طرزِ گفتگو سے سمجھ سکتے ہیں۔آج محترم عمران خاں نے بطورِ وزیراعظم کہا ہے کہ جناب زرداری اپنا ٹھکانہ جیل میں سمجھیں کیونکہ میں حکومت میں احتساب کرنے آیا ہوں۔

Read more

لائٹ ہاٶس یا پھر لائف بوٹ

کچھ کتابیں محض کتابیں نہیں ہوتیں یہ زندگی بچانے والے ہاتھ ہوتے ہیں۔ لائٹ ہاٶس کی مانند روشنی دکھانے والے مینار ہوتے ہیں یا پھر لائف بوٹس کہلانے والی وہ کشتیاں جن کا کام ہی ڈوبتے ہوے لوگوں کو کنارے پر لے جانا ہوتا ہے۔ صوفیہ کاشف کی کتاب گہر ہونے تک کا شمار بھی ایسی ہی کتابوں میں ہوتا ہے جو مایوسی کے اندھیروں میں روشنی کا کام کرتی ہیں۔ کتاب کا سرورق نہایت عمدہ ہے۔ کتاب کھول کر ابھی میں ایک متاثر کن پیش لفظ پڑھ کر فہرست کا جائزہ لے ہی رہی تھی کہ اچانک سے سڈنی شیلڈن میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اس دنیا میں لے جاتا ہے جہاں جگہ جگہ اس کے آنسو اور مسکراہٹیں بکھرئی ہوئی ہیں۔

Read more

عقلی کاپی پیسٹ کا طوفان

موجودہ کائنات میں بے شمار مخلوقات خدائی ترتیب کے زیرِسایہ اپنے اپنے دائرہ کار کے مطابق فرائض کی انجام دہی میں مصروفِ عمل ہیں اور اِن لا محدود تخلیقاتِ خدا میں انسان واحد مخلوق ہے جس کو سوچنے کی خوبصورت اور انمول صلاحیت سے نوازا گیا ہے۔ جس کی بدولت یہ اپنے حال اور آنے والے کل کے بارے میں منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔ جن و بشر، شجرو حجر، برگ و ثمر الغرض کائنات کا ذرا ذرا ہر وقت انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور انتہائی درجہ پر دعوتِ فکر کا بیش بہا سامان مہیا کرتا ہے کہ اپنی سوچوں کو جھنجھوڑو اور خوابِ غفلت سے جگاؤ اور غور کرو کہ رینگنے والے حشرات الارض سے لے کر آسمان پر پرواز کرتے ہوئے پرندے، سمندر کی گہری آغوش میں تیرنے اور رہنے والی رنگ برنگی مختلف الماہیت مخلوقات سے لے کر فلک پر جگمگاتے ہوئے ستارے، زمین کی تہوں میں چھپے میٹھے پانی کے انمول تحفوں سے لے کر بے شمار معدنیات کے خزانے، ادنیٰ سی مخلوق کا پھولوں سے رس چوسنا اور پھر رس کا شہد کی صورت اختیار کرنا، انسان کی پیدائش کے حیران کن نظام سے لے کر انسان کے اختتام تک کی خودکار میکانیکی قدرتی ترکیب اور اِس طرح کے ان گنت معجو باتِ فطرت ابنِ آدم کوکائناتی ترتیب وتدویر پر مدبرانہ مشاہداتی ترغیب دلاتے ہیں۔

Read more

حفاظِ کرام نعمتِ حفظِ قرآن کی قدر کریں

قرآن کریم کا حفظ کرنا ایک عظیم سعادت ہے یہ وہ عظیم سعادت ہے جس کے مقابلے میں دنیا کی تمام نعمتیں اور سعادتیں ثانوی درجہ رکھتی ہیں۔ حافظ قرآن کے لئے یہ فخر کیا کم ہے کہ وہ کسی اور کا نہیں بلکہ اللہ جلّ شانہ کے کلام کا حافظ ہے، اس کا سینہ اُسی سے معطر ہے، دل اُسی سے آباد ہے اور زبان اُسی کی تلاوت سے تر ہے، کم از کم میرے نزدیک تو حفظِ قرآن

Read more

قومی سلامتی، ہائبرڈ وار اور ہماری منصوبہ بندی

پاکستان میں صورتحال کی سنگینی، خدشات اور قیاس آرائیوں سے کچھ بڑھ کر ہی ہے، ملکی میڈیا (پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا) ان دنوں بحران کاشکار ہے، مگر افرادی قوت وسائل کی کمی اور مالی بحران کے باوجودقومی میڈیا نے اپنی استعداد کار میں کمی نہیں آنے دی، پلوامہ حملے اور پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی دونوں پریس کانفرنسوں میں قومی میڈیا کے کردار کی تعریف اور اظہار اطمینان دراصل ان ذمہ داریوں

Read more

غیر ریاستی عناصر، دنیا اور پاکستان

یہ کر ہ ارض جس پر ہم زندگی گزار رہے ہیں، سات براعظموں کا مجموعہ ہے۔ تقریبا تمام برآعظموں پر انسان زندگی بسر کررہا ہے۔ ان بر اعظموں پر لیکریں کھینچ کر مختلف ریاستوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ ریاستیں یونہی وجود میں نہیں آ ئی، بلکہ ریاست کا موجودہ تصور انسان کے ہزاروں سالوں کی فکری کوششوں کا نتیجہ ہے۔ افلاطون سے لے کر میکاولی تک اور میکا ولی سے لے جیمزمل اور تھامس ہابس تک سب نے اپنے اپنے حالات کے مطابق اپنے اپنے دور میں ریاست کے بارے میں اپنے نظریات پیش کیے۔ موجودہ نیشن سٹٹ انہی فلاسفر کی ذہنی محنت کی ارتقائی شکل ہے۔

Read more

ڈوگروں کے ہاتھوں یاسین کی تباہی اور جارج ہیورڈ کا کردار

لاھور میں رنجیت سنگھ کے دربار میں کچھ لوگ حاضر ہوئے اور انہوں نے سکھ دربار سے گوہر امان کے خلاف مدد کی اپیل کی۔ یہ مشورہ عسیٰ بہادر والی پونیال کا تھا کہ گوہر امان کو شکست دینے کے لئے سکھوں سے مدد لی جائے۔ کیونکہ طرہ خان حکومت اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ عسیٰ بہادر کا مشورہ پسند ایا۔ وفد لاھور میں موجود تھے۔ فیصلہ یہ ہوا کہ گوہر امان کی سرکوبی کے لئے ایک بھاری سکھ

Read more

ستر پوشیاں گھر کو جنت بنا سکتی ہیں

میرے نبی (ص) نے فرمایا کہ ”جس نے ایک مسلمان کے عیب چھپائے اللہ قیامت کے دن اس کے عیب چھپائے گا“۔ ہمارے معاشرے کی تباہی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہم نے ایسے سارے قول نہ صرف پڑھنے چھوڑ دیے ہیں بلکہ ہم عیب جوئی میں اس درجہ آگے بڑھ چکے ہیں جہاں سے ہمارا پلٹنا بھی نا ممکنات میں نظر آنے لگا ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی بشر ایسا ہو جس میں کوئی نہ کوئی

Read more

بھارتی انتخابات 2019

بھارت کا آئین دنیا کے ضخیم ترین دساتیر میں سے ایک ہے۔ اس میں 395 آرٹیکلز، 22 حصے اور 12 شیڈولز ہیں۔ بھارتی دستور کے تحت مرکز میں دو ایوانی قانون ساز سسٹم رائج ہے یہ دو ایوان آرٹیکل 79 کے مطابق راجیہ سبھا (کونسل آف سٹیٹس) اور لوک سبھا (ہاوس آف پیپلز) ہیں۔ الیکشن انڈیا 2019 سات مرحلوں میں 11 اپریل سے شروع ہو کر 19 مئی تک ختم ہو گا۔ اس الیکشن کے ذریعے انڈین عوام سترہویں لوک

Read more

مسافر

افسانہ لکھتا ہوں میں، تمہارا اور اپنا، افسانہ لکھتا ہوں میں، کبھی لکھتا ہوں تمہارا نام، پھر اس سے پہلے لکھتا ہوں اپنا نام، دیکھ کے ان ناموں کو مسکراتا ہوں، جو دو نام ایک سے لگتے ہیں، کبھی یوں ہی بیٹھے بیٹھے وہ شام کا قصہ لکھتا ہوں، جب تمہاری آنکھوں میں شناسائی تھی، جن آنکھوں میں میرا عکس تھا، جب تمہارے دل کی آواز کو سنا تھا، جس شام کو ہم چاند تاروں کی طرح ملے تھے، جس

Read more

مقامِ عورت اور معاشرتی معیار

حالیہ دنوں لاہور میں ایک نہایت ہی دل سوز واقعہ رونما ہوا۔ ایک اوربنتِ حوا کی تذلیل کی گئی، سر کے بال کاٹے گئے ظلم و تشددسے دو چار کیا گیا۔ واقعہ کا پس منظر جو بھی ہے لیکن ظلم کس طرح اور کس ذات پہ ہوا یہ قابلِ فکر ہے۔ کیا ہمارے معاشرے میں عورت کو اسی طرح کم تر اور حقیر سمجھا جاتا رہے گا؟ اسی طرح اپنا غلام سمجھ کر سلوک کیا جاتارہے گا؟ کیا اسی طرح حوس کا شکار اور درندگی کا نشانہ بنایا جاتا رہے گا؟

Read more

عمران خان سچے اور غیرت مند وزیراعظم

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ملک و قوم کو ایک سچا، کھرا، غیرت مند اور بہادر لیڈر، وزیر اعظم عمران خان کی شکل میں نصیب ہوا ہے۔ یہاں عمران خان کا شہید بھٹوسے موازنہ ہرگز نہیں کیا جا رہا ہے۔ لیڈر اپنے عہد کے ہوتے ہیں۔ شہید بھٹو کا اپنا عہد تھا۔ عمران خان اپنے عہد کے لیڈر ہیں۔ عمران خان کو جن حالات اور صورتحال کا سامنا ہے۔ شہید بھٹو کے دور

Read more

موسمیاتی تبدیلی اور خطرے کے بادل

موسمیاتی تبدیلی اور اس کے اثرات و نتائج ایک ایسا معاملہ ہے جو آج کل بین الاقوامی سطح پر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جہاں دنیا بھر پر گہرے اثرات مرتب ہورہے ہیں وہیں پاکستان پر اس کے واضح اثرات نمایاں ہیں۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر آگیا ہے۔پاکستان میں بہت بڑے پیمانے پرموسمیاتی تبدیلی رونما ہورہی ہے جس کی بنیادی وجوہات آلودگی، گلوبل وارمنگ اور شجرکاری میں کمی ہے جس کے باعث پاکستان کے مختلف سرد علاقوں کا موسم بھی تبدیل ہوکر گرم و مرطوب ہورہا ہے۔ جبکہ ساحلی علاقہ جات بارشوں کی کمی کے باعث شدید ترین گرم موسم کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔

Read more

کپاس کے پھول اور غریب کی بیٹی

ڈئیر ڈائری آج میں تمہیں زندگی کی ایک اٹل حقیقت بتانے لگی ہوں اور حقیقت یہ ہے کہ ہم جس چیز کے پیچھے بھاگتے ہیں وہ ہے پیسہ۔ ہر انسان سونے چاندی کا چمچ لے کر پیدا نہیں ہوتا اور ہر انسان غربت کی چکی میں بھی نہیں پستا۔ پیسہ انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور پیسہ کے بغیر انسانی زندگی کا تصور ہی ناممکن ہے۔ زندگی بسر کرنے کرنے کے لئے پیسے کی کی اہمیت اپنی جگہ مسلط و

Read more

محبت کرنے والے بڑے حوصلوں کے مالک ہوتے ہیں

کامران یونیورسٹی میں میری ہی طرح کا خود پسند نوجوان تھا توہین کی حد تک جاکر لڑکیوں کے پروپوز کو ریجیکٹ کر دینے والا۔ اسی طرح میں بھی کئی مفت خوروں کو جھاڑ پلا چکی تھی ایک دن کامی بھی اس کی زد میں آگیا وہ مجھے کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ کے لان میں ملا اور اپنا رعب جمانے لگ گیا۔ وہاں ایک اچھی خاصی جھڑپ ہو گی جو کئی دن تک یونیورسٹی میں دلچپ موضوع رہی لیکن یہ ہمارے نئے تعلق کی ابتدا بھی تھی۔ یہ بہانہ آہستہ آہستہ ہمارے تعلق کی بنیاد بن گیا۔

Read more

ہماری تعلیم اور مستقبل

پڑھ اس رب کے واسطے جس نے تجھے جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ ہم جو داعی ہیں کہ آج مغرب میں جو تعلیم ہے وہ ہمارا علم ہے۔ ہم جو داعی ہیں کہ آج سائنس جو ترقی کر رہی ہے وہ قرآن مجید کی مرہون منت ہے۔ہم جو کہتے ہیں کہ دنیا میں اجالا نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ و علیہ وسلم اور اسلام کی وجہ سے ہے تو آج مسلمان کہاں کھڑا ہے۔ آج 1400 سال کے بعد اپنا تجزیہ کرنے کی اشد ضرورت میں صرف پاکستان کی بات نہیں کر رہا بلکہ پوری امت مسلمہ کی بات کر رہا ہوں۔ جون ایلیا کا فقرہ ہے کہ ہم پچھلے 1000 سال سے تاریخ کے دسترخوان پہ حرام خوری کر رہے ہیں۔ چلو ہم اس کو نہیں مانتے پھر بھی میرے خیال میں پانچ سو سال ایسے ہیں کہ ہم نے دنیا کو کچھ نہیں دیا۔

Read more

سلام باؤ جی …. ایک طوائف اور ایک شریف زادے کی کشمکش

سلام باؤ جی۔ عورت کی منمناتی ہوئی سی آواز میرے کانوں میں گونجی، میں نے کن اکھیوں کی بھی کن اکھیوں سے اس کی طرف دیکھا اور آہستہ سے سلام کا جواب دے کر آگے بڑھتا چلا گیا۔میں اس کے پاس سے روزانہ یوں ہی گزرتا ہوں جیسے کوئی ایکسپریس ٹرین جو چھوٹے چھوٹے سٹیشنوں کو خاطر میں ہی نہیں لاتی اور فراٹے بھرتے نکل جاتی ہے۔ لیکن، باوجود اس لگاتار بے اعتنائی کے وہ مجھے روزانہ ہی ’سلام باؤ جی‘ کہہ دیا کرتی۔ شاید میرا حلیہ بابوؤں جیسا تھا، ڈریس پینٹ، استری کی ہوئی شرٹ، اکڑا ہوا کالر، سلیقے سے بنے بال، پاؤں میں پالش ہوئے بند جوتے، دھیمی چال، سرفوجیوں کی طرح تھوڑا سا اٹھا ہوا۔

Read more

زمیں کے زخم آج بھی بھٹو کو پکارتے ہیں

جون 1966 ء میں پہلے فوجی آمر ایوب خان نے ذوالفقار علی بھٹو کو وزارتِ خارجہ سے برطرف کیا تو عام خیال یہی تھا کہ ان کا سیاسی سفر ختم ہوگیا ہے۔ بھٹو بے پناہ غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے اور انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو نہایت ذہانت اور جرات سے ایوب خان کے خلاف استعمال کرتے ہوئے اقتدار کو دوبارہ پا لیا۔ ان کی وفات کو چالیس سال گزرنے کے بعد بھی پاکستان کی سیاست پر بھٹو کے

Read more

گلگت بلتستان کے حلقہ نمبر 1 کی محرومیاں

شہری اور دیہی آبادی پہ محیط گلگت بلتستان کا یہ حلقہ انتہائی اہمیت کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی پسماندہ بھی ہے۔ اس حلقے کی اہمیت اس لیے ہے کہ گلگت شہر کا ایک قابل ذکر رقبہ اس حلقے میں شامل ہے اور پسماندہ اس لیے کہ یہاں کی شہری اور دیہی آبادی دور جدید میں بھی بنیادی اور لازمی حقوق سے محروم ہے۔  اس حلقے کے نالوں سے پائپ لائنز کے ذریعے دوسرے حلقوں کے لیے پانی تو جاتا ہے مگر حلقے کے عوام صاف پانی کو ترستے ہیں۔یہاں کی آبادی کا شمار قدیم آبادی میں ہوتا ہے مگر زمینوں کے سرکاری ریٹس دوسرے حلقوں کی بنجر زمینوں سے بھی بہت کم ہیں۔ ایجوکیشن کے میدان میں کوئی ایک بھی قابل ذکر سکول اور کالج اس حلقے میں موجود نہیں ہیلتھ سیکٹر اور پبلک ٹرانسپورٹ کے حالات بھی زیادہ مختلف نہیں ہیں اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ یہاں کے لوگ اپنے ووٹوں کے ذریعے جس نمائندے کو اسمبلی بیجتے ہیں اسی سے ہی ملنے کو ترستے ہیں۔ ایسی صورتحال میں پانی، بجلی، تعلیم، ٹرانسپوراٹ اور زمینوں کے سرکاری ریٹس کا نہ ہونے کے برابر ہونا زیادہ ناموافق نہیں لگتا۔

Read more

حضرت میاں محمد بخش: ایک آفاقی شاعر

میاں محمد بخش کی نگری کا باسی ہو نے کی و جہ سے ہم پر ایک قرض ہے کہ ان کے کلام پر تحقیق کی جائے۔ حضرت میاں محمد بخش رحمتہ ایک بلند درجہ عارف اور ولی اللہ ہونے کے علاوہ ایک آفاقی شاعر بھی تھے۔ آپ نے عاشق حقیقی اور محبوب حقیقی کے تعلق کو مجازی روپ میں پیش کیا ہے۔ آپ کا اصل موضوع حسن وعشق اور پیار محبت ہے۔ خدا کی ذات اور صفحات کو پہچاننا۔ کارخانہ قدرت

Read more

ذوالفقار علی بھٹو کا 40 واں یوم شہادت

4اپریل 1979 کو جب ایک آمر نے طاقت کے نشے میں قانون اور آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ملک پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا کر اپنی شیطانی طاقت کی حوس اور اپنے بیرونی آقاؤں کو خوش کرنا چاہاتھامگر وہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے اس قول کو بھول گیا تھا جو شہید بھٹو نے کہا تھا کہ” ذوالفقار علی بھٹو ایک نہیں ہے“

Read more

یقین کیجئے! مرغی گندے انڈوں پر بیٹھی ہے

میرے دیس کے غریب ہم وطنوں کو ”چوالیسواں“ حکومتی وزیراور ”حکومت عمرانی“ کو سولہواں ”مشرفی وزیر“ مبارک ہو۔ موجودہ حکومت کا ہر قدم ماضی میں دکھائے گئے ”خوابوں“ کے برعکس ہے۔ چور چور اور تبدیلی کے نعروں کو جب مدنظر رکھتا ہوں توکہیں کہیں تبدیلی نظر آتی ہے۔ مثال کے طور پر ماضی میں ”چالیس چور“ ہوا کرتے تھے اور اب تبدیلی چالیس کے ہندسے میں ضرور آئی ہے۔ ماضی میں قاضی انصاف کرتے تھے پھر تبدیلی کا شکار ”قاضی“ ڈیم بنانے لگ پڑے۔

Read more

رٹّا اور لارڈ کرزن کا آئینہ

لارڈ کرزن کی شہرت 1905 کی تقسیم بنگال سے ہے۔ یہ وہ وائسرائے ہے جسے ہندوستان و کانگریس دشمنی سے جانا جاتا ہے اور اس کی پالیسیز میں مسلمانوں کے لئے نرم گوشہ تصور کیا جاتا ہے۔ شاہانہ طور پہ سرزمین ہند میں حکومت کرنے والے اس وائسرائے کی ایک اور وجہ شہرت ہونی چاہیے تھی مگر تاریخ کی ستم ظریفی کہ نہیں بن سکی۔ وہ ہے لارڈ کرزن کے نام سے پاکستان میں ایک شہر کا آباد ہونا اور وہ شہر ہے میرا جنم بھومی پسنی جس کا سابقہ نام کرزن آباد تھا۔

Read more

باجوڑ ڈیڑھ دہائی سے بند پبلک لائبریری کسی مسیحا کی منتظر

کتب خانوں کا آغاز بنی نوع انسان کے تہذیب یافتہ دور میں قدم رکھتے ہی ہو گیا تھا۔ انسان کے دنیا میں آنکھ کھولتے ہی لکھنے پڑھنے کا رجحان تھا۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے مٹی کی تختیوں، جانوروں کی جھلی اور لکڑی کی تختیوں کو استعمال کیا گیا بعد ازاں چین میں کاغذ کی ایجاد عمل میں آئی۔ علم اور کتب خانے ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں نصابی ضرورت

Read more

ایک قدیم دیہاتی کی عالمی مفکرین سے حیرت انگیز مماثلت

تقریباً چار صدیاں قبل صحرائے تھر میں ایک ایسا دیہاتی شخص موجود تھا، جو یوں تو مویشی چراتا تھا مگر اسے جانوروں اور جنگلات سے عشق تھا۔ پالتو جانوروں کے رویوں اور رہن سہن کو وہ عام لوگوں کی نسبت مختلف نظر اور سائنٹیفک انداز سے دیکھا کرتا تھا۔ ہمارے ہاں آج بھی جانوروں کی زندگی کو تحقیقی انداز سے دیکھنا پاگلوں کا مشغلہ سمجھا جاتا ہے، مگر سارو سنگھار نامی ایک دیہاتی نے اپنی زندگی جانورون کے ساتھ بتا

Read more

شمالی پختونخوا، جنوبی پختونخوا اور ان کی شاملات

پختون مسئلہ نہیں مسئلے میں گرفتار ایک مصیبت زدہ، باصلاحیت لیکن منتشر قوم ہے۔ تقسیم ہند کے وقت پنجابی بھی، پختونوں کی طرح تقسیم کردیے گئے تھے۔ لیکن ان کی تقسیم واضح فالٹ لائن، یعنی سکھ پنجابی اور مسلمان پنجابی کے اصولوں پر مبنی تھی۔ پختونوں کے درمیان اس قسم کی کوئی فالٹ لائن بھی موجود نہیں تھی لیکن پھر بھی تقسیم در تقسیم کے کمزور کردینے والی عمل سے گزار کر ان کو قدرتی عدد کی بجائے کسری عدد

Read more

ویژن تو پھانسی چڑھ گیا پر بھٹو آج بھی زندہ ہے!

ذوالفقار علی بھٹو کو اس دنیا سے بچھڑے چالیس سال ہو گئے ہیں، بھٹو کی پھانسی آج بھی متنازع، عدالتی فیصلہ عدالتی قتل قرار، دنیا اس غیر معروف مقتول کا نام تک نہیں جانتی، جس کے قاتل کو دنیا آج قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے نام سے یاد کرتی ہے، دنیا کو اپنی ذہانت اور علم سے حیران کر دینے والا ذوالفقار علی بھٹو ہم نے مشرکہ طور پر گنوا دیا، قصور کسی ڈکٹیٹر کا نہیں، قصور پوری قوم

Read more

انگور کا رس

کچھ عرصہ گزرا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما علی امین گنڈاپور جس گاڑی میں سوار تھے اُس گاڑی سے شراب کی بوتلیں برآمد ہوئیں۔ اب علی امین یہ تو نہیں کہہ سکتے تھے کہ یہ گاڑی یا بوتل ان کی نہیں سو انھوں نے کہہ دیا کہ اس بوتل میں شراب نہیں، شہد ہے اور اپنے اس بیان پر وہ آج بھی قائم ہیں۔ کہ ان کی گاڑی سے برآمد ہونے والی بوتل میں شہد تھا، شراب نہیں۔

Read more

شادی، بیوی اور پٹھان دوست!

ہمارے یونیورسٹی کے ایک دوست شادی کے حوالے سے بے پناہ فکر مند رہتے ہیں۔ فکر مند رہنا اور فکر مند ہونے میں ایک باریک سا فرق سمجھ لیجئیے کہ فکر مند کبھی کبھی ہوا جاتا ہے جبکہ فکر مند رہنا۔ ہمہ وقتی سرگرمی ہے۔ یعنی فکر مند ہونا، کرنٹ کی طرح لگنے والی اچانک قسم کی کوئی چیز ہے جب کہ اس کے مقابل تسلسل اور بہاؤ کا نام فکرمند رہنا ہے۔ ہمارے دوست کی حالت بھی ایسی ہے

Read more

کاش پاکستان نیوزی لینڈ ہوتا

جتنی شہرت نیوزی لینڈ کے اُس کر ب ناک واقعہ نے حاصل کی جس میں پچاس کے قریب نمازی مسجد میں ہی شہید ہوگے اس سے زیادہ شہرت نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا کے گُڈ جیسچرکو حاصل ہوئی۔ جو نہ صرف مسلمانوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر شریک ہوئیں بلکہ اپنے کابینہ میں قرآن پاک کی تلاوت تک کرا دی۔ مسلمان نیوزی لینڈ میں کئی دہائیوں سے آباد ہیں اور یہ آبادی کا صرف ایک فیصد ہیں جس میں

Read more

د س روپے کلو ٹماٹر اور ہزار روپے کی کڑھائی

پاک بھارت تعلقات اکثر و بیشتر کشیدہ ہی رہتے ہیں پھر ہندوستان کو پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دینے کا بھی جنون کی حد تک شوق ہے کچھ عرصے پہلے ہندوستان نے بارڈر پر ہونے والی جھڑپوں کے ساتھ بزعم خود پاکستانیوں پر ایک اور بم پھوڑا تھا اور وہ یہ تھا کہ ہندوستان پاکستان کو ٹماٹر فروخت نہیں کریگا جس کا واضح اثر یہ تھا کہ بازار میں ٹماٹر کی قیمت سو روپے سے تجاوز کر گئی تھی اور

Read more

روز ایک نیا ٹاک شو

عوام میں بڑھتے ہوئے شعور اور خبروں سے دلچسپی کے سبب مختلف نیوز چینلز کو اپنی چھاپ بٹھانے میں نہ صرف آسانی پیدا ہوئی ہے بلکہ وافر منافع بھی حاصل کیا گیا ہے۔ یکے بعد دیگرے نیوز چینلز کی بھرمار ہوگئی ہے اور اتنے ٹاک شوز وجود میں آگئے ہیں کہ نام تک یاد رکھنا دشوار ہوگیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ روز ایک نیا ٹاک شو منظر عام پر آجاتا ہے جو اپنا منجن بیچنے میں لگا ہوتا ہے۔

Read more

نیوز چینلز کے حقائق اور پروپیگنڈے

موجودہ دور میں خبر کی شکل بالکل تبدیل ہوتی جارہی ہے۔ اگر آج آپ کا قریبی دوست بھی کوئی خبر سناتا ہے تو اس کا مقصد آپ کو انفارم کرنا نہیں بلکہ آپ سے اس پر بحث کرنا یا آپ کے سامنے خود کو دانشور ثابت کرنا ہوتا ہے۔ اب میڈیا کی کیا بات کریں جو ایک ایجنڈے کے تحت عوام کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ میڈیا کا مختلف پروپیگنڈے اختیار کرنا کیسا عمل ہے؟ ٹیلی ویژن (ٹی وی)

Read more

کیا فیس بک جانبدار ہوگئی؟

سماجی میڈیا کی ویب سائیٹ ”فیس بک“ لگتا ہے کہ حرکت میں آگئی ہے۔ پاکستان کے کئی اہم محکموں کا سماجی میڈیا کی اس ویب سائیٹ پر بہت شدید دباؤ تھا کہ وہ ایسے تمام جعلی اور حقیقی اکاؤنٹ بند کردے جس کی وجہ سے پاکستان کی ”سیکورٹی“ کوخدشات لاحق ہو سکتے ہیں۔سماجی ویب سائیٹس خواہ فیس بک ہو، ٹیوٹرہو یا پھر کسی بھی اور نام سے ہو، پوری دنیا میں مقبولِ عام ہوتی جارہی ہیں۔ وہ تمام خبریں جن کو ہر ملک کی حکومتیں صیغہ راز میں رکھنا چاہتی ہیں اور اپنے تئیں یہ سمجھ بیٹھی ہیں کہ ان کا الم نشرح ہونا ان کے اپنے ملک اور حکومت کے مفاد میں نہیں، اب وہ تمام باتیں بھی لحظوں اور لمحوں میں سوشل میڈیا پر وائیرل ہوجاتی ہیں۔ اس قسم کی اطلاعات، خبریں اور باقاعدہ ان کی ویڈیوز ایسی حکو متوں اور اداروں کے لئے درد سر بن جاتی ہیں جن کی خواہش ہوتی ہے ان کی ہر ایسی پالیسی یا کارروائی جو ان کی ”نفی“ میں جاتی ہو، وہ عوام یا دنیا کے سامنے نہ آئے۔

Read more

ڈاکٹر وزیر آغا اور میں !

1992 میں جہلم شالوم سنٹر میں نئے لکھنے والوں کے لئے ایک رائٹرورکشاپ منعقد ہوئی جس کا اہتمام فیصل آباد کی مس روت جو جریدہ ’رہبر‘ کی ڈائریکٹرتھیں جن کا تعلق بلجیم سے تھا اس ورکشاپ میں مجھے میرے دوست شہزاد انجم لے گئے ورکشاپ سے نکلنے کے بعد میں تھوڑا بہت لکھنے لگا۔ جب میں نے لکھنا شروع کیا تو پہلے کہانی اور افسانہ لکھا کرتا تھا پھر شعرکہنے کا شوق ہوا تو پہلے سیالکوٹ کے سیاسی سماجی اور ادبی شخصیّت عزیز ہمدم، جن کا یہ شعر میں کبھی نہیں بھول سکتا،؂ یوں تو میری چشم ِ بینا متفق نہ تھی مگرلے گئی اندھے کنویں پر پیاس کی شدت مجھے

Read more

فلسطین سے گریٹر اسرائیل تک

 اسرائیل دنیا کی واحد ریاست ہے جس کا قیام ناجائز قبضہ اور منظم سازش کے تحت وجود میں لایا گیا تھا پہلی جنگِ عظیم میں سلطنت عثمانیہ کے انہدام کے بعد فلسطین کا علاقہ ترکوں کے کنٹرول سے نکل کر برطانیہ کے قبضہ میں آگیا۔ اُس ہی زمانے میں دنیا بھر سے یہودی لوگ فلسطین آنا شروع ہوئے 1939 میں دوسری جنگِ عظیم شروع ہوگئی جرمنی کا حکمران ہٹلر یہودی قوم کے سخت مخالف تھا اُس نے ہزاروں لاکھوں یہودیوں کو قتل کروایا۔دوسری جنگِ عظیم کا اختتام 1945 میں ہوا یورپ اور دیگر ممالک میں بکھرے یہودیوں کو اپنے لیے ایک علحیدہ ریاست بنانے کا خیال آیا برطانیہ کی آشیرباد سے یہودی پہلے ہی فلسطین میں لاکھوں کی تعداد میں رہائش پذیر ہوچکے تھے

Read more

کیا ہماری روح مطمئن ہے؟

ہمارا وجود جسم اورروح کا مرکب ہے۔ جس طرح ہماری جسمانی نشو ونما کے لیے اچھی غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم غذاؤں کے معاملہ میں بداحتیاطی کرتے ہیں تو ہماری جسمانی صحت پر اس کے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ٹھیک اُسی طرح ہماری روحانی نشوو نما کے لیے پاکیزہ روحانی غذائیں ناگزیر ہیں۔ جسمانی غذائیں ہمارے جسم پر اچھے اور برے اثرات مرتب کرتی ہیں جبکہ روحانی غذائیں ہمارے اخلاق و کردار اور ہماری شخصیت پر اچھے اور برے اثرات مرتب کرتی ہیں۔جس طرح کچھ لوگ جسمانی غذاؤں کے معاملہ میں بہت زیادہ توجہ نہیں دیتے، وہ عموماً اپنی صحت سے پریشان رہتے ہیں۔ اسی طرح روحانی غذاؤں پر توجہ نہیں دینے سے ہم مختلف قسم کی اخلاقی اور روحانی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جسمانی غذاؤں کے مقابلے میں روحانی غذاؤں پر توجہ دینا نسبتاً زیادہ مشکل کام ہے۔ کیوں کہ جسمانی غذاؤں کا تعلق صرف ہمارے دہن سے ہے۔ یعنی غذائیں منھ کے ذریعہ سے ہمارے شکم میں ہوتی ہوئی جسم کے مختلف اعضاء تک پہنچتی ہیں۔

Read more

عافیہ قوم کی بیٹی ہے یا ملالہ؟

19 مارچ 2019 کو عافیہ اس قوم کی بیٹی نہیں ہے کے عنوان سے شازیہ چھینہ نے ہم سب کی ویب سائٹ پر ایک کالم لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ عافیہ صدیقی کو قوم کی بیٹی اور پاکستان کی بیٹی کہنے والے اتنا جان لیں کہ وہ امریکی شہری ہیں، وہی کی پڑھی ہوئی ہیں، وہی ان کی کی شادی ہوئی ہے دہشت گرد تنظیموں سے اس کے روابط اور ان کی سہولت کارہیں افغانستان سے پکڑی گئی ہیں۔تو میں رائٹر صاحبہ سے ایک بات کہوں گی کہ اگر کوئی مجرم ہو یا پھر اس پر الزام ہو اور الزام کے بعد اس کے خلاف ثبوت پیش کیے جائیں تو وہ مجرم قرار دیا جاتا ہے۔ ان ثبوتوں کو مدعا بنا کر اگرآپ اپنے کالم میں پیش کرتی تو زیادہ بہتر ہوتا کہ لوگ آپ کی زبانی کہی ہوئی باتوں سے زیادہ آپ کے پیش کردہ ثبوتوں کے تحت آپ کے آرٹیکل کو تحقیقی اور حقیقت پر مبنی آرٹیکل مانتے۔

Read more

تباہی آ نہیں رہی تباہی آ گئی ہے

اسلام آباد سٹاک ایکسچینج میں آٹھ ماہ قبل 127 بروکرز تھے اور آج پانچ اپریل کو اسلام آباد حصص بازار میں صرف 21 بروکر کام کر رہے ہیں۔ پیر کے روز حصص بازار میں چار سو پوائنٹ کی کمی ہوئی اور منگل کو تین سو جبکہ آج بدھ کے روز ایک مرحلہ پر مارکیٹ تین سو پوائنٹ تک گر چکی تھی یعنی تین دن میں حصص انڈکس میں ایک ہزار پوائنٹ کی کمی ہو چکی ہے۔

تمام بروکرز مسلسل نقصان اٹھا رہے ہیں اسلام آباد حصص بازار میں جو 21 مجاہد مورچے پر ڈٹے ہوئے ہیں وہ اپنے دفاتر کے مالک ہیں یعنی انہیں اپنے بروکریج ہاؤس کا ڈھائی لاکھ روپیہ کرایہ نہیں دینا ہوتا باقی جو 107 بروکر کرایہ کے دفاتر میں کام کر رہے تھے وہ نادہندہ ہو گئے، وہ مسلسل نقصان برداشت کرنے کی ہمت نہیں کر پائے، وہ اپنے بروکریج ہاؤس بند کر گئے ہیں اور انہوں نے اپنی ممبر شپ سرینڈر کر دی ہے اور تمام عملہ فارغ کر دیا ہے۔

Read more

عالمی دِنوں کا لنڈا بازار

پوری دنیا میں پورا سال ہی کسی نہ کسی چیز کا عالمی دن منایا جاتا ہے بلکہ کسی دن کو تو کئی کئی حوالوں سے منسوب کرکے منانے کا رواج بھی ہے۔ تاہم ہر دن اس دن کے سورج کے ساتھ ہی غروب ہوجاتا ہے اور اس دن کی روح پھر سے دنیا کی بھیڑ میں اگلے برس تک کھو جاتی ہے۔ البتہ ہر منائے جانے والے دن کی نسبت سے مَنوں کے حساب سے کلچر ضرور برآمد ہوتا ہے۔ اکثر دن مثبت مقاصد کے حامل جبکہ کچھ متنازع بھی ہیں۔ ابھی یکم اپریل کو بے وقوفوں نے اپنا دن منایا۔

Read more

ضمیر دوست کتاب کی دُہائیاں

مذہبِ اسلام کے پیرو کار ہونے کے ناطے ہماری زندگی کے آغاز کی بنیاد فاطرِ ارض وسماں کے اتارے گئے صحیفۂ فطرت کی پہلی آیت میں کلی طور پر موجود ہے۔ کائنات میں موجود مختلف مخلوقات کی نقل و حرکت پر غور کرنے سے ایک حقیقت سے پردہ اٹھتا ہے۔ کہ خالق عرض و سماں کی پیدا کردہ اس کائنات میں ”ترجیحات“ کا واضح اور دائمی استعمال یقینی بنایا گیا ہے۔ موجودہ کائنات کے جس حصہ میں زندگی کو پیدا کیا گیا وہ زمین ہے۔ استشنائی طور پر صرف زمین ہی ایسے تمام اوصاف اور وسائل کی جگہ ہے جو زندگی کی نشوونما کے لئے آخری حد تک ضروری ہوتے ہیں۔

Read more

معذور افراد کی آرمی چیف سے فریاد

پاکستان میں معذور افراد نے اپنے حقوق کی جدوجہد میں صرف کوڑے نہیں کھائے باقی تمام تر ریاستی جبر کا سامنا کیا ہے۔ حکومتی ایوانوں کے سامنے پولیس تشدد، لاٹھی چارج، آنسو گیس سمیت دھکے، گھونسے اور لاتیں بھی کھائی ہیں۔ ریاستی بے حسی اور سفاکی کا سامنا کرنے والے ٹانگوں سے معذور بھی تھے اور اندھے، گونگے بہرے بھی شامل تھے۔ پیپلزپارٹی کے دور اقتدار میں حقوق مانگے تو حکمرانوں نے معذوری سرٹیفیکٹ معذور ی شناختی کارڈ بنانے پر

Read more

پاکستان کرکٹ: تھالی میں رکھ کر جیت پیش کرنے کی روش

قومی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ انضمام الحق مایہ ناز بلے باز رہے ہیں۔ کئی ناکامیوں کو اُنہوں نے اپنی عمدہ کارکردگی کی بدولت جیت میں تبدیل کیا ہے۔ خصوصاً 1992 ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں اُن کی جارحانہ اننگز 27 سال بعد بھی شائقین کے دل و دماغ میں آج بھی محفوظ ہے۔ ایک روزہ مقابلوں میں وہ پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے وابے بیٹسمین ہیں۔ بہ حیثیت بیٹسمین اور کپتان قومی ٹیم اُن کی کارکردگی

Read more

خصوصی توجہ اور شفقت کے طالب افراد

تھامس ایلوا ایڈیسن کے حوالے سے میرا کالم ”کند ذہن؛سائنسی جادوگر“ گذشتہ دنوں شائع ہوا تو لاہور میں مقیم میرے دوست، فزکس کے نامور استاد ڈاکٹر اعجاز الرحمن درانی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ایسے ہی ”سلو لرنر“ نے دنیا میں بہت نام کمایا۔ آئن سٹائن بھی سیکھنے میں ایسا ہی سست رفتار تھا۔ ایسے بچے Autism جیسی کسی بیماری کا شکار ہوتے ہیں، ان کو خصوصی شفقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی کالم پر انگریزی ادب

Read more

پہلے ڈراؤ، کوئی نہ ڈرے تو خود ڈر جاؤ

”پہلے یرکاؤ نہ یرکے تو خود یرک جاؤ“۔ پنجانی کے اس مقولے کو میں کچھ ایسا ہی سنا ہے۔ ممکن ہے میں نے لکھا بھی غلط ہو اور سمجھا بھی غلط ہو تو تصحیح کا خواستگار ہوں گا۔ مجھے جو مفہوم سمجھ میں آیا وہ کچھ یوں ہے کہ ”پہلے ڈراؤ، کوئی نہ ڈرے تو خود ڈر جاؤ“۔ ایسا ہی کچھ موجودہ حکومت کا طرز عمل سامنے آرہا ہے۔ گزشتہ دنوں حکومت نے واضح اعلان کیا تھا کہ ”بینظیر انکم

Read more

حکومتی توجہ کی منتظر عظیم درسگاہیں

سابقہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے دور میں پرائیویٹ اسکولوں کے متعلق کیسوں کی گونج ہر خبرنامے میں سنائی دینے لگی۔ میاں ثاقب نثار نے بڑے پرائیویٹ اسکولوں کو لگام دینے کی کوشش کی۔ شہر قائد میں کئی ایسے اسکول موجود ہیں جن کی ماہانہ فیس پانچ ہزار سے زیادہ ہے۔ ماہانہ فیس کے علاوہ لیبارٹری چارجز، سالانہ فیس، امتحانی فیس، کھیلوں کی فیس وغیرہ کی مد میں بھی بھاری رقم وصول کی جاتی ہے۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی

Read more

پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے بعد اب آئی باری سوشل میڈیا کی

پاکستان کے ایوانِ بالا کے بعد قومی اسمبلی میں موجود پاکستان مسلم لیگ نون، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور دوسری جماعتوں نے بھی 11 اگست 2016 ء کو الیکٹرانک جرائم کے تدارک کے لئے متنازع سائبر کرائم بل کی منظوری دی۔ اس بل میں ایسے 23 جرائم کی وضاحت کی گئی تھی، جن پر ضابطہ فوجداری کی 30 دفعات لاگو ہو سکیں گی۔ واضح رہے کہ الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 ء مندرجہ ذیل معاملات میں سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس

Read more

غربت مکاؤ پروگرام ’اسباب پر نظر رکھیں!

تحریک انصاف کی حکمرانی آٹھ ماہ سے زائد کی مسافت طے کر چکی ہے اب اگر آٹھ ماہ کی حکومتی کارکردگی کے تناظر میں دیکھا جائے تو عوام کے ہوشربا مہنگائی کے باعث اداس چہرے ’معاشی عدم استحکام‘ ڈالر کی اڑان ’پیسے کی قدر میں کمی‘ صنعت کاری میں کمی ’مالیاتی خسارے میں اضافہ‘ شرح سود میں اضافہ جیسے بحران اس کی مایوس کن کارکردگی کا طبل بجا رہے ہیں۔ سٹیٹ بنک کے جاری اعلامیہ میں اعداد و شمار بھی

Read more

کھینواری: برٹش دور کی اجڑی ہوئی میراث

یہ اکتوبر کی کوئی درمیانی دوپہر تھی اور ہم چار دوستوں کا مختصر قافلہ سانگھڑ سے کچھ دور نارا کینال کے دائیں جانب برٹش دؤر کی اس یادگار کو دیکھنے چل پڑا تھا، جس یادگار کو آج ایک اجڑا ہوا دیار کہا جاتا ہے۔ سندھ کے انتہائی مشرق میں جو صحرا ہے اس کو ”اچھڑو تھر“ اس وجہ سے بولا جاتا ہے کہ وہاں کے جغرافیائی خد و خال اور لینڈ اسکیپنگ سندھ کے بالائی مشرقی صحرائے تھر سے بالکل مختلف ہے۔ وسیع و عریض ریتلے میدان، جن کو بہتا ہوا صحرائی سمندر بھی کہا جاتا ہے۔

Read more

دم توڑتی امیدیں

18 اگست 2018 کو جب عمران خان نے پاکستان کے بائیسویں وزیر اعظم کا حلف اٹھایا تو، مجھ ناچیز سمیت بہت سو کو ایک عجیب سا اطمینان تھا کہ شاید اب، 70 سالوں سے ستائے ہوئے عوام کی کچھ دادرسی ہو سکے گی۔ لیکن یہ ایک دیوانے کا خواب ہی ثابت ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 7 ماہ کسی بھی حکومت کی کارکردگی کو جانچنا اور اس پر اپنی آراء قائم کرنا سراسر زیادتی ہے۔ لیکن حضور، 7 ماہ کسی بھی حکومت کی سمت کو جانچنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔

Read more

ہم تہذیب یافتگان سے بد تہذیبی خوف کھانے لگی

ہم اتنے تہذیب یافتہ ہو گئے کہ بد تہذیبی کو ہم سے خوف آنے لگا کیونکہ ہم نے تہذیب سیکھی نہیں مگر سکھائی ضرور۔ یہ وہ تہذیب یافتہ معاشرہ ہے جہاں مغربی تہذیب کو برا بھلا کہنا ہی ہمارے تہذیب یافتہ ہونے کا معیار ہے۔ ہمیں ان کے خاندانی نظام سے لے کر معاشرتی نظام تک ہر چیز غلیظ دکھائی دیتی ہیاور اگر میں غلطی سے بھی ان کے نظام کو کسی حوالے سے بھی اچھا کہہ دوں یا میری سوسائٹی کو ذرا گمان بھی گزرے کہ میرے ذہن میں اس سسٹم کے کسی ایک بھی پہلو سے متعلق مثبت رائے موجود ہے تو میں اسی لمحے دائرۂ اسلام سے خارج ٹھہری، اور مخالفین جلد سے جلد اہل مغرب کے خلاف چند نعرے لگا کر دوسروں کی نظروں میں خود کو مومن ثابت کر لیں گے۔ یوں الزامات کے اک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

Read more

وزیر اعظم کا دورہ کراچی، اعلانات، جائزہ

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف اور زرداری قوم کا لوٹا ہوا پیسہ واپس کردیں تو انہیں چھوڑ دیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو بھی بد دیانت، گمراہ اور ڈاکو ہو اس کو اپنے کیے کی سزا ضرور ملنی چاہیے لیکن جو بات سمجھ سے بالاتر ہے وہ یہ ہے کہ کیا پاکستان میں کوئی محکمہ، فرد یا ادارہ کسی بھی قسم کے آئین و قانون کا پابند ہے یا سب کے سب بے نکیل اونٹ بنے ہوئے ہیں۔باد شاہوں کے زمانے تک تو بے شک ایسا ہی ہوتا تھا کہ جو وہ چاہتے تھے ویسا ہی ہوجا یا کرتا تھا لیکن فی زمانہ، جہاں شہنشاہیت نہیں ہے، وہاں ہر ادارے، عہدیدار اورمحکمے کے لئے قانون سازی کرکے ان کے دائرہ اختیار کی حدود مقرر کردی گئی ہیں جن کی حدود و قیود کو نہ تو کوئی فرد یا ادارہ از خود توڑ سکتا ہے اور نہ ہی ان میں کوئی کمی بیشی اپنی مرضی و منشا کے مطابق کر سکتا ہے

Read more

کیا سندھ میں ہر عوامی مسئلے کا حل احتجاج سے ہی مشروط ہے؟

اگرچہ آئین پاکستان میں عوامی حقوق اور حکومتی فرائض کے حدود کا تعین واضح طور پر موجود ہے۔ ہر ادارہ اور ہر فرد ان حدود میں رہ کر اپنا اپنا کام کرنے کے لیے پابند بھی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں حکومتی نظام سے معاشرتی رویوں تک کہیں بھی کوئی توازن اور انصاف نظر نہیں آتا۔ چنانچہ معاملات میرٹ کے بجائے دیگر ترجیحات کے محتاج بنتے جا رہے ہیں۔پچھلے کئی برس سے سندھ حکومت کی انتظامی مشینری جس طرح اپنے فرائض میں فاش غفلتوں کی مرتکب ہوتی ہوئی نظر آئی ہے۔ اس طرز عمل نے حکومتی اداروں سے عوامی اعتماد کو تیزی سے متزلزل کیا ہے۔ چنانچہ عوامی سطح پر یہ رجحان تیزی سے پروان چڑھہ رہا ہے کہ حکومت اپنا فرض سمجھ کر کوئی مسئلہ حل نہیں کرے گی، بلکہ احتجاج کے ذریعے ہی حکومت کو مسائل کے حل کے لیے مجبور کیا جا سکتا ہے۔

Read more

سوچ کے زاویے

ہم آج اس جدید دور سے گزر رہے ہیں ویسے ہی ہماری سوچ بھی اس دور سے گزر کے جدت پسند ہو گئی ہے۔ہر انسان دوسرے انسان کو اپنی سوچ کے مطابق دیکھنا چاہتا جو کہ نا ممکن ہے اس کے پیچھے سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک خود کو پرفیکٹ سمجھتا ہے اور دوسرے میں موجود خوبیوں کو چھوڑ کے بس خامیاں تلاشتا ہے اور پھر ان کو خامیوں کو اپنے نظریے اور سوچ کے مطابق بدلنا چاہتا کہ دوسرا انسان میری سوچ کے مطابق بن جائے۔

Read more

حکایت ِ جنوں

اس کائنات کے اندر جتنی بھی انواع و اقسام کی مخلوقات بستی ہیں، ان میں انسان کو یک گونہ فضیلت اور شرف حاصل ہے کہ جس کے سبب وہ اشرف ا لمخلوقات کہلوائے جانے کے قابل ٹھہرا۔ یہ رتبہ جس صفت کی بدولت حاصل ہواس کی بناء دو چیزیں ہیں اعنی عقل جو پیدائشی ودیعت کی گئی اور دوسرا حصول ِ علم۔ ہم بنظر ِ غائر عقل اور علم کو باہم ایسے مربوط دیکھتے ہیں، کہ ان کے درمیان تمیز

Read more

صحیح کا غلط استعمال

صحیح کو غلط طریق سے استعمال کرنے سے صحیح کی اہمیت کم تو نہیں ہو جاتی پر وقتی طور پر کھو ضرور جاتی ہے۔ اس اہمیت کے کھو جانے کی وجہ سے بہت سے معصوم لوگ اس کے فائدے سے محروم ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کے صحیح کو اپنے مقاصد کے لیے غلط طریق سے استعمال کیا جاتا ہے۔ صحیح کو کسی بھی طرح استعمال کرنے کے لیے صحیح کا علم ہونا ضروری ہے۔ اس کا مطلب

Read more

کم عمری کی شادی کے نقصانات

پاکستان مختلف قومیتوں، مذہب، ذاتوں، رنگ و نسل پر مشتمل آبادی والا ملک ہے۔ ہر علاقے، قوم، مذہب اور ذات کے الگ الگ رسم و رواج ہیں، یہ رسم و رواج جہاں اِن علاقوں یا اِن کے رہنے وانوں کی پہچان ہیں وہیں دوسری طرف یہ ہماری تہذیب کئی خوبصورتی بھی بڑھاتے ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ کچھ رسم و رواج جتنے پرانے اور پختہ ہیں اتنے ہی نقصان دہ بھی، اِن پر عمل پیرا ہونا اِن لوگوں کے

Read more

سب کچھ محنت ہی پر منحصر ہے

زندگی صرف کامیابی کا نام نہیں بلکہ مسلسل محنت، جدوجہد اور جنگ کا نام ہے جو شخص محنت و مشقت کو اپنا لیتا ہے فتح و کامیابی کا تاج اسی کے سر پر سجتا ہے۔ شاہراہئی حیات مصائب و مشکلات اور نشیب و فراز سے بھری ہوئی ہے۔ صرف محنت و مشقت ہی کے ذریعے انسان ان مشکلات پر قابو پا سکتا ہے۔ زندگی کے ہر راستے کے لیے محنت لازمی ہے۔ محنت ہی کے ذریعے ہم اپنے ملک اور

Read more

شکر ہے ہابیل اور قابیل کے وقت اسلام کا ظہور نہیں ہوا تھا

آج کل مذہب اسلام پر الزام لگانا اور ہر بات جو کہ نقصِ امن سے جڑی ہو کو اسلام سے جوڑنا بہت اسان ہو گیا ہے۔ کچھ افراد تو تنقید میں اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ ہر واقعے کا تعلق کہیں نہ کہیں سے اسلامی تعلیمات سے جوڑ دیتے ہیں کیونکہ آج کل ان باتوں کا رواج ہے۔ دورِ حاضر کے ذرائع ابلاغ دہشت گردی کا لفظ بہ کثرت استعمال کررہے ہیں۔ چند افراد پوری طاقت سے یہ ثابت کرنے

Read more

غیر مسلم حکمران کے رویے میں اسلام کا رنگ

نیوزی لینڈ کی مساجد میں دہشگردی کے واقعات سے عالم اسلام میں جہاں غم الم کی لہر دوڑنا فطرتی عمل تھا کیوں کہ سفاک نے درندگی کی انتہا کر دی تھی گئی اور اسی طرح وزیراعظم ہالینڈ جیسنڈ آرڈن کا رویہ دیکھ کر احمد فراز کا ایک شعر یاد آتا ہےجو روش صاحب تخت کیسو وہ مصاحبوں کا طریق ہے

Read more

عورت پہ تشدد اور معاشرے کا رویہ

چند دن قبل لاہور میں ایک خاتون پہ وحشیانہ تشدد کا واقعہ منظر عام پہ آیا، جسے اس خاتون نے خود رپورٹ کیا اور ایک ویڈیو میں خود پہ ہوئے ظلم کے بارے بتایا۔ خاتون کے بقول اس کے شوہر نے اسے اپنے دوستوں کے سامنے ڈانس کرنے پہ مجبور کیا۔ انکار پہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر پہلے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں ٹرمرز کے ساتھ اس کے بال مونڈ دیے۔ سوشل میڈیا کے کچھ نقصانات شاید ہوں لیکن ایک بڑا فائدہ یہی ہے کہ یہاں ڈسکس ہونے والا کوئی بھی معاملہ جلد نظروں میں آ جاتا ہے۔

Read more

کوئٹہ ارمانوں کا قبرستان

بلوچستان کے بارے میں تین باتیں یا سلوگن لطیفوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اوّل بلوچستان کے عوام سے معافی چاہتے ہیں دوم صدر یا وزیر اعظم کے دورے سے بلوچستان کے احساس محرومی کا خاتمہ ہوگا سوئم پاکستان کا مستقبل بلوچستان سے وابستہ ہے۔ یہ باتیں یہ نعرے ہم سابق صدر جنرل ضیا الحق کے دور سے سنتے آ رہے ہیں۔ اس وقت سے آج تک حکمرانوں کی جانب سے بلوچستان سے معافی مانگنا ایک فیشن اور ایک رسم

Read more

بے گوروکفن جنازہ

کسی معاشرے کی تہذیب و ثقافت، اس میں عائد رسم و رواج، اور معاشی، معاشرتی اور سیاسی پہلوؤں کا دائرہ کار سمجھنے کے لیے اس معاشرے میں تخلیق کیا جانے والا ادب خصوصی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ غرض کہ ادب ایک معاشرے کا عکاس ہے اور معاشرتی تہذیب و ثقافت کی حفاظت کا ضامن۔گزشتہ دو برس سے اردو ادب کے مطالعہ کا شرف نصیب ہوا۔ جدید اور کلاسیکی دور کے ادب کو سمجھنے، پرکھنے اور جانچنے کے بعد آج رقم طراز ہوں کہ دل کے غبار کو الفاظ کے روپ میں ڈھال سکوں۔ دور جدید کی بات کی جائے تو ہر شخص خود کو لکھاری تصور کیے الفاظ کے لامتناہی سلسلے کا ایک جال بنے ہوئے ہے۔ الفاظ کے اس جال میں ادب کا بے گوروکفن جنازہ قارئین کے لئے ستم ظریفی کا باعث بنا ہوا ہے۔

Read more

پمز: ایک اسپتال یا مذبح خانہ

وفاقی دارالحکومت کا سب سے بڑا سرکاری ہسپتال پمز جہاں خیبر پختونخواہ، اندرون پنجاب کے دور دراز علاقوں سے حصول شفا کے لئے لوگ جوق در جوق آتے ہیں۔ پاکستان انسٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز جسے عرف عام میں کمپلیکس بھی کہا جاتا ہے یہاں پہنچنے کے بعد ایک نئی دنیا آپ کا انتظار کر رہی ہوتی ہے، او پی ڈی یا ایمرجنسی کی پرچی بنوانے سے لے کر مریض کو ایڈمٹ کروانے تک یہاں ہر ایک قدم پہ آپ کی

Read more

لائن آف کنٹرول پر بسنے والوں کے شب و روز

میرا تعلق سیکٹر نکیال کے گاؤں منڈھیتر سے ہے جو کہ خونی لکیر (ایل۔ او۔ سی) سے تقریباً دس کلومیٹر کی دوری پر موجود ہے۔ میرے گاؤں میں پچھلے سال بھارتی دراندازی کی وجہ سے کافی شیلنگ ہوئی تھی لیکن حال ہی میں ہونے والی پاک بھارت ٹینشن میں میرا گاؤں اس شرپسندی سے محفوظ رہا۔ اس کہ برعکس نکیال سیکٹر ہی کے دوسرے دیہات جیسے موہڑہ، پیر کلنجر، جندروٹ وغیرہ میں لوگوں کو بہت مُشکلات کا سامنا رہا ہے۔ ضلع کوٹلی سے ملحقہ جتنے بھی علاقے ایل او سی کے قریب ہیں اُن میں سب سے زیادہ نُقصان نکیال سیکٹر میں ہوا ہے جہاں چار لوگ پاک بھارت ٹینشن کا نشانہ بنے اور اپنی زندگیوں سے محروم ہو گئے۔

Read more

بس اب بہت ہو چکا

اب ہمارے مقناطیسی شخصیت کے مالک سابق کرکٹر عمران خاں کو حکومت سنبھالے نو ماہ ہو نے کو ہیں۔ ان کو دانستہ یا نادانستہ بلاول بھٹو نے سلیکٹڈ وزیر اعظم کہہ کر پکاراتو محترم خا ں صاحب نے بھی بھولے پن میں ان کی اس بات پر داددی۔ پہلے پہل ان کی الیکشن میں اس فتح پر غیر سیاسی قوتوں نے اپنی کامیابی محسوس کی لیکن اب حالات کچھ اور ہی بتا رہے ہیں۔ یہ قوتیں پچھلی ایک دہائی سے نا پسندیدہ سویلین قیادت سے مسلسل حکومت چھین لینے کی کوشش میں تھیں۔اس کھینچا تانی سے ملک کمزور اور غیر محفوظ ہوا۔ پچھلے سال خان صاحب کے مخالفین اور غیر ملکی مبصرین نے اہل پنڈی اور ڈ ی چوک کے باسیوں پر الیکشن میں تحریک انصاف کی مدد کا خوب شور مچایا۔ درحقیقت میڈیا پر پابندی، مذہبی انتہا پسندوں کی پشت پناہی، ان کے الیکشن میں حصہ داری، سیاستدانوں پرعائدکفرو غداری کے فتاویٰ اور الیکشن سے کچھ دن پہلے انتہائی مضبوط امیدواروں کی سزاوں سے نا اہلی کے اقدامات نے دائیں بازو کے ہامی خان صاحب کی انتخابات جیتنے میں مدد کی۔

Read more

کرسکتے ہو تو کر گزرو

آج کی تازہ خبروں کے مطابق بنگلادیش میں جماعت اسلامی کے مزید 4 اور ایک اپوزیشن رہنما کو جنگی جرائم کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلا دیش کی ایک خصوصی عدالت نے پاکستان کی حامی تنظیم جماعت اسلامی کے 4 رہنماؤں اور ایک اپوزیشن رہنما کو قتل، اغوا، جلاؤ گھیراؤ، لوٹ مار اور زیادتی کے الزام میں سزائے موت سنادی ہے۔ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی جانب سے 1971 کی جنگ کے حوالے سے بنائے گئے متنازع ٹریبونل کی جانب سے جماعت اسلامی کے 6 سرکردہ رہنماؤں کو پہلے ہی پھانسی دی جاچکی ہے جبکہ جماعت اسلامی پر پاکستان کی حمایت کا الزام لگا کر پابندی بھی عائد کی جاچکی ہے۔

Read more

آرٹ کو عزت دو

تمغہ امتیاز پاکستان میں 1957 سے مختلف عسکری اور سول شخصیات کو دیا جاتا رہا ہے۔ درجہ بندی کے حوالے سے دیکھیں تو یہ کسی بھی شخصیت کو نمایاں خدمات کے اعتراف میں دیا جانے والا پاکستان کا چوتھا بڑا اعزاز ہے جو کہ 23 مارچ یوم پاکستان کے دن صدر پاکستان کسی شخصیت کو نوازتے ہیں۔ وہ نمایاں خدمات آپ زندگی کے کسی بھی شعبے سے قوم کو دے سکتے ہیں اور اس کے لیے پاکستانی ہونا بھی شرط نہیں مطلب کسی غیر ملکی فرد کو بھی تمغہ امتیاز سے نوازا جا سکتا ہے۔

Read more

احتساب، نقطہء آغاز

کون کہتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں احتساب کا عمل سست ہے۔ یہ بھی ایک غلط فہمی ہے کہ ہم جوابدہی پر یقین نہیں رکھتے۔ ارے! کیا آپ حیران ہورہے ہیں؟ اس میں حیرت کی تو کوئی بات نہیں۔ لگتا آپ نے کبھی پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر نہیں کیا۔ روز پانچ دس روپے پر جھگڑے ہوتے ہیں کہ کہ حکومت کا کرایہ تو اتنا اور آپ زیادہ لے رہے ہیں۔ مجھے کرایہ نامہ دکھائیں۔یہی صورتحال ریڑھی یا ٹھیلے سے خریداری کے موقع پر پیش آتی ہے جتنا وقت اور دماغ ہم ایک کلو ٹماٹر خریدنے پر لگاتے ہیں اتنا تو ہم ممبر قومی اسمبلی چننے پر نہیں لگاتے۔

Read more

اف یہ برانڈز

تیز رفتار زندگی اور وقت کے تقاضوں نے انسان کو اس قدر الجھا کر رکھ دیا ہے کہ اب انسان کی عظمت اور وقار کا تعین برانڈز سے کیا جانے لگا ہے۔ مہنگے ترین کپڑے پہننا لوگوں کی ضرورت نہیں بلکہ مجبوری بن گئی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کے بیشتر افراد اپنی روایات اور اخلاقیات کو فراموش کرچکے ہیں۔ ہر کوئی خود کو خوبصورت دکھانے کی دور میں لگا ہوا ہے۔ اپنے آپ کو امیر ظاہر کرنا جیسے اعزاز کی بات بن گئی ہے۔ بڑے بزرگ اور ہمارا مذہب سمجھا سمجھا کر تھک گئے کہ انسان کی پہچان اس کے لباس سے نہیں بلکہ اس کے اخلاق سے ہوتی ہے، لیکن یہ سب باتیں اب کہیں دھندلا سی گئی ہیں۔

Read more

کیا آپ ماہر معیشت ہیں؟

انکل کیا آپ ماہر معیشت ہیں؟ جی بیٹا یہ ماہر معیشت کیا کرتا ہے؟ بیٹا ماہرمعیشت دوسروں کو یہ بتاتے بتاتے بہت سے پیسے کما لیتا ہے کہ پیسے آخر کمانے کیسے ہیں۔ واہ! انکل پلیز مجھے بھی کچھ بتائیں میں بھی بہت سے پیسے کما کر امیر ہونا چاہتا ہوں۔ برسوں سے انتھک محنت اور کوشش کررہا ہوں پر سب بیکار! بیٹا آج کے دور میں امیر ہونا کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ کسی بھی ایک شعبے پر بھرپور توجہ

Read more

انسیسٹ – محرمات سے جنسی فعل

ہم اپنے آپ کو بہت ترقی یافتہ سمجھتے ہیں۔ اردو کو عالمی زبانوں کی صف میں کھڑی زبان سمجھتے ہیں۔ کتابوں، اخباروں، کالجوں، یونیورسٹیوں، پروفیسروں اور قاموسوں کی زبان کہتے ہیں۔ لیکن دو دن کی کوشش کے باوجود مجھے اردو زبان میں محرمات کے ساتھ جنسی زیادتی کے لئے کوئی مناسب، واحد لفظ نہیں ملا۔ جسے میں یقین کے ساتھ لکھوں۔ جس کی تشریح اور وضاحت کی مزید کوئی ضرورت نہ پڑے۔ جو علمی، ادبی اور معاشرتی ماحول میں یکساں قابل قبول ہو۔ لچر لگے نہ ننگا، معاشرتی اور ادبی معیار سے گرا ہوا ہو اور نہ میرے مدیر کے لئے سنسر اور معاشرتی معیارات کا کوئی مسئلہ کھڑا کردے۔ جیسا کہ انگریزی زبان میں لفظ انسیسٹ ہے۔گمان ہوتا ہے کہ انسیسٹ کے لئے ہمارے ہاں کوئی لفظ شاید اس لیے موجود نہیں کہ یہ جنسی عمل یا زیادتی، ہمارے معاشرتی معمولات اور روایات کے بالکل خلاف ہے۔ 

Read more

دنیا پتلی تماشا

جب کبھی بھی اس راستے سے گزر ہوتا تو مغرب کے بعد ہی دنیا خاموش دیکھا ئی دیتی۔ وہ دیکھو لگتا ہے کوئی جگں و جگمگا رہا ہے۔ دور مٹی کے ٹیلے پر لالٹین کی مدھم مدھم روشنی واقعی میں کسی جگنو کی چمک محسوس ہوتی تھی۔ کچے مکان بڑے بڑے درخت اور رات کے اوقات میں الو اور چمگادڑ کی آوازیں۔ یہ کس کا گھر ہے جو اتنا پرسکون ہے۔بابا فضل ایک سکول میں اسلامیات پڑھتا تھا بہت ہی سادہ لوح اور رحم دل انسان، شاگرد بہت پیار سے بابا فضل سے پڑھتے کیونکہ اچھے کام پر بچوں کو کبھی میسی روٹی تو کبھی گڑ کی گچک انعام کے طور پر دی جاتی۔ وقت اپنی رفتار کے عین مطابق گزر رہا تھا۔ بابا فضل کی دو بیٹیاں تھیں اور ایک بیٹے نما ہیجڑا، پیرو۔ پیار سے گھر کے سب لوگ اس کو پیرو کہتے۔ بیٹیوں کے بعد جب پیرو پیدا ہوا تو کچھ روز تک بابا فضل گھر سے باہر نہ نکلا پھر اچانک سے کہیں سے بات سنے کوملی کہ سنا ہے پتر ہوا ہے بڑے کنجوس ہو لڈو تو بانٹ دیتے آس پڑوس میں

Read more

نواز شریف کے بعد اگلی باری کس کی !

ضمانت، ڈھیل یا ڈیل اور ٹائم فریم، پچھلے چند ہفتوں میں ن لیگ کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضمانت سے چند دن پہلے سے ہی حکومتی وزراء نے یہ راگ الاپنا شروع کردیا تھا کہ نواز شریف کی قسمت کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے حکومت انہیں باہر جانے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ اس دوران وزیراعظم عمران خان نے بھی صحافیوں سے طویل بات چیت کی۔ اور واشگاف الفاظ میں کہا کہ حکومت کسی قسم کی ڈیل یا ڈھیل نہیں دے گی۔ اور سب یہ جانتے تھے کہ چھبیس مارچ کو نواز شریف کی ضمانت کے حوالے سے اپیل پہ سماعت ہونی ہے۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ حکومت نے نواز شریف کی ضمانت ہو جانے کی صورت میں اپنی فیس سیونگ کے لئے پہلے سے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی۔ اور حکومتی جماعت نے اپنے کارکنان کو یہ تاثر دیا کہ وہ نواز شریف کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں کرے گے اور نہ ہی کسی قسم کی ڈھیل دی جائے گی۔

Read more

راجہ ہی نہیں، خواجہ بھی گدھ

ماہرین ڈارون کے اس نظرئیے کو تو اہمیت دیتے ہیں کہ انسان بندر کی جدید شکل ہے لیکن ابھی تک کوئی سائینسدان یہ بتانے سے قاصر ہے کہ مزید کئی جانور، پرند، چرند بھی ترقی کرتے ہوئے انسانی اشکال کا روپ دھارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جانوروں کی فطرت انسانوں میں ڈھلتے ہوئے عالم انسانیت کی ترقی کو نئے بام عطا کر رہی ہے۔ حیوانی صلاحیتوں کی انسانوں میں منتقلی کوترقی کے لئے لازمی شرط بنا دیا گیا ہے۔ دنیا

Read more

مطالعہ کی اہمیت اور کتاب دوستی

ایک لکھاری کے لیے کتابیں آکسیجن کا کام کرتی ہیں اور میں بھی اکثر وبیشترکتابوں کا بغور مطالعہ نہ سہی, البتہ ورق گردانی ضرورکرتا رہتا ہوں۔ جب بھی کوئی مجھے کتاب دیتا ہے تومیں اس کتاب کو پڑھنے کے ساتھ کتاب اور صاحب کتاب کے بارے میں اپنے تاثرات قلم بند کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہوں۔ میری نظر میں اس کے دو بنیادی مقصد ہیں‘ ایک تو اس سے مصنف کی حوصلہ افزائی ہوجاتی ہے اوردوسرا کتاب میں

Read more

عورت انسانی تہذیب کی معمار ہے

تاریخ کا مطالعہ اگر غور سے کیا جائے ہمیں معاشرہ اشتراکی طرز کا ملے گا۔ کھانا ہو دوسرے دکھ درد ہو سب برابر بانٹتے ہوئے ملے گے، اور ہمیں خوبصورت بات تو یہ ہے کہ مادری طرز کی معاشرت ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے ۔ بہت سے شواہد ملتے ہیں کہ عورت نے مرد سے زیادہ معاشرے کی ترقی کے لئے کام کیا ہے اس سے کم تو بالکل ہی نہیں۔ اگر زرعی انقلاب کو دیکھا جائے تو تاریخی شاہد

Read more

درد دِل کے واسطے

حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریمؐ سے پوچھا، اے اللہ کے رسولؐ، کون سا کام افضل ہے۔ آپؐ نے فرمایا، اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں کوشش کرنا۔ حضرت ابو ذرؓ کہتے ہیں، میں نے پوچھا کون سا غلام آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ نے فرمایا جو اپنے آقا کے نزدیک سب سے عمدہ اور دام میں سب سے اونچا ہو۔ ابو ذرؓ کہتے ہیں میں نے پوچھا اے اللہ کے رسولؐ اگر میں کوئی بھی بھلا کام نہ کر سکوں؟ آپ نے فرمایا، لوگوں کو تم سے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ یہی تمہاری طرف سے تمہارے حق میں صدقہ قرار پائے گا ”۔

Read more

انسانی غلامی کی ڈراؤنی قسم۔ پولیٹیکل ماڈرن سلیوری

انسان نے انسان کو غلام بنانے کا سلسلہ تقریباً بارہ ہزار سال پہلے شروع کیا جب کھیتی باڑی شروع ہوئی۔ یہ پتھر کے زمانے کا آخری دور تھا۔ اس کے بعد کانسی اور لوہے کا زمانہ آیا اور گزر گیا۔ تب انسانی تاریخ لکھی جانے لگی۔ صفحہ صفحہ لکھتے لکھتے بارہ ہزار برس بیت گئے اور ہم اکیسویں صدی میں پہنچ گئے۔ انسان نے پتھر سے انفارمیشن ٹیکنالوجی تک کا جادوئی اور جناتی سفر طے کرلیا لیکن انسان کے ہاتھوں انسان کو غلام بنانے کا جرم ختم نہ ہوا۔انسانی ترقی کے ساتھ انسانی غلامی کی ترقی یافتہ صورتیں سامنے آتی گئیں جسے ”ماڈرن سلیوری“ کہا گیا۔ ماڈرن سلیوری کی تعریف میں انسانی سمگلنگ، جبری مشقت، بچوں سے مزدوری اور زبردستی کی شادیاں وغیرہ شامل ہیں۔

Read more

آئیں جب الوطنی اور قومیت پرستی میں بنیادی فرق کو سمجھتے ہیں

جب آپ زمین کے کسی خاص ٹکڑے اور اُس پر رہنے والے انسانوں سے محبت کرتے ہیں، ان کی ترقی، خوشحالی اور بقاء کے لیے جدوجہد کرتے ہیں تو یہ جب الوطنی کہلاتا ہے۔ قومیت پرستی یا نیشنلزم حب الوطنی سے یکسر مختلف جذبہ ہے تاہم دونوں کو ایک ہے پیرائے میں لکھا اور سمجھا جاتا ہے۔ قومیت پرستی حب الوطنی کے برعکس اپنے لوگوں اور ملک سے محبت کی بجائے غیر اقوام اور غیر ممالک سے نفرت سکھاتی ہے۔ ہم ان دونو کیفیات کو ایک قطعی مختلف تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیںہم جہاں پیدا ہوئے وہ ہماری منتخب کی ہوئی جگہ نہیں تھی۔ ہمارا قطعی کوئی اختیار نہیں تھا کہ ہم پاکستانی یا ہندوستانی پیدا ہوتے۔ کیا یہ محض اتفاق نہیں کہ آپ پاکستان میں پیدا ہوئے تو پاکستانی کہلائے یا ہندوستان میں پیدا ہوتے تو ہندوستانی کہلاتے؟

Read more

استاد کا کردار نہ ہو تو مراعات کا مطالبہ کیسا

استاد، معلم معاشرے کا وہ مہذب انسان ہے جس کے کردار اور گفتار سے تہذیب کے پھول جھڑتے ہیں۔معلم کی شان بڑھانے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایامجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔پیارے، استاد وہ تھے جو بے غرضی سے قوم کی خدمت کرتے تھے۔ ان کی نظر قصر شاہی پر نہ تھی وہ کبھی صفہ میں تو کبھی درخت کی چھاؤں کے نیچے بیٹھ کر شاہین بچوں کو پرواز سکھاتے تھے۔

Read more

پی ٹی ایم کا مستقبل

پاکستان میں سیاسی جماعت کی تعمیر اور کارکنوں کی تربیت سمیت نئی قیادت تراشنے کی بجائے عمومی طور کسی نہ کسی ابھار کے گھوڑے پر سوار ہوکر فتح و کامرانی کے خواب دیکھے جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں عام عوام کے جذبات، دکھ درد اور مشکلات پر سیاست چمکائی جاتی ہے۔ سیاست چمکانے والے پارلیمان میں چلے جاتے ہیں۔ لیڈر بن جاتے ہیں جبکہ عام عوام کے دکھ درد اور مشکلات میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے اور پھر وہ مشکلات سہنے کے عادی ہوجاتے ہیں۔پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم کی مثالیں موجود ہیں۔ شاید پشتون تحفظ موومنٹ بھی اسی گھوڑے کی سوار ہے۔ دو بندے پارلیمنٹرین بن گئے ہیں۔ منظور پشتین کی لیڈری بھی چمک رہی ہے۔ مطلوبہ مقام حاصل ہوچکا ہے۔

Read more