ایک طویل کمرہ جس میں دونوں اطراف آٹھ دس چارپائیاں بچھی ہوئیں اور ہر چارپائی پہ ایک لڑکی اداس بیٹھی حیران پریشان نظروں سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔ کہاں آ گئی میں؟ یہاں۔ یہاں رہوں گی میں اگلے پانچ برس؟ امی ابا گئے، بہن بھائی بھی چلے گئے۔ ہائے میرا گھر۔
کبھی کبھی کوئی سسکی خاموشی کا سینہ چیرتے ہوئے سنائی دیتی اور کبھی کوئی اپنے آنسو دوسروں سے چھپا کر پونچھتی نظر آتی۔ وہ سب اجنبی تھیں ایک دوسرے کے لیے اور یہ ماحول اجنبی تھا ان سب کے لیے۔ وہ پاکستان کے مختلف شہروں سے آئی تھیں۔ گوجرانوالہ، سیالکوٹ، کراچی، کوئٹہ، راولپنڈی، سرگودھا، آزاد کشمیر، گلگت۔ کون سا شہر تھا جس نے اس ہوسٹل کو آباد کرنے میں اپنا حصہ نہیں ڈالا تھا۔
بڑے شہروں کی رہنے والیاں اپنے شوخ و شنگ اور با اعتماد انداز سے پہچانی جاتی تھیں اور چھوٹے شہروں سے آنے والی جھینپی، شرمائی اور جلد گھبرا جانے والی۔ چاروں طرف اجنبیت اس قدر گمبھیر تھی کہ ذرا سی جان پہچان ڈوبتے کو تنکے کا سہارا بن جاتی۔
Read more