کابل کے بازاروں پر ایک نظر

کابل کے تاریخی ورثے کا ذکر تو ہو گیا اس کے بازاروں اور عام زندگی کا بیان ابھی باقی ہے۔ وہ تمام افراتفری، انتشار اور بے ترتیبی جو پہلی چار دہائیوں میں اس شہر میں رہی، اس کے اثرات جابجا نظر آتے ہیں۔ شہر اس خلفشار سے نکلنے کی کوششوں میں ہے لیکن عالمی پابندیاں اور معاشی دشواریاں راہ میں حائل ہیں۔ افغانستان کو صرف امداد مل رہی ہے۔ چین اور روس کی دلچسپی اور سرمایہ کاری موجود ہے لیکن

Read more

ڈاکٹر عابد عباسی کی "بے تاب بیتی” اور ایک بے تاب قاری

جب آپ کسی سے تاریخ کے خشک واقعات کو دلچسپ کہانی کے سے حساب سے سنیں تو یقیناً ایک عام سا طالب علم جو علم کے ”ع“ کے واقفیت کے تگ و دو میں ہے اس شخص کو شاہکار قصہ ساز ہی تصور کرے گا جو یہ کام سرانجام دے، بالکل یہی کچھ کم و بیش 4 مہینے پہلے میرے ساتھ بھی ہوا، جب تاریخ کے کلاس میں ایک خوش لباس شخص اندر داخل ہوا، دل و دماغ تو پہلے

Read more

جو تیری طرح جیتے ہیں وہ مرتے کب ہیں

جاوید حیدر سے پہلی ملاقات کی دو باتیں میں آج تک نہیں بھولا۔ ایک تو یہ کہ ان کی قمیض کے اوپر والی جیب سے تھوڑا باہر جھانکتا ہوا سگریٹ کا پیکٹ اور ان کا ہاتھ جن سے ہاتھ ملانے سے مجھے محسوس ہوا کہ وہ گرم ہیں۔ ”آپ کو بخار ہے۔“ میں نے پوچھا تھا۔ ”نہیں تو بالکل نہیں۔“ انہوں نے مسکرا کر جواب دیا تھا۔ ”میرے ہاتھ گرم ہی رہتے ہیں مگر مجھے بخار نہیں ہے۔“ ہماری پہلی

Read more

"درحقیقت” روحانی مضامین کا گلدستہ

کسی لکھاری کی روح کو سمجھنے کے لئے اس فضا کو سمجھنا از حد ضروری ہوتا ہے جس ماحول میں اس نے تعلیم و تربیت اور پرورش پائی ہو۔ کیونکہ وہ اسی ماحول سے تخیلات و جذبات کا چراغ جلا کر اپنے قلم کی روانی سے اسے صفۂ قرطاس پر بکھیرتا ہے، تاکہ قاری کا دل بے اختیار ہو کر اسے سوچ بچار پر مجبور کر دے۔ کیونکہ ہر تخلیق کار کا طبعی رجحان اور صنف سے لگاؤ اس کی

Read more

گرمیوں کی ایک رات

منشی برکت علی عشا کی نماز پڑھ کر چہل قدمی کرتے ہوئے امین آباد پارک تک چلے آئے۔ گرمیوں کی رات، ہوا بند تھی۔ شربت کی چھوٹی چھوٹی دکانوں کے پاس لوگ کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ لونڈے چیخ چیخ کر اخبار بیچ رہے تھے، بیلے کے ہار والے ہر بھلے مانس کے پیچھے ہار لے کر لپکتے۔ چوراہے پر تانگہ اور یکہ والوں کی لگاتار پکار جاری تھی۔ ’’چوک! ایک سواری چوک! میاں چوک پہنچا دوں!‘‘ ’’اے حضور کوئی

Read more

آتشؔ، مومنؔ اور غالب کا انداز بیاں اور

استاد شعر گوئی چھوڑ چکے تھے مگر سیکڑوں شاگرد ان کے ارد گرد جمع رہتے اور ان سے اصلاح لینے کے لئے بیتاب رہتے۔ نجانے ایک دن کچھ منچلے شاگردوں کو کیا سوجھی کہ استاد محترم سے غزل کہنے کی فرمائش کرنے لگے۔ استاد نے بہت منع کیا کہ یہ آپ جیسے نوجوانوں کا دور ہے مگر شاگردوں کا اصرار بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا۔ شاید ان کا گمان ہو کہ استاد شعر گوئی کی استعداد کھو چکے ہیں۔

Read more

فرخ یار کا عشق نامہ شاہ حسین

بک کارنر جہلم پر اکثر ادبی محفلیں سجتی رہتی ہیں۔ حسب روایت پچھلے ہفتے گگن شاہد کی طرف سے فرخ یار کی کتاب ”عشق نامہ شاہ حسین“ کی تقریب رونمائی کا دعوت نامہ اردو ادب کی شہرہ آفاق شخصیات جناب افتخار عارف اور محترمہ کشور ناہید کے علاوہ ممتاز شاعر اور کالم نگار محمد اظہار الحق و صاحبزادہ سلطان ناصر کی تقریب میں شمولیت کی نوید کے ساتھ ملا۔ ادب پڑھنے اور اساتذہ سے ملنے کا شوق عمر کے ساتھ

Read more

اسٹریٹجک ڈیپتھ سے اسٹریٹجک ڈیتھ کا سفر

پاکستان کو اندرونی اور بیرونی سطح پر تفہیم کی غرض سے غالباً جو لفظ بہتر بیان کرتا ہے بدقسمتی وہ لفظ ’بحران‘ ہے۔ اس لاحقے کے ساتھ آپ، میں ہم سب نے متعدد سابقے سنے اور خود بھی لگائے مگر بحران ہے کے کہرام مچا کر بھی ٹلنے کا نام نہیں لے رہا۔ کسی بحران کو بہتر حکمت عملی کے ساتھ ختم یا قابو کیا جا سکتا ہے بشرط کے بحران کے خلاف طاقت رکھنے والے اسے کم یا ختم

Read more

مقدس

صائمہ حسب عادت صبح جلدی اٹھی اور اس نے بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی۔ پھر وہ تلاوت کرنے کے لیے دوسرے کمرے میں گئی۔ اس نے طاق کی طرف ہاتھ اٹھایا تو کیا دیکھتی ہے کہ قرآن غائب ہے۔ اس نے سوچا شاید وہ بیسمنٹ میں قرآن رکھ کر بھول گئی ہو۔ وہ وہاں گئی تو وہاں بھی قرآن غائب تھا۔ پھر وہ اپنے بیٹے کے کمرے میں گئی لیکن وہاں بھی قرآن موجود نہ

Read more

مصر کے بازار میں پاکستانی شاہ کار

مصر کے صدر جمال عبد الناصر پاکستان کے مقابلے میں بھارتی قیادت سے زیادہ قریب تھے اور پاکستان کے بارے میں یعض اوقات چبھتے ہوئے جملے بھی کہہ جاتے تھے جیسے کہ14؍ اگست کو پاکستان کے ساتھ اسلام بھی اتارا گیا ہے۔ اس جملے کے راوی سردار محمد اکبرخان ترین ہیں جن کا شمار بلوچستان کے بڑے زمینداروں میں ہوتا ہے۔ وہ وکیل ہیں لیکن ہماری فیوڈل کلاس کے ایک حصے کی روایت کے مطابق تاریخ اور سیاسیات عالم سے

Read more

بچوں کی تربیت سکول کریں

ماہرین اس بات پر جتنا بھی مصر رہیں کہ بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار اہم ہوتا ہے لیکن بخدا آپ نے اس بات پر بالکل دھیان نہیں کرنا۔ والدین یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ آپ نے بچہ سکول میں داخل کروا کے اپنا فرض ادا کردیا ہے۔ اب بچے کو سدھارنا آپ کی ذمہ داری نہیں۔ یہ سکول والوں کا کام ہے۔ پھر بھی باپ اگر بچوں پہ رعب اور دبدبہ رکھنا چاہتا ہے

Read more

گفتگو روشنی ہے

(محمد حمید شاہد ہمارے درمیان موجود ایک نادرہ روزگار، منفرد اور رسیلے شخص کا نام ہے۔ کیا خوبصورت زندگی ہے کہ علم، حیرت اور تخلیق سے عبارت رہی ہے۔ محترمہ لبنیٰ صفدر نے لاہور سے شائع ہونے والے رسالے ”ارژنگ“ کے لیے محمد حمید شاہد سے ایک مصاحبہ کا اہتمام کیا، جس میں بہت اہم ادبی موضوعات زیر بحث آئے۔ محمد حمید شاہد کے جوابات تو اپنی جگہ گہر بار تھے لیکن لبنیٰ صفدر نے بھی سوال کرنے کا حق

Read more

’شیرِ پنجشیر‘ احمد شاہ مسعود کا قتل: ’صحافیوں نے کیمرہ سامنے رکھا اور پھر ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی‘

مسعود کو نائن الیون سے 48 گھنٹے پہلے قتل کر دیا گیا تھا لیکن نائن الیون کی وجہ سے اس واقعے پر زیادہ بحث نہیں ہو سکی۔ دونوں کی ٹائمنگ محض اتفاقیہ تھی کیونکہ القاعدہ کے قاتل کئی ہفتوں سے احمد شاہ مسعود کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ مسعود خلیلی کا خیال ہے کہ اس قتل کے پیچھے القاعدہ کا ہاتھ تھا۔

Read more

وہ اک تارا قسط نمبر2

جس شام وہ ماسکو ریلوے اسٹیشن پر ٹکٹیں خرید کر گاڑی کے انتظار میں ویٹنگ لاؤنج میں پاس پاس بیٹھے۔ ہیثم نے اس کی قدرے سرخی مائل تھکی تھکی آنکھیں دیکھ کر پوچھا۔ ”خیریت؟“ ” ہیثم میں ساری رات اس خطے کو جوبحر منجمد شمالی کی برفانی دلدلوں سے تبت اور ہمالیہ تک پھیلا ہوا کبھی کا دشت ایشا اور آج کا وسط ایشیا کہلاتا ہے، پڑھتی رہی۔ یقین مانو اس کی دلچسپ تاریخ نے مجھے آنکھ نہیں جھپکنے دی۔

Read more

اردو کا ”ہفت اقلیم“ عرب شاعر

بہرکیف یہ ملاقات بہت اچھی رہی اور مجھے ڈاکٹر صاحب سے تین ساڑھے تین گھنٹے کی اس میٹنگ میں وہ کچھ سیکھنے کا موقع ملا جسے ان کی 100 کتابوں کو پڑھ کر بھی سیکھا نہیں جا سکتا تھا۔ اب اگلا مرحلہ آشیانے تک پہنچنے کا تھا۔ تین چار بنگلے چھوڑ کر سڑک پر کھڑے مجھے دو آدم زاد نظر آئے۔ ”یہاں نزدیک ترین بس سٹاپ کہاں ہے؟“ میں نے حوصلہ کر کے ان سے رستہ تو پوچھ لیا مگر

Read more

بھول

بھادوں کی تپتی دوپہر میں، وہ پینسٹھ سال کا بوڑھا شخص، پسینے سے شرابور، ننگے سر ہانپتے ہوئے تیز تیز قدم اٹھاتا، ایک گلی سے دوسری گلی سے سر جھکائے گزرے جا رہا تھا۔ یہ شہر کا پررونق بازار تھا، لیکن گرمی اور حبس کی شدت اس زوروں پر تھی، کہ لوگ دکانیں بند کر کے، اپنے اپنے گھروں میں آرام کر رہے تھے اور اب بازار میں چند اکا دکا دکانیں ہی تھیں جو کھلی تھیں اور دکاندار وہاں

Read more

بالا حصار کے حصار میں

کابل میں اگلے دو دن بڑے ہی مصروف گزرے۔ مشین خانہ پراجیکٹ دیکھنے کا موقع ملا۔ سوویت دور کے اور اس سے بھی پہلے برطانوی تسلط کے مختصر عرصے میں شہر کے بیچوں بیچ اسلحے اور دیگر جنگی سامان کو ذخیرہ کرنے کے کئی گودام بنائے گئے تھے جو وقت گزرنے کے ساتھ عدم استعمال کی وجہ سے ویران ہو گئے۔ جرمن حکومت کے تعاون سے ہمارے ادارے کے افغانستان آفس نے ان گوداموں کے دوبارہ استعمال (Adaptive reuse) کا

Read more

کارونجھر پہاڑ کو بچانے کے لیے بڑا احتجاج

بی بی سی اردو والوں نے انڈونیشیا کے ایک جزیرے میں کموڈور ڈریگن پہ ایک ڈاکیومینٹری بنائی ہے۔ اس ڈاکیومینٹری کا اصل موضوع یہ ہے کہ اتنی بڑی اور خطرناک مخلوق کے ساتھ انسان کیسے رہائش پذیر ہے کہ یہ اگر کاٹ لے یا چھو لے تو صرف باہ گھنٹے میں موت واقع ہو جائے۔ اس بارے میں میں جب آئی لینڈ پر رہنے والے لوگوں سے پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا کہ یہ خطرناک تو آپ کو

Read more

کاش! میں ایک بدمعاش ہوتا

”کاش میں ایک بدمعاش ہوتا“ جیسے ہی میں نے تھوڑی اونچی آواز میں یہ بڑبڑاہٹ کی، کمرے میں جھاڑ پونچھ کرتی میری بیگم نے مجھے حیرانی سے دیکھتے ہوئے کہا ”آپ اور بدمعاش ہوتے؟“ ۔ میں نے اس کے طنز کو سمجھتے ہوئے کہا ”ہاں تو کیا میں بدمعاش نہیں بن سکتا؟“ اس پر بیگم نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا، ”اب مجھے کیا پتا آپ میں کیا کیا خوبیاں چھپی ہیں؟“ ۔”زمانہ طالب علمی میں اچھا خاصا ”ٹیلنٹ“ تھا مجھ

Read more

محمد علی جناح کو ’انڈیا‘ کے نام پر کیا اعتراض تھا اور انھوں نے اسے ’گمراہ کُن‘ کیوں قرار دیا؟

اگرچہ انڈیا میں ملک کا نام بدل کر بھارت رکھنے کا یہ مطالبہ پہلے بھی ہوتا رہا لیکن انڈیا وہ نام ہے جس پر تقسیمِ برضعیر کے وقت بھی خود بانیِ پاکستان محمد علی جناح نے بھی اعتراض کیا تھا۔

Read more

ماڑی چڈھیاں والی

جب وہ میرے پاس بیٹھے بیٹھے ان سیڑھیوں کی طرف دیکھ رہی تھی جو ایک ایسے ہال میں اترتی تھیں جس کی دیواروں پر چھت تک نصب چوبی تختے کتابوں سے لدے ہوئے تھے، جی، ان کتابوں سے جو میری عمر بھر کی کمائی تھیں اور نہ جانے ایک ایک کر کے میں نے کہاں کہاں سے اور کتنے جتنوں سے جمع کی تھیں، تب مجھے یاد آیا تھا کہ پچھلی بار اس نے میرے پہلو میں بیٹھے بیٹھے یوں

Read more

چراغ آفریدم… رفعت سجاد کا ناول ”چراغ آخر شب“

چار چراغ تیرے بلن ہمیشہ پنجواں میں بالن آئیاں بھلا اور یہ پانچواں چراغ جلایا ہے رفعت ناہید سجاد نے۔ ”چراغ آخر شب“ جب ابھی چھپا بھی نہیں تھا، (اور اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے میں دکھی اور بہت شرمندہ ہوں) کہ مجھے ایک سخت وہم نے آ لیا تھا کہ رفعت نے یہ ناول قرۃ العین حیدر کے ناول "آخر شب کے ہمسفر” کے چھتنار درخت تلے بیٹھ کر تحریر کیا ہو گا کیونکہ اس کے عنوان سے

Read more

رفعت سجاد کے ناول چراغ آخر شب پر تبصرہ

چراغ آفریدم۔ تحریر۔ شہناز پروین سحر چارے چراغ تیرے بلن ہمیشہ پنجواں میں بالن آئیاں بھلا اور یہ پانچواں چراغ جلایا رفعت سجاد نے چراغ آخر شب جب ابھی چھپا بھی نہیں تھا اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے میں دکھی اور بہت شرمندہ بھی ہوں وہ اس لیے کہ مجھے ایک سخت وہم نے آ لیا تھا کہ رفعت نے یہ ناول قرۃالعین حیدر کے ناول اخر شب کے ہمسفر کے چھتنار درخت تلے بیٹھ کر تحریر کیا ہو

Read more

میر تقی میر کی آہ سے میری آہ تک

فسانہ ہائے شب غم ہے داستاں میری گئی نہ آہ کبھی سوئے آسماں میری جی ہاں یہ میری ہی ایک غزل کا مقطع ہے مگر زمین میر تقی میرؔ کی ہے میر تقی میرؔ جدید اردو طرز سخن کا بانی ہے۔ اس سے پہلے دکن کے ایک بادشاہ کو اردو کا اولین شاعر اور اردو غزل کا جدید معمار تصور کیا جاتا ہے۔ تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا جادو ہیں ترے نین غزالاں سوں کہوں گا

Read more

میں بزدل کیسے ہوا؟

1978 کا برس تھا۔ آئزک بیشواس سنگر کو ادب کا نوبل انعام ملا تھا۔ درویش ان دنوں پنجاب کے ایک قدامت پسند، نیم خواندہ قصبے میں ایسی نوجوانی سے گزر رہا تھا جیسے آج کل کچھ پرجوش نوجوان سلاخوں کے پار محبوس ہیں۔ منٹو نے باری علیگ کے خاکے میں اس آمادہ بہ جستجو کیفیت کو ایک جملے میں سمو دیا ہے، ’جو اب خلوص دل سے کہہ سکتے ہیں کہ ان کو اس وقت اپنے اس جوش کے رخ

Read more

جیل میں ایک چھوٹی سی غلطی

میں 1981 کے موسمِ خزاں اور 1982 کے اوائل میں پابندِ سلاسل کر دیا گیا تھا۔ میں اس جیل میں مقید تھا جو شاہِ ایران کے دور میں عقوبت کدے کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ خمینی کی اسلامی حکومت نے اس کے در دوبارہ وا کر دیے تھے۔ جہاں میں قید تھا وہاں بہت سی عورتوں کو بھی قید کیا گیا تھا۔ جیل کے برآمدے میں جو قیدی تھے ان کی آنکھوں پر پٹّی باندھ دی گئی تھی۔ وہ

Read more

ناروے کے بارے میں ایک دلنشین کتاب

نادرہ مہر نواز کی تصنیف ’ناروے پگڈنڈیوں سے شاہراہوں تک‘ میرے ہاتھ میں ہے اور یہ طے کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ اس خوبصورت کتاب پر کیسے اور کیا تبصرہ کیا جائے۔ کتاب میں شامل بیشتر مضامین ’ہم سب‘ کی ویب سائٹ پر نظروں سے گزر چکے ہیں لیکن انہیں کتابی شکل میں دیکھنا اور مطالعہ کرنا ایک مختلف اور دلچسپ تجربہ ہے۔ بڑے سائز کے 184 صفحات پر مشتمل یہ کتاب آرٹ پیپر پر چھاپی گئی ہے۔ لاہور

Read more

ناروے کے بارے میں ایک دلنشین کتاب

نادرہ مہر نواز کی تصنیف ’ناروے پگڈنڈیوں سے شاہراہوں تک‘ میرے ہاتھ میں ہے اور یہ طے کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ اس خوبصورت کتاب پر کیسے اور کیا تبصرہ کیا جائے۔ کتاب میں شامل بیشتر مضامین ’ہم سب‘ کی ویب سائٹ پر نظروں سے گزر چکے ہیں لیکن انہیں کتابی شکل میں دیکھنا اور مطالعہ کرنا ایک مختلف اور دلچسپ تجربہ ہے۔ بڑے سائز کے 184 صفحات پر مشتمل یہ کتاب آرٹ پیپر پر چھاپی گئی ہے۔ لاہور

Read more

ناول نین تیرے انجان

ناول نگار کنول بہزاد تبصرہ دعا عظیمی ’نین تیرے انجان‘ جسے کنول بہزاد صاحبہ نے لکھا ہے اپنے عنوان کی طرح رومانوی ناول نہیں ہے۔ یہ ایک معاشرتی ناول ہے۔ جنوبی پنجاب کے ایک دیہات سے ابھرتی ہوئی یہ کہانی چلتے چلتے پاکستان کے دل تک جا پہنچتی ہے۔ پاکستان کا دل یعنی لاہور۔ شہر لاہور کی محبت لکھنے والی کے قلم سے یوں ٹپکتی ہے جیسے رس گلے سے شیرہ ٹپکتا ہے۔ بندہ سوچنے پہ مجبور ہو جاتا ہے

Read more

دبئی خوانیج 2، اور بس نمبر 11 اے

ان پر کالم تو ملاقات سے پہلے ہی لکھ دیا تھا۔ لیکن بالمشافہ ملنے کا اشتیاق اس لئے بھی زیادہ تھا کہ انہوں نے ایک بدیسی زبان میں اردو شاعری کی 100 کتابیں لکھی تھیں۔ میں ویسے بھی کسی کی دعوت نہیں ٹھکراتا ہوں۔ لیکن خوانیج 2 کے بارے سنا تھا، وہاں جانے کا اتفاق کبھی نہیں ہوا تھا۔ ڈرائیونگ لائسنس میرے پاس تھا نہیں، ایک دوست سے لفٹ مانگی تو اس نے اتوار کی بجائے پیر کو چلنے کا

Read more

افسانوی مجموعہ ”ٹوٹے پروں کے سنہری خواب“ کا تجزیہ

نثری ادب میں افسانہ نگاری ایک معتبر صنف ہے۔ جو طویل صدیوں کا سفر طے کر کے اہل سخنوروں کے اذہان و قلوب پر براجمان ہوئی ہے۔ یہ اہل ادب کا صدیوں پرانا شیوہ ہے کہ وہ اپنے ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کے پس پردہ معاشرتی زبوں حالی کو زیر قلم لا کر ایسے حقائق کی چشم کشائی کرتے ہیں۔ جہاں کہانی خود دلچسپی پیدا کر کے اپنے قاری کو نتیجہ جاننے کی تحقیق و جستجو پر مجبور کر دیتی

Read more

’بہانہ‘ نہیں صبر کا ’پیمانہ‘

کبھی خیال گزرا تھا کہ تجزیوں کے بھی تجزیے کیے جا سکتے ہیں اور کیے جانے چاہئیں۔ آج اس خیال ِنا تمام کو مہمیز دی مشہور صحافی و اینکر عاصمہ شیرازی صاحبہ کے کالم بعنوان۔ ”بجلی تو بس بہانہ ہے“ جو بی بی سی اردو کی ویب سائیٹ پر 29 اگست 2023 ء کو لگا۔ یہ بھی محض اتفاق ہے کہ میں نے اسی دن اپنی سہیلی ارم عاصم جس کے لیے ادب پڑھنا پڑھانا آکسیجن ہے، تذکرہ کیا تو

Read more

جاوید انور: ہزارے کا مہمان کیا بولتا

جاوید انور بیسویں صدی کے ربع آخر کے نظم نگاروں میں ایک نمایاں نام تھا۔ میں نے ”تھا“ لکھ دیا اور لکھ چکا تو دل میں ایک ٹیس اٹھی کہ یہ نام تو ابھی دل میں زندہ ہے مگر ہمارا یہ نظم نگار دوست نہیں رہا۔ میں آج اس کی ایک بہ ظاہر نٹ کھٹ نظم کو یاد کرنا چاہ رہا ہوں۔ ہمارے اس دوست نے ادھر ادھر بہت ہنگامہ بپا کیا اور دیار غیر میں جا بسا تھا پھر

Read more

گلزار ملک کا ناول: ”گمشدہ میراث“

فیصل آباد میں ادبی اور شعری روایت آغاز سے اب تک کم و بیش ایک سو سال سے زیادہ پر محیط ہے۔ پرانے اخبارات، رسائل اور انجمنوں سے مل جانے والی قرار داد کے ذریعے سے یہاں کا جو شعری منظر نامہ مرتب ہوتا ہے اس میں ن م راشد پہلے اور بڑے شاعر ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک بہت سارے ایسے شاعر اور شاعرات سامنے آتے ہیں جنہوں نے اس شعری منظر نامے میں اپنی اپنی

Read more

سوشل میڈیاکا کارنامہ: بدبخت بیٹا سلاخوں کے پیچھے

پاکپتن کے علاقہ گلشن فرید کالونی میں ایک بدبخت بیٹے نے جائیداد کی خاطر اپنے بوڑھے والد کو لاتوں، مکوں اور جوتوں سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا تو کسی نے اس تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کردی۔ سوشل میڈیا صارفین نے ویڈیو میں بوڑھے باپ پر تشدد دیکھ کر شدید الفاظ میں مذمت کی اور بدبخت بیٹے کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ آخرکار ویڈیو متعلقہ پولیس تک پہنچ گئی اور پاکپتن تھانہ فرید نگر پولیس نے

Read more

وہ ’احمقانہ‘ بینک ڈکیتی جس کے بعد خود کو ضرورت سے زیادہ قابل سمجھنے کی کیفیت کی دریافت ہوئی

جنوری 1995 کے ایک دن امریکہ میں مک آرتھر وہیلر نامی شخص اور اس کے ساتھی نے ریاست پینسلوینیا کے شہر پٹس برگ کے دو بینکوں کو لوٹا تاہم اپنا منہ نہیں چھپایا کیونکہ انھیں لگا اگر وہ اپنے چہرے پر لیموں کا رس چھڑکیں گے تو وہ کیمروں کو نظر نہیں آئیں گے۔

Read more

تصوف کی بھینٹ چڑھائی گئی لڑکی کی کہانی: دخترِ رومی

انعام ندیم ایک عمدہ شاعر، مرتب اور مضمون نگار تو ہیں ہی لیکن گزشتہ چند برسوں میں وہ ایک مستند مترجم کے طور پر بھی ابھرے ہیں۔ ان کا پہلا ترجمہ کردہ ناول ”دوزخ نامہ“ سن دو ہزار میں چھپا اور مقبول ہوا۔ اس کے بعد ان کے کچھ اور ترجمے سامنے آئے، جن میں ”بھیشم ساہنی کی کہانیاں“ ، ربی سنکر بال کا مولانا روم پر لکھا ناول ”آئنہ سی زندگی“ اور حال ہی میں برطانوی مستشرق مینوئل موفروئے

Read more

شوکت واسطی کی شاعرانہ جنت

میں وہ خوش بخت ہوں جسے زندگی میں بالکل الگ مزاج رکھنے والے کہہ لیجیے عام روش سے ہٹے ہوئے مگر اپنے فن میں ماہر لوگوں سے ملنا رہا ہے۔ انہیں محض اپنے فن میں ماہر کہنا شاید ایسی شخصیات کی توہین ٹھہرے کہ وہ جس فن سے وابستہ رہے اور عمر بھر رہے، اُس کی فضا میں ہی رہے ؛ وہ بھی یوں، جیسے مچھلی پانی میں رہتی ہے۔ گویا اُن کا جینا مرنا وہی تھا اور اسی سے

Read more

خلا اور تعطل میں کیا فرق ہے؟

عنوان میں تجرید کا عنصر کچھ زیادہ ہو گیا ہے۔ جیسا کہ ہماری آبادی کے پھیلاﺅ سے واضح ہے، ہم اجتماعی طور پر تجرد طبع نہیں ہیں۔ 3 کروڑ 40 لاکھ سے چلے تھے، شبانہ روز محنت اور یک نکاتی ارتکاز کی مدد سے 24 کروڑ 90 لاکھ کا ہندسہ عبور کر چکے ہیں۔ اس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی آبادی ہم بوجوہ شمار نہیں کرتے۔ قدرتی سائنس اور ریاضی تو ایک طرف، ہم تو جغرافیے کو بھی

Read more

میں بھی اچھوت ہوں

آج کل میں ڈاکٹر مبارک علی کی کتاب ”اچھوت لوگوں کا ادب“ مطالعہ کر رہا ہوں۔ شاید یہ ادبی روایات میں سے ایک ہے کہ میں راہ چلتے موبائل فون نکال کر کہیں بھی کبھی بھی کچھ بھی پڑھ سکتا ہوں۔ اس کتاب میں ہندوستان کی پسماندگی کا وہ موڑ چسپاں ہے جس کے نشانات آج بھی ان لوگوں کی ثقافت میں موجود ہیں۔ میں جب جب اس کتاب کو پڑھتا ہوں مجھے لگتا ہے کہ میں بھی اچھوت ہوں

Read more

یوسف خالد : فکر و احساس کا شاعر

الفاظ کی جادوگری کو شاعری سے موسوم کرنا بے جا نہیں ،کیوں کہ یوسف خالد جب الفاظ اور جذبے کے نامیاتی کل سےشعری آہنگ تخلیق کرتے ہیں تو قاری کے قلب و ذہن میں جمالیاتی سر شاری کی سحر آگیں کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔ان کیفیات کے بیچ میں سے ان کا منفرد اُسلوب اور طرزفکر جنم لیتا ہے جو قاری کو شعورو آگہی کا نور عطا کرتا چلا جاتاہے۔یوسف خالد کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ وہ نثری

Read more

یہ جو لاہور سے محبت ہے

بچپن میں ہمارے شہر ساہیوال میں جب کوئی بیمار پڑ جاتا اور اسکا مرض لا علاج قرار دے کر ڈاکڑ یہ کہ دیتے "اینو لہور لے جاو” (اس کو لاہور لے جاو) تو یہ سمجھ لیا جاتا "ساریاں نو اطلاع کر دیو، ہن اینے نئی بچنا” (سب رشتے داروں کو اطلاع کردو، اب یہ نہیں بچے گا) اسی طرح جب پتہ چلتا کہ فلاں کا میڈیکل کالج یا یونیورسٹی میں داخلہ لاہور ہو گیا ہے اور رفتہ رفتہ اس کی

Read more

تہذیب حافی: جدید اُردو غزل کا باغبان

اردو زبان کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ ہر طرح کے حالات میں اس کے ارتقا کا عمل تسلسل سے جاری ہے۔ اردو زبان اپنے تخلیقی ادب کے حوالے سے دنیا بھر کی زبانوں میں اپنی ایک شناخت رکھتی ہے۔ یہ شناخت نثری ادب میں بہت نمایاں ہے جبکہ شعری اصناف میں اس کا انفرادی وصف نثر سے سبقت لیے ہوئے ہے۔ شعری اصناف میں صنف غزل کو جو مقام و مرتبہ اور پذیرائی میسر ہے وہ دیگر اصناف کو

Read more

سمیع چوہدری کا کالم: ’اب اس میں نیپالی بیٹنگ کا کیا قصور؟‘

قدیم ادب میں جہاں جہاں بھی ملتان کے کچھ خواص بیان کئے گئے ہیں، سبھی میں ’گرمی‘ قدرِ مشترک ہے۔ ایشیا کپ کے افتتاحی میچ میں بھی اگرچہ میدان کے اندر کا کھیل گرم جذبات سے تشنہ ہی رہا مگر ملتان کی گرمی نے بہرحال اپنا رنگ ضرور جمایا۔ پڑھیے سمیع چوہدری کا تجزیہ۔

Read more

فکشن نگار، خاکہ نویس اور ٹی وی کی اسکرپٹ ہیڈ، سائرہ غلام نبی سے ایک مکالمہ

زندگی ایک عجب داستاں ہے۔ اس کے تنوع میں یکتائی ہے۔ وقت بیتتا ہے، زمانے بدلتے ہیں، مگر تبدیلیوں کے باوجود آپ اپنی جڑوں سے جڑے رہتے ہیں۔ ٹھیک ویسے ہی، جسے سائرہ غلام نبی جڑی رہیں، ادب کی زرخیز، پراسرار دنیا سے۔ لکھنے پڑھنے سے۔ گھر میں موجود کتب خانے سے یہ سفر شروع ہوا۔ بڑوں کی حوصلہ افزائی نے اسے مہمیز کیا۔ قلم اٹھایا، تو افسانے لکھے، ادبی ملاقاتوں کو خاکوں کی شکل میں ڈھالا، جو۔ کے عنوان

Read more

احسان اکبر: یہ کرشمہ سوز جگر کا ہے

نہیں معلوم ہمارے عہد کے ناقدین کو اس کا احساس ہے یا نہیں مگر مجھے لگتا ہے کہ احسان اکبر کے فن کی تحسین کے باب جو کچھ ہونا چاہیے تھا وہ اب تک نہیں ہوا۔ یہ شاعر اپنے مزاج اور قرینوں میں مختلف بھی ہے اور تخلیقی سطح پر اتنا صاحبِ توفیق بھی کہ اسے ہم عمر ہم عصروں کے ساتھ وقت پر زیر بحث لایا جاتا تو کئیوں سے بڑھ کر رفعتِ مقام پاتا۔ اوروں سے کیا شکوہ

Read more

عصر حاضر کے بلبل اردو: اماراتی شاعر فاروق العرشی

جب 1974ء کے آخری عشرے میں ڈاکٹر زبیر فاروق دبئی (متحدہ عرب امارات) سے کراچی یونیورسٹی کے میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس (Mbbs) ڈاکٹر بننے گئے تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ اردو زبان و ادب کے عشق میں مبتلا ہو جائیں گے۔ 1977ء میں انہوں نے میڈیکل کی ڈگری مکمل کی۔ 1978ء میں سول ہسپتال کراچی میں ہاو’س جاب شروع کی۔ اسی دوران انہیں اردو شاعری کا شوق چرایا اور ان کی پہلی غزل انڈیا میں

Read more

احترام آدمیت: دنیا میں کوئی کسی کا محتاج نہ ہو

کس نگرد و در جہاں محتاج کس نکتہ شرع مبیں این است و بس یعنی اسلام کا ملخص اور شریعت قرآنیہ کا منتہی یہ ہے کہ دنیا میں کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا محتاج نہ رہے۔ اقبال نے ان دو چھوٹے چھوٹے مصرعوں میں، اسلام کے مقصود و منتہی کو سمٹا کر رکھ دیا ہے۔ قرآن کریم کا اعلان ہے کہ ولقد کرمنا بنی ادم (2) خدا نے ہر انسان کو محض انسان ہونے کی جہت سے۔ واجب تکریم

Read more

حقوق والدین کو نظر انداز نہ کریں

آج کا موضوع حقوق والدین کے ساتھ ساتھ وہ محبت ہے جو ماں اور باپ اولاد سے کرتے ہیں، غیر مشروط اور بے لوث۔ بہت سی اولادیں ایسی ہیں جو وقت پر قدر نہیں کرتی ہیں اور انہیں احساس اس وقت ہوتا ہے جب ماں باپ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں، کچھ ایسی بھی ہیں جن کی بے حسی تاحیات قائم رہتی ہے اور وہ لوگ اکثر اوقات مکافات عمل کو بھی آزمائش گردانتے ہیں۔ ایک ماں کو میں

Read more

اچھا تو آپ خود کو دانشور سمجھتے ہیں

وکی پیڈیا میں اگر آپ دانشور لفظ کی معنی تلاش کریں گے تو آپ کو پتا چلے گا کہ دانشور کیا ہوتا ہے۔ دانشور وہ شخص ہوتا ہے جو معاشرے کی حقیقت کے بارے میں تنقیدی سوچ، تحقیق اور عکاسی کرنے کہ قابل ہو، یا کسی نا انصافی کی مذمت کرتا ہو۔ اور جو معاشرے کے معیاری مسائل کے حل کرنے کہ لئے کوئی نظریہ یا تجویز پیش کرتا ہو۔ 19 ویں صدی کے اواخر میں، جب یورپی ممالک جیسے

Read more

جنرل اور جمعہ سیٹی والا

جنرل ضیاء کے مارشل لا کا دور تھا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو نو سال قبل پھانسی دی گئی تھی۔ سیاسی قیدیوں کو چھڑانے کے لیے پاکستان ائر لاین کا جہاز اغوا کیے ابھی چند برس ہی ہوئے تھے۔ سیاسی جماعتوں پر مکمل پابندی تھی۔ جلسے جلوس کارنر میٹنگز و سیاسی اکھنڈ پر خاص نظر رکھی جاتی تھی۔ لوگ سیاست پر یا ملک پر قابض آمر کے بارے میں سرگوشیوں میں بھی بات کرنے سے کتراتے تھے۔ ادیب اور شاعر

Read more

تعلیمی اداروں میں ادبیات کی تدریس کیوں؟

ہمارے معاشرے میں عدم رواداری اور برداشت کے فقدان کے حوالے سے مختلف حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ عدم رواداری اور انتہا پسندی کا میل (Nexus) بعض اوقات تشدد کے رویے کو جنم دیتا ہے۔ انتہا پسندی اور تشدد کی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے بعض اوقات طاقت کا استعمال ناگزیر ہو جاتا ہے ’لیکن معاشرے سے اس ناسور کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے اگر عسکری آپریشن کا حصہ تیس فیصد ہے تو ستر فیصد ذمہ

Read more

علامہ اقبال کا فلسفہ خودی

علامہ اقبال کی شاعری اور فکر کو جو عالمگیر پذیرائی ملی ہے۔ اس سے ان کے کلام کی قوت پرواز دنیا کے کونے کونے میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ ان کی شاعری ایک عہد، زمانے یا ایک علاقے کا سوال نہیں بلکہ یہ انسان کے بنیادی سوالات پر روشنی ڈالتی ہے۔ اور زمینی حقائق سے آفاقی بلندیوں کا سفر کرنے کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اس سارے عمل میں خود آگہی کا سفر علم کو محدود سے لا محدود کی

Read more

ہرے پربت بھرے میدان (2)

باہر کی خوشگوار صبح سے مل کر میں واپس کمرے میں آ گیا۔ ادھر ادھر نظر دوڑائی تو معلوم ہوا کہ کمرہ خاصا کشادہ ہے اور دوسری منزل پر ہونے کی وجہ سے ہوا دار اور روشن بھی۔ دیوار کے ساتھ ایک لمبے شیلف پر کتابیں پڑی تھیں جن پر گرد کی ایک موٹی تہہ واضح خبر دے رہی تھی کہ برسوں گزرے ان کو کسی انسانی ہاتھ نے نہیں چھوا۔ گرد کی چادر ہٹائی تو صبح کی ایک تیز

Read more

انڈر گراؤنڈ

انڈر گراؤنڈ کے لغوی معنی تو زیر زمین یا زمین کے اندر ہی ہوتے ہیں لیکن سیاست کی زبان میں یہ لفظ بہت گہرائی اور گیرائی رکھتا ہے۔ یہاں پے اس لفظ کی اس سے زیادہ وضاحت میرے خیال میں غیر ضروری ہے۔ یہ عنوان ہے ہمارے دوست، صحافی، ناول نگار، شاعر، محقق، قلم کار اشرف شاد کی نئی کتاب کا ۔ اشرف نے یہ کتاب اپنے ساتھیوں مجاہد بریلوی، عامر ضیاء، سہیل سانگی کی شراکت میں مرتب کی ہے۔

Read more

اندرا گاندھی کا قتل: جب میں نے پہلا ضمیمہ تیار کیا

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری) مارچ 1983 ءمیں جب میں نے روزنامہ سنگ میل سے اپنے صحافتی سفر کا آغاز کیا تو ان دنوں بھارت میں سکھوں کی تحریک عروج پر تھی اور اسے خالصتان کی تحریک کا نام دیا گیا تھا۔ بھارت کا کہنا تھا کہ اس تحریک کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے اور جنرل ضیا کی فوجی حکومت خالصتان تحریک کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالا اس تحریک کی قیادت کر رہے

Read more

گل میر جمالی: بلوچستان کے لوک فنکار جنھوں نے تباہ شدہ ’پنجرہ پل‘ کی جانب منفرد انداز میں توجہ دلوائی

بلوچستان کے لوک فنکارگل میرجمالی کے کوئٹہ اورسندھ کے درمیان شاہراہ پرپنجرہ پل سے متعلق گائے گانے کے بعد نگران وزیر اعظم انوارکاکڑنے اس پل کی تعمیر کا اعلان کر دیا ہے۔ گل میر جمالی کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں جب میراوہاں سے گزرہواتولوگوں کو جس تکلیف میں دیکھا ان کو الفاظ میں بیان تونہیں کیا جاسکتا ہے لیکن میں نے شاعری کے زریعے ان کو اجاگرکرنے کی کوشش کی

Read more

کیا ڈاکٹر خالد سہیل خوشیوں کے ڈبل شاہ ہیں؟

گزشتہ چار پانچ برس سے میں ڈاکٹر خالد سہیل کے ادبی حلقہ احباب میں شامل ہوں۔ ہم سب ’کے توسط سے ان کے ساتھ میرا یہ تعلق مضبوط ہوا۔ وہ قابل احترام استاد بھی ہیں اور پسندیدہ ادیب بھی ہیں۔ ضرورت کے وقت ماہر نفسیات بھی ہیں اور فیملی فرینڈ بھی۔ ان کے کچھ رازوں کی امین تو یہ دعا کی خواستگار بھی ہے۔ ڈاکٹر خالد سہیل وہ انسان دوست ہیں جو ہر دم انسانوں کے دکھوں کو آدھا اور

Read more

بت پرستوں کی نئی نسلیں (13)

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

اقبال گئے دلی، غالب سے ملنے

دسمبر کا دھندلکا اور صبح کے چھ بجے کا وقت تھا، جب علامہ اقبال ایک اونی شال اوڑھے، دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے، کوچہ بلی ماراں سے گزرتے ہوئے، مرزا غالب کے مکان پر پہنچے۔ مکان کی حالت بہت بہتر تھی، جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ غالب نے شاید انگریز سرکار سے ملنے والی پنشن سے، اسے دوبارہ تعمیر کروایا ہے۔ دروازے کے ساتھ دیوار پہ تختی آویزاں تھی، جس پہ مرزا اسداللہ خان غالب، مکان نمبر 366 / 2

Read more

مجید امجد: ضمیر ہستی کا آہنگ تپاں

لگ بھگ اٹھانویے سال کی عمر کو پہنچ کر کشمیری لال ذاکر نے ”فیض کی دنیا“ کے نام سے اپنی زندگی کی آخری کتاب مرتب کی تھی۔ یہ کتاب مجھے اپنی زندگی میں شمس الرحمن فاروقی صاحب نے بھیجی اور تاکید کی تھی کہ اس میں موجود ان کا دیباچہ پڑھوں۔ یہ وہی دیباچہ ہے جس میں فاروقی صاحب نے ایک ایسی بات لکھ دی تھی کہ ایک ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ تاہم میرے لیے یہ نئی بات نہ

Read more

بھارتی محمڈن پیر اور مذاہب کا متنجن

برصغیر پاک و ہند کے اسلام میں دنیا کے دوسرے خطوں کی نسبت پیری فقیری اور درگاہوں کا کلچر بہت زیادہ پایا جاتا ہے، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ جہالت ہے، کچھ کا ماننا ہے کہ ہندوستان میں مندروں اور ان پر ہونے والے میلوں ٹھیلوں کے مقابلے میں درگاہی کلچر گریجوئلی ڈیویلپ ہوا ہے، کچھ اس کے اندھا دھند پیروکار ہیں اور اسے ایمان کی حد تک حق اور سچ سمجھتے ہیں۔ کچھ مذہبی تجزیہ نگار صوفیزم

Read more

دینی علوم کا دائرہ – ایک پیدا کردہ فکری مغالطہ

مذہبی مبلغین کی طرف سے عموماً یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ درس نظامی اور سکول کالج کی تعلیم (ریاضی، کیمسٹری، بیالوجی وغیرہ) دو متضاد علوم ہیں، مثلاً عموماً نمازِ جمعہ کے موقع پر خطبا حضرات سے سنا گیا ہے کہ ”سکولوں میں تو بڑے شوق سے بچے بھیجتے ہو، مساجد میں علوم دینی کے لیے بچے بھیجتے ہوئے موت پڑتی ہے“ ۔ بس وہ یہیں سے ہی سکول اور کالج کے علوم کو دینی علوم سے خارج کر دیتے

Read more

ایڈ ورڈ سعیدکی کتاب‘‘Covering Islam ’’کی توضیحی قرأت

ایڈورڈ سعید بیسویں صدی کے نامور دانشوروں میں سے ایک تھے جو 2003 ء میں 67 سال کی عمر میں، کینسر کے عارضے میں مبتلا ہو کراس دنیا کو خیر باد کہ گئے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ عالم کی موت، ایک عالم کی موت ہوتی ہے۔ یہ قول ایڈورڈ ڈبلیو سعید کے حوالے سے صد فی صد درست ہے، وہ ہمہ جہت شخصیت تھے، اسی لیے ان کی موت دانشوری کے ایک باب کا اختتامیہ ثابت ہوئی ہے۔ ادیب

Read more

وہ دن دور نہیں جب بجلی مفت ملے گی

جس کی تنخواہ 25 ہزار ہے اسے جب 45 ہزار روپے کا برقی ڈیتھ وارنٹ ملتا ہے تو ٹکریں مارنے، سڑک پر سینہ کوبی یا خود کشی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ وسعت اللہ خان کا کالم

Read more

خالد سہیل: ستّر سُنہری برس اور ستّر ادبی تحفے

(یہ مضمون امیر حسین جعفری کی مرتب کردہ کتاب ”ڈاکٹر سہیل: فن اور شخصیت“ کی تقریبِ پذیرائی منعقدہ ٹورانٹو، کینیڈا کے لیے لکھا گیا) ……………………………… خواتین باوقار اور حضراتِ خوش اطوار جانے کیوں جب بھی کسی محفل یا تقریب کی دعوت ملتی ہے مجھے بے ساختہ احمد مشتاق کا یہ شعر یاد آ جاتا ہے یار سب جمع ہوئے رات کی خاموشی میں کوئی رو کر تو کوئی بال بنا کر آیا اِس شعر کا عصری جواز یا ریلے وینس

Read more

بین الاقوامی ادب کے حوالے سے ایم خالد فیاض کی کتاب کا طائرانہ جائزہ

کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ پچھلے بیس سال میں تنقید کے نام پر بین الاقوامی ادب سے ایسا بہت کچھ ترجمہ یا تلخیص کی صورت سامنے آیا ہے جو یقیناً لائق ستائش تو تھا مگر جس طور یہ ظہور پذیر ہو رہا تھا وہ ادبی سرگرمی کا حامل نہیں بن پا رہا تھا کہ تب تخلیقی عمل کو ایک طرح سے دیس نکالا دیا جا چکا تھا۔ نتیجۃ اس دورانیے میں تعلیمی اداروں سے نکلنے والے ایم فل حتی

Read more

ذلتوں کے اسیر ؛ اردو ناول میں نسائی شعور کا استعارہ! (11)

ثانیہ شادی کو کچھ اس نظر سے دیکھتی ہے : ”جب تک نکاح نامہ ایجاد نہیں ہوا ہو گا، عورتوں کو آگ سے داغا جاتا ہو گا اور جب تک آگ ایجاد نہیں ہوئی ہو گی، عورتوں کو نشان زدہ کرنے کے لیے خنجر اور تلواریں استعمال ہوتی ہوں گی۔ اور جب تک خنجر اور تلواریں ایجاد نہیں ہوئی ہوں گی عورتوں کے جسم پتھر سے کچلے جاتے ہوں گے۔ اور جب مرد نے پتھر کا استعمال ایجاد نہیں کیا

Read more

وحدت جرمنی (جرمن قومی ریاست کی تشکیل) 1871

موجودہ جرمنی آبادی کے لحاظ سے یورپ کا دوسرا بڑا ملک اور 357387 مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل ہے اس کے شمال میں بحیرہ شمالی، ڈنمارک اور بحیرہ بالٹک، مشرق میں پولینڈ اور چیک جمہوریہ جنوب میں آسٹریا اور سوئیزرلینڈ اور مغرب میں فرانس، لکسمبرگ، بلجئیم اور نیدر لینڈ واقع ہیں۔ ”جرمنی“ لاطینی لفظ جرمینیا سے مختص ہے۔ یہ نام نامور رومن جرنیل اور حکمران ”جولیس سیزر“ ( 59 ق م تا 44 ق م) نے شمال وسطی یورپ کے

Read more

”پڑھیں“ یا ”دیکھیں“ ؟

میں نے حال ہی میں اگاتھا کرسٹی کا مشہور ناول ”And Then There Were None“ شروع کیا، پہلے دو چیپٹرز پڑھے تو محسوس ہوا کہ وقت کچھ زیادہ لگ رہا ہے۔ چونکہ انگلش میری ثانوی زبان ہے تو دو چیپٹرز اچھی طرح سمجھ کر پڑھنے اور ہلکے پھلکے نوٹس بنانے میں مجھے تقریباً گھنٹے سے زیادہ وقت لگ گیا۔ جبکہ اس ناول پر مبنی ٹی وی سیریز دیکھنا شروع کی تو پہلے دو چیپٹرز کے اختتام تک کا سین صرف

Read more

گرکِ شب” ایک منفرد ناول

صر حاضر میں ہمارے نوجوانوں میں یہ رجحان رواج پا چکا ہے کہ مقامی زبانوں اور اردو میں جو کچھ بھی لکھا جا رہا ہے اسے معیاری ادب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس لئے اکثر انگریزی کتابیں پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں یا دوسری زبانوں کے انگریزی تراجم پہ گزارہ کرتے ہیں۔ مقامی زبانوں میں لکھنے اور پڑھنے کا رجحان ویسے بھی دن بہ دن کم ہوتا جا رہا ہے لیکن اب تو اردو پڑھنے والے بھی وہی رہ گئے

Read more

توہین کی تلاش

ہم نے یونیورسٹی کی ادب کی کلاسوں میں، عشق رسول میں ڈوبی ہوئی فلموں میں، سیاست دانوں کی تقریروں میں، بلاگوں اور وی لاگوں میں، ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنے والوں اور ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے والوں میں، ججوں اور وکیلوں میں، اپنے گانوں اور ترانوں میں توہین ڈھونڈی ہے۔ محمد حنیف کا کالم۔

Read more

خورشید رضوی: یہ زمانہ کیا ہے ترے سمند کی گرد ہے

مجھے نہیں معلوم میں خورشید رضوی کی شاعری کی طرف کب متوجہ ہوا تھا۔ بس اتنا یاد ہے کہ میں ان دنوں فیصل آباد میں تھا اور کسی دوست سے یہ شعر سنا تھا: یہ دور وہ ہے کہ بیٹھے رہو چراغ تلے سبھی کو بزم میں دیکھو مگر دِکھائی نہ دو یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹس یونین کے الیکشن ہو رہے تھے اور میں بھی الیکشن لڑنے والوں میں شامل تھا۔ ہر روز جلسے ہوتے اور ہمیں تقریریں کرنا ہوتیں لہٰذا

Read more

ہماری نئی نسل اور تعلیمی نظام

کسی بھی قوم کی ترقی میں نئی نسل مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ وہ قوم کے روشن مستقبل کے ضامن ہیں۔ اگر کسی قوم کی نئی نسل تعلیم یافتہ، ذمہ دار اور فرض شناس ہیں تو یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اس قوم کا مستقبل محفوظ ہے۔ اور اگر اس کے بر عکس کسی ملک و قوم کی نئی نسل غیر ذمہ دار ہیں تو اس کا مستقبل تاریک ہے۔ پاکستان کو عظیم بنانے کے لئے

Read more

چاند کو گل کریں تو ہم جانیں

ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کسی ناول پر لکھنے کا ارادہ کیا جائے مگر یہ سوچ کر اسے واپس رکھ دیا جائے کہ جانے حق ادا ہو بھی پائے گا یا نہیں! ایسا ہی ایک حیرت انگیز، دلچسپ، وقت کی اڑان پر سفر کرتا اور ماضی میں گم بستیوں کو پھر سے آباد کرتا منفرد اور انوکھا ناول اسامہ صدیق صاحب کا ہے، جس نے وقت کے بے حد طاقتور دائروی گھماؤ کو بڑے سلیقے سے اپنے اندر سمیٹ

Read more

کام کرنے اور رہنے کے لیے بحرین اور ملائیشیا سمیت دنیا کے پانچ بہترین ممالک کون سے ہیں؟

بیرون ملک رہنے اور کام کرنے کے بارے میں ایک نئے سروے کیا گیا ہے جس میں غیر ملکیوں کے رہنے کے لیے بہترین ممالک کے بارے میں ہزاروں لوگوں نے اپنی اپنی رائے دی ہے۔ ملائیشیا سے لے کر میکسیکو تک غیر ممالک میں رہائش پزیر باشندے بتاتے ہیں کہ انھیں اپنے نئے گھر سے پیار کرنے کی کیا وجہ ہے۔

Read more

(2) کھلی آنکھوں کا خواب

بچپن کا محرم اور اہل بیت سے محبت کا بیج: کالے عبائیے میں ملبوس خواتین اور بچے تھے۔شکر ہے شروع کی دو سیٹیں ملیں۔ جہاں پاؤں لمبے کرکے رکھے جاسکتے تھے۔ جہاز رن وے پر دوڑنا شروع کرے تو سفر اور حفاظت کی دعاؤں میں تیزی آجاتی ہے اور جب جہاز زمین کو چھوڑ کر فضا میں بلند ہوتا ہے تو گھبراہٹ سی ہونے لگتی ہے۔ مگر دیکھا تو آج نسیم گھبرائے گھبرائے سے لگ رہے تھے۔ خیر ہے، طبیعت

Read more

مشاعرہ بیاد یوم پاکستان

دل کی اس کسک کو ڈاکٹر نورالصباح کے اس مشاعرے نے دور کر دیا کہ اس دفعہ پاکستان اور اردو سے محبت کرنے والے سمندر پار پاکستانیوں نے یوم آزادی اتنا جوش و جزبے سے نہیں منایا جس طرح ہر سال وہ پہلے مناتے تھے۔ یہ مشاعرہ 20 اگست کو "شہر سخن” کے عنوان سے برانچز آف چائے شائے ریسٹورنٹ عجمان میں منعقد کیا گیا۔ 14اگست کے روز پاکستان اور عالمی میڈیا پر یہ افواہ (Disinformation) پھیلائی کی گئی تھی

Read more

جرمن زبان کے شاعر یُرگن اور روزمرہ کی شاعری کی تحریک

یہ رائن کی مچلتی، گنگناتی ریشمی لہریں حسیں یادوں کے، جل تھل موسموں کے خواب بنتی ہیں مہکتے شہر کی، بہکی ہوئی یہ نرم رو نیلی ہوائیں کیوں مری ہم راز بننا چاہتی ہیں میں کہ ٹھہرا بے وفا، سیماب پا، لفظوں کا بیوپاری بھلا میں گنگناتی اجنبی لہروں سے کیا وعدہ کروں ( دریائے رائن کے کنارے ) نوے کی دہائی کے اوائل میں جب میں ایسی نظمیں کہتے ہوئے اپنے شاعر، ادیب اور فن کار دوستوں کے ساتھ

Read more

انوار الحق کاکڑ

انوار الحق کاکڑ کو میں نے پہلی بار سینیٹ میں دیکھا جب مارچ 2021ء میں ایوان بالا کا رکن بنا تب وہ اقتدار کا جھولا جھولتی تحریک انصاف کے ساتھ سرکاری بینچوں پر بیٹھتا تھا۔ باضابطہ اجلاس کے پہلے یا دوسرے دن ہی وہ میرے پہلو میں آ بیٹھا۔ دیر تک نیاز مندانہ انداز میں مجھ سے غائبانہ تعارف کی داستان کہتا رہا۔ بلوچستان کی مصفیٰ ہواؤں کا پروردہ گورا چٹا پٹھان، خوش جمال تو تھا ہی مجھے خوش خصال

Read more

شیراز راج کی شاعری میں ہجرت، محبت اور معرفت کے راز

نوٹ۔ یہ مضمون شیراز راج کی کتاب ”عرش کی مٹی“ کی تقریب رونمائی کے موقع پر فیمیلی آف دی ہارٹ کینیڈا کے 20 اگست 2023 کے پروگرام میں پڑھا گیا۔ میری شیراز راج سے کینیڈا میں پہلی بار ملاقات ہوئی تو مجھے ان کے مزاج کی شگفتگی اور شخصیت کی شائستگی نے بہت متاثر کیا۔ ان کی پرسنیلٹی میں ٹھہراؤ تھا ’بردباری تھی اور سب سے بڑھ کر منکسرالمزاجی تھی۔ وہ اردو کے ان ادیبوں‘ شاعروں اور دانشوروں سے بہت

Read more

سلمیٰ اعوان اور کہانیاں دنیا کی

دنیا جہان کے قصے کہانیاں سننے کا شوق کسے نہیں؟ اور پھر جب آپ کے ہاتھ ایک ایسی کتاب لگ جائے جس میں دیس دیس کے قصے ہوں اور نگر نگر کی کہانیاں ہوں، وہ کہانیاں جن میں آپ کو وہ دیس ایک دم جیتا جاگتا نظر آئے، یہی نہیں بلکہ مصنف وہاں کے ماضی کو بھی حال کے لبادے میں لپیٹ کر آپ کے سامنے رکھ دے، تو اس سے بڑھ کر آپ کو اور کیا چاہیے ہو گا؟

Read more

افضال احمد سيد نثری نظم کے گرداب میں

میں کراچی آرٹس کونسل میں کافی عرصے سے آتا رہا ہوں اور کافی عرصے سے افضال احمد سید اور ڈاکٹر تنویر انجم کو ساتھ دیکھتا رہا ہوں لیکن ان سے آتے جاتے دعا سلام کے علاوہ کوئی شناسائی نہیں تھی اور نہ ان کی شاعری سے کوئی واقفیت تھی البتہ افضال احمد سید کے مقابلے میں ڈاکٹر تنویر انجم کو پڑھا اور ان کی ایک نظم پشتو میں بھی ترجمہ کی تھی جس کو ایک آن لائن پروگرام میں سنانے

Read more

خالد مسعود خان اور صدارتی ایوارڈ

شاعر و صحافی محترم خالد مسعود خان کو کالم نگاری اور شعری خدمات پر صدارتی ایوارڈ دینے کا اعلان ہوا ہے۔ اگر آپ سچ پوچھیں تو ہمیں اس پر خوشی سے زیادہ حیرت ہوئی ہے۔ اور حیرت اس بات پر کہ اندھوں کے شہر میں کون ایسا صاحب بصیرت ہے جس نے خالد مسعود خان کو دیکھ لیا ہے۔ بہروں کے دیار میں کون ایسا صاحب بصارت ہے جس نے خالد مسعود کو سن لیا ہے۔ اور مقتل وقت میں

Read more

چنگیز پور کا جعلی پیر اور معصوم فاطمہ رانی

‎فاطمہ قتل کیس کے بارے میں فی الحال کوئی بات حتمی طور پر نہیں کی جا سکتی۔ کیونکہ ابھی بچی کا پوسٹ مارٹم ہونا ہے لیکن اس جیسے واقعات آنکھوں کے سامنے گھوم رہے ہیں جو گردش وقت نے دکھلائے۔ اس بچی فاطمہ کی مبینہ زیادتی کے بعد موت ہوئی ہے یا نہیں اس کا جلد پتا چل جائے گا مگر میرے دماغ میں ایسی سینکڑوں کہانیاں گردش کر رہی ہیں۔ اس کی وجہ سے اعصاب جواب دے گئے اور

Read more

انڈیا کے معروف نغمہ نگار گلزار اور اداکارہ راکھی جن کی راہیں جدا ہوئیں مگر محبت برقرار رہی

انسان کسی بھی شعبے میں قابلیت، محنت اور لگن سے ایک خاص مقام حاصل کرتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص مختلف شعبوں میں ہاتھ ڈالے اور ان سب میں خاص مقام حاصل کرے تو ایسا شاذ و نادر ہوتا ہے اور ایسے ہی ایک شخص انڈین سینیما کے نغمہ نگار اور فلم ساز گلزار ہیں۔

Read more

آرگیزم گیپ کیا ہے اور خواتین میں ہیجانِ شہوت کی شرح کم کیوں ہے؟

بہت سے مطالعات سے پتا چلتا ہے کہ خواتین میں مردوں کے مقابلے آرگیزم کی شرح کم ہوتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق زیادہ تر خواتین اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار جھوٹا آرگیزم ظاہر کرتی ہیں۔

Read more

میرتقی میرؔ کے فارسی کلام کی عصری معنویت

(1723ء تا 1810ء) (میر تقی میرؔ کے سہ صد سالہ جشن ولادت کی مناسبت سے ) خدائے سخن میر تقی میرؔ کی تاریخ پیدائش 1723؁ء بمقام آگرہ متفقہ طور پر تسلیم کر لی گئی ہے اور اس مناسبت سے امسال یعنی 2023؁ء میں ان کا سہ صد سالہ جشن ولادت منایا جا رہا ہے۔ آپ کی وفات ماہ ستمبر 1810؁ء لکھنؤ میں واقع ہوئی۔ آپ نے اردو میں چھ دیوان اور فارسی میں ایک کلیات شعر، نکات الشعرا (تذکرہ) ،

Read more

سعدیہ قریشی اور ”کیا لوگ تھے“

سعدیہ قریشی نے ”کیا لوگ تھے لکھی“ اور کیا خوب لکھی۔ افتخار عارف صاحب کے کتاب پر اظہار خیال کی پہلی سطر ہی پل جھپکتے میں مجھے اس دنیا میں لے گئی جب نسیمہ بنت سراج کے کالم پڑھے بغیر مجھے چین نہیں پڑتا تھا۔ اپنے وقت کی اِس اہم کالم نگار کو ہم لوگ کیسے بھولے بیٹھے ہیں؟ زبان و بیان کے حُسن میں ڈوبی ہوئی تحریر کی مالک اس خاتون بارے کبھی کہیں ایک لائن پڑھنے کو نہیں

Read more

فیض احمد فیض سے معذرت کے ساتھ

یہ ان دنوں کی بات ہے جب پاکستان کے اخبارات اور فکری حلقوں میں راولپنڈی سازش کیس کا بہت چرچا تھا۔ انتظامیہ نے معاملے کی سنگینی کے پیش نظر سازش کیس کے تمام ملزمان کو علیحدہ علیحدہ کر کے ملک کی مختلف جیلوں میں بند کر دیا تھا۔ فیض احمد فیض بھی اسی جرم کی پاداش میں اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید تنہائی کاٹ رہے تھے۔ ان کی قید تنہائی کا یہ عالم تھا کہ اشتراکیت کا بھوت کی ہیبت

Read more

مستقبل کا تصور اور فرد کی آزادی

یہ 29 اکتوبر 2021 ءکی بات ہے۔ جی، اُن دنوں میں سے ایک دن کی بات کہ ابھی عمران خان کا اقتدار پوری طرح قائم تھا اور اس کا تصور بھی نہیں کیا جا رہا تھا کہ یہ حضرت اپوزیشن کی عدم اعتماد کی ایک تحریک منظور ہونے کے بعد اقتدار سے یوں نکال باہر کیے جائیں گے کہ ان کے لیے سیاسی سوجھ بوجھ کے ساتھ فیصلے کرنا ممکن ہی نہ رہیں گے۔ یہ بھی بعد میں ہم نے

Read more

محبت کی پرواز اور شادی کا پھندا

محبت ایسا جذبہ ہے جس کو رنگ، نسل، دین دھرم، جغرافیائی سرحدوں، مالی حیثیت اور شادی جیسے پنجروں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ محبت کسی اصول اور ضابطے کو نہیں مانتی۔ بلاشبہ انسانی شعور کے ساتھ رومانوی سائنس کا بھی ارتقا ہوا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی نے جہاں دیگر شعبوں میں اپنی رفتار تیز کی ہے وہاں رومانوی جد و جہد کے لمحات بھی سکڑ گئے ہیں۔ ماضی بعید میں محبت کو پروان چڑھتے چڑھتے کئی برس لگ جاتے

Read more

جس کو ہو دین و دل عزیز…

چھاؤنیوں کی طاقت و ہیبت اور سخت گیر قوانین کے سہارے جنرل ضیا الحق نے اس ملک پر گیارہ سال تک غیر آئینی حکومت کی۔ اس دوران مجھے موثر اور مثالی، مزاحمتی کردار کی پاداش میں آٹھ سال نو ماہ ستائیس روز بدترین قید و بند میں گزارنا پڑے۔ شاہی قلعہ لاہور، قلعہ بالا حصار پشاور، سزائے موت کے اعزاز، پھانسی کوٹھڑی کے ایام اور ملک کی مختلف جیلوں میں قیام کی تفصیلات خاکسار اپنی کتاب ”کئی سولیاں سرراہ تھیں“

Read more

اکیسویں صدی کا متعوب شاعر: اکرام عارفی

اردو غزل کی روایت میں کئی ایسے موڑ آئے جہاں اس کی گردن مارنے کی کوشش کی گئی۔ یہ کوشش کافی حد کامیاب بھی رہی؛ اس کے باوجود یہ صنف گزشتہ ہزار برس سے زندہ ہے اور سلامت ہے۔ اردو غزل میں جملہ موضوعات پر شعرا نے لکھا اور بہت خوب لکھا۔ اردو غزل کی یہ خوش نصیبی رہی کہ اس اوائل میں استاد شعرا میسر آئے جنھوں نے اس پرورش و پرداخت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ اردو

Read more

لیاقت علی عاصم فن اور فکر

معاصر غزل گو لیاقت علی عاصم کا شمار شعرا کی اس قبیل سے ہوتا ہے جو عوام کے دلوں کو چھوتے ہوئے اور خواص کی توجہ حاصل کرتے ہوئے غزل کی روایت کو آگے بڑھاتے ہیں۔انھوں نے نہ تو جدت سے منہ موڑا نہ روایت سے دامن چھڑایا بلکہ روایت سے شعر کہنے کا سلیقہ سیکھ کر آج کے مسائل و موضوعات کو غزل کے دامن میں سمویا۔ انھی کے بقول تمھاری طرح سے لکھتا تو مٹ چکا ہوتا یہ

Read more

مینارے گرائے اور چرچ جلائے گئے: باقی پاکستان ہوشیار باش

آج ایک بار پھر پاکستان کے شہریوں کا ایک طبقہ جوش اور غیرت سے بپھرا ہوا ہے۔ جڑانوالہ کی سڑکوں میں متعدد مقامات پر ہجوم کی آنکھوں سے خون ٹپک رہا ہے۔ گرجا گھروں سے دھواں اٹھ رہا ہے۔ مسیحی شہریوں کے گھروں کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹا جا رہا ہے۔ رائٹرز کی خبر کے مطابق جڑانوالہ کے دو مسیحی شہریوں پر قرآن مجید کی توہین کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ یہ

Read more

آٹھویں نگران وزیر اعظم کی تقریب حلف برداری

سابق سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے 76 یوم آزادی کے دن ملک کے آٹھویں نگران وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔ ان کی حلف برداری کی تقریب گزشتہ روز ایوان صدر اسلام آباد میں منعقد ہوئی جہاں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان سے حلف لیا جس میں سابق وزیر اعظم شہباز شریف کے علاوہ سابق وفاقی وزراء اور اعلیٰ سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ نئے نامزد شدہ وزیر

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل: ممتاز دانشور، انسان دوست ادیب اور ماہر نفسیات

ڈاکٹر خالد سہیل کے سنجیدہ خیالات اور سنجیدہ انسانی فلاح کے تمام کار ہائے نمایاں کے باوجود قلم اس بات پر مائل نہیں ہو پا رہا کہ ان کے بارے میں لکھنے کے لیے سنجیدگی کی روشنائی میں قلم کو بھگویا جائے۔ سنجیدہ لکھنا ضروری بھی نہیں اور کوئی خوف بھی نہیں کہ توہین یا بلاسفیمی کا فتوی لگ جائے۔ بلکہ شاید بہت سے لوگ خوش ہی ہوں گے۔ لیکن لوگوں کو خوش کرنے کا بھی کوئی خبط نہ مجھے

Read more