گجرات پر 53 برس حکمرانی کرنے والے ’زہریلے‘ سلطان جو زہرخورانی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ’زہر کھاتے‘ تھے
مورخین کہتے ہیں کہ بہادری، مذہبی جذبے، انصاف اور دانش مندانہ اقدامات سے محمود نے گجرات کے بادشاہوں میں اعلیٰ مقام پایا۔’
Read moreمورخین کہتے ہیں کہ بہادری، مذہبی جذبے، انصاف اور دانش مندانہ اقدامات سے محمود نے گجرات کے بادشاہوں میں اعلیٰ مقام پایا۔’
Read moreغالب نے ’مقطع میں سخن گسترانہ بات‘ چلی آنے پر معذرت کی تھی۔ یہاں مشکل یہ ہے کہ کلام امروزہ کے لئے روئے سخن طے پا چکا تھا لیکن چرخ فلک نے مطلع ہی میں آن لیا۔ سو، پہلے اس سے نمٹ لیں۔ ٹھیک پانچ برس پہلے اگست کی 18 تاریخ تھی۔ صاحبان ذی قدر کے من بھاؤنے عمران خان کو وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانا تھا۔ یہ ذمہ داری صدر ممنون حسین کے سپرد تھی۔ حلف کی عبارت دستور
Read moreکچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کو پڑھتے وقت قاری خود کتاب میں ایک کردار بن جاتا ہے۔ خاص طور پر اگر کتاب کوئی خوبصورت ناول ہو۔ جیسے ہی کہانی آگے بڑھتی جاتی ہے قاری کے جذبات پر کہانی کے ڈور کی گرفت مزید مضبوط تر ہوتی جاتی ہے۔ مگر یہ خاصیت میں نے بہت کم کتابوں میں پائی ہے۔ جن میں ایک کتاب گیتانجلی شری کی تصنیف ”ریت سمادھی“ ہے۔ فیس بک اور دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز
Read moreلوگ، لوگوں کی زندگی میں تنہا دوڑتے ہیں اور انسان لوگوں کے ہجوم میں دوڑتا ہے۔ تنہا انسان دیکھنے کو کچھ نہیں ہوتا مگر وہ کسی کی محفل ہوتا ہے، کسی کا راز ہوتا ہے، کسی کا خیال ہوتا ہے، وہ کسی شب کا ستارہ، کسی اندھیری رات کا مہ کامل، کسی صبح کی پہلی کرن، اور کسی امید کا استعارہ ضرور ہوتا ہے۔ چاند رات کے اندھیرے میں تنہا سفر کرتا ہے لیکن ہر آنکھ کی توجہ کا مرکز
Read moreہمارے بہت سے ادیب اور شاعر دوستوں کا تعلق طب کے شعبہ سے ہے۔ جتنی اعلی اور انتہائی مہارت وہ اپنے میڈیکل کے شعبہ میں رکھتے ہیں اس سے اچھے وہ ادیب ہیں اور بہت اچھی شاعری بھی کرتے ہیں۔ ان کے خیالات کا کینوس بہت وسیع اور ان کی سوچ بڑی منفرد اور ان کا ذوق انتہائی اعلی ہوتا ہے۔ برطانیہ سے واپسی پر جب عزیزم گگن شاہد نے ”گزرے دن“ بک کارنر جہلم پر میرے حوالہ کی تھی
Read moreخواتینِ ذی وقار اور حضراتِ خوش اطوار سوچتا ہوں کہ حسنِ اتفاق کی اس سے عمدہ عملی مثال کیا ہو سکتی ہے کہ عزیز تخلیق کار دوست خلیق الرحمٰن نے مجھے حلقۂ ارباب ذوق، اسلام آباد کے اُس اجلاس میں ’ابتدائیہ‘ پیش کرنے کی دعوت دی ہے جس کا موضوع ہے ”سمندر پار پاکستانی اردو ادب: ایک جائزہ“ اور ابھی چند روز قبل اِدھر ٹورانٹو، کینیڈا میں مقبول نشریاتی ادارے ’ٹیگ ٹی وی‘ کے ادبی پروگرام ’بیٹھک‘ میں ایک خصوصی
Read moreدنیائے موسیقی میں گائیکوں نے عشروں بعد پہچان بنائی لیکن سوشل میڈیا اور موجودہ سامعین کی بدولت، بائے بائے موسیقی، اور معروف خلاصیکل گائیک استاد چاہت فتح نے انتہائی قلیل مدت میں شہرت کے ایسے جھنڈے گاڑھے کہ اب اتارنا ممکن نہیں۔ ان کی آواز کا جادو نہ صرف موجبِ سمع خراشی ہے بلکہ کلاسیکل موسیقی کو خیر باد کہنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اسی لیے مذہبی طبقات ان کے ممنون ہیں کہ موسیقی کے خلاف ان کی
Read moreثانیہ راکھ سے بنی ہوئی عورت ہے جسے کریدنے سے چنگاریاں نکلتی ہیں جو سامنے والے کو جلا دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ثانیہ کی ہر بات میں اس کے ماضی اور دکھ کا شدید اظہار ہے۔ وہ لوگوں سے مل کر ان کے درمیان رہ کر وہ کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہے جو وہ بچپن میں کھو بیٹھی تھی۔ اسے لگتا ہے کہ شاعری کے ذریعے وہ سب کچھ کہہ سکتی ہے جو اس کے اندر شور
Read moreیہ نومبر 2019 ء کا ایک دن تھا۔ جب نومبر کی زرد رو دھوپ ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔ ہم دوست جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے اولڈ کیمپس میں محمد علی بلاک کے سامنے دھوپ سینک رہے تھے۔ جب ہمیں اطلاع ہوئی کہ جی سی کے نیو کیمپس جو جھنگ روڈ پر واقع ہے۔ وہاں معروف اداکار، فلم ساز اور ہدایت کار سرمد کھوسٹ اپنی آنے والی فلم ”زندگی تماشا“ کی پروموشن کے لیے اپنی ٹیم کے ہمراہ تشریف
Read moreسماج میں اقدار و روایات کے حوالے سے آنے والی تبدیلی اور بدلتے سماجی رویے اثر انداز ہوئے ہیں۔ انسان ایک سماجی وجود ہے۔ سماج میں پیدا ہوا ہے اور سماج ہی میں پرورش پاتا ہے اس لیے سماج سے کٹ کر الگ تھلگ زندگی نہیں گزاری جا سکتی معاشرے سے محبت امید اور عمل ناپید ہوتا جا رہا ہے اور نو جوان نسل خصوصاً اپنے خلق، مزاج اور سیرت کے حوالے سے بد ترین رویوں کا شکار ہیں۔ انسانی
Read moreیہ ایک گمبھیر اور منفرد ناول ہے۔ یہ کسی ایک انسان اور اس کے معاشرے کی کہانی نہیں ہے۔ یہ اس وقت سے لے کر جب سے انسان نے اس دنیا میں آنکھ کھولی ہے اور اب انسان جس مقام پر ہے یہ تب تک کی کہانی ہے۔ انسان کے زمین پر بسنے کی داستان سے لے کر اکیسویں صدی تک کے سفر میں انسان سے ایسی کیا غلطی ہوئی کہ خدا، جنگ اور موت انسان کے لئے لازم و
Read moreمیں جب بھی امّی کی یادوں میں جاتی ہوں تو میرے ذہن میں ایک ہی تصویر ابھرتی ہے، میری امّی ثریا جعفری کراچی کے بڑے پرانے گھر میں ڈائل فون اٹھا کر بریلی فون کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
Read moreبچوں کے باجا بجانے کے شور سے میری آنکھ کھل گئی میں کمرے سے باہر آئی تو سامنے دیوار پر لگے کیلنڈر سے معلوم ہوا کہ آج تو 14 اگست ہے پاکستان کو آزادی حاصل کیے ہوئے 76 سال ہو گئے ہیں یوں کہہ لیجیئے کہ پاکستان 76 سال کا ہو گیا ہے بابا نے اخبار پکڑاتے ہوئے کہا کہ آزادی مبارک میں نے کہا بابا آزادی کو 76 برس بیت چکے ہیں مگر آج بھی ہم ترقی کی دوڑ
Read moreپاکستان کی تاریخ ایثار، قربانی، جنون، اور عشق سے بھرپور ہے۔ جس میں اہم واقعات ہیں۔ ملک کی کہانی کا پتہ قدیم زمانے سے لگایا جا سکتا ہے، جس میں مختلف تہذیبوں اور خاندانوں نے خطے پر اپنا نشان چھوڑا ہے۔ آئیں پاکستان کی تاریخ پر ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں۔ پاکستانی تاریخ کا سفر پاکستان خطے کہ لحاظ سے جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ ایک ایسی سرزمین ہے جس کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ قدیم تہذیبوں کے
Read more”کسی شہر کا کلام جاگ اٹھے تو لوگ پہلے سے بڑھ کر حسین ہو جاتے ہیں۔“ ایسی انوکھی بات کرنے والا کوئی جادوئی حقیقت نگار ہی ہو سکتا ہے جو اپنے قاری کو اس دھرتی کے ایسے شہر طلسمات میں داخل کر دے، جہاں نہ خدا ہو، نہ جنگ اور نہ ہی موت! ملتان کی زرخیز فکری دانش سے تعلق رکھنے والے اور مقامی آدمی کے موقف بڑے سلیقے سے پیش کرنے والے ہمارے منفرد تخلیق کار اور جادوئی حقیقت
Read moreخیالات کا اظہار، فقط خیالات کی یلغار سے تو نتھی نہیں صاحب، اس لیے انھیں کہنے کا حوصلہ بھی چاہیے۔ اور اگر حوصلے کی منزل طے ہو گئی، تو اگلا مرحلہ ہے سلیقہ۔ جی، سلیقہ نہ ہو، تو نہ ہی منصور کا سر سلامت رہتا ہے، نہ ہی سرمد کا۔ حاشر ابن ارشاد نے جبر کے اس دور میں جن روشن خیالات کا علم اٹھا رکھا ہے، اس کے مطالبات کڑے۔ سامنے ہتھیار بند لشکر اور آپ کے حواری محدود
Read moreپاک فوج کو کھیتوں میں دیکھنا ایک پرانا خواب بھی ہے۔ جب سپہ سالار جنرل راحیل شریف کو لاہور میں انڈین بارڈر کے ساتھ 80 ایکٹر سے زیادہ زرعی زمین الاٹ ہوئی تھی تو قوم نے خواب دیکھا تھا کہ جب وہ ریٹائرمنٹ کے بعد کُرتا لاچا پہن کر اپنی زمین پر چارپائی ڈال کر مونچھوں کو تاؤ دیں گے تو پھر ہندوستان کو پتہ چلے گا کہ ہم کس مٹی سے بنے ہیں۔
Read moreناصر عباس نیر نئی تنقید میں اپنی شناخت مستحکم کرنے کے بعد ، مابعد جدید تنقیدی مباحث اور لسانیات سے لے کر اردو ادب کی تشکیل جدید اور مابعد نو آبادیاتی ادب پر اپنے خیالات میں ہمیں الجھا پاکر کوئی چھے برس پہلے اچانک اپنے افسانوں کا پہلا مجموعہ ”خاک کی مہک“ لے کر آ گئے تھے۔ یہ مجموعہ اردو کی ادبی دنیا کے لیے اچانک آ لینے والی اور حیرت زدہ کرنے والی خبر بن گیا تھا۔ میں اس
Read moreچارلس ڈیگال ائرپورٹ سے وینس (Venice) کی فلائیٹ پکڑنی تھی۔ لابی میں فیس بک پر اچانک ہمارے دوست اور گوجری کے شاعر جاوید سحر ؔ کی ویڈیو چل گئی تو دل رک سا گیا۔ بابائے گوجری، رانا فضل حسین کی شاعری ایسے خوب صورت ترنم سے پڑھ رہے تھے کہ یوں لگا کہ کوئی لوک گیت چل رہا ہے ”سوہنڑا دیس ہے کشمیر میرو۔ جس گی ڈوگیاں میں زعفران پھلے“ ۔ گوجری سے ہمارا تعارف اپنے آبائی گاؤں (گر
Read moreپہلی جنگ عظیم کے بعد مسلمان قوم کا شیرازہ بکھر گیا تھا۔ خلافت عثمانیہ بزور ختم کر دی گئی۔ برطانوی اور دیگر یورپی استعمار عالم اسلام پر مسلط ہو گیا۔ مسلمان ممالک یا تو غلام بن گئے یا یورپی اقوام کے اشارہ ابرو کے محتاج بن گئے تھے۔ پورے عالم اسلام پر ظلمت شب ایسے چھائی تھی کہ کہیں سے روشنی کی کرن دکھائی نہیں دیتی تھی۔ ان حالات میں شاعر مشرق حضرت علامہ اقبالؒ احیائے فکر اسلامی اور تجدید
Read moreادب کی دیگر اصناف کی نسبت شاعری کی طرف میرا رجحان کم کم رہا ہے۔ پھر شاعری میں بھی زیادہ تر مجھے غزل کی نسبت نظم سے رغبت ہے۔ بالخصوص علامہ اقبال اور ن م راشد کی نظمیں۔ موجودہ دور کے شاعروں کو کم ہی پڑھا ہے۔ پچھلے دنوں محمد اظہار الحق صاحب کے ایک کالم جو حارث خلیق صاحب کی کتاب ”حیران سر بازار“ پر تھا، زیر مطالعہ ہوا۔ اظہار صاحب نے بہت احسن انداز سے اس کتاب اور
Read moreعصر حاضر کے سب سے اہم نقاد اور دانش ور ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی تحریروں میں ایک بہتر، انسان دوست معاشرے کے قیام کی خواہش جھلکتی ہے۔ انھوں نے پہلی بار اردو میں جدید اور ما بعد جدید تنقیدی نظریات کو مربوط اور منظم انداز میں پیش کیا۔ ما بعد نو آبادیاتی تنقیدی تصورات کو نہ صرف متعارف کروایا بلکہ اپنے معاشرے اور ادب کے حوالے سے نئے مباحث کو جنم دیا۔ ان کی تنقید کا مطالعہ قاری کو
Read moreموضوعات بہت سے ہیں۔ ان میں کچھ لذیذ ہیں اور کچھ لذیذ تر۔ خود نگران وزیراعظم کے انتخاب کا معاملہ ہی ایسا ہے جس پر پہروں گفتگو کی جا سکتی ہے اور وہ بھی تھکے بغیر لیکن میری نگاہ میں باجوڑ کے واقعے کی اہمیت اس سے بڑھ کر ہے۔ جمیعت علمائے اسلام کے کنونشن پر حملہ آور درجنوں کارکنوں کی شہادت ہماری نگاہ میں دہشت گردی ہے اور ایک گروہ کے خیال کے مطابق نیکی۔ نیکی کے لفظ پر
Read moreمیں برسوں سے ادب کا قاری اور فلم، ڈرامے کا ناظر ہوں اور ان کی تلاش میں رہتا ہوں۔ تقریباً روز ہی ایک فلم دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں اور بعض اوقات بہت اچھی فلم دیکھنے کو مل جاتی ہے۔ بس ایسے ہی ”کہ آج کون سی فلم دیکھی جائے“ تلاش کرتے کرتے اچانک نظر پڑی کہ سرمد کھوسٹ نے سینما گھر پہ چلنے والی اپنی ایک فلم کو یوٹیوب پر اپ لوڈ کر دیا ہے۔ حیرت بھی ہوئی اور
Read moreمملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان جنوبی ایشیاء کا ایک ملک جو آبادی کے لحاظ سے دنیا میں پانچویں نمبر پر اور اسلامی دنیا کا دوسرا بڑا ملک جس کی آبادی 2023 کی مردم شماری کے مطابق 24.5 کروڑ ہے۔ اس کے مغرب میں ایران، شمال مغرب و مغرب میں افغانستان، شمال مشرق میں چین اور مشرق و جنوب مشرق میں انڈیا واقع ہیں۔ اس کے جنوب میں بحیرہ عرب ہے۔ آئیے، آج اس کے ارتقائی سفر پر ایک نظر ڈالتے
Read moreخالد سعید، دس مارچ انیس سو سینتالیس کو ملتان میں پیدا ہوا۔ اُس نے گورنمنٹ پائلٹ ہائی سکول ملتان سے میٹرک، اور ایمرسن کالج ملتان سے ایف۔اے کیا اور مزید تعلیم کے حصول کے لیے گورنمنٹ کالج لاہور چلا گیا، جہاں اُس نے پہلے گریجوایشن، اور پھر نفسیات میں ماسٹرز کیا۔ اُس کی شخصیت کی طرح اُس کا تعلیمی ریکارڈ بھی کافی متنوع اور کثیر الجہت ہے۔ اُس نے زندگی کے مفاہیم کھوجنے اور مقامی دانش تک رسائی کے لیے
Read moreپلوشہ نہا دھو کر اور تیار ہو کے صوفے پر بیٹھی اپنے موبائل پر کچھ دیکھ رہی تھی جب اس نے محسوس کیا کہ روشن داد جاگ گیا ہے۔ وہ فوراً اٹھ کر اس کے پاس پہنچی۔ اس کے ماتھے پر ’صبح بخیر‘ کہتے ہوئے ایک بوسہ ثبت کیا اور بولی ”اب اگر آپ بیدار ہو ہی گئے ہیں تو ذرا واش روم کا رخ کیجئے“ ۔ روشن داد اٹھ کر بیٹھ گیا اور پلوشہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے
Read moreکسی بھی ریاست کے باشندوں کے بنیادی حقوق میں یہ شامل ہے کہ ان کے بچوں کو مفت تعلیم میسر ہو۔ صحت کی سہولیات حاصل ہوں اور انصاف کی اسے فکر نہ ہو۔ جب کسی ریاست میں تمام شہریوں کو یہ سہولیات یکساں میسر ہوتی ہیں تو وہ بخوشی اپنا فرض اولیں سمجھ کر ٹیکس ادا کرتے ہیں تاکہ سہولیات کا یہ تسلسل برقرار رہے۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ ریاست ہماری ماں ہے اور ماں کبھی مشکل میں اپنی
Read moreمملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان جنوبی ایشیاء کا ایک ملک جو آبادی کے لحاظ سے دنیا میں پانچویں نمبر پر اور اسلامی دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ جس کی آبادی 2023 کی مردم شماری کے مطابق 24.5 کروڑ ہے۔ اس کے مغرب میں ایران، شمال مغرب و مغرب میں افغانستان، شمال مشرق میں چین اور مشرق و جنوب مشرق میں انڈیا واقع ہیں۔ اس کے جنوب میں بحیرہ عرب ہے۔ آج اس کے ارتقائی سفر پر نظر ڈالتے ہیں۔
Read moreتخلیق، تحقیق اور تنقید انسانی فطرت کا خاصا ہے۔ روز اول سے قدرت نے انسان کے اندر تجسس کی روح پھونک دی ہے۔ وہ خدا، کائنات اور حسن و جمال سے متاثر ہو کر لکھتا ہے۔ اس امر کے ساتھ ساتھ اس کی فطرت میں علم و ادب، اقدار و روایات، رسم و رواج، تہذیب و تمدن اور فنون لطیفہ جیسے موضوعات پر قلم اٹھانا اس کے ادبی مشاغل میں شامل کر دیا ہے۔ وہ حالات و واقعات پر کڑی
Read moreروبینہ فیصل کا ناول نارسائی ایک نا آسودہ عورت کے جلتے بجھتے جذبات کی ایسی داستان ہے جو کہیں جذب ہی نہیں ہو پاتی؛ نہ دلوں میں، نہ سماج میں، نہ ہی خدا کی نادیدہ، نا رسیدہ نگری میں۔ یہ کہانی ہمیشہ ہوا میں ہی معلق رہی، کسی بدروح کی طرح۔ قرن ہا قرن سے دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ عورت اپنی نا آسودگی مٹانے کی خواہش میں جو رستہ چنے گی، بھٹک جائے گی؛ اس راہ میں جو
Read moreامریکہ کی ریاست منیسوٹا میں ایک اندازے کے مطابق دس ہزار جھیلیں ہیں اور میرا عارضی قیام آج کل اس جھیلوں کی سرزمین میں ایک پندرہ ہزار نفوس کی آبادی والے شہر میں ہے جہاں میں لوکم ڈاکٹر کی حیثیت سے کام کر رہی ہوں۔ اکثر ان دور دراز علاقوں میں جہاں میڈیکل سٹاف کو مستقل طور پر لانا مشکل ہوتا ہے ہم جیسے لوکم عارضی طور پر آتے جاتے رہتے ہیں اور اس خلا کو پورا کرتے ہیں۔ بڑے
Read moreہم نوع انسان صدیوں سے بندر تماشا دیکھتے آ رہے ہیں اور کچھ نہ کچھ حد تک اس بندر تماشے سے لطف اندوز بھی ہوتے آ رہے ہیں۔ اس بندر تماشے میں مداری بندر کو نچوا کر اپنے پیٹ کی بھوک ختم کرتا ہے۔ سارے تماشائی لطف اندوز ہوتے ہیں اور بندر بچارے کو زندہ رہنے کے لئے جو خوراک چاہیے وہ مل جاتی ہے۔ خیر یہ بندر تماشا تو صدیوں سے چلتا آ رہا ہے۔ اس طرح کا بندر
Read moreمیں حارث خلیق کے شعری مجموعے ” حیراں سر ِ بازار” کو پڑھ کر ، یہاں کچھ کہنے کو اپنے خیالات مجتمع کر رہا تھا کہ دھیان میر صاحب کے دیوان دوم کے ایک شعر کی طرف چلا گیا۔ لیجئے وہ شعر عرض کیے دیتا ہوں۔ دھیان اس شعر کی طرف کیوں گیا یہ آگے چل کر بتاؤں گا ۔ ہاں تو خدائے سخن کا کہنا تھا: ڈوبا لوہو میں پڑا تھا ہمگی پیکر میر یہ نہ جانا کہ لگی
Read moreڈاکٹر عمیر منظر اپنی تصنیف و تالیف سے مستقل اپنے قارئین کو حیران کیے رہتے ہیں۔ ”راجندر رمنچندہ بانی“ ، ”باتیں سخن کی“ ، ”رشید حسن خاں (کلام غالب شارح)“ جیسی تخلیقی و تحقیقی کتابوں کے بعد ابھی حال ہی میں انھوں نے اپنے دادا جان کی سفر حج پر مشتمل یاد داشتوں کو جمع کر کے ”حاجی نذیر احمد کے سفر حج کی مختصر روداد“ کے نام سے شائع کیا ہے۔ تقریباً نوے صفحات پر مشتمل یہ کتاب ان
Read moreجاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر اگست 1945 میں ایٹم بم گرانے کے بعد جب امریکی صدر ٹرومین نے ایٹم بم کے خالق سائنسدان رابرٹ اوپن ہائمر کو بلا کر بڑے فخر سے مبارکبادی تو اوپن ہائمر نے احساس ندامت سے کہا مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میرے ہاتھوں پر خون ہو۔ صدر ٹرومین نے اپنی جیب سے رومال نکال کر اوپن ہائمر کو دیا اور کہا، اس رومال سے اپنے ہاتھ کا خون صاف کر لیں۔
Read moreہمارے تعلیمی اداروں میں سوال کرنے سے زیادہ جواب دینے کی صلاحیت کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ اساتذہ سوال کرنے والے طالب علم کے مقابلے میں جواب دینے والے طالب علم کو زیادہ ذہین اور قابل تصور کرتے ہیں۔ یہ رویہ صرف نرسری اور پرائمری اسکولوں کے اساتذہ تک محدود نہیں بلکہ یہ ہمیں اعلی تعلیمی اداروں کے مدرسین کے یہاں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اسکول میں پڑھانے والے اساتذہ عام طور پر زیادہ سوال کرنے والے بچے کو
Read moreپدر سری نظام چوں کہ اس بات سے بہ خوبی واقف تھا کہ تاریخ میں عورت نہ صرف مرد کے ہم پلہ رہی ہے بلکہ خاندان اور قبیلہ کی سربراہ بھی رہ چکی ہے۔ لہٰذا پدرانہ معاشروں نے نہ صرف اپنے نوزائیدہ وجود کو برقرار رکھنے بلکہ اسے دوام بخشنے کے لیے اس بات کا خاص خیال رکھا کہ عورت کو سماجی، معاشی اور سیاسی یعنی ہر سطح پر غیر موثر کر دیا جائے۔ ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق یونان
Read moreایشیائی شاعری کی دنیا میں واعظ ’شیخ‘ زاہد کے علاوہ ناصح سے بڑھ کر گالیاں شاید ہی کسی نے کھائی ہوں۔ بڑے سے بڑے شاعر نے بھی ان حضرات کی دل کھول کر ہجو اڑائی۔ حضرت امیر مینائی فرماتے ہیں باتیں ناصح کی سنیں یار کے نظارے کیے آنکھیں جنت میں رہیں کان جہنم میں رہے راقم اکثر یہ سوچتا تھا کہ شاعروں نے نصیحت کرنے والے کو برا کہا اور ان پے اتنا طنز کیوں کیا۔ بہاولپور یونیورسٹی کے
Read moreماریہ مہوش سے میری شناسائی اتنی پرانی نہیں بلکہ پہلا تعارف کرونا کے دوران، حلقہ ارباب ذوق کراچی کے آن لائن اجلاسوں سے ہوا۔ وہ ان اجلاسوں میں جس شوق اور جذبے سے شریک ہوتی تھیں، وہ قابل داد تھا۔ کبھی پروگرام کی نظامت کے فرائض انجام دیتیں، کبھی اپنی سحر کن آواز میں نظمیں سناتیں اور کبھی دیگر تخلیق کاروں کی تخلیقات پر ناقدانہ گفتگو کرتیں۔ بہت بعد میں معلوم ہوا کہ انھوں نے فلسفے میں ماسٹر کر رکھا
Read moreادبی تقریبات کا مقصد لوگوں کو ادب اور ادبی سرگرمیوں سے جوڑنا اور ادب کو عملی زندگی کے لئے مشعل راہ بنانا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں باقی جملہ معاملات کی طرح ادبی تقریبات بھی بے ادبی کا شکار ہو چکی ہیں۔ قومی مزاج کے عین مطابق یہ محفلیں بھی وقت مقررہ پر آغاز و اختتام کی سعادت سے محروم رہتی ہیں۔ ان کے انعقاد کا انحصار آپسی اثر و رسوخ اور ستائش باہمی کے بنا ممکن نہیں ہوتا۔ حقیقی ادب
Read moreشمس الرحمن فاروقی کو میں ایک مجتہد نقاد مانتا ہوں۔ ان کے کام کی کئی جہتیں ہیں۔ چار ضخیم جلدوں پر مشتمل ”شعر شور انگیز“ کی صورت میں انہوں نے جو کارنامہ سر انجام دیا، یہاں اس کی طرف آپ کی توجہ چاہیے اور ساتھ ہی یہ سوال بھی کرنا چاہوں گا کہ یہ تفہیم میر کے باب میں اجتہادی کام نہیں تو اور کیا ہے؟ فاروقی صاحب کے ناقدین نے تفہیم میر کے مقابلے میں ”تفہیم غالب“ کا مختصر
Read moreآپ نے اپنے آپس پاس یا سوشل میڈیا پر ایسے لوگ ضرور دیکھے ہوں گے جن کی سوچ ایک ہی موضوع پر طے شدہ اور غیر تبدیل پذیر یعنی سکت و جامد ہے۔ وہ ہر وقت یا تو بڑے ہی جارحانہ انداز سے مذہب کو نشانہ بناتے نظر آتے ہیں یا پھر ہر وقت فوج پر جملے کستے دکھائی دیں گے۔ کئی لوگ اس کا الٹ بھی کرتے ہیں یعنی مذہب اور فوج کی حمایت میں شدت پسند ہوتے ہیں۔
Read moreشہزاد احمد نے 16 اپریل 1932 کو مشرقی پنجاب کے مشہور تجارتی اور ادبی شہر امرتسر کے ایک ممتاز خاندان کے فرد ڈاکٹر حافظ بشیر کے گھرانے میں جنم لیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے 1952 میں نفسیات اور 1955 میں فلسفے میں پوسٹ گریجویشن کی اور تعلیم و تدریس سے وابستہ ہو گئے۔ ”صدف“ 1958 میں ان کی غزلوں کا پہلا مجموعہ شائع ہوا۔ ان غزلوں کے مجموعے ”جلتی بجھتی انکھیں“ 1969 پر انہیں آدم جی ادبی انعام دیا گیا۔
Read moreسیما حیدر کا تعلق سندھ سے ہے۔ وہ ایک شادی شدہ عورت ہے کو اپنے چار بچوں کے ساتھ سرحد پار بھارت جا کر اپنے پریمی سچن سے جاکر ملی ہے۔ سیما کے اس عمل کو بہت سارے لوگ سراہ رہے ہیں، جب کہ کچھ لوگ اس بات کے خلاف ہیں کہ سیما کو ایسی بے وقوفانہ حرکت نہیں کرنی چاہیے تھی۔ اب محبت اور فیمنزم کے حوالے سے بہت سارے ایسے سوالات ہیں جن سوالات کے جواب کے لئے
Read moreکیا سائنس اور مذہب ایک دوسرے سے متصادم ہیں؟ اس سوال کو سنتے ہی دماغ میں گلیلیو کی تصویر آجاتی ہے۔ ایک طرف تنہا اور بے بس سائنسدان اور دوسری طرف چرچ کے عمائدین جنہوں نے زبردستی اس سے یہ اقرار کروا کر ہی دم لیا کہ سورج زمین کے گرد گھوم رہا ہے۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ ایک وقت تھا جب دنیا کے ذہنوں پر مذہب کی اجارہ داری تھی۔ پھر سائنس کی ترقی کے ساتھ انسانوں
Read more1928 ء کے اواخر میں جب لاہور کے مشہور نشری ادارے ”دارالاشاعت پنجاب“ سے منسلک ہوا تو اس وقت میری عمر اٹھارہ انیس برس سے زیادہ نہ ہوگی۔ اس ادارے کے ایک اہم رکن سید امتیاز علی تاج تھے جن کا شمار ملک کے ممتاز ادبا میں ہوتا تھا۔ ان کی شخصیت بڑی جاذب نظر تھی، انہوں نے ڈرامہ ”انارکلی“ لکھا تھا جس کی شہرت اس کی اشاعت سے قبل ہی دور دور پھیل گئی تھی اور لوگ اس ڈرامے
Read moreشیخ ایاز نے تمام منفی قوتوں کو للکارنے کی تحریک کی صورت اختیار کر لی اور نتیجے میں سنہ 1962 سے لے کر سنہ 1964 تک ان کی شاعری کے تین مجموعوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔
Read moreپاکستان میں ایک انفوٹینمنٹ چینل ڈسکور پاکستان نے حال ہی میں ٹی وی پر ایک ٹاک شو کیا جس کے بارے میں ان کا دعوی ہے کہ اس میں اینکر اور مہمان تمام اے آئی ماڈلز ہیں یعنی حقیقی انسانی کی کمپیوٹر سے بنی شکل اور آواز ہیں۔
Read moreجو نام اپنے مقام و مرتبے کی لاج رکھتا ہے۔ اس کے تفسیری رنگوں کی پہچان آسان ہو جاتی ہے۔ فطرت میں ادب کا روگ پالنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ کیونکہ روح و بدن جلائے بغیر تخلیق جنم نہیں لیتی۔ جیسے فلک پر کہکشاؤں کے جھرمٹ نظر آتے ہیں۔ اسی طرح زمین پر علم و ادب کے لاکھوں ستارے اپنی روشنی بکھیرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے قلب و ذہن میں علم و ادب کا نہ ختم ہونے والا
Read moreہپاکن سے تغافری ”تغافری“، راکاپوشی بیس کیمپ کا مقامی نام ہے جسے سن کے مجھے کوہ قاف کے کسی پہاڑی درے کا گمان ہوا۔ دور دراز کے علاقوں میں مقامی نام بھی کتنے منفرد، پیارے اور یادگار ہوتے ہیں ناں۔ ہپاکن سے تغافری کا ٹریک لگ بھگ دو سوا دو گھنٹوں کا ہے جس میں پہلے ایک شدید چڑھائی ہے، پھر کچھ ہموار و پتھریلا میدان ہے اور آخر میں درمیانے درجے کی ایک اور چڑھائی ہے۔ پورا ٹریک درختوں
Read moreتنہائی کیا ہوتی ہے اور تنہا ہونا کیا ہوتا ہے اس کے متعلق آئے دن لوگ خیالات کا اظہار تحریر، تقریر اور شاعری کی صورت کرتے ہیں۔ کوئی اسے نعمت تو کوئی زحمت کہہ کر آگے بڑھ جاتا ہے تو کوئی اسے ایسا بھوت قرار دیتا ہے جو آدمیت سے انسانیت چھین کر اسے وحشت کا پیراہن عطا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہر کوئی اپنے تجربے یا مشاہدے کی بنیاد پر اس لفظ کو نئے معنی پہنانے کی کوشش
Read moreآج سے نو ماہ پیشتر ایک شام نروانا ریسٹورنٹ کے لذیذ اور پر تکلف ڈنر کے دوران میں نے حامد یزدانی کو بتایا کہ میں نے اپنے شاعر چچا عارف عبدالمتین سے دانائی کے بہت سے راز سیکھے ہیں اور میرا ان سے محبت اور عقیدت کا ایسا رشتہ ہے کہ آج بھی میرے فون کی آنسرنگ مشین پر درویش کے میسیج میں ان کا یہ شعر سنائی دیتا ہے جب کبھی آتے ہیں میرے پاس آپ میں نکل جاتا
Read moreشیکسپئر کے یہ جملے اب کلیشے کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں کہ دنیا ایک سٹیج ہے۔ سب اپنا کردار نبھاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ عموماً ایسا ہی ہوتا ہے۔ مگر وہ زندگی ہی کیا جو اپنی سفاکیت سے قدم قدم پہ حیران نہ کرے۔ برسوں پہلے ایک کردار اپنے اوپر خاتمے کی مہر لگا کر خاک کا پیوند ہوا۔ اب تک تو شاید اس کی ہڈیاں بھی گل سڑ چکی ہوں مگر ہم انسانوں کو معاف کرنے کی
Read moreمحمد حسن عسکری اپنے ایک مضمون ”مزے دار شاعر“ میں لکھتے ہیں کہ میر تقی میر کے یہاں جو مشکلیں پیدا ہوتی ہیں اُن کی وجہ صرف یہ نہیں ہے کہ ان کی شخصیت اوروں سے زیادہ پیچیدہ اور پہلو دار تھی، بلکہ وہ اپنی شخصیت پر مسلسل خلاقانہ عمل کے ذریعے متضاد عناصر گھلا ملا کر ایک نئی چیز پیدا کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے میر صاحب کے باطن میں جاری جدلیاتی عمل کی وضاحت کے لیے جس شعر
Read moreپروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار کی پاکستان آمد ذاتی طور پر میرے لیے تو خوشی کا باعث ہوتی ہی ہے، میرے وطن میں بھی ان کے آنے سے بہار آ جاتی ہے۔ مجھے اسی بہار کی کچھ جھلکیاں پیش کرنی ہیں لیکن ایک اور معاملہ مجھے متوجہ کر رہا ہے جو فوری نوعیت کا ہے۔ لاہور کے ایم اے او کالج کی تاریخ بڑی شان دار اور رنگا رنگ ہے۔ کچھ ذاتی یادیں بھی تاریخی ادارے سے وابستہ ہیں لیکن اس
Read moreکتابیں انسان کے لیے اتنی ہی ناگزیر ہیں جتنا کہ سانس لینا، بغیر کتابوں کے انسان کا دماغ تو رہتا ہے لیکن اس میں کوئی ڈھنگ کی سوچ نہیں رہتی۔ کتاب خوانی کے سلسلے میں کبھی کبھی ایسی کتابیں بھی آپ کے سامنے آجاتی ہیں جو آپ کی زندگی پر اپنے گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں اور آپ کافی دیر تک بس یہی سوچتے رہتے ہیں کہ کیا کوئی ایسا بھی لکھ سکتا ہے؟ ادب کی دنیا میں عبدالرزاق گرناہ
Read moreٹیرس پر لال چھتری کے نیچے دھوپ سینکتی، سستاتی ہوئی صبح۔ ایک نسبتاً خالی دن کا آغاز ہوتا ہے۔ ہم سفر دوپہر تک پہنچیں گے اور کچھ شام کو ۔ اس شہر میں پچھلا سفر ٹھیک ایک سال پہلے کیا تھا۔ یومِ جمہوریہ کی چھٹیوں کے یہی دن جب سین دریا کے علاوہ پورا شہر سستا رہا ہے کہاں جائیں؟ پیرس کی جو تصویر میرے ذہن میں تھی وہ اُردو سفر ناموں، انگریزی فلموں اور اخباری خبروں سے کشید کی
Read moreجیم فے غوری ممتاز سینئر شاعر (سات شعری مجموعہ ہائے کلام کے خالق) ، نقاد، ادیب او ر صحافی ہیں۔ عرصۂ دراز سے دیارِغیر میں مقیم ہیں اور مختلف پلیٹ فارمز خصوصاً ساکواہ (SACWA) اور سامواہ (SAMWA) سے اُردو ادب کی ترقی و ترویج کے لئے سرگرمِ عمل ہیں۔ ادبی اور صحافتی حلقوں میں آپ ایک معتبر پہچان کی حامل شخصیت ہیں۔ موصوف کو ہمہ جہت شخصیت کہنا اس طور مناسب ہو گا کہ وہ اپنی منفرد شعری اسلوب کے
Read moreکل شام آرٹس کونسل کی لابی میں، نیلگوں دھویں کے مرغولوں کے درمیان جو دراز گیسو شخص کاما سترا کے سیاق و سباق پر روشنی ڈال رہا تھا، آج دُپہر اپنی سوشل میڈیا وال پر نو جوان نسل کو اخلاقیات کا درس دیتے ہوئے نظر آیا۔ رات برسات اتری، تو وہ ایک عاشق بن گیا، اور صبح دھوپ پھیلی، تو ایک مبلغ۔ یہ ظفر عمران کا تذکرہ ہے۔ مگر ظفر عمران کون ہے؟ ایک فکشن نویس یا ایک ڈراما نگار؟
Read moreجاتے ہیں بؔرق تابع فرمان یار ہیں۔ وہ صبح کو بلائیں تو کیوں دو پہر کریں بر صغیر کے مختلف شہر، قصبے، گاؤں وغیرہ ایام محرم میں عزاداری کے لیے مشہور و معروف ہیں۔ اسی طرح صوبہ بہار میں بھی کچھ مقامات ایسے ہیں جنہیں عزاداری کے سلسلے میں امتیاز حاصل ہے۔ صوبے کا دارالحکومت پٹنہ (عظیم آباد) ہے جہاں محرم کی ایک منفرد شان ہے۔ اودھ اخبار، مورخہ 23 فروری 1875 عیسوی، میں پٹنہ کی عزاداری کے سلسلے میں
Read moreمغربی دنیا میں کام سوتر نامی کتاب کو ‘شہوانی ادب’ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اور آج انڈیا میں بھی بہت سے لوگ ‘کام سوتر’ کو جسمانی تعلقات کو بیان کرنے والے متن کے طور پر دیکھتے ہیں۔
Read moreانسانی ذہن نے ارتقاء کے ہر مرحلے کی تکمیل پر حقیقت کا مطلق ادراک کرنے میں اپنے آپ کو بے بس پایا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو شاید یہ ہے کہ اب تک ذہن یا اسے فہمِ محض کا نام دے لیجے، اس بات کا فیصلہ بھی نہیں کر پایا کہ ‘کیا حقیقت مطلق ہے؟’ اس سے بھی بنیادی الجھن یہ کہ ‘کیا حقیقت واقعی وجود رکھتی ہے یا محض یہ ایک بہلاوا ہے!’ دوسری وجہ یہ کہ ہر
Read more"توصیف تبسم نے کلاسیکل غزل کی روایت پر عصر حاضر کے نئے اور بیدار شعور کو شامل کر کے ایسی بھرپور غزل کہی ہے جس میں میرو غالب سے ناصر و شکیب کی مثبت روایات کا نچوڑ بھی ہے اور ان روایات سے آگے بڑھ کر سوچنے کی حوصلہ مندی بھی۔ ” (احمد ندیم قاسمی) پاکستان کی اردو ادب کی تاریخ میں سے اگر ہندوستان کے شہری علاقوں سے ہجرت کر کے آنے والے ادباء اور شعرا ء کو نکال
Read moreکٹی ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجد مری قبر پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول اس کی تب سنی گئی جب اس کو سننے والا کوئی نہ رہا۔ ریڈیو پاکستان کے ساتھ بھی یہی المیہ رہا۔ جب تک زندہ رہا، آل انڈیا ریڈیو کی شفقت کا مرہون منت رہا۔ کہیں آل انڈیا ریڈیو کے سگنل کمزور ہوئے تو ریڈیو پاکستان کی سسکتی آواز ابھر آئی اور ٹڑاں ٹڑاں کے شور میں اسلام آباد اسٹیشن کی آواز سنائی دی۔ ہم
Read moreسیاست میں ادب سے رجوع کا حوالہ آج سے نہیں۔ گزرے وقتوں علم سے واقفیت رکھنے والے جید حضرات میدان سیاست میں اترتے رہے۔ اسی طرح قانون اور معیشت کی جانکاری بھی ان اصحاب کے لئے ضروری رہی ہے۔ سیاستدان کا مخاطب ہر طبقے سے تعلق رکھنے والا ہوتا ہے اس لئے اپنے بیان میں استعمال زبان کا خیال بھی کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں عموماً اور ہمارے ہاں خصوصاً کسی ادارے سے فارغ التحصیل یا سند یافتہ افراد
Read moreجنرل مشرف کا استقبال دل و جان سے ہوا تھا۔ امریکی اتحادی بننے پر بھی کوئی خاص مزاحمت نہ ہوئی۔ جلد ہی مگر اتحادیوں کے مابین اعتماد کا رشتہ کمزور پڑنے لگا تو وطن عزیز میں اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت نے ایک وبا کی صورت اختیار کر لی۔ اکیسویں صدی کا دوسرا عشرہ طلوع ہوا تو بداعتمادی عروج پر تھی۔ اسی دور میں بھارت کے اندر سرکاری سرپرستی میں فیک نیوز نیٹ ورک کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مغربی دارالحکومتوں
Read moreمحمد حمید شاہد، یہ نام ادب کی دنیا میں یقیناً بہت پرانا ہے، نقاد بھی ہیں۔ مجھے ان کے نام اور کام سے واقف ہونے میں بڑا وقت لگا۔ بڑی مدت۔ مطالعے کا شوق رکھتے ہوئے، محمد حمید شاہد صاحب کے نام سے انجان رہنا ایک اپنی طرز میں نقصان تو ہے نہ! پہلی بار، ان کے نام سے واقفیت ہوئی جب ان کا ایک ناول ”مٹی آدم کھاتی ہے“ دیکھا۔ بک کارنر کے پورٹل پر۔ کتاب کا سرورق اتنا
Read moreسعدی و حافظ کے مسکن کو نہ دیکھا تو ایران میں کیا دیکھا، سو شیراز کی راہ لی۔ لاری اڈہ شہر سے باہر کوہ صفا کے دامن میں تھا۔ کوہ صفا پہ رات کو چوٹی تک ہری بتیوں سے روشن رکھا گیا تھا۔ اندھیروں کو روشن رکھنا، پابندیوں میں خود کو قائم رکھنا۔ ہونے اور رکھنے کا فرق ایرانی قوم نے سمجھ رکھا ہے شاید۔ ڈرائیور نے اڈے میں بس سروس والوں کے حوالے کیا کہ زبان نا آشنائی کسی
Read moreکسی نجی ٹیلی ویژن پر پاکستان کی موجودہ معاشی سماجی اور سیاسی صورتحال پر معروف صحافی اور دانشور حسن نثار صاحب نے اپنے مخصوص جوشیلے اور شاعرانہ انداز میں روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کا اصل المیہ یہ ہے کہ ”ہمارے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود کچھ بھی نہیں ہے۔ دعا ہے قبولیت نہیں، غذا ہے لیکن خالص نہیں، دوا ہے لیکن جعلی ہے اور اس میں اثر نہیں، مرض ہے لیکن علاج نہیں، عدالت ہے لیکن
Read moreشاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال کا نوجوانوں کے متعلق ایک شعر ہے۔ محبت مجھے ان جوانوں سے ہے ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند نوجوان کسی بھی خاندان، قوم، معاشرے اور ملت کا وہ ستارہ ہوتا ہے جو تاریکی میں چمک کر راہ کو روشن بنا دیتا ہے۔ اگر اس بات کا فکری تنوع میں جانا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شاعر مشرق نوجوانوں سے محبت رکھتے تھے۔ وہ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ ایک نوجوان قوم
Read moreمولانا رومیؒ فرماتے ہیں کہ ( 30 ) سچا صوفی ایسا فرد ہے کہ اگر اس پر کوئی ناحق تہمت لگائے اور ہر سمت سے ملامت کی بوچھاڑ ہو، تب بھی وہ صبر کے ساتھ یہ سب جھیلتا ہے، تنقید کرنے والوں کے خلاف ایک لفظ منہ سے نہیں نکالتا۔ وہ الزام کے جواب میں الزام نہیں لگاتا، کوئی اس کا مخالف اور دشمن حتیٰ کہ ”غیر“ ہو بھی کیسے سکتا ہے جب اس کے نزدیک کسی غیر کا کوئی
Read moreچہ لازم با خِرَد ھم خانہ بُودَن دو روزے می تواں دیوانہ بُودَن بیدل شکستہ مرد جب خامشی کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے تو وہ ہر چیز سے کنارہ کشی اختیار کرلیتا ہے اور اس میں اولین چیز کسی سے مخاطب ہونا ہے دوسری تمام فانی خواہشات سے آزاد ہونا جب کوئی اس مقام پر پہنچتا ہے اس کو زندگی اور موت کے درمیان دم توڑتی ہوئی اور تھکی ہوئی سانس ہوا کے سوا کچھ نہیں لگتی دانا لوگ کہتے
Read moreبلوچی زبان و ادب کی تاریخ یوں تو بڑی قدیم ہے تاہم بلوچی میں افسانہ نگاری کا آغاز ترقی پسند تحریک کے نتیجے میں ہوا، اسکے متعلق نامور بلوچ دانشور و محقق عبداللہ جمالدینی رقم طراز ہیں ” بلوچی میں افسانہ نگاری کا آغاز تراجم سے ہوا، انگریزی اور روسی افسانہ نگاروں کے تخلیقات کے تراجم بلوچی میں کئے گئے اور پھر اسکے بعد طبع زاد افسانے سامنے آئے .” بلوچی زبان کے ادب کو تین ادوار میں تقسیم کیا
Read moreپہلی جنگ عظیم کے بعد معاہدہ ورسیلیز پر اس وقت کی بڑی یورپی طاقتوں نے دستخط کیے جس کے تحت جرمنی کو جنگ کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے بھاری جرمانہ کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ اس کے کچھ حصوں کو علیحدہ کر دیا گیا، جرمن فوج اور ہتھیاروں میں اضافے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ اس بھاری جرمانے کی وجہ سے جرمنی پر بہت برا وقت آ گیا۔ نہ صرف یورپ میں جرمنی کے وقار کو
Read moreاس وقت مملکت خداداد پاکستان میں مختلف موقر اداروں کی عزت اور تکریم کی حفاظت کے لیے مختلف قوانین ہیں۔ ان میں سے کچھ پہلے سے موجود تھے اور کچھ حال ہی میں بنائے گئے ہیں۔ چونکہ میں ایک قانون پسند شہری ہوں لہذا آج کے بعد میری تحریریں مندرجہ ذیل خطوط پر ہوں گی۔ 1۔ توہین عدالت کا قانون پاکستان میں عدلیہ کا ماضی شاندار روایات سے مزین ہے۔ ملک میں سیاسی استحکام اور عام آدمی کو جلد اور
Read moreاکیسویں صدی نے ملک، دنیا اور معاشرے کو بہت تیزی سے بدل دیا ہے۔ رہن سہن، کھانا پینا، نیز زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں چھوڑا جس میں منفی یا مثبت انقلاب برپا نہ ہو گیا ہو۔ آج کا بچہ آپ کے اور ہمارے دور اطفال اور اس بچپن سے بالکل مختلف ہے جو ہماری یادوں اور لا شعور میں بسا ہوا ہے۔ بلاشبہ وقت ہمیشہ بدلتا رہا ہے اور بدلنا بھی چاہیے لیکن گزشتہ دو تین دہائیوں میں زمانہ
Read moreاخباری کالم تحریر کی دنیا کا عجیب الخلقت بچہ ہے۔ عبدالمجید سالک اور چراغ حسن حسرت کے قلم کی بدولت کتم عدم سے عالم ہست میں نمود ہوئی لیکن اسے صنف ادب نہیں کہہ سکتے۔ جو گرا پڑا ادیب کہیں بقیة السیف سانس لیتا ہے وہ اسے ادب قرار دینے پر بھڑک اٹھے گا اور صنف کی اصطلاح پر کشور ناہید نے کلیم داخل کر رکھا ہے۔ خدا خدا کر کے تانیثی ادب تک آئی ہیں ورنہ بھلے وقتوں میں
Read moreدوئیت کے انکار کو anti dualism یا non binarism بھی کہتے ہیں۔ جیسے وحدۃ الوجود کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ دنیا کے وجود کوئی الگ چیز نہیں بلکہ ایک مہا وجود (خدائی وجود) کا حصہ ہے۔ خدا کے وجود کے مقابل کوئی دوسرا وجود نہیں۔ اس تصور میں کوئی دوسرا نہیں۔ صرف خدا کے وجود کی دلیل کامل ہے۔ باقی سارے وجود اس کے وجود کی پرچھائیاں ہے۔ تاریخ میں مذاہب کی بنیادی شکلیں دوئیت کے تصور پہ قائم
Read moreسی پی سنو، (Charles Percy Snow) انگلستان سے تعلق رکھنے والے ناول نگار اور سائنس دان ہیں۔ جن کا لیکچر ”دو ثقافتیں“ (Two Cultures) خاصا معروف ہوا اور ان کے معاصرین نے اس پر خاصی تنقید بھی کی۔ وہ کیمبرج یونیورسٹی کے شعبہ طبیعیات میں بیس برس پروفیسر کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کی شہرت بحیثیت ادیب اس وقت سامنے آئی جب انھوں نے 1950 ء میں برطانوی ادیبہ پامیلا بینس فورڈ جانسن سے شادی کر لی۔ سی پی
Read moreانسان کے ماں باپ کی طرح اس کی پیدائش کی سرزمین بھی اس کے ہاتھ میں نہیں ہوتی۔ ہاں زندگی کے میلے میں کس سٹیج پر رقصاں ہونا ہے، اس کی چوائس کئی مرتبہ تقدیر ضرور انسان کے ہاتھ میں دیتی ہے۔ میرے ہاتھ بھی تقدیر نے یہ موقع دیا۔ اپنی سرزمین چاہے ماں جیسی نہیں بھی تھی، میرا انتخاب ٹھہری۔ کپلنگ نے کہا تھا کہ مشرق اور مغرب کی روح ہی جدا ہے۔ شاید روح کی یہی فرکشن مجھے
Read moreڈاکٹر نجیبہ عارف ان چند متاثر کن شخصیات میں سے ہیں، جن سے ہمیں عقیدت و محبت ہے اور جو ہمیشہ ہماری دعاؤں میں شامل رہتی ہیں۔ اللہ پاک ہماری پیاری میڈم کو دین و دنیا میں ہمیشہ ممیز و سرفراز رکھے، آمین! چند ماہ قبل ہم نے میڈم کا تحریر کردہ اپنی نوعیت کا منفرد ناول ”مکھوٹا“ خریدا، میڈم کی تحریر سے عقیدت اور تحریر کی غیرمعمولی ادبیت و جاذبیت کے سبب کم وقت میں قرات مکمل کر لی۔
Read moreثانیہ ہسپتال میں مردہ بچے کو جنم دیتی ہے اور اکیلے ہی اس کی تدفین کر دیتی ہے۔ بچے کی موت پہ اس کا ظاہری اطمینان اس کے اندر موجود درد کے طوفان کی عکاسی کرتا ہے، جب وہ کہتی ہے اگر وہ بچ جاتا تو اس کا زندہ رہنا بڑا مشکل ہوتا۔ زندہ رہنے کے لئے اسے پتہ نہیں کتنی بار مرنا پڑتا۔ یہ جملے ثانیہ کے کرب کی تصویر ہیں اور ان کے مطابق وہ خود زندہ تو
Read moreناصر عباس نیر کا شمار ہمارے عہد کے اہم ترین ناقدین میں ہوتا ہے۔ Literary تھیوری اور مابعد جدیدیت بالخصوص پوسٹ کلونیل ڈسکورس کو اردو میں باقاعدہ متعارف کرانے اور اسے وسیع پیمانے پر مقبول کرنے میں صرف ان کا ہی رول ہے اور کسی کا نہیں۔ ناصر عباس نیر بہت عمدہ افسانہ نگار ہیں اور میں ان کے افسانے ’اوراق‘ کے زمانے سے پڑھتا چلا آ رہا ہوں۔ ابھی حال ہی میں ان کے افسانوں کا مجموعہ ”راکھ سے
Read moreبعض مصنفین اور محققین کے مطابق کافی روشن اور سرمایہ داری کے خیالات کو جنم دینے والے نظریات پر اثرانداز ہوئی۔ لیکن ایتھوپیا میں اگنے والی ایک جھاڑی کے پھل میں دنیا کی دلچسپی کیسے بنی اور کیا اسے باقاعدگی سے پینے کی عادت آپ کی صحت کے لیے اچھی ہے یا بری؟
Read moreجو چیز ہمارے پاس نہیں ہوتی اس کی تمنا سوا ہوا کرتی ہے۔ یہ نارسائی کبھی احساسِ محرومی کو جنم دیتی ہے کبھی احساسِ کم تری کا روپ دھار لیتی ہے۔ یہ معاملہ افراد کو ہی نہیں اقوام کو بھی درپیش ہوا کرتا ہے، اس ضمن میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی مثال دیکھئے۔ اس ملک کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے مگر تاریخ نہیں ہے، بہت ہی ننھی منی تاریخ ہے، یعنی اگر کولمبس سے آغاز کیا
Read moreسٹاک ہوم میں دوبارہ قرآن کی بے حرمتی پرعراقی وزیراعظم محمد شياع السودانی نےسویڈن سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم اور اپنا سفیر واپس بلا لیا۔عراق میں ٹیلیکام کمپنی ایریکسن سمیت سویڈن کی دیگر کمپنیوں کا کاروبارمعطل کردیا۔سویڈن کے وزیر خارجہ توبياس بلسترم نےعراق میں سفارتخانے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسےویانا کنونشن کے خلاف اور ناقابل قبول قرار دیا۔7 یہ سفارتی تنازع اس لیے کشیدگی اختیار کرگیا کہ عراق کے ایک مسیحی تارکِ وطن کو سویڈن پولیس نے
Read moreصبح آٹھ بجے سے دو بجے تک کلاسیں پڑھانے کے بعد تھک ہار کر گھر آتا ہوں۔ گھر میں آدھا گھنٹہ گزار کر اپنی دکان پر آتا ہوں۔ آپ چھلت مین بازار سے سونی کوٹ روڈ پر پچاس قدم چلیں تو گلی کے نکڑ پر میری سٹیشنری کی چھوٹی سی دکان ہے ’جہاں میں رات کے ساڑھے نو بجے تک رہتا ہوں۔ دکان پر اکثر میرے استاد محترم حیدر خان حیدرؔ بھی تشریف لاتے ہیں۔ حیدر خان صاحب بیس گریڈ
Read moreسی پی سنو، (Charles Percy Snow) انگلستان سے تعلق رکھنے والے ناول نگار اور سائنس دان ہیں۔ جن کا لیکچر ”دو ثقافتیں“ (Two Cultures) خاصا معروف ہوا اور ان کے معاصرین نے اس پر خاصی تنقید بھی کی۔ وہ کیمبرج یونیورسٹی کے شعبہ طبیعیات میں بیس برس پروفیسر کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کی شہرت بحیثیت ادیب اس وقت سامنے آئی جب انھوں نے 1950 ء میں برطانوی ادیبہ پامیلا بینس فورڈ جانسن سے شادی کر لی۔ سی پی
Read moreجیسے کوئی اپنے دھیان میں چل رہا ہو۔ ادھر ادھر سے بے نیاز اور اچانک روشنی کا جھپاکا ہو اور وہ کچھ دیر کے لیے ہک دک دیکھتا رہ جائے ؛ تو یوں ہے کہ اشفاق ناصر سے میرا تعارف بھی ان جھپاکوں میں ہوتا رہا ہے۔ پہلی بار چنیوٹ جاتے ہوئے، سفر کے دوران۔ ہمیں شکیل جاذب کی کتاب ”نمی دانم“ کی تقریب میں شرکت کے لیے چنیوٹ جانا تھا اور ہمیں کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر اشفاق ناصر
Read moreہم میں اکثریت اس مغالطے میں ہیں کہ انسان تربیت، مکتب، مدرسہ اور عصری علوم کے مراکز سے حاصل کرتا ہے لیکن یہ بات سو فیصد درست نہیں۔ انسان کی تربیت کا پہلا مرکز ماں کی گود ہے۔ ماں کی گود کے بعد ارد گرد کا ماحول انسان کی نوک پلک اور اس کو جلا بخشنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ معاشرے کے تھپیڑے، لوگوں کے مثبت اور منفی رویے انسان کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ
Read moreاس طویل مضمون کے پچھلے حصے میں ہم نے اکیڈیمیا سے متعلق کچھ اعتراضات۔ حصہ اول کے عنوان سے آپ سے بانٹے تھے، لہٰذا اب اسی سے منسلک مگر کچھ تفصیلی اعتراضات پیش خدمت ہیں۔ پچھلے مضمون میں اہل اکیڈیمیا میں فقدان خود بینی پر بحث ہوئی تھی، اس حصے میں ہم رویہ ٔحصول علم پر کچھ بات کریں گے۔ Ritual انگریزی کا ایک ایسا لفظ ہے جس کا اردو ترجمہ ناممکن نہ سہی، مگر مشکل ضرور ہے۔ سب سے
Read moreچلیے بات کرتے ہیں اسلامیہ یونی ورسٹی کی۔ بہت کچھ کہا جا رہا ہے۔ لعن طعن، گالیاں، کس کا قصور؟ کون جابر؟ کون مجبور؟ کون ظالم؟ کون مظلوم؟ کبھی استاد مجرم نظر آتا ہے، کبھی لڑکیاں؟ کیا لڑکیاں کہنا کافی ہو گا؟ کیوں نہ پہلے ہم کچھ بنیادی باتوں پر بات کرنے کی کوشش کریں۔ سب سے پہلا نکتہ ہے طاقت۔ کمزور اور طاقتور کا ٹکراؤ۔ یہ مانا جا چکا ہے کہ جب بھی کمزور اور طاقتور کی جنگ ہو
Read moreپاکستان میں جب ٹیلی ویژن کا اجراء ہوا تو اس نرم و نازک پودے کو سینچنے والوں میں اشفاق احمد کے ہاتھ سب سے فعّال تھے اور 1970 کی دہائی میں جب یہ نوخیز پودا ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر رہا تھا تو اشفاق احمد ایک مسرور و مطمئن باغبان کی طرح اسے پروان چڑھتا دیکھ رہے تھے۔ ٹی وی والوں کے لئے اشفاق صاحب ’ گھر کے آدمی‘ تھے۔ وہ ہماری سب کمزوریوں اور توانائیوں سے واقف
Read moreاس طویل مضمون کے پچھلے حصے میں ہم نے اکیڈیمیا سے متعلق کچھ اعتراضات ۔حصّہ اول کے عنوان سے آپ سے بانٹے تھے، لہٰذا اب اِسی سے منسلک مگر کچھ تفصیلی اعتراضات پیشِ خدمت ہیں۔ پچھلے مضمون میں اہلِ اکیڈیمیا میں فقدانِ خود بینی پر بحث ہوئی تھی، اس حصے میں ہم روّیہ ٔحصولِ علم پر کچھ بات کریں گے۔ Ritual انگریزی کا ایک ایسا لفظ ہے جس کا اردو ترجمہ ناممکن نہ سہی، مگر مشکل ضرور ہے۔ سب سے
Read moreتین ماہ سے سوچ رہا تھا کہ اس موضوع پر کچھ لکھوں۔ دل کہتا تھا کہ لکھو، دماغ کہتا تھا کہ کیا ضرورت ہے؟ کیوں اپنے اپ کو کسی ممکنہ مصیبت میں ڈالتے ہو؟ سوچا دوستوں سے مشورہ کروں لیکن پھر اس خیال کو خود ہی رد کر دیا کہ دوست یقیناً اس معاملے میں اجتناب کا ہی مشورہ دیں گے۔ معاملہ بھی کوئی ایسا سنگین نہیں نہ ہی تحقیق میری اپنی۔ پھر کیوں لکھتے ہو؟ بس دل چاہتا ہے
Read moreرضیہ فصیح احمد اُردو کی نامور ادیب، افسانہ نویس، ناول نگار اور شاعرہ ہیں۔ انہوں نے کئی یادگار اور شہکار کہانیاں تخلیق کیں۔ 1965 میں جب پاکستان میں زیادہ تر ادب تقسیم ہند اور اس کے اثرات کو بیان کر رہا تھا۔ ایسے میں رضیہ آپا نے ایک منفرد موضوع پر قلم اُٹھایا اور ” آبلہ پا ” جیسا شاہکار ناول تخلیق کیا اور آدم جی ادبی ایوارڈ حاصل کیا۔ اس ناول میں مصنفہ نے یہ بیان کیا کہ مزاجوں
Read more28 ستمبر 1907 کو غیر منقسم ہندوستان کے صوبہ پنجاب کے لائل پور ضلع (اب پاکستان کے فیصل آباد) کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہونے والے بھگت سنگھ کا نام تاریخ کی کتابوں میں ہمیشہ کے لئے درج ہے۔ اس اعزاز کی وجہ ہندوستانی آزادی کی جدوجہد میں ان کی گراں قدر خدمات ہیں۔ انہیں 23 مارچ 1931 کو پھانسی دے دی گئی تھی، جب وہ صرف 23 سال کے تھے۔ انقلابی عزم اس خاندان میں ایک روایت
Read moreترجمہ نگاری ایک ایسا فن ہے جس کی حیثیت مسلم ہے اور اس کے بغیر دوسری زبانوں کے علوم و فنون سے آشنائی نہیں ہو سکتی اور اس کے بغیر کوئی بھی زبان جدید اور ترقی پذیر ہونے کا دعوی بھی نہیں کر سکتی۔ ترجمہ ہی وہ فن ہے جس کے ذریعے سے ایک قوم دوسری قوم کے ذخیرۂ علم و ادب سے آشنا ہوتی رہی ہے۔ ادب کسی ایک خاص قوم کی میراث نہیں ہے۔ ہر زبان میں تخلیقیت
Read moreوالدین کی ذہنی صحت : وراثتی عوامل بھی کارفرما ہوسکتے ہیں نیز والدین کے غیر یقینی روئیے مثلاً۔ موڈ ڈس آرڈر، اینزائٹی، ماں کا پوسٹ پارٹم اور مینسٹریشن سے متعلقہ موڈ سونگ (جس دوران عورت میں ہارمون کی وجہ سے حسد اور خود پسندی اور حاکمیت اور جارحیت بڑھ جاتی ہے ) ، بچے تقریباً ہر ماہ ڈپریشن زدہ ماں کے چڑچڑے پن اور جارحیت کو جھیلتے ہیں جس کے نتیجے میں ماں باپ کی چپقلش میدان جنگ بنی رہتی
Read more