فلسطین: تتلی کا بوجھ

درج کرو! میں عرب ہوں اور تم نے میرے اجداد کے باغات چرا لیے ہیں اور وہ زمین بھی جہاں میں اپنے تمام بچوں کے ہمراہ کاشت کاری کیا کرتا تھا، تم نے میرے لیے اور میرے تمام پوتوں کے لیے کچھ بھی باقی نہیں چھوڑا ہے سوائے ان پتھروں کے، تو کیا تمہاری حکومت، جیسا کہ کہا گیا ہے، ان پتھروں کو بھی چھین لے گی؟

Read more

دائیں اور بائیں بازو کی سیاسی فکر کا اتحاد۔ ایک صائب مشورہ

جناب عطا ء الحق قاسمی ایک نامور ادیب، شاعر اور کالم نگار ہیں۔ ان کے کالم باقاعدگی سے ایک مؤقر روزنامہ میں شائع ہوتے ہیں۔ قاسمی صاحب کے پرستاروں کا ایک وسیع حلقہ موجودہ ہے۔ قاسمی صاحب نے گزشتہ دنوں ”جب تاج اچھالے جائیں گے“ اور ”میری دنیا کے غریبوں کو کون جگائے گا“ کے عنوانات سے دو کالم لکھیں ہیں۔ اول الذکر کالم میں انہوں نے پیشہ ور گداگروں سے کالم کا آغاز کرتے ہوئے کالم کا رخ اس

Read more

یعقوب نظامی کا سفرنامہ ”دیکھ میرا کشمیر“

یعقوب نظامی سے میرا غائبانہ تعارف برطانیہ میں مقیم میرے دوست عبدالحفیظ نے کرایا تھا لیکن تین چار دفعہ برطانیہ بلکہ ان کے شہر بریڈ فورڈ جانے کے باوجود ان سے بالمشافہ ملاقات نہ ہو سکی۔ 2015 ء میں ایک مربی نے ان کا سفرنامہ ”پیغمبروں کی سرزمین“ پڑھنے کو دیا۔ سفر نامہ پڑھ کر میں نے انھیں اس سفرنامے کے بارے میں ایک خط لکھا تو خوشگوار حیرت ہوئی جب تین دن بعد ایمیل میں ان کا مفصل جواب

Read more

مغرب میں اردو شاعری۔ پہلی قسط

ڈاکٹر خالد سہیل مشرق سے مغرب کی طرف تیسری دنیا سے پہلی دنیا کی طرف اور پرانے گھر سے نئے گھر کی طرف ہجرت کرنے والوں کے بارے میں، میں نے چند سال پیشتر اپنے خیالات کا ان الفاظ میں اظہار کیا تھا: ’ایک گھر کو چھوڑ کر دوسرا گھر بنانے والوں کے دلوں پر جو بیتتی ہے وہ ان کے دل ہی جانتے ہیں۔ جب انسان ایک ماحول میں پلا بڑھا ہو اور دوسرے معاشرے میں جا بسے تو

Read more

ڈاکٹر توصیف تبسم چلے گئے

محمد احمد جنہیں ہم سب شاعر، استاد اور ادیب ڈاکٹر توصیف تبسم کے نام سے جانتے ہیں پچانویے برس کی بھر پور اور قابل رشک زندگی گزار کے اگلے جہان کو رخصت ہو گئے۔ کہہ لیجیے وہ شخصیت چلی گئی جو ایک تہذیب کی نمائندہ تھا۔ شعر و ادب ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔ جب تک وہ اسلام آباد کے جی نائن کے علاقے میں رہے ملاقات کی صورتیں تواتر سے نکلتی رہتی تھیں پھر وہ ڈی ایچ اے منتقل

Read more

ارنستو سباتو کا ناول ”سرنگ“ :تعارفی مطالعہ

ارنستو سباتو 1911 ء کو ارجنٹینا میں ایک چھوٹے سے گاؤں ”روجاس“ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے ہی ملک سے حاصل کی اور اعلی تعلیم کے سلسلے میں پیرس منتقل ہو گئے۔ وہاں انھوں نے طبعیات کے علم میں دسترس حاصل کی، تحقیق و تدریس اور تخلیق کو زندگی کا مقصد بنایا اور یونیورسٹی میں طبعیات کی پروفیسرشپ پر فائز ہوئے۔ طبعیات کے ساتھ ساتھ سائنس کے دیگر مضامین میں بھی، ان کی معلومات حیرت انگیز تھیں۔

Read more

”انارکلی“ ۔ اردو کا ایک شاہکار ڈرامہ

ادیب کا اخلاقی فرض یہ ہے کہ وہ، اپنے جمالیاتی شعور و ذوق کے ساتھ، فکر کی موزونیت، اسلوب کی نفاست اور تشبیہات کی فنکاری کو ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ، تقدیر کی لعنت اور روحانی جاہ و جلال کی جستجو کے درمیاں الجھے ہوئے انسانوں کی کشمکش، جرات اور دانش مندی کی وضاحت کرتے ہوئے، فن کا لازوال جواز پیش کرتے ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں، ہم سمجھ سکتے ہیں کہ کیوں انارکلی کو اردو کے ایک

Read more

محقق شیخ عزیز کی رقم کی گئی ”سندھ کی محلاتی داستانیں“

”یہ داستانیں، محض کہانیاں نہیں، جو کسی کہانی نویس یا افسانہ نگار کے ذہن کا اختراع ہو یا کسی محروم دماغ کے خوش کن مستقبل کی خواہش کا پرتو ہوں۔ بلکہ یہ کہانیاں وہ واقعات ہیں، جن کو اسی طرح بیان کیا گیا ہے، جس طرح وہ وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ البتہ ماضی کے داستان گو اساتذہ کی طرح ان واقعات میں انداز بیان کو اسی طرح تبدیل کیا گیا ہے کہ ان واقعات میں تخیل کے ساتھ ساتھ زبان

Read more

نارویجین ڈرامہ نگار جون فوس اور ادب کا نوبل انعام

ناروے سے تعلق رکھنے والے 64 سالہ ادیب و ڈرامہ نگار جون فوس سال 2023 میں ادب کے نوبل انعام کے لیے کامیاب قرار پائے ہیں۔ وہ 29 ستمبر 1959 کو ناروے کے مغربی ساحل پر واقع شہر ہاگسنڈ میں پیدا ہوئے۔ فوس نے تقریباً 40 ڈراموں کے ساتھ ساتھ ناول، مختصر کہانیاں، بچوں کی کتابیں، شاعری اور مضامین بھی لکھے ہیں۔ سویڈیش اکیڈمی کے مطابق ان کو یہ ایوارڈ ان کے اختراعی ڈراموں اور نثر میں ناقابل بیان بیانیے

Read more

’نعمت خانہ‘ ایک سماجی و ثقافتی ناول

پروفیسر خالد جاوید کا شہرہ آفاق ناول ’نعمت خانہ‘ ایک سماجی و ثقافتی ناول ہے جو حقیقت نگاری پر مبنی ہے۔ اس ناول میں متوسط طبقے کے ایک مشترکہ خاندان کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ ناول میں باورچی خانہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور اسے نعمت خانہ کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے اور ناول کے اہم واقعات یہی انجام پاتے ہیں۔ باورچی خانے کا ماحول اس میں موجود برتن و دیگر سامان کہیں تشبیہ، کہیں استعارے

Read more

2023 ء کا نوبل انعام برائے ادب

ادب کا نوبل انعام برائے 2023 ء ناروے کے مصنف جون فوس کو اس کی اختراعی و عصری تخلیقات کے لیے دیا جائے گا۔ سویڈش اکیڈمی نے رواں ماہ اس عالمی اعزاز کا اعلان کیا کہ 2023 ء کا ادب کا نوبل انعام ناروے کے جان فوس کو دیا جائے گا۔ فوس کے ڈراموں کو عصری عالمی سطح پر کافی مقبولیت حاصل ہے۔ سویڈش اکیڈمی کے مطابق، فوس ”اپنے جدید ڈراموں اور نثر کے لیے شہرت کے حامل ادیب ہیں۔

Read more

حسنین جمال! تمہیں خدا پوچھے )

اگر آپ پاکستانی معاشرے کے ٹیپیکل قسم کے مرد ہیں اور آپ حسنین جمال کو نہیں جانتے اور نہ اس کو پڑھتے ہیں تو پھر آپ چنے ہوئے مردوں میں شامل ہیں اور آپ پر اللہ کا خاص فضل و کرم ہے لیکن بد قسمتی دیکھیے کہ میں ان مردوں میں شامل نہیں۔ یہ شخص اپنی تحریروں سے مجھے گمراہ کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا لیکن اللہ کا کروڑ ہا شکر ہے کہ مجھے واپس ہدایت مل گئی ہے۔

Read more

ڈاکٹر فرزانہ فرحت کی اردو شاعری کے کھوار (چترالی) تراجم

شاعری کی دنیا میں لسانی حدود سے نکل کر انسانی روح کو چھونے کی قابل ذکر صلاحیت موجود ہے۔ لندن سے تعلق رکھنے والی شاعرہ ڈاکٹر فرزانہ فرحت نے اردو نظموں کا ایک مجموعہ تیار کیا ہے جو محبت، چاہت اور پیار کے پہلوؤں کی گہرائیوں میں اترتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اور راقم الحروف (رحمت عزیز خان چترالی) کے کھوار زبان میں کیے گئے منظوم تراجم اس کی شاعری کی مانگ میں اضافہ کرتے ہوئے ان کی نظموں کو

Read more

ڈاکٹر توصیف تبسم : ایک روشن چراغ تھا، نہ رہا

ولادت 3۔ اگست 1928 بدایوں۔ وفات۔ 5 اکتوبر 2023۔ اسلام آباد داستان گو ؛ ظفر معین بلے جعفری ڈاکٹر توصیف تبسم (ولادت 3۔ اگست 1928 بدایوں۔ وفات۔ 5 اکتوبر 2023۔ اسلام آباد) ممتاز اسکالر، ادیب، قادر الکلام شاعر اور استاذالاساتذہ ڈاکٹر توصیف تبسم کی 95 برس کی عمر میں 5۔ اکتوبر 2023 کی صبح مختصر علالت کے بعد اسلام آباد میں انتقال فرما گئے۔ انا للٰہ وانا الیہ راجعون۔ ڈاکٹر توصیف تبسم کے فرزند ارجمند برادر محترم جناب عارف توصیف

Read more

آسٹریلیا میں اسلامی تعلیمات کی ترویج

اسلام ایک آفاقی مذہب ہے اور اس کی تعلیمات تمام بنی نوع انسان کے لیے ہیں۔ قرآن مجید جو ہماری مذہبی کتاب ہے۔ اس میں ان تعلیمات کا جگہ جگہ تذکرہ موجود ہے۔ قرآن مجید فرقان حمید کا انداز بیان خطیبانہ ہے۔ خالق کائنات جب بھی مخاطب ہوتے ہیں۔ تو عمومی طور پر یا ایھا الذین (اے لوگو) کہہ کر خطاب کرتے ہیں۔ کہیں بھی یا ایھا المسلمین کہ کر خطاب نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ وہ رب العالمین

Read more

استاد کا عالمی دن

دنیا بھر میں ہر سال 5 اکتوبر کو استاد کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ 1994 ء میں پہلی بار یونیسکو یعنی (UNESCO) یونائٹڈ نیشنز ایجوکیشنل سائنٹیفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن کی جانب سے استاد کا عالمی دن منانے کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ بعد ازاں یہ دن تواتر و تسلسل کے ساتھ ہر سال استاد کی عظمت، کردار اور صفات اجاگر کرنے کے لیے ہر سال قومی اور بین الاقوامی سطح پر پانچ اکتوبر کو ہی منایا جاتا ہے۔ دنیا

Read more

سفر تمام ہوا ہمرہاں بدلتے ہوئے : توصیف تبسم

:ادھر دفتر میں لنچ بریک کا وقت ہوا اور ادھر واٹس ایپ پر کال کی گھنٹی بجنے لگی۔ سکرین پر روشن سرخ اور سبز دائروں میں سے سبز پر شہادت کی انگلی پھیری اور رابطہ قائم ہو گیا ہیلو، السلام علیکم۔ کیا حامد یزدانی صاحب سے بات ہو سکتی ہے؟ میں توصیف ”تبسم بول رہا ہوں اسلام آباد سے۔“ دوسری طرف سے ایک مشفقانہ آواز کہہ رہی تھی۔ ” وعلیکم السلام، ڈاکٹر توصیف تبسم صاحب۔ میں، حامد یزدانی ہی بات

Read more

رؤف امیر ایوارڈ

(پاکستان یوتھ لیگ کی جانب سے ڈاکٹر رؤف امیر تعلیمی (وقف) ایوارڈ کا اعلان کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر رؤف امیر ممتاز شاعر، نقاد، محقق، استاد اور کئی کتب کے مصنف تھے اور جب وہ پاکستان چیئر، ایبلائی خان یونیورسٹی آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ ورڈ لینگویجز، الماتی، قزاقستان میں خدمات سر انجام دے رہے تھے تو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔ عالمی یوم تکریم اساتذہ کے موقع پر تقسیم ایوارڈ کی شاندار تقریب واہ کینٹ کے ایک

Read more

لتا منگیشکر۔ حصہ دوم

لتا جی کے آخری دور کے گانوں میں سے ایک میں نے جان بوجھ کر یہاں کے لئے چھوڑا تھا۔ 2010، 82 واں سال لگ چکا سب اصول ساتھ، بڑھتی عمر ساتھ، سب تنازعات ساتھ مگر اچھی دھن، مختلف موضوع اور لتا جی کافی حد تک کلسٹر۔ سی شخصیت کی مالک ہوتے ہوئے بھی عصمت چغتائی جیسا کام کر گئیں۔ ہم جنس پرستی پر متنازع ترین فلموں میں شمار ہونے والی اس فلم کے ہیرو کے والدین نے اسے سرکاری

Read more

افغانستان کے بارے میں پالیسی

افغان طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد میں وطن عزیز بد امنی کی لہر روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب ملک کے کسی علاقے سے دہشتگردانہ حملے یا پھر مغربی بارڈر پر افغان فورسز کی فائرنگ کے واقعہ کی خبر نہ ملے۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے سے قبل کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ پاکستان میں دہشتگردی افغانستان میں غیر ملکی افواج سے تعاون کے ردعمل میں ہوتی ہے۔ افغانستان

Read more

بھیڑوں کا باڑہ اور بھوکا بھیڑیا

ہرمن ہیسے 1877 میں جرمن قصبے بلیک فارسٹ میں پیدا ہوا۔ ماں باپ کٹر مذہبی تھے۔ ہرمن ہیسے تعلیم مکمل نہیں کر سکا۔ کتابوں کی دکان پر ملازمت کر لی۔ فارغ وقت میں ہم عمر محفلوں سے الگ تھلگ، موٹے شیشوں والا چشمہ ناک پر جمائے نظمیں اور افسانے لکھا کرتا تھا۔ 1946 میں ہرمن ہیسے کو ادب کا ناول انعام ملا تو عام رائے یہ تھی کہ امریکا نے شکست خوردہ جرمن قوم کی تالیف قلب کا سامان کیا

Read more

کیا ایک استاد جوہری ہتھیاروں سے زیادہ تباہی پھیلا سکتا ہے؟

جب تک یہ مضمون شائع ہو گا پانچ اکتوبر کا دن گزر چکا ہو گا۔ اساتذہ اور بچوں کے درمیان ”ہیپی ٹیچرز ڈے“ جیسے رسمی جملوں اور بناوٹی سی مسکراہٹوں کا تبادلہ ہو چکا ہو گا۔ ہر سال کی طرح یہ پانچ اکتوبر بھی اپنے پیچھے درجنوں سوال چھوڑ جائے گا۔ سوچتا ہوں بھلا پسماندہ معاشروں میں بھی اساتذہ پائے جاتے ہوں گے؟ تعلیمی بندوبست میں صدیوں پیچھے رہ جانے والے سماج میں ایک استاد کی ذہنی سطح کیسی ہوگی؟

Read more

پہلی چپ کا شور: چند تاثرات

جس طرح عناصر فطرت کی اپنی ہی منطق اور ترتیب ہوتی ہے بالکل ایسے ہی تخلیق کی بھی اپنی منطق ہوتی ہے۔ تخلیق کے بے ساختہ عمل میں احساس کی جس نزاکت، کو ملتا اور تازگی کی ضرورت ہوتی ہے وہ ریاضت، لگن اور ان تھک محنت کے بغیر صریر خامہ میں ڈھل کر نوائے سروش نہیں بن سکتی۔ اگر عصر حاضر کے افسانہ نگاروں کے افسانوں کا ژرف نگاہی سے جائزہ لیا جائے تو عیاں ہوتا ہے کہ ان

Read more

پوٹھوہار خطہ دلربا

بعض کتابیں صرف پڑھنے کے لئے ہوتی ہیں، بعض کتابیں پڑھنے اور سرہانے کے نیچے رکھنے کے لئے ہوتی ہیں، بعض کتابیں روز روز پڑھنے اور دل سے لگا کر رکھنے کے لئے ہوتی ہیں اور پوٹھوہار خطہ دلربا ان کتابوں میں سے ہے جو روز روز پڑھنے کے بعد سینے سے لگا کر رکھنے کے لئے ہوتی ہیں۔ یہ کتاب دراصل بہت اہتمام کے ساتھ ترتیب دی گئی ہے کیونکہ یہ شاہد صدیقی صاحب نے لکھی ہی اہتمام کے

Read more

ریسرچ کانفرنسز کے نام پر کھابے

فدوی کافی عرصہ سے پاکستان میں بالعموم اور پنجاب کی پبلک و پرائیویٹ یونیورسٹیز میں بالخصوص تعلیم و تحقیق کے میدان میں ہونے والی ترقی کا جائزہ لیتا رہا ہے۔ یوں تو ہر میدان میں پاکستانی قوم واضح زبوں حالی کا شکار ہے لیکن یونیورسٹیز میں جس قسم کا اور جس درجے کا قحط الرجال دیکھنے میں آ رہا ہے اس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی۔ حال ہی میں صوبہ پنجاب کی ایک بڑی پبلک سیکٹر یونیورسٹی میں

Read more

ماہرہ خان کی دوسری شادی پہ غم زدہ عوام

ماہرہ خان کی شادی پہ ایک ہوک کا سا عالم ہے، ایک غم ہے، سوگ ہے، غصہ ہے۔ سوشل میڈیا پہ، میڈیا پہ اور نجی محفلوں میں سب کو سانپ سونگھ گیا ہو ایسا کیوں ہے؟ یہ ہمارے قومی مزاج کی نشانی ہے کہ ہم کسی کی خوشی میں خوش نہیں ہوتے بلکہ ہم کسی بھی عورت، چاہے وہ کسی بھی مقام پہ ہو، کسی بھی شعبہ میں ہو۔ خود کو اس کا چا چا، ماما ہی سمجھ رہے ہوتے

Read more

لتا منگیشکر ۔ حصہ اول

جہاں سے تم موڑ مڑ گئے تھے، وہ موڑ اب بھی وہیں کھڑے ہیں۔ یہ نوحہ نہیں ہے۔ ہرگز نہیں۔ لتا منگیشکر کا اس جہاں کو چھوڑ جانا، اُس کی چتا کے شعلے، ان ستاروں کا آخری دیدار کے لئے آنا، ڈینائیل ہی شاید بہترین ڈیفنس ہے۔ یہ قصیدہ بھی نہیں۔ لتا منگیشکر کے گانے اور آواز کی تعریف میرے قلم کی دسترس سے باہر ہے۔ جاوید اختر جن کے گیتوں کو لتا جی امر کر گئیں، نسرین منی کبیر

Read more

ہمارا نظامِ تعلیم اور غلط مفروضے

کبھی اپنے بچوں کی نصابی کتابوں کو کھول کر دیکھئے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے اس ملک میں فقط فوجی ہیروز اور شہدا ہی گزرے ہیں۔ مجال ہے کہ آپ کو انسانی حقوق، سول سوسائٹی، فلاحی اداروں، پولیس، فائر بریگیڈ، صحافت اور رفاہ عامہ کے ممتاز اور برجستہ افسران نیز ان کی خدمات اور شہدا کا ذکر ملے۔ فوجی شہدا کے کارناموں سے کسی کو انکار نہیں لیکن یوں لگتا ہے کہ اس ملک میں صرف نشان حیدر ہی ایک

Read more

ہر استاد، استاد نہیں ہوتا

بچپن سے ہمارا خواب ٹیچر بننا تھا۔ جب ایم۔اے کیا تو دوستوں نے پوچھا کہ اب آگے کا کیا سوچا ہے؟ میرا بس ایک ہی جواب تھا کہ ٹیچر ہی بننا ہے اور کیا۔ اس بات پہ میری ایک سہیلی ہمیشہ میرا مذاق اُڑاتی تھی کہ آپ اِتنا پڑھتے ہیں، لکھتے بھی ہیں اور ایک معمولی سا ماسٹر بن کے خود کو ضائع کرتے ہو؟ پھر کلاس روم میں بیٹھ کر چھوٹے چھوٹے بچّوں کو آستینوں سے جب ناک کا

Read more

بینا و نابینا ۔ تعليم و تحرير سب کے لیے

اگر ہماری صلاحیتوں میں فرق نہ ہوتے تو یہ دنیا ایک روکھی پھیکی جگہ ہوتی۔ زیادہ تر لوگ بصارت ہونے کے باوجود بصیرت حاصل نہیں کر پاتے اور تعلیم کو صرف ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ نابینا ہو کر بھی بصیرت سے بھرپور ہوتے ہیں کیوں کہ وہ تعلیم و تحریر سے اپنا رشتہ قائم کر کے اسے پروان چڑھاتے رہتے ہیں۔ آج ہم آپ کو ایسے ہی ایک شخص کا قصّہ سناتے ہیں جنہوں

Read more

سوشل سائنسز کا (بھوت) ، ہمارا محبوب (پہلی قسط)

میرے لیے سماجی علوم (سوشل سائنسز) بھوت بن گیا ہے۔ میں تو با خوشی راضی با رضا اس بھوت سے بغل گیر ہوئی لیکن دوسروں سے جیسے یہ چمٹ گیا ہے۔ آئیے چلتے ہیں اس داستان کی طرف جس میں میرے لیے اس بھوت کے اسرار کھلتے اور دوسروں کے لیے اس کے بھیانک سائے پھیلتے ہیں۔ صحافی بننے کا خبط کسی ڈرامے کے کردار نے میرے اندر ڈال دیا جس میں کسی سوچ سمجھ کا دخل نہیں تھا اور

Read more

اردو انشائیہ کی روایت

اردو ادب میں انشائیہ کب اور کیسے وجود میں آیا بہت ہی توجہ طلب موضوع ہے جس پر کافی بحثیں ہو چکی ہیں لیکن یہ فیصلہ کر پانا بہت ہی مشکل ہے کہ پہلا انشائیہ نگار کون ہے؟ جب ہم مغرب میں انشائیہ کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو ہماری نظر فرانسیسی ادیب مائیکل ڈی مونتین پر پڑتی ہے، مائیکل ڈی مونتین کو مغرب میں انشائیہ کا موجد و بانی قرار دیا جاتا ہے، فرصت کے لمحات میں انھوں

Read more

پوٹھوہاری لوک ادب میں سِٹھنی کی روایت

وہ طنزیہ گیت جو شادی بیاہ کے مواقع پر دلہن کی ماں اور دیگر خواتین کی جانب سے بارات آنے پر دولہے کی ماں اور دیگر رشتے دار خواتین کے سامنے دولہے کے خاندان کی برائیاں بیان کرتے ہوئے گائے جاتے ہیں انہیں ”سِٹھنیاں“ کہا جاتا ہے، ان طنزیہ گیتوں میں دولہے کے والد، اس کی بہنوں، اس کی ماں اور بھائیوں سمیت تمام رشتے داروں کو نشانے پر رکھا جاتا ہے ، ان گیتوں میں دولہا والوں کی خامیاں

Read more

”گرگ شب“ ، پیش منظر کی کہی سے پس منظر کی ان کہی تک

ناول کو زندگی کی تصویر کہا جاتا ہے، ایک ایسی تصویر جو زندگی کی کئی جہات کا احاطہ کرتی ہے۔ لکھنے والے اور اچھا لکھنے والے میں یہ فرق ہوتا ہے کہ اول الذکر اس تصویر میں خلا چھوڑنے اور حقیقت کو ملفوف کرنے سے قاصر ہوتا ہے مگر مؤخر الذکر نا صرف حقیقت کو پس پردہ بھیج کر کہانی کو ابھارتا ہے بلکہ کچھ ان کہی چھوڑ دیتا ہے جس تک پہنچنے کا کام قاری کو کرنا ہوتا ہے۔

Read more

چوڑیاں ٹوٹتی رہیں گی

اگر ہم نے اپنی ڈگر نہ تبدیل کی اور دو رخی حکمت عملی کو جاری رکھا تو یہ طے ہے کہ ہمارے، فوجی، پولیس، قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں سے وابستہ افراد اور شہری دہشت گردی کی کارروائیوں کے سبب سے کفن میں لپٹے ہمیں دیکھنے کو ملتے رہیں گے اور ان کے جنازوں پر چوڑیاں ٹوٹتی، بچے یتیمی کا دکھ برداشت کرتے رہیں گے۔ مستونگ، ہنگو، میانوالی اور جڑانوالہ بھی، کوئی اچانک رو نما ہونے والے سانحات نہیں

Read more

شعری مجموعہ ”لمس“ میری نظر میں

”لمس“ ڈاکٹر عابد خورشید کا اولین شعری مجموعہ ہے۔ جو ان کی خاموش طبع، منکسرالمزاجی، کثیر المطالعہ اور متوازن شخصیت کے ساتھ ان کے زندگی کرنے کے فن کو آشکار کرتا ہے۔ لمس کا تعلق قوت لامسہ سے ہے یعنی محسوس کرنے سے ہے۔ لمس کی حدت اور شدت کو عابد خورشید اپنی ذات میں جذب کرتے ہیں۔ جس سے انھیں تخلیق کا اذن ملتا ہے۔ عابد خورشید تخلیق سے محبت کرتے ہیں۔ یہ محبت عشق میں ڈھلتی ہے اور پھر

Read more

ہم نے جو بھلا دیا

جن دنوں میں زرعی یونیورسٹی لائل پور/فیصل آباد میں پڑھ رہا تھا، سرگودھا سے ایک نوجوان آتا، شہر کا ایک دوست ساتھ لیتا میرے ہاں آ جاتا تو خوب محفل جمتی تھی۔ میں جب سرگودھا گیا تو پہلی بار اسی دوست کے ساتھ وزیر آغا سے ملنے گیا تھا۔ یونیورسٹی کا زمانہ لد گیا تو ہمیں وقت جہاں لے جانا چاہتا تھا، ہم چلے گئے۔ ہمارے بیچ کوئی رابطہ نہ رہا۔ دوسرے شہروں میں کئی برس گزارنے کے بعد جن

Read more

کچھ ذکر اپنے شہر مظفر آباد کا

اس شہر کو یاد کرنے کے کتنے ہی حوالے ہیں۔ لڑکپن میں گزرے ہوئے دن، نوجوانی میں گزرا ہوا تقریباً ایک عشرہ، ملازمت میں ملنے والے لوگوں کی شکلیں اور پھر شعر و ادب کے حوالے سے ملنے والے یاران بے مثل۔ سب سے پرانی یاد شاید ان دنوں کی ہے جب ہم ایک پہاڑی قصبے میں رہتے تھے اور سردیوں میں کانپتے، برف سے بھاگتے اس نسبتاً کم سرد شہر میں چلے آتے تھے۔ تب شہر میں اکا دکا

Read more

سردیاں

خدا خدا کر کے گرمیاں ختم ہوئیں۔ سوائے آموں کے ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ عذاب ہیں۔ ان کا تذکرہ بھی گناہ ہے۔ سال کا بہترین موسم شروع ہوا چاہتا ہے۔ خزاں کی سرد سرد ہوائیں چلنا شروع ہو چکی ہیں۔ سردیاں دروازے پر دستک دے رہی ہیں۔ سردی کے موسم کے فائدے ہی فائدے ہیں۔ زندگی جینے کا مزہ سردیوں میں ہے۔ انسان اپنی مرضی کے کپڑے پہن سکتا ہے۔ اپنی مرضی سے جس وقت مرضی کہیں بھی

Read more

اکمل حنیف کا پہلا شعری مجموعہ "ردِعمل”

جارج برنارڈ شا نے کہا تھا کہ بہت سمجھدار ہوتے ہیں وہ لوگ جو زمانے کے مطابق خود کو ڈھال لیتے ہیں اور حالات اور زمانے کی سجھائی ہوئی راہوں پر گامزن رہتے ہیں۔ زمانہ انھیں عقلمند، سمجھدار اور سیانا کہتا ہے۔ اور بہت بے وقوف اور دیوانے ہوتے ہیں وہ لوگ جو زمانے کی متعین کردہ راہوں پر چلنے سے انکار کر دیتے ہیں اور خود کو زمانے کے مطابق نہیں ڈھالتے۔ زمانہ انھیں پاگل، دیوانہ اور اس جیسے

Read more

”پوسٹ آفس کے بغیر ملک“

”پوسٹ آفس کے بغیر ملک“ نامی شعری مجموعے کا شمار ہمارے وقت کی اہم ترین شعری تخلیقات میں ہوتا ہے۔ یہ انگریزی زبان کے ایک اہم ترین کشمیری امریکن شاعر آغا شا ہد علی کی شاعری کا تیسرا مجموعہ ہے۔ ان کے دیگر شعری مجموعوں کی طرح اس میں بھی جلاوطنی، تڑپ اور وطن کو کھو دینے سے متعلق نظمیں ہیں۔ یہ مجموعہ مجھے ایک دعوت نامہ دیکھ کر یاد آیا، جو ایک تقریب کے سلسلے میں ہے۔ یہ تقریب

Read more

مستنصر حسین تارڑ کے ناول "بہاؤ” کا تہذیبی شعور

ناول ”بہاؤ“ مستنصر حسین تارڑ کا شاہکار ناول ہے۔ مستنصر حسین تارڑ کا یہ ناول کئی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے۔ جس طرح انھوں نے اس ناول میں قدیم وادیٔ سندھ کی تہذیب کی تصویر پیش کی ہے شاید آج تک کوئی مصنف اس طرح جامع اور خوبصورت طریقے سے نہیں کر پایا۔ مستنصر حسین تارڑ کا تعارف مستنصر حسین تارڑ یکم مارچ 1939 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد گجرات کے ایک کاشت کار گھرانے سے

Read more

ختلون: منگول شہزادی جس نے رشتے کے طلبگاروں کو کشتی میں ہرانے کا چیلنج دیکر ہزاروں گھوڑے جیتے

وہ تمام منگولوں کی طرح ایک ماہر تیر انداز اور بہترین گھڑ سوار ہونے کے علاوہ منگولیا کی فری سٹائل کشتی، بوک کی ایک عظیم فائٹر تھیں جس میں زمین کو چھونے والا پہلا شخص ہار جاتا ہے۔

Read more

کچھ ملکوں میں تاریخ خود کو دہراتی ہے

  سوگ کے چند دن تو گزر گئے۔ شروع میں تو جس نے سنا، سکتے میں آ گیا۔ اگلے کئی دن سب نے دلوں میں گہرا الم محسوس کیا۔ سب بار بار افسوس کرتے۔ سوچتے : یہ بھی ہونا تھا۔ یہ ہوا کیسے؟ بے یقینی کی کیفیت محسوس کرتے۔ پھر سوچتے : یہاں وہ سب بھی ہوجاتا ہے، جو کسی نے سوچا نہیں ہوتا، البتہ کسی شریر بچے یا کسی داستان گو کے تخیل میں آ سکتا ہے۔ وہ جھنجھلا

Read more

عالم اسلام میں خرد افروزی کی ضرورت

زیر نظر تحریر سید علی عباس جلال پوری کے خرد افروزی پر مشتمل افکار کا خلاصہ ہے۔ مسلم عربوں کو اساطیر اور شاعری کے سوا کوئی فنی اور علمی روایت ورثے میں نہیں ملی تھی، کیوں کہ قبل اسلام کے عربوں میں پڑھنے لکھنے کا رواج بہت کم تھا۔ گنے چنے صحابہ کرام لکھ پڑھ سکتے تھے۔ قرطاس کا رواج فتح مصر کے ساتھ عام ہوگیا۔ اس سے پہلے چینی قرطاس کے استعمال سے واقف تھے۔ ابتدائی دور میں مسلمانوں

Read more

وجودِ آدمی از عشق می رَسَد بہ کمال

حضرت مولانا رُومی ”وجودِ آدمی از عشق می رَسَد بہ کمال” پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال شاہد صاحب کو لائف اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے. ڈاکٹر صاحب نے فارسی ادب کی اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی ترویج ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور عرصہ دراز تک ڈین، فیکلٹی لینگویجز، اسلامک اینڈ اورینٹل لرننگ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی و صدر شعبہ فارسی گورنمنٹ کالج لاہور میں اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں۔ اب پروفیسر اعزاز کے طور پر خدمات

Read more

منور آکاش: ترجمہ شدہ آدمی

منور آکاش کو میں نے پہلی دفعہ کب اور کہاں دیکھا، مجھے یاد نہیں۔ نہ ہی یہ یاد ہے کہ ہماری پہلی ملاقات کب ہوئی تھی۔ یقیناً ہم پہلی دفعہ گول باغ کی کسی محفل، ملتان آرٹس فورم یا ذکرین لٹریری فورم کی کسی نشست میں ملیں ہوں گے۔ مجھے اتنا یاد ہے اس زمانے میں وہ اتنا دل برداشتہ نہیں ہوا تھا کہ ہمہ وقت اپنا سر بالوں سے پاک رکھے، بلکہ اس زمانے میں کونے کھدرے کے بالوں

Read more

ایک شام: محمود شام کے نام

پاکستان کے ادبی، شعری، صحافتی حلقوں میں محمود شام صاحب کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کا نام سنتے ہی ان کا سراپا یوں آنکھوں میں در آتا ہے جیسے گھر کے کسی بھی بزرگ اور قابل احترام ہستی کا آتا ہے۔ شام صاحب کا درجہ میری زندگی میں ایک استاد کا سا ہے۔ انھوں نے مجھے تختہ سیاہ کے آگے کھڑے ہو کر خبر بنانا، فیچر رائٹنگ، اخباری میک آپ، سرخیاں بنانا، خبر کے ادب آداب تو

Read more

سندھ پر راکشس کا سایہ

صدیوں پہلے نانی ماتا نے بدی کی علامت راکشس کو اپنے غیظ و غضب سے مار دیا تھا، جسے وہاں کے لوگ علاقے کے نام کی مناسبت سے ہنگول راکشس کہتے ہیں۔ ویسے راکشس کا کوئی نام نہیں ہوتا یہی نام عطا چانیو کی ہنگلاج پر بنائی ہوئی خوب صورت ڈاکومنٹری میں لیا گیا ہے۔ جس جگہ راکشس کو نانی ماتا نے واصل جہنم کیا اسے ہنگلاج کہا جاتا ہے جو بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں واقع ہے اور کھیر

Read more

انور زاہد کا وجدان

زمین نام کے سیارے پر ہومر ایسا شاعر ہے جس کی نظمیں اِس کی وجہ شہرت ہیں اُس کی دو نظمیں ایلیڈ اور اوڈیسی جو اُس کی وجہ شہرت بنی خدا کی زمین پر خدا گواہ ہے کہ صدیاں بیت چلیں اُس کی شہرت میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں آیا ۔دُنیا میں ہر لکھنے والے نے ہومر کی عظمت کو دل و جان سے تسلیم کیا ہے ۔ وہ اپنی نظموں میں یونانی بہادروں کی جرات ، شجاعت ،

Read more

پوٹھوہاری لوک ادب میں لوریاں

وہ میٹھے بول، گیت یا باتیں جو ایک ماں اپنے لاڈلے بیٹے کو جگانے یا سلانے کے دوران دھیمی لے میں گنگناتی ہے، اُسے لوری کہتے ہیں، ان میٹھے بولوں میں جہاں ایک ماں کے اپنے بیٹے کے لیے اپنے دل میں چھپے ہوئے ارمانوں، امیدوں اور خواہشات کا اظہار ہوتا ہے وہیں اس بچے کے بہتر مستقبل کے لیے ڈھیروں دعائیں بھی موجود ہوتی ہیں، ماں باپ اپنی اولاد کے لئے ہمیشہ اچھا ہی سوچتے ہیں اس تصور سے

Read more

ذلتوں کے اسیر ؛ اردو ناول میں نسائی شعور کا استعارہ! پندرہویں قسط

ثانیہ کی یہ خود کلامی اس عورت کی آہ و بکا ہے جو جسم فروشی کے کاروبار میں جھونک دی جاتی ہے اور ساری عمر جیتے اور مرتے گزار دیتی ہے۔ مشہور افسانہ و ناول نگار حسن منظر  ایسی ہی ایک عورت کی داستان بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ”وہاں ٹربیونل کے سامنے مجھ سے ایسے سوال کیے گئے جن میں سے اکثر میری سمجھ سے باہر تھے۔ مثلاً قوانین اور شرع کے بارے میں، میں کہنا چاہتی تھی

Read more

سگرید اندسیت کا ناول ”ینی“ :تعارفی مطالعہ

ڈاکٹر عبدالعزیز ملک، اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اردو، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، فیصل آباد سگرید اندسیت جسے 1928 ء میں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا، کا تعلق ناروے کی سرزمین سے ہے۔ ان کے والد ماہر آثار قدیمہ تھے، اسی لیے انھیں بچپن سے ہی ناروے کے ماضی، ثقافتی کہانیوں اور اس خطے کی تاریخ سے دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ناقدین، سگرید کی ذاتی زندگی اور والد کے پیشے کے اثرات کو باآسانی اس کی

Read more

اخلاقیات کا لفظ اب ہماری لغت میں نہیں – مکمل کالم

میرا دوست اے ٹی ایم مشین کے باہر انتظار کر رہا تھا کہ کب اندر موجود شخص باہر نکلے اور وہ اے ٹی ایم سے پیسے نکالے، اتنے میں رکشے سے دو طالبات نکلیں، ایک مکمل با پردہ اور دوسری ماڈرن، یہ دونوں لڑکیاں بھی اے ٹی ایم استعمال کرنے آئی تھیں۔ جونہی اندر والے صاحب نے دروازہ کھولا، دو نوجوان جو پہلے سے وہاں کھڑے تھے فٹا فٹ اندر گھس گئے، میرے دوست کو نوجوانوں کی حرکت اچھی نہ

Read more

کتاب، میاں چنوں سے ملائیشیا تک

چند ماہ قبل میں ملائشیا کے دورے پر گیا تو وہاں قابل دید مقامات اور خیرہ کن عمارات کے علاوہ کئی باغ و بہار شخصیات سے بھی شرف ملاقات حاصل ہوا۔ ایسی ہی ایک پر بہار ادبی شخصیت کا نام محمد بوٹا انجم ہے جو 2013 سے فیملی سمیت ملائیشیا کے سے بڑے شہر کوالالمپور میں مقیم ہیں۔ میں جتنے دن بھی کوالالمپور میں رہا انجم صاحب کی پر رونق صحبت حاصل رہی۔ محمد بوٹا انجم کوالالمپور کی پاکستانی اور

Read more

کیا پشتون ثقافت محض پگڑی اور شلوار قمیض کا نام ہے؟

ہر سال 23 ستمبر ”پشتون کلچر ڈے“ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ یقیناً ایک صحتمند اور خوشگوار عمل کہلایا جاسکتا ہے کہ کوئی قوم اپنے کلچر کے ساتھ وابستگی اور اس کے فروغ کے لئے کوشاں رہتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس موقع پر پگڑی، شلوار قمیص، اتن وغیرہ جیسے کلچر کے مردانہ اور سراسر مادی مظاہر کا یک روزہ اظہار زور و شور سے کیا جاتا ہے جو منفی سماجی روایات اور تباہ کن رجحانات

Read more

حنائے قناعت اور زرِ نابِ سلیم

اگلے روز محترم محمد سلیم الرحمن سے ہلکی سی ڈانٹ کھائی تو قسم سے سرشار ہو گیا۔ ہوا یوں کہ محمد حسن عسکری کے ترجمے ”موبی ڈک“ پر ایک تعارفی شذرہ لکھتے ہوئے اس ترجمے کے بارے میں مظفرعلی سید کا ایک تبصرہ یاد آیا جو انہوں نے ڈی ایچ لارنس کے منتخبات کے ترجمے کے دوران لکھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”سمندر کی زندگی، وہیل کے شکار کی تفصیلات، ملاحی کی اصطلاحات، اور دیگر کوائف اس میں

Read more

’غروب شہر کا وقت‘ فکشن، سوانحی ناول، خودنوشت یا مضامین کا مجموعہ؟

پچھلے دنوں اسامہ صدیق کے نئے ناول کی تقریب رونمائی کی تصویری جھلکیاں آنکھوں سے گزریں تو جستجو ہوئی کیوں نہ اس بار ”غروب شہر کا وقت“ منگوا کر مطالع کر لیا جائے۔ ان کے پہلے ناول ”Snuffing out the Moon“ کے اردو ترجمہ ”چاند کو گل کریں تو جانیں“ کو نہ پڑھ پانے پر افسوس ہے حالاں کہ اس ناول نے بھی سوشل میڈیا پر خاصی شہرت پائی تھی۔ خیر! ناول گراں قیمت ہونے کے باوجود منگوا لیا گیا،

Read more

شاہد مسعود اور اس کا ”وقتاً فوقتاً”

گہر کیا ہے صدف کی داستاں ہے کچھ روز ہوتے ہیں کہ شاہد مسعود کے بارے میں ایک پوسٹ پر میں نے لکھا تھا کہ شاہد مسعود ایک چھٹا ہوا بدمعاش ہے جس نے اپنی ساری زندگی شرافت اور خاموشی میں بسر کر دی۔ میرے تبصرے پر وہ اب تک چپ ہے۔ میرا پہلا خیال یہ تھا کہ ممکن ہے کہ وہ مجھے خود سے زیادہ چھٹا ہوا بدمعاش سمجھتا ہو اور اس نے جوابی حملے کی بجائے خاموشی کی

Read more

امجد حیات کے پرسے کا انتظار

امجد حیات جب تک حیات تھا مجھے دکھ کے لمحوں میں پرسہ دیتا تھا۔ رانا اعجاز کی وفات ہو، اقبال ارشد، حسین سحر، طاہر اوپل یا کسی اور عزیز کی امجد حیات کا فون دکھ کے ان لمحوں میں ضرور آتا تھا۔ مجھے یاد ہے امجد اسلام امجد کی وفات پر بھی امجد حیات نے مجھے تعزیت کے لیے فون کیا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا تھا کہ بس رضی یہ دوسرا امجد بھی جانے والا ہے۔

Read more

مراد بن یوسف المعروف ماسٹر مراد سے ایک گفتگو

ظفر اقبال اور شاہد لطیف 24 مئی 2022 کو دن ساڑھے گیارہ بجے ایور نیو فلم اسٹوڈیو پہنچا۔ سیدھا زلفی صاحب کے دفتر میں گیا۔ ان کا عید سے کچھ دن پہلے موٹر سائیکل پر حادثہ ہو گیا۔ دائیں ہاتھ کی ایک انگلی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ اب بھی منہ پر سوجن تھی۔ شکر ہے زیادہ ٹوٹ پھوٹ نہیں ہوئی۔ فلمی صحافی ظفر اقبال بھی وہیں آ گئے۔ ان کے ساتھ مراد بن یوسف المعروف ماسٹر مراد کا انٹرویو کرنا

Read more

کچھ باتیں شعیب بن عزیز کی

لاہور کن کن نعمتوں سے محروم ہوا۔ انہی میں سے ایک مال روڈ کا شیزان ریستوران بھی ہے۔ اس کے جلنے کے ساتھ ہماری مل بیٹھنے کی اک تہذیبی روایت بھی جل گئی۔ چلو اچھا ہی ہوا۔ اب یاروں کو فرصت بھی کہاں رہی ہے۔ وہ فرصت فارغ البالی کے ٹھنڈے میٹھے زمانے اور تھے۔ اب نہ وہ لوگ رہے اور نہ ہی وہ فرصت اور نہ ہی آپس میں انس و محبت اور رواداری۔ ”تھے کتنے اچھے لوگ کہ

Read more

تحریک انصاف اور قربانی

لازمی نہیں کہ ”قربانی“ کا مفہوم سمجھنے اور سمجھانے کے لئے ہم عید ِ قرباں کا انتظار کریں جب کہ اس کی مثالیں آج اور ابھی میرے گرد بکھری ہوئی ہیں۔ خیر و شر کا تصادم اور حق و باطل کی جنگ کسی ایک زمانے کی میراث نہیں، یہ ہر دور کا منظر ہے، یہ ہر ملک ہر خطے کی سب سے زیادہ بیسٹ سیلر کہانی ہے۔ سٹیج بدل جاتا ہے، کردار بدل جاتے ہیں مگر خیر و شر کی،

Read more

ادبی ”ہلکے“ اور قومی مزاج

ہمارا تعلق ایک غیر ادبی گھرانے سے ہے۔ بچپن میں گھر میں کبھی مشاعرہ تو درکنار، بیت بازی کا چھوٹا موٹا مقابلہ بھی نہیں ہوا۔ تعلیم تقریباً انگریزی میڈیم حاصل کی۔ والدین سادہ طبیعت، تصنع سے عاری اساتذہ تھے لہٰذا کتب بینی کا شوق ان سے وراثت میں ملا۔ والدہ کا اردو لب و لہجہ بے حد خوبصورت اور شستہ تھا، کم و بیش وہی تمام بہن بھائیوں میں راسخ ہوا۔ طبیعت میں موزونیت فطری طور پر تھی۔ تک بندی

Read more

اعلیٰ تخلیقی کام کیسے کیا جائے؟

نکولا ٹیسلا بیسویں صدی کا ایک جینئس سائنسدان تھا جس نے انجینئرنگ کے شعبے میں سینکڑوں ایجادات کیں، اُس کی ایجاد کی گئی اشیا کی فہرست اتنی طویل ہے کہ شاید ہی کوئی دوسرا سائنسدان اُسے اِس میدان میں پچھاڑ سکے۔ تاہم افسوسناک بات یہ ہے کہ تمام عمر اپنی ایجادات کی مدد سے لاکھوں ڈالر کمانے والا ٹیسلا آخری عمر میں کنگال ہو گیا۔ اُس کی موت بھی عجیب و غریب حالات میں ہوئی، وہ اپنے ہوٹل سے نکل

Read more

ادب کی کہکشاں کا ایک ستارہ: صائمہ زیدی

(یہ مضمون جرمنی میں مقیم منفرد شاعرہ صائمہ زیدی کے لیے ٹورنٹو، کینیڈا میں منعقدہ تقریبِ پذیرائی میں پڑھا گیا) خواتینِ باوقار اور حضراتِ خوش اطوار، حقیقت یہ ہے کہ میری حالت اِن دنوں اُس شتر مرغ کی سی ہے جو ریت میں سر چھپائے کسی محاورے میں بیٹھا دکھائی دیتا ہے۔ اس کی وجہ؟ وجہ جاننے کے لیے آپ کو ایک بار پھر میرے ساتھ لاہور کی سیر کرنا ہوگی جب فلیٹیز ہوٹل میں اشرف جاوید صاحب کے اوّلین

Read more

23 ستمبر: اشاروں کی زبان کا عالمی دن

عالمی مشہور و معروف تعلیم دان، فلم میکر جارج ویڈز نے کہا ”اشاروں کی زبان ایک عظیم تحفہ ہے جو اللہ نے صرف بہرے لوگوں کو عطا کیا ہے۔“ دنیا میں بنا مقصد کوئی بھی چیز نہیں ہے۔ جیسا کہ نشانیاں بہرے لوگوں کے لئے ہیں۔ آج 23 ستمبر ”اشاروں کی زبان“ کا عالمی دن ہے۔ یہ دن اس وجہ سے اہمیت کا حامل ہے چونکہ 1951 میں ”ورلڈ فیڈریشن آف ڈیف“ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اس فیڈریشن کے

Read more

کتاب تبصرہ: خوشبو کی دیوار کے پیچھے از محمد حمید شاہد

”زندگی بھیدوں بھری کتاب ہے یہ ہاتھ لگے اور کھولنے کا وقت نہ ملے تو ورق ورق دیمک چاٹ جاتی ہے۔ کھول لیں تو اس کی اپنی زبان سیکھے بغیر اسے پڑھا اور سمجھا نہیں جا سکتا۔ ” محمد حمید شاہد بھیدوں بھری اس کتاب میں کیا کچھ ہو سکتا ہے یہ ہر انسان کے ذاتی تخیل پر مبنی ہے۔ خوشبو کی دیوار وہ پردہ ہے جو ایک سے دوسرے انسان کے بیچ پڑا ہے، یہ پردہ ہٹے تو کون

Read more

سائنسدان ڈاکٹر سہیل زبیری سے نصف صدی کی دوستی

آج مجھے ڈاک سے ایک کتاب کا تحفہ ملا اور وہ بھی بچپن کے دوست ڈاکٹر سہیل زبیری کی لکھی ہوئی کتاب A MYSTERIOUS UNIVERSE کا قیمتی تحفہ۔ اس کتاب کو ایک معروف و مستند ’معتبر و معزز ادارے OXFORD UNIVERSITY PRESS نے چھاپا ہے۔ جب میں سہیل زبیری کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے بچپن اور نوجوانی کے وہ شب و روز یاد آ جاتے ہیں جب ہم سکول اور کالج کے زمانے میں پشاور کی گلیوں اور

Read more

اسد محمد خاں: تہذیب، تاریخ اور فرد سے مکالمہ

”ٹکڑوں میں کہی گئی کہانی“ کے ساتویں حصے میں اسد محمد خاں نے، جو ٹکڑے جوڑے ہیں ان میں اپنے بھتیجے / بھائی ناصر کمال کو بھیجی گئی ای میلز بھی ہیں۔ ناصر کو بھیجی گئی ایک ای میل میں پس نوشت کا اضافہ ملتا ہے جس میں ہمارے افسانہ نگار نے اپنے آنے والے ناول سے اقتباس دینے سے پہلے اپنا نام ’اسد محمد خاں‘ نہیں بلکہ ’اسد بھائی خانوں‘ ۔ لکھا ہے۔ ناول کا یہی اقتباس ”خانوں“ کے

Read more

جھینگر کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے

جھینگر کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے قیصر کا یہ پیارا ہے، اسے توپ پہ کھینچو بات بس اتنی سی تھی کہ سابقہ مضمون میں کتوں کی تدفین میں شوقین مالکوں کا اپنے کتوں کو اپنے عشق کا اعتبار دلانے کے لئے آٹھ دس ہزار ڈالر تک کے خرچہ کا ذکر کرتے کہیں لاشعور یا تحت الشعور میں بہت بچپن سے مدفون اوپر عنوان میں مذکور شعر کھڑاک سے جلوہ دکھا گیا۔ ہم نے قلم بند بھی کر دیا۔

Read more

ہندوستان میں سیاسی منظر نامہ اور مسلم نمائندگی

جمہوری ہندوستان کا آئین سیکولرازم کے اصولوں کو بر قرار رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا نظریہ ہے جو یورپ کے مقابلے میں ہندوستان میں ایک الگ معنی رکھتا ہے۔ مزید برآں، یہ تمام افراد اور سماجی گروہوں کے لیے یکساں مواقع کی ضمانت دیتا ہے، جس میں حفاظتی امتیاز کی دفعات شامل ہیں۔ ان اصولوں پر عمل درآمد کے لیے اگرچہ قابل قدر کوششیں کی گئیں، لیکن یہ دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے کہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت

Read more

دانشور کی اہمیت اور موجودہ دور کا ہجوم

دانشور / انٹیلکچوئلز کسی بھی سوسائٹی کے لیے اعلی دماغ اور قومی راہنما کا درجہ رکھتے ہیں۔ یہ لوگ ایسی صلاحیتوں کے حامل لوگ ہوتے ہیں جن کی سوچ معاشرے کے مقاصد اور پہچان کو طے کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی سجاوٹ اور شکل واضح کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انٹلیکچولزم کو اگر میں اپنی عقل ناقصہ کے ذریعے درجہ بندی میں پرووں تو اس کی مندرجہ ذیل اقسام ہو سکتی ہیں۔ 1سیاسی انٹلیکچوئل 2۔ مذہبی انٹلیکچوئل

Read more

مبارک قاضی اور شہر کی دیواروں پہ رہ گئے اشعار

موجودہ دور میں بہت کم زبانیں ایسی رہ گئی ہیں جن کے بولنے والے اپنی صلاحیتوں کا اظہار انہی زبانوں میں کریں۔ بڑی زبانیں جیسے انگری، مینڈریڈ یا ہندی و اردو وغیرہ چھوٹی زبانوں کے لئے خطرہ ثابت ہورہے ہیں۔ ایسی زبانوں کے قاری بڑی تعداد میں موجود ہیں اس لئے اکثر لکھاری انہی بڑی زبانوں میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔ مگر جو مٹھاس مادری زبان میں موجود ہے اور ایک لکھاری جس طرح اپنی مادری زبان میں اپنے خیالات

Read more

’کھلکھلاتی بیوہ‘: امریکی سیرئل کلر جس نے چار شوہروں اور ایک ساس سمیت 12 افراد کو قتل کیا

یہ کہانی ہے ایک امریکی خاتون سیریل کلر نینی ڈوس کی جنھوں نے 1920 اور 1954 کے درمیان تقریباً 12 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔

Read more

غالبؔ اور سوشل میڈیا

سوشل میڈیا کے یقیناً کئی فائدے بھی ہوں گے لیکن ہمیں اس پر کبھی کبھی بہت افسوس ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے ہماری کئی رومانوی روایات زمین بوس ہو گئی ہیں۔ یعنی کیا زمانہ تھا جب عشاق محبوب کی ایک جھلک دیکھنے، اس سے سے ملاقات کرنے اور اس سے ہم کلام ہونے کے لیے سارا سارا دن کوچہ یاراں کے چکر لگاتے رہتے تھے۔ یار لوگ ہمیں بتاتے ہیں کہ اوائل جوانی میں مشکل ترین کام محبوبہ

Read more

کائی کہانی

نوٹ : یہ کہانی اس دور کی ہے جب سیل فون ایجاد نہیں ہوا تھا۔ وہ بے بسی سے اپنے سامنے رکھے ہوئے بیسن کو دیکھنے لگا۔ بیسن میں خون ہی خون تھا۔ ابھی ابھی اسے الٹی ہوئی تھی۔ اس کا سارا سینہ درد سے کچا ہو رہا تھا۔ وارڈ بوائے کب آ کر بیسن اٹھا کر لے گیا اسے پتہ نہیں چلا۔ تھکن سے نڈھال ہو کر وہ لیٹ گیا۔ اس پر میٹھی سی غنودگی طاری ہونے لگی تھی

Read more

کچھ ذکر محمد اختر مسلمؔ کا

شاعر مشرق علامہ اقبالؔ سے کسی نے دریافت کیا کہ آپ کی سب سے بڑی خصوصیت کیا ہے، تو اقبال نے فرمایا کہ میرا ذہنی ارتقا۔ والد مرحوم محمد اختر مسلمؔ بھی اقبالؔ کی پیروی میں ذہنی اور فکری ارتقاء کی منازل طے کرتے رہے۔ کتاب دوست، مطالعہ کی وسعت اور تنوع ان کی قدر خاص تھی۔ مطالعہ میں وہ مشرق سے بیزار ہوئے نہ مغرب سے حذر کیا، بلکہ ہر شب کو سحر کرنے کی جستجو میں رہے۔ قریبی

Read more

شکیلہ رفیق کے افسانوی کردار: سماجی حبس اور جنسی گھٹن

شکیلہ رفیق افسانہ نگاروں کے اس قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں جو حقیقت پسندی کی روایت سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے فنکار تخیل کے مقابلے میں تجربے اور مشاہدے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور اپنے فن میں معاشرتی حالات اور تضادات کی عکاسی کرنے اور سماجی سچائیوں کا سراغ لگانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ شکیلہ رفیق اپنے افسانوی مجموعے ’قطار میں کھڑا آدمی‘ کے دیباچے میں لکھتی ہیں : ”میں بھی اپنی کہانیوں کے موضوعات براہ راست زندگی

Read more

وارث علوی: ناقدوں کے ناقد

اب تو اس واقعے کو کئی برس ہو چلے ہیں، رات گئے منشا یاد کا فون آیا اور چھوٹتے ہی پوچھا تھا: ”آپ ای میل کا جواب کیوں نہیں دیتے؟“ حملہ اتنا اچانک تھا کہ میں ایک لمحے کو بھونچکا رہ گیا، سوچا لیکن سمجھ میں کچھ نہ آیا تو الٹا سوال کر دیا : ” کون سی میل کا جواب منشا صاحب؟“ ”میں ساجد رشید کی میل کا ذکر کر رہا ہوں، ساجد نے ایک میل تین بار بھیجی

Read more

بت پرستوں کی نئی نسلیں (15)

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

ناصر بھائی! مجھے کینیڈا بلا لیں

پچھلے ہفتے واٹس ایپ پر پاکستان سے فون آیا۔ نمبر میری احباب کی فہرست میں نہیں تھا لہذا صرف نمبر آ رہا تھا۔ فون اٹھایا تو دوسری طرف محلے کے دوست کے چھوٹے بھائی تھے۔ میں نے اپنے دوست کی خیریت دریافت کی۔ وہی باتیں سننے کو ملیں جو ہر خاص و عام کی زبان پر ہیں اور سچ ہیں۔ یعنی کہ ناصر بھائی بہت مہنگائی ہو گئی ہے، کسی کی جان، مال اور عزت محفوظ نہیں، نوکریاں ختم ہو

Read more

تذکرہ وارث شاہ

آج ہم اپنے وطن پنجاب کے ان دو جانبازان عشق کا ذکر کرنا چاھتے ہیں جنہوں نے حسن و عشق کے موضوعات کو سدا کے لئے لا فانی کر دیا ۔ ایک ہیر اور دوسرا رانجھا ۔ جس شاعر نے اس قصہ کو خلعت دوام بخشا ہے اسکا نام سید وارث شاہ ہے ۔ قدرت نے اس عظیم الشان شاعر کو غیر معمولی ذہانت و لیاقت سے نوازا تھا جسکو اس نے بروۓ کار لاتے ہوئے ” ہیر رانجھا ”

Read more

معروف بلوچ عوامی شاعر: مبارک قاضی

آپ بلوچستان کے کسی بھی گلی کوچے میں کسی عام آدمی سے ، کسی دوکاندار سے، کسی راہگیر سے، کسی طالب علم، کسی ادبی بندے سے ، کسی استاد سے، یا کسی صفائی والے یا کسی ہیروینی سے جو کسی دیوار کے کونے میں بیٹھ کر اونگھ رہا ہوگا، پوچھ لیں تو وہ لازمی ایک نام سے واقف ہوگا جسے "مبارک قاضی” کہتے ہیں۔ خیر شہر تو شہر ہیں آپ کا کسی چھوٹے بلوچ گاؤں سے گزر ہو جہاں کسان

Read more

عمیر نجمی: جدید اُردو غزل کا مصور شاعر

اکیسویں صدی اس حوالے سے خوش قسمت ہے کہ اسے ایک سے بڑھ کر ایک عمدہ شاعر میسر آ رہا ہے۔ اکیسویں صدی کے آغاز سے اردو غزل کا بانکپن مضمحل ہونے کی بجائے مزید نکھرتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ گلوبلائزیشن کی وجہ سے سوشل میڈیا نے اردو غزل کو مزید وسعت دی ہے۔ شاعر پہلے غزل کہتا تھا۔ دوست احباب کو سُناتا تھا۔ اس کے بعد بھول بھال جاتا تھا۔ زیادہ تعریف و تحسین کی خواہش ہوئی تو

Read more

پیار کا پہلا خط ۔۔۔

ہر کسی کی زندگی میں ایک نہ ایک ”پہلا خط“ ضرور ہوتا ہے۔ میں نے جب نیا نیا لکھنا شروع کیا تو ہر وقت خود کو آزمائش میں ڈالے رکھتی۔ امی ابو سے سنے گئے لفظ، کسی نہ کسی آئے گئے سے سنی گئی بات، ریڈیو، گیت، غرض کان میں پڑنے والی ہر آواز کے ہر لفظ کے بارے چونک جاتی۔ اچھا تو کیا یہ لفظ، لکھے بھی جا سکتے ہیں۔ اس کے بعد اپنے ابو جی سے فرمائش کرتی

Read more

حاشر ارشاد اور وسی بابا پر لکھی ایک پانچ برس پرانی تحریر

عجیب قران السعدین ہے۔ یعنی 16 ستمبر کو سائنس کے عالم، فلسفے کے شناور اور تاریخ کے پارکھ حاشر ابن ارشاد کتم عدم سے دنیائے رنگ و بو میں چلے آئے۔ دلچسپ امر یہ ہے ان کے ہم عصر، مرشد دوراں، حبیب صادق وسی بابا نے بھی تہمت وجود کے لئے اسی دن کا انتخاب کیا۔ سال میں 365 دن رکھے تھے۔ ان دونوں احباب نے ایک ہی دن دنیا کو رونق بخشی۔ مقصد یہ کہ کوئی پوچھے کہ یہ

Read more

مبارک قاضی: بلوچستان کے خدائے سخن تھے

نامور مزاحمتی شاعر مبارک قاضی کے انتقال کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ وہ تو بلوچستان کے میر تقی میر تھے۔ جیسے ہم اردو کے مزاحمتی شاعروں میں فیض، فراز اور جالب سے محبت کرتے ہیں بلوچستان کے عوام اسی طرح مبارک قاضی کو مبارک سمجھتے تھے۔ کسی اور کی تو بات ہی چھوڑیں میں جو شعر و ادب اور صحافت سے جڑا رہتا ہوں اور خود کو باخبر بھی سمجھتا ہوں، مجھے بھی آج ان کے انتقال کے بعد

Read more

چیئرپرسن اکادمی ادبیات پاکستان کے ساتھ ایک شام!

از کارِ رفتہ سپاہی کو برسوں پیشہ وارانہ میٹینگز، پریزینٹیشنز اور علمی تقریبات سمیت لاتعداد سرکاری و غیر سرکاری مجالس میں شرکت کے مواقع میسر آتے رہے۔ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ‘فیکٹ فورم’ کے زیرِ اہتمام، پاکستان اکادمی ادبیات کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف کے اعزاز میں منعقدہ تقریب ازکارِ رفتہ سپاہی کے لئے مگر ایک خوشگوار اور انوکھا تجربہ ثابت ہوئی۔ گاڑھے پروٹوکول اور ہٹو بچو سے دور، خاکسار اِس باراسلام آباد کے ایک ریسٹورنٹ کے ایک پرسکون

Read more

تصور میں بستی ہے اک یاد

اگر آپ میرے ہم عمر ہیں مطلب کے زندگی کی چالیس سے زیادہ بہاریں دیکھ چکے ہیں تو پھر آپ اس نسل ہیں جس کو یہ معلوم ہے کہ اسٹیشن پر ریل کی سیٹی سے آنکھوں میں نمی یا پھر ہونٹوں پر خوشی کیسے آتی ہے، اسی طرح تار جب بھی کسی گاؤں میں پہنچتا تھا تو پورا گاؤں ہمہ تن گوش ہو جاتا تھا کہ تار ہمیشہ انتہائی اہمیت کی خبر کے لیے بھیجا جاتا تھا۔ شہروں میں اکا

Read more

چوتھا کونا دھندلا خاکہ اور احمد ہمیش

کئی سال پرانا واقعہ ہے ؛ جون کا مہینہ تھا۔ شاید دوسرا ہفتہ رہا ہو گا میں اندرون سندھ سے گھومتا اور وہاں کی شدید گرمی سے اُکتایا ہوا کراچی پہنچا تھا اور خواہش کرنے لگا تھا کہ کراچی کے کچھ ادبی دوستوں سے ملاقات ہو جائے۔ کیسے؟ کہ میرے پاس کسی کا فون نمبر تھا، نہ اتا پتا۔ خیر اُن دنوں، محمود واجد کا ”آئندہ“ باقاعدگی سے نکل رہا تھا۔ یاد آیا اُن کا ایک پرچہ، میں گھر سے

Read more

عطا الحق قاسمی کے سفر نامے

کچھ سال ہوتے ہیں، میں نے اورحان پامک کی ایک کہانی پڑھی تھی وہی جس میں پامک نے لکھ رکھا ہے کہ جب فتح مند فاخر شاہ نے صلاح الدین خان کو شکست دے کر قتل کر دیا تو رواج کے مطابق کتابوں کی جلدیں اکھڑوا کر انہیں ازسر نو مرتب کروایا گیا۔ یوں صلاح الدین خان کے کارنامے فاخر شاہ کا حصہ ہو گئے۔ جب کتاب کے تصویری حصے میں شاہی مصور فاخر شاہ کو داخل کر رہے تھے

Read more

عربی ادب، عہد جاہلیت سے دور جدید تک

کسی بھی سماج کا ادب اس سماج کے ذہین طبقے کے خیالات کا غماز ہوتا ہے اسی طرح عربی ادب (دور جاہلیت تا عہد جدید) ایک ایسی قوم کے خیالات و افکار کا مجموعہ ہے جس نے ایک دنیا کو اپنے اندر جذب کیے رکھا، اور مستقبل کو کسی حد تک ایک رخ پر متعین کر دیا۔ عربوں کو ناز ہے کہ ایک وہی ”نطق کے اعجاز“ سے بہرہ ور ہیں اور باقی دنیا تو گویا ”عجمی“ (گونگے ) ہیں۔

Read more

انڈیا کا ’کوچنگ کیپیٹل‘ اور طلبا کی خودکشیاں: ’اپنی موت کا میں خود ذمہ دار ہوں، کسی کو پریشان مت کرنا‘

انڈیا کی مغربی ریاست راجستھان کا شہر ’کوٹہ‘ ملک کے ’کوچنگ کیپیٹل‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا شہر ہے جہاں ہزاروں نوجوان طلبا میڈیکل اور انجینیئرنگ کالجز کے داخلہ امتحانات کی تیاری کے لیے پورے ملک سے آتے ہیں۔ لیکن طلبا میں خودکشی کے بڑھتے واقعات نے اس شہر میں اب ایک عجیب صورتحال پیدا کر دی ہے۔

Read more

بوڑھے برگد کی نغمہ سرائی

سردیوں کی خوشگوار دھوپ اپنی نرم گرم کرنیں ماں کی محبت کی طرح بلا معاوضہ ہر ایک کو دان کر رہی تھی۔ ہر وہ چیز جس پر یہ مہربان کرنیں پڑتیں کسی شہزادی کے تاج میں جڑے نگینوں کی طرح چمکنے لگتی۔ اشجار پر طیور اپنی خوش الحان آوازوں میں محفل موسیقی جمائے بیٹھے تھے۔ پودوں کے ارد گرد قوس قزح سے ست رنگ چرائے تتلیاں محو رقص تھیں۔ فضا میں ایک طرف تو کیتکی کی پھبن، موتیا کی دلفریب

Read more

پنچم کا فراق

جنوں پریوں کا گانا (2)  ’ خاں صاحب آپ میرے گھر میں رہیں‘ استاد نزاکت علی خاں صاحب ایک دو ہفتے کے بعد مجھے لاہور سے اسلام آباد ملنے آ جاتے، کہتے لاہور میں ان کا دل نہیں لگتا، میرا دو بیڈ روم کا گھر کوئی اتنا بڑا تو نہیں تھا کہ میں کسی کو اپنے گھر رہنے کی دعوت دے سکتا لیکن جب خاں صاحب تیسری بار مجھ سے ملنے آئے تو مجھ سے نہ رہا گیا اور میں

Read more

بدلتی دنیا سے بے خبری

گزشتہ تین عشروں سے پاکستانی اپنے ہمسائے میں جہاد اور اپنے وطن میں اقتدار کی نہ ختم ہونے والی جنگ میں مصروف رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کا قومی تفکر ان تبدیلیوں کو سمجھنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا جو سرد جنگ کے بعد دنیا میں آئی ہیں۔ سرد جنگ دسمبر 1991 ء میں سوویت یونین کے انہدام کے ساتھ تمام ہوئی تھی۔ اقوام عالم کو ابھی تک کسی نہ کسی کشمکش کا سامنا ہے لیکن

Read more

گماں کا ممکن: جو تو ہے میں ہوں

ن م راشد کی نظم ”گماں کا ممکن : جو تو ہے میں ہوں“ میرے لیے یوں اہم ہو گئی ہے کہ اس کے وسیلے سے اگر کوئی چاہے تو ان سارے مخمصوں کی بنیاد کو تلاش کر سکتا ہے جو راشد کی شاعری میں یہاں وہاں بکھرے ہوئے ہیں۔ یہی مخمصے اس کے زندہ وجود ہونے پر دال بھی ہیں جو سوچتا ہے، کئی سوالات اٹھاتا ہے اور اپنے تئیں کسی نتیجہ پر پہنچنے کے جتن کرتا ہے۔ اچھا،

Read more

سفر کی مشکلات اور سپین کا ویزا

چچا سام نہیں، چچا لفتھانسا! چچا لفتھانسا کا بس نہیں چلتا تھا کہ بڑھیا کو کچا چبا جائیں۔ بھئی حد ہوتی ہے۔ دن مہینے گزرتے چلے جا رہے ہیں اور بڑی بی کے مزاج ہی نہیں ملتے کہ معاملہ ختم کریں۔ چچا کی بڑبڑاہٹ ہم تک پہنچ رہی تھی ان خطوں کے ذریعے جو ہر دوسرے دن کمپیوٹر کے لیٹر بکس میں پائے جاتے تھے۔ جب کسی بھی طرح ہم نے کان نہ دھرا تو وارننگ کا خط آ گیا

Read more