چھوٹے شہر میں بڑا آدمی

یہ لگ بھگ دس بارہ سال پرانی بات ہے، ایک علاقائی اخبار (کھلی خبر) کو بطور ”انچارج ادبی ایڈیشن“ جوائن کیا، ہر ہفتے ایک لکھاری کا انٹرویو کرنا ہوتا تھا جس میں نئے لکھنے والے بھی شامل تھے اور سینئرز احباب بھی۔ میں ان دنوں انٹر کا طالب علم تھا اور استاد الشعراء حکیم ربط عثمانی مرحوم سے اصلاح لیتا تھا۔ کالج سے فراغت کے بعد حکیم صاحب کے مطب (پانچ وارڈ) پہ وقت گزرتا یا پھر کھلی خبر کے

Read more

نشیب کی نیلی لہر

”ہلکے نیلے اور تھوڑے سے سفید کی آمیزش۔ تھوڑا سا اور“ رنگوں کو باریک سے برش سے باہم ملاتے ہوئے اس نے بار بار تصویر کو دیکھا۔ ”کیا سوچ رہی ہو؟“ شامی اپنا سامان سمیٹ کر منتظر تھا کہ وہ اپنی تصویر مکمل کرے۔ گروپ کے باقی لڑکے لڑکیاں بھی اپنے اپنے رنگ برش کینوس ایزل سمیٹ رہے تھے کیونکہ اسے سارا کام ایک ہاتھ سے اور وہ بھی بائیں ہاتھ سے کرنا ہوتا تھا اس لیے تھوڑا سا زیادہ

Read more

مواد اور ہیئت کا مسئلہ

عسکری نے کہیں لکھا ہے کہ سرسید اور حالی کا مغربی ادب و علوم سے پالا کافی بڑی عمر میں پڑا۔ یہ دونوں ہی افراد مغرب سے بہت مرعوب تھے مگر انگریزی نہیں جانتے تھے۔ مغربی علم و ادب ان تک تراجم کی صورت میں پہنچے۔ تو انہوں نے یوں سمجھا کہ اصل چیز تو خیال ہوتا ہے۔ یعنی اصل چیز تو مواد ہے۔ پھر ہئیت کچھ بھی ہو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ سرسید کے تصورات جب حالی

Read more

سبط علی صبا: یارِ بے پروا کے لئے ایک کالم

یہ شعر آپ نے پڑھا نہیں تو سُنا ضرور سُنا ہوگا: دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنالئے  اِس لافانی شعر کے خالق، سیالکوٹی ہم وطن اور شاعری میں میرے سینئر سید سبطِ علی صبا کی اکتالیسویں برسی 14 مئی کو گزری۔ صبح ہی صبح فیس بُک پر اُن کے فرزند میشاق علی جعفری کی تحریر پڑھ کر مجھے صبا مرحوم کی دنیا سے اچانک روانگی کا وہ المناک دن یاد آ گیا،

Read more

ڈاکٹر حسن منظر کے افسانوں کا نو آبادیاتی تجزیہ

یہ شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے ان کے افسانوں میں معاشرہ کے ہر پہلو نظر آتے ہیں انہوں نے قریہ قریہ گھوم کر کہانیاں یک جا کی ہیں اور ہر کہانی میں ایک پرزور مزاحمت ہے آج میرا ٹاپک ان کے افسانوں کا نوآبادیاتی اور مابعد نوآبادیاتی مطالعہ ہے مسلسل جبر کے خلاف پیدا ہونے والی مزاحمت لیکن احساس بے بسی سے، بقول حسن منظر: معاشرے۔ ریزہ ریزہ ہونے لگتے ہیں ”۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد نو

Read more

شمس الرحمن فاروقی کا ناول: کئی چاند تھے سر آسماں (تلخیص – آخری قسط)‎

مرزا فخرو اس زمانے کے شہزادوں کی طرح اعلی تعلیم یافتہ تھے، نہایت عمدہ اور کئی طرح کے خط پر ان کا ہاتھ سیدھا تھا۔ شہ سواری اور تیر اندازی میں بھی طاق تھے۔ انگریزی اچھی خاصی سیکھ چکے تھے۔ رہی بات شاعری کی تو وہ ذوق کی شاگردی میں رمز تخلص کرتے تھے۔ فارسی میں انھیں امام بخش صہبائی کی چھتری کی پناہ تھی۔ انکے کچھ شعر ملاحظہ کریں جن کی استاد ذوق نے بڑی تعریف کی۔ نہیں اس

Read more

ما بعد نو آبادیات :حدود، تعارف، اہمیت

جب سے دنیا بنی ہے زمین پر انسان کبھی حاکم بنتا ہے تو کبھی محکوم۔ انسان کا ایک دوسرے پر غلبہ پانا اس کی اولین ترجیحات میں سے ہے یعنی غلبہ پانے کی تا ریخ نہایت قدیم ہے۔ ابتدا ء میں جب انسان غار میں رہتا تھا تو اس دور میں بھی طاقت ور قبیلے نے ہمیشہ کمزور بنا کر اپنے زیر اثر رکھا۔ اپنی طاقت کا نا جائز استعمال کرتے ہوئے ہمیشہ اس نے کمزور کی حق تلفی کی،

Read more

کچھ بات ابراہیم جلیس کی

ابراہیم جلیس نام تھا ۔ حیدر آباد دکن کی مٹی تھی اگرچہ انہیں خود خبر نہیں تھی کہ ان کی مٹی کہاں کی تھی ۔ قلم براق اور طبیعت پارہ صفت۔ لکھنے کی چٹیک نے علی گڑھ یونیورسٹی ہی میں آن لیا تھا جہاں سے 1940 میں بی اے کیا ۔کچھ دن سرکاری ملازمت کا بھاڑ جھونکا ۔ یک بینی و دو گوش نکال باہر کئے گئے۔ ابھی بیس برس کے نہیں ہوئے تھے کہ ہندوستان کے بہترین ادبی ماہنامے

Read more

شمس الرحمن فاروقی کا ناول: کئی چاند تھے سر آسماں (تلخیص – قسط نمبر 2)

نواب مرزا کے رامپور جانے سے پہلے وزیر خانم اپنے باپ یوسف سادہ کار کو بیٹے کی وجہ سے دوبارہ ملنے لگیں تھیں۔ مگر جیسے ہی نواب مرزا 1836 میں رامپور بھیجے گئے۔ وہ سلسلہ پھر منقطع ہو گیا۔ اور پھر 1840 میں یوسف سادہ کار کی صحت بگڑ گئی۔ وزیر خانم سنتے ہی دوڑی اپنے والد کے پاس پہنچیں۔ وہاں حکیم صاحب افسردہ گھر سے باہر نکل رہے تھے۔ وزیر خانم انھیں دیکھتے ہی بولیں، حکیم صاحب، میرے ابا

Read more

ٹھنڈا گوشت: وہ افسانہ جو منٹو کے لیے بہت گرم ثابت ہوا

ٹھنڈا گوشت نہ صرف قیام پاکستان کے بعد منٹو کی پہلی افسانوی تخلیق تھا بلکہ اپنی مخصوص نوعیت کے اعتبار سے بھی اس کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔

Read more

آہ شمیم حنفی! لوگ رخصت ہوئے اور لوگ بھی کیسے کیسے

اس برس تو کرونا وبا نے ایسے وار کیے کہ بڑوں بڑوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر ان کے پھیھڑوں کو چھلنی کر دیا اور سانسوں کی مالا کو چھین کر اللہ گھر پہنچا دیا۔ مشرف عالم ذوقی ایسی وائرس کا شکار ہوئے اور وائرس نے ان کو لپک لیا پھر ان کی بیگم کو بھی۔ کتنا اذیت ناک صدمہ تھا ابھی یہ صدمہ بھولا ہی نہیں تھا کہ ایک اور صدمہ دل کے دروازے پر دستک دے گیا، آہ شمیم حنفی صاحب! وہ بھی اس منحوس وائرس کا شکار ہو گئے۔ انہیں چند روز قبل کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد دہلی کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

Read more

شمس الرحمن فاروقی کا ناول: کئی چاند تھے سر آسماں

کسی کتاب کو مصنف جس طرح سے تحریر کرتا ہے کیا قاری کبھی اس طرح سے سمجھ بھی پاتا ہے یا نہیں؟ ممکن ہے کبھی ایسا ہوتا ہو کہ جو لکھا گیا وہ من و عن قاری پر اسی طرح سے اتر گیا ہو۔ مگر شاید ایسا خال خال ہی ہوتا ہوگا۔ ہو سکتا ہے کسی کتاب کی بے تحاشا پسندیدگی کا معیار اس کی بے شمار چھپنے والی کاپیاں ہوں۔ مگر کوئی بھی ناول یا کتاب اپنے قارئین پر

Read more

کاش میں نے منٹو کو نہ پڑھا ہوتا

(11 مئی منٹو کا یوم ولادت ہے) میں نے استاد سے سنا کہ علم حاصل کرنا شاید افضل بات ہو لیکن علم کا بوجھ اٹھانا ہر انسان کے بس کی بات نہیں، علم کا بوجھ ہلکان کر دینے والا ہوتا ہے، اور اگر خدانخواستہ علم آپ کی شخصیت میں جذب ہو جائے اور جو بات آپ پڑھ رہے ہوں وہ آپکو سمجھ بھی آنا شروع ہو جائے تو یہ وہ قیامت ہے جو آپ پر مسلسل ٹوٹتی ہے، جون ایلیا

Read more

لٹے شہر کی دھول

مرینا لزاریا اس کا نام تھا۔ وہ دوسری ڈچ لڑکیوں سے مختلف تھی، بہت مختلف۔ میں جب لندن سے نکلا تھا تو دوستوں نے کچھ اور ہی افسانے سنائے تھے۔ ”ارے، ایمسٹرڈم جا رہے ہو! موج کرو گے موج۔“ ایمسٹرڈم میں یورپ کا سب سے بڑا طوائفوں کا بازار ہے۔ کئی سو سال سے یہ بازار مقامی اور غیر مقامی، یورپین، ایشین، افریقن، امریکن سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ شراب تو خیر ملتی ہی ہے، ساتھ میں

Read more

جب سارتر کی زندگی کی شام آ گئی

جب ژاں پال سارتر 1980 میں فوت ہوئے تو ان کے جنازے میں ساری دنیا سے آئے ہوئے پچاس ہزار لوگ شامل تھے۔ ایسا بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی مغربی فلاسفر کو اتنی مقبولیت ’عزت اور عظمت حاصل ہوئی ہو۔ سارتر کی موت کی خبر فرانس کے بڑے بڑے اخباروں کے ساتھ ساتھ امریکہ کے نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کی شہ سرخیوں میں بھی شامل تھی۔ ان کی موت کے بعد فرانس کے صدر ویلر دیستینگ نے ان کے احترام میں دوستوں کے ساتھ ان کی لاش کے ساتھ ایک گھنٹہ گزارا اور اٹلی کے صدر نے ان کی محبوبہ اور شریک حیات سیمون دی بووا کو تعزیتی پیغام بھیجا۔

Read more

ڈاکٹر تحسین فراقی اور بالشتیے

گروپ بندی نے علم و ادب کو بہت نقصان پہنچایا ہے، اب یہی دیکھ لیجیے کہ جس منصور آفاق کو لیجنڈ ڈاکٹر تحسین فراقی کی جگہ مجلس ترقی ادب کی کرسی دینے پر ایک عالم اعتراض کر رہا ہے اس کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے ممتاز ادبی شخصیت ڈاکٹر خواجہ زکریا ان کے دفتر پہنچے ہوئے ہیں، کل کائنات میں یہ منصور آفاق واحد انسان ہیں جو عثمان بزدار کے لیے دن رات تعریفی کالم لکھتے ہیں اور

Read more

(جو میں نے محسوس کیا ) ڈاکٹر شیر شاہ کی سچی کہانیاں

ڈاکٹر شیر شاہ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں۔ محبت کی صرف ایک ہی شرط ہوتی ہے کہ وہ بے لوث، بے غرض اور غیر مشروط ہو۔ ان کی زندگی اور کہانیاں اس بات کی گواہ ہیں۔ ہم افسانہ نگار اپنے افسانوں میں جتنا چاہیں بڑھا گھٹا سکتے ہیں لیکن کیا وہ تاثر پیدا کر سکتے ہیں جو ڈاکٹر شیر شاہ کی سچی کہانیوں نے کیا ہے۔ آپ انھیں افسانے کہہ لیں میں انھیں کہانیاں ہی کہوں گی اور سچ

Read more

جوش صاحب

جوش صاحب ماشا اللہ، شخصیت کے لحاظ سے بھی، اور شاعری کے لحاظ سے بھی بہت بھاری بھرکم تھے۔ میں ان کی قادر الکلامی کی قائل ہوں، کیا نظمیں، کیا مناجات اور رباعیات۔ جو شاعری کی بھرپور کی۔

اپنے ایسے خیالات کا اظہار بھی برملا کر دیتے تھے۔ جن پر لوگ برا مان جاتے تھے۔ کبھی مولائے کائنات کو پکارتے ہیں کہ وہ ان کو آواز دے اور کبھی جبرائل سے طاقت پرواز مانگتے ہیں۔ کسی کو سود خور مولوی کہہ دیا۔ ایسے خیالات کی مذمت میں افکار رسالے کو ان پر نمبر نکالنا پڑا۔ (بھلا کس کے لئے کہا، میں تو نہیں کہہ سکتی۔ ”اپنی پوری کتاب دیدی، ہم تو کسی کو ایک شعر نہ دیں۔“ )  ایولیوشن کے سلسلے میں کہا۔ کہ فی الحال تو دم ہی جھڑی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جوش صاحب تشکیک کا شکار تھے، یا یقین و شک کے درمیان رہتے تھے جیسے اور بھی کوئی لوگ رہتے ہیں مگر اس طرح اظہار نہیں کرتے۔

Read more

بابا فرید گنج شکر ؒ۔ پنجابی شاعری کے بانی

حضرت بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ ایسے ولی اللہ تھے، جنہوں نے اپنوں کے علاوہ بیگانوں کے قلوب کو بھی نوراسلام سے بھر دیا۔ ولی ہوتا ہی وہی ہے جو کسی کا ہاتھ تھام لے تو پھر اسے بھٹکنے نہ دے۔ اولیاء کا کردار ہی ان کی ولایت کی علامت اور پہچان ہوتا ہے اور وہ اپنے ارادت مندوں کو صرف اور صرف درس شریعت دیتے ہیں۔ وہ بہترین انسان اور عمدہ اخلاق و آداب کے مالک ہوتے

Read more

نتھلی والی

وہ عجب اٹھلاتے ہوئے چلتی تھی۔ اس کا سنہرا رنگ دھوپ سے سنولایا ہوا تھا، جیسے دھوپ کی تمازت نے جلد کو جھلسا دیا ہو، مگر اس کا ناک نقشہ راجپوتوں کی طرح تیکھا سا تھا۔ اس پہ باریک گھنگروؤں والی نتھلی پہنے ناز سے مٹکتی ہوئی چلتی تو شوخ رنگوں کا گھاگھرا ایک ادا سے گھومتا تھا۔ تین رنگوں کا پٹی دار گھاگرا جس کے رنگ میل سے آٹے پڑے تھے۔ جیسے کسی نے شوخ رنگوں کا سندر پن

Read more

ادب کیا ہے؟

ادب کی تعریف اسی طرح مشکل ہے جس طرح دوسرے فنون کی۔ خاص طور پر ایسی تعریف جس پر سب کو اتفاق ہو۔ بعض لوگ مثلاً میتھو آرنلڈ ہر اس علم کو جو کتاب کے ذریعہ ہم تک پہنچے ادب قرار دیتے ہیں۔ والٹر پے ٹر (Walter Pater) کا خیال ہے کہ ادب واقعات یا حقائق کو صرف پیش کردینے کا نام نہیں بلکہ ادب کہلانے کے لیے اظہار بیان کا تنوع ضروری ہے۔ ایک تعریف کے مطابق ادب میں

Read more

ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری بحیثیت اقبالؔ شناس

اردو ادب کے ہر رفیع الشان نقاد کے ہاں میرؔ، غالبؔ اور اقبالؔ جیسے عظیم المرتبت شعراء کا کلام اور افکار ہمیشہ پسندیدہ مطالعہ رہا ہے۔ ناقدین اور دانشوروں نے نہ صرف ان عظیم شعراء کی فکر اور شاعری پر ارتکاز کر کے بڑی محنت، لگن اور ژرف نگاہی سے نئے نئے گوشے اجاگر کیے بلکہ خود بھی دنیائے ادب میں اپنی الگ اور منفرد پہچان بنائی۔ ان ناقدین نے اپنی فہم و فراست کے مطابق بڑی محنت و مشقت

Read more

مہجری ادب کی روایت اور معاصر مہجری ادب

پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں ہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے ادب میں ایسی تمام تخلیقات جو بھلے ہی شعر میں ہوں کہ نثر میں، تخلیق کار کی ”ہجرت“ یعنی ”ایک مقام سے دوسرے مقام کی جانب نقل مکانی“ کے عہد میں اس کی اپنے سے محبت اور اس کی یادوں پر مبنی ذاتی تجربات، مشاہدات و احساسات کا احاطہ کرتی ہوں تو انہیں عرف عام میں ”مہجری ادب“ کہا جاتا ہے۔ اگر ”ہجرت“ کا تذکرہ

Read more

خوشبو کا احساس اور پھولوں کا عرفان زندہ رکھنے والا شخص

اے حمید صاحب کا ایک اردو ڈائجسٹ کو دیا ہوا انٹرویو جس کا نام اور تاریخ وغیرہ تو یاد نہیں ہاں اندازہ ہے کہ دو دہائی پہلے کا ہو سکتا ہے۔ جب ڈائجسٹ پڑھا کرتا تھا تو ایک دن انٹرویو نظر سے گزرا تو ڈائجسٹ سے صفحات کاٹ کر الگ محفوظ کر لیے۔ یوں تو اس میں اے حمید صاحب نے خاصی مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے مگر اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی ، جیسا تھا ویسا ہی لکھ رہا ہوں۔ انتیس اپریل ان کی برسی پر یہ انٹرویو ان کے چاہنے والوں کی نذر۔

Read more

ناروے کے دو بڑے ڈرامہ نگار: ہنریک ایبسن اور بیورنستیارنے بیورنسون

ناروے آبادی کے لحاظ سے بہت چھوٹا ملک ضرور ہے لیکن اس کی مٹی زرخیز ہے۔ مختصر سے آبادی والے چھوٹے سے ملک میں اعلی قسم کا ادب لکھا گیا۔ ابتدائی ادب لاطینی حروف تہجی میں لکھا گیا۔ گیارہویں صدی تک یہی مروج رہا۔ بتدریج یہ زبان اور اس کے حروف تہجی اپنی موت مر گئے اور نوردن کی اپنی زبان وجود میں آئی اور اسی زبان میں ادب لکھا گیا۔ تیرہویں سے پندرہویں صدی تک ناروے ڈنمارک کے زیر

Read more

ثقافت اور تہذیب کے مفاہیم کا معنوی و صوری جائزہ

ثقافت کا تعلق ہر شعبہ ہائے زندگی سے ہے۔ ہمیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں ہر وقت ہر لمحہ ہر آن ثقافت اور روایات کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یہ انتہائی لطیف موضوع ہے۔ اس موضوع پر بات کرنا اور اس کی درست معنوں میں تفہیم کا حق ادا کرنا ناممکن نہیں تو مشکل دکھائی ضرور دیتا ہے۔ ثقافت کے سلسلہ میں مختلف افراد معاشرہ اور مشاہیر کے متعین کردہ مفاہیم میں فرق و اختلاف موجود رہا ہے۔ ہمارے معاشرے

Read more

ذوقی اور تبسم: موت اور محبت کا بندھن

ذوقی 1986 میں کان میں قلم دبائے دہلی آئے اور گزارے کے لیے کانگریس پارٹی کی نوجوانوں کی تنظیم کے ترجمان ہندی ماہنامہ ’سیوا دل‘ سے وابستہ ہو گئے۔ میں فروری 87 میں ملازمت میں آیا اور ”آج کل“ کا سب ایڈیٹر مقرر ہوا۔ ذوقی آج کل کے دفتر آتے رہتے تھے۔ ایڈیٹر راج نرائن راز صاحب انہیں بہت عزیز رکھتے تھے۔ میں آیا تو وہ میرے قریب آ گئے۔ تعلقات بڑھے، دوستی ہوئی اور بہت کم وقت میں گہری ہو گئی۔ ادب اور سیاست کی باتوں کے علاوہ ایک بات اور ٹکڑوں ٹکڑوں میں آتی رہتی تھی اور وہ تھی ان کا نامراد عشق جس کی تڑپ ان کے اندر ابھی زندہ و توانا تھی۔

غالباً جون کی ایک گرم شام منڈی ہاؤس کے ایک بس اسٹاپ پر انہوں نے اپنے عشق کی داستان تفصیل سے اور کسی طلسمی کہانی کی طرح سنائی۔ کسک یہ تھی کہ کاش کوئی کچھ کر سکتا۔ وہ ان کی عزیزہ تھی اور کلکتہ کے نواح میں رہتی تھی۔ دھیرے دھیرے کھلا کہ ان کا مدعا یہ ہے کہ میں کلکتہ جا کر اس لڑکی سے کچھ پوچھ کر آؤں۔ میں اپنے دو دوستوں کو ساتھ لے کر اس کے یہاں پہنچا۔ لڑکی کے والد ماجد نے ہماری تواضع تو کی لیکن محترمہ سے ملاقات کا شرف نہیں حاصل ہو سکا۔ مایوسی سی مایوسی۔

Read more

بے عنوان نظمیں

نیلے پانیوں پہ پھیلے سبز منظر پلکوں سے جدا نہیں ہوتے آنکھوں کو سنہرے خوابوں کی تعبیریں نہیں ملتیں کئی ادھوری نظموں کے عنوان نہیں ہوتے حنا شیرازی نے اپنی ادھوری نظم کو پورا کیا۔ احتشام اس کی آواز کے سحر میں کتنی دیر تک ڈوبا رہا۔ اس کی ریشمی زلفیں پھسل کر بار بار اس کے عارض کو چھو رہی تھیں جب کہ وہ اپنی انگلیوں سے بار بار انہیں کسی مشاق کھلاڑی کی طرح سمیٹ رہی تھی۔ یہ

Read more

صورت حرف

جو کہانیاں نانیاں اور دادیاں سناتی تھیں وہ کتابوں میں حرف کی صورت اتر آئیں، تو یہ امید کرنے میں میں حق بجانب ٹھہروں گی کہ ادب زندہ رہے گا۔ اور دعا کروں گی کہ ہماری پیاری زبان اردو کا ادب زندہ بھی رہے اور اس میں ایک معیار بھی باقی رہ جائے۔ میں کوشش کرتی ہوں کہ تازہ واردان ادب کی تخلیقات کو خصوصی توجہ سے پڑھوں۔ اس پس منظر میں زیرنظر مجموعے کے افسانوں کو پڑھا تو بڑی خوشگوار طمانیت کا احساس ہوا۔

ایک تو یہ کہ سبھی افسانہ نگار خواتین ہیں اور ان میں کوئی کہنہ مشق اور معمر نہیں ہے۔ یہ آج کی نوجوان نسل ہے۔ اس نسل کی اردو سے وابستگی ہی دل خوش کن ہے۔ اور بیشتر افسانے اس بات کے ضامن ہیں کہ ایک معیار نہ صرف برقرار رہے گا بلکہ آگے اور آگے بڑھتا جائے گا۔ اور ہاں یہ خواتین افسانہ نگار اس بات کی بھی ضامن ہیں کہ زبان و ادب ساری تکنیکی ترقی کے باوجود نئی نسل میں ضرور منتقل ہوں گے۔

Read more

مشرف عالم ذوقی اور تبسم فاطمہ کی یاد میں

تعلق جتنا بھی مضبوط ہو لیکن ہمیشہ رابطوں کا محتاج ہوتا ہے محترمہ تبسم فاطمہ نے یہ سچ کر دکھایا کہ بنا رابطے کے کوئی رشتہ نہیں، کہ جب ملن و ہم رکابی نہیں تو پھر کیسی محبت، چنانچہ اپنے شوہر کے غم‌ میں وہ بھی آخرت سدھار گئیں۔ انا‌ للہ و انا الیہ راجعون ابھی ہم ذوقی صاحب کے غم سے نکل بھی نہ پائے تھے، کہ ان کی جدائی کا صدمہ برداشت نہ کر پانے کی وجہ ان

Read more

فرتاش سید؛ یادیں /ملاقاتیں

فرتاش سید سے میری پہلی ملاقات گول باغ، گلگشت ملتان میں ہوئی، ان دنوں وہ قطر سے واپس آئے ہوئے تھے اور اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھ رہے تھے۔ ان کی آمد پر ادبی تنظیم سخن سرائے نے ایک مختصر شعری نشست کا اہتمام کیا تھا جس میں ارشد عباس ذکی، نعیم آزاد، اسامہ خالد، عمران عالی، طہ ابراہیم اور کچھ اور دوست شامل تھے۔ نشست کے آغاز سے پہلے یک دم تیز بارش شروع ہوئی اور جب تک ہم

Read more

اردو ادب اور اقبال

ادب اس تحریر کو کہتے ہیں جس میں روزمرہ کے خیالات سے بہتر اور روزمرہ کی زبان سے بہتر زبان کا اظہار ہوتا ہے۔ ادب انسانی تجربات کا نچوڑ پیش کرتا ہے۔ انسان دنیا میں جو کچھ دیکھتا ہے، جو تجربے حاصل کرتا ہے، جو سوچتا سمجھتا ہے اس کے ردعمل کا اظہار ادب کی شکل میں کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادب زندگی کے وسیع ترین مسائل کا احاطہ کرتا ہے اور اس کے ذریعہ پروان چڑھتا ہے۔

Read more

ڈاکٹر فرتاش سید: ملاقاتیں اور یادیں

مجھ ایسے مضافات کے باسی پہلی بار مرکز میں جا کر ایک عجیب قسم کی حیرت میں ضرور مبتلا ہوتے ہیں۔ عموماً اس میں ہماری نامکمل معلومات کا ہاتھ ہوتا ہے جسے ہم تجسس کا نام دے سکتے ہیں۔ لاہور میں تعلیمی سلسلے کی خاطر قیام کے ابتدائی دن زیادہ تر نت نئی جگہوں پر جانے اور نئے نئے لوگوں سے ملنے میں صرف ہوئے۔ گلیوں اور سڑکوں کی خاک اڑائی اور مختلف مقامات پر چائے فروشوں اور ناشتہ لگانے

Read more

جمیل احمد عدیل کا افسانہ اور جدید انسان

جمیل احمد عدیل کے افسانوں میں ابھرنے والا جدید انسان کامیو اور سارتر کی تحریروں میں اپنی تنہائی، بیگانگی اور زندگی کی بے معنویت سے لڑتے مغربی انسان کی مانند نہیں ہے جس نے عقل کے معبد میں سر جھکاتے ہوئے صنعتی ترقی کے ثمرات سمیٹے، اپنی توانائیوں کو دریافت کیا اور مابعد الطبیعات سے طبیعات تک کے سفر میں اپنے پورے وجود کے ساتھ شامل رہا۔ اسی لیے بیسویں صدی کی عظیم جنگوں میں اپنے پامال ہوتے وجود کا

Read more

عفت اور نوید

عفت کا اور میرا ساتھ محض میاں (مرد) اور محض بیوی (عورت) کا ساتھ نہیں ہے بلکہ دو انسانوں کا ساتھ ہے ، ہم دونوں عورت (ناقص العقل) اور مرد (مکار) ہونے سے بلند ہو کر انسان ہونے کی سطح پر ملے ہیں ، اسی لیے ایک دوسرے کو مکمل کر سکے ہیں۔ مرد، عورت کو مکمل نہیں کر سکتا عورت مرد کو مکمل نہیں کر سکتی۔ مرد، مرد کو مکمل نہیں کر سکتا عورت، عورت کو مکمل نہیں کر

Read more

شاہ حسین: پنجابی شاعری میں کافی کی صنف کا علمبردار

چھتیس سال کی عمر تک بہت ہی کٹھن عبادت اور ریاضت کی۔ دن کو روزہ رکھتے، ساری رات قرآن مجید کی تلاوت کرتے۔ پھر یہ معمول بنایا کہ رات کا پہلا حصہ دریائے راوی کے پانی میں کھڑے ہو کر قرآن مجید پڑھتے اور تہجد کے وقت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے مزار والی مسجد میں آ جاتے۔ یہاں تہجد اور فجر کی نماز کے بعد دن چڑھے تک وظیفہ کرتے۔ پھر ایک دن یہ سب کچھ چھوڑ

Read more

ایک سچے عیسائی اور خالص جرمن کا دل

جرمنی کے ایک بڑے صوبے ”بویریا“ کے ایک چھوٹے سے شہر میں رہنے والے پینتالیس سالہ ”اذاک ولہم“ کو اپنے خالص جرمن اور ایک سفید فام عیسائی ہونے پر بڑا فخر تھا۔ اتنا فخر کہ اسے غرور بھی کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا۔ اس کا خیال تھا کہ صرف سچے عیسائی اور خالص جرمن کو ہی یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ ساری دنیا پر حکومت کرے۔ بے شک وہ ایسے خیالات کا اظہار صرف اپنے خاص اور

Read more

ممتاز مفتی کا "سمے کا بندھن”

بندھن بہت سے ہوتے ہیں ، ان میں سے ایک سمے کا بندھن بھی ہوتا ہے جو روح کو باندھ لیتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ایک طویل مرحلہ ہوتا ہے جس میں اندر کے سروں کو پکا کرنا پڑتا ہے، تال ملانی پڑتی ہے، آئینہ بننا پڑتا ہے، آئینہ دکھانا جتنا آ سان ہے ،  آئینہ بننا اور پھر بن کے رہنا اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ اخلاص نہ ہو تو بے دردی جنم لیتی ہے اور بے

Read more

تم بھی چل دیے ذوقی بھائی؟

تو تم بھی چل دیے ذوقی بھائی؟
بن پوچھے، بن بتائے!
ایسی بھی کیا جلدی تھی؟
بیٹھ رہتے کچھ روز اور،
تھوڑا اور تماشا دیکھ لیتے اس دنیائے ہست و بود کا۔
مانا کہ انسانی تماشے کی دید ذرا تکلیف دہ ہے،
بہت دل کڑا کرنا پڑتا ہے۔

Read more

اردو زبان و ادب کے ممتاز ادیب، نقاد اور دانشور ڈاکٹر جمیل جالبی کی دوسری برسی

تاریخ اردو ادب کی تخلیق سے اردو ادب کو جلا بخشنے والے ڈاکٹر جمیل جالبی کو بچھڑے آج پورے دو برس گزر گئے، اگرچہ ڈاکٹر جمیل جالبی کی علمی و ادبی خدمات کا احاطہ ممکن نہیں تاہم قومی انگریزی اردو لغت اور مثنوی کدم راؤ پدم راؤ جیسے بے مثال کام نے انہیں اردو ادب کی تاریخ میں امر کر دیا ہے۔ انہوں نے صرف اردو لسان و ادب کے میدان میں ہی اپنی تفہیم و دانش کے جوہر نہیں بکھیرے بلکہ ہر ادارے میں اپنے نقوش ثبت کیے ہیں۔

پاکستان میں علم و حکمت، فکر و ثقافت اور زبان و ادب کے ممتاز ادیب، نقاد اور دانشور، جنہوں نے اپنی اعلیٰ سرکاری ذمہ داریوں کے علاوہ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر، مقتدرہ قومی زبان اور اردو لغت بورڈ کے صدر نشین کی حیثیت میں مثالی علمی و تعلیمی اور انتظامی خدمات سرانجام دیں۔

Read more

بے لوث، بے غرض، غیر مشروط محبت

میں اس زمانے میں برمنگھم میں رہتا تھا۔ برمنگھم انگلستان کا دوسرا بڑا شہر ہے اور لندن کے بعد برمنگھم کا ہی نمبر آتا ہے مگر فرق ایسا ہے جیسے کراچی اور حیدرآباد۔ آبادی اور صنعتوں کی بھرمار کے باوجود برمنگھم ابھی تک لندن کی بے رحمی، بے کسی، تڑپ اور چبھن اپنے اندر نہیں لا سکا ہے۔ لوگ چلتے چلتے رک جاتے ہیں، جیسے کچھ بھول آئے ہوں اور بھولی ہوئی چیز کے لئے لوٹ بھی جاتے ہیں۔ سڑکوں پر کھڑے ہوئے بات کرتے بھی نظر آتے ہیں، لندن جیسی ہلچل، گہماگہمی، بھاگا دوڑی یہاں نظر نہیں آتی لوگ اکثر بے مطلب اور بے غرض بھی بات کر لیتے ہیں، ہیلو کر دیتے ہیں، حال پوچھ لیتے ہیں۔

Read more

دیش بھگت دا شبد اخیری

ٹھیک بیس برس پہلے یہ نظم آئی اے رحمان صاحب کے لئے لکھی تھی۔ کہیں شائع نہیں ہوئی۔ یہ ادنیٰ طالب علم کی استاد زماں سے محبت ہے۔ پنجابی زبان میں ہے۔ ترجمہ کرنے سے معذور ہوں۔ محبت (اور احترام) کے اپنے بیل بوٹے ہوتے ہیں۔ ***             *** لنگھ آﺅ سجنو لے آﺅ گل دی بھری پرات مٹھے شبداں دا پشتارہ ہار حمیلاں ٹہن نرول تے پتر ساوے چُمیے، جی وچ رکھیے سجنو کت پل

Read more

امید اور حوصلے کا شاعر: اشہر اشرف

شاعر دوطرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جہنیں بہت جلد شہرت اور مقبولیت ملتی ہیں۔ ان کی شاعری کے گرویدہ اور پرستار بہت سارے لوگ بہت جلد ہو جاتے ہیں۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان کے مداح ان کی شاعری کو نگر نگر پھیلانے اور شہر شہر پہچاننے میں اہم کردار نبھاتے ہیں۔ ان میں چند ایسے بھی ہوتے ہیں جو مشہور تو ہوتے ہیں لیکن ان کی شاعری میں وہ دم خم اور پائیداری نہیں ہوتی۔

Read more

افکار علوی کی کوٹ ادو آمد

آج کل کے ’بڑے‘ شاعر نرگسیت کی اس بلندی پہ جا بیٹھتے ہیں کہ ان کے چاہنے والے چاہ کر بھی ان تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔ ہر شاعر خود پسند ہوتا ہے۔ ظفر اقبال کے بقول ان کے پاس اچھے شعروں کی تعداد غالب سے بھی زیادہ ہے، منصور آفاق کے نزدیک فراز میر سے بڑا شاعر تھا۔ ایک وقت تھا جب لاہور میں بیٹھا شاعر کمرشلائز ہو کر کہاں سے کہاں پہنچ جاتا جب کہ مظفرگڑھ ،

Read more

کتاب، سکرین اور رومانس

یادش بخیر! یہ سلسلہ سن دو ہزار چار پانچ میں شروع ہوا۔ کتابیں تو پہلے بھی لیتا رہتا تھا مگر اپنی لائبریری بنانے کا خیال انہی برسوں میں آیا جن کا اوپر ذکر ہوا۔ میرے ذخیرے کی اولین کتاب ”علی پور کا ایلی“ تھی جو الحمرا میں لگے ایک کتاب میلے سے پچاس فیصد رعایت پر خریدی تھی۔ تھوڑی سی تنخواہ ہوتی تھی اور لاہور میں قیام۔ چنانچہ یوں ہوا کہ مال روڈ پر واقع فیروز سنز کے اس وسیع

Read more

معراج بھائی قسط ( 3 )

آج کی رات ہمیشہ یاد رہنے والی تھی اور وہ بے حد نروس ہو رہی تھی مگر تیمور کا مہربان رویہ اس کے اطمینان کا باعث تھا۔ رات کا ایک بج چکا تھا مہمان جا چکے تھے اور ٹھہرنے والے بھی ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز میں بھیجے جا رہے تھے اس وقت صائمہ نے بھی دلہا دلہن کو آرام کے لئے کہا۔ تیمور نے بے حد نرمی سے سہارا دے کر عفت کو اٹھایا۔ بی بریو، اس کے ٹھنڈے یخ

Read more

اردو کانفرس کا احوال اور مہجری ادب کی صورت حال

ہم جس دنیا میں رہتے ہیں، ہم جس انتشار کا شکار ہوتے ہیں، ادب ان سب کو الفاظ دیتا ہے۔ اور الفاظ کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ کوئی وطن۔ اس لئے ادب کے کان میں اذان دینے یا اسے بیپٹائز کر نے کی کوشش ایک بھونڈی حرکت کے سوا کچھ نہیں۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ادب مقصدیت سے خالی ہو۔ مقصدیت کوئی برائی نہیں ہے مگر اس میں ہنرمندی ہونی چاہیے۔ ادب ادب ہی رہنا چاہیے نہ تو اسے اصلاح کے نام پر منبر سے جاری ہو نے والے خطبے میں بدل دینا چاہیے اور نہ ہی آزادی اظہار کے نام پر اسے کسی پھکڑ پن یا فخش نگاری کے ساتھ یک جان کر دینا چاہیے۔ ادب عالیہ کے اپنے تقاضے ہیں ان پر پورا اترنا بہرحال لازم ہے۔

Read more

عورت مارچ

تو تم عورت مارچ میں جاؤ گی قہقہہ گونجا سنا ہے وہاں تو بڑی آزاد عورتیں آتی ہیں اس بار تو سنا ہے انہوں نے سڑک پر رسی لگا کر زنانہ کپڑے بھی لٹکائے ہیں آوازیں اچھا۔۔ یعنی انگیا اور چڈیاں اتنی بے حیائی ۔۔ اُف دیکھنے تو جانا پڑے گا فحاشی کا زہر واقعی معاشرے میں سرایت کرتا جا رہا ہے اور اس کی ذمہ دار بھی یہی عورتیں ہیں ارے بھئی اسی لیے تو اتنے ریپ ہوتے ہیں

Read more

آدرش : صلاح الدین عادل کے ناول ”خوشبو کی ہجرت“ سے ایک اقتباس

(آج اردو کے معروف ادیب، فلسفی اور دانشور شیخ صلاح الدین کی برسی ہے۔ ) دور گھوڑوں کے فارم کے وسیع سبزہ زار میں چاندنی سبزے کا وصف بنی سو رہی تھی۔ یکایک سبزے کے مشرقی کونے کی پستہ قد عمارت میں سے ایک سفید گھوڑا اور گھوڑے کی اوٹ میں آدھا چھپا ہوا ایک آدمی اس کو ایال سے پکڑے سبزہ زار پر نکل آئے۔ سبزہ زار کے وسط میں پہنچ کر آدمی زمین پر بیٹھ گیا اور اس

Read more

شیخ صلاح الدین …. اپنے عہد کا علمی استعارہ

شاید دسمبر کا مہینہ اور 1973 کا سال تھا۔ اتوار کے دن میں اپنے دوست باصر کاظمی کے گھر پہنچا تو ڈرائنگ روم میں ایک بھاری بھرکم شخص ، سوٹ ٹائی میں ملبوس، کوٹ کے نیچے کارڈیگن پہنے، چہرے پر عینک لگائے، آرام کرسی میں تشریف فرما تھے۔ باصر نے بتایا کہ اس کے ابا کے دوست شیخ صلاح الدین صاحب ہیں۔ میں بھی سلام کرکے ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ کئی اور دوست بھی موجود تھے۔ مجھے خود سے

Read more

محمد سلیم الرحمان اور شیخ صلاح الدین میں دوستی

ممتاز ادیب محمد سلیم الرحمان صاحب نے بہت سے لوگوں کے علمی و ادبی سفر میں معاونت کی۔ انھیں آگے بڑھنے کا رستہ دکھایا۔ ان سے تعلق استوار ہونے کے بعد مجھے اس بات کا تجسس رہا کہ 1952میں علی گڑھ سے لاہور آنے کے بعد، میدانِ ادب میں کوئی ایسی ہستی ضرور رہی ہوگی، جس نے ان کا بھی ہاتھ تھاما ہو گا۔ ادبی دنیا میں قدم جمانے میں مدد کی ہوگی۔ آخر ایک دن مجھے اس سوال کا

Read more

محبت نامے لکھنے والی لڑکی

”میں نے تو سنا تھا کہ لوگ موت کے خوف سے محبت اور چٹھیاں سب بھول جاتے ہیں“ اس نے خط کو تہہ کر کے الماری میں رکھا جہاں اس کا آرائشی سامان اور زیور رکھے تھے۔ یہ دل کی شکل کی ایک سنہری ڈبیہ تھی۔ اور ہاتھ میں رکھی رقم کو دیکھنے لگی۔ لوگ نہیں جانتے تھے کہ اس کا اصلی نام بلیو بیل تھا۔ سب لوگ اسے محبت نامے لکھنے والی لڑکی کے نام سے جانتے تھے۔ اس

Read more

کتاب خواں کہاں کھو گیا

بیان کیا جاتا ہے کہ پطرس بخاری نے ایک بار آل انڈیا ریڈیو پر ایک تقریر ریکارڈ کروائی۔ ریکارڈنگ کے بعد پتا چلا کہ ایک لفظ کا تلفظ غلط ادا ہو گیا ہے۔ پطرس نے دوبارہ ریکارڈنگ کرنے کو کہا۔ عملہ متذبذب تھا۔ کسی نے کہا سر جانے دیجیے، ہزار میں کوئی ایک ہو گا جو اس غلطی کو نوٹ کرے گا۔ پطرس نے جواب دیا مجھے اسی ایک خبیث کا ڈر ہے۔ پطرس بخاری کی تلفظ کے بارے میں

Read more

ماضی سے کٹی ہوئی دنیا کا مستقبل اور یوکو اوگاوا کا ناول

چینی مصنف یان لیانکے کا ایک دلچسپ مضمون کورونا کال کے دوران ہی سامنے آیا۔ وہ دراصل ان کا ایک ای لیکچر تھا، جس میں انہوں نے یادداشتوں کی اہمیت پر زور دیا تھا۔ اسی مضمون میں کچھ چینی مصنفین کے حوالے بھی تھے۔ لوہ شُن کی دو کہانیوں کا ذکر تھا۔ میں نے وہ دو کہانیاں تو نہیں پڑھیں۔ البتہ مجھے ظ انصاری کی ترجمہ کردہ ان کی ایک کہانی ’ایک پاگل کی ڈائری‘ مل گئی تھی۔ اس میں

Read more

ٹلا جوگیاں کا شاعر نصیر کوی اور اس کے اندر کی تپش

21 ستمبر 2011 کے انگریزی روزنامہ ً ڈان ً میں ایک خبر شائع ہوئی۔ 65 سالہ شاعر نصیر کوی لاہور کے محافظ ٹاؤن میں اپنے اک دوست کے گھر بیٹھے شوکت خانم کینسر ہسپتال میں علاج کی خاطر فنڈ کے لئے کسی معجزے کا انتظار کر رہے ہیں۔ بنیادی طور پر پنجابی شاعرنصیر کوی اپنی قسمت پر مطمئن تھا۔ جہلم میں جی ٹی روڈ پر واقع دوست کے ہوٹل کے باہر ایک کھوکھے میں پان سیگریٹ بیچتے ہوئے آمرانہ حکومتوں

Read more

اردو کے برطانوی اسکالر ڈیوڈمیتھوز کی موت ، ایک درخشندہ باب کا اختتام

ہمارے یہاں مستشرقین کے بارے میں ہمیشہ سے ایک کشش سی رہی ہے۔ جس قدر انہیں ہمارے بارے میں جاننے کی جستجو ہوتی ہے ، اس سے کہیں زیادہ ہمیں ان غیر زبان کے لوگوں کے بارے میں جاننے کی خواہش ہوتی ہے۔ پروفیسر ڈیوڈ میتھوز کی شخصیت بھی ایسی ہی تھی۔

آج سے تقریباً نصف صدی پہلے کی بات ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے مشہور و معروف ڈاؤننگ کالج کے باہر ایک نوجوان انگریز طالب علم نے اپنی سگریٹ سلگائی اور انگلستان کی مسلسل اور تھکا دینے والی بارش سے بچنے کے لیے خود کو ذرا سا سائبان کے نیچے کر لیا۔ اسی اثنا میں ایک اور طالب علم، جو اپنی شکل اور وضع قطع سے جنوبی ایشیا کا رہنے والا معلوم ہوتا تھا، اس کے نزدیک آ کر کھڑا ہو گیا۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب دو سگریٹ پینے والے کھلی فضاء میں سگریٹ کے کش لگاتے ہیں تو بل کھاتے ہوئے دھوئیں کے درمیان نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔

انہوں نے اپنے اسی دوست سے برصغیر کی زبانوں کے بارے میں کچھ ابتدائی معلومات حاصل کیں اور انٹرویو دینے چلے گئے۔ وہاں ان کے موضوع پر سوالات کے بعد انٹرویو لینے والی پروفیسر نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کسی جنوبی ایشیائی زبان سے بھی واقف ہیں تو ڈیوڈ نے ایک رباعی جو انہوں نے اپنے پاکستانی دوست سے سیکھی تھی، اسے مکمل اعتماد کے ساتھ پڑھ کر سنا دی۔ خاتون نے کہا آپ کو تو بہت اچھی اردو آتی ہے۔

ڈیوڈ کی قسمت نے ان کا ساتھ دیا چونکہ وہاں اور کوئی ان سے بہتر امیدوار موجود نہ تھا لہٰذا ان کی ڈگریوں اور بنیادی قابلیت کی بناء پر لندن یونیورسٹی کے شعبۂ لسانیات میں ان کا تقرر ہو گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ڈیوڈ نے جو رباعی اپنے انٹرویو کے دوران سنائی تھی اس کا دور دور تک اردو زبان سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ وہ رباعی عمر خیام کی تھی۔

Read more

ادا جعفری کی یاد میں

اردو ادب میں تین خواتین نے اپنی انفرادیت کی بنا پر افسانہ، شاعری اور تنقید میں اپنا منفرد شناخت نامہ مرتب کیا ہے۔ افسانوی ادب میں عصمت چغتائی، دنیائے نقد میں ممتاز شیریں اور شاعری کی دنیا میں ’ادا جعفری‘ ۔ ادا جعفری کو اردو شاعری کی خاتون اول بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا شمار بہ اعتبار طویل مشق سخن اور ریاضت فن کے صف اول کی معتبر شاعرات میں ہوتا ہے۔ ادا جعفری اردو زبان کی معروف شاعرہ

Read more

سلووینین ادیبہ للی پوٹ پارا کی کہانی: سرپرائز

ڈاکٹر آفتاب احمد کولمبیا یونیورسٹی نیویارک میں اردو اور ہندی کے سئنیر لیکچرر ہیں۔ انہوں نے کمال شفقت سے ‘ہم سب’ کے لئے سلووینین مصنفہ للی پوٹ پارا کے افسانچہ ”سرپرائز’ کا ترجمہ عنایت کیا ہے۔ للی پوٹ پارا کی تخلیق کردہ یہ کہانی سلووینین زبان کی ایک مشہور کہانی ہے۔ للی پوٹ پارا سلووینین ادب کی ایک معروف، انعام یافتہ مصنفہ اور مترجمہ ہیں۔ موجودہ ترجمہ کرسٹینہ ریئرڈن کے انگریزی ترجمے کا ترجمہ ہے، جو ‘ورلڈ لٹریچر ٹوڈے’ میں

Read more

ملک انصاف کا قبرستان ہوا

عدالت عالیہ کے برآمدوں میں بہت دنوں سے تعفن کی شکایت کی جا رہی تھی
برآمدوں سے گزرتے لوگ اپنی اپنی ناک پر رومال رکھ کر گزرنے لگے تھے
دھیرے دھیرے یہ بو قاضی القضاء کے کمرہ انصاف تک بھی جا پہنچی
بالآخر قاضی القضاء کا بیٹھنا بھی محال ہوا
بالآخر ہتھوڑا انصاف کی میز سے ٹکرایا

Read more

سلیماں سر بہ زانو

سبا باقی، نہ مہروئے سبا باقی! سلیماں سر بہ زانو، اب کہاں سے قاصد فرخندہ پے آئے؟ کہاں سے، کس سبو سے کاسۂ پیری میں مے آئے؟ ۔ ن م راشد میں چھت پر ہوں۔ سگریٹ سلگاتا ہوں۔ دار بقاء میں راشد کو چہل قدمی کرتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ اب کہاں سے قاصد فرخندہ پے آئے؟ کہاں سے، کس سبو سے کاسۂ پیری میں مے آئے؟ لوگ مر رہے ہیں۔ یقین و اعتماد کی مے خالی جام و سبو خالی،

Read more

غیر جانبدار تنقید ‌اور شخصیت پرستی

اردو ادب کی بہت مشہور شخصیت تحقیق، تنقید سوانح اور ترجمہ کے میدانوں میں ناقابل فراموش خدمات کے لئے عالمی سطح پر اردو دنیا میں معروف پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی صاحب نوے کی دہائی میں ایک ادبی رسالہ نکالتے تھے جس میں کسی ہمعصر شاعر کے کلام پر تنقید کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس سلسلے کا عنوان تھا ”پوسٹ مارٹم“ ۔ تنقید صحیح معنوں میں اسی نقد و جرح کو کہا جاتا ہے ، جس میں تنقید نگار صاحب

Read more

اردو ناول: 2000 کے بعد کا منظر نامہ، مختصر نوٹس

وقت کے ساتھ ناول اور فکشن کی دنیا بہت حدتک تبدیل ہو چکی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ہمارا نقاد آج بھی فکشن اور ناول کو اپنی اپنی تعریف و تشریح کے محدود پیمانے میں قید کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ کیا واقعی کہانی کا ایک آغاز ہوتا ہے۔ ایک انجام یا کلائمکس ہوتا ہے۔ کہانی ایک صدی سے زیادہ کا سفر طے کر چکی ہے۔ اور ہماری زندگی تہذیب کی اس اندھیری سرنگ میں گم ہے جہاں نہ کوئی آغاز ہے نہ انجام۔ اس تیز رفتار بھاگتی ہوئی زندگی کا کوئی انجام کیونکر لکھا جا سکتا ہے۔

Read more

شیطان از شفیق الرحمان

اس رات اتفاق سے میں نے شیطان کو خواب میں دیکھ لیا۔ خواہ مخواہ خواب نظر آ گیا۔ رات کو اچھا بھلا سویا تھا، نہ شیطان کے متعلق کچھ سوچا نہ کوئی ذکر ہوا۔ نہ جانے کیوں ساری رات شیطان سے باتیں ہوتی رہیں اور شیطان نے خود اپنا تعارف نہیں کرایا کہ خاکسار کو شیطان کہتے ہیں۔ یہ فقط ذہنی تصویر تھی جس سے شبہ ہوا کہ یہ شیطان ہے۔ چھوٹے چھوٹے نوک دار کان، ذرا ذرا سے سینگ، دبلا پتلا بانس جیسا لمبا قد۔ ایک لمبی دم جس کی نوک تیر کی طرح تیز تھی۔ دم کا سرا شیطان کے ہاتھ میں تھا۔ میں ڈرتا ہی رہا کہ کہیں یہ چبھو نہ دے۔ نرالی بات یہ تھی کہ شیطان نے عینک لگا رکھی تھی۔ رات بھر ہم دونوں نہ جانے کس کس موضوع پر بحث کرتے رہے۔

Read more

کیسی زمیں! کیسا آسماں!

امتیاز کارڈف رائل انفرمری میں بوڑھوں کے وارڈ کا رجسٹرار تھا۔ آج کل جاب کی صورتحال بہت خراب ہے۔ دس سال پہلے پاکستان انڈیا کے ڈاکٹروں کو گھر بیٹھے بیٹھے جاب مل جایا کرتی تھی۔ وہ اچھا وقت تھا۔ نہ کوئی امتحان تھا اور نہ کوئی مقابلہ۔ انگلینڈ کے ڈاکٹر پاس ہوتے تھے تو امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا چلے جاتے تھے اور انگلینڈ کے ہسپتال چلانے کے لیے ایشیا اور افریقہ سے ڈاکٹر آیا کرتے تھے۔ مگر اب صورتحال ہر

Read more

مردہ چور (کہانی)۔

ولی پور میں مردہ چوری ہونے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ چھ ماہ میں یہ تیسری مرتبہ تھا۔ چور نے بھی ولی پور کے قبرستان سے ایک مردہ ہر دو مہینے بعد کی ایوریج سیٹ کی ہوئی تھی۔ اور صرف ولی پور ہی نہیں، آس پاس کے علاقوں، مراد آباد، دنیا پور اور قصبہ گنج کے علاقوں سے بھی ایسی ہی وارداتوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ لوگوں نے بڑی کوششیں کیں۔ کہیں دیوار چڑھائی، کسی جگہ بندہ چوکیداری کو بٹھایا، کہیں رکھوالی کے لیے کتے رکھے لیکن مردے چوری ہونے نہ رکے۔

Read more

حضرت سلطان باہو ؒ : ایک باعمل صوفی بزرگ اور پنجابی شاعر

مادر زاد ولی، قلندرانہ جلال، علم وحکمت کے خزانوں سے بہرہ ور، معرفت کا پیکر جمال اور ایمانی جگمگاہٹوں سے بھرپور شخصیت، جنہوں نے اپنا پیغام پنجابی اور فارسی میں عوام و خواص تک پہنچایا۔ ان کے اس پیغام نے لاتعداد لوگوں کی زندگیوں میں روحانی انقلاب برپا کر دیا۔ وہ سادگی کا پیکر تھے۔ خلوص و وفا ان کی حیات کا لازمی جزو اور اخلاص و مروت ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ آپؒ ریاکاری، نمود ونمائش، تکلف و تصنع

Read more

وہ جو چاند تھا سر آسماں : داستان عشق

نابغۂ روزگار شمس الرحمن فاروقی کی یاد میں، اشعر نجمی کی ترتیب و تہذیب میں، ابھی ابھی چھپ کر جو کتاب ’وہ جو چاند تھا سر آسماں‘ کے نام سے آئی ہے، اسے دیکھ کر مجھے اپنے من پسند ادیب رضا علی عابدی کے افسانے ’جان صاحب‘ کی تین سطریں یاد آ گئیں۔ جان صاحب ایک ایسے کردار کا نام ہے جو کہیں سے آ کر ایک چھوٹے سے شہر کے اسٹیشن پر پڑ جاتا ہے، لوگ اسے پاگل سمجھتے

Read more

پل دو پل کا شاعر اور پل دو پل کی کہانی: برصغیر کے عظیم شاعر ’ساحر لدھیانوی‘ کی 100 ویں سالگرہ

عبدالحئی صاحب 8 مارچ 1941کو لدھیانہ کے ایک جاگیردار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کے کئی بیویاں تھیں، ساحر جب آٹھ سال کے تھے تو ان کی والدہ نے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی اور اپنی محنت کے بل بوتے پر برصغیر کے اس عظیم شاعر کو تن تنہا پالا۔ عبدالحئی نے اپنے تخلص کا انتخاب علامہ اقبال کے اس شعر سے متاثر ہو کر اپنایا۔ ؎ اس چمن میں ہوں گے پیدا بلبل شیراز بھی

Read more

ہکلے نواب کی ادھوری کہانی

یقین تو نہیں مگر حقیت تو یہی ہوگی کہ وہ یعنی وصی چچا کب کے مر کھپ گئے ہوں گے۔ آخر کوئی ہمیشہ جینے کے لیے تو آتا نہیں۔ آخری بار انہیں اپنے ابا کے سوئم والے دن دیکھا تھا۔ صوفے کے ایک کونے پہ بیٹھے خاموشی سے آنسو بہاتے ہوئے۔ حسب معمول ان کی آنکھوں پہ اس وقت بھی پہ کالا چشمہ لگا ہوا تھا جو وہ اپنی بینائی سے محروم ایک آنکھ کو جو دوسری آنکھ سے قدرے

Read more

کیف عرفانی: آدھی صدی کا قصہ

کیف عرفانی ایک عہد کا نام ہے۔ ایک ایسا چشمہ جس نے تین نسلوں کو سیراب کیا ہو، پاکستان بھر سے تشنگان علم اس در پہ پہنچتے، ان سے شاعری سیکھتے، اردو تلفظ پر بات کرتے اور علم کی جھولیاں بھر کے واپس لوٹتے۔ کیف عرفانی وہ انسان جنہوں نے اپنی زندگی اردو کی ترویج میں صرف کی، جن کے قدموں میں بیٹھ کر ہم نے شعر کہنا سیکھا، جن استاد کی گفتگو سن کر ہم نے بولنا سیکھا، جن

Read more

کورونا کی عالمی وبا کے دنوں میں پاکستان کی مادری زبانوں کا ادب

(اس مضمون کا متن انڈس کلچرل فورم کی جانب سے 21 فروری کو اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان کی مادری زبانوں کے ادبی میلے میں پیش کیا گیا، جو معمولی ترامیم کے ساتھ ’ہم سب‘ کے قارئین کے لئے حاضر ہے۔ تاہم یہ ایک سرسری جائزہ ہے جو کسی بھی صورت پاکستان کی مادری زبانوں میں ہونے والے کام کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ یہ موضوع ایک مفصل اور جامع تحقیق کا متقاضی ہے جس کے لئے یہ مضمون ناکافی

Read more

ست رنگے پرندے کے تعاقب میں

کہانی کار:رشید امجد۔ انتخاب و تجزیہ:احمد اعجاز ناشتہ کرتے ہوئے اچانک ہی خیال آیا کہ پچھلے ٹیرس پر پڑی چارپائی کو بنوانا چاہیے۔ محلے والے گھر سے اس نئے گھر میں منتقل ہوتے ہوئے اپنا بہت سا پرانا سامان وہیں بانٹ بونٹ آئے تھے، بس یہ ایک چارپائی کسی طرح ساتھ آ گئی۔ کچھ عرصہ پچھلے ٹیرس پر دھوپ میں بیٹھنے کے کام آئی، پھر زندگی کی مصروفیات بڑھیں تو دھوپ میں بیٹھنا بھی کبھی کبھار ہو گیا۔ چارپائی نواڑ

Read more

عشق کے کوچے سے

محبت کیا ہے؟ خود سے سوال کرتا ہوں تو دنیا کی بھیڑ بھاڑ سے الگ ایک نئی دنیا کے دروازے میرے سامنے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ غیب سے ایک آواز گونجتی ہے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو عشق کرنا جانتے ہیں۔ میرا بے خوف عشق مجھ سے اور میری روح سے وابستہ ہے۔ اس کی محبت میری ہی محبت کا پرتو ہے۔ اس کی لبیک مجھے انتہا کے دروازے تک لے آتی ہے اور محبت کا نغمہ مجھے مسحور و

Read more

پریم چند اور منٹو: چند مماثلتیں

اردو ادب میں موازنے کی پختہ روایت رہی ہے۔ میر انیس کا دبیر سے موازنہ ہمارے سامنے کی مثال ہے۔ دو شاعروں کا ان کی شاعرانہ خصوصیات کی بناء پر موازنہ کرنا برا بھی نہیں اگر غیر جانب داری سے کام لیا جائے۔ علامہ شبلی پر یہ الزام آیا کہ انہوں نے انیس کو دبیر پر فوقیت دی۔ موازنہ کرنا اور مماثلتیں ڈھونڈنا بڑا ادق اور پچیدہ کام ہے۔ ذرا سا دھیان بھٹک جائے تو ذہن کسی اور وادی کی

Read more

ڈاکٹر رشید امجد: اردو دنیا کا روشن چہرہ

ابھی ابھی فیس بک سے یہ خبر ملی کہ ڈاکٹر رشید امجد نہیں رہے۔ وہ ایک عظیم افسانہ نگار تو تھے ہی ، ایک عظیم شخصیت کے مالک بھی تھے۔ اردو دنیا کے بہت سے نام نہاد نام وروں کے برعکس وہ حقیقی معنوں میں اردو دنیا کے قدآور انسان تھے۔ ان کی شفقت اور عنایات سب کے لئے یکساں تھیں۔ آج سے تیرہ چودہ برس قبل جب میرا پی ایچ ڈی کا مقالہ اپنے اختتامی مراحل میں تھا اور

Read more

ادب شناس، ادب پرور ڈاکٹر تحسین فراقی

علمی اور ادبی شخصیات نے چند روز قبل سوشل میڈیا کے ذریعے اطلاع دی کہ مجلس ترقی ادب کے ناظم ڈاکٹر تحسین فراقی جن کی مدت ملازمت میں ابھی ایک سال اور کچھ ماہ باقی تھے، عہدے سے ہٹا کر شاعر اور کالم نگار منصور آفاق کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ مثبت گمان تو یہ کیا جا سکتا ہے کہ ارباب اختیار نے کم از کم اس معاملے میں شاید فراست کا مظاہرہ کیا ہو گا اور فراقی صاحب

Read more

ہمارا نقاد اور موضوع کی اہمیت

’دی روڈز ٹو فریڈم‘ سارتر نے 1940 میں تحریر کیا۔ ان کا ارادہ ان ناول کو چار حصوں میں مکمل کرنے کا تھا۔ مگر تیسرے حصے آئرن ان دی سول کے بعد چوتھے حصے کا خیال سارتر نے چھوڑ دیا۔ جبکہ چوتھے حصے کا کچھ حصہ وہ تحریر کر چکے تھے۔ منصوبہ بند چار جلدوں میں سے صرف تین اشاعت کی گئیں۔ اس کے بعد سارتر زیادہ دنوں تک زندہ بھی نہیں رہے۔ اس تثلیث کے بعد چوتھے ناول لا

Read more

ہم صورت گر کچھ خوابوں کے

انسان ۔برخلاف حیوان۔ جمالیاتی قوانین کو مدنظر رکھ کر تخلیق کرتا ہے یا ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حیوانات کا عمل جبلی ہوتا ہے اور انہیں یہ جبلی خصوصیات فطرت کی طرف سے عطا ہوتی ہے لیکن انسان کا تخلیقی عمل محض جبلی دائرے میں محدود نہیں۔ انسان مختلف مادوں کو جمالیاتی قوانین جو خارجی معروضی ہوتے ہیں کے مطابق تخلیقی روپ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ جمالیاتی تصورات سماجی زندگی اور اس کی ساخت، تاریخی حالات اور

Read more

ناصر کاظمی کا مثالی معاشرہ

(آج ناصر کاظمی کی برسی ہے) ناصر جس معاشرے کا حصہ تھے اس کے مسائل، اس کی ترقی اور اس کی بدلتی ہوئی اقدار میں ان کی دلچسپی آخری سانس تک قائم رہی۔ میں ایک جگہ بیان کر چکا ہوں کہ اپنی زندگی کی آخری شام، طبیعت کی بے انتہا خرابی کے باوجود، وہ یہ جاننے کے لیے بے تاب تھے کہ صدر مملکت ذوالفقار علی بھٹو اس شام زرعی اصلاحات میں کن اقدامات کا اعلان کرنے والے تھے۔ اس

Read more

عہد حاضر کی معتبر شاعرہ نصرت مہدی

اردو شعریات کی طویل رہ گزر پر خواتین کی نمائندگی یوں تو ہر دور میں رہی ہے لیکن بیسویں صدی کے نصف آخر میں ان شاعرات کی ایک طویل فہرست ہمارے سامنے ہے جنھوں نے اپنی شاعری میں نہ صرف یہ کہ نسائی جذبات و احساسات کو رقم کیا بلکہ اپنے مخصوص لہجے کو بھی اس کے تمام شوخ رنگوں کے ساتھ برتا۔ اس کا اثر بعد میں آنے والی شاعرات نے بھی قبول کیا اور پوری خود اعتمادی کے

Read more

رومی کا مولوی سے درویش تک کا سفر

عظیم صوفی جلال الدین رومی تیرہویں صدی کے ایسے شاعر اور صوفی ہیں جنہوں نے کروڑوں انسانوں کی زندگیاں بدل دیں۔ رومی نے جو کہا، جو لکھا آج تک دنیا بھر میں ان کے نظریات کو اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں میں پڑھایا جا رہا ہے۔ رومی مسلم دنیا سے زیادہ امریکا اور یورپ میں بہت پاپولر ہیں۔ یورپ اور امریکا میں لاکھوں ایسے انسان ہیں جو رومی کے عشق میں مبتلا ہیں اور انہیں روحانی دنیا کا دلکش اور خوبصورت پھول

Read more

وہ راسپوٹین تھا

دروازے کے پاس مٹیوں کا ایک ملبہ پڑا ہے۔ میں اندر داخل ہوتاہوں تو جابجا مکڑیوں کے جالے نظر آتے ہیں۔ اور اندر جاتا ہوں تو مجھے وہ چائے خانہ نظر آتا ہے جہاں پرنے زمانے کی کرسیوں پر آٹھ دس افراد بیٹھے تھے اور ایک جگہ بوسیدہ دیوارسے ٹیک لگائے وہ اجنبی کھڑا تھا، جس نے پادریوں جیسا لباس پہن رکھا تھا۔ اس کی داڑھی کسی پہونچے ہوئے ولی کی یاد دلاتی تھی۔ اس کے بال سیاہ اور گھنگریالے

Read more

شریف کنجاہی۔ جدید پنجابی شاعری کا علمبردار

وہ پنجابی، اردو، فارسی اور انگریزی زبان میں پینتیس کتابوں کے مصنف تھے۔ انہوں نے قرآن مجید کا ترجمہ پنجابی زبان میں کیاجو دو جلدوں میں شائع ہونے والا ایک شہکارہے۔ ان کی پنجابی شاعری پنجاب یونیورسٹی کی ایم اے پنجابی کے نصاب کا حصہ ہے۔ پنجابی ادب میں ان کی خدمات پر حکومت پاکستان نے انھیں پرائڈ آف پرفارمینس اور ستارہ امتیاز سے نوازہ۔ اہالیان شہر گجرات نے انھیں نشان گجرات قرار دیا اور اس ایوارڈ سے انھیں سرفراز

Read more

خاقان ساجد کا افسانوی مجموعہ ’آدم زاد‘

میں ساجد کو ایک مصور اورکارٹون آرٹسٹ کے طور پر تو جانتا تھا۔ مگر ساجد افسانے بھی لکھتا ہے؟ اس کی خبر تین سال قبل اس وقت ہوئی جب اس کی کتاب ”آدم زاد“ میرے سامنے آئی۔ میں ان دنوں اردو افسانوں کا انگریزی ترجمہ کر کے ان کو شارٹ سٹوری بک بنانے کی اپنی دوسری کتاب پر کام کر رہا تھا۔ مجھے ایسے ابھرتے ہوئے افسانہ نگاروں کی تخلیقات درکار تھیں۔ جو زمانۂ حال کے جینوئن اور ٹیلنٹیڈ ادیب

Read more

منیر فراز کے افسانے اور رومان بھری نظمیں

ادبی فن پارے کسی بھی حساس فرد کی طرح مجھے بھی کسی دوسرے جہان کی سیر کراتے ہیں۔ میں لکھنے والوں کی ممنون رہتی ہوں کہ وہ ہم جیسے قارئین کے لیے ایسی علمی ادبی اور شاعرانہ ضیافت کا اہتمام فرماتے رہتے ہیں جس سے عوام الناس کی میزبانی ہو جاتی ہے۔ سو شرف میزبانی کے آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے شکریہ کے الفاظ کہنے ضروری ہو جاتے ہیں کہ آخر خیال کے بہاؤ کو تحریک کی ضرورت رہتی ہے۔

Read more

اداس نسلیں: وجودی مسائل کی خوبصورت داستان

بوریت، بے کاری اور مایوسی سے لبریز ان دنوں میں ہمیں اردو ادب کی شان دار کتاب ”اداس نسلیں“ کے ”مکرر“ مطالعے کا ایک بار پھر موقعہ ملا۔ اس ناول میں عبداللہ حسین نے مذہب، محبت، خدائی انصاف، سیاست، انسانی دکھوں اور گزرتے وقت کے ساتھ فرد کے اندرون کی اور سمٹ کے آنے والے وجودی مسائل کا ایک کہانی کی صورت میں احاطہ کیا ہے اور کیا ہی خوب کیا ہے۔ مذکورہ ناول کا ایک ”حسب حال“ اقتباس قارئین

Read more

مذاق، زندگی اور ادب

زندگی وہ نہیں ہوتی ہے جسے دوسرے دیکھتے ہیں۔ ہماری اپنی زندگی ہمارے لئے بھی پیچیدہ ہوتی ہے۔ اور بہت سے معاملات میں ہم زندگی کو سمجھتے ہوئے بھی مختلف گوشوں سے انجان رہتے ہیں۔ اپنی زندگی کے بارے میں، جیسا ہم سوچتے ہیں، محض قیاس ہے، یہ ایک فیصد بھی وہ نہیں ہے جو وقوع پذیر ہو رہا ہے۔ یعنی جو زندگی ہم گزار رہے ہیں اس کے ظاہری حصے یا ظاہری حسن، یا ظاہری بد صورتی تک ہی

Read more

اردو زبان و ادب اور موجودہ ہندوستانی منظر نامہ

یہ بات عام طور پہ کہی جاتی ہے کہ اردو زبان جاننے والے اور ان میں اچھا ادب تخلیق کرنے والے اب ہندوستان میں خال خال ہی رہ گئے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس زبان کی تاریخ کو پڑھو تو اندازہ ہوتا ہے کہ گزشتہ دو سو برس میں اس زبان میں ایک سے ایک ادیب اور شاعر پیدا ہوئے۔ انہوں نے اس زبان کو کسی بھی احساس کمتری کے بغیر اپنی زبان کہا اور اس

Read more

ڈیزی جانسن کا ریڈیو

لکڑیوں کا ساتواں گٹھا اپنے بوسیدہ فورڈ ٹرک میں لاد کر ڈیزی نے سوچا کہ کیا آج بھی یہ اسے صحیح سلامت گھر پہنچا دے گا۔ خوامخواہ کی خودداری اگر اس کے آڑے نہ آئے تو اس کا امیر باپ اس کو نیا ٹرک لے کر دینے کو تیار تھا۔ مگر اسے یہ بالکل پسند نہ تھا کہ کوئی اس سے ننھی شہزادی کی طرح لاڈ کرے، خواہ وہ اس کا باپ ہی کیوں نہ ہو۔ اسے جنگل کے مغربی

Read more

قلم و قرطاس اور تحفیظ علم و اخلاق

اصل علیم و حکیم ذات اللہ تعالٰی کی ذات ہے۔ اسی ذات نے انسان کو تخلیق کر کے جتنا چاہا اتنا علم عطا فرمایا۔ علم کے ذریعے ہی انسان کو اپنی ذات کے عرفان کے ساتھ ساتھ خدا کی معرفت بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ علم نہ ہو تو انسان کو نہ صرف دنیا ورطۂ حیرت میں ڈالے رہتی ہے بلکہ اس کے لئے اپنی ذات بھی اجنبی بنی رہتی ہے۔ خدا کی ذات کا تعارف بھی اسی علم سے

Read more

جوش ملیح آبادی کی زندگی کے چار بنیادی میلانات

(22 فروری جوش ملیح آبادی کی برسی ہے۔)  برصغیر پاک وہند کے قادرالکلام شاعر جوش ملیح آبادی کے متعلق کچھ لکھنا یا تبصرہ کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔ ایک ایسا شخص جو اپنی ذات میں ایک انجمن ہو جس کی شاعری کے علاوہ نثر بھی نقطۂ کمال کو پہنچ رہی ہو کوئی کیا لکھے گا۔ اس لیے جوش سے متعلق گفتگو ان کی اپنی ہی زبانی ٹھیک رہے گی۔ جوش اپنی خود نوشت یادوں کی برات میں لکھتے ہیں کہ

Read more

شوکت صدیقی کے ناول ”خدا کی بستی“ میں سماجی مسائل (حصہ دوم)

مصنف پہلے کی طرح ایک اور اہم پہلو کو زیر بحث لاتے ہیں، سلمان جو بڑا جوشیلا طالب علم ہے وہ انسانیت کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنے اس مقصد کے لیے ایک تنظیم میں شامل ہوتا ہے جس کا نام ”فلک پیما“ ہے، وہ فلاحی تنظیم تھی، اس تنظیم نے ایک ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا، اس کے فنڈز کا بڑا مسئلہ تھا لیکن جیسے تیسے کر کے پورا کر لیا جاتا ہے، جب ہسپتال کی

Read more

آدمی کائناتی ابتری کی روح ہے: زاہد ڈارکی یاد میں

زاہد ڈار ( 1936ء۔ 2021ء) نے اپنے پیچھے چند سوگوار احباب کے علاوہ نظموں کے تین مجموعے ( ”درد کا شہر“ ، ”تنہائی“ اور ”محبت اور مایوسی کی نظمیں“ ۔ ”آنکھ میں سمندر“ انتخاب ہے) ادب کے ان تھک قاری کا امیج اور کچھ سوال چھوڑے ہیں۔ یہ سوال ان کی نظموں سے بھی متعلق ہیں اور ان کے طرز حیات سے بھی۔ اکثر ادیب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے لیے ادب طرز حیات ہے۔ یعنی ان کی

Read more

اقبال اور حلقہ یاراں

اقبال سے مجھے اس چھتنار درخت کی یاد آتی ہے جس کے سائے میں بیٹھ کر میں نے سلطنت افکار و خیال اِس بادشاہ کو پہچانا۔ اُس اقبالؒ سے تو میں واقف تھا جو کشمیری شال اوڑھے، مٹھی پر سر ٹکائے غور و فکر میں مصروف نظر آتے ہیں لیکن وہ اقبال جو میرے بوڑھے والد کے رگ وپے میں مشک بو تھا، اس سے میں نا واقف تھا۔ انھوں نے اقبال سے ہمارا تعلق ایک مذہبی عقیدے کی طرح

Read more

لوم ( Loom)

میں فیکٹری کے گودام سے عجلت میں باہر آیا اور تیز قدموں سے پارکنگ ایریا میں پہنچ گیا، جہاں صرف ایک میری کار ہی پارک تھی، کیونکہ میں فیکٹری سے نکلنے والے آخری چند افراد میں سے تھا۔ رات کا ایک بج چکا تھا اور مجھے گھر پہنچنے کی جلدی تھی، سو گاڑی میں بیٹھتے ہی اسے تیزی سے سڑک پر لے آیا، موڑ مڑتے ہی مجھے فیکٹری کا ورکر راشد نظر آیا، وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا جا رہا

Read more

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی کتاب کی تعارفی تقریب

انجمن اردو، ادارہ زبان و ادبیات اردو جامعہ پنجاب کے زیر اہتمام 10 فروری 2021 کو ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی کتاب Coloniality, Modernity and Urdu Literature کی تعارفی تقریب منعقد کی گئی جس میں معروف ڈرامہ نویس، شاعر اور ناول نگار ڈاکٹر اصغر ندیم سید، ڈاکٹر صائمہ ارم (صدر شعبہ اردو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور) ، ڈاکٹر زاہد منیر عامر (ڈائریکٹر ادارہ ہذا) ، ڈاکٹر محمد کامران، ڈاکٹر نعیم ورک، ڈاکٹر آصف علی چٹھہ، ڈاکٹر انیلا سلیم، محترمہ فرح

Read more

پاک ٹی ہاؤس کی رونق اور کتاب دوست زاہد ڈار چل بسے

پاک ٹی ہاؤس میں بیٹھ کر سینکڑوں طالبان علم کی راہنمائی کرنے والا اور ایک لیجنڈ ادبی انسائیکلو پیڈیا اور انسان دوست شخصیت زاہد ڈار چل بسے پڑھنا لکھنا اور زندگی کی پراسراریت پر غور و فکر کرنا ان کی ذات کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ ان کو جس کسی نے بھی دیکھا ان کے ہاتھ میں کتاب دیکھی، اس نے اپنی زندگی میں سوائے کتاب کے کچھ نہیں مانگا، ہزاروں ادبی شخصیات کی رفاقت اور وابستگی رکھنے والا یہ دانشور

Read more