کیا عمر کے ساتھ ساتھ جنسی شہوت میں بھی کمی آتی ہے؟

عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ جنسی طور پر متحرک رہنے کو ایک بنیادی حق اور اچھے معیار زندگی کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔ جس طرح ایک انسان بطور مرد یا خاتون کے اپنے آپ کو محسوس کرتا یا اس کا اظہار کرتا ہے، یہ ایک حقیقت ہے جو تمام عمر قائم رہتی ہے۔

Read more

ذکر وزیر آغا، میری نظر میں

اچھے ادیب کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہوتی۔ لیکن اس کے کچھ پہلو (خاص طور پر سماجی) ایسے ہوتے ہیں جو پوشیدہ رہ جاتے ہیں۔ جنہیں دریافت کرنے کے لیے اچھی خاصی تلاش و بسیار کرنا پڑتی ہے۔ یہ کام انتہائی مشکل اور محنت طلب ہوتا ہے۔ اگر ادبی شخصیت ڈاکٹر وزیر آغا جیسی متنوع جہات اور ہمہ گیر ہو تو کام اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسی شخصیت کا سماجی پہلو اس کے ادبی پہلو کی

Read more

کیا آپ فنکار گل بہار بانو کے بارے میں فکرمند تھے؟

میں نے ’ہم سب‘ پر گل بہار بانو کے بارے میں ایک کالم لکھا اور فیس بک پر ان کی مدد کرنے والوں کا تعاون چاہا تو مجھے ان گنت دوستوں اور کرم فرماؤں کے پیغامات آئے کہ وہ اس سلسلے میں میری مدد کرنا چاہتے ہیں۔ پہلے کرم فرما ڈاکٹر سجاد صدیقی تھے جنہوں نے مجھے پیغام بھیجا کہ جب وہ انگلستان سے نفسیات کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے لوٹے تو انہوں نے ملتان میں ایک کلینک کھولا۔

Read more

اردو شاعری میں بھینس کا انڈا

صاحبِ مطالعہ ہونے کا دعویٰ تو درکنار تہمت بھی مجھے گوارا نہیں۔ بلکہ اس بات سے چڑ ہوتی ہے کہ کوئی محض کتابی کیڑا ہونے یا نہ ہونے کی بنیاد پر کسی کے درست یا نادرست ہونے کا فیصلہ صادر کرے۔ پڑھے لکھے لوگوں میں یہ عیب بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ مذہبی علما ہر بات کے جواب میں عربی کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں اور نئے زمانے کے تعلیم یافتہ انگریزی۔ اکثر ہوا ہے کہ کسی سوال کے

Read more

کبھی یادیں، کبھی باتیں، کبھی پچھلی ملاقاتیں

شعبہ اردو جامعہ پشاور کی محبت نے عجیب گل کھلائے ہیں کہ بیٹھے بٹھائے اچھے خاصے جوانوں کو ناسٹیلجک بنا ڈالا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو اختر انصاری بنے ہیں جنہوں نے ”یاد ماضی عذاب ہے یا رب“ کہہ کر حافظہ مزید پختہ کر دیا ہے۔ یوں بھی ادب کے طالبعلم ماضی پرست ہوتے ہیں کیونکہ مشرقی تہذیب کو محفوظ کرنے والے ادبا و شعرا کو پڑھ پڑھ کر ایسا ہونا فطری امر ہے۔ ان کو احساسات کی دنیا

Read more

یہی تو خاص بات تھی ہمارے مدبر بھائی کی!

” ظفر! مدبر بھائی کا انتقال ہو گیا“ ۔ دوسری طرف ظفر تڑپ کر بولا۔ ”ان کا انتقال تو اسی دن ہو گیا تھا، جس دن انہوں نے پاکستان چھوڑا تھا۔ ان کا جسم کینیڈا میں تھا مگر ان کی روح ہمارے پاس تھی پاکستان میں“ ۔ فون بند کر کے ہم سوچتے رہ گئے۔ مدبر بھائی کو ہم سے بچھڑے ایک دہائی سے اوپر ہو گیا تھا۔ وہ بچوں کے پاس کینیڈا چلے گئے تھے مگر اب بھی وہ

Read more

آپ کا نیا سال کیسا رہے گا؟ طنز و مزاح

میاں نواز شریف کا سال شروع جنوری سے ہی پرہیزی کھانوں اور سلاد خوری پر مبنی منحوس خوابوں کی وجہ سے طبیعت میں ایک عجیب سی ویرانی اور مایوسی کی کیفیت رہے گی۔ طالع میں مریخ کے ہبوط سے دل دیسی گھی میں بنے ہوئے پراٹھوں اور مٹن قورموں کو ترستا رہے گا۔ گویا حالت یہی ہو گی کہ پیٹ میں چیونٹی نہیں، ڈکار لیں بریانی کے۔ فروری میں زحل کی آٹھویں گھر میں آمد سے سفری رکاوٹوں کی نشاندہی

Read more

سسکیوں کی گونج میں زندگی مسکرائی ہے

زندگی کے کچھ لمحے، کچھ پل، کچھ گھڑیاں آپ کی ساری زندگی کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ جب انسان اپنے آپ سے یہ سوال کرے کہ اس کا مقصد حیات کیا ہے؟ پھر اس کا جواب بھی مل جائے تو پھر اس سے زیادہ خوشی کا عالم اور کیا ہو گا؟ مجھے بھی اس بات کا جواب ملا۔ کبھی یہ ساعتیں آپ کی زندگی کا رخ بدل دیتی ہیں سوچیں ذرا آپ کے زندگی کچھ لمحات کسی کو زندگی دے جائیں

Read more

عمران خان کا نصیب اور سادہ لوح عوام

میرے ایک دوست عمران خان اور کرکٹ کے چاہنے والوں میں سے ہیں، وہ علم نجوم اور علم اعداد (Numerology) پر بھی بہت پکا یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے شوکت خانم کی تعمیر میں بھی چندہ جمع کرنے میں عمران خاں کی مدد کی، عمران خان کے ساتھ کئی اخبارات کی تصویری جھلکیاں اب بھی انہوں نے سنبھال کر رکھی ہوئی ہیں۔ وہ عمراں خاں کے نصیب کے بہت معترف ہیں۔ کہتے ہیں ایک دفعہ میں نے سٹیج پر عمران خان

Read more

چودھویں عالمی اردو کانفرنس: علم و ثقافت کا اجتماع

 کراچی شہر میں ہر طرح کی سرگرمیاں ہوتی ہیں جن میں سیاسی، سماجی اور ثقافتی سرگرمیاں بہت زیادہ اور بہت بڑے پیمانے پر ہوتی ہیں۔ سال کے اختتامی مہینوں میں جب گرمی کی شدت کم ہونے لگتی ہے۔ موسم قدرے خُنکی ماٸل ہوتا ہے۔ تب ادب شناس اور ادب نواز سُخن وران، یوں لگتا ہے کہ جیسے جوش سے بھر جاتے ہیں اور یکے بعد دیگرے ادبی تقریبات منعقد ہونے لگتی ہیں ادبی محفلیں سجنا شروع ہوجاتی ہیں۔ کراچی کی

Read more

پاکستان میں بدلتا انداز مزاح، ’ہم لطیفے بنا کر ہنستے ہیں، کامیڈی ہمارا سیلف ڈیفینس میکینزم ہے‘

پاکستان میں بھی طنز و مزاح کی تاریخ پرانی ہے جس نے ادبی رسالوں اور کتابوں سے گزرتے ہوئے ریڈیو، ٹی وی، سٹیج اور ڈیجیٹل میڈیا تک کا سفر کیا ہے۔ ماضی میں مزاح نگاروں کے موضوع روز مرہ کے معاملات اور سیاست بھی رہے ہیں مگر کیا موجودہ کامیڈی کے موضوعات تبدیل ہوئے ہیں؟

Read more

پاکستان میں انتخابات (2)

ان بلدیاتی الیکشنوں کی ایک اور یاد وہ لڑائی ہے جو اسی نکڑ والے چوک میں لڑی گئی جہاں تین ایریوں کی حدود ایک دوسرے سے جدا ہوتی تھیں۔ چوہدری چاچے کا پھٹا ہوا کرتا اور بھولو پان والے کی ”ہندوستانی بہادری“ کا ایکٹ۔ پتہ نہیں ہوا کیا تھا مخالف پارٹی کیسے وہاں آ دھمکی اور لڑائی کیسے شروع ہو گئی؟ ہمارے امیدوار مجید احمد خان کے ہندوستانی سپورٹر باتوں کی تیر اندازی میں تو ید طولٰی رکھتے تھے مگر

Read more

سنگِ سیاہ: بلوغت میں داخل ہوتے نوجوانوں کے لیے خصوصی تحریر

 ”امی ی ی ی! “ سوٹ دیکھ کر اس نے رو دینے والی آواز میں امی کو پکارا۔  ”ہونہہ“ امی جو ابھی بازار سے آکر تھک کے لیٹی تھیں انہوں نے آنکھیں بند کیے کیے ہی جواب دیا۔  ”امی میں یہ سوٹ بالکل بالکل بالکل بھی نہیں پہنوں گی۔ “ اپنی بات کا زور بڑھانے کے لیے اس نے بالکل کا بے دریغ استعمال کر ڈالا۔  ”مت پہنو میری بلا سے۔  زیادہ نخرے ہیں تو خود بھی ساتھ چلا کرو

Read more

پاپولر ادب

کچھ دن پہلے بوریت کی وجہ سے میں نے اپنی بیوی کا ایک ناول اٹھا کر پڑھا تو پرانی یادیں تازہ ہو گئیں جب بچپن میں ’عمرو عیار‘ سے لے کر ’عمران سیریز‘ اور بعد میں والدہ کے رومانی ناول پڑھا کرتے تھے۔ دل نے کہا بیٹا اس موضوع پر کچھ لکھو۔ اس مضمون کا مقصد ہلکا پھلکا طنز و مزاح ہے نا کہ کسی بھی صنف کو برا کہنا ہے۔ چلیں دیکھتے ہیں اس قسم میں پہلی طرح کی

Read more

پاکستان کی ابتدائی فلموں کے ستارے ملک رحیم خان المعروف سکے دار

 قیام پاکستان کے وقت جہاں حکومت کے اپنے وسائل برائے نام تھے وہیں ہماری فلمی دنیا کا حال بھی اس سے کچھ الگ نہیں تھا۔ 1950 کی دہائی میں فلمی دنیا میں مثبت تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں۔ یاد رہے کہ اسی دہائی میں پاکستانی فلمی صنعت میں سکہ بند لوگوں نے اپنے انفرادی اور اجتماعی کام سے اپنا اپنا سکہ منوا یا۔ ایسا ہی ایک نام جس نے اپنی پہچان فلمی کہانی لکھنے میں کروائی اور اس کے ساتھ ساتھ

Read more

سلمان اختر: ڈاکٹر، شاعر اور دانشور

میں ایک شام امریکہ میں دو بھائیوں سے ملا۔ دونوں نہایت عمدہ شاعر ہیں لیکن ایک جتنا معروف ہے دوسرا اتنا ہی غیر معروف۔ معروف فلمی دنیا کا جاوید اختر اور غیر معروف ماہر نفسیات سلمان اختر۔ چند روز پیشتر جب میں سلمان اختر کے مجموعہ کلام۔ دوسرا گھر۔ کا مطالعہ کر رہا تھا اور محظوظ و مسحور ہو رہا تھا تو سوچ رہا تھا کہ اردو کے بہت سے شاعر یا تو رومانوی شاعری کرتے ہیں یا سیاسی شاعری لیکن

Read more

نیٹ فلکس اور ایمازون پرائم پر اوریجنل پاکستانی ڈرامے اور فلمیں کیوں نہیں؟

کوئی پاکستانی اگر نیٹ فلکس یا ایمازون پرائم کا رُخ کرے تو اسے دنیا جہاں کے ڈرامے اور فلمیں مل جاتے ہیں۔ بس ویرانی ہے تو پاکستان کے خانے میں۔ جو کچھ ہے وہ یا تو پرانا ہے یا اوریجنل کونٹینٹ نہیں۔ مگر ایسا کیوں ہے؟

Read more

شکریہ مریم نواز

اپنے کسی کالم میں، میں نے لکھا تھا کہ پاکستانی معاشرہ ابھی زیر تعمیر ہے جبکہ سچ یہی ہے کہ پاکستان نامی ریاست میں معاشرے کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے ایک ہجوم ہے جو انسانوں پر نہیں بلکہ مرد اور عورت پر مشتمل ہے جس میں مردوں کی اکثریت اس بات کی خواہش مند ہے کہ عورت خواہ اپنی ہو یا دوسری ان کی مرضی کے مطابق سوچے اور پہنے۔ ہمارے ہاں ایک اور سوچ بھی ہے جس

Read more

پروفیسر ڈاکٹر سیّد اسلم  کی کتاب: عافیت

ایک روایت کے مطابق شاہ عبداللطیف بھٹائی نے مشہور ہم عصر شاعر عبدالرحیم گرہوڑی سے منظوم سوال کیا: ” بلا وہ کیا ہے جو سب سے ہے خوب۔“ انہوں نے جواب دیا: ”ایک تن کی درستی دوسرے جوار محبوب!“ (ترجمہ ”قلم بخود“) یہ بات اور ہے کہ کئی لوگ اس بیت کو مکمل طور پر شاہ عبداللطیف بھٹائی کا ہی سمجھتے ہیں۔ اسی طرح مرزا قربان علی سالک بیگ بھی تندرستی کے گن گاتے دکھائی دیتے ہیں لیکن وہ تندرستی

Read more

منٹو نے "ٹھنڈا گوشت” کا دفاع کیسے کیا؟ (1)

بمبئی چھوڑ کر کراچی سے ہوتا ہوا غالباً سات یا آٹھ جنوری 1948ء کو یہاں لاہور پہنچا۔ تین مہینے میرے دماغ کی عجیب و غریب حالت رہی۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کہاں ہوں۔ بمبئی میں ہوں۔ کراچی میں اپنے دوست حسن عباس کے گھر بیٹھا ہوں یا لاہور میں ہوں جہاں کئی ریستورانوں میں قائد اعظم فنڈ جمع کرنے کے سلسلے میں رقص و سرود کی محفلیں اکثر جمتی تھیں۔ تین مہینے تک میرا دماغ کوئی فیصلہ

Read more

ستیہ جیت رے: آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی فلم ہدایتکار

2 مئی 1921 ء تا 23 اپریل 1992ء فلمی سیٹ پہ کام میں مصروف، منہ میں سگار دبائے، سوچتی آنکھیں، نپے تلے انداز میں گفتگو کرتے چھ فٹ پانچ انچ کے باوقار ستیہ جیت رے ایک متاثر کن شخصیت کے مالک، منفرد فلم ساز اور ہدایتکار تھے۔ جن کی کامیابی اور فنی قامت کا رمز انسانی دوستی، جراتمندی، روایت شکنی، فن شناسی اور سادگی میں پوشیدہ ہے۔ وہ پہلے ہندوستانی فلم ڈائریکٹر ہیں جنہیں 1991 میں آسکر ایوارڈ سے نوازا

Read more

سات لڑکیوں کی فوجی میں بھرتی ہونے کی کہانی صنف آہن: ’پہلی بار گن چلائی تو دل دھک دھک کر رہا تھا‘

ڈرامہ سیریل صنف آہن کی کہانی ایسی خواتین کے گرد گھومتی ہے جنھیں بارہا یہ جتایا جاتا ہے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتیں لیکن وہ ایسے تمام لوگوں کو غلط ثابت کر دیتی ہیں جو انھیں قابل نہیں سمجھتے۔

Read more

انسان بے بس اور لاچار ہے

گزشتہ چند برسوں سے میں نے ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیا تھا بلکہ آج کل تو مکمل ہی اجتناب کرتا ہوں اس کی ویسے تو بہت ساری وجوہات تھی مگر جو اہم وجہ تھی ہر وقت مار دھاڑ قتل و غارت جیسی افسوسناک خبروں کے علاوہ سیاسی مار دھاڑ رونے دھونے اور جھوٹ مکاری بدمعاشی جیسے ڈرامے تو نوے فیصد دکھائے جاتے مگر افسوس آج کل تفریحی یا اصلاحی پروگرامز نہ ہونے کے برابر ہی ہوتے ہیں ، نوے کی

Read more

پاکستان میں 50 روز

پاکستان میں 50 روز گزارنے کے بعد رواں ہفتے ہماری امریکہ واپسی ہو گئی ہے۔ سیالکوٹ انٹرنیشنل ائرپورٹ سے امارات کی براستہ دوبئی، نیویارک کے لیے ایک طویل اور تھکا دینے والی ساڑھے اکیس گھنٹوں پر محیط پرواز کے بعد جب نیویارک کے جان۔ ایف۔ کینیڈی (JFK) ائرپورٹ سے باہر نکلے، تو نیویارک کی ان دنوں چلنے والی روایتی یخ بستہ ہواؤں نے پرتپاک استقبال کیا۔ نیویارک کے ’جے۔ ایف۔ کے‘ ائرپورٹ کے ٹرمینل 4 سے ہمارا ”رومانس“ بھی کوئی

Read more

بی بی سی تھری کا کامیڈی ڈرامہ’برٹنی‘: ’میں نے اپنے دماغ کے ٹیومر پر ہنسنے کا فیصلہ کیا‘

چارلی کلائیو کو جب بتایا گیا کہ ان کے دماغ میں ٹیومر ہے تو وہ روئیں نہ ہی صدمے سے زمین پر گر پڑیں جیسا کہ شاید آپ کو توقع ہو بلکہ انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے ٹیومر سے متعلق مزاح تخلیق کریں گی۔

Read more

بیتے ہوۓ کچھ دن ایسے ہیں، ہم راہی جنہیں دہراتے ہیں !

اسکول میں گزارے گئے دن، ہمارے ہاں عام طور پر، ہمیشہ یاد رہ جانے والے اور زندگی کے بہترین ایام تصور کیے جاتے ہیں، شاید ایسا اس لئے ہے کہ یہ لمحات تعلیمی سلسلے کے ابتدائی اور بنیادی شب و روز سے سجے ہوتے ہیں اور بلاشبہ، یہی وہ مرحلہ ہے جو غیر محسوس طریقے سے سماجی رابطے کی پہلی ( با ضابطہ ) سیڑھی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یوں وقت کے ساتھ ساتھ، دنوں، ہفتوں اور مہینوں

Read more

کیا پکایا جائے اور کیا لکھا جائے؟

گھر چلانے کے لئے جہاں اور بہت سے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، وہاں روزانہ ایک مشکل سوال بھی درپیش ہوتا ہے کہ آج کیا پکانا ہے؟ ہمارے گاؤں میں ایک چودھری صاحب رہتے تھے۔ سیاسی پس منظر بھی تھا۔ اس لئے ڈیرہ بھی چلتا تھا۔ نوکر صبح سویرے جب اس دن کے کھانے کے لئے پوچھتا تو اپنی پسند بتانے سے پہلے ہمیشہ یہی جواب دیتے کہ آج زہر پکا لو۔ اس جواب میں بھی یہی راز پوشیدہ تھا کہ

Read more

طاہر انوار پاشا ”نیل کے سنگ “

شاعر سعود عثمانی بھی کچھ نہ کچھ ٹھیک ہی کہتے ہونگے کہ کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے اور یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی۔ اگر اسے بالکل درست بھی مان لیا جائے پھر بھی اس صدی کا ابھی اکیسواں برس ہی شروع ہوا ہے۔ ابھی اس صدی کو ختم ہونے میں بہت عرصہ چاہئے۔ پھر عشق روٹھ بھی جائے تو عشاق میں ایک عرصہ تک وضع داریاں ضرور برقرار رہتی ہیں۔ سو ابھی کتابیں

Read more

ایک پتہ بھی سبز باقی نہیں رہے گا

طالبان آ رہے ہیں۔ چھا رہے ہیں۔ یوں جیسے لہلہاتی فصل پر ٹڈی دل کا حملہ ہو جائے اور پھر ایک بھی سبز پتہ باقی نہ رہے۔ سب تاراج ہو جائے۔ تیار ہو جائیے اب ایک بار پھر ٹی وی اسکرین پر وہی مناظر دیکھنے کے لیے۔ نیلے برقعوں میں سمٹی سمٹائی ڈری ڈری سی عورتوں پر لاٹھیاں برساتے بہادر طالبان۔ میدان میں سر سے پیر تک باپردہ دہشت میں ڈوبی شرم سے زمین میں گڑی بے بس نہتی عورت

Read more

آرٹ اور مذہب

آپ اور پاپا 2007 میں بھی سیم ہیومر انجوائے کرتے تھے آپ 2021 میں بھی ان ہی باتوں پر ہنس رہے ہیں۔ آپ کے وہی ٹاک شوز، وہی ڈرامے وہی گھسا پٹا مزاح جو grow نہیں کر رہا۔ آپ کے مزاحیہ شوز کی ابھی تک وہی extreme ہے کہ آدمی عورتوں کا گیٹ اپ کر لیں تو یہ آپ لوگوں کے لئے بہترین مزاح اور مذاق ہے۔ ماما آپ لوگ grow کیوں نہیں کر رہے؟ آپ سب پاکستانی ایک ہی

Read more

دردانہ بٹ: پاکستان کے سٹیج، ٹی وی اور فلم کی اداکارہ دردانہ بٹ جمعرات کی صبح وفات پا گئیں

پاکستان کے سٹیج، ٹی وی اور فلم کی اداکارہ دردانہ بٹ جمعرات کی صبح وفات پا گئیں ہیں، وہ گزشتہ چند برسوں سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں اور وفات سے قبل ونٹیلیٹر پر تھیں۔

Read more

میرا سٹڈی روم

ہر شریف آدمی کو ہر جگہ ایک پناہ گاہ کی تلاش ہوتی ہے بے شک وہ اپنے گھر میں ہی کیوں نہ ہو۔ غالباً اسی غرض سے اس ناچیز نے اپنے گھر میں ایک سٹڈی روم بنوایا اور یقین کیجیے کہ ”زیست کا مزا پایا“ ۔ جب سے سٹڈی روم بنا ہے میری خواہش ہوتی ہے کہ میرا زیادہ وقت اسی میں گزرے اور سچ پوچھیے تو گھر والوں کی بھی کم و بیش یہی خواہش ہوتی ہے۔ سٹڈی روم

Read more

افغانستان میں طالبان: صحافیوں کی دعوت، بغیر داڑھی اور ویزا اینٹری: طالبان کا افغانستان کیسا تھا؟

سنہ 1997 میں طالبان کے افغانستان پر قبضے کے ابتدائی دنوں کے دوران کیے جانے والے ایک سفر کی چند یاداشتیں جو اس وقت کے طالبان کے قوانین، خواتین پر پابندیوں، انسانی حقوق کی صورتحال اور برسوں سے جاری خانہ جنگی کے بعد کی صورتحال کے بارے میں یاد دلاتا ہے۔

Read more

 عقیدہ یا آرا مشین

"آپ کس فرقے کے پیروکار ہے؟” سوال کرنے کے بعد اس نے گردن نیچے کی اور کتاب میں منہمک ہو گیا۔ میں عین اس کے سامنے کرسی پر ٹیک لگائے بیٹھا تھا، ہمارے بیچ صرف ایک چھوٹی سی میزحائل تھی۔  آگے بڑھنے سے پہلے میں آپ کو اس سوال کا پس منظر بتاتا چلوں؛ میری استاد سے پڑھائی کے پہلے ہی دن یہ ڈیل ہو چکی تھی کہ ہم صرف نصاب کے گرد نہیں گھومیں گے بلکہ نصاب و کتاب

Read more

تعلیم کی چھٹی اور دوسری طرف سنگل نصاب میں ہندو مسلم نفرت

اس کرونا کی وبا نے کئی معجزے جیسے لوگ ہم سے چھینے۔ گلیوں، محلوں اور شہروں نے سناٹے کی چادر پہن لی پر نہ تو پھل پھول، پودے، پرندے، ندیاں اور پورا ماحول آلودگی سے کافی حد تک پاک و صاف رہا ہے۔ بڑھاپا، حالت کی کشیدگی، پیسے کی تنگی یا کرونا کی یکجا لہریں بہت ساری بہتی ندیوں کو موت کے خاموش سمندر میں لے ڈوبی ہیں اور روانی دن بہ دن گھری ہوتی جا رہی ہے۔ نہ جانے کتنے حسین پودے، خوشبودار گل بننے سے پہلے مرجھا جائیں گے اور نہ جانے کتنے خوشبودار گلوں کی کو ملتا گل ہو جائے گی۔ پر یہ یقیں ہے دھرتی کے جنگل میں جتنے بھی پرندے جیوت بچیں گے ان کی عمریں دراز ہوں گی۔

Read more

خاکہ زنی : اک ضرب ظریفانہ

پھر کچھ کتابیں ایسی ہیں جو اپنے سائز اور حجم کی بنا پر مطالعے کے علاوہ دیگر کارہائے خیر کے لیے بھی استعمال ہوتی ہیں۔ مثلاً جب سے قاسمی صاحب کی ”کالم تمام“ اور شیرازی صاحب کی ”بابو نگر“ میرے سرہانے دھری ہیں میں اپنے آپ کو محفوظ سا سمجھنے لگا ہوں۔ یقین جانیئے! اب کوئی پریشانی تو کیا، گھر کے شرارتی بچے اور بیگم بھی قدرے فاصلے پر رہتے ہیں۔ اب ان کتابوں میں جناب اشفاق احمد ورک کی ”خاکہ زنی“ کا اضافہ ہو گیا ہے جس کا سائز اگرچہ اتنا بڑا نہیں لیکن رائٹر ایک دبنگ جاٹ ہونے کی وجہ سے اس کا پڑھنے والا اپنے اندر ایک عجیب دبدبہ محسوس کرتا ہے چنانچہ ”خاکہ زنی“ کے آنے کے بعد میرا حفاظتی حصار اور بھی مضبوط ہو گیا ہے۔

Read more

ناصر ملک کا "مزاح کبیرہ”

کسی دانشوروں کا قول ہے کہ سب انسانوں کی زندگی میں آنے والے مسائل کم و بیش یکساں قسم کے ہوتے ہیں مگر ان کا سامنا کرنے کا انداز سب کا مختلف ہوتا ہے، لہذٰا انسانوں کی حقیقی پہچان ان کے مسائل سے نہیں بلکہ مسائل کے ساتھ نمٹنے کی قوت اور صلاحیت سے ہوتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ عملی زندگی کے مسائل بہت جانکاہ ہوتے ہیں اور انسان ان سنگلاخ پتھروں پہ چلتے چلتے اپنی ظاہری اور باطنی

Read more

بزدلی نے غیرت کا پرچم اٹھا رکھا ہے

زندگی اتنی بے وقعت چیز نہیں ہوتی کہ مرنے کی آرزو کی جائے۔ فرد اپنی ذات میں آزاد ہے، وہ اپنی خوشی سے خود کشی بھی کرلے تو کون روک سکتا ہے۔ افسوس مگر یہ ہے کہ سماج میں غیرت کے تمغے اکثر انہی سینوں پہ سجے ہیں جن کے اندر دھڑکتے دل ما یوسی کی آماج گاہیں ہیں۔ خود ہی دیکھ لیں۔! یہاں ہر دوسری زبان پہ ایک جملہ ’’میں منافق نہیں ہوں‘‘ ملے گا۔ اب اس ’’منافق نہیں

Read more

افغان کامیڈین خاشہ زوان کا قہقہہ

ایک ہنسانے والا آنسو چھپاتا پھرتا ہے، ہے نا حیرت کی بات، جی ہاں کسی دور میں چارلی چیپلن کا مسئلہ مفلسی تھی، لیکن چند روز قبل تک ایک ہنسانے والا اور بھی تھا، دھان پان سا، جس کے بے تحاشا بڑھے بال، پتلا سا چہرہ اور سر پر ٹکی ٹوپی دور سے ہی پتہ دیتی تھی کہ جناب سلسلہ خنداں کے گدی نشین ہیں۔

یہ تھا وہ شخص جو دو موت کے ’فرشتوں‘ کے بیچ بیٹھ کر بھی جگت بازی سے نہیں چوکا، اور یکے بعد دیگرے دو تھپڑ اور کئی گولیاں کھائیں۔ اگرچہ اس نے کوئی قول نہیں کہا لیکن ان کہے الفاظ اس کے علاوہ کیا ہوں گے۔

Read more

طالبان افغان اہلکاروں کو انتقامی کارروائیوں میں نشانہ بنا رہے ہیں: ہیومن رائٹس واچ

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان سرکاری اہلکاروں، سیکیورٹی فورسز اور بعض اوقات ان کے رشتے داروں کو حراست میں لینے کے ساتھ ساتھ نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔ البتہ طالبان نے انتقامی کارروائیوں کی تردید کی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ طالبان کی انتقامی کارروائیاں ان کے دعوؤں کے برعکس ہیں جن میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ افغان حکومت، امریکہ اور نیٹو فورسز کے لیے کام کرنے والوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔

Read more

’اگر آپ کا شوہر آپ پر ہاتھ اٹھائے تو آپ اسے چھوڑ سکتے ہیں لیکن یہی کام آپ کا بچہ کرے تو؟‘

کسی پرتشدد بچے کو سنبھالنا ایک نہایت مشکل کام ہے اور اس متعلق اکثر بات تک نہیں کی جاتی۔ سنہ 2010 میں آکسفرڈ یونیورسٹی کے محققین نے بچوں کے والدین پر تشدد کے بارے میں پولیس کے اعداد و شمار کا پہلا تجزیہ کیا تھا جس سے پتہ چلا کہ 12 ماہ کے عرصے میں لندن میں اس طرح کے 1900 واقعات ریکارڈ ہوئے۔

Read more

امریکہ کے اصلی ہیر اور رانجھا

وہ دونوں شہر کے مشہور کالج میں پڑھتے تھے۔ لڑکے کا باپ ایک ریٹائرڈ فوجی کرنل تھا اور ان کا خاندانی پیشہ سپاہ گری تھا۔ لڑکی کا باپ ایک امیر بزنس مین اور ایک بڑے کسینو کا مالک تھا۔ لڑکے کا نام رچرڈ تھا۔ وہ دراز قد، سنہری بال، نیلی آنکھیں اور مردانہ وجاہت رکھنے والا خوبصورت نوجوان تھا۔ وہ پیار بھرا دل رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک بہت اچھا پینٹر بھی تھا۔ وہ اپنی ایک کالج فیلو Native American

Read more

حماقتیں: شفیق الرحمن نرے ادیب نہیں، پہنچے ہوئے بزرگ تھے

"ان دنوں الیکشن زوروں پر تھا۔ الو شناس معروض ہوا کہ ہم دلی میں اس قدر مقبول ہوچکے ہیں کہ خواہ کسی ٹکٹ پر کھڑے ہو جائیں انشا اللہ کامیاب ہوں گے۔ بادشاہ گروں سے مشورہ لینا بے کار تھا۔ کیونکہ الیکشن کے معاملے میں وہ بالکل یوں ہی تھے۔ ایک ایک ٹکٹ پر لاتعداد امیدواروں کو نامزد کر دیتے تھے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات امیدواروں کی تعداد رائے دہندگان سے زیادہ ہوجاتی۔ لطف یہ تھا کہ ہمارے مقابلے

Read more

مشتاق احمد یوسفی کے منتخب کرداروں کا نفسیاتی و غیر نفسیاتی مطالعہ

اردو نثر میں مزاح کی پہلی بڑی اور جاندار آواز خطوط غالب ہیں۔ غالب ؔکی نثر میں پہلی بار اردو اپنی آزاد اور فطری روش پر قدم رکھتی ہے۔ جہاں عقل، جذبہ اور طرز اظہار تینوں میں فطری رنگ و آہنگ کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔ خطوط غالب ؔ کے بعد اردو طنز و مزاح کے میدان میں سب سے بڑا انقلابی اقدام لکھنؤ میں ”۔ اودھ پنچ“ کے اجراء کا تھا۔ اودھ پنچ سے وابستہ مزاح نگاروں میں سرشار،

Read more

کیا ہم اپنے اسٹوڈنٹس کو واقعی اپنے بچے/بچیاں سمجھتے ہیں؟

بہت پرانی بات ہے کہ ہمارا ایک دوست جو ہماری طرح ہی یونی ورسٹی میں پڑھاتا تھا، نے مجھ سے کہا کہ تم لڑکے لڑکیوں کو بیٹا کہہ کر کیوں پکارتے ہو؟ میں نے کہا کہ وہ اس لیے کہ میں انہیں ایسا سمجھتا ہوں۔ وہ ہنس دیا کہ ایسا نہیں ہوتا کیا تم ان طالبعلموں کے لیے بالکل ویسی ہی درد مندی رکھتے ہو جیسی اپنی اولاد کے لیے رکھتے ہو؟ کیا ان کی ذمہ داری ان کے طبعی

Read more

مبشر علی زیدی کے معصومانہ سوال اور تنقیدی شعور

مبشر علی زیدی نے آج دو مختلف پوسٹس میں ایک ہی معاملے کے دو پہلوؤں پر بحث چھیڑی۔ پہلی پوسٹ میں ان کا کہنا یہ تھا کہ کوئی روشن خیال جرنیل سخت مارشل لاء لگائے، آئی ایس آئی کو لگام ڈالے، جہادی تنظیموں کو جڑ سے اکھاڑے، مدرسے بند کرے، دہشت گردوں کو لٹکائے، لاپتہ افراد کو رہا کرے، فوج کو کراچی اور بلوچستان سے واپس بلائے، دفاعی بجٹ کم کرے، فوج کے کاروبار بند کرے، اور جرنیلوں کو زمین

Read more

اپنی زندگی ضرور خود جئیں

چھٹی دور سے قوس قزح‌ کی طرح‌ دکھائی دیتی ہے اور قریب آنے پر غائب ہوجاتی ہے۔ جانے سے پہلے جتنا بھی فائلوں‌ کا ڈھیر مختصر کرنے کی کوشش کی ہو، آنے کے بعد وہ پہلے سے بڑا ہوتا ہے۔ سیسیفس کی متھ کی طرح جس میں ایک آدمی کو خداؤں نے لعنت دے کر اس کام پر لگا رکھا تھا کہ ایک بھاری پتھر کو پہاڑ پر چڑھائے۔ وہ سارا دن اس پتھر کو اوپر چڑھانے پر خرچ کرتا

Read more

عارفہ صدیقی اور استاد نذر حسین کی کہانی

دنیا کی نظر میں یہ ایک بے جوڑ شادی تھی۔ رنگ ونور کی دنیا کی اپسرااور ساحرہ نے اپنے آپ سے 30سال بڑے استاد سے شادی رچا لی تھی۔ و ہ شخص شکل وصورت سے بھی وحید مراد, محمد علی اور دلیپ کمار سے دور تک مشابہت نہیں رکھتاتھا۔ شوبز سے وابستہ افراد کو عموماََ روپے کا پجاری سمجھاجاتاہے, غازے کی تہیں چہروں پہ سجانے والیاں اپنا اور اہل خانہ کا مستقبل محفوظ بنانے کی غرض سے وڈیروں, جاگیرداروں اور صنعت کاروں سے خفیہ شادیاں رچالیاکرتی ہیں ۔ لیکن اس شادی میں ایسی کسی ’’بیمہ پالیسی ‘‘ کاخیال بھی نہیں رکھاگیاتھا۔

اس نے ریڈیو لاہور میں استاد کو گاتے سنا تو اسے ایسا محسوس ہواکہ جیسے سب کچھ تھم گیاہو۔ استاد کے سروں کا جادو اس پر چل گیاتھا۔ وہ بے خود ہوگئی ۔ اس کی روح اور دل ودماغ اس سے سوال کررہے تھے کیاکوئی ایسے بھی گاسکتاہے؟؟اس نے اسی لمحے فیصلہ کرلیاکہ وہ سب کچھ چھوڑ دے گی۔ لائم لائٹ، اسٹارڈم اور روپے پیسے کوٹھکرانا آسان نہیں ہوتالیکن اس نے سب کچھ چھوڑ کر استاد سے شادی ک

Read more

عید آئی خوشیاں لائی؟

عید آئی خوشیاں لائی مگر کس کے لیے؟ بہت سوں کے لیے۔ مثلاً مویشی قربان کرنے والے خوش ہیں کہ وہ سنت ابراہیمی ادا کرنے کے قابل ہیں۔ مویشی فروخت کرنے والے ان سے بھی زیادہ خوش ہیں کیونکہ ان کے جانور کی عام طور پر جو قیمت ہوتی ہے، وہ اس سے کئی گنا زیادہ قیمت ان دنوں میں وصول کر لیتے ہیں۔ مویشیوں کا چارہ فروخت کرنے والے بھی بہت خوش ہیں کہ ان کا چارہ باقی نہیں بچتا اور ہاتھوں ہاتھ مہنگے داموں فروخت ہو جاتا ہے۔

Read more

مرنے والی کبھی واپس نہیں آتے

مرنے والے کبھی واپس نہیں آتے۔ جس نے بھی کہا ایک ہزار فی صد درست کہا کہ قبر کا عذاب فقط مردہ جانتا ہے۔ ”ستارے کیا کہتے ہیں“ اور ”آپ کا یہ ہفتہ کیسا رہے گا“ والے صفحات ہمیشہ مزاح سمجھ کر پڑھے اور کبھی ان پر یقین نہیں کیا۔ مگر آج خیال آ رہا ہے کہ ہو سکتا ہے واقعی ستارے گردش میں آتے ہوں۔ اسلام آباد کا ایچ نائن اتوار بازار جو جی نائن کراچی کمپنی کے اشارے

Read more

عبدالرزاق اور ندا ڈار: خاتون کرکٹر کی جسامت پر تبصرے کے بعد سابق کرکٹر عبدالرزاق پر سوشل میڈیا صارفین کی تنقید

پاکستان کے سابق کرکٹر عبدالرزاق کا ندا ڈار سے متعلق بیان سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا ہوا ہے جس میں وہ کہتے ہیں ’آپ ہاتھ ملا کر دیکھ لیں، یہ لڑکی تو نہیں لگتی۔‘

Read more

منٹو وارث علوی کی نظر میں

سعادت حسن منٹو کی شخصیت میں دلچسپی کا آغاز ان کے نام ہی سے ہو جاتا ہے۔ شروع میں سب ہی کو حیرت ہوتی ہے کہ یہ منٹو کیا ہے۔ بلونت گارگی لکھتے ہیں۔ ”بہت عجیب نام تھا۔ منٹو جیسے لارڈ منٹو، پنٹو۔ یا ومٹو، بہت نقلی یا مضحکہ خیز! منٹو کے نام میں سعادت حسن کی پوری ادبی اور غیر ادبی شخصیت سمٹ آئی تھی۔ منٹو کو بھی اس کا احساس تھا چنانچہ لکھتے ہیں :  ”اور یہ بھی

Read more

لاشعور۔

آپ کے پاس کوئی الارم کوئی موبائل فون کوئی جگانے والا نہ ہو آپ رات کو تہیہ کر کے سو جائیں یا سچے دل سے دعا مانگ کر سو جائیں کہ صبح فلاں وقت پر مثلاً چار بجے یا چھ بجے اٹھ جاؤں گا۔ ضرور اٹھ جاؤں گا۔ ہر صورت اٹھ جاؤں گا۔ اے باری تعالی ’! دیکھ مجھے صبح سویرے بہت اہم میٹنگ پر جانا ہے۔ اے بھگوان! او گاڈ! اے یسوع مسیح صبح پانچ بجے میری فلائٹ ہے۔ لہذا مجھے جگا دینا۔

Read more

چین اپنا یار ہے، اس پر جان نثار ہے

چین کی کمیونسٹ پارٹی نے حال ہی میں اپنی تشکیل کی صد سالہ تقریبات منعقد کی ہے۔ صد سالہ جشن میں شرکت کے لیے چین نے دنیا بھر کی پانچ سو زائد سیاسی پارٹیوں کو زوم کے ذریعے شرکت کرنے اور اپنے خیالات کے اظہار کی دعوت دی۔ اتنی بڑی تعداد میں دعوت کا مطلب تھا کہ گویا دنیا بھر میں کسی قابل ذکر پارٹی کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔ اگر کوئی استشناء تھا تو وہ خود چین کی

Read more

سنیل گواسکر کی سالگرہ: ورلڈ کپ میں متنازع اننگز اور عمران خان سے متعلق پیشگوئیاں

پاکستان کے ورلڈ کپ جیتنے کے بعد سنیل گواسکر کی عمران خان سے متعلق ایک اور پیشگوئی درست ثابت ہوئی جس پر لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ ’گواسکر کہیں نجومی تو نہیں ہیں؟‘

Read more

قدرتی نظارے بکھرے ہیں چار سو

ظفر خٹک اور ہمارے دوستوں میں المعروف لالا جو کئی محاذوں پر سرگرم عمل ہیں۔ ان کے تعلقات اور معاملات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ پانچ موبائلز کی چارج بھی انھیں کم پڑ جاتی ہے۔ کھانے پینے اور سونے کا وقت بھی اکثر و بیشتر انہی مصروفیات کی نذر ہوجاتا ہے ۔ فرنٹیر پبلشرز ایسوسی ایشن، ماسٹر خان گل فاؤنڈیشن اور انجمن تاجران پشاور سٹی وہ اس مثلث کے مرکز ہیں اور تینوں کی نمائندگی کا صحیح معنوں میں

Read more

مسعود اشعر: اپنے آپ کو کہانیاں سنانے والا

(مگر یہ کہانیاں سب کے لئے ہیں)       اخبار نویسی اور صحافت کو ادب کی روایت سے الگ کر کے ہم نے اپنا بہت نقصان کیا ہے۔ نا انصافیوں کے مر تکب بھی ہوئے۔ غالبا یہ ادعائیت زدہ سماجی حقیقت نگاری کی ضد میں ہوا۔ بہر نوع، وجہ کچھ بھی رہی ہو، خسارہ تو اپنی ادبی روایت کا ہی ہوا۔ پتہ نہیں، ہم یہ کیوں بھول جا تے ہیں کہ عام زندگی اور یہاں تک کہ زندہ مسئلوں کا حق ادا

Read more

ہم سٹائل ایوارڈز 2021 کی تقریب میں پاکستانی فنکاروں کے ملبوسات پر تنقید: ’یہ ہم سٹائل ایوارڈز ہیں میٹ گالا نہیں، خود کو کنٹرول کریں‘

کئی صارفین کو ہم سٹائل ایوارڈز کی تقریب میں پاکستانی فنکاروں کے ملبوسات سے گریمی ایوارڈز، ہیلو وین اور میٹ گالا کی یاد آئی تو کسی نے ان کا موازنہ انڈین فنکاروں سے کیا۔

Read more

نیش عشق: ڈاکٹر اظہار ہاشمی کے قلم سے

جس دن سے کتاب ”نیش عشق“ ہاتھ میں آئی تھی، دل میں ایک خواہش تھی کے اس کے بارے میں کچھ لکھا جائے۔ بہت دن اس شش پنج میں گزر گئے کہ اس خوبصورت کتاب کے بارے میں اپنے جذبات کو کاغذ کی نذر کرنے کی جسارت کی جائے یا نہیں۔ آخر استدلال کو احساس کے ہاتھوں شکست فاش ہوئی اور طے پایا کہ ہماری رائے کتنی بھی ناپختہ کیوں نہ ہو، ایک باکمال کتاب کے بارے میں اپنے قلبی

Read more

ظفر صمدانی: ایک با کمال شخصیت  (آئی اے رحمان کی تحریر)

دوسری یا تیسری بار گھنٹی بجانے کے بعد امید بندھی کہ گھر میں رہنے والے کسی فرد سے ملاقات ہو ہی جائے گی اور ممکن ہے مکان میں داخلے کی اجازت بھی مل جائے، وہ یوں کہ ایک نوجوان گیٹ کی طرف آتا نظر آیا۔ وہ سفید قمیص شلوار پہنے ہوئے تھا جو کھاتے پیتے لاہوریوں کا شب خوابی کا لباس ہوتا تھا، گریبان کھلا ہوا، سر پر بال بڑے سلیقے سے بکھرائے ہوئے اور ہاتھ میں آدھی کھلی کتاب

Read more

فرانس میں آن لائن ہراسانی کا اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ

یورپی ملک فرانس میں اسلام کے خلاف پوسٹس لگانے والی ایک لڑکی کو دھمکیاں دینے کے الزام میں کئی نوجوانوں کے خلاف آن لائن ہراسانی کا ایک مقدمہ شروع ہو گیا ہے۔ جسے انٹرنیٹ کے غلط استعمال کو روکنے کے سلسلے میں اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ قرار دیا جارہا ہے۔

سائبر بلی انگ یا آن لائن دھونس جمانے کے اس مقدمے میں مختلف مذاہب اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے 13 نوجوانوں کو آن لائن دھمکیاں دینے، شہری کو ہراساں کرنے اور ریپ کرنے کی دھمکی دینے کے الزامات کا سامنا ہے۔

Read more

مغربی ادب۔ افلاطون سے پوسٹ ماڈرن ازم تک (چوتھی قسط)

جب بھی ہم قرون وسطی یا مڈل ایج کا ذکر کرتے ہیں تو ہمارا ذہن خودبخود پانچویں صدی ہجری سے پندرہویں صدی ہجری کے درمیان گزرے ہوئے ایک ہزار برسوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے۔ مغربی تاریخ کا یہ دور 476 عیسوی میں مغربی رومن ایمپائر کے زوال سے شروع ہوتا ہے اور لگ بھگ 1454 عیسوی میں مشرقی رومن ایمپائر کے زوال پر ختم ہوتا ہے جس کے بعد یورپ کی تہذیب سے تاریکی کا مکمل خاتمہ ہوجاتا ہے اور وہ چند سو برس نشاط ثانیہ کے آتے ہیں جس کے بعد یورپ ایک جدید ماڈرن سائنسی دور سے بدل جاتا ہے۔

Read more

حضرت طالب جوہری: جن سے ملنے کا ہر کوئی طالب تھا

دنیا میں ایسے چند ہی لوگ وجود رکھتے ہیں جن سے لوگ ان کی زندگی میں بھی ملنے کا اشتیاق رکھتے ہیں اور ان کے گزر جانے کے بعد ان سے جڑی یادوں کو یاد کر کے لمبی سانسیں بھرتے ہیں۔ یہ حقیقت بھی ہے اور آنکھوں دیکھا مشاہدہ بھی کہ دولت مند آدمی زندگی میں تو شاید لوگوں کا منظور نظر ہو مگر مٹی میں جانے کے بعد اس کا تذکرہ زبانوں پر پھر نہیں آتا۔ مگر علم کی

Read more

لافٹر بک: ایک تبصرہ

وہ مصنفین جنہیں ہم ذاتی حیثیت سے جانتے ہوں ان کی کتب پر تبصرہ کرنا میرے نزدیک ذرا مشکل کام ہے۔ ناصر محمود شیخ کی پہلی کتاب ”بکھرے خواب“ اپنے نام کی طرح قاری کی سوچوں کو بھی ایک بار بکھیر کر رکھ دیتی ہے۔ لیکن اب مصنف نے ”لافٹر بک“ لکھ کر ایک ایسی یکسوئی مہیا کی کہ قاری سب کچھ بھول بھال کر کسی ایک نقطے کو پڑھتے اور سمجھتے ہوئے بے اختیار ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو

Read more

یونیورسٹی کیسے برباد ہوتی ہے؟

پہلا مسافر: میں نے بیرون ممالک کئی یونیورسٹیوں میں پڑھایا ہے اور جن پاکستانی طلبا سے مجھے واسطہ پڑا ہے، انہیں میں نے محنتی اور ذہین پایا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ پاکستانی یونیورسٹیاں اتنا ٹیلنٹ ہونے کے باوجود پیچھے ہیں؟

دوسرا مسافر: اس کی کئی وجوہات ہیں ؛ فنڈز کی کمی، فرسودہ کورسز، پرانا نظام جو طلبا کے صلاحیتوں کو نکھارنے کی بجائے نقصان پہنچاتا ہے، غیرمعیاری اساتذہ، پرائمری اور ہائی سکول کی رواجی تعلیم وغیرہ وغیرہ مگر ایک بڑی وجہ یونیورسٹی کے انتظامی امور پر سفارشی لوگوں کی تعیناتی ہے جن میں تعلیمی سمجھ بوجھ کی کمی ہے۔ ان افراد کا بنیادی کام تعلیمی مسائل کو حل کرنا اور نظام میں ترقی لانا ہے مگر بدقسمتی سے وہ خود سب سے بڑا مسئلہ ہیں۔

پہلا مسافر: یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

Read more

شکیب الحسن: بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کے میچ میں بنگلہ دیشی آلراؤنڈر کا امپائرز سے ’ناقابلِ یقین رویہ‘، سوشل میڈیا صارفین برہم

اس سے پہلے بھی شکیب الحسن متعدد تنازعات کا شکار رہے ہیں اور اکتوبر 2019 میں انھیں آئی سی سی کے اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت ایک سال کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

Read more

امریکہ میں مہاجرین کی اولادیں

امریکہ میں مہاجرین کی تین قسم کی اولادیں آباد ہیں۔ ایک وہ جن کے آبا و اجداد نے امریکہ کو دریافت کیا اور اپنی طاقت کے بل بوتے پر دنیا میں ایک مضبوط ریاست کی بنیاد رکھی۔ مہاجرین کی اس پہلی قسم کی اولاد کے لیے رسمی تعلیمی ادارے بنائے گئے جہاں وہ اپنے آباء کی تاریخ پڑھتے اور سیکھتے ہیں۔ دوسرے وہ ہیں، جن کے آبا و اجداد کو امریکہ میں ایک غلام کی حیثیت سے لایا گیا لیکن

Read more

مرزا آفت بیگ اور اسقف اعظم

اندلس کے مسلمانوں پر بہت کڑا وقت تھا۔ غرناطہ میں شکست ہو چکی تھی۔ وہاں کے اسقف اعظم نے اعلان کیا کہ یہ تو سارے مسلمانوں کو عیسائی مذہب اختیار کرنا ہو گا، یا پھر تین دن کے اندر اندر انہیں ملک چھوڑنا ہو گا۔ کسی دوسرے مسلک یا مذہب کے ملک میں رہنے کی گنجائش بالکل بھی نہیں ہے۔ مسلم بچارے رونے پیٹنے لگے اور شور مچانے لگے۔ ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ آخر کار اسقف نے مجبور ہو کر اعلان کیا کہ وہ مسلمانوں سے مناظرے کے لیے تیار ہے۔ وہ اپنا ایک نمائندہ منتخب کر لیں۔ اگر مسلم مناظرہ جیت گئے تو وہ رہ سکتے ہیں ورنہ انہیں جانا پڑے گا اور عیسائیت اختیار کرنا ہوگی۔

Read more

حامد میر اور جنرل رانی کے بچے

حامد میر جیو نیوز کے اپنے پروگرام کیپیٹل ٹاک سے آف ائر ہو چکے ہیں۔ ادارے نے انہیں کام کرنے سے روک دیا ہے اور انہیں جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔ اس کی لازماً کوئی خاص وجہ ہو گی جسے جاننے کا تردد ضرور کیا جانا چاہیے۔

حکومتی و انتظامی حلالہ کے بعد دوبارہ سے بنائے گئے وزیر اطلاعات اپنے آپ اور اپنی حکومت کو اس عمل سے بری الذمہ قرار دیتے ہوئے اپنے بیان میں کہہ چکے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت میڈیا ادارے اپنے اندرونی معاملات میں با اختیار ہیں۔ گوجرانوالہ سے شائع ہونے والے ”ایک کثیر الاشاعت اخبار“ روزنامہ مخلوق کے سب ایڈیٹر اور ایک حکومتی خاتون ممبر قومی اسمبلی حامد میر کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں۔

Read more

چھٹی حس

خدائے امن کے تخلیق کردہ جہاں میں عوام الناس حواس خمسہ کے سہارے خوش و خرم زندگی بسر کر رہے تھے (واضح رہے کہ حواس خمسہ کا سرسید کے ارکان خمسہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ) ۔ قوت سامعہ (کان) لامسہ (ہاتھ) ذائقہ (زبان) شامہ (ناک) اور باصرہ (آنکھ) ان کی کل حیات تھی کہ اچانک ایک صبح ڈیوک یونیورسٹی کے ماہر نفسیات جی۔ بی رائن نے ”چھٹی حس“ کا تصور دے کریک دم وقت بدل دیا، جذبات بدل دیے، زندگی بدل دی۔ اس کا ناصرف اچھے بھلے چلتے نظام زندگی پر اثر ہوا بلکہ ذہن انسانی کی کارکردگی بھی مشکوک ہو گئی۔

ماہرین کے مطابق چھٹی حس کی اصطلاح ان مواقع کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو بظاہر موجود نہیں ہوتے۔ یہ ادراک سے ماورا اور حواس خمسہ سے مبرا ہے۔ مطلب یہ سمجھ آتا ہے کہ چھٹی حس کا عمل دخل ان خیالات و احساسات سے ہے جن کا عقل و دانش سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ اب ہماری قوم تو ایسے معاملات میں روز اول سے ید طولیٰ رکھتی ہے سو یہاں چھٹی حس کا وہ حال ہوا کہ اسے چھٹی کا دودھ آ گیا۔

Read more

ہم عمر لڑکی کی ماں کا کردار میرے لیے ایک جُوا تھا: رابعہ بٹ

سوتیلی ماں کے کردار کے باوجود مداحوں کی محبت پانے والی ماڈل اور اداکارہ رابعہ بٹ کا کہنا ہے کہ اگرچہ ماڈلنگ اور ایکٹنگ ایک ہی سکّے کے دو رخ ہیں لیکن پھر بھی انھوں نے اس فیلڈ میں قدم رکھنے کے لیے اچھی خاصی سوچ بچار کی۔

Read more

چاپلوس

ہمیں تو ایک سیکرٹری تعلیم کے کچھ عرصہ قبل کے دورے پر بات کرنی تھی۔ ہوا یہ کہ ABCDیا ایسے ہی ایک نام کے کوئی صاحب صوبائی تعلیمی سیکرٹری مقرر ہو گئے۔ عہدہ پانے کے بعد آبائی علاقے کی یاد آئی توانہوں نے تین چار سکول اپ گریڈ کردیے۔ لہو لگاکر شہیدوں میں شامل ہو نے کا اتنا سا معروف فیصلہ بھی انہیں جنت دلانے کے لیے کافی تھالیکن حواریوں کا کیا کیا جائے۔ ان یار لوگوں نے ان کے کانوں میں بات ڈالی کہ ایسے کیسے ایک محکمانہ آرڈر پر سکول اپ گریڈ ہو جائیں اور کسی کو پتہ بھی نہ چلے۔ چند روز علاقے میں کھڑاک تو ہونا چاہیے کہ یہ کارنامہ صاحب بہادرکا ہے۔ اندھا کیا چاہے، دو آنکھیں، انہوں نے فوراً آفیشل وزٹ کا ارادہ کر لیا۔

Read more

ایئربلیو طیارے میں مسافر جوڑے کے بوس و کنار پر صارفین کا ردعمل: ’اس بوسے سے ہمارا بڑا مسئلہ اس میں فریقین کی مرضی شامل ہونا ہے‘

پاکستانی فضائی کمپنی کی ایک پرواز میں ایک جوڑے کے بوس و کنار کی خبر پر کچھ سوشل میڈیا صارفین اسے پاکستانی معاشرتی اقدار کے خلاف قرار دے رہے ہیں تو کچھ کا کہنا تھا کہ لوگ غلط ہوتا تو دیکھ لیتے ہیں لیکن ایک مرد کی عورت سے سر عام لگاوٹ برداشت نہیں کر سکتے۔

Read more

ساجد علی کی سترویں سالگرہ اور دوستی کی گولڈن جوبلی

سال رواں میرے لیے دو باتوں کی بنا پر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ساجد علی کی سترویں سالگرہ ہے اور ہماری دوستی کی گولڈن جوبلی۔ اس موقع پر اس گولڈن رفاقت کی چند جھلکیاں پیش کر رہا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ ساجد کے جاننے اور چاہنے والے انہیں دلچسپ بھی پائیں گے اور ان میں کچھ نیا بھی۔ میں گورنمنٹ کالج لاہور میں سال سوم کا طالب علم تھا۔ ایک دن بخاری آڈیٹوریم کی طرف جا رہا تھا۔ بک

Read more

کرونا آزاد اور تعلیمی ادارے بند!

ہمارے ملک خداداد میں کہنے کو تو سب کچھ ہے لیکن سہنے کے لئے کچھ بھی نہیں۔ جب بھی کوئی آفت یا سانحہ آتا ہے تو ہم منصوبہ بندی، طویل پروگرامنگ اور کل وقتی تدارک کے بجائے غیر منصوبہ بندی ’عجلت، لیپا پوتی اور جز وقتی لیت و لعل سے کام چلانا شروع کر دیتے ہیں۔ اور ظاہر یوں کرتے ہیں کہ ہم جیسے مسئلے کے تہہ تک پہنچ چکے ہیں اور اس مسئلے کو جڑ سے ہی ختم کر

Read more

غزہ کے لیے احتجاج کے شرکا پر تنقیدی رپورٹنگ: کیا گجرے خریدنا فحاشی ہے؟

لاہور میں غزہ پر اسرائیلی بمباری میں فلسطینیوں کی ہلاکت کے خلاف ہونے والے احتجاج میں شرکا کے لباس اور ان کی سرگرمیوں پر ایک نجی چینل کی تنقیدی رپورٹنگ کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے۔

Read more

”انکل سرگم کی مہکتی“ کلیاں

ہم خوش قسمت تھے کہ ہمارے بچپن میں طنز و مزاح کا مطلب کسی کا پھسل جانا، کسی کو گرا دینا، پھکڑ پن، زو معنی جملے، تھپڑ اور پرانک نہیں تھا بلکہ ہنستے لفظ، پیاری باتیں، مسکراتے جملے اور پروقار لہجے ہوا کرتا تھا۔ کلیاں ”اداس ہیں۔ طنز و مزاح کا ایک باب اور ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ فاروق قیصر صاحب المعروف ہمارے انکل سرگم کو جنت الفردوس میں مسکراتا رکھیں جیسے انہوں نے ہمارے بچپن میں بہت ساری مسکراہٹیں

Read more

کماری والا ( ناول کا جائزہ )۔

ناول پڑھتے ہوئے میرے پیش نظر ہمیشہ کہانی ہوتی ہے لیکن ہمارے ہاں کچھ دانشور حضرات ناول لکھتے ہوئے اپنی تحقیق، فلسفہ اور نظریہ اس طرح پیش کرتے ہیں کہ کہانی مر جاتی ہے، اوٹ پٹانگ سے اخباری حقائق کہانی پر غالب آ جاتے ہیں اور یا دقیق فلسفیانہ بیان بازی۔ آپ صرف کہانی لکھیں اور آپ کا جو فلسفہ ہے وہ غیر شعوری طور پر قاری کے دل میں کہیں عود آئے گا۔ یہی کرافٹ کی خوبصورتی ہوتی ہے۔ کہانی کو تحقیقی مقالے سے بچا کر لکھنا چاہیے۔ فلسفہ جھاڑنے کے شوق میں کہانی بے ربط ہو جائے تو قاری بدمزہ ہو جاتا ہے۔ کہانی لکھنے کے بعد کتاب جائزہ میں یہ سمجھانا کی کہانی کیا تھی بجائے خود کہانی پر سمجھوتے کی دلیل ہے۔

Read more

ہمارے انکل سرگرم ہم سے روٹھ گئے!

ستر، 80 ء اور 90 ء کی دہائیوں میں پاکستان میں پیدا ہونے والے بچوں کی تربیت میں جہاں ان کے والدین اور اساتذہ کا اہم کردار رہا، وہیں اس دور کے ذرائع ابلاغ کے کچھ پروگراموں کا بھی بہت بڑا عمل دخل رہا۔ جن کی جانب سے سکھائی ہوئی مثبت باتوں کے نقوش، تاعمر ان کی شخصیت پر قائم و دائم رہیں گے۔ یوں تو عالمی سطح پر ”جنریشن۔ ایکس“ کو اب تک کی خوش قسمت ترین نسل کہا جا رہا ہے، جس نے تغیرات اور ٹیکنالوجیکل ارتقا کا جو انقلاب دیکھا ہے، وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آیا، مگر ہمارے وطن میں پنپنے والی وہی ”جنریشن۔

Read more

جب آپ کے بھائی کو کوئی آپ کی آنکھوں کے سامنے قتل کر دے

تعارف : عزیز الحق ایک ایسے دانشور تھے جو لاہور کے پاک ٹی ہاؤس کی ادبی اور سیاسی محفلوں میں بڑے ذوق و شوق سے شامل ہوتے تھے اور ادب ’فلسفے اور سیاست کے متنازعہ موضوعات پر گرما گرم بحثوں میں شرکت کرتے تھے۔ وہ بیک وقت کارل مارکس کے بھی مداح تھے اور ژاں پال سارتر کے بھی۔ وہ اپنے آپ کو EXISTENTIALIST MARXIST کہلانا پسند کرتے تھے۔

اور پھر مئی 1972 میں ان کی ناگہانی موت نے ان محفلوں کو سونا کر دیا۔ چونکہ ان کی موت قتل کی وجہ سے ہوئی اور قاتل نے عزیز الحق کو قتل کرنے کے بعد اپنے آپ کو بھی قتل کر دیا اس لیے وہ موت اور بھی پر اسرار ہو گئی۔ میں نے عزیز الحق کی زندگی کے حالات اور ان کے مقالات پڑھے تو مجھے ان کی پراسرار موت کے بارے میں تجسس ہوا۔

Read more

’آدھے گنجم، آدھے بالم‘

ہم میں سے جو لوگ اسی کی دہائی میں پلے بڑھے انہوں نے پی ٹی وی کی صورت میں ایک عجیب و غریب دور دیکھا۔ ایک چینل تھا، ایک حکمران تھا اور ایک ہی قسم کی خبریں ہوا کرتی تھیں۔ میرا بچپن اور لڑکپن جنرل ضیا کی صورت دیکھتے ہوئے گزرا، اس وقت یوں لگتا تھا جیسے یہ صورتحال آنے والی صدیوں تک ایسی ہی رہے گی۔ تاہم پی ٹی وی کے تفریحی پروگراموں کا معاملہ مختلف تھا۔ پی ٹی وی کو خبروں کا طعنہ تو دیا جا سکتا ہے مگر تفریحی پروگراموں میں اس کے نمبر پورے تھے۔

Read more

ایورسٹ سر کرنے والی پہلی خاتون جنکو تابئی کا پہاڑوں سے معاشقہ کبھی ختم نہیں ہوا

جس دن جنکو نے چوٹی سر کرنے کے لیے اوپر چڑھنا شروع کیا، موسم بہت صاف تھا لیکن جس وقت وہ اور ان کے ساتھی شرپا سمٹ کے قریب پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ وہاں ایک ایسی برف کی باریک، انتہائی خطرناک ڈھلوان موجود ہے جس کا پچھلی مہمات کے دوران کسی نے کبھی ذکر نہیں کیا۔

Read more

ہمارے پیارے لافانی انکل سرگم

پروگرام کا نام ہے کلیاں اور 80 ء کی دہائی ہے۔ انکل سرگم، ماسی مصیبتے، رولا، ڈڈو اور دیگر فنکار سیٹ پر موجود ہیں اور ہلکی پھلکی طنز و مزاح جاری ہے۔ 1985 ء کے غیر جماعتی الیکشن کے بعد نتائج کے اعلان کرنے کا سیٹ لگا ہوا ہے اور انکل سرگم کا امیدوار ہار گیا ہے جس پر وہ جذباتی ہیں اور رولے کو ڈانٹ ڈپٹ کر ہے ہیں۔ اس میں لوگوں کے خطوط پڑھنے کا سیگمنٹ ہے اور

Read more

انکل سرگم۔ پیار بانٹنے والا

ماچس ہوگی آپ کے پاس ؟ میں نے سگریٹ ہونٹوں میں دبایا تھا اور پوچھنے والے کی آواز مانوس سی لگی۔ جیب سے ماچس نکال کر جب متوجہ ہوا تو حیرت اور خوشی کے ملے جذبات تھے۔ وہ بچپن سے دیکھے جانے والا ہردلعزیز کردار انکل سرگم کا خالق فاروق قیصر تھے۔ بے ساختہ منہ سے نکلا آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔ انہوں نے بھی جواب میں سر ہلایا۔ سگریٹ سلگانے کے بعد اپنی گفتگو میں مصروف ہو گئے۔

Read more

انکل سرگم جیسے آرٹسٹ مرتے نہیں، روٹھ جاتے ہیں

لاک ڈاؤن اور عیدالفطر کے انفراغ میں آج کل ہم اپنے گھر کے چھوٹے سے کتب خانے کی کیٹلاگ سازی کر کے کتابوں کو کسی ضابطے میں لانے کی سعی کر رہے ہیں۔ آج شام کو اس عمل کے دوران کتابوں کی موضوعاتی درجہ بندی کرتے ہوئے اچانک ایک کتاب نے ہمیں اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ وہ کتاب میرے، آپ کے، ہم سب کے ”انکل سرگم“ یعنی سید فاروق قیصر کے طنزیہ قطعات، پیروڈیز، گیتوں، غزلوں، نظموں پر مشتمل ان کا مجموعہ کلام ”میرے پیارے اللہ میاں“ تھا۔

Read more

خالد حمید کی یادیں: کیسی یہ عید آئی!

پاکستان کی حکومت کے اعلان کے مطابق اس بار عید پر آٹھ دن تک لاک ڈاؤن ہے۔ حکومت نے ہدایت کی تھی کہ لوگ گھروں میں رہیں اور احتیاط برتیں۔ ایک مشیر نے تو صاف کہہ دیا تھا کہ اس عید پر کوئی تقریبات، پارٹیاں، میل ملاپ، معانقہ یا مصافحہ نہیں ہوگا۔

بھارت میں تو صورتِ حال اور بھی گھمبیر ہے۔ وہاں عید کیسے ہوئی ہوگی؟ رہی بات یہاں امریکہ کی، تو یہاں نمازیں تو ہوئیں لیکن دور دور کھڑے ہو کر۔ ماسک لگا کر اور کوئی قریب نہیں آئے گا۔ کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا۔ بس دور سے مسکرائے گا۔

Read more

اپنے کرداروں کے ذریعے بولنے والے فاروق قیصر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے

کراچی — نامور مزاح نگار، اداکار، کارٹونسٹ اور شاعر فاروق قیصر کے انتقال نے جہاں ان کے لاکھوں مداحوں کو سوگ میں مبتلا کر دیا وہیں پاکستان میں پتلی تماشہ کا ایک باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔

پچھتر سالہ فاروق قیصر کا رواں ہفتے جمعے کی شب اسلام آباد میں حرکتِ قلب بند ہونے سے انتقال ہوا۔

فاروق قیصر کی وجہٴ شہرت اسکرپٹ رائٹنگ اور اداکاری کے ساتھ ساتھ ان کی صوتی فنکاری تھی جس میں وہ پسِ پردہ رہ کر اپنے کرداروں سے وہ کچھ کہلواتے تھے جو خود نہیں کہہ سکتے تھے۔

Read more

انکل سرگم: معروف ٹی وی کردار کے خالق فاروق قیصر چل بسے

فاروق قیصر نے اپنے پرستاروں سے منھ کیا موڑا، ہر کسی کے ذہن میں اپنے بچپن کا وہ وقت گھوم گیا جب پڑھائی اور کھیل کود سے فارغ ہونے کے بعد گھر والوں کے ساتھ مزے سے اُن کے شو سے لطف اندوز ہوا جاتا تھا۔

Read more

فرانس میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے لیے آزادی اظہار کے دو پیمانے

دسمبر 2020 میں فرانس کی کابینہ نے ایک تنظیم سی سی آئی ایف پر پابندی لگا دی تھی۔ یہ تنظیم فرانس میں موجود اسلامو فوبیا کے خلاف آواز اٹھاتی تھی۔ اور فرانس کے وزیر داخلہ جیرالد دامانن نے بیان دیا تھا کہ یہ تنظیم فرانسیسی حکومت کے ان اقدامات کو جو کہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے اٹھائے جا رہے ہیں اسلامو فوبیا کا نام دے دیتی ہے۔ اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر فرانس میں آزادی اظہار کی مکمل آزادی ہے تو پھر یہ آزادی اس تنظیم کو بھی ملنی چاہیے کہ وہ فرانس کی حکومت کے اقدامات پر اپنی رائے کا اظہار کرے۔ لیکن فرانس کی حکومت اس پر اتنا کیوں تلملائی کہ اس تنظیم پر پابندی ہی لگا دی۔

اب کل کی خبر کا جائزہ لیتے ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ایک مرتبہ پھر فلسطین میں خون بہہ رہا ہے۔ مشرقی یروشلم میں شیخ جراح کے مقام سے فلسطینیوں کے جبری انخلا کے خلاف جلوس نکل رہے ہیں۔ حماص نے غزہ سے راکٹ فائر کیے اور اسرائیل کے طیاروں نے ان پر بمباری شروع کر دی۔ سو سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔ سینکڑوں زخمی ہیں۔

فرانس کے وزیر داخلہ جیرالد دامانن  نے حکم جاری کیا کہ فرانس میں ان واقعات کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق جلوس نکالنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ بھلا کیوں نہیں ہو گی؟

Read more

کچھ بات ابراہیم جلیس کی

ابراہیم جلیس نام تھا ۔ حیدر آباد دکن کی مٹی تھی اگرچہ انہیں خود خبر نہیں تھی کہ ان کی مٹی کہاں کی تھی ۔ قلم براق اور طبیعت پارہ صفت۔ لکھنے کی چٹیک نے علی گڑھ یونیورسٹی ہی میں آن لیا تھا جہاں سے 1940 میں بی اے کیا ۔کچھ دن سرکاری ملازمت کا بھاڑ جھونکا ۔ یک بینی و دو گوش نکال باہر کئے گئے۔ ابھی بیس برس کے نہیں ہوئے تھے کہ ہندوستان کے بہترین ادبی ماہنامے

Read more

اندرا گاندھی کو جنسی بے راہ روی سے روکنے کے لئے نہرو سیاستدان کو مدعو کرتے تھے

بھارت کے سب سے بڑے سیاسی خاندان نہرو سے تعلق رکھنے والی سابق وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی کی ذاتی زندگی کے بارے میں کئی تحقیق کار انکشاف کر چکے ہیں کہ اندرا گاندھی اپنی سرکش جوانی کے ہاتھوں مجبور تھیں۔ بااثر مسلمان نوجوانوں کے علاوہ ان کے کئی نوجوان سیاستدانوں سے بھی جنسی تعلقات استوار رہے اور وہ اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتی تھیں کہ ان کے بارے کون کیا کہتا ہے۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت

Read more

کامیڈی کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کیونکہ کچھ بھی کریں کوئی نہ کوئی طبقہ ناراض ہو جاتا ہے‘

پاکستان میں مزاحیہ ویڈیوز بنانے والے یوٹیوبر ارسلان نصیر کا کہنا ہے کہ دور حاضر میں مزاح مشکل تر ہوتا جارہا ہے کیونکہ چاہے کچھ بھی تخلیق کیا جائے اس سے کوئی نہ کوئی طبقہ ناراض ہو ہی جاتا ہے۔

Read more

دیسی مرد، ابھی تک دائیوں اور بائیوں کے خمار سے نہیں نکل سکا

دیسی مرد، ولائتی بھی ہو جائے، شہری ہو یا دیہاتی، جتنا مرضی پڑھ لے، کوئی بھی ڈگری حاصل کر لے، کسی بھی ادارے میں کام کر لے، پوری دنیا گھوم لے، نہ گھومے تب بھی رزلٹ ایک ہی ہے، اس میں سے دائیوں اور بائیوں کا خمار اور لطف نہیں نکلتا۔

اس کو منٹو بھی اس لئے پسند ہے کہ بائیوں کو شریف عورت سے بلند مقام دیتا ہے۔ ان کی مجبوری کا مرتبہ زیادہ ہے۔ (شاید شریف عورت کے پاس ایک خبیث مرد ہو تا ہے اس لئے۔ اب یہ شاید دل پہ لگانے والی بات تو ہے نہیں ) یہ عورتیں ان مردوں کو اس لئے عزیز ہیں کہ ان کی ذمہ داری ہوتی کوئی نہیں، چسکا مفت کا۔ جس نے سینکڑوں مرد بھگتائے ہوں، وہ مرد کی رگ رگ کو اچھے سے جانتی ہے۔ کیونکہ کاروبار کرنے کے لئے اس کے اصولوں سے واقفیت ضروری ہے۔ مگر یہ سب جانتے ہوئے بھی وہ بہت مظلوم عورت ہے یا بہت مشکوک عورت ہے یو نہی تاریخ کی چند حسین کتابوں میں لکھا رنجیت سنگھ کو قابو کرنے والی موراں بائی، جنرل رانی، مادام موسیقی، اور ان سب جیسی اور ہم عورتوں میں کوئی خاص فرق ان کو دکھائی نہیں دیتا۔ آہ

Read more

کورونا کو وبا نہ ماننے والوں کے لیے انتباہ

جب شروع شروع میں کورونا کی تشخیص ہونے لگی تو ہم سب بخار ہونے کو کورونا ماننے لگے پھر ہر جگہ بخار چیک کرنے کے آلات استعمال ہونے لگے۔ بینکس جائیں یا کسی بھی دفتر تو وہاں پر آپ کا بخار چیک کیا جاتا اور بخار نہ ہونے کی صورت میں آپ کو اندر جانے کی اجازت ہوتی اور آپ کو سروس فراہم کی جاتی پر اصل میں ایسا نہیں تھا۔ آپ صرف بخار ہونے کو کورونا وائرس نہیں کہہ سکتے پھر جنوری میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھی یہی انڈیکیٹ کیا کہ آپ صرف بخار چیک کرنے سے کورونا وائرس نہیں کہہ سکتے اور ایک آلہ جسے میڈیکل کی زبان میں پلس آکسیمیٹر کہا جاتا ہے اسے لازمی استعمال کرنے کے بارے میں کہا گیا۔

Read more