درندگی کی سزا مزید درندگی؟
جب بھی جنسی زیادتی کا واقعہ کسی عورت کے ساتھ پیش آتا ہے اعتراض متاثرہ عورت کے لباس یا اکیلے باہر آنے پر کیا جاتا ہے اور عورت پر ہی ذمے داری تھوپ دی جاتی ہے۔ اور جب جنسی زیادتی کا واقعہ کسی بچی یا کمسن بچے کے ساتھ پیش آتا ہے تو سر عام پھانسی کا مطالبہ کر کے جان چھڑا لی جاتی ہے۔ تاثر کچھ ایسا دیا جاتا ہے کہ کوئی انتہائی قدم اٹھائے بغیر معاشرہ تبدیل کیا جا ہی نہیں سکتا جب کے ایسا نہیں ہے۔ ہمارے ہاں ہر جرم پر ذاتی غصہ نکالنے کی روایت عام ہے یہ سوچے بغیر کے سزائیں ذاتی غصے اور بدلے لینے کہ بنیاد پر نہیں دی جاتی بلکہ ریاست قانون اور انسانیت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی مجرموں کو سزا دیتی ہے اور سزا کا مقصد بدلے کی آگ بجھانا نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح اور افراد کو مجرم بنانے سے روک کر سماج کا فعال شہری بنانا ہونا چاہیے۔ ایک مجرم کو اس کی درندگی کی سزا دینے کے لیے انسانی حقوق کے قوانین توڑ کر مجرم سے بڑھ کر درندگی کرنے کی اجازت نہ اخلاقیات دیتی ہیں اور نہ ہی انسانیت۔
Read more




















































































