درندگی کی سزا مزید درندگی؟

جب بھی جنسی زیادتی کا واقعہ کسی عورت کے ساتھ پیش آتا ہے اعتراض متاثرہ عورت کے لباس یا اکیلے باہر آنے پر کیا جاتا ہے اور عورت پر ہی ذمے داری تھوپ دی جاتی ہے۔ اور جب جنسی زیادتی کا واقعہ کسی بچی یا کمسن بچے کے ساتھ پیش آتا ہے تو سر عام پھانسی کا مطالبہ کر کے جان چھڑا لی جاتی ہے۔ تاثر کچھ ایسا دیا جاتا ہے کہ کوئی انتہائی قدم اٹھائے بغیر معاشرہ تبدیل کیا جا ہی نہیں سکتا جب کے ایسا نہیں ہے۔ ہمارے ہاں ہر جرم پر ذاتی غصہ نکالنے کی روایت عام ہے یہ سوچے بغیر کے سزائیں ذاتی غصے اور بدلے لینے کہ بنیاد پر نہیں دی جاتی بلکہ ریاست قانون اور انسانیت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی مجرموں کو سزا دیتی ہے اور سزا کا مقصد بدلے کی آگ بجھانا نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح اور افراد کو مجرم بنانے سے روک کر سماج کا فعال شہری بنانا ہونا چاہیے۔ ایک مجرم کو اس کی درندگی کی سزا دینے کے لیے انسانی حقوق کے قوانین توڑ کر مجرم سے بڑھ کر درندگی کرنے کی اجازت نہ اخلاقیات دیتی ہیں اور نہ ہی انسانیت۔

Read more

جنسی ہراسانی

جنسی ہراسانی کا اہم پہلو والدین اور ٹیچرز کا لڑکوں کے کردار و اخلاق سازی پر توجہ نہ دینا ہے۔ والدین کو لڑکے اور لڑکی سے یکساں رویہ رکھنا چاہیے۔ اور لڑکوں کو یہ درس دینا چاہیے کہ وہ ہر لڑکی سے عزت اور احترام سے پیش آئیں۔ لڑکوں کو یہ باور کرانا چاہیے کہ صنف نازک صرف جنسی تسکین کی چیز نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے وہ انسان ہے اور ان کے بھی مردوں کی طرح انسانی حقوق ہیں۔ گھر کے کام میں صرف لڑکیوں کو نہیں بلکہ لڑکوں کو بھی ہاتھ بٹانے کی تربیت دیں تاکہ لڑکوں کے ذہن میں احساس برتری جنم نہ لے۔

Read more

مخلوط تعلیم اور میرے فیورٹ مولانا

”ہر گائے دودھ دیتی ہے، گائے ایک جانور ہے لہذا ہر جانور دودھ دیتا ہے۔“
”تم ایک کرپٹ شخص ہو، تم نے ناجائز کمائی سے محل نما گھر خریدا ہے۔ جواب :تم نے بھی تو لڑکی کو بھگا کر شادی کی تھی۔“

”زید:پاکستان میں ہر پانچ عورتوں میں سے ایک عورت کبھی نہ کبھی اپنی زندگی میں جنسی ہراسانی کا شکار ہوتی ہے۔ بکر:تمہیں اس ملک میں کیڑے نکالنے کا شوق ہے، بھارت میں یہ شرح ہم سے کہیں زیادہ ہے۔“

”ایکس : دنیا میں جنوں بھوتوں کا کوئی وجود نہیں، اگر ہوتا تو کبھی نہ کبھی ہمارا اس مخلوق سے براہ راست واسطہ ضرور پڑتا۔“ زی۔ : ”ہمارا براہ راست واسطہ تو کبھی گھانا کے صدر سے بھی نہیں پڑا تو کیا ہم اس کے وجود سے بھی انکار کر دیں!“

یہ ہمارا بحث کرنے کا عمومی انداز ہے۔ اس قسم کی گفتگو کو اپنے تئیں ہم ”مدلل“ سمجھتے ہیں۔ موٹر وے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد تازہ ترین دلیل مارکیٹ میں یہ آئی ہے کہ یہ سب مخلوط تعلیم کا نتیجہ ہے۔ یہ کہنا ہے میرے فیورٹ مولانا کا ، دلیل انہوں نے یہ دی ہے کہ جہاں آگ اور پٹرول اکٹھے ہوں گے وہاں یہ سب تو ہوگا۔

Read more

پاکستان: سیاسی بے راہ روی سے جنسی بے راہ روی تک

احتیاط سے دیکھ کر شائع کرنا ہے۔ ع۔ جنسی بے راہ روی مذاہب کی لغت میں کبیرہ گناہ ہے۔ اسلام میں اس کو بدترین فعل قراردیا ہے۔ پاکستان میں جس قدر مذہب کا رجحان پایا جاتا ہے اس سے کہیں زیادہ جنسی بے راہ روی پائی جاتی ہے۔ مذہبی مقامات ہم جنس پرستی کے محفوظ ٹھکانے ہیں، جس میں دینی مدرسے، مساجد، خانقاہیں، مذہبی جماعتوں کے وہ مراکز جہاں شب بیداریاں یا حصول طلب کے لئے اجتماعات ہوتے ہیں۔ مدارس

Read more

مولانا طارق جمیل کا حور کا بیان فحش نہیں، قصور مخلوط تعلیم کا ہے

کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہر بری چیز کی وجہ ایک ہی ہے۔ آپ کوشش کریں سوچنے کی۔ ذہن پر زور دیں۔ ہو سکتا ہے آپ صحیح طریقے سے زور نا دیں سکیں۔ تو کوشش کریں کہ کوئی پتھر یا اینٹ سر پر رکھ کر دیکھیں۔ اس سے بھی حل نا نکلے تو ایک مزید پتھر سر پر رکھیں مجھے لگتا ہے۔ اور سو فیصد یقین ہے۔ حل نہیں نکلے گا۔ تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے۔ آپ دیوار میں سر مار کر دیکھیں۔ شدید زور و شور سے ماریں۔ اتنی زور سے کہ دیوار ٹوٹ جائے۔ کیونکہ آپ کا اگر سر پھٹتا ہے۔ تو اس میں غلطی آپ کی نہیں ہے۔

ایک صاحب عقل انسان کا اس طرح سے مسلسل دیوار کو ٹکریں مارنا غلطی نہیں ہو سکتا۔ پھر آخر غلطی کس کی ہے۔ اس کو حل کرنے کے لئے ایک قدم اور آگے بڑھ کر دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ ہے کہ آپ ٹھنڈے دماغ سے سوچیں۔ تو اس کی ایک واحد وجہ سمجھ آتی ہے۔ وہ ہے مخلوط تعلیم۔ اب آپ کہیں گے کہ یہ کیا وجہ ہوئی۔

Read more

آگ اور پٹرول کی آزادی

موٹروے ریپ کیس نے ہمارے سامنے حکومتی رٹ کی ناکامی کھول کے رکھ دی۔ انصاف اور قانون کا بول بالا تو دور رہا۔ سب بولے (بہرے ) بن کے پھرتے رہے۔ جیسے کچھ سنائی نہیں دے رہا۔ اندھے تو پہلے ہی تھے۔ گونگے بننا تھا وہ بھی بن چکے۔ جلتی پہ تیل کا کام سی سی پی او کے بیان نے ڈال دیا۔ کہ جی رات کو کیوں نکلی۔ پٹرول کیوں نہیں چیک کیا۔ محرم کیوں ساتھ نہ تھا۔ جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ محرم کے ساتھ ہونے کے باوجود بھی عورت ریپ ہو گئی۔ شبنم کیس اتنا پرانا بھی نہیں۔ اس کے محرموں کے سامنے گھر میں گھس کے اس کا ریپ کیا گیا تھا۔ وہ تو کہیں باہر نہ نکلی تھی۔ شکر ہے تب موٹروے نہ تھی۔ ورنہ یہ کریڈٹ بھی چھوٹے میاں بڑے میاں کے کھاتے میں ڈال دیتے۔ ویسے چھوٹے میاں صاحب کھاتہ کھولتے وقت کم سے کم کھاتے کی تفصیل پڑھ لیتے ہیں۔ خیر پڑھے کون۔

عورتوں اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے یہ کیسز روزانہ کی بنیاد پہ ہو رہے ہیں۔ برسوں سے ہو رہے ہیں۔ اب سامنے زیادہ آنے لگ گئے ہیں۔ کیونکہ سوشل میڈیا و میڈیا کا دور ہے۔ لوگوں کے ہاتھ میں موبائل فون کیمرے و وڈیو کیمرے کی سہولت کے ساتھ موجود ہیں۔ سیکنڈوں میں خبر تیار ہو کے وائرل ہو چکی ہوتی ہے۔ جبکہ پہلے وقتوں میں آج کا اخبار پڑھا۔ رات نو بجے کا خبرنامہ سنا۔ جس میں سب اچھا ہوتا تھا۔ اس کے بعد سو گئے۔ اگلی صبح ہی پتہ چلے گا۔ کہ گزشتہ روز ملک میں کیا ہوا تھا۔

Read more

اجتماعی زیادتی سے متاثرہ کم سن لڑکی کے یہاں لڑکی کا جنم

فروری کی بیس تاریخ تھی اور سال یہی 2020، جب راول پنڈی سے خبر آتی ہے کہ ایک کم سن بچی کو مسلسل کئی ماہ تک چار آدمی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ان چار میں سے دو کالج کے لڑکے ہیں تو دو شادی شدہ جن کی اپنی بیٹیاں اٹھارہ سال سے زیادہ عمر کی ہیں۔ ایک زیادتی کا مرتکب تو قریباً ساٹھ ستر سال کا بھی ہے۔ اسد علی، بہادر، یحییٰ اور عابد، یہ ان چار آدمیوں

Read more

موٹروے ریپ کیس: کچھ باتیں ابھی رہتی ہیں

اگر بدقسمتی سے ریپ کا واقعہ آپ کے گاؤں یا علاقے میں ہوا ہے اور اس واقعہ کو میڈیا نے اٹھا لیا ہے۔ پولیس پر مجرم پکڑے کا شدید دباؤ ہے۔ آپ ایک شریف آدمی ہیں اور ریپ جیسا گھناؤنا جرم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے لیکن آپ کو ایک شدید خوف نے گھیر رکھا کیونکہ آپ قطار میں کھڑے اپنے ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔

ریپ یا زبر جنسی ایک گھناؤنا جرم ہے۔ ساری دنیا میں پایا جاتا ہے۔ زیادہ تر تو عورتیں، بچیاں، بچے اور ٹرانس جینڈر اس کا شکار ہوتے ہیں لیکن مرد بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔ مہذب دنیا نے اس پر قوانین کو بہتر کر دیا ہے اور لوگوں کی تعلیم و تربیت کے ذریعے انہیں سیکس کرائمز پر حساس بنانے کی کوششیں بھی کی جاتی ہیں۔ قانون بہتر ہونے کی وجہ سے رپورٹ کرنا بھی کافی قدر آسان ہو گیا ہے۔

Read more

کیا سزائے موت ریپ کیسز کا حل ہے؟ پچھلے کالم پر اعتراضات کا جواب

کچھ لوگوں کے میرے پچھلے کالم پر کافی اعتراض سامنے آئے۔ اگر ان کے یہ مضمون سمجھنے میں کسی ذاتی، نفسیاتی، نظریاتی یا جسمانی معذوری دخل انداز ہو رہی ہے یا میری بلاغت اور لکھتے میں کوئی کمی رہ گئی ہے تو آسانی کے لیے تھوڑی وضاحت پیش کر رہا ہوں۔ امید ہے کہ اس کے بعد ٹھنڈے دل و دماغ سے ذہن کو اس کے ڈیفالٹ مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ تو عرض یہ ہے کہ یہ بات صرف میں نہیں کہہ رہا بلکہ جرائم، نفسیات اور قانون پر تحقیق کرنے والے ایکسپرٹ کہتے ہیں کہ متشدد سزائیں یعنی جن میں جسمانی ایذا یا جان کو خطرہ پہنچایا جائے کارگر نہیں ہوتیں۔

اس کا ثبوت آپ لوگوں کے سامنے ہے کہ زینب کے قاتل کہ پھانسی کے فوراً بعد ایک ماہ میں پے در پے چھ بچیوں کے ریپ اور قتل ہوئے جو کہ ابھی تک اسی تواتر سے جاری ہیں۔ ایسا کیوں ہوا؟ تین چار روز قبل ایک بچی کو ریپ کر کے نہ صرف قتل کیا گیا بلکہ اس کے جسم کے ٹکڑے کر کے ان کو جلا کر کوڑے دان میں پھینک دیا گیا۔ اگر پھانسی یا سزائے موت ڈیٹرنٹ ہوتی تو ایسا نہ ہوتا۔

Read more

ریپ ہونے کی صورت میں محکمہ ہذا ذمہ دار نہ ہوگا – مکمل کالم

اس دنیا میں روزانہ ہر عمر کی عورت کا ریپ ہوتا ہے، تین سال کی بچی سے لے کر پچھتر برس کی بڑھیا تک۔ رنگ، نسل، مذہب، قومیت اور لباس کی کوئی قید نہیں۔ بکنی، ساڑھی، برقع، نیکر، عبایہ، جینز، حجاب، فراک، سکرٹ، شلوار، کچھ بھی پہنا ہو، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عورت رات کے دو بجے اکیلی سڑک پر ہو یا بس میں اپنے دوست کے ساتھ ہو، کسی بھرے پرے دفتر میں ہو یا نائٹ کلب میں، پنج وقتہ نمازی ہو یا کسی مرد کی طرح ڈرنک کرتی ہو، میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگاتی ہو یا یتیم بچیوں کی پناہ گاہ کی محافظ ہو، ڈومنی ہو یا پردہ دار، چہرہ بغیر میک اپ کے رکھتی ہو یا غازے کی تہیں سجاتی ہو، قائد اعظم کے مزار کے احاطے میں ہو یا اپنی قبر میں، ریپ کرنے والا اس کی لاش نکال کر بھی ریپ کرے گا اور مردوں کے اس معاشرے میں کچھ لوگ ہوں گے جو کہیں گے کہ کفن میں چہرہ ڈھانپا نہیں گیا تھا اس لیے ریپ ہوا۔

موٹر وے پر تین بچوں کی ماں کے ساتھ گینگ ریپ ہوا، اس سے زیادہ بھیانک جرم کا تصور ممکن نہیں، لیکن یہ جملے اب بے معنی ہو چکے، جس ملک میں ایسی گھناؤنی واردات کے بعد یہ بحث شروع ہو جائے کہ کیا اس عورت کو رات کے وقت ویران موٹر وے پر سفر کرنا چاہیے تھا یا نہیں اور یہ بحث چھیڑنے والے نہ صرف پڑھے لکھے لوگ ہوں بلکہ ان کا تعلق سول سروس سے ہو تو باقی اندازہ خود لگا لیں کہ اس معاشرے کا عام مرد کیسے سوچتا ہوگا۔ آپ کے لیے اگر یہ اندازہ لگانا اب بھی مشکل ہو تو بطور مرد میں مدد کر دیتا ہوں۔

Read more

دو کوڑی کی عورت

عورت جسے مالک دو جہاں نے بنی نوع انسان کی تخلیق کا ذریعہ بنایا، اسے ماں کے درجہ پر فائز کیا، پیارے نبیۖ نے ماں کے قدموں کے نیچے جنت کی بشارت دی۔ ہم ناخلق بندوں نے عورت کی عزت دو کوڑی کی کردی اسے پیر کی جوتی سمجھ لیا، اس کی ہر جیت ہر کام کو اپنی انا کا مسئلہ بنا کر اسے نیچا دکھانے کے لیے روندنا شروع کر دیا۔ اس ملک پاکستان میں عورت ہونا ایک گالی

Read more

ریپ کی اصلیت

جب حیا مارچ والے عورتوں پر اپنے اعضائے تناسل لہرا رہے تھے، باوجود اس کے پوری قوم کی حمایت بھی انہی کو حاصل تھی تب سے ہی لاہور موٹر وے اور اس جیسے لاکھوں ریپ کے آنے والے دیگر سانحات کے بیج بو دیے گئے تھے۔ جب کراچی کی پانچ سالہ مروہ کے حالیہ ریپ، تشدد اور قتل کے بعد یہ سوال اٹھایا گیا کہ اعلیٰ صبح بچی کو باہر بھیجا ہی کیوں، تب اس قوم نے لاہور موٹر وے

Read more

اگلے جنم مجھے موہے کھسرا نہ کیجیو

ماموں کی شادی تھی۔ ہم لوگ کراچی سے شادی میں شرکت کے لیے آئے۔ یہ میری چار پانچ سالہ زندگی کی پہلی شادی تھی۔ اس سے پہلے میں نے شادیاں بس فلموں میں دیکھی تھیں۔ وہ بھی ہندوستانی فلموں میں کہ جس میں لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو مالا پہنا کے شادی کے بندھن میں بندھ جاتے۔ پنجاب کی شادیاں جیسے ہوتی ہیں۔ ہمارے گھر بھی وہی ماحول تھا۔ نانی اماں بہت خوش تھیں۔ کہ بیٹوں میں سے ان کے

Read more

چینی سفیر کے اکاؤنٹ سے پورن کلپ ’لائیک‘ ہونے پر ٹوئٹر سے تحقیقات کا مطالبہ

چینی حکام کا دعویٰ ہے کہ چینی سفیر کے اکاؤنٹ پر ’چین مخالف قوتوں نے ایک بہیمانہ حملہ‘ کیا ہے جو ایک ’شرمناک‘ منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد ’عوام کو دھوکہ دینا ہے۔‘

Read more

ہیلو ریپسٹ! سنو اے گھٹیا انسان!

خط لکھنے کے آداب میں ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ خط شروع کرنے سے پہلے میری پیارے /پیاری یا کوئی بھی محبت کا اظہار کرتا لفظ لکھنا چاہیے۔ تا کہ خط پڑھنے والے کو ایک خوشی کا احساس ملے۔ مگر ایک ریپسٹ کو پیارے ریپسٹ لکھنا بہت عجیب سی بات ہو گی۔ ویسے بھی میرا ضمیر یہ گوارا نہیں کرتا کہ میں تمہارے لیے کوئی ایسا لفظ کہوں۔ جسے سن کے تم خوشی محسوس کرو۔ میں تمہارے لیے وہ لکھنا چاہوں گی۔ جسے پڑھ کے کم سے کم تم شرمندگی تو محسوس کرو۔ یہ بھی نہیں تو تمہیں یہ اندازہ تو ہو کہ لوگ تمہاری حرکتوں کی وجہ سے تم سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ نفرت کا احساس تمہیں محسوس ہونا چاہیے۔

ریپ سے متعلق میری پہلی واقفیت ہندوستانی و پاکستانی فلمز سے شروع ہوئی۔ ریپ کے سینز میں ہیروئن کی ساڑھی کھلتے ہی ہمیں کمرے سے نکال دیا جاتا۔ یا پھر فلم فارورڈ کر دی جاتی۔ پاکستانی فلموں میں ولن ہیروئن کی بہن کو اٹھا لے جاتا۔ اور ہوا میں ایک دوپٹہ سا لہرا کے دکھایا جاتا۔ اور پھر پھٹے کپڑے اور زخمی چہرے کے ساتھ ایک لڑکی سکرین پہ نظر آتی۔ تب سے دماغ میں یہ بیٹھ گیا۔ کہ لڑکی کو ہمیشہ مرد سے بچ کے رہنا چاہیے۔ عمر بڑھی تو بہت سی چیزوں کے شعور کے ساتھ ساتھ یہ بھی پتہ چلا کہ ریپ کیا ہوتا ہے۔ اور ریپسٹ کون ہوتا ہے۔

Read more

علی دایی: رونالڈو سے بھی زیادہ گول کرنے والے ایرانی فٹبالر

ایران میں علی دیائی کا وہی درجہ ہے جو کہ میراڈونا کا ارجنٹینا میں ہے۔ شائقین فٹبال کی نئی پیڑھی بہت سے فٹبالرز اور ان کے کھیل کے انداز سے بے خبر ہے کیونکہ پرانی ویڈیوز دیکھنے سے کھلاڑی کی صلاحیت کا صحیح اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

Read more

انڈیا: ہم جنس پرست پولیس اہلکار خواتین کی کہانی جن کے حفاظت مسلح محافظ کریں گے

پائل اور کنچن کو پولیس کی ٹریننگ کے دوران ایک دوسرے سے محبت ہوئی تاہم ان کےرشتے کو خاصی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور انھیں دھمکیاں بھی دی گئی ہیں جس کے باعث انھیں عدالت سے اپنے ہی خاندان سے محفوظ رہنے کے لیے سکیورٹی فراہم کرنے کی التجا کرنی پڑی۔

Read more

کمسن بچوں پر جنسی تشدد کا ذمہ دار کون؟

حال ہی میں میر ہزار خان کے علاقے میں زین نامی پندرہ سالہ بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد اس کے نازک حصہ پر گولی مار دینے کی خبر پڑھی تو پورے جسم میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔ پریشانی کے عالم میں اپنے ننھے معصوم بچوں کی طرف نظر دوڑائی تو بے اختیار آنکھ میں آنسو آ گئے اور میں سوچنے لگا کہ اس جنسی تشدد کا سب سے بڑا ذمہ دار کون ہے؟ معاشرہ، والدین، اساتذہ یا حکومت؟ جب سے پوری دنیا میں انٹر نیٹ کی سہولت آئی ہے تو اس گلوبل ویلج میں جنسیت اور جنسی تشدد کو اتنی ہوا ملی ہے کہ حکومت کے لئے جنسی جرائم پر قابو پانا ناممکن ہو گیا ہے۔

اگر دیکھا جائے تو چھوٹے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی سب سے بڑی وجہ وہ جنسی غبار ہے جو ایک مجرم کے دل و دماغ پر چھایا ہوتا ہے اور آخر کار اس سے وہ عظیم گناہ سرزد ہوتا ہے جسے دیکھ اور سن کر انسانیت بھی شرما جاتی ہے۔ گھر ہو یا مدرسہ، سکول ہو یا یونیورسٹی جب بھی ایک گھٹن زدہ ماحول میں پلنے والے کسی بھی فرد کو موقع ملتا ہے وہ حیوان بننے سے نہیں چوکتا اور پھر اپنے جرم کو چھپانے کے لئے وہ قتل جیسے جرم سے بھی نہیں گھبراتا۔

Read more

سنہرا اسلامی دور: قرون وسطیٰ کی فارسی شاعرائیں رابعہ بلخی، مھستی گنجوی، جنھوں نے محبت کو ایک نئی زبان دی

عرب مسلمانوں کے دو سو سالہ دورِ حکمرانی کے بعد پہلی نظر میں قرون وسطیٰ کے ایران میں شاعری کے منظرنامے پر صرف مرد چھائے ہوئے نظر آتے ہیں مثلاً رودکی، فردوسی اور نظامی۔ لیکن سنہرے اسلامی دور کے ادب میں دو اور نام بھی ہیں جنھیں تاریخ نے یاد رکھا اور یہ دونوں نام خواتین کے ہیں۔

Read more

چھ سالہ مروہ اور اس کی ادھ جلی ریپ زدہ لاش

قاتل اس کی بے جان جسم کو جلانے کے بعد سوچ رہا تھا کہ اسے برہنہ ہی چھوڑ کر کچرے پر پھینک دے، یا بوری میں بند کر کے یہاں کی پرانی روایت کو زندہ کرے۔ بالآخر اس نے یہاں کی روایت کو زندہ کرتے ہوئے لاش کو بوری میں بند کر دیا اور اسے کچرے کے ڈھیر پر پھینکتے ہوئے فاتحانہ نظروں سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے یہ جا وہ جا۔

Read more

خط ان مردوں کے نام جن کے لیے عورت بس گوشت کی دکان ہے

آداب عرض ہے!

ایسے تمام مردوں کو میرا آداب جو عورت کی عزت کرنا جانتے ہیں اور اسے جسم سے نکل کے اسے ایک مکمل انسان سمجھتے ہیں۔ اور ایسے تمام مردوں کو جو عورت کو سوائے گوشت کی دکان کے کچھ نہیں سمجھتے، میری طرف سے جواب ہے۔ اچھا گوشت کی دکان تو سمجھتے ہیں۔ مگر اس کے لیے بھی استعارے رکھے ہوئے ہیں۔ کم عمر ہے تو چکن۔ درمیانی عمر اور چھریرے بدن کی ہے تو چھوٹا گوشت۔ اگر زیادہ عمر اور جسامت میں بھاری ہے تو بڑا گوشت کہلائی جاتی ہے۔

آپ نے کبھی سنا کہ کسی عورت نے کبھی مردوں کے متعلق ایسے الفاظ کہے ہوں۔ کبھی کسی عورت نے مرد کو دیکھ کے فحش اشارے کیے ہوں۔ یا پھر بنا اجازت چھونے کی کوشش کی ہو۔ کبھی عورت نے کسی مرد کو گزرتے دیکھ کر اپنی ٹانگوں کے بیچ کھجانا شروع نہیں کیا۔ یہ خارش بس مردوں کو پڑی ہے۔ اور زئی بان (خارش کا ایک مرہم) سے بھی ٹھیک ہونے والی نہیں۔

Read more

انگلینڈ میں سیکس کے ذریعے منتقل ہونے والے گونوریا انفیکشن کے کیسز میں اضافہ

انگلینڈ میں سیکس کے ذریعے منتقل ہونے والے گونوریا انفیکشن کے کیسز میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو رہا ہے جس کے بعد صحت کے حکام کی جانب سے لوگوں کو محفوظ سیکس کے لیے کنڈوم کا استعمال کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔

Read more

عامل کا آسیب اور مامتا

ایک مرتبہ میری بھولی ماں مجھے ایک عامل کے پاس لے کر گئی جس نے مجھے اپنے سامنے بیٹھنے کا کہا اور پھر اپنی پتلون کی جیب سے ایک شاخ نکالی اور اپنی ہتھیلی پر رکھ کر اس کی پیمائش کرنے لگا اور پھر اسے میرے چہرے کے سامنے لہراتے ہوئے مجھ سے آنکھیں بند کرنے کا کہا، میں نے ویسا ہی کیا پھر اس نے شاخ کو اپنی ہتھیلی پر رکھا، جو اچانک سے چند انچ لمبی ہو کر

Read more

برطانیہ میں اسلامی شادیوں کی رجسٹریشن میں تردد کیوں؟

برطانیہ میں اس وقت 60 فی صد سے زیادہ مسلمان عورتیں اسلامی شادی (نکاح) کے مطابق رہ رہی ہیں اور ان کی کوئی سول میرج رجسٹر نہیں ہوئی ہے۔ یوں مسلمان بیویاں لا علم رہتی ہیں کہ ان کو بھی وہ ازدواجی حقوق حاصل ہیں جو سوسائٹی میں دوسری عورتوں کو حاصل ہیں۔

برطانوی گورنمنٹ کی طرف سے کوئی فیصلہ کن قدم نہ اٹھائے جانے پر ہزاروں مسلمان عورتیں ایسی شادیوں میں محبوس ہیں جن کو اسلامی طلاق کے نتیجہ میں جا ئیداد میں حصہ اور نان نفقہ کے لئے کوئی مداوا نہیں ملتا بلکہ بعض صورتوں میں تو ایسی عورتوں کو اپنے بچوں سے بھی الگ کر دیا جاتا ہے۔ مغربی ممالک میں عورت کو طلاق کی صورت میں جائیداد میں پچاس فی صد ملتا ہے۔ چونکہ ایسی اسلامی شادیوں کے خلاف کوئی قدغن نہیں ہے اس لئے بعض مرد متعدد بیویاں رکھے ہوئے ہیں کیونکہ بائیگیمی (دو زوجیت) کا قانون ایسی غیر رجسٹرڈ شدہ شادیوں پر لاگو نہیں ہوتا ہے۔ برطانوی دو زوجیت کا قانون Matrimonial Causes Act 1973 کے ما تحت ایک جرم ہے جس کی سزا سات سال قید ہے۔

Read more

جاپانی عورت اور پیار کی تلاش

سب سے پہلے تو اپنے اس پرانے دوست کا ایک فرضی نام رکھ لیتے ہیں۔ جواد گھانچی۔ گھر والے دوست سبھی اسے جاجو پکارتے تھے۔ سو بہتر ہے آپ بھی اسی نام کو یاد رکھیں۔ نوے کی دہائی میں لپک جھپک میں جاپان جا پہنچا تھا۔ یہاں لیاری کی ایک پانچ منزلہ بلڈنگ کے دو فلور والے گھر میں دس بھائی اور کئی سو بھابھیاں رہتے تھے۔ ماں زبردست عورت تھی مگر اس کے باوجود ان گھروں میں ہر وقت

Read more

بانو قدسیہ پتی بھگتی، اشفاق احمد پتنی بھگت کیوں نہیں؟

نیلم احمد بشیر نے پنڈورا باکس کھولاہے یا ایک ایسی پٹاری کا ڈھکن اٹھا دیا ہے جس میں برسہا برس کے خوابیدہ سوالات کلبلا کلبلا کے پھن پھیلا رہے ہیں۔ بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کی تحریروں کی آئیڈیل عورت! کون ہے وہ آخر؟ بے جان، گونگی، ستی ساوتری، سر جھکائے، نگاہیں نیچی رکھے، اپنی خواہشات سے بے نیاز، ممتا کے شیرے سے لتھڑی، پتی ورتا، جی حضوری میں باکمال، لب پہ قفل لگائے، قربانی کے لئے ہمہ وقت تیار،

Read more

اچھی یا بری عورت کا معیار کون طے کرے گا؟

پچھلے دنوں سوشل میڈیا پہ ایک پوسٹ پڑھی۔ جس میں کچھ ترقی پسندوں کی جانب سے ایک خاتون لکھاری کو مدعو نہ کیے جانے پہ ایک دوست کے استفسار پہ ان کو بتایا گیا کہ وہ کردار کی اچھی عورت نہیں ہیں۔ ان کے مردوں سے تعلقات ہیں۔ اور یہ کہ ان کے اچھا لکھنے کے باوجود محفل میں ان کو بلانے سے ماحول ٹھیک نہ رہتا۔ جس وقت یہ باتیں کی گئیں۔ اس وقت محفل ناؤ نوش جاری تھی۔

Read more

میری بونا پارٹ جو 20ویں صدی میں جنسی لذت کے موضوع پر تحقیق کی سرخیل تھیں

میری بوناپارٹ اپنے جسم سے ناخوش اور سیکس سے مطمئن نہیں تھیں اور اسی وجہ سے انھوں نے اس پر تحقیق شروع کی۔ وہ 20ویں صدی کی ایک ایسی شخصیت بن گئیں جنھیں تاریخ نظر انداز نہیں کر سکتی۔

Read more

کماٹھی پورہ کی سیکس ورکرز کی مشکلات: نہ گاہک، نہ پیسہ اور نہ ہی سرکاری سکیموں کے فوائد

ممبئی کے علاقے کماٹھی پورہ کے گلی نمبر 1 میں رما بائی چال کی یہ بنکر نما کوٹھریاں ملک کے کسی بھی دوسرے قحبہ خانے یا چکلے کے کمروں کی طرح ہی ہیں جہاں جگہ بہت کم ہے۔ لیکن کاروبار تو کاروبار ہے سو وہ بدستور چلتا رہتا ہے۔

Read more

سیکس ڈول کی صنعت کو پروموٹ کیا جائے

ہم ایک انقلابی دور حکومت میں زندہ قوم ہیں۔ ملک مسلسل ترقی کی راہوں پہ گامزن ہے۔ اور حکومت کا ہر دوسرا قدم ستاروں سے آگے جہا ں تلا ش کر نے والا ہے۔ اسی دور میں جب ڈیم فنڈ اکٹھا کر نے کے بعد زمینی ڈیم تو کورونا کے باعث نہ بن سکا۔ مگر آسمانی ڈیم نے کراچی میں اس خواب کو تعبیر کیا ہوا ہے۔ کبھی توہین مذہب کیس کی گونج پہ قوانین اور بل پہ نظر ثانی

Read more

چین میں بیٹے کو ترجیح دینے کا رویہ

ایشیا کے دیگر ممالک کی طرح چین میں بھی بیٹے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ پاکستان میں تو لڑکے کی خواہش میں لوگ چھ سات بیٹیاں پیدا کر لیتے ہیں لیکن چین میں ایسا ممکن نہیں کیونکہ وہاں خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسی پر حکومت کی دیگر پالیسیوں کی طرح لازمی عمل کرنا پڑتا ہے۔ چین کے شہروں میں رہنے والے خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسی کی خلاف ورزی کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ پھر انہیں بہت سی مراعات

Read more

سجاد ظہیر: ترقی پسندوں کا بادشاہ

بقول قاضی عبد الستار، ”سامو گڑھ کے سینے میں وہ میزان نصب ہوئی، جس کے ایک پلڑے میں روایت تھی اور دوسرے میں دِل، ایک طرف سیاست تھی دوسری طرف محبت، ایک طرف فلسفہ حکمت تو دوسری طرف شعر و ادب اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک طرف تلوار تھی اور دوسری طرف قلم۔“ جنگ میں بادشاہ کو شکست بھی ہوتی ہے۔ بادشاہ فاتح بھی ہوتا ہے۔ جنگ بادشاہ کے اشاروں پر لڑی جاتی ہے۔ وہ لندن اور

Read more

ظفر عمران کی افسانوی دنیا

اسکرپٹ رائٹر، ایکٹر، ڈائریکٹر، پروڈیوسر۔ ۔ ۔ اتنے بھاری بھرکم سابقے لاحقے سن کر آدمی ویسے ہی تعارف سے متاثرہو جاتا ہے۔ ہم جیسا مگر سہما سہما فاصلے پر رہتا ہے۔ اس لیے ظفرعمران سے فیس بک کی سلام دعا کے باوجود ہم ایک محتاط فاصلے پر ہی تھے، تاوقتیکہ ان کی افسانوی دنیا سے آشنائی نہ ہوئی۔ گلزار صاحب شاید پہلے فلم ڈائریکٹر تھے جنھوں نے اپنے افسانوں کی کتاب ’دستخط‘ کے نام سے چھاپی۔ ایک انٹرویو میں کسی

Read more

تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

ایک وسیع لاک ڈاؤن، معاشی بدحالی اور فارغ البالی نے مجھے مجبور کیا کہ ترکی کے تاریخی ڈراموں پر اپنا وقت صرف کیا جائے تا کہ نہ صرف ترکی بلکہ سلطنت عثمانیہ کی تاریخ سے بھی روشناسی ہو۔ آج کل پایہ تخت۔ عبدالحمید دیکھ رہا ہو ں جس میں عثمانیہ سلطنت کے عظیم سلطان عبدالحمید ثانی کو بیک وقت فرانس، روس، جرمنی، برطانیہ اور امریکہ سے اندرونی اور بیرونی محاذ پر لڑتے دکھایا گیا ہے۔ سلطان جہاں اپنی ٹیم کے

Read more

دنیا بھر میں سیکس سے منسلک 9 منفرد روایتیں

کیا دنیا میں سیکس ہر جگہ ایک جیسا ہے؟ سیکس: دنیا کا قدیم ترین اور عالمگیر عمل ہے۔ لیکن سیکس پر بات یا عمل مختلف ممالک میں مختلف انداز سے ہوتا ہے۔ بی بی سی کے پروگرام ’کراسنگ کانٹینینٹس‘ نے اس تحقیق پر گھنٹوں صرف کیے۔ کنوارے پن سے لے کر بغلوں میں سیب رکھ کر ناچنے تک، دنیا میں سیکس سے جڑی مختلف رسومات پر ایک نظر: 1. ہوائی کے قبائلی اپنے اعضا کو نام دیتے ہیں میں اپنا

Read more

بھا، بھینسا اور مولوی

تاروں بھری رات میں چھت پر لیٹے میں اور بھا فرقہ وارانہ بحث کر رہے تھے۔ وجہ بحث یہ تھی کہ ہمارا کزن اچانک مولوی ہو گیا تھا اس کی داڑھی ممنوعہ بور چھونے لگی تھی۔ شلوار نکے بھائی کی اور قمیض بلکہ کرتا ابا جی کا پہننے لگ گیا تھا۔ ماڑا بندہ اس سے بحث کرنے سے بھی کترانے لگا تھا کہ عسکری تنظیموں کے ساتھ اس نے اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا تھا۔ صرف میرا ہی وہ اب

Read more

ایک نیوڈ ماڈل کی داستان

بیچ مانگ کی چوٹی اور ماتھے پر چمکتی سندور بندی والی یہ خاتون تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی بس اسٹاپ پہنچتی ہیں۔ وہ اپنے گھر سے دہلی یونیورسٹی کے آرٹس ڈیپارٹمنٹ تک پورے راستے کھڑکی سے باہر دیکھتی رہتی ہیں۔ پلکیں نہ جھپکنے کے برابر جھپکتی ہیں۔ سوالوں کے چھوٹے چھوٹے جواب دیتی ان خاتون کو دیکھ کر ان کے پیشے کا بالکل بھی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ کرشنا نیوڈ ماڈل ہیں۔ بغیر کپڑوں کے ماڈلنگ کرتی ہیں

Read more

جنسی سرگرمی کے فوراً بعد مرد افسردہ کیوں ہوتے ہیں؟

جنسی سرگرمی سے جسم و ذہن پر مرتب ہونے والے خوشگوار اثرات کے متعلق تو سب جانتے ہیں لیکن سائنسدانوں نے دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ اس عمل کے فوری بعد مزاج میں کچھ ایسی تبدیلیاں بھی رونما ہوتی ہیں جن کا بظاہر خوشی، اطمینان اور مسرت سے کوئی تعلق نہیں۔ خواتین کے مزاج میں ان تبدیلیوں کے متعلق تو تحقیق کار پہلے بھی جانتے تھے مگر پہلی بار ایک تحقیق میں یہ معلوم ہوا کہ مرد بھی کچھ ناخوشگوار

Read more

سونو پنجابن: دلی کی بدنام زمانہ سیکس ریکیٹ کی سرغنہ جس نے جسم فروشی کو ’عوامی خدمت‘ قرار دیا

ہریانہ پولیس کے سامنے جب ایک 17 سالہ لڑکی شکایت درج کرا رہی تھی اس وقت دلی کی بدنام زمانہ سیکس ریکٹ کی سرغنہ سونو پنجابن زیر حراست تھیں۔

Read more

شینا ملوانی: ٹک ٹاک سٹار کے ’وائرل‘ قہقہے اور ان کے شوہر کے مزاحیہ تبصرے سوشل میڈیا پر مقبول

پیانو بجاتی شینا ملوانی آج کل نہ صرف ایک ٹک ٹاک سٹار ہیں بلکہ انٹرنیٹ پر ان کے آواز، ہنستے چہرے سمیت ان کے ’انڈین والد‘ کے جیسے شوہر کی بھی خاصی شہرت ہے۔

Read more

مشرق کے مرد نے مشرق کی عورت کے دل میں کبھی جھانکا؟

"میری بظاہر رنگین مزاجی اور باتوں کے بر عکس میں بنیادی طور پر ‘ون وومن مین’ ہوں عمومی تاثر (promiscuous) کے بر خلاف میں نے کبھی اپنی بیوی کترینہ کو چیٹ (دھوکا) نہیں کیا۔ کام کاج بزنس میں مصروف تھا۔ انیس سالہ تعلقات کے خاتمے پر میں نے کبھی شادی نا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس میرج انسٹیٹیوشن کے ہی خلاف ہو گیا۔ 2017ء میں آفیشل طلاق کے بعد جشن آزادی کے طور پر ڈیٹیں مارنی شروع کیں اور ڈیٹیں

Read more

سیکس کی نفسیات: آزادی اور اخلاقیات

محبت کا کیا ہے وہ تو آتے جاتے ہو ہی جاتی ہے۔ اصل امتحان اسے نبھانا ہے۔ تعلقات استوار تو ہو جاتے ہیں لیکن جب انہیں کوئی نام دینے کی بات آتی ہے تو کچھ لوگ بدک جاتے ہیں۔ بعض لوگوں کے لیئے ریلشن شپ ایسے ہی آسان ہے جیسے سانس لینا یا کھانا پکانا۔ لیکن کچھ لوگوں کے لیئے کمٹمنٹ یعنی بندھ جانا آسان نہیں۔ محبت نبھانا کیا ہے؟ محبت نبھانا یہ ہے کہ جس سے محبت کا دعوی

Read more

پرندے کیوں نہیں آتے

پرندے کیوں نہیں آتے کنکر کیوں نہیں برساتے پرندے کیونکر آئیں گے، کنکر کیونکر برسائیں گے جب جیسے وحشی درندے کھلے عام پھرتے ہوں۔ جہاں اساتذہ کے نام پر دھبہ سارنگ جیسے جنسی بھیڑئیے بچوں کا جنسی طور پر قتل عام کرتے ہوں، وہاں پرندے نہیں آتے، کنکر نہیں برساتے۔ خبر ہے کہ سندھ کے ضلع خیر پور میں سارنگ نامی استاد نما درندے نے 135 بچوں کا خود ریپ کیا، بچوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جنسی عمل کے

Read more

ٹک ٹاک۔ ۔ ۔ لیک ہونے والی فحش ویڈیوز کا نیا پلیٹ فارم

پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، ڈیٹا ریپورٹل ویب سائیٹ کے مطابق 76.38 ملین پاکستانی انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں جبکہ صرف سال 2019 میں اور 2020 میں 1 کروڑ 10 لاکھ صارفین کا اضافہ ہوا۔

پاکستان میں مختلف ایپلی کیشنز کی وجہ سے انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے، پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں افراد میں سے تقریباً 90 فیصد افراد فیس بک استعمال کرتے ہیں، اس کے علاوہ یوٹیوب، ٹویٹر، انسٹا گرام اور ٹک ٹاک کا استعمال بھی کیا جاتا ہے لیکن گزشتہ 2 سال میں انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کے یوزرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملا۔ پاکستان میں 3 کروڑ سے زائد افراد سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔

Read more

کتنے بچے پیدا کریں؟

ضروری نہیں ہے کہ ہر شادی شدہ جوڑا بچے پیدا کرے۔ بچے صرف اور صرف ان لوگوں کو پیدا کرنے چاہئیں جو ذہنی اور جسمانی طور پر صحتمند ہوں۔ بہت سے لوگ جو ذہنی یا جسمانی طور پر بیمار ہوتے ہیں وہ بچے پیدا صرف اس لیے کرتے ہیں کہ ان کی نسل بڑھ سکے۔ یار ایک بات بتاؤ آپ نسل کیوں بڑھانا چاہتے ہیں؟ اس لیے کہ آپ کا نام زندہ رہے؟ اپنے دادا کے ابا کا نام تو بتائیں۔ اکثریت کو نہیں آتا ہوگا۔ تو کیا آپ کے آنے سے ان کا نام زندہ رہا؟

نہیں نام ایسے زندہ نہیں رکھے جاتے۔ نام زندہ رکھنے کے لیے کام کرنا پڑتا ہے آپ کا کام آپ کی سوچ کا بیج جو آپ نے بویا ہوتا ہے وہ آپ کو زندہ رکھتا ہے۔ غالب کو آپ جانتے ہیں؟ اس کے تو سارے بچے مر گئے تھے پر نام اس کا زندہ ہے۔ سقراط ارسطو کیا ان کا نام ان کی اولاد نے زندہ رکھا؟ نہیں ان کی سوچ نے رکھا۔ ایم اے نفسیات، تاریخ، فلسفہ اور پولیٹیکل سائنس تب تک مکمل نہیں ہوتے جب تک ان کا ذکر نہ کیا جائے۔ انسان مر جاتا ہے پر اس کی سوچ زندہ رہتی ہے۔

Read more

مبینہ طور پر سو سے زائد بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والا استاد سارنگ شر گرفتار

خیرپور میرس کی تحصیل ٹھری میری واہ کا رہائشی ریٹائرڈ ہائی اسکول ٹیچر سارنگ کو انسپکٹر میر امداد ٹالپر کی سربراہی میں قائم کی گئی سی آئی اے کی ٹیم نے نواب شاہ (شہید بینظیر آباد) سے گرفتار کر لیا ہے۔ سارنگ شر پر انسداد دہشت گردی کی دفع کے ساتھ ایک اور 377 کی دفع کے ساتھ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے دو مقدمات درج ہیں۔

سی آئی اے کی ٹیم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ملزم سارنگ واردات کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد روپوش ہو گیا تھا۔ جس کے بعد خفیہ اطلاع پر کارروائی کر کہ اسے نواب شاہ سے گرفتار کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملزم سارنگ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی جیسے گھناؤنے جرم میں ملوث ہے۔ مزید تفتیش کے بعد ایس ایس پی پریس کانفرنس کریں گے۔

Read more

کورونا وائرس: بولیویا کی سیکس ورکرز کورونا سے محفوظ رہنے کے لیے برساتی کا استعمال کریں گی

لاطینی امریکہ کے ملک بولیویا میں سیکس ورکرز نے کہا ہے کہ وہ اپنے کام کو دوبارہ شروع کر رہی ہیں اور اپنی حفاظت کے لیے بلیچ، دستانے اور نیم شفاف برساتی کا استعمال کریں گی۔

Read more

دور حاضر کے ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں سیکس کے مناظر کیسے فلمائے جاتے ہیں؟

ٹی وی پر سیکس دکھانے کا طریقہ تبدیل ہو رہا ہے۔ پردے کے پیچھے کیا ہوتا ہے اور سماجی دوری کے لحاظ سے بنائے گئے سیٹس پر سیکس کے مناظر کی فلم بندی کیسے ہو سکتی ہے؟ جاننے کے لیے پڑھیے یہ رپورٹ۔

Read more

جنسی تعلق سے محروم، شرابی مکھیاں

 سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جنسی تعلق سے محروم نر مکھیاں بڑی مقدار میں شراب کا استعمال کرتی ہیں۔  ایک تحقیق کے مطابق ایسی مکھیاں الكوحل کا استعمال زیادہ کرتی ہیں جن سے اُن کی مادہ ساتھی جنسی تعلق قائم نہیں کرتیں۔  سائنس میگزین میں شائع ایک مضمون میں محققین کا کہنا ہے کہ شراب ان مکھیوں کے دماغ میں ویسی ہی تحریک پیدا کرتی ہے جیسی کے جنسی تعلق پیدا کرتا ہے۔  سائنسدانوں کے مطابق اس کے لیے دماغ

Read more

کورونا وائرس کی وبا کے دوران پاکستانی سیکس ورکرز کِس حال میں ہیں؟

عالمی وبا کورونا وائرس نے جہاں زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے اور انسانوں کو انسانوں سے دوری بنائے رکھنے پر مجبور کر دیا ہے وہیں سیکس ورکرز بھی اس کا شکار ہیں جن کے پیشے میں سماجی دوری معاشی موت کے مترادف ہے۔

Read more

ہندوستان، شادی اور جنسی تعلق

تحریر: صلاح الدین ہندوستان میں جنسی تعلقات کے بارے میں رویے بہت تبدیل ہوئے ہیں۔ ہندوستان میں شادی کے کچھ عرصے بعد زیادہ تر مردوں کی اپنی بیویوں میں جنسی دلچسپی کم ہوجاتی ہے۔ انگریزی میگزین ’انڈیا ٹوڈے‘ کی جانب سے کیے جانے والے ایک سروے کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ جسمانی خواہشات کے بارے میں لوگوں کے رویے میں کافی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ جائزے کے مطابق اس دور میں مرد اپنی بیویوں

Read more

خواتین کا جنسی استحصال: مصر میں قانون کی تبدیلی کے بعد استحصال کا شکار بننے والوں کو شناخت خفیہ رکھنے کی اجازت

مصر میں جنسی استحصال کا ایک بڑا واقعہ سامنے آنے کے بعد قانون میں تبدیلی کی گئی ہے جس کے تحت جنسی استحصال کا شکار بننے والے افراد کو اب اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی اجازت ہو گی۔

Read more

کشمیر کا تین سالہ عیاد جہانگیر اور شام کا تیرہ سالہ بچہ محمد

ان دونوں کہانیوں کا پلاٹ ایک دوسرے سے مختلف ہے، جغرافیائی اور زمانی اعتبار سے یہ جدا جدا ہیں۔ لیکن ان کی روح اور باطن ایک ہی ہے۔ ان دونوں کا تعلق ایک ایسی امت سے ہے جس کے فرزند دنیا بھر میں اپنی بقا، اپنی شناخت اور اپنے وطنوں کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ دو معصوم اور مظلوم بچوں کی کہانیاں ہیں۔ جن میں سے ایک کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے اور اس کی عمر تین برس ہے جب کہ دوسرا ایک شامی مہاجر ہے، جو لبنان میں اپنی والدہ کے ساتھ پناہ گزین ہے اور اس کی عمر تیرہ برس ہے۔

کشمیری بچے کا قصہ دو دن پرانا ہے جب کہ شامی بچے کی کہانی دو سال پرانی ہے۔ لیکن دنیا والوں کو یہ دونوں واقعات ایک ہی وقت یعنی جولائی 2020 ء کے آغاز میں معلوم ہوئے۔ دونوں کی کہانی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کے ذریعے لوگوں کو پتہ چلی۔ ایک کی ویڈیو نے اردو بولنے والوں کا کلیجہ چھلنی کیا۔ دوسرے کی ویڈیو سے عربی جاننے والوں کا جگر لخت لخت ہوا۔ میری بد نصیبی کہ مجھے دونوں کا کرب اور الم سہنا پڑا۔

Read more

خودکار فلسفی گاڑی اپنے مالک کو قربان کرے گی یا راہگیر کو؟

لوگوں کو اس بات پر اعتراض ہو سکتا ہے کہ الگورتھم ہمارے لیے کبھی بھی اہم فیصلہ نہیں کر سکتا ہے۔ کیونکہ عام طور پر اہم فیصلوں میں اخلاقی پہلو شامل ہوتے ہیں اور الگورتھم اخلاقیات کو نہیں سمجھتے۔ اس کے باوجود یہ فرض کر لینے کی بھی بالکل کوئی وجہ نہیں ہے کہ الگورتھم اخلاقیات کے میدان میں ایک عام انسان کو مات نہیں دے سکے گا۔ پہلے ہی اسمارٹ فون اور خودمختار گاڑیوں جیسے آلات ایسے فیصلے کرتے ہیں، جو کبھی انسان کی اجارہ داری تھے۔ انہوں نے ان تمام اخلاقی مسائل کا سامنا کرنا شروع کر دیا ہے جن سے انسان کئی صدیوں سے نبرد آزما ہیں۔

مثال کے طور پر فرض کریں دو بچے گیند کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور اچانک سے وہ خود کار گاڑی کے سامنے جمپ لگا دیتے ہیں۔ اپنے حساب کتاب کی بنیاد پر گاڑی چلانے ولا الگورتھم یہ طے کرے گا کہ دونوں بچوں کو بچانے کا واحد راستہ مخالف سمت میں موجود گلی میں گھسنا ہے اور جبکہ دوسری طرف سے آنے والے ٹرک سے ٹکرانے کا خطرہ ہے۔ الگورتھم حساب کتاب لگاتا ہے کہ ایسی صورت حال میں کار کا مالک جو پچھلی نشست پر سو رہا ہے، اس کے مارے جانے کے ستر فیصد امکان ہیں۔ اب الگورتھم کو کیا کرنا چاہیے؟

Read more

کیا جسم فروشی قانونی ہونی چاہیے؟

جسم فروشی دنیا کے قدیم ترین پیشوں میں سے ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ کہ آیا یہ مجبوری ہے یا اپنا انتخاب ہے؟ اب اگر جسم فروشی ایک پیشہ ہے تو اسے ایک پیشے کے طور پر ہی کیوں نہیں لیا جاتا؟ اور اگر یہ ایک برائی ہے تو اسے مٹایا کیوں نہیں جاتا؟ اور اگر یہ جرم ہے تو اب تک جاری کیسے ہے؟ یہ پیشہ جتنا پرانا ہے اتنا ہی نا پسندیدہ اور ظالمانہ ہے اسے انسانی حقوق

Read more

اسرائیل کے ساحل پر اقوام متحدہ کی جیپ میں سیکس کی ویڈیو وائرل

اقوامِ متحدہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بطور ادارہ وہ اسرائیل میں اپنے ادارے کی ایک گاڑی میں بظاہر سیکس کی ویڈیو سامنے آنے پر ‘صدمے میں ہے اور شدید مضطرب ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی یہ ویڈیو مبینہ طور پر اسرائیلی شہر تل ابیب کے ساحلی مقام پر ایک شاہراہ پر فلمائی گئی تھی۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے لوگو کی حامل جیپ کی پچھلی سیٹ پر سرخ لباس میں

Read more

اسرائیل: اقوامِ متحدہ کی گاڑی میں مبینہ سیکس کی ویڈیو پر ادارے کی تحقیقات، ایکشن کی یقین دہانی

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتیریس کے ترجمان سٹیفان ڈوجاریک نے 18 سیکنڈ کی اس ویڈیو میں نظر آنے والے رویے کو قابلِ نفرت قرار دیا ہے اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل میں اپنے ادارے کی ایک گاڑی میں مبینہ طور پر سیکس کی ویڈیو پر ‘صدمے اور شدید اضطراب’ کے شکار ہیں۔ ویڈیو کلپ میں سرخ لباس پہنے ایک خاتون کو اقوامِ متحدہ کے نشانات والی ایک سفید جیپ کی پچھلی سیٹ میں ایک مرد

Read more

سیم سیکس میرج: دیار مغرب میں بدلتے ہوئے سماجی رویے

یونہی خیال آیا کہ مغرب میں رہتے ہوئے ان تجربات کے بارے میں لکھا جائے جن سے ہم گزر رہے ہیں۔ مغرب کی ان سماجی اور اخلاقی اقدار کے بارے میں لکھا جائے جو تیزی سے بدل رہی ہیں اور جن اقدار کو یورپی ممالک اور شمالی امریکہ کی عوام تسلیم کرنے میں گو مگو کا شکار ہیں۔ جنسی رویوں کے بارے میں لکھنا۔ اس پر سوال اٹھانا۔ بحث و مباحثہ کرنا۔ اور کوئی نتیجہ اخذ کرنا۔ پاکستان کے بند۔

Read more

کیا آپ کا بچہ بھی پورن دیکھتا ہے؟

اگر آپ کو ایک بار فحش مواد دیکھنے کا شوق پیدا ہو جائے تو یہ رکتا نہیں بلکہ بڑھتا ہے اور آپ کو اس کی لت لگ جاتی ہے۔ پورن انڈسٹری نے اس فحش مواد کو مختلف کیٹگریز میں تقسیم کر رکھا ہے

سب فحش سائٹس پر 18 + درج ہوتا ہے۔ لیکن ان سائٹس کا وزٹ کرنے والے کیا واقعی ہی 18 + ہوتے ہیں؟

انٹرنیٹ سیفٹی کے مطابق آج کل تقریباً 10 سال کی عمر میں بچوں کے پاس کسی نہ کسی صورت میں موبائل فون موجود ہوتے ہیں۔ انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن کی تحقیق کے مطابق 11 سے 13 برس کے بچے بھی انٹرنیٹ کی فحاشی سے متاثر ہو کر خود بھی اس کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس کا حصہ بن جاتے ہیں، 13 سال کی عمر تک کے بچوں کو کہیں نا کہیں ایسا مواد موصول ہو جاتا ہے یا پھر وہ کسی اور کو بھیجتے ہیں۔

Read more

جب میری بیٹی جنس بدل کر بیٹا بنی

فرزانہ میری ایسی دوست ہے جس کی فرزانگی، علم دوستی اور خلوص و محبت نے مجھے اس وقت سے ہی اپنا بنا لیا تھا جب میں ابتدا میں امریکہ منتقل ہوئی تھی۔ باوجود اس کے کہ اب گزشتہ سات سالوں سے ہم ایک دوسرے سے بہت دور ریاستوں میں رہتے ہیں، ہمارے درمیان قربت اور اعتماد کا رشتہ ابھی بھی برقرار ہے۔ جبھی تو اس نے کچھ سال قبل مجھے وہ ای میل لکھی جو کوئی اپنے با اعتماد دوست کو ہی لکھ سکتا ہے۔ اپنی زندگی کے ایک ایسے موڑ کے متعلق جس کا اس نے کبھی سوچا ہی نہ ہوگا۔

اس نے لکھا۔ ”اب جبکہ ہم ایک دوسرے سے بہت دور ہیں میں نہیں چاہتی کہ تمہیں کسی اور سے یہ بات پتہ چلے کہ میری بیٹی فرحین ڈاکٹر کی تشخیص کے مطابق ٹرانس جینڈر ہے۔ یہ ایک مشکل اور تکلیف دہ سفر ہے، بالخصوص فرحین کے لیے کیونکہ ابھی وہ طبی تجزیے، سرجیکل اور قانونی مراحل سے گزر رہی ہے۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو اسے ایک لڑکی سے لڑکا بننے کے عمل میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ویسے ابھی وہ تعلیم کے مراحل میں بھی ہے۔ گو ہم خاندانی پرائیویسی پہ یقین رکھتے ہیں مگر ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جس حد تک ممکن ہو سچی اور شفاف زندگی گزاریں۔“

Read more

ارد شیر کاﺅس جی سے پہلی ملاقات اور قصہ پوائزن پرفیوم کا

عبداللہ کو سب پتہ تھا۔ انگریزوں کے زمانے میں مالیات و اراضی کے محکمے میں کوٹھار (ریکارڈ سنبھالنے والا سب سے جونئیر ملازم چپڑاسی سے اوپر مگر کلرک کے نیچے درجے کا) بھرتی ہو گیا تھا۔ سن چھیاسی میں سٹی سرویئر کے عہدے تک پہنچ گیا۔ تہذیب نام کو نہیں تھی مگر دنیا داری کا بہت شعور تھا۔  پرانے کراچی کی ساری پرانی بلڈنگز کی تعمیر سے ملکیت تک کے تمام رموز جتنے سٹی سروے کے رجسٹر میں محفوظ تھے

Read more

کیا آپ بھی پورن دیکھتے ہیں؟

پاکستان سمیت دنیا کے دیگر اسلامی ممالک میں بھی فحش فلمیں دیکھی جاتی ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ اس بات کو درست نہ سمجھیں یا مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا قرار دیں لیکن اگر ہم چند لمحے کے لئے مان لیں کہ یہ بات درست ہے تو سوال اٹھتا ہے۔ ۔ ۔ آخر کیوں؟

کیوں پاکستان سمیت دیگر مسلمان ممالک کے شہری فحش دیکھنے میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں؟

Read more

برطانیہ: ’باہمی رضا مندی سے پرتشدد سیکس کے عذر کو دفاع کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا‘

Science Photo Library برطانیہ کے وزیر انصاف نے ارکان پارلیمان کو بتایا ہے کہ گھریلو تشدد کے مجوزہ قانون میں باہمی رضا مندی سے ’پرتشدد جنسی عمل’ کے عذر کو خواتین کے قتل کے مقدمات میں صفائی یا دفاع کے طور ہر پیش کرنے کو کالعدم قرار دیا جائے گا۔ ایلکس چاک نے کہا کہ ’عورت کی موت کا جواز پیش کرنے کے لیے دفاع میں یہ وجہ دینا ‘بے ضمیری’ ہے کہ عورت نے اس کے لیے ‘رضا مندی

Read more

سیکس تھیراپسٹس کو کیسی کیسی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں؟

انتباہ: نتاشا پریسکی کی بی بی سی تھری سے اس گفتگو میں جنسی مسائل پر کھل کر بات کی گئی ہے جو صرف بالغوں کے لیے پڑھنا مناسب ہے۔

جنسی مسائل کا علاج کرنے والے دیگر سیکس تھراپِسٹ کی طرح پیٹر سیڈنگٹن کی اپنے مریضوں سے گفتگو ہمیشہ خفیہ رہتی ہے اور وہ ان کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچانا چاہیں گے۔

اپنےمریضوں کی جو کہانیاں وہ مندرجہ ذیل تحریر میں بیان کر رہے ہیں ان کی بنیاد نوجوان افراد کے ساتھ سالہا سال سیکس تھیراپسٹ کے طور پر ان کے کام سے متعلق ہیں۔

Read more

لاہور کے قدیم ترین پلازہ سینما کی مسماری شروع

منٹو کا گھر گرانے والے نے لاہور کا سب سے پہلا اور سب سے خوبصورت تھیٹر و سینما ہال بھی گرانا شروع کر دیا ہے جو ”پلازہ سینما“ کے نام سے مشہور تھا، یوں تہذیب و ثقافت کے مرکز اس شہر میں عہد فنون و ثقافت کا ایک اور باب ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ہے۔ لاہور کے قلب مال روڈ اور مال کے قلب چیئرنگ کراس سے چند سو میٹر کے فاصلے پر واقع شہر کے پہلے تھیٹر

Read more

مشک: پاکستانی ڈرامہ، فلم اور تھیٹر کا معیاری امتزاج

پاکستان فلم انڈسٹری یقیناً اپنے اس دور سے نکل آئی ہے جب ایک مخصوص قسم کی فلموں کی بھرمار تھی غیر معیاری اداکاری، بے ربط ایڈیٹنگ، شہوت زدہ موسیقی، بے رنگ پرنٹ اور غیر حقیقی ڈبنگ۔ جس کی وجہ سے ناصرف معیاری اور گھریلو گھریلو قسم کی تفریح کے خواہاں سینما سے دور ہوگئے تھے بلکہ سینما بھی بند ہوتے چلے گئے، کئی سینیماز کی جگہ شاپنگ مالز نے لے لی۔ انہی دنوں میں ہمارے شہر کا آخری بچ جانے

Read more

شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کے پروفیسر ساجد سومرو توہین مذہب کے الزام میں گرفتار

خیرپور پولیس نے آج شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کے پروفیسر ساجد سومرو کو توہین مذہب اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف بات کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

سرکار کی طرف سے اے ایس آئی غلام نبی ناریجو کی مدعیت میں درج کی گئی ایف آئی آر کے متن کے مطابق، دوران گشت اسے جاسوس نے اطلاع دی کہ ساجد ولد شہمیر خان سومرو نامی شخص مذہبی احساسات کو مجروح کرنے کی نیت سے الفاظ بولتا ہے اور لوگوں میں مذہبی فرقہ واریت اور انتشار پھیلا رہا ہے

Read more

ت سے ترکی۔ ش سے شیم لیس

شیم لیس ایک امریکن ٹی وی کامیڈی ڈرامہ ہے جس میں ایک چھ بچوں کے باپ کو شرابی اور خاندانی زندگی سے لاپروا فرد دکھایا گیا ہے، بچوں کی ماں بھی ایک ایسی عورت ہے جو گھریلو زندگی اور اپنے بچوں کی ذمہ داری کے بجائے اپنی دنیا میں مگن رہتی ہے، اکثر گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔

ڈرامہ سن دو ہزار گیارہ سے آن اسکرین ہے، آخری سیزن بوجوہ وبائی صورتحال شوٹ نہیں ہو سکا ہے، ڈرامے کے تین سیزن دیکھے ہوئے ہیں مزید بھی دیکھوں گی، ڈرامے میں شرابی باپ اور بے پرواہ ماں کی ذمہ داریاں ان کی نوجوان بیٹی اٹھا رہی ہے اپنے پانچ بہن بھائیوں کو مشکلات کے ساتھ پال رہی ہے، امریکن فیملی ڈراموں کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ بڑی خوبی کے ساتھ انسانی نفسیاتی و خانگی برتاؤ دکھاتے ہیں جب ان کے معاشرے میں فیملی نظام ٹوٹنے لگتا ہے تو ستر کی دہائی میں وہ بولڈ اینڈ بیوٹی فل جیسا ڈرامہ بنا کر خاندان کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں۔

Read more

شیطان اور کراماتی میڈیا کے خوفناک کھیل

آنکھوں کے آگے اس معصوم بچے کا چہرہ ابھرتا ہے جس سے سوال کیا گیا تھا کہ اگر خوفناک شیر اچانک جنگل سے نکل کر تمہارے سامنے آ گیا تو کیا کرو۔ اور بچے نے معصومیت سے جواب دیا تھا کہ میری ہستی ہی کیا۔ جو کچھ کرے گا وہ شیر کرے گا۔ سن دو ہزار بیس تک آتے آتے دنیا ایک ایسے نظام کا حصہ بن گئی ہے جہاں سائنس اور ترقی کی ریس ہے، دہشت ہے، خوف ہے،

Read more

شہید پائلٹ کے بستر پر بڑے بھائی کی ایک رات

استاد نے اپنی چادر جھاڑی، کئی یادیں نکل کر باہر آپڑیں۔  وہ ان یادوں کو وہیں چھوڑ دینا چاہتا تھا مگر یادیں بھاگ کر پھر واپس آجاتیں۔  اس نے سوچا یہ یادیں بھی کیا بومرنگ ہیں، جتنی زور سے دور پھینکو، اتنی تیزی سے واپس آجاتی ہیں۔  آسٹریلین مقامی لوگوں نے صدیوں پہلے لکڑی سے شکار کی خاطر یہ ہتھیار بنانا سیکھا تھا، ہوا میں گھومتا تیرتا جاتا ہے اور جانور کے سر پر لگتا ہے۔  کیا خوبصورت سادہ سا

Read more

لڑکیاں پیڈ کے لیے اب فکر مند نہ ہوں

پاک سر زمین کی حدود میں انسانی زندگی سے جڑے بہت سے موضوعات پر بات کرنا، نا صرف ممنوع ہے، بلکہ کچھ معاملات تو ایسے ہیں جسے سننے سے وضو خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ پاکی نا پاکی کی سرحد میں داخل ہوتے دیر ہی نہیں لگتی۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے اسکول کی بچیوں کے لیے 2020ء کا جو اہم اعلان کیا ہے، وہ اعلان آپ کو بتاتے میں ڈر رہا ہوں، کہ کہیں ہر وقت باوضو رہنے

Read more

لاک ڈاؤن، ہم اور اردو افسانہ

باہر سناٹا ہے
طوطے اڑ گئے
انسان گھروں میں قید ہو گیا

انیس سو اڑتالیس میں ژاں پال سارتر کی اہم کتاب منظر عام پر آئی تھی۔ ادب کیا ہے۔ اس کتاب میں، سارتر نے دلائل کے ذریعے اپنے موقف کا اظہار کیا تھا۔ سارتر کے مطابق عصری ادب کو جمالیات اور لفظوں کی قلابازی سے بچنا ہوگا۔ عصری ادب نئے سماجی نظام اور نئی سیاسی صورتحال سے گریز کر ہی نہیں سکتا۔ سارتر نے صاف طور پر کہا۔ ۔ ۔ ایک مصنف کے طور پر ہمارا کام اپنے عہد کی نمائندگی کرنا ہے۔ اور اپنے ہونے کی گواہی دینا بھی ہے۔

سارتر نے یہ بھی کہاکہ شاعری میں ہم زبان کے ساتھ کھلواڑ تو کر سکتے ہیں، تجربے بھی کر سکتے ہیں مگر فکشن کے لیے یہ تجربے خطرناک ہوں گے۔ سارتر کی نظر میں لکھنے والے کا کام ہتھیار کو ہتھیار کہنا ہے، یعنی جیسا کہ وہ ہتھیار ہے۔ اگر لفظ، مرض میں مبتلا ہیں تو پہلا کام یہ ہونا چاہیے کہ ہم اس مرض (لفظ) کا علاج کریں۔ شاید اس لیے سارتر نے جدید ادب کو ایک اور نام دیا۔ لفظوں کا کینسر۔

Read more

زمین ساکن ہے اور جہالت ہماری گمشدہ میراث ہے

بچپن سے ایک حدیث سنتے آئے ہیں جس کا مفہوم کچھ اس طرح سے ہے ”حکمت اور علم مومن کی گمشدہ میراث ہے۔ جہاں سے بھی ملے اسے حاصل کر لے۔“ اس حدیث سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ علم اور حکمت کی انسان کی زندگی میں کتنی اہمیت ہے۔ بعض علماء اس حدیث کو ضعیف گردانتے ہیں۔ اگر ان کی بات مان بھی لی جائے پھر بھی ہمیں علم و حکمت اور فکر و تدبر کے کئی حوالے قرآن و حدیث سے ملتے ہیں۔ قرآن کا آغاز ہی ”اقراء“ سے ہوا۔ اور اس میں کتنی ہی آیات میں انسان کو فکر و تدبر اور تسخیر کائنات کا حکم دیا گیا۔ اس طرح ایک اور حدیث نبوی ”علم حاصل کرو، خواہ تمہیں اس کے لیے چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔“ بھی علم و حکمت کی اہمیت کو بیان کرنے کے لیے موجود ہے۔

مگر یہ سب جاننے کے باوجود بھی شاید ہمارا حکمت و دانائی سے دور دور تک کا واسطہ نہیں ہے۔ جس کا عملی مظاہرہ اکثر ہمارے ہاں دیکھنے کو ملتا رہتا ہے۔ اس کی ایک تازہ مثال اس وقت دیکھنے میں آئی جب کچھ دن پہلے دعوت اسلامی کے عالم مولانا عمران عطاری کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی۔ جس میں وہ بچوں کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے یہ فرماتے نظر آرہے ہیں۔ کہ ”زمین بالکل بھی حرکت نہیں کرتی، بلکہ اپنی جگہ پر ساکن ہے“ ۔ جس پر وہاں پر موجود ایک طالب علم جب ان کو یہ بتاتا ہے کہ ”ہم نے تو سکول میں اپنی کتابوں میں یہی پڑھا ہے کہ زمین حرکت کررہی ہے مگر آپ کہہ رہے کہ ساکن ہے“ ۔

Read more

ہر شاخ پہ ٹڈی بیٹھی ہے انجام گلستاں کیا ہو گا

یہ کہنا قطعاً غلط نہیں ہو گا کہ دنیا اس وقت تاریخ کے کٹھن اور صبر آزما دور سے گزر رہی ہے، مگر غور کیا جائے تو دنیا کی پیدائش سے لے کر اب تک ہر دن اس کے لئے نئے چیلنج لاتا رہا ہے اور اسی بنا پر یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ دنیا اپنی تخلیق سے اب تک زیر تعمیر ہی رہی ہے۔ بنی نوع انسان کو آغاز سے ہی قدرتی آفات کا سامنا رہا ہے ارتقا کے اس سفر میں جہاں ان آفات نے انسانی بستیاں اور آبادیاں تباہ کی زندگی کو مفلوج کیا وہیں انسانوں کو ترقی اور جدت کے سفر پر روانہ بھی کیا۔ اگر آسمان سے بارشیں تیز ہوائیں اور بجلیاں نہ گرتی تو انسان چار دیواری بنانے کا نہ سوچتا۔ اگر سیلاب نہ آتے تو پکے اونچے آج کے جدید مکان شاید نہ ہوتے۔ یہ آفات انسانوں کو بہتر سے بہتر اور منظم کرنے اور زندگی کو دوبارہ سے نئے سرے سے بہتر اور مفید طریقے سے ترتیب دینے کے لئے فائدہ مند بھی ثابت ہوئی ہیں۔ دنیا اپنے آغاز سے اختتام تک انہی آفات کے زیر اثر ترقی اور جدت کی طرف گام زن رہی ہے۔

آج پوری دنیا جہاں کورونا وائرس کے زیر اثر لقمۂ اجل بن رہی ہے، وہیں ایک آفت ٹڈی دل فصلوں کو اجاڑ کر ملکی فوڈ چین کو توڑ کر غذائی قلت اور قحط کا ڈنکا بجا رہی ہے۔ افریقہ کے صحراؤں سے نمودار ہونے والے اس لشکر نے تئیس ممالک پر چڑھائی کر دی ہے۔

Read more

 ہم جنسیت کا سوال اور عام تعصب کی نفسیات

پچھلے دنوں ہمارے ایک دوست نے سوال کردیا کہ بھائی! یہ ہم جنسیت اگر عام ہو جائے اور اس کا جواز اس بات کو بنا لیا جائے کہ ایک انسان اپنی فطرت سے مجبور ہے اور وہ جو کچھ کرنا چاہتا ہے، اس سے اسے روکنا انسانی اخلاقیات کے خلاف ہے تو کیا غیر قدرتی جنسی رشتوں کی باڑھ نہیں آجائے گی؟ کیا ایسا نہیں ہوگا کہ لوگ پھر اپنے جانوروں کے ساتھ جنسی رشتے بنائیں گےاور اس عمل کا

Read more

کورونا وائرس کی وجہ سے سویڈن میں نوجوان لڑکیاں جسم فروشی پر مجبور ہوگئیں

سٹاک ہوم (سویڈن) میں کورونا وائرس کی وجہ سے لڑکیوں کے جسم فروشی پر مجبور ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں ایک خفیہ آپریشن کیا گیا ہے جس میں معلوم ہوا ہے کہ نوعمر لڑکیاں، جن کی ملازمت کورونا وائرس کی وجہ سے ختم ہو گئی، جسم فروشی کی طرف راغب ہو رہی ہیں۔ سٹاک ہوم سٹی یوتھ ریپڈ ریسپانس ٹیم کی سیکرٹری میلن اینڈرسن کا کہنا تھا کہ ”ہم نے

Read more

 ‘میرے سابق شوہر کی سیکس پرفارمنس عمران خان سے بہتر تھی’: ریحام خان

پاکستان کے متنازع میڈیا پرسنیلٹی وقار ذکا رمضان کے آغاز سے ہی ایک کے بعد ایک ایسا شو لے کر آرہے ہیں جس میں موضوع بحث ‘سیکس’ ہے. 5 مئی کو انہوں نے پہلے آن لائن اسلامی سیکس شو کا انعقاد کیا اور اب وزیر اعظم عمران خان کی جنسی و ازدواجی زندگی کے بارے میں ایک شو لے کر آئے ہیں جن میں ان کے ساتھ وزیر اعظم کی سابق اہلیہ ریحام خان شریک تھیں۔ اسی شو میں موجودہ

Read more

کورونا کی وبا اور جسم فروشی: کووڈ 19 اور لاک ڈاؤن برطانوی سیکس ورکرز کو کیسے متاثر کر رہے ہیں

برطانیہ میں ایک خیراتی ادارہ معاشرے کے ایک ایسے طبقے کی فلاح کے لیے کام کر رہا ہے جنھیں اکثر لوگ یا تو بھول جاتے ہیں یا انھیں مدد کا حقدار نہیں سمجھتے: سیکس ورکرز۔ خیراتی ادارہ ’سیفر ویلز‘ سنہ 2005 سے اپنے ’سٹریٹ لائف‘ پراجیکٹ کے تحت ایسی خواتین کی مدد کر رہا ہے جو جسم فروشی کے کاروبار میں پھنس گئی ہیں۔ اب یہ ادارہ ایسی خواتین کو گھروں میں رہنے پر قائل کرنے کے لیے اپنا کام کرنے

Read more

حوریم سلطان سے کوسم سلطان تک: سلطنتِ عثمانیہ کی شاہی کنیزیں جو کسی ملکہ جتنی بااثر تھیں

یہ سنہ ہے 1603 اور منظر ہے سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان احمد اول کے اقتدار کے پہلے سال میں ترک شاہی حرم کا!
یونان کے گاؤں سے سلطان کے لیے تحفے کے طور پر اغوا کر کے لائی گئی ایک دبلی پتلی سی لڑکی نئے سلطان کی دادی صفیہ سلطان کے قدموں میں گر کر گھر واپس جانے کی بھیک مانگ رہی ہے۔

صفیہ سلطان اسے بتاتی ہیں کہ اب یہ ناممکن ہے اور پھر پیار سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے ایک مشورہ دیتی ہیں۔ ’دیکھو بیٹی،ایک عورت کو اپنی زندگی میں کئی کردار نبھانے پڑتے ہیں۔ وہ زندگی کے ہر مرحلے میں ایک مختلف انسان ہوتی ہے۔ ایک بچی، ایک عورت، ایک ماں، اور، اگر وہ سمجھدار ہے اور اس پر خدا کی مہربانی ہے تو وہ سلطانہ بھی بن سکتی ہے۔ فرق صرف اس بات سے پڑتا ہے کہ وہ خود اپنے لیے کیا انتخاب کرتی ہے۔‘

پھر صفیہ سلطان اپنی بات ختم کرتے ہوئے انستاسیا نامی اس لڑکی سے کہتی ہیں کہ ’اطمینان رکھو، تمہارا مستقبل بہت روشن ہے۔‘

یہ تو تھا انستاسیا کی زندگی پر بنی ترک ٹی وی سیریز کوسم سلطان کا ایک منظر۔ اب سلطنت عثمانیہ کے مختلف حصوں سے اغوا ہو کر اور غلام بن کر شاہی حرم میں پہنچنے والی کچھ لڑکیوں کی حقیقی زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں، جن کا بعد میں شمار اپنے دور کی طاقتور ترین عالمی شخیصات میں ہوا۔

Read more

’میری اہلیہ نے مجھے دس سال تک جنسی ہوس کا نشانہ بنایا‘

گھریلو تشدد کے زیادہ تر واقعات کی شکایات خواتین کی جانب سے آتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ایک تہائی خواتین اپنی زندگی میں جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔

اس کے مقابلے میں شاذ و نادر ہی ایسا واقعہ سننے کو ملتا ہے جس میں کسی مرد پر جسمانی یا جنسی حملہ کیا گیا ہوتا ہے۔

مردوں کے ساتھ گھریلو تشدد کے واقعات اور ان کے بارے میں بات کرنا معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے اور اس کے شکار مردوں کو اکثر اپنی مشکلات اکیلے ہی جھیلنی پڑتی ہیں۔

Read more

قدیم سنسکرت کی شعریات اور نظریۂ دھون

ہندوستان میں شاعری پر بحث و تمحیص کی روایت نہایت قدیم ہے۔ ویدوں کی رچائیں، منتر اور شلوک ہر چند تہذیب کے عہد طفلی کی کہانیاں ہیں، لیکن ان میں اظہار اور اسلوب کی پختگی بدرجہ اتم پائی گئی ہے۔ ویدوں کی تالیف کا عہد تقریباً ایک ہزار سال قبل مسیح ہے۔ ”ہسٹری اینڈ کلچر آف انڈین پیپل“ کے مصنف کے مطابق لسانیاتی بنیادوں پر قدیم ترین وید ”رگ وید“ کی زبان ایک ہزار سال قبل مسیح ہے، لیکن اس کا مواد اس سے کہیں زیادہ قدیم ہے۔ اے۔ ایل۔ ہاشم کے بقول دوسری ہزاری قبل مسیح میں جو لوگ ہندوستان میں داخل ہوئے ان میں ایک قبیلہ بھرت نامی تھا جو بعد میں برہما ورت سے معنون ہوا۔ برہما ورت کے پروہتوں کے گیتوں کو باقاعدہ ترتیب دے کر رگ وید تالیف ہوئی۔

Read more

منٹو شریف بدمعاش تھا

منٹو کو سمجھنے کے لیے صرف اس وقت کی غلامی کو ذہن میں رکھنا ہی ضروری نہیں ہے۔ اس لیے منٹو کی کہانیاں صرف تقسیم کا المیہ نہیں ہیں۔ وہ کہانی لکھتے وقت اتنا بے رحم ہو جاتا تھا کہ اس کے الفاظ سے لہو رستے دکھائی دیتے تھے۔ اس کا اظہار اس کے درد کا ترجمان بن جاتا تھا۔ منٹو کے لیے آزادی محض ایک لفظ بھر نہیں تھا۔ منٹو کے لکھنے کی کہانی ایسٹ انڈیا کمپنی کی شروعات، غلامی کے سیاہ دن اور کالا پانی کے خوفناک قصوں سے بھری ہے۔

کہتے ہیں 1857 میں کالا پانی کی سزا پانے والے ہندستانی باغیوں نے انڈمان میں ایک نیا ہندستان بنایا تھا۔ ایک ایسے ہندستان کا تصور جس کی بنیاد یکجہتی اور آپسی بھائی چارے پر رکھی گئی تھی۔ لیکن منٹو پر باتیں کرتے ہوئے اس وقت کے حالات کو سمجھنا ضروری ہے۔ سمندر سے گھرا ہوا ایک ایسا جزیرہ جہاں سے ان قیدیوں کا بھاگنا آسان نہیں۔ چاروں طرف گرجتا ہوا سمندر، دھاڑتا ہوا شور، خوفناک درختوں کے بے رحم سائے، جنگلوں میں رہنے والے دہشت گرد آدی واسی، قسم قسم کے جانور اور زہریلے کیڑے مکوڑے انگریزوں نے ملک پر ست وفادار ہندستانیوں کے لیے کالا پانی کی سزا کا انتخاب کیا تھا۔

جہاں وہ طرح طرح کی بیماریوں کے شکار ہوجائیں یا دردناک موت کے آہنی شکنجے میں پھنس کر اپنا دم توڑ دیں۔

Read more

کیا میاں بیوی طلاق کے بعد بھی دوست رہ سکتے ہیں؟

ڈاکٹر صاحب!
آپ کی تحریر اور اپنے موضوع نفسیات پہ گرفت نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا ہے۔ آپ کا ہر کالم میرے لیے سوچ کے نئے در وا کرتا ہے۔ مجھے خود بھی کافی حد تک انسانی نفسیات اور رویوں کو پڑھنے، سمجھنے اور سلجھانے کی کافی دلچسپی ہے۔ انسانی تعلق جو ایک مرد اور عورت کے درمیان محبت، ریلیشن شپ یا شادی کا ہے ایک ایسا موضوع ہے جو مجھے اپیل کرتا ہے۔ میں جانتی ہوں کہ تعلق بنتے ہوئے کافی وقت لیتا ہے لیکن جب اسے توڑا جاتا ہے تو عموماً ایک تلخی کے ساتھ ختم کیا جاتا ہے جیسے اس میں کبھی محبت اور مٹھاس نہ رہی ہو۔ ایک طرح کی تلخی اور نفرت کے جذبے سے تعلق ختم کیا جاتا ہے۔

Read more

کورونا وائرس: نیدرلینڈز کی حکومت کا غیر شادی شدہ افراد کو ’سیکس پارٹنر‘ تلاش کرنے کی ہدایت

ہالینڈ کی حکومت نے وبائی مرض کے دوران قربت کے خواہاں سنگلز یعنی غیر شادی شدہ افراد کے لیے نئی رہنما ہدایات جاری کی ہیں اور انھیں ایک ’سیکس پارٹنر‘ یعنی جنسی رفیق کی تلاش کا مشورہ دیا ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار پبلک ہیلتھ اینڈ دی انوائرنمنٹ (آر آئی وی ایم) کا کہنا ہے کہ مجرد زندگی بسر کرنے والے فرد کو کسی دوسرے کے ساتھ رہنے کا انتظام کرنا چاہیے۔ لیکن ہدایت میں یہ بھی کہا گیا ہے

Read more

لاک ڈاؤن میں مسلمان عالمی سیاست کے نشانہ پر ہے

بڑی بڑی خبروں کے درمیان کچھ چھوٹی خبروں، خاص کر ہمسایہ ممالک کی خبروں کو اکثر ہم نظر انداز کر دیتے ہیں۔ سری لنکا میں مسلم مخالف فسادات کے لئے فیس بک نے معافی مانگی۔ یہ اعتراف کیا کہ مسلمانوں پر حملے کے لئے سوشل نیٹ ورکنگ کا غلط استعمال ہوا۔ ان دنوں یہی بات ٹویٹر کے لئے کہی جا رہی ہے۔ جہاں اسلامو فوبیا اور اس طرح کے کئی عنوانات سے مسلمانوں کے حوالے سے دہشت پھیلانے کا کھیل

Read more

پاکستان میں ریپ وکٹم سروائیو کیوں نہیں کر سکتا

ہمارا سماج ایک روایتی سماج ہے۔ یہاں بہت سی سو کالڈ روایات اور رواج ہیں جنہیں تہذیب اور اخلاق کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جس میں بہت سے ایسے موضوعات کو ٹیبو بنا دیا گیا ہے جو ہمارے ارد گرد عام موجود ہیں لیکن ان کے بارے میں بات کرنا، ڈسکشن کرنا شدت سے برا سمجھا جاتا ہے۔ انہیں معاملات میں ایک معاملہ سیکس کا بھی ہے۔ جس پہ بات کرنا سخت معیوب سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ ایک جبلی ضرورت ہونے کی وجہ سے ہر انسان اس کے متعلق اگاہ ہے۔

لیکن یہ آگاہی کسی بھی تربیت یا تعلیم سے بالکل نابلد ہے کیونکہ اس کے بارے میں بات کرنا منع ہے۔ تو یہ جذبہ ایک حیوانی شکل اختیار کر جاتا ہے جسے سدھایا نہیں گیا ہوتا۔ اس لیے اس کا اظہار بھی انتہائی غیر مہذب انداز سے کیا جاتا ہے۔ گلیوں کوچوں میں دی جانے والی گالیوں سے لے کر کسی کو سنجیدہ دھمکی دینے تک کہیں نہ کہیں سیکس کا ذکر ضرور ہوتا ہے جس میں محترم رشتوں کو گھسیٹا جاتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہے کہ محض دبائے جانے کی وجہ سے یا اس حقیقت سے آنکھیں چرانے کی وجہ سے ایک انسانی ضرورت کا اظہار کس قدر لازم اور بد صورت ہو چکا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ دس میں سے سات بچے پندرہ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے کسی نہ کسی قسم کی جنسی

Read more

پاکستان، ارطغرل اور حلیمہ باجی استغفراللہ

آج کل جس ڈرامہ کے چرچے ہیں ہر زبان پر، پاکستان اور ترکی کا تو معلوم ہے لیکن پوری دنیا کو بھی اس کی خبر ہو گئی۔ کائی قبیلہ والے کون ہیں، کیسے لڑتے تھے، کس خطہ زمین سے اٹھے اور دیکھتے دیکھتے کہاں تک چھا گئے، کس سلطنت کی بنیاد رکھی، دوست اور دشمن کے ساتھ سلوک، مذہبی اور معاشرتی معاملات، رسم ورواج وغیرہ کی سب تفصیلات تو اب اس ڈرامہ کو دیکھنے والوں کو یاد ہو چکی ہیں۔

Read more

بندیا رانا: ایک ذہین، باشعور اور بہادر خواجہ سرا جس نے ہار نہیں مانی

بندیا رانا نا صرف کراچی بلکہ پاکستان کے دیگر شہروں میں بسنے والے خواجہ سراؤں کے حقوق بحالی کے لیے ایک ایسا کردار ہیں جنہوں نے کٹھن سے کٹھن حالات میں اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ انھوں نے 2013 ء کے انتخابات میں کراچی سے حصہ لیا، مخالفین ان کے کاغذات نام زدگی منظور ہونے کے بعد اس قدر خوف زدہ ہو گئے کہ انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے علاوہ ان کی انتخابی مہم میں ہر طرح کی

Read more

شکریہ کورونا

وطن عزیز میں جہاں موت کی ننگی تلواروں کا بلا ناغہ رقص ہوتا ہو وہاں کورونا کی چٹکیوں سے کون ڈرتا ہے بھلا! ویسے بھی ہم شاہین ہیں اور بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں تیری کیا مجال کہ تو ہمیں موت سے ڈرا سکے کورونا۔ ہم مذہب پرستوں، فرقہ پرستوں، قوم پرستوں، نسل پرستوں، شخصیت پرستوں، پیسہ پرستوں، عہدہ پرستوں، شہرت پرستوں، شہوت پرستوں، جماعت پرستوں، لیڈر پرستوں کے خون میں جنون کی آگ

Read more

کورونا وائرس کی وجہ سے آمدنی بڑھ گئی ہے: برطانیہ میں جسم فروش کمیونٹی کا انکشاف

کوروناوائرس کی وجہ سے دنیا کے کاروبار تباہ ہو چکے ہیں لیکن برطانیہ میں جسم فروش کمیونٹی نے اپنی آمدنی میں اضافے کا انکشاف کیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ٹفنی نامی ایک جسم فروش لڑکی نے انکشاف کیا ہے کہ کورونا وائرس اور لاک ڈاﺅن کی وجہ سے ان کے دھندے میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہو گیا ہے۔ وہ لاک ڈاﺅن کے باوجود ملک کے طول و عرض میں سفر

Read more

ولہلم رائخ پر خالد سعید صاحب کے ایک مضمون کی شرح‎

میرے ذی قدر استاد پروفیسر خالد سعید صاحب نے جن ماہرین نفسیات پر 1980 کی دہائی میں مضامین تحریر فرمائے تھے ان میں سے ایک آسٹریا میں پیدا ہونے والے ولہلم رائخ Wilhelm Reich بھی تھے. پڑھے لکھے افراد کی اکثریت ان کو ان کی مشہور کتاب Mass Psychology of Fascism کے حوالے سے جانتی ہے۔ نفسیات کے طلباء کے پاس بالعموم ان کی 23 کتابوں کی فہرست ہوتی ہے۔ خالد سعید صاحب نے دس کتابوں کی فہرست اپنی تحریر

Read more

سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کا ایک عبرت ناک ورق

جیسا کہ ہم جانتے ہیں برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کو خلافت عثمانیہ سے گہری محبت رہی ہے۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد جب خود ترک قوم اتاترک مصطفیٰ کمال پاشا کی قیادت میں خلافت کا بستر لپیٹ رہی تھی، برصغیر کے کونے کونے میں نہ صرف مسلمان تحریک خلافت چلا رہے تھے بلکہ مسلمان عورتوں نے خلافت کے دفاع کے لئے اپنے زیور تک اتار کر چندے میں دے دیے۔ اس دور کا ادب بھی اس مذہبی حمیت

Read more

کیا واقعی ہم تبدیل ہوسکیں گے؟

عمومی طور پر ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اگر کوئی معاشرہ کسی بڑی مشکل کا شکار ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں مشکلات سے نمٹنے کے تناظر میں

کئی بڑے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ کیونکہ ہر بحران کا اپنا ایک نظام ہوتا ہے اور بحرانوں سے نمٹ کر ہم مستقبل کی کے ماحول کو بھی بدلنے کی طرف پیش قدمی کر سکتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کوئی بھی معاشرہ سامنے آنے والے مواقع سے فائدہ اٹھاتا ہے یا اپنی عدم صلاحیت اور بہتر سمجھ بوجھ سمیت کمزور سیاسی کمٹمنٹ کے باعث فائدہ

Read more

کورونا کے بعد ٹڈی دل کا حملہ تیار

پاکستان میں ٹڈی دل کا حملہ نیا نہیں، اس سے قبل 1955 اور 1993 میں بھی ٹڈی دل کے حملے سے سندھ اور پنجاب کے کئی شہروں کی کپاس کی فصل تباہ ہوئی۔ رواں سیزن میں ٹڈی دل نے صوبہ پنجاب کے جنوبی اضلاع میں تیسرا حملہ کیا ہے جس کی وجہ سے گندم اور سرسوں کی تیار فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ پنجاب کے وسطی اضلاع ساہیوال، وہاڑی، پاکپتن، اوکاڑہ سمیت متعدد شہر ٹڈی دل کی زد میں ہیں۔ ٹڈی دل کے لشکروں کی تعداد اور فصلوں پر بڑھتے ہوئے حملوں نے ماہرین حشرات کو حیرت زدہ کردیا ہے۔

Read more

افضال نوید۔ ۔ ۔ ایک صاحب دیوان، دانا اور دیوانہ شاعر

کیا آپ کبھی کسی ایسے شاعر سے ملے ہیں جو صاحب دیوان بھی ہو، دانا بھی ہو اور دیوانہ بھی؟ میں اپنی زندگی میں تین ایسے شعرا سے مل چکا ہوں۔

پہلے صاحب دیوان، دانا اور دیوانہ شاعر منیر نیازی تھے۔ میں لاہور میں ان کے گھر ان سے ملنے گیا تو وہ ایک عالم بے خودی میں مسلسل ایک گھنٹہ گفتگو کرتے رہے۔ وہ گفتگو مونولاگ زیادہ اور ڈائلاگ کم تھی۔ گھر آ کر میں نے ان کا مونولاگ لکھ لیا جو نہایت دلچسپ اور معنی خیز تھا۔ اس مونولاگ میں ان کی دانائی اور دیوانگی دونوں عیاں تھے۔ اسی لیے رخصت ہونے سے پہلے انہوں نے مجھے اپنا یہ شعر سنایا

Read more

بھارت، طالبان اور امریکی ثالثی

29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان اور امریکہ کے درمیان ہوئے معاہدے سے تقریباً دوہفتے قبل بھارتی فضائیہ کے ایک طیارہ نے کابل ایر پورٹ پر لینڈ کیا۔ اس طیارہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ایک دست راست صدر اشرف غنی کے لئے ایک خصوصی پیغام لے کر آئے تھے۔ اسی رات واپس دہلی پہنچ کر افسر اعلیٰ نے وزیر اعظم کو مشن کی کامیابی کی اطلا ع دید ی۔ امریکہ و یورپ سمیت پڑوسی ممالک نیز افغانستان کی سیاستی جماعتیں توقع کر رہی تھیں کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کے طے ہونے تک افغانستان کا الیکشن کمیشن انتخابات کے نتائج کا اعلان نہیں کرے گا۔

Read more

ماں عظیم ہے

گوتم کو عمر بھر پتا نہ چلا کہ دکھ عورت ہے وہ عورت ہی تھی جس نے اُسے جنم دے کر موت کو گلے لگا لیا اور وہ بھی عورت تھی جسے وہ بستر میں سوتا چھوڑ آیا تھا اور حالتِ مرگ میں اسے دودھ اور چاول کی بھینٹ دینے والی بھی ایک عورت تھی دکھ عورت ہے اور عورت دکھ ہے۔ عورت کسی بھی روپ میں ہو عظیم ہے۔ کیونکہ دکھ عظیم ہے۔ دکھ کی ارفع ترین شکل تخلیق

Read more

’ناتھو رام گوڈسے‘ کی راکھ اب کہاں ہے؟

تہتر سال پہلے، 15 اگست 1947 ء کی شام، نیو دہلی کے ایک میدان میں لاکھوں ہندوستانی امڈ آئے تھے۔ ہندوستان کے نئے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ایک شاندار تقریب میں نہرو کے ساتھ مل کر ترنگا لہرانا تھا۔ تقریب کی تفصیلات کو گورنر جنرل نے خو د بہت باریک بینی اور بے حد اشتیاق سے ترتیب دیا تھا۔ وائسرائے کی گارڈز کی نئے جھنڈے اور آزاد ملک کے وزیر اعظم کو سلامی کے علاوہ فوجی بینڈ کا شاندار مظاہرہ دیکھنے کے لئے پچاس ہزار کے لگ بھگ لوگوں کی آمد متوقع تھی۔

Read more