نصیبوں والیاں ….. اسد محمد خان کے قلم سے(1)

 صحّت کے سلسلے میں بہت سوں کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔۔ کچھ کے نہیں بھی ہوتے۔ ممّند ریاض کا یہ تھا کہ سویرے جلدی اُٹھنے والا بندہ تھا۔ روز وہ میونسپل پارک میں شبنم سے بھیگی گھاس پہ ننگے پاؤں ٹہل ضرور لگاتا تھا۔ کہتا تھا اس سے آنکھوں کی "روشنیائی” بہتر ہوتی ہے۔ خبر نہیں اس بہتر روشنی کو وہ گاہکوں کو پہچاننے، اُن پہ کڑی نظر رکھنے کے لیے استعمال کرتا تھا یا اس کا مقصد اتنا سادہ

Read more

زاہد ڈار بھی چلا گیا!

زاہد ڈار صاحب شاعر تھے۔ اپنی ڈائری، شعر میں لکھتے تھے۔ یہ ہی ڈائری غالبا صفدر میر کی کرم فرمائی سے’سب رنگ‘ کے ایڈیٹر حسن عسکری صاحب کے ہاتھ لگی اور ’مادھو‘ کے قلمی نام سے زاہد ڈار کا کلام منظر عام پر آیا۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

زاہد ڈار کی نظم ‘ایک ویران گاؤں میں’

زاہد ڈار کی نظم ’ایک ویران گاﺅں میں‘ پہلے بھی پڑھ رکھی تھی لیکن کچھ عرصہ پہلے احمد مشتاق صاحب نے اس کا پس منظر بتایا تو اس کی معنویت اور طرح سے اجاگر ہوئی۔ 1965 کی جنگ ختم ہونے کے بعد زاہد ڈار نے احمد مشتاق، محمد سلیم الرحمان اور ریاض احمد کے ساتھ ایک سرحدی گاﺅں کو وزٹ کیا، جس کے بعد یہ نظم تخلیق ہوئی اور ’سویرا’ میں چھپی۔ احمد مشتاق اور محمد سلیم الرحمان کو یہ

Read more

پاک ٹی ہاؤس اور زاہد ڈار

”یار کئی لوگ ایسے لگتے ہیں جیسے انہیں میں نے کہیں دیکھا ہو، اب اسی برس کی عمر میں پتہ نہیں کتنے ہی لوگوں کو دیکھا ہو گا۔ وہ دیکھو وہ جو سامنے بندہ ہے، اب وہ کبھی نہ کبھی کہیں دیکھا ہے، پر کہاں، یہ اگر یاد آ جائے تو پھر کیا بات ہے۔ بہت سے لوگ مجھے دیکھتے ہیں اور حیران ہو جاتے ہیں کہ تم ابھی تک زندہ ہو ہم سے تو جو بھی ٹی ہاؤس والے

Read more

پاکستان کی ایک بیٹی امریکہ میں

مجھے اچانک پاکستان جانا پڑگیا۔ امی کا فون آیا تھا، ابو سخت بیمار ہیں، ہسپتال میں داخل ہیں، جتنی جلد آسکتی ہو آجاؤ۔ مجھ سے رہا نہیں گیا، گھبرائی ہوئی اپنے یہودی پروفیسر کے پاس پہنچی۔ میری چھٹیاں تو نہیں تھیں مگر جانا تو تھا، اگر نوکری بھی چھوڑنی پڑجاتی تو میں چھوڑ دیتی۔ اس تمام محنت، عزت، دولت، کمائی کا فائدہ کیا ہے اگر وقت پر ماں باپ بھائی بہن کے اچھے میں نہ ہوں تو کم از کم برے میں تو ہوں۔

پروفیسر مارک شلٹنربرگ میرے پروفیسر تھے۔ غور سے میری بات سن کر بولے، ”شیور وائی ناٹ۔ اگر تمہارے باپ کی طبیعت خراب ہے تو تمہیں فوراً جانا چاہیے۔ تمہاری چھٹی ہے جاؤ۔ جب تک رہنا پڑے رہنا بٹ کیپ می پوسٹڈ ول یو؟ “

Read more

کتابوں اور یادوں میں گھرا ایک بوڑھا آدمی

کبھی ایسے انسان کا تصور کیجیے جسے زندگی میں کوئی کام نہ ہو، نہ اسے نوکری کرنی ہو، نہ اسے کاروبار کرنا ہو، نہ اس نے شادی کی ہو نہ کرنی ہو، بس ایک کام ہو اور وہ کرتا جائے، کرتا جائے کرتا جائے یہاں تک کہ وہ اسی برس کا ہو جائے۔ اور وہ کام کتاب پڑھنا ہو۔ جب کبھی کتابوں سے جی بھر جائے تو جا کر دوستوں میں جا بیٹھے اور جو وہاں سے اکتائے تو واپس

Read more

زاہد ڈار: اس نے زندگی سے صرف کتاب کا تقاضا کیا!

نوۤے کی دہائی کے اوائل میں پاک ٹی ہاؤس اپنی آخری سانسیں گِن رہا تھا۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک تو یہ عرصہ دراز سے دم توڑ چکا تھا صرف اس کی موت کا رسمی اعلان ہونا باقی تھا۔ انہی دِنوں مَیں گورنمنٹ کالج سے نکل کر، جس کے ٹی ہاؤس سے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط تھے، صحافتی دُنیا میں وارِد ہوئی، اکثر اس مسحور کُن جگہ کی بچی کچی نشانیاں اور چائے مجھے اپنی جانب متوجہ کرتے۔ میں

Read more

انسانیت کو تسخیر کائنات کا درس دینے والا۔ فیض احمد فیضؔ

”اب جبکہ کائنات کے راستے ہم پر کشادہ ہو گئے ہیں۔ ساری دنیا کے خزینے انسانی بس میں آسکتے ہیں تو کیا انسانوں میں ذی شعور، منصف مزاج اور دیانت دار لوگوں کی اتنی تعداد موجود نہیں ہے جو سب کا منوا سکے کہ یہ جنگی اڈئے سمیٹ لو۔ یہ بم اور راکٹ، توپیں، بندوقیں سمندر میں غرق کردو اور ایک دوسرے پر قبضہ جمانے کی بجائے سب مل کر تسخیر کائنات کو چلوجہاں جگہ کی کوئی تنگی نہیں ہے،

Read more

میں تمثال ہوں: اردو کے بیضہ مور ناقدین اور فحاشی کا الزام

کچھ دن قبل، میں نے ”میں تمثال ہوں“ کے متعلق ایک تبصرہ لکھا جو ”ہم سب“ پر شائع ہوا۔ جیسے ہی وہ تبصرہ فیس بک پر شیئر کیا، مجھے بہت سے میسجز موصول ہونے لگے جن میں ناول کی تکنیک، کردار نگاری، منظر نگاری اور اسلوب کے حوالے سے اعتراض اٹھائے گئے تھے۔ کچھ دوستوں نے چند مشہور ادبی شخصیات کے اس ناول پر لکھے جانے والے تبصرے بھی بھیجے جو میرے سابقہ تبصرے کی نفی کر رہے تھے۔ میرے

Read more

سریندر ورما کا ناول: ’دو مردوں کے لیے گلدستہ‘

’لالچ ایک مقدس جذبہ ہے۔‘ جینت کا یہ جملہ شہر کی زندگی کا معیار ہے۔ اخلاقی طور پر یہ بات تھوڑی عجیب معلوم ہو سکتی ہے مگر سچ یہی ہے کہ کچھ اور پانے کی جستجو کا ہی دوسرا نام شہری زندگی ہے۔ سریندر ورما کا پورا ناول اسی حقیقت کے آس پاس گھومتا ہے۔ سب سے پہلے آپ کو کہانی سے متعارف کروا دیتا ہوں۔ رامجس کالج میں صدر شعبہ ڈاکٹر شرما کا چہیتا طالب علم نیل، ایم اے

Read more

بہنوئی سے شادی سے انکار

ثنا بنت ظفر محمود آپ کو بعوض پانچ لاکھ روپے حق مہر معجل محمد حسن ولد محمد اکرم سے نکاح قبول ہے۔

ایک جامد خاموشی تھی جس میں ثنا اور اس کے ماں باپ اپنے دل کے دھڑکنے کی صدا سن رہے تھے، ثنا کی خاموشی پر حسن نے بے چینی سے پہلو بدلا تھا، مفتی صاحب نے کچھ توقف کے بعد اپنے الفاظ دوبارہ دہرائے مگر ثنا پر ایک چپ طاری تھی

Read more

پاسٹرناک اور اولگا: انقلاب، جنگ اور آمریت کے رنگوں سے سجی محبت!

"وہ بادلوں کا مکین ہے، اسے وہیں رہنے دو” ساٹالن جیسے ڈکٹیٹر کے منہ سے یہ الفاظ ایک ایسے شخص کے لئے نکلے جسے 1958 میں لٹریچر میں ملنے والا نوبل انعام وصول کرنے کی اجازت بھی نہ مل سکی۔ بیسیوں صدی کا وہ سحر انگیز ادیب اور شاعر جس کی زندگی درد، جنون، عشق، ہمدردی اور جذبے کے رنگوں سے لکھی گئی تھی۔ سٹالن جیسا ڈکٹیٹر بھی بورس پاسٹرناک کی شاعری کی سحر انگیزی سے نہ بچ سکا اور

Read more

سرخی (طنز و مزاح)۔

سرخی ہونٹوں کی ہو یا اخبار کی، نظریں سب سے پہلے ادھر ہی جاتی ہیں۔ اخبار کی سب سے بڑی سرخی آٹھ کالمی ہوتی ہے جبکہ خوبصورت ہونٹوں کی سرخی بڑی ظالمی ہوتی ہے۔ اپنی بیوی کی سرخی مشکل سے ایک کالمی نظر آتی ہے جبکہ کسی اور کی سرخی آٹھ کالمی ہونے کے ساتھ ساتھ ظالمی بھی لگتی ہے۔ سرخی واحد پراڈکٹ ہے جس پر تقریباً ہر خاتون کے نہ صرف جملہ حقوق بلکہ جمیلہ حقوق بھی محفوظ ہیں۔

Read more

انگارہ آنکھیں سلگتے ہونٹ اور معصوم لڑکی

وہ مجھے گرینڈلیز بینک میں ملا تھا۔ درمیانہ قد، سامنے سے گھنگھریالے بال، جو بڑے سلیقے سے سر پر سجائے گئے تھے۔ گندمی رنگ، سلگتا ہوا چہرہ، بڑی بڑی انگارہ سی آنکھیں اور چہرے پر سب سے نمایاں چیز اس کے ہونٹ تھے، نہ افریقیوں کی طرح مولے موٹے، نہ جاپانیوں کی طرح پتلے پتلے۔ بھرے بھرے ہوئے ہونٹ، سلگتے ہوئے چہرے پر سلگتے ہوئے ہونٹ۔ میں اسے دیکھ کر ٹھٹھک کر رہ گئی تھی۔ خواہ مخواہ ہی دوسری بار دیکھنے کو دل چاہا تھا۔ دل بے اختیار ہو کر دھڑکا، بے چین ہو کر چونکا۔ میں گھبرا کر جلدی جلدی فارم بھرنے لگی تھی۔

کراچی میں بینک میں اکاؤنٹ کھولنا بھی ایک مسئلہ تھا۔ پہلے تو میں ناظم آباد چورنگی پر جو حبیب بینک ہے وہاں گئی، مگر ایک ہفتہ چکر کاٹنے کے بعد بھی اکاؤنٹ کھولنے کا فارم نہیں ملا تھا۔ عبداللہ ہارون روڈ پر موجود یونائیٹڈ بینک میں بھی یہی ہوا تھا۔ میں نے ازراہ تذکرہ فون پہ بہناز کو یہ بات بتائی تھی اس نے کہا تھا کہ کیوں نہ گرینڈ لیز بینک میں اکاؤنٹ کھول لو۔ گارڈن روڈ پر کانڈا والا بلڈنگ میں یہ کراچی کا پرانا بینک پارسیوں کا پسندیدہ بینک تھا۔

Read more

غیب سے پانی کی بوچھاڑ

تحریر : جون چو (چینی نژاد امریکی افسانہ نگار) مترجم : نبراس سہیل (اس افسانے نے 2014 کا بہترین افسانہ قرار دیے جانے پر ہیوگو ایوارڈ حاصل کیا۔ اس کہانی میں تصور یہ ہے کہ مستقبل قریب میں جب بھی کوئی جھوٹ بولے گا، اس پہ پانی کی بوچھاڑ ہو گی۔ پانی کی ہلکی پھوار بھی ہو سکتی ہے اور سیلابی صورت بھی۔ اس کا انحصار جھوٹ کی شدت پہ ہو گا) یہ تصور کہ آدمی جب بھی جھوٹ بولے

Read more

وہ بس ڈرائیور جو خدا بننا چاہتا تھا(عبرانی کہانی کا ترجمہ)

اس وقت سب سے بہترین بات یہ ہو گی کہ مطالعہ یہاں روک دیا جائے، کیونکہ ایڈی تو ڈولفینارئم وقت پر پہنچ گیا لیکن خوشی نہیں آئی، کیونکہ اس کا پہلے سے ہی ایک بوائے فرینڈ تھا۔ مگر وہ اتنی اچھی تھی کہ ایڈی کو یہ بات کہنے کی ہمت نہیں کر پائی، اور اس کے بجائے اس سے نہ ملنے کو بہتر سمجھا۔ ایڈی تقریباً دو گھنٹے تک خوشی کا اسی بینچ پر انتظار کرتا رہا جس پر دونوں نے ملنے کا فیصلہ کیا تھا۔

Read more

آج استاد محترم مرزا محمد منور صاحب کی برسی ہے

گورنمنٹ کالج لاہور میں میرا داخلہ تو 1967 میں ہوا تھا لیکن کالج سے تعارف چار برس پہلے ہو چکا تھا۔ مجھ سے بڑے بھائی جان نے 1963 میں یہاں ایف ایس سی میں داخلہ لیا تھا۔ اس وجہ سے گھر میں مجلہ راوی کے دو برسوں کے شمارے موجود تھے جن کو میں سکول کے زمانے میں پڑھ چکا تھا۔ ایک رسالہ علاؤ الدین کلیم نمبر تھا۔ اس میں چھپنے والے دو مضامین مجھے بہت زیادہ پسند آئے تھے۔

Read more

منشی خستہ حال یخ بستہ بنام غالبؔ

سنائیو مرزا۔ کیا حال ہیں۔ سنا دلی جل رہی ہے۔ دلی کیا، گرد و نواح جل رہے ہیں۔ کہیں سورج اگلے مہینے سے آگ برسانے کو تیار ہووے تو کہیں گرمیٔ گفتار امیر شہر سے رعایا کے دل پارہ پارہ ہیں۔ کلیجے جھلس رہے ہیں۔ دماغ کی نسیں پھٹنے کو ہیں۔ رگ جان میں گرم لہو ابل رہا ہے۔ شعلہ زنی سے بازار حیات بھسم ہے۔ زبانیں جلی کٹی سنا رہی ہیں۔ تالو ایسے کہ چھالے پڑے ہیں۔ چشمان خواص

Read more

شوکت صدیقی کے ناول "خدا کی بستی” میں سماجی مسائل

سرمایہ داریت، فرد کو جہاں احساس برتری میں مبتلا کر دیتی ہے وہیں وہ دوسروں پر اس قدر حاوی ہونے کی کوشش بھی کرتی ہے کہ وہ ان کے جذبات، خواہشات اور صلاحیتوں کو چھین کر انہیں اپنا غلام بنا لے اور پھر اپنی مرضی ان پر مسلط کر دے۔ میرے خیال میں اس سے سماج میں تین طرح کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ پہلی قسم جس میں لوگ ہمیشہ کے لیے اپنی سوچنے، سمجھنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیتیں

Read more

کھیلن کومانگے چاند

ایری زونا. 20، اپریل ڈیئر امجد! خط ملا اور تمہارے پروگرام کا پتا لگا. پاکستان میں تعلیم پھیلانا تو بہت ضروری ہے. تم نے صرف سندھ کی بات کی ہے، میرے خیال میں تو یہ مہم پورے ملک میں چلانی چاہیے کیوں کہ پشاور سے لے کر کیماڑی تک جہالت کا دور دورہ ہے. تم اس کام کے لیے پیسے جمع کر رہے ہو یہ تو اچھی بات ہے. تمہارا خط اور پروگرام کافی طویل ہے. میرے خیال میں تو

Read more

انتظار حسین: کچھ یادیں کچھ باتیں (پانچویں برسی پر خصوصی تحریر)

انتظار حسین کا نام جب بھی سامنے آتا ہے ایک بہت بڑی پینٹنگ گویا آنکھوں کے سامنے سج جاتی ہے۔ اس پینٹنگ میں سمندر ہے، سمندر بھی اور اس کا وہ کنارہ بھی جس پر ہم ہیں۔ صبح کا منظر ہے۔ چمکتی لہراتی پانی کی سطح کے اندر سامنے کے درختوں کا جھنڈ جھانک کر جھول رہا ہے۔ بیچ لگژری ہوٹل والوں نے اردو کانفرنس کے مندوبین کے ناشتے کا بندوبست سمندر کے اندر تیرتے اس تختے پر کیا ہے

Read more

سبط حسن، شاکر علی اور انتظار حسین کی نستعلیق باتیں

کسی نظریے سے جذباتی وابستگی کے باوجود مخالف نقطۂ نظرکے حامل کسی شخص سے دوستی اور اس کے اعتراضات پر شائستگی سے جواب دینے کی ہمارے یہاں جو روایت موجود رہی،اسے لگتا ہے اب گھن لگ چکا ہے۔ بات بات پر آپے سے باہر ہونا، اگلے کی بات سنے سمجھے بغیر اسے ملامت کرنا ہمارا وتیرہ بن چکا ہے۔ اس تیرہ وتار ماحول میں سبط حسن کی بہت یاد آتی ہے جن کی شخصیت رواداری کی اجلی علامت ہے۔وہ فکری

Read more

جنت میں ٹی ہاؤس کی میز

(آج انتظار حسین کی برسی ہے – 2 فروری 2016) باغ بہشت کے ایک گوشے میں گھنے درختوں کے نیچے، پھولوں کے تختوں کے درمیان، جوئبار کے کنارے ایک میز لگی ہے جس کے گرد کرسیوں پر ناصر کاظمی، شیخ صلاح الدین، اور حنیف رامے براجمان ہیں۔ ایک کرسی خالی ہے۔ ناصر کاظمی پر کسی قدر غنودگی طاری ہے اور حنیف رامے نے فرط عقیدت سے شیخ صاحب کا ہاتھ تھام رکھا ہے۔ شیخ صاحب کہتے ہیں ناصر دیکھو یہاں

Read more

سمجھ دار بندر

میں بندر کی باتیں سن کر شرمندہ ہوا اور آنکھیں نیچی کر کے پوچھنے لگا۔

”جب بندروں کو کھانا نہیں ملتا، پانی کی قلت ہو جاتی ہے، یا پھر ایک کے پاس کھانے کی چیزیں بہت ساری آ جائیں، جیسے تمہارے پاس بہت سارے کیلے آ جائیں، تو تم کیا کرتے ہوئے، کیا ایسے ہوتا ہے کہ کوئی بھوکا بندر آ کر گڑگڑائے اور یہ کہے کہ تم ایک کیلا یہاں مجھے یا کسی دوسرے بندر لو دے دو اور بندروں کی سورگ یا جنت میں تمہیں ایک سو کیلے ملیں گے؟“

Read more

ایلف شفق: Ten minutes 38 Seconds in This Strange World

”کیا ہو اگر موت کے بعد انسانی دماغ کچھ اور منٹ تک چلتا رہے؟ صرف دس منٹ اور اٹھتیس سیکنڈ ہی سہی!“ اور ایلف شفق کا ناول Ten minutes,38 seconds in this strange world انہی کچھ منٹس کی کہانی ہے جو ناول کے مرکزی کردار تاکیلہ لیلی نے مرنے کے بعد سانسیں بھرتے دماغ کے ساتھ گزارے ہیں وہ دس منٹ جس میں زندگی بھر کے چلتے ہوئے قدموں پر سے اسے ایک بار پھر گزرنا پڑا، جب صرف دس

Read more

بڈو

وہ کالا بورڈ میں گندے نالے کے پل کے نیچے پیدا ہوا تھا۔ وہی ملیر والا کالا بورڈ، بہت کم لوگوں کو پتا ہے کہ کالا بورڈ کے بس اسٹاپ کا نام کالا بورڈ کیوں ہے۔ بہت پہلے جب لانڈھی اور کورنگی کے صنعتی علاقے نہیں بنے تھے تو ائرپورٹ سے آنے والی پتلی سی سڑک پر جو ملیر سٹی کی طرف جاتی تھی، سعود آباد موڑ پر ایک بڑا سا کالے رنگ کا سیمنٹ کا بورڈ بنایا گیا تھا

Read more

کل اور کسی نام سے آ جائیں گے ہم لوگ

دو برس بیت گئے۔ ہم خبروں میں عموماً ’’اچانک بچھڑ گئے” کے الفاظ تو روزانہ پڑھتے رہتے ہیں، مگر یہ تو واقعتاً اچانک ہی بچھڑ گئی اور ایک درد لادوا دے گئی۔ کیونکہ اس کے یوں اچانک اور ناگہانی جانے کا کسی کو گمان تک بھی نہ تھا۔ ایک طرف ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے یہ دو برس گزرنے میں کوئی وقت ہی نہیں لگا کہ ایک اور برس 2021ء کا 27 جنوری آن کھڑا ہو گیا۔ دوسری

Read more

میں تمثال ہوں: ایک بری عورت کی کتھا؟

چند ہفتوں سے اس کتاب ”میں تمثال ہوں“ کے بارے میں سن اور پڑھ رہی تھی کہ کوئی ایسی نئی قسم کی تحریر سامنے آئی ہے جس نے دنیائے ادب میں ہلچل مچا کے رکھ دی ہے۔ باوقار اور قابل ماہر تعلیم عارفہ شہزاد کی اس کتاب کو پڑھنے کے بعد لوگ چونک چونک کر پوچھ رہے ہیں کہ یہ کیا ہوا؟ کیسے ہوا؟ کب ہوا؟ کیوں ہوا؟ کہ ہمارے مشرقی معاشرے میں پدر سری سماج کی پروردہ ایک عورت

Read more

دھنی پتے بارش کا پانی پیتے ہیں

میں آج اپنے پینٹنگ کے نئے سٹوڈیو اور سٹڈی کی گڈ مڈ ہوئی کتابوں کی آرائش میں لگی تھی کہ انگریزی کی ایک پرانی شاعری کی کتاب ہاتھ لگی۔ اس میں ڈبلیو۔ ایچ۔ ڈیوس کی نظم ”The Rain“ بہت دیر بعد دوبارہ پڑھی۔ جی میں اک خیال آیا کہ کیوں نہ اس نظم اور اس کے شاعر پر بات کی جائے۔ ڈیوس بیچارہ تقریباً اپنی پوری زندگی بنجاروں کی طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی کرتا رہا۔ مگر

Read more

عام آدمی کا سماجی شعور اور غلام عباس

انہوں نے عام آدمی کی زندگی کو ایک فعال کردار کے طور پر پیش کیا اور اس کے فعال پن میں اس کردار کا اپنا معاصر سماجی شعور نظر آتا ہے، اسی ذیل میں دیکھیں تو تب وہ کردار محض عام آدمی کا کردار نہیں رہتا بلکہ وہ کردار اپنے معاصر تقاضوں سے شعوری طور پر متاثر دکھائی دیتا ہے۔ ہم یہاں ان کے ایک اور افسانے ”فینسی ہیئر کٹنگ سیلون“ کے بارے میں بات بھی اسی سماجی شعور کے حوالے سے کریں گے، اس افسانے کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے کہ چار مہاجر ایک حمام کی دکان کھولتے ہیں وہ تمام معاملات میں برابر ہوتے ہیں اور آمدنی بھی برابر بانٹنے لگتے ہیں، جب دکان چل نکلتی ہے تو انہیں اپنے ذاتی معاملات یاد آنے لگتے ہیں، بالآخر معاملہ گمبھیر صورت اختیار کر جاتا ہے۔

Read more

کرشن چندر کا لازوال افسانہ: ان داتا

وہ آدمی جس کے ضمیر میں کانٹا ہے (ایک غیر ملکی قونصل کے مکتوب جو اس نے اپنے افسر اعلیٰ کو کلکتہ سے روانہ کیے ) 8 اگست 1943 ء کلایو اسٹریٹ، مون شائین لا۔ جناب والا، کلکتہ، ہندوستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ ہوڑہ پل ہندوستان کا سب سے عجیب و غریب پل ہے۔ بنگالی قوم ہندوستان کی سب سے ذہین قوم ہے۔ کلکتہ یونیورسٹی ہندوستان کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے۔ کلکتہ کا ”سونا گاچی“ ہندوستان میں

Read more

کیا سعادت حسن منٹو روایت شکن تھا؟

کچھ شاعر، دانشور اور ادیب روایات کے پجاری ہوتے ہیں اپنی ساری زندگی وہ اسی روایتی فریم آف مائنڈ میں مشغول رہ کر کچھ ادب تخلیق کر کے رخصت ہو جاتے ہیں۔ مگر کچھ دانشور اور ادیب روایتی سرکل آف لائف سے مطمئن نہیں ہوتے ایسے لوگ روایات کو چیلنج کرتے ہوئے جیتے ہیں اور ایک ایسا ادب تخلیق کر جاتے ہیں جو ان کے وقت کے لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتا اوروہ ان تصورات و ادب کو فضول

Read more

شو کمار بٹالوی۔ جدید پنجابی شاعری کا ایک بہت بڑا شاعر

اس کا شمار جدید پنجابی شاعری کے پہلے پانچ شعرا میں ہوتا ہے۔ اس نے بھارتی پنجاب کی ادبی دنیا اور دنیا میں پنجابی زبان بولنے اور سمجھنے والے لوگوں میں پنجابی نظموں۔ گیتوں اور غزلوں سے اپنی پہچان کرائی۔ وہ ہندوستان کے ساہیتہ اکیڈیمی ایوارڈ حاصل کرنے والے کم عمر ترین پنجابی شاعر تھا۔ اس کی شاعری میں پر اثر الفاظ اور منظر کشی کے متحرک رنگوں نے انیس سو ساٹھ کے بعد پنجابی بولنے والے لاکھوں لوگوں کے

Read more

عالی جی اک کوی رسیلے، دھنک سے جن کو پیار

(20 January 1925 – 23 November 2015: نوابزادہ مرزا جمیل الدین احمد خان‎) ”وہ پلنگڑی پر گاؤ تکیے کے سہارے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ اور چاروں طرف فرش پر کوئی پچاس شاگرد، بیچ میں ایک مٹھائی کا خوان رکھا تھا اور خوشبویات اور ہار پھول وغیرہ۔ داروغہ دیوان خانے سے بار بار باہر جاتا اور مغلانی بڑے دروازے کی چلمن ہٹا کر چائے کی کشتیاں بڑھاتی جاتیں“ قارئین آپ کو یہ منظر نامہ پرانی مغلئی تہذیب کا کوئی منظر معلوم

Read more

منٹو کے افسانے صرف ذہنی بالغوں کے لیے ہیں

ڈاکٹر خالد سہیل ادیب بھی ہیں اور ماہر نفسیات بھی۔ ڈاکٹر صاحب نے اس مختصر مضمون میں منٹو کے افسانوں کے بارے میں اتنی بصیرت رکھ دی ہے جس کے لئے کسی گٹھل طبع نصابی مدرس کو شاید ادبی تنقید کی اصطلاحات میں الجھی کئی کتابیں لکھنا پڑتیں۔ رند بخشے گئے قیامت میں / شیخ کہتا رہا حساب حساب

Read more

کون ہے یہ گستاخ؟ تاخ تڑاخ

اس شخص کے بارے میں لکھنا جس کے بارے میں اس کی موت کے ساٹھ برس بعد بھی یہ طے نہ ہو سکا ہو کہ وہ بڑا آدمی تھا کہ برا آدمی۔ کچھ آسان کام نہیں ہے۔ سعادت حسن منٹو کے ہم عصروں سے لے کر اس کے بعد آنے والے ادیبوں کی کئی نسلیں اس بات پر اتفاق نہیں کر سکیں کہ منٹو کو کس نام سے یاد کیا جائے۔ وہ جو کرتا ہے چھپاتا نہیں اور جو دیکھتا

Read more

منٹو کے آخری ایام

منٹو کی برسی پر ان کو یاد کرتے ہوئے ربی سنکر بل کے شاہکار ناول ”دوزخ نامہ“ سے چند صفحات ملاحظہ کیجیے جن میں منٹو مرزا غالب کو اپنے آخری ایام کا احوال بتا رہے ہیں : لاہور آ کر میری شراب نوشی حد سے تجاوز کر گئی تھی مرزا صاحب۔ کہیں کوئی دوست نہیں تھا۔ آنے والے دن بالکل تاریک دکھائی دیتے تھے۔ اگر میں مر گیا تو میرے بیوی بچے سڑک پر آ جائیں گے۔ تھوڑے تھوڑے عرصے

Read more

میں نے منٹو سے کیا سیکھا؟

چیخوف کے بارے میں یہ بات اردو کے ایک رائٹر محمد مجیب نے کہی تھی کہ اس کا دل بہت بڑا تھا، وہ انسانیت کے تمام گناہوں کو معاف کرسکتا تھا۔ منٹو کے بارے میں بھی عین یہی بات کہی جا سکتی ہے۔ آپ کہیں گے کہ رائٹر گناہوں کو معاف کرنے کا ٹھیکیدار ہے کیا؟ میرے خیال میں منٹو سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے، بلکہ ہر اس بات کا ٹھیکہ لینے کی بھی، جس کے لیے یار

Read more

احمد فراز: غزل گوئی سے جملہ بازی تک

کورونا کی دوسری لہر، شدید دھند اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے پس منظر میں کئی واقعات ایسے ہیں جو اپنی تہذیبی اہمیت کے باوجود ہماری اجتماعی گفتگو کا موضوع نہیں بن سکے۔ جیسے فیس بُک پر ایک دوست کی تازہ یاد دہانی کہ صاحبِ طرز غزل گو احمد فراز کی ولادت کو گذشتہ ہفتے نوے سال ہو گئے۔ تو کیا فراز مرحوم کو پچھلی نیم صدی کے ایک رجحان ساز اردو شاعر کا درجہ دیا جا سکتا ہے یا

Read more

کامران ناشط: ایک معصوم تخلیقی روح

کامران ناشطؔ سے تعلق کو دس سال گزر گئے اور ان دس سالوں میں کئی ایسے موقع آئے جب غم روزگار نے مجھے زندگی میں اس قدر الجھا دیا کہ دوستوں سے رابطہ ختم ہو کر رہ گیا۔ ایسے میں جن چند لوگوں سے رابطہ بحال رہا اور جو میری خیریت دریافت کرتے رہے ، میرے دکھ سکھ میں شامل رہے، ان میں ایک میرا دوست کامران ناشط ہے جس کی دوستی پر بات کروں تو کتنے صفحے بھر جائیں

Read more

نصیر ؔ ترابی اپنی تصانیف کے آئینہ میں 25 جون 1945 ء۔ 10 جنوری 2021

پاکستان آسٹریلیا لٹریری فورم (PALF) کے زیر اہتمام شاعر نصیرؔ ترابی کی یاد میں آن لائن تعزیتی ریفریس 15 جنوری 2021 ء کو منعقد ہوا۔ جس میں آسٹریلیا کے علاوہ دیگر ممالک اور پاکستان سے مختلف احباب نے نصیر ؔ ترابی کی شخصیت، شاعری اور علمی و ادبی خدمات پر اظہار خیال کیا۔ راقم نے اس موقع پر ”نصیر ؔ ترابی اپنی تصانیف کے آئینہ میں“ کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔ حاضرین و سامعین محترم اسلام علیکم! سب سے

Read more

وجاہت مسعود! ہم تمہارا انتظار کرتے ہیں

جب تم دونوں، معاف کرنا، چاروں آنکھوں سے شرارت اور غصہ انڈیلتے ہوئے جمال اشرف کے پنجابی افسانے پر خوفناک سوال پوچھتے تھے تو صابر لودھی اور اقبال حیدر بٹ ہی نہیں، پوری پنجابی مجلس محظوظ ہوتی تھی ادھر مجلس اقبال کے اجلاس میں، شفقت اللہ اور میں تمہارا انتظار ہی کرتے رہ جاتے کہ گورنمنٹ کالج بہر حال تمہارے لئے ایک ٹوڈی درس گاہ تھی ہم تمہارا انتظار کرتے رہے تم بیاہ کر کرشن نگر جا پہنچے اور پھر

Read more

ایک مولوی صاحب کا خاکہ

 جب تقسیم کے ہنگاموں سے دریا کے کنارے ہنستا بستا شاکر خان تتاری کا کوٹ اُجڑ کر، بلکہ سُکڑ کر ایک چھوٹا سا قصبہ ہی رہ گیا تو کئی لوگوں نے اس کے مضافات سے رہائش ترک کر دی۔ بستی دولت رام اس قصبے کا سب سے متاثرہ حصہ تھی۔ دادا مرحوم نے یہاں سے چند کلومیٹر مغرب کی جانب ریگستان میں آ کر سکونت اختیار کر لی جہاں کی ڈھلوان کے ساتھ بہت زرخیز زرعی زمین تھی۔ یہاں اُن

Read more

شاعر اہل بیت محسن نقوی

سید محسن نقوی کو اگر وطن عزیز کے ادبی حلقوں میں ڈیرہ غازی خان کی پہچان اور شناخت کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا۔ محسن محض ایک شاعر نہیں بلکہ ایک طاقتور و توانا آواز ہے ، ایک ایسی آواز جس نے مظلوموں کی حمایت میں ظالموں کو سرعام اور ہر سطح پر للکارا۔ ببانگ دہل ظلم وجبر کے خلاف لکھا۔ محسن نقوی کا شعری سفر ایک شعوری انداز میں منزل کی طرف گامزن رہا۔ بند قبا سے لے

Read more

ایلزبتھ بشپ کی نظم ’کھو جانے کا فن‘ اور میرا دکھ

زشتہ دنوں میرے والد صاحب کا انتقال ہوا اور میں پردیس میں رہتے ہوئے کورونا وبا کی وجہ سے جڑے حالات کی بدولت ان سے آخری ملاقات اور آخری دیدار نہیں کر سکی۔ جس کا ملال شاہد تاعمر میری اداس یادوں کا حصہ رہے گا مگر اس نظم نے میرے لاشعور میں جیسے مجھے اس غم کو سہنے کا حوصلہ بھی دیا۔ میں نے جانا کہ بالآخر بقول جون ایلیا ہم سب نے مر ہی جانا ہے۔ تو کیوں نہ ہم اس نظم میں درج کھو جانے کے فن کی مدد سے اپنے آپ میں اس غم کو جھیلنا آسان بنا سکیں۔

Read more

منٹو، کرکٹ اور حنیف محمد

سعادت حسن منٹو کا ذکر کرکٹ کی کتاب میں پڑھ کر تھوڑی حیرت ہوئی اور وہ بھی اس کتاب میں، جسے معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو نے اپنے ایک سروے میں کرکٹ پر لکھی گئیں، بہترین کتابوں میں دوسرا نمبر دیا تھا ۔یہ بھارتی تاریخ دان رام چندر گوہا کی کتاب ’’A Corner of a Foreign Field ‘‘ ہے جس میں نہایت عمدگی سے برصغیر میں کرکٹ کے ارتقاء اور ترقی کا قصہ بیان ہوا ہے۔ اس قابل قدر

Read more

احمد فراز: جو لکھا تپاک جاں سے لکھا

(احمد فراز کی 90 ویں جنم دن پر ایک مختصر تحریر) فراز جذبوں کی شدت کے شاعر ہیں۔ تاہم ایسا ہے کہ اس شدت کا بیان ان کے ہاں ایک تہذیب میں ڈھل کر ہوتا ہے۔ بہ طور خاص جب وہ غزل کہتے ہیں تو غزل کی اپنی تہذیب کا جی جان سے احترام کرتے ہیں ایک انٹرویو کے دورآن ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے یہاں تک کہہ دیا تھا: ”میرے تخلیقی انداز کو نیم کلاسیکل سے

Read more

شکارپور سے شکاگو تک

اس نے مجھے بیچ میں ہی روک دیا تھا ”یار تم بالکل امریکن ہو گئے ہو، بھائی وہ دنیا اور ہے یہ دنیا اور۔ تم کیوں بھول جاتے ہو کہ مہاجروں اور پنجابیوں نے مل کر جب پاکستان بنایا تھا تو ہم سندھیوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا تھا۔ چپراسی تک کی نوکری نہیں ملتی تھی ہم کو۔ کراچی میں اسکول کھلتے تھے، سوسائٹیاں بنتی تھیں، شکارپور اور نواب شاہ میں کیا ہوا تھا؟ بڑی مشکل سے جدوجہد کر کے ہم لوگ بڑے ہیں۔ اب سندھ میں سندھی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہو گی، یہ سائیں جیسے لوگوں کا احسان ہے جو یہ سمجھ رہے ہیں اور مل جل کر کام کر رہے ہیں۔

Read more

ہاشم شیر خان:سرائیکی وسیب کا نامور محقق،مؤرخ اور اقبال شناس

جس تصنیف نے انہیں شہرت دوام بخشی ہے وہ ان کی بہت ہی معروف کتاب ”علامہ اقبال اور ڈیرہ غازی خان“ ہے۔ اس کتاب میں ہاشم شیر کا فن اپنے عروج پر ہے۔ اس کا تحقیقی معیار بہت اعلیٰ ہے۔ اسلوب بھی کمال ہے۔ اس میں تیز رو دریا کی سی روانی ہے۔ ایسا شاید علامہ اقبال سے عقیدت کی وجہ سے ہے کیونکہ ہاشم شیر ماہر اقبال ہونے کے ساتھ عاشق اقبال بھی ہے۔ یہ کتاب 2001ء میں بیکن بکس ملتان سے شائع ہوئی، اس میں علامہ اقبال کے ان تمام خطوط کو حواشی کے ساتھ یکجا کر دیا گیا ہے جو ڈیرہ غازی خان کے اہل علم کے نام موجود ہیں۔

Read more

عہد حاضر اور ناصر عباس نیر کا افسانہ

سرمایہ دارانہ دور کے آغاز کے ساتھ ہی بادشاہت اور مذہب کے گٹھ جوڑ میں ایک تیسری قوت بھی شامل ہو گئی۔ اب طاقت کے حصے داروں میں اضافے کے ساتھ ساتھ طاقت پر قبضے کے طریقوں میں بھی تبدیلی آئی۔ اب انسانوں پر اختیار قائم رکھنے کے لیے جسمانی کے ساتھ ساتھ ذہنی تسلط کا ہتھیار بھی استعمال کیا جانے لگا۔ (شہنشاہیت میں بھی ذہنی تسلط قائم کیا جاتا تھا مگر مخصوص منطقے میں، اتنی وسعت سے ہر گز نہیں) یہ تسلط پہلے کی نسبت زیادہ مستحکم ہوتا ہے۔

البتہ ان معاشروں میں اس کے اندر ہی اس سے آزاد ہونے کی صورت بھی نمودار ہوتی ہے جہاں افراد کے ذہن کو آزادانہ سوچنے، تجزیہ کرنے، تشکیکی رویہ اپنانے، سوال اٹھانے اور تضادات پر غور کرنے کی تربیت دی گئی ہو۔ مگر جس سماج میں ذہن تقلید محض اور اندھے اعتقاد کا عادی ہو وہاں طاقت کے ادارے اپنے من پسند بیانیوں کو رائج کر کے جسمانی اور ذہنی دونوں طرح کا تسلط قائم کرتے ہیں اور مکمل اختیار سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ وہ معاشرے جو نو آبادیاتی ماضی کے حامل ہیں اور آزادی کے بعد ایک نئی استعماریت کے تجربے سے گزر رہے ہیں وہاں اسی قسم کے حربے اختیار کیے جاتے ہیں۔

Read more

شہر سے دور دو آنکھیں

وہ سب کو دیکھتی تھی، سب کچھ دیکھتی تھی، بعض دفعہ وہ کچھ بھی جو اس کی عمر کی کنواری لڑکی کو نہیں دیکھنا چاہیے۔ جیسے اس رات جب باسی سالن خراب ہونے کے بعد ماں نے اسے انڈے لینے دکان پر بھیجا تھا۔ ابھی دکان کی طرف بڑھتے ہوئے دو گھر پار کیے تھے کہ ذرا فاصلے پر انور چچا کے مکان کی دیوار کے ساتھ ایک دوسرے میں گتھے ہوئے دو سائے دیکھ کر وہ ڈر گئی۔ گلی میں چاند سے چھلک کر بہتے اجالے کے سوا کوئی روشنی نہ تھی، ہوتی بھی کس لیے۔

Read more

تحفہ: گزری صدی کے دوست

ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر….اور یقیناً اپنے مزاج کے مطابق، شیخ صاحب چلتے ہوئے دعا ضرور دیتے تھے۔ میں بیگم سے کہتا تھا کہ آپ ہرا دھنیا مرچ یا ایک آدھ نیبو زیادہ کھینچنے کے چکر میں تو یہ سب نہیں کرتیں؟ وہ کہتیں: ”نہیں جناب! شیخ صاحب کچھ بھی مفت دینے کے قائل نہیں ہیں، بہترین سبزی لاتے ہیں، بڑے با اصول آدمی ہیں۔“
یہ تو میں نے بھی دیکھا تھا کہ آنے پائی کے اس دور میں شیخ صاحب پونے نو آنے، اور سوا پندرہ آنے جیسی رقموں تک کا پورا پورا حساب کرتے تھے۔ نہ ایک پیسہ چھوڑتے نہ ایک پیسہ زیادہ لیتے۔ عجیب غنی آدمی تھے۔ انہیں دیکھ کر جیسے توانائی کا احساس ہوتا تھا۔

Read more

لکھنوٴ سے آئی نظمیں

ماسٹر صاحب نے تو آوٴ دیکھا نہ تاوٴ۔ تسلیم کو سامنے بلایا اور دو تین چھڑیاں اس کے دائیں بائیں بازو پہ جڑ دیں۔ اور غصے میں بولے، ”گندی بچی۔ ایک ایک بال میں دس دس جوئیں ہیں تمہارے۔ پہلے وہ تو نکلواؤ پھر اس بچی کے قریب بیٹھنا اور خبردار جو آئندہ زارا کو ڈرانے کی کوشش کی، ورنہ تمہارے ناناجان سے شکایت کروں گا پھر دیکھنا کیا حشر کریں گے وہ تمہارا۔“ تسلیم نے کینہ پرور نظروں سے اس کو دیکھا۔ ماسٹر صاحب نے پیار سے زارا کے سر پہ ہاتھ پھیرا اور بولے۔ ”اب ہم خود اپنی بیٹی کو روزانہ چھٹی میں گھر تک چھوڑ کر آئیں گے تاکہ یہ تسلیم پگلی ہماری بیٹی کو تنگ نہ کر سکے۔“

Read more

پاپی اور پارسا کی دوستی

اگر کوئی شخص مجھ سے پوچھے کہ آپ سے دوستی کی خاطر کس ادیب نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں تو میں کہوں گا۔ جاوید دانش، ایک وہ زمانہ تھا جب لوگ دانش سے شکایت کرتے تھے ’خالد سہیل کا لہجہ پنجابی ہے، اسے لکھنوی انداز سے اردو لکھنا سکھاؤ‘

پھر وہ دور آیا جب دوستوں نے دانش سے کہا ’تمہارا دوست خالد سہیل گوری لڑکیوں کو ڈیٹ کرتا ہے۔ اسے کہو کسی مشرقی عورت سے شادی کر لے‘

اور پھر وہ وقت بھی آیا جب مشرقی مولویوں نے دانش کو مسجد میں سمجھایا ’تمہارا ساتھی گمراہ ہو گیا ہے۔ خدا اور مذہب کو چھوڑ کر انسان دوست بن گیا ہے۔ اسے واپس مذہب کی طرف لاؤ۔ اگر تم نہیں لاؤ گے تو اور کون لائے گا‘

Read more

کنواری – کرشن چندر کا افسانہ

اب میگی اور پام اور ماسٹر جی (ماسٹر متین احمد) کا تگڈم بن گیا تھا۔ تینوں برآمدے کے دوسرے کونے میں الگ سے جا کر بیٹھتے تھے تاش کھیلتے تھے اور ہر وقت تین شریر بچّوں کی طرح مسرور اور مگن نظر آتے تھے۔ آپس میں ان کی کیا باتیں ہوتی تھیں یہ تو ہم نہیں جان سکے۔ البتہ اتنا ضرور احساس ہونے لگا کہ ان تینوں میں گاڑھی چھَن رہی ہے۔ ماسٹر جی جو پہلے صرف میگی پر اپنی پوری توجّہ صرف کرتے تھے اب میگی کے اصرار کرنے پر پام پر بھی کسی قدر اپنی توجّہ دینے لگے۔ آہستہ آہستہ یوں ہو گیا کہ تعلقات برابر کے ہو گئے۔ ماسٹر جی اپنی آدھی توجّہ میگی اور آدھی توجّہ پام کو دیتے تھے اور کسی طرف ڈنڈی نہ مارتے تھے۔ بہت دنوں تک یہ سلسلہ چلا پھر ہولے ہولے غیر شعوری طور پر پام کی طرف پلڑا جھکتا چلا گیا۔ کیونکہ پام ساٹھ برس کی تھیں اور میگی اسی برس کی۔ پام کے چہرے پر جُھرّیاں بہت کم تھیں اور پام کسی قدر زندہ دل تھی، اور کیسے عمدہ لطیفے سناتی تھی۔ میگی کی روح بلاشبہ پام سے بہتر معلوم ہوتی ہے مگر جسم کو جدھر سے دیکھو ہڈیاں سی نکلی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ اور پام تو بالکل گرم پانی کی بھری ہوئی ربڑ کی بوتل کی طرح آرام دہ معلوم ہوتی ہے اور شریر پام پلڑا اپنی طرف جھکتے دیکھ کر غریب ماسٹر کو اور بھی اکسانے لگی۔ اور اپنی سہیلی کی ساری خاطر و مدارت بھول کر اسے جلانے پر تل گئی۔

Read more

کوئی تصنیف کلاسیک درجہ کیسے حاصل کر سکتی ہے؟

کلاسیکی نقاد شیکسپیئر کو اس لیے تسلیم نہیں کرتے کہ اس نے ڈرامے کے فنی اصولوں کی پاسداری نہیں کی جو انھوں نے متعین کیے تھے۔ کلاسکی تنقید کا بانی ارسطو کو کہا جاتا ہے۔ کلاسیکی تنقید کا تصور مغرب سے آیا ہے۔ اردو ادب میں میر،  اثر لکھنوی، کلیم الدین احمد، نیاز فتح پوری کو کلاسیکی نقاد مانا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سلیم اختر  نے اس تنقید کو مختلف ناموں سے پکارا ہے۔ ہیتئی تنقید یا تشریحی تنقید کو جوزف۔ ٹی شیلے  نے  اخلاقی تنقید کے مترادف قرار دیا۔

Read more

ایک ہی چاند تھا سرآسماں

اس تحریر کی ابتدا میں ہی یہ کہنا ضروری ہے کہ میں نے اپنے مخدومین کے انتقال کے فوراً بعد ان پر کبھی نہیں لکھا۔ بہت سا وقت گزرنے کے بعد بھی اگر لکھنے بیٹھا تو پھر یہ سوچ کر نہیں لکھا کہ جن لوگوں سے ذاتی مراسم ہوں، ان پر لکھنے میں کئی بڑی پیچیدگیوں کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ تحریر جس پر لکھا جا رہا ہے، اس سے زیادہ وہ خود لکھنے والے کا اپنا

Read more

پریم چند کی افسانوی خصوصیات ‘کفن’ کی روشنی میں

منشی پریم چند کا شمار اردو کے اہم ترین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے ، اور بھی افسانہ نگار ہیں لیکن افسانہ نگاری کے فن میں جو کمال انہیں حاصل ہے کسی اور کو نہیں۔ پریم چند نے معاشرے کے تلخ حقائق کو بے نقاب کیا۔ ان کا اصل نام دھنپت رائے تھا۔ ان کے مشہور افسانے بڑے بھائی صاحب، حج اکبر،  زیور کا ڈبہ، دودھ کی قیمت،  دو بہنیں اور کفن ہیں۔ کفن کو عالمی معیار معیار کا افسانہ

Read more

انور مسعود، مخولیات اور ماحولیات

شام تک شام سی رہتی ہے صبح آتی ہے پر نہیں آتی بڑھ گیا شہر میں دھواں اتنا ”کوئی صورت نظر نہیں آتی“ پنجاب خاص طور پر لاہور کے ان دنوں کی اس سے بہتر اور منظوم تصویر کشی ممکن نہیں۔ اور یہ انور مسعود کے قلم کا خاصہ ہے کہ انتہائی پیچیدہ اور خشک موضوعات میں بھی طنز و مزاح سے چاشنی بھر دیتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ قطعہ دیکھیے : کیا دیکھنا ہے کچھ بھی دکھائی

Read more

ہمارے فاروقی صاحب

عجیب سی بات ہے کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے گھر میں شمس الرحمن فاروقی کا نام یوں سنا جیسے کوئی گھر کا آدمی ہے جو باغی ہو گیا ہے۔ کبھی والد برائی کرتے کبھی چچا نما والد کے دوست، زیادہ تر ا دبی نشستوں میں فاروقی صاحب کے نام کا چر چا رہتا، کسی نہ کسی حوالے سے نام آ جاتا، پھر یا تو یہ کہا جاتا کہ بہت ذہین آدمی ہے یا یہ کہا جاتا کہ فاروقی ایک

Read more

نالہ ہائے شرر بار: غالب کی علامات آتش

27 دسمبر کو محبان غالب اور غالبیات مرزا نوشہ کا یوم پیدائش منایا۔ اس دن کی مناسبت سے غالب کے فکروفن پر بات کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ البتہ ماہرین غالبیات اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ غالب کو ان کی اپنی سطح پر سمجھنا اور سمجھانا ایک کار گراں ہے، کیوں کہ ایک طرف غالب ایک مختلف الجہات فنکار ہیں تو دوسری طرف ان کی برتی گئی علامات میں غالب کے نام اور فن کی طرح اتنی

Read more

کیا ہم بھی اورویل کے 1984 میں جی رہے ہیں؟

کچھ عرصہ ہوا کہ جارج اورویل کا ناول پڑھنا شروع کیا۔ میری عادت رہی ہے کہ کتاب اٹھانے سے پہلے ادیب سے شناسائی پیدا کرتا ہوں۔ کبھی تھوڑی سوانح پڑھ کر تو کبھی اس کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو کھنگال کر۔ اور جارج اورویل سے شناسائی بھی کچھ مدت پہلے تب ہوئی جب ہمارے پروفیسر نے طنزیہ سیاسی ادب کے دائرے کو وسیع کرنے والے اورویل کے ناول ”اینیمل فارم“ سے روشناس کروایا۔ جو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف لڑ کر مارکس و لینن کے نظریات پر ابھر کر پھر زوال کی طرف سفر کرتے سویت یونین سے روس بنتے ملک کی داستان ہے۔

Read more

مستنصر حسین تارڑ کا ناول: ’‘شہر خالی، کوچہ خالی”

شہر خالی، جادہ خالی، کوچہ خالی، خانہ خالی جام خالی، سفرہ خالی، ساغر و پیمانہ خالی افغان شاعر اور موسیقار امیر جان صبوری کا کلام جسے تاجک گلوکارہ نگارہ خالوا نے گایا ہے اور جو یک دم پاکستان میں مقبول بھی ہوا اور وبا کے دنوں میں حسب حال بھی تھا کو جناب مستنصر حسین تارڑ نے اپنی تحریر کا حصہ بنایا ہے اور آغاز میں ہی اس نظم کو اردو ترجمے کے ساتھ شامل کیا ہے اور ناول کا

Read more

نیئر مصطفیٰ کا ناول ”ڈھشما“ : ایک تبصرہ

ڈرامہ ناولٹ لٹریچر کی ایک خوبصورت طرز ہے جس پر مبنی کتب کا شمار اردو ادب میں انگلیوں پر کیا جا سکتا ہے ۔ ادب کی اس صنف کو اردو ادب میں وہ مقام اور پذیرائی نہ مل سکی جس کی یہ حق دار تھی لیکن ”ڈھشما“ نے اس ادبی جمود کو توڑتے ہوئے ڈرامہ ناولٹ کی پہچان میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ڈرامہ ناولٹ کی خصوصیت اس کے جاندار مکالمے ہوتے ہیں جو قارئین کو اپنے سحر میں

Read more

بھیشم ساہنی، انعام ندیم اور ”امرتسر آ گیا ہے“

یہ سترہ اٹھارہ سال پہلے کی بات ہے، مجھے میرے پیارے دوست آصف فرخی نے دو کتابیں ایک ساتھ عنایت کی تھیں۔ ان کتابوں میں سے ایک کانام تھا: ”اور کہاں تک جانا ہے؟“ جب کہ دوسری تھی: ”درخواب“ ۔ دونوں شاعری کے مجموعے اور دونوں شاعر میرے لیے نئے۔ تاہم آصف فرخی نے کہا تھا: ”انہیں پڑھیے ضرور آپ کو مایوسی نہیں ہوگی۔“ ان میں سے پہلی کتاب اکبر معصوم کی تھی۔ وہی اکبر معصوم جو آصف فرخی کی

Read more

پانیوں پر لکھے ہوئے نام والا جان کیٹس

یہ بتانا مشکل ہے کہ سات سمندر پار اس رومانوی کلاسیکل شاعر کیٹس سے میرا عشق کب شروع ہوا؟ بلکہ اس میں اگر تھوڑا سا اضافہ کروں تو یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اس دوڑ میں اس کے دوست شیلے اور بائرن بھی شامل تھے۔ گو کیٹس ہمیشہ میری کمزوری رہا۔ تاہم شیلے بھی کم نہیں۔ ہاں البتہ اس رومینٹک تکون نما مثلث کا تیسرا سرا لارڈ بائرن کہیں تھوڑا سا پیچھے ہے۔ روم اور یہیں وہ سپینش سٹیپ

Read more

عصمت چغتائی کا ”دوزخی“

بہن اور بھائی کا رشتہ بہت انو کھا، دلچسپ اور دل فریب ہوتا ہے۔ زندگی پل پل جتنے رنگ بدلتی ہے یہ رشتہ انھیں رنگوں سے ہم آمیز ہوتا چلاجاتا ہے۔ کبھی یہ رشتہ گڑ سے میٹھالگتا ہے اور کبھی سقراط کے پیالے جیسا۔ ایک بہن اپنے بھائی سے اتنی ہی محبت کرتی ہے جتنی اپنے آپ سے کر سکتی ہے اور نفرت کا پیمانہ بھی کم و بیش یہی ہے۔ محبت اور نفرت کا یہی رس اس رشتے کو

Read more

آسکر وائلڈ کی شہرہ آفاق کہانی: رحم دل شہزادہ

شہر کے مرکز میں بنے سنگ مر مر کے ایک اونچے لمبے ستون کی چوٹی پر ایک نوجوان شہزادے کا سنہری بت کھڑا تھا۔ شاہی وردی میں ملبوس، بت کی کمر میں بندھی تلوار کے دستے میں ایک بڑا سا یاقوت اور آنکھوں میں دو نیلم جڑے ہوئے تھے۔ ستون کے ارد گرد بہت چہل پہل رہتی۔ شہزادے کے ہونٹ ہمیشہ دلفریب انداز میں مسکراتے۔ ہر کوئی اپنے اپنے ڈھب سے شہزادے کی خوبصورتی کو سراہتا۔ ایک رات ایسا ہوا

Read more

گڑیا کی شادی 2020ء

دو ہزار بیس کا آغاز ہوا۔ دھند آلود فضاؤں میں آتش بازی کی آوازیں بتا رہیں تھیں کہ نئے سال کا پرانا آغاز ہو گیا ہے۔ تمام دنیا ”کرونا، نامی وبائی مرض کی لپٹ میں تھی، مگر گڑیا پاکستانی تھی، جاپانی نہیں۔ وہ اپنے واش روم میں دو واشنگ مشین لگائے کپڑے دھو رہی تھی۔ اس کو یقین ہو گیا، لو جی، سال کا آغاز کپڑے دھو نے سے ہو رہا ہے، تو اب سارا سال، وہ کپڑے دھوتی رہے گی۔ وہ مسکرائی۔ ”چلو دیکھتے ہیں“۔

Read more

ننھے ننھے ہاتھ

ہاشم کا فون تھا امریکا سے۔ میں اس سے ہی بات کر رہا تھا۔ اس کی ماں کی طبیعت خراب تھی اور وہ چاہ رہا تھا کہ اگر میں کچھ کر سکوں تو ضرور کروں۔ میں نے وعدہ کر لیا تھا کہ کل ہی اس کی ماں کو سول ہسپتال میں پروفیسر صاحب کو دکھا دوں گا۔ اس نے بتایا تھا کہ اس کا بھائی ماں کو لے کر صبح صبح میرے پاس آ جائے گا، پھر میں دونوں کو

Read more

شمس الرحمٰن فاروقی: ‘کئی زندگیوں کے برابر ایک زندگی’

نئی دہلی — اردو ادب کی کوہ پیکر شخصیت شمس الرحمٰن فاروقی کے انتقال سے ادبی دنیا ابھی تک سوگ میں ڈوبی ہوئی ہے۔

فاروقی صاحب جب ایک ماہ قبل کووڈ-19 میں مبتلا ہوئے اور انھیں دہلی کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا تو اس وقت ان کی علالت کی خبر سن کر ادبی حلقوں میں ہلچل سی مچ گئی تھی۔ سب کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھ گئے تھے۔ دعاؤں نے اپنا اثر بھی دکھایا اور وہ روبہ صحت ہو گئے۔ لیکن کیا خبر تھی کہ کووڈ نے ان کی صحت پر جو منفی اثرات مرتب کیے ہیں وہ یوں نہیں جائیں گے، بلکہ ان کی جان لے کر ہی چھوڑیں گے۔

Read more

شمس الرحمن فاروقی اردو کی تاریخ میں تا حشر زندہ رہیں گے: شمیم حنفی

شمس الرحمن فاروقی کا انتقال عظیم سانحہ ہے۔ وہ عہد حاضر میں بلامبالغہ اردو کے سب سے بڑے اسکالر تھے۔ ان کا علم یک رخا نہیں تھا۔ وہ اتنی چیزوں سے واقف تھے اور انھوں نے اتنی جہتوں پر اپنے نقوش قائم کیے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ ان کے اثر سے نکلنا ہمارے لیے دیر تک آسان نہیں ہوگا۔ ان کی اسکالر شپ نہایت معتبر تھی، ان کے وسائل مشکوک نہیں تھے۔ وہ نہایت مربوط اور منظم ذہن کے

Read more

زرد موسم کے گلاب: اردو زبان میں عربی ادب کا مطالعہ کیجئے اور حظ اٹھائیے

قطری ناول نگار نورہ فرج کا عربی ناول ’ماء الورد‘ ایک دلچسپ تاریخی فینٹسی ہے جو آپ کو 319 ہجری کے ایک عرب شہر ’لظی‘ میں لے جاتا ہے جو آج کی دنیا سے قطعی طور پہ مختلف دنیا ہے۔ اس ناول کا ترجمہ اردو زبان میں ’زرد موسم کے گلاب‘ کے عنوان سے عبید طاہر قاضی نے کیا ہے جو ریڈیو قطر کے پروڈیوسر اور ریڈیو قطر کی ایک دلکش آواز ہیں۔ لیلیٰ جو اس ناول کا مرکزی کردار

Read more

امربیل: نوبل ادب کی دریافت

وہ جگہ دنیا کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ اطراف میں بازار لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ دکانیں سامان سے لبالب بھری تھیں۔ گھروں سے گھر جڑے ہوئے تھے۔ بجلی کی بے ترتیب تاروں پر پرندے بیٹھے تھے۔ شام ڈھلنے لگی اور سورج سارا دن زمین کو توانائی دینے کے بعد اب خود سستانے کے لیے مغرب کی طرف بڑھنے گا۔ مین سٹریٹ سے بہت سی گلیاں نکلتی تھیں جیسے درخت کے مضبوط تنے سے بہت سی شاخیں نکل

Read more

آنسو ایک جنگل کے

جیسے ہی شیرنی نے جنگل میں قدم رکھا، اُس کے سامنے وہ جنگل تھا، جو برسوں پہلے مجبوری کے باعث اسے چھوڑنا پڑا تھا۔ اس نے جنگل کی لہلہاتی ہوئی گھاس کو چوما، گو کہ شیر گھاس کی طرف دیکھتے بھی نہیں، لیکن جذبات پر ذہن کی نگرانی ہو نہیں پاتی۔ اس کی آنکھوں سے اشک رواں تھے جس کا اسے علم نہیں تھا کیوں کہ شیر روتے نہیں ہیں۔  سامنے بڑی تعداد میں خرگوش، پرندے، بطخیں اور ہرن تھے

Read more

منیر نیازی: کچھ باتیں کچھ یادیں

اردو زبان کے منفرد شاعر منیر نیازی کی شخصیت اور شاعری پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ اس کے کتنے ہی اشعار ہیں جو مختلف مواقع کی مناسبت سے پڑھے، سنے اور سنائے جاتے ہیں اور ان کی شخصیت کے حوالے سے بھی بہت سے دلچسپ واقعات پڑھنے اور سننے کو ملتے ہیں جن کو لوگوں نے اپنے اپنے انداز سے بیان کیا ہے۔ کچھ باتیں اور یادیں میرے پاس بھی ہیں، شاید ان میں بھی کچھ لوگوں کی

Read more

ڈاکٹر عارفہ شہزاد کا ناول ’میں تمثال ہوں‘ کئی اعتبار سے ایک منفرد ناول ہے

یہ کہانی ایک مشرقی مسلمان عورت کی کہانی ہے جو ایک شاعرہ ہے۔ تمثال کسی بھی تخلیق کار کی طرح رومان پرور ہے اور ہم مزاج افراد سے گفتگو اور ہلکی پھلکی دل لگی سے توانائی کشید کرتی ہے۔ ایکسٹرا میریٹل افئیرز کے تجربات سے گزرتی ہے۔ شوہر کی بے توجہی کے باعث وہ اپنی ناآسودہ جنسی خواہشات بھی کسی اور مرد کے ساتھ پوری کرتی ہے۔ مگر دلی ناآسودگی ہے کہ تھم کے نہیں دیتی۔ تمثال کی فکری تربیت مذہب کے زیر سایہ پروان چڑھی ہے اس لئے وہ ان تمام معاملات کا مذہبی نظریے سے بھی جائزہ لیتی ہے۔ جذبات اور مذہب کی کشمکش اسے ذہنی تشویش کا شکار کر دیتی ہے۔ وہ دھیرے دھیرے اس بات کو قبول کر لیتی ہے کہ عشق اور جسمانی تعلق دو الگ باتیں نہیں۔ لہٰذا ان تجربات سے گزرتی چلی جاتی ہے مگر قرار نہیں پاتی۔

Read more

کبوتروں والا سائیں

پنجاب کے ایک سرد دیہات کے تکیے میں مائی جیواں صبح سویرے ایک غلاف چڑھی قبر کے پاس زمین کے اندر کُھدے ہوئے گڑھے میں بڑے بڑے اپلوں سے آگ لگا رہی ہے۔ صبح کے سرد اور مٹیالے دھندلکے میں جب وہ اپنی پانی بھری آنکھوں کو سکیڑ کر اور اپنی کمر کو دہرا کرکے، منہ قریب قریب زمین کے ساتھ لگا کر اوپر تلے رکھے ہوئے اُپلوں کے اندر پھونک گھسیڑنے کی کوشش کرتی ہے تو زمین پر سے

Read more

ہندوستان کے بانکے۔۔۔ عبدالحلیم شرر کی ایک نادر تحریر (1)

اپنے مضمون ’’پابند ادب انفرادیت: دہلی اور لکھنؤ میں وضع داری کی مختصر تاریخ‘‘ (مطبوعہ ’اردو ادب‘ کتاب 352) میں لکھنؤ کے بانکوں کے ذکر میں میں نے لکھا تھا کہ بانکوں کے بارے میں کوئی مطبوعہ تحریر مجھے دستیاب نہیں اگرچہ بچپن میں کئی کتابچے اس موضوع پر دیکھے تھے۔ میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ (عبدالحلیم) شرر نے بانکوں کا ذکر محض ایک خاص انداز کے پاجامے کے بیان میں کیا ہے اور یہ کہ شرر نہ

Read more

کئی چاند تھے سر آسماں : شمس الرحمٰن فاروقی سے ایک گفتگو

ممتاز ادیب اور نقاد شمس الرحمٰن فاروقی سے 2010 اور 2015 میں لاہور میں تفصیلی انٹرویو کرنے کا موقع ملا، جن میں ان کے معرکہ آرا ناول ’کئی چاند تھے سر آسماں‘ کے بارے میں جو گفتگو ہوئی، اسے یکجا کر کے پیش کرنے کا خیال، بک کارنر جہلم کی طرف سے، اس ناول کے تازہ اور دیدہ زیب ایڈیشن کی اشاعت سے آیا۔ انٹرویوز سے سوالات حذف کر کے جوابات اس انداز میں ترتیب دیے ہیں کہ ’کئی چاند

Read more

شمس الرحمن فاروقی کی شعری کلیات

’’مجلسِ آفاق میں پروانہ ساں‘‘ شمس الرحمن فاروقی کی شعری کلیات ہے۔ کتنا اچھا نام ہے۔ شاعر پروانہ ہی تو ہوتا ہے جو اپنی ایک ہی دفعہ ملنے والی زندگی کو کسی کے نام کردیتا ہے۔ نہ سُود کی فکر نہ زیاں کی پروا۔ اور وہ پروانہ ہی کیا جس کے پاس شمع سے محبت کی کوئی نشانی نہ ہو ۔ شعر نشانیاں ہی توہوتے ہیں جو آرام سے جلنے والے آئندگاں کے لیے چھوڑ جاتے ہیں۔ اور وہ ہر

Read more

اردو کے ممتاز ادیب، ناول نگار اور نقاد شمس الرحمن فاروقی انتقال کر گئے

اردو کے ممتاز ادیب، ناول نگار اور نقاد شمس الرحمن فاروقی کا انتقال ہو گیا ہے۔ ان کی عمر 85 برس تھی۔ وہ 15 جنوری 1935 کو الہ آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ انہیں عہد حاضر میں اردو کے اہم ترین ادیبوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ شمس الرحمن فاروقی نے تنقید نگاری سے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ انہوں نے الہ آباد سے ’شب خون‘ کا اجرا کیا جسے جدیدیت کا پیش رو قرار دیا گیا۔ اس رسالے نے

Read more

اسلوب تحریر کیا ہے؟

اسلوب تحریر ہر صاحب قلم کے لکھنے کے اپنے اسٹائل کا نام ہے۔ اسلوب تحریر صاحب قلم کے مخصوص لفظیات، پھر انھیں خاص طرز پر ترتیب دینے کے ذاتی ہنر اور استعداد اور پھر استعاروں اور ضرب الامثال وغیرہ کو اس کے اپنے خاص طرز پر برتنے سے تشکیل پاتا ہے۔ یہ سرتا سر کوئی ذہنی رویہ یا فکرو رجحان نہیں ہے، البتہ یہ صاحب قلم کے ذہنی رویوں کا غماز اور فکر ورجحان کا پرتو ضرور ہے۔ دوسرے لفظوں

Read more

فلورین زیلر کی ٹرالوجی اور مغرب میں خاندان کا بحران

فلورین زیلر پر کچھ لکھنے سے پہلے مناسب ہوگا کہ اس نسل کا تعارف کرا دیا جائے جس سے وہ تعلق رکھتے ہیں تاکہ اس ذہنی پس منظر کی تفہیم ہو سکے جو ان کی تخلیقات میں کارفرما ہے۔ 1970 کی دہائی کے آخری برسوں میں جنم لینے والی اس نسل نے شعور کی آنکھ دیوار برلن کے گرنے کے بعد کی دنیا پیں کھولی۔ یہ زمانہ جسے سماجی ماہرین پوسٹ ماڈرن یا مابعد جدید عہد قرار دیتے ہیں اس

Read more

شہزادہ سیف الملوک اور بدیع الجمال کا سفر عشق

میاں محمد بخش ؒ کی تصنیف ً سیف الملوک ًسے شدبد ہمیں بچپن میں ہی ہو گئی تھی۔ ابا جان گھر میں اکثر رات کو اونچی آواز میں سیف الملوک پڑھا کرتے تھے۔ گھر میں دوسری کتابوں کے ساتھ سیف الملوک بھی کتابوں والی الماری میں رکھا ہوا تھا۔ لیکن اس وقت پنجابی پڑھنی نہیں آتی تھی۔ ہمارے ایک رشتہ کے بھائی ہر ماہ چن چڑھی جمعرات کو بابا پیرے شاہ ؒکے دربار پر حاضری دیتے تھے جو ہمارے گاؤں

Read more

وہ دل کہاں سے لاؤں

کون سی پیتے ہو؟ بوڑھے نے جمائی لے کر کہا تھا۔ میری ملاقات اس سے ہیتھرو ائرپورٹ پر ہوئی تھی۔ میں کینیڈا سے لندن کے راستے کراچی جا رہا تھا، وہ لندن سے ہانگ کانگ جا رہا تھا۔ دبئی تک ہم دونوں کی مشترکہ فلائٹ تھی۔ دبئی سے مجھے کراچی چلا جانا تھا اور اس کو ہانگ کانگ۔ ہم دونوں فرسٹ کلاس لاؤنج میں ساتھ بیٹھے تھے۔ مجھے تو میری کمپنی نے ٹکٹ دیا تھا اور ہم لوگ ہمیشہ فرسٹ کلاس میں ہی سفر کرتے تھے۔

فرسٹ کلاس کی عیاشی کا مجھے تو اندازہ ہی نہیں تھا جب تک میں اس کلاس میں بیٹھا نہیں تھا۔ اپنے خرچے پر تو میں ہمیشہ اکانومی کلاس میں ہی سفر کرتا تھا، فرسٹ کلاس کے مقابلے میں ہوائی جہاز کا اکانومی کلاس ایسا ہی تھا جیسے تھرڈ کلاس کا ڈبہ۔ قریب قریب کی سیٹیں اس کے اوپر شوروغوغا۔ فرسٹ کلاس کی سیٹیں کشادہ ہوتی ہیں، آگے پیروں کو پھیلانے کی بے شمار جگہ، کھانا مینو کے چوائس پر ملتا ہے اور بے شمار شراب۔ پوری دنیا کلاسوں میں بٹی ہوئی ہے اور ہر جگہ فرسٹ کلاس کی اور بات ہے۔ اورنگی ہو کہ ڈیفنس، لیاری ہو کہ کلفٹن اور ہوائی جہاز ہو کہ سینما ہال۔ کلاسوں کا یہ نظام بہت جلد میری سمجھ میں آ گیا تھا۔

Read more

پروفیسرکرامت حسین جعفری: چند یادیں

سن 1967 میں جب گورنمنٹ کالج لاہور میں ایف اے میں داخلہ لیا تو ایک مضمون فلسفہ تھا۔ ان دنوں فلسفے میں سال اول میں نفسیات اور سال دوم میں منطق پڑھائی جاتی تھی۔ نفسیات کی ایک اور منطق کی دو کتابیں، منطق استخراجیہ اور منطق استقرائیہ شامل نصاب تھیں۔ تینوں کتابوں کے مصنف کرامت حسین جعفری تھے۔ ان کے بارے میں پتہ چلا کہ اس وقت وہ گورنمنٹ کالج لائل پور میں پرنسپل تھے۔ وہ گورنمنٹ کالج لاہور کے

Read more

باتیں قاضی جاوید کی

پاکستان کے ممتاز فلسفی، ادیب اور مترجم قاضی جاوید  14 نومبر  2020کو انتقال کر گئے۔  زیر نظر انٹرویو چند برس قبل لیا گیا تھا۔ سابق گورنر جنرل پاکستان، ملک غلام محمد کی برائیاں تو ہم سنتے اور پڑھتے ہی رہتے ہیں۔ کیا مضائقہ ہے، آج اگر ان کے ایک نیک کام کا ذکر ہو جائے، جس کا جیتا جاگتا ثبوت لاہور میں ادارہ ثقافت اسلامیہ کی صورت میں موجود ہے، اس کے قائم ہونے میں ان کا رسوخ کام آیا

Read more

مسعودؔ مفتی کا شہر افسوس

(اردو کے ممتاز ادیب اور افسانہ نگار مسعود مفتی 10 نومبر 2020 کو اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ ذیل کا مضمون ان کی زندگی میں لکھا گیا تھا) انتظارؔحسین نے سقوط ڈھاکہ کے موضوع پر جو چند ایک کہانیاں لکھی ہیں۔ ”شہرافسوس“ ان میں سے ایک ہے۔ انتہائی فنکارانہ حسن اور بے پناہ شدت تاثر کی حامل اس کہانی کے تینوں کردار اس بستی میں اپنوں کے ظلم میں صبح کرتے ہیں جسے انہوں نے ایک مدت پہلے دارالامان

Read more

جانباز جتوئی: سرائیکی وسیب کی محرومیوں کا نوحہ خواں

سرزمین اوچ ہمیشہ سے علم و ادب کا گہوارہ رہی ہے۔ یہاں رہنے والی جن ہستیوں نے فن کی بلندیوں کو چھوا، ان میں ایک عظیم نام درویش صفت شاعر جانباز جتوئی کا بھی ہے، جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے نہ صرف لوگوں کے دلوں پر حکومت کی بلکہ اپنے بلند تخیل کی بنا پر شہرت کے بام عروج تک پہنچے۔ سرائیکی ادب میں حضرت خواجہ غلام فرید کے بعد سرائیکی خطے اور وسیب کی ترجمانی کرنے والے جانباز

Read more

اردو ناول، پبلسٹی، گمراہ کن رویہ

مائی ڈیر قاری، وہ ناول آ گیا جس کا انتظار تھا۔ ایک سو پچاس برس کے عرصہ میں یہ پہلا ناول ہے جو مغرب کے شاہکار ناولوں پر حاوی ہے۔ اردو میں ناول کہاں لکھا گیا۔ عینی آپا، تاڑر صاحب، سب بھاڑ ہی جھونکا کیے ، ناول تو یہ ہے۔ آج کل فیس بک پر کچھ اسی انداز سے ناولوں کی پبلسٹی کی جا رہی ہے۔ اشتہار بازی کی اس مہم سے میں حیران ہوں۔ پکے پکائے ناسٹیلجیا کو لیا،

Read more

میرا بیٹا ابھی آتا ہی ہو گا

سردی بڑھ گئی ہے اندھیرا چھا چکا ہے دروازے کی گھنٹی بجی ہے یہ اس وقت کون آ گیا؟ شاید بیٹا آ گیا؟ کہہ کر گیا تھا کہ کھانے کے وقت تک آ جائے گا۔ ہم نے بھی اس کے انتظار میں نہیں کھایا لیکن اس کے پاس تو چابی ہے وہ کیوں گھنٹی بجائے گاَ؟ دروازے پر یونیفارم پہنے یہ دو لوگ؟ یہ کون ہیں ؟ یہاں کیوں ہیں؟ کیا چاہیے آپ لوگوں کو؟ ہاں ہاں یہ میرے بیٹے

Read more

سلام آخر

”مولا تجھے بی بی کی ردا اور شہید کربلا کا واسطہ مجھ بڈھے گناہ گار کو اس وقت تک موت نہ دینا جب تک اس منبر پر علامہ سجاد نجفی کو نہ دیکھ لوں۔ اس کے بعد جو تیری مرضی۔ تو جانے تے حسین جانے۔“ زوار صادق شاہ نے ظہرین ادا کرنے کے بعد دو ٹوک دعا مانگی ’خدا اور حسین کو آمنے سامنے کیا‘ سجدہ گاہ کو واسکٹ کی جیب میں رکھا اور علم کو بوسہ دے کر امام

Read more

اغوا ہونے والی لڑکیاں اور ٹوٹے ہوئے لوگ

روپ چند کو کراچی پہنچ کر امریتا رام پریتم داس روڈ پر عبدالرحمن سومرو کا گھر تلاش کرنا تھا۔ روپ چند کراچی میں ہی پیدا ہوا تھا۔ رحمان سومرو اس کے بچپن کا دوست تھا، دونوں ساتھ ساتھ ہی بڑے ہوئے تھے۔ روپ چند کے باپ خوب چند کی دوستی رحمان سومرو کے باپ الٰہی بخش سومرو سے تھی۔ دونوں شکارپور کے رہنے والے تھے۔ دونوں کی پشتیں شکارپور میں تھیں، دونوں کی زمینیں شکار پور میں تھیں اور دونوں کے مکان کراچی میں بھی تھے۔ خوب چند کا کراچی میں کپڑوں کی آڑہت کا کام تھا اور الٰہی بخش کراچی کے سندھ مدرسے میں سندھی کا استاد تھا۔

پاکستان بننے سے پہلے روپ چند ٹاور کے قریب کٹرک بلڈنگ کے ساتھ دریا لال جیون داس بلڈنگ میں رہتا تھا اور رحمان سومرو امریتا رام پریتم داس روڈ کے ایک مکان میں رہتا تھا۔ اسے تو ایسا ہی لگا تھا کہ جیسے پاکستان یکایک بن گیا، پھر زندگی ایک عذاب ہو کر رہ گئی تھی۔ ہندوستان سے مہاجر کراچی آنے لگے تھے آہستہ آہستہ زندگی کے غیر محفوظ ہونے کا احساس ہونے لگا تھا۔ ایسے ہی وقت میں جب ہندو مسلم فسادات کے فوراً بعد سارا پریوار ہندوستان جانے کو تیار بیٹھا تھا تو اس کی سولہ سالہ بہن کلپنا کا اغوا ہو گیا۔

Read more

المیہ مشرقی پاکستان پر جون ایلیا نے کیا کہا ؟

16 دسمبر 1971ء کے خون آشام المیے پر جون ایلیا نے پاکستان ٹیلی ویژن کراچی سنٹر سے ذیل کی نظم نشر کی جو اگلے روز روز نامہ جنگ میں شائع ہوئی۔ "ہم سب” کے پڑھنے والوں کے لئے اس نظم کا نایاب عکس محترم حیدر تقی نے عنایت کیا ہے۔

Read more

نئی زندگی: (ایک ایکٹ کا ڈراما)

کردار                 شفیق احمد (عمر 62 سال) ایک متوسط گھرانے کا سربراہ                 فہمیدہ احمد (عمر 58 سال) شفیق کی بیوی                 رفیق احمد (عمر 23 سال ) ان کا بیٹا                 مجید علی: رفیق کا ہم عمردوست                 مقام: مانچسٹر                 (نومبر2007کی ایک رات۔ شفیق اور فہمیدہ اپنے گھر کے بیرونی کمرے میں صوفوں پر بیٹھے ہیں۔ ) شفیق :     بہت تنگ کیا ہے اس نے۔ ۔ نالائق، نافرماںبردار۔۔۔ فہمیدہ :    کیا ہو گیا ہے آپ کو؟ شفیق:

Read more

ایک ڈوبتا ہوا شہر اور منگلیش ڈبرال

یہ کہانی ایک جیتے جاگتے شہر کی ہے، کسی خواب کا بیان نہیں۔ اسے ایلیٹ کی ویسٹ لینڈ  (The wasteland) کے ایک چھوٹے سے حصے ”پانی سے موت“  (Death by Water) کا بدلا ہوا روپ بھی کہا جا سکتا ہے۔ زندگی اور انسانی تقدیر سے وابستہ اچھے برے تجربے، مختلف زمانوں میں، ہمارے احساسات پر طرح طرح سے وارد ہوتے ہیں! اس کہانی اور اس شہر میں ہماری دلچسپی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اس کا براہ راست

Read more

اردو ادب کا عطر: حضت وہ تو نکل گئے

میرا اور مسعود کا یہ خیال یہ تھا کہ امتحان کے بعد ہم دونوں دو تین دن اور ٹھہریں گے اور اچھی طرح سے لکھنؤ کی سیر کریں گے۔ لیکن امتحان ختم ہونے سے پہلے ہی پیسے ختم ہو گئے ۔ جس دن آخری پرچہ کر کے ہم ہوٹل میں واپس آئے تو واپسی کے ٹکٹوں کے علاوہ تین چار روپے اور باقی تھے۔ ناچار یہ قرار پایا کہ سامان درست کر کے سب تیار کر لیا جائے اور ایک

Read more

نئے نقاد کے نام دوسرا خط

عزیزم! مجھے تمھاری تشویش سمجھ میں آتی ہے۔ ذرا غور کرو گے تو تمھیں تشویش کے اسباب بھی سمجھ آ جائیں گے۔ اپنی ہر حالت کو، اس حالت سے باہر نکل کر دیکھو گے تو تمھیں کئی مشکل سوالوں کے جواب ملنے لگیں گے۔ تشویش کو کچھ دیر معطل کر و اور پھر اس پر غور کرو۔ ( یہ مشکل کام ہے مگر تمھاری بساط سے باہر نہیں ہے ) تم پر کھلے گا کہ چیزیں بجائے خود مشکل نہیں

Read more

وزیر خانم کے صنم تراش شمس الرحمٰن فاروقی سے ایک مصاحبہ

ممتاز ادیب اور نقاد شمس الرحمٰن فاروقی سے 2010 اور 2015 میں لاہور میں تفصیلی انٹرویو کرنے کا موقع ملا، جن میں ان کے معرکہ آرا ناول ‘کئی چاند تھے سر آسماں’ کے بارے میں جو گفتگو ہوئی، اسے یکجا کر کے پیش کرنے کا خیال، بک کارنر جہلم کی طرف سے، اس ناول کے تازہ اور دیدہ زیب ایڈیشن کی اشاعت سے آیا۔ انٹرویوز سے سوالات حذف کر کے جوابات اس انداز میں ترتیب دیے ہیں کہ ‘کئی چاند

Read more