سرگودھا میں غیرت کی عمر: نو برس

نو برس قبل اپنے بھائی کے گھر آنے والے ننھے فرشتے کو گود میں لے کر پیار کرتے ہوئے کیا اس عورت کو علم ہو گا کہ وہ اپنے قاتل کو بوسہ دے رہی ہے ؟ کیا وہ جانتی ہو گی کہ میری مرضی کا خراج اسے دس برس بعد اپنے لہو کی صورت میں بھرنا ہو گا؟ نو برس کا ننھا قاتل اور تیس برس کی مقتولہ! کیا نو برس کے بچے کو علم تھا کہ مرد کی عزت

Read more

امریکہ میں نسلی امتیاز: ’مجھ پر الزام لگایا گیا کہ میں اپنے ہی سفید فام بیٹا اغوا کر رہا ہوں‘

افریقہ نژاد امریکی شہری پیٹر نے اپنی زندگی میں کئی بچوں کو گود لیا ہے۔ لیکن جب بات سفید فام بچوں کی آتی ہے تو انھیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ کچھ لوگ تو فوراً پولیس کو فون کر دیتے ہیں۔

Read more

شکیل پٹھان کی بائیسویں برسی کے موقع پر

پاکستان کے اقتداری ڈھانچے کے دو ادوار ہیں۔ پہلے ڈھانچے میں بھارت کے اترپردیش سے آئی بیوروکریسی نے پنجاب کی بیوروکریسی سے اتحاد کیا، جاگیردار اور مذہبی قوتیں اس کی فطری اتحادی بن گئیں، پچاس کی دہائی میں فوج اس اتحاد کا حصہ بنی، جس نے تیزی سے اس پر کنٹرول حاصل کر لیا، بعد کے آنے والے برسوں میں شہری صنعت کار بھی اس گروہ کا حصہ بن گئے۔

دوسرا دور بھٹو کا دور تھا۔ ان کی حکومت صرف دو سال ہی اپنے اختیار کے تحت چلی، جس کے بعد پاکستان کی فوج نے خود ملکی معاملات کو سنبھالنا شروع کر دیا، اور اگلے چند سالوں میں مکمل طور پر واپس اسی قوت سے موجود نظر آتی ہے۔

Read more

نو سالہ بچے پر پھوپھی کے قتل کا الزام: کیا خاتون کے سر میں لگنے والی گولی بچے نے ہی چلائی؟

پولیس کے مطابق بچے کی ایک عزیزہ نے بھی بیان دیا ہے کہ انھوں نے بچے کو گولی چلاتے ہوئے دیکھا مگر کیا خاتون کی اس گواہی کو بغیر شک و شبہ مانا جا سکتا ہے؟

Read more

علم نفسیات پڑھنے کے چند فوائد

زندگی میں تجسس کا عمل دخل اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ہے جو انسان کی فکری صلاحیتوں کو نئے زاویے عطا کرتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ آپ کوئی نئی ایجاد کر لیں اور وہی تجسس کی تکمیل کے زمرے میں آئے، اگر آپ کسی نئے لفظ کو سننے کے بعد اس کو لغت سے تلاش کرتے ہیں تو یہ بھی اسی کی ایک مثال ہے۔ ہر ایک کی طرح مجھے بھی اپنی ذاتی زندگی میں ہمیشہ سے انسان

Read more

وظائف برائے رد بھوک اور مہنگائی

حکومتیں، ان کے وزرا اور سپورٹرز جہاں اپنے مخالفین پر ہلکا پھلکا طنز یا ان کے ماضی و حال کی کمزوریوں کو نمایاں کرکے پیش کرتے رہتے ہیں وہیں کچھ باتیں وہ بھی ہوا کرتی ہیں جن کو اگر مد نظر نہ رکھاجائے تو یہ محسوس کرنا نہایت مشکل ہوجاتا ہے کہ ہمارا تعلق ملک کے کس طبقے اور تہذیب سے ہے۔ کہتے ہیں خاموشی عالم کے علم کا زیور اور جاہل کے جہل کا پردہ ہوا کرتی ہے۔ جب

Read more

اورینٹل کالج شعبہ اردو اور ارمغان جمیل

جامعہ پنجاب کے الرازی ہال میں ہونے والی یہ تقریب اس حوالے سے بھی اہم تھی کہ اس میں ملک کے ممتاز صحافی اور قلم کار شریک تھے جو ڈاکٹر جمیل جالبی پر شائع ہونے والی اہم ترین کتاب ”ارمغان جمیل“ پر گفتگو فرما رہے تھے۔ یہ ارمغان شعبہ اردو ’اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی کے سربراہ‘ معروف محقق ’مترجم‘ کالم نگار اور اقبال شناس پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے ترتیب دیا جس میں ایم فل اور پی ایچ ڈی

Read more

"سب اچھا ہے” کا راگ اور حقائق

جب آنکھوں والے بھی حقیقت سے چشم پوشی کریں اور سب اچھا ہے کی رٹ لگانا شروع کر دیں تو پھر حالات بہتر ہونے کی بجائے بدتر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ کچھ اسی طرح کی صورتحال موٹروے پرحالیہ اجتماعی زیادتی کے ہولناک واقعہ کے بعد دیکھنے میں آ رہی ہے۔ سوشل میڈیا کے کچھ مہم جوایک کینیڈین خاتون روزی گیبرئیل جو کہ بلاگر ہیں اور پاکستان میں موٹرسائیکل پر ٹریول کرتی رہی ہیں کی تصاویراس تحریر کے ساتھ شیئر کر رہے

Read more

میز، سیاستدان، جنرل صاحبان اور پاکستانی

کل پاکستان کے محترم صحافی، جناب طلعت حسین صاحب کی دو تین ٹویٹس تھیں جن میں خبریت سے کہیں زیادہ جذباتیت تھی۔ ان ٹویٹس کے سکرین شاٹس موجود ہیں۔ آپ بھی پڑھ لیجیے۔ پڑھیں گے تو اک امپریشن ایسا ملے گا کہ جناب جنرل باجوہ صاحب اور جناب جنرل فیض صاحب نے ہاتھ میں بید پکڑ رکھے تھے اور ساری کی ساری سیاسی لیڈرشپ کو کان پکڑوائے رکھے۔ اور مزید یہ کہ بہت ہی سخت افسوس کی بات ہے کہ

Read more

پانچ دریاؤں کے سنگم پر رومان نگر کا قصہ

برصغیر میں تاریخی۔ روحانی اور تہذیبی حیثیت کے حامل شہر اوچ شریف سے شمال کی جانب 12 کلو میٹر کے فاصلے پر ہیڈ پنجند وہ تفریحی مقام ہے جہاں پانچ دریا چناب، ستلج، بیاس، جہلم اور راوی مل کر حسین سنگم بناتے ہیں، پنجند کی تاریخی حیثیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مہا بھارت کے قصے کہانیوں میں اس کا ذکر ملتا ہے جو ”پنجا ندا“ کے حوالے سے ہے۔ پنجاب کی تاریخ کا پنجند

Read more

’’بڑا کھانا‘‘ اور نوازشریف کی کشتیاں جلاتی تقریر

جس ’’بڑے کھانے‘‘ کا پیر کے دن سے بہت شوروغوغا کے ساتھ ذکر ہورہا ہے اس کا اہتمام بدھ کی شام ہوا تھا۔ یہ وہی دن تھا جب پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے ایک دو نہیں دس کے قریب قوانین عمران حکومت نے یک مشت منظور کروائے تھے۔ ان تمام قوانین کو قومی اسمبلی سے منظوری کے باوجود اپوزیشن جماعتوں نے بھاری بھر کم اکثریت کے بل بوتے پرسینٹ کے ذریعے ’’مسترد‘‘ کردیا تھا۔ ایوانِ بالا سے ’’مسترد‘‘ ہوئے قانون

Read more

سچ تو یہ ہے!

”سچ تو یہ ہے“ ممتاز مؤرخ ’مصنف اور کالم نویس ڈاکٹر صفدر محمود کی نئی کتاب کا نام ہے جیسے قلم فاؤنڈیشن انٹر نیشنل نے حال ہی میں شائع کیا پبلشر علامہ عبدالستار عاصم صاحب نے کمال محبت اور اخلاص کے ساتھ اس کتاب کا ایک نسخہ بذریعہ ڈاک راقم کو ارسال کیا۔ یہ کتاب اس حوالہ سے بھی انفرادیت کی حامل ہے کہ ڈاکٹر صفدر محمود کی متعدد کتابیں شائع ہو چکی ہیں لیکن اس کتاب میں مصنف نے

Read more

اقبال اور دانتے

دانتے ( 1265 ء 1321 ء اٹلی ) دس سال کی عمر میں اپنے والد کے ساتھ پوریٹیناری کے گھر گیا وہاں صاحب خانہ کی بیٹی پر نظر پڑی اور آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ دانتے اس کی نظروں کے تیروں سے ایسا گھائل ہوا کہ وہ نہ پھڑ پھڑا سکا اور نہ ہی اسے اس صیاد کی اسیری سے عمر بھر رہائی ملی۔ اس نے اپنی بائیوگرافی ”New life“ میں لکھا ہے کہ وہ جب اپنے ”سرخ قیمتی

Read more

کیا آپ اپنے جنسی جذبات سے پریشان رہتے ہیں؟

ساری دنیا کے بچے اور بچیاں جب سن بلوٖغت تک پہنچتے ہیں تو ان کے جسموں میں جنسی غدود فعال ہو جاتے ہیں اور وہ ایسے جنسی و رومانی جذبات محسوس کرنے لگتے ہیں جو انہوں نے پہلے محسوس نہ کیے تھے۔ ان جذباتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ان کے جسموں میں بھی تبدیلیاں آنی شروع ہو جاتی ہیں۔ لڑکیوں کے پستان بڑھنے لگتے ہیں اور انہیں حیض آنا شروع ہو جاتا ہے۔ لڑکوں کی مسیں بھیگنے لگتی ہیں اور انہیں

Read more

ٹوٹا ہوا تسلسل،وہ بھی مسلسل

میں حوا کا پرتو ہوں۔ ہم دونوں آ منے سامنے کھڑی تھیں۔ میں نے اس کو دیکھا اس کے مدھر وجود سے محبت ناز، تخیل، فرصت، رنگ، موسیقی سب پھوٹے پڑتے تھے۔ وہ جنت کے حسین پھولوں سے لدے، دودھ اور شہد کی آبشاروں، جھرنوں اور ندیوں والے باغ کی مکیں تھی۔ اپنی حیران ہوتی صندلی آنکھوں سے وہ اس حسن کو دن رات گھونٹ گھونٹ پیتی تھی۔ وہ حوا تھی، خالق کے حسن و جمال کی انتہا۔ جب آدم

Read more

افسانہ___انتہا

بل کھاتی ندیوں کے ٹھنڈے تازہ پانی کی بہتی لہروں میں سے چھینٹے اڑاتے مجھے جس کے سنگ گزرنا تھا، کوئی تھا ایسا جس کے ساتھ میں مجھے پھولوں کی طرح کھلنا اور کلیوں کی طرح چٹکنا تھا، ستاروں کی صورت چمکنا تھا۔ بلند پہاڑوں کی خاک رنگ خاموشیوں میں، ہواؤں کے سنگ بہتے چشموں کی گنگنا ہٹ میں، جس کے لبوں کی سرگوشیوں پر کان دھرنے تھے، اونچی چوٹیوں سے بہت نیچے دکھتی سفید روئی کی نرم نرم بدلیوں

Read more

سنہرا اسلامی دور: عرب فلسفے کی بنیاد رکھنے والے الکندی کون تھے اور ان کی سائنس کے لیے کیا خدمات ہیں؟

الکندی سے پہلے عربی میں فلسفے نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ وہ محض ایک عظیم فلسفی ہی نہیں تھے بلکہ ان کے کام کی عملی اہمیت بھی تھی جسے عسکری شعبے میں بھی استعمال کیا جا سکتا تھا۔ انھوں نے سمندر میں پیدا ہونے والے مد و جزر، بادلوں کی گرج چمک سمیت دیگر موسمیاتی رجحانات پر بھی تحقیق کی۔

Read more

نواز شریف اپنے ماضی کی قیمت ادا کر چکے

حکومت کے خلاف اپوزیشن کے تحریک چلانے کا اعلان سامنے آنے کے ایک روز بعد ہی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے اور وفاقی کابینہ کے اہم ارکان کو لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کی صورت حال سے آگاہ کیا ہے۔ وزیر اعظم کی سربراہی میں کابینہ نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا اور عمران خان نے کابینہ کے ارکان کو

Read more

یادیں برائے فروخت

’ہمارے ویزے آ گئے ہیں‘ احمر نے سرگوشی کے انداز میں مریم کو بتایا۔ مریم جو آج تک یہ ہی سمجھے بیٹھی تھی کہ احمر ایک ناممکن خواب کے پیچھے بھاگ رہا ہے جس کی ناموافق تعبیر کا احساس ہی اسے پریشان کر دیتا، مگراب وہ خواب حقیقت بنے اس کے سامنے کھڑا دکھائی دے رہا تھا۔ پچھلے کئی ہفتوں میں اس نے احمر کے شوق کو دیکھتے ہوئے بے دلی سے اس کی کامیابی دعائیں تو مانگی تھیں مگر

Read more

مسڑ کراچی! باولے ہو تم، کسی کو تم سے پیار نہیں

مولانا رومی کی حکایت سے ”ایک چڑا اور چڑی شاخ پر بیٹھے تھے۔ دور سے ایک انسان آتا دکھائی دیا تو چڑی نے چڑا سے کہا اڑ جاتے ہیں یہ ہمیں مار دے گا۔ چڑا کہنے لگا کہ دیکھو ذرا اس کی دستار پہناوا شکل سے شرافت ٹپک رہی ہے یہ ہمیں کیوں مارے گا۔ جب وہ قریب پہنچا تو تیر کمان نکالی اور چڑا کو مار دیا۔۔۔ چڑی فریاد لے کر بادشاہ وقت کے پاس حاضر ہوگئی، شکاری کو

Read more

جھیل سیف الملوک اور کینیڈا کی جھیلیں: پریوں کی پرواز

انیس سو تریسٹھ میں ناران سے جھیل سیف الملوک جانے والی سڑک پر ہم تین دوست اوپر سے جھانکتے پہاڑوں کا نظارہ کر رہے ہیں۔ اونچی نیچی پہاڑیوں اور اڑتے گھٹتے بڑھتے بادلوں کے درمیاں بچپن کی پڑھی دیو مالائی کہانی۔ اور پھر ریڈیو پہ سنی میاں محمد اور محمد بخشا کے نام والے آخری مصرعہ پر ختم ہونے والے اس قصے کے ریڈیو پر ایک مخصوص دھن پر گائے حصے۔ اس جادوئی جگہ کو دیکھنے کے شوق کو مہمیز

Read more

پاکستان کے 50 یادگار اور عہد ساز گانے، نغمے اور دھنیں: الزائمرز کے عالمی دن پر ڈیمینشیا کا شکار افراد کے لیے بی بی سی اردو کا تحفہ

بی بی سی اردو نے اپنے قارئین، موسیقی سے وابستہ افراد اور صحافیوں کی مدد سے ایسے 50 گانے جمع کیے ہیں جو ایک عالمی پلے لسٹ کا حصہ ہوں گے جنھیں بی بی سی ورلڈ سروس ’میوزک میموریز پراجیکٹ‘ کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

Read more

نصرت فتح علی خان: دربار لسوڑی شاہ پر قوالی سے شہنشاہ قوالی تک کا سفر

نصرت فتح علی خان نے 1960 کی دہائی کے شروع میں ہی اپنے والد استاد فتح علی خان کی وفات کے بعد قوالی کی باقاعدہ تربیت اپنے چچا استاد مبارک علی خان اور استاد سلامت علی خان سے لینا شروع کی اور ستر کی دہائی میں استاد مبارک علی خان کے انتقال کے بعد اپنے قوال گھرانے کی سربراہی کی۔

Read more

نوشابہ کی ڈائری: ”چیرا“ اور دوسرے ماورائے عدالت اقدامات

30 دسمبر 1996 کتنے دن بعد ذیشان کی صورت دیکھی، لگتا ہے مہینے نہیں سال گزرے ہیں۔ کتنا بدل گئے ہیں، کچھ بدلے ہیں کچھ خود کو بدل لیا ہے۔ ایک تو دبلے بہت ہوگئے ہیں، پھر داڑھی، بالوں کا نیا انداز اور سیاہ چشمہ، وہ ”یہ میں ہوں نوشی“ نہ کہتے تو جانے کتنی دیر تک میں دروازے پر کھڑے اس ”اجنبی“ کو پہچاننے کی کوشش کرتی رہتی۔ ان چند گھنٹوں کی ملاقات میں وہ میرے اور سارنگ کے

Read more

ہمارے سیاسی المیے کے اسباب

حقیقی جمہوریت میں سیاسی پارٹی جمہوری نظام کی بنیادی اکائی ہوتی ہے۔ یہی بنیادی اکائیاں مل کر ایک مضبوط جمہوری نظام تشکیل دیتی ہیں۔ پاکستان میں سیاسی پارٹیاں آمریت کے استعارے بنی ہوئی ہیں۔ جو اپنے منشور اور نعروں پر عمل کرنے کی بجائے خاندانی آمریت کے تحفظ کو ہی اپنا نصب العین بنا چکی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف جب پرانی سیاسی جماعتوں کو شکست دے کر اقتدار میں آئی تو اس کے دو نعرے احتساب سب کا، دو نہیں

Read more

تمہاری بیٹی کے ساتھ زیادتی کا ذمہ دار معاشرہ نہیں، تم خود ہو

موٹر وے زیادتی کے اندوہناک واقعے کو 7 روز گزر چکے ہیں، ہر طرف بھانت بھانت کے بحث و مباحثے جاری ہیں، کوئی سی سی پی او عمر شیخ کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے، کوئی ریاست مدینہ بنانے کے دعوے داروں سے جواب طلب کر رہا ہے، کوئی مجرمان کے اصل یا نقل ہونے پر بحث کر رہا ہے۔ لیکن ایک طبقہ جو اس ساری تنقید سے محفوظ ہے، الٹا اس کا شمار مظلوم اور کمزور افراد میں

Read more

سیاست جغرافیہ ( قسط ششم )

قسط ششم میں سلطنت سیاست میں پائی جانے والی خوراک، پھل، جانور وں اور رسم و رواج کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ فصلیں، خوراک اور پھل سب سے پہلے کشت سیاست میں چاپلوسی اور منافقت کا گہرا ہل چلا کر سرمائے کے پانی سے سینچا جاتا ہے۔ تعلق اور سفارش کی کھاد ڈال کر ا ن کھیتیوں کو مزید زرخیز کر لیاجاتا ہے۔ پھر خیالی پلاؤ سے بات شروع ہوکر نقد آور فصلوں سے ہوتی ہوئی لنگر خانوں پہ لنگر

Read more

میرؔ کی کہانی – غالبؔ کی زبانی

(دوزخ نامہ سے ایک اقتباس) میں نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ میں بہت نیک انسان ہوں۔سچ کہو ں تو میں اپنے لالچ کی وجہ سے دلّی آیا تھا۔معروف صاحب کا خاندان دلّی کے شرفاء میں شمار ہوتا تھا،جس کے شاہی دربار کے ساتھ مراسم تھے، مجھے توقع تھی کہ ایک شاعر کے طورپر مجھے دربار میں جگہ مل جائے گی، اور یو ں میں اپنی خواہش کے مطابق زندگی گزار سکوں گا۔ ان دنوں میں شراب اور عورتوں کا

Read more

ناول، ادھ ادھورے لوگ

انسان تو کیا پرندے درخت اور پودے بھی اگر اپنی جڑیں کسی انجانی زمین میں پائیں تو آپ ان کے مزاج، گیت سنگیت اور پھلوں کو بد مزا ہی پائیں گے۔

فارس کے لوگ کہتے ہیں کہ ”وطن شیراز است“ انسان کے دل سے اس کے وطن کی محبت نکالنا ناممکن ہے، کون نہیں جانتا کہ ظہیر الدین بابر کے ساتھ سمر قند و بخارا سے آئے لوگوں نے اپنے وطن کی خاطر فتح کی سرزمین ہندوستان کے تخت و تاج کو ٹھوکر ماری اور واپس اپنے پہاڑوں پر جا آباد ہوئے تھے۔ تاریخ آج ان کا نام و نشان نہیں جانتی مگر مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے وطن کی خاک میں خاک ہو کر سو سال حکومت کرنے والے بابر کے بیٹے بہادر شاہ ظفر کی رنگون میں تڑپتی روح پر مسکراتے ہوں گے۔

Read more

برطانیہ میں جنسی حملوں کا شکار ایک پاکستانی لڑکی رپورٹ کیوں نہ کر سکی؟

برطانیہ میں ایشیائی باشندوں کے ہاتھوں مقامی بچوں کے ساتھ جنسی جرائم سے پردہ اٹھانے والی روتھر ہیم رپورٹ اور اقلیتی کیمونٹی میں جنسی جرائم کی کثرت اور پردہ پوشی کا معاملہ معاشرے کے تلخ رخ کی نشان دہی کرتا ہے۔ ایک پاکستانی نوجوان خاتون (ر) نے اپنی ذاتی زندگی سے پردہ اٹھاتے ہوئے برطانیہ میں مقیم بیشتر پاکستانی نژاد خاندانوں میں جنسی جرائم کے متعلق منفی سماجی رویے کی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسے دس سال کی عمر سے ایک ہمسائے نے جنسی حملوں کا نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا جب اس نے دیکھا کہ اس کی برادری میں اس ظلم کا تذکرہ کرنے پر اسے ہی مورد الزام ٹھہرایا جائے گا تو اس کے پاس خاموش رہنے کا کوئی چارہ نہ تھا۔

Read more

گلزار کی خوشبو

یوں تو گلزار کی تمام فلمیں اعلی پائے کی ہوتی ہیں مگر آپ اپنے کسی دوست یا عزیز سے جو میری طرح سے فلموں اور فلم سے وابستہ افراد کا رسیا ہو پوچھ دیکھیں کہ وہ گلزار کی کس فلم کو اپنی پسندیدہ قرار دیں گے تو میں آپ کو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی اکثریت اجازت، آندھی، موسم اور ماچس کا نام لے گی۔ یہ ترتیب اوپر نیچے بھی ہو سکتی ہے، مگر پسندیدہ فلمیں انہی ناموں سے ہی ہوں گی۔ مجھے بھی یہ تمام فلمیں بہت پسند ہیں مگر ایک دوست کو بتاتے ہوئے میں نے کہا تھا کہ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ گلزار کی تمام فلموں میں سے میری پسندیدہ فلم کون سی ہے تو میں کہیں سے دبی ہوئی اس فلم کو نکال باہر لاؤں گا جس کا نام خوشبو ہے۔

Read more

شرعی سزا ہی علاج ہے

لاہور سیالکوٹ موٹر وے ایم 11 پر گزشتہ ہفتے ایک خاتون پر اس کے بچوں کے سامنے جو قیامت گزری اس نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ اس اندوہناک واقعے کا کرب و الم ہر با ضمیر نے محسوس کیا اور ہر کوئی اب تک غم و غصے کی کیفیت میں ہے۔ وطن عزیز میں درندگی کا یہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات تواتر سے پیش آتے رہے ہیں لیکن حالیہ واقعے میں ملزمان نے ایک ماں کے ساتھ اس کے کمسن بچوں کے سامنے جس ظلم کا مظاہرہ کیا اس کی مذمت الفاظ میں ممکن نہیں ہو سکتی۔

قارئین اس قسم کے واقعات کے نہ رکنے کی ایک وجہ معاشرے کی فکری تقسیم بھی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ تقسیم کی انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔ کسی بھی سانحے اور بڑی سے بڑی قیامت کی گھڑی میں بھی ہم باہم اتفاق کا مظاہرہ کرنے اور ایک بیانیے پر اکٹھا ہونے میں ناکام رہتے ہیں اسی لیے آج تک ہم کسی مسئلے کا حل ڈھونڈنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہر مرتبہ اس قسم کے واقعات کے بعد بجائے اس کی وجوہات کے خاتمے یا مجرمان کو ڈھونڈ کر انہیں سخت سزا سنانے کے، پہلے سے طے شدہ باتوں کو چھیڑ لیا جاتا ہے یا کوئی نہ کوئی سیاسی پہلو نکال کر مخالفین پر تنقید شروع کر دی جاتی ہے۔ نتیجتاً دوسرا فریق بھی اپنے مسلک کا دفاع شروع کر دیتا ہے اور اصل مسئلہ پس پشت پڑا رہ جاتا ہے۔ صرف سیاسی ہی نہیں گزشتہ کچھ عرصہ سے مذہب اور معاشرت سے متعلق مسائل میں لبرلز اور مذہب پسندوں میں خیالات کی تقسیم اختلاف رائے سے بڑھ کر نفرت اور کدورت تک پہنچ چکی ہے۔

Read more

نائیجیریا: غلاموں کی اولادیں جو آج بھی اپنی مرضی سے شادی نہیں کر سکتیں!

ایگبو نسلی گروہ میں آزاد غلاموں کی اولاد کو اب بھی اپنے آباؤ اجداد کی حیثیت حاصل ہے اور مقامی ثقافت میں ایسے ایگبو سے شادی کرنا منع ہے جنھیں ’پیدائشی طور پر آزاد‘ دیکھا جاتا ہے۔

Read more

نائٹ موونگ سروسز: جاپانی کمپنیاں جو لوگوں کی ’غائب‘ ہونے میں مدد کرتی ہیں

ہر سال کئی افراد اپنی زندگیوں، گھروں اور خاندانوں سے دور کہیں ’غائب‘ ہو جانے کا فیصلہ کرتے ہیں اور جاپان میں کچھ ایسی کمپنیاں ہیں جو ایسا کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں۔

Read more

چھبیس ماہ گزر چکے ہیں 34 اور گزر جائیں گے

وزیر اعظم پاکستان فرماتے ہیں کہ ”وہ کرپٹ عناصر سے لوٹی ہوئی رقم واپس لے کر تعلیم پر خرچ کرنا چاہتے ہیں“ ۔ اس عزم کا اظہار انھوں نے حکومت بنانے کے 26 ماہ بعد کیا ہے۔ ویسے تو وہ انتخابات سے بہت پہلے بھی کرپٹ عناصر اور لوٹی ہوئی دولت کے متعلق بہت کچھ کہتے رہے تھے اس لئے قوم کو اس بات کی قوی امید تھی کہ جن عناصر نے بھی ملک کی دولت چاروں ہاتھ پیروں سے

Read more

بد چلن عورتیں

ہم اور ہمارا معاشرہ۔ عورت فساد کی جڑ ہے سارے گناہ عورت کی ذات سے منسوب ہیں یار یہ عورتیں کیسے کر لیتی ہیں۔ ۔ ۔ بس میں سوار ہوں تو مردوں کو کہتی ہیں ہمیں ہراساں کرو، سڑک کنارے چل رہی ہوں تو مردوں کو اپنی جانب راغب کر لیتی ہیں۔ ۔ ۔ مرد کے ساتھ معاشقہ کر کے مرد کو بھگا کر لے جاتی ہیں۔ مرد پر ظلم کرتی ہیں۔ ۔ ۔ رنگ برنگے کپڑے اس لیے پہنتی

Read more

نواز شریف کی ٹوئٹر پر آمد: پہلا پیغام اور ردعمل

پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نےسنیچر کی شام سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنا اکاؤنٹ بنایا اور ایک ٹویٹ کی۔ جواب میں انھیں جہاں بہت سے لوگوں نے خوش آمدید کہا وہیں ان پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

Read more

کرونا، سماجی فاصلے اور سکول

کرونا چائنہ میں پیدائش کے بعد پوری آب و تاب کے ساتھ تمام دنیا پہ چھایا تو کوئی بھی یہ تصور نہیں کر سکتا تھا کے یہ پوری دنیا کو مفلوج کر سکتا تھا۔ کوئی بھی ماننے کو تیار ہی نہیں ہو رہا تھا کے چائنہ میں سچ مچ کوئی بیماری آئی ہے۔ پھر جب اس نے زور پکڑا تو سب حیرانی کے ساتھ خوف میں مبتلا ہو گئے اور پھر جو ملک اس کے راستے میں آیا اسے یہ

Read more

ناصر کاظمی کا انتخاب انیسؔ: ایک تعارف

(1) ایک دن پاپا نے کہا کہ میر انیسؔ کے کچھ شعر پڑھ کے توایسا لگتا ہے جیسے امام حسین ؑ نے اسے خواب میں آ کے لکھوائے ہوں۔ اس وقت انہوں نے جو شعر سنائے وہ بہت عرصہ مجھے یاد رہے۔ کاش میں انہیں نوٹ کر لیتا۔ پاپا انیسؔ کے ایک مرثیے کا مصرع، اس عہد میں سب کچھ ہے پر انصاف نہیں ہے، اور ایک سلام کا یہ شعراکثر پڑھا کرتے تھے: در پہ شاہوں کے نہیں جاتے

Read more

ہما کوکب بخاری: تیس برس پر پھیلی جڑواں کہانی

صاحب، کیا ایسا کوئی ہے ہم میں سے جس نے جڑواں بچوں کے بچھڑ جانے والے واقعات پہ مبنی فلمیں نہیں دیکھیں ہوں گی؟ اور ہوتا کیا تھا اگر بچے ہم شکل ہوئے تو وقت ولادت ہی جدائی کا انتظام کچھ ایسے ہوتا کہ یا تو دایہ کی نیت خراب ہو جاتی یا پھر خاندانی دشمنی کام کر دکھاتی۔سو ناظرین دل پہ ہاتھ رکھ کے یہ تماشا دیکھتے رہتے کہ ایک بچہ مغرب پہنچ گیا تو دوسرا مشرق میں، ایک

Read more

حادثہ ہو، بیان ہو یا پھر ٹی وی شو، معافی ہی تو مانگنی ہے مانگ لو

بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ لڑائی لڑائی معاف کرو اللہ کا گھر صاف کرو اور اگر کوئی غلطی ہو جائے تو سوری میں پہل کرلو۔ اسکول میں گھروں میں بھی بچوں کو یہی بتایا جاتا ہے کہ آپس میں مل جل کر رہیں اگر ایک دوسرے سے لڑائی ہو جائے تو سوری کر لیں معافی مانگ لیں بات ختم کردیں۔

دیکھا ہوگا چھوٹے بچے آپس میں کھیلتے ہوئے اگر لڑتے ہیں تو تھوڑی دیر میں معافی تلافی کر کے واپس ساتھ ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ تو معصوم ہوتے ہیں۔ جب بھی بہن بھائیوں کی لڑائی ہوتی ہے تو صلح صفائی کے لیے ماں باپ بہن بھائیوں کو ایک دوسرے سے معافی منگواتے ہیں دل چاہے نہ چاہے معافی مانگ لو۔

جبکہ بات اگر میاں بیوی کے رشتے کی ہو تو وہاں بھی معافیاں تلافیاں رشتے کو بچانے میں کام آجاتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے وہاں بھی معافیاں مانگنا بیوی کی ذمہ داری تصور کیا جاتا ہے کبھی تصفیوں کے لیے خاندانی جھگڑوں کے لیے صلح کے لیے معافیوں کے لیے پنچایتیں جرگے بیٹھ جاتے ہیں۔

Read more

اسرائیلی وزیر اعظم بن گورین کی پاکستان کے خلاف تقریر: حقیقت یا افسانہ

کئی دہائیوں سے یہ سن رہے ہیں اور پڑھ رہے ہیں کہ اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم بن گورین نے اسرائیل اور صیہونی تحریک کو خبردار کیا تھا کہ پاکستان ہمارے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 1967 میں ایک تقریر میں کہا تھا : ”عالمی صیہونی تحریک کو پاکستان کی طرف سے لاحق خطرات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ اور اس کا پہلا نشان پاکستان ہونا چاہیے کیونکہ یہ نظریاتی ریاست ہمارے وجود

Read more

بلوچ ٹرک ڈرائیور کی بچیوں کے چار روپے اور انسانیت کا رشتہ

تین سال قبل گرمیوں میں تعلیمی اداروں کو چھٹیاں تھیں اور عید کے قریب میں عملے کو تنخواہیں دینے لاہور سے اوکاڑہ روانہ ہوا اوکاڑہ پہنچ کر بائی پاس سے اتر کر شہر کی طرف ڈرائیور نے کار موڑ دی جب ہم چوک پر پہنچے تو ایک تیز رفتار ٹرک نے بائیں طرف سے کار کو ٹکر ماری جس طرف سے میں بیٹھا تھا ٹکر اتنی شدید تھی کہ میں بیہوش ہو گیا اس چوک پر امرود اور کنو کے تازہ پھلوں کی دیہاڑی دار لوگوں کی چھابڑیاں اور چھوٹے چھوٹے کھوکھے ہیں چوک پر موجود ان لوگوں نے کار سے نکال کر مجھے بنچ پر لٹایا اور میرا موبائل نکال کر گھر والوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

جب کافی دیر بعد مجھے ہوش آیا تو آنکھیں کھلنے کے بعد جو پہلا خیال آیا وہ حضرت علی کا قول تھا کہ ”موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے“۔ میرے ارد گرد لوگ جمع تھے میں دیکھ سکتا تھا سن سکتا تھا تو مجھے خوشی ہوئی کہ زندگی بچ گئی ہے لیکن جب سر میں اور ٹانگوں میں درد کی شدت بڑی تو ان کا دوسرا قول ذہن میں آنے لگا کہ تم اتنے نادان ہو کہ بازار میں تمہارا کفن آ چکا ہے اور تمہیں خبر نہیں ہے۔

Read more

الزائمر ایک مرض یا پھر روگ

کچھ عرصہ پہلے الزائمر پر ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا ایک مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ اس مرض کے حوالے سے یہ خاصا معلوماتی مضمون تھا۔ اس وقت میرے گھر میں ایسا کوئی مریض موجود نہیں تھا اور میں ان مشکلات سے واقف نہیں تھی جو ان مریضوں کو اور ان کے ساتھ رہنے والوں کو پیش آتی ہیں۔ لیکن اب بہت کچھ بدل چکا ہے۔ اب یہ مرض دن رات مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے۔ کہنے کو تو

Read more

جو بائیڈن کون ہیں: وہ سیاستدان جنھیں قسمت عام سا نہیں رہنے دیتی

امریکی سیاست میں آج کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے ’جس کی زندگی جو بائیڈن سے زیادہ المناک رہی ہو۔ ‘بائیڈن کا طویل سیاسی سفر مسلسل المیوں کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا رہا ہے۔

Read more

بیوی سے سچ بولنے والے فرشتے

انگریز بادشاہ تو ہیں ہی، بادشاہ فلمیں بھی بناتے ہیں۔ اپنی شادی سے کوئی دو تین ماہ پہلے Meet Joe Black دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ فلم ہے یا حیرتوں کا اک خزینہ ہے۔ کہانی کی ابتدا میں ملک الموت، ایک کام یاب تاجر بِل پیرش کو انسانی قالب میں اپنا دیدار کرواتا ہے۔ ایک نوجوان جو سڑک کے حادثے میں ہلاک ہو جاتا ہے، اجل نے اس کا بدن اوڑھ رکھا ہے۔ مسٹر پیرش کو جینے کے واسطے پینسٹھویں یومِ ولادت کی شب تک کی سانسیں ملتی ہیں۔ سال گرہ کے آنے میں چند روز باقی ہیں۔ تب تک بِل پیرش کی ‘قضا’ اس کے ساتھ رہتے، یہ جاننے کی کوشش کرتی ہے کہ آدمی بن کر بسر کرنا کیسا تجربہ ہے۔ مسٹر بِل پیرش کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ مسٹر جو بلیک در اصل فنا کا اوتار ہے۔

Read more

فلم انڈسٹری: وہ دور جب کراچی کے ہر کونے میں ایک سینما تھا

پاکستانی سینما کی بربادی کا باقاعدہ آغاز سنہ 1979 میں ہوا جب جنرل محمد ضیا الحق کے دورمیں پانچ سو سے زائد فلموں کے تمام سنسر سرٹیفکیٹ منسوخ کر کے ان فلموں پر پابندی لگا دی گئی۔

Read more

وکٹم بلیمنگ کیوں غلط ہے؟

وکٹم بلیمنگ یعنی کسی جرم کا نشانہ بننے والے فرد (مرد یا عورت) پر تنقید کرنا، الزام لگانا ہر اعتبار سے غلط، ناجائز اور ظلم در ظلم ہے۔ اس سے بڑی زیادتی اور کیا ہوگی کہ ایک شخص ظلم اور تشدد کا نشانہ بنا ہے، اوپر سے لوگ اس پر تنقید شروع کر دیں۔ کسی واردات کا ہدف کوئی خاتون بنی ہو تو ہر ایک کو نہایت احتیاط اور ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے۔ خواتین طبعاً حساس اور نازک ہوتی ہیں۔ اس لئے جب کوئی خاتون خدانخواستہ کسی واردات کا نشانہ بنے تو میڈیا، پولیس، اہل خانہ، عزیزواقارب، محلے دار غرض سماج کے ہر شعبے کو بہت سلیقے سے ہینڈلنگ کرنی چاہیے۔

اللہ نہ کرے زیادتی (ریپ، گینگ ریپ) جیسی سنگین ترین نوعیت کا واقعہ ہو، عام واردات جیسے پرس چھینے جانے کے معاملات میں بھی عام طور سے لوگ خواتین کو مطعون ٹھیرانا شروع کر دیتے ہیں، دیکھیں جی ان بیبیوں کو ہوش ہی نہیں ہوتا ادھر ادھر کا، موبائل ہاتھ میں لئے سڑک پر چل رہے ہیں، چور اچک کر لے گیا، یا ایسے کہیں گے ”اگر اس بی بی نے پرس مضبوطی سے پکڑ رکھا ہوتا تو نہ چھینا جاتا، یہ تو آپس میں گپیں لگاتے ہوئے بے پروا ہوجاتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔“ یہ غلط رویہ ہے۔ ممکن ہے اس خاتون سے واقعی بے احتیاطی یا غلطی ہوئی ہو، مگر یہ کس سے نہیں ہوتی؟

Read more

گجرات کا قابل فخر فرزند: پرکاش ٹنڈن

مردم خیز خطے کا حامل گجرات ہمیشہ نامور لوگوں کی جنم بھومی رہا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کا ممتاز و معتبر بزنس لیڈر، مینجمنٹ پروفیشنل، بینکار، ثقافتی شعور سے بھرپور سوانح نگاری کرنے والا قلمکار پرکاش ٹنڈن ہندوستان کی ناموری کے باوجود گجرات میں گزرے بچپن اور یادوں کو کبھی فراموش نہیں کر پایا اور جب اس نے اپنی سوانح لکھنے کا آغاز کیا تو اس میں گجرات کی یادوں کا تذکرہ بڑے موثر انداز میں کیا۔ وہ اپنی

Read more

خوف کے آگے جیت!

من حیث القوم ہم سب ایک ان دیکھے خوف کا شکار ہیں۔ ہونی کا خوف، انہونی کا خوب، دیکھے کا خوف، ان دیکھے کا خوف، دشمن کا خوف، دوست کا خوف، سوچ کا خوف، خالی ذہن کا خوف، باس کا خوف، کلیگ کا خوف، تنزلی کا خوف، ترقی کا خوف، منزل کا خوف، راستے کا خوف، روزی کا خوف، بے روزگاری کا خوف، پیچھے والے کا خوف، ٓاگے والے کا خوف، محبت کا خوف، بچھڑ جانے کا خوف، خالی جیب

Read more

میں ہار نہیں مانوں گی

اسلام آباد میں جنوری کی سرد دوپہر ایک ٹریننگ سیشن کے دوران ندا اور یاسر کے درمیان گرما گرم بحث جاری ہے۔ ورکنگ وومن ایمپاورمنٹ کی حامی ندا اپنے حقوق کی جنگ زوروشور سے لڑ رہی ہے جبکہ دوسری طرف یاسر اسے گھر خاندان اور شوھر کی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ گرما گرم بحث کا سلسلہ بڑھتا گیا اور ہر کوئی اپنی استعداد کے مطابق حصہ ڈالتا گیا۔ ایسے میں جب کسی کو

Read more

تھائی لینڈ کے شاہی خاندان کو چیلنج کرنے والی طالبہ

21 سالہ پنوسیا نے تھائی لینڈ میں گذشتہ اگست ایک تقریر میں سرعام شاہی خاندان کو چیلنج کرتے ہوئے ہزاروں طلبہ کے سامنے ایک دس نقاتی ایجنڈا رکھا جس میں بادشاہت کے نظام میں اصلاحات شامل تھیں۔

Read more

تھائی لینڈ کے شاہی خاندان کو چیلنج کرنے والی طالبہ

21 سالہ پنوسیا نے تھائی لینڈ میں گذشتہ اگست ایک تقریر میں سرعام شاہی خاندان کو چیلنج کرتے ہوئے ہزاروں طلبہ کے سامنے ایک دس نقاتی ایجنڈا رکھا جس میں بادشاہت کے نظام میں اصلاحات شامل تھیں۔

Read more

صلاح الدین ایوبی اور دریائے نیل: شمالی افریقہ کی شہ رگ جس میں پانی آنے کا جشن مصر کے پہلے سلطان کی نگرانی میں منایا جاتا تھا

دریائے نیل کے سیلاب کا آغاز جون کے وسط میں ایتھوپیا اور وسطی افریقہ کی جھیلوں کے علاقے میں بارشوں سے ہوتا ہے۔ پانی کے بہاؤ کا باقاعدہ ریکارڈ بہت ضروری تھا اور اس کا حل ‘نائلو میٹر’ کی صورت میں سامنے آیا تھا۔

Read more

اسرائیل کو تسلیم کرنے میں پاکستان کا فائدہ ہے

ایک تھا مشرقی پاکستان، وہ ہمارا تھا۔ پھر اس نے نام بدل لیا اور ہمارا بھی نہ رہا۔ وہ جدا کیوں ہوا؟ یہ کہانی بہت بار دہرائی جا چکی ہے۔ ہم اپنے جانی دشمن بھارت کو الزام دیتے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ جو ہمارے تھے، ہم سے خفا تھے ان کے دل ٹوٹ چکے تھے۔ بھارت سے مدد لے کر انہوں نے خود کو ہم سے الگ کر دیا۔ اپنا نام تک بدل لیا۔ بنگلا دیش۔ اور

Read more

میرا بھائی، میرا دوست

یہ میرا حوصلہ ہے کہ تیرے بغیر بھی میں۔ سانس لیتا ہوں بات کرتا ہوں۔ جاوید بھائی یوں تو مجھ سے عمر میں تقریباً ساڑھے تین سال بڑے تھے لیکن ہم دونوں میں بے تکلفی ایسی تھی کہ اکثر لوگوں کو یقین ہی نہیں آتا کہ ہم سگے بھائی ہیں۔ ہم بھائی سے زیادہ دوست تھے اور ہماری محبت ضرب المثال تھی۔ ایک سکول۔ ایک کلاس اور ایک ہی بنچ پر بیٹھنا اور دوست بھی مشترکہ۔ ساتویں کلاس کے سالانہ

Read more

کچھ اور بات کی جائے

آخر بات کرنے کو جی کرتا ہی کیوں ہے؟ شاید اس لیے کہ ضعف نطق کا شکار نہیں ہیں۔ بات جب دل سے دماغ تک جاتی ہے بلکہ سچ تو یہ کہ جب دماغ سے اتر کر دل پر اثر انداز ہونے لگتی ہے تو جی چاہتا ہے کہ کر دی جائے کیونکہ دل دل ہی تو ہے نہ کہ سنگ و خشت، آلام سے گھبرا نہ جائے کیوں؟ یوں ہم بات کرکے اپنی گھبراہٹ میں دوسروں کو شریک کرنے

Read more

معاشرے میں مرد کا کردار

مرد کوئی الگ مخلوق ہے کیا! عمر بھر ہم باپ بھائی ماموں نانا دادا کتنے رشتوں کے روپ میں مردوں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ لیکن کبھی ہمیں اپنے غیر محفوظ ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔ جب یہی مرد گھر سے باہر نکلتا ہے تو معاشرے کے لئے ایک مشکوک چیز بن جاتا ہے۔ پھر کہیں معصوم بچی کلیوں کی طرح روند دی جاتی ہے تو کہیں لڑکی کی عزت کی دھجیاں اڑتی ہے اور تو اور لڑکے بھی اس

Read more

صاحب پٹھان ہندوستانی

دروازہ کھولا تو سامنے ہلکے سانولے رنگ کی نہایت خوبصورت خاتون کھڑی تھی۔ فرصت میں گھڑے ہوئے نقش، گہری سیاہ آنکھیں، ستواں ناک متناسب مگر بھرے بھرے ہونٹ اور ماتھے پر چمکتی ہوئی بندیا۔ میری نگاہ اس چمکتی ہوئی بندیا پر ٹک گئی سو چند لمحے دیکھتا ہی رہا۔ چھوٹے میاں اندر آنے کا نہیں کہو گے؟ وہ گویا ہوئیں ہم آپ کے پڑوسی ہیں یہ سامنے والا گھر ہمارا ہے۔ میں نے بے خیالی میں اپنا ہاتھ دبایا تو اس میں موجود کھلونا طوطے نے زور سے ٹاں ٹاں کیا اور بندیا والی خاتون ٹھٹھک گئی۔ میں نے جلدی سے انہیں اندر آنے کا راستہ دے دیا۔

ہمیں ٹینچ بھاٹہ کے اس نئے خریدے ہوئے مکان میں منتقل ہوئے شاید تیسرا دن تھا یہ انیس سو تراسی تھا میں تیسری جماعت کا طالب علم تھا۔ اپنے نئے گھر کی چاہت تو ایک طرف مگر منتقلی کے دوران یہاں ایک خالی کمرے میں ملنے والا ربڑ کا کھلونا طوطا میری خوشی کی بڑی وجہ تھا۔ مجھے بہت ہی پیارا لگا۔ دبانے پر ٹاں ٹاں کی آواز نکالتا۔ میں خوشی سے پورے گھرمیں ٹاں ٹاں کرتا پھر رہا تھا اور ایسے میں ہی دروازہ بجنے پر بندیا والی خوبصورت خاتون وارد ہوئیں اور باورچی خانے کے فرش پر دھرے چولہے کے گرد رکھی ہوئی پیڑھیوں پر امی اور بہنوں کے ساتھ گپ شپ کو بیٹھ گئیں اور ہاتھ تاپنے لگیں۔

Read more

ماں کا خواب اور امید کی ڈوری

چراغ حسن حسرت لکھتے ہیں،  ” آغا حشر صاحب کا خیال تھا کہ دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنی تعریف کرنا بہت ضروری ہے۔ ایک مرتبہ کسی اخبار میں میری ایک نظم جو غالباً عید کے متعلق تھی، شائع ہوئی۔ آغا نے اخبار دیکھا تو نظم کی بڑی تعریف کی۔  خصوصاً آخری شعر کئی مرتبہ پڑھا اور پھر بولے ‘‘اماں تم بہت خوب کہتے ہو۔ اس سے اچھا کوئی کیا کہے گا؟’’ ‎میں نے کہا ‘‘آغا صاحب آپ

Read more

‏لاہور موٹروے کا واقعہ اور آسڑیلیا کے حاجی صاحب

‏حاجی صاحب سے اچھی شناسائی ہے اور ہماری دوستی کو عرصہ دراز ہونے کو آیا ہے۔ حاجی صاحب کا اصل نام تو محمد لطیف ہے لیکن سب ان کو حاجی صاحب کہہ کر پکارتے تھے۔ حاجی صاحب باقاعدگی سے صبح پارک میں ورزش کرنے آتے ہیں۔ میری ان سے دوستی کا آغاز بھی صبح کی سیر سے ہی ہوا تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ پچھلے دو تین دن سے حاجی صاحب صبح کی سیر پر نہیں آئے تو تھوڑی سی

Read more

نوشابہ کی ڈائری: کھجی گراؤنڈ فتح ہو گیا․․․ ایم کیو ایم جنگ ہار رہی ہے

27 دسمبر 1995 میں ذیشان کو نہیں روک سکی، نہ جانے سے نہ اس راستے پر سفر سے جو اچانک کسی اندھیروں سے بھری کھائی پر ختم ہوجاتا ہے۔ میں نے ذیشان کو بہت سمجھایا، سارنگ کے بچپن، ابو جان کے بڑھاپے اور اپنی محبت کے واسطے دیے، سمجھانے کی مہلت ملتی بھی کتنی تھی، ان کے پاس اسلحہ دیکھنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ آگ نے ہماری دہلیز پار کر لی ہے۔ طویل وقفوں کے بعد جب گھر

Read more

یوں اندھیری رات میں اے چاند تو چمکا نہ کر

شام کھانے کے بعد ہسپتال کے چکروں کی نقاہت کے باوجود جی پھر چاہا کہ کچھ پیدل چل لیا جائے۔ نکلتے نکلتے اندھیرا ہوچکا تھا۔ ایک ہاتھ میں چھڑی اور دوسرا ہاتھ بیٹی نے تھاما دھیرے دھیرے چلتے اپنے گھر کی عقبی سڑک پہ آئے تو اس ہمیشہ سے فسوں بھری سڑک پر۔ کہ شہر کے بیچ ہوتے بھی اسے بطور یادگار اسی طرح رکھا گیا ہے جس طرح کبھی اسد سلیم شیخ کی ”ٹھنڈی سڑک“ ہوا کرتی تھی۔ گیارہویں

Read more

ہاں! میں مقدس ہوں، ڈاکٹر خالد سہیل سے معذرت کے ساتھ

میں پہاڑوں پر پیدا ہوا۔ آسمانی بجلیوں نے مجھے خوراک مہیا کی۔ صحراؤں میں پلا بڑھا۔ جنگلوں، غاروں نے مجھے سنوارا۔ جب زلزلوں سے زمین لرزتی تھی۔ طوفان خاک کے ساتھ انسان، جانور، درخت سب اڑا کر لے جاتے تھے۔ سیلاب اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو ادھیڑ کر رکھ دیتے تھے۔ بے کسی کا جال چہار سو پھیلا ہوا تھا۔ دل و نگاہ پر جہالت کی دھند چھائی ہوئی تھی۔ بے بس انسان، بے اختیاری و تحیر سے صرف دیکھتا رہ جاتا تھا، تب میں نے اسے حوصلہ دیا۔ ان آفات سے ٹکرانے کی ترغیب دی۔ میں انسانوں سے اوجھل تھا۔ اس کی آنکھ ابھی اس نور سے شناسا ہی نہیں تھی۔ انسان نے درختوں کی چھال پر ناخنوں سے جب لکیریں لگائیں تو میرا عکس ابھرنا شروع ہوا۔ اس کے ہاتھوں نے پتھروں سے مجھے تراشا اور میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ میں نے اسے اندھیری کھوہ سے نکالا۔ میں نے اہل کہف کو ضیا بخشی۔ پھر وہ شہروں میں آ بسا۔ میرے دبستان سجے اور میری آموزش گاہوں نے وہ ہیرے پیدا کیے جنہوں نے علم کلام، ابدان، فلسفہ، نجوم کے ساتھ دیگر علوم کی بنیاد رکھی۔

Read more

موریا آتشزدگی: ایک باپ جو یونان میں پناہ گزیں کیمپ کی بجائے اپنے جنگ زدہ ملک میں واپسی کا سوچ رہا ہے

تین بچوں کے والد طالب شاہ حسینی کو یونانی جزیرے لیسبوس میں قائم موریا کیمپ میں رات کی تاریکی میں اس وقت جان بچانے کے لیے بھاگنا پڑا جب ان کے خیمے کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تقریباً ایک برس تک انتہائی برے حالات میں رہنے کے بعد اب یہ افغان فنکار اپنے خاندان کو وطن لے جانے کا سوچ رہے ہیں۔

Read more

مبارک ہو، آپ خوف کی فضا قائم کرنے میں کامیاب ہوئے

لاہور موٹروی پہ ہوئا المناک حادثہ تمام نیوز چئنلز بشمول سوشل میڈیا پہ وائرل ہو چکا ہے، بھیانک خواب جیسے اس حادثے کو وہ عورت اب زندگی میں کبھی بھلا نہیں پائے گی، جو مذہب اسلام کی محبت میں، ریاست مدینہ کا نام سن کر بچوں کہ ہمراہ فرانس سے دوڑی چلی آئی۔ وہاں پہ عریانی دیکھ کر وہ سمجھی کہ میں مدینے جیسی ریاست میں بچوں کہ ساتھ محفوظ رہوں گی، جہاں میری آزادی کبھی داغ دار نہ ہوگی،

Read more

شادی

شادی ایک ایسا عمل ہے جس میں آپ ایک سے دو افراد میں بدل جاتے ہیں۔ جس کمرے میں آپ سوتے ہیں اس میں ایک دوسرا انسان بھی سونے لگتا ہے۔ آپ کی تمام ”ذاتی“ اشیاء ذاتی نہیں رہتیں اور سب کچھ ”ہماری“ میں بدل جاتا ہے۔ شادی کرنی تو سب کو ہوتی ہے کیونکہ جوانی کے ساتھ ہی آپ کی امنگیں مچلنے لگتی ہیں اور پھر ان امنگوں کی تان ”میرے بچے ہوں“ پر ٹوٹتی ہے۔ انسانی جذبات پر

Read more

سوہنی مہینوال: معصوم محبت کی مجبور کہانی

پرانے قصے، علاقائی داستانیں اور مقامی کہانیاں ہمیشہ سے ہی انسانی دلچسپی کا محور رہی ہیں۔ یہ کہانیاں عقل سے زیادہ تخیل کی مرہون منت ہوتی ہیں۔ لوک داستانیں انسانوں کی نامکمل خواہشوں کا عکس ہوتی ہیں اس لیے ہر سماج، قوم اور ملک میں انسانوں کی اجتماعی فکر کی روایت کو لوک ادب نے ہی محفوظ رکھا ہے۔ یہ داستانیں کسی قوم کی تہذیب و ثقافت کے ادب کے بچپن کی پیداوار ہوتی ہیں اور اس کے اعلیٰ ترین

Read more

درخت

تحریر: ہر من ہیس انگریزی ترجمہ: جیمز وائٹ اردو ترجمہ۔ ۔ ۔ خالد سہیل میری نگاہ میں درختوں نے ہمیشہ بلند و بالا بزرگ مبلغوں کا مقام پایا ہے۔ جب میں انہیں جنگلوں اور بیابانوں میں کنبوں اور قبیلوں کی طرح پاتا ہوں تو انہیں بڑے شوق سے دیکھتا رہتا ہوں۔ میری نگاہ میں ان کی عزت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب میں انہیں کسی مقام پر بالکل تنہا کھڑے ہوئے پاتا ہوں۔ وہ مجھے تنہا انسانوں کی یاد

Read more

عورت کی حفاظت نہ کرسکنے والا مرد نہیں؟ (آخری قسط)

سہیل کے وین لے جانے پہ وہ دونوں لڑکے ایک دم گھبرا گئے۔ اس وقت تک جو بھی چھینا تھا وہی لے کر فوراً بھاگ گئے۔ جب یہ سب ہوگیا تو بسمہ کو اندازہ ہوا کہ اس کے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے اور دل کی دھڑکن تیز تھی۔ اس نے بختاور کی طرف دیکھا۔ ”اب کیا کریں؟“ ” تمہاری کیا کیا چیزیں چھینی ہیں؟“ ” بس موبائل اور تھوڑے پیسے“ ”ہمم میرا بھی بس یہی لیا چلو پہلے آفس

Read more

منہ دکھائی بے رونمائی

”اوئی“ اس کی آنکھیں پھیل کر پورے جسم پر محیط ہو گئیں۔ منہ کھلے کا کھلا رہ گیا، بالوں نے چہرے کو ڈھانپ لیا اور آنچل قدموں کو ڈسنے لگا۔ انور نے آج پہلی بار اپنی آنکھوں کی میخیں اس کی ہرنی جیسی آنکھوں میں گاڑ رکھی تھیں اور وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو گئی تھی۔ ۔ ۔ صائمہ کا ہاتھ۔ ۔ ۔ اس کے ہاتھ میں تھا اور ہاتھ بھی کتنا؟ ایک چھنگلی۔ ۔ ۔ اور ایک چھنگلی پر پانچ انگلیوں کی گرفت۔ ۔ ۔

دھم دھما دھم دل کی ڈھولک بج رہی تھی۔ شاید معاملات سیکنڈ کے تھے۔ ۔ ۔ مگر ایسے وقت کا حساب کتاب کون رکھ سکتا ہے۔ دوپٹہ سنبھالنا۔ ۔ ۔ چھنگلی کی دھڑکن کو وجود کے زیروبم سے ہم آہنگ کرنا۔ ۔ ۔ قیامت کی ساعت بن گیا۔

دفعتاً صائمہ۔ ۔ ۔ بدحواسی سے ننگے پاؤں دوڑتی ہوئی اپنے کمرے تک آئی اور دروازہ اندر سے بند کر دیا۔ کسی نامانوس دستک اور اجنبی قدموں کی آہٹ کے انتظار میں۔ ۔ ۔

Read more

کہاں ہر ایک سے بار نشاط اٹھتا ہے…

ہماری اماں بڑی فکر مند تھیں کہ ہمارا کیا بنے گا؟ ہم، جس نے جب سے ہوش سنبھالا تو خود کو ’چھٹے‘ کام کرنے والا ’چھوٹا‘ پایا، منے سے تھے تو کبھی بڑی چچی کی چونی لیے خلیل چچا کی دکان سے پان لانے بھاگے جا رہے ہیں تو کبھی ابا کی چلم لیے باورچی خانے کی طرف دوڑے چلے جا رہے ہیں۔ جب ذرا سے اور بڑے ہوئے، یعنی جب اس قابل ہو گئے کہ کتا ہمیں زنجیر سمیت

Read more

کیا ہم ایک دوسرے کی بد دعاؤں میں ہیں؟

الفاظ اہمیت رکھتے ہیں، ان کے ذریعے خواہشات کی ادائیگی، امید کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ آپ کی سچائی اورجھوٹ کا اظہار کرتے ہیں۔ غصہ، پیار، خلوص، دھمکی، دوستی دشمنی ظاہر کرتے ہیں۔ یہ شر اور خیر پھیلانے کی قوت رکھتے ہیں۔ انسان الفاظ کے ذریعے ہی اپنے عزائم کا اظہار کرتا ہے اور پھر انہیں پورا کرنے کے لیے کوشش کرتا ہے۔ الفاظ کہیں فضاؤں رہ جاتے ہیں اور پلٹ کر ہماری زندگیوں میں داخل ہو کر ہماری خواہش

Read more

اے پی سی کمیٹی نکلنے والی نہیں!

دنیا بھرمیں سیاست اصولوں کی بنیاد پر ہوتی ہے، لیکن ہمارے ہاں سیاست کے ڈھنگ ہی نرالے ہیں، ہماری سیاست قومی کی بجائے ذاتی مفادات اور گروہی تعصبات کے گرد گھومتی ہے۔ اس بات کو جس طرح عالمی سچائی کا درجہ حاصل ہے کہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے، اسی طرح ہماری قومی سچائی ہے کہ سیاست میں سب کچھ جائز ہے، سیاست میں نہ دوستی نہ دشمنی مستقل ہوتی ہے۔ اس میں آج کے دوست کل

Read more

ضمیر اختر نقوی: مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے

اپنے قبیلے کا آخری آدمی لفظ کو مجلس میں اکیلا چھوڑ کر دور بہت دور چلا گیا۔ دعوی ہمیں زیب نہیں دیتا لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں لکھنو کی تہذیب سے آراستہ پیراستہ آخری مجلس بھی تمام ہو گئی۔

منبر تو پہلے ہی علامہ طالب جوہری اپنے ساتھ لے گئے تھے، پیچھے شمع رہ گئی تھی وہ ضمیر اختر نقوی لے گئے۔ اس خرابے میں اب تقریریں تو بہت ہوں گی مگر جس کی خوبصورتی تلخی میں اور بھی بڑھ جاتی ہے، وہ زبان نہیں ہو گی۔

Read more

سنہرا اسلامی دور: ریاضی دان محمد ابن موسیٰ الخوارزمی، جن کے کام کو ’خطرناک‘ اور ’جادو‘ گردانا گیا

بی بی سی ریڈیو تھری کی خصوصی سیریز ’سنہرا اسلامی دور‘ کی اِس قسط میں لکھاری اور براڈ کاسٹر جم الخلیل ہمیں الخوارزمی کی بارے میں بتا رہے ہیں۔ محمد ابن موسیٰ الخوارزمی ایک فارسی ریاضی دان، ماہر فلکیات، نجومی، جغرافیہ نگار اور بغداد کے بیت الحکمت سے منسلک ایک سکالر تھے۔

Read more

ایک گمنام سپاہی کی یاد میں

سال 2001 ء کے وسط میں ’ثلاثین بٹالین‘ کی کمان سنبھالنے کے بعد ’پکٹ ڈویژن‘ کی نسبت سے میں نے یونٹ کو ’پکٹ ویلز‘ کا نام دینے کی کوشش کی۔ کچھ نام، کچھ چہرے اور چند قصے مگر انسانوں کی شریانوں میں خون بن کر دوڑتے رہتے ہیں۔ نہ تو بدلے جا سکتے ہیں، نہ بھلائے جا سکتے ہیں۔

ثلاثین بٹالین کھاریاں چھاؤنی میں تعینات تھی۔ کیپٹن سلطان اکبر خان سال 1969 ء میں یونٹ کا حصہ بنے۔ چھ فٹ قد، چوڑے شانے، کھلتا گورا رنگ۔ خوش مزاج کشمیری النسل نوجوان افسر جلد ہی یونٹ کے افسروں اور جوانوں میں گھل مل گیا۔ کیپٹن آفتاب بٹ اور سلطان اکبر خان کی دوستی کا آغاز بھی یہیں سے ہوا تھا۔ دونوں نے انفنٹری سکول کوئٹہ میں پہلا کورس بھی اکٹھے کیا۔ آفتاب بٹ نے 235 نوجوان افسروں کے کورس میں شوٹنگ ٹرافی جیتی، تو قوی الجثہ سلطان اکبر نے اسالٹ کورس کی سات فٹ اونچی دیوار پھلانگتے ہوئے گرا دی۔

جون 1970 ء میں ثلاثین بٹالین کی ایک کمپنی کے لئے مشرقی پاکستان تعیناتی کا حکم جاری ہوا تو مشرقی پاکستان کی فضاء بے اطمینانی، شکوک و شبہات اور بے یقینی سے لبریز تھی۔ ملک میں عام انتخابات کے بعد حالات مزید بگڑے تو سال 1971 ء کے اوائل میں پورے ڈویژن کو مشرقی پاکستان منتقلی کا حکم مل گیا۔ دونوں نوجوان افسر تیزی سے بدلتے حالات اور ان کے پس پردہ سیاسی حرکیات سے لاتعلق تھے۔ دونوں افسران نے اپنے پیاروں سے عجلت میں رخصت لی، سامان باندھا اور یونٹ کے ہمراہ بذریعہ ٹرین کراچی پہنچے۔ ہزاروں میل کے فاصلے پر ملک کے مشرقی بازو کا صدر مقام ثلاثین بٹالین کی اگلی منزل تھی۔

Read more

بھائی ویرسنگھ نانا کیسے بنے؟

جب تیسری بار میری نظر ان کے ہاتھوں پر پڑی جن میں ایک بھی انگلیاں نہیں تھیں تو وہ مسکرائے اور بولے : ’بیٹے، مجھے پتہ ہے کہ آپ کو تجسس ہو رہی ہے۔ پہلے میں ذرا چائے وائے کا انتظام کروا لوں پھر آپ کو قصہ سناتا ہوں۔‘ یہ کہہ کر وہ ملاقات کے کمرے سے اٹھے اور اندر تشریف لے گئے۔ مجھے تھوڑی شرمندگی ہوئی کہ میں بار بار ان کے ہاتھوں کو کیوں گھور رہا تھا۔ لیکن

Read more

افغانستان کا تبدیلی کی جانب سفر

شاہد خان اس بار طالبان وفد کے ہمراہ اسلام آباد آئے لیکن میں مصروفیات کے باعث وہاں نہ جا سکا تاہم اس دورے کے متعلق چند نکات کا مجھے علم ہو گیا۔ اب انہوں نے دوحہ میں بین الاقوامی مذاکرات کی کچھ اطلاعات دی ہیں۔شاہد خان بہت محبت والے نوجوان ہیں جو باریک جزئیات کو نظر انداز نہیں کرتے ۔اتور کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک تاریخی عمل کا آغاز ہوا ۔چند ماہ قبل جو ناقابل عمل دکھائی

Read more

پورن سے ریپ تک۔۔۔ سب جائز ہو گیا ہے

سکیس ڈول کلچر کو پروموٹ کیا جائے، جب یہ بات پڑ ہی گئی۔ بہت سوں کے تن بدن میں آگ اس لئے لگی کہ انہیں ڈول نہیں، انہیں عورت اور بچے بھی چاہئیں لیکن اس کے باوجود اکثریت نے شاباش کی تھپکی دی کہ جو کہی گئی نہ ہم سے، وہ کہہ دیا ہے تم نے۔ بہت سے فون بھی آئے اور والدین کا درد دل یہ تھا کہ اب ہمیں بیٹی کے ریپ ہونے سے زیادہ خوف بچوں کے

Read more

نانی اماں کی مونجھ اور ترنڈہ محمد پناہ کی یادیں

موضع سدو والی (ترنڈہ محمد پناہ) میں واقع ہماری نانی اماں کا گھر موسم گرما میں خنک چھاؤں اور جاڑے کی رت میں گلابی دھوپ کا سا تھا۔ بالپن میں یہ خیال تھا کہ دنیا کے سارے آسودہ اور شانت گھر شاید نانی اماں کے گھر جیسے ہی ہوتے ہیں۔ گارے مٹی کے بنے دو کچے کمرے، کچا اور کشادہ آنگن، آنگن کے وسط میں نیم کا ایک سر سبز درخت ایستادہ تھا۔ بائیں کونے میں پانی کا نلکا لگا

Read more

بیرونی دفاع کے ساتھ ساتھ اندرونی دفاع کی ضرورت

پاکستان میں ہر سال 6 ستمبر کو بطور یوم دفاع ایک قومی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن ایک عظیم تاریخ کا حامل ہے جب 1965 میں رات کی تاریکی میں بھارت نے لاہورسمت پاکستان پر حملہ کر دیا اور اس کے جواب میں افواج پاکستان نے بھر پور دفاعی کار کردگی دکھائی جس کے بعد بھارت کو منہ کی کھانی پڑی۔ یہ عظیم دن ہمیں 6 ستمبر 1965 کو افواج پاکستان کی دفاعی کار کردگی اور قربانیوں کی یاد

Read more

وسعت اللہ خان! ہمیں معاف کر دو

وسعت، ہمیں معاف کر دو ہم لڑنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں دشمنوں سے کم اور دوستوں سے زیادہ وسعت، ہمیں معاف کر دو ہمارے قلم ہمارے قد کی طرح بہت چھوٹے ہیں اور ہمارے نعرے ہمارے منہ سے بڑے ہیں وسعت، ہمیں معاف کر دو ہم عظیم تہذیب کے وارث ضرور ہیں مگر ہم تمیز سے آشنا نہیں وسعت، ہمیں معاف کر دو ہم غیرت کے بے غیرت تصور کے غلام ہیں اور ہم محبت میں ”کارو کاری”

Read more

نوشابہ کی ڈائری 19: ”یہ بچے ایم کیو ایم میں سیاست کے لیے نہیں لڑنے مرنے آئے ہیں“۔

موت کو پہلی بار اتنے قریب سے دیکھا جب اپنا گھر ”موت کا گھر“ بن گیا۔ وہ خوف ناک رات ہمارے گھر کی خوشیاں کھا گئی اور امی جان کی زندگی نگل گئی۔ ہم سب کے دل زخمی ہیں مگر ذیشان پر تو قیامت گزر گئی ہے۔ انھوں نے میت کے سرہانے کھڑے ہو کر کہا تھا، ”میری ماں مری نہیں قتل ہوئی ہوئے، خدا کی قسم میں انتقام لوں گا۔“ میں ان کا یہ جملہ سن کر سہم گئی تھی۔ امی جان کا صدمہ کیا کم تھا کہ یہ خدشہ مجھے اندر ہی اندر کھانے لگا کہ ذیشان کی جذباتیت اور ماں سے محبت انھیں نہ جانے اب کس طرف لے جائے، اور یہی ہوا۔

کہتے ہیں ہمیشہ اچھا سوچنا چاہیے، برا سوچو تو برا ہوجاتا ہے، ان حالات میں انسان برے کے علاوہ کیا سوچ سکتا ہے۔ اس رات پیروں کی دھمک اور کمرے کا دروازہ دھڑ سے کھلنے کی آواز سے میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی تھی۔ اندھیرے میں ہر طرف سائے تھے، بندوقیں تانے، میرے پہلو میں سوئے ذیشان کو گریبان سے پکڑ کر اٹھایا اور دیوار سے لگادیا گیا۔ سارنگ شور سے اٹھ گیا اور رونے لگا تھا۔ میں نے بدحواسی میں ڈھونڈ کر دوپٹہ اوڑھا۔

Read more

ایک خوف کی داستان اور آہوں بھری بازگشت

وہ ہے ہی کیا غریب ماں باپ کی نادار بیٹی جو طلاق کے خوف سے اپنی ذات کے لئے کھلی فضا میں زور سے سانس لینا بھی نازیبا حرکت سمجھتی ہو گی۔ آپ فرض کریں کے ابھی وہ نرس غیر شادی شدہ ہے اور آپ اس کو کسی اچھے کولیگ سے قریب ہوتا دیکھ رہے ہیں اس غرض سے کہ زندگی کا بقیہ سفر شاید اس کے ساتھ خوشگوار گزرے اور عہد گزشتہ کی تلخیاں اسے خیر باد کہہ دیں۔ وہ روزانہ چند روپے بچا کر جو لپ اسٹک خریدی تھی اسے اپنے کولیگ کے لئے لگاتی ہے اور پھر بھی اس سے اظہار محبت نہیں کرتی کیونکہ یہ اقدام بہر حال اس کی تربیت کے منافی ہے۔

وہ کولیگ موقع سے فائدہ اٹھا کر اس سے وعدہ وفا کرتا ہے، اس کے ساتھ چند لمحے تفریح کرتا ہے۔ اس تفریح کے دوران وہ اسے اپنی ذات کی الجھنیں اور اپنے مسائل بتانا چاہ رہی ہوتی ہے لیکن اس کا کولیگ اپنے درد کا درماں کسی اور انداز میں کر رہا ہوتا ہے۔ پھر ایک دن اسے کھری کھری سناتا ہے کے تمہارا ’کریکٹر ٹھیک نہیں‘ اور وہ بقول پروین شاکر اپنے گھر کے اندھیروں میں لوٹ آتی ہے۔ اب یہ فرض کریں کہ شادی اس کی کسی عمر رسیدہ آدمی سے ہو جاتی ہے اور اس پر اپنی شریک حیات کا پرانا معاشقہ کھل جاتا ہے تو وہ کیا اقدام کرے گا۔

یا تو وہ پل بھر میں طلاق یافتہ ہو جائے گی یا اس غلطی کی پاداش میں تاحیات مزید حیوانی سلوک کی حقدار ٹھہرے گی۔

Read more

جاگیر

شہر کی گھٹن بھری فضاؤں سے میلوں دور وہ اپنے کھیت کی پگڈنڈی پر بیٹھا سوچوں میں گم تھا اسے احساس تک نہ ہوا کب دن کی سفیدی شام کی سیاہی میں بدلنے لگی۔ وہ بدستور بیٹھا گھاس کی ڈنڈیاں توڑنے میں مشغول تھا۔ مغرب کے بعد عشاء کی اذان کی صدائیں فضا میں گونجنے لگی۔ نوکر اسے ڈھونڈتے ہوئے کھیتوں میں آ گیا۔ مراد بابا، مراد بابا، وہ بڑے سائیں آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ کرم چاچا، جا کر

Read more

بھنگ اپنائیے: سرکار کی اجازت ہے

میری عادت ہے کہ مجھے سونے کے لیے مصنوعی سہارا لینا پڑتا ہے۔ میں ان خوش نصیبوں سے نہیں جنھیں نیند سولی پر بھی آجاتی ہے مجھے تو نیند مولٹی فوم کے میٹرس پر بھی نہیں آتی۔ اوپر سے میں ٹھہری خواب دیکھنے کی بے انتہا شوقین لیکن جاگتی آنکھوں نہیں، کہ جاگتی آنکھوں اور بہت کچھ دیکھ لیتی ہوں۔ ویسے بھی جاگتی آنکھوں خواب دیکھنا خواب کی توہین سمجھتی ہوں۔ خواب دیکھنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ خواب

Read more

ریپ کی اصلیت

جب حیا مارچ والے عورتوں پر اپنے اعضائے تناسل لہرا رہے تھے، باوجود اس کے پوری قوم کی حمایت بھی انہی کو حاصل تھی تب سے ہی لاہور موٹر وے اور اس جیسے لاکھوں ریپ کے آنے والے دیگر سانحات کے بیج بو دیے گئے تھے۔ جب کراچی کی پانچ سالہ مروہ کے حالیہ ریپ، تشدد اور قتل کے بعد یہ سوال اٹھایا گیا کہ اعلیٰ صبح بچی کو باہر بھیجا ہی کیوں، تب اس قوم نے لاہور موٹر وے

Read more

داستاں چھوڑ آئے

تخلیقی ذہن کے حامل افراد، خواہ وہ شاعر ہوں، یا ادیب، فنکار ہوں یا مصور، دانشور ہوں یا سائنسدان، کسی بھی ملک کا قیمتی سرمایہ ہو تے ہیں۔ یہ افراد کسی بھی قوم میں ذہنی نشوونما اورمثبت رویوں کی نمود کا باعث بنتے ہیں۔ ان کی قدر کی جانی چاہیے۔ مجھے یہ خیال رحیم گل کی، ان کے اپنے قلم سے لکھی سوانح حیات: ”داستاں چھوڑ آئے“ پڑھ کر آیا ہے، کہ ان کا تعلق بھی اسی تخلیقی گروہ سے

Read more

اے عورت۔ تم ریپستان میں رہتی ہو!

حالیہ لاہور ریپ کیس کسی سے ڈھکا چھپا نہیں شاید بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی اس کیس کے بارے میں بہت کچھ جان چکے ہوں گے ، کیونکہ پچھلے چند دنوں سے سوشل میڈیا پر اسی دل چیر دینے والے گھناونے فعل پر تبصرے جاری ہیں۔ صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں رات گئے بچوں کے سامنے خاتون کے ساتھ گینگ ریپ ہوا اور تاحال وحشی درندے ابھی تک آزاد دھندھنا رہے۔ پاکستان میں خواتین کو مرد کے شانہ

Read more

ناصر شیرازی بطور میجر عزیز بھٹی: فوجی ہیرو کے کردار کے لیے کئی برس کا انتظار اور حقیقی تربیت

بعد از وفات شانِ حیدر کا اعزاز حاصل کرنے والے میجر عزیز بھٹی کی زندگی پر بننے والا ڈرامہ نشانِ حیدر مصنوعی سیٹ کے بجائے جہاں واقعات رونما ہوئے ان حقیقی جگہوں پہ فلمایا گیا اور اس ڈرامے میں مرکزی کردار نبھانے والے ناصر شیرازی نے فوجی کی حیثیت سے سخت تربیت بھی حاصل کی۔

Read more

شکر ہے کہ میں عورت نہیں ہوں

مردوں کے سماج میں ایک مرد پیدا ہونے پر میں خود کو بہت خوش قسمت محسوس کرتا ہوں اور شکر بھی ادا کرتا ہوں کہ خدا نے مجھے یہاں عورت پیدا نہیں کیا۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو مجھے میرے پیدا ہونے سے لے کر اور مرتے دم تک وہ سب جھیلنا پڑنا تھا جو ایک عورت کو یہاں اپنی پوری زندگی جھیلنا پڑتا ہے۔ میری سزا کے لیے میرا عورت ہونے کا جرم ہی کافی ہوتا۔ سب سے پہلے میرے پیدا ہونے پر ہی کوئی خاص خوشی نہ منائی جاتی اور رب کی رضا سمجھ کر مجھے برداشت کیا جاتا۔

پھر میرے بچپن میں ہی میرے گھر والوں کی طرف سے میرے ساتھ لڑکوں کے مقابلے میں امتیازی سلوک کیا جاتا اور میرے کچے سے ذہن کو اس سب کی وجہ بھی نہ سمجھ آتی۔ مجھے بہت ہی چھوٹی عمر میں اپنے جاننے والے اور انجان مردوں کی طرف سے جنسی ہراسانی بھی برداشت کرنا پڑتی۔ ہو سکتا ہے مجھے کچھ درندوں کی طرف سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا اور مار کر بھی پھینک دیا جاتا۔ جیسے قصور کی ننھی زینب کے ساتھ ہوا یا حال ہی میں کراچی کی ماورا کے ساتھ ہوا، یا ایسی اور کتنی بے شمار ننھی کلیوں کے ساتھ ہوا۔

Read more

دنیا سے غلامی کا خاتمہ اور یوم دفاع 6 ستمبر

دنیا کی تاریخ پر جب بھی نظر دوڑائیں یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ اگر ایک طاقتور قوم کو موقع ملا تو اس نے اپنے قریب کی کمزور قوم کو اپنا غلام بنا لیا۔ پھر اللہ تعالی نے ایک رسول کو دنیا کے تمام انسانوں کے لیے رحمت بن کر بھیجا۔ رسول کریم ﷺ نے دنیا کو وہ چارٹر دیا جس نے انسانی غلامی کو ہمیشہ کے لئے ممنوع قرار دے دیا۔ اس کے ساتھ ہی دنیا سے غلامی کا مستقل خاتمہ ہونا شروع ہوا۔ یہاں تک کہ آج اقوام متحدہ اور یورپی یونین وغیرہ کی شکل میں دنیا کی اقوام نے انسانی وقار کو تسلیم کرتے ہوئے امیر اور غریب اقوام کو بڑی حد تک برابری کی سطح پر لا کھڑا کیا۔ مگر دنیا کے بعض خطوں میں ابھی بھی غلامی کا عفریت اپنا بھیانک چہرہ نکالے کھڑا ہے اور بعض صورتوں میں تو اپنی بھیانک تاریخ کی خوب گواہی دے رہا ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں یہ دونوں مثالیں موجود ہیں۔ ایک طرف تو کشمیری مسلمان قوم پر بھارت ناجائز قبضہ جمائے بیٹھا ہے۔ اور دوسری طرف ہندو مذہب یعنی سناتن دھرم میں ذات پات کے نظام کو مذہب کا حصہ بنا دینے سے برہمنوں نے مستقل طور پر شودروں پر حکومت قائم کی ہوئی ہے۔

Read more

ممتاز مفتی، علی پور کا ایلی اور شہزاد

ممتاز مفتی کا نام ادبی حلقوں میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ میں ان سے ان کی کتاب ”لبیک“ کے ذریعے متعارف ہوا جو ان کے سفر حج کی روداد ہے۔ وہ سکول اور کالج کا زمانہ تھا جب اس کتاب کے کچھ حصے ماہ نامہ ”سیارہ ڈائجسٹ“ میں شائع ہوئے۔ موضوع، ان کے اسلوب بیان اور انداز فکر نے مجھے ہی نہیں، بہت سے لوگوں کو متاثر کیا۔ جب کتاب چھپی تو تفصیل سے پڑھنے کا موقع ملا۔ بطور

Read more

ایک خط انٹرنیٹ کے نام

انٹرنیٹ میاں سلام۔ آنکھ مچولی کا کھیل کوئی تم سے سیکھے۔ چھپنا، غائب ہونا، روٹھنا، اچانک چلنا اور اچانک ہی بند ہونا تمہارے مشغلے ٹھہرے۔ تم نے یہ یہ کیا کھلبلی مچا رکھی ہے۔ دن چڑھے چلتے ہو دوپہرہ تک آتے آتے بند ہو جاتے ہو۔ بند ہونے سے پہلے یہ تک نہیں بتاکر نہیں جاتے کہ کہاں جا رہے ہو اور واپس کب آؤ گے۔ سیاست دان تو خواہ مخواہ بدنام ہیں ان پہ بھروسا کسی حد تک کیا

Read more

کرکٹ بیجنگ میں

شائقین کی تعداد کے اعتبارسے فٹ بال کے بعد کرکٹ دنیا کا دوسرا مقبول ترین کھیل ہے۔ پاکستان، ہندوستان اور برطانیہ سمیت اس کی دیگر سابقہ نو آبادیوں میں تو لوگ کرکٹ کے دیوانے ہیں ہی لیکن انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ICCکے 104 رکن ممالک کے ساتھ ساتھ چین میں بھی کسی نہ کسی شکل میں کرکٹ موجود رہا ہے۔ تاریخی طور پر چینیوں کو کرکٹ سے اتنی دلچسپی نہیں رہی لیکن اب ICCکی نظریں چین پر ہیں اور وہ یہاں کرکٹ کو فروغ دینے کی کوشش میں ہے۔ ویسے بیجنگ میں 1980۔ ۔ 1990 کے عشروں میں کرکٹ کھیلا جاتا تھا۔ اس وقت بیجنگ میں موجود غیر ملکی سفارت خانے کرکٹ میچز کراتے تھے۔ ہر سال کرکٹ ٹورنامنٹس کا انعقاد ہوتا تھا لیکن 1996 کے بعدموزوں گراؤنڈز نہ ہونے اور لوگوں کی دلچسپی برقرار نہ رکھ پانے کے باعث یہ سلسلہ ختم ہو گیا۔

Read more

خواجہ فرد فقیر اور نخل سخن کا سوز دروں

سخنوروں کی بستی گجرات شعروادب کا اہم مرکز رہی ہے۔ یہ مشہور زمانہ ”نخل سخن“ کی ہی کرامت ہے کہ یہاں شعروشاعری کی بہار ہمیشہ قائم رہی ہے۔ اس کا چشمہ فیض گجرات میں محلہ شاہ حسین میں صوفی بزرگ شاہ حسین ملتانی کے مزار سے مغرب میں ملحقہ خواجہ فرد فقیر کی قبر ہے جو مسجد کے صحن میں ایک کونے میں واقع ہے۔ قبر کے ساتھ ایک درخت ہوا کرتا تھا جو آج نظر نہیں آیا اسے ”نخل

Read more

ہیلو ریپسٹ! سنو اے گھٹیا انسان!

خط لکھنے کے آداب میں ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ خط شروع کرنے سے پہلے میری پیارے /پیاری یا کوئی بھی محبت کا اظہار کرتا لفظ لکھنا چاہیے۔ تا کہ خط پڑھنے والے کو ایک خوشی کا احساس ملے۔ مگر ایک ریپسٹ کو پیارے ریپسٹ لکھنا بہت عجیب سی بات ہو گی۔ ویسے بھی میرا ضمیر یہ گوارا نہیں کرتا کہ میں تمہارے لیے کوئی ایسا لفظ کہوں۔ جسے سن کے تم خوشی محسوس کرو۔ میں تمہارے لیے وہ لکھنا چاہوں گی۔ جسے پڑھ کے کم سے کم تم شرمندگی تو محسوس کرو۔ یہ بھی نہیں تو تمہیں یہ اندازہ تو ہو کہ لوگ تمہاری حرکتوں کی وجہ سے تم سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ نفرت کا احساس تمہیں محسوس ہونا چاہیے۔

ریپ سے متعلق میری پہلی واقفیت ہندوستانی و پاکستانی فلمز سے شروع ہوئی۔ ریپ کے سینز میں ہیروئن کی ساڑھی کھلتے ہی ہمیں کمرے سے نکال دیا جاتا۔ یا پھر فلم فارورڈ کر دی جاتی۔ پاکستانی فلموں میں ولن ہیروئن کی بہن کو اٹھا لے جاتا۔ اور ہوا میں ایک دوپٹہ سا لہرا کے دکھایا جاتا۔ اور پھر پھٹے کپڑے اور زخمی چہرے کے ساتھ ایک لڑکی سکرین پہ نظر آتی۔ تب سے دماغ میں یہ بیٹھ گیا۔ کہ لڑکی کو ہمیشہ مرد سے بچ کے رہنا چاہیے۔ عمر بڑھی تو بہت سی چیزوں کے شعور کے ساتھ ساتھ یہ بھی پتہ چلا کہ ریپ کیا ہوتا ہے۔ اور ریپسٹ کون ہوتا ہے۔

Read more

خودکشی سے بچاؤ کا عالمی دن: ’میں نے خودکشی کی کوششوں کو مزاحیہ کتاب میں بدل دیا تاکہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ ایک اور راستہ بھی ہے‘

بچپن میں بدسلوکی اور مالی مشکلات کے نتیجے میں ایریکو کوبایاشی نے ایک سے زیادہ بار اپنی جان لینے کی کوشش کی۔ وہ بچ گئیں اور اب انھیں لگتا ہے کہ ان کا بچ جانا بے فائدہ نہیں تھا۔

Read more

فہمیدہ ریاض: ڈرو مت، پورا سچ بدصورت نہیں ہوتا

خبر پڑھی کہ معروف شاعرہ فہمیدہ ریاض کی بیٹی نے ملک میں صحافیوں اور ادیبوں کے اغوا اور تشدد کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنی مرحومہ والدہ کے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ صدارتی ایوارڈ لینے سے انکار کردیا۔ بہادر ماں کی بہادر بیٹی۔ خود فہمیدہ کے اپنے الفاظ ہیں۔ "فنکار کو اپنے فن کے ساتھ مکمل طور پر مخلص اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ میرے لیے فن مقدس ہے” فہمیدہ ریاض سے

Read more