چھ بیٹیوں اور رئیس شوہر کے ہمراہ وہ ملتان میں اپنی حویلی میں ٹھاٹ باٹھ سے رہا کرتی تھیں۔ اپنی بیٹیوں کے ساتھ اپنی زندگی میں مگن، اپنے ہی دیس میں بھلا کس بات کی فکر؟ لیکن اس وقت سب نے آنکھیں پھیر لیں جب انسانیت کے بیچ میں مذہب آ گیا۔ باہر حملہ آور دیوان صاحب کی دولت اور چھ بیٹیوں کے سرور میں حویلی کے گرد گھیرا تنگ کر رہے تھے اور اندر دیوان صاحب کچھ اور ہی سوچے بیٹھے تھے۔
کانتا، رادھا، آشا، شوبھا، رینوکا اور رینا کا گلا کاٹنا ہی پرکھوں کی عزت بچانے کا آخری حل تھا۔ چھ بیٹیوں کو ذبح کرنا آسان نہیں تھا لیکن باہر وحشی ہجوم کے ہتھے چڑھنے سے بہتر تھا۔ جب تک حویلی کا دروازہ ٹوٹا، دیوان صاحب اپنا کام پورا کر چکے تھے۔ بے تاب ہجوم نے خون میں نہائے دیوان پہ مشتعل ہو کے تیل چھڑکا اور آگ لگا دی۔
Read more