ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی تصنیف: ”مجھے فیمینسٹ نہ کہو“

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کے نام دعا عظیمی کا کھلا خط مورخہ گیارہ مئی دو ہزار بائیس از لاہور پیاری طاہرہ جی نازاں و خنداں و فرحاں رہیں ہمیشہ سلام اور دعا! آپ کیسی ہیں؟ امید ہے آپ خیریت سے ہوں گی۔ یاد آیا کہ آج اہم تاریخ ہے۔ ایک بڑے اور عظیم ادیب سعادت حسن منٹو کا یوم پیدائش ہے۔ مجھے آپ کو لکھتے ہوئے منٹو کیوں یاد آ گئے۔ بتائیے کہ آپ نے کراچی میں مئی کا جلتا ہوا

Read more

منٹو سالگرہ مبارک، موت مبارک

منٹو کی 43 سال کی عمر میں خون تھوکتا، پاگل خانوں میں آتا جاتا مر گیا۔ آج کہنا تو ہیپی برڈے بنتا ہے لیکن تو خود ہی کہتا تھا اس ذلت کی زندگی سے موت اچھی ہے تو مبارک ہے کہ تو صحیح وقت پر نکل گیا۔ پڑھیے محمد حنیف کا کالم

Read more

نواز الدین صدیقی کا انٹرویو: لیلیٰ کے رنگین کردار کی نزاکت اور فلموں کی نمائش کے لیے سینما سکرینز پر گفتگو

بی بی سی کو دیے انٹرویو میں انڈین اداکار نواز الدین صدیقی بتاتے ہیں کہ بڑے سٹارز کی فلم میں زیادہ منافع سٹار کو ہی ہوتا ہے نہ کہ سٹوڈیو کو مگر ’کم بجٹ میں بنی فلم کبھی فلاپ نہیں ہوتی۔‘

Read more

کیا عورتوں کی لاشوں کو چتا میں جلانا پڑے گا؟

گجرات شہر کے ایک گاؤں کے قبرستان کا منظر تھا۔ لاش قبر میں نہیں تھی۔ قبر کی ایک سلیب ہٹا کر لاش کو نکال لیا گیا تھا۔ کچھ فاصلے پر لاش بغیر کفن کے پڑی تھی، بغیر قبر کے۔ وہ لاش ایک ذہنی و جسمانی معذور لڑکی کی تھی۔ نہیں۔ وہ لاش انسانیت کی تھی۔ وہ لاش سابقہ وزیراعظم جناب عمران خان صاحب کی اس سوچ کی تھی جس کے مطابق عورت کا لباس مرد پراثر انداز ہوتا ہے کیوں

Read more

دیوان سنگھ مفتون

اکبر الٰہ آبادی کا ایک مصرعہ ہے۔ جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو گزشتہ صدی میں بیس تا پچاس کی دہائیوں کے درمیان تقریبا ً  33 سال تک اس کلیۓ پر عمل پیرا ہوتے ہوۓ ایک شخص نے کچھ ایسی ہلچل مچاۓ رکھی کہ ان  کی مثل کوئی اور مہتاب آسمانِ صحافت پر ایسی دھج سے ایک بڑے عرصہ تک پھر نہ چمکا۔ دیوان سنگھ مفتون کا آبائی تعلق( ضلع )حافظ آباد سے تھا۔آپ بس پرائمری تک ہی تعلیم حاصل

Read more

ہیرا منڈی: بدکردار کون؟

رمضان المبارک کی بائیسویں شب کی بات ہے۔ میں نماز عشاء پڑھ کر جب گھر آیا، تو حسب معمول کچھ وقت تک موبائل میں مصروف رہا۔ ایک وقت تو موبائل میں مختلف قسم کی کانٹینٹ انجوائے کرتا رہا اور مستفید ہوتا رہا۔ لیکن موبائل میں چارجنگ کی کمی کی وجہ سے مجھے موبائل چارجنگ پر لگانا پڑا۔ موبائل چارجنگ پر لگاتے ہوئے میں بالکل فارغ ہو گیا، کوئی بھی کام جب نظروں سے نہ گزرا تو فراغت دور کرنے کے

Read more

سیج کنارے

ثوبیہ ایک نوجوان ڈاکٹر ہے یا یوں کہئیے کہ ثوبیہ ایک ڈاکٹر تھی۔ خوش مزاج، خوش لباس، شکل سے خوش، ثوبیہ نے اپنے گھر کے قریب ہی کلینک کھولنا تھا۔ اپنے تئیں اس نے جگہ بھی دیکھ رکھی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اپنے بل بوتے پر کیے جانے والے کام کا لطف ہی اور ہوتا ہے۔ کلینک کے ماتھے ہر اپنا چمکتا ہوا نام لکھوانے کی تمنا کیے ثوبیہ جو کہ ڈاکٹر تھی کی یہ آرزو صرف اس لئے

Read more

پہلے اندر سے تو آزاد ہو جائیں

دو ہزار انیس میں جب دلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے احاطے میں سیکڑوں طلبا کئی دن تک ” ہم لے کے رہیں گے آزادی ” کا نعرہ لگا رہے تھے تو مودی سرکار نے یہ سوال اٹھایا کہ آخر کس سے آزادی مانگ رہے ہو ؟ انگریز تو سینتالیس میں چلے گئے۔اس پر طلبا یونین کے صدر کنہیا کمار نے کہا کہ ہم ریاست سے نہیں ریاست میں آزادی مانگ رہے ہیں۔ عمران خان نے بھی لاہور کے

Read more

نوجوانوں کے مسائل اور عورت مارچ

جب سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب 63 فی صد ہے، سب نے نوجوانوں کے مسائل کے بارے میں بات کرنا شروع کر دی ہے۔ اس لئے ہم نے سوچا کہ پاکستانی معاشرے میں عورت کے مقام کے بارے میں بات کرتے ہوئے کیوں نہ ہر دور کی نوجوان نسل کی خواتین کے حوالے سے بات کی جائے۔ ہر نسل کو اپنے سے پہلے والی نسل سے کیا ملا اور اس نے اگلی نسل

Read more

امریکی مداخلت یا سامراجی غلامی

گزشتہ تین ہفتوں سے پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر ایک ہیجان کی کیفیت طاری ہے، اور ملکی سیاسی معاملات میں امریکی مداخلت کے چرچے ہو رہے ہیں۔ ہفتہ 9 مارچ کی شب تحریک عدم اعتماد کے ذریعے معزول ہونے والے وزیراعظم عمران خان نے اپنے خلاف متحدہ اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد اچانک انکشاف کیا کہ ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ایک خطرناک بیرونی سازش کا حصہ ہے۔ اگلے ہی روز اتوار

Read more

ناول ”کرول گھاٹی“ میری نظر میں

غافر شہزاد نے ”کرول گھاٹی“ میں ایسا انداز متعارف کروایا ہے جو ناول کے عمومی انداز سے قطعی طور پر مختلف ہے۔ اس انداز سے اردو ناول کا قاری ابھی تک واقف نہیں ہے۔ اس لیے غافر شہزاد نے بلاواسطہ اور بالواسطہ دونوں طرح سے ناول کے مختلف تناظر کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ قاری کی دلچسپی اور جڑت برقرار رہے اور وہ اس میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ وہ ناول یا فن پارہ جو

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب ”دا سیکر“ کا ایک جائزہ

دا سیکر ڈاکٹر خالد سہیل کی زندگی کی کہانی ہے۔ آپ بیتی ہے۔ یہ ایک سفر نامہ ہے سچ کی تلاش کا ۔ جب انہوں نے کہا کہ آپ اس کا ریویو لکھیں تو میں سوچ میں پڑ گئی۔ مجھے لکھنا نہیں آتا۔ کتاب کے بارے میں لکھنا تو اور بھی مشکل ہے مگر کچھ تو لکھنا تھا۔ میں نے سوچا میں وہ لکھتی ہوں جو کتاب پڑھ کر مجھے سمجھ میں آیا یا جو میں نے محسوس کیا۔ سیکر

Read more

مدیحہ گوہر، بمبئی اور ششی کپور

میری خوش قسمتی کہ یونیورسٹی کے فوراً بعد میں اجوکا تھیٹر سے وابستہ ہو گیا، جہاں شاہد محمود ندیم اور مدیحہ گوہر جیسے لوگوں کی صحبت ایک خاندان کی طرح نصیب ہوئی، وہاں شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو جب کچھ نیا کرنے یا سیکھنے کو نہ ملا ہو، کبھی ریہرسلز ہو رہی ہیں تو کبھی غلام عباس، انتظار حسین یا منٹو کی کہانیوں اور مضامین کی ریڈنگز، کبھی دوسرے شہروں میں تھیٹر پرفارمنس کے لئے سفر تو کبھی بین الاقوامی تھیٹر فیسٹیولز میں نمائندگی کے لئے بیرون ممالک کے دورے، غرض کہ ہر لمحہ قیمتی اور تعلیم و تعلم سے بھرپور رہا۔

Read more

جنسی شناخت کا مسئلہ: مریم کی ماما اور چند بچے

السلام علیکم! ”میں مریم کی ماما ہوں“ ۔ میں نے چونک کر سر اوپر اٹھایا اور سامنے کھڑے شخص کو دیکھا جو ڈریس پینٹ شرٹ میں ملبوس ہاتھ بڑھائے کھڑا تھا۔ چہرے پر داڑھی مونچھوں کے ساتھ آواز میں بھی بھاری پن نمایاں تھا۔ میں نے اس کے ہاتھ کی طرف دیکھا جو یقیناً مصافحے کی نیت سے بڑھایا گیا تھا۔ اس کے حلیے اور جملے کے تضاد نے مجھے زمین اور آسمان کے درمیان کہیں معلق کر دیا تھا۔

Read more

نمرود کی خدائی

”نمرود کی خدائی“ ایک سو اٹھائیس صفحات پر مبنی سعادت حسن منٹو کے ان بارہ افسانوں کا مجموعہ ہے جو آزادی سے قبل اور جنگ عظیم دوم کے بعد ہندوستان میں برپا ہونے والے فسادات کے تناظر میں لکھے گئے ہیں۔ آج تک جتنے بھی افسانوی مجموعے نظر سے گزرے ان کا عنوان مجموعہ میں شامل نمائندہ افسانہ کا موضوع تھا مگر افسانوی مجموعہ ”نمرود کی خدائی“ میں اس عنوان کے تحت کوئی کہانی یا افسانہ موجود نہیں۔ پہلا افسانہ

Read more

گھبرائے ہوئے سے رہتے ہیں

نہ الیکٹ ایبلز ہی کسی کے سگے ہوتے ہیں اور نہ ہی اتحادی، یہ سیاست کا وہ موٹا سا سبق ہے جو نظریاتی سیاست کرنے والے پہلے دن ہی سمجھ جاتے ہیں۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

گیم آف تھرونز کھیلنے والے اور گنگو بائی کاٹھیاواڑی

سعادت حسن منٹو نے اپنے دور کے اور خصوصاً بٹوارے کے وقت جو حالات دیکھے اس پر لکھا تھا ”کبھی کبھی میں سوچتا ہوں اپنی آنکھیں بند کر بھی لوں، مگر اپنے ضمیر کا کیا کروں“ ۔ میں یہ سوچ رہا ہوں کہ منٹو اگر آج اس معاشرے میں رہتا اور موجودہ دور کے تخت کے کھیل کے لئے حکمرانوں اور سیاستدانوں کی دلچسپی، محنت اور لگن دیکھتا تو کیا ہوتا؟ وہ کیا لکھتا؟ اس کے افسانوں کے عنوان کیا

Read more

ایک طویل عشق کا المناک انجام

ہمارے عشق کا دورانیہ کم و بیش پینتیس سال ہے اس لیے اس کی حکایت بھی کچھ طویل ہو گی۔ ہمیں بچپن ہی سے کرکٹ کا جنون تھا۔ چھٹی کا سارا دن کرکٹ کھیلتے گزرتا۔ بچپن میں کہیں سے سن لیا کہ قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان کا تعلق ہمارے ضلع میانوالی سے ہے۔ ایک طرف کھیل سے محبت تو دوسری طرف کپتان سے عشق ہمارا اوڑھنا بچھونا بن گیا۔ ہم پاکستان کے دورہ آسٹریلیا انیس سو چھیاسی ستاسی کے

Read more

خدا، انسان اور محبت

محترم ڈاکٹر خالد سہیل کا کالم ”کیا آپ خدا کو خدا حافظ کہہ چکے ہیں“ پڑھ کر ایک خوشگوار احساس کا در مجھ پر وا ہوا۔ میں ایک ایسے رشتے کے زیر سایہ پروان چڑھی ہوں جہاں پر دو انسانوں نے شادی کے رشتے میں بندھ کر ایک دوسرے کی شخصیت کو ختم کرنے کی بجائے اپنی الک الگ شناخت برقرار رکھتے ہوئے اس رشتے کو نہ صرف اس کی پوری خوبصورتی کے ساتھ نبھایا بلکہ ان خوبصورت انسانی اقدار

Read more

استاد منگو اور سرپرائز ڈے

بی اے میں میں نے سعادت حسن منٹو کی ایک شارٹ سٹوری پڑی تھی آج کل عمران خان کا سرپرائز ڈے جس انداز سے تذکرہ ہو رہا ہے وہ سٹوری اچانک میرے ذہن میں رپیٹ ہونا شروع ہو گئی۔ استاد منگو لاہور میں تانگہ چلاتا تھا۔ اس کے تانگے میں روزانہ لاہور گورنمنٹ کالج کے سٹوڈنٹ اور وکیل حضرات اکثر سفر کرتے تھے جن کی باتیں وہ بڑے غور سے سنتا تھا۔ ایک دن اس کے تانگے میں دو وکیل

Read more

چھبیس مزدور، ایک لڑکی اور فتح مند سپاہی

آج مارچ کی 25 تاریخ ہے۔ یونہی یاد دلانا تھا کہ 51 برس پہلے آج ہی کے دن ڈھاکہ میں آپریشن سرچ لائٹ شروع ہوا تھا۔ فارم گیٹ کے ناکے پر چلنے والی پہلی گولی سے وہ آگ بھڑکی جس نے قائد اعظم کا پاکستان دو لخت کر دیا۔ سلہٹ کی پہاڑیوں پر گرتی بوندوں سے خنجراب کی برف پوش چوٹیوں کو چھوتا ہوا پاکستان سمٹ کے ایک عمودی پٹی کی صورت اختیار کر گیا۔ 26 مارچ کی شام بھٹو

Read more

ممتاز قانون دان عابد حسن منٹو کا منحرف ارکان کی نااہلی کے معاملے پر چیف جسٹس کو اہم خط

ممتاز قانون دان عابد حسن منٹو نے پانچ صفحات پر مبنی ایک اہم خط چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس عمر عطا بندیال کو لکھا ہے۔ اس خط میں اس صدارتی ریفرنس پر بات کی گئی ہے جو صدر پاکستان نے آرٹیکل 186 اور ایک پیٹیشن جو 184 / 3 کے تحت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے دائر کی ہے، پر بات کی ہے۔ منٹو صاحب نے لکھا ہے کہ آئین کے دونوں آرٹیکل، پیٹیشن کو عوامی اہمیت کا

Read more

بلاول کی ’بے نظیری خصوصیات‘ اور شیخ رشید کی معنی خیز مسکراہٹ

تارڑ صاحب سے پوچھا کہ آپ کے ناولوں میں طاقتور ترین کردار عورت ہی کے کیوں ہوتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ کیونکہ میرے اندر ساٹھ فیصد عورت ہے۔ فکر پر عورت کی پرچھائیں تو گوارا ہو جاتی ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مرد کی ظاہری حرکات و سکنات میں عورت کی جھلک نظر آ جائے تو وہ معاشرے کے لیے مضحکہ خیز کیوں ہو جاتا ہے؟ کیا یہ عورت صنف کے حوالے سے ہمارے

Read more

دنیا کا نقشہ بدلنے والی تاریخی قرارداد

لاہور میں واقع اقبال پارک کو قیام پاکستان سے قبل منٹو پارک کہا جاتا تھا جو کہ سلطنت برطانیہ کا حصہ تھا۔ منٹو پارک میں 23 مارچ 1940 میں آل انڈیا مسلم لیگ کا ایک ایسا تاریخی اجلاس ہوا جس نے دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا، لاکھوں مسلمانوں کے اس تاریخی اجلاس میں ایک قرار داد منظور کی گئی جسے قرار داد پاکستان کہا جاتا ہے، اس قرار داد نے انگریزوں اور ہندووں پر واضح کر دیا تھا

Read more

ملتان آرٹس فورم (کچھ پرانی اور نئی یادیں)۔

یہ کوئی سن 2005 ء کی بات ہوگی کہ جب پہلی مرتبہ میں نے اور میرے دوست یاسر نے ادیب بننے کے بارے میں سوچا تھا۔ ہم دونوں لمبی لمبی چھوڑا کرتے تھے اور خواب دیکھا کرتے تھے۔ منٹو، ندیم، انتظار حسین، بانو قدسیہ، پطرس اور یوسفی پر ہماری طویل مباحث ہوتیں اور بحث کے دوران ہم سوچتے بلکہ محسوس کرتے کہ ہم بھی ادیب بن گئے ہیں۔ ان دنوں ہمیں معلوم ہوا کہ ملتان میں ایک ادبی فورم ہے

Read more

23 مارچ۔ یومِ جمہوریہ سے یومِ قرار دادِ پاکستان تک

پہلا پاکستانی دستور 29 فروری 1956 کو منظور ہوا اور 23 مارچ 1956 کو اسے نافذ العمل کیا گیا۔ غالباً مسلسل نو سال تک محنت کرنے کے بعد دستور ساز اسمبلی تھک چکی تھی اس لئے اس نے 23 مارچ کو ’یوم جمہوریہ‘ قرار دیتے ہوئے ہر سال چھٹی منانے کا اعلان کر دیا۔ اس دستور کے اہم نکات کچھ یوں تھے۔

Read more

معاشرتی رواداری کے فروغ میں ادب کا کردار

صفحہ قرطاس پر جب انسانیت کا ظہور ہوا تب انسان گفتگو کے ان رموز سے نا آشنا تھا جو موجودہ دور ترقی میں گفتگو کی معراج تصور کیے جاتے ہیں۔ وقت کی رفتار کے ساتھ آدمیت نے ہلکی ہلکی ہوں ہاں کرنا سیکھی اور پہلی بات، جو شاید انسانی تاریخ کی پہلی بات تھی، شاعری کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی۔ دنیا کے ہر ایک لسانی ادب کا آغاز ہمیشہ شاعری سے ہوتا آیا ہے۔ لہذا دنیا کے اولین لسانی

Read more

تجزیہ، ایک نکتہ نظر کا

لاہور سے چھپنے والے ایک ماہنامے میں کچھ عرصہ قبل قرة العین حیدر پہ شائع ہونے والے مضمون کا ایک حوالہ ان خیالات کے اظہار کا باعث بنا ہے۔ صاحب مضمون کے مطابق، ”قرة العین حیدر 1948 میں اپنی والدہ کے ہمراہ پاکستان آئیں اور 1961 تک کراچی میں قیام پذیر رہیں۔ وہ حکومت پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کراچی میں 1950 میں انفارمیشن افسر رہیں۔ کچھ عرصہ پاکستان ہائی کمیشن لندن میں بطور پریس اتاشی فرائض سرانجام دیے۔

Read more

ناول ”کرول گھاٹی“ کا ایک جائزہ

’‘ کرول گھاٹی ”غافر شہزاد کا تازہ ناول ہے۔ غافر شہزاد ایک معروف و منجھے ہوئے لکھاری ہیں۔ جب سے اس ناول کی بابت سنا تھا مجھے یہ تجسس تھا کہ ایک تاریخ قریب میں رونما ہونے والے واقعہ کو جو ابھی لوگوں کے ذہن سے محو نہیں ہوا اور جو میڈیا کا ہاٹ ٹاپک بنا رہا، ایک عرصے تک، مصنف نے اس کو کس طرح تخلیقی قالب میں ڈھالا ہو گا اور ان کے پاس یہ گنجائش کہاں سے

Read more

یوم پاکستان، تجدید عہد وفا کا دن

قوموں کی زندگی میں بعض لمحات انتہائی فیصلہ کن ہوتے ہیں جو اپنے نتائج اور اثرات کے اعتبار سے خاصے دوررس اور تاریخ کا دھاوا موڑنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ایسا ہی ایک لمحہ مسلمانان برصغیر کی زندگی میں 23 مارچ 1940 ء کو آیا جب لاہور کے ایک وسیع و عرض میدان میں، جسے منٹو پارک کہا جاتا ہے، لاکھوں مسلمان اکٹھے ہوئے اور بنگال کے وزیر اعلیٰ مولوی فضل حق نے ایک قرار داد پیش کی جس کی

Read more

ادب عالیہ اور ادیب کی نفسیات

نوٹ: یہ مضمون ارباب قلم کینیڈا کی 27 فروری 2022 کی زوم میٹنگ میں پیش کیا گیا۔ جب کسی بھی زبان اور کلچر کا انسان یہ کہتا ہے کہ وہ ایک شاعر ’ادیب یا دانشور بننا چاہتا ہے تو وہ یہ اعلان بھی کر رہا ہوتا ہے کہ وہ لفظوں سے اپنا تخلیقی اظہار کرنا چاہتا ہے۔ جب کوئی فنکار یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ کیا بننا چاہتا ہے تو وہ شعوری یا لاشعوری طور پر یہ اعلان بھی

Read more

گنگو بائی کاٹھیاواڑی

لفظ طوائف آتے ہی فرد کے ذہن میں گندا یا کیچڑ جو اس کے ذہن میں پل بھر رہا ہوتا ہے وہ ابل کر سامنے آ جاتا ہے اور اس سے پہلے کہ ابل کر یہ باہر گرے چولہے کی آنچ ہلکی کر دی جاتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں طوائف سے نکلو اور دوسرے موضوعات کو پرکھو اور اس پر لکھو۔ تم طوائف کے بارے میں لکھوں گے تو تمہارے ذہن میں گند ہے۔ کہتے ہیں اور بھی مسائل ہیں

Read more

سعادت حسن منٹو کے پاگل یا علامہ اقبال کے غازی و پر اسرار بندے

میں بطور پاکستانی اپنے آپ کو اکثر سعادت حسن منٹو کے افسانہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کا کردار پاگل لگتا ہوں، لیکن کبھی کبھی سوچ کا ذائقہ تبدیل کرنے کے لیے علامہ اقبال کا شاہین، غازی اور پر اسرار بندہ بھی سمجھنے لگتا ہوں۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ والے کردار میں رہنا زیادہ پسند ہے کیونکہ اس کا حق اظہار کافی وسیع ہے جس کے استعمال سے طبیعت ہلکی ہو جاتی ہے۔ میں جیسا ہوتا ہوں، مجھے ویسے ہی میرے دیگر ہم

Read more

ژاں پال سارتر کے ناول ”سزائے موت میں التوا“ کا وجودی مطالعہ

تاریخ عالم کو بہ نظر غور دیکھا جائے تو یوں گماں ہوتا ہے کہ تخلیق انسانی میں آب و گل کے ہمراہ سوال وجود کی آمیزش بھی ہے۔ داستان گوئی ہو کہ غاروں میں مصور شکستہ اشکال، یہ تمام اثبات وجود کے ہی استعارے ہیں۔ لیکن زمیں و آسماں کی وسعتوں کو پاٹنے والا انسان تلاش ذات کے سفر میں بار بار ٹھٹک جاتا، صدیوں تک انسان نے اپنی ذات میں اٹھنے والے ان سوالوں کو نظر انداز کرنا چاہا۔

Read more

بہا الدین زکریا کا قاضی

زندگی سے جنگ کرنے والا ہی زندگی جینا جانتا ہے کیونکہ وہ زندگی کی قیمت سے خوب آگاہ ہوتا ہے جو تمام عمر اس نے چکائی ہوتی ہے۔ محنت کش باپ کا بیٹا جب نظام کی چکی میں پس کر کسی عہدے پر پہنچتا ہے تو وہ اس نظام کی رگ رگ سے واقف ہوتا ہے۔ وہ یہ جانتا ہے کہ نظام ہر انسان کے لئے ایک جیسا کام نہیں کرتا وہ ان حالات پر کڑھتا ہے اور اس کا

Read more

ٹھرک – دل پھینک عاشق سے مبلغ تک

”تم دھوپ کا چشمہ نہ پہنا کرو“ اشعر بھائی گہری نظروں سے دردانہ کو تاڑتے ہوئے کہہ رہے تھے۔ ”کیوں بھلا“ ۔ دردانہ اٹھلائی۔ ”سوا نیزے پر سورج ہوتا ہے اس جہنمی شہر میں۔ سیدھا آنکھ کی پتلی میں گھستا ہے“ ”تمہاری آنکھیں بہت خوبصورت ہیں انہیں یوں سیاہ شیشے کے پیچھے چھپا لینا ظلم ہے“ ۔ اشعر بھائی نے ہماری موجودگی کو بالکل خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے جذبات کی ترجمانی جاری رکھی۔ دردانہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔

Read more

ہاسٹل میں منٹو، بانس اور بانسری

ہاسٹل میں رہتے ہوئے ہمیں قریبا ڈیڑھ سال ہونے کو تھا۔ ہاسٹل کے اس آہنگ کو بھی دیکھ چکے تھے، جس کی لوگ تعریف کرتے نہیں تھکتے اور اس آہنگ کو بھی جس کا لوگ ذکر کرنا شاید بھول جاتے تھے۔ کافی چیزیں سیکھنے کو ملیں مگر دال مونگ اور دال ماش میں فرق کو واضح نہ کر سکے کیوں کہ بقول ہمارے کک صاحب کہ ”جب آپ نے میری پکی ہوئی دال میں سے یہ بتایا دیا کہ کون

Read more

نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی تاریخ ”سورج پہ کمند“

چند ماہ قبل محترم حسن جاوید کا فون آیا اور نوید دی کی سورج پہ کمند کی جلد دوم اور جلد سوم شائع ہو گئی ہیں، اس لیے اپنا پوسٹل ایڈریس بھیج دیں، تا کہ مجھے کتابیں براہ راست پہنچ جائیں۔ سورج پہ کمند قیام پاکستان کے بعد بننے والی ترقی پسند طلباء تنظیم ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور بعد ازاں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی جامع تاریخ ہے، جسے برطانیہ میں آباد دو ہر دل عزیز انقلابیوں ڈاکٹر حسن جاوید اور

Read more

ملا، ٹائمز کالج اور انقلاب

جنرل ضیاء الحق نے جمہوریت کی بساط لپیٹی، دائیں بازو کی کئی جماعتیں فوج کا خیرمقدم کرچکی تھیں، خصوصاً جماعت اسلامی اور اس کا طلبہ ونگ جمعیت ضیاء ٹولے کا بازو بن چکی تھیں۔ بھٹو کا تختہ الٹ کر عسکری طاقتوں کو نجات دہندہ قرار دینے والے ایک نئے پاکستان کا خواب دیکھ رہے تھے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جب 1947 میں نیا تھا، تب بھی نئے والی کوئی بات نہ آ سکی، یعنی بنیاد ہی جمہوریت سے محروم

Read more

جی پی اے کتنی ہے؟

دس سال سے، یعنی جس روز سے ہم حصول علم کی راہ پر نکلے ہیں یہی ایک سوال معاشرے کے ہر فرد اور گروہ کی طرف سے ہم سے پوچھا جاتا رہا کہ آپ کے نمبر کتنے ہیں؟ یہی سوال ہم سے بار بار کسی نہ کسی صورت میں دہرایا جاتا ہے۔ یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ آپ کے ہاں خوشی ہے، عقل ہے، صحت ہے، سب یہی پوچھتے ہیں کہ نمبر کتنے ہیں؟ گویا نمبروں تمام دوسری ضروریات زندگی

Read more

صدیق اعوان صاحب: شخص ہفت رنگ

گرمیوں کی ایک چلچلاتی دوپہر، مین بلڈنگ کے وکٹورین طرز کے برآمدوں میں سے گزرتے ہوئے، کچھ ہی لمحوں بعد اک قد آدم دروازے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ دروازے پہ ہاتھ رکھتے ہی اس میں جنبش ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کا ایک پٹ، چڑچڑاہٹ کی آواز پیدا کرتے ہوئے جا کھلا۔ وہ ایک پرانی طرز کا دفتر تھا۔ جس کی دیواروں تک سے کہنگی ترشح تھی۔ سامنے کرسی پہ بیٹھے اقبال شاہد صاحب اپنی ساتھی اساتذہ سے

Read more

کتاب بانٹ کر پڑھیئے

بڑے بڑے دانشور دیکھے ہیں اور پھر ان کے معتقدین بھی جو ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ کتاب پڑھیں، اور ساتھ ہی یہ ٹچ بھی لگا دیتے ہیں کتاب خرید کر پڑھیں۔ دانشور ایک ہی مشورہ دیتے ہیں لوگوں کو، وہ بھی ڈھنگ کا نہیں ہوتا، شاید اسی لیے دانشور کہلاتے ہیں۔ مجھے بہت حیرت ہوتی ہے کہ کبھی کسی دانشور کو دور کی نہیں سوجھی، کہ ہو سکتا ہے کوئی کتاب نہیں بھی خرید سکتا یا پھر خریدنا نہیں

Read more

پاکیزہ:’ضیاع‘ قرار دی گئی فلم جو مینا کماری اور کمال امروہی کو امر کر گئی

دنیا کے لیے صاحب جان (مینا کماری) صرف کوٹھے پر بیٹھی ایک طوائف ہے مگر یہ عورت کے نظریے سے کہی گئی ایک عورت کی کہانی ہے، جو عموماً بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔

Read more

برطانیہ کا متنازعہ نیشنیلٹی بل اور نسلی اقلیتوں میں بڑھتا ہوا خوف

گزشتہ ماہ سے برطانوی ایوانوں میں متنازعہ نیشنیلٹی اینڈ بارڈر بل نے ہل چل مچا رکھی ہے۔ سیاسی و سماجی حلقوں میں اس کی بھرپور مخالفت کی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے متاثر صرف دوسرے ممالک سے نقل مکانی کر کے برطانیہ میں آباد ہونے وائے امیگرینٹ ہی ہوں گے ۔ اگر یہ بل پاس ہو کر قانون کا حصہ بن گیا تو بغیر پیشگی اطلاع کے، آبائی تعلق کی بنیاد پر ایسے شہریوں کی برطانوی شہریت منسوخ کی

Read more

اپنی محدودات کا نوحہ

مجھے خبر نہیںکہ تاریخی اعتبار سے یہ دعویٰ درست ہے یا نہیں۔ 1970کی دہائی میں لیکن جوانی کی حدود میں داخل ہورہا تھا تو بارہ دروازوں والے لاہور میں یہ بات مشہور تھی کہ پنجابی کے معروف شاعر استاد دامن شاہی قلعہ کے متوازی آباد ہوئے محلہ کی اس کھولی میں رہتے ہیں جہاں اس شہر سے اکبر اعظم کے دور میں ابھرے ملامتی شاعر شاہ حسین قیام پذیر تھے۔ دامن صاحب کی شاعری کو میں ادبی اعتبار سے سراہنے

Read more

بد کردار مرد

ایک مشہور قول ہے کہ ”اگر معاشرہ خواتین کی آزادانہ ترقی کو تسلیم نہیں کرے گا، تو معاشرے کو از سر نو تشکیل دینا چاہیے۔“ بدقسمتی سے افسانہ نگار، تاریخ دان، فلاسفر سے لے کر مذہبی لوگوں تک ان کے فلسفے، تاریخ اور افسانوں میں آپ کو بدکردار عورت کا ذکر ضرور ملے گا۔ اگر تاریخی اوراق کو پلٹ کر دیکھا جائے تو قدیم یونان سے لے کر اب تک عورت کی محبت اور اس کی مجبوریوں کو بدکرداری سے

Read more

انتظار حسین: ہندوستانی تہذیب کا نوحہ خواں جو یادوں کی بوریاں اٹھائے پاکستان آیا تھا

انتظار حسین دو فروری 2016 کو لاہور میں ہی وفات پا گئے اور یوں ہندوستان اور پاکستان کی تہذیب کا نوحہ رقم کرنے والا خاموش ہو گیا۔

Read more

گلزار! تجزیہ!

ہاتھ میں پسٹل اٹھائے کوئی شخص گلزار کی شاعری، طبلے اور موسیقی پہ بات کرے تو کچھ اور سوچے بنا پہلا وار ”حیرت“ کا ہی ہوتا ہے، جو کہ اس ڈرامے کے انتظار کی سب سے بڑی وجہ بھی تھی، ڈرامہ شروع ہوتے ہی تمکنت کا جو سین چلتا ہے تو ایک معصوم پیشہ ور عورت اپنے جسم اور میک اپ کی فکر میں غلطاں ہے لیکن پھر بھی خوش ہے اور مکمل طور پر شوخ ہے۔ پیشہ ور عورت

Read more

کالی شلوار: فحاشی کا پلندا یا حقیقت کی روداد

کالی شلوار سعادت حسن منٹو کا وہ افسانہ ہے جو 1942ء میں شاہد احمد دہلوی کے جریدے ” ساقی ” میں شائع ہوا۔ اس افسانہ پر فحاشی کے الزام میں لاہور کی کسی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا جہاں یہ افسانہ فحاشی پر مبنی داستان ٹھہرا مگر سیشن کورٹ لاہور میں سزا کے خلاف اپیل کی گئی تو اسے غیر فحش قرار دے کر منٹو کو بری کر دیا گیا۔ عدالتی ریکارڈ ناپید ہونے کے سبب اس بات کا ثبوت

Read more

آج کی سلطانہ کالی نہیں، لال شلوار مانگتی ہے

”میڈم، مجھے ایک تھان چاہیے، لال کپڑے کا“ ۔ رضیہ کی عجیب و غریب فرمائش سن کر میں اچھل پڑی۔ ”کپڑے کا تھان اور وہ بھی لال رنگ کا۔ کیا کرنا ہے بھئی اتنا زیادہ کپڑا اور وہ بھی ایک ہی رنگ کا“ ، میں نے حیرانی سے پوچھا۔ ”جی شلواریں بنانی ہیں۔“ ”شلواریں، اتنی بہت سی اور وہ بھی لال رنگ کی؟ کالی کیوں نہیں“ ۔ میں نے خود کلامی کی۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ شلوار کا

Read more

پاکستان میں آئین اکبری چلے گا یا فتاویٰ عالمگیری

ماضی قریب و بعید میں جب کوئی کسی قبیلے، قوم یا ملک کو فتح کرتا تو دشمنوں کے سروں کا مینار بنا کر زندہ لوگوں کو یہ پیغام دے دیتا کہ اگر کسی اور نے سراٹھانے کی کوشش کی تو ان میناروں میں اس کا سر بھی ہوسکتا ہے، اس کے بعد کوئی سر اٹھانے کی جرآت نہیں کرتا اگر کوئی غلطی کر بھی جاتا تو اس کا سر نیزوں پراٹھایا جاتا یا پاؤں تلے روند دیا جاتا۔ جوانوں کے

Read more

لبرل کیوں معتوب ہیں؟

دنیا بھر کے لبرل اپنے اپنے ملکوں میں معتوب ہیں۔ ان کے کچھ قدامت پسند ہم وطن ان پر ملک دشمنی کے الزام لگاتے ہیں۔ انڈیا کے لبرل رائٹرز اس وقت خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انڈیا اب تحریر و تقریر کی آزادی کے لیے محفوظ ملک نہیں رہا۔ پاکستان کے لبرل کو کئی القاب سے نوازا جاتا ہے۔ لبرل فاشٹ، لنڈے کے لبرل، دیسی اور جعلی لبرل اور اب خون کے پیاسے لبرل۔ ان پر اسلام دشمنی کا

Read more

پاسٹرناک کا جنازہ اور سرکاری دانش

آج کل ہماری تاریخ ندامت کا ایک اور قابل فراموش باب اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے، اچھا موقع ہے کہ رک کر کچھ بنیادی نکات کی بار دگر خواندگی کر لیں۔ سپہ سالار اور سپاہی میں یہی فرق ہے کہ لڑائی ختم ہونے پر کماندار اپنے خیمے میں محفل ہاﺅہو سجاتا ہے مگر سپاہی اپنے جوتے نہیں اتارتا، جانتا ہے کہ لڑائی میں فتح یا شکست ہوا میں رچی موت کے اندوہ اور لہو کی باس کا وقفہ

Read more

ارون دھتی رائے کا آفتاب یا انجم؟

”اگلی صبح جب سورج نکلا اور کمرے کی فضا نرم گرم ہو گئی تو انہوں نے ننھے آفتاب کے کپڑے اتارے اور اس کے ننھے بدن کی پڑتال کرنے بیٹھیں۔ آنکھیں، ناک، سر، گردن، بغلیں، انگلیاں، انگوٹھے ایک سیری اور بے تعجیل خوشی کے ساتھ ٹٹولے۔ تبھی اس کے مردانہ اعضا کے نیچے لگا ایک چھوٹا، ادھورا لیکن بلاشبہ زنانہ حصہ نظر آیا۔ خیر یہ سچ مچ کا زنانہ حصہ تو ہے نہیں، انہوں نے خود کو سمجھایا۔ اس کا

Read more

منٹو کے افسانے ”یزید“ کا ایک جائزہ

جس سعادت حسن منٹو کو دنیا آج عورتوں کے گندے پہلوؤں اجاگر کرنے والے کے نام سے جانتی ہے وہ دراصل ان تمام احساسات سے ماورا تھا جسے ایک عام انسان میں آپ ڈھونڈ سکتے ہیں، یوں تو منٹو نے کافی افسانے لکھیں اور لوگ اس کو پڑھتے رہتے ہیں مگر منٹو ہر افسانے میں الگ ڈھنگ سے آپ کو ملے گا جیسے وہ تھوڑا ممد بھائی بن جاتا ہے، کبھی حنیف بن کر ہندو لڑکی کو دل دے بیٹھتا

Read more

کال گرل

پچھلے سال دسمبر کی ایک خوبصورت شام تھی اور ہم تین دوست کافی عرصے بعد ایک مہنگے ریسٹورنٹ میں رات کے کھانے پر جمع تھے۔ یہ امریکہ کا ایک خوبصورت شہر ہے اور دنیا کے امیر ترین لوگ جیسے کے بل گیٹس اور جیف بیزوز، یہیں رہائش پذیر ہیں۔ دسمبر میں نئے سال اور کرسمس کی وجہ سے پورا شہر روشنیوں سے سجا ہوا تھا۔ ریسٹورنٹ کا ماحول نہایت عاشقانہ تھا۔ مدہم روشنی اور موسیقی کی دھن ماحول کو اور

Read more

میس کی ٹیبل، چائے اور کچھ انمول یار

گیارہ بجنے میں ابھی کچھ منٹ باقی ہیں۔ ہاسٹل وارڈن دورے پر ہیں کہ کہیں کوئی لڑکا باہر نہ گھوم رہا ہو۔ ہمیں سٹڈی پریڈ کے دوران جو نو سے گیارہ ہوتا تھا، اجازت نہیں ہوتی تھی کہ باہر گھوم سکیں۔ البتہ کچھ نوجوان جو واسکوڈے گاما کے پیروکار تھے، وقفے وقفے سے واش روم جانے کے بہانے ہاسٹل کا دورہ کرتے رہتے تھے۔ اس سٹڈی پیریڈ کی خاص بات یہ تھی کہ کتاب آپ کے منہ کے آگے ہونی

Read more

گہر ہائے رفتگاں سے قلمی دشمنی

کچھ دن پہلے اشفاق احمد ورک کی ایک تحریر بعنوان ’’اچھے لوگوں کی انوکھی باتیں‘‘ (منگل 30 نومبر 2021 – روز نامہ 92 نیوز) نظر سے گزری۔ اشفاق ورک صاحب روز نامہ 92 نیوز میں ’’قلمی دشمنی‘‘ کے نام سے ہفتہ میں دو بار کالم لکھتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی وہ کئی اخباروں میں ’’قلمی دشمنی‘‘ کے جوہر دکھا چکے ہیں۔ اسی عنوان کے تحت ان کے مزاحیہ خاکوں کا پہلا مجموعہ بھی چھپا تھا۔ جس کے متعدد ایڈیشن

Read more

منٹو کی مسٹر حمیدہ

برقعے میں چہرہ چھپائے ایک لحیم شحیم عورت ہمارے سامنے کھڑی تھی۔ نقاب الٹے بنا بھاری مردانہ آواز آئی، ”آپ کو بہت دور سے دکھانے آئی ہوں“ برقعہ اور مردانہ آواز۔ یا خدا کہیں پھر کسی نے فرار ہونے کا منصوبہ تو نہیں بنایا؟ ہم نے اپنے آپ سے سرگوشی کی۔ ”ڈاکٹر، زندگی چھپ چھپ کے گزر گئی لیکن اب تکلیف بہت بڑھ گئی ہے اس لئے آنا پڑا“ ”دیکھیے جو بھی ہوا میرے بس میں، ضرور کروں گی“ ”ڈاکٹر

Read more

ٹھرک : منٹو کی ایک نامکمل تحریر

سن پچاس کے عشرے کا ذکر ہے۔ لاہور کے ماہوار فلمی میگزین ’ ڈائریکٹر‘ کے مدیر شباب کیرانوی کی دلی خواہش تھی کہ ایک فلم پروڈیوس کی جائے۔ 1954 ءمیں انہوں نے کچھ دوستوں سے قرض لے کر ایک فلم شروع کر دی جو چند ماہ میں تیار ہو گئی۔ فلم کا نام تھا ’جلن‘ اور مزاحیہ اداکار نذر پر اس میں ایک گانا پکچرائز ہوا جس کے بول تھے ’میں بھی ٹھرکی، تو بھی ٹھرکی…. سارا زمانہ ٹھرکی ہے

Read more

پاجامے کے اندر مت جھانکیے!

” کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی ماں اپنے ہی بچے سے خوفزدہ ہو جائے؟ جہاں آرا ہو گئیں۔ پہلا ردعمل یہ تھا کہ انہوں نے اپنے دل کو سکڑتے اور اپنی ہڈیوں کو راکھ میں بدلتے محسوس کیا۔ دوسرا ردعمل یہ تھا کہ انہوں نے دوبارہ دیکھا، کہیں دیکھنے میں غلطی تو نہیں ہوئی۔ تیسرا ردعمل یہ تھا کہ انہوں نے اپنی تخلیق سے منہ موڑ لیا۔ اپنے چوتھے ردعمل میں انہوں نے خود کو اور بچے کو مارنے

Read more

سعادت حسن منٹو اور فلمی دنیا: ’منٹو کی موت ہوئی ہی کہاں ہے‘

سعادت حسن منٹو کی شناخت اردو کے سب سے بڑے افسانہ نگار کی حیثیت سے ہوتی ہے لیکن کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ اپنی نوعمری اور جوانی سے انہیں فلموں سے بھی ویسی ہی دلچسپی تھی جیسی ادب سے۔

Read more

جنسی بھوک اور معاصر مصنف سے چھ سوال

سعادت حسن منٹو نے تقسیم ہند کا نقشہ یوں کھینچا، ایک لڑکی زندگی اور موت کی کشمکش میں گرفتار ہسپتال میں موجود ہے۔ ڈاکٹر اس کا معائنہ کرتے ہوئے کہتا ہے ”کھول دو اور وہ اپنا ازار بند کھول کر شلوار کولہوں سے نیچے سرکا دیتی ہے“ وہی سعادت حسن منٹو جو لاوارث بچوں کے کچے جسم ”سرکنڈوں کے پیچھے“ دکھاتا ہے، جس کا ہم عصر نذر محمد راشد ”سپاہی“ کی صورت عالمی سیاسی منظرنامے کو ہنرمندی سے نظم بنا

Read more

ہیرا منڈی، طوائف اور لیڈی ڈاکٹر

دو پیشے، ایک انتہائی معزز، دوسرا معاشرے کا ناسور! پر ہے ایک قدر مشترک اور وہ ہے عورت! کوئی عورت شرافت کے سنگھاسن پہ براجمان ہو تی ہے اور کوئی پاتال میں اتر جاتی ہے، یہ تقدیر کا وہ کھیل ہے جو کوئی آج تک سمجھ نہیں سکا۔ کائنات کے اسرار میں زمان و مکان کا فیصلہ کس کے لئے کیا ہے اس پہ نہ ہم قادر ہیں نہ آپ۔ گزشتہ دنوں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ایک پرانا کلپ

Read more

سعادت حسن منٹو: افسانہ بو کی چھاتی اور چھاتی کا سرطان

موبائل فون کی گھنٹی بجی ٹرن۔ ٹرن۔ ٹرن۔ دوسری طرف سے ایک مشینی آواز آئی ”خواتین میں چھاتی کے سرطان کا خطرہ روزبروز بڑھ رہا ہے“ ۔ منٹو نے حیرت سے فون کو دیکھا اور فون بند کر دیا۔ تھوڑی دیر حیرت میں ڈوبے رہنے کے بعد دوبارہ فون ملایا۔ دو تین گھنٹیوں کے بعد پھر آواز آئی ”خواتین میں چھاتی کے سرطان کا خطرہ روزبروز بڑھ رہا ہے“ ۔ شدت حیرت سے منٹو گم صم رہ گیا۔ یہ خاتون

Read more

آپ عورت سے کتنی نفرت کرتے ہیں – حصہ زیور

یہ بتانا کہ لوگ عورتوں سے نفرت کرتے ہیں یہ بتائے بنا کہ لوگ عورتوں سے نفرت کرتے ہیں، میں بتاتی ہوں۔ کچھ ماہ قبل، پاکستان کے شہر منڈی بہا الدین میں پیدا ہونے والی اور برصغیر میں انسانی حقوق بالخصوص حقوق نسواں کا پرچار کرنے والی قابل قدر سماجی کارکن اور مصنفہ کملا بھاسن کا انتقال ہوا۔ ان کی شخصیت جو میں نے پائی تو دل سے تو بس یہ دعا نکلتی ہے کہ رام اور رحمٰن کو ماننے

Read more

منٹو، جالب اور صدر ایوب

یومِ منٹو منانے کا زبردست پروگرام پاک ٹی ہاؤس کی میزوں پر تیار ہوا تھا اور تقریب کے لیے ہمیں محکمہ قومی تعمیرِنو نے جو آڈیٹوریم عطا کیا تھا وہ بھی ٹی ہاؤس کے سامنے ہی تھا۔ چنانچہ جلسے میں آنے والے لوگ وقتِ مقررہ سے کافی پہلے جمع ہونا شروع ہوگئے۔ سب سے زیادہ بے چینی حبیب جالب کو تھی۔ ہم نے یومِ منٹو کے سلسلے میں جو پوسٹر تیار کیا تھا اس میں یہ لائن بھی درج تھی:

Read more

جمہوری تسلسل اور مداخلت کے غیر متصل منطقے

آپ جیسے اصحاب علم سے کچھ عرض کرنا طفل ناتراشیدہ کی شوخ چشمی معلوم ہوتا ہے۔ ادب کی مبادیات میں پڑھایا جاتا ہے کہ ناول زندگی کی کلیت (Entirety) کا احاطہ کرتا ہے۔ وقت کے کسی خاص وقفے میں زمین اور اہل زمین کے معاملات کی ممکنہ حد تک مفصل تصویر، واقعے اور خیال کے بیچ آنے والے نیم تاریک گوشے، لمس کی سرسراہٹ سے رنگوں کی ست رنگی طیف تک، خد و خال کے تناسب سے لہجوں کے زیروبم

Read more

یہی تو خاص بات تھی ہمارے مدبر بھائی کی!

” ظفر! مدبر بھائی کا انتقال ہو گیا“ ۔ دوسری طرف ظفر تڑپ کر بولا۔ ”ان کا انتقال تو اسی دن ہو گیا تھا، جس دن انہوں نے پاکستان چھوڑا تھا۔ ان کا جسم کینیڈا میں تھا مگر ان کی روح ہمارے پاس تھی پاکستان میں“ ۔ فون بند کر کے ہم سوچتے رہ گئے۔ مدبر بھائی کو ہم سے بچھڑے ایک دہائی سے اوپر ہو گیا تھا۔ وہ بچوں کے پاس کینیڈا چلے گئے تھے مگر اب بھی وہ

Read more

منٹو اور اس کا خدا

کہاں قدرت اللہ شہاب اور اشفاق احمد جیسی برگزیدہ ہستیاں اور کہاں منٹو جیسا دو ٹکے کا فحش نگار۔ کہاں سرکاری مطالعہ پاکستان کے آسمان پر چمکتے عظیم اور پاکباز لکھاری اور کہاں ایک شرابی۔ لیکن قدرت اللہ شہاب یا اشفاق احمد کی طرح منٹو  نے کبھی کشف و کرامات کی اسیری کا دعویٰ تو نہیں کیا۔ نہ ہی سرکار سے مشاہرہ لے کر برگزیدگی اور روحانیت کی چادر اوڑھے سرکاری یا ریاستی ایجنڈوں کی ٹائوٹی کر کے اپنا کوئی لچ

Read more

سردیوں کا ادبی حل

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ایک وسیع و عریض خطہ، یعنی کل پاکستان کے تینتالیس فی صد حصے پر مشتمل صوبہ ہے۔ لیکن بد قسمتی سے بلوچستان کا نام سنتے ہی احساس محرومی اور پسماندگی کا برجستہ احساس ہو جاتا ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے کہ بلوچستان کو اب بھی ایک کالونی کی طرح کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال ہو نے کے باوجود صوبے کے لوگ گیس، بجلی، صاف پانی اور تعلیم جیسی بنیادی

Read more

لاہور محبت ہے

کتنا ہی اچھا ہو اگر سال کے اختتام کے ساتھ ہی ہمارا بھی اختتام ہو جائے۔ کبھی کبھی مجھے زندگی سے بہت گھبراہٹ ہوتی ہے اور خاص طور پر اس وقت جب زندگی کی مہربانیاں خاموش ہو جائیں۔ ایسے لمحات میں۔ زندگی مجھے بادشاہی کے تخت سے اتار کر غلامی کی ڈور تھما دیتی ہے اور پھر میں حسرت بھری نگاہوں سے بادشاہی پر رشک کرتی ہوں اور پھر اس فقیری کا درد میری زندگی میں لہو کی مانند رقص

Read more

منیر نیازی: شہر کی فصیلوں میں جڑا ہوا ایک پراسرار داخلی دروازہ

ان دنوں منیر نیازی صاحب کالج کے کسی طالب علم سے ملنے پر آمادہ نہیں تھے، چاہے وہ طالب علم گورنمنٹ کالج، لاہور کا ہی کیوں نہ ہو۔ بہ طور مدیر ’راوی‘ مجھے ان سے ملنا تھا اور ان کی کوئی غزل یا نظم لے کر چھاپنی تھی۔ میں انھیں نیو ہاسٹل کے مرکزی دروازے پر رکھے کالے رنگ کے پرانے، گھما گھما کر نمبر ڈائل کرنے والے سیٹ سے فون کرتا تو وہ ہر بار طرح دے جاتے ”میری

Read more

گلاب دیوی ہسپتال کی بنیاد رکھنے والے لالہ لجپت رائے کون تھے؟

لاہور میں لالہ لجپت رائے کے نام سے دھرم پورہ میں ایک گلی بھی موسوم ہے لیکن ان کے انسانی جذبہ کی سب سے بڑی یادگار گلاب دیوی ہسپتال ہے لیکن گلاب دیوی کون تھیں اور لالہ نے ان کے نام پر ہسپتال کیوں بنوایا؟

Read more

لاہور محبت ہے

کتنا ہی اچھا ہو اگر سال کے اختتام کے ساتھ ہی ہمارا بھی اختتام ہو جائے۔ کبھی کبھی مجھے زندگی سے بہت گھبراہٹ ہوتی ہے اور خاص طور پر اس وقت جب زندگی کی مہربانیاں خاموش ہو جائیں۔ ایسے لمحات میں۔ زندگی مجھے بادشاہی کے تخت سے اتار کر غلامی کی ڈور تھما دیتی ہے اور پھر میں حسرت بھری نگاہوں سے بادشاہی پر رشک کرتی ہوں اور پھر اس فقیری کا درد میری زندگی میں لہو کی مانند رقص

Read more

مخالف کو جوتے کی نوک پر رکھتی ہوں

میرے سسرال والوں نے مجھے اور میرے کاموں کو کبھی اچھی نظر سے نہیں دیکھا۔ ہر کام میں مخالفت ان کی عادت ہے۔ بھئی سسرال والوں کا تو کام ہی مخالفت کرنا ہے۔ یہ وہ پارٹی ہے جو اپنے مخالف کو کبھی سکون سے جینے نہیں دیتی، جتنا بھی اچھا کام کر لو حرام ہے جو تعریف کے دو بول کہہ دیں۔ اور مجھ سے تو سمجھیں خدا واسطے کا بیر ہے۔ میرے ہر اچھے کام میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر

Read more

فکشن کی تنقید کا المیہ

ڈاکٹر وارث علوی کے نام سے کون واقف نہیں ہے۔وہ ایک منجھے ہوئے اور نڈر نقاد سمجھے جاتے ہیں۔ وہ تنقید برائے تنقید نہیں کرتے بلکہ ان کا مقصد اصلاح اور حقائق پر مبنی بات کرنا ہوتا ہے۔اردو ادب کا خاصا رہا ہے کہ اس میں ہر دور میں ایسے لوگ سامنے آئے جن کی چپقلشیں بڑی دل آویز رہی ہیں۔ شمس الرحمٰن فاروقی کی ” افسانے کی حمایت میں ” اور وارث علوی کی ” فکشن کی تنقید کا

Read more

گلگت بلتستان : منگو کوچوان اور عبوری صوبہ کی کہانی

1857 کی جنگ آزادی ہند کو کچلنے کے بعد تاج برطانیہ نے مغلیہ سلطنت کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو رنگون کے ایک جیل میں مرتے دم تک قید کر دیا – رنگوں کے اس زندان  میں مرنے سے قبل بہادر شاہ ظفر نے انسانی روح کو ہلا دینے والی شاعری کے زریعے اپنی بے بسی اور بدنصیبی کا زکر ان الفاظ میں کیا. کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار

Read more

اختر احسن: آنے والے وقتوں کا ماہر نفسیات

شعبہ اطلاقی نفسیات پنجاب یونیورسٹی میں داخلے سے پہلے ہی مجھے میرے ذی قدر استاد پروفیسر خالد سعید دام ظلہ نے ڈاکٹر اختر احسن کے بارے میں مختصراً یہ بتایا تھا کہ وہ ایک پاکستانی ماہر نفسیات ہیں۔ انہی کی طرح ڈاکٹر اجمل مرحوم کے شاگرد ہیں۔ شاعر ہیں۔ مائتھالوجی کے ماہر ہیں۔ فلسفی ہیں۔ اور نفسیاتی علاج کے ایک نئے مکتبہ فکر کے بانی ہیں۔ خالد سعید صاحب چونکہ فرائڈ کی عینک سے نفسیات کو دیکھتے ہیں اسی لیے

Read more

خیبر پختونخوا انتخابات: لوٹ کے بدھو گھر کو آئے

محض تین برس ادھر کی بات ہے جب پاکستان کے عوام نے ایک لمبے عرصے کے بعد سیاسی عمل میں جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے حصہ لیا اور اپنے تئیں ریاست کی مضبوطی کے لیے ایک مختلف آدمی کا انتخاب کیا۔ لاہور میں منٹو پارک ہو یا کراچی کا جلسۂ عام، پشاور میں سجا پنڈال ہو یا ہری پور میں منعقد کیا گیا سیاسی اکٹھ، مری میں ہونے والا سیاسی محاربہ ہو یا مدینہ اولیا ملتان کے کرکٹ

Read more

ہیرا منڈی کے بالا خانے سے ٹیلے ویژن کے جھروکے تک

لاہور میں سنار کے کام سے وابستہ تھا؛ رنگ محل آنا جانا معمول ہوا۔ جب میں پہلی بار ”استاد جی“ کے ساتھ اُس بازار کی گلی سے گزرا تو دیکھا، جوان عورتیں بالکونی میں کھڑی ہیں، کوئی دیکھے یا اشارہ کرے، تو بجائے جھجھک کر اوٹ میں ہونے کے، وہ مسکرا کر دیکھتی ہیں۔ استاد جی نے بتایا، اِس وقت ہم جس بازار سے گزررہے ہیں، یہ ”ہیرامنڈی“ ہے۔ میں ایسے گھبرایا، جیسے گناہ کا مرتکب ہوا ہوں۔ لاہور کے

Read more

منٹو نے "ٹھنڈا گوشت” کا دفاع کیسے کیا؟ (2)

ڈاکٹر آئی لطیف ہیڈ آف دی سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ ایف سی کالج، لاہور بلائے گئے۔ میں نے ان کا نام سنا تھا لیکن دیکھا کبھی نہیں تھا۔ آپ صوفی صاحب کے بیان کے دوران میں میاں سعید صاحب کے پاس بیٹھے تھے اور رسالہ ”جاوید“ کا خاص نمبر ان کے ہاتھ میں تھا۔ میں نے ان کی طرف غور ہی نہیں کیا تھا۔ جب وہ بیان دینے لگے تو میں نے انہیں غور سے دیکھا۔ کالا رنگ، سب سے پہلے مجھے

Read more

منٹو نے "ٹھنڈا گوشت” کا دفاع کیسے کیا؟ (1)

بمبئی چھوڑ کر کراچی سے ہوتا ہوا غالباً سات یا آٹھ جنوری 1948ء کو یہاں لاہور پہنچا۔ تین مہینے میرے دماغ کی عجیب و غریب حالت رہی۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کہاں ہوں۔ بمبئی میں ہوں۔ کراچی میں اپنے دوست حسن عباس کے گھر بیٹھا ہوں یا لاہور میں ہوں جہاں کئی ریستورانوں میں قائد اعظم فنڈ جمع کرنے کے سلسلے میں رقص و سرود کی محفلیں اکثر جمتی تھیں۔ تین مہینے تک میرا دماغ کوئی فیصلہ

Read more

زیادہ پیسے کمانے کا طریقہ: کامیاب صحافی کے قلم سے

’دیوان سنگھ نے اپنی پہلوانی کے دم خم کئی اکھاڑوں میں دکھائے۔ بڑی بڑی ریاستوں سے پنجہ لڑایا۔ اکالیوں سے متصام ہوا۔ ماسٹر تارا سنگھ اور سردار کھڑک سنگھ سے تلوار بازی کی۔ مسلم لیگ سے چومکھی لڑا۔ پولیس کو تگنی کا ناچ نچایا۔ خواجہ گیسو دراز حضرت حسن نظامی سے چہلیں کیں۔ تیس سے کچھ اوپر مقدمے چلوائے اور ہر بار سرخ رو ہوا۔ لاکھوں بلکہ کروڑوں کمائے اور اڑا ڈالے۔ وہ ایک عجائب گھر ہے جس میں سیکڑوں

Read more

سلمان خان کا ریاض میں کنسرٹ اور پاکستانی مسلمانوں کی برہمی

سعودی عرب کے شہر ریاض میں منعقدہ سلمان خان کے شو میں تقریباً 80 ہزار کے قریب لوگ شریک ہوئے۔ یہ شو اور اس قسم کے تمام میوزیکل پروگرام سعودی عرب کے وژن 2030 کا حصہ ہیں جہاں وہ تیل اور پیٹرول کی معیشت سے نکل کر سیاحت کی معیشت طرف مائل ہیں۔ حالیہ دنوں میں حجاب اور عبایہ پر بھی پابندی اٹھا لی گئی ہے اور اس کا اختیار خواتین کو دے دیا ہے کہ اگر وہ پردہ کرنا

Read more

پاکستان کو دولخت میں شیخ مجیب الرحمن کا کردار

پاکستان کو دولخت کرنیوالوں میں سے ایک اہم کردار شیخ مجیب الرحمن کا تھا یہ بھارت کا ایجنٹ اور پروانڈین تھا۔ پاکستان توڑنے میں اس کا بنیادی کردار تھا اور بنگالیوں کو اسی نے میر جعفر کی طرح بھارت کو بیچ دیا تھا شیخ مجیب الرحمٰن 17 مارچ 1920ء کو ضلع فرید پور میں پیدا ہوئے۔ 1947ء میں اسلامیہ کالج کلکتہ سے تاریخ اور علم سیاسیات میں بی-اے کیا۔ طالب علمی ہی کے زمانے سے انہوں نے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ 1943ء سے 1947ء تک وہ کل ہند مسلم لیگ کی کونسل کے رکن رہے۔ 1945ء تا 1946ء وہ

Read more

دسمبر اور سقوط ڈھاکہ کی یاد

دسمبر سال کا آخری مہینہ ہے اس ماہ میں گزرے ہوئے پورے سال کی تلخیاں ذہن میں تازہ ہوکر ٹیس دینے لگ جاتی ہیں۔ اس ماہ کا ایک اور تکیلف دہ پہلو سقوط ڈھاکہ کی یاد ہے اور ہر سال دسمبر کا درمیانی عشرہ نہایت کرب اور بے چینی میں گزرتا ہے۔ ہر سال ان دنوں سقوط ڈھاکہ کے موضوع پر میسر کتابیں پڑھتا ہوں جن میں سر فہرست گھر کے بھیدی بریگیڈیئر صدیق سالک کی کتاب میں نے ڈھاکہ

Read more

لوگ جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟

چند دن پیشتر فیملی آف دی ہارٹ کے سیمینار کے بعد میرے عزیز دوست پرویز صلاح الدین نے مجھے اپنے گھر ڈنر پر بلاتے ہوئے کہا کہ وہاں چند اور مہمانوں کے ہمراہ ایک جرنلسٹ کرن علی بھی آ رہی ہیں جو آپ سے ملنا چاہتی ہیں۔ ’کرن علی کون ہیں؟‘ میں متجسس تھا۔ ’وہ ایک مقبولِ عام کنیڈین ٹی وی پروگرام REALITY BITES کی ہوسٹ ہیں‘۔ کرن علی سے ملاقات سے چند دن کے بعد انہوں نے فیس بک

Read more

ہم ہی جیتیں گے

ایک پرکشش اور امنگوں سے بھرپور نام، جسے سنتے ہی امن، آزادی، مساوات اور سماجی انصاف کے دلدادہ انسانوں اور انقلابی کارکنوں کے خون میں حرارت پیدا ہو جائے۔ ایک ایسی کتاب جو ریسرچ کرنے والوں کے لیے بھرپور مفاد فراہم کرے اور انقلابی کارکنوں کے لیے نظریاتی پختگی اور جدوجہد سے وابستگی میں اضافے کا سب بنے۔ ایک ایسا مصنف اور ہماری دھرتی کے ہونہار سپوت، بے لوث اور انتھک انقلابی، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے

Read more

منٹو کا افسانہ ”ٹھنڈا گوشت“ اور ہمارا معاشرہ

سعادت حسن منٹو نے 1947 کے بٹوارے پر کئی افسانے لکھے جن میں سے ایک ”ٹھنڈا گوشت“ بھی ہے۔ مشہور شاعر اور ادیب احمد ندیم قاسمی اس زمانے میں ایک رسالہ نکالتے تھے جس میں منٹو کے افسانے بھی چھپتے تھے۔ ایک مرتبہ منٹو کو افسانہ لکھ کر بھیجنے میں دیر ہو گئی۔ احمد ندیم قاسمی صاحب خود چل کر منٹو کے گھر پہنچے اور پوچھا افسانہ ختم کیا۔ منٹو نے جواب دیا ”ابھی ابھی ختم کیا ہے“ ۔ یہ

Read more

مدثر نارو: وزیر اعظم عمران خان کی لاپتہ بلاگر کے والدین، کمسن بیٹے سے ملاقات

وزیرِ اعظم عمران خان نے لاپتہ صحافی اور بلاگر مدثر نارو کے والدین کو واقعے سے متعلق تحقیقات اور تمام تر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے اور کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مدثر کے والدین کو ‘تسلی بخش جواب’ دیں۔

Read more

سوشلزم، اسلامی سوشلزم اور پیپلز پارٹی

وزیر خارجہ بھٹو صدر ایوب کی کنونشنل مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری بھی تھے۔ صدر ایوب سے الگ ہو کر ابتدا میں بھٹو کا خیال کونسل مسلم لیگ میں شمولیت کا تھا۔ مگر ڈاکٹر مبشر حسن اور جے اے رحیم جیسے دوستوں کا رحجان ایک نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کی طرف تھا۔ وہ ایک نئی طرح کی غیر روایتی سیاسی جماعت کی ضرورت محسوس کرتے تھے۔ ان کا اندازہ تھا کہ ایسی نئی جماعت کی پذیرائی بھی بہت ہوگی۔

Read more

نبیل قریشی کی ”کھیل کھیل میں“ ، مستنصر حسین تارڑ صاحب کی ”راکھ“ اور تاریخ پاکستان

’میں تمہیں موٹی عقل کا مالک اس لئے کہتا ہوں کہ تم بنیادی طور پر ایک ذہین انسان ہونے کے باوجود تاریخ کا شعور نہیں رکھتے۔ تم نتیجہ اخذ نہیں کر سکتے۔ ایک وہ تاریخ ہے جو تمہیں نرسری سے پی ایچ ڈی تک پڑھائی جاتی ہے اور ایک ادھر دوسری تاریخ ہے جس کے بارے میں تمہیں لاعلم رکھا جاتا ہے۔ تم اسے جان نہیں سکتے، اس کا ذکر نہیں کر سکتے۔ اگر کرو گے تو پوری اسٹیبلشمنٹ کمر

Read more

عقل اپنی بھی ایڑی میں ہے

شروع کرتا ہوں اس کا نام لیے بغیر جس کی ذات اپنی فردی پہچان، خودمختاری، اور بغیر کسی امتیاز کے سماج میں اپنے مقام کا حق لینے کی جد و جہد میں مصروف ہے۔ جی بالکل میرا اشارہ اس ذات کی طرف ہے تمام گالیاں، تقریباً لطیفہ اور اکثر خطبات جس کی ذات سے منسوب کیے گئے ہیں۔ ہم سب ڈاٹ کام ٹیم کی دریافت کی گئی ایک اور بری عورت کی اچھی باتوں کا تذکرہ آگے چل کر کرتے

Read more

اتنی تیزی سے تو وکٹیں بھی نہیں اڑتیں

افغانستان ایک سرنگ سے ایک اور سرنگ میں داخل ہو گیا ہے۔ پچھلے چالیس برس کے دوران افغانوں کے دلوں سے خوف کا خوف بھی چلا گیا: پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم بات س بات۔

Read more

پاکستان اور بھارت کی آزادی کی داستان بیان کرنے والی 14 فلمیں

کراچی — سن 1947 میں تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان اور بھارت ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرے اور ساتھ ہی تاریخ کے اس حصے پر فلمیں بننے کا ایک نیا سلسلہ بھی شروع ہوا۔

Read more

زرد ہتھیلی اور دوسری کہانیاں

جیم عباسی کے افسانوں کا مجموعہ "زرد ہتھیلی اور دوسری کہانیاں” کئی مہینے پہلے مل گیا تھا۔ زیادہ تر کہانیاں پہلے ہی آج میں پڑھیں ہوئی تھیں۔ مگر اب بھی کتاب میں کچھ ایسا مواد بھی شامل تھا جو میرے لیئے نیا تھا۔ میں کمپیوٹر یا موبائل کی اتنی چھوٹی سی سم کو دیکھ کر اتنا حیران نہیں ہوتی کہ انسانی دماغ کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے کہ ساری دنیا سمیٹ کر ایک نکتے میں سما دی ہے اس

Read more

تقسیم کے وقت ریپ ہونے والی عورتوں کا لباس ناکافی تھا کیا؟

چھ بیٹیوں اور رئیس شوہر کے ہمراہ وہ ملتان میں اپنی حویلی میں ٹھاٹ باٹھ سے رہا کرتی تھیں۔ اپنی بیٹیوں کے ساتھ اپنی زندگی میں مگن، اپنے ہی دیس میں بھلا کس بات کی فکر؟ لیکن اس وقت سب نے آنکھیں پھیر لیں جب انسانیت کے بیچ میں مذہب آ گیا۔ باہر حملہ آور دیوان صاحب کی دولت اور چھ بیٹیوں کے سرور میں حویلی کے گرد گھیرا تنگ کر رہے تھے اور اندر دیوان صاحب کچھ اور ہی سوچے بیٹھے تھے۔

کانتا، رادھا، آشا، شوبھا، رینوکا اور رینا کا گلا کاٹنا ہی پرکھوں کی عزت بچانے کا آخری حل تھا۔ چھ بیٹیوں کو ذبح کرنا آسان نہیں تھا لیکن باہر وحشی ہجوم کے ہتھے چڑھنے سے بہتر تھا۔ جب تک حویلی کا دروازہ ٹوٹا، دیوان صاحب اپنا کام پورا کر چکے تھے۔ بے تاب ہجوم نے خون میں نہائے دیوان پہ مشتعل ہو کے تیل چھڑکا اور آگ لگا دی۔

Read more

ارائیں بچے کا دل وحشی ہو گیا

کسی دھندے کے بند ہونے کا کیا ماتم کرنا۔ ایک بند ہوتا ہے تو دس کھل جاتے ہیں۔ لاہور کی قدیم اور سب سے بڑی کتابوں کی دکان فیروز سنز بک شاپ متصل الفلاح بلڈنگ مال روڈ کچھ عرصہ قبل بند ہوئی تو زندہ دلان لاہور کی زندہ دلی میں کوئی فرق نہیں آیا۔  جنھوں نے کتابوں کے اس خزینے پر شٹر گرتے اور کرائے کے لیے خالی کا بورڈ لگا دیکھا انھوں نے بھی یہی سوچا ہوگا کہ آخر

Read more