چند لمحے عصمت چغتائی کے ساتھ

کچھ لوگوں کی صحبت ایسی ہوتی ہے کہ ان کی باتوں اور مسکراہٹوں سے کبھی دل نہیں بھرتا۔ ان کی محفل سے اٹھنے کو کبھی دل نہیں کرتا۔ عصمت چغتائی ایک ایسی ہی شخصیت تھیں۔ ان سے پہلی ملاقات چند سال پہلے پرانی کتابوں کے ایک سٹال پر ان کے افسانوں کی کتاب ”چوٹیں“ کی صورت میں ہوئی۔ ملاقات اس لئے کہہ رہا ہوں کہ اسی مجموعے کی توسط سے میں عصمت سے آشنا ہو گیا۔ ان افسانوں کو پڑھتے

Read more

عصمت چغتائی کے افسانوں کا مجموعہ: لحاف

ایک ایسے وقت میں جب شہوت انگیز ادب لکھنا نہ صرف خواتین کے لیے بلکہ مرد ادیبوں کے لیے بھی جرم تھا، جہاں سیکس جیسے موضوعات پر قلم اٹھانے سے ادیب کتراتے تھے عصمت چغتائی یقیناً داد تحسین کی مستحق ہے جنہوں نے اس وقت کے قدامت پسند معاشرے کے خلاف علم بغاوت کی اور 111 صفحات پر مشتمل آٹھ مختصر کہانیوں والا لحاف لکھا۔ یہ کتاب 1940 کی دہائی میں لکھی گئی جب اردو ادب میں سگمنڈ فرائیڈ کے

Read more

ضیا محی الدین صاحب کے انتقال پر ایک تعزیتی تحریر

ضیا صاحب ریڈیو اور تھیٹر کی دنیا کے بے تاج بادشاہ تھے۔ ان کی آواز کا اتار چڑھاؤ۔ لہجے کی شائستگی۔ روانی اور الفاظ کی ادائیگی کچھ ان ہی حصہ تھی۔ مرحوم نے مختلف افسانہ نگاروں اور مصنفین کے مضامین کچھ اس انداز سے پڑھے کہ ہر کردار سامنے چلتا پھرتا۔ محسوس ہوتا ہے۔ اسد محمد خان کی کہانی باسودے کی مریم۔ مئی دادا۔ مرزا فرحت اللہ بیگ کے مضامین۔ پطرس کے مضامین۔ محمد علی ردولی کے خطوط جو انہوں

Read more

الفاظ، زبان، اعضا، شرم و حیا، فحاشی اور غیرت و مردانگی!

وہ لمبا سا ہال تھا جس میں سولہ میزیں ایک قطار میں تھیں۔ بڑی بڑی شیشے کی کھڑکیوں سے روشنی چھن چھن کر اندر آ رہی تھی۔ سٹیل کی بنی میزوں سے روشنی کی کرنیں جب منعکس ہوتیں تو رگ و پے میں سرد لہر دوڑ جاتی۔

سرد، نحیف، سیاہی مائل، ہڈیوں پہ منڈھی سکڑتی کھال، اکڑی ہوئی ہڈیاں، چھت کو گھورتی بے نور آنکھیں، پپڑی زدہ ہونٹ، ٹیڑھی ناک، بے جان بازو۔ یہ تھے وہ ننگ دھڑنگ جسم جنہیں موت اپنی گود میں لے کر وہاں تک پہنچی تھی اور اب وہ منتظر تھے۔

ان جسموں کی طرف جو بھی دیکھتا، اس کے جسم میں پھریری دوڑ جاتی۔ زندگی کی حقیقت ایک سیکنڈ میں واضح ہو جاتی۔ اپنے جیسے ہی ایک جسم کو اس حالت میں دیکھنا رونگٹے کھڑے کرتا تھا۔

Read more

ارے بھئی یہ اپنے ضیا صاحب !

یہ معلومات اب غیر متعلقہ سی لگتی ہیں کہ ضیا محی الدین کے والد خادم محی الدین چونکہ خود ایک ماہرِ ریاضیات، موسیقی کے پا رکھی، گیت کار و ڈرامہ نگار تھے لہٰذا صاحبزادے پر اس ماحول و صحبت کا اثر ہونا لازمی تھا یا جب انگریزوں نے پنجاب کو ہندوستان کا اناج گھر بنانے کے لیے یہاں نہری نظام کا جال بچھایا اور ساندل بار اور نیلی بار کے دوآبے میں زمینیں آباد کرنے کی ترغیبات دیں تو رہتک

Read more

کشمیر ایک ضد، محبت یا حقیقت

کشمیریوں کے لیے سب اچھا کہا جا رہا تھا۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے لیے سب برا کہا جا رہا تھا۔ گرمیوں کے دن تھے۔ 1946 ء کا سال تھا۔ ”کشمیر چھوڑ دو تحریک“ زوروں پر تھی۔ کشمیریوں کے رہنماؤں اور لوگوں سے جیلیں بھر چکی تھیں۔ وہ کشمیر کی آزادی چاہتے تھے۔ مہاراجہ کے خلاف کشمیریوں کی اس بیداری کا نوٹس مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہرو اپنے اپنے انداز سے لے رہے تھے۔ امریکی مؤرخ ”سٹین لے والپرٹ“ ہندوستان

Read more

منٹو کا افسانہ زا‏ئد المیعاد کیوں نہیں ہوتا؟

آٹا، روٹی، پانی، گیس، بجلی، دوا، مکان، امریکی ڈالر، ممد بھائی، کہاں سے ملیں گے؟ انصاف ایک سنگین اور وزنی لفظ ہے۔ ہم اپنی زندگی میں ہمیشہ یہ امید کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ممد بھائی اور رابن ہڈ جیسے ہیرو ہوں جو محرومیوں کی لعنت میں الجھے ہوئے عوام کو امید کی کرن دکھا سکیں۔ 2021 کے پاکستان سی ایس ایس اردو ادب کے امتحان میں ایک سوال تھا۔ منٹو کو برصغیر کا تخلیقی ضمیر کہا گیا ہے۔ شاید

Read more

فکشن پڑھنا کیوں ضروری ہے؟

فکشن یا دوسرے لفظوں میں ناول، افسانے اور ڈرامے پڑھنا کہیں افراد کے خیال میں وقت کا ضیاع ہے۔ اوائل عمری میں، میں بھی اسی قبیل کا فرد تھا۔ لیکن بہت زیادہ لکھاریوں کو فکشن پڑھنے کی اہمیت بتاتے سن کر جب میں نے فکشن کی طرف رخ کیا تو یہ ایک جہاں حیرت تھی۔ بصورت انسان مجھ میں کہیں تبدیلیاں آئیں۔ جن پر آج بات کریں گے۔ فکشن کی جو سب سے اہم خوبی ہے وہ ہے کہ فکشن

Read more

عمران خان کی سیاست اور قینچی

اس تحریر میں چار شخصیات کا ذکر متوقع ہے یعنی ساحر لدھیانوی، سعادت حسن منٹو، رچرڈ گرے اور عمران خان۔ ان چاروں شخصیات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں پایا جاتا، ۔ ایک شاعر دوسرا باغی افسانہ نگار تیسرا ہالی ووڈ کا مشہور اداکار اور چوتھا سیاست دان اور یہ یہ چاروں مختلف ادوار و حالات میں پیدا ہوئے۔ تعلق بنانے سے بنتا ہے اور جوڑنے سے جوڑتا ہے اور ہم جس عہد میں زندہ ہیں اس میں تو تعلق

Read more

دینا جناح: رتی اور جناح کی محبت کا تنہا پھول

رتی اور جناح کی محبت کی ابتدائی داستان کچھ اساطیری سی محسوس ہوتی ہے۔ مگر اس کا انجام کچھ ایسا دردناک کہ جیسے کسی باد سموم نے الفت کے چمن کو نیست و نابود کر دیا ہو۔ بس اس محبت کی شاخ پہ کھلا ایک تنہا پھول ہی رہ گیا۔ جی ہاں جناح اور رتی کی مکمل طور پہ نہ پنپنے والی محبت کی کہانی کی واحد نشانی ان کی بیٹی دینا تھیں جو اپنی ذات میں بھرپور، ماں کی

Read more

کیا آپ ایک دھکا سٹارٹ رائٹر ہیں؟

جب میں پاکستان میں رہتا تھا تو مجھے سڑکوں پر کچھ ایسی کاریں دکھائی دیتی تھیں جنہیں تین چار لوگ دھکا لگاتے دکھائی دیتے تھے۔ وہ کاریں عجیب و غریب قسم کی گھر گھر گھر کی آوازیں نکالتی تھیں لیکن ایک دفعہ چل پڑتیں تو پھر فراٹے بھرتی ہوئی آگے بڑھتی رہتی تھیں۔ ایسی کاروں کو میں "دھکا سٹارٹ گاڑیاں” کہتا تھا۔ ان گاڑیوں کی طرح میں نے ایسے رائٹر اور لکھاری بھی دیکھے ہیں جنہیں تخلیقی سفر کے آغاز

Read more

نیئر مصطفیٰ کی کتاب: ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری

کسی بھی دور کا ادیب اس کے معاشرے کا عکاس ہوتا ہے۔ ادیب وہی لکھتا ہے جو وہ دیکھتا ہے اور محسوس کرتا ہے بلکہ ایک قلم کار تو اردگرد کی چیزوں کو عام آدمی سے زیادہ گہرائی سے دیکھتا ہے۔ یہی چیز ہمیں نیئر مصطفیٰ کے ہاں بخوبی ملتی ہے۔ نیئر جدید دور کے افسانہ نگار ہیں اور ان کے افسانوں میں جدیدیت صاف دکھائی دیتی ہے۔ وہ روایت سے چمٹ کر پرانی دنیا میں نہیں رہتے بلکہ بدلتے

Read more

فیض زندہ ہے

دسمبر کی چھٹیاں تھیں، سارا دن دھوپ میں بیٹھا جاتا اور طویل راتوں کو برداشت کیا جاتا۔ ایک دن خیال آیا کہ والد صاحب کی موٹی موٹی کتابیں دیکھی جائیں شاید کچھ اپنے مزاج کا پڑھنے کو مل جائے لیکن وہاں تو قرآن کی تفاسیر، اسلام کے سیاسی نظام پر مشتمل لٹریچر اور کچھ سیاسی نوعیت کی کتابوں کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ کافی مایوسی ہوئی لیکن ایک بار پھر کوشش کی تو ایک خستہ حال کتاب برامد ہوئی، جس

Read more

میں نے آئین بنتے دیکھا

وہ شخص جس نے صحافت کا پیشہ بڑی تاخیر سے یعنی نومبر 1960 ء میں اختیار کیا ہو، جو کسی سیاسی جماعت سے عملی طور پر وابستہ نہ رہا ہو، اور کسی یونیورسٹی سے قانون کا ڈگری ہولڈر بھی نہ ہو، اس کا یہ لکھنا کہ ”میں نے آئین بنتے دیکھا“ بظاہر عجیب سا لگتا ہے۔ پھر یہ کہ قیام پاکستان کے وقت میں بمشکل سولہ سترہ سال کا تھا۔ اس عمر میں عام طور پر سیاست اور آئین کے

Read more

کاسمیٹکس کی دکان – معاشرے کے جنسی مزاج پر ناول

  ایک ایسا موضوع جس پر قلم اٹھانا جرم ہو۔ جہاں سیکس جیسے موضوعات کو چھیڑنا معاشرتی اقدار کی نفی گردانی جاتی ہو۔ وہاں پر پروفیسر ڈاکٹر لیاقت تابان یقیناً داد کے مستحق ہے جس نے ایسا حساس موضوع چھیڑ کر سمندر کی گہری پانیوں میں کنکری پھینک دی ہے۔ کاسمیٹکس کی دکان (د سینگار ہٹی) پشتو زبان میں لکھا گیا 144 صفحات پر مشتمل ٹریجک ناول ہے جو کہ جولائی 2020 میں شائع کیا گیا تھا۔ جسے پشتو زبان

Read more

یہ جنوں مالک اشتر کا بہت اچھا ہے

” عبادات سے روحانی طہارت اور نفس کو فیض یقیناً پہنچ سکتا ہے لیکن مادی یا طبعی مسائل کا حل ان میں کھوجنا منطقی عمل نہیں ہے“ ۔ (کیا کرونا وائرس اللہ کا عذاب ہے۔ ص: 43 ) ”۔ ”اس سماج کی زبان پر اس وقت آبلے پڑ جاتے ہیں جب ریڈ لائٹ ایریا میں کوئی دلال مرد سڑک پر گھوم گھوم کر جسم بھنبھوڑنے والے کسی بھوکے کو تلاش کرتا ہے تاکہ دلالی حاصل ہو سکے۔ یہ اخلاق کی

Read more

منٹو کے افسانے ”نیا قانون“ اور ”گورمکھ سنگھ کی وصیت“

سعادت حسن منٹو ہندوستانیوں کو افواہوں اور خود فریبی میں الجھا ہوا دیکھ کر اپنے افسانے ”نیا قانون“ میں طنزیہ لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے نہ صرف بر صغیر کے مستقبل کے حوالے سے سامراجی حکومت کی بے ضمیری اور ہچکچاہٹ پر تنقید کرتے ہیں بلکہ ہندوستانی آبادی پر ہونے والی لاپرواہی پر دکھ کا اظہار کرتے ہیں جس کا شعور صدیوں کے جبر میں مسخ کر دیا گیا تھا۔ اس افسانے کا سیاق و سباق 1930 کی دہائی

Read more

افغانستان اور غالب کے زود پشیماں

امریکہ کا 2 عشروں پر محیط قیام افغانستان، جہاں افغانستان میں کم و بیش دو لاکھ انسانی جانوں کی ہلاکت کا باعث بنا وہیں تقریباً تین کروڑ کی آبادی میں تقریباً چالیس لاکھ افغان اندرون ملک در بدر ہوئے اور ایک اندازے کے مطابق ستائیس لاکھ افغان اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ سعادت حسن منٹو کے ”چچا سام“ نے اس مہم جوئی میں مجموعی طور پر 2۔ 26 ٹریلین ڈالرز جھونک دیے۔ اگر ڈالر میں ہی حساب لگایا جائے

Read more

محمود الحسن کی بنائی ہوئی دنیا

جب محمود الحسن صاحب نے محمد کاظم صاحب کو انٹرویو کے لیے فون کیا تو انھوں نے کورا جواب دیا۔ ظاہر ہے وہ محمود صاحب کو تب تک نہیں جانتے تھے کہ وہ کس ہستی کو انکار کر بیٹھے ہیں۔ خیر کچھ عرصے بعد جب اس انکار کا تذکرہ انھوں نے مسعود اشعر صاحب سے کیا تو انھوں نے کہا کہ کیوں نہیں دیں گے انٹرویو۔ یہاں محمود الحسن صاحب کا خیال تھا کہ ”اس وقت تو ہم نے سمجھا

Read more

انقلابی راہنما فانوس گجر کی چوتھی برسی

برصغیر پر انگریز سامراج کے تسلط کے دوران ایک طرف مخبروں اور وطن دشمنوں کو نوازنے کے لیے بڑی بڑی جاگیریں الاٹ کی گئیں تو دوسری طرف سامراجی استحصالی نظام کو منظم طریقے سے کنٹرول کرنے کے لیے بیوروکریسی کا وسیع تر جال بچھایا گیا۔ انہی دو قوتوں نے قیام پاکستان کے بعد ملک پر قبضہ کر لیا، جو اب تک جاری و ساری ہے۔ اس کے برعکس ہماری دھرتی نے بھی بڑے سپوت پیدا کیے، جو اپنی جان و

Read more

امریتا پریتم، ساحر لدھیانوی اور امروز کی محبت

امریتا پریتم پنجابی ادب کی عظیم شاعرہ تھی۔ اس نے اپنے محبوب کے نام آخری خط لکھا تھا، وہ محبوب کون تھاَ اس کا نام جاننا چاہیے۔ اس کے علاوہ امریتا پریتم کی حقیقی محبت کے بارے میں بھی کچھ منفرد باتوں کا ذکر ہو گا لیکن سب سے پہلے میں امریتا کا وہ آخری خط سناتا ہوں جو مجھے بہت دلکش لگتا ہے۔ یہ خط نہیں ایک شاہکار ہے۔ ملاحظہ فرمایئے۔۔۔۔ میں تجھے پھر ملوں گی، کہاں، کیسے، پتہ

Read more

شاعر اور دانشور عارف عبدالمتین کے دو مداحوں کا مکالمہ

خالد سہیل حامدیزدانی ————————————————————— خالد سہیل کا خط حامد یزدانی کے نام ! حامد یزدانی صاحب مجھے یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ آپ نہ صرف میرے شاعر چچا عارف عبدالمتین کو جانتے ہیں بلکہ ان سے کئی بار مل بھی چکے ہیں۔ مجھے آپ کے ان کے بارے میں تاثرات جاننے کا بہت اشتیاق ہے لیکن آپ کے تاثرات جاننے سے پہلے میں آپ سے اپنے تجربات شیر کرنا چاہتا ہوں تا کہ آپ کو ہمارے تعلق کی

Read more

تاریخ سے سبق سیکھنے کی ضرورت

بد قسمتی سے ہمارے ہاں ہمیشہ نہ صرف تاریخی حقائق چھپائے جاتے ہیں بلکہ اپنی مرضی کی کہانیاں سچ ماننے پر اصرار ہوتا رہا ہے۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے سقوط ڈھاکہ کے بارے میں عجیب و غریب کہانیاں سن رہے ہیں۔ کبھی ہمیں بتایا جاتا تھا مشرقی پاکستان میں افواج پاکستان کو شکست بنگالیوں کی بیوفائی اور اغیار کی سازش کے سبب ہوئی تھی لیکن گزشتہ دنوں سابق آرمی چیف قمر باجوہ کے بیان کے بعد نئی بحث چل

Read more

منگو کوچوان اور نئی تعیناتی

سعادت حسن منٹو کے دو افسانوں، نیا قانون اور ٹوبہ ٹیک سنگھ، کو میں ان کے شہکار اور اوریجنل افسانے سمجھتا ہوں۔ شہکار اس لیے کہ وہ تیکنیکی اعتبار سے اردو افسانے کی نئی جہت کی بنیاد بن سکتے تھے اگر ان افسانوں کے تکنیکی پہلوؤں پہ توجہ دی جاتی شاید کچھ تنقید نگاروں نے اس جانب توجہ مبذول کرائی ہو لیکن میں لا علم ہوں۔ اوریجنل اس لیے کہ یہ دو افسانے سعادت حسن منٹو کی رپوتاژ صنف میں

Read more

برصغیر میں معیشت کے حالیہ 50 برس

اٹھارہویں صدی میں اہل یورپ کی آمد سے پہلے ہندوستان ایک اقلیم تھا۔ حملہ آوروں کی مسلسل یلغار اور داخلی جنگ و جدل سے سکڑتی پھیلتی مغل سلطنت کی مجموعی معاشی پیداوار عالمی معیشت کا 24.4 فیصد تھی۔ نئی دنیا یعنی امریکہ کے وسائل کا استحصال کرنے، غلاموں کی تجارت اور ابتدائی صنعتی ایجادات کے باوجود 1700ء میں پورے یورپ کی معاشی پیداوار عالمی معیشت کا 23.3 فیصد تھی۔ 1947ء میں انگریز رخصت ہوا تو عالمی معیشت میں ہندوستان کا

Read more

مظلوم خوشحال اور خوشحال ناشناس

حال ہی میں، میں نے مظلوم خوشحال کتاب پڑھی جو واقعی میں خوشحال شناس جناب مرحوم مشتاق مجروح یوسفزئی کی لکھی ہوئی شاہکار ہے۔ خوشحال خان خٹک کو اگر کسی نے صحیح معنوں میں پڑھا اور سمجھا ہے تو وہ مرحوم مشتاق مجروح یوسفزئی تھے اور ہیں۔ ویسے تو ان کی پشتو ادب اور پختونوں پر بیش بہا احسانات ہیں لیکن ہم نا قدرے ہیں ہمیں لعل اور کوتی لعل ( ایک پودا ) میں تمیز کی صلاحیت نہیں۔ مظلوم

Read more

سلمیٰ اعوان کی ”بیچ بچولن“

سلمیٰ اعوان کی تصانیف میں چھے ناول (تنہا، لہو رنگ فلسطین، ثاقب، گھرونداریت کا ، زرغونہ اور شیبہ) پانچ افسانوی مجموعے (بیچ بچولن، کہانیاں دنیا کی اور اس کا ترجمہ ”The Sky Remained Silent“ ، خوابوں کے رنگ، برف میں دھنسی عورت کچھ کہتی ہے اور سنو تو افسانہ میرا) پاکستان شمالی علاقہ جات کے تین اور بیرونی ممالک کے دس ( 10 ) سفر نامے شامل ہیں۔ اس اجمال کی طرف توجہ دلانے کا مقصد یہ ہے کہ اگرچہ

Read more

انڈین آرمی سے پاکستان کی قومی فوج

انڈین آرمی کی تاریخ میں پہلی جنگ عظیم ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ 1857 ء کے بعد بغاوت کا خدشہ ختم ہو چکا تھا اور افواج دل جمعی سے تاج برطانیہ کا حکم بجا لاتیں۔ مورال بلند رکھنے کے لیے جنگ عظیم اول میں تیرہ ہزار فوجیوں کو مختلف اعزازات دیے گئے۔ جنگ کے دوران پالیسی تبدیل کر کے ہندوستانی فوجیوں کو سب سے بڑے فوجی اعزاز ”وکٹوریہ کراس“ کا اہل بھی قرار دیا گیا۔ سب سے پہلے ضلع

Read more

دبنگ انقلابی یوسف مستی خان بھی داغ مفارقت دے گئے

یوسف مستی خان کا آبائی تعلق مغربی بلوچستان کے گورگیج قبیلے سے تھا۔ ان کا خاندان تقریباً ڈیڑھ صدی قبل محنت مزدوری کی تلاش میں کراچی جا کر آباد ہو گیا تھا۔ ان کا خاندان بنیادی طور پر محنت کش تھا، اس لیے کراچی جا کر بھی ان کو سکوں میسر نہ آیا، اور وہ بہتر زندگی کی تلاش میں پہلے گجرات اور پھر آسام چلے گئے۔ وہیں ان کے والد نے کوئلے کی کانوں کا کاروبار کیا۔ بعد ازاں

Read more

بت شکن عمران خان

ڈوب کر ابھرنا کوئی عمران خان سے سیکھے۔ ہر بار جب وہ ابھرتا ہے تو ہم جیسے پرانے فین ایک بار پھر اس کے ساتھ ہو جاتے ہیں، پرانی محبت عود کر آتی ہے مگر جب وہ ڈگمگا رہا ہوتا ہے تو ہم بھی اسے کوسنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ ہر بار وہ غلط ہو کر پھر صحیح ثابت ہو جاتا ہے اور ایسا متعدد مرتبہ ہو چکا ہے۔ ہم سے زیادہ کون اس بات سے واقف ہو

Read more

‘اساطیر امروز’ کی تیسری سالگرہ پر اس کے نام کھلا خط

اساطیر امروز ’کی تیسری سالگرہ پر اس کے نام کھلا خط از ملتان پنج شنبہ، 27 اکتوبر 2022 ء برخوردار! تم پر رب رحمن کی بے کنار رحمتیں اور بے شمار برکتیں۔ امید ہے کہ تم خیر و عافیت کے ساتھ اپنی دلفریب شرارتوں میں مگن اور کتابوں اور کھلونوں کی چیر پھاڑ میں مصروف ہو گے۔ آخری بار جب میں اوچ شریف آیا تھا تو تمہاری اماں نے شکایت کی تھی کہ تم موبائل فون پر کارٹون دیکھنے کے

Read more

نوشی بٹ کی کتاب: ہمارے جسم تمہاری مرضی؟

خاکہ نگاری کی روایت اردو ادب میں بہت پرانی بھی ہے اور مضبوط بھی۔ فرحت اللہ بیگ اور سعادت حسن منٹو سے لے کر مولوی عبدالحق اور ڈاکٹر آفتاب احمد تک ایک کہکشاں موجود ہے۔ تاہم اس فہرست میں دو شخصیات منفرد مقام رکھتی ہیں۔ ممتاز مفتی اور احمد بشیر۔ نجانے کیوں نوشی بٹ کی یہ کتاب پڑھتے ہوئے یہ دونوں شخصیات بے طرح یاد آئیں۔ مفتی جی نے نیلم بشیر کو یا غالباً پروین عاطف کو مشورہ دیتے ہوئے

Read more

حادثہ ٹائی راڈ کھلنے سے نہیں ہوا

محمد خالد اختر نے اردو ادب میں جو مقام پایا، ان کے بارے میں تعارفی پیرایہ بیان اختیار کرنا بذات خود سوئے ادب کے زمرے میں شمار ہو گا۔ جس لکھنے والے نے سعادت حسن منٹو اور فیض احمد فیض سے داد پا رکھی ہو، اسے ہماری شکستہ پا، لکنت زدہ نسل سے توصیف کی کیا حاجت؟ ناول لکھا تو چاکیواڑہ میں وصال، مزاح پر توجہ دی تو چچا عبدالباقی، طنز کا نشتر اٹھایا تو مکاتیب خضر، ترجمے پر نظر

Read more

منٹو اور نانگلی

روزمرہ کی زندگی میں عورت کی چھاتی کو جنسی تحریک کا محور سمجھنا ذہنی جہالت کے سوا کچھ اور نہیں۔ لیکن وقت، زمانے اور معاشرت و تہذیب کا کہنا ہے کہ عورت کی چھاتی سے جنسی حظ اٹھانے والوں کی کمی نہیں۔ چٹانوں کے ابھار، پہاڑیوں کی گولائیاں، مدور گھاٹیاں، نشیب و فراز جیسے معنی خیز الفاظ سے صفحات پہ لگی کالک کسی سے چھپی نہیں۔ مرد چھاتیوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے اس کا نقشہ اردو ادب میں

Read more

ڈاکٹر قاسم یعقوب کا ناول ” خلط ملط”

بلاشبہ آج نئے اہل قلم کی اکثریت انگریزی کو وسیلۂ اظہار خیال بنائے ہوئے ہے، با الخصوص نثر میں۔ (فی الوقت اس کے عیوب و فوائد گنوانے کی بحث میں الجھنا ہرگز مقصود نہیں۔ ) تاہم اس سے قطعی طور پر یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ اردو زبان و ادب کی کوکھ بانجھ ہو چلی ہے۔ کچھ صاحبان ادب اردو میں بھی سنجیدہ نوعیت کے موضوعات کو عمدگی سے برت رہے ہیں۔ انہی میں ایک نام ڈاکٹر قاسم یعقوب کا

Read more

ملالہ: ایک متنازع کردار

سوات کی بیٹی ملالہ یوسفزئی جو گل مکئی کے قلمی نام سے بھی پہچانی گئی آج مہذب دنیا میں علم کی سفیر اور جہالت اور تاریکی کے خلاف ہونے والی کوششوں کی علمبردار بن چکی ہے۔ دنیا نے اس کم سن لیکن باہمت بچی کو سر آنکھوں پر بٹھایا اور اسے اعلی ترین عالمی ایوارڈ نوبل اور دیگر بہت سے اعزازات سے نوازا۔ امریکہ اور یورپ کے وہ رہنما اور شخصیات جو ہمارے سیاسی رہنماؤں اور حکومتی اداروں کے افراد

Read more

وہ عجیب رات تھی

اور بات سمجھ میں کب آئی۔ جب ہماری نند کی بیٹی جوان ہوئی اور اس کے رشتے آنے شروع ہوئے تو ہماری نند ایک دن ہمارے گھر آئیں بے حد خوش اور ہیجان میں مبتلا۔ ارے سنو تو ۔ وہ نہیں تھیں جن کا ذکر تم اکثر کیا کرتی تھیں جو تمہارے دادا کے گھر کے ایک حصے میں کرائے پر رہتی تھیں۔ ارے وہی جو زبردست اردو بولتی تھیں، ان کے پوتے کا رشتہ آیا ہے ہماری راشدہ بیٹی

Read more

آر ایس ایس کا شکریہ

’ہا آریٹس‘ اسرائیل کا سب سے پرانا اور معتبر اخبار ہے، عالمی مبصرین اس اخبار کو سنجیدگی سے دیکھتے ہیں اور اس میں شائع ہونے والی خبروں، کالموں اور مضامین کو اکثر بین الاقوامی میڈیا میں نمایاں جگہ ملتی ہے۔ گزشتہ دنوں اس اخبار میں ایک مضمون شائع ہوا جسے پڑھ کر میں خاصا حیران ہوا۔ اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ بھارت میں قوم پرست ہندوؤں نے مسلمان اداکاروں کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ اس معاملے کا

Read more

زاہد ڈار کی لاجونتی: ”وہ بس گئی، پر اجڑ گئی“

پاک ٹی ہاؤس اور زاہد ڈار کے بارے میں اب سوچتا ہوں تو ایسے ہی کبھی کبھار یہ خیال آتا ہے کہ محض عورتیں ہی اغوا نہیں ہوتیں، جگہیں اور مقامات بھی اغوا ہو جایا کرتے ہیں۔ فقط مغویہ عورتیں ہی بازیاب نہیں ہوا کرتیں، کچھ مغویہ عمارتیں، خیالات اور احساسات بھی بازیاب ہو جایا کرتے ہیں اور اس بازیابی کی کہانی بہت درد ناک اور الم انگیز ہوا کرتی ہے۔ بیٹھے بٹھائے آپ کو معلوم ہو کہ جہاں آپ

Read more

”مجھے سیل پیک لڑکی چاہیے“ ایک نوجوان کی خواہش

” مجھے تو سیل پیک لڑکی چاہیے بھئی۔ مجھے ایک ایسی لڑکی چاہیے جسے کسی نے ہاتھ تک نہ لگایا ہو۔ ایک ایسی لڑکی چاہیے جو آج دن تک کسی کے ساتھ ریلیشن شپ میں نہ رہی ہو۔“ یہ بات مکمل کرنے کے بعد اس نے تھوڑی دیر کے لیے خاموشی اختیار کی۔ میں ٹکٹکی باندھ کر اسے دیکھ رہا تھا اور اس کی باتوں کو ہضم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پھر اس نے دور پڑی کسی چیز

Read more

بیانیہ تبدیل نہیں ہوا

ہر نسل کے وقفہ حیات میں ایک ایسا مرحلہ آتا ہے جسے خاموش خود کلامی کہا جا سکتا ہے۔ ایسے خیالات جو احاطہ سماعت میں آ بھی جائیں تو گوش سماعت نہیں ملتا۔ جن سے مکالمہ ممکن تھا، ان کے تودہ ہائے خاک پر گھاس اگ آئی ہے۔ نئی دنیا کے اپنے رنگ، اپنے اطوار اور اپنے خواب ہوتے ہیں۔ اقبال گیانی تھے۔ ”آتش رفتہ کے سراغ“ اور ”کھوئے ہوؤں کی جستجو“ کے رموز سمجھتے تھے لیکن انہیں بھی اکتوبر

Read more

ناول صفر کی توہین، سلسلہ کلامیہ اور الحاد پرستی کے تناظر میں

اشعر نجمی شاعر ہیں۔ ادیب ہیں۔ ادبی جریدہ اثبات کے مدیر ہیں اشعر نجمی کا ناول صفر کی توہین اس وقت زیر بحث ہے۔ ایسے حساس موضوع پر قلم اٹھانا ہمت کا کام ہے اشعر نجمی نے اس ناول کے ذریعے قاری کے ذہن کو جھنجھوڑنے کی جو کوششیں کی ہے قابل ستائش ہیں۔ اس ناول کو سلسلہ کلامیہ اور الحاد پرستی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ سلسلہ کلامیہ وہ علم ہے جس سے مذہبی عقائد کو عقلی دلیلوں سے

Read more

منٹو اور خلیل الرحمٰن قمر: ایسی بلندی ایسی پستی

اس وقت میڈیا کی توجہ سب سے زیادہ یا تو سیلاب زدگان پر ہے یا عمران خان کے نام نہاد حقیقی آزادی کے جلسوں پر، یا سپورٹس میں اس وقت ایشیا کپ 2022 ء سب کے لئے مرکز نگاہ رہا ہے۔ انہی خبروں کے درمیان عورت کے حوالے سے ایک بیان نظر سے گزرا جو دیگر خبروں کی وجہ سے بہت زیادہ توجہ حاصل نہ کر سکا۔ عورت کا گناہ پوری نسل کو تباہ کر ڈالتا ہے : معروف ڈراما

Read more

منٹو کی شاداں اور اکیسویں صدی کی لڑکی!

جج صاحب!
کہانی سنیں گے میری؟

کہانی تو وہی ہے جو منٹو کو عدالت کے کٹہرے میں گھسیٹ لائی تھی اور اب مجھے۔ کہاں بدلتی ہے عورت کی کہانی، بس کبھی وقت آگے پیچھے ہو جاتا ہے اور کبھی چہرے بدل جاتے ہیں۔

کیسے کہوں؟ کہاں سے شروع کروں؟

میں اکیلا ہونے سے ڈرتی ہوں، کپکپی چھوٹ جاتی ہے مجھے جیسے جاڑا آ گیا ہو، چھوٹی بچیوں کو اکیلا دیکھ کر حالت مزید بگڑ جاتی ہے۔ میری دائیں ٹانگ میں رہ رہ کر درد اٹھتا ہے، بائیں ٹانگ پہ پڑے نشان چیختے چلاتے ہیں۔ کمر پہ دانتوں کے نشان روتے ہیں۔

عدالت ہمیشہ گواہ مانگتی ہے۔ مظلوم سے ظلم کا ثبوت۔ لائی ہوں گواہ بھی اور ثبوت بھی۔ جی جی ساتھ ہیں دونوں۔ دیکھنا پسند فرمائیں گے بندی کا کٹا پھٹا مضروب جسم۔ دس طویل برس، جنسی تشدد، پانچ برس کی بچی سے پندرہ برس کی لڑکی تک کا سفر۔

Read more

”ٹیب سٹی“ ہاؤسنگ سوسائٹی: ایم ٹی جے برانڈ کی ایک اور پیشکش؟

”لوگوں کو اتنا مذہبی بنا دو کہ وہ محرومیوں کو قسمت سمجھیں، ظلم کو آزمائش سمجھ کر صبر کر لیں۔ حق کے لیے آواز اٹھانا گناہ سمجھیں، غلامی کو اللہ کی مصلحت قرار دیں اور قتل کو موت کا معین دن سمجھ کر چپ رہیں“ مجھے ان لائنوں کا ریفرنس نہیں ملا کہ کس دور اندیش نے سمندر کو کوزے میں بند کیا ہے مگر غربت و آزمائش جسے ہم آسمانی رضا سمجھتے ہوئے ساری زندگی صابر و شاکر رہنے

Read more

متحدہ قومیت کے خلاف مضبوط مورچہ

سرسید احمد خاں کی وفات کے بعد سید امیر علی ان کے مشن کو آگے لے کر چلے۔ وہ ہائی کورٹ میں محرر تھے اور اس منصب سے ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست میں فعال ہو گئے۔ وہ ایک ماہر مؤرخ بھی تھے اور چوٹی کے دانش ور بھی۔ ان کی تصنیف Spirit of Islam (روح اسلام) اہم حلقوں میں بڑے اشتیاق سے پڑھی جاتی تھی جو فکر تازہ کو پروان چڑھاتی تھی۔ انہوں نے سنٹرل نیشنل محمڈن ایسوسی ایشن کی

Read more

منٹو کی کالی شلوار کے بعد اب "الٹی شلوار اور الٹا آزار بند”

پروجیکٹ عمران کے مالکان نے جب مہاتما کی ”بوم بوم“ کو فائنل ٹچ دینے کے لئے انتخابات سے پہلے ”مجسمہ صادق و امین“ کو گاؤں گاؤں اور شہر شہر بھیج کر بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کر کے عوام کو بیوقوف بنانے کا ٹاسک دیا تو سرکار میونسپل اسٹیڈیم میاں چنوں میں تشریف لائے تھے۔ ہمارے کچھ دوست بھی مہاتما کا بڑے قریب سے دیدار کرنے کے لئے اسٹیج کے بالکل سامنے موجود تھے، ایک دوست نے یادگار کے طور

Read more

خالد سہیل صاحب سے ایک ملاقات

محترمہ و معظمہ و مکرمہ جنابہ راحیلہ خان صاحبہ! یہ میری خوش بختی کہ آپ کینیڈا تشریف لائیں اور میری ’ہم سب‘ کے ادبی خاندان کی ایک اور ادیبہ سے ملاقات ہوئی۔ ہم نے نہ صرف مل کر کھانا کھایا بلکہ ادبی و فلسفیانہ موضوعات پر تبادلہ خیال بھی کیا۔ دو سال پیشتر میں نے جب ’ہم سب‘ پر آپ کے کالم پڑھنے شروع کیے تھے تو میں ان پر اپنی رائے دینے سے کتراتا تھا۔ مجھے یہ ڈر رہتا

Read more

عمران خان اور منٹو کا افسانہ ’ننگی آوازیں‘

ادب ہو یا فنون عالیہ کی کوئی دوسری شاخ، تخلیقی عمل زندگی کی کلیت کا احاطہ کرتا ہے۔ فن کے پیچاک نام نہاد شرفا کی منافقت زدہ اخلاقیات کے متحمل نہیں ہوتے۔ روایات کہنہ کی کتر بیونت سے تیار کی گئی قبا زندگی کی نہاں گہرائیوں اوربسیط آفاق کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ وکٹورین اخلاقیات کے علمبردار ڈپٹی نذیر احمد کا کردار نصوح شیخ سعدی کی گلستان کو سوختنی قرار دیتا ہے، دوسری طرف امیر مینائی فرماتے ہیں، ’پسند آئی

Read more

سرسیّد احمد خاں کے قومی احسانات

سیّد حسن ریاض کی نظر میں ”مسلمانوں میں اُس وقت صرف ایک سرسیّد احمد خاں تھے جو ہندوؤں اور اَنگریزوں کی چالوں کو سمجھ رہے تھے جبکہ پوری قوم انگریزی زبان سے بےبہرہ تھی۔ مسلمان انگریز اور ہندوؤں سے متنفر، عظمتِ رفتہ کے لیے سوگوار، نان شبینہ کے لیے محتاج، قرضوں میں دبے ہوئے تھے۔ سرسیّد احمد خاں میونسپل اور ڈسٹرکٹ کونسلوں میں مخلوط انتخابات کے نتائج دیکھ چکے تھے جن میں مسلم عمائدین عموماً ناکام ہوئے تھے۔ جب کانگریس

Read more

نیرہ نور: وہ تتلیوں کے، جگنوؤں کے دیس جانے والی

نیرہ نور بے تکان باتوں کے درمیان ایک وقفے کی دین تھیں۔ یہ سال 1985ء کی بات ہے۔ شاہ نواز فاروقی اور میں نے شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی میں داخلہ لیا۔ یہ بڑے اعزاز کی بات تھی۔ ایک سبب اس اعزاز کا یہ تھا کہ ہم بی اے نہیں بی اے آنرز کے طالب علم تھے۔ بی اے آنرز ہونے میں ایسی کیا خاص بات ہے، ایک اتفاق نے یہ راز سمجھایا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب

Read more

غلام عباس کی زندگی اور فن پر ایک نظر

غلام عباس اردو ادب کے نامور ادیب ہیں جو 17 نومبر 1909 کو امرتسر کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ساتویں جماعت میں انھوں نے پہلی کہانی لکھی جس کا عنوان تھا ”بکری“۔ اپنے سکول کے استاد مولوی لطیف علی پابند سے حوصلہ افزائی پا کر انہوں نے انگریزی نظموں اور کہانیوں کا اردو میں ترجمہ کرنا شروع کر دیا۔ والد کا انتقال ہوا اور ذمے داریاں بڑھیں تو نویں جماعت میں تعلیم کو ترک کر دیا۔ انھیں تین

Read more

آپ سٹیٹس یا سٹوری پہ کیا لگاتے ہیں؟

آپ غلطی پہ ہیں اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کا سٹیٹس /سٹوری جتنے لوگوں نے ویو کیا ہے انہوں نے توجہ بھی دی ہے۔ بہت سارے لوگ اس لیے بھی آپ کے واٹس ایپ سٹیٹس دیکھتے ہیں کہ آپ بھی وٹے سٹے میں ان کے سٹیٹس ویو کریں۔ کچھ تو ایسے اعلیٰ دماغ ہوتے ہیں کہ ویو پہ لگا کر موبائل فون رکھ دیتے ہیں کہ ساری لسٹ ویوڈ میں آ جائے۔ ان کو سپیشل سلام۔ اگر آپ مذہبی دعائیں

Read more

آزادی کے 75 سال: مشرف خاندان سمیت دلی سے جانے والے خاندانوں نے شہر کو کیسے الوداع کہا ہوگا؟

آزادی کے 75 سال: دہلی کے اس گمنام ریلوے اسٹیشن سے پاکستان جانے والوں کا کیا تعلق ہے؟

Read more

آزادی اور بے وطنی کے بیچ پون صدی

آپ کا نیاز مند پیدا ہوا تو لہو کی لکیر کھنچے 17 برس گزر چکے تھے، بے گھری کے نشان ابھی باقی تھے۔ منٹو نے پہلے سے آزادی اور بٹوارے کی حکایت لکھ رکھی تھی، کچھ کے لئے سب لٹ گیا تھا اور کچھ کے لئے ’کھول دو‘ کی سکینہ تک رسائی کا پروانہ مل گیا تھا۔ پنجاب ہی نہیں، بنگال میں بھی بٹوارہ ہوا تھا۔ شرمندگی ہے کہ بنگال کے بٹوارے کی چبھن بہت بعد میں امیتابھ گھوش کو

Read more

کیا نیشنل ہاکی سٹیڈیم کی آسٹرو ٹرف پی ٹی آئی کے جلسے کے لیے اکھاڑی گئی ہے؟

تحریکِ انصاف کے جلسے کے لیے نیشنل ہاکی سٹیڈیم لاہور میں لگی آسٹروٹرف اکھاڑ دی گئی ہے جس پر ردِعمل دیتے ہوئے کئی افراد کا کہنا ہے کہ ’سٹیڈیم جلسوں کے لیے نہیں بنائے جاتے، ہاکی گراونڈ کی کروڑوں کی آسٹروٹرف خراب کرنے کا کیا فائدہ؟ سامنے منٹو پارک ہے اس میں جلسہ کر لیں۔‘

Read more

”پانچویں پشت“ کی ابلاغی جنگ

پیر کی صبح اٹھتے ہی ”نوائے وقت“ میں معمول کے مطابق چھپا اپنا کالم دیکھا تو شرمندہ ہو گیا۔ اس کی سرخی میں ”پانچویں نشست“ کی ابلاغی جنگ کا ذکر تھا۔ لکھنا جبکہ میں پانچویں ”پشت“ چاہ رہا تھا۔ ”پشت“ کا ”نشست“ میں بدل جانا مجھے پریشان کر گیا۔ غلطی تاہم سراسر مجھ سے سرزد ہوئی تھی۔ کالم کو دفتر بھیجنے سے قبل عجلت میں پروف ریڈنگ کرتے ہوئے اسے دیکھ نہیں پایا۔معذرت کا طلب گار ہوں۔ معذرت بالخصوص اس

Read more

حکایات جدید و مابعد جدید (خاک کی مہک: ڈاکٹر ناصر عباس نیئر)

ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے باقاعدہ لکھنے کا آغاز تنقید سے کیا۔ ان کے موضوعات میں جدیدیت و مابعد جدیدیت خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ موضوعات پیچیدہ اور مشکل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے زیادہ تر طلباء ان موضوعات سے ناآشنا ہی رہتے ہیں۔ ناصر عباس نیر صرف نقاد نہیں ہیں بلکہ آپ اورینٹل کالج، جامعہ پنجاب میں ایسوسی ایٹ پروفیسر بھی ہیں اور یہ فن خوب جانتے ہیں کہ مشکل اور پیچیدہ موضوعات کس طرح سادہ اور

Read more

راجہ انور کے کالمز کا مجموعہ بازگشت

ترقی پسند ادیب و صحافی ہو، یا پھر انقلابی کارکن، معاشرے میں پائے جانے والے تشدد، دنگا فساد، آمرانہ سوچ، جبراً اطاعت، سیاسی قبضے، سماجی استحصال، انسانی برائیوں اور کمزوریوں کو دیکھے گا، تو خاموش نہیں رہ پائے گا۔ اس کے خون میں حرارت بھی پیدا ہو گی اور جذبات بھی بھڑکیں گے، اگر لکھاری ہوا تو اس کے قلم میں جنبش بھی آئے گی۔ راجہ محمد انور بھی ہماری دھرتی کے ایک ایسے ہی منفرد سپوت ہیں، جو ایک

Read more

منٹو کے افسانے بلاؤز کا تجزیہ

منٹو پر تنقیدی جائزہ تو نہیں البتہ تجزیہ ضرور کر سکتے ہیں۔ منٹو فحش نہیں تھا اور نہ ہی بد گو۔ وہ صرف سچ کا پرستار تھا یا سچ منٹو کا پرستار۔ ایک مرتبہ سوشل میڈیا پر کسی لڑکی نے طنز کرتے ہوئے پوچھا کہ بتائیں کہ افسانہ بلاؤز کا معاشرے سے کیا تعلق ہے۔ لاعلمی کے باعث وہاں کمنٹ میں موجود دوسری لڑکی نے اس بات کو مزاح میں اڑا کر ادھر ادھر کی چھوڑ کر رفع دفع کر

Read more

امرتسر میں ننھیالی گاؤں کی سیر

بچپن کی گرمیوں کی راتیں میری زندگی کا خوبصورت اثاثہ ہیں، کیونکہ راتوں کو کھلے آسمان کے نیچے سونے کا موقع ملتا تھا، ہم سب بہن بھائی گھر کی چھت پر سویا کرتے تھے، سونے سے پہلے تقریباً آدھا گھنٹہ ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کرتے، مذاق کرتے، ایک دوسرے کو چھیڑتے، ماضی قریب میں ہونے والی شادیوں پر ہونے والے دلچسپ واقعات دوہراتے اور خوب ہنستے، ہمارے گھر میں بچپن سے ہی نوائے وقت، تعلیم و تربیت اور نونہال

Read more

ادب پر فرائیڈ کے اثرات

ادب پر فرائیڈ کے اثرات میں اگر مغربی ادب کا جائزہ لیا جائے تو یہ اثرات انیسویں صدی میں نمایاں اور واضح صورت میں سامنے آتے ہیں۔ جن فکشن نگاروں نے فرائیڈ کا مطالعہ کر کے ان کے اثرات کو قبول کیا ان میں ڈی۔ ایچ۔ لارنس، جیمز جوائس، ورجینیا وولف، مارشل پروست، فلابیئر، موپساں اور ایملی زولا وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ نفسیات کے زیر اثر جو ادب تخلیق ہوا، اس کی مثالیں اگر عالمی ادب سے دیکھی

Read more

جوکالیاں کا تارڑ

یہ یکم مارچ 1939 کی سہانی صبح تھی جب پنجاب کی دھرتی پر ایک ایسے انسان نے جنم لیا جس کی طبیعت میں عجزو انکساری کے ساتھ آوارگی کا خمیر حد سے بڑھ کر گندھا ہوا تھا۔ لاہور سے کوسوں دور دریائے چناب کے کنارے ایک مشہور و معروف قصبے جوکالیاں میں جاتی سردیوں نے اس دھرتی کو ایک ایسا سپوت بخشنے کا انعام دیا جو آگے چل اپنی آوارگی کو ملکی عزت کو چار چاند لگانے والا تھا۔ جوکالیاں

Read more

فرائیڈ اور ژونگ کے تصورِ ادب کا تقابل

فرائیڈ نے تحلیل نفسی کی روشنی میں جو ادبی نظریہ پیش کیا وہ عام قاری کو شاید درست نظر نہ آتا ہو، لیکن فرائیڈ کی حد تک یہ نظریہ درست معلوم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرائیڈ نے جس طرح ذہنی صحت کے اصول ذہنی مریضوں سے اور اعصابی توازن کے اصول اعصابی خلل کی علامات سے حاصل کیے۔ اسی طرح ادب کا نظریہ اس نے مریضوں کی سرگزشتوں سے حاصل کیا۔ فرائیڈ کی بیشتر کتابوں میں ادب

Read more

بھیگی بھیگی سی افسانوی شام

چاک ایونٹ مینجمنٹ شہر کراچی کی ایک فعال ادبی و ثقافتی تنظیم ہے۔ یہ تنظیم ہر تھوڑے وقت کے بعد کوئی نہ کوئی ایسا پروگرام کرتی ہے جو ادب اور ثقافت کے کسی شعبے کے حوالے سے ہوتا ہے اور بہت خوب ہوتا ہے۔ ڈیڑھ برس کے مختصر سے عرصے میں اس تنظیم نے اپنی ایک نمایاں اور بہت واضح پہچان بنالی ہے۔ اس کے منفرد پروگرام نہ صرف اس تنظیم کا حوالہ اور اس کی شناخت ہیں بلکہ یہ

Read more

خدیجہ مستور کا ناول: ”زمین“

تقسیم ہند نے بہت سے مسائل کو جنم دیا۔ ایک طرف قتل و غارت گری کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا تو دوسری جانب فرقہ ورانہ فسادات نے جنم لیا۔ اس صورت حال نے انسانوں کے دلوں پر اور خصوصاً ادیبوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اور انھوں نے ان واقعات کو قلم بند کرنا شروع کیا۔ جہاں مردوں نے اس صورت حال پر لکھا وہیں عورتوں نے بھی اس موضوع پر قلم اٹھایا۔ چونکہ عورت کا دل نازک

Read more

اردو ناول پر فرائیڈ کے اثرات

اردو ادب میں فرائیڈ سے براہ راست اثرات قبول کرنے والے ناول نگاروں میں مرزا ہادی رسوا، سعادت حسن منٹو، عزیز احمد، عصمت چغتائی، راجندر سنگھ بیدی، ممتاز مفتی، حجاب امتیاز علی، بانو قدسیہ اور اکرام اللہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ جنھوں نے فرائیڈ کے افکار و نظریات کے اثرات کو قبول کیا اور نفسیاتی الجھنوں اور جنسی مسائل کو سامنے لانے کی شعوری کوشش کی۔ مرزا ہادی رسوا کو اس حوالے سے اولیت کا درجہ حاصل ہے جنھیں

Read more

کچھ باتیں ظہیر کاشمیری کی

دسمبر 1994 کا دوسرا ہفتہ ختم ہو رہا تھا۔ موسم سرما کی پھیکی دھوپ میں لاہور کی لٹن روڈ کی سمت سے ایک جنازہ میانی صاحب کے قبرستان کی طرف آ رہا تھا۔ غم نصیبوں میں وہ نیاز مند بھی بوجھل قدموں سے شریک تھا جس نے جانے والے کی بزم طرب سے حیات کا سبق لیا تھا۔ ظہیر کاشمیری رخصت ہو رہے تھے۔ وہی ظہیر کاشمیری جس نے لکھا تھا، ’موسم بدلا، رت گدرائی، اہل جنوں بے باک ہوئے‘۔

Read more

لوہ پور سے شہرِ ادب تک

دنیا کے چند شہر جو اپنی تاسیس کے بعد مکمل آباد رہنے اور دن دگنی رات چگنی ترقی سے ہم کنار ہو رہے ہیں ان میں پاکستان کے دل پنجاب کی دھرتی کے ماتھے کا جھومر لاہور شہر سر فہرست ہے۔ شہر لاہور کے قدیم نام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دو الفاظ کا مرکب ہے جن میں ایک لفظ لوہ یا لاہ ہے جس کا مطلب لو جبکہ دوسرا لفظ آور ہے جس کا مطلب قلعہ

Read more

جہیز میں دینے والی پاکیزہ کتابیں

سنو برخوردار، ’عورت، جنس کے آئنے میں‘ اور ’مرد، جنس کے آئنے میں‘ میری ہی کتابیں ہیں ” اور یہ بھی جان لو کہ وہ فحش یا گندی کتابیں قطعی نہیں، بلکہ بہت پاکیزہ کتابیں ہیں، اتنی صاف ستھری کہ کوئی بھی باپ بلا جھجک انہیں اپنی بیٹی کو جہیز میں دے سکتا ہے۔ ہم میں خرابی یہ ہے کہ جانے بغیر، پڑھے بغیر نتائج اخذ کر لیتے ہیں۔ سرورق پر ”جنس“ کا لفظ پڑھا نہیں کہ اس بے چاری

Read more

پاکستان کا تابناک معاشی مستقبل: چند تجاویز

(سینیٹ کے بجٹ سیشن میں سینیٹر تاج حیدر کی تقریر کا مکمل متن) سینیٹ کے حالیہ بجٹ سیشن کے آخری دن 23 جون 2022 کو مجھے موجودہ بجٹ پر لب کشائی کا موقع ملا۔ قواعد کے مطابق جب میرے حصے کے بیس منٹ مکمل ہو گئے اور محترم چیئرمین نے وقت کے خاتمے کی جانب میری توجہ دلائی تو میں اپنی نشست پر بیٹھ گیا۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ اس بیس منٹ میں دونوں جانب کے محترم

Read more

نیا قانون

سعادت حسن منٹو نے ایک افسانہ لکھا تھا۔ ”نیا قانون“ ۔ تقسیم ہند سے قبل، لاہور کا ایک کوچوان ایک انگریز مسافر کے ہاتھوں روز تضحیک اور تذلیل سہتا۔ اپنے تانگے کی سواریوں کے مابین ایک نئی قانون سازی پر بات چیت سنتا اور اپنے تئیں اس نئی قانون سازی کو معانی پہناتا۔ اپنی طبعی سادگی کے سبب، اس نئے قانون کے ساتھ اپنی بہت سی آرزوئیں منسلک کر بیٹھا۔ وہ گمان کر بیٹھا کہ اس نئے قانون کے ساتھ

Read more

بات سرحد پار: آم کی باتوں سے دل کی باتوں تک، بی بی سی کی خصوصی پوڈ کاسٹ کیسے بنی؟

بی بی سی کی اس خصوصی پوڈ کاسٹ سیریز میں پاکستان اور انڈیا سے فن، موسیقی اور ادب کی دنیا سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات کو اکٹھا کیا گیا ہے۔ 15 جولائی سے ہر جمعے کو اس سیریز کی نئی قسط نشر کی جائے گی جو بی بی سی اردو کی ویب سائٹ، یوٹیوب چینل اور سپاٹیفائی سمیت تمام بڑے پوڈ کاسٹ پلیٹ فارمز پر دستیاب ہو گی۔

Read more

ڈاکٹر صفیہ عباد کے مقالے “راگ رت، خواہشِ مرگ اور تنہا پھول” پر تبصرہ

کتاب: راگ رت، خواہش مرگ اور تنہا پھول مصنفہ: ڈاکٹر صفیہ عباد تبصرہ : علی حیدر علوی گزشتہ کئی ورشوں سے جرعہ بہ جرعہ نامعلوم اضطراب مجھے پیتا جا رہا ہے آخرکار اس سے ایک فائدہ ضرور ہوا کہ مجھے اب اپنا اندروں خالی خالی غبارے کی طرح اوپر کو اٹھتا محسوس ہونے لگا ہے۔ حساس طبیعت بڑی مصیبت ہے اس پر آپ کو ایسے دوست جو دشمن کہلانے کے زیادہ مستحق ہیں، کی صحبت میسر آ جائے۔ ایسے ژولیدہ

Read more

عفت نوید صاحبہ! سب مرد ایسے نہیں ہوتے

محترمہ عفت نوید صاحبہ کے کالم سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ اس کالم کو شروع کرنے سے قبل اس عاجز کا یہ اعتراف جرم سن لیں کہ بندہ بھی ایک مرد ہے۔ بہر حال عفت صاحبہ کے کالم کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی مرد شاعر یا ادیب خود کشی کر لے یا قتل ہو جائے تو کوئی سکینڈل نہیں بنتا۔ اگر کسی خاتون شاعرہ یا ادیبہ سے یہ حادثہ ہو جائے تو اسے بد کردار مشہور کیا

Read more

ایک تھا منٹو۔ ایک ہوا منٹو

کاملان فن جستجو ادب میں محو، شعور کی رو اور ادب کی خدمت گزاری میں ہمہ تن مشغول عمل دکھائی پڑتے ہیں۔ قدیم ایتھنز نے بلا شبہ مغربی ادب کو شعور کی ارتقاء سے روشناس کرایا، اور بڑے بڑے فنکار اور ادیب پیدا کیے۔ ان ادیبوں نے ادب کی مختلف جہات یعنی اصناف کو بروئے کار لاتے ہوئے کلاسیک انواع کے فن پارے پیش کیے۔ وہیں مشرق نے بھی ادب کی خاص طور پر پذیرائی کی اور بڑے مایہ ناز

Read more

آصف عمران کا افسانوی مجموعہ: لوح تحیر

  افسانہ نگاری اصناف نثر کی مقبول ترین صنف ہے۔ یہ صنف نہ صرف دلچسپی کا محور ہے بلکہ اثر پذیری کے اثرات سے بھی بھرپور ہوتی ہے۔ جو وحدت تاثیر سے لے کر زمان و مکان تک خیالات کی عکاسی کرتی ہے۔ کسی نقاد نے کیا خوب کہا ہے۔ افسانہ فکری داستان ہے جس میں کسی خاص واقعہ یا کردار پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ اس کا بیانیہ انداز جس قدر شگفتہ ہو یہ اسی قدر اثر قبولیت پیدا

Read more

۔ احمد ندیم قاسمی (ماہ و سال کے آئینے میں)

ولادت : 20 /نومبر 1916 ء رحلت۔ 10 جولائی 2006 تحریر و تحقیق:۔ ظفر معین بلے جعفری حیات و معاملات حیرت سے جو یوں میری طرف دیکھ رہے ہو لگتا ہے کبھی تم نے سمندر نہیں دیکھا آنس معین خاندانی نام : احمد شاہ ادبی نام : احمد ندیم قاسمی تخلص: ندیم والد کا نام : پیر غلام نبی عرف نبی چن (وفات 1924 ء) ولادت : 20 /نومبر 1916 ء مقام : انگہ، تحصیل خوشاب، ضلع سرگودھا، پنجاب سن۔

Read more

"اکیسویں صدی اردو میں فکشن کی صدی ہوگی” گوپی چند نارنگ

انٹرویو : خالد سہیل گوپی چند نارنگ اردو کے مایہ ناز ادیب ’نقاد اور مقرر تھے۔ پچھلے دنوں وہ فوت ہو گئے۔ میں نے کئی برس پیشتر کینیڈا میں ان کا انٹرویو لیا تھا۔ میں نے نعیم اشرف سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے بڑی محبت سے اس انٹرویو کو میری کتاب۔ پگڈنڈیوں پہ چلنے والے مسافر۔ سے ٹائپ کر دیا۔ اب میں اسے‘ ہم سب ’کے قارئین کے سامنے فخر سے پیش کر سکتا ہوں۔ یہ انٹرویو

Read more

لیفٹ کی سیاست: وہ جو ہم کو یاد نہیں

موجودہ سیاسی منظر نامے میں جہاں ایک جانب رجعتی اخلاقی حقیقتیں ہر دوسری جماعت کا منشور ہیں تو دوسری جانب دم توڑتی نظریاتی سیاست اپنی باقیات پر یاس ہے۔ پبلک ڈسکورس کا محور بنیادی اکثریتی مسائل ہونے کی بجائے ایسے بناوٹی وسوسے ہیں جو عوام کے شعوری وجود پر مسلط کر دیے جاتے ہیں۔ لوگوں کی سیاسی سماج کاری میں کارفرما عوامل نظریے سے یکسر خالی ہیں، بلکہ ان کی جگہ ایک مخصوص قسم کی مذہبی اور سماجی تشریح نے

Read more

میری محبوباؤں کی کہانیاں

  میں جب اپنی پہلی محبوبہ کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہوا تو وہ لڑکپن کا زمانہ تھا۔ ہم کشمیر کے دور دراز پہاڑی علاقے میں واقع ایک گورنمنٹ کے اردو میڈیم اسکول میں پہلی دفعہ ملے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے اس اسکول کی عمارت پتھروں سے بنی تھی۔ پہلی جماعت سے لے کر چھٹی جماعت تک بچے ٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھتے تھے اور سرکنڈے کی قلم سے لکڑی کی تختی پر لکھتے تھے۔ چھٹی جماعت

Read more

کیا آپ نے زندگی میں ایک سے زیادہ محبت کی ہے؟

بہت سے مشرقی مرد اور عورتیں اپنی پوری زندگی میں صرف ایک سچی محبت کرنے اور صرف ایک محبوبہ رکھنے کے قائل ہیں۔ وہ شاعر محبت احمد فراز کے ہم خیال ہیں جو فرماتے ہیں ؎ ہم محبت میں بھی توحید کے قائل ہیں فرازؔ لیکن مشرق میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو نہ صرف ایک سے زیادہ محبتیں کرتے ہیں بلکہ اسے عمر بھر بڑی خوش اسلوبی سے نبھاتے بھی ہیں۔ ان کی نگاہ میں محبت صرف رومانوی محبت

Read more

بائیں بازو کا اتحاد اور متحرک کردار کے امکانات!

گزشتہ ماہ پاکستانی بائیں بازو کی جماعتوں نے اسلام آباد میں آل پارٹیز پیپلز کانفرنس منعقد کر کے ”یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ“ کی بنیاد رکھ دی۔ اس کے باوجود کہ نیشنل میڈیا نے اسے کوریج نہیں دی، لیکن قیام پاکستان سے لے کر ہمارا ملک جن ناگہانی قوتوں اور طبقات کے ہتھے چڑھ کر معاشی، سماجی اور سیاسی دلدل میں دھنس گیا ہے، اور واپسی کے امکانات محدود ہو چکے ہیں، ایسے حالات میں ایک ترقی پسند متبادل سیاست منظم کرنے

Read more

ایک محنت کش لڑکی کا ایڈونچر

دیکھئے آپ کا گلہ تو بجا ہے۔ اس بات میں رتی برابر شک نہیں کہ میں کچھ عرصے سے لکھنے میں سستی کر رہی ہوں۔ آپ جو کہہ رہے ہیں بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ جب سے پاڈکاسٹس کا روگ لگایا ہے تب سے لکھنا لکھانا تو قصہ پارینہ ہی لگتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج کا یہ کالم بار بار لکھ کر مٹایا ہے۔ مشق نہ ہو تو ماہر پہلوان بھی اکھاڑے میں پچھاڑے جاتے ہیں۔ مجھ

Read more

عروسائی پنجروں کی قیدی بچیاں

صبح کافی بارش ہوئی تھی اور شب گئے آندھی بھی خوب چلی۔ یہ سب اسی روز ہوا جب صحت کیمپ لگنا تھا۔ خدشہ تھا کہ کیمپ کے لئے کیے گئے انتظامات درہم برہم ہو چکے ہوں گے۔ خدشات درست ثابت ہوئے۔ پھر کیا تھا، ایک خاتون کے مزار کے ساتھ علاقے کی جنازہ گاہ میں جگہ مل گئی۔ خدا خدا کر کے کیمپ شروع ہوا۔ کیمپ عورتوں اور بچوں کے معائنے کے لئے تھا۔ وہاں آنے والی اکثر عورتیں امید

Read more

جب باپ بیٹی کا رشتہ مردہ ہو جائے

منٹو کا اللہ دتا اور زینب زندہ ہیں! ” کیا لکھتی ہیں آپ؟ کن گھروں کے قصے سناتی ہیں؟ کیا ابا ابا کرتی رہتی ہیں؟ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ آپ کی یہ کہانیاں ہم جیسوں کے زخموں سے کھرانڈ اتار دیتی ہیں۔ جن ٹیسوں کو مشکل سے بھلایا ہے، وہ نئے سرے سے زندہ ہو کر جینا مشکل کر دیتی ہیں ” فادرز ڈے گزر گیا۔ اپنے اپنے ابا کی سب نے تصویریں لگائیں، نظمیں لکھیں، یادیں تازہ

Read more

ایلف شفق کا ناول: اپنے ہی گھر میں غیرمحفوظ ایک بچی کی کہانی

کوئی اگر غلطی کی طرف توجہ دلائے تو دو طرح کے رد عمل ظاہر ہوتے ہیں، پہلا یہ غلطی کو تسلیم کیا جائے اور پھر اس کی تلافی کی راہ تلاش کی جائے، دوسرا یہ غلطی تو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جائے اور غلطی کو محض توجہ دلانے والے کی ذہنی اختراع سمجھا جائے۔ ہم بحیثیت فرد اور قوم دوسرا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ غلطی ماننا تو ایک طرف رہا، غلطی کی نشان دہی کرنے والا ہی

Read more

پروفیسر جاذب قریشی اور بلے فیملی (داستان رفاقت).

تین۔ اگست۔ 1940۔ کلکتہ۔ اکیس۔ جون۔ 2021۔ کراچی تحریر: ظفر معین بلے جعفری پروفیسر جاذب قریشی استادوں کے استاد تھے۔ نامور شاعر، مایۂ ناز ادیب، منجھے ہوئے نقاد، جنگ کے کالم نگار، اپنی ذات میں ایک انجمن اور خدا جانے کیا کچھ تھے۔ ان کی شخصیت کے بہت سے رنگ اور پہلو تھے۔ کچھ دنیا کے سامنے آ گئے اور کچھ سے آج کی نسل ابھی واقف ہی نہیں۔ ساری زندگی ادب کی خدمت میں نہیں گزری۔ بہت سے کام

Read more

بولو جی تم کیا کیا خریدو گے

اس کہانی کے مطالعے سے پہلے ایک بات واضح کر لیجئیے کہ جہاں جہاں یہ کہانی آپ کو حقیقت لگنے لگے، اسے افسانہ سمجھئیے، اور جہاں جہاں یہ افسانہ محسوس ہونے لگے، اسے حقیقت سمجھئیے۔ چند روز قبل ہم سب کے بلاگ سیکشن میں ایک مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں مصنف نے پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے دنیا کے مختلف ممالک کی مثالیں دیں، ساتھ تھائی لینڈ اور دیگر ممالک میں ”براتھل انڈسٹری“ کے کردار کا

Read more

لاہور کے سقراط کی یاد میں

لاہور کے سقراط عزیز الحق کی وفات کے پورے پچاس برس بعد 28 مئی 2022 کو زوم پر ٹیم عزیز نے ان کی یاد میں ایک یادگار محفل کا انتظام و اہتمام کیا جس مین ان کے بچوں ’رشتہ داروں‘ دوستوں اور پرستاروں نے اپنے جذبات و خیالات کا اظہار کیا۔ اس محفل میں ساری دنیا کے مختلف ممالک سے سو سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی اور بہت سے معزز اور معتبر ادیبوں اور دانشوروں عزیز الحق کو خراج

Read more

انڈین پنجاب کے گینگز: کچھ جیل سے چل رہے ہیں تو کچھ غیر ممالک سے مگر کیسے؟

معروف پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے قتل نے ایک بار پھر لوگوں کی توجہ انڈین پنجاب کے گینگسٹرز کی طرف مبذول کرائی ہے۔ سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان گینگز کے زیادہ تر جرائم کا تعلق ایک دوسرے سے دشمنی پر مبنی ہے۔ یہ گینگ امیر لوگوں، فلم اور میوزک انڈسٹری سے وابستہ لوگوں سے زبردستی پیسے لیتے ہیں۔

Read more

کسی کے مرنے پر کیا لکھا جائے؟ (مکمل کالم)

کیا یہ ضروری ہے کہ کسی کے مرنے پر اس کی مغفرت کی دعا ہی کی جائے؟ کیا کسی کے مرنے سے اس کے تمام گناہ از خود معاف ہو جاتے ہیں؟ کیا مرنے والی کی صرف خوبیاں ہی بیان کی جانی چاہئیں کیونکہ دنیا کا یہی رواج ہے؟ کیا مرنے والا شخص کے مقام کا تعین اس کے اعمال سے نہیں کیا جانا چاہیے جو وہ اپنی زندگی میں کرتا رہا؟ کیا مرنے والے شخص کی ذات کی تمام

Read more

سرمد کھوسٹ کا انٹرویو: ’تالاب والے سین کے لیے زندگی بھر صبا قمر کا مشکور رہوں گا‘

فلم کی شوٹنگ 2019 کے آخر میں شروع ہوئی لیکن تک تب سرد موسم کا آغاز ہو چکا تھا۔ اور ایسے میں ایک سین شوٹ ہونا تھا جس میں مرکزی کردار ادا کرنے والی اداکارہ صبا قمر کو ایک تالاب میں اترنا تھا۔

Read more

آپ بیتی، کیسے بیتی؟

آپ بیتی کیسے بیتی؟ کیسے لکھوں؟ یہاں لکھنی بھی چاہیے کہ نہیں؟ لکھوں تو کہاں سے شروع کروں کہاں تک سناؤں؟ کوزے میں دریا بند کرنا آسان کام نہیں۔ مگر دل نے کہا کہ لکھوں! بچپن سے آج تک زندگی کی کانٹوں بھری پگڈنڈی سے گزرا ہوں۔ زندگی کی پگڈنڈی پر بکھرے مضطرب حالات کے کانٹے چنتے، چگتے بھی ذاتی، تعلیمی اور ادبی زندگی کا سفر جاری رکھا۔ میں منٹو نہیں جو گنجے فرشتے جیسی کتابیں لکھ سکوں۔ جو بھی

Read more

نئے مصنف کے نام ایک خط

پیارے مصنف:۔ مجھے کل ہی معلوم ہوا ہے کہ تم ہماری برادری میں نئے نئے وارد ہوئے ہو۔ تمہارا لکھا ہو مضمون جمیل نے لا کر دکھایا، پڑھ کر خوشی ہوئی لیکن چند گزارشات میں کرنا چاہتا ہوں جیسے کہ تمہیں معلوم ہے ہمارے ملک میں مشورہ اور نصیحت بالکل مفت ملتی ہے۔ اس لیے ہر کوئی مشورہ اور نصیحت دیتا ہوا نظر آتا ہے اور شاید مشورہ مفت ہے اس لیے اس پر عمل بھی کوئی نہیں کرتا اور

Read more

چچا سام کے نام دسواں خط

اٹھائیس مئی دو ہزار بائیس میانوالی۔ پاکستان ! چچا جان تسلیمات اس سے پہلے کے بجلی چلی جائے، مجھے خط لکھ لینے دیجیے۔ آپ کو کیا خبر کہ اڑتالیس ڈگری میں دوپہر کو جب دو دو گھنٹے بجلی چلی جاتی ہے تو کیسا محسوس ہوتا ہے، آپ تو اب مریخ کو آباد کرنے کا سوچ رہے ہیں، ادھر ہم زمین پر بنیادی سہولیات کو ترس رہے ہیں۔ پچھتر برس پہلے ہمارے دوست اور آپ کے ہردلعزیز بھتیجے سعادت حسن منٹو

Read more

حبیب جالب کے فلمی گیتوں کا سفر

شاعر عوام حبیب جالب ( 24 مارچ 1928۔ 13 مارچ 1993) نے نہ صرف ہر ظالم، جابر اور آمر کی چیرہ دستیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ عوام کے جذبات و احساسات کی بھی ترجمانی کی۔ حبیب جالب کی زندگی سیاست کے فرعونوں اور زرداریوں کو للکارتے گزری اور نتیجتاً انھیں اپنی اس مزاحمتی سوچ کا خمیازہ قید و بند کی صورت بھگتنا پڑا۔ جالب سر سے پاؤں تک مزاحمت اور بغاوت کا نام تھا۔ ان کی زندگی ان

Read more

پاکستانی ٹھرکی# پاکستانیو نکل جاؤ #

”میرے کمرے کی کھڑکی جو گلی میں کھلتی ہے، کے باہر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر علاقے کے چند آوارہ لڑکے مقامی ویشیا کا ذکر کر کے لطف اندوز ہو رہے تھے اور میں اپنے کمرے میں بیٹھا مدھم موسیقی کے ساتھ ساتھ ان کی واہیات باتیں بھی سن رہا تھا“ ! ان میں سے ایک نے کہا ”یار اب وہ بوڑھی ہو گئی ہے، اس کی بیٹی دیکھی ہے، گلناز نام ہے۔ بہت ظالم چیز ہے!“ اسکی بات

Read more

اردو زبان: انڈیا کی دائیں بازو کی جماعتیں اردو زبان سے خائف کیوں ہیں؟

اردو زبان کا تعلق کس سے ہے؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انڈیا کی دائیں بازو کی جماعتوں کے خیال میں یہ غیر ملکی زبان ہے، ان پر ماضی کے نام نہاد اسلامی حملہ آوروں نے مسلط کی تھی۔

Read more