ہاتھ کی لکیریں دیکھنے کا عشق کب شروع ہوا؟ ماضی کو کھنگالنے اور اس میں اوپر نیچے دبی یادوں کی گٹھڑیوں میں پھولا پھرولی سے وہ صبح آنکھوں کے سامنے آ گئی تھی، جب ہم نصف درجن لفنگی دوستوں کا ٹولہ کالج گراؤنڈ میں بیٹھا تھا۔
مجھے یاد نہیں۔ شاید کسی بات پر ہاتھ لہرایا ہو گا۔ صوفیہ نے یک دم میرے دائیں ہاتھ کو پکڑ کر آنکھوں کے سامنے کیا اور صرف چند لمحے اسے بغور دیکھنے کے بعد گویا ہوئی۔
”کمبخت یہ تو آئن سٹائن کی ماں کہاں سے پیدا ہو گئی ہے؟“
اس کے چہرے کی سنجیدگی اور اس کے انداز اس درجہ ڈرامائی سے تھے کہ پورا ٹولہ بشمول میرے سنجیدہ ہو کر اس کا چہرہ تکنے لگا۔ ”دیکھو! دیکھو! اس کی دماغ کی لکیر۔“ اس نے میری ہتھیلی ان سب کے سامنے پوری طرح کھول دی۔ صاف ستھری، گہری اور سرخی سے بھری ہوئی اوپر کی انتہا سے شروع ہو کر نیچے کی انتہا میں گھس گئی ہے۔
Read more