آزاد زندگی کا چلن مل گیا ہمیں
گردنیں جھکنے کی عادی ہو چکی تھیں۔ ابدان کے ساتھ ساتھ اب اذہان بھی محکوم ہونے لگے تھے۔ مزاجوں میں سرایت کرتی ماتحتی نسلوں کو ورثے میں ملنے لگی تھی۔ سوچوں پر پڑے پہرے کڑے سے کڑے ہو چلے تھے۔ ہر نومولود کے مقدر کی پیشانی پر چاکری لکھا جانے لگا تھا۔ حکمت و دانش سے محروم ہوتی سماعتیں سرگوشیوں کی عادی ہو چلی تھیں۔ امس زدہ فضاؤں میں احساسات کا دم گھٹنے لگا تھا۔ حمیت و غیرت کے سیخ
Read more

























































































