چودھری محمد علی: چند یادیں

بچپن میں جس نامور شخصیت کا بہت ذکر سننے کو ملا وہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم چودھری محمد علی تھے۔ اس کے چند اسباب تھے۔ چودھری صاحب میرے سب سے چھوٹے خالو چودھری علی احمد مرحوم کے فرسٹ کزن تھے۔ لیکن یہ بنیادی سبب نہیں تھا۔ اصل سبب ان کا ارائیں برادری سے تعلق تھا۔ مجھے یاد ہے کہ گاؤں میں جب کبھی خوشی غمی کے موقع پر اکٹھ ہوتا تو چودھری صاحب کا ذکر بھی آ جایا کرتا

Read more

بھٹو خاندان کی ٹریجڈی: ذوالفقار علی بھٹو کے دو بدنصیب بیٹے

وزیراعظم ترکی جناب بلند ایجوت نے مجھ سے کہا کہ ”آج مجھے ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی میں ملنے تشریف لائیں اور وہاں ہم دونوں کھانا ساتھ کھائیں گے۔“ یہ میرے لیے اعزاز تھا، وزیراعظم ترکی کے ساتھ لنچ، دوسرا ترکی کی اس پارلیمنٹ میں ملاقات جو مسلم دنیا کی پہلی پارلیمنٹ ہے۔ پارلیمنٹ کے صدر دروازے پر پروٹوکول والے میرے منتظر تھے۔ وزیراعظم ترکی بلند ایجوت نے مجھے Pick کرنے کے لیے اپنی ذاتی کار بھیجی جسے ان کے

Read more

مشرقی شرفا کے بارے میں ایک خط: ڈاکٹر خالد سہیل کے نام

ہما جمال کا ادبی محبت نامہ محترم ڈاکٹر خالد سہیل! آج بہت عرصہ بعد آپ سے خط و کتابت کا خیال دل میں ابھرا۔ لوگ آپ کو خط لکھتے ہیں اور باتوں باتوں میں آپ سے نفسیاتی الجھنیں کا حل معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوچا کیوں نہ میں آپ سے ایک اہم مسئلے پر ادبی گفتگو کرلوں لیکن ڈاکٹر صاحب ادبی گفتگو میں اگر بے ادبی کی بات ہو جائے تو کیا یہ اعلیٰ ادب کہلائے گا؟ جیسے

Read more

جناب! عوام کو ہلکا نہ لیں

ہو سکتا ہے کہ یہ سوچ حاوی ہو کہ لگتے رہیں نعرے، ہوتے رہیں جلسے، چلتی رہے تحریک اور بڑھتے رہیں لانگ مارچ، ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔ اپوزیشن حکومت کا کیا بگاڑ لے گی؟ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

اس لاحاصل عہد میں عمریں یونہی ڈھلتی ہیں

ہر عہد کی ایک خوشبو ہوتی ہے، کسی انجان جنگلی پودے سے آنے والی تیز مہک، بعد کے برسوں میں ہم جس کی ایک اداس کر دینے والی کیفیت میں جستجو کرتے ہیں. وہ جنگل ہی کٹ گیا، لوگ اوجھل ہو گئے، گلیاں اور مکان بدل گئے، تو وہ خوشبو کہاں رہی جو دلوں میں خوشی اور خواب جگاتی تھی. شکرگڑھ شہر سے مشرق میں کوٹ نیناں کی طرف سفر کریں تو بڈوال جنگل کے کنارے بارہ منگا کے پڑاؤ

Read more

ہنزہ کے قیدی رہا ہوئے

 نو سال بعد آدھی رات کو زندان کے دروازے کھل گئے، ناکردہ گناہوں کی سزا کے 14 قیدی جن کو انصاف کے نام پر40 سے 90 سال تک پابند سلاسل کر رکھا گیا تھا، آزاد کر دیے گئے۔ 14 لوگوں کے نو سال قید میں گزرے مجموعی طور پر 126 سال یعنی پاکستان میں تین افراد کی اوسط زندگی جتنی عمراندھیروں میں بیت گئی۔ یہ کیسا انصاف ہے جس نے 14 لوگوں سے جوانی اور والدین سے ان کے بڑھاپے

Read more

گلگت بلتستان کے سیاسی رہنما بابا جان نو برس بعد رہا؛ ‘پر امن جد و جہد جاری رہے گی’

گلگت — گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ میں عوامی ورکرز پارٹی (اے ڈبلیو پی) کے رہنما بابا جان جیل سے ضمانت پر رہائی کے بعد گھر پہنچ گئے ہیں۔

بابا جان اور ان کے متعدد ساتھیوں کو 2011 میں فسادات اور املاک کو نقصان کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔ اور ان پر دہشت گردی سمیت دیگر سنگین جرائم کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔

Read more

بلیک لائیوز میٹر کی بانی خواتین: ’ہم نے تاریخ کا رُخ موڑ دیا، ہمارے کارنامے کتابوں میں درج ہوں گے‘

بی ایل ایم کی تین شریک بانیوں، ایلیسیا گارزا، پیٹریس کلرز اور اوپل توومیٹی نے بی بی سی 100 ویمن ماسٹرکلاس 2020 میں خطاب کیا۔ تینوں خواتین کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں اس تحریک نے سیاست کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

Read more

پاک ریاست کی بانجھ مائیں

اولاد ایک ایسا لفظ ہے جس کا تصور کرتے ہی لبوں پہ مسکان ڈور جاتی ہے۔ دل کو ٹھنڈک پہنچتی ہے۔ ہر صاحب اولاد اس تجربے سے بارہا گزرا ہو گا کہ اس نعمت کے حصول کے بعد اس کی زندگی کس قدر خوشگوار ہو جاتی ہے۔ کس طرح بدل جاتی ہے۔ اور کیسے ایک ایک دن گن کر اس کو کتنی محبت اور کتنی قربانیوں سے پالا پوسا جاتا ہے۔ کتنی ماؤں کی راتوں کی نیندیں ان جیتے جاگتے

Read more

کورونا ویکسین ٹرائل کا حصہ بننے والے رضاکاروں کو جنسی تعلق قائم کرنے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟

پاکستان میں بہت سے لوگ صرف اس وجہ سے کورونا ویکسین ٹرائل کا حصہ نہیں بن رہے کیونکہ ان کے ذہنوں میں اس ٹرائل کے دوران ’جنسی تعلق قائم نہ کرنے‘ سے متعلقہ شرط کے حوالے سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

Read more

ضلع سوات میں بچوں کی اموات

خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال پانچ ہزار سے زائد نومولود یا دوران زچگی بچوں کی اموات واقع ہوتی ہیں۔ ان اموات میں زیادہ تر 18 سال سے کم عمر حاملہ خواتین کے پیٹ میں پلنے والے ان بچوں کی ہوتی ہے جن کو اس دنیا میں آنکھ کھولنا نصیب نہیں ہوتا۔ بچے تو ماں کی پیٹ میں یا پیدائش کے فوراً بعد ہی مر جاتے ہیں، لیکن یہ کم عمر ماں کے

Read more

لبرٹی چوک کا نام رین بو چوک کرنے کا نیک نیت احمقانہ فیصلہ

گزشتہ دنوں ایک خبر پڑھ کر جتنی خوشی ہوئی اس سے کہیں بڑا صدمہ تصویر دیکھ کر ہوا۔ خبر یہ تھی کہ لبرٹی چوک کا نام تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ہماری رائے میں یہ ایک بہت اچھا فیصلہ ہے۔ وطن عزیز ایک نظریاتی ملک ہے۔ یہاں مادر پدر آزادی کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔ جب بھی لبرٹی چوک پر کسی مظاہرے کی خبر آتی تو یہی پتہ چلتا کہ موم بتی مافیا نے بلاوجہ کا ہنگامہ برپا کیا ہوا ہے۔

کبھی علم ہوتا کہ غیرت کے نام پر کوئی قتل ہو گیا ہے تو اس پر احتجاج ہو رہا ہے۔ بھلا اس نظریاتی ملک میں یہ اجازت دی جا سکتی ہے کہ کوئی بے غیرتی کرے تو اسے قتل نہ کیا جائے؟ یہ درست ہے کہ کئی مرتبہ جائیداد یا دشمنی وغیرہ کے چکر میں بھی غیرت کا الزام لگا کر قتل کر دیا جاتا ہے، مگر بحیثیت مجموعی دیکھا جائے تو اس قتل و غارت کے سبب معاشرے میں اعلیٰ انسانی اقدار اور امن و آشتی کی ترویج ہوتی ہے۔ پھر احتجاج کیوں؟

Read more

ماں کی قبر کی گیلی مٹی پر دعا کرنے کے لیے کتنے دن کافی ہوں گے؟

نواز شریف کی والدہ شمیم اختر نے زندگی میں بہت نشیب و فراز دیکھے۔ انہوں نے ساٹھ اور ستر کی دہائی میں وہ وقت بھی دیکھا جب ہر طرف ان کے شوہر کے کاروبار کا طوطی بولتا تھا۔ کاروبار میں ایسی برکت ہوئی کہ دنیا بھر میں میاں شریف کا نام ہوا۔ اس وقت یہ خاندان پاکستان کے رئیس ترین خاندانوں میں شمار ہوتا تھا۔ بھٹو دور میں نیشنلائزیشن کا نعرہ لگا تو میاں شریف سب کچھ سمیٹ کر دساور کے سفر پر جا نکلے۔ عرب ممالک نے پاکستان کے ایسے بزنس مین کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔

آپی جی کی دعاؤں میں ایسی برکت ہوئی کہ کاروبار بیرون ملک بھی پھلنے پھولنے لگا۔ سربراہان مملکت سے ملاقاتیں ہونے لگیں۔ بڑے بڑے لوگ گھر پر مدعو ہونے لگے۔ لیکن اس سے آپی جی کی سوچ میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ انہوں نے تمام تر امارات کے باوجود ہمیشہ سادہ لباس پہنا۔ نماز روزے کی پابندی کی۔ عزیز رشتہ داروں کا ہر مشکل میں خیال رکھا۔ کس کے گھر تعزیت کے لیے جانا ہے؟ کہاں مبارک باد دینی ہے؟ کہاں کسی بچے کے رشتہ کی بات کرنی ہے؟ کہاں کس کی چپکے سے مدد کرنی ہے؟ کس کے لئے نماز کے بعد خصوصی دعا کرنی ہے؟ کس کی کامیابی کے بعد شکرانے کے نفل پڑھنے ہیں؟ یہ سب فیصلے ہمیشہ سے آپی جی نے خود ہی طے کیے تھے۔ لیکن ان کی زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ ان کی دعائیں تھیں، نماز روزے کی عادت تھی۔ وہ آخری وقت تک اس معمول کی پابند رہیں۔ اس میں کوئی رخنہ یا رکاوٹ انہیں قبول نہیں تھی۔

Read more

کیا صنفی تنازع رفع ہو گا؟

روس کے ایک سرکاری چینل پر ”دیوار“ نام کے ایک پروگرام میں شوہر اور اہلیہ میں سے ایک کو بند کمرے میں جانا تھا، جہاں سننے اور دیکھنے کو کچھ نہیں تھا، ماسوائے ان سوالوں کو سننے اور ان کا جواب دینے کے جو اس سے کیے جاتے۔ بیوی نے شوہر کو بھیجنے کا فیصلہ کیا اور کہا، ”فیصلے مرد کو ہی کرنے چاہئیں اور تم میرے حقیقی مرد ہو“ ۔ یہ بات اس ملک کی عورت کہہ رہی تھی

Read more

عمران حکومت کی آختہ کاری مہم

”وقائع سیرو سیاحت ڈاکٹر برینئر، بعہد شاہ جہان و اورنگ زیب“ میں ایک ایسا قصہ ملتا ہے جس نے مصنف اور اس کے مترجم سید محمد حسین دونوں کو حیرت زدہ کر دیا۔ عنوان ہے ”ایک واقعہ کا ذکر جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خوجوں کو بھی تعشق ہو سکتا ہے۔“ برینئر لکھتے ہیں ”انہیں دنوں ایک ایسا افسوسناک واقعہ دہلی میں ہوا کہ جس کا تمام شہر اور بالتخصیص شاہی محل سرا میں بہت چرچا تھا اور

Read more

الوداع” کاون“

اگر سب کچھ طے شدہ پروگرام کے مطابق ہوتا ہے تو دو دن بعد، یعنی 29 نومبر کی صبح چھ بجے کارروائی شروع ہو جائے گی۔ ”کاون“ کو کئی ہفتوں سے لوہے کے بنے ایک بہت بڑے پنجرے میں داخل ہونے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ کسی ترغیب کے سبب وہ اس فولادی پنجرے میں آ جائے گا۔ ٹھیک دس بجے اسے انجکشن لگیں گے جن کے باعث وہ بے ہوش ہو کر

Read more

نک میرا ”ہیرو“ کیو ں ہے؟

نک سے اپنے بھرپور عشق کے اظہار میں مجھے قطعاً کوئی عار نہیں۔ وہ میرا ہیرو ہے اور میرے دل کے بہت نزدیک اگر اس کی خاموش شریر مسکراہٹ میرا جی موہ لیتی ہے تو ہزاروں کا مجمع دم سادھے اس کی سنجیدہ متاثر کن گفتگو کا ایک ایک لفظ سنتا ہے۔ اور ہاں اکثر تو نک میری ملازمت کے اوقات میں میرے منشیات کے عادی کلائنٹ کی تھراپی کے دوران کمپیوٹر کے اسکرین پہ بھی موجود ہوتا ہے۔ عسرت

Read more

ادھورا عشق ادھوری داستان

نیلی کانچ آنکھیں اسے کبھی بھولی ہی نہیں تھی وہ بھول جانے والی نہیں تھی اسے وہ زبانی یاد تھی کسی آیات کی طرح ان کی دوستی سے محبت کا سفر چار سالوں پہ محیط تھا

ہاشم اور گیتی کی مائیں آپس میں کزن تھیں کسی تقریب میں وہ امی کے ساتھ گیا تو وہاں اس کی ملاقات خالدہ آنٹی سے ہوئی ان کے ساتھ نیلی کانچ آنکھوں والی گیتی بس وہ نیلا کانچ جیسے دل۔ میں کھب گیا گھر آ کے کتنی بار ہی امی سے آنٹی خالدہ اور گیتی کے بارے میں پوچھتا رہا امی نے بتایا یہ میری دور کی کزن ہیں زیادہ ملنا ملانا نہیں۔ رشتے دار بھی ان سے زیادہ نہیں ملتے

Read more

کیمیائی طور پہ جنسی نامردمی اور منٹو!

منٹو، عہد حاضر کا سب سے بڑا نباض! دیکھئیے کیا لکھتا ہے، ”خان بہادر کی بیوی اپنے شوہر کے کمرے میں گئی جو کہ خالی تھا مگر بتی جل رہی تھی۔ بستر پر سے چادر غائب تھی۔ فرش دھلا ہوا تھا، ایک عجیب قسم کی بو کمرے میں بسی ہوئی تھی۔ خان بہادر کی بیوی چکرا گئی کہ یہ کیا معاملہ ہے، پلنگ کے نیچے جھک کر دیکھا مگر وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ لیکن ایک چیز تھی، اس نے

Read more

”کاون“ جا رہا ہے

کاون کا آبائی وطن سری لنکا ہے۔ 1985 میں صدر پاکستان ضیاءالحق اپنی فیملی کی ہمراہ سری لنکا گئے تھے۔ جہاں سری لنکا حکومت نے جنرل ضیاء الحق کی بیٹی زین ضیا ء الحق کو تحفے میں کاون دیا تھا۔ کاون جب پاکستان آیا تو اس کی عمر ایک برس تھی۔ کاون پچھلے 35 سالوں سے چڑیا گھر میں آنے والوں کو تفریح مہیا کر رہا ہے، 2012 میں کاون کی مادہ انتقال کر گئی تھی، کاون اکیلا رہ گیا تھا، کاون پچھلے 8 برسوں سے قید تنہائی کاٹ رہا تھا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے حکم دیا کہ کاون کو ان کی قدرتی ماحول میں بھیجا جائے چنانچہ اسی فیصلے کے تناظر مین کاون کو کمبوڈیا بھیجا جا رہا ہے۔

Read more

حکومت دہرے دباؤ میں

بلاشبہ کورونا کی وبا پھر سے پھیلنے لگی ہے۔ 23 فروری 2020ء کے روز پاکستان کے تفتان بارڈر پر آن دھمکنے والی یہ وبا جس طرح ملک میں داخل ہوئی اس پر مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں عجلت پسندی، نا اہلی، غفلت اور بعض مخصوص مذہبی وابستگی رکھنے والے معاونین کو بھی کورونا کو پاکستان داخل کرنے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ بہر طور جب مارچ میں کورونا پاکستان میں زور پکڑ رہا تھا تو جناب عمران خان اسے نزلہ

Read more

نواز شریف: جانے کس جرم کی پائی ہے سزا؟

نواز شریف کو اکتوبر 1999 ء کے بعد سے اب تک تقریباً ایک جیسے حالات کا ہی سامنا رہا ہے جن میں غاصب طاقتوں کا غیظ وغضب اور وفاداری کی قسمیں کھانے والے ساتھیوں کی بے وفائی سمیت پارٹی میں پھوٹ ڈالنے کی کوششوں کا سامنا وغیرہ شامل ہیں۔ مثلاً جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء کے بعد شریف خاندان کی خواتین کو تقریباً ایک سال تک نظربند رکھنے کے بعد جب رہائی دی گئی تو اس وقت نواز شریف

Read more

نواز شریف کی والدہ کی رحلت اور حکمران پارٹی کا رویہ

1985 کی بات ہے۔ ایک جواں سال بالر انگلینڈ کے میدانوں میں بال پر تھوک لگا کر اسے اپنی پتلون پر رگڑ رہا تھا،  ادھر پاکستان میں اس کی والدہ بستر مرگ پر ایڑیاں رگڑ رہی تھیں۔ ادھر وہ گیند کو چمکا رہا تھا اور ادھر والدہ کے چہرے پر موت کی زردی چھا رہی تھی۔ والد محترم نے بیٹے کو بتایا کہ دم رخصت ماں اسے آخری بار دیکھنے کی متمنی ہے۔ سو وہ دستیاب پہلی فلائٹ سے واپس

Read more

حکومت نے بتایا ہی نہیں

جمہوری ممالک میں ادارے اور عوام مضبوط ہوں تو ملک ترقی کی شاہراہ پر چلتے ہیں۔ ترقی کا پیمانہ ناپنے کے لئے ضروری ہے کہ اس ملک کے لوگوں کے سیاسی و اخلاقی رویوں کو دیکھا جائے۔ اگر تو عوام کی اخلاقی اقدار مضبوط وتوانا ہیں تواس کا مطلب ہے کہ اس ملک کے لوگوں کی سیاسی اپروچ اور معاشی حالت بہتر ہے وگرنہ ایسی قوم کو مزید پختگی کی ضرورت ہوگی۔ پاکستان کی اگر بات کی جائے تو افسوس

Read more

ہمارے بھی حقوق ہیں

آپ نے انسانی حقوق کے بارے میں تو ضرور سن رکھا ہوگا۔ اقوام متحدہ کے اعلامیے میں اسے تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ انسان کے انسان ہونے کے ناتے حقوق بنتے ہیں۔ کچھ ملکوں نے اس پر عمل بھی کیا اور مدنیہ سے ملتی جلتی ریاستیں تشکیل دے دیں۔ یہ اور بات کہ بہت سے ممالک میں لوگ اور حکومتیں اس سے بے خبر ہیں۔ خبر آتے آتے بھی دیر ہو جاتی ہے۔ جب پتہ لگ جائے گا

Read more

فن مصوری میں بولتی چڑیاں

لفظوں کی طرح رنگوں کی اپنی دنیا ہے۔ جو مصنف اور آرٹسٹ دونوں کی سوچ سے تعمیر پاتی ہیں۔ تعمیراتی سوچ کادائرہ جتنا وسیع، مکمل اور انسانی زندگی کا احاطہ کرے گا اتنی ہی کسی تہذیب، معاشرے یا علاقہ کی بنیادیں مضبوط ہوں گی۔ دونوں اپنے اندر وہ طاقت چھپائے ہوئے ہیں جو اشخاص، اقوام اور ملکوں میں سے کسی کی قسمت سنوار سکتی ہیں اگر وہاں کے رہنے والے نفوس اس کا استعمال عملی زندگی میں کریں۔ مذکورہ بات

Read more

ازدواجی زندگی

شادی دو لوگوں کا ملن ہے ہمارے معاشرہ میں ان دو لوگوں کے ملن سے زیادہ دو خاندانوں کے ملنے پہ انحصار کرتا ہے۔

ماں اور بہنیں بہت بھاگ دوڑ چھان پٹھک کے بھائی کی دلہن لاتی ہیں۔ کتنے گھروں کا چکر لگتا ہے۔ مختلف قسم کے ناشتے کیے جاتے ہیں۔ امیر غریب متوسط گو کہ ہر گھر میں اپنے معیار کی لڑکی ڈھونڈی جاتی ہے۔

لڑکی والے بھی کسی طور کم نہی ہوتے۔ لڑکا دیکھنے اس کے گھر گئے ہیں اور بیٹھک میں لڑکا جوتے اتار کر اندر آیا تو اسے مسترد کر دیا جاتا ہے۔ اکثر لڑکیاں اسی لئے وقت پر شادی سے محروم رہ جاتی ہیں کہ باپ اور بھائیوں کے دماغ ساتویں آسمان پر ہوتے ہیں۔

Read more

خواتین پر تشدد

گھریلو تشدد سماجیات کا وہ پہلو ہے جو خاندان یا گھر سے جڑا ہوتا ہے جو اکثر گھروں میں ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے جنم لیتی ہے۔ یہ ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔ عورتوں پر تشدد اور ستم معاشرے کا انتہائی دردناک المیہ ہے۔ اس سے زیادہ دردناک اور تلخ ناک المیہ یہ ہے اس تشدد اور ذلت کی ابتدا منفی رویوں سے ہوتی ہے۔

عورت پر تشدد کی ابتدا اپنی ماں سے ہوتی ہے یہ تشدد جسمانی نہیں بلکہ ذہنی طور پر دیا جاتا ہے جب بھائی کی نسبت کم اہمیت دی جاتی ہے۔

Read more

کاظمی اینڈ سنز عرف سترہ برس کا بیٹا

حمل کے پانچویں مہینے میں ہونے والا الٹرا ساؤنڈ تھا۔ ادھیڑ عمر ریڈیولوجسٹ انہماک سے سکرین پہ نظریں گاڑے، ہاتھ سے مشین پروب کو پکڑے تصویر پہ توجہ مرکوز کیے ہوئے تھے۔ یکایک ان کی پیشانی پہ کچھ شکنیں ابھریں اور آنکھیں سکڑ گئیں۔ چہرے پہ لکھی تشویش پڑھی جا سکتی تھی۔ کاؤچ پہ دراز مریضہ نے ڈاکٹر کی بدلتی حالت دیکھ کر کچھ متفکر ہو کر پوچھا، ”ڈاکٹر صاحب سب ٹھیک ہے نا؟“ ” مجھے افسوس ہے کہ آپ

Read more

کزن میرج اچھی یا بری؟ میڈیکل نقطہ نظر

کیا کزن میرج مستقبل کی اولاد کے لیے خطرناک ہوتی ہے؟
کیا خاندان میں شادیاں کرنے سے یا یوں کہہ لیں کزن میرج سے بچوں میں پیدائش نقص کا خطرہ بڑھتا ہے؟
کیا کزنز کے درمیان شادیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد معذور پیدا ہوتی ہے؟
کیا کزن میرج کرنی چاہیے؟
کیا کزن میرج اولاد کے لیے خطرناک ہوتی ہے؟

ان سارے سوالوں کا جواب اتنا آسان نہیں بلکہ اس کے لئے بنیادی جینیاتی اصولوں سے واقفیت ضروری ہے۔

Read more

پاکستان میں ریپ کے مجرموں کو ‘نامرد’ کرنے کا قانون کتنا مؤثر ہو گا؟

پاکستان میں وفاقی کابینہ نے زیادتی کے مجرموں کے لیے سخت سزاؤں پر مشتمل سفارشات کی منظوری دی ہے جس کے تحت ریپ کے مجرموں کو دواؤں کے ذریعے نامرد کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔ وفاقی وزرا کا کہنا ہے مجرموں کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کے اس عمل ‘کیمیکل کیسٹریشن’ مخصوص مدت یا زندگی بھر کے لیے ہو سکے گی۔

دنیا کے تین ممالک میں مجرموں کو نامرد کرنے کے قوانین موجود ہیں۔

قانونی اور آئینی ماہرین کی نظر میں قوانین سے پہلے پولیس اور عدالتی نظام کو بہتر کرنا ہو گا۔

Read more

ماہر نفسیات سالیوان اور انسانی رشتوں کی نفسیات انسانی نفسیات کے راز۔ قسط نمبر 4

انسانی نفسیات کے رازوں کی اس سیریز کی پہلی دو قسطوں میں ہم نے سگمنڈ فرائڈ کے نظریات اور تیسری قسط میں کارل ینگ کے خیالات کا جائزہ لیا۔ ان دونوں ماہرین نفسیات کے خیالات میں قدرے اختلاف کے باوجود یہ قدر مشترک تھی کہ ان کا موقف تھا کہ انسان کے نفسیاتی مسائل اس کے شعور اور لاشعور کے تضادات سے جنم لیتے ہیں۔ فرائڈ کا زیادہ جھکاؤ جنسیات کی طرف اور ینگ کا زیادہ جھکاؤ روحانیات کی طرف تھا لیکن ان دونوں دانشوروں نے انسانی نفسیات کے جدید علم کی ایسی پختہ اور دیرپا بنیادیں رکھیں کہ ان پر ماہرین نفسیات کی آنے والی نسلوں نے بلند و بالا عمارتیں تعمیری کیں۔ ان ماہرین میں سے ایک ماہر نفسیات جن کے خیالات پر آج ہم اپنی توجہ مرکوز کریں گے ان کا نام ہیری سٹاک سالیوان ہے۔

Read more

کیمیکل کیسٹریشن: کیا جنسی صلاحیت ختم کرنے کی سزا ریپ کے واقعات میں کمی لا سکتی ہے؟

گذشتہ روز وفاقی کابینہ نے ریپ کے مجرموں کی جنسی صلاحیت ختم کرنے جیسی سزاؤں کی اصولی منظوری دے دی۔ اس فیصلے پر بی بی سی نے ریپ کا شکار ہونے والی لڑکیوں، ان کے اہل خانہ، سماجی کارکنان اور قانونی ماہرین سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا ایسی سزاؤں سے ریپ مقدمات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

Read more

نکولا ٹیسلا کی داستان حیات

انسانی تاریخ میں کچھ ایسے نایاب افراد پیدا ہوئے جنہوں نے سچے علم کی خاطر عظیم کارنامے سرانجام دیے۔ اور کبھی بھی اپنے کارناموں پر فخر تک نہ کیا۔ پیسہ، عزت شہرت اور مقام کی تمنا کیے بغیر کچھ افراد نے انسانیت کی فلاح اور اس کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ نکولا ٹیسلا ایک ایسے ہی بے لوث، عظیم، قابل اور شاندار انسان تھے کہ آج انہیں دنیا ”بیسویں صدی کے موجد“ کی حیثیت سے یاد کرتی ہے۔ ہم سب کی آج کی تحریر نکولا ٹیسلا کے بارے میں ہے۔

آج سے ٹھیک 164 سال پہلے 1856 کی نو اور دس جولائی کی درمیانی رات کو اس وقت کی طاقتور سلطنت آسٹریا اور موجودہ کروشیا میں ایک سربین فیملی میں ایک بچے کی پیدائش ہوئی۔ جب یہ بچہ پیدا ہو رہا تھا تو اس وقت آسمانی بجلی شدت سے کڑک رہی تھی۔ گھر میں خوف اور اندھیرے کا راج تھا۔ بچے کی دائی نے پیدائش کے وقت اسے ’اندھیرے کا بچہ‘ کا خطاب دے ڈالا۔ بچے کی ماں نے دائی کو فوری جواب دیتے ہوئے کہا۔ ’نہیں، یہ روشنی کا بچہ ہے‘ ۔

Read more

محبت فاتح عالم

ستر برس کی ثمینہ احمد اور منظر صہبائی سے پہلے ایک سو برس کے یاور عباس اور نور ظہیر بتا چکے ہیں کہ محبت وجود کی نہیں روح کی ضرورت ہے۔ یہ مشہور لوگ ہیں۔ اخبار میں ایسی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں کہ ستر سال کی اماں برکتے نے 75 سال کے بابا رحمت کے ساتھ شادی کرلی۔ سفید بالوں‘ اکھڑے ہوئے دانتوں اور عام سے لباس میں چارپائی پر یہ جوڑا اپنے پوتوں پوتیوں اور نواسے نواسیوں کے

Read more

تاریخی آپریشن کے بعد علیحدہ کی جانے والی جڑواں بہنوں کی معذوری کے باوجود ’بھرپور زندگی‘ کی روداد

برمنگھم کے چلڈرن ہسپتال میں ایک تاریخی آپریشن کے بعد زندہ بچ جانے والی وہ بہنیں جن کے دھڑ جڑے ہوئے تھے وہ اب اپنی 20 ویں سالگرہ منا رہی ہیں۔

Read more

چالیسویں منزل سے گرتے میں نے سوچا

میں نے اپنے آپ سے ایک سوال پوچھا: دنیا میں اتنا درد کیوں ہے؟ الفاظ بے حس و حرکت زبان کی تہ میں پڑے رہے۔ کسی میں اتنی ہمت نہ ہوئی کہ جواب کا ساتھ دے پاتا۔ ڈستی ہوئی خاموشی کے نہ سرکتے ہوئے لمحے پاؤں پسار کے بیٹھ گئے۔ ایک بے نام کی آواز نے مجھے اندر اور باہر سے گھیر لیا۔ میرا حال اس سیارے کی مانند تھا جس کے باہر کی جانب کڑکتی ہوئی خلا کا ماضی تھا۔ اور اندر کی طرف دہکتے ہوئے سورج سا مستقبل۔ اور میں ان کے درمیان معلق۔ کانوں میں سرگوشیاں ہونے لگیں جو ذہن کی کھڑکیوں تک پہنچتے پہنچتے طوفان کی شکل اختیار کر گئیں۔ شعور ریزہ ریزہ ہو گیا اور لاشعور میں ایک بازگشت سنائی دینے لگی۔ مجھے مر جانا چاہیے۔ مجھے مر جانا چاہیے۔

Read more

گاؤں، بچپن، جگنو

کس قدر سادہ اور خوبصورت زمانہ تھا، ہر قسم کے فکروفاقہ سے آزاد، امارت اور غربت کے احساس سے بالاتر، پورا گاؤں ایک ہی خاندان کی طرح ہی لگتا تھا۔ اگر گاؤں کے کسی گھر میں کوئی بیمار ہو جاتا، تو پورا گاؤں تیمارداری کے لئے آ جاتا، اور ہر قسم کے دیسی ٹوٹکے استعمال کیے جاتے، حیرت کی بات یہ تھی، کہ لوگ ان سے ٹھیک بھی ہو جاتے۔ تب شاید لوگوں میں خلوص بھی خالص تھا، جس کی تپش ہر قسم کی بیگانگی اور تکلف کے پردے اٹھا دیتی تھی۔

Read more

دوحا ایئرپورٹ پر کوڑے دان سے ملنے والی بچی کے والدین کی شناخت ہو گئی، بچی قطری حکومت کی نگرانی میں

قطر کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ دوحا کے ہوائی اڈے پر ایک کوڑے دان میں جس نوزائیدہ بچی کو چھوڑ دیا گیا تھا اس کے والدین کی شناخت کرلی گئی ہے۔

Read more

پاکستان پیپلز پارٹی کا المیہ

پہلی مرتبہ ذو الفقار علی بھٹو نے حیدر آباد سندھ میں میر رسول بخش تالپور کے گھر ایک نئی پارٹی کی تشکیل کی بات کی۔ یہ 16 ستمبر 1967ء کی اک خوشگوار صبح تھی۔ بھٹو نے اس موقع پر جمع اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا۔ ”ایک نئی سیاسی پارٹی کی تشکیل ہی وہ تنہا سبیل ہے جو انہیں منزل مقصود تک پہنچا سکتی ہے“ ۔ منزل مقصود سے ان کی مراد خوشحال پاکستان اور امن انصاف، مساوات

Read more

میاں نواز شریف کی اپنی ماں سے محبت

جب سابق وزیراعظم نواز شریف اپنے خلاف بنائے گئے ریفرنسز کا سامنا کرنے کے لئے پاکستان واپس آرہے تھے تو ان کی والدہ مرحومہ شمیم اختر کا ایک ویڈیو پیغام وائرل ہوا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ”پاکستان کا بیٹا میرا بیٹا ہے جس نے اسے روشن بنایا، کل وہ واپس آ رہا ہے تاکہ میں پھر سے اس کا ماتھا چوم سکوں۔“ ان کا کہنا تھا کہ اگر میرے بیٹے نواز شریف کو جیل بھیجا گیا تو

Read more

Miss Management یا Mismanagement

خاندان کئی افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ مگر ہر خاندان کسی نہ کسی مس مینجمنٹ کے بل بوتے پہ ہی چل رہا ہوتا ہے۔ یہ مس مینجمنٹ ماں، بہن، بھابی یا بیوی کی صورت میں ہوتی ہے۔ اس کے بغیر خوشحال اور منظم فیملی کا تصور نہ ہے۔ اس تمہید کا مقصد عورت کا معاشرے میں کردار و اہمیت بیان کرنا ہے۔ اگر ہم غیر جانبداری سے انسانی رشتوں کا تجزیہ کریں تو عورت کو ہی روح رواں دیکھیں گے۔

Read more

1947 ء ابھی ختم نہیں ہوا

بہاول پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں دکھاں بی بی اپنے کچے صحن میں چارپائی پر ہاتھ سے پنکھا جھل رہی تھی اور پاس زمین پہ اس کا پڑپوتا اور پڑپوتی کھیل رہے تھے۔ شادو کی عمر بارہ سال اور مٹھو پانچ سال کا تھا۔ دکھاں کی عمر اب ستاسی برس ہو چلی تھی۔ اس عمر کے بزرگ گھر میں رکھے پرانے فرنیچر کی طرح ہو جاتے ہیں جنہیں گھر کی تین نسلوں نے ہوش سنبھالنے سے دیکھا ہوتا

Read more

عقیدہ ہے ایمان نہیں ہے

بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے کان میں اذان دی جاتی ہے اور اس کو مسلمان کا لقب دے دیا جاتا ہے۔ عقیدہ حاصل کرنا مشکل نہیں، آج کل کے دور میں ہر انسان کوئی نہ کوئی عقیدہ لیے پھرتا ہے۔ بات کی جائے اگر مسلمان کی تو مسلمان کے پاس عقیدہ ضرور ہے مگر ایمان نہیں۔ ایمان کو پرکھنے کے تین درجے ہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ

Read more

جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات اور اجتماعی ذمہ داری

وطن غزیز اس وقت شدید مالی اور انتظامی بحران سے گزر رہا ہے۔ مگر سب سے بد ترین اورخطرناک بحران یہاں اخلاقی بحران ہے۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی یا بربادی کا تعلق اس ملک کے باشندوں کے اخلاقی اقدار سے بڑا تعلق رکھتا ہے۔ بڑوں سے سنا تھا، پرانے وقتوں میں حیا اور حرمت کا بہت خیال کیا جاتا تھا۔ ماؤں بہنوں کو سانجھا سمجھا جاتا تھا چاہے وہ دشمن کی ہی کیوں نہ ہوں۔ اب مجھے لگتا ہے

Read more

علامہ خادم کا چھوڑا ہوا ترکہ

اقبال نے دنیا کو کسی معرکۂ روح و بدن کے پیش آنے کا ذکر کیا تھا اگر وہ آج کے زمانے میں ہوتے تو نجانے ہمارے دیمک زدہ معاشرے کے بارے میں کیا لکھتے جہاں آئے روز کوئی نہ کوئی ہنگامہ برپا رہتا ہے۔ غالب یاد آ گئے ایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونق نوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی آج ایک مرتبہ پھر ہمارے معاشرے میں تقسیم گہری ہو چلی ہے۔ ہمیشہ کی طرح آج

Read more

اقلیتوں کے تحفظ کے بل کی منظوری؟

کشمور میں 4 سالہ بچی اور اس کی ماں کے ساتھ اجتماعی جنسی تشدد کا واقعہ کوئی سرسری خبر نہیں تھی۔ جہاں میرے صحافی اور وکلا دوستوں نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی وہاں قومی ہیرو سندھ پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) محمد بخش کو بے ساختہ سلیوٹ بھی پیش کیا جس نے اپنی جوان بیٹی کی مدد سے جنسی تشدد کرنے والے وحشی اور درندہ صفت ایک مجرم کو گرفتار کر لیا جبکہ دوسرا پولیس

Read more

قضائے الٰہی اور انسانی گناہوں کی سزا

خادم حسین رضوی قضائے الٰہی سے رحلت کر گئے، اللہ کی مرضی میں کسی کو کیا دخل؟ وہ کئی روز سے بخار میں مبتلا تھے، سانس کی تکلیف تھی اور کھانسی بھی آ رہی تھی۔ بظاہر لگتا ہے کہ سب کرونا کی نشانیاں ہیں لیکن تصدیق نہیں ہو سکی۔ جانے فیض آباد کے حالیہ دھرنے میں کس سے انہیں کرونا لگا اور ان سے کتنوں تک پہنچا؟ تادم تحریر دسیوں ہزار لوگ کسی بھی طرح کی احتیاطی تدابیر کیے بغیر

Read more

’شمیم اختر ایک سیدھی سادی، عبادت گزار گھریلو خاتون تھیں‘

جن لوگوں کو محترمہ شمیم اختر سے ملاقات کے مواقع ملے، کسی محفل میں انھیں دیکھا یا کوئی گفتگو سنی، ان کا خیال ہے کہ وہ ایک سیدھی سادی، عبادت گزار گھریلو خاتون تھیں جن کا کسی سیاسی سرگرمی یا دنیا داری کے کسی معاملے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

Read more

کیا آپ افسانے کی جوان بیٹی افسانچہ کے حسن و جمال سے مسحور ہیں؟

آج سے چند سال نہیں چند دہائیاں پیشتر میں نے خلیل جبران کا دو جملوں کا مختصر ترین افسانچہ پڑھا تھا
ایک عورت دو مردوں کے درمیان بیٹھی تھی
اس کا ایک رخسار سرخ تھا دوسرا زرد
اور آج تک اس ایک عورت اور دو مردوں کے رشتے کی نفسیات کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں۔

افسانچے کا یہی کمال ہے۔ وہ غزل کے دو مصرعوں کی طرح قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور اس پر انسانی زندگی اور نفسیات کے راز اجاگر ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔

Read more

سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر کی لندن میں وفات

عطا تارڑ نے بیگم شمیم اختر کی وفات کی تصدیق کی اور بتایا ہے کہ ’ان کی موت کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہے جبکہ وہ کچھ عرصے سے علیل تھیں۔‘

Read more

زیر زمین (فیض احمد فیض کی یاد میں )

نیوشا ایک عام عورت تھی اپنے لوگوں میں رچی بسی سی۔ شاعرہ تھی تو الفاظ کے بہاؤ میں بہت کچھ کہہ جاتی۔ وہ لکھتی رہتی، لکھتی رہتی جب تک کہ کوئی آواز، کوئی تیز روشنی کی کرن اسے لا شعور کی دنیا سے شعور کی دنیا میں نہ دھکیل دے۔ پھر وہ حیران ہو جاتی کہ اس نے کتنا سارا لکھ دیا ہے، کئی صفحوں کے سینے چاک کر دیے ہیں۔ پتا نہیں کون کون سے خیالات جو تہہ در

Read more

چنبل سے پارلیمان تک پہنچنے والی پھولن دیوی کے گاؤں سے ہاتھرس کا فاصلہ کب ختم ہو گا؟

ایک عورت، جسے گزرے ہوئے عرصہ ہوا، وہ چنبل کے قصے کہانیوں میں، یہاں تک کہ لوک گیتوں میں ابھی بھی زندہ ہیں۔ وہ عورت ایک ڈاکو تھی۔ مگر اس علاقے کے لوگوں کی نظر میں ایک رابن ہوڈ جیسا کردار تھی۔

Read more

دوسری شادی کا جرم: پیر صاحب یورپ کی کچھ کرامات

اگر آپ کسی پبلک مقام پر ہوں اور کوئی صاحب کسی اور صاحب کی طرف اشارا کر کے کہہ دیں ”اس کی دو بیویاں ہیں“ تو سب اس کی طرف اس طرح دیکھیں گے جیسے انسانوں کی مجمع میں کوئی ڈائنو سار گھس آیا ہے۔ اگر کسی محلہ یا سوسائٹی میں کوئی صاحب عقد ثانی فرما لیں تو ان کی شخصیت اور ان کی شادی کئی مہینوں افواہوں اور تبصروں کا موضوع بنی رہے گی۔ جہاں تک خواتین کے رد

Read more

’میتھڈ اداکاروں‘ کی نہیں، سیاستدانوں کی ضرورت ہے!

نواز شریف صاحب کے خلاف فیصلہ لکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے سسیلین مافیا کا ذکر کیا تو ’گاڈ فادر‘ نامی ناول پاکستان میں زبان زد عام ہو گیا۔ اسی ناول پر بننے والی فلم میں مافیا ڈان کا کردار مارلن برانڈو نے ادا کیا۔ درجنوں شہرہ آفاق فلموں میں کئی لازوال کردار ادا کرنے کے باوجود مارلن برانڈو کو بنیادی طور پر ڈان کورلیان کے کردارکے حوالے سے ہی جانا جاتا ہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ فرانسس فورڈ

Read more

نیروبی کی بلیک مارکیٹ میں بچوں کی فروخت کا گھناؤنا کاروبار

کینیا کی ایک بلیک مارکیٹ کا کاروبار جاری رکھنے کے لیے بچے اغوا کیے جا رہے ہیں۔ افریقہ آئی نے بچوں کی سمگلنگ کرنے والے ایسے گروہوں کا پردہ فاش کیا ہے جو بچے اغوا کر کے کم سے کم 300 پاؤنڈ میں فروخت کر دیتے ہیں۔

Read more

قائد اعظم کا پاکستان: ہم کہ ٹھہرے اجنبی

2020ء پوری دنیا کے لیے ایک منحوس سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ 2020 میں شاذ شاذ ہی کوئی اچھی خبر سننے کو ملی (ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے موجودہ الیکشن کے سوا) لیکن پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کے لئے یہ سال انتہائی اذیت ناک اور المناک ثابت ہو رہا ہے۔ تبدیلی مذہب اور جبری شادی کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ یوں تو جبری تبدیلیمذہب اور ایک ہی دن میں شادی کا

Read more

مار نہیں پیار

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں مار پیٹ کے ذریعے بچوں کی تربیت اور اصلاح کرنے کا خاصا رجحان پایا جاتا ہے۔ بالخصوص جب بچہ زیادہ شرارتی اور عام زبان میں بگڑا ہوا ہو۔ تحقیق کے مطابق ہر 5 میں سے 4 والدین اپنے بچوں کی اصلاح کے لئے مار کا سہارا لیتے ہیں اور ایسے ہر 10 واقعات میں سے 9 واقعات میں مار سہنے والے بچوں میں بچیوں کی تعداد نمایاں ہوتی ہے۔

کیا ہم نے کبھی کسی پتھر کو مار پیٹ کے ذریعے کچھ سکھانے کی کوشش کی ہے؟ کیا مار پیٹ کے ذریعے کسی پتھر کو بہتر کیا جا سکتا ہے؟ جواب شاید ’نہیں‘ ہے کیونکہ مار پیٹ سے ایک پتھر کو صرف توڑا جا سکتا ہے اور کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ بچہ ایک جیتا جاگتا انسان ہوتا ہے۔ اس کی شرارتیں اور کھیل اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ حالات، واقعات، لوگ اور اپنے ماحول کا مشاہدہ بہت غور سے کرتا ہے اور سوچنے سمجھنے کے ساتھ ساتھ چیزوں کا تجربہ اپنے تئیں کرنا چاہتا ہے۔ اس کوشش میں اس سے نئے نئے کھیل دریافت ہوتے ہیں اور نتیجتاً شرارتیں بھی ہوتی ہیں۔ ایسے میں جب والدین اسے ہوشمندی سے سمجھانے کے بجائے اگر مار پیٹ کا سہارا لینے لگیں تو یاد رکھیئے اس بچے کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہ صرف متاثر ہوتی ہے بلکہ وہ نئے تجربات سے بھی گھبرانے لگتا ہے۔

Read more

تشدد کی قیمت کیا ہے؟

اتفاق سے میری نظر ایک تبصرے پر پڑی، جو چھاتی کے سرطان کے متعلق آگہی دینے والے صفحے پر کیا گیا تھا۔ مجھے اتنا معلوم تھا کہ مفید معلوماتی مچان پر کوئی منفی انداز فکر موجود نہیں ہو سکتا مگر حقیقت اس کے برعکس تھی۔ چھاتی کا سرطان چونکہ چھاتی کا ہے تو اپنے ساتھ زندگی کو لاحق موت کے خطرے کے ہمراہ حیا اور شرم کے پہلو تک لے آتا ہے۔ حیا اور شرم کے جس پہلو کی جانب

Read more

صوبہ پوٹھوہار کی تحریک کا منہاج اور پوٹھوہاری زبان

پوٹھوہاری، ہندکواور سرائیکی کوپنجابی زبان کا لہجہ کہنے پربعض سرائیکی دوستوں نے اخلاقیات کا لحاظ کیے بغیر لعنت وملامت شروع کردی مگر خطہ پوٹھوہار کے باسیوں نے اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے خاموشی کا مظاہرہ کیا۔ ہندکو والوں نے بھی چپ سادھے رکھی کہ بات تو درست ہے۔ ماہرین لسانیات بھی لہجہ ہی قرار دیتے ہیں۔ تاریخی شواہد بھی یہی حقیقت آشکار کرتے ہیں کہ پوٹھوہاری، ہندکو اور سرائیکی پنجابی زبان کے لہجے ہیں۔ یہ بات صرف زبان و بیان

Read more

کہانی حرکت کیسے کرتی ہے؟

”سر مجھے ایک اچھے افسانے کے رموز بتا دیں اور ایک ایسی کہانی جو حرکت کرتی ہو۔“ مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے میں افسانہ تو لکھتی ہوں پر اس کی کہانی حرکت نہیں کرتی۔ فارحہ نے الجھے ہوئے لہجے میں سر فاران علی سے پوچھا۔ فاران علی شہر کے مشہور لکھاری تھے اور اکثر نوآموز لکھاریوں کے لیے لیکچرز اور سیمینارز کا اہتمام کرتے رہتے تھے۔ وہ بھی چاہتی تھی کہ کسی طرح خوبصورت کہانیاں لکھنا سیکھ لے۔ اسی

Read more

آپ خاندانی منصوبہ بندی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

زندگی فطرت کا حسین تحفہ ہے اور یہ ہر ذی روح کو صرف ایک بار ہی ملتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس تحفہ کو بغیر کسی پلاننگ کے بس یونہی گزار دیا جاتا ہے۔ اندھی اوربہری ہیلن کیلر نے سچ ہی تو کہا تھا کہ ہم زندگی کو اتنی بھی اہمیت نہیں دیتے کہ کسی چیز کو دوبارہ پلٹ کر ہی دیکھ لیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ہم نے کچھ خاص مس کر دیا ہو۔ ہم

Read more

وہی نظر آئیں جو آپ ہیں

میری شدید خواہش ہے کہ وقت رک جائے۔ ہر چیز ساکت ہو جائے۔ رات دن کے تعاقب میں بھاگنا چھوڑ دے۔ رات کا فسوں طاری ہو تو پھر یہ سحرکبھی نہ ٹوٹے۔ یا پھر دن چڑھے تو رات ہمیشہ کے لیے کہیں گم ہو جائے، دن رات کی تمنا بھول جائے۔ میرا دل کرتا ہے میں چڑیا کی طرح بجلی کے تار پہ جھولا جھولوں، تو کبھی منڈیر پہ بیٹھ کے کسی کے آنگن میں جھانکوں۔ آپ کو میری خواہشوں

Read more

مریم نواز کا بیانیہ: مٹھا مٹھا ہپ

پنجابی زبان جو کہ میری ماں بولی بھی ہے اس کی خوبصورتی یہ ہے کہ بولنے اور سننے میں میٹھی و شیریں تو ہے ہی، سمجھنے میں بھی سہل اور آسان ہے۔ میرا ایک مرحوم دوست ڈاکٹر عنائت کہا کرتا تھا کہ جو مزا ”سواد“ کا پنجابی زبان میں ادا کرنے میں آتا ہے کسی اور زبان میں کہاں؟ اسی زبان کا ایک مشہور اکھان ہے کہ ”مٹھا مٹھا ہپ تے کڑوا کڑوا تھو“ ۔ یعنی جہاں سے فائدہ مل

Read more

پاکستانی اقلیتیں اور اسلامو فوبیا

پرانے وقتوں کی بات ہے ایک فقیر کے آگے آگے ایک عورت چلتی جا رہی تھی۔ بناؤ سنگھار سے تو لگ رہا تھا کہ وہ کسی شادی یا خوشی کی تقریب پر جا رہی ہوگی ورنہ عام حالات میں عورتیں اتنا سجتی سنورتی ہی کب ہیں۔ عورت کے پیچھے پیچھے ایک بچہ جس کے تن پر کپڑے بھی پورے نہیں اور پاؤں میں جوتا بھی نہیں تھا۔ بچہ ماں کے پلو پکڑے عورت کے ساتھ ساتھ رہا تھا اور رو

Read more

امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی نادیہ مراد باسی طہ کون ہیں؟

نادیہ مراد کا تعلق عراق کے شمال میں واقع ضلع سنجر، (جس کی سنجر پہاڑیاں عراق اور شام کے درمیان سرحدی خط کھنچتی ہیں ) میں بسے گاؤں ”کوجو“ سے ہے۔ کردوں پہ مبنی اس گاؤں کی آبادی کا بنیادی ذریعہ معاش کھیتی باڑی اور جہاں کے لوگوں کی زندگی سادہ، امن پسند اور پرسکون تھی۔ 1993؁ء میں پیدا ہونے والی نادیہ کا شمار گاؤں کی ان خوش نصیب لڑکیوں میں تھا جنہیں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ تعلیم

Read more

تشدد بھارتی معاشرے کا حصہ بن چکا: اوباما کا اپنی نئی کتاب میں تبصرہ

امریکہ کے سابق صدر براک اوباما کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ‘دی پرومسڈ لینڈ’ کے بعض اقتباسات دہلی کے سیاسی و صحافتی حلقوں میں موضوعِ بحث ہیں۔

براک اوباما کی 17 نومبر کو شائع ہونے والی کتاب میں بھارت کی سیاست اور بھارتی سیاست دانوں بالخصوص سابق وزیرِ اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ، کانگریس صدر سونیا گاندھی اور سابق کانگریس صدر راہول گاندھی کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے وہ ان دنوں میڈیا میں خبروں کی زینت ہیں۔

Read more

دوسری بیوی کی سہ روزہ بے وفائی

میل ملاپ کی اس رسمی محفل کو دعوت کہنا تو شاید مناسب نہ ہو۔ نیویارک کی فاصلوں اور مصروفیت سے ہلکان جیون دھارا، کرچی کرچی خوابوں سے زخمی، ڈالروں ہڑکائی دوسرے درجے کی زندگی میں دعوت کی موج اور فراوانی کیسی۔ بس پینے اور جینے والوں کو پینے اور جینے کا بہانہ چاہیے ہوتا ہے۔ مہمانوں میں کوئی نہ کوئی کچھ ساتھ لے آتا ہے اور فریق ثانی رضا مند ہو تو لے بھی جاتا ہے۔ ہم میزبانوں کو جانتے

Read more

کچھ علاج ہی سہی!

کبھی کبھی اتنی بری ساری خبروں میں کوئی چھوٹی سی اچھی خبر اس اطمینان کا باعث ہوتی ہے کہ کہیں کہیں انسانیت کی بچی کھچی سانسیں ابھی بھی جاری ہیں۔ برائی پہ کڑھنا زندہ رہنے کی علامت ہے لیکن اس برائی کو ختم کرنے کے لئے اپنا آپ پیش کرنا چاہے کسی بھی طرح، انسانیت اور معاشرے کی اصل اساس ہے اور ابھی شاید یہی وہ اساس ہے کہ ہم سکون سے سو پاتے ہیں حالانکہ جاگتے ہوئے ہر لمحہ بے سکونی میں گزرتا ہے

Read more

کرونا میں کہانی گھر گھر کی“

پوری دنیا ہی اس کرونا کے شکار میں پھنسی اور جکڑ گئی ہے، مختلف ممالک میں آئے دن لاک ڈاؤن چل ہی رہا ہے۔ بہت سے چھوٹے کاروبار تو مکمل طور پر ہی بند ہو گئے اور بقیہ اپنے ملازمین کو آن لائن ورک فرام ہوم پر لے آئے۔

موڈ ہو جیسا ویسا منظر ہوتا ہے
موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے

لاک ڈاؤن کے جھمیلے میں ہم بھی پھنس گئے اور گھر کے کام کاج جہاں بڑھے وہاں طبیعت میں چڑچڑے پن میں رہنے لگے ایک دن روز کی طرح صبح کے ناشتے کے بعد ہم اپنے خاوند کے ساتھ بیٹھے تھے اور ان کو چائے دے کر یونہی ادھر ادھر کی بات چیت کرنے میں لگے تھے کہ اچانک انھوں نے ہماری بات روکتے ہوئے ہمیں نشاندہی کرائی۔

Read more

کجا ہستی، جان پدر

جہالت کا ایک اپنا معاشرہ ہے نہ اس معاشرے میں انسانیت ہوتی ہے نہ کوئی مذہب، نہ کوئی اخلاقیات۔ جہالت کے معاشرے کے مکینوں کے نزدیک ہر چیز ان کی ہوس کو پورا کرنے کے لئے جائز ہے نہ حرام کی تمیز نہ حلال کی۔ جہاں دنیا چاند کے مکین بننے کے لئے مقابلے میں ہیں وہی آج بھی قائد کے دیس میں معصوم بچیوں کو اپنی ماؤں کے اور ماؤں کو بچوں کے سامنے ہوس کا نشانہ بنایا جا

Read more

مذاکرات کی رات کیا ہوا: تحریک لبیک سے ہونے والے ’معاہدے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے‘

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ نورالحق قادری کا کہنا ہے کہ دھرنا ختم کرنے کے لیے سب سے بڑا ڈیڈ لاک فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کے مطالبے کو پورا نہ کرنا تھا۔

Read more

خدا کسی کو اولاد کا دکھ نا دے!

ابھی پشاور حملے کے زخم تازہ ہی تھے کہ بد قسمتی نے یہ دن بھی دکھایا کہ کابل یونیورسٹی میں نوجوان حصول علم کے لیے اکٹھے ہوئے اور شہید ہو گئے۔ کابل یونیورسٹی حملے میں نوجوان ہلاکتوں نے جہاں سب کے دل دہلا کر رکھ دیے تو اس کے ساتھ والدین کی آنے والی فون کالز اور میسجز جو کہ محبت سے بھرپور ہیں اور ان کو پڑھ کر ایک صاحب اولاد اور درد دل رکھنے والا انسان ضرور کانپ

Read more

مجھے مسز جاوید سے شکست کیسے ہوئی؟

ماما اج کیا بنا رہی ہیں؟ بیٹے اج میں اپنے پیارے بیٹے عفان کے لئے چکن فجیتا، پزا، دم کے کباب مع ہری چٹنی اور میٹھے میں چاکلیٹ پڈنگ بنا رہی ہوں۔ واو ماما زبردست۔ یو ار دا بیسٹ ھاھا چلو چلو مکھن لگانا بند کرو اور ماما میرے لیے کیا بنایا آپ نے؟ یہ میری لاڈو تھی، جو بارہ سال کی ہونے کے باوجود ٹھنک ٹھنک کر فرمائشیں کیا کرتی ہے۔ نہ مری لاڈو اپ کی پسند کا زنگر

Read more

پاکستان، انڈیا کو تقسیم کرتی لائن آف کنٹرول: غلطی سے سرحد پار کرنے والے جو کبھی واپس نہیں لوٹتے

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بسنے والے ان شہریوں کی کہانیاں جو غلطی سے لائن آف کنٹرول عبور کر گئے، کئی کی واپسی ممکن ہو سکی جبکہ درجنوں ایسے ہیں جو اب لاپتہ ہیں۔

Read more

نوابشاہ: ’بہن نے ریپ پر مزاحمت کی تو پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی‘

ایف آئی آر کے مطابق نواب شاہ پولیس کو اطلاع ملی کہ گندم کے فصل میں ایک لڑکی کی لاش موجود ہے، جب پولیس وہاں پہنچی تو 14 سال کی عمر کی لڑکی کی برہنہ لاش موجود تھی جس کے بال اور بازو جھلس چکے تھے، لاپتہ لڑکی کے بھائی نے تصدیق کی کہ یہ ان کی گمشدہ بہن ہے۔

Read more

ایل او سی پر پاک بھارت جھڑپیں: سرحدی دیہات تباہی اور بربادی کی تصویر

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں سب سے زیادہ ضلع بارہ مولہ میں واقع اوڑی اور ضلع بانڈی پور کے دیہات میں نقصان ہوا۔ مکانوں کو نقصان پہنچنے سے کئی افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔

جھڑپوں کے بعد اتوار کو سیز فائر کے باوجود اب بھی مقامی آبادی خوف زدہ ہے جب کہ جانی نقصان اُٹھانے والے گھرانوں میں فضا سوگوار ہے۔ گولہ باری اور ہلکے اور درمیانے درجے کے ہتھیاروں کی فائرنگ میں جو سرحدی دیہات متاثر ہوئے وہ آج بھی تباہی اور اداسی کی تصویر پیش کر رہے ہیں۔

Read more

پتھر

مصنف : رچرڈ شیلٹن (امریکہ) مترجم: خلیل الرحمان کتاب: فلیش فکشن ( 72 انتہائی مختصر کہانیاں ) سردیوں کی راتوں میں مجھے باہر جانا اور دوسرے پتھروں کو بڑھتے ہوئے دیکھنا اچھا لگتا پے۔ میرے خیال میں وہ یہاں صحرا میں، جہاں پر موسم گرم اور خشک ہوتا ہے، کسی بھی دوسری جگہ کی نسبت زیادہ بہتر انداز میں پھلتے پھولتے ہیں۔ یا پھر چھوٹے یہاں پر زیادہ فعال ہوتے ہیں۔ چھوٹے پتھروں کا رجحان اپنے بڑوں کی ناپسندیدگی کے

Read more

یہ دھرنا بھی کیا دھرنا تھا؟

اس بار یہ سوال عام ہے کہ اب پھر کیوں؟ نہ سول ملٹری تناؤ، نہ پنڈی اسلام آباد میں کچھاؤ، منتوں مرادوں سے لائی گئی ایک صفحے کی حکومت، ایک بیانیہ اور ایک تحریر۔ پھر یہ حادثہ کیوں کر ہوا؟ آخر اس کی پرورش بھی تو سالوں ہوئی ہو گی۔ حادثے بہرحال اچانک نہیں ہوا کرتے: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

مغرب میں توہین رسالت ﷺ کا بڑھتا ہوا رجحان

گزشتہ دنوں مغرب نے ایک بار پھر اپنی خصلت کا اظہار کرتے ہوئے بانی اسلام ﷺ کی پاکیزہ سیرت پر حاشیے چڑھانے شروع کر دیے اور مزید خباثت یہ کہ ذات اقدس بابرکت کے خاکوں کی اشاعت بھی شروع کردی ہے۔ ایسے ملعون افعال کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ معاشرہ کو سکھانے اور پڑھانے والے انتہائی مقدس اور قابل عزت شعبہ سے منسلک افراد یعنی اساتذہ نے ہی یہ مکروہ کام سرانجام دیا ہے۔ جس کی مذمت کرنے کے لئے شاید الفاظ بھی ناکافی محسوس ہوں۔ البتہ ان پر ایک مسلمان محض اتنا ہی کہہ سکتا ہے کہ انا للہ وانا الیہ راجعون

Read more

رکھ پت رکھا پت

”اے ایمان والو! بہت بد گمانیوں سے بچو۔ یقین مانو کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں اور بھید نہ ٹٹولا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے“ ۔ سورہ الحجرت۔ آیات 12 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن

Read more

مڈل کلاس ہمیشہ مڈل کلاس کیوں رہتا ہے؟

ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مڈل کلاس طبقہ ہمیشہ اپر کلاس اور لوئر کلاس کے درمیان ایک عجیب سی کیفیت میں رہتا ہے۔ نہ تو اپر کلاس والی سہولیات حاصل کر پاتا ہے اور نہ ہی لوئر کلاس کے ساتھ میل کھاتا ہے۔ غریب لوگ اسے اپنے سے بہتر سمجھتے ہیں اور امیر لوگ اسے اپنے سے کم سمجھتے ہیں۔ اور یہ کلاس سب سے زیادہ ملازموں اور نوکری پر مشتمل ہے۔ مڈل کلاس ہمیشہ پڑھ لکھ نوکری کے حصول

Read more

جنسی ہراسانی اور ’علیل جبری نظریات‘

اسلام آباد کے ایک نجی بینک میں خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا واقعہ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر کافی نمایاں رہا ہے۔ خواتین نے اس پر احتجاج اور افسوس کا اظہار کیا جبکہ مردوں نے حسب معمول یہی کہا کہ عورت ذمہ دار اور قصوروار تھی۔ اس نے کیوں خاموشی سے برداشت کیا؟ پلٹ کر ہراساں کرنے والے کا منہ کیوں نہ توڑ دیا؟ اس کی خاموشی کا مطلب تو بظاہر ’رضامندی‘ ہے یا ہراساں کرنے والے

Read more

نیئر مصطفیٰ : کہانی کا آگھرو دیوتا

چنیوا اچیبے نے کہا تھا، ”کسی کو یاد کرنا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ عظیم تر! کیوں؟ اس لیے کہ یہ کہانی ہوتی ہے جو جنگجو اور جنگ کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔ کہانی سب کو پچھاڑ دیتی ہے۔ کہانی ہمیں راستہ دکھاتی ہے۔ دنیا کی تاریکیوں میں قدم قدم پر موجود باڑوں اور زنجیروں کی دنیا میں کہانی ہمیں یوں تھام لیتی ہے جیسے کسی اندھے کو کوئی راستہ دکھانے والا مل جائے۔ کہانی ہمیں کانٹوں میں الجھنے سے

Read more

مائیں یوں ہی چلی جاتی ہیں!

ماں کی گود، ماں کی مسکراہٹ، ماں کا چہرہ، ماں کیا خوبصورت نام ہے جن سے انسیت ہوئی، ماں کی بانہوں کی خوشبو، ماں کی محبت، شفقت، پیار، ڈانٹ ان کا فکرمند چہرہ ان کا مضبوط ارادہ ان کے پیچھے پیچھے بھاگنا ان سے الفت ان کی بے بس آنکھوں میں چمکتے آنسو بوند بوند گرتی موتیوں کا اثر، ماں بھلائے نہیں بھولتی جیسے وہ ابھی ہو کر گزری ہو جیسے ابھی میری پکار سن کے چلی آئے گی اور

Read more

داغ سا آدمی نہیں ملتا

ہم بلما کو بھول کر قدرت کے اس بھید بھاؤ سے الجھے ہوئے تھے کہ شاہ سلمان اپنے والد عبدالعزیز کے چھبیس بیٹوں میں سے پچیس نمبر کے بیٹے تھے۔ عبدالعزیز کو دنیا ابن سعود کہتی ہے۔ ان کی من پسند شریک حیات حفصہ سدیری کے سات بیٹے تھے اور یہ ایک طاقتور گھرانا ہے۔ اسی طرح موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان اپنے دو ماؤں کے بارہ بیٹوں میں گیارہ نمبر کے صاحبزادے۔ رب مہربان و بخشندہ نے دونوں

Read more

پوٹھوہاری، سرائیکی اور ہندکو پنجابی لسانی خاندان کا حصہ ہیں، سب کا حق دیا جائے

وفاق پاکستان چھ جغرافیائی اکائیوں جو چار صوبوں، آزادکشمیر کی ریاست اور انتظامی صوبہ گلگت بلتستان جس میں قانون ساز اسمبلی ہے پر مشتمل ہے۔ بنیادی طور پر وفاق کی تشکیل انتظامی بنیادوں پر استوار ہے۔ لسانی اکائیوں اور قومیتوں کو نظر کر دیا گیا ہے حالانکہ آئین پاکستان میں تمام تر اکائیوں کو قومی وفاقی درجہ دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ رابطہ کی زبان اردو تاحال وفاقی اور دفتری زبان کے طور رائج نہیں ہو سکی ہے۔ تمام

Read more

انصاف کے لئے وڈیو وائرل ہونے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟

خبریں ہیں کہ سندھ کے سرحدی ضلعے کشمور میں معصوم بچی اور اس کی والدہ سے اجتماعی زیادتی کا مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا ہے۔ جبکہ پولیس کا موقف ہے کہ ملزم رفیق ملک کی نشاندہی پر مفرور ملزم خیر اللہ بگٹی کی گفتاری کے لئے پولیس کارروائی کرنے پہنچی تو خیر اللہ نے پولیس پر فائرنگ کر دی۔ ساتھی کی گولی لگنے سے گرفتار ملزم رفیق ملک ”ہلاک“ ہو گیا۔ جبکہ سوشل میڈیا پر اسے سندھ

Read more

کس نے کہہ دیا کہ مہنگائی ہے

عمران خان پاکستان کے وہ واحد حکمران ہیں جن کے متعلق ”میر“ دو صدی پہلے ہی فرما گئے تھے کہ مستند ہے میرا فرمایا ہوا سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا گزشتہ 22 برسوں سے انھوں نے جو کچھ بھی کہا ہے وہ پتھر کی لکیر ثابت ہوا ہے۔ وہ تو وہ، ان کے ایک وفاقی وزیر فیصل واڈا صاحب بھی ان ہی کی طرح پہنچے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے منہ سے نکلی ہوئی بات بھی آج تک

Read more

کیا کاملہ ہیرس امریکی تاریخ میں پہلی خاتون صدر بھی ہو سکتی ہے؟

امریکی صدارتی انتخاب کی تاریخ میں کاملہ ہیرس نائب صدر کے عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔ اور ان کے ساتھ اٹھتر سالہ جو بائیڈن بھی معمر ترین صدر کی حیثیت سے وائٹ ہاؤس تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ اب زندگی اور موت تو بوڑھے اور جوان میں تمیز کی روادار نہیں ہوتی پر بڑھاپا اور وہ بھی اسی پلس تک جانے کا ہو تو اس پر موت کے خدشات منڈلانے لگتے ہیں اور خدا نخواستہ ان

Read more

” خضر کی کہانی“ اور پاکستان کا سفر

بہت انتظار کے بعد آخر کار پاکستان کے سفر کا موقع ملا تو جیسے ایک دیرینہ خواہش پوری ہوئی۔ مارچ کے آخر میں اسی سفر کی ساری تیاریاں مکمل کر کے جب جانے کا وقت قریب آیا تھا تو کرونا کی وبا کی وجہ سے ساری پروازیں منسوخ ہو گئی تھیں اور یوں میرا سفر بھی۔ میں پچھلے کئی سالوں سے کینیڈا میں مقیم ہوں لیکن اپنے پیاروں کی محبت اور اپنی مٹی کی کشش مجھے ہر سال جانے پر

Read more

تعلیمی درسگاہیں اور اخلاقیات کا فقدان!

انفرادی اور معاشرتی زندگی کو بہتر بنانے میں اخلاق حسنہ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے گو یا معاشرے کو بلندی اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی اولین ترجیح۔ اخلاق حسنہ ہے کوئی بھی معاشرہ سماجی، معاشرتی، سیاسی اور معاشی حوالے سے اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنی قوم میں اخلاقی شعور کو اجاگر نہ کرے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اخلاق ہی وہ سب سے بڑی کمزوری ہے جس کی وجہ سے ہماری

Read more

کچھ تھلوچستان کے بارے میں

معروف کالم نگار وشاعر منصور آفاق ہمارے میانوالی مطلب تھلوچستان کے فرزند ہیں۔ موصوف کی کالم میں تلواریں اور ہمدردیاں وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ساتھ کپتان کے وسیم اکرم پلس وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کے لیے دیکھنے کو ملتی ہیں۔ منصور آفاق کی بات لے کر چلے ہیں تو ضروری ہو گیا ہے کہ پہلے ان کا ایک شعر آپ کی خدمت میں پیش کیاجائے۔ ویسے ہی تمہیں وہم ہے، افلاک نشین ہیں تم لوگ بڑے لوگ ہو،

Read more

ابنارمل معاشرے کے شرمناک رویے

ترقی کی منزلوں کو چھونے کے لیے ہمیشہ آگے کی طرف دیکھنا پڑتا ہے نہ کہ پیچھے کی طرف۔ زندگی اور اس سے جڑے ہوئے مسائل اور حقیقتیں جامد و ساکت نہیں ہوتیں بلکہ بہتے ہوئے پانی کے تسلسل کی طرح ہوتی ہیں۔ معاشروں کے ترقی یافتہ ہونے کے سفر کے پیچھے بہت سی کاوشیں اور قربانیاں کارفرما ہوتی ہیں تب کہیں جا کر معاشروں کی تہذیب و تمدن اور سوچ میں وہ بلندیاں پروان چڑھتی ہیں جن پر بہت

Read more

کھول دو

سعادت حسن منٹو بھی بڑا عجیب انسان تھا۔ وہ تازہ تازہ جنم لینے والے پاکستان کے معاشرے کی گندگی کو، بنا کسی لگی لپٹی کے، معاشرے کے منہ پر اپنے ہاتھوں سے ملنے لگ پڑا تھا۔ اب بھلا ایک شرابی، رنڈی باز کے منہ سے اور قلم سے گند کے سوا اور کچھ نکل بھی کیسے سکتا تھا؟ جب اس نے اپنے مختصر سے افسانے ”کھول دو“ میں رضاکاروں کے خلاف اپنے گندے قلم سے گند اگلا تھا تو نہ جانے کتنے ایمان والوں اور رضاکاروں کا دل دکھا ہو گا۔

Read more

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی

برصغیر پاک و ہند کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اس خطے میں زراعت کی بنیاد انسان کی آباد کاری کے ساتھ ہی پڑ گئی تھی۔ جس کی بدولت یہاں پر بسنے والے افراد کی زندگیوں میں خوشحالی آنا شروع ہو گئی اور بعد ازاں برصغیر کو سونے کی چڑیا بھی کہا جانے لگا۔

اس خطے کی خوشحالی کو دیکھ کر بیرونی حملہ آوروں نے بھی یہاں کا رخ کیا اور یہاں پر بسنے والے کسانوں اور ہنرمندوں کو لوٹا اور ان کے آقا بن بیٹھے۔

Read more

ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں؟

چار سال کی بچی اور اس کی ماں کے ریپ کا اندوہناک سانحہ کسی بھی صاحب دل کا کلیجہ چیر سکتا ہے۔ اس سے پہلے زینب کیس نے بھی خون کے آنسو رلایا تھا۔ درندگی کے ان واقعات پر غم و غصے کا اظہار لازم ہے لیکن صاحب! امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی ریپ کے بے شمار واقعات ہوتے ہیں۔ مغرب میں جنسی ہراسانی کے متعدد واقعات ہوتے ہیں۔ ریپ بھی ہوتے ہیں۔ ان کا میڈیا ایسی خبریں سامنے نہیں لاتا۔ ہمارا ”غدار میڈیا“ ایسے واقعات کو نمایاں طور پر پیش کرتا ہے جس سے ہماری دنیا بھر میں بدنامی ہوتی ہے۔

Read more

نکمے اور شریر بچوں کو کیسے سدھارا جائے؟

میرے ایک دوست ہیں۔ سلیم نام فرض کر لیں۔ ایک قابل ڈاکٹر ہیں۔ جب انگلینڈ میں سپیشلائزیشن کرلی تو بڑے شوق سے اپنے ملک میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے آ گئے۔ ان کے دوسرے بھائی بہن بیرون ملک مقیم تھے اس لئے ان کو اپنے والدین کی خدمت کا بھی خیال تھا۔ ظاہر ہے جب تمام بچے ملک سے باہر ہوں تو والدین کو پریشانی ضرور ہوتی ہے۔ اس لئے ان کے والد جو خود بھی ڈاکٹر ہیں، بہت

Read more