ڈاکٹر یاسمین راشد فرماتی ہیں ’ہمارا موازنہ باہر کے لوگوں کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔ ہم ایسی قوم ہیں جو بالکل بات نہیں مانتے۔ خاص طور پر لاہوریے ایک علیحدہ مخلوق ہیں اللہ کی۔ وہ تو بالکل کوئی بات سننے کو تیار ہی نہیں ہوتے اور ہر چیز کو بطور تماشا دیکھتے ہیں جو کہ بہت افسوسناک ہے۔ ۔ ۔‘ ان کا مزید کہنا تھا ’بتائیے یہ کوئی بات ہے کہنے والی، ہم کس طرح کے لوگ ہیں۔ ۔ ۔ بالکل جہالت۔ میں تو کہتی ہوں شاید کم ہی کوئی قوم اتنی جاہل ہو گی جس طرح کے ہم لوگ ہیں۔‘
پیر کی رات شو میں ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا ’ہم نے لوگوں کو سمجھانے اور بتانے کی پوری کوشش کر لی کہ شاید سوا مہینے کے اندر عوام ہماری کوئی بات سن لے لیکن اب ہم نے دوبارہ اپنے اوپر ذمہ داری لے لی ہے۔ ۔ ۔ مجھے پتا چلا ہے کہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ کیونکہ تحریک انصاف نے کہا ہے ماسک پہننا ہے اس لیے ہم نہیں پہنیں گے۔ ۔ ۔‘
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تحریک انصاف کی کابینہ ابھی یکم اپریل کو مریخ سے اتری ہے جو انہیں اپنے عوام کا نہیں پتہ؟ اپنے عوام کو نہیں جانتے تو یہ کیسے سیاست دان ہیں۔ پھر تو ان سے بہت بہتر ندیم افضل چن ہیں، جو کرونا پھوٹنے سے پہلے ہی عوامی زبان میں مختیارے کو معاملات کی سنگینی سمجھا رہے تھے۔
Read more