کون مظلوم مصنف؟ پبلشر؟ یا قاری۔ ؟

یقین کریں کچھ صحافیوں ادیبوں میں بلا کا مطالعہ ہو تا ہے۔ وہ کتاب سے محبت اور عشق کرنے میں انگریز کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ جو کہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے کہ ان سے بڑا کتب بین کوئی کیا ہوگا۔ پچھلے تین چار ماہ سے کرونا نے سب لکھنے پڑھنے والوں، آوارہ منش ادباء اور شعراء اور سفر نامہ نگار سیلانیوں کو گھر بٹھا دیا ہے۔ ان میں جو سیانے نکلے انہوں نے تخلیق کے کرب کو انجوائے اور قلم

Read more

چٹھی مانے کے نام، چٹھی میرے خان کے نام

وہ سب اس کی چاہنے والیاں تھیں پر اب بہت مایوس تھیں۔ سماجی فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے اس کی ہجو لکھنے ایک گھر میں اکٹھی ہوئی تھیں۔ اظہار کا طریقہ کیا ہوگا؟ اس پر بحث ہونے لگی۔ ایک نے رنجور لہجے میں کہا۔ ”ٹویٹر، فیس بک بہتر رہیں گے“ ۔ ”ارے نہیں برقی خط بھیجو“ ۔ ایک اور بولی۔ ”چٹھی لکھو لمبی چوڑی سی کچھ تو ہمارے احساسات کی ترجمانی ہو۔“ جوانی اور بڑھاپے کے سنگم پر کھڑی دلکش

Read more

کروونا واٸرس ، میڈیا اور ہم

جب سے دنیا میں کروونا کی وبا نمودار ہوئی ہے ہمیں اس سے بہت کچھ دیکھنے کو، سیکھنے کو ملا۔ اگر یہ کہیں کہ اس میں میڈیا کا کردار آگے ہے تو یہ حقیقت ہے۔ اب آتے ہیں کروونا وائرس ہے کیا اور اس کی علامات کیا ہیں؟ کرونا وائرس کی عام علامات میں نظام تنفس کے مسائل (کھانسی، سانس پھولنا، سانس لینے میں دشواری) ، نزلہ، نظام انہضام کے مسائل (الٹی، اسہال وغیرہ) اور کل بدنی علامات (جسے تھکاوٹ) شامل

Read more

جنت سے بھیجے گئے گندم کے سات دانے

انبیاء کرام کے ایمان افروزحالات و واقعات پر مبنی کتاب قصص الانبیاء کے ایک قصے کے مطابق حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ حضرت جبرائل ؑ، حضرت آدمؑ کے پاس آئے اور گندم کے سات دانے ساتھ لائے۔ حضرت آدمؑ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ ، عرض کیایہ اس درخت کا پھل ہے، جس سے آپ کو روکا گیا تھا، لیکن آپ ؑنے تناول کر لیا تھا۔ فرمایا تو اب میں اس کا کیا کروں؟ ، عرض کیا ان

Read more

‘ظہور الٰہی پیلس’ اور وزیراعظم ھاؤس کے آمنے سامنے آنے کی کہانی

بنی گالہ اسٹیبلشمنٹ ایک بار پھر چیلنج بن کر مقتدر حلقوں کے سامنے آ گئی ہے، اس طرح کہ ”کپتان“ نے جہاں بنی گالہ اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدہ سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے وہیں ان کے متبادل کے طور پر بھی اسی کیمپ نے زلفی بخاری کے کزن یاور عباس بخاری کو پیش کر دیا ہے جبکہ سردار عثمان بزدار نے عہدہ بچانے کی آخری کوشش کے طور پر ”چوہدریوں“ سے مدد

Read more

پرش اور مہا پرش: عرف چینی کے مزے

یہ تاریخ اسلام کا سچا واقعہ ہے۔ صرف تاریخ کا نہیں بلکہ دور حاضر کا سچ بھی یہی ہے۔ ایک عورت اپنے گھریلو، مقامی، صوبائی، قومی اور بین الاقوامی حالات سے پریشان گھر کے دروازے میں بیٹھی تھی۔ اس گلی سے ایک روشن ضمیر خاتون کا گزر ہوا۔ اس نے دکھی عورت کا چہرہ پڑھا اور وہیں رک گئی۔ بچہ تیرے سارے دکھ ہمارے علم میں ہیں۔ بس آج سے تیرے مسائل ختم۔ یہ سننا تھا کہ بیچاری دکھیا پھٹ پڑی۔ مجھے

Read more

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر پر تنازع: مندر کی تعمیر اسلام مخالف یا جناح کے خواب کی تعبیر

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ایک ہندو مندر کے لیے جگہ مختص کیے جانے کے چند روز بعد ہی اس پراجیکٹ میں مشکلیں آنے لگی ہیں۔ جامعہ اشرفیہ نامی معروف مدرسے کے ایک مفتی نے اس کے خلاف فتوی دیا ہے اور ایک وکیل نے اس کی تعمیر روکنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دی ہے۔

جناح کا خواب

23 جون کو انسانی حقوق کے پارلیمانی سیکریٹری لال چند ملہی نے اس مندر کے لیے منظور شدہ زمین پر ایک سادہ سی تقریب کے دوران تعمیراتی کام کا افتتاح کیا۔

Read more

پنجاب کی سرزمین اور بلونت سنگھ

وہی زمین۔ وہی مٹی۔ وہی خوشبو۔ جگا سے کالے کوس تک کے فاصلے کو بلونت سنگھے کے افکار وخیالات میں نمایاں تبدیلیاں آئیں۔ مطالعہ اوران کے تجربات ومشاہدات نے ان کے تخلیقی سفر میں نئی نئی راہیں کھولیں اور وہ آگے بڑھتے چلے گئے۔ پنجاب، پنجاب کے رہن سہن، رسم ورواج کوموضوع تحریر بنانے والوں کی کمی نہیں رہی۔ مگرمیراخیال ہے کہ بلونت سنگھ کا پنجاب اورتھا اور وہ انوکھا پنجاب جو ان کی تخلیقات میں نظرآتا ہے صرف اورصرف

Read more

گنجلگ اعداد و شمار کا کھیل نہ کھیلیں!

عوام پر پیٹرول بم گرا تو حکومتی ترجمانوں نے حسب روایت دفاع کیا اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو جائز کہتے خطے کے دیگر ممالک کی مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں اب بھی پیٹرول کی قیمت دوسرے ممالک کے مقابلے میں کئی گنا کم ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ منگول جب کسی ملک پر حملہ کرتے تو اسے تباہ و برباد کر دیا کرتے تھے، کسی بھی ملک کے دفاعی لائن کو توڑنے میں منگولوں کو

Read more

لاہور کے حبس زدہ موسم میں مہکتی بہار کی آمد۔ ۔ ڈاکٹر صغریٰ صدف

کون کہتا ہے کہ پرستان سے پریاں نہیں اترتیں۔ ۔ ۔ ؟ کون دعویٰ کر سکتا ہے کہ درویشوں اور محبت کرنے والوں سے یہ دنیا پاک ہو گئی۔ ۔ ۔ ؟ ۔ ۔ ۔ ہم ان سے لڑ لیتے تھے، گلہ کر لیتے تھے، روٹھ جاتے تھے لیکن وہ ہمیں منانے کی ماہر۔ ۔ ۔ ہماری دکھتی رگوں کو جانتی، سمجھتی، پہچانتی ہنستی مسکراتی پاس سے گزر جاتی۔ ۔ ۔ ہم اندر سے سمجھتے تھے کہ جب تک یہ

Read more

ڈاکٹر مغیث شیخ۔ ۔ ۔ کیا کمال کا فرد تھا

سوچتا ہو ں کہ ڈھلیں گے یہ اندھیرے کیسے لوگ رخصت ہوئے اور لوگ بھی کیسے کیسے پاکستانی صحافت کے استادوں کے استاد، ممتاز دانشور، تجزیہ نگار، مصنف، میڈیا کی تعلیم میں نئی سے نئی جہتوں کو متعارف کروانے والے عظیم راہنما ڈاکٹر مغیث الدین شیخ بھی رب کے حضور پیش ہوگئے۔ کیا کمال کے فرد تھے جو اپنی ذات میں ایک انجمن اور ادارے کی حیثیت رکھتے تھے۔ کوئی پچیس برسوں پر محیط تعلق تھا اور تعلق بھی ایسا

Read more

اک بنیادی حقِ عرض جسے لکھنا ضروری تھا

یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ آپ ان وائس چانسلرز میں سے ایک ہیں جو طلبا و طالبات کے دلوں پر حکمرانی کرنا جانتے ہیں، اس بات کا واضح ثبوت جب آپ یونیورسٹی میں گھوم پھر کر طلبا کے مسائل و معاملات کو دیکھ رہے ہوتے ہیں اور راہ چلتے ہر طالب علم کو جس عاجزی و انکساری سے مل رہے ہوتے ہیں، ایسے طرز عمل سے مجھ ایسوں کے لئے باعث حیرت و مسرت کا سامان پیدا کر رہے ہوتے ہیں اور آپ جس لمحے طلبا سے مل کر جا رہے ہوتے ہیں، آپ کے پیچھے ان طلبا کی خوشیوں سے بھرپور سرشاری کے عالم کو میں اچھی طرح محسوس کر رہا ہوتا ہوں، آپ جیسے قدر شناس انسان سے ہمیں بھی مکمل امید ہے کہ آپ ہماری گزارش کو پڑھیں گے، اس پر نظر ثانی بھی ضرور کریں گے اور بالآخر ہم ایسوں کے لئے یقیناً سرشاری کے دائمی لمحات بھی پیدا کریں گے۔

Read more

حکومت شہباز شریف کو لندن جانے کی اجازت دینے پر مجبور کیوں ہو گئی؟

وزیراعظم عمران خان کے بیانیے میں تبدیلی واضح نظر آنے لگی ہے۔ الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے دو سال بعد تک ان کا بیانیہ تھا کہ کرپشن کرنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا البتہ اب انہوں نے اس میں کافی لچک دکھائی ہے اور کہا ہے کہ کرپٹ مافیا کا دفاع کرنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا۔

اس کی بنیادی وجہ شاید یہی ہے کہ پہلے میاں نواز شریف کو چھوڑنا پڑا ور پھر آصف علی زرداری اور محترمہ فریال تالپور کے معاملات پر بھی آنکھیں بند کرنا پڑیں اور اب میاں شہباز شریف کی لندن روانگی کے حوالے سے بھی خود حکومتی وزرا ماحول کو ساز گار بناتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

Read more

پٹرول بم سے عوام بھسم

لوگ ابھی کووڈ 19 کی ہولناکیوں سے جانبر نہیں ہوئے تھے کہ بجٹ پاس ہونے سے پہلے ہی حکومت نے عوام پر پٹرول بم گرا دیا۔ کچھ لوگ ششدر رہ گئے۔ رہ گئے غریب عوام، تو وہ پہلے ہی غربت و مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ وہ تو تلملا کے رہ گئے۔

ہر شخص جانتا ہے کہ جب بھی اس حکومت سے تیل کی زیادہ قیمتوں پر احتجاج کیا گیا تو عوام کو یہ کہہ کر دلاسا دیا گیا کہ جب بھی عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوں گی، اس کا فائدہ عوام کو ضرور دیا جائے گا۔ جب اپریل میں تیل کی قیمتیں عالمی منڈی میں کم ہوئیں اور اس حد تک کم ہوئیں کہ ایک بیرل تیل نکالنے پر جو خرچ آتا تھا، اس قیمت پر بھی کوئی تیل خریدنے کے لیے تیار نہ تھا۔ اس ملک کے عوام نے سوچا کہ ان کی مراد بر آئی ہے۔ انھوں نے حکومت پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ انھیں کب فائدہ ہوگا!

Read more

سردار نصیر ترین: تورغر کے ’مارخور ہیرو‘ اور جنگلی حیات کے تحفظ کی سنہری روایات

سورج دھیرے دھیرے پہاڑوں کی اوٹ سے بلند ہو رہا تھا۔ اس کی سنہری کرنیں پہاڑ اور وادی دونوں کو سونا رنگ کر رہی تھی۔ سلاواتی پہاڑی کی چوٹی پر مجھ سمیت کچھ سرپھرے سلیمان مارخور کو دیکھنے کے لیے سانس روکے دوربین آنکھوں سے لگائے کھڑے تھے۔

جب پیروں کے نیچے پتھر سرک رہے ہوں اور ہر لمحہ ایک دشوار چڑھائی سامنے ہو تو پہاڑوں پر چڑھنا آسان نہیں ہوتا مگر مارخور دیکھنے کے شوق میں ہانپے کانپتے یہ ایڈونچر بہ خوشی کر لیا گیا تھا۔

Read more

انتہائی سیاسی رویے اور سہولت کا ایکٹو ازم

وطن عزیز میں ہر شخص انتہا کے ممبر پر براجمان ہے، ہر ایک کا ”سچ“ وہی ہے جو اس کی انتہائی سیاسی پوزیشن یا مذہبی فکر کو سوٹ کرتا ہے۔ ادھر کوئی قومی سانحہ ہوتا ہے اور ادھر رویوں کی یہ دراڑیں سوشل میڈیا پر منہ چڑھانا شروع کر دیتی ہیں۔ اعتدال نہ رکھنے کے باعث حق بات کرتے ہوئے شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے یا دوبارہ سوچنا نہ پڑتا ہے کہ آپ کے سپورٹر اور فالورز کیا سوچیں گے۔ جب آپ انتہائی پوزیشن پر الفاظ کے ذریعے یا اعمال کے زور پر جا بیٹھتے ہیں تو اکثر آپ گفتگو یا پراسس میں شمولیت کے اہل نہیں رہتے۔

Read more

میرے استاد ڈاکٹر مغیث الدین شیخ مرحوم (مکمل کالم)۔

چند دنوں میں کیسی کیسی نابغہ روزگار ہستیاں رخصت ہو گئیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے معروف کمپیئر طارق عزیز صاحب، ممتاز عالم دین مفتی محمد نعیم صاحب، معروف عالم دین اور ذاکر علامہ طالب جوہری صاحب، جماعت اسلامی کے سابق امیر اور دانشور سید منور حسن صاحب، ممتاز ماہر تعلیم اور جامعہ پنجاب کے ادارہ علوم ابلاغیات کے معمار پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ صاحب۔ اللہ پاک ان سب کو غریق رحمت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ ڈاکٹر مغیث مجھ

Read more

پنجاب میں پٹواری کی باعزت واپسی

سابقہ دور حکومت میں وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے زرعی اراضی کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے لیے گراں قدر کام کیا اس دوران موجودہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے ایک نئی اصطلاح پٹواری کلچر اور اس کا خاتمہ متعارف کروائی جو کے زبان زد عام ہوئی حتی کہ آج بھی ن لیگ اس کے کارکنان اور اتحادیوں کو پی ٹی آئی جماعت اور کارکنان کی طرف سے طنزاً پٹواری کہا جاتا ہے۔ عجیب کام یہ ہوا کہ بجائے اس نظام کی خرابیوں کو دور کر کے یہ ثابت کرنا کہ ہم اس قابل ہیں کہ نظام کی خرابیاں دور کر سکیں اور کرپٹ نظام کو دوبارہ ایک شفاف نظام میں بدل سکیں شہباز شریف حکومت نے اس نظام کو ہی لپیٹ دینے کی ٹھانی اور پٹواری کا وجود اور نام ہی ختم کرنے کا سوچ لیا یہ دراصل اس نعرے سے راہ فرار تھی۔

Read more

تعلیم کی ترویج میں انگریزوں کا کردار

ہمارے معاشرے کے بہت سے تضادات میں سے ایک تضاد یہ بھی ہے کہ ہم حقائق سے صرف نظر کر کے جذبات کو اہمیت دیتے ہیں۔ خواہ حقائق کتنے ہی تلخ کیوں نہ ہوں ہم انہیں محض اس بنیاد پر ماننے سے انکار کردیتے ہیں کہ اس سے ہماری غیرت پر حرف آتا ہے اور کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے ہم نظریں چرا لیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ روز بروز سیدھے راستہ پر آگے بڑھنے کی بجائے ایک دائرے میں چکر کھا رہا ہے اور اس بھنور سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔

Read more

وزیراعظم کے نام ایک عام عورت کا خط

اسلام و علیکم

مجھے یقین ہے کہ آپ بالکل بخیر ہوں گے۔ کیونکہ آپ کے چہرے کی تازگی آپ کی خیریت ہشاش بشاش بتاتی ہے۔ میں بالکل بخیر نہیں ہوں۔ نہ ہی میرے جیسے چھوٹے کاروبار کرنے والے میرے دوست اور عوام۔ ہم بخیر کیسے ہو سکتے ہیں کہ جب ہمارے گھروں میں کاروبار کی تباہی کے بعد بھوک اس لیے پورا نہیں ناچی کہ جب تک کچھ نہ کچھ بیچنے کے لیے موجود رہا۔ اس سے گزارا کر لیا۔ یا پھر کسی دوست رشتے دار نے وقت پاس کروا دیا۔ مجھ سمیت میرے تقریباً نو دوست ایسے ہیں جن کی یا تو نوکری چلی گئی یا انہوں نے اپنے کاروبار بند کر دیے۔ اور یہ تعداد ان کی ہے جنہوں نے آپس میں اپنا دکھ شیئر کر لیا۔ بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے یہ بھی نہیں کیا۔

Read more

موجودہ بحران میں لال لال تحریک کا کردار

’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے‘ اور ’جب لال لال لہرائے گا تو ہوش ٹھکانے آئے گا‘ کے نعروں سے مقبول ہونے والی طلبہ تحریک نے بائیں بازو کی سیاست کو اک نئی جلا بخشی۔ یقیناً ہماری اس تحریک نے نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے سیاسی جمود کو توڑا اور ان میں ایک نئی انقلابی روح پھونک دی۔ جس کا عملی مظاہرہ طلبہ یکجہتی کے دوران دیکھنے کو ملا جب ملک کے 55 شہروں میں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ اپنا بنیادی حق مانگنے کے لئے سڑکوں پر نکلے۔

گزشتہ سال نومبر میں ہونے والے طلبہ مارچ پہ لال لال کیا لہرایا کہ حکمرانوں کے ایوان میں لرزہ طاری ہو گیا تو ریاست نے ہمیشہ کی طرح جبر کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو کچلنے کی سر توڑ کوشش شروع کر دی۔

Read more

سی ایس ایس 2019: ایک مسیحی ڈرائیور کی بیٹی جو وزارت خارجہ کی افسر بننے جا رہی ہیں

اس سال کے سی ایس ایس امتحان کے نتائج کافی منفرد ہیں کیونکہ ان میں ایسے امیدواروں نے بھی کامیابی حاصل کی ہے جن کا اس مقام تک پہنچنے کا سفر قدرے آسان نہ تھا۔ ایسی ہی کامیابی صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ کے رہائشی اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں ڈرائیور کی خدمات انجام دینے والے مسیحی مذہب سے تعلق رکھنے والے جان کینڈی کی بیٹی رابیل کینڈی نے بھی حاصل کی ہے۔ سی ایس ایس کے امتحان میں

Read more

جسٹس محمد منیر اور عطا اللہ شاہ بخاری صاحب کا معرکہ

پاکستان بننے کے چند سال بعد 1953 میں لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں ایک تحریک نے زور پکڑا۔ اس تحریک کا بنیادی مطالبہ تھا کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔ اس تحریک کو شروع کرنے میں سب سے نمایاں کردار مجلس احرار کا تھا۔ 6 مارچ کو لاہور میں لارشل لاء لگایا گیا۔ اور جسٹس کیانی اور جسٹس منیر پر مشتمل ایک تحقیقاتی عدالت قائم کر دی گئی تاکہ یہ تعین کیا جائے کہ ان فسادات

Read more

فرحان ورک ہیرو یا ولن؟ دستاویزی فلم ’ہیش ٹیگ، وار اینڈ لائز‘ پر ناقدین کی رائے کیا؟

اگر آپ پاکستان میں ایک ٹوئٹر صارف ہیں یا کم از کم پاکستان کی سیاست کے بارے میں جاننے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں تو فرحان ورک کے چلائے گئے ٹرینڈز یقیناً آپ کی نظر سے گزرے ہوں گے۔ اگر آپ اپنے ذہن پر کچھ زیادہ زور ڈالیں تو یقیناً ان کی جانب سے کیے گئے متعدد دعوے بھی آپ کو یاد آئیں گے۔ اکثر افراد کی رائے میں فرحان ورک کی وجہ سے پاکستان میں سوشل

Read more

فرنگی راج کی ایک کالونی جو آج تک پاکستان میں شامل نہیں ہو پائی

کرپشن کے خلاف طبل جنگ بجا کے آنے والے خان صاحب کو نہیں معلوم کہ کرپشن کم ہونے کی بجائے بڑھ گئی ہے۔ ماضی میں وہ جن موڈیز ایمنسٹی اور اس جیسے دیگر سرویز کے حوالے دیتے تھے آج وہ سب پٹواری ادارے ہو چکے ہیں۔ ان دو سالوں میں مدادی پیکجز بیرونی قرضے بالواسطہ اور بلا واسطہ ٹیکسز کی بھرمار مہنگائی کے عروج سے اس حکومت کے پاس اتنے پیسے آئے ہیں۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ کون

Read more

لاہور گرامر سکول نے آٹھ سے زائد طالبات کو فحش تصاویر، پیغامات بھیجنے کے الزام میں استاد کو برطرف کر دیا

پاکستان میں صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے لاہور گرامر سکول نے ایک استاد کو کم از کم آٹھ سے زائد طالبات کو فحش تصاویر اور پیغامات بھیجنے کے الزام میں عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

یہ الزامات ان طالبات کی جانب سے سماجی رابطوں کی مختلف ویب سائٹس کے ذریعے لگائے گئے تھے جبکہ اس رپورٹ کے چھپنے تک مزید دس طالبات نے بھی اپنے ساتھ ہونے والے ہراسانی کے واقعات کی نشاندہی کی ہے۔

Read more

خوشونت سنگھ اور ڈیفنس اتھارٹی کراچی کا اتوار بازار

ڈیفنس کراچی کے فیز آٹھ میں دو سال پہلے تک ایک پررونق اتوار بازار لگا کرتا تھا۔ اب نہیں لگتا۔ بازار کا ٹھیکیدار بے ایمان تھا۔ آپ تو جانتے ہیں سویلین کی بے ایمانی خود سویلین سے برداشت نہیں ہوتی۔ دوسرے اسے کیوں کر چپ چاپ پی جائیں گے۔ ڈیفنس ہاﺅسنگ اتھارٹی کراچی کے مجاز افسران کہنے کو انجئنیرنگ کور کے جوان ہی سہی مگر شیر کا بچہ بھی آخر شیر ہی ہوتا ہے۔ سو عالی مقام مالک اراضی سخت

Read more

سید منور حسن: تند مزاج درویش

کراچی میں تازہ وارد ایک نوجوان سید منور حسن کی خدمت میں حاضر ہوا، ٹٹول کر جیب سے ایک رقعہ نکالا اور جھک کر ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ سید صاحب نے دیکھے بغیر اِسے میز پر ڈال دیا، کچھ دیر کے لیے دراز کو ٹٹولا، فارغ ہو کر اچٹتی سی ایک نگاہ رقعے پر ڈالی اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ اٹھتے اٹھتے جیسے انھیں کچھ یاد آیا اور انھوں نے نگاہ التفات کے منتظر اجنبی کی طرف دیکھا

Read more

رانا ثنا اللّٰہ نے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبل کی وڈیو پر سوالات اٹھا دیے

پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللّٰہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ درست ہے کہ چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) ہم نے لگایا لیکن چیئرمین نیب کی ویڈیو کس نے بنائی؟ آپ نے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین نیب کی ویڈیو کس نے جاری کی؟ آپ نے۔ اس دوران لیگی رہنما نے طیبہ گل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ طیبہ گل کی باقی پانچ ویڈیو کس

Read more

گھنٹی بج چکی…

وزیراعظم عمران خان کابینہ اجلاس کی کارروائی مکمل کرکے جانے لگے تو وفاقی وزیر اسد عمر نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ وہ جانے سے پہلے ایک اہم بات سن لیں۔ عمران خان اسد عمر کی طرف متوجہ ہوئے تو وہ بولے کہ اُنہیں فواد چوہدری کے تازہ انٹرویو کے ذریعے پتا چلا ہے کہ میں سازشوں میں ملوث ہوں اور میں نے جہانگیر ترین کو نکلوانے یا پھنسانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اسد عمر کی گفتگو میں

Read more

فواد چوہدری اور ادھر کا اشارہ

آج پاکستان میں سب سے اہم سوال یہی ہے: کیا نا اہلیت کرپشن سے زیادہ نقصان دہ ہے؟ اس واقعہ میں آپ کو اس سوال کا جواب سمجھنے میں آسانی ہو جائیگی۔ امریکہ میں مقیم ایک کنبے کی پاکستان میں تین ٹیکسٹائل ملیں ہیں۔ ایک ہی شخص ان تینوں کا جنرل منیجر ہے۔ وہ ملز کے ہر گاہک سے 0.50 فیصد کمیشن وصولتا ہے۔ ملز مالکان کے ایک قریبی عزیز کو اس کمیشن کی بہت تکلیف تھی۔ ایک مرتبہ مالکان

Read more

عوام بنام جسٹس ارشاد حسن خان

اس موقر روزنامے میں ملک کے معروف صحافی محترم عرفان صدیقی نے چھ کالموں کے ایک مربوط سلسلے میں جون 2001 کے ان واقعات کی آنکھوں دیکھی کہانی بیان کی ہے جب پاکستان پر زبردستی مسلط ہونے والے جرنیلوں کے ٹولے نے بیس مہینے تک انتظار کرنے کے بعد بالآخر ملک کے منتخب صدر محترم رفیق تارڑ کو بھی ان کے منصب سے بے دخل کر دیا۔ اس مقصد کے لئے ایک عقیم و سقیم حکم نامے سے مدد لی

Read more

وزیروں اور منتخب نمائندوں کی بھڑاس

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری خود کو میڈیا میں زندہ رکھنے کا فن خوب جانتے ہیں۔ وزارت اطلاعات بالخصوص موجودہ حکومت جو میڈیا پر اپنا میسج بطریق احسن پہنچانے کے لئے ضرورت سے زیادہ ہی کوشاں رہتی ہے، کے وزیر اطلاعات جوحکومت کے چیف ترجمان ہوتے ہیں، کی میڈیا پر ٹاک شوز میں حاضر باشی ہمہ وقت رہتی ہے۔ خیال تھا کہ فواد چودھری سے وزارت اطلاعات کا قلمدان لے کر انہیں سائنس و ٹیکنالوجی کا سونپ دیا گیا ہے لہٰذا وہ کھڈے لائن لگ کر منظر عام سے ہٹ جائیں گے لیکن انہوں نے اس وزارت کے ذریعے رویت ہلال کے معاملے پر علما سے پھڈا ڈال لیا نیز خود کو اپنی وزارت تک محدود نہیں رکھا بلکہ ہر روز شام کو ملکی سیاست کے مختلف پہلوؤں پر تبصرہ کرتے نظر آتے ہیں اور اکثر کوئی نہ کوئی ایسی بات کر جاتے ہیں جو اخبارات کی شہ سرخی بن جاتی ہے۔

فواد چودھری کا تعلق جہلم کے ایک مسلم لیگی خاندان سے ہے اور اس لحاظ سے ایک گھاک وکیل ہونے کے علاوہ سیاست کے مدوجزر کو بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ ان کے ناقدین ان پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ مسلم لیگ ق اور پیپلزپارٹی میں رہے اور ن لیگ سے بھی ”فلرٹ“ کرتے رہے ہیں لیکن اس مرتبہ فواد چودھری نے وائس آف امریکہ کو جو انٹرویو دیا ہے وہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کے مترادف ہے۔ انہوں نے وہ باتیں برملا کہہ دیں جو اکثر سیاسی مبصرین بالخصوص تحریک انصاف کی لیڈر شپ کے لیے تو نئی نہیں تھیں۔

Read more

میں نے سی ایس ایس کا امتحان کیسے پاس کیا؟

گزشتہ ہفتے یہ خبر پڑھی تھی کہ ڈپٹی کمشنر آفس گجرات میں تعینات پرائیویٹ سکریٹری ٹو ڈپٹی کمشنر عبدالخالق کے بیٹے محمد نصیر نے اس سال سی ایس ایس کا امتحان پاس کر لیا ہے۔ یہ جان کر بہت خوشی ہوئی۔ 1983 ء میں عبدالخالق نے ڈی سی آفس میں بطور جونئر کلرک بھرتی ہوئے تھے۔ اپنی محنت کی بدولت دفتر ہذا میں مختلف حیثیتوں میں کام کرتے ہوئے وہ 1995 میں اسٹینو گرافر ترقی پا گئے۔ مزید ترقی پانے

Read more

پاکستان میں مذہبی اقلیتیں: سیکولرازم وقت کی ضرورت ہے

” میرا مذہب میرے لیے، تمہارا مذہب تمہارے لیے۔“ ” ریاست سب کی اور مذہب اپنا اپنا“ یعنی مذہب کسی بھی فرد کا ذاتی معاملہ ہے دوسرے شخص اور ریاست کو اس سے ہمدردی مذہبی بنیاد پر نہیں ہونی چائیے بلکہ یہ ہمدردی صرف اور صرف انسانی بنیادوں پر ہونی چائیے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان میں سیکولرازم کیوں ضروری ہے۔ ؟ کیا پاکستان میں موجود اقلیتیں بشمول ہندو، عیسائی، پارسی، سکھ اسلامی قوانین کو مانتی ہیں جواب ہوگا ہرگز

Read more

خلافت کمالیہ کا بلوچستانی ایئر ایمبولینس

بلوچستان حکومت کے بجٹ کا سرسری جائزہ لینا بیٹھا ہوں یوں لگا جیسے اچھے مقرر نے الفاظ کے ہیر پھیر سے سب کو مطمئن اور رائے عامہ اپنے حق میں کرنے کی کوشش کی ہے میں نے ابھی صوبائی وزیر خزانہ ظہور بلیدی کی بجٹ تقریر کے کچھ صفحات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے معلوم ہوا کہ جام کمال کی حکومت نے عوام کے ساتھ ساتھ اپنے پارلیمنٹرین کو بھی ماموں بنانا شروع کر دیا۔ پچھلے سال۔ 923۔ 419 ارب

Read more

خدا حافظ ڈاکٹر مغیث صاحب!

پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین ٰشیخ صاحب کی وفات کی خبر نے افسردہ کر دیا ہے۔ پہلی دفعہ ان سے میری ملاقات 2009 میں پنجاب یونیورسٹی کے انسٹیٹوٹ آف ماس کمونیکیشن اسٹدیز ( آئی سی سی ایس) میں ہوئی جب انھوں نے ڈیپارٹنمٹ میں انگریزی پڑھانے کے لیے بحیثیت ڈائریکٹر میرا انٹرویو کیا اور مجھے سلیکٹ کر لیا۔ میں نے خوشی خوشی پڑھانا شروع کیا کیونکہ وہ پہلی دفعہ تھا کہ میں پنجاب یونیورسٹی میں پڑھا رہی تھی۔ اسی دوران ایک

Read more

فواد چودھری نے کیا غلط کہا؟

فواد چودھری کایاں سیاستدان ہیں، دو حکومتیں بھگتا چکے، اینکر بھی رہے اور اوپر سے وکیل بھی ہیں، میڈیا میں ان رہنے کا فن خوب جانتے ہیں، آج کل ان کے وائس آف امریکہ کے لئے سہیل وڑائچ کو دیے گئے انٹرویو کا بھی غلغلہ ہے موصوف نے اپنے پارٹی قائد عمران خاں کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ صوبے کمزور افراد کے حوالے کردیئے جو اچھی کارکردگی نہ دکھا سکے اس وجہ سے حکومت پر تنقید ہو رہی ہے،

Read more

ڈاکٹر مغیث الدین شیخ: ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

معمول کے مطابق پروگرام کرنے والی ریڈیو ہوسٹ اچانک ’’کیو شیٹ‘‘ سے راہ فرار اختیار کر گئیں تو اس روز رات گئے پرانے نغموں پر مبنی گیت مالا کی میزبانی دو گھنٹوں تک ہمیں نبھانا پڑ گئی۔شیو کمار بٹالوی، فراز، جون ایلیا اور آخر میں عباس تابش کے کلام کا سہارا لیتے لیتے پروگرام کھڑکا دیا، واپسی پر تینتس نمبری تو دستیاب نہیں تھی سو لفٹ لینا پڑی، پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس ہاسٹل نمبر سترہ پہنچے تو کمرہ نمبر ایک

Read more

الوداع الوداع سید بادشاہ الوداع

سید منور حسن بھی چل بسے، بلند آہنگ اورروشن چہرے والا سید بادشاہ توکل اوردرویشی کی مجسم تصویرتھا۔ ایسے مقرر بے بدل کہ سماں باندھ دیتے تھے۔ ان کے اٹھ جانے سے آج جماعت اسلامی توکل اور درویشی سے بھی خالی ہوگئی۔ وہ طویل عرصے سے علیل تھے۔ اب الاستاذ سلیم منصور خالد کے ذریعے ہی حال احوال کا پتہ چلتا تھا۔ خاکسار جب کبھی کراچی جاتا تو بالالتزام قدم بوسی کے لئے حاضر ہوا کرتا تھا۔ اس کالم نگار

Read more

جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن کا انتقال: کارل مارکس سے مولانا مودودی تک سفر

کراچی میں تازہ وارد ایک نوجوان سید منور حسن کی خدمت میں حاضر ہوا، ٹٹول کر جیب سے ایک رقعہ نکالا اور جھک کر انھیں پیش کر دیا۔ سید صاحب نے دیکھے بغیر اِسے میز پر ڈالا، کچھ دیر کے لیے دراز ٹٹولی، فارغ ہو کر اچٹتی سی ایک نگاہ رقعے پر ڈالی اور اٹھ کھڑے ہوئے۔

اٹھتے اٹھتے جیسے انھیں کچھ یاد آیا اور انھوں نے نگاہ التفات کے منتظر اجنبی کی طرف دیکھا اور بلا تمہید بولے کہ پھر چلیں؟
’کہاں؟‘
’ہمارے ہاں یہ وقت ظہر کی نماز کا ہوتا ہے۔‘

سننے والے نے اس مختصر جملے میں بے تکلف شگفتگی میں لپٹی ہوئی طنز کی گہری کاٹ کو محسوس کیا، ان کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز ادا کی اور سوچا، اس شخص کے ساتھ بات کرنا کتنا مشکل ہے۔

Read more

ڈھاڈری۔۔۔ ایک سوانحی ناول

اردو ادب میں سوانح نگاری اور ناول نگاری دو الگ اصناف نثر ہیں۔ سوانح ناول کی گنجائش قارئین کی دلچسپی کے عنصرکو بڑھانے کے لیے نکالی گئی لیکن کسی ناول کو سوانح قرار دینا ایسا کچھ آسان بھی نہیں جب تک متن میں ہر دو اصناف کے بنیادی اجزا دکھائی نہ دیں۔ ناول نگار کا نقطہ نظر ہی ناول کی ہیئت کا تعین کرتا ہے۔ آپ بیتی کے اسلوب میں ناول ڈرامائی فارم اختیار کرلیتا ہے تب جس زاویے سے

Read more

موت اس کی ہے کرے جس پہ زمانہ افسوس

جہاں فکر حسین (ع) کا ذکر ہو گا، عشق خانوادہ ء پیمبر رحمت (ص) کی بات ہو گی، مرحلہ ء شام غریباں میں چراغ بجھنے سے قبل ہچکیوں کی لو بڑھے گی، تو ایسے میں طالب جوہری کا ذکر بھی ہو گا۔ ۔ ۔

علامہ طالب جوہری 1939 کو انڈیا میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم اپنے والد مولانا مصطفی جوہری کے زیر نگرانی حاصل کی، 1949 میں اپنے والد کے ہمراہ پاکستان آئے، 10 سال نجف میں اعلی دینی تعلیم حاصل کی، علامہ طالب جوہری کو نجف اشرف کے ممتاز عالم، آیت اللہ سید عبداللہ شیرازی، آیت اللہ سید علی رفانی، آیت اللہ سید محمد بغدادی، آیت اللہ باقر الصدر نے فارغ التحصیل ہونے کی سند دی! علامہ 1965 کو کراچی واپس آئے۔ ، پانچ سال جامعہ امامیہ کے پرنسپل رہے، اس کے بعد گورنمنٹ کالج ناظم آباد کراچی میں اسلامیات کے مدرس کی حیثیت سے تقرر ہوا

Read more

ڈیجیٹل پاکستان اور ڈیٹا پروٹیکشن

دسمبر 2019 کے آغاز میں وزیر اعظم پاکستان نے ڈیجیٹل پاکستان نامی پروجیکٹ کا افتتاح کیا۔ یہ قابل تحسین اقدام تھا لیکن ڈیجیٹل پاکستان بنانے کے عمل میں کہیں پاکستانی شہریوں کی حقوق تلفی میں اضافے کا باعث تو نہیں بنے گا؟ پاکستان کا ڈیجیٹل سفر گزشتہ دو دہائیوں سے شروع ہے جس کے تحت نادرا، پنجاب میں زمینوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کرنا، کسٹمز کے محکمے میں جدید ڈیجیٹل طریقے کو شامل کرنا سے لے کر پاکستان سٹیزنز پورٹل جیسے کام شامل ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا میں آئے روز انقلابات واقع ہو رہے ہیں اور آئندہ کسی بھی ملک کی ترقی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں آگے بڑھے بغیر ممکن نہیں۔ لہذا وزیر اعظم کا ڈیجیٹل پاکستان پروجیکٹ اس ملک کو جدید دنیا میں آگے لے جانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

Read more

جاہل لاہوریے!

اس سے پہلے ہمیں یہی پڑھایا بھی گیا اور ہفتوں پر محیط دھرنوں میں بتایا بھی گیا کہ اگر دریا کے کنارے کوئی کتا بھوکا مر جائے تو ذمہ دار حاکم وقت ہوتا ہے لیکن اب جا کر معلوم ہوا کہ جب تک تحریک انصاف کی حکومت قائم ہے ذمہ دار حاکم وقت نہیں بلکہ وہ جاہل کتا ہے جسے سامنے بہتا دریا بھی نظر نہ آیا اور ایسے جاہل کتے کا مر جانا ہی بہتر ہے جس کے سامنے ٹھاٹھیں مارتا دریا موجود ہو لیکن وہ دو چار قدم کی تکلیف بھی گوارا نہ کر سکے۔

پرانے پاکستان میں ہمیں یہ بھی سنایا جاتا تھا کہ کسی ملک میں اگر کشتی ڈوب جائے تو اس ملک کا حاکم ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفاء دے دیتا ہے لیکن نئے پاکستان میں پتا چلا کہ حاکم وقت کی بجائے ذمہ دار وہ ملاح ہے جو کشتی چلا رہا تھا۔ کرپٹ لوگوں کے دور حکومت میں جس مقتول کا قاتل نامعلوم ہوتا تھا اس کا قاتل وزیراعظم ہوتا تھا لیکن نئے پاکستان میں قاتل کے نامعلوم ہونے کی تمام تر ذمہ داری پولیس پر عائد ہوتی ہے۔

Read more

بھاگ بھری: دہشت اور جنون کا مطالعہ

 ”میں جب سے اس گاؤں میں بیاہ کر آئی یہاں مسلمانوں کو ہی بستے دیکھا۔ ہاں البتہ گاؤں کی ایک پسماندہ گلی میں عیسائیوں کے کچھ گھر ضرور تھے، جو پورے گاؤں کی بطور بھنگی دیکھ بھال کرتے تھے۔ اس چھوٹی سی آبادی کے مسلمان بھی کیسے تھے، پورے گاؤں میں کوئی باقاعدہ مسجد نہ کوئی امام! حصول ِعلم ِدین کے لئے کوئی باقاعدہ مدرسہ نہ مدرس! تبلیغی جماعت کا کوئی ماہانہ درس اور نہ ہی چلّہ کاٹنے والے زاہد

Read more

سہیل وڑائچ کے ساتھ انٹرویو میں فواد چوہدری نے آدھا سچ بولا

ہر سیاسی اور غیر سیاسی تنظیم میں اندرونی اختلافات ہوا کرتے ہیں۔ ہر آرگنائزیشن ان اختلافات کو پنپنے، بیان کرنے، مان لینے یا مسترد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سیاسی جماعتوں میں یہ صلاحیت دیگر اداروں کی نسبت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اگر پی ٹی آئی میں کچھ بڑے لوگوں کے اختلافات تھے تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اس سے حکومت کو نقصان پہنچا۔ حکومت کو نقصان کارکردگی نا دکھانے پر پہنچا، پارٹی کے اندرونی اختلافات سے نہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ معاشی ترقی ملکی اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق دو ادوار میں ہوئی۔ ایک ایوب خان اور دوسری ن لیگ کی آخری حکومت۔ دونوں ادوار میں حکومت کے اندر بہت سے لوگوں کے طاقتور لوگوں کے شدید اختلافات ہے۔ پچھلی حکومت میں خواجہ آصف اور چوہدری نثار ایک دوسرے سے سلام کے روا دار نہیں تھے مگر، ان اختلافات کا ہر گز مطلب معاشی ترقی یا گورننس کی رکاوٹ نہیں تھا۔

Read more

آہ طارق عزیز۔ ۔ ۔ ایک عہد جو تمام ہوا!

بٹوارے سے قریب ایک دہائی قبل کا قصہ ہے کہ صوبہ پنجاب کے شہر جالندھر کے میاں عبد العزیز آرائیں، جنہوں نے چوہدری رحمت علی کے مسلمانوں کی علیحدہ مملکت واسطے تجویز کردہ نام پاکستان کی مناسبت سے، اپنے نام کے ساتھ ”پاکستانی“ کا لاحقہ جڑ دیا تھا۔ عبد العزیز پاکستانی کے آنگن میں سنہ چالیس کی دہائی میں اک ننھے چراغ نے جنم لیا۔ جس کا نام طارق عزیز رکھا گیا۔ تقسیم کے ہنگام عبد العزیز پاکستانی کا خاندان اپنے خوابوں کی سرزمین پاکستان ہجرت کر کے منٹگمری (ساہیوال) آن بسا۔ طارق عزیز کی ابتدائی تعلیم و تربیت ساہیوال ہی میں ہوئی۔ بعد ازاں وہ ساہیوال سے لاہور منتقل ہو گئے۔

مردانہ وجاہت، بارعب آواز، دلکش و دلنشین انداز گفتگو، سراپا وقار و متانت، پرتاثیر لب و لہجہ کے مالک طارق عزیز کو پاکستان سے محبت ورثے میں ملی تھی۔ پاکستانیت جن کے وجود میں رچی بسی تھی۔ حب الوطنی کے اس مجسم پیکر نے اپنے ورثے کو اگلی نسلوں تک بھی بہ حسن و خوبی پہنچایا۔ اپنی ہر گفتگو کا اختتام جب وہ ”پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد“ کے فلک شگاف نعروں پر کرتے تو وطن کی محبت رگ و پے میں اترتی محسوس ہوتی۔

Read more

شاہی محلہ کے سید

وہ اس بازارکا سوچ کر ہی شرمندہ ہورہا تھا۔ اسے پتا تھا کہ اس کے گاؤں کے کچھ لوگ ادھرآتے جاتے رہتے ہیں اگر کسی نے دیکھ لیا تو بہت باتیں بنیں گی۔ آج صبح ہی ڈی ایس پی صاحب نے اسے حکم دیا تھا کہ اس کیس کی تفتیش تم کرو گے۔ اس نے انکار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے جواب دیا، ”صاحب! یہ علاقہ میرے تھانے کی حدود میں نہیں آتا؟“ وہ ادھر جانا نہیں چاہتا تھا، پھر

Read more

جامعات کا نیا مجوزہ ایکٹ اور اعلی تعلیم کی صورت حال

پاکستان میں اعلی تعلیم کا شعبہ ہمیشہ سے ہی معمولی ترجیج کا حامل رہا ہے۔ 2002 ء میں ایچ ای سی کے قیام کے بعد پاکستان میں اعلی تعلیم کے معاملات پر خاصہ اہمیت دی گئی۔ جامعات میں سیاسی مداخلت ختم کرنے، جامعات میں تحقیق کے کلچر کو پروان چڑھانے، معیار تعلیم کو بہتر کرنے، بین الاقوامی سکالرشپس، جامعات میں سائنسز و سوشل سائنسسز کے مضامین پر خصوصی کے توجہ کے ساتھ ساتھ صوبوں کے درمیان اعلی تعلیم کے مسائل

Read more

اتحادی ناراض، اپنوں میں اختلاف

تبدیلی سرکار 22 سالہ جدوجہد کے بعد پاکستانی عوام کے لیے ایک امید کی کرن بن کر 2018 کا الیکشن جیت کر اقتدار پر قابض ہوئی۔ چونکہ کپتان کے پاس وزیراعظم بننے کے لیے کھلاڑی تھوڑے تھے اس لیے دوسری سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی مدد سے کپتان 22 ویں وزیراعظم منتخب ہوئے۔ اب باری تھی ان خوابوں کو پورا کرنے کی جوعوام کو دکھائے گئے تھے۔ تحریک انصاف ماضی میں جن سیاسی جماعتوں کو قاتل اور بھتہ خور

Read more

پولیس اور ٹارچر – چند تجربات اور مشاہدات

مجھے لگ بھگ دو سال تک پنجاب پولیس کے ٹارچر کیسز کی انویسٹیگیشن کرنے کا موقعہ ملا جو ایک نامکمل تجربہ ضرور تھا لیکن اس کی بنیاد پر میں اتنا حق ضرور جتا سکتا ہوں کہ میری رائے کی بنیاد ذاتی تجربہ ہے ناکہ سنی سنائی۔

جسٹس پراجیکٹ پاکستان انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے اداروں میں سے ایک ہے جسے ہارورڈ یونیورسٹی کے ایلرڈ کے لوونسٹن انٹرنیشنل کلینک آف ہیومن رائٹس کی سرپرستی میں پاکستان میں پولیس ٹارچر کے مسئلے پر تحقیق کا کام سونپا گیا۔

Read more

جامعات کا مقدمہ

پاکستان میں تعلیم ایک بنیادی نوعیت کا مسئلہ ہے۔ پرائمری، سیکنڈری یا ہائر ایجوکیشن ہو سب ہی ایک کمزور حالت میں نظر آتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ہماری ریاستی و حکومتی ترجیحات کا فقدان ہے۔ اگرچہ پرائمری تعلیم ایک اہم نکتہ ہے اور اس ملک میں ہمیں ہائر ایجوکیشن کمیشن تو نظر آتا ہے، مگر کوئی پرائمری تعلیم کی ترویج کا کمیشن دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ اس وقت ایک مسئلہ ہماری جامعات کا ہے۔ 2002 میں یونیورسٹی

Read more

فواد چودھری سے استعفیٰ لیا جائے: عمران خان نے اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کا مطالبہ مسترد کر دیا

نجی ٹی وی چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور اسد عمر نے وزیراعظم عمران خان سے گزشتہ روز ملاقات کی اور مطالبہ کیا کہ متنازعہ انٹرویو پر وزیرسائنس و ٹیکنالوجی فوادچودھری سے استعفیٰ لیا جائے لیکن وزیراعظم نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا اور کہا کہ آپ اپنے فرائض سرانجام دیتے رہیں، یہ کام میرا ہے کہ ٹیم میں رکھیں اور کسے نہیں۔ 92  نیوز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ

Read more

پہلے تولو پھر بولو!

چھوٹے ہوتے بارہا کتابوں میں یہ ضرب المثل پڑھتے آئے ہیں کہ ”پہلے تولو پھر بولو“ تب اس کی سمجھ نہیں آتی تھی کہ بولتے وقت بھی بندا بھلا کیا تولے اور کیا بولے، یہ مشکل اردو بھی مشکل سے ہی سمجھ آتی تھی۔ لیکن خیر اب جب بڑے ہوئے تو وہ تمام ضرب الامثال کو اپنی عملی زندگی میں ہوتے دیکھا تو صرف مطلب ہی نہیں ان کا مقصد بھی باخوبی سمجھ میں آیا۔ ہمارے بڑے بزرگ بھی کہا

Read more

تر دماغوں والے ترجمان

سنا تویہ تھا کہ زباں کرتی ہے دل کی ترجمانی دیکھتے جاؤ پکار اٹھی ہے میری بے زبانی دیکھتے جاؤ بے زبانی اور ترجمانی کا یہ جوڑ اگر اہل سیاست کی نظر سے دیکھیں تو اس کا تعلق دل کے بجائے دلربا کی وہ جیب ہے جو دل کے قریب ہے اور اس میں جان من کی تصویر نہیں ہوتی بلکہ مال دنیا ہوتاہے۔ یہ مال دنیا ہر دلربا کو عزیز ہوتا ہے وہ خواہ دانیال کی شکل میں عزیز

Read more

پی ٹی آئی کے پنجاب کے ناراض اراکین: ‘ ہمیں نہیں معلوم ہماری جماعت ہمیں اپنا سمجھتی ہے یا نہیں ‘

حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکینِ اسمبلی شکوہ کرتے سامنے آئے ہیں کہ ان کے حلقے کے مسائل جوں کے توں ہیں، ووٹر ان سے ناراض ہے اور ان کی اپنی حکومت میں ان کی شنوائی نہیں ہے۔ ان ممبران کو حالیہ طرزِ حکومت پر اعتراضات ہیں۔ وفاقی وزرا ان کی بات نہ سنتے ہیں اور نہ مانتے ہیں اور وزیرِاعظم عمران خان تک ان

Read more

اعلیٰ ‎بیوروکریسی میں رسہ کشی

باوثوق ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ کام کرنے والی بیوروکریسی دو واضح متحارب دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک کی قیادت وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن شہزاد ارباب اور دوسرے گروپ کے سرخیل وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ہیں۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ساتھ پرنسپل سیکرٹری کے طور پر کام کرنے والے فواد حسن فواد نے اپنا سارا وزن شہزاد ارباب گروپ کے پلڑے میں ڈال دیا۔ شہزاد ارباب اور اعظم

Read more

آپ عمران خان کی کون کونسی خوبی جھٹلاؤ گے!

عمران خان پاکستان کا وہ واحد لیڈر ہے جس کی خوبیاں آپ کو کسی دوسرے لیڈر میں نہیں ملے گی۔ وہ ایسے یکتا اور دانا لیڈر ہے کہ اس کا ثانی ڈھونڈنے سے نہیں ملے گا ان کی خوبیاں تو بیشمار ہیں کس کس خوبی کو ہم یاد کریں گے۔ جو سب سے اچھی خوبی ہے اور جس کی وجہ سے کافی پاکستانیوں نے بشمول خواتین نے ان کو دھڑا دھڑ سپورٹ کیا وہ یہ ہے کہ وہ ہینڈسم بڑا ہے۔

Read more

ملکی سیاست میں اب ’’باصفا‘‘ کون ہے

کوئی پسند کرے یا نہیں امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی طرح فرزندِ جہلم فواد چودھری صاحب کو بھی میڈیا سے کھیلنا خوب آتا ہے۔دورِ حاضر میں مجھ جیسے ’’گزشتہ‘‘ کہلاتے کالم نگاروں کے علاوہ ذہین اور خوب صورت اینکر خواتین وحضرات کی ایک فوج ظفر موج بھی ہے جو شام کے سات بجے سے رات کے بارہ بجے تک عوام کی توجہ حاصل کرنے کو مرے جارہی ہوتی ہے۔ ’’بکائو میڈیا‘‘ کے متبادل مگر سوشل میڈیا نمودار ہوچکا ہے۔اس کی بدولت

Read more

میڈم نورجہاں کی زندگی پر ایک نظر: اللہ وسائی کو محض 18 برس کی عمر میں ’ملکہ ترنم‘ کا خطاب کس نے دیا؟

انڈیا اور پاکستان کی فلمی صنعت کی بہت سی شخصیات کو ان کے چاہنے والوں نے ایسے خطابات سے نوازا ہے جو ان کی شخصیت کے ساتھ مخصوص ہو گئے ہیں اور جب وہ خطاب زبان پر آتا ہے ذہن پر اس شخصیت کا نام دستک دینے لگتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر ہم ‘پری چہرہ’ کہیں تو ذہن میں نسیم بانو کا نام ابھرتا ہے۔ ‘ملکۂ موسیقی’ کے ساتھ روشن آرا بیگم کا نام مخصوص ہے۔

‘عوامی اداکار’ کہیں تو ذہن میں علاؤالدین کا نام آتا ہے۔ ‘آہو چشم’ کا خطاب راگنی کی یاد دلاتا ہے، ‘دختر صحرا’ ریشماں کہلاتی ہیں اور ‘ملکۂ جذبات’ نیر سلطانہ، ‘شہنشاہ غزل’ مہدی حسن کو کہا جاتا ہے تو ‘چاکلیٹی ہیرو’ وحید مراد کہلاتے ہیں۔

Read more

پاکستان میں مردہ نومولود کھانے والی قبیح رسم پہ آگاہی مہم کی ضروت

پاکستان میں جب سرکاری ٹیلی ویژن ہوا کرتا تھا تب سکرین پہ آنے والا ہر شخص عظیم فنکار کہلاتا۔ بہت سے ٹیلنٹڈ افراد پلیٹ فارم نہ مل سکنے کی وجہ سے گمنامی کی موت مر گئے۔ پھر آیا سوشل میڈیا کا زمانہ یوٹیوب و فیس بک نے ٹیلنٹڈ افراد کو پلیٹ فارم مہیا کر دیا جس کی بدولت آج مین سٹریم میں ایسے درجنوں افراد جگہ بنا چکے ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا سے اپنے ٹیلنٹ کی بدولت نام اور جگہ بنائی۔

یوٹیوب پہ اطہر بلال فلمز والے ایسے ہی ٹیلنٹڈ نوجوان ہیں جو فلم سازی خصوصاً ڈاکیومینٹریز کو اک اور ہی لیول پہ لے جا چکے ہیں۔ Islamabadians Pakistan نامی یوٹیوب چینل پہ ارسلان و بلال کے توسط سے مجھے اس چینل کا علم ہوا اور راقم ان کے کام سے بہت متاثر ہوا۔

Read more

فواد چودھری کے انکشافات کے بعد اب تحریک انصاف کے پلے کیا رہ گیا ہے؟

تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کچھ یوں ہو رہی ہے : تبدیلی کا خواب پورا نہیں ہوسکا۔ تحریک انصاف اپنی ٹیم کے ہاتھوں پٹ گئی۔ کشمیر کو بیچ دیا۔ رشوت ختم نہیں ہوئی بلکہ ریٹ بڑھ گیا ہے۔ تعلیم، صحت، کاروبار، کچھ بھی بہتر نہیں ہوسکا۔ احتساب کا ڈھول بہت بجایا پیسہ تو کوئی نہ نکلا مگر سب باہر نکل آئے۔ ایک کروڑ نوکریاں کہاں گئیں؟ اربوں ڈالر واپس نہیں آئے۔ بلدیاتی نظام کے ذریعے اختیارات کی نچلی سطح

Read more

لاہور میں ایک جج کے تجربات

دسمبر 1993 میں خیر پور ٹامیوالی سے میری خواہش کے برعکس لاہور میں تبادلہ ہو گیا۔ میں لاہور کے قرب و جوار میں پوسٹنگ چاہتا تھا مگر قدرت کو شاید ہمیں داتا کی نگری میں رکھنا مطلوب تھا۔ لاہور کے بارے میں اپنے تاثرات، تجربات اور یادیں قلمبند کرنے سے قبل ایک جملہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ 1993۔ 1996 والا لاہور آج کے لاہور سے بالکل مختلف تھا۔ کوئی مناسبت، کوئی مطابقت، کوئی تقابل ممکن ہی نہ ہے۔ یہ تقابل کس طرح ممکن ہے؟ 50 لاکھ کی آبادی والا شہر 2019۔ 2020 میں ڈیڑھ کروڑ کے انسانی بحر بیکراں میں تبدیل ہو چکا ہے۔ لاہور جو ٹھوکر نیاز بیگ پر ختم ہو جاتا تھا اب وہاں سے شروع ہوتا ہے۔ 1994۔ 1995 میں 40 کے قریب سول جج، پندرہ ایڈیشنل سیشن جج اور تین چار ہزار ممبران پر مشتمل لاہور بار اب 225 سول ججوں، 75 سے زائد ایڈیشنل سیشن ججوں اور بیس بائیس ہزار کے قریب ممبران پر مشتمل بار ہے جو ایشیا کی سب سے بڑی بار ہونے کا دعویٰ رکھتی ہے۔ میری ذاتی تحقیق کے مطابق لاہور بار اس وقت صرف ایشیا نہیں بلکہ دنیا کی سب سے بڑی اور منفرد بار ہے کہ وکلا کی اتنی بڑی تعداد دنیا کے کسی بھی شہر میں موجود نہیں ہے۔

2017 میں جب میں سیشن جج لاہور تھا تو صوبہ خیبر پختونخوا سے سینئر سیشن ججوں کا ایک 15 رکنی وفد سیشن کورٹ لاہور کے وزٹ پر بھی آیا۔ بریفنگ کے بعد میں نے انہیں وہ کمرا دکھایا جہاں ہم نے ویڈیو وال کے ذریعہ لاہور کی تقریباً 220 عدالتوں کی کوریج کا انتظام کر رکھا ہے۔ وہ سارے جج صاحبان بڑے متاثر ہوئے اور مجھ سے پوچھا اتنی زیادہ عدالتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے لاہور میں کتنے سیشن جج کام کر رہے ہیں۔ جب انہوں نے یہ سنا کہ صرف ایک ہی سیشن جج ہے تو کورس کی صورت میں ان کے یہ الفاظ اب بھی کانوں میں گونجتے ہیں کہ ”یہ انسانی بساط سے باہر ہے“ ۔

Read more

اسلام آباد میں کیا ہو رہا ہے؟

کورونا دنیا کے تمام براعظموں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ ایسا وائرس آیا ہے کہ نہ صرف براعظم اس سے متاثر ہوئے ہیں بلکہ ہر وہ نام جہاں جہاں ”اعظم“ نے بسیرا کیا ہوا ہے اس وقت برے حالات سے دوچار ہے۔ اسی طرح سابق وزیراعظم میاں نواز شریف ”طبی جلاوطنی“ کا شکار ہیں جبکہ سید یوسف رضا گیلانی کے پیچھے سنتھیارچی ہاتھ دھو کر پڑی ہوئی ہیں اور راجہ پرویز

Read more

ڈاکٹر خالد مسعود قیصرانی: ایک مسیحا

کورونا کی وبا نے ہمارے معاشرے کے کھوکھلے پن اور اس کی منافقت کو خوب بے نقاب کیا۔ سوشل میڈیا کے ذریعہ ڈاکٹرز جو کہ اس وبا کے دوران اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر انسانیت کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کے خلاف غلیظ اور نفرت انگیز کمپین چلائی گئی اور حکمران صرف تماشائی بن کر سب کچھ دیکھتے رہے۔ روزانہ نجانے کتنے مسیحا اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں اور کتنے اس موذی وائرس کا شکار

Read more

میڈم گل کھل کھلاتی ہیں

اے جاہل قوم کل میں نے آپ لوگوں کو کووڈ۔ 19 کے بارے میں آگاہ کیا تھا کہ اس کے 19 نقاط ہوتے ہیں اور وہ مختلف ممالک میں جا کر اپنے نقاط آفر کرتا ہے۔ یہ اس ملک پر منحصر ہے کہ وہ کون سا نقطہ پسند کرتا اور قبول کرتا ہے۔ اس ملک میں پھر کورونا کا وہی نقطہ کام کرتا ہے۔ پاکستانی عوام اور حکومت نے تو بہت اچھا کیا کہ اس کا کوئی بھی نقطہ تسلیم

Read more

کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز، آج رات بارہ بجے لاہور کے مزید علاقے بند کرنے کا فیصلہ

لاہور : کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث آج رات بارہ بجے لاہور کے مزید علاقے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا، صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ ڈی ایچ اے، گلبرگ، گلشن راوی، گارڈن ٹاؤن، فیصل ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن اور والڈ سٹی ایک ہفتے مکمل بند رہیں ‌گے۔ ایس او پیز پر عمل نہیں ہو رہا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کورونا سے نمٹنے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں، متعدد لوگ کورونا سے صحت یاب ہو کر گھروں کو جا چکے ہیں۔

Read more

لداخ: وہ علاقہ جس پر خلیفہ ہارون الرشید کی بھی نظر تھی

اکسائی چِن کا مطلب ہے ’سفید پتھروں کا صحرا‘۔ دنیا کے بلند ترین اور دشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں واقع یہ وہ علاقہ ہے جہاں تبت، لداخ اور سنکیانگ کی سرحدیں ملتی ہیں اور آجکل ایک بار پھر چین اور انڈیا کی فوجیں آمنے سامنے ہیں۔ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو انڈیا اور چین جیسے بڑے ممالک کا اس جغرافیائی طور پر دشوار گزار خطے میں مد مقابل آنا انوکھی بات نہیں۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ ’لداخ کی گزشتہ

Read more

انگریز کی وفادار کون تھی؟ کانگرس یا مسلم لیگ

جب ہم بچے تھے تو امیر حمزہ اور عمرو عیار کی کہانیاں پڑھتے تھے۔ جب ذرا بڑے ہوئے تو ہمیں ”مطالعہ پاکستان“ پڑھایا گیا۔ جب انٹرنیٹ کا دور آیا تو ”مطالعہ پاکستان“ کے سحر سے نکلے۔ ہمیں تاریخ کا تجزیہ کرنے کی بجائے اسے رٹنے کی عادت تھی۔ چنانچہ کسی نے تو اس خلا کو پر کرنا تھا۔ اب بر صغیر کی تاریخ کے حوالے سے پاکستان میں بھانت بھانت کے نظریات داخل ہو رہے ہیں۔

لیکن سابقہ تجربات کی بنا پر مناسب ہوگا کہ اب کسی نظریہ کو عقیدت مندی سے قبول کرنے سے پہلے حقائق کا جائزہ لیا جائے۔ اس کے بعد ہر کوئی اپنی آزادانہ رائے قائم کر سکتا ہے۔ اب کچھ نظریات ہماری مشرقی سرحد سے بھی داخل ہو رہے ہیں۔ ہم کئی کتب اور مضامین میں یہ کہانی لکھی ہوئی پڑھتے ہیں۔ اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ کبھی ملک سے باہر جائیں اور بھارت سے کوئی صاحب مل جائیں تو وہ برصغیر کی تاریخ کا خلاصہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں۔

Read more

کال ریکارڈ ہو رہی ہے ناں؟

یہ نہ بہار کے دن تھے نہ گرمی کے مگر ٹھنڈی ہوائیں چل رہیں تھیں۔ اس نے پنکھا بند کیا اور کمرے کے کھڑکیاں دروازے کھول دیے۔ آرام کر سی پہ بیٹھی موبائل گود میں رکھے ٹوٹیاں لگائے اپنا پسندیدہ گیت سن رہی تھی تم چلے آؤ پہاڑوں کی قسم۔ ۔ ۔ کہ اچانک ایک نامعلوم نمبر سے فون آتا ہے۔ آواز آدھی مردانہ آدھی زنانہ ہے۔

یہ آپ کا نمبر ہے؟
جی

مبارک ہو آپ کا پانچ لاکھ کا انعام نکلا ہے کال ہم اپنے نمائندے کو ٹرانسفر کر رہے ہیں تاکہ آپ کی ضروری تفصیلات لکھی جا سکیں

Read more

محکمہ صحت پنجاب کے ڈھول کا پول

محکمہ صحت حکومت پنجاب کی جانب سے کرونا سے نمٹنے کے دعوے تو بلند بانگ کیے جاتے ہیں مگر حقیقت بالکل مختلف ہے۔

میرے ایک بھتیجے کو جو 48 برس کا ہے خاصی چیسٹ انفیکشن ہوئی۔ شدید کھانسی اور بلغم۔ مرض کے شروع ہونے کے تیسرے روز ایکس رے لیا گیا۔ مقامی ڈاکٹر علاج کر رہے تھے۔ مرض برقرار آٹھویں روز یعنی گزشتہ کل بھی ایکس رے لیا گیا۔

علی پور میں ظاہر ہے کرونا کے لیے ٹیسٹ نہیں ہوتا چنانچہ احتیاط کی خاطر ملتان لے جانے کا سوچا۔ میں نے نشتر ہسپتال سے ریٹائر ہوئے میڈیسن کے مایہ ناز پروفیسر محمد علی کو فون کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر طرح کے بخار کو آج کل کووڈ 19 لینا چاہیے۔ میں نے بتایا کہ بخار تو ایک روز بھی نہیں ہوا۔ بولے ہمیں چونکہ اس نئے وائرس کے بارے میں بہت ہی کم علم ہے اس لیے اسے نشتر ہسپتال کی ایمرجنسی میں لے جائیں وہاں کورونا ٹیسٹ ہو جائے گا۔

Read more

مائیک ٹائیسن، مکے بازی اور موجودہ حکومت

مائیک ٹائیسن کا نام باکسنگ کی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ وہ اپنی باکسنگ کی مہارت، پھرتی اور طاقت کی وجہ سے دنیائے باکسنگ میں ایک لیجنڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب تک اس نے باکسنگ کی اپنے طاقتور ہکز، پنچز، اپر کٹز، کراسز اور مخالفین کو ناک آؤٹ کرنے کی شاندار صلاحیت کی وجہ سے رنگ میں حکمرانی کی۔ اپنے اوائل میں شاید موجودہ حکومت نے بھی مائیک ٹائیسن سے ہی باکسنگ کی تربیت لی تھی۔

Read more

ڈاکٹر صفدر محمود، قائداعظم کے وارث اور مجلس احرار

2جون 2020 ء کے ”روزنامہ جنگ“ میں ڈاکٹر صفدر محمود کا کالم ”ایک تاریخی واقعے کی تصحیح“ نظر سے گزرا۔ جس میں صفدر محمود صاحب اپنے گزشتہ کالم (جو کہ 19 مئی کو ”جنگ“ میں آیا) کا حوالہ دیتے ہوئے ایک لایعنی بحث کا آغاز کر رہے ہیں۔ صفدر محمود صاحب نے 19 مئی کے کالم میں قائداعظم محمد علی جناح کے حلف نامے کے حوالے سے چند باتیں کیں۔ حلف لینے سے قبل قائداعظم گورنر جنرل کی کرسی پر

Read more

خود ساختہ سچ میں گرفتار فیصلہ ساز

لاہور اسلام آباد اور دوسرے شہروں میں پھر لاک ڈاؤن کا نفاذ ہو گیا ہے لیکن ٹھرئیے یہ تو سمارٹ لاک ڈاؤن ہے کیوں کہ ہماری سیاسی قیادت کو لاک ڈاؤن پسند نہیں، کیا کریں ایک طرف ہماری سوچ کا انداز ہے جس میں ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہماری مرضی کہ مطابق چلے، قدرت کے قوانین بھی ہماری ابرو کے اشاروں کے منتظر رہیں، بیماریاں ہم سے پوچھ کر کم یا زیادہ ہوں اور دوسری طرف وبا کا سیلاب

Read more

روزی کی یاد میں

ماضی کے دریچوں سے ایک بھرپور منظر ایک گروپ فوٹو کی صورت میرے سامنے ہے۔ جس میں روزی بھی موجود ہے۔ وہ روزی جس کے ساتھ میری زندگی کے بہترین ماہ و سال گزرے۔ اس یاد گار تصویر میں زندگی کی رعنائیوں سے بھرپور مسکراتے اور گہماگہمی سے منور دمکتے چہروں میں مجھ سمیت سولہ مردوں اور چودہ خواتین میں روزی بھی موجود ہے۔ 1999 ء کا یہ منظر جناح پبلک سکول و کالج گجرات کا ہے۔ اور سکول کے

Read more

بینظیر بھٹو، پاکستانی سیاست کی ساحرہ

بینظیر بھٹو پاکستانی سیاست کی ساحرہ تھیں۔ تھیں کہنا شاید مناسب نہیں ہوگا۔ وہ اب بھی پاکستانی سیاست کی ساحرہ ہیں۔ 86 میں وطن واپسی اور 88 میں وزارت عظمیٰ سے لے کر مرتے دم تک بلکہ آج تک ہماری سیاست ان کے سحر سے باہر نہیں آ سکی۔ یہی کمال ان کے والد مرحوم کا تھا۔ کئی دہائیوں تک لوگ ان سے تعلق میں گرفتار رہے۔ چاہے وہ تعلق محبت کا تھا یا نفرت کا۔ مجھے اعتراف ہے کہ

Read more

اس چُپ میں کوئی طوفان نہیں

عجب بولہبی ہے ہر طرف کہ آواز عالم کی ہے اور لہجہ جاہل کا۔۔۔ بوجہلی سی بوجہلی کہ علم کے طالب جہالت کی آواز بن گئے ہیں۔ قحط الرجالی کا یہ عالم ہے کہ معمولی سی قابلیت والے باعلم اور بظاہر قد آور دراصل بونے ہیں۔ یوں تو ہمیں بھی ہر وقت شکایت کی عادت سی ہو گئی ہے مگر یقین مانیے جب بھی قلم اٹھایا تو سوچا آج کچھ منفی نہیں لکھنا، مگر ڈھونڈنے سے بھی نہ اچھی خبر

Read more

کیا پاکستان کے تدریسی نظام پر بھی پہرے بٹھائے جا رہے ہیں؟

پرویز ہود بھائی جیسے محقق اور استاد، محمد حنیف جیسے مصنف اور عمار علی جان جیسے استاد پاکستانی معاشرے کے لیے کیسے خطرہ ہو سکتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو گذشتہ چند دنوں کے دوران پاکستانی سوشل میڈیا اور دیگر حلقوں میں تواتر سے پوچھا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ لاہور کے ایف سی کالج کا پروفیسر ہود بھائی اور عمار علی جان اور کراچی کی حبیب یونیورسٹی کا محمد حنیف کی خدمات سے مزید فائدہ اٹھانے سے

Read more

حکومت سنڈیکیٹ ایکٹ پاس کرانے میں بےبس یا بےچین ؟

وہ دن اور یہ دن، حکومت جب سینٹ میں کم حکومتی اراکین ہونے کے باوجود 2019 میں جیت گئی اور اکثریت سے مالامال اپوزیشن شکست سے دوچار ہوئی تب سے "فتح” سے ہمارا پیار کا رشتہ ہے۔ ہر کام میں بےشک حکومت دیر کر دے، ہم پھر بھی سمجھتے ہیں کہ آخری فتح حکومت ہی کی ہے۔ نیب سے استفادہ کرنا ہو، کورونا سے لڑائی، سندھ کو سبق سکھانا ہو یا برے بجٹ پر بھی واہ واہ کرانا ہو، بہرصورت

Read more

پاکستانی فلمی دنیاکے نامور موسیقار اے حمید

یہ 1933 کا سال تھا جب ’دیو سماج‘ کالج، امرتسر میں موسیقی کے پنڈت، پروفیسرشیخ محمد منیر کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ نومولود کے چچا ایم اسلم بھی بمبئی میں اس وقت جانے پہچانے اداکار تھے۔ بچے کا نام شیخ عبدالحمید رکھا گیا۔ ابتدا ہی سے اس بچے نے موسیقی میں دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ خودبچے کے والدموسیقی کے پنڈت، پروفیسرشیخ محمد منیر تدریس کے علاوہ عملاً گیتوں کی دھنیں بھی ترتیب دیتے تھے۔ موصوف نے غیر منقسم ہندوستان میں

Read more

کیا بہاولپور کے لوگ ریڈ انڈین ہیں؟

یہ چونکا دینے والے الفاظ بہاولپور سے رکن قومی اسمبلی میاں ریاض حسین پیرزادہ صاحب کے ہیں۔ جنہوں نے 19 جون 2020 کو اسمبلی اجلاس میں خطاب کیا اور اپنے خطاب میں بہاولپور کے رہائشیوں اور صحرائے چولستان کے باسیوں کا مقدمہ ایوان میں پیش کیا۔ ان کا کہا ایک ایک لفظ بہاولپور کے لوگوں کی بے بسی و کسمپرسی کا آئینہ دار تھا۔ اس خطاب میں انہوں نے کچھ طاقتور حلقوں کے بہاولپور اور چولستان کی زمینوں پر قبضے

Read more

پاکستان کرکٹ ٹیم کی مشہور بغاوتیں: کبھی کپتانوں کا سخت رویہ، کبھی معاوضوں کا تنازع

پاکستانی کرکٹ ٹیم جہاں میدان میں غیرمعمولی کارکردگی دکھاتی رہی ہے وہیں میدان سے باہر کے تنازعات بھی اسے ہر دور میں گھیرے میں لیتے رہے ہیں۔ ان تنازعات نے اکثر بغاوت کا روپ دھارا ہے۔

کبھی کپتانوں کا سخت رویہ اس کا سبب بنا تو کبھی معاوضوں میں اضافے کا معاملہ اتنی گمبھیر صورتحال اختیار کر گیا کہ کھلاڑیوں نے نہ کھیلنے تک کی دھمکی دے ڈالی۔

جب بھٹو نے کاردار سے آنکھیں پھیر لیں

یہ 1976 کی بات ہے۔ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر تھی۔ اس وقت عبدالحفیظ کاردار پاکستان کرکٹ بورڈ کے صدر تھے۔ وہ پاکستانی کرکٹ میں سیاہ سفید کے مالک تھے۔

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ان کے برسوں پرانے تعلقات سب کو اچھی طرح معلوم تھے۔ وہ پنجاب کی حکومت میں وزیرخوراک بھی رہے اور بھٹو کے کہنے پر ہی انھوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔

Read more

معصومیت

سب تو مہنگی ہندی اے معصومیت، سوہنے تاں انج لوک بتھیرے ہندے نے۔ ۔ ۔
یہ شعر ڈاکٹر ستندر سرتاج کے ایک گیت سے ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ یوں تو بے شمار لوگ حسین و جمیل اور خوبصورت ہوتے ہیں مگر معصومیت کا کوئی مول نہیں۔

بظاہر تو یہ ایک سادہ سا شعر ہے مگر غور کرنے پہ اس کے اندر پنہاں راز افشا ہوتے ہیں۔ میں نے اس فلسفے کو حقیقت میں سمجھنے کی کوشش کی تو مزید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ مجھے حقیقی زندگی میں اس کی کوئی مثال نہ مل سکی مگر میری جستجو جاری رہی۔

Read more

فائز عیسیٰ ریفرنس پہ ایک تحریر

سپریم جوڈیشل کونسل نے قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر ریفرنس کالعدم قرار دے دیا۔ قریب قریب اک سال چلنے والے اس ریفرنس کو حکومت پاکستان نے دائر کیا تھا۔ جسٹس فائز عیسیٰ کہ والد محمد عیسیٰ قائداعظم کے ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے، بطور صدر آل انڈیا مسلم لیگ بلوچستان ان کا نام تاریخ میں سنہری حروف میں درج ہے۔ اپنے خاندان کے ورثے کو آگے بڑھانے والے فائز عیسیٰ کے بولڈ کیرئیر کی وجہ سے وکلا کی اکثریت

Read more

کنفیوژن راہ نجات نہیں۔ ۔ ۔

غلط فیصلے اتنے نقصان دہ نہیں ہوتے جتنی کنفیوژن۔ یہ انسان کو مایوسی کے سپرد کر دیتی ہے۔
کبھی ’ہاں‘ کی پکار اور کبھی ’نہیں‘ کی لپک ایک معاملے کو پیچیدہ بناتی ہے چنداں آسان فہم نہیں۔

وادی ابہام سے نکلنے کے لیے غصے کی پگڈنڈیوں پر پاؤں جمانے سے احتراز برتنا چاہیے۔ بے ساختہ شاعر اکبر معصوم نے ایک یہ منظر پیش کیا تھا

دن نکلتے ہی، میرے خواب بکھر جاتے ہیں
روز گرتا ہے اسی فرش پر، گلدان میرا

Read more

اجتماعی زندگی یا موت کا انتخاب

پچھلے دنوں پنجاب کے وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا وہ[پاکستانی] تو کوئی بات سننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے، میں تو کہتی ہوں کہ شاید ہی کوئی قوم اتنی جاہل ہوگی جس طرح کے ہم لوگ ہیں۔

اس پر سوشل میڈیا میں کافی لے دے ہوئی۔ لیکن کیا یاسمین راشد نے کوئی انہونی بات کی ہے؟ پاکستان کی کون سی باتیں ہیں جنھیں آپ قابل فخرسمجھتے ہیں؟ قانون کی عملداری؟ تعلیم یا تحقیق کے میدان میں معرکہ آرائی؟ ٹیکنالوجی؟ جنڈراکویٹی؟ حقوق انسانی؟ معاشیات؟ خارجہ تعلقات؟ غرض کہ کوئی بھی میدان لے لیجیے اور خود ہی فیصلہ کیجیے کہ پاکستان کی تصویر کیسی لگ رہی ہے۔ اگربری نہیں تو قابل فخر بھی نہیں ہیں۔ اور ان تمام باتوں یامسائل کی جڑمعیاری تعلیم کا فقدان ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ عام تعلیم کے مواقع بھی کافی بڑی آبادی کے لیے 2020 میں بھی دستیاب نہیں۔ بڑے بڑے دانشور تسلسل کے ساتھ یہ بات کہتے آئے ہیں اور کہتے رہیں گے کہ کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے تعلیم کا کردار کلیدی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ 26 ستمبر1947 کو قائداعظم محمدعلی جناح نے فرمایا تھاکہ: تعلیم پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ دنیا اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ تعلیم میں ترقی کے بغیرنہ صرف ہم دوسروں سے پیچھے رہ جائیں گے بلکہ ہم صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے۔

Read more

افسر شاہی۔ ۔ ۔ نو آبادیاتی رویے اور قوانین

ایک حالیہ واقعہ کی اطلاع ملی ہے جس میں پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر ضلع باغ کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) سفر کے دوران اوور ٹیک کرنے کے الزام میں ایک بے گناہ ٹیکسی ڈرائیور سے مبینہ طور پر بدتمیزی اور تشدد میں ملوث پائے گئے ہیں۔

بظاہر ایسے الزامات فوجداری قوانین کے زمرے میں نہیں آتے، حتی کے آتے بھی ہوں، تب بھی، ڈی سی کے پاس خود سے موقع پر ہی سزا دینے کا اختیار نہیں ہے۔ ملزمان کے جرم یا بے گناہی کا اندازہ لگانے کے مقصد کے لئے مختلف عدالتوں کی ایک درجہ بندی قائم کی گئی ہے۔

Read more

‘ ناپسندیدہ’ جج کو ہٹانے کے لئے صدارتی ریفرنس کہاں بنتے ہیں؟

تیرہ برس پہلے تیرہ مارچ 2007 کو ملک کے معزول کر دیے گئے چیف جسٹس سپریم جوڈیشل کونسل میں پیش ہوئے تو 5 رکنی اس ’عدالت‘ کے ایک کے سوا تمام رکن جج صاحبان ان کے احترام میں آٹھ کے کھڑے ہو گئے تھے کہ ”ملزم“ آخر ان پانچوں ججوں کا سینئر ساتھی تھا جسے اس کے خلاف دائر کیے گئے صدارتی ریفرنس کی بنا پر عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس آف پاکستان، چیف

Read more

تجھ سے مل کر خدا بھی خوش ہوگا

کرنل محمد خان نے ”بسلامت روی“ میں یہ جو کہا تھا کہ ”زندگی کا مزا تماشائی بننے میں ہے نہ کہ تماشا بننے میں“ ، تو میں ان سے پوری طرح متفق ہوں۔ اگرچہ کئی احباب کواس سوچ پہ اعتراض بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر آدمی بیک وقت تماشا بھی ہوتا ہے اور تماشائی بھی۔ لیکن کرنل صاحب کے فلسفے سے در خور اعتنائی ممکن نہیں۔ طارق عزیز مرحوم اس ضمن میں اکثر مختار صدیقی کا ایک شعر سنایا کرتے تھے کہ

نکتہ وروں نے ہم کو سجھایا خاص بنو اور عام رہو
محفل محفل صحبت رکھو دنیا میں گم نام رہو

Read more

کیا عوام جاہل ہیں؟‎

پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے مایوسی اور غصے کی انتہائی حالت میں لاہور کے عوام کو جاہل کیا کہہ دیا سیاست کی ہنگامہ خیز فضا میں مزید اضافہ ہوگیا۔ سنا ہے انہوں نے اپنے اس بیان پر معذرت بھی کرلی ہے مگر جو طوفان ان کے اس فرمودے سے سے اٹھا تھا اب وہ تھمتے تھمتے ہی تھمے گا کہ سیاست کے پاکستان میں ہی کیا دنیا بھر میں یہی چلن ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ اب سیاست میں

Read more

فراست صاحب! ہم آپ کو نہیں بھولے

بہت سے لوگ محمد فراست اقبال صاحب کو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس سے وابستہ ایک باصلاحیت اور محنتی بیوروکریٹ کے طور پر جانتے ہوں گے، لیکن بیوروکریسی کے روایتی پروٹوکول کی ہاہاکار اور اعلی عہدے کی چکاچوندی سے ہٹ کر وہ علم و آگہی کی روشنی سے منور ایک درویش اور بے نیاز قسم کی باذوق اور وضع دار ادبی شخصیت تھے۔ بیوروکریٹک رویے سے بالکل پاک اور سادہ انسان۔ ان کی دانش، برمحل اشعار سے مزین برجستہ گفتگو، حاضر دماغی

Read more

سکندر اعظم کا پنجاب پر حملہ (325 – 326قبل مسیح )۔

سکندر جب دریائے سندھ پر پہنچا تو اس نے اپنے لشکر کا ایک حصہ بڑی بڑی سات کشتیاں تیار کر کے دریائے سندھ کے راستے روانہ کیا، اور خود دریا پار کر کے ٹیکشاشیلا کی ریاست میں داخل ہوا جہاں کا راجہ ”امبھی“ تھا جس کی حکومت درہ خیبر سے لے کر دریائے جہلم تک کے علاقے پر تھی، راجہ امبھی نے سکندر کی طاقت دیکھتے ہوئے اس کی اطاعت اختیار کی، اور سکندر کی بہت مہمان نوازی بھی کی تب سکندر نے اس کو اس ریاست کے حکمران کے طور پر برقرار رکھا، یہاں ایک قابل ذکر واقعہ پیش آتا ہے کہ ٹیکشاشیلا کی درسگاہ کے سات اساتذہ نے سکندر پر اس کی ملک گیری کی ہوس کی بابت بھرے دربار میں سخت تنقید اور مخالفت کی جس پر سکندر نے ناراض ہو کر ان کے قتل کا حکم دے دیا اور ان اساتذہ کو کلمہ حق کی پاداش میں قتل کر دیا گیا۔ یعنی روشن ضمیری اور حق گوئی بنیادی طور پر علم کی ہی خاصیت ہے۔

Read more

یاسمین راشد نے ایسا بھی کیا کہہ دیا

ہمیں شروع سے ہی اس امر کا ادراک تھا اگر کرونا وائرس نے پاکستان کی دہلیز پار کی تو اس کے کیسے ہوش ربا نتائج سامنے آئیں گے۔ ہمیں نا صرف صحت کے ابتر نظام کا علم تھا ساتھ ہی میں عوام کی لاپرواہی اور ہر شے کو سازش اور مذاق میں اڑا دینے کی معمول کی ملی روش کا مکمل اندازہ تھا۔ انہی وجوہات کی بنا پر چین میں پھنسے پاکستانی طلبہ کو وطن واپس نہ لایا گیا۔ کرونا وائرس جب آگ کی طرح پھیل رہا تھا، ہمارے کانوں پر جوں رینگی نہ ہی اس کی سنگینی کو اس قابل تصور کیا کہ ہمیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔ دنیا کے ہر اس ملک میں نا صرف ہمارے شہریوں نے سفر کیا بلکہ وہاں سے کرونا کو سامان میں کہ۔ طرح بھر بھر واپس بھی لائے۔ یہ بات ترش ہے، انتہائی ہے مگر سچ بھی ہے۔

نا اہلی الگ سے قومی اثاثہ ہے جس کا پہلو محبوبہ کے پہلو کی طرح چھوڑے ہم سے چھوٹتا نہیں۔ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے گڑے مردے اکھاڑنے کا کوئی فائدہ نہیں رہا۔ دنیا میں ہر مثبت دوڑ میں پیچھے رہ جانے والے کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور روک تھام میں ناکامی کے باعث دنیا میں آگے سے آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔ جب کرونا نحیف اور معدوم تھا، تب جو علاج کا منجن بیچا گیا اس کو کوئی جواب نہیں ملتا، ہم نے ہر اس شے کو حق سچ مانا جس میں کچھ مصالحہ تھا۔ ماسوائے ڈاکٹر اور وائرولوجسٹ کے، ٹی وی شوز پر ہر اس شخص کی بات میں وزن ثابت کیا گیا جس کا وبائی امراض سے کوئی تعلق تھا نہ طب سے۔ طب اور سائنس کے علاوہ ہر طرح کے انڈے کرونا وائرس کے سر پر پھوڑ دیے مگر کوئی خاص فرق واضح نہیں ہوا۔ ہم یہ بات ہمیشہ بھول جاتے ہیں کہ فطرت ہماری روشوں کی مانند امتیازی نہیں ہوا کرتی۔

Read more

گلی محلوں میں موت کے سائے

ملک بھر خصوصاً پنجاب میں کورونا وائرس تیزی سے پھیلنے لگا ہے۔ اس وائرس سے پہلے پوش علاقے زیادہ متاثر تھے لیکن اب اس جان لیوا وائرس نے گلی محلوں کا بھی رخ کر لیا ہے۔ اس قاتل وائرس کو گلی محلوں میں آنے کی دعوت خود رہائشیوں نے دی ہے۔ عید سے چند دن قبل جب لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی تو لوگوں نے کورونا کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی خریداری اور گھر سے باہر نکلنے کا آزادانہ سلسلہ جاری رکھا، اس دوران ایس او پیز کی رج کے دھجیاں اڑائیں گئیں۔ ان دنوں میں نے اپنے کالم ”عید کی خریداری کرتے ہوئے کورونا مت خریدیں“ میں اس بات سے لوگوں کو خبردار کیا تھا کہ اگر احتیاط نہ کی تو نتیجہ خطرناک ہوگا اور آج نتیجہ آپ کے سامنے ہے، گلی محلوں میں کورونا کس قدر تیزی سے پھیل رہا ہے۔

Read more

طارق عزیز کے نام کا میوزیم بنانے کی ضرورت

پاکستان سے دیوانگی کی حد تک پیار کرنے والا پاکستان کا بیٹا، پاکستان زندہ باد کے نعرے کو حرز جان بنانے والا کس موسم میں، کن دنوں میں ہم سے جدا ہوا۔ لاہور شہر کیا پورا پنجاب املتاس کے کچے پیلے رنگے لانبے گچھوں سے بوجھل اداسیوں اور مایوسیوں کی سوگواریوں میں لپٹا پڑا ہے۔ کرونا کا عفریت شہر کی رونقوں کو نگلے ہوئے ہے۔ لاہور کے بیشتر علاقے سیل ہیں۔ اس کے جنازے میں تو خلقت نے امنڈ آنا تھا۔ اس کے چاہنے والوں کو ہاتھ ملتے اور جنازے میں شرکت نہ کرنے پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے دیکھا ور سنا گیا۔

اس کی ذات کا کوئی ایک پہلو تھوڑی تھا۔ وہ تو ہمہ جہت تھا۔ پی ٹی وی کے پہلے اناؤنسر کا اعزاز اس نے اپنے نام ہی نہیں کیا بلکہ آنے والوں دنوں میں سکرین کا یہ ہیرو اپنی منفرد پہچان بنانے میں کامیاب اپنے پروگرام کے ذریعے ہر خاص و عام پاکستانی کے دل میں گھر کرچکا تھا۔ اس کی آواز کی گھن گرج شعروں کے نگینوں سے سجا اس کا موہ لیتا انداز گفتگو، اس کی پھرتیاں چستیاں لوگوں سے بھرے ہال میں بس اس کا وجود سارے ماحول پر چھایا نظر آتا تھا۔

Read more

بزدار اور شہباز حکومتوں کا موازنہ

بزدار حکومت اگرچہ اپنی کارکردگی کے لحاظ سے اکثر شدید تنقید کی زد پر رہی ہے اور اس کی ایک وجہ وزیر اعلی کا کام کرنے کا دھیما انداز بھی ہے۔ لوگ ان کا موازنہ شہباز شریف کے بلند آہنگ انداز حکمرانی سے کرتے ہیں۔ شہباز شریف اگرچہ اسٹیبلشمنٹ کے آگے ابریشم کی طرح نرم نظر آتے ہیں، لیکن بطور وزیر اعلی وہ فولاد بن جاتے۔ خاکی سفاری سوٹ پہن کر حبیب جالب کی مظلوموں کے لئے لکھے گئی انقلابی نظمیں اپنی غیر مترنم آواز میں گاتے رہتے، عوامی پذیرائی حاصل کرنے کے لئے بارش کے فوراً بعد گھر سے نکل پڑتے اور ربڑ کے جوتے پہنے سیوریج کی خرابی کی وجہ سے کھڑے پانی میں اتر جاتے تاہم اپنے ساتھ میڈیا لے جانا کبھی نہیں بھولتے۔

اپنی انگلی کو جلالی انداز میں ہلا ہلا کر بیوروکریسی کو ایک پل کے لئے چین نہ لینے دیتے تھے۔ بزدار اپنی وضع داری کی وجہ سے اس طرح کے کام نہیں کر پا رہے ہیں۔ اسی طرح مختلف مسائل سے عہدہ برا ہونے کے لئے پالیسیوں کی تشکیل کی حد تک بھی ان کے ہاتھ بندھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور سب سے بڑے صوبے کو چلانے کے لئے اس طرح کے اختیارات ابھی حاصل نہیں کر پائے جو شہباز شریف اور ان کے ہونہار بیٹے کو حاصل تھے۔ کرونا وبا سے نمٹنے کے لئے بھی ان کو وفاق کی ہدایات پر عمل کرنا پڑ رہا ہے اور ان کی اور کابینہ کی خواہش کے باوجود سخت لاک ڈاؤن نہیں نافذ ہونے دیا جا رہا۔

Read more

طارق عزیز: کامیابی اور ناکامی

طارق عزیز ایک کامیاب شخص، ایک دنیا جس کی دیوانی تھی۔ ستر، اسی اور نوے کی دہائی کا کوئی شخص ایسا نہیں ہو گا، جو اس کو نہ جانتا ہو۔ شو بز انڈسٹری کی سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ اس کی چمک دمک میں انسان کی اصلیت دب جاتی ہے۔ کہیں کھو جاتی ہے۔ طارق عزیز کا سفر کہاں سے شروع ہوا اور انجام میں اس کی شخصیت کا وہ پہلو، جو شاید اس کا آئیڈیل تھا، کہیں نظر نہیں آتا۔

ستر کی دہائی میں پی ایس ایف پنجاب یونیورسٹی کے لیڈر، بھٹو کے مشیر برائے لیبر اینڈ سٹوڈنٹ یونینز، راجا انور، اپنے ناول ’جھوٹے روپ کے درشن‘ میں اس کے بارے میں لکھتے ہیں :

Read more

دل کی صداقتوں سے منور : سید محمد شاہ کاظمی

لفظ پھر لفظ ہیں جذبوں کو سمیٹیں کیوں کر میں کیسے کر پاؤں گا اظہار عقیدت تجھ سے کہتے ہیں کہ رفتار سفر اگر ایک خاص حد سے بڑھ جائے تو ہر شے دھندلا جاتی ہے۔ دور کی چیزوں کے خدوخال گو پھر بھی قدرے واضح نظر آتے ہیں تاہم پیش منظر کی دھندلاہٹ ان پر دھیان دینا ناممکن بنا دیتی ہے۔ اس صورتحال میں منزل بے اصل پاکر ایکسپریس ٹرین کے مسافر اپنی اپنی کتابوں یا خیالات میں کھو

Read more

بی این پی کی حکومتی اتحاد سے علیحدگی!

وزیراعظم عمران خان بدھ کو کراچی میں فرما رہے تھے کہ 18 ویں ترمیم نے وزیراعلیٰ کو آمر بنا دیا، اس میں جلد بازی میں کئی ایسی چیزیں ڈال دی گئیں جنہیں ختم کرنا ہوگا۔ اختیارات صوبوں کو پہنچ گئے لیکن صوبوں نے اختیارات بلدیات کو نہیں دیے. ان کا کہنا تھا این ایف سی ایوارڈ میں بھی خامیاں ہیں، یہ ناقابل عمل ہے، یہ کیسا سسٹم بنایا گیا کہ وفاق صوبوں کو پیسے دے دیتا ہے اور خود 700

Read more