اظہار کا دن ساتواں دن

29 – 02 – 2022 آج کالم میں آپ کو ایک پرانی کہانی سناتی ہوں۔ کہیں ایک چھوٹی سی لڑکی تھی۔ سکول کے ایک ڈرامے کے لیے اس کا آڈیشن لیا گیا مگر اسے کاسٹ نہیں کیا گیا۔ بجائے اس کے کہ وہ پریشان ہوتی اس نے اپنی امی سے کہا ”میں اپنی سکول کے ساتھیوں کی ستائش کو تالیاں بجانے کے لیے منتخب ہوئی ہوں“ ۔ اس ننھی بچی کے یہ الفاظ قابل تعریف ہیں۔ ہم کچھ بھی ہوں۔

Read more

:ڈاکٹر سہیل کی سوانح حیات THE SEEKER

ڈاکٹر سہیل ایک ایسی قد آور شخصیت ہیں جن کی کسی تحریر ’کتاب یا تخلیق پر اپنی رائے کا اظہار کرنا اسی طرح مہماتی کرشمہ ہے جس طرح ان کی تحریریں، کتب، اور دیگر تخلیقات بذات خود تخلیقی مہماتی کرشمے ہیں۔ اسی طرح ان کے منفرد انداز تحریر پر رائے لکھنا بھی ایک انوکھا تجرباتی اور تخلیقی معرکہ ہے جس کا احساس مجھے ان کی سوانح عمری۔ دی سیکر۔ پر تبصرہ لکھنے کے شرف سے حاصل ہوا۔ کتاب پڑھنے سے

Read more

چیف جسٹس سچ کی تلاش میں

جسٹس گلزار احمد اپنی اننگز مکمل کرنے کے بعد سپریم کورٹ سے رخصت ہوچکے ہیں۔ وہ پانامہ کیس سننے والے اس پانچ رکنی بنچ کا بھی حصہ رہے جس نے نواز شریف کو تاحیات نا اہل کرنے کا تاریخی فیصلہ دیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان کے چند چوٹی کے قانون دانوں نے اس فیصلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ سپریم کورٹ کو ایسا فیصلہ دینے کا آئینی اختیار حاصل نہیں

Read more

صادقین اور لاہور

(10 فروری کو حضرت صادقین کی برسی ہے ) سید صادقین احمد نقوی 30 جون 1930ء کو امروہہ (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق خطاطوں کے خاندان سے تھا۔ گو کہ ان کی ابتدائی زندگی کے بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں ملتیں۔ لیکن آپ کے سوانح نگار اس بات پر متفق ہیں کہ آپ بچپن سے ہی مصوری کی جانب راغب تھے۔ گھر و اسکول کی دیواروں پر مشق کیا کرتے۔ حتیٰ کہ آپ کے والدین کو کئی

Read more

ہم سب پر تحریر کو پرکھنے کا طریقہ کار کیا ہے؟

”ہم سب“ کی ٹیم میں مختلف الخیال لوگ موجود ہیں۔ ایک شخص ایک نظریاتی انتہا پر ہے تو دوسرا اس کے بالکل مخالف سمت کھڑا ہو سکتا ہے اور چند درمیان میں۔ لیکن ادارتی ٹیم میں صرف دو افراد ہیں جو مضامین شائع کرتے ہیں۔ ٹیم کے بقیہ افراد کی رائے اہمیت رکھتی ہے اور نظرانداز نہیں کی جاتی۔ لیکن روزمرہ کے معاملات میں ہم دو لوگ ہی فیصلے کرتے ہیں۔

وجاہت مسعود کا ادارتی تجربہ مجھ سے معمولی سا زیادہ ہے۔ یہی کوئی پندرہ بیس برس زیادہ۔ ان کا علم بھی ایسے ہی سے معمولی فرق سے زیادہ ہو گا۔ یہی کوئی دس بیس گنا زیادہ۔ اس لئے ہم دونوں کا مضمون پرکھنے کا انداز مختلف ہے۔

میں ان چار نکات کی بنیاد پر مضمون کی اہمیت، پبلشنگ پرائرٹی اور اس کی کیٹیگری کا تعین کرتا ہوں۔ 1۔ عام ریڈر اسے کیسے پڑھے گا۔ 2۔ مضمون کتنے اہم معاملے پر لکھا گیا ہے۔ 3۔ سائٹ کی اوور آل صحت پر اس کا کیا اثر ہو گا۔ 4۔ مصنف کی اوور آل ریڈر شپ اور مقبولیت کتنی ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ کئی مصنف ہم مدیران کی سمجھ سے بالکل بالاتر ہوتے ہیں لیکن ان کی تحریر پڑھی جاتی ہے اور ہم اپنی رائے پر پڑھنے والے کی رائے کو ترجیح دیتے ہیں۔

Read more

پنجگور: ’آپ لوگوں کے چینل پر ہماری خبر نہیں آئی، بلوچستان چار روز تک غائب تھا‘

گذشتہ ہفتے بلوچستان کے علاقوں پنجگور اور نوشکی میں شدت پسندوں نے بڑے حملے کیے جن میں سکیورٹی فورسز کے نو اہلکار ہلاک ہوئے۔ بی بی سی نے گذشتہ دنوں پنجگور کا دورہ کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے شہر میں اب حالات کیسے ہیں۔

Read more

رینوکا دیوی کیسے بیگم خورشید مرزا بنیں؟

بیگم خورشید مرزا جن کا اصل نام خورشید جہاں تھا تقسیم سے قبل رینوکا دیوی کے نام سے مشہور ہوئیں اور پاکستان بننے کے بعد پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) کی ممتاز فنکارہ کے طور پر جانی گئیں۔

Read more

اسلامی ریاست میری جنت گم گشتہ تھی ۔۔۔۔

میرا تعلق پاکستان کے مڈل کلاس گھرانے سے ہے۔ اگرچہ میری امی صرف میٹرک تک پڑھی ہوئی تھیں۔ مگر اُن کو تاریخ اور ادب سے خاص لگاؤ تھا۔ انگریزوں کی تاریخ کو اُنہوں نے ہمیشہ مسلمانوں کے نقطہ نظر سے پڑھا اور ہمیں بھی وہی نقطہ نظر بتایا۔ اردو شاعری کے کلاسیکی شاعروں کا مشہور کلام انہیں یاد تھا۔ علامہ اقبال کا کلام ،خصوصاً شکوہ اور جواب شکوہ وہ خوبصورت ترنم سے ہمیں پڑھ کر سناتیں۔ اس سے اُن نظموں

Read more

خلیل آرٹسٹ: ایک فنکار ہزار روپ

گزشتہ دنوں جب میں کراچی میں تھا تو مجیب قریشی سے نگار ویکلی میں ملاقات ہوئی۔ یہ نگار ویکلی میں لکھتے اور ایف ایم ریڈیو پر سنائی دیتے ہیں۔ بڑے مزے دار آدمی ہیں۔ مجھے ایک ایسی جگہ لے گئے جہاں میں نے چار پانچ قسم کے ہارمونیم، ایک نامور استاد کے استعمال میں رہا سرمنڈل، تان پورہ، رباب، اک تارا چھوٹی اور بڑی دف دیکھیں۔ ان میں سب سے خاص بات چھ سبتک اور پانچ سبتک والے ہارمونیم تھے۔

Read more

زوال پسند سوچ کا تجزیاتی جائزہ

میں جس معاشرے میں رہتا ہوں وہاں کی اکثریت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ڈیمانڈ کے کم ترین معیار پر اس طرح مطمئن رہتے ہیں کہ سپلائی نا ہونے کے باوجود اپنے ہونے اور کثیر تعداد میں ہونے کا احساس دلاتی رہتی ہے۔ میں سوچتا رہتا ہوں کہ ایسا کیا ہے کہ بعض عادات اور اطوار زندگی معاشرے میں وائرل ہو جاتے ہیں۔ سوچتا ہوں کہ لوگوں کی کنڈیشننگ اس طرح ہوتی ہے کہ مخصوص حالات میں اکثریتی آبادی

Read more

عمران حکومت اور مونتیل کی بیوہ

جوانی بھی کیسا خواب در خواب کا جادوئی سلسلہ ہے۔ ہماری نسل کے لئے 80 ءکی دہائی کے آخری برس فروری میں خزاں زدہ ٹہنیوں سے پھوٹتی کونپلوں جیسی لطیف آرزوؤں کا موسم تھے۔ ہمارے ملک میں تیسری آمریت کی طویل رات ختم ہو رہی تھی۔ مشرقی یورپ سے لے کر لاطینی امریکا تک جمہوریت کے چشمے ابل رہے تھے۔ یورپ صدیوں پر محیط جنگ اور رقابت کی تاریخ کو دیوار برلن کی طرح روندتے ہوئے یورپی یونین تشکیل دے

Read more

بشری رحمٰن ایک عہد تمہارے ساتھ رخصت ہوا

کیسے من موہنے سے ہنستے مسکراتے لوگوں سے ہماری ادبی دنیا خالی ہوتی جا رہی ہے۔ ممتاز احمد شیخ کے لیے ابھی تو ہونٹوں پر یہ لفظ نوحہ خواں ہی تھے کہ شیخ صاحب آپ کے ابھی جانے کے دن تو نہیں ہیں۔ ”لوح“ کو جس جذبے اور شوق سے آپ نے اٹھایا تھا اسے آپ کی ضرورت ہے۔ مگر موت کے سامنے سوال کرنے کی کس کی جرات ہے؟ لتا جی اگر بلبل ہند تھیں تو ہماری بشری رحمٰن

Read more

مکلی میں مرگ، میری نظر میں

قبروں، مزاروں اور مقبروں سے جڑی زندگی کے رشتے اور عقیدے فکشن کا روپ ہیں۔ جن کو غافر شہزاد نے ”مکلی میں مرگ“ میں ایک نئے اور منفرد انداز سے پیش کیا ہے۔ انھوں نے ایک ایسی زندگی کو متعارف کروایا ہے جو انسان کو مرنے کے بعد اپنے چاہنے والوں اور عقیدت مندوں کے ذہنوں میں ملتی ہے۔ اس سے انسان کی ایک نئی شناخت قائم ہوتی ہے جس کا تعلق بعض اوقات اس کی حقیقی زندگی سے نہیں

Read more

رفعت عباس کا ناول "نمک کا جیون گھر”: دنیا کے لیے امن معاہدہ

دسمبر 2021 میں رفعت عباس کا ناول ”نمک کا جیون گھر“ کے شائع ہونے کے بعد اس دنیا میں دو طرح کے لوگ رہتے ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے ناول ”نمک کا جیون گھر“ پڑھا ہے اور دوسرے وہ جنہوں نے ناول ”نمک کا جیون گھر“ نہیں پڑھا ہے۔ ناول میں موجود لونی شہر اس دنیا کی آخری امید ہے۔ دنیا کو لونی میں بدل کر ہی رہنے لائق بنایا جا سکتا ہے، ورنہ جنگ اور دھرم دنیا کو مزید

Read more

 ’ہم سب‘ کے معزز، محترم اور مقبول طبیب، ادیب اور حبیب

جو ڈاکٹر لوگوں کی جسمانی بیماریوں اور تکلیفوں کا علاج کرتے ہیں کیا وہ ان انسانوں کے نفسیاتی اور سماجی مسائل کے بارے میں بھی فکرمند ہوتے ہیں؟ کیا وہ طبیب ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی کارکن اور معاشرتی مسیحا بھی ہوتے ہیں؟ جالینوس فرمایا کرتے تھے کہ ایک اچھا طبیب ایک فلسفی اور دانشور بھی ہوتا ہے کیونکہ وہ انسانی زندگی کے مسائل کے بارے میں غور و فکر کرتا ہے۔ وہ انسانی دکھوں کو کم اور سکھوں کو

Read more

خلیل جبران نے اپنی چہیتی محبوبہ سے شادی کیوں نہ کی؟

یہ کسی ایسے پیغمبر کی کہانی نہیں ہے جس کا صدیوں پیشتر ظہور ہوا ہو اور جس کا آسمانی کتابوں میں ذکر آیا ہو. یہ ایک ایسے پیامبر کی کہانی ہے جو 1883 میں لبنان میں پیدا ہوا تھا اور جس نے زندگی کا بیشتر حصہ امریکہ میں گزارا تھا. وہ پیامبر شاعر بھی تھا اور دانشور بھی. وہ ایک عیسائی خاندان کا چشم و چراغ تھا. اس نے نہ صرف سنتوں, سادھوؤں اور صوفیوں کی تعلیمات کو پڑھا تھا

Read more

عظیم لتا کے لئے چند لفظوں کی آرتی

اس بات سے بھلا کس کو انکار ہو گا کہ لتا منگیشکر کی آواز ایک معجزہ ہے۔ سر کا جادو ان کا خونی ورثہ اور موسیقی کی تعلیم اور ریاض ان کی تربیت کا حصہ ہے۔ ان کے گھر مراٹھی بولی جاتی تھی۔ جو بات مجھ جیسے لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتی ہے وہ ان کے فلمی گانوں میں اردو الفاظ کا تلفظ اور ان کی ادائیگی ہے۔ کم ہی لوگوں کو معلوم ہو گا کہ ان کے بہترین تلفظ

Read more

گلوکارہ لتا کی آواز میں وہ سپر ہٹ گانے جو امر ہو گئے

فائل فوٹو کراچی — معروف گلوکارہ لتا منگیشکر نے سات دہائیوں تک بھارتی فلموں میں اپنی آواز کا جادو جگایا ۔ گلوکارہ کا سن 1940 کی دہائی میں شروع ہونے والا کریئر 2010 تک جاری رہا جس میں انہوں نے بالی وڈ کی تقریباً تمام ٹاپ ہیروئنوں کے لیے پلے بیک گلوکاری کی۔ لتا منگیشکر نے اپنے طویل کریئر میں لاتعداد ایسے گیت گائے جنہیں ایوارڈز سے بھی نوازا گیا اور سننے والوں نے انہیں بے حد پسند کیا اور

Read more

سرحد کے اس پار اک کوئل : لتا منگیشکر

تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤ گے مندروں میں بجتی گھنٹیوں سا سحر لیے لتا جی ان چند فنکاروں میں سے ہیں جنہوں نے کئی دہائیوں بلکہ کئی نسلوں کو اپنی آواز کے سحر میں مبتلا رکھا۔ میں نے کچھ ہی عرصہ قبل لتا جی کا ایک پروگرام ہمارے مشہور صحافی کامران خان کے ساتھ دیکھا اور پھر اس کو کئی بار دیکھا اور یہ بات نوٹ کی کہ لتا منگیشکر سر کی دیوی نہیں تھیں بلکہ وہ دھرم، اخلاق

Read more

بارہ دروازے ایک موری

یونیورسٹی میں ہمارے ایک ماسٹر ہوا کرتے تھے، اپنے مضمون پہ زبردست گرفت اور مہارت کے علاوہ ان کی ایک اور وجہ شہرت تھی کہ وہ ایک جملہ تین زبانوں میں بولتے تھے۔ ایک روز اپنی جوانی کا قصہ بتاتے ہوئے کہنے لگے کہ لاہور شہر کی کیا بات ہے، لاہور شہر کی چہل پہل دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے، تفریحی مقامات ہوں یا علم و ادب کی درس گاہیں ہر چیز کی اپنی ہی کشش ہے۔ ایسی باتوں سے

Read more

اپوزیشن جماعتوں کا سوانگ اور اہم اعلان

اتوار کی صبح اٹھا ہوں تو خبر ملی ہے کہ لتا منگیشکراس دنیا میں نہیں رہیں۔ سورج کی شعاعوں کے بغیر چڑھے دن اس خبر نے میرے دل میں کئی مہینوں سے جمع ہوئے ملال کو مزید گہرا کر دیا۔ یہ سوچتے ہوئے دل کو البتہ دلاسا دینے کی کوشش کی کہ ان کے فن کے بارے میں لکھ کر دکھ کا غبار کم ہو سکتا ہے۔ شاعری اور موسیقی کی لذتوں سے مگر برسوں سے سیاسی اور خارجہ امور

Read more

ڈاکٹر لدمیلا ویسیلیوا: روس میں اردو زبان و ادب کی سفیر

24 ستمبر 2013 کا دن بھی کمال تھا۔ محترمہ لدمیلا ویسیلیوا گیارہ بجے آفس تشریف لائیں۔ انہوں نے چند روز پہلے آ نے کا ذکر تو کیا تھا مگر مجھے امید نہیں تھی کہ وہ اتنی گوناگوں مصروفیات سے وقت نکال سکیں گی۔ مگر انہیں عالمی اردو کانفرنس منعقدہ لاہور میں شرکت کے لیے ویزا درکار تھا۔ چنانچہ اسی بہانے ان سے یہ یادگار ملاقات ہوئی۔ یوں تو ان سے ملنا ہر بار حیرتوں کے نئے باب وا کر دیتا

Read more

صدیق اعوان صاحب: شخص ہفت رنگ

گرمیوں کی ایک چلچلاتی دوپہر، مین بلڈنگ کے وکٹورین طرز کے برآمدوں میں سے گزرتے ہوئے، کچھ ہی لمحوں بعد اک قد آدم دروازے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ دروازے پہ ہاتھ رکھتے ہی اس میں جنبش ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کا ایک پٹ، چڑچڑاہٹ کی آواز پیدا کرتے ہوئے جا کھلا۔ وہ ایک پرانی طرز کا دفتر تھا۔ جس کی دیواروں تک سے کہنگی ترشح تھی۔ سامنے کرسی پہ بیٹھے اقبال شاہد صاحب اپنی ساتھی اساتذہ سے

Read more

لتا منگیشکر: ایک مسحور کن آواز

لتا منگیشکر۔ ”میری آواز ہی پہچان ہے“ ، واقعی فانی انسان کا نام بھی گم جاتا ہے اور چہرہ بھی بدل جاتا ہے۔ لیکن کسی بھی انسان کا فن ہے جو کہ اسے زندہ رکھ سکتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی نامور اور مایہ ناز آواز، صف اول کی گلوکاراؤں میں ایک معتبر نام لتا منگیشکر 92 برس کی عمر میں رواں ماہ فروری میں کووڈ 19 میں مبتلا رہیں اور آخر کار زندگی اور موت کی کشمکش میں

Read more

علامہ غلام رسول سعیدی ایک یگانہ روزگار شخصیت

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم چار فروری 2016 ممدوح زماں حضرت سید شمس الزماں نجمی المعروف علامہ غلام رسول سعیدی کا یوم وصال مبارک ہے۔ آپ بیک وقت ایک مفسر قرآن محدث عصر مجتھد فقیہ تھے۔ آپ نے قرآن پاک کی دو تفاسیر لکھیں ایک تبیان القراٰن دوسری تبیان الفرقان۔ بارہ جلدوں پر مشتمل تبیان القراٰن میں امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ کی تفسیر کبیر سے اکتساب فیض کیا گیا ہے۔ تبیان القرآن

Read more

پنڈت دینا ناتھ: لتا منگیشکر، آشا بھوسلے، مینا، اوشا اور ردے ناتھ کے والد جو خود ایک سپر سٹار تھے

منگیشکر بھائی بہنوں کے والد پنڈت دینا ناتھ منگیشکر جانے مانے فنکار تھے مگر زیادہ عرصہ زندہ نہ رہ سکے۔ اُن کی 79 ویں برسی کے موقع پر منگیشکر بھائی بہنوں کی بی بی سی سے خصوصی گفتگو ملاحظہ کیجیے۔

Read more

لال قلعہ

لال قلعہ: جو کبھی قلعہ مبارک تھا، مغلوں کے سر کا تاج، جہاں بہادر شاہ ظفر بطور مجرم عدالت میں پیش ہوا۔ 1996 ء میں دہلی کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ اردو بازار کے بعد میری اگلی منزل لال قلعہ تھا۔ لال قلعہ دیکھنے سے پہلے میں اس کے قریب سے گزرا تھا اور اس کی وسعت، بلند و بالا عمارت، بہترین ڈیزائن اور سرخ رنگ نے مجھے بے حد

Read more

قوم کیسے منحرف ہوتی ہے؟

ہم فانی انسانوں کا مشاہدہ اور علم محدود ہے اور کیوں نہ ہو۔ کائنات بہت وسیع ہے اور دنیا بے حد پیچیدہ۔ ادھر اس کرہ خاکی پر ہمارے ٹھکانے کا احوال غالب کے ہم عصر نسیم دہلوی نے ایک ہی مصرعے میں سمو دیا۔ ’اجل ہے استادہ دست بستہ، نوید رخصت ہر ایک دم ہے‘۔ اگر یہ مصرعہ مغلق یا مشکل معلوم ہو تو اسی غزل میں اسی مضمون کا زیادہ معروف مصرع دیکھیے۔ ’نسیم جاگو، کمر کو باندھو، اٹھاﺅ

Read more

عباس ممتاز کی شاعری ”سادہ الفاظ اور اور خوب خیال“

اس کرہ ارض پر انسان کے باطن میں موجود ارتعاش ایک ایسا موضوع ہے، جس پر انسان کی علمی بصارت مبنی ہے۔ حس لطافت اور حس جمالیات ایک ایسا شعبہ ہے جو دور قدیم سے لوگوں کو اپنے حصار میں مقید رکھتا ہے۔ اگر ہماری زندگی میں سے لطافت، جمالیات، جذبات و احساسات کو نکال دیا جائے تو انسان ایک خالی مکان کی مانند ہو جائے گا۔ انسان دراصل خالی مکان ہی تو ہے، جب تک مختلف لوازمات اس کی

Read more

پیر روشان اور روشنیہ تحریک، پشتونوں کا نظرانداز باب

پشتون قوم کی روایات، اقدار اور پشتو نثر اور شاعری کا جب بھی ذکر ہو گا تو بایزید انصاری المعروف پیر روشان کے بغیر تذکرہ ادھورا ہی رہ جائے گا۔ پیر روشان جیسی ہمہ جہت شخصیت پر کافی تحقیقی کام ہو چکا ہے اور اس میں مقامی اور بیرونی محققین نے بھی حصہ لیا ہے۔ ان کی شخصیت کو پوری طرح سمجھنے کے لئے اس دور کے سیاسی، معاشرتی اور جغرافیائی عوامل کا بغور جائزہ لینا ضروری ہے کیونکہ کوئی

Read more

حبیب جالب کے ہم عصر ارباب علم و فن

”جالب بیتی“ پر مبنی اپنے پہلے مضمون میں میں نے کچھ ایسے واقعات کا ذکر کیا تھا جن کا تعلق حبیب جالب کی ذاتی زندگی سے تھا۔ اس آپ بیتی میں ایسے واقعات کے علاوہ بہت سی ہم عصر شخصیات کا ذکر ہے جن میں زیادہ تر کا تعلق ادب، فلم اور موسیقی سے تھا۔ ایسے احباب کا ذکر جن سے شباسائی عمر کے بڑے حصے پر محیط رہی ہو کچھ ایسا سہل نہیں کہ ذرا سی چوک سے آبگینوں

Read more

ارشد چوہدری: بے نظیر بھٹو کا پروفیسر بھی رخصت ہو گیا

دن بروز منگل 18 جنوری، سنہ 2022۔ یہ بروکلین، نیویارک کے میمونڈیز میڈیکل سنٹر کے کمرہ نمبر 724 کا منظر ہے۔ جہاں ایک بیڈ پر کرونا کی وجہ سے طبیعت بگڑنے پر لائے گئے ہمارے صحافی دوست ارشد چوہدری آکسیجن ماسک لگائے لیٹے ہوئے ہیں۔ ان کے سرہانے لگی مانیٹرنگ سکرین ان کا آکسیجن لیول 93 / 94 دکھا رہی ہے۔ ہم ان کے مجھ سمیت تین دیرینہ صحافی دوست ندیم منظور سلہری اور نیو جرسی سے سلیم صدیقی ان کی

Read more

قرآن کی اجمالی تصویر [تیسری قسط]

قرآن میں جتنے بھی واقعات آئے ہیں وہ سب حقیقی واقعات ہیں، تمثیلی اور علامتی نہیں ہیں۔ قرآن کے کردار بھی علامتی نہیں ہیں اور نہ ہی مقامات علامتی ہیں اور نہ ان اقوام اور افراد کے نام علامتی ہیں جن کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ اور یہ چیز قرآن کو ادب سے اور خاص کر افسانوی ادب سے الگ اور ممتاز کرتی ہے۔ قرآن میں تاریخی واقعات ہیں مگر ان کے تعلق سے زمانی اور مکانی تفصیلات نہیں

Read more

پاکیزہ:’ضیاع‘ قرار دی گئی فلم جو مینا کماری اور کمال امروہی کو امر کر گئی

دنیا کے لیے صاحب جان (مینا کماری) صرف کوٹھے پر بیٹھی ایک طوائف ہے مگر یہ عورت کے نظریے سے کہی گئی ایک عورت کی کہانی ہے، جو عموماً بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔

Read more

افسانہ : کنواری لڑکی خریدنی ہے

ایک بڑے شہر کی بڑی یونیورسٹی اور اس میں ایک بڑے جاگیردار کا بڑا بیٹا بلال حسین شاہ۔ گریجویشن کے دو سالوں کے دوران ہی اس کا شمار یونیورسٹی کے مقبول ترین طلبا میں ہونے لگا تھا۔ اس جیسے وجیہ، خوش لباس اور نرم گفتار تو اور بھی کئی تھے مگر ویسا ہی باعلم، بردبار اور زیرک کوئی دوسرا نہیں تھا۔ اکنامکس کا طالب علم لیکن اردو اور انگریزی ادب پر بھی گہری نظر۔ سیاسیات اور تاریخ میں بھی فکر

Read more

اپنی محدودات کا نوحہ

مجھے خبر نہیںکہ تاریخی اعتبار سے یہ دعویٰ درست ہے یا نہیں۔ 1970کی دہائی میں لیکن جوانی کی حدود میں داخل ہورہا تھا تو بارہ دروازوں والے لاہور میں یہ بات مشہور تھی کہ پنجابی کے معروف شاعر استاد دامن شاہی قلعہ کے متوازی آباد ہوئے محلہ کی اس کھولی میں رہتے ہیں جہاں اس شہر سے اکبر اعظم کے دور میں ابھرے ملامتی شاعر شاہ حسین قیام پذیر تھے۔ دامن صاحب کی شاعری کو میں ادبی اعتبار سے سراہنے

Read more

23 سال کال کوٹھڑی میں: سزائے موت کے قیدی محمد انور کی کہانی جو تختہ دار تک پہنچنے کے بعد رہا ہوئے

سزائے موت کے قیدی محمد انور کی کہانی جو 23 سال تک کال کوٹھڑی میں رہے اور تختہ دار تک پہنچنے کے بعد رہا ہوئے۔ وہ بتاتے ہیں کہ مشکل مرحلہ وہ ہوتا تھا جب ایک ساتھی کو پھانسی دینے کے لیے لے جایا جاتا تھا۔

Read more

باپسی سدھوا کی کتاب : دیئر لینگوئج آف لو (Their Language of Love)

”دیئر لینگوئج آف لو“ ، باپسی سدھوا کی طویل کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ سدھوا کی پہلی زبان گجراتی ہے، دوسری زبان اردو اور تیسری زبان انگریزی ہے۔ مگر ان کا جملہ ادبی کام انگریزی میں ہے۔ جزیات نگاری، منظر کشی اور احساسات کو الفاظ دینے میں سدھوا ید طولٰی رکھتی ہیں۔ ”دیئر لینگوئج آف لو“ میں آٹھ طویل کہانیاں ہیں۔ جو طوالت کے باوجود اپنے اندر ریڈبیلیٹی کی صفت رکھتی ہیں۔ سدھوا بنیادی طور پر ناول نگار ہیں۔ اس لئے

Read more

مت پوچھ پری زادوں سے

پچھلے کچھ دنوں سے لکھنے کی طرف توجہ تھوڑی کم ہو گئی جس کو آج دیکھے گئے ڈرامے نے تحریک بخشی۔ مجھے کسی نے بتایا کہ اگر آپ ڈرامہ دیکھنا پسند کرتی ہیں تو ہاشم ندیم کا ”پری زاد“ ایک اچھا ڈرامہ ہے۔ ہاشم ندیم میرے لئے ایک شناسا نام تھا اور وہ ایسے کہ میں نے ان کے ناول ”عبداللہ“ اور ”بچپن کا دسمبر“ کا ذکر اپنے گھر ہی میں سنا ہوا تھا۔ میں نے یہ ناول پڑھے تو

Read more

جگت بازوں کا دانشور آفتاب اقبال بمقابلہ شاعر انقلاب حبیب جالب

دانشوروں کے بھی بہت سے طبقے ہوتے ہیں اور ہر طبقہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، ہر طبقہ اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اپنی شخصیت کے گرد ہر ایرے غیرے نتھو خیرے سے خود کو بچانے کے لیے ایک حفاظتی باڑ قائم کر لیتا ہے تاکہ من کی شانتی بنی رہے اور چند من پسند لوگوں میں فیض بٹتا رہے اور داد ملتی رہے یہی کافی ہے۔ زندگی میں بڑے بڑے دلچسپ کرداروں سے آمنا سامنا ہوتا رہتا ہے میرے

Read more

انتظار حسین: ہندوستانی تہذیب کا نوحہ خواں جو یادوں کی بوریاں اٹھائے پاکستان آیا تھا

انتظار حسین دو فروری 2016 کو لاہور میں ہی وفات پا گئے اور یوں ہندوستان اور پاکستان کی تہذیب کا نوحہ رقم کرنے والا خاموش ہو گیا۔

Read more

لکھتے رہے جنوں کی حکایات خونچکاں۔ ( 2 )

’بابا بگا‘ جمہوریت اور جمہوری ادوار کا ذکر خاص نفرت سے کرتے اور آمریت کا تذکرہ خاص التفات سے۔ میں نے یہ بات ان کے خاص الخاص خلیفہ سے پوچھ لی۔ اس نے کچھ یوں وجہ بتائی۔ کہ بابا جی دراصل صدر ایوب کے دور میں دنیا میں جلوہ افروز ہوئے تھے اس لیے آمریت کو پسند کرتے ہیں اور جب پاکستان میں مکمل جمہوریت ہو گی آپ دنیا سے پردہ فرمائیں گے اس لیے جمہوریت سے نفرت ہے۔ بابا

Read more

آڈیو کالم: کیا آپ اپنے بچوں کا احترام کرتے ہیں؟

ایک محفل میں میری ملاقات مشرقی والدین سے ہوئی جن کو اپنے بچوں سے یہ شکایت تھی کہ وہ بے ادب اور گستاخ ہو گئے ہیں۔ میں نے پوچھا ’کیا آپ اپنے بچوں کا احترام کرتے ہیں؟‘ کہنے لگے ’ہم ان سے پیار کرتے ہیں اور ان کا خیال رکھتے ہیں۔ ‘ میں نے پھر پوچھا ’کیا آپ ان کی رائے کا احترام کرتے ہیں؟‘ کہنے لگے ’بچوں سے محبت کی جاتی ہے اور بزرگوں کا احترام کیا جاتا ہے۔

Read more

عورتیں ہم جنس پسند کیوں ہوتی ہیں؟

ہم جنس پسندی کے موضوع پر کافی دن پہلے ایک مضمون لکھا جس میں ہم جنس پسندی کے حوالے سے صرف مردوں کا ذکر کیا گیا تھا۔ مضمون چند ملاقاتوں کا احوال تھا۔ زیر نظر مضمون میں بھی کچھ جوان اور ڈھلتی عمر کی ہم جنس پسند خواتین کے ذاتی تجربات اور مشاہدات پرمبنی گفتگوکا احوال ہے۔ کوشش ہوگی کہ ہم جنس پسند خواتین کے خیالات اور باتیں کسی تبدیلی کے بغیر پڑھنے والوں تک  پنہچا دوں۔ یہ 2014 کی

Read more

روسی ادب اور الیگزینڈر پشکن

روس خصوصاً ماسکو میں داخل ہوتے ہی جس نام سے بار بار واسطہ پڑتا ہے۔ وہ الیگزنڈر پشکن کا نام ہے۔ وہ نہ صرف یہ کہ روس کے قومی شاعر ہیں بلکہ 37 سال کی جواں عمری میں ایک ڈوئیل میں ان کی دلیرانہ موت نے انہیں ایک ایسے رومانوی ہیرو کے کردار میں تبدیل کر دیا ہے جسے روسی اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں۔ مجھے اپنی علمی کم مائیگی کے اعتراف میں یہ کہتے ہوئے کوئی عار نہیں کہ روس

Read more

روشنی میگزین: سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جنوبی پنجاب کی قابل فخر کاوش

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جنوبی پنجاب نے سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بچوں میں مطالعے کی عادت راسخ کرانے، قومی زبان اردو کی ترویج اور طلباء و طالبات میں کتب بینی اور تحریر نگاری کے ذوق کو اجاگر کرنے کے لیے ’فروغ‘ کے نام سے ایک جامع پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت گزشتہ سال ستمبر میں بچوں کے پہلے ڈیجیٹل میگزین ’روشنی‘ کا اجرا کیا گیا۔ ’روشنی‘ کو پاکستان اور شاید دنیا بھر کے بچوں کے لیے

Read more

سچ کے رشتہ دار

پچھلے چند مہینوں میں مجھے ایک بزرگ شہر میں کئی دفعہ نظر آئے لیکن ہر دفعہ وہ افسردہ و پریشان دکھائی دیے۔ ایک جمعرات کی صبح وہ ایک مندر کے باہر دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھامے بیٹھے تھے۔ ایک جمعے کی دو پہر وہ ایک مسجد کی دیوار کا سہارا لیے کھڑے تھے۔ ایک ہفتے کی سہ پہر وہ ایک سناگاگ کے باہر رو رہے تھے اور ایک اتوار کی شام وہ ایک گرجے کے باہر آنسو بہا رہے

Read more

جہاں ادیب مر جاتا ہے

اب میں آپ کو چھ دہائی پرانی حکایت کیا یاد کراؤں کہ محمد حسن عسکری ایک مختصر سے شذرے میں اردو ادب کی موت کا اعلان کر کے مفتی محمد شفیع کے صحبت نشین ہو گئے تھے۔ مرحوم عسکری صاحب نے کچھ ایسی ہی افتاد پائی تھی۔ پاتال اور ثریا کے بیچ کہیں پڑاؤ  کے روادار نہیں تھے۔ مگر بھائی، محمد حسن عسکری ایک فرد نہیں تھا، اپنی ذات میں جوالا مکھی تھا، جوار بھاٹا تھا، ایک تحریک تھا، ایک

Read more

بستر میں جبر کرنے والے شوہر کو میں نے چھوڑ دیا

مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ رات نہیں گزرے گی۔ میرا سر درد سے پھٹ رہا تھا اور میں مسلسل رو رہی تھی۔ روتے روتے نہ جانے کب آنکھ لگ گئی۔ صبح چھ بجے جب بیدار ہوئی تو میرا شوہر میرے سامنے سراپا سوال تھا۔ اس نے پوچھا: ‘تو تم نے کیا فیصلہ کیا؟ تمہارا جواب ہاں ہے یا نہیں؟’ مجھے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ پھر بھی ہمت سے بولی۔ ‘آج آپ دفتر جائیے پلیز۔

Read more

گلزار! تجزیہ!

ہاتھ میں پسٹل اٹھائے کوئی شخص گلزار کی شاعری، طبلے اور موسیقی پہ بات کرے تو کچھ اور سوچے بنا پہلا وار ”حیرت“ کا ہی ہوتا ہے، جو کہ اس ڈرامے کے انتظار کی سب سے بڑی وجہ بھی تھی، ڈرامہ شروع ہوتے ہی تمکنت کا جو سین چلتا ہے تو ایک معصوم پیشہ ور عورت اپنے جسم اور میک اپ کی فکر میں غلطاں ہے لیکن پھر بھی خوش ہے اور مکمل طور پر شوخ ہے۔ پیشہ ور عورت

Read more

جامع مسجد دہلی، چاندنی چوک اور مرزا غالب کا محلہ بلی ماراں

1996 ء میں دہلی کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک جب میں نے پہلی مرتبہ جامع مسجد کو دیکھا تو مجھے یوں لگا کہ جیسے میں لاہور کی بادشاہی مسجد کو دیکھ رہا ہوں۔ دونوں مساجد میں بہت زیادہ مماثلت پائی جاتی ہے۔ یہ مماثلت اس وجہ سے بھی ہے کہ دونوں ہی کے بنانے والے مغل بادشاہ تھے، یعنی شاہجہاں اور عالمگیر۔ ظہر کی نماز کے وقت مسجد کے شمال مشرقی کونے

Read more

دیوان غالب کا منظوم انگریزی ترجمہ

تقریباً پندرہ بیس برس پہلے مجھے اسیر عابد کا کیا ہوا ”دیوان غالب“ کا پنجابی ترجمہ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس ترجمے کے پیش لفظ میں احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں ”میں سوچتا تھا کہ اسیر عابد نے غالب کے مثلاً اس شعر کے ساتھ کیا سلوک کیا ہو گا۔“ دل نہیں ورنہ دکھاتا تجھ کو داغوں کی بہار/ اس چراغاں کا کروں کیا، کار فرما جل گیا۔ احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں۔ ”اگر غالب زندہ ہوتا تو یہ ترجمہ

Read more

پاکستان رائٹرز گلڈ: صدر ایوب خان کے دور میں قائم ہونے والی ادیبوں کی تنظیم جو کئی تنازعات کا شکار رہی

وہ کام جس کی ابتدا ادیبوں کی فلاح و بہبود کے بے ضرر سے ایجنڈے سے ہوئی تھی، آگے چل کر ایک ملک گیر ادارہ پاکستان رائٹرز گِلڈ کی صورت اختیار کر گیا مگر اپنے قیام کے فوراً ہی بعد یہ متنازع کیوں ہو گیا؟

Read more

ارسطو کی کتاب، کافی، سگار اور مسرت – مکمل کالم

سقراط، افلاطون اور ارسطو، یہ تین فلسفی ایسے ہیں جن سے میں بہت تنگ ہوں۔ تینوں یونانی ہیں اور ایک ہی عہد میں آگے پیچھے وارد ہوئے۔ حضرت سقراط تو خیر قابو میں ہی نہیں آتے، انہوں نے اپنے شاگردوں کو زچ کرنے کے لیے ایک انوکھا طریقہ ڈھونڈا تھا جس میں وہ ان سے مکالمہ کرتے اور شاگردوں سے بظاہر آسان سوال پوچھ کر انہی سے جواب مانگتے اور اگر کوئی بیچارہ جواب دینے کی غلطی کر بیٹھتا تو

Read more

رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا

میں جیل میں تھا کہ مجھے سزا کے طور پر قصوری چکی میں ڈال دیا گیا۔ مجھ پر یہ الزام تھا کہ میں یہاں شعر سناتا ہوں۔ جیل کے جو قیدی پہلے سے موجود تھے وہ مجھ سے پوچھتے کہ آپ یہاں کیسے آئے، کون سا جرم کیا۔ میں انہیں کہتا شاعری کی وجہ سے آیا ہوں۔ وہ پوچھتے کون سی شاعری، ہمیں بھی سنائیں۔ جب میں نے انہیں اپنی شاعری سنائی تو وہ بولے، پھر تو آپ ٹھیک ہی

Read more

ایڈیٹر کی ڈائری

کئی برس پہلے، بطور ڈائجسٹ ایڈیٹر، ذمہ داری سنبھالنے کے بعد جس اہم چیز سے میرا، سب سے پہلے واسطہ پڑا، وہ رائٹرز کے، ہاتھ سے لکھے ہوئے مسودے تھے۔ بیشتر کہانیاں ایسی تھیں کہ ان میں کہانی ڈھونڈنا آسان کام نہیں تھا۔ یوں سمجھیں کہ الفاظ کا ڈھیر ہوتا تھا، جس میں سے جملے خود بنانے پڑتے تھے۔ ایک نامور خاتون لکھاری کی تحریر میں پیراگراف تو کیا، کوما یا فل سٹاپ بھی نہیں ہوتا تھا۔ گویا وہ کہانی

Read more

قومی سلامتی پالیسی کا قوم سے تعلق

سنگاپور میں امتحانات سے قبل ایک اسکول کے پرنسپل نے بچوں کے والدین کو خط بھیجا جس کا مضمون کچھ یوں تھا۔ ” محترم والدین! آپ کے بچوں کے امتحانات جلد ہی شروع ہونے والے ہیں میں جانتا ہوں آپ سب لوگ اس چیز کو لے کر بہت بے چین ہیں کہ آپ کا بچہ امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھائے۔ لیکن یاد رکھیں یہ بچے جو امتحانات دینے لگے ہیں ان میں (مستقبل کے ) آرٹسٹ بھی بیٹھے ہیں جنھیں

Read more

اب اسرافیل بے روزگار نہیں ہوگا

آج شہر در شہر اک نئے ہنگامے میں جان آئی ہے کہ بے صدا صبح پھر لوٹ آئے گی۔ روحیں پریشانی آلام سے دہک اٹھیں گی۔ آوازوں کے پیروں میں زنجیروں کا جھنکار ہو گا۔ بجھتی شمعوں سے دھواں اٹھے گا، اور بے پناہ خوف میں رویائے شکستہ کی فغاں اٹھے گی۔ شاید اسی رات اور اسی شام ہی یہ عفریت دروازے پر دستک دے گا، کہ اس پیڑ پر بوم کا سایہ ہے۔ اس پیڑ پر پہلے بھی بوم

Read more

بہادر شاہ ظفر کا دسترخوان

منشی فیض الدین دہلوی صاحب نے ایک کتاب ”بزم آخر“ تحریر کی تھی۔ اس کتاب میں مغلیہ عہد کے آخری دنوں میں بہادر شاہ ظفر کے محل کے حالات درج کیے گئے ہیں۔ ان چونچلوں کو پڑھ کر کم از کم یہ سمجھ آجاتی ہے کہ صدیوں سے قائم سلطنت ہاتھ سے کس طرح نکل گئی۔ اس کتاب کا مطالعہ اپنی ذات میں عبرت کا سامان ہے۔ بہادر شاہ ظفر کے عہد میں سلطنت تو کب سے نکل چکی تھی۔

Read more

کرنل کی لائبریری

برسوں بعد شہر کی اس گلی سے گزرنے کا اتفاق ہوا جہاں کبھی ایک لائبریری ہوا کرتی تھی۔ دور طالب علمی میں ہم اسی لائبریری سے جاسوسی ناول، ڈائجسٹ اور دیگر کتابیں کرائے پر لے کر پڑھا کرتے تھے۔ اس لائبریری کا مالک دونوں ٹانگوں سے معذور ایک ادھیڑ عمر خوش مزاج آدمی تھا۔ وہ خود بھی جاسوسی کہانیوں کا دلدادہ تھا۔ سب لوگ اسے کرنل کے نام سے پکارتے تھے۔ کرنل کی لائبریری میں ڈھیروں کتابیں تھی۔ اس کے

Read more

دہلی یا دلی: مغلوں سے انگریزوں تک، جس کا حسن ہی اس کا قاتل ٹھہرا

بھارت کے چار سفروں میں جو کچھ دیکھا، سمجھا، سنا اس کی ایک جھلک دہلی ان شہروں میں سے ہے جس کے دو نام ہیں، دہلی اور دلی۔ انگلش میں لکھتے وقت اسے دہلی لکھا جاتا رہا ہے جبکہ پنجابی، ہندی، اردو میں اسے دلی لکھا جاتا رہا ہے۔ اب بھی عام بول چال میں لوگ اسے دلی ہی کہتے ہیں۔ اردو شاعری میں یہ بات بہت واضح ہے کہ اس شہر کو دلی ہی کہا جاتا رہا ہے۔ اب

Read more

سوشل میڈیا بطور عالمی ادبی پلیٹ فارم اور ہمارا ادیب

ہم زندگی کے جس شعبہ میں بھی ہوں اپنی حدود خود متعین کرتے ہیں۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنے گرد ایک دائرہ کھینچیں اور اسی کی تنگی میں قید رہ کر تمام عمر گزار دیں یا اس دائرے کے امکانات کو دریافت کرنے کی مسلسل سعی کرتے رہیں اور دریافت کی اس خواہش کے بل پر دائرے کو کائنات جتنا وسیع کر لیں۔ یا دوسری صورت میں ایک دائرے کو تسخیر کر کے ایک بڑے دائرے اور

Read more

نین کھلے تو اوجھل ”سپنا“ – نائلہ گل قاضی کی تیسری برسی

27 جنوری کا دن، سندھ کی جواں مرگ شاعرہ، نثر نویس، استاد، ماہر تعلیم اور کمپیئر، پروفیسر نائلہ گل ”سپنا“ قاضی کی یاد لے کر آتا ہے، جو آج سے 3 برس قبل، محض 41 برس کی عمر میں سندھ سے بچھڑ گئی اور اپنے پیچھے ادب خواہ تعلیم کا ایسا نامکمل سفر چھوڑ گئی، جس راستے پر ابھی انہیں کئی دہائیوں تک چل کر، سندھ کی پہچان بن کر عالم آشکار دانشور بننا تھا۔ سندھ میں انگنت شخصیات کی

Read more

اجالے کے لیے جالے اترنا ضروری ہے

جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے کچھ عرصے پہلے یہ قصہ سنایا کہ مرحوم حکیم محمد سعید نے جب کراچی کے مضافات میں مدینتہ الحکمت کے نام سے ایک علمی شہر بسایا تو سب سے زیادہ توجہ اس شہرِ علم کے کتب خانے ’’ بیت الحکمت ’’ پر دی۔میں حکیم صاحب کے جمع کردہ کتابوں کے اس عظیم الشان ذخیرے کو دیکھ کے خاصا متاثر ہوا تو حکیم صاحب کی آنکھیں نم ہوگئیں۔کہنے لگے، پیرزادہ

Read more

عہد ساز ہدایت کار: بمل رائے

چند سال قبل کا واقعہ ہے۔ ہندی سینما کے باصلاحیت ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی کی فلم ’دیوداس‘ کا شہرہ تھا۔ ایک محفل میں میرے ایک دوست نے فلم پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ شاہ رخ خان، ایشوریا رائے اور مادھوری ڈکشت نے دیوداس کا حق ادا کر دیا۔ میں نے حیرت سے پوچھا آپ نے دلیپ کمار کی دیوداس دیکھی ہے ؟ انہوں نے روکھے پن سے جواب دیا دیکھنے کی کیا ضرورت۔ کلاسیک فلموں سے ناواقفیت عموماً

Read more

نرملا مگھانی: تو جھوم جھوم…

کوک سٹوڈیو پاکستان کی میوزک انڈسٹری پر جو احسان کر رہا ہے اس کا بدلہ شاید کبھی بھی نہ چکایا جا سکے، اگرچہ بہت سے گانوں کا ”ناس“ مارا گیا مگر کئی ایسے ایسے شاہکار بھی تخلیق کیے ہیں جس سے پاکستان میوزک انڈسٹری کو نئی زندگی ملی ہے بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ کوک سٹوڈیو نے پاکستان کی دم توڑتی ہوئی میوزک انڈسٹری میں نئی روح پھونک دی ہے کوک سٹوڈیو سیزن 14

Read more

سات سُروں کا احسان: یہ دنیا ویران نہیں ہے

11 جنوری کی صبح گرامی قدر اکمل شہزاد گھمن کا فون آیا، سلام دعا اور خیریت کے بعد کہا کہ سرمد صہبائی صاحب کو فون کر لیں۔ سرمد صہبائی صاحب کو فون کیا تو بولے شام کو کیا کر رہے ہو؟ ، عرض کیا سر کچھ خاص نہیں حکم کریں، اچھا تو پھر شام کو ساڑھے پانچ بجے تک گھر آ جاؤ تمھیں ایک محفل موسیقی میں لے کر چلتے ہیں۔ میں ان کے بتائے ہوئے وقت سے پندرہ منٹ

Read more

کیا منافقوں کے ہجوم میں اپنی جینوئن شخصیت کے ساتھ جیا جا سکتا ہے؟

ہم نے اپنے منافقانہ رویوں کی وجہ سے اپنا معاشرتی ڈھانچہ کچھ اس طرح کا بنا لیا ہے جس میں اوریجنل شخصیت کو جھیلنے کی سکت ہی نہیں رہی، ہر طرف بہروپیوں کا راج ہے مقبول خول پہن کر بہروپیے عوام کے ذہنوں کو بہلاتے رہتے ہیں جیسے ہی کوئی بندہ ان کے ”پرسونا ماسک“ اتار کر حقیقت سے آگاہ کرنے کی کوشش کرنے لگتا ہے باریش طبقے کو تو چھوڑ دیں ان سے کیا گلہ مگر افسوس اس وقت

Read more

نئے سال کے نئے خواب

بعض لوگ اندھیری راتوں کو بند آنکھوں سے ڈراؤنے خواب دیکھتے ہیں اور سارا دن پریشان رہتے ہیں اور اگر ان کی پریشانی وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جائے تو کسی ماہر نفسیات کو تلاش کرتے ہیں اور بعض لوگ دن کے وقت کھلی آنکھوں سے سنہری اور سہانے خواب دیکھتے ہیں اور پھر ان خوابوں کو حقیقت بناتے ہیں۔ میں بھی ہر سال چند تخلیقی خواب دیکھتا ہوں اور پھر ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کی کوشش

Read more

نئے سال کے نئے خواب – طنز و مزاح

جنوری کا شروع ہے، خوب کڑاکے کی سردی پڑ رہی ہے۔ ابھی صحیح طرح سے نیو ائر کی مبارکبادیں بھی ختم نہیں ہوئیں اور ذہن پر سال گزشتہ کی کامیابیوں کا خمار بھی باقی ہے۔ دل کرتا ہے کہ دو ایک چھٹیاں اور کر کے وزیراعظم یونیورسٹی (سابقہ وزیراعظم ہاؤس) کے لان پر خوب قلابازیاں کھاؤں اور خوب انگڑائیاں لوں۔ مگر صاحب عملیات کی دنیا میں چھٹی کہاں؟ ابھی کل کی بات ہے کہ میں اپنی کٹیا یعنی دھرم شالہ

Read more

ٹیسٹ ٹیوب، سروگیسی اور اب سور کا دل!

اگر آپ کی ملاقات کسی ہم جنس پرست مرد سے ہو اور وہ آپ کو یہ بتائے کہ اس کا ’خاوند‘ رات کو دیر سے گھر آتا ہے، اسے وقت نہیں دیتا اور بچوں کو بھی نہیں سنبھالتا تو آپ کا رد عمل کیا ہو گا؟ ایک مرتبہ امریکہ میں مجھے اسی قسم کے بندے سے پالا پڑا تھا جس کی یہ گفتگو سن کر میں چکرا کر رہ گیا تھا۔ اس مرد رعنا کی شادی کو چار سال ہوئے تھے، دو بچے تھے، اس کا شکوہ یہ تھا کہ خاوند اس سے بیزار ہو چکا ہے، گھر پر بالکل توجہ نہیں دیتا، اٹھے بیٹھے طعنے دیتا ہے، لہذا اب وہ اس سے علیحدہ ہونے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔

Read more

پروتیما بیدی: ایک باغی فن کارہ

پروتیما بیدی انڈیا کی ماڈل اور کلاسیک ڈانسر تھی۔۔۔وہ ایک باغی روح تھی۔ اس نے زندگی میں جو بھی کیا اپنی مرضی سے کیا۔۔کسی ضابطے اور بندھن کو اپنی زندگی میں نہ آنے دیا۔ وہ قدرے خوشحال لیکن کنزرویٹو گھرانے میں پیدا ہوئی۔ اس کے باپ نے خود پسند کی شادی کی تھی۔۔جس پر اسے گھر سے نکال دیا گیا تھا۔۔اس کے والدین کے ہاں پہلی اولاد بچی پیدا ہوئی۔۔پہلی بچی پیدا ہونا ہمارے ہندوستانی معاشرے مین کوئی اچھا شگون

Read more

پاسٹرناک کا جنازہ اور سرکاری دانش

آج کل ہماری تاریخ ندامت کا ایک اور قابل فراموش باب اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے، اچھا موقع ہے کہ رک کر کچھ بنیادی نکات کی بار دگر خواندگی کر لیں۔ سپہ سالار اور سپاہی میں یہی فرق ہے کہ لڑائی ختم ہونے پر کماندار اپنے خیمے میں محفل ہاﺅہو سجاتا ہے مگر سپاہی اپنے جوتے نہیں اتارتا، جانتا ہے کہ لڑائی میں فتح یا شکست ہوا میں رچی موت کے اندوہ اور لہو کی باس کا وقفہ

Read more

سینوں میں چبھتے ہیں اجالے

ان تصویروں کو غور سے دیکھو، کہ یہ خوش شکل نوجوان کون ہیں؟ کیا آپ پہلی نظر میں پہچان پائے؟ نہیں نا۔ فہیم کمانڈو، نعیم شری، فاروق دادا اور صولت مرزا، کیا کبھی آپ نے ان کی گمشدہ کہانیوں کو کریدنے کی کوشش کی ہے ایسا کیا ہوا؟ پتہ نہیں اور کتنی تصویریں بھی گمشدہ ہیں۔ کس نے ایک ڈریکولا حیرت کھانی کا پلاٹ ترتیب دیا کہ یہ دلکش جوان ایک دم جلے اور پھر بجھا دیے گئے۔ کراچی کی

Read more

پاکستان سپر لیگ سیزن 7 کا ترانہ ’آگے دیکھ‘: پی ایس ایل کے گانے پر ہر مرتبہ کی طرح اس بار بھی بحث اور تنقید

دیگر تمام کرکٹ لیگز کی نسبت پی ایس ایل کی یہ منفرد بات ہے کہ اس میں ہر سیزن سے پہلے تمام ٹیمیں بھی اپنے ترانے ریلیز کرتی ہیں اور ایک آفیشل ترانہ بھی ریلیز کیا جاتا ہے۔ شائقین کو نہ صرف ان ترانوں کا بے صبری سے انتظار ہوتا ہے۔پی ایس ایل کے آغاز سے ہی اس کے آفیشل ترانے کی اہمیت ہر سیزن کے ساتھ بڑھتی چلی گئی ہے اور اب کسی بھی سیزن کے آغاز سے قبل پلیئر ڈرافٹ سے بھی زیادہ اہم چیز پی ایس ایل کا ترانہ بن جاتا ہے۔

Read more

کیا ادب ہمیں اخلاقیات سکھاتا ہے

سوال یہ ہے کہ ادب اور اخلاقیات کے درمیان کیا تعلق ہے؟ کیا ادب ہمیں مطلق اخلاق کے بارے میں بتا سکتا ہے؟ اس حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ادب مطلق اخلاق سکھا سکتا ہے۔ وہ ادب میں سے مثالیں دیتے ہوئے ثابت کرتے ہیں کہ ادب کے بہترین کاموں میں سے ایک کام اخلاقیات سکھانا ہے۔ اس حوالے سے ادب ایک طرف سے اخلاقی مطلق صورت کو دکھاتا ہے تو دوسری

Read more

سریکانت بولا: ایک غریب انڈین نابینا طالبعلم کی پانچ کروڑ پاؤنڈ کی کمپنی، نظام اور حالات سے لڑائی کی ایک کہانی

سریکانت بولا انڈیا کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے اور ان کے والدین کو کہا گیا کہ ’یہ نابینا ہے اور تم پر بوجھ بنے گا اس کو مار دو‘۔ پھر اسے سکول میں کہا گیا کہ نابینا ہونے کی وجہ سے ریاضی اور سائنس نہیں پڑھ سکتا۔ آج وہ کروڑوں پاؤنڈ مالیت کی ایک کمپنی کے مالک ہیں جس میں زیادہ تر معذور افراد کو نوکری دی جاتی ہے۔

Read more

نرگسیت کا شکار مائیں

کچھ روز قبل مجھے اپنی ایک یونیورسٹی کی دوست ملی، اس کا نام زارا تصور کر لیتے ہیں۔ یونیورسٹی کے زمانے میں وہ کچھ لئے دیے رہنے والی اور شرمیلی سی لڑکی تھی مگر اب وہ ایک انتہائی با اعتماد اور پرکشش خاتون میں ڈھل چکی تھی جس میں ایک خاص موہ لینے کی صلاحیت، گفتگو کا سلیقہ اور آپ کو خوش رکھنے کا فن جھلک رہا تھا۔ میں نے خوش ہو کر دل سے اس کی تعریف کی کہ

Read more

فلم باغبان

آج کا ہمارا تبصرہ ”باغبان“ کے نام سے بننے والی ایک فلم پر ہے۔ اس کہانی کو بی آر چوپڑہ نے لکھا ہے اور پروڈیوسر کے طور پر بھی کام کیا ہے۔ ان کے ساتھ لائن پروڈیوسر کے طور پر اشوانی چوپڑا نے اپنی صلاحیتوں کا جوہر دکھایا ہے۔ روی چوپڑا نے ڈائریکٹر کے طور پر کام کیا ہے۔ کاسٹنگ میں امیتابھ بچن، راج ملہوترہ کے روپ میں دکھائی دیتے ہیں، ہیما مالنی پوجا ملہوترہ کے روپ میں سامنے آئی

Read more

ہومی جہانگیر بھابھا: انڈین ایٹمی سائنسدان کی طیارہ حادثے میں ہلاکت جو آج بھی سازشی نظریات کا جنم دے رہی ہے

آج سے 56 برس قبل ایئرانڈیا کی پرواز کو پیش آنے والا حادثہ جس میں انڈیا کے اہم ایٹمی سائنسدان جہانگیر بھابھا بھی سوار تھے۔ اپنی ہلاکت سے کچھ عرصہ قبل وہ انڈیا اور ایشیا کا پہلا ایٹمی ری ایکٹر بنا چکے تھے۔ اس طیارہ حادثے کے پس منظر میں اتنے سازشی نظریات بنے کے حقیقت آج بھی ان میں کہیں کھوئی ہوئی ہے۔

Read more

نیوز کاسٹر: خسرہ سے کھسرا اور کھسرا سے خواجہ سرا کیسے بنا

ہر پروفیشن کے اپنے اپنے لطیفے ہوتے ہیں اور وہ لطیفے کسی غلط فہمی، کم علمی، ناسمجھی یا پھر کسی افراط و تفریط سے سرزد ہو جاتے ہیں اور وہ پھر لوگوں میں مقبول عام بھی ہو جاتے ہیں۔ حال ہی میں ایک پرائیویٹ چینل کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے اور وہ ویڈیو بھی کسی فوری خبر کی تھریلنگ ویڈیو ہے جس میں ایک خاتون نیوز کاسٹر خبر دے رہی ہوتی ہیں کہ چمن میں کلی فلاں

Read more

شاہد احمد خاں

شاہد احمد خاں ”خاصاحب“ کے نام سے پکارے جاتے۔ عمر یہی کوئی چالیس پینتالیس کے لگ بھگ ہوگی۔ دراز قد۔ خوب گورا رنگ۔ بڑی بڑی آنکھیں۔ کھچڑی بال۔ پاٹ دار آواز۔ کھڑی زبان اور باتوں میں بولی ٹھولی کا دلچسپ انداز۔ استعاروں کا برجستہ استعمال خوب کرتے جو سننے سے تعلق رکھتا تھا دوران گفتگو نہایت ”شستہ“ گالیوں کا موقع کبھی ہاتھ سے جانے نہ دیتے وہ ان مغلظات کو اپنے روہیلکھنڈی اور پٹھان ہونے کی دلیل سمجھتے۔ لیکن میرے

Read more

مطربہ شیخ کا افسانوی مجموعہ: مناط

”مناط“ مطربہ شیخ کے افسانوں کی پہلی کتاب ہے جس میں اکیس مکمل افسانے اور ایک درجن مختصر افسانے شامل ہیں۔ کتاب کا سرورق بہت پر کشش ہے۔ ہلکے زرد رنگ کے پس منظر میں زینے کی علامت اور ایک عورت کا اس کے پہلے زینے پر براجمان ہونا جس کا ایک ہاتھ افق پر سورج کو چھو رہا ہے یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ سورج سے حرارت اور توانائی لے رہی ہے اور وہ دوسرے ہاتھ کو ماتھے

Read more

ایک خط ، ایک نظم اور احمد سلیم

یہ جنوری کے ہی دن تھے جب میں ان سے ملنے ایم اے جناح روڈ پر واقع ان کے دفتر گیا۔ ان دنوں وہ اس رسالے کے ایڈیٹر تھے جو ایک خاص کمیونٹی کا نمائندہ تھا اور روایتی طور پر اسی کمیونٹی کے حوالے سے مواد چھاپنے کا پابند تھا۔ مگر اس روایت کو بھی انھوں نے نہایت خوش اسلوبی، مہارت اور دیانتداری سے تبدیل کیا۔ روایت پسندی کے ماحول میں رہتے ہوئے، یہ روایت شکنی انھوں نے کیسے کی، یہ

Read more

بھیانک چہرے

ہمارے ساتھ رہنے والے لوگ ہی ہماری زندگی کے عکاس کار ہوتے ہیں۔ یہ سب مل کر ہی ایک دوسرے کے لیے خیر و شر کے معاملات طے کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ حالا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں تو ایک ریت کا ذرہ بھی نہیں ہے۔ مگر ہماری ناقص سوچ ہمیں حقیقت سے ہزاروں میل دور لے جاتی ہے۔ ہاں یہ بات بھی ماننے والی ہے ان بد تہذیب لوگوں کی وجہ سے معاشرے میں بگاڑ

Read more

گہر ہائے رفتگاں سے قلمی دشمنی

کچھ دن پہلے اشفاق احمد ورک کی ایک تحریر بعنوان ’’اچھے لوگوں کی انوکھی باتیں‘‘ (منگل 30 نومبر 2021 – روز نامہ 92 نیوز) نظر سے گزری۔ اشفاق ورک صاحب روز نامہ 92 نیوز میں ’’قلمی دشمنی‘‘ کے نام سے ہفتہ میں دو بار کالم لکھتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی وہ کئی اخباروں میں ’’قلمی دشمنی‘‘ کے جوہر دکھا چکے ہیں۔ اسی عنوان کے تحت ان کے مزاحیہ خاکوں کا پہلا مجموعہ بھی چھپا تھا۔ جس کے متعدد ایڈیشن

Read more

ادبی تنقید اور فلسفانہ اصطلاحات کی تاریخ (8)

رفتگان ادب بے مثال تخلیق اور تنقید کو قرطاس کی زینت بنا چکے، اب جو کچھ لکھا جا رہا ہے وہ ”نقل کی نقل“ یعنی قدما کی mimes ہے۔ صاحب تصنیف کے ہاں شاعری ”نیچر“ کی کوکھ سے جنم لیتی ہے اور ”نیچر“ کے صحیح یا غلط استعمال کی کسوٹی یہ ہے کہ شعرا نے کس حد تک قدما کی تقلید کی ہے۔ بولو کا کلام فرانسیسی جیسی وسیع و وقیع ترین زبان میں آج بھی اپنی عظمت کا شور

Read more

کیا جاوید غامدی اور احمدجاوید کا بیانیہ اپنی افادیت کھونے لگا ہے

ہماری روایتی فکر میں قصے کہانیاں اور کراماتی چٹکلے سنا کر داد سمیٹنے والوں کی تعداد تو بہت زیادہ ہے اور انہی کہانیوں سے سادہ لوح عوام بہلتے رہتے ہیں، واہ واہ، سبحان اللہ اور بے شک کی صدائیں گونجتی رہتی ہیں۔ ہماری روایتی فکر کے یہ دو نام ایسے ہیں جو واقعی صاحب مطالعہ، کشادہ ذہن اور جدید فکریات پر گہری نظر رکھنے والے لوگ ہیں اور ایک کثیر تعداد ان کی علمی صلاحیتوں کی معترف ہے، ان کی

Read more

’بانگ درا‘: اقبال کی ملکہ وکٹوریہ کی وفات پر لکھی گئی نظم جسے انھوں نے اپنے مجموعہ کلام میں شامل نہ کیا

اقبال نے اپنی اس نظم کا عنوان ’اشک خوں‘ رکھا تھا۔ نظم میں دس بند تھے اور ہر بند میں گیارہ اشعار۔ ہر بند میں یکساں تعداد اشعار نے نظم کی ظاہری صورت میں ایک شان پیدا کردی، یہ نسخہ اقبال نے بعد میں اپنی مشہور ترین نظموں میں شان و شکوہ پیدا کرنے کے لیے کئی بار استعمال کیا۔

Read more

فراز اور ایاز : ایک ملاقات کا سلسلۂ یاد

( 15 جنوری مشہور شاعر احمد فراز کے جنم دن کی موقع پر خصوصی طور پہ ”ہم سب ویب“ کے لئے ) مجھے آج تک معلوم نہیں کہ شبلی فراز ( موجودہ پی ٹی آئی حکومت کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی وفاقی وزیر ) مشہور شاعر احمد فراز صاحب کے وہ بیٹے ہیں جو انہوں مجھے بتایا تھا کہ یا ان کا دوسرا بیٹا جو فوج میں کرنل ( شاید سرمد فراز، ویسے میرے چھوٹے بھائی کا نام بھی سرمد

Read more

ڈاکٹر ڈینس آئزک کی کینیڈا میں مشکل زندگی

یہ 1970 کی دہائی کا وہ دور تھا جب آتش جوان تھا ’خیبر میڈیکل کالج پشاور کا طالبعلم تھا اور ادیبوں‘ شاعروں اور موسیقاروں کی محفلوں میں جوش و خروش سے شرکت کرتا تھا۔ ایک محفل میں ایک شاعر و موسیقار سے تعارف ہوا۔ سب نے شعر سنانے کی فرمائش کی تو انہوں نے ایک غزل اور ایک قطعہ سنایا۔ مجھے ان کا قطعہ اور غزل کا ایک شعر آج تک یاد ہے۔ شعر تھا ؎ گھر سے چلے ارادہ

Read more

پاکستان میں صدارتی نظام کا فساد

1901 میں جیک ڈی مورگن کی قیادت میں فرانسیسی اثار قدیمہ کے ماہرین کی ایک ٹیم نے ایران میں شوش شہر کی کھدائی کے دوران پتھر کی ایک سل دریافت کی جو اب پیرس کے مشہور زمانہ لوور میوزیم کی نچلی منزل پر ایستادہ ہے اٹھ فٹ لمبی اور تین فٹ موٹی اس سل کے بالائی حصے پر دیوتا مردوک تخت پر رونق افروز ہے اور اس کے سامنے بابل کا حکمران حمورابی دائیں ہاتھ سے سلام کرتے اور بایاں

Read more

بہتر حوراں دے بدلے گزارہ ہک تے کر گھنسوں۔ شاکر شجاع آبادی

قدرت نے سرائیکی وسیب کو بڑی فیاضی سے نوازا ہے۔ وسیب میں جہاں روہی، تھل اور دامان کے پانی کو ترستے ہوئے خطے ہیں تو وہاں پر سارا سال بہنے والا دریائے سندھ کا میٹھا پانی اس خطے میں بسنے والوں کی پیاس بجھانے کے لیے ہر وقت دستیاب ہے۔ ریتلے علاقے ہوں یا پھر کپاس اور گندم کی شاندار پیداوار دیتی ہوئی زرخیز زمینیں، کوہ سلیمان کے بلند و بالا پہاڑ ہوں یا پھر ان پہاڑوں میں بہنے والے

Read more

منی بجٹ، مہنگائی، عوام اور حکومت

آخر حکومت ہر بار کامیاب ہوہی جاتی ہے، آخر اس کے پاس ایسی کیا گیدڑ سنگھی ہے کہ جو چاہے اسمبلی سے بل پاس کرا لیتی ہے۔ منی بجٹ کتنی دیر اسمبلی میں لٹکا رہا، اپوزیشن کے روکنے، مخالفت اور بے انتہا کوشش کے باوجود بھی آخر حکومت نے یہ بجٹ بھی منطور کروا لیا۔ جس کا خمیازہ امیروں اور جاگیرداروں کے علاوہ ہر ایک غریب پاکستانی کو ہرحال بھگتنا پڑے گا۔ ”لگدا اے، گل وچ کوئی ہور اے“ گزشتہ

Read more

ستنام سنگھ : یہ پنچایت ضرور بلانا

طارق صاحب۔ میں آپکی نظم گانا چاہتا ہوں۔ آپ کیا معاوضہ لیں گے ”ستنام سنگھ، تم گاؤں والوں کو اکٹھا کر کے کہنا“ عبدالغفور قریشی ”سے معافی مانگ لیں“ یہ گفتگو پنجاب کے معروف گائیک ”ستنام سنگھ پنجابی“ سے ہو رہی تھی۔ عبدالغفور قریشی 1925 میں اسی کے گاؤں میں پیدا ہوئے تھے ”“ پنجابی ادب کی کہانی ”“ والے عبد العفور قریشی کی یہ کتاب بی اے، ایم اے، پی سی ایس، سی ایس ایس کے نصاب میں پڑھی

Read more

بس بہت ہو چکا! للی پوٹ پارا

(سلووینین زبان میں لکھی گئی اس کہانی کی مصنفہ للی پوٹ پارا ہیں۔ وہ سلوینین ادب کی ایک معروف اور انعام یافتہ ادیبہ ہیں اور مترجم ہیں۔ ان کی کہانیوں کا مجموعہ ”باٹمز اپ اسٹوریز“ کو 2002 میں پروفیشنل ایسوسئیشن آف پبلشرز اینڈ بک سیلرز آف سلووینیا کی طرف سے پرائز فار بیسٹ لٹریری ڈبیو ”کے اعزاز سے نوازا گیا۔ موجودہ ترجمہ کرسٹینہ ریئرڈن کے انگریزی ترجمے کا ترجمہ ہے، جو“ ایلکیمی جرنل آف ٹرانسلیشن ”میں شائع ہوا تھا۔ )

Read more

قوم کی بیٹی نصیبو لال

نصیبو لال کو ہماری تہذیبی شناخت قرار دینے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو سوشل میڈیا پر دن کا آغاز قرآنی آیات سے کرتے ہیں اور عصر تک اپنے ناپسندیدگان کی ماؤں کو گندی گالیاں دے رہے ہوتے ہیں۔

Read more

گریز: شہباز خواجہ کا نیا مجموعہ کلام

شہباز خواجہ کو ہمارے ہاں "لندن میں مقیم شاعر” کی تعمیم کے سائے میں اپنی پہچان بنانا پڑی ہے۔ وہ گزشتہ 16 برس سے اردو نظم کے گیسو سنوارنے میں اپنا ہنر آزما رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لندن میں دریائے ٹیمز کے کنارے آباد ہونے سے پہلے شہباز خواجہ راوی کی رواں دواں موجوں اور جہلم کی وارفتہ لہروں سے شناسائی پیدا کر چکے تھے۔ ان کا پہلا مجموعہ 2005  میں منظر عام پر آیا اور عام قارئین

Read more