خلط ملط

قاسم یعقوب صاحب کا ناول ”خلط ملط“ موصول ہوا۔ ابتدائی دنوں میں بوجہ مصروفیت ٹالتی رہی۔ سوچتی رہی، نام منفرد ہے، آگے دیکھیں گے۔ بے دلی سے پڑھنا شروع کیا (یہ میری بری عادت ہے ) ۔ بس کتاب کا کھلنا تھا کہ سب خلط ملط ہو گیا۔ پہلے سوچا۔ یہ لکھنے والے نے کیوں لکھ دیا، پھر سوچا، بلا وجہ ہی خلط ملط باتیں لکھ ڈالیں اور اس کے بعد سب سے زیادہ خلط ملط بات ذہن میں یہ

Read more

برادر کراموزوف: فرشتے یا کیڑے

دوستوئفسکی کے ناول برادر کراموزوف کا پڑھ لینا بہر حال ایسا ہے کہ بندہ سجدہ شکر ادا کر لائے۔ روسی ادب کے عاشق محترم اشفاق سلیم مرزا برادر کراموزوف کی بے حد تعریف کرتے تھے اور اسی بات سے مجھے اس کے مطالعے کی بے قراری تھی۔ شاید اسی لیے میں نے بزعم خود اس کا پڑھ لینا سال کی بڑی کامیابی سمجھا اور خود کو شاباش دی کیونکہ میں اسے اپنے مطالعاتی تجربات میں اہم اور منفرد سمجھتی ہوں۔

Read more

خوف کے کتبے

میرے کالم کا عنوان نوجوان شاعر و ادیب ڈاکٹر سید زبیر شاہ کے افسانوی مجموعے کا نام ہے، جو گزشتہ دنوں میرے زیر مطالعہ رہی۔ خوبصورت تجریدی سر ورق کے ساتھ یہ کتاب مثال پبلشرز پریس مارکیٹ فیصل آباد کے زیر اہتمام 2011 میں چھا پی گئی ہے۔ اس میں کل سولہ افسانے ہیں اور کتاب 104 صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ ڈاکٹر زبیر شاہ کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب ایڈورڈز کالج پشاور میں پڑھاتے ہیں اور قرطبہ

Read more

دانائی کا سفر

یہ امر لائق تحسین ہے کہ ڈاکٹر خالد سہیل اور ڈاکٹر بلند اقبال نے قریب ایک سو کتابوں کا مطالعہ کر کے کینیڈا کے ایک ٹی وی چینل پر چھتیس اقساط پر مشتمل ایک میراتھن علمی مکالمہ کیا۔ اس مکالمے میں، گزشتہ تین ہزار برس میں علم و دانش کے ارتقاء پر سیر حاصل بات کی گئی۔ عبدالستار صاحب نے اس مکالمے کو سنا، سمجھا اور اس کی تدوین و ترتیب کر ڈالی۔ اس کتاب کو سانجھ پبلشرز لاہور نے

Read more

 ثمینہ نذیر اور ان کی عورتیں

مکتبہ دانیال کی روح رواں ہماری پیاری دوست حوری نوارنی کا واٹس اپ آتا ہے کہ ہم اسلام اباد ارہے ہیں تو ملاقات ہونی چاہيے اور میں تمھارے لیے”کلو”بھی لا رہی ہوں۔ میری کم علمی کہ مجھے اس وقت سمجھ نہیں آئی کہ کون کلو۔ "مکتبہ دانیال” کے فیس بک پیج پر ثمینہ نذیر اور ان کی تخلیق "کلو” سے میرا پہلا تعارف ہوا۔ اس اشاعتی ادارے کا کمال ہی یہی ہے کہ ان کی مطبوعات نا صرف تخلیقی اعتبار

Read more

رواج نامۂ سوات

تبصرہ: فضل ربی راہی سوات ایک نہایت قدیم تاریخی پس منظر کا حامل خطہ ہے۔ زمانۂ قدیم میں یہ بدھ مذہب کے ماننے والوں کے لئے ایک متبرک مقام کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہاں بدھ مت کو غیر معمولی عروج حاصل ہوا۔ سوات میں مہاتما بدھ کی مذہبی تعلیمات کے فروغ و اشاعت کے لئے بڑی بڑی درس گاہیں قائم تھیں جن میں مذہبی علوم حاصل کرنے کے لئے دور دراز سے بدھ پیروکار آتے اور حصول علم کے بعد

Read more

بچوں کو کتاب تھمائیں

شوق اگر جنون بن جائے تو اچھے بھلے انسان کو یا تو بنا جاتا ہے یا پھر ڈبو دیتا ہے، اور اگر شوق بچپن سے ہی جنون بن جائے تو انسان کے بننے یا بگڑنے کا عمل بچپن سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ اگر شوق اچھا اور تعمیری ہو تو انسان بچپن سے ہی بہترین انداز میں فکری طور پر پروان چڑھنا شروع ہو جاتا ہے، لیکن اگر بد قسمتی سے انسان کسی منفی لت کا شکار ہو جائے تو

Read more

خوش رنگ سب رنگ

کچھ وقت پہلے ”سب رنگ کہانیاں“ کی تیسری جلد بھی منظر عام پہ آ گئی ہے اور عنقریب چوتھی جلد بھی آنے کو ہے۔ ”سب رنگ کہانیاں“ ان کہانیوں کے انتخاب پر مشتمل ہے جو سب رنگ ڈائجسٹ کی اشاعت کے تقریباً ساڑھے تین عشروں میں سب رنگ ڈائجسٹ میں شائع ہوئیں۔ ”سب رنگ کہانیاں“ کتب کا سلسلہ ہے اور جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ سب رنگ کہانیاں کی تیسری جلد بھی اپنی پہلی دو جلدوں کی طرح سب

Read more

”داڑھی والے“ کا پورٹریٹ

ایک روز میں اپنے گھر میں بیٹھا دفتر کا کام کر رہا تھا۔ باہر دروازے پر دستک ہوئی۔ ایک تکنیکی مسلے کے ممکنہ حل پر غور کرتا میں گلی میں پہنچا۔ میرے نام پر ایک پارسل آیا ہوا تھا۔ کھول کر دیکھا تو اندر سے دیدہ زیب سر ورق کے ساتھ ایک عمدہ کتاب برآمد ہوئی۔ یہ حسنین جمال کی کتاب ”داڑھی والا“ تھی۔ دو دن پہلے میں نے بک کارنر جہلم کی ویب سائٹ سے آن لائن آرڈر کی

Read more

"خالد طور کے”بالوں کا گچھا

طالب علم کا کتابوں سے شغف رہتا ہی ہے، لیکن جب سے باغی ہوئے ہیں کتابوں سے شغف تھوڑا بڑھ سا گیا ہے، یہ کام مہنگا ضرور ہے، لیکن دوست خالد فاروق کا شکر گزار ہوں، جو وقتاً فوقتاً مجھے اپنی ذاتی جائیداد سے کتابیں عنایت کرتے رہتے ہیں، خالد طور کے شاہکار ناول ”بالوں کا گچھا“ سے میرا تعارف بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، کہنے لگے ”ایک باغی کا ناول اگر باغی نہیں پڑھے گا، تو کون سرپھرا

Read more

جادو!

سوچ کے آگے ذرا چڑھنے کی دیر ہے کہ مصنّفین سے زیادہ تصانیف کی حق تلفی کی تعزِیر چابک لئے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔ ہر کتاب کی ابتدا پورے ناز نخروں اور توجہ کے تمام تر پروٹوکول کے ساتھ ہوتی ہے، پھر تکمیل کے مراحل کی اس کی نزاکتیں اور نازکی الگ تکلفات رکھتی ہیں اور تو اور مکمل ہو جانے کے بعد بھی اس کی حساسیت و جاذبیت اور افادیت ہزار تقاضے کرتی ہے۔ بہرحال تصنیف کے پس منظر

Read more

عرفان جاوید کا عجائب خانہ

اردو ادب میں اگر اس وقت چند لکھاریوں کی فہرست بنائی جائے جو اردو ادب کو اس عہد میں زندہ و جاوید رکھے ہوئے ہیں تو ان میں عرفان جاوید کا نام سرفہرست ہو گا۔ وجہ بڑی سادہ اور آسان ہے۔ عرفان جاوید کا طرز تحریر، انداز بیان اور موضوعات کا انتخاب انہیں منفرد بناتا ہے۔ عرفان جاوید کو پڑھنے کے لئے آپ کو محنت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ آپ کو صرف ان کے ساتھ اس سفر کا آغاز کرنا

Read more

” می سوزم ناول“ تجزیہ

معاصر ادیبوں میں ڈاکٹر حمیرا اشفاق کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ می سوزم ناول کی اشاعت سے پہلے ادبی حلقوں میں ان کی پہچان بطور محقق، نقاد، دانشور اور افسانہ نگار تھی لیکن می سوزم ناول کے آنے سے ڈاکٹر حمیرا اشفاق کے نام کے ساتھ ناول نگار کا بھی اضافہ ہو گیا۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبۂ اردو خواتین کی ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ہیں۔ ڈاکٹر حمیرا اشفاق کے کام کی بات کی جائے تو آپ مصنفہ،

Read more

گینجی کی کہانی

مبصر: ڈاکٹر تہمینہ عباس ناول: گینجی کی کہانی جاپانی ناول نگار: موراساکی شی کی بو اردو مترجم: باقر نقوی تحقیق، تدوین، حواشی: خرم سہیل پبلشر: راحیل پبلشر اردو بازار، کراچی قیمت: 3000 روپے دنیا کا پہلا ناول ہے جو ایک ہزار سال قبل جاپانی زبان میں لکھا گیا ہے۔ اس ناول کے اردو ترجمے کا ابتدائی ڈرافٹ باقر نقوی نے تیار کیا۔ جو کئی برسوں کی ریاضت کے بعد تیار ہوا۔ پھر وہ شدید بیمار ہو گئے اور دنیا سے

Read more

منظور راہی کے افسانوی مجموعہ بانجھ موسموں کے سفر کا اجمالی جائزہ

کائنات کی وسعتوں میں ایک وسیع عمل تخلیق ہے جس کی سعادت اور مقصدیت ادب کے ان فرزندوں کو حاصل ہوتی ہے جو رنگ کائنات کو رشک و تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اور پھر انہیں یہ نعمت قدرت کے خزانے سے مل جاتی ہے جسے وہ اپنی ذات تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے اپنے قلم کی سیاہی سے انسانیت کے پرچار کے لیے قلم بند کر دیتے ہیں۔ ادب کی تخلیق اور چاشنی خواہ کسی بھی صنف

Read more

ناول ”وارڈ نمبر 4“ ایک جائزہ

ناول ”وارڈ نمبر 4“ کی اشاعت مارچ 2021ء میں ازونک پرنٹرز اینڈ پبلیشرز، راولپنڈی سے ہوئی۔ جس کے مصنف ”طاہر نواز“ ہیں۔ طاہر نواز نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز 2017 میں افسانہ نویسی سے کیا۔ ان کا سب سے پہلا افسانہ ”لیمپ پوسٹ“ ہے۔ آپ کے اور بھی افسانے ہیں جن میں ”دیوار کے اس پار“ ، ”چناؤ“ ، ”بوڑھا گورکن“ ، ”حواس باختہ“ ، ”سگ آزاد“ ، ”پہاڑوں کا سفر“ ، ”نیم باز آنکھوں کی کہانی“ اور ”ہیں

Read more

کتاب "چین آشنائی” پر مختصر تبصرہ

پہلے پہل کتاب کا نام دیکھ کر مجھے یوں محسوس ہوا کہ یہ ”چین آشنائی“ ہے جو کوئی سائیکالوجی اور self۔ help سے متعلق بورنگ کتاب ہوگی۔ پھر آگے معلوم ہوا کہ یہ تو ملک چین کی آشنائی ہے اور مزیدار سفرنامہ ہے۔شاہ محمد مری صاحب کا پچھلا سفرنامہ ”بلوچ ساحل اور سمندر“ چونکہ پہلے پڑھ چکا تھا، لہذا یہ کتاب وہ بھی ایک وسیع تاریخ رکھنے والی اور پیچ و تاب کھانے والی ملک اور قوم کا، دلچسپی تو

Read more

پاکستانی ریاست کا نظریاتی سراب

کتاب کے سرورق سے شروع ہونے والا سراب جس کی کہانی میں ہر رنگ اپنا وجود منوانے سے قاصر نظر آتا ہے بالکل اسی طرح جیسے پاکستانی ریاست میں بہت سے وجود اپنی شناخت کے اظہار سے قاصر ہیں رنگوں کی کہانی میں یہ سراب اور زیادہ پیچیدہ معلوم ہوتا ہے جس میں مسلسل مختلف رنگوں کے درمیان ایک دوسرے پر غلبہ پانے کی جنگ جاری رہتی ہے۔ سرورق پر رنگوں کی شکل میں بکھرا یہ سراب اپنے سینے پر

Read more

”سدہارتھ“ ناول کے بارے میں ڈاکٹر خالد یوسف کے ساتھ ایک مکالمہ

یادش بخیر۔ ہمارے یار مہربان ڈاکٹر خالد یوسف سے جب بھی بات ہو ذہن پر پرانی یادوں کے کسی ساون کی پھوار گرنے لگتی ہے۔ دو تین مہینے ہوئے انہوں نے میر پور سے فون پہ بتایا تھا کہ وہ ”ہرمن ہیس“ کے ناول سدہارتھا میں کھوئے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد گاہے گاہے فون کر کے ناول کے بارے میں اپنے خیالات اور تاثرات سے بھی آگاہ کرتے رہے۔ ادب کے بارے میں ہماری گفتگو کالج کے زمانے سے

Read more

قائد اعظمؒ کا یوم وفات اور حیرت انگیز حقیقت

قلم فاؤنڈیشن کے چیئرمین علامہ عبدالستار عاصم صاحب اکثر و بیشتر اپنے ادارے کی بہترین کتابیں بھیجتے رہتے ہیں۔ ان کتابوں میں ایک کتاب ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کی ”سچ تو یہ ہے“ میرے پاس بہت عرصہ پہلے آئی تھی۔ چونکہ میں خوفناک کرونا کا شکار ہو گئی تھی اور پھر بعد ازاں پوسٹ کووڈ پیچیدگیوں نے اس قدر الجھائے رکھا کہ سدھ بدھ بھی جاتی رہی اور جان کے لالے پڑے رہے۔ ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کی کتاب پڑھنے

Read more

کیمپ کمانڈر دتیال: 1947

حال ہی میں لاہور کے ایک بڑے اور معتبر ادارے ً ماورا پبلشر ً نے آزاد کشمیر کے ایک گاؤں دتیال میں 1947 میں بننے والے ایک کیمپ کے بارے میں مصنفہ ً امتہ المنان طاہر ً کی ایک کتاب ً کیمپ کمانڈر دتیال۔ 1947 شائع کی ہے۔ یہ کتاب ہمیں 1947 میں آزاد کشمیر کی آزادی کے وقت پیش آنے والے واقعات سے روشناس کرواتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ 1947 میں میرپور میں رونما ہونے والے واقعات کے

Read more

سازوں کو حسرت سے تکتا غریب بچہ جو موسیقارِ اعظم کہلایا

گئے دنوں کا ذکر ہے، لکھنؤ کے لاٹوش روڈ پر سازوں کی ایک دُکان ہوا کرتی تھی؛ ’’بھوندو اینڈ کمپنی‘‘۔ ایک ننھا سا بچہ بار بار سازندوں کی اِس دُکان کے چکر لگاتا۔ دُکان کے مالک غربت علی نے اس بچے سے پوچھا: ’’تم ان سازوں کو کیوں گھورتے رہتے ہو‘‘؟ بچے نے جواب دیا، ’’کیوں کہ میں انھیں خرید نہیں سکتا‘‘۔ اس کے ساتھ ہی بچے نے کہا: ’’کیا میں دُکان میں جھاڑو پوچا لگانے کا کام کر سکتا

Read more

فارس مغل کے افسانوی مجموعے ’‘ آخری لفظ ”کا ایک جائزہ

اکرم کنجاہی اپنی کتاب ’‘ پس جدیدیت لہجے اور اسلوب ”میں رقم طراز ہیں :ایک زمانہ تھا کہ تخلیق کار خود کو کسی نہ کسی تحریک سے وابستہ کر لیتے تھے یا پھر کسی رجحان کے پابند ہو جاتے تھے۔ پس جدیدیت کسی تحریک یا رجحان کو نہ تسلیم کرتی ہے اور نہ ہی انھیں رد کرتی ہے۔ یہ ایک آزاد فکری رویہ ہے۔ فارس مغل کے افسانوی مجموعے ’‘ آخری لفظ“ کا مطالعہ اس تعریف پہ پورا اترتا ہے۔

Read more

اس نے کہا تھا: اردو کا پہلا پوسٹ ماڈرن ناول

اشعر نجمی کے ناول ’اس نے کہا تھا‘ کو پڑھتے وقت مجھے بار بار شہرۂ آفاق چیک ناول نگار میلان کنڈیرا کی یاد آتی رہی۔ اس لیے نہیں کہ اس ناول کی مطابقت میلان کنڈیرا کے کسی ناول سے ہے بلکہ اس لیے کہ میلان کنڈیرا کے ناول پر لکھی اپنی تحریروں میں ناول کی فنی خوبیوں پر جو گفتگو کی ہے، اس کا عکس اشعر نجمی کے ناول میں حیرت انگیز طور پر نظر آتا ہے۔ میلان کنڈیرا کی

Read more

سلیم اختر ڈھیرہ کی کتاب "کہانی آوارہ ہوتی ہے”

"کہانی آوارہ ہوتی ہے” کے نام سے سلیم اختر ڈھیرہ نے اطالوی لوک کہانیوں کے اردو تراجم پیش کیے ہیں۔ اس کتاب کو مثال پبلشرز فیصل آباد نے شائع کیا ہے۔ لوک کہانیاں اجتماعی دانش کا بے بدل خزینہ ہوتی ہیں۔ کہانی اور انسان لازم و ملزوم ہیں۔ کہانی کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنا خود انسان۔ تاریخ کے پہلے کہانی کار کو نشان زد کرنا ممکن نہیں۔ کہانی تب بھی تھی جب انسان اشاروں سے اپنا مافی الضمیر

Read more

ایک انقلابی کی زندہ تاریخ، لفظوں کی زبانی

تاریخ میں کچھ لوگ ایسے منفرد کام سرانجام دے جاتے ہیں، جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک تاریخ ساز کردار، بریڈ فورڈ کی انقلابی شخصیت، ممتاز ترقی پسند دانشور اور لیبر پارٹی برطانیہ کے رہنما محمد عجیب ہیں، جنہوں نے آزاد کشمیر کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے محنت کش گھرانے میں آنکھ کھولی۔ محدود وسائل کی وجہ سے تعلیم جاری رکھنا مشکل ہوا تو اپنے چچا کے پاس کراچی

Read more

ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری (افسانے)

افسانے کی دنیا میں بہت انقلاب برپا رہے ہیں۔ کبھی پلاٹ، کردار، نقطہ نظر اور وحدت تاثر کے بغیر افسانے کا تصور ممکن نہیں تھا۔ پھر ایسا دور آیا کہ پلاٹ اور مرکزی کردار کے بغیر افسانہ لکھا جانے لگا۔ کبھی نقطہ نظر ضروری سمجھا گیا کبھی اسے مہلک اور پراپیگنڈہ کہا گیا۔ پھر علامتی اور تجریدی افسانے کا دور آیا اور روایتی اجزائے ترکیبی بے معنی ہو کر رہ گئے۔ محترم نیر مصطفی کے افسانوں کا مجموعہ ”ٹوٹے پھوٹے

Read more

ناول اللہ میاں کا کارخانہ۔۔۔۔۔ جس کا انتساب اللہ میاں کے نام ہے

”اس دن اگر میری اماں کی جگہ دانش کی اماں مری ہوتیں تو وہ پتنگ مجھے مل گئی ہوتی“ ناول ”اللہ میاں کا کارخانہ“ ایک بچے کی خودنوشت کے انداز میں لکھی تحریر ہے جس کے مصنف ہندوستان سے تعلق رکھنے والے معروف ادیب جناب محسن خان صاحب ہیں۔ اس کا سرورق محترم عطا الرحمٰن خاکی صاحب نے ڈیزائن کیا ہے اور بہت خوب ڈیزائن کیا ہے۔ یہ کتنا موزوں ہے اس کا احساس آپ کو یہ ناول شروع کرتے

Read more

صدا بہ صحرا: تقسیم ہند کے دلخراش واقعات کا ایک باب

اگست کا مہینہ ختم ہوا اور جیسا کہ ہماری قوم کا عمومی مزاج ”رات گئی، بات گئی“ کا ہو چکا ہے، ایسے میں اب قوم کا جذبہ آزادی خیر سے 2022 ء کی چودہ اگست ہی کو جاگے گا۔ تقسیم ہند کے حوالے سے ایک مضمون پڑھنے کو ملا سوچا کہ قارئین کو بھی شریک کروں کہ آزادی کی نعمت کن پہاڑ جیسی مشکلات کا سامنا کر کے نصیب ہوئی۔ حال ہی میں معروف مؤرخ اور محقق ڈاکٹر حسن بیگ

Read more

بھیشم ساہنی کا ناول: تمس

تمس (تاریکی) کو منظر عام پر آنے کے لیے تقریباً چھبیس سال کا عرصہ لگا۔ ان چھبیس سالوں میں دونوں طرف بہت کچھ بیت چکا تھا۔ جنگیں ہو چکی تھیں۔ قومی ترانے آچکے تھے۔ لیگ اور کانگریس کی شناخت و منشور بدل چکے تھے۔ جرنیل آچکے تھے۔ آئین ترتیب دیے جا چکے تھے جن میں اقلیتیں اپنی جگہ ڈھونڈ رہی تھیں۔ ٹیگور کی بولی بولنے والی عورتوں کو قومی سپوت اسی برسات میں روند چکے تھے جس کے بارے قرۃالعین

Read more

اردو ادب کا شاہکار ناول: اداس نسلیں

عبداللہ حسین کے شہرہ آفاق اردو ناول اداس نسلیں کی کہانی متحدہ پنجاب کے ایک گاؤں روشن پور سے شروع ہوتی ہے جو کہ دھلی سے بہت دور نہ تھا۔ ناول کی کہانی 20 ویں صدی کے دوسرے عشرے سے شروع ہوتی ہے اور تقسیم ہند تک چلتی ہے۔ ناول کا اہم کردار نعیم بیگ ہے جو کہ ایک کسان کا بیٹا ہوتا ہے۔ نعیم اپنی ابتدائی زندگی تو اپنے چچا کے ساتھ کلکتہ میں گزارتا ہے لیکن جلد ہی

Read more

کتاب اور ہم

کتابوں کے ساتھ ہمارا کوئی عجیب قسم کا تعلق ہے۔ اس لیے ہم نے ان کو طاق نسیاں پر رکھا ہوا ہے۔ جیسے ہی ہم بولنا شروع کرتے ہیں ہمارا واسطہ کتاب سے پڑتا ہے اس لیے کتاب کو دیکھ کر ہم کو نیند آنا شروع ہو جاتی ہے اور اکثر و بیشتر یہ سلسلہ تمام عمر چلتا ہے۔ اس لیے لوگ اپنے آپ کو کورس کی کتابوں تک محدود کر لیتے ہیں لیکن پھر ان کو کورس کی کتابیں

Read more

ڈاکٹر ساجد علی کے دادا جان، بابو غلام محمد مظفر پوری کی ”سفری زندگی“ :

سفر نامہ نگاری ایک سنجیدہ ادبی نصف ہے لیکن بدقسمتی سے اردو میں اسے ایک رومان پرور ماحول کی عکاسی کے ساتھ معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا رہا۔ لیکن اس کے باوجود اردو میں ہمیں ابن انشا کی ”چلتے ہیں تو چین کو چلیے“ ، محمد خالد اختر کی یاترا اور ان کا ”نواں کوٹ سے ڈیپلو“ کا سفر جیسے چند عمدہ اور تخلیقی نمونے مل جاتے ہیں۔ سفر کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ کچھ محض شوق آوارگی

Read more

ایرانی افسانہ نگار جمال میر صادقی اور ڈاکٹر اطہر مسعود کی ترجمہ نگاری…

ڈاکٹر محمد اطہر مسعود فارسی ادبیات کے سنجیدہ طالب علم ہیں اور فارسی ادب اور فنونِ لطیفہ کے کئی قدیم و جدید فن پارے اردو اور انگریزی میں ترجمہ کرکے اہلِ فن سے داد پا چکے ہیں۔ پچھلے دنوں اُن کے ترجمہ کردہ فارسی افسانوں کے مجموعے جمال کہانیاں کا دوسرا ایڈیشن (2021ء) شائع ہوا تو سوچا کہ اُن کے فنِ ترجمہ نگاری کا ایک تحقیقی جائزہ لے لیا جائے۔ جمال کہانیاں میں جدید ایران کے معروف افسانہ نگار جمال

Read more

وسعت داماں : نصیر سومرو کا پہلا شعری مجموعہ

پاکستانی مشاہیر میں ہم دو نصیر سومروں کو جانتے ہیں، ایک تو نصیر سومرو وہ ہیں جو کہ پاکستان کے سب سے لمبے انسان ہیں، اور دوسرے نصیر سومرو اگرچہ ان کی طرح طویل القامت تو نہیں لیکن سندھی اور اردو کے اچھے اور بڑے شعرا و ادیبوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ جن کے لیے قدآور کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے، اور ان کی بہت ساری خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ہمارے دوست بھی

Read more

رضیہ فصیح احمد کا ناول "زخم تنہائی”: بنوک خار می رقصم

زخم تنہائی، رضیہ فصیح احمد کا شہرہ آفاق ناول ہے، جو ڈیڑھ، دو صدی پہلے ہاورتھ، انگلینڈ کے چرچ کیوریٹر پیٹرک برونٹے کی تین مایہ ناز، ناول نگار بیٹیوں کی کتھا ہے، جو اپنی تخلیقات مردانہ ناموں سے صرف اس لیے چھپواتی تھیں کہ عورتوں کے طور پر یہ معاشرہ ان کام مکمل ریجیکٹ کر دے گا۔ ایملی، این اور شارلٹ نے شدید صنفی امتیاز کے باوجود، اپنی شرم و حیا، کا تقدس برقرار رکھتے ہوئے، محبتوں کے منہ زور

Read more

محاصرے کا روزنامچہ (3)

کتاب، فلم، جہاں گردی اور انسانی زندگی کو سہل بنانے والے عظیم الشان لوگوں سے ملنا اور ان کی معاشرتی، علمی، فکری اور قلمی جدوجہد سے جڑے ہوئے ثمرات میرے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہے ہیں۔ وجاہت مسعود صاحب میرے لیے بہت زیادہ قابل احترام، باعث فخر اور قابل تقلید ہیں۔ زندگی کی پہلی تحریر جو لوگوں تک پہنچی، وہ وجاہت صاحب ہی کی نظروں سے گزر کر باعث پہچان بن پائی۔ لفظوں کی ترتیب، لکھنے کا سلیقہ، کہنے کا

Read more

چاند کو گل کریں تو ہم جانیں

جب اسامہ صدیق کا ناول ”Snuffing out of the Moon“ شائع ہوا تو ہم نے اس کے بارے میں اچھی رائے سنی اور فیصلہ کیا کہ اس کو پڑھیں گے۔ ویسے بھی پاکستان میں ناول وہ بھی اچھے ناول انگریزی یا اردو (دونوں میں ) بہت کم لکھے گئے ہیں اور آپ ان کو اپنی انگلیوں پر گن سکتے ہیں۔ لیکن اس کے مقبولیت کے باوجود جیسے کہتے ہیں ناں ’دنیا میں اور بھی غم ہیں محبت کے سوا‘ ،

Read more

خالدہ حسین کا کاغذی گھاٹ

اگست قریب الاختتام ہے۔ وہی اگست جس کے بارے فکر تونسوی نے چھٹا دریا لکھی اور بھیشم ساہنی نے تمس۔ آج صبح ہوا میں کسی قدر خنکی موسم کی کروٹ کا پیشگوئی اشارہ ہے۔ بھادوں کی دس تاریخ ہے۔ وہی بھادوں جس کے بارے اماں کہتی ہے، ”بدرا بدر بلا ساوݨ ہووے ہا۔“ گھر سے کچھ ہی فاصلے پر دریائے چناب اپنی مٹی اور پانی دونوں لئے بہہ رہا ہے۔ سن دو ہزار دس کے سیلاب کے بعد گاؤں کی

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کے افسانوں کا مجموعہ: دیوتا

کرونا میں مبتلا ہو کر، میں گزشتہ ایک ہفتے سے قرنطینہ میں ہوں۔ یہ یقیناً ویکسین یافتہ ہونے کی افادیت ہی تھی کہ موذی وائرس کا حملہ زیادہ کار گر ثابت نہ ہوا۔ محسوس ہوتا ہے کہ وائرس ابھی تک ہمارے ناک، کان اور گلے کے شعبے میں گھوم پھر رہا ہے۔ شعبہ ہائے سینہ و سانس تا حال محفوظ ہیں۔ ہماری ہم سب کے توسط سے قارئین سے محبت بھری گزارش ہے کہ کسی نے اگر ابھی تک ویکسین

Read more

جیم عباسی کاناول ”رقص نامہ“

ناول نگار جیم عباسی پبلشر۔ ”آج“ خصوصی شمارہ نمبر 114 تبصرہ۔ محمد وسیم شاہد ۔ ۔ جیم عباسی کا ناول ”رقص نامہ“ پڑھا جس میں سندھ کی رومانوی دھرتی سے کشید کی کہانی خوبصورت اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ ملک میں مذہبی شدت پسندی کے ہوتے ہوئے ناول نگار نے دلیری سے ان طاقتوں کے منفی رویوں کو بیان کیا ہے۔ یہ ایک ایسے گاؤں کہ کتھا ہے جہاں کا پیر گاؤں کے لوگوں کو اپنی رعایا سمجھ کر

Read more

”دل من“ :سندھ کی تہذیب و تمدن کا عکاس ناول

دل من سندھ کے تمدن موہن جودڑو اور ہڑپائی تہذیب کی عکاسی کرتا نیم تاریخی ناول ہے، جو کہ یعقوب یاور کی ذہنی تخلیق کا شاہکار ہے۔ اسے جمہوری پبلی کیشنز نے 2012 ء میں شائع کیا۔ اس ناول کا انتساب ڈاکٹر اراوتی کے نام ہے جو وسنت کالج برائے خواتین، راج گھاٹ، وارانسی کے شعبہ تاریخ ہند قدیم کی صدر شعبہ ہیں۔ ناول کی ابواب بندی یوں ہے۔ غروب آفتاب، طلوع سحر، دیوانئی، ہجرت، گومل کی وادی، سنتان پراپتی

Read more

کٹی پوروں سے بہتی سلیم شہزاد کی بھید بھری نظمیں

سلیم شہزاد کی شعری کائنات میں جھانکنے اور سفر کرنے کے بعد بھی، اس کے تمام دروازے مجھ پر وا نہیں ہوئے ہیں۔ اس کائنات میں سیکڑوں دنیائیں بستی ہیں، کٹی پھٹی، خون آلودہ، زخم خوردہ اور سنسان و اجاڑ دنیائیں۔ مسافروں کو لہولہان کرنے والی دنیائیں۔ میرے لیے یہ سفر آسان نہیں تھا۔ کسی کے لیے بھی یہ سفر آسان نہیں ہوگا۔ لیکن اگر ان دنیاؤں کا سفر ایک بار کر لیا جائے تو، بار بار ان کے سفر

Read more

اسلام اور اقتصادیات۔ تبصرہ کتاب

ہمارے ہاں یہ نعرہ ہر طرف گونجتا رہتا ہے کہ ”اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے“ اور یہ مطالبہ بھی کہ ”ملک کے اقتصادی نظام کو اسلامی اصولوں کی بنیاد پر استوار کیا جائے“ ۔ عملی صورت حال البتہ یہ رہی ہے کہ یہ معاملات اکثر و بیشتر کھوکھلے نعروں تک محدود رہے۔ اس کا ایک سبب اصحاب منبر اور ماہرین اقتصادیات کے درمیان مکالمے کا نہ ہونا بھی ہے۔ عملی سطح پر جدید اقتصادی و مالیاتی نظام اور مذہبی تقاضوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی اگر کوئی کوشش نظر آتی ہے تو وہ بینکاری کے نظام کو ”مسلمان“ کرنے کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ محض انگریزی اصطلاحات کو عربی نام دینے کا کھیل ہے اور درحقیقت اسلامی اور غیر اسلامی بینکنگ میں کم از کم گاہکوں کو کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ اس تنقید کے صائب ہونے سے قطع نظر، یہ حقیقت ہے کہ علم اقتصادیات کا دائرہ پورے سماج میں ہونے والے ہر نوعیت کے لین دین کا احاطہ کرتا ہے اور کسی ایک چنیدہ شعبے مثلاً بینکاری پر کسی بھی اخلاقی یا مذہبی نظام اقدار کے نفاذ کو اس علم کے ماہرین اگر ظاہری لیپا پوتی قرار دیں تو بے جا نہ ہو گا۔

Read more

ابھی سیارگاں روشن رہیں گے

’ابھی سیارگاں روشن رہیں گے‘ انور شمیم کی تازہ آزاد نظموں کا مجموعہ ہے، جو ہندوستان میں کسوٹی پبلیکیشن سے شائع ہوا ہے۔ گو کہ پاکستان میں یہ مجموعہ ابھی تک ناپید ہی ہے مگر بہت جلد وہاں بھی دست یاب ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ واضح کردوں کہ تخلیقی کائنات میں آزاد نظموں کا رواج کافی دنوں سے چلا آ رہا ہے۔ دنیا کی ہر چھوٹی بڑی زبان میں یہ آپ کو پڑھنے کو مل جائیں گی۔ مگر انور شمیم کی تمام نظمیں روایتی بندشوں سے آزاد ایک علیحدہ دنیا کے علیحدہ انسان کے لیے تخلیق عمل میں آئی ہیں۔

Read more

نیرنگ خیال، اقبال نمبر 1932ء

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف علامہ اقبال برصغیر کے عظیم شاعر، مفکر اور مصلح ہیں کہ جنہوں نے اپنے خیالات اور انقلابی افکار کے اظہار کے لیے بیک وقت اردو، فارسی اور انگریزی زبان کو اظہار کا وسیلہ بنایا۔ ان کی شاعری اردو اور فارسی میں جبکہ خطبات اور مقالات انگریزی زبان میں موجود ہیں جبکہ انہوں نے مکاتیب اردو زبان میں لکھے۔ ان کا فکر و فلسفہ

Read more

 احمد بشیر کے ناول ”دل بھٹکے گا“ میں بٹوارے کی اخلاقیات 

سادہ سی بات ہے کہ اگر کسی عہد کو تمام تر سچائیوں کے ساتھ محفوظ کرنا مقصود ہو تو سوانحی ناول لکھ لیا جائے بشرطیکہ ناول نگار میں اتنا حوصلہ ہو کہ وہ خود کو بھی سچ کی عدالت میں پیش کر سکے کیونکہ سچ کا مقدمہ اس کی اپنی ذات سے شروع ہو کر سماج کے مختلف حصوں تک پھیلتا ہوا طوالت اختیار کر لیتا ہے اور وقت استغاثہ کا کامیاب وکیل بن کر ناول نگار سے ایسے چبھتے

Read more

تحقیقی سفرنامہ اور بیگم کا ساتھ

ہمارے ہاں کسی بھی ملک کا سفر نامہ لکھنے کے لیے دو بنیادی شرطیں رائج ہیں۔ ایک تو آپ کو انٹر نیٹ کا بھر پور استعمال آتا ہو اور دوسری آپ داستان گوئی کے ماہر ہوں۔ بس یہی دو ضروری شرائط ہیں۔ اس کے ساتھ اگر اس ملک کا سفر بھی کر لیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن بہرطور یہ کوئی بنیادی شرط نہیں ہے۔ سفرنامہ نگاری کے حوالے سے جناب طاہر انوار پاشا صاحب نے البتہ

Read more

اقتدار کی مجبوریاں اور جنرل اسلم بیگ کی دروغ گوئیاں

جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ ہماری تاریخ کا ایک اہم کردار ہیں۔ جنرل صاحب کے کریڈٹ پر بلا شبہ سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو صدر ضیاء الحق کے طیارہ حادثے کے بعد اقتدار سویلین حکومت کو لوٹانے کا کارنامہ بہرطور جاتا ہے۔ جنرل صاحب اس وقت وائس چیف آف آرمی سٹاف تھے اور اور اگر وہ چاہتے تو اپنے آپ کو چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر ترقی دے کر کر ملک کی عنانِ اقتدار سنبھال لیتے مگر

Read more

طاہر انوار پاشا ”نیل کے سنگ “

شاعر سعود عثمانی بھی کچھ نہ کچھ ٹھیک ہی کہتے ہونگے کہ کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے اور یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی۔ اگر اسے بالکل درست بھی مان لیا جائے پھر بھی اس صدی کا ابھی اکیسواں برس ہی شروع ہوا ہے۔ ابھی اس صدی کو ختم ہونے میں بہت عرصہ چاہئے۔ پھر عشق روٹھ بھی جائے تو عشاق میں ایک عرصہ تک وضع داریاں ضرور برقرار رہتی ہیں۔ سو ابھی کتابیں

Read more

اقتدار کی مجبوریاں

یوں تو ہر آرمی چیف کے سینے میں بہت سے اہم راز دفن ہوں گے مگر جنرل مرزا اسلم بیگ کا دور اس لحاظ سے اہم ہے کہ ان کی مدت ملازمت کے دوران ملک اور خطے میں انتہائی اہم سیاسی اور اسٹریٹیجک تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ شاید اسی لیے جنرل اسلم بیگ کی سوانح حیات مارکیٹ میں آئی تو بہت سے اہم کالم نگاروں نے اس کو اتنی توجہ دی۔ اس کتاب پر تبصرے کے لیے لکھے گئے کالم پڑھے

Read more

زرد ہتھیلی اور دوسری کہانیاں

جیم عباسی کے افسانوں کا مجموعہ "زرد ہتھیلی اور دوسری کہانیاں” کئی مہینے پہلے مل گیا تھا۔ زیادہ تر کہانیاں پہلے ہی آج میں پڑھیں ہوئی تھیں۔ مگر اب بھی کتاب میں کچھ ایسا مواد بھی شامل تھا جو میرے لیئے نیا تھا۔ میں کمپیوٹر یا موبائل کی اتنی چھوٹی سی سم کو دیکھ کر اتنا حیران نہیں ہوتی کہ انسانی دماغ کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے کہ ساری دنیا سمیٹ کر ایک نکتے میں سما دی ہے اس

Read more

منکر نکیر۔ ایک باغی کی ڈائری

عبید نے اپنی کتاب کا انتساب خود کو پہچاننے کی کوشش میں سرگرداں ہر انسان کے نام کیا ہے۔ اس کے بعد وہ کہتا ہے ”اگر کوئی شخص مجھے نہ جانے اور نہ پہچانے تو مجھے کوئی دکھ نہیں لیکن اگر میں خود کو نہ جان سکوں اور خود کو ہی نہ پہچان سکوں تو مجھے بہت افسوس ہو گا۔“

کچھ عرصہ پہلے سوشل میڈیا پر ایک ایرانی شاعرہ کی نظم کا ترجمہ وائرل ہوا تھا۔ عبید نے اپنی کتاب کا آغاز اسی نظم سے کیا ہے بقول اس کے ’سعودی عرب کے بارے میں سچی مگر اختلافی بات کرو تو قانون کی دفعہ 302 لگتی ہے، پاکستان پر بات کرو تو آرٹیکل 6 لگتا ہے۔ ایران کی بات کرو تو فوراً یزید سے مناسبت جوڑ دی جاتی ہے۔ مگر کیا کریں۔ جو لوگ مذہب میں حل ڈھونڈتے ہیں، ان کو جواب تو دینا ہی پڑتا ہے کیونکہ یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے۔

Read more

خاکہ زنی : اک ضرب ظریفانہ

پھر کچھ کتابیں ایسی ہیں جو اپنے سائز اور حجم کی بنا پر مطالعے کے علاوہ دیگر کارہائے خیر کے لیے بھی استعمال ہوتی ہیں۔ مثلاً جب سے قاسمی صاحب کی ”کالم تمام“ اور شیرازی صاحب کی ”بابو نگر“ میرے سرہانے دھری ہیں میں اپنے آپ کو محفوظ سا سمجھنے لگا ہوں۔ یقین جانیئے! اب کوئی پریشانی تو کیا، گھر کے شرارتی بچے اور بیگم بھی قدرے فاصلے پر رہتے ہیں۔ اب ان کتابوں میں جناب اشفاق احمد ورک کی ”خاکہ زنی“ کا اضافہ ہو گیا ہے جس کا سائز اگرچہ اتنا بڑا نہیں لیکن رائٹر ایک دبنگ جاٹ ہونے کی وجہ سے اس کا پڑھنے والا اپنے اندر ایک عجیب دبدبہ محسوس کرتا ہے چنانچہ ”خاکہ زنی“ کے آنے کے بعد میرا حفاظتی حصار اور بھی مضبوط ہو گیا ہے۔

Read more

قاسم یعقوب کے ناول ’‘ خلط ملط ”کا ایک جائزہ

قاسم یعقوب کا ناول ’‘ خلط ملط ”موصول ہوا اور زیر مطالعہ آیا۔ قاسم یعقوب فیصل آباد کا وہ نام ہیں جن پہ بجا طور پہ فیصل آباد کو ناز ہے وہ ایک محقق، نقاد، شاعر اور مدیر ’‘ نقاط“ کی شناخت قائم کر چکے ہیں۔ اور ’‘ خلط ملط ”کی صورت وہ بطور ناول نگار ایک نئی شناخت کا مرحلہ طے کر رہے ہیں۔ ناول کا انتساب ’‘ اپنے تخلیقی وجود کی ان کہی کے نام ”بڑا معنی خیز

Read more

کنوت ہامسن کے ناول وکٹوریہ کا اردو ترجمہ

اردو زبانمیں مغربی ادب پاروں کے تراجم کا سلسلہ کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن انگریزی کے سوا دیگر زبانوں کے تراجم زیادہ تر انگریزیزبان میں کئے گئے ترجموں کی مدد سے کئے جاتے رہے ہیں۔ تاہممتعدد مغربی ممالک میں پاکستانی تارکین کے آباد ہونے کی وجہ سے اب یہ رجحان تبدیل ہونے کو ہے۔ ناروے میں مقیم شگفتہ شاہ نے نوبل امن انعام یافتہادیب کنوت ہامسن کے مقبول رومانوی ناول کا اردو میں ترجمہکرکے اس رجحان کو آگے بڑھایاہے۔

Read more

جنرل مرزا اسلم بیگ کے انکشافات

پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل مرز اسلم بیگ کی بائیو گرافی”اقتدار کی مجبوریاں” منظر عام پر آچکی ہے اور ہاتھوں ہاتھ بک رہی ہے کتاب پر تبصرے بھی کئے جارہے ہیں ۔پاکستان کی سیاست کے موضوع پر معروف کالم نویسیوں نے تبصرے کئے ہیں لیکن میری دلچسپی کا سامان کتاب کا آخری باب حالات حاضرہ پر تبصرے ہیں ۔اس باب میں انہوں نے ایران، اسرائیل، امریکہ بالخوص مشرق وسطیٰ کے بارے اہم انکشافات کئے ہیں ۔ سابق آرمی چیف

Read more

ڈاکٹر روف پاریکھ کی کتاب: صحت زبان (الفاظ، محاورات اور، مرکبات کا درست استعمال)

مبصر: ڈاکٹر تہمینہ عباس پبلشر: ادارہ فروغ زبان قومی زبان، اسلام آباد قیمت: 400 ڈاکٹر روف پاریکھ علمائے لغت میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کی علمی خدمات میں انگریزی اور اردو میں دوسری لکھی گئی کتابوں میں، لسانی مباحث، لغوی مباحث، فرہنگیں اور لغات کے علاوہ بعض اہم لغات بالخصوص اردو لغت بورڈ کی ضخیم 22 جلدی لغت کی تین جلدیں بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر روف پاریکھ ”صحت زبان“ کے حوالے سے کافی عرصے سے مضامین لکھ رہے

Read more

جسٹن ٹروڈو کی آپ بیتی

کینیڈا کے وزیراعظم عزت مآب جسٹن ٹروڈو کی آپ بیتی Common Ground انگریزی میں پچھلے سال پڑھی۔ حال ہی اس کا اردو ترجمہ بھی ملا وہ بھی پڑھا اور دہرا لطف اٹھایا۔ یہ آپ بیتی کئی لحاظ سے ایک کامیاب اور کرشماتی شخصیت کی اب تک کی داستان حیات ہے۔ اس میں بہت سارے سبق ہیں۔ کتاب پڑھتے ہوئے ذہن لاشعوری طور پر وطن عزیز کی طرز سیاست اور طرز زندگی سے موازنہ کرتا جاتا ہے کہ ہم سیاسی اور

Read more

ناصر ملک کا "مزاح کبیرہ”

کسی دانشوروں کا قول ہے کہ سب انسانوں کی زندگی میں آنے والے مسائل کم و بیش یکساں قسم کے ہوتے ہیں مگر ان کا سامنا کرنے کا انداز سب کا مختلف ہوتا ہے، لہذٰا انسانوں کی حقیقی پہچان ان کے مسائل سے نہیں بلکہ مسائل کے ساتھ نمٹنے کی قوت اور صلاحیت سے ہوتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ عملی زندگی کے مسائل بہت جانکاہ ہوتے ہیں اور انسان ان سنگلاخ پتھروں پہ چلتے چلتے اپنی ظاہری اور باطنی

Read more

تعمیر نسل نو

بچے کسی بھی قوم کا حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں جنھوں نے مستقبل میں سارے نظام کی باگ ڈور سنبھالنے کا فریضہ سر انجام دینا ہوتا ہے۔ اس بیش بہا اہمیت کے سبب ہر فکر مند قوم کے افراد اپنے بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھتے ہیں۔ وہ اس بات سے پوری طرح آگاہ ہوتے ہیں کہ بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت ہی ملک و ملت کے روشن مستقبل کی ضامن ہے اور اگر اس اہم اور عظیم ذمہ داری سے پہلو تہی کی گئی تو اس کا خمیازہ بھی لازماً بھگتنا پڑے گا۔

Read more

ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری

آج کا زمانہ کتاب کا نہیں بلکہ موبائل کا زمانہ ہے جس نے ہم کو مطالعہ سے دور کر دیا ہے اور ہماری نظریں سارا دن موبائل کی سکرین پر لگی رہتی ہیں۔ لیکن چند پرانے خیالات کے لوگ ابھی بھی کتاب پڑھتے اور اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ہم بھی ایک پرانی روح ہیں جس نے موبائل کے زمانہ میں کتاب کو اپنے دل سے لگایا ہوا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ موبائل پر بھی

Read more

میں بھی نبی پاکﷺ کے مدحت کدے میں تھی

چند دن پہلے سعودی عرب میں حکام نے خانہ کعبہ کے جنوب مشرقی حصے پر موجود مقدس پتھر حجراسود کی کچھ نئی اور نایاب تصاویر جاری کیں۔ ایسی تصاویر پہلی مرتبہ منظر عام پر لائی گئی تھیں جو فوٹوگرافی کی جدید ترین تکنیک کے ذریعے بنائی گئی تھیں۔ میں اس پتھر کی قسمت پر حیران تھی اور اس بارے میں لکھنا چاہتی تھی کہ فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے فرمان نے ساری وضاحت فرما دی: ”اے حجراسود! میں

Read more

مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر پر فلم اور وقائع بابر کا جدید اردو ترجمہ

اپنے حالیہ سرکاری دورہ ازبکستان کے دوران وزیراعظم عمران خان نے ازبک صدر شوکت مرزا ایوف کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس میں سیاسی اور اقتصادی اعلانات کے ساتھ ثقافت اور تاریخ کے حوالے سے ایک اعلان یہ بھی کیا کہ وہ ازبک حکومت کے ساتھ مل کر برصغیر پاک و ہند میں مغل سلطنت کی بنیاد رکھنے والے بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر کی زندگی پر ایک فلم بنائیں گے۔ وزیر اعظم نے مغل بادشاہ پر فلم کا اعلان کرتے

Read more

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی کتاب: جدیدیت اور نوآبادیات

”جدیدیت اور نوآبادیات“ ناصر عباس نیر صاحب کی تازہ کتاب ہے، جو حال ہی میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہوئی ہے۔ اردو ادب کے معاصر منظر نامے پر ناصر عباس نیر صاحب کا نام علم و ادب سے شغف رکھنے والے اصحاب کے لیے محتاج تعارف نہیں ہے۔ ان کا کام ان کا موثر اور مؤقر تعارف ہے۔ شاید اسی لیے انھوں نے اس کتاب کی لوح پر اپنے نام کے ساتھ ”ڈاکٹر“ کا سابقہ لگانا بھی گوارا نہیں

Read more

مرزا اسلم بیگ کی کہانی: ان ہی کی زبانی

سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ کی یاداشتوں پر مبنی ایک کتاب حال میں ہی پبلش ہوئی ہے۔ اس کتاب میں دیگر امور کے علاوہ بے نظیر بھٹو شہید اور نواز شریف کے بارے میں چند اہم باتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ جنرل ضیاءالحق کے طیارے کے حادثے میں جان بحق ہونے کے بعد انہیں چیف آف آرمی سٹاف تعینات کیا گیا تھا۔ جنرل صاحب اپنی کتاب میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے بارے میں لکھتے ہیں۔ کہ

Read more

قاضی نور احمد کی یادداشتیں : گرے پتے

گرے پتے ایک سیاسی کارکن کی یاداشتوں کا باغیچہ ہے وہ باغیچہ جہاں درخت لگے اور کٹتے گئے جنہوں نے امان پائی ان کے پتے خزاں رسیدہ ہو کر گرتے گئے۔ یاداشت کے ساتھ بے رحمانہ سلوک اور اس پر کھل کر اظہار مصنف کی آزاد خیالی کو ظاہر کرتا ہے۔ مصنف نے جہاں کھل کر اپنی یاداشتوں کو کتاب کا حصہ بنایا ہے۔ وہیں لکھتے لکھتے جذبات کو لگام دینے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ بغیر کسی کنجوسی کے

Read more

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی تحریریں اور میرے گرو جی

ایک دِن گرو جی نے میرے انٹر سیکشنل فیمینسٹ ہونے کی وجہ پوچھی تو میں نے اُنھیں ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا ایک کالم پڑھ کر سُنایا، پھر دوسرا پڑھ کر سُنایا۔ گرو جی بہت افسردہ ہوئے اور تادیر پُر تفکر انداز میں سوچتے رہے۔ پھر لگی لپٹی رکھے بنا کہا۔” اکرم، ہم چاہتے ہیں تمھارے قلم کی کاٹ کاظمی صاحبہ کی طرح ہو۔ تم اُنھی کی طرح جراح بنو، اپنے قلم کے نشتر سے معاشرے کے ناسور بن چکے زخموں

Read more

اکیسویں صدی کے اسباق یا اہداف؟

اسرائیلی نژاد امریکی مصنف پروفیسر یوول نوح ہراری کو پی ہنگٹن کی طرح دنیا بھر میں شہرت و پذیرائی ملی ہے اول الذکر کو متنازعہ خیالات کے اظہار پر جبکہ ثانی الذکر کو سائنسی اختراعات سے اخذ شدہ حیرت انگیز استددلال اخذ کرنے کی بنیاد پر۔ یوال براری کی کتاب 21 lessons for the 21 century. جس کا اردو ترجمہ جناب ناصر فاروق نے۔ اکیسویں صدی کے 21 اسباق۔ کیا ہے۔ مترجم نے اپنے ذاتی خیالات جو خالصتاً ًدائیں بازو کے

Read more

قوس قزح کے سب رنگ

کہتے ہیں کہ کتاب سے اچھا دوست کوئی نہیں ہے۔ صاحبان ذوق اور اہل علم حضرات اس قول کی صداقت کے پوری طرح قائل ہیں۔ ہمیشہ سے کتب بینی یا مطالعے سے شغف ہونا پڑھے لکھے ہونے کی نشانی تصور کیا جاتا رہا ہے۔ کسی دور میں مطالعہ صرف علم میں اضافے کا سبب ہی تصور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ یہ فاضل وقت گزارنے کے لیے ایک بہترین مشغلہ بھی سمجھا جاتا تھا۔ یہ صدی سائنسی ترقی اور اس کے عروج کی صدی ہے۔ اس دور میں علم کے اضافے اور وقت گزاری کے لیے اب صرف کتابیں ہی نہیں ہیں بلکہ سائنس کی ترقی کی بدولت دیگر کئی ذرائع بھی وجود میں آچکے ہیں مثال کے طور پہ الیکٹرانک میڈیا۔ جس کے سبب کچھ لوگوں کے خیال میں کتاب سے رغبت کم بلکہ خاصی کم ہوئی ہے۔ شاید یہ بات بہت حد تک درست بھی ہے کہ;

Read more

فضل ربی راہی کی کتاب: ”اور سوات جلتا رہا“

”سوات بھر میں جن خودکش حملوں کے چرچے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں آتے رہے، مقامی لوگوں کے مطابق ان میں زیادہ تر ریموٹ کنٹرول بم دھماکے تھے۔ بلکہ یہ ڈس انفارمیشن کا حصہ تھے تاکہ جنرل (ر) پرویز مشرف کی غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی حکومت کو سہارا دیا جاسکے اور اس کے ذریعے امریکہ اور یورپی ممالک کی اندھی حمایت حاصل کی جاسکے۔“ ”اے این پی کی صوبائی حکومت بار بار اس عزم کا اظہار کرتی

Read more

میری سیاسی سرگزشت

ہندوستان کی سیاسی تاریخ دلچسپ بھی ہے اور آنکھیں کھولنے والی بھی۔ اور جب یہ تاریخ ڈاکٹر محمد ہاشم قدوائی جیسی غیر جانبدار شخصیت کے قلم سے تحریر ہوئی ہو تو، دلچسپی دوچند ہو جاتی ہے اور آنکھیں صرف کھلتی ہی نہیں ہیں، آنکھیں مارے حیرت کے کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔ کم از کم ڈاکٹر صاحب مرحوم کی مختصر سی ”میری سیاسی سرگزشت“ پڑھ کر میرا حال تو کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔ ڈاکٹر صاحب علی گڑھ مسلم

Read more

افریقہ کے بلوچ

چند سال قبل میں اور پناہ بلوچ گجرانوالہ میں منعقدہ ادبی تقریب اٹینڈ کرنے گئے تو وہیں مجھے جانکاری ملی کہ گجرانوالہ میں ایک بستی ہے بلوچ کالونی کے نام سے۔ بلوچ بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ جانے کا اشتیاق پیدا ہوا جب گئے وہاں تو کھڑا مجمع ہم پر پھول برساتا رہا۔ بلوچی بیٹھک کا اہتمام تھا۔ بلوچی میں ایک دوسرے سے حال احوال ہوتی رہی۔ قدیم زمانے سے آباد یہ لوگ رند ہیں دوسری اقوام کے ساتھ بندھن

Read more

جابر ”سلاطین“ کے سامنے کلمۂ حق: ”اور سوات جلتا رہا“

2000 ء میں جب باقی دنیا اکیسویں صدی میں داخل ہونے کی خوشیاں منا رہی تھی، وادیٔ سوات میں سولہویں صدی کی طرف واپسی کے سفر کی تیاریاں مکمل تھیں۔ بیسویں صدی کے تمام آثار مٹانے کا عمل شروع ہوا۔ اسکولوں کی عمارتیں اس تباہی کا خاص نشانہ تھیں۔ پل، تھانے، سڑکیں، گھر اور تعمیر کی ہر علامت خود کش حملے کی زد میں تھی۔ اس دوران چھٹی قبل مسیح کے بدھ آثار کو مٹانے کا عمل بھی شروع ہوا۔

Read more

قصہ ایک کتاب کی تقریب رونمائی کا: خوشحالی کی دستک

میرا وہاں ہونا اس لحاظ سے خوش قسمتی تھا کہ سوشل میڈیا کی معروف شخصیات کو بولتے سنا۔ مگر اخوت کے بانی جناب ڈاکٹر امجد ثاقب جو تقریب کے مہمان خصوصی تھے ان کی یہ بات من کو بہت بھائی کہ
”ابن فاضل اپنی یہ ایک کتاب مجھے دے دیں اور میری لکھی تین کتابیں لے لیں تو سودا اچھا ہے“

مجھے مومن خان مومن اور غالب کے بیچ مشہور شعر اور اس سے جڑی یہ روایت یاد آ گئی
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

غالباً اسد اللہ غالب نے مومن خان مومن سے کہا تھا کہ یہ شعر مجھے دے دیں اور میرا آدھا دیوان لے لیں۔ کیا وجہ ہے کہ اخوت کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب نے مصنف کو اتنی بڑی بات کہہ دی۔

Read more

علی اکبر ناطق کا ناول: کماری والا

بچپن میں ہمارے گاؤں ایک مداری آیا کرتا تھا۔ جو سڑک کنارے اپنی ڈگڈگی بجا کر مجمع لگاتا تھا۔ اس کا کم سن بیٹا بانسری بجا بجا کر لوگوں سے پیسے وصول کر رہا ہوتا تھا کہ اچانک باپ بیٹے کی ڈگڈگی اور بانسری بجنا بند ہو جاتی تھی۔ وہ مجمعے کی جانب منہ کر قسمیں دیتا کہ اس مجمعے میں کوئی جادوگر موجود ہے وہ مہربانی کرے ہماری بانسری اور ڈگڈگی پر سے اپنا جادو ختم کردے۔ جادو گر

Read more

محسن خان کا ناول : اللہ میاں کا کارخانہ  

حال ہی میں بھارت اور پاکستان میں شائع ہونے والا محسن خان کا ناول ”اللہ میاں کا کارخانہ“ دل کو چھو لینے والی کتاب ہے۔ یہ ناول ایک بچے کی آپ بیتی ہے۔ جو اپنے ہوش سنبھالنے سے لے کر بلوغت کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اپنے اردگرد کے ماحول کا جو اثر لیتا ہے اس کو قلم بند کرتا رہتا ہے۔ یوں یہ ڈائری ایک معصوم کی مختصر سی سوانح بن جاتی ہے۔ جبران نامی بچہ ایک مذہبی گھرانے

Read more

ثمینہ سید کے افسانے: کہانی سفر میں ہے

کہانی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ انسان۔ جب ایک انسان نے اپنے دکھ سکھ میں دوسرے انسان کو شریک کرنا چاہا تو اسے زبان کا سہارا لینا پڑا اور پھر قلم کی ایجاد نے زبان کی جگہ لے لی اور خوب لی کہ زبان سے ادا شدہ لفظ، سننے والا، کچھ بھی سمجھ سکتا ہے لیکن لکھا ہوا لفظ تو تبدیل نہیں ہو سکتا۔ میں یہاں کہانی یا افسانے کی تاریخ بیان نہیں کروں گا کہ اس

Read more

کئی چاند تھے سر آسماں

ایک دکھ ہے جو دامن سے لپٹ رہا ہے، ایک درد ہے جو جگر کو لہو کر رہا ہے، ایک ٹیس ہے جو دل کو چھلنی کر رہی ہے، ایک برسات ہے جو آنکھوں سے جاری ہے، ایک فغاں ہے جو لبوں پر رقصاں ہے اور خیالات ہیں کہ شکست خوردوں کی مانند منتشر ہو رہے ہیں، فقط اس لیے کہ اپنے محبوب سے ملاقات نہ ہو سکی، جن کو محبوب کا فراق لاحق ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ محبوب سے ملاقات نہ ہونا کتنی بڑی اذیت ہے، جو نہیں جانتے وہ ان کے مردہ دلوں کے لیے دعائے خیر، شمس الرحمان فاروقی سے فقط اتنا تعارف تھا کہ وہ نقاد ہیں، کبھی کبھار یوٹیوب پر کوئی ویڈیو بھی دیکھ لی جاتی تھی، مگر ابھی ان کو پڑھا نہیں تھا، یہ کم بخت رزق کی پریشانی کہیں اور بسیرا کرے تو ادب کی طرف توجہ مرکوز ہو، جہانزیب ساحر کا شعر تھوڑی سے تبدیلی کے ساتھ ملاحظہ ہو۔

Read more

سفری  زندگی: کالونیل ہندوستان سے ایک بے دھڑک آپ بیتی…

پروفیسر ڈاکٹر ساجد علی نے اپنے دادا جی بابو غلام محمد مظفر پوری کی آپ بیتی "سفری زندگی” شائع کی تو اس کا غلغلہ اٹھا۔ انتہائی محبت سے شائع کی گئی اس کتاب کے بعض حصے "ہم سب” پر اور فیس بک پوسٹوں کی صورت میں سامنے آتے رہے اس لیے اس میں کوئی سسپنس تو نہیں رہا لیکن کتابی شکل میں اس کے یکجا مطالعے کا پہلا امپریشن کئی دن سے ذہن پر ہجوم کیے ہوئے ہے۔ یہ بہترین

Read more

22 لوگ، سجاد پرویز اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور

یہ کتاب اچانک شروع ہو جاتی ہے۔ آپ نے جلد اٹھائی تو اک ملائم سیاہ خالی ورق ہے۔ اس کو پلٹیے تو رضا علی عابدی کا مضمون سامنے رکھا ہے۔ نہ اِنر ٹائٹل، نہ ضابطہ، انتساب اور نہ ہی فہرست۔  یہ سب کچھ آپ کو چودہ ورق الٹنے کے بعد ملے گا۔ ان چودہ اوراق یا اٹھائیس صفحات میں رضا علی عابدی، وجاہت مسعود، عقیل عباس جعفری، عرفان جاوید، آمنہ مفتی اور چند دیگر احباب کی تاثراتی تحریریں ہیں اور

Read more

مجلہ ”بساط“ میری بساط کے مطابق

علمی و ادبی مجلات او ر جرائد و رسائل کسی بھی زندہ زبان اور زندہ قوم کا قیمتی اثاثہ و ترجمان ہوتے ہیں۔ اس لیے ان علمی و ادبی مجلات کی اہمیت و افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ ان کے توسط سے نہ صرف قارئین کے خیالات و جذبات اور تاثرات کو تقویت ملتی ہے بل کہ ان ادبی مجلات کے ذریعے سے قلم کار کو اپنا مطمح نظر تحریراً پیش کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ ”بساط“ گورنمنٹ بوائز انٹر

Read more

چندن راکھ ( افسانے ) مصباح نوید

افسانوں کے اس مجموعے نے اپنے خوبصورت سرورق اور انوکھے نام کی وجہ سے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔ پبلشر، نگارشات نے ایک ہی فون کال پہ کتاب مجھے مہیا کردی اور میں نے ان افسانوں کا مطالعہ کر ڈالا۔ چندن راکھ، محترمہ مصباح نوید کے 16 افسانوں کا مجموعہ ہے اور کتاب کے مطالعے سے علم ہوا ہے کہ یہ ان کے افسانوں کا اولین مجموعہ ہے۔ ادب اور افسانے کا طالب علم ہونے کے باوجود میری نظر میں اس سے پہلے ان کی کوئی ادبی تحریر نہیں گزری۔

Read more

مسعود اشعر: اپنے آپ کو کہانیاں سنانے والا

(مگر یہ کہانیاں سب کے لئے ہیں)       اخبار نویسی اور صحافت کو ادب کی روایت سے الگ کر کے ہم نے اپنا بہت نقصان کیا ہے۔ نا انصافیوں کے مر تکب بھی ہوئے۔ غالبا یہ ادعائیت زدہ سماجی حقیقت نگاری کی ضد میں ہوا۔ بہر نوع، وجہ کچھ بھی رہی ہو، خسارہ تو اپنی ادبی روایت کا ہی ہوا۔ پتہ نہیں، ہم یہ کیوں بھول جا تے ہیں کہ عام زندگی اور یہاں تک کہ زندہ مسئلوں کا حق ادا

Read more

نیش عشق: ڈاکٹر اظہار ہاشمی کے قلم سے

جس دن سے کتاب ”نیش عشق“ ہاتھ میں آئی تھی، دل میں ایک خواہش تھی کے اس کے بارے میں کچھ لکھا جائے۔ بہت دن اس شش پنج میں گزر گئے کہ اس خوبصورت کتاب کے بارے میں اپنے جذبات کو کاغذ کی نذر کرنے کی جسارت کی جائے یا نہیں۔ آخر استدلال کو احساس کے ہاتھوں شکست فاش ہوئی اور طے پایا کہ ہماری رائے کتنی بھی ناپختہ کیوں نہ ہو، ایک باکمال کتاب کے بارے میں اپنے قلبی

Read more

اردو ناول ”غبار“ طب میں ہونے والے جرائم کی داستان

موجودہ دور صنعتی اور مشینی ہے اس دور میں کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ منظر عام پر آنے والی ادبی تخلیقات کے بارے میں زیادہ دیر سوچ سکے یا اس کے اچھے اور برے پہلوؤں پر اظہار خیال کرسکے اگر کوئی کتاب اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے تو یقیناً یہ مصنف کے باصلاحیت ہونے کا اعتراف ہے موجودہ دور میں جرائم کی شرح بڑھ چکی ہے اور پیشہ ورانہ قابلیت رکھنے والے چند ڈاکٹر حضرات بھی طبی

Read more

سادھووں اور پاپیوں کے بیچ!

زندگی جینے کے لیے دنیا میں ابھی تک کوئی زمینی نصاب تو تیار نہیں ہو سکا، مگر زندگی کو قید کر کے کاٹنے کے آسمانی نسخے ضرور موجود ہیں۔ زندگی کو سماجی روایات و آسمانی نسخوں کے قید سے آزاد کروانے کے لیے ہر دور کے سیاسی، سماجی اور نفسیاتی علوم کے ماہرین کی طرف سے اپنے اپنے خیال کی چابی پیش کی جاتی رہی ہے۔ گزشتہ ماہ مردوں کی سوچ اور نفسیات کے بارے میں ”سادھووں اور پاپیوں کے بیچ“

Read more

فطرت کی متلاشی۔ شبنم گل

جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں، مگر ایسے بھی ہیں

میری نظر میں سرور بارہ بنکوی کا یہ شعر جس شخصیت پر پورا اترتا ہے وہ کوئی اور نہیں حساس دل و دماغ کی مالک، ادیبہ اور شاعرہ شبنم گل ہیں۔ جن سے میری شناسائی کا دورانیہ گو طویل نہیں مگر گہرا ضرور ہے۔ شبنم کی گفتگو میں سندھ کے لہجہ کی سادگی، مٹھاس اور دھرتی کے انسانوں سے محبت اور درد مندی کی مہکار ہے۔ وہ فطرت کی اتنی دلدادہ ہیں کہ ہر گفتگو کے بعد مجھے ایسا لگتا جیسے میری ملاقات ٹھنڈے شفاف پانی کے بہتے جھرنے، سرسراتی ہوا کی طاقت سے ڈولتے درختوں، حد نظر پھیلے سبزہ زار، پودوں کی شاخوں پہ ڈولتے خوش رنگ حسین پھولوں اور ان پہ گری شفاف شبنم کے قطروں اور فضا میں بسی زمین کی مسحور اور مخصوص مہک سے ہو گئی ہے۔

Read more

گونجتی سرگوشیاں (افسانے )۔

محترمہ فرحین خالد نے نہایت محبت و تکریم سے مجھے یہ کتاب بھیجی۔ بھیجی تو انہوں نے بقول ان کے ”میرے ذوق مطالعہ“ کے لیے تھی لیکن کتاب کے مطالعے نے مجھے اس پر کچھ لکھنے کو اکسایا۔ بندہ اگر پیشہ ور نقاد نہ ہو تو مضمون لکھنا کافی مشکل امر ہوتا ہے، سو میری گزارشات مضمون کی صورت ہیں۔

افسانوں کے اس مجموعے میں سات افسانہ نگاروں، ابصار فاطمہ۔ ثروت نجیب۔ سمیرا ناز۔ صفیہ شاہد۔ فاطمہ عثمان۔ فرحین خالد اور معافیہ شیخ کی 35 سرگوشیاں ہیں جنہیں گونج سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ان میں سے ثروت نجیب کا تعلق کابل، افغانستان سے ہے اور باقی سب ہماری ہم وطن ہیں۔

Read more

انیس ہارون کی کتاب: ویرانی دل و دنیا – کورونا کے شب و روز کا روزنامچہ

گزشتہ سال مارچ سے جب کرونا کی وجہ سے ہم گھروں میں بند ہو گئے تو ہر کسی نے اس قید تنہائی کا اپنے طور پر کوئی علاج نکالا۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ انیس ہارون جیسی ایکٹوسٹ اور مجلسی خاتون کے لئے یہ عرصہ کتنا کٹھن گزرا ہو گا۔ انیس اور ان کے جیون ساتھی سید ہارون احمد پہ یہ مصرعہ صادق آتا ہے کہ۔ :سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے۔ ہم نے انہیں ہمیشہ دوسروں

Read more

دو ”غیر افسانوی“ شاہکار: ”مرنے کے بعد کیا ہوگا“ اور ”کوک شاستر“

نان فکشن کے لیے کسی اچھی اصطلاح سے ہم لاعلم ہیں۔ یہ دو ”غیر افسانوی“ کتابیں یعنی؛ ”مرنے کے بعد کیا ہوگا“ اور ”کوک شاستر“ مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ”بہت ہی زیادہ مشہور ترین“ ہیں، اتنی زیادہ کہ ہمیں لگتا ہے ”بہت ہی زیادہ مشہور ترین“ لکھ کر بھی ہم ان کتب کی شہرت کا حق ادا نہیں کرسکے۔ یا پھر دوسری کتاب مشہور کے بجائے بدنام بھی کہلا سکتی ہے۔ پہلی ہم اس وقت پڑھی جب کہ

Read more

کیا مردوں کو خود احتسابی کی ضرورت ہے؟

ڈاکٹر کامران احمد ایک ماہر نفسیات بھی ہیں اور ایک سماجی کارکن بھی۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے ساتھ کئی برس اور کئی ممالک میں کام کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ لے لی اور کینیڈا میں سکونت پذیر ہو گئے۔ میری جب ان سے ملاقات ہوئی تو میں ان کے زندگی کے بارے میں تجربے ’مشاہدے‘ مطالعے اور تجزیے سے بہت متاثر ہوا اور ہم نے مل کر پہلے امن کے موضوع پر ایک کتاب لکھی اور پھر کینیڈا ون پر

Read more

فرید پراچہ کی ”عمر رواں“

انسان اس دنیا میں ایک مقصد دے کر بھیجا گیا تھا مگر افسوس وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نے دنیا کی آسائشوں سے آسودگی حاصل کرنا شروع کردی اور یوں اپنے مقصد عظیم سے منہ موڑ لیا۔ یہ کہانی اس کرہ ارض پر بسنے والے اکثر لوگوں کی ہے مگر جن لوگوں نے بے آرامی کو آرام پر ترجیح دی اور سہل راستہ اختیار کرنے کی بجائے مشکل منزلوں کا انتخاب کیا تو گویا انہوں نے اپنے رب کی

Read more

سجاد جہانیہ کی ادھوری کہانیاں

فیس بک ایک ایسا سوشل میڈیا ہے جس نے نہ صرف سالوں سے بچھڑے ہوئے دوستوں اور گم شدہ لوگوں کو آپس میں ملایا ہے۔ بلکہ اس ذریعہ سے بہت سے اہل قلم، دانشوروں اور ادیبوں کے علاوہ ادب سے روشناسی ہوئی۔ میری فیس بک کے توسط سے جن اہل قلم سے جان پہچان ہوئی ان میں ایک بڑا نام سجاد جہانیہ کا ہے۔ ان سے تعارف ہوا تو ایسا لگا کہ برسوں سے ان سے جان پہچان ہے۔ چند

Read more

جس محلے میں تھا ہمارا گھر

سجاد احمد صدیقی کی کتاب پر تبصرہ پڑھنے سے پہلے بس اتنا سمجھ لیجیے کہ ڈاکٹر شیر شاہ سید اور آصف فرخی کے دوست ہیں۔ پھر یہ ہی نہیں شیر شاہ ہمت بڑھائیں اور آصف فرخی پیدائشی مصنف قرار دے کر ان کا سب سے پہلا مضمون ’ ہم سب‘ میں شائع بھی کروا دیں۔ تب پھر سوچ کو پرواز اور اظہار کو روانی کیوں نہ ملے۔ سال بھر کے وقفے سے ان کے تین چار مضامین ’ہم سب‘ میں شائع

Read more

ایک اجنبی دنیا میں دس منٹ اور 38 سیکنڈ

الف شفق کا یہ تازہ ترین ناول ہے۔ میں نے ان کی تقریباً تمام کتابیں مطالعہ کی ہیں اور ان پر اپنی رائے کا اظہار ایک مضمون کی صورت میں کر چکا ہوں۔ کل ہی میں نے اس ناول کا مطالعہ ختم کیا ہے۔ الف ان کا نام ہے اور شفق ان کی والدہ کا نام۔ اس ناول کے آخر میں وہ اپنی ماں کے نام کو اپنے نام کا حصہ بنانے کے بارے میں بھی بتاتی ہیں۔ اور شاید اس کا ذکر اس کتاب میں ضروری بھی تھا بہرحال شفق سے شفقت اور یہ شفقت اور ہمدردی ہے الف شفق کی جو ان کے تمام ناولوں میں نمایاں ہیں۔

Read more

ڈاکٹر زاہد عامر اور سقراط کا دیس

سفر اور سیر و سیاحت ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ کچھ برسوں سے مجھے ان سے خاص رغبت ہو چلی ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں، رنگ و نسل، تہذیب و ثقافت سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملنا، ان کے حالات زندگی کا مشاہدہ کرنا، ان کے خیالات سے آگہی حاصل کرنا، انہیں درپیش سماجی، سیاسی اور معاشی مشکلات و مصائب کے بارے میں جاننا، ایک نہایت دلچسپ اور معلوماتی تجربہ ہے۔ ہر چھوٹے بڑے سفر میں سننے، سیکھنے اور

Read more

نوجوان لکھاری ابصار فاطمہ کا پہلا سنجیدہ ناول

’ہم سب‘ پر کالم لکھتے رہنے کے دوران جن لکھاریوں ’ادیبوں اور دانشوروں سے میری غائبانہ ملاقاتیں ہوئیں ان میں سے ایک ابصار فاطمہ بھی ہیں۔ میں نے جب ان کے کالم اور افسانے پڑھے تو مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کم عمری میں ہی زندگی اور ادب کے بارے میں سنجیدہ رویے کی مالک بن چکی ہیں۔ حال ہی میں ان کے پہلے ناول۔ افسانے کی حقیقی لڑکی۔ پڑھنے کا موقع ملا تو میں حیران بھی ہوا اور متاثر

Read more

چراغ آخر شب: ایک تبصرہ

”عذاب شدہ قوموں پر بارش میں مینڈک ٹپکے تھے، ہم پر حکمرانوں کا عذاب ٹپکتا ہے۔ یہ ہم پر نازل کیے جاتے ہیں کہ ملک کو تباہی کی طرف دھکیل دیں، ایک پہیہ ہے جو مسلسل پیچھے کی طرف چل رہا ہے۔ پاکستان کی کل عمر میں سے نصف سے زائد، جب صبح آنکھ کھلتی ہے تو ایک شخص کرسی پر بیٹھا ملتا ہے۔ کیا ہے جی؟ کہ آج سے میں آپ کا حکمران ہوں۔ اور ہم سب یہ پوچھنے

Read more

سات بہادر خواتین

ہو سکتا ہے آپ ان سات خواتین سے واقف نہ ہوں، نہ آپ کو ان کے کام کا علم ہو نہ نام کا، نہ تحریر نظر سے گزری ہو نہ تصویر سے شناسائی ہو، نہ آواز سنی ہو نہ آہنگ سے واقفیت ہو لیکن اس کے باوجود میری اس بات پر یقین کیجیے کہ ابصار فاطمہ، ثروت نجیب، سمیرا ناز، صفیہ شاہد، فاطمہ عثمان، فرحین خالد اور معافیہ شیخ اس دور کی سات بہادر خواتین ہیں۔ ان کی دلیری کی

Read more