ابصار فاطمہ کا ناول: افسانے کی حقیقی لڑکی

جب میں نے ابصار فاطمہ صاحبہ کا ناول ”افسانے کی حقیقی لڑکی“ کے چند صفحات کا مطالعہ کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ میں کسی نوجوان لڑکی کی ڈائری پڑھ رہی ہوں۔ اس میں زبان انتہائی سادہ مگر محسوسات اور مشاہدات کا ایک جیتا جاگتا جہان آباد ہے۔ یہ اپنے معاشرے کی بے قدر بے حس روایات کی کہانی ہے۔ ضروری تو نہیں کہ وہی چہرہ جھلسے جس پر تیزاب پھینک دیا جائے، الفاظ لہجے اور بے حس رویے اور

Read more

ایک سخت جان افسانوی مجموعے کی روداد

”ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری“ کا پہلا ایڈیشن سن دو ہزار دس میں شائع ہوا تاہم انیس افسانوں اور ایک سو بارہ صفحات پر مشتمل یہ کتاب اپنا رنگ جمانے میں ناکام رہی۔ کچھ افسانے کچے رہ گئے تھے۔ کچھ ضرورت سے زیادہ پک گئے تھے۔ پروف کی بھی کافی اغلاط تھیں۔ کچھ عالی ظرف دوستوں اور بزرگوں نے خوب حوصلہ افزائی کی، مگر قبر کا حال تو مردہ ہی جانتا ہے، لہذا ان افسانوں کو مسلسل قطع و برید

Read more

ملکہ پکھراج کی آپ بیتی: بے زبانی زبان ہو جائے

یہ ملکہ پکھراج کی آپ بیتی ہے۔ ملکہ پکھراج، آواز کی ملکہ جس نے کئی زمانوں کو اپنی آواز کے سحر میں جکڑے رکھا۔ ویسے بھی آپ بیتیاں کھڑکیاں ہوتی ہیں جس سے آپ کسی اور کی زندگی ہی میں نہیں تاریخ کے ایک دریچے سے بیتا ہوا زمانہ دیکھتے ہیں مگر اس کے ساتھ آپ اپنے اندر بھی ایک دنیا طے کر رہے ہوتے ہیں اپنے اندر کے تاریک اور روشن گوشوں کو دریافت کر رہے ہوتے ہیں کون

Read more

میرے دادا جان: بابو غلام محمد مظفر پوری

یہ کتاب کسی باقاعدہ مصنف کی تحریر نہیں ہے، ایک عام انسان کی روداد حیات ہے جس کی رسمی تعلیم بس واجبی سی تھی لیکن اس نے زندگی کا وسیع مشاہدہ کیا تھا۔ علم بھی اپنی کاوش سے حاصل کیا تھا۔ مشرقی پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے رہنے والے اس شخص کو حالات نے ہندوستان کے دوردراز علاقوں اور غیر ممالک میں جانے کے مواقع فراہم کیے۔ ان اسفار سے حاصل ہونے والے تجربات کو اس نے کسی

Read more

لافٹر بک: ایک تبصرہ

وہ مصنفین جنہیں ہم ذاتی حیثیت سے جانتے ہوں ان کی کتب پر تبصرہ کرنا میرے نزدیک ذرا مشکل کام ہے۔ ناصر محمود شیخ کی پہلی کتاب ”بکھرے خواب“ اپنے نام کی طرح قاری کی سوچوں کو بھی ایک بار بکھیر کر رکھ دیتی ہے۔ لیکن اب مصنف نے ”لافٹر بک“ لکھ کر ایک ایسی یکسوئی مہیا کی کہ قاری سب کچھ بھول بھال کر کسی ایک نقطے کو پڑھتے اور سمجھتے ہوئے بے اختیار ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو

Read more

آغا ناصر کی تصنیف : گمشدہ لوگ

آغا ناصر بہت بڑے آدمی تھے، وہ بڑی عجیب صلاحیتوں کے مالک تھے۔ انھیں شاعری افسانے ناول جیسی اصناف ادب سے بے پناہ لگاؤ تھا لیکن ڈرامے سے تو گویا انھیں عشق تھا۔ وہ اپنے کام سے حد درجہ مخلص تھے۔ انھوں نے ریڈیو پاکستان کی نوکری سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور اپنی صلاحیتوں کی بنا پر ریڈیو اور پھر پاکستان ٹیلی ویژن کے اعلیٰ ترین عہدوں تک پہنچے۔ ظاہر ہے اس طویل سفر میں انھیں بے شمار

Read more

فرشتہ بہار کا مجموعہ چغار می اورہ

ضلع کرک خیبر پختونخوا میں دور، ضلع بنوں کے ساتھ سرحد پر ایک گاؤں ہے جس کا نام ہے لتمبر! لتمبر شاعروں کی سر زمین ہے۔ اس صدی کی دوسری دہائی سے پہلے تک یہاں لطافت کا دور تھا (پھر بد قسمتی سے کثیف جذبوں نے بھی اپنی جگہ بنا لی ) ۔ یہاں لوگ اسی خاک سے وابستہ سید حسن استاد اور شمس الزمان شمس صاحب کے اشعار محاوروں کی طور پر پڑھتے ہیں۔ کہیں عمران صابر کی مترنم

Read more

آم جو پھٹ گئے

حال ہی میں ہم نے بی بی سی کے کالم نگار جناب محمد حنیف صاحب کی کتاب ”پھٹتے آموں کا کیس“ پڑھی ہے۔ جو کہ حقیقت کو بنیاد بنا کر لکھا جانے والا ایک ناول ہے۔ سنا ہے کتاب کو کچھ ادبی انعامات وغیرہ بھی مل چکے ہیں۔ اردو ترجمہ کاشف رضا نے کیا ہے۔ مگر مزے کی بات یہ ہے کہ اردو ترجمہ مارکیٹ سے نہیں ملتا، اسے چند خفیہ کے لوگوں مارکیٹ سے اٹھوا لیا ہے اور دوبارہ اشاعت ممنوع کر دی ہے۔

Read more

پہلا قدم

ملتان ٹی ہاؤس میں ہماری مختصر سی ملاقات ہوئی لیکن یوں محسوس ہوا کہ شاید برسوں کی واقفیت ہو۔ خواجہ مظہر نواز صدیقی صاحب اتنی بڑی شخصیت ہیں کہ ان کی کتاب کو پڑھنے کے بعد اس پر تبصرہ لکھتے ہوئے بار بار ان کی شخصیت آڑے آ رہی تھی۔ جس خیال کو کتاب کی جانب موڑتا وہ گھوم پھر کر خواجہ صاحب کی ذات اور ان کے اوصاف کی جانب چل پڑتا۔ چونکہ ہمیں بچپن سے ہی کہانیوں کی صحبت ملی اور اب زندگی کی چوتھی دہائی میں بچوں کے ادب سے وابستہ ایک مکمل کتاب ”پہلا قدم“ احقر تک پہنچی تو بچپنے والی خوشی لوٹ آئی۔ خواجہ مظہر صدیقی صاحب اس سے قبل بھی تین کتابیں لکھ چکے ہیں اور یہ ان کی چوتھی کتاب ہے۔

Read more

لبنیٰ غزل صاحبہ کا ناول: لاریب

ہر شام انتظار کی چوکھٹ پر دل چراغ بن کر جلتا اور آنکھوں سے قطرہ قطرہ بہنے لگتا ” کس دھیان سے پرانی کتابیں کھلی تھیں ” آئی ہوا تو کتنے ورق ہی الٹ گئے ” ”نرم چاندنی کا فسوں ساری کائنات پر پھیلا ہوا تھا سامنے درختوں سے اوپر چاند جھانک رہا تھا۔“ تمہاری چوکھٹ پر رکھ آئی ہوں اپنے انتظار کی خوابیدہ آنکھیں ” ”ریان نے اپنی مرضی کا ایک خوبصورت میرون رنگ کا ہلکا کامدانی سوٹ نکالا“

Read more

فلک زاہد کا ناول : قدیم چرچ

مجھے یاد پڑتا ہے کہ بچپن کے دنوں میں ’پاکستان ٹیلی ویژن‘ پر ”عینک والا جن“ کے نام سے ایک ڈرامہ چلتا تھا جس کو ہم سب بچے بڑے شوق اور انہماک سے دیکھا کرتے تھے۔ اس ڈرامہ میں جادوئی کردار مختلف طریقوں سے اپنے شائقین کو محظوظ کرتے تھے، بلاشبہ وہ بڑا سنہری دور تھا۔ تب سے لے کر ادب کی ڈراؤنی (Horror) صنف سے کبھی واسطہ نہیں پڑا نہ کوئی ایسی کتاب ہاتھ آئی اور نا ہی ایسی کوئی فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ حال ہی میں مجھے نسل نو کی ابھرتی ہوئی مصنفہ اور کالم نگار محترمہ فلک زاہد صاحبہ کا ناول ”قدیم چرچ“ پڑھنے کا موقعہ ملا۔

Read more

جنگ جو جیتی نہیں جا سکی

”سی آئی اے کے ڈائرکٹر جارج ٹینیٹ کو بے چینی سے اپنے پاکستانی ہم منصب ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل محمود احمد کا انتظار تھا۔ یہ 9 / 11 کے دو دن بعد کا ذکر ہے جب امریکہ کو اپنی سر زمین پر ہونے والی بدترین دہشت گردی نے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس روز لینگلے میں سی آئی اے کے ہیڈکوارٹرز کا تناؤ بھرا ماحول چند روز قبل جنرل محمود کی لینگلے آمد والے ماحول سے

Read more

وہ جو سورج پہ کمند ڈالنے نکلے

جوانی واقعی دیوانی ہوتی ہے، نوجوان سمجھتے ہیں کہ وہ دنیا بدل سکتے ہیں، انقلاب لا سکتے ہیں، سماج سے نا انصافی اور ظلم کا خاتمہ کر سکتے ہیں، امیر اور غریب کی تفریق ختم کر سکتے ہیں اور نجانے کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ ساٹھ اور ستر کے عشرے میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور ان سے پہلے ڈی ایس ایف میں شامل نوجوان بھی سورج پہ کمند ڈالنے نکلے تھے۔ ان نوجوانوں نے ’اپنی چھاتی میں اس دیس کے

Read more

ڈاکٹر طاہر مصطفی کا غیر منقوط ترجمہ قرآن

مذہب کا تعلق ایمان کی مضبوطی اور عقیدے کی پختگی سے ہے۔ اسے عقل، دلیل اور منطق وغیرہ سے ہٹ کر روح اور جذبے سے تعلق ہوتا ہے۔ اگرچہ اسلام غور و فکر کی تلقین کرتا، اللہ تعالیٰ کی کائنات کے مختلف مظاہر پر غور کرنے کا درس دیتا ہے۔ وہ عقل اور دلیل کے دروازے ہر گز بند نہیں کرتا۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ سے گہری محبت، اللہ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے ساتھ لازوال

Read more

دروازوں کے باہر چاندنی: مختصر تعارف

وبا کے دنوں میں جب ڈر، خوف اور مایوسی کی فضا نے ہر طرف اپنے پنجے گاڑے ہوئے تھے استاد محترم ڈاکٹر احتشام علی کی کتاب ”دروازوں کے باہر چاندنی“ نے احمد مشتاق کی شعری دنیا کو منور کر کے تازگی کا ایک خوبصورت جھونکا ادبی دنیا پر ڈالا۔ احمد مشتاق کی شاعری ماضی اور ہجرت کا نوحہ ہے۔ وہ ان چیزوں پر دکھ کا اظہار کرتا ہے جو ماضی کا حصہ بن گئی ہیں مگر کھو دینے کا دکھ

Read more

کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ ۔۔۔ تبصرہ

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی کالموں پر مشتمل کتاب کا دلچسپ عنوان اور رنگین تتلیوں سے مزین خوشنما سرورق کسی افسانوی قصے کے نازک اندام کرداروں کا تصور ذہن میں ابھارتا ہےلیکن اسی سرورق کے نچلے حصے پر بنے مسخ شدہ پیروں کی تصویر دیکھ کر ذہن میں کھٹکا سا لگتا ہے جو کہانی کے کسی اور ہی رُخ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کتاب کے عناوینِ فہرست کا ایک طائرانہ جائزہ یہ باور کرا دیتا ہے کہ ذہن میں لگا

Read more

”وادیٔ سوات میں جو ہم پہ گزری“ پر تبصرہ

پاکستان کا سوئٹزرلینڈ سوات پہاڑی سلسلوں، سر سبز مرغزاروں اور آب و گیاہ سے لدا پھندا، خواب و خیال کی طرح دلکش و دل فریب کوہستانی منطقہ ہے جس نے تاریخ کے مختلف ادوار میں اپنے خارجی اور باطنی حسن سے صاحبان نظر کو اپنا گرویدہ بنایا۔ اس خطے میں موجود تاریخی و تہذیبی آثار آج بھی اس کی عظمت کی بھر پور گواہی دیتے ہیں۔ یوں تو یہ سر زمین ہر فکر و نظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں

Read more

فضل ربی راہی کی کتاب: ”وادیٔ سوات میں جو ہم پہ گزری“

بدھا کی گندھارا تہذیب کے ایک اہم مرکزی حیثیت رکھنے والے جنت نظیر وطن کے چرچے شاید دنیا میں کسی سے مخفی نہیں رہے۔ ‏یہاں آج بھی لوگوں کی عملی زندگی میں بدھا کی امن و آشتی کی تعلیمات پائی جاتی ہیں۔ سرزمین سوات کے پختونوں میں مادر وطن سے محبت، ‏رواداری، بھائی چارے اور کم آمدنی میں قناعت پسندی کے ساتھ زندگی گزارنے کی روایت شاید پشتونوں کی سرزمین پر جنم لینے والی قدیم ‏تہذیبوں، زرتشت اور بدھا سے

Read more

انواسی ( ناول کا جائزہ )۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ محمد حفیظ خان کا ناول، ”انواسی“ اٹھارہ سو اکسٹھ میں دریائے ستلج پر تعمیر کیے گئے ایمپریس پل کی کہانی ہے جس میں برطانوی انتظامیہ اور ریلوے انجینیئرز کی پیشہ وارانہ رقابت، تین سو گھرانوں پر مشتمل مقامی آ بادی کے ساتھ ایک قبرستان سے ریلوے لائن گزارنے کا واقعہ اور اس واقعہ کے نتیجے میں نوجوانوں کا قتل، قبرستان سے اپنے آ باء کی ہڈیاں سمیٹنے کی مشروط اجازت، سات شہیدوں کی قبر وں کی برطانوی انتظامیہ کی جانب سے نئے قبرستان میں منتقلی اور سات شہیدوں کی شناخت گم ہونے کی وجہ سے چالیس درویشوں کی آ ہ و فغاں، آ ہ و فغاں کے نتیجے میں ہجوم کا بستی میں مولوی اللہ بخش کے گھر پر حملہ، حملے کے نتیجے میں مولوی صاحب کا بیہمانہ قتل، قتل کے نتیجے میں ان کی بیوہ پر بیٹے کی میلی آ نکھ، میلی آ نکھ کے نتیجے میں بیوہ کا مولوی صاحب کے بھائی سے عقد نکاح، اس عقد نکاح کے نتیجے میں مولوی اللہ رکھا کا کشتے کھا کر چل بسنا اور مولوی اللہ رکھا کی موت کا الزام ایک نوجوان پر لگنا۔

Read more

احساسات کا لفظیاتی مصور

دو یوم قبل میں قلم تھامے اپنی یادوں کی ڈائری کھولے بیٹھا تھا اور میرے ارد گرد کئی کاغذ بکھرے پڑے تھے۔ لفظ کے معنی اور مفہوم کی کھوج نے مجھے لکھنے کی ایسی عادت ڈالی کہ میں حروف سے الفاظ جوڑتا رہتا ہوں۔ دنیا میرے لیے ایک رنگین پہیلی ہے جو فلک سے زمین تک کسی پینٹینگ کی صورت میں اپنا دامن پھیلائے آویزاں ہے۔ اسی دوران بادل گھر گھر آنے لگے اور سورج بدلیوں میں چھپ گیا، شاید

Read more

آزادؔ کی ”آب حیات“ اور آج کا قاری

اگلے دن محمد حسین آزادؔ کی شہرہ آفاق کتاب ”آب حیات“ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ سچ پوچھیں تو انتہائی شاندار اور اذیت ناک تجربہ رہا۔ ہمارا خیال ہے کہ ”آب حیات“ لکھنے کے بعد جناب آزاد ؔ بھی اسے دوبارہ پڑھتے تو وہ شاید اردو لغت کی مدد کے بغیر خود بھی نہ پڑھ سکتے۔ ایسے میں دوران مطالعہ ہمارا حال کیا ہوا ہوگا مت پوچھیے۔ تقریباً ہر سطر میں دو تین بار لغت کی مدد لینی پڑی۔ ہمیں دو

Read more

چار درویش اور ایک کچھوا

جیسے شداد نے اپنی موت کے اس منظرنامے کی خواہش کی تھی کہ جب میں مروں تو نہ زمین پر ہوں نہ آسمان میں، نہ سوار ہوں نہ ٹھہرا ہوا ہوں، نہ اپنی بنائی گئی جنت کے باہر ہوں نہ اندر تو اسے تب موت کے فرشتے نے آن دبوچا جب وہ اپنی بنائی گئی جنت کے دروازے پر اپنے گھوڑے سے اتر ہی رہا تھا اور فضا میں معلق تھا بالکل ویسے ہی مجھے سید کاشف رضا کے اس

Read more

کتاب بینی کا بڑھتا ہوا صحت مند رجحان

ہمارے ہاں ہمیشہ سے یہ شکوہ رہا ہے کہ کتاب کی طرف توجہ کم ہے۔ ایک ہزار کی ”کثیر“ تعداد میں چھپنے والا ایڈیشن ہی کئی سال تک ختم نہیں ہوتا۔ اس میں پبلشر زکی بے ایمانی کی داستانیں بھی کہی سنی جاتی رہی ہیں اور اس پراپیگنڈہ میں کہ کتاب فروخت نہیں ہو رہی یا قاری نہیں ہے پبلشرز مافیا کا بھی ہاتھ رہا ہے۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ابھی تک بیس کروڑ سے زیادہ

Read more

افسانوں کا سائنسدان

یہ حقیقت ہے کہ ماہ مارچ میں بہار کی رت جواں ہوتی ہے اور یہ مہینہ شاعروں، لکھاریوں اور مصوروں کے لیے قدرت کا حسین تحفہ ہوتا ہے۔ اسی ماہ میں نوروز کی خوشیوں کا مزہ بھی دوبالا ہوجاتا ہے جب آکاش سے ہلکی ہلکی رم جھم اور پھوہار دلبستگی کا سامان پیدا کرتی ہے۔ اسی ماہ مارچ کے دلپذیر ماحول میں مشہور و معروف قلمکار، دوست نما بھائی اور درجن سے زائد کتابوں کے مصنف حمزہ حسن شیخ نے

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب: Creative Minority

کتاب کا نام اس کے مواد و مقاصد کی جھلک دیتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کتاب میں تخلیقی صلاحیتوں کے حامل لوگوں، ان کی نفسیاتی و سماجی زندگی اور ان کے زندگی کو دیکھنے اور گزارنے کے غیر معمولی ڈھنگ کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اپنے اس review میں میں کتاب کے خلاصے کے ساتھ ساتھ اس کو اپنے نظریے سے بیان کرنے کی کوشش کروں گی کہ اس کتاب کو پڑھنے کے دوران اور پڑھنے کے بعد مجھے کن

Read more

کماری والا ( ناول کا جائزہ )۔

ناول پڑھتے ہوئے میرے پیش نظر ہمیشہ کہانی ہوتی ہے لیکن ہمارے ہاں کچھ دانشور حضرات ناول لکھتے ہوئے اپنی تحقیق، فلسفہ اور نظریہ اس طرح پیش کرتے ہیں کہ کہانی مر جاتی ہے، اوٹ پٹانگ سے اخباری حقائق کہانی پر غالب آ جاتے ہیں اور یا دقیق فلسفیانہ بیان بازی۔ آپ صرف کہانی لکھیں اور آپ کا جو فلسفہ ہے وہ غیر شعوری طور پر قاری کے دل میں کہیں عود آئے گا۔ یہی کرافٹ کی خوبصورتی ہوتی ہے۔ کہانی کو تحقیقی مقالے سے بچا کر لکھنا چاہیے۔ فلسفہ جھاڑنے کے شوق میں کہانی بے ربط ہو جائے تو قاری بدمزہ ہو جاتا ہے۔ کہانی لکھنے کے بعد کتاب جائزہ میں یہ سمجھانا کی کہانی کیا تھی بجائے خود کہانی پر سمجھوتے کی دلیل ہے۔

Read more

"سچ تو یہ ہے”: ڈاکٹر صفدر محمود کی کتاب پر تبصرہ

پاکستان میں تاریخ دان ”دائیں بازو“ اور ”بائیں بازو“ نامی گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ اس وقت اگر کوئی کسی تاریخ دان کو ”غیر جانبدار“ قرار دے تو دل ہے کہ مانتا ہی نہیں۔ قیام پاکستان سے اب تک ”بائیں بازو“ کے لوگوں کو دیوار سے لگایا گیا ہے اور ”دائیں بازو“ کو ہی ریاستی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ عہد حاضر میں دائیں بازو کے سرخیل تاریخ دان ڈاکٹر صفدر محمود ہیں۔ سیاسی نقطہ نظر رکھنے والوں میں

Read more

مسافر سقراط کے دیس میں

پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر سفرنامے کی صدیوں پرانی شمع کو اٹھائے آگے قدم بڑھاتے چلے جا رہے ہیں۔ ان کا مستقل قاری ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ تھوڑے تھوڑے وقفے سے ایک نیا سفرنامہ پڑھنے کو مل جاتا ہے۔ پروفیسر زاہد تدریسی مصروفیات میں سے وقت نکال کر جب بھی مسافر کا روپ دھارتے ہیں تو پہلے سے ہی طے کرلیتے ہیں کہ وہ اس سفر میں اپنی تحریروں کے ذریعے بے شمار قارئین کو اپنے ساتھ رکھیں

Read more

بہائو: مستنصر حسین تارڑ کے ناول کا ایک جائزہ

”سر سوتی جو بڑے پانیوں کی ماں ہے اور ساتویں ندی ہے اس کے پانی آتے ہیں، شاندار اور بلند آواز میں چنگھاڑتے ہوئے ” ”بہاو“ ”بہاو“ ، روانی، تسلسل کی علامت ہے یہ نام ہے تارڑ صاحب کے اس ناول کا جس نے انھیں سفر نامہ نگار کی فہرست سے نکال کر ناول نگار کی قطار میں لا کھڑا کیا ہے۔ اگر تارڑ صاحب صرف اس ناول کو ہی تحریر کرتے تو بلاشبہ یہ ناول ان کو ادبی طور

Read more

ڈاکٹر فرید پراچہ کی ”عمر رواں“

چند ماہ پہلے کا ذکر ہے۔ میں سیاحت کی غرض سے خانس پور میں تھی۔ ایک صبح اس علاقے اور لوگوں کے طرز رہن سہن کا جائزہ لینے کے لئے گھوم پھر رہی تھی۔ سڑک کے پار ایک صاحب دکھائی دیے۔ اپنے گھر کے لان میں کرسی میز ڈالے، کاغذوں کا پلندا سامنے رکھے، کچھ لکھنے میں محو تھے۔ ان کی محویت دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ ایسے پر سکون ماحول میں، اتنے خوشگوار موسم میں، لکھنے پڑھنے کا

Read more

تکون کے چار کونے

ایک بہت سادہ سی تقسیم کے مطابق ہمیں ادب کے مطالعے میں دو طرح کی تحریروں کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے ؛ ایک وہ جو سہل ہیں، اور دوسری دقیق اور گنجلک۔ سوال یہ ہے کہ جو تحریریں عام ذہنی سطح سے بالاتر ہیں کیا وہ ادب نہیں ہے؟ کیا اس کو لکھنے والا ادیب نہیں کہلا سکتا؟ دوسری جانب یہ کہنا کہاں تک درست ہے کہ جو بات سب کی سمجھ میں آ جائے وہ ادب نہیں رہتی بلکہ عامیانہ ہو جاتی ہے۔ ان دونوں نظریات کے اپنے اپنے ناقدین ہیں، ادب کی مکمل تعریف انہی دو کلیؤں کے درمیان کہیں قید ہے۔ یہ بحث اس لیے چھیڑ دی کہ بہت مدت کے بعد ایک کتاب پڑھی، جس میں یہ دونوں ہی کیفیات شدت سے ملتی ہیں۔ جس کا لہجہ عوامی ہے اور آہنگ فلسفہ ہائے دقیق کی بات کرتا ہے۔

Read more

چند مفید اور ضروری کتابیں

آج کے دور میں کتاب کی اہمیت سے انکار ناممکنات میں سے ہے۔ کتاب کی اہمیت و ضرورت پر بہت کچھ لکھنا بھی بہت کم ہے۔ سوچ رہا تھا اس دن کی مناسبت سے کیا لکھوں، کیسے لکھوں، کتنا لکھوں؟ کتاب کے بارے کچھ سطور لکھنے سے کیا میں کتاب کے ساتھ انصاف کر سکوں گا؟ کافی سوچ بچار کے بعد آخر فیصلہ کیا اس دن کی مناسبت سے کچھ نہ لکھنا بھی بہت زیادتی ہے تو اٹھا قلم اور

Read more

منتارہ (ناول)۔

ناول کا مرکزی کردار مخدوم ناظر حیات، سینیٹ آف پاکستان کا ممبر ہے۔ جو عمر کی قریب ساٹھ، ستر دہایاں اس تعداد سے اوپر حسینوں کے جلو میں گزار آیا ہے۔ زندگی کے اس موڑ پر ”گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے“ کے مصداق جوانی کی یادیں تازہ کرنے بحرہند کے ساحلوں کا رخ اکثر کرتا رہتا ہے۔ وہ ایک حسن پرست کردار ہے جو پاکستان کی سیاست میں معزز اور کولمبو اور پھوکٹ کے ساحلوں پر ایستادہ عیاشی کی پناہ گاہوں میں رذیل ترین عاشق آوارہ ہے۔ مخدوم سیاسی وجاہت کے مقابلے میں حسیناؤں کی نرم گرم آغوش میں رہنا پسند کرتا ہے۔ ہماری ملاقات مخدوم سے اسی ماحول میں ہوتی ہے۔ جب وہ اپنی آخری دوست نائلہ کے ساتھ کولمبو کے ساحلی ہوٹل میں موجود ہے۔

Read more

جدید افسانے کی دستاویز: گونجتی سرگوشیاں

”سربستہ رازوں کو نہ کھوجنے والے اپنی نسل کے کاندھوں پہ چہ مگوئیاں چھوڑ جاتے ہیں، جن کی سرگوشیاں ساری زندگی سینوں میں گونجتی رہتی ہیں“ ۔ افغان افسانہ نگار ثروت نجیب کے افسانے ”ایلے سارینا“ کے اس جملے سے اخذ کیے گئے نام سے شائع شدہ جدید افسانوں کے مجموعے ”گونجتی سرگوشیاں“ میں سات نوجوان خواتین کے پانچ پانچ افسانے شامل کیے گئے ہیں۔ اس منفرد کتاب کو فرحین خالد اور صفیہ شاہد نے ترتیب دیا ہے، جن کے

Read more

کتابوں کی باتیں

کچھ عرصہ قبل افتخار احمد اور اصغر جمیل کی انگریزی میں لکھی ہوئی کتاب ”اسلامی لیبر کوڈ“ موصول ہوئی تو قدرے حیرت ہوئی کہ کچھ لوگ جذباتیت سے ہٹ کر پاکستان میں بھی ایسے موضوعات پر تحقیق و تصنیف میں مصروف ہیں۔ مصنفین کے مطابق اس وقت مسلمانوں کی تعداد ایک اعشاریہ آٹھ بلین ہے یعنی دنیا کی کل آبادی کا ایک چوتھائی حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ ایشیائی اور افریقی ممالک میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 69.4 فی صد ہے یعنی مسلمانوں کی مجموعی آبادی کا ستائیس فی صد حصہ ان ممالک میں رہتا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد صرف تین فی صد ہے۔ دنیا میں مسلم اکثریت والے ستاون ممالک ہیں جن میں ایک ارب سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں۔ یہ سب OIC اسلامی تنظیم برائے تعاون کے رکن ہیں جس کا قیام 1969 میں عمل میں آیا تھا۔

Read more

سوشلزم اکیسویں صدی میں

سنہ 1917 ء میں روس میں سوشلسٹ انقلاب، انسانی تاریخ میں محنت کشوں کی یہ پہلی کامیابی تھی اور یوں انسانی تاریخ میں محنت کشوں نے پہلی مرتبہ اقتدار سنبھالا۔ اس سے پہلے محنت کشوں کی بغاوتوں اور انقلابات کی تاریخ تو پڑھنے کو ملتی ہیں، مگر وہ سب بغاوتیں کچل دی گئیں اور انقلابات بھی شکست سے دوچار ہوئے۔ سوویت یونین ہزاروں سال میں پہلی ریاست ہے جسے محنت کشوں، مزدوروں اور کسانوں کی ریاست کہلانے کا اعزاز حاصل ہوا۔

عالمی سرمایہ داری نے اسے شروع میں ہی ناکام بنانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ سوویت یونین نے 1917 ء میں انقلاب برپا ہونے کے بعد پہلے چند ہی سال میں سائنسی ٹیکنالوجی، معاشی اور سماجی ترقی کے حوالے سے شان دار کامیابیاں حاصل کر لیں۔ مگر پھر اس نظام کے اندر ایسے مسائل نے بھی جنم لیا جس نے اسے کھوکھلا کرنا شروع کر دیا۔ سوویت یونین کے بحران میں دو چیزیں نہایت اہم ہیں، جمودیت اور افسرشاہی کی ایک خاص کلاس۔ یہی اس نظام کی تباہی کا سبب بنیں۔

Read more

افسانوی مجموعہ: آب مرگ

احسان اللہ لاشاری کا افسانوی مجموعہ ”آب مرگ“ ابھی ختم ہوا ہے، اس سے پہلے کہ میں اس میں موجود افسانوں پر بات کروں، یہاں میں جیلانی بانو صاحبہ کے ایک مضمون کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں، جو دوہزار پانچ میں ”دنیا زاد“ رسالے میں شائع ہوا، اس میں وہ لکھتی ہیں کہ ”آج ایک ادیب کے لیے یہ دنیا جتنی غورطلب ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ ہم نئی صدی میں داخل ہو رہے ہیں، یہ انسانی تہذیب کا

Read more

زندگی سے بڑے لوگ

کچھ لوگ اپنے علم کو کتابوں میں لکھ کر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنا حق ادا کر دیاہے۔ ان کے پاس علم کا جو خزانہ تھا انہوں نے دوسروں تک پہنچا کر اپنا فرض پورا کر دیا ہے۔ لیکن بہت کم اور خاص ہوتے ہیں ایسے لوگ جن کی زندگی کا احاطہ اور علم صرف کتابوں میں قید نہیں ہو سکتا ۔ ان کے علم سے مستفید ہونے کے لئے کئی زندگیاں درکار ہوتی ہے۔ فرخ سہیل گوئندی بھی

Read more

وسعت اللہ خان کی سیلاب ڈائری

”گان گرلز“ کے لکھاری گلئن فلئن نے اپنے ایک انٹرویو میں اگاتھا کرسٹی کے ناول and then there were none کے متعلق کہا تھا کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ جب مجھے کچھ پڑھنے کا من نہ کرے، یا میں سراپا بوریت ہوں تو اسے ہی پڑھنا شروع کرتا ہوں۔ جانے کیوں وسعت اللہ خان کی سیلاب ڈائری پڑھتے ہوئے بھی بارہا میں نے خود کو اسی کیفیت میں پایا۔ میں بھی بوریت کے سمے آب گم، بجنگ آمد

Read more

"پریم چند گھر میں”: ایک فیمنسٹ ادیب کی زندگی کی کتھا

کسی بڑی ادبی شخصیت کا اصل روپ دیکھنا ہو تو اسے گھر میں دیکھیں. اکثر اوقات انسان دوستی اور عورتوں کے حقوق کے دعویدار دانشور جلوت اور خلوت میں بہت مختلف رویہ رکھتے ہیں. ان کا بس نہیں چلتا کہ گھر میں سوال اٹھانے والی بیوی کا منہ کس طرح بند کردیں. جبکہ باہر کی دنیا میں ان کا رویہ بالکل برعکس ہوتا ہے. مگر منشی پریم چند کا شمار ان سچی اور ستھری ہستیوں میں ہے کہ جن کا

Read more

اسے پرواز کرنے دو

قلم ہاتھ میں رکھنے والوں کے لے وہ بڑا مشکل مرحلہ ہوتا ہے جب کوئی فرمائشی کالم لکھنے کا کہتا ہے۔ ایسا میرے ساتھ بار ہا ہو چکا ہے۔ ایک بار انفارمیشن ڈائریکٹر سرور خٹک نے تو حد ہی کردی اپنی کتاب دیتے وقت اس پہ لکھ بھی دیا کہ ”یہ کتاب میں اس شرط پہ دے رہا ہوں کہ آپ اس پہ کالم لکھیں گے“۔ میں اسے تکتا ہی رہ گیا اور مروتاً کچھ نہ کہہ سکا۔ اس واقعے

Read more

”اسے پرواز کرنے دو!“ پر ایک نظر

ضیاء الدین یوسف زئی کی انگریزی کی کتاب Let Her Fly کے اردو ترجمہ پر ایک ریٹائرڈ پرنسپل کا تبصرہ کتاب زندگی ہے اور زندگی کتاب۔ اس کتاب میں خوشی ومسرت کے انمٹ وحسین رنگ شامل ہو جاتے ہیں جب کتاب کاتحفہ ڈاکیہ ہاتھ میں تھما دے۔ ”اسے پرواز کرنے دو“ ضیاء الدین یوسف زئی کی آپ بیتی (Let Her Fly) کا اردو ترجمہ ہے جسے فضل ربی راہی نے انگریزی سے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے اور یہ

Read more

ضیاء الدین یوسف زئی کی کتاب ”اسے پرواز کرنے دو!“

سماجی روایات بہت پختہ اور ثقافتی رنگ بہت گاڑھے ہوتے ہیں۔ انہیں ناخنوں سے کھرچ کرہٹانے سے کام نہیں بنتا۔ کورانہ تقلید کرنے والوں کی آنکھوں سے دبیز پردے ہٹانا دل گردے کا کام ہے۔ سماجی زندگی میں عمل ارتقاء کو جاری رکھنے کے لئے جہد مسلسل کی دہکتی کٹھالی سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس عمل کے دوران اپنے آپ سے بھی لڑنا پڑتا ہے۔ اپنے پیاروں سے بھی با ہم دست و گریباں ہونے کی نوبت آتی ہے اور

Read more

ممتاز مفتی کا "سمے کا بندھن”

بندھن بہت سے ہوتے ہیں ، ان میں سے ایک سمے کا بندھن بھی ہوتا ہے جو روح کو باندھ لیتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ایک طویل مرحلہ ہوتا ہے جس میں اندر کے سروں کو پکا کرنا پڑتا ہے، تال ملانی پڑتی ہے، آئینہ بننا پڑتا ہے، آئینہ دکھانا جتنا آ سان ہے ،  آئینہ بننا اور پھر بن کے رہنا اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ اخلاص نہ ہو تو بے دردی جنم لیتی ہے اور بے

Read more

مقصودگل کا نونہالوں کے لئے کہانیوں کا سندھی مجموعہ: ”ہٹھیلی ہرنڑی“ (مغرور ہرنی)۔

سندھی ادب کے ماضی قریب میں مقصودگل کا نام اور ادبی مقام کسی بھی رسمی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ آپ شاعر ابن شاعر، ابن شاعر کی حیثیت سے سندھی کے ساتھ ساتھ اردو کے قادرالکلام اور صاحب طرز سخنور کی حیثیت سے تو اپنی پہچان رکھتے ہی ہیں، مگر ساتھ ساتھ ایک منجھے ہوئے مترجم، محقق، صحافی، مدیر، کالم نویس، افسانہ نویس، حضرت سچل سرمستؒ کے شارح اور بچوں کے ادیب کی حیثیت سے بھی جانے پہچانے جاتے ہیں۔

Read more

داردستان کا ترجمان: سر بلند

ہندوکش، ہمالیہ اور قراقرم کے بلند برف پوش پہاڑوں، وسیع جنگلات اور خوبصورت سرسبز و زرخیز وادیوں کے بارے میں سب جانتے ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ سوات، دیر، چترال کدھر ہے اور یہاں کے خوبصورت علاقے کون کون سے ہیں۔ اسی طرح گلگت بلتستان کی بلند و بالا چوٹیوں اور خوبصورت دروں کے بارے میں بھی ایک دنیا جانتی ہے۔ پوری دنیا سے ہر سال لاکھوں لوگ شمال کے ان خوبصورت علاقوں کو دیکھنے آتے ہیں۔ لیکن یہاں

Read more

زہرا تنویر کا افسانوی مجموعہ: من کی آواز

زہرا تنویر سوشل میڈیا کی پہلی لڑکی ہے جس کو سیل فون کا نمبر دیا تھا، لیکن ہم دونوں نے کبھی پہروں گفتگو نہ کی، نہ ہی کبھی چغلیاں یا غیبت کی، ہم من کی کہانیاں کہتے رہے، رشید جہاں، عصمت چغتائی، خالدہ حسین، رخسانہ احمد۔ خدیجہ مستور، کیتھرین مینسفیلڈ، جین آسٹن کی کہانیاں ایک دوسرے کو سناتے رہے، سلویا اور فہمیدہ کی جرأت مندانہ اظہاریے پر مبنی نظموں، اور پروین شاکر کی نرم مزاجی کو موضوع بناتے ہوئے ہم حالیہ دور کی نرم مزاج اور تند مزاج ادیباؤں اور شاعرات کو پڑھتے رہے، میرا مزاج کبھی یکساں نہیں رہتا، لیکن پھر بھی زہرا میرے من کی آواز سن لیتی ہے، اور اس پر دلچسپ تبصرہ بھی کر دیتی ہے، اور میں اس کی مختصر گفتگو اور کہانی کے ذریعے اس کے من میں الجھتی، سلجھتی، روپہلی، نمکین و رنگین آواز سن لیتی ہوں۔

Read more

ڈاکٹر حمیرا اشفاق کا افسانوی مجموعہ: کتبوں کے درمیان

کہانی کو انسانی زندگی میں ازل سے ہی بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔ کہانی لکھنے والے نے کہانی کو دو مقاصد کے تحت تحریر کیا ہے۔ ایک تسکین یا راحت کے سامان کے طور پہ جب کہ دوسرا مقصد ہماری زندگی کے حقائق اور معاملات کو سامنے لانا۔ دونوں مقاصد میں کہانی کا تعلق بہرحال انسان سے ہی جڑا رہا ہے، گویا کہانی نے انسانی زندگی اور کائنات کو ایک دوسرے کے قریب تر کر دیا۔ اردو ادب میں ابتدا

Read more

رضا علی عابدی کی کتاب ”اخبار کی راتیں“

عابدی صاحب کی اس کتاب کے پہلے باب کا مقصد با آواز بلند یہ اقرار کرنا ہے کہ: ”ہاں! جب میں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھا تومیں جنگ اخبار میں پروف ریڈر تھا“ ۔ بارہ سال کا یہ لڑکا اپنے استاد ٹھہرنے والے تین ہندو اخبار کے بارے میں کہتا ہے، ”تیج“ کی کتابت بھونڈی، ”پرتاب“ کی بھدی اور ”ملاپ“ کی معمولی تھی۔ اس لڑکے کی اپنی پہلی تحریر بچوں کے رسالے ”کھلونا“ میں لگی تو یہ مسرور

Read more

مردہ خانے میں عورت: مشرف عالم ذوقی کا فاشزم کو للکارتا ناول

جدید ہندوستان میں فاشزم دسمبر میں آیا جب لوگوں کو غسل کیے کئی کئی دن ہو جاتے ہیں اور ان کے کپڑے کالے پڑجاتے ہیں اور اسے لانے والے خانہ بدوش تھے جنھیں ’گھومنتو‘ کہا جاتاتھا اور ان میں سے ایک مارخیز کے شہر سے آیا تھا۔ وہ بوڑھا تھا، بندروں کی نسل کا، جس کے سرکے بال اڑگئے تھے، وہی ہندستان میں فاشزم کا مبلغ اور داعی تھا۔ اس اور اس کے ساتھیوں کے ہاتھوں میں ترشول تھے، لمبے

Read more

اپنی سوگوار بیسواؤں کی یاد میں

ناول کی کہانی ایک ایسے بوڑھے کے گرد گھومتی ہے جو اپنی زندگی کے نوے سال مکمل ہونے پر اپنے آپ کو ایک عجیب تحفہ دینا چاہتا ہے۔ یہ تحفہ کسی نوخیز باکرہ کے ساتھ رات بسر کرنے کا تحفہ ہے۔ یادداشتوں کا یہ عیاں تذکرہ گبریل گارسیا مارکیز کا مشہور زمانہ ناول ہے۔ ان یادداشتوں کا بے نام راوی نوے سال کا ہو گیا ہے اور اس نے خود کو ایک کنواری کے ساتھ رات گزارنے کا تحفہ دینے

Read more

آمنہ مفتی کا ناول: پانی مر رہا ہے یا کہانی مر رہی ہے

کتاب کے عنوان نے مجھے کتاب خریدنے پر اکسایا،  سو میں نے خرید لی اور پڑھ بھی لی۔ اس سے پہلے محترمہ آمنہ مفتی کی کوئی تحریر، کوئی افسانہ میری نظر سے نہیں گزرا۔ ناول پڑھنے کے بعد بھی میری سمجھ میں نہیں آیا کہ مصنفہ نے یہ ناول کیوں اور کس کے لیے لکھا ہے۔ اس ناول کی کوئی سمت نہیں، کوئی قبلہ نہیں۔ ناول کی کہانی میاں اللہ یار کے بیٹے کی گاؤں آمد سے شروع ہوتی ہے

Read more

موسم خوش رنگ: زندگی سے مکالمہ کرتی تحریریں

شاہد صدیقی کی کتاب ”موسم خوش رنگ“ زندگی کے شدتوں اور حدتوں بھرے موسموں کی داستان ہے۔ جس میں تاریخ ہر جملے میں زندہ اور لطیف پیرائے میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ قاری صدیوں کا سفر ایک جست میں طے کر لیتا ہے۔ وہ خوبصورت اسلوب کے ساتھ ساتھ مشکل سے مشکل موڑ، بنا بھولے بھٹکے پار کر لیتے ہے۔ معاصر صورت حال کا تجزیہ ایسے انداز میں کیا گیا ہے کہ جیسے کوئی قصہ گو رات

Read more

”بے سمتی کے دن“ کی بے چہرگی

مجھے کیا معلوم تھا کہ آج صبح جب میں ”بے سمتی کے دن“ کھولوں گا تو ایک جہان حیرت میں غرق ہو جاؤں گا۔ آج کی صبح کا منظر بہت جان لیوا تھا۔ ہلکی ہلکی بوندیں گر رہی تھیں اور نیو ہاسٹل کے لان میں لگے پام کے درخت رقصاں تھے۔ بادلوں نے سایہ کر رکھا تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا نے اپریل کی گرماہٹ کو زیر کر رکھا تھا۔ ایسے میں عرفان شہود کی آزاد نظموں کی پہلی کتاب ”بے

Read more

دیوداس : محبت کا مرثیہ

ڈاکٹر شرت چندر چیٹرجی کی ادبی خدمات بہت طویل ہیں۔ وہ بنگال کے نامور ادیبوں میں ایک تھے اور بنگالی زبان میں ہی لکھتے تھے۔ ان کے قصے اور کہانیوں کو جو مقبولیت ان کے قارئین نے دی ہے ، شاید وہ بینکم چیٹرجی اور رابندر ناتھ ٹیگور کے حصے میں بھی نہیں آئی۔

ان کے فلسفے اور زیادہ تر کہانیوں میں بینکم اور ٹیگور کا عکس صاف صاف دیکھنے کو ملتا ہے گو کہ وہ ٹیگور کی طرح معنی خیز اور کافی گہرائی میں جا کر خدا اور بندے کا فلسفہ تراشنے والے نہیں لیکن وہ سب سے پہلے ایسے ہندوستانی ناول نگار ضرور ہیں جنہوں نے اپنی روزی روٹی کے لیے اپنا پیشہ ہی لکھنا بنا لیا۔

Read more

سلیم سہیل کے مضامین کا مجموعہ ’حرفِ حیرت‘

سلیم سہیل ہمارے عہد کے ان چند نقادوں میں آتے ہیں جنہوں نے تنقید کو محض لفظوں کی جگالی نہیں سمجھا اور نہ ہی مکھی پر مکھی ماری بلکہ اپنے لیے الگ راستے کا انتخاب کیا ، یہی وجہ ہے کہ سلیم سہیل نے کم لکھا مگر معیار پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا۔ جس فن پارے پر بات کی، انتہائی ذمہ داری سے کی اور تنقید کو ایک سنجیدہ عمل کے طور پر لیا۔ ورنہ ہمارے ہاں نقادوں کی تعداد

Read more

گمنام گاؤں کا آخری مزار

روف کلاسرا صاحب اپنی اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں ”اس کتاب میں شامل سب عام کہانیاں ہیں۔ اگر آپ بڑے لوگوں کی کہانیاں پڑھنا چاہتے ہیں تو پھر یہ کتاب آپ کے کام کی نہیں۔ میں نے اس کتاب میں عام انسانوں کے دکھوں اور غموں کی آواز بننے کی کوشش کی ہے۔ اس کتاب کے سب کردار عام لوگ ہیں۔ وہ عام لوگ ہی میرے ہیروز ہیں۔ وہی میرے رول ماڈل ہیں۔“ ہمارے ہاں عموماً یہ دیکھنے

Read more

جنس اور قلعہ: بدلتے ہوئے عرب معاشرے میں نجی زندگی

شیریں ال فیکی 1968 میں  برطانیہ میں  پیدا ہوئیں۔ ان کے والد مصری اور والدہ ویلش تھیں۔ شیریں نے کینیڈا میں میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم پائی۔ نائن الیون کے دہشت گرد حملوں کے بعد انہیں عربی زبان اور ثقافت میں  گہری دلچسپی پیدا ہو گئی۔ انہوں نے مصری معاشرے میں عورتوں کی آزادی اور جنسی اقدار کے بارے میں  گہری تحقیق کی۔ ان کی کتاب "جنس اور قلعہ: بدلتے ہوئے عرب معاشرے میں نجی زندگی” 2013 میں شائع ہوئی۔ شیریں

Read more

افتخارالدین بھٹہ: میرے فکری سفر کے پچاس سال

اس وقت جب مہنگائی اور بے روز گاری نے لوگوں کو ادھ موا کر دیا ہے اور وائرس نے خوف کی فضاقائم کر رکھی ہے اخبارو جرائد سے عام آدمی کی دلچسپی زیادہ نہیں رہی۔ کتاب خریدنے اور اسے پڑھنے کا رجحان تو پہلے ہی کم تھا اب اس میں مزید کمی آ گئی ہے اس کی ایک وجہ جہاں موجودہ صورت حال ہے تو وہاں اس کی قیمت ہے جواس قدر بڑھا دی گئی ہے کہ اسے خریدنے کے

Read more

رات کی رانی ::افسانے :: رابعہ الربا

خوبصورت سرورق اور خوبصورت نام والا یہ افسانوں کا مجموعہ کچھ برس پہلے شائع ہوا لیکن شومئی قسمت سے مجھے پڑھنے کو ابھی میسر ہوا۔ اس پر بہت سے اہل قلم نے بہت کچھ لکھا ہوگا۔ کتاب کے مطالعے کے بعد میں نے سوچا کہ اب اتنے عرصے بعد میں اس پر کیا لکھوں لیکن اس مجموعے کے افسانوں نے لکھنے کی انگیخت ”مٹھی“ نہیں ہونے دی۔

Read more

گل مہر آباد: ایک جائزہ

ادب زندگی اور سماج کی ترجمانی کرتاہے اسی لیے دنیائے ادب میں وہ تخلیق بہترین شمار ہوتی ہے جس میں معاشرتی خوبیوں کے ساتھ ساتھ خامیوں کو بھی اجاگر کیا گیا ہو۔

اس تناظر میں یاد داشت، مشاہدات و تجربات عزخ پر مبنی کتاب ”گل مہر آباد“ کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے اپنی اس تخلیق میں زندگی و سماجی ترجمانی کے فرائض نیک نیتی سے انجام دیے ہیں جس کی بدولت کتاب کی بنیاد مضبوط ہے۔

Read more

مشرف عالم ذوقی کا ناول: مردہ خانے میں عورت

ذوقی کے بھارت کے موجودہ شہریت کے نام سے جاری المیوں اور دیگر نسلی و مذہبی تناقصات پر لکھے ناول ”مردہ خانے میں عورت“ پر بات کی جائے تو یہ ایک سلگتے موضوع پر شاہکار ناول ہے جس میں ذوقی کے عصری شعور کا بھرپور آہنگ اور رنگ ہے۔ ناول ہمارے سماج اور رویوں کا روزنامچہ ہے جسے ادیب دلنشیں اور تخلیقی انداز میں پیش کر کے اور اہم بنا دیتا ہے۔ ابتداء میں ناول پر داستانوی رنگ غالب تھا

Read more

قیدی: دہشت گردی پر لکھی کہانیاں

حمزہ حسن شیخ کا افسانوی مجموعہ ”قیدی“ ابھی ختم ہوا ہے اور مجھے تیرہویں عالمی اردو کانفرنس میں مقررین کے پڑھے جانے والے مقالے یاد آ رہے ہیں۔ وہاں موضوع تھا ”دہشت گردی اور اردو افسانہ“ ۔ معلوم نہیں ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ہمارے ناقدین جب بھی اردو افسانے پر بات کرتے ہیں تو ان کی بات چند معروف ناموں کے گرد ہی گھومتی رہتی ہے؟

کبھی کبھار مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جدید اردو افسانے کا ناقد نیا افسانہ پڑھ ہی نہیں رہا، اگر وہ نیا افسانہ پڑھ رہے ہوتے تو دہشت گردی کے موضوع پر ہونے والی نشست میں کسی نہ کسی کو تو حمزہ حسن شیخ کا علم ہوتا۔ گزشتہ دس برسوں میں دہشت گردی پر جتنی کہانیاں حمزہ حسن نے لکھی ہیں، شاید ہی اردو افسانے میں کسی نے اس موضوع پر لکھی ہوں۔

Read more

ڈاکٹر شیر شاہ سید کے جنم دن پر ’دل چارہ گر‘ کا تحفہ

26 مارچ، ڈاکٹر شیر شاہ کا جنم دن، کیا اس تاریخ کو پیدا ہونے والے ان ہی عادت و اطوار، خصوصیات کے حامل ہوتے ہوں گے جیسے ہمارے شاہ صاحب ہیں۔ کون سا وقت، کون سی دعا، کون سا برج، کون سا ستارہ کون سا سیارہ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سورج نہ ستارہ، برج نہ سیارہ، شبھ گھڑی نہ دعا۔ ڈاکٹر عطیہ ظفر سی ماں، اور سید ابو ظفر سے باپ جن بچوں کے حصے میں آئیں تب ایک

Read more

واجد شمس الحسن کی کتاب ”بھٹو خاندان میری یادوں میں“ اور قومی صحافت 

آخر کار وہ کتاب منظر عام پر آ ہی گئی جس کا بڑی شدت اور بے چینی سے انتظار تھا، اور میں کراچی سے زنوبیہ الیاس / مجاہد بریلوی سے اپنے لیے سب سے پہلا نسخہ لینے میں کامیاب ہو گیا۔ میں نے ان سے وعدہ کیا کہ اس کتاب پر تبصرہ بھی سب سے پہلے میں ہی لکھوں گا، اور الحمدللہ میں نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا کہ 24 فروری کو میرا اوپیڈ ”اے لائف ود بھٹوز“ ڈیلی

Read more

ذوالفقار احمد تابش کا مجموعۂ کلام: در نیم وا

پھانس سینے میں گڑی رہتی ہے رات کمرے میں کھڑی رہتی ہے مرے پہلو میں مری پرچھائیں یونہی چپ چاپ پڑی رہتی ہے پروفیسر رشید احمد صدیقی نے غزل کو ”اردو شاعری کی آبرو“ کہا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ اردو غزل واقعی آبروئے شعر اردو ہے۔ صدیوں کے عبور و مرور کے باوجود یہ صنف آج بھی موجب دلکشی ہے. ذوالفقار احمد تابش ملک کے بہت ہی معروف شاعر، ادیب اور مصور ہیں۔ ’در نیم وا‘ محترم ذوالفقار احمد

Read more

دی کائٹ رنر: آپ کے لیے ہزار بار

افغانستان ایک جنگ زدہ ملک ہے ، جو گزشتہ نصف صدی سے اپنی اور غیروں کی لگائی ہوئی آگ میں مسلسل جل رہا ہے۔ یہ چونکہ پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اس لیے وہاں جب بھی حالات بگڑے، پاکستان اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ چاہے وہاں روس کے خلاف جنگ ہو، خانہ جنگی کے حالات رہے ہوں یا نائن الیون کے بعد کی امریکہ افغان جنگ ہو، وہاں آنے والی ہر تبدیلی کا ردعمل پاکستان تک ضرور پہنچا۔ اس لیے عام پاکستانی بھی افغانستان میں جنگ اور اس کی تباہ کاری کی خبروں کو سنتا اور دیکھتا آیا ہے۔ تاہم عام پاکستانی افغان لوگوں کے خانگی حالات بارے واجبی سی آگاہی رکھتا ہے۔ مجھے بھی افغانستان بارے اتنی ہی جانکاری رہتی،  اگر میں انگریزی ناول ”دی کائٹ رنر“ نہ پڑھتا۔

Read more

سیمیں درانی کے افسانے: آنول نال

یہ کتاب محترمہ سیمیں درانی کے 15 افسانوں اور ایک مضمون پر مشتمل ہے۔ کتاب کا نام قدرے چونکا دینے والا ضرور ہے لیکن مصنفہ کا یہ دعوی کہ مرد حضرات آنول نال کو جانتے تک نہیں اور اس کے ذکر پر اپنی ناف کھجانے لگتے ہیں، حقیقت نہیں۔ مزید وہ کہتی ہیں کہ مرد آنول نال کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ یہ کیسا تضاد ہے کہ مرد جانتے بھی نہیں اور استعمال بھی کرتے ہیں۔ جس جنسی استحصال،

Read more

عمیرہ احمد کا ناول ’ایمان، امید اور محبت‘

امان، امید اور محبت ” کو ہم علامتی (Symbolic) ناول کہہ سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے اس میں اپنے کرداروں کے ناموں ( ایمان اور امید ) کو علامتی طور پر پیش کیا ہے۔ اس ناول کے ذریعے مصنفہ نے ہمیں یہ پیغام دیا ہے کہ اگر انسان اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہے تو خدا سے اس کی امید کبھی ختم نہیں ہوتی اور طویل آزمائشوں کے بعد بالآخر انسان پر اچھا وقت ضرور آتا ہے۔ وہ اپنی

Read more

شاہ جمال کا مجاور

بہت دن ہوئے وہ مجھے افغان حملہ آور احمد شاہ ابدالی کے نام سے موسوم سڑک پر سر راہ اس جگہ ملا جہاں خواتین کا ہسپتال ہے۔ ہم دونوں ہی کسی سرکاری نوکری کے لئے تحریری امتحان دے کر نکلے تھے۔ حیرت ہے کہ یونیورسٹی میں ایک ہی سیشن اور ایک سے ”مشاغل“ ہونے کے باوصف ہم کبھی اک دوجے سے نہ ملے تھے۔ اس اتفاقی ملاقات کے بعد یہ تعلق انتہا سے بڑھی ہوئی بے تکلف دوستی میں بدل

Read more

مشرف عالم ذوقی کا ناول ’نالۂ شب گیر‘ کیوں متاثر کن نہیں؟

”میں برابری اور آزادی کا قائل ہوں۔ اس لئے برسوں سے ایک ایسی کہانی کی تلاش میں تھا، جہاں اپنے تصور کی عورت کو کردار بنا سکوں۔ اس ناول میں دو کردار ہیں۔ صوفیہ مشتاق احمد ایک خوفزدہ لڑکی کی علامت بن کر سامنے آتی ہے یہاں مجھے ضرورت ایک ایسی عورت کی تھی، جسے صوفیہ مشتاق احمد کے ساتھ مضبوطی کی علامت بنا کر پیش کر سکوں۔ ناہید انصاری کا کردار ایک ایسا ہی کردار ہے کہ جب ناہید

Read more

تلاش اور امید کا قحط

کراچی زیب النساء سٹریٹ کے پاس ایک کتابوں کی دکان پر ہفتہ وار آوارہ گردی کرتے ہوئے ممتاز مفتی صاحب کی ”تلاش“ جانے کیوں خریدی۔ دکاندار ایک بزرگ آدمی تھے اور ہم نے کتاب کی خریداری پر کچھ رعایت طلب کی تو انہوں نے کہا کہ کتاب پڑھنے والے کے لئے یہ پیسے اہمیت نہیں رکھتے۔

خیر ہم نے وہ کتاب لے تو لی اور پہلی ہی فرصت میں پڑھ ڈالی۔ لیکن اس کے بعد تو جیسے اندر کا مد و جزر تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ سب سے زیادہ نقصان تو اس ذہن سازی کا ہوا جو گزشتہ دو دہائیوں سے ہمیں اللہ پاک سے دور کر رہی تھی۔

Read more

محمد مظفر میو کی کتاب ’خزاں کے بیج‘

محمد مظفر میو صاحب نے فرخ سہیل گوئندی صاحب کے اصرار پر پہلی کتاب بنام ”خزاں کے بیج“ لکھی ہے۔ یہ کتاب سوات جنگ سے متعلق ایک فکرانگیز کہانی ہے۔ اگر یہی کتاب حقیقی کرداروں کے ساتھ لکھی جاتی تو ابھی تک کتاب یا صاحب کتاب میں سے ایک یا دونوں لاپتا ضرور ہوتے۔ اس لیے کتاب ڈائیلاگ کی مدد سے ڈرامہ کی شکل میں لکھی گئی ہے جس کے تمام کردار نام سے تو فرضی ہیں مگر ان کا ”کردار“ حقیقت کے بہت قریب ہے۔

Read more

نسلوں نے سزا پائی: سقوط ڈھاکہ کی حسرت ناک داستان

مشرقی پاکستان کی علیحدگی ایک ایسا زخم تھا جسے پچاس سال گزرنے کے بعد بھی بھلایا نہ جا سکا۔ دنیا میں آزادی کی تحریکیں بھی چلتی ہیں۔ ملکوں کی سرحدیں بھی بدل جاتی ہیں لیکن بنگلہ دیش کی علیحدگی ہماری عزت نفس، وقار اور دو قومی نظریہ؛ جس پر ہمیں بڑا ناز تھا سب کچھ اپنے ساتھ بہا کر لے گئی۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد اقوام عالم میں ہمارا قومی تشخص مجروح ہوا۔ اس اچانک صدمہ سے قوم کا ہر

Read more

کیرن آرمسٹرانگ کی کتاب’خدا کی تاریخ‘

کیرن آرمسٹرانگ ایک عالمی شہرت یافتہ مصنفہ ہیں۔ برطانیہ میں ویسٹ مڈلینڈ کے علاقے ووسٹر شائر میں 14 نومبر 1944 کو پیدا ہوئیں۔ کیرن آرم سٹرانگ نے اپنی زندگی کے سترہ سال بطور رومن کیتھولک نن بسر کیے، 1969ء میں اپنے مذہبی سلسلے کو چھوڑنے کے بعد انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے ڈگری لی اور جدید ادب پڑھایا، وہ برٹش براڈ کاسٹر برائے مذہبی امور کے فرائض بھی سرانجام دیتی رہیں۔ کیرن کا دائرہ کار اور خیالات کی گہرائی اس

Read more

وہ جو چاند تھا سر آسماں : داستان عشق

نابغۂ روزگار شمس الرحمن فاروقی کی یاد میں، اشعر نجمی کی ترتیب و تہذیب میں، ابھی ابھی چھپ کر جو کتاب ’وہ جو چاند تھا سر آسماں‘ کے نام سے آئی ہے، اسے دیکھ کر مجھے اپنے من پسند ادیب رضا علی عابدی کے افسانے ’جان صاحب‘ کی تین سطریں یاد آ گئیں۔ جان صاحب ایک ایسے کردار کا نام ہے جو کہیں سے آ کر ایک چھوٹے سے شہر کے اسٹیشن پر پڑ جاتا ہے، لوگ اسے پاگل سمجھتے

Read more

عرفان شہود کی کتاب’بے سمتی کے دن‘

پہلا لفظ کیا تھا۔ کائنات میں گونجتی ہوئی ابدی آواز کون سی زبان میں ہے مجھے نہیں معلوم مگر مجھے لگتا ہے کہ شاید نظم ہو رہی تھی۔ کائنات کی تخلیق کے وقت بھی اور اس وقت بھی جب اس کرے کو بنے ہوئے اربوں سال گزر گئے تھے جس پہ ہم آج فروکش ہیں۔ نظم کا پہلا بیج کہاں پڑا اور یہ کہانی کب شروع ہوئی۔ شاید کہیں سے کوئی پانی سے بھرا ہوا برفیلا شہابیہ آ کے زمین

Read more

مرگ انبوہ سے مردہ خانے میں عورت تک

’مردہ خانے میں عورت‘ مشرف عالم ذوقی کا تازہ ناول ہے جو پاکستان میں سنگ میل اور ہندوستان میں میٹر لنک پبلکیشنز سے، ایک ساتھ شائع ہوا ہے۔ مردہ خانے میں عورت کو مرگ انبوہ کا دوسرا حصہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ ناول کا ہیرو مسیح سپرا آزاد ہندوستان میں خود کو مردہ ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کے حادثات و واقعات سے گزرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کو مردہ خانہ بنا لیتا ہے۔ گھر میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو زندہ رہنے کی علامت ہو۔ مسیح سپرا کو یقین ہے کہ مردوں کو بھوک ضرور لگتی ہو گی۔ وہ محض اپنے کھانے پینے کا انتظام کرتا ہے، سفید کفن پہنتا ہے اور مردوں کی طرح زندگی گزارنے لگتا ہے۔ مگر مردوں کو بھی چین نصیب نہیں۔ پھر ایک دن اس مردہ خانے میں ایک عورت آ جاتی ہے۔

Read more

نمرہ احمد کا ناول: مصحف

قرآن میں انسانی زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں ہدایت موجود ہے۔ سورۃ البقرہ میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے، ”ذٰالک الکتاب لاریب فیہ، ہدًی للمتقین“ (یہ ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شبہ نہیں، یہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے ہدایت ہے ) ۔ حضرت علیؓ کا قول ہے، ”جب تمہارا اپنے رب سے بات کرنے کو دل چاہے تو نماز پڑھا کرو اور جب تم چاہو کہ رب تم سے بات کرے تو قرآن پڑھا کرو“ ۔

Read more

جاوید احمد ملک کی کتاب: اساتذہ، بیوروکریسی اور سیاستدان

کہا جاتا ہے کہ بہترین معاشرہ تشکیل دینے کے لیے بہترین نظام تعلیم ضروری ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی سماج کا نظام تعلیم اس کے مجموعی ثقافتی معیار سے مشروط ہوتا ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام اور تعلیمی فکر دونوں کئی عشروں سے سماجی و فکری جدلیاتی عذاب میں مبتلا ہیں۔ یہاں سیاسی ہنر مندوں کا ہنر یہ رہا ہے کہ اول تو سرے سے تعلیم ہی نہ ہو، اور اگر تعلیمی درسگاہیں موجود ہوں تو وہ اساتذہ

Read more

شورش کاشمیری کی کتاب: اس بازار میں

شورش کاشمیری صاحب کا آہنی قلم بھی اک تند و تیز طوفان کی مانند تھا۔ جس بھی چٹان سے، جس بھی کوہ سے ٹکرایا اس کو پاش پاش کیا۔ آپ کا قلم بذات شورش تھا مگر باطل کے خلاف۔ تقریر اتنی جادو اثر کہ چلتی ہوائیں رک سی جاتی تھیں۔ راہوں سے بہک بہک سی جاتیں تھیں۔ صرصر، صبا ہو جاتی تھی۔ اذہان میں بسی کائنات اتھل پتھل ہو جاتی تھی۔ آپ کا قلم لؤلؤ، مرجان، شب چراغ اور زمرد

Read more

کہاں تک سنائیں

یہ بات تو طے ہے۔ دنیا بے شک سیکڑوں ملکوں میں بٹی ہوئی ہے اور ہر ملک میں کسی نہ کسی قسم کی اچھی بری حکومت ہے۔ لیکن حقیقت میں، پچھلے پانچ ہزار برس سے، دنیا ایک ہی ملک ہے اور اس ملک پر آمرانہ طرز کی حکومت ہے اور یہ آمرانہ حکومت مردوں کی ہے۔ قبلِ تاریخ زمانے میں، جس کا کوئی تحریری ریکارڈ موجود نہیں، صورتِ حال کیا تھی، ہمیں نہیں معلوم۔ بعض محققین کی طرف سے دعوے

Read more

بے سمتی کے دن

سماجی اور سیاسی جبر کے سامنے ادب ہمیشہ ایک مزاحمتی قوت بن کر کھڑا رہا ہے۔ عرفان شہود ایک ہمہ گیر تخلیق کار دھرتی زادہ ہے۔ پنجاب کے سرسبز کھیت ہوں یا بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑ، سندھ کا تھر ہو یا جنوبی پنجاب کے تھل کے ریگستان یا گلگت کے پربت عرفان شہود جہاں اپنے کیمروں سے محفوظ کرتے پائے جاتے ہیں وہیں ان مناظر کو لفظوں کے ذریعے کتابوں کے اوراق پر موتیوں کی صورت عکس کر رہے ہوتے

Read more

کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی اور وجاہت مسعود صاحب کا بہت شکریہ کہ “کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ” ملی۔ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کو کتاب کی اشاعت کی ڈھیروں مبارکباد۔ طاہرہ آپ کے لئے تو میں یہی کہہ سکتی ہوں کہ :  “وہ آئی، اس نے لکھا اور فتح کر لیا!” ڈاکٹر طاہرہ کاظمي سے میری ملاقات “ہم سب” میں ان کے تواتر سے چھپنے والے کالموں اور مضامین کی نسبت سے ہوئی۔ ان کی تحریر کا انوکھا پن اور اس کی

Read more

میری امی کی جگ بیتی

بچپن میں ایک بار جب امی سنار کے ہاں کسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اپنی کسی چوڑی کی قربانی دینے گئیں تو میں بھی ان کے ساتھ تھی بلکہ گھر میں سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے میں اکثر ان کے ساتھ ہی ہوتی تھی۔ جب سنار نے خریدنے بعد چوڑی کو ہلکے سے موڑا تو پتہ نہیں کیوں مجھے بالکل اچھا نہیں لگا لیکن کبھی مجبوری تو کبھی ضرورت اور کبھی کبھی ہماری چھوٹی بڑی خوشیوں

Read more

خاقان ساجد کا افسانوی مجموعہ ’آدم زاد‘

میں ساجد کو ایک مصور اورکارٹون آرٹسٹ کے طور پر تو جانتا تھا۔ مگر ساجد افسانے بھی لکھتا ہے؟ اس کی خبر تین سال قبل اس وقت ہوئی جب اس کی کتاب ”آدم زاد“ میرے سامنے آئی۔ میں ان دنوں اردو افسانوں کا انگریزی ترجمہ کر کے ان کو شارٹ سٹوری بک بنانے کی اپنی دوسری کتاب پر کام کر رہا تھا۔ مجھے ایسے ابھرتے ہوئے افسانہ نگاروں کی تخلیقات درکار تھیں۔ جو زمانۂ حال کے جینوئن اور ٹیلنٹیڈ ادیب

Read more

گمنام گاؤں کا آخری مزار

کتنی ہی ایسی کتابیں ہیں جنہیں پڑھ کر آپ یہ کہہ سکیں کے یہ کردار تو اپنے ہی معاشرے کے لگتے ہیں۔ یقیناً بہت کم اور اس بہت کم میں ایک رؤف کلاسرا صاحب کا ”گمنام گاؤں کا آخری مزار ہے“ جسے پڑھ کے کہیں بار، کہیں گمنام چہرے آنکھوں کے گرد پہروں چھائے رہے۔ سوچتا رہا کہ ہمیں کیوں ان کرداروں کے یہ پہلو نہیں دِکھے۔

Read more

داستان جاری ہے

واقعہ یہ ہے کہ کوئی بھی کتاب پڑھی نہیں جاتی بلکہ خود کو پڑھوایا کرتی ہے۔ جناب ابوالحسن نغمی کی کتاب ”داستان جاری ہے“ مجھ پر طاری ہی تو ہو گئی جیسے کسی کنواری پر آسیب۔ پیہم ایک ماہ اس کو میں نے تھوڑا تھوڑا پڑھا۔ روزانہ شب بستر پر لیٹ کے بس آٹھ دس صفحے کہ ختم نہ ہو جائے۔ گزری صدی کی پچاس والی دہائی کے لاہور کی سیر تھی جو میں روز رات دیکھتا رہا۔

Read more

کافکا بر لب ساحل: ہاروکی موراکامی کا ناول

ہاروکی موراکامی کی تخلیق کردہ طلسماتی دنیا میں داخل ہونا آسان ہے لیکن نکلنا مشکل۔ ادب کا کوئی بھی سنجیدہ قاری ایسے ادیب کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ یہ ناول 2002 میں لکھا گیا، 2005 میں اس کا انگریزی ترجمہ سامنے آیا۔ اس ناول کی شہرت ساری دنیا میں پھیل چکی ہے اور کئی زبانوں میں اس کے تراجم ہو چکے ہیں اور اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے جناب نجم الدین احمد نے۔ اپنی طلسماتی حقیقت نگاری، منفرد

Read more

مستنصر حسین تارڑ کا سفرنامہ حج: منہ ول کعبے شریف

مستنصر حسین تارڑ کا سفرنامہ حج، ”منہ ول کعبے شریف“ منفرد نوعیت کی تصنیف ہے۔ مصنف نے جہاں اس میں تمام مناسک حج کو تفصیل کے ساتھ قارئین کے سامنے بیان کیا ہے، وہاں ساتھ ساتھ تاریخ کو بھی مدنظر رکھا ہے۔ وہ جس جس مقام پر گئے، اس کے تاریخی حوالے بھی قارئین کے سامنے بیان کرتے گئے۔ اس لحاظ سے یہ سفرنامہ بہت معلوماتی اور دلچسپ بن گیا ہے۔ مصنف کا بڑا بیٹا ”سلجوق“ جدہ میں نائب کونسل

Read more

پروفیسر فتح محمد ملک کی کتاب: اسلامی روشن خیالی یا اشتراکی ملائیت

پروفیسر فتح محمد ملک صاحب کی تصنیف ”انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان میں“ ترقی پسند سیاست اور ادب سے تعلق اور دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ایک خاص کشش رکھتی ہے۔ کتاب میں پروفیسر فتح محمد ملک صاحب نے انجمن ترقی پسند مصنفین کے قیام کا پس منظر اور زوال تک کے نہ صرف واقعات بیان کیے ہیں بلکہ انہوں نے ان اسباب اور وا قعات پر بھی روشنی ڈالی ہے جن کے تناظر میں انجمن کا ہنگامہ برپا اور

Read more

محبوب تابش کی کتاب ”اقبال:خوش گمانیاں، غلط بیانیاں“۔

’’کسی بھی معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی ایک مفکر یا دانشور کے افکار کو ابدی اور آفاقی بنا کر اسے تنقید سے بالاتر کر دیتے ہیں۔ عہد وسطیٰ نے ارسطو کے فلسفے کو عیسائیت میں ڈھال کر ہزار برس تک تعلیم کا حصہ بنا کر نئے خیالات کو روکے رکھا۔ جب اسے چیلنج کیا گیا تو نئے خیالات و افکار امڈ امڈ پڑے۔

پاکستان میں بھی اقبال اور ان کے افکار کو اس ذہن کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے کہ یہ ہر دور میں معاشرے کی رہنمائی کریں گے۔ اقبال کی پرستش نے نئے نظریات اور افکار کی راہیں بند کر دی ہیں۔ محبوب تابش نے بڑی جرأت کے ساتھ اقبال پر لکھی اپنی کتاب میں اقبال پرستی کو چیلنج کیا ہے اور اس سے سماج کے مختلف شعبوں پر ہونے والے اثرات پر بے لاگ بحث کی ہے۔‘‘

یہ تبصرہ ہے ڈاکٹر مبارک علی صاحب کا محبوب تابش کی کتاب ”اقبال خوش گمانیاں، غلط بیانیاں“ پر جو اقبال پرستی سے پردے اٹھاتی ایک جامع کتاب ہے۔

Read more

اک شخص مجھی سا تھا

سنتوش آنند کا معاملہ کچھ الگ ہے۔ بکھرا بکھرا سا۔ درد کی ردا میں لپٹا ہوا۔ ان کے الفاظ، احساسات، کلیجے میں پیوست سے ہو کر رہ گئے، ”میں نے سوچا اپنی کویتا کے ذریعے دنیا کو رام کروں گا، دنیا کی رگوں میں خون کی طرح دوڑوں گا مگر، میں غلط نکلا۔“ کتنا درد ہے جو ان محولہ بالہ فقرات کی تہہ میں بہہ رہا ہے۔ تراٹیں مار رہا ہے۔ نصر اللہ خاں صاحب کو کون نہیں جانتا۔ صحافتی

Read more

فضا قریشی کی شاعری، موضوعات کے دھنک رنگ

عورت جب گھر میں رہ کر اپنے مجازی خدا کی خدمت میں مصروف ہے تب بھی سماج اس سے خوش نہیں ہے، جب وہ گھر کی دہلیز گزر کر اپنے گھر کی معاشی خوشحالی کے لئے باعزت روزگار کو جاتی ہے تب وہ مزید بری ہو جاتی ہے، لیکن جب وہ یہ تمام ذمہ داریاں پوری کر کے کسی سماجی عمل، سیاسی کام یا تخلیقی کام کو اپنے روزمرہ زندگی میں شامل کرتی ہے تو وہ واقعی بری کیوں نہ ہو؟ وہ سماج کے رجعت پسند، عورت دشمن رویوں کو بدلنے کے لئے جب اپنے قلم، عمل، علم، سوچ کے جھنڈے گاڑتی ہے تو کند ذہنوں، سماجی ناہمواری اور مد بھید کے برج ہلنے لگتے ہیں۔ ”ایک اور بری عورت“ بھی ایک پتھر کی مانند ہے جو ایسے دقیانوسی، چالو، عورت دشمن خیالوں کو اپنی جانب آتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

Read more

بالزاک کا ناول اور رؤف کلاسرا کا ترجمہ: تاریک راہوں کے مسافر

اس سال کے آغاز میں ہی یہ عہد کیا کہ ہر مہینے کم از کم ایک کتاب ضرور پڑھنی ہے۔ اسی سلسلے کا آغاز رؤف کلاسرا صاحب کا ترجمہ کیا ہوا ناول ”تاریک راہوں کے مسافر“ سے کیا۔ یہ ترجمہ دنیائے ادب کے عظیم فرانسیسی ناول نگار ہنری ڈی بالزاک کی لاجواب تخلیق ”یوجین گرینڈ“ کا ہے۔ جو کہ انہوں نے انقلاب فرانس کے پس منظر میں لکھا ہے۔ میں بغیر کسی تردد کے یہ کہہ سکتا ہوں کہ بلاشبہ

Read more

پاکستانی مسیحی شعراء کا انتخاب ’برگِ افکار‘

ہر چند کہ تخلیق اپنے تخلیق کار سے بڑا شہکار نہیں ہوتی، تو بھی تخلیق کار کا وجود اس کی تخلیق سے نمود پاتا ہے۔ میری دانست میں بڑا تخلیق کار اپنی کسی تخلیق کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے جو ہمیشہ زندہ رہتی ہے اور اپنے تخلیق کار کو زندہ رکھتی ہے ، چنانچہ زندگی کے اصل معنی و رنگ کبھی اپنی اہمیت اور وجود نہیں بدلتے۔ ہمیشہ اپنی جگہ قائم و دائم رہتے ہیں مکسیم گورگی کی ”مدر“

Read more

کتابیں اپنے آباء کی: رضا علی عابدی کا شاہکار

اپنی دل آویز آواز اور فکر انگیز تحریروں کے سبب نصف صدی سے زیادہ عرصے سے لوگوں کی ذہنی، فکری، تہذیبی اور جذباتی تربیت کرنے والے بے مثل صدا کار، صحافی، ادیب، محقق اور سفرنامہ نگار جناب رضا علی عابدی جب بولتے ہیں تو سماعت کے ساتھ ساتھ قرات کا گمان ہوتا ہے اور جب ان کی تحریر پڑھتے ہیں تو وہ خود بولتے سنائی دیتے ہیں۔ اردو میں معدودے چند ادیب ہیں جو نہایت سہل انداز میں گمبھیر بات

Read more

سچی جمہوریت اور تبدیلی کا خواب

ہمارے دور میں جمہوریت روبہ زوال ہے۔ جمہوریت کی عالمی درجہ بندی میں کوالٹی کے اعتبار سے انڈیکس کا رخ نیچے کی طرف ہے۔ حالیہ چند برسوں کے دوران رونما ہونے والے واقعات کی وجہ سے امریکہ جیسا ملک ”خراب جمہوریت“ کی فہرست میں شامل ہے۔ امریکہ کو اس فہرست میں رکھنے کا سہرا صدر ٹرمپ کے سر سجتا ہے۔ ایک اچھی جمہوریت سے خراب جمہوریت تک کا یہ سفر صدر ٹرمپ نے ایک ہی جست میں مکمل کر لیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ جمہوریت کے باب میں پاکستان کو بدستور ہائی برڈ ممالک کی درجہ بندی میں شامل کیا گیا۔

Read more

حسن ظہیر جعفری کی کتاب: منزلیں اور قوس قزح

پاکستان کے صوبہ سندھ کا شہر حیدرآباد اپنی قدیمی حیثیت اور چوڑیوں کی صنعت کے حوالے سے بہت مشہور ہے۔ پاکستان بننے کے بعد حیدرآباد سندھ اردو ادب کا ایک بڑا مرکز بن گیا تھا، حیدرآباد کے تاریخی کل پاکستان مشاعرے اب تک یاد کیے جاتے ہیں۔ اسی حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے جناب حسن ظہیر جعفری جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد حیدرآباد کواپنا مسکن بنایا اور اپنے ادبی شوق ذوق کی بدولت یہاں کی ادبی فضا کے روح

Read more

مطالعۂ تاریخ از مولانا کوثر نیازی

کتاب دوست برادرم کاشف منظور نے محبت کے ساتھ کوثر نیازی کی لگ بھگ 80 صفحات پر مبنی ایک چھوٹی مگر بڑی حقیقت کی ترجمان کتاب ”مطالعہ تاریخ“ بھیجی ہے جسے 1991ء میں جنگ پبلشرز لاہور نے شائع کیا تھا۔ کتاب وصول پا کر میں خود ماضی میں کھو گیا کہ یہ کتاب میں نے آج سے کوئی تینتیس، چونتیس سال پہلے اپنے گریجویشن کے زمانے میں پڑھی تھی۔ یہ کتاب جو اصل میں گورنمنٹ کالج لاہور کی ”مجلس تاریخ“

Read more