پاکستان عہد حاضر میں: ایک اہم کتاب

جب انسان ناداری و بیماری سے نبرد آزما ہو تو تکلیف کے عالم میں آئینہ دیکھنا اسے مزید آزار میں مبتلا کرتا ہے۔ ایسا ہی کچھ حال کتاب ”پاکستان عہد حاضر میں“ پڑھتے ہوئے میرا بھی ہوا۔ فکشن کی کسی کتاب کی دلچسپ کہانی اور کردار آپ کو انگلی پکڑ کے اپنے ساتھ نگر نگر کی سیر کراتے ہیں۔ لیکن اگر کتاب کا موضوع خود اپنی ذات بلکہ نسل در نسل بیتے واقعات سے جڑا ہوا ہو تو اندرون ذات کا

Read more

ارتقائے بشر اور اخلاقیات۔ مصنف:جان ایوری۔ مترجم:اعجاز احمد

تبصرہ: مہ ناز رحمن جان اسکیلز ایوری ایک سائنسدان ہیں اور ابتدائی شہرت انہیں اپنی سائنسی تحقیق کی بنا پر ہی حاصل ہوئی لیکن 1990 کے عشرے کے اوائل سے وہ امن کے لئے کام کرنے والے کارکن کی حیثیت سے فعال ہو گئے۔ اسی لئے وہ سائنس اور اخلاقیات کے باہمی تعلق پر زور دیتے ہیں۔ وہ سائنسدانوں کو ان کی سماجی ذمہ داری کا احساس دلانا چاہتے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسانی سماج کو بہت سے فائدے

Read more

ناول ”کرول گھاٹی“ میری نظر میں

غافر شہزاد نے ”کرول گھاٹی“ میں ایسا انداز متعارف کروایا ہے جو ناول کے عمومی انداز سے قطعی طور پر مختلف ہے۔ اس انداز سے اردو ناول کا قاری ابھی تک واقف نہیں ہے۔ اس لیے غافر شہزاد نے بلاواسطہ اور بالواسطہ دونوں طرح سے ناول کے مختلف تناظر کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ قاری کی دلچسپی اور جڑت برقرار رہے اور وہ اس میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ وہ ناول یا فن پارہ جو

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب ”دا سیکر“ کا ایک جائزہ

دا سیکر ڈاکٹر خالد سہیل کی زندگی کی کہانی ہے۔ آپ بیتی ہے۔ یہ ایک سفر نامہ ہے سچ کی تلاش کا ۔ جب انہوں نے کہا کہ آپ اس کا ریویو لکھیں تو میں سوچ میں پڑ گئی۔ مجھے لکھنا نہیں آتا۔ کتاب کے بارے میں لکھنا تو اور بھی مشکل ہے مگر کچھ تو لکھنا تھا۔ میں نے سوچا میں وہ لکھتی ہوں جو کتاب پڑھ کر مجھے سمجھ میں آیا یا جو میں نے محسوس کیا۔ سیکر

Read more

ہیرو ازم اور میرے ہیروز

پاکستان کے خلاف بھارت کے مذموم عزائم کی کڑیاں عالمی سازش کا حصہ ہیں عالمی صیہونی و دجالی قوتیں بھارت کی پشت پناہی پر ہیں لیکن افواج پاکستان دشمن کے ناپاک ارادوں سے کسی پل بھی بے خبر نہیں پاک فوج ریاست پاکستان کا وہ ادارہ ہے جس نے دشمن کو ہر محاذ پر پسپا کرنے کے لئے لہو کے نذرانے پیش کر کے اس قوم کو جلا بخشی اور یہی وجہ ہے پاک فوج کی بے لوث لازوال قربانیاں

Read more

افسانہ لکھ رہی ہیں

اس وقت حال ہی میں چھپے اردو افسانوں کا مجموعہ ”گونجتی سرگوشیاں“ میرے ہاتھ میں ہے۔ اس افسانوی مجموعے کی انفرادیت یہ ہے کہ تمام افسانے نوجوان خواتین افسانہ نگاروں کے فکر و فن کا شاہکار ہیں۔ اردو زبان میں اس سے قبل بھی ایسی کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ معروف ادیبہ کشور ناہید نے ایک افسانوں پر مشتمل ایک مجموعہ شائع کیا تھا جس کا نام ہے ”خواتین افسانہ نگار“ اس کتاب میں 23 افسانے شامل ہیں، جو سب کے

Read more

ہماری فیمنسٹ ہیروز پر ایک کتاب

برصغیر پاک ہند کے جدید ذہن رکھنے والے مردوں نے ہمیشہ عورتوں کی تعلیم اور ترقی کی حمایت کی ہے۔ تاریخ کی عظیم ترین فیمنسٹ عورتوں کی حیات، نظریات اور تحریکوں کے عالمی مطالعے کے ذریعے نعیم مرزا نے راجا رام موہن رائے، شیخ عبدااللہ اور محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس تشکیل دینے والے مردوں کی روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ اکیسویں صدی کی نئی نسل کو 1364 سے 1933 تک کی تاریخ کی عظیم ترین فیمنسٹ عورتوں سے متعارف کرانا یقیناً

Read more

بند کواڑوں کا ادب

”بند کواڑوں کا ادب“ ایک سو گیارہ صفحات پر مبنی ان چالیس اداریوں پر مشتمل مجموعہ ہے جو شاہین زیدی نے بطور مدیرہ سہ ماہی مجلہ ”نوادر“ میں تحریر کیے ۔ شاہین زیدی ادبی دنیا میں بطور شاعرہ، ناول نگار، افسانہ نویس، مبصرہ، سفرنامہ نگار اور مدیرہ خاص مقام رکھتی ہیں۔ شاہین زیدی نے مجلہ نوادر اپنے سسر ڈاکٹر سید نظیر زیدی کی یاد کو تازہ رکھنے کی خاطر نکالنا شروع کیا اس لیے اکثر اداریوں میں ان کی یادوں

Read more

اب اچھوت بولے گا

ہاکڑہ ادبی فورم سندھ نے سرمایہ داروں کے ہاتھوں چوری ہونے والے گلابی گرینائٹ کے جبل کارونجھر کی ایک خوبصورت پہاڑی پر حال ہی میں سرائیکی زبان میں شائع ہونے والے رفعت عباس کے ناول ”لون دا جیون گھر“ جس کا اردو ترجمہ منور اکاش نے ”نمک کا جیون گھر“ کے عنوان سے کیا اور جسے فکشن ہاؤس لاہور نے چھاپا، کی مہورتی تقریب سندھ کے جادوئی شہر ننگرپارکر میں منعقد کی۔ گرینائٹ کی ایک بڑی گلابی سل پر کارونجھر

Read more

فیض کی محبت میں: اشفاق کا فیض سے بے پناہ عشق

ایک دو ماہ پہلے اشفاق حسین کی کتاب ”فیض کی محبت میں“ کا ذکر سنا اور پھر مارچ کے آغاز میں انہوں نے کتاب بھجوا بھی دی تھی لیکن آپ جانیں مارچ کے مہینے میں ہم خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے مہینہ بھر عورتوں سے متعلق سرگرمیوں میں ہی مصروف رہتے ہیں اور پھر کتاب کی ضخامت نے بھی ڈرا دیا تھا۔ ہمیں اپنی کمزوری کا علم تھا کہ اگر کتاب اٹھا لی تو ختم کیے بغیر نہیں

Read more

دو خلائی پروب وائجر 1 اور وائجر 2 کے تحقیقی سفر

”ایک ہیلو اپنے جواب کے انتظار میں ہے“ جب سے انسان نے شعور کی آنکھ کھولی ہے اس دنیا کی ہر شے اس کے لیے ایک نیا اور انوکھا جہان ہے۔ جہاں پراس کی جستجو کی تلاش کا سفر کبھی حیرت انگیز دریافتوں کی آگاہی دیتا رہا۔ وہاں یہ سوچ بھی ہمراہ رہی کہ اس جہان میں وہ اکیلا نہیں کہیں نہ کہیں زندگی کسی اور جگہ، کسی اور دنیا میں ہوگی۔ اس سوچ اور جذبے کو لے کر اس

Read more

ناول ”کرول گھاٹی“ کا ایک جائزہ

’‘ کرول گھاٹی ”غافر شہزاد کا تازہ ناول ہے۔ غافر شہزاد ایک معروف و منجھے ہوئے لکھاری ہیں۔ جب سے اس ناول کی بابت سنا تھا مجھے یہ تجسس تھا کہ ایک تاریخ قریب میں رونما ہونے والے واقعہ کو جو ابھی لوگوں کے ذہن سے محو نہیں ہوا اور جو میڈیا کا ہاٹ ٹاپک بنا رہا، ایک عرصے تک، مصنف نے اس کو کس طرح تخلیقی قالب میں ڈھالا ہو گا اور ان کے پاس یہ گنجائش کہاں سے

Read more

امر پیرزادو کی کتاب: ”بابا۔ انور پیرزادو“

  ”مجھے کبھی یہ آئیڈیا پسند نہیں آیا کہ اولاد یا والدین اپنے سلیبریٹی یا مشہور شخصیت والدین، یا والدین اپنے سلیبریٹی اولاد کے بارے میں کتاب لکھیں۔ پھر چاہے وہ ارنسٹ ہیمنگوے یا عاصمہ جہانگیر یا فیض احمد فیض یا ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹیاں، یا شیخ ایاز یا رسول بخش پلیجو کے بیٹے ہی کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ ایسا کرنے سے نہ ہی والدین، اور نہ ہی وہ اولاد، جن پر وہ کتاب لکھی جا رہی ہے، کے

Read more

ارشد وحید کا نیا ناول ایک پاور فل کہانی کا حامل ہے

پچھلے پچاس برسوں میں ہماری ذاتی اور معاشرتی زندگیوں میں ایک نئی پیچیدگی آئی ہے۔ اس پیچیدگی سے معاشرے میں تشدد پہلے سے کہیں زیادہ عام اور شدید تر ہوا ہے۔ اس تشدد کی تشہیر جہاد یعنی مذہبی فریضہ کے طور پر کچھ ایسے کی گئی ہے کہ بہت سے لوگ اسے جائز بلکہ ضروری سمجھتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اس تشدد کو ایک بھاری اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ طاقت کا توازن اتنا بگڑ گیا ہے کہ مذہب کی

Read more

"بیمار مسیحا” ایک جائزہ

انسانی جبلتوں میں سے ایک اہم ترین جبلت ”ہنسی“ ہے۔ جب تخلیقی سطح پر اس جبلت کا اظہار کیا جاتا ہے تو مزاحیہ فن پارہ وجود میں آتا ہے۔ اعلیٰ پائے کے مزاح نگار مزاح کی مسرت سے نہ صرف خود لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس میں شریک کرتے ہیں۔ معروف مزاح نگار اسٹیفن لی کاک اپنی کتاب ”Humour and Humanity“ میں مزاح کی تخلیق کے حوالے سے کہتے ہیں : ”مزاح زندگی کی ناہمواریوں کے

Read more

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی: مجھے بھی فیمنسٹ نہ کہو

طاہرہ سے تعارف غائبانہ تو تھا کہ وہ امارات میں اور میں اسلام آباد میں۔ کچھ معاندانہ بھی رہا۔ اندازہ ہوا کہ بریشم کی طرح نرم لہجے والی ڈاکٹر رزم حق و باطل میں فولاد بھی ہے۔ پھر کراچی کی عالمی اردو کانفرنس میں ملاقات ہوئی تو بات اتنی ہی دیر چلی جتنی دیر ابلتی ہوئی کوزہ بھر چائے چلی۔ برادر انور سین رائے مسکراتے ہوئے شکوہ جواب شکوہ سنا کیے۔ میں نے کتاب دیکھی تو اس کے بیک کور

Read more

کچھ تلخ نظموں کی معیت میں۔ ۔ ۔

بہار کی ایک سہ پہر فیض آباد کے ایک ہوٹل میں ذیشان حیدر اور میں بیٹھے تھے۔ مجھے ذیشان نے کسی سلمان حیدر کی ایک نظم سنائی جس کا عنوان آخری رجز تھا۔ اس نظم نے اپنے لکھنے والے کا تعارف مجھ تک پہنچا دیا کہ لکھنے والا خود کو مرنے والوں کے قبیلے سے جوڑتا ہے نہ کہ تلواریں لیے رتھوں پہ قبائیں عبائیں پہنے قبضہ گیروں کے ساتھ۔ شعر میں یوں تو کئی ایک خود کو اسی قبیلے

Read more

نام کتاب: ایران میں کچھ دن، مصنف: محمد علم اللہ

مبصر: عمیر منظر شعبہ اردو، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی لکھنؤ کیمپس۔ لکھنؤ نئے قلم کاروں میں جناب محمد علم اللہ نے بہت جلد لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے۔ ان کی تحریروں کو نہ صرف شوق سے پڑھا جا رہا ہے بلکہ سوشل میڈیا کے توسط سے ان پر رد عمل قلم کار کی مقبولیت ذیل میں دیکھا جا رہا ہے۔ سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ ان کی تحریریں اخبارات و رسائل میں

Read more

ارشد عبدالحمید کا شعری مجموعہ: چراغاں سر خواب

ہمیں تو شمع کے دونوں سرے جلانے ہیں شاعر و ناقد ارشد عبدالحمید کے شعری مجموعہ ’چراغاں سر خواب‘ پر گفتگو سے قبل ضروری ہے کہ کچھ غیر ضروری باتوں پر روشنی ڈالی جائے تاکہ یہ مطلع صاف ہو سکے کہ ناقابل فہم حد تک تجریدی ابہام و علائم کے عہد کمال میں سخن کا نیا در وا کرنا یا شناخت کی نئی راہیں نکالنا کتنا کٹھن مرحلہ تھا۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ ارشد عبد الحمید نے جدیدیت

Read more

امراؤ جان ادا: فکری تناظر میں

مرزا رسوا نے اس ناول کو کسی محدود نقطہ نظر کے تحت نہیں لکھا۔ یہ ناول ایک لحاظ سے اپنے عہد کے لکھنؤ کی تہذیب و معاشرت کی تاریخ ہے۔ اس تاریخ کو واضح کرنے کے لیے اس میں جو کردار دکھائے گئے ہیں ان کے افعال و اعمال سے اس معاشرت کے اوہام و عقائد، میلانات و رجحانات اور افکار و خیال کی آئینہ داری ہوتی ہے۔ چنانچہ کرداروں کے عمل ہی سے سروکار نہیں رکھا گیا بلکہ مصنف

Read more

مونتاژ ( افسانے ) فارحہ ارشد

مقالہ : راشد جاوید احمد آج اردو ادب تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے جہاں ایک طرف نت نئی اصناف وقت کی ضرورت کے تحت پیدا ہو رہی ہیں تو دوسری طرف پہلے سے موجود اصناف میں فنی اور فکری سطح پر انقلابی تبدیلیاں دونوں سطحوں پر ہو رہی ہیں یعنی ادب تخلیق کرنے والے اور ادب پڑھنے والے اس سے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں پوری دنیا میں آئے روز تبدیلیاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں

Read more

عفت نوید کی خود نوشت: دیپ جلتے رہے

دیپ جلتے رہےاور بوتل کے جن والی عفت نوید میرا عفت سے ناطہ پہلی بار اس کی زندگی کے ایک باب کو پڑھنے کے بعد ہی جڑ چکا تھا۔ عنوان تھا "میرانیس کے گھرانے کی سنی بہو"۔ پھر اس کے مزید چھپنے والے مضامین میں اسکی سچائی،  سماجی مسائل پہ گہری نظر اور انسانوں سے بے لوث محبت۔بناوٹ، دکھاوا اور نام و نمود کی طمع سے کوسوں دوری نےبتدریج  مجھے اس کے مزید قریب کر دیا۔یہ بات تو ہوئ دوستی کے حوالے سے۔ اب جبکہ اسکی سوانحعمری  "دیپ جلتے رہے ” کی کتابی صورت میں شائع ہو چکی ہے میں بطور سوشل ورکر ضروری سمجھتی ہوںکہ ذہنی امراض کے حوالے سے کچھ بات کروں۔ گو اس سوانح میں درج سماجی موضوعات کے تنوع کےاعتبار سے یہ عفت کی کتاب کے ساتھ ذیادتی ہوگی لیکن میری نظر میں جو موضوع اس کتاب کو بہت منفردبنا رہا ہے وہ معاشرے میں ذہنی امراض سے آگہی اور شعور کہ جسکا ہمارے معاشرے میں شدید فقدانہے۔ چونکہ ہمارے سماج میں ذہنی امراض معاشرتی تہمت رکھتے ہیں۔ لہٰذا ان امراض کو پہچاننا، قبول کرنااور ان میں مبتلا مریضوں کو اپنانا اکثر ناممکنات کے زمرے میں آتا ہے۔  عفت نے اپنی جیون ساتھی مشہور شاعر اور دانشور احمد نوید سے محبت کی، انکے مرض کو سمجھا ، بساط بھرعلاج میں کوئ کسر نہ رکھی اور زندگی کی تماتر کٹھنائیوں سے نپٹتے ہوۓ بھی اپنی لازوال محبت کے دیپجلاۓ رکھے۔ عفت کی زندگی کی کہانی  پڑھتے ہوۓ   مجھےاپنے بچپن کی کہانی میں پڑھا  بوتل والا وہ جن  یاد  آتا رہا جو اپنے سرکار کے ہر حکم کا تابع دار تھا۔اور "کیا حکم ہے میرے آقا؟” کہتے ہوۓ وہ  ہر ناممکنکام کو ممکن بنا دیتا۔ عفت نے بھی ایسی زندگی بسر کی کہ جہاں اسکی بے غرض محبت، جفاکشی ، انصافپسندی ، جراتمندی اور حس ظرافت بوتل کے جن میں حلول کر کے مشکل کاموں کو ممکن بناتی رہی اورزندگی کے دیپ جلاتی ہی چلی گئی۔ عفت کی ازدواجی زندگی کی تین دھائیوں کی کڑی مسافت ہچکولوں اور دھکوں کے باوجود میر احمد نوید کےسنگ مزے سے گذری ۔کیونکہ بقول عفت "میری خوش نصیبی کہ وہ میرا بہترین دوست ہے۔" عفت کا تعلق خیرپور سے ہے۔ جبھی اسکی بود و باش میں سندھ کی  مٹی کی مٹھاس ، نرمی ، سادگی اورسچائ ہے۔ لیکن انسانوں سے جڑ ے رہنے اور ان کے دکھوں پہ سراپا احتجاج لکھاری ہونا اسکا اپنےوالدین سے ملا ورثہ۔ تاہم کراچی شہر میں عفت اور نوید کی یکجائ میں مشترکہ ادب پروری کا ہاتھ ہے ۔کراچی کے باسی میر احمد نوید،  میر انیس کے گھرانے کے فرزند اور انہی کے نقش قدم پہ چلنے والے باکمالشاعر ۔  احمد نوید کی الفت کی اسیری میں سرشار عفت کو شادی سے پہلے اپنے محبوب کی طبیعت کی وحشتوں کا علمہو چکا تھا۔ "بےتکان بولتے کبھی بولتے بولتے اچانک غصہ میں آجاتے۔ ”  علامت سے ظاہر ہے کہ وہ بائپولر ڈس آرڈر کا شکار تھے جو ایک نفسیاتی عارضہ ہے۔کہ جسمیں مریض کا موڈ کبھی یاسیت تو کبھی منیکحالت میں ہوتاہے۔ لیکن انکے مزاج کے بدلتے موسموں ، یاسیت اور وحشتوں کے دوروں ، نروس بریکڈاؤن، ہائ ڈوز دوائیوں ، انجیکشن اور رعشہ سے کانپتے وجود نے عفت کے شادی کے فیصلہ کو متزلزلنہیں ہونے دیا۔ "ہم نے کہا یہ ایک مرض ہے کوئ برائ نہیں۔” ۔ایک ذہنی مرض میں مبتلا شخص وہ بھیشاعرکو اپنانا یقینا آسان نہ تھا ۔ جبھی توعفت لکھتی ہیں” اچھی اداکاری تماشائیوں کو تالی بجانے پر اکساتیہے۔ زندگی کی حقیقی داستان کے موڑ آسانی سے نہیں کاٹے جاتے ۔ اذیت ، مصیبت بلائیں ہر موڑ پر بکلمارے بیٹھی ہوتی ہیں۔" عفت نےازدواجی زندگی میں محض  گھریلو ذمہ داری ہی نہیں ادا کی ، بلکہ ملازمت کے ساتھ ساتھ بچوں کیپرورش کا فریضہ بھی نبھایا۔ خود احمد نوید نے اسکا اعتراف کیا ہے کہ"اس نے اپنے گھریلو ذمہ داری کوتخلیقی عمل پر ہمیشہ فوقیت دی۔ اگر وہ ایسا نہ کرتی تو ہمارا گھر تباہ ہو جاتا۔ بچے دربدر ہوجاتے اور میںجنون کے ہاتھوں حواس باختہ ہوکر مر جاتا۔” عورت جو تخلیقی ہنر کا منبع ہے کسطرح گھر کی استقامت کےلیے اپنی تخلیقی سیلاب پہ بند باندھتی ہے۔ میں نے مردوں کو اس قسم کی قربانی دیتے نہیں دیکھا۔ اپنی زندگی کے تجربات کا عفت نے ذاتی تکلیف کے چھوٹے کیمرے کی آنکھ سے دیکھنے کے بجاے بڑےسماجی کینوس پہ مشاہدہ کیا۔ اور ان مسائل کا بہت سچائ سے ذکر کیا جن کا غربت سے جھونجتی عوام کوسامنا ہے۔خاص کر غیر تربیت یافتہ دائ کے ہاتھوں بچے کا پیدا ہونا،سرکاری ہسپتال میں زچہ اور بچہ کےوارڈ کی تکلیف دہ تصویر کشی اور ذہنی امراض کے شعبہ میں مریضوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک۔ اپنے زچگی کے تجربہ کی بنیاد پہ انہوں نے ایک سرکاری ہسپتال کے زچہ خانے کو اصطبل سے تشبہہ دیجہاں بکریوں گاۓ بھینسوں کی طرح عورتیں ڈکار رہی تھیں۔ "قیامت کو منظر دیکھنے کے لیے مرنے کیضرورت نہیں۔بس بچہ پیدا ہوتے دیکھ لیجیے۔” ایک ایسے ملک میں جہاں آبادی میں اضافہ بے قابو،  غربتکی شرح شرمناک اور یہ مفروضہ کامل ایمان کہ ہر بچہ اپنا رزق ساتھ لاتا ہے، جسکی نفی میں عفت  لکھتیہیں "۔۔ایسا سنا تو ہے پر مجھ جیسی  ظالم حقیقت پسند کو اسپر یقین بالکل نہیں۔۔۔۔رزق کی فروانی کیوجہ سے امیر حساب نہیں رکھ پاتا اور غریب کا بچہ ماں کا خون چوس کر اسے ذرا چھوٹا کر کے خود ذرا بڑاہو جاتا ہے تو اپنے بہن بھائیوں کے رزق پہ ہاتھ صاف کرنے لگ جاتا ہے"۔ پھر نفسیاتی ہسپتال کے عملہ کے ہاتھوں مریض کا حال بھی لکھا ہے۔"بہت مارا ہے انہوں نے مجھے۔۔۔مجھے ڈھیروں دوائیں دیتے منع کرتا تو مارتے تھے۔پھر جب میں دواؤں کے زیر اثر سو جاتا تو کوئ نہکوئ پاگل مجھے اکثر اٹھا دیتا۔ چلو عفت تم جو کہونگی میں کرونگا۔۔” یہ مریض احمد نوید تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ تین بچوں اور ذہنی مرض میں مبتلا شوہر کے ساتھ زندگی پھولوں کی سیج تھی۔بیماری کی وجہسے  تنگ دستی اور لوگوں کا دوستی سے اجتناب کا سامنا۔تو  کبھی عفت نے خود ترسی کے عالم میں سوچاکہ شاید یہ قدرت کی جانب سے انکی بچپن کی زبان درازی اور ہٹ دھرمی کی سزا ہے ۔ کبھی ان پر انکےاپنے گھر والوں اور بچوں کی جانب سے علیحدگی کا دباؤ تو کبھی احمد نوید کے خود اپنے گھر والوں کی جانبسے طلاق کے  زور کا سامنا تھا۔ مگر ایسے میں عفت کی نظر میں احمد نوید کی ماں کا نفی میں ہلتا سر اورخاموش آنکھوں کی التجا تھی "اسے چھوڑنا مت ۔ اسکا خیال رکھنا"۔ عفت لکھتی ہیں۔” ماں جو پیدا کرنے ، مارنے، رلانے ، ہنسانے، تڑپاُنے اور بھوکا رکھنے پر قدرت رکھتیہے، اسکے بیٹے کو چھوڑ دینے کا مطلب ہوتا ہے کہ ہم اپنی قدرت مٹی میں ملا دیں۔ایک ماں کی قدرت نےدوسری ماں کی قدرت کو جلا بخشی اور معجزہ دکھایا کہ آج ہمارے بچے شجر سایہ دار کی صورت بڑی شان سےزمین پر اپنے قدم جماۓ ہوۓ ہیں"۔ آپ بیتی کا حسن اسکی سچائ میں مضمر ہے۔ مصلحت سے کام لینے سے وہ آپ بیتی کے زمرے سے خارجہوجاتی ہے۔ عفت نے اپنی آپ بیتی کو اپنے حسن بیان اور حس مزاح سے دلچسپ اور رواں ضرور بنایامگر پوری سچائ قلمبند کرنے کی جرات مندی نے اس آپ بیتی کو اہم کتاب کی فہرست میں شامل کردیا ہے پہلے زمانے میں شادی کے موقعہ پہ لوگ بیٹیوں کے جہیز میں بہشتی زیور دیتے تھے  لیکن میں سمجھتی ہوں کہانسانی شعور و آگہی اور بے لوث محبت کا دیپ جلا ۓ رکھنے کے لیے اردو پڑھنے والے ہر فرد کے لیےاس کتاب کو ضرور پڑھنا چاہیے۔  بلکہ ذہنی اور نفسیاتی امراض سے متعلق آگہی کے لیے اسے نصاب کاحصہ ہونا چاہیے۔

Read more

زنگار

صاحبان علم و دانش کے مطابق مطالعہ ایسی عمدہ ترین سرگرمی کا نام ہے جس کے ذریعے نا صرف انسان کے علم میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس کی شخصیت غیر محسوس انداز میں نکھرتی چلی جاتی ہے۔ یہ انسانی فکر کو جلا بخشنے میں اکسیر کا کام کرتا ہے، یہ فہم و ادراک کے نئے در وا کرتا ہے۔ کتاب کو اس لیے رفیق اور دم ساز کہا جاتا ہے کہ یہ ایک سچے دوست کی طرح انسان کی

Read more

یہ ”دعا زاد“ ہے

دعا زاد نسل نو کے قابل قدر اور جدید غزل گو شاعر لطیف ساجد کی پہلی تخلیق ہے۔ لطیف ساجد حافظ آباد سے تعلق رکھتے ہیں اور پاک فوج میں ملازمت اختیار کر رکھی ہے۔ لطیف ساجد نے غم جاناں کے ساتھ ساتھ غم دوراں کو بھی قلمبند کیا ہے اور روز مرہ زندگی کے مسائل کو شاعری میں اجاگر کیا ہے۔ کئی ادبی رسائل میں وقتاً فوقتاً ان کا کلام چھپتا رہتا ہے۔ ان کے بہت سے اشعار کتاب

Read more

نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی تاریخ ”سورج پہ کمند“

چند ماہ قبل محترم حسن جاوید کا فون آیا اور نوید دی کی سورج پہ کمند کی جلد دوم اور جلد سوم شائع ہو گئی ہیں، اس لیے اپنا پوسٹل ایڈریس بھیج دیں، تا کہ مجھے کتابیں براہ راست پہنچ جائیں۔ سورج پہ کمند قیام پاکستان کے بعد بننے والی ترقی پسند طلباء تنظیم ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور بعد ازاں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی جامع تاریخ ہے، جسے برطانیہ میں آباد دو ہر دل عزیز انقلابیوں ڈاکٹر حسن جاوید اور

Read more

کتاب: کاکولیات ۔مصنف: بریگیڈیر صولت رضا(ر)۔

مزاح نگاری آسان کام نہیں، خصوصاً اس وقت جب مزاح کی بنیاد ”فوجی مزاح“ ہو اور خود مزاح نگار کا تعلق افواج پاکستان سے ہو اور اس فوجی مزاح کو عوامی مزاج کے ساتھ نہایت سلیقے سے پیش کیا جائے تو پھر ایک خوشگوار حیرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے اردو ادب کے بہترین مزاح نگاروں میں سے اکثریت کا تعلق پاک افواج سے ہے اور اردو ادب کے میدان ظرافت میں یہ اہل قلم اپنی تمام تر فطری

Read more

:ڈاکٹر سہیل کی سوانح حیات THE SEEKER

ڈاکٹر سہیل ایک ایسی قد آور شخصیت ہیں جن کی کسی تحریر ’کتاب یا تخلیق پر اپنی رائے کا اظہار کرنا اسی طرح مہماتی کرشمہ ہے جس طرح ان کی تحریریں، کتب، اور دیگر تخلیقات بذات خود تخلیقی مہماتی کرشمے ہیں۔ اسی طرح ان کے منفرد انداز تحریر پر رائے لکھنا بھی ایک انوکھا تجرباتی اور تخلیقی معرکہ ہے جس کا احساس مجھے ان کی سوانح عمری۔ دی سیکر۔ پر تبصرہ لکھنے کے شرف سے حاصل ہوا۔ کتاب پڑھنے سے

Read more

مکلی میں مرگ، میری نظر میں

قبروں، مزاروں اور مقبروں سے جڑی زندگی کے رشتے اور عقیدے فکشن کا روپ ہیں۔ جن کو غافر شہزاد نے ”مکلی میں مرگ“ میں ایک نئے اور منفرد انداز سے پیش کیا ہے۔ انھوں نے ایک ایسی زندگی کو متعارف کروایا ہے جو انسان کو مرنے کے بعد اپنے چاہنے والوں اور عقیدت مندوں کے ذہنوں میں ملتی ہے۔ اس سے انسان کی ایک نئی شناخت قائم ہوتی ہے جس کا تعلق بعض اوقات اس کی حقیقی زندگی سے نہیں

Read more

رفعت عباس کا ناول "نمک کا جیون گھر”: دنیا کے لیے امن معاہدہ

دسمبر 2021 میں رفعت عباس کا ناول ”نمک کا جیون گھر“ کے شائع ہونے کے بعد اس دنیا میں دو طرح کے لوگ رہتے ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے ناول ”نمک کا جیون گھر“ پڑھا ہے اور دوسرے وہ جنہوں نے ناول ”نمک کا جیون گھر“ نہیں پڑھا ہے۔ ناول میں موجود لونی شہر اس دنیا کی آخری امید ہے۔ دنیا کو لونی میں بدل کر ہی رہنے لائق بنایا جا سکتا ہے، ورنہ جنگ اور دھرم دنیا کو مزید

Read more

باپسی سدھوا کی کتاب : دیئر لینگوئج آف لو (Their Language of Love)

”دیئر لینگوئج آف لو“ ، باپسی سدھوا کی طویل کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ سدھوا کی پہلی زبان گجراتی ہے، دوسری زبان اردو اور تیسری زبان انگریزی ہے۔ مگر ان کا جملہ ادبی کام انگریزی میں ہے۔ جزیات نگاری، منظر کشی اور احساسات کو الفاظ دینے میں سدھوا ید طولٰی رکھتی ہیں۔ ”دیئر لینگوئج آف لو“ میں آٹھ طویل کہانیاں ہیں۔ جو طوالت کے باوجود اپنے اندر ریڈبیلیٹی کی صفت رکھتی ہیں۔ سدھوا بنیادی طور پر ناول نگار ہیں۔ اس لئے

Read more

رنگوں میں سوچنے والی لڑکی اور گونجتی سرگوشیاں

اب سے کوئی بارہ برس قبل میں نے ”رنگوں میں سوچنے والی لڑکی“ کے عنوان سے ایک افسانہ تحریر کیا۔ رنگوں میں سوچنے والی لڑکی کو تصویروں میں آوازیں اور آوازوں میں تصویریں نظر آتی تھیں۔ اس کا ماننا تھا کہ تیز ہوا کا شور ڈارک بلیک اور بچوں کی ہنسی آف وہائٹ ہوتی ہے۔ اسے لڑکیوں پر فحش جملے کسنے والے مردوں کے آس پاس سرمئی رنگ کے بلبلے پھوٹتے نظر آتے تھے اور وہ بیمار لوگوں کو ان

Read more

روشنی میگزین: سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جنوبی پنجاب کی قابل فخر کاوش

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جنوبی پنجاب نے سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بچوں میں مطالعے کی عادت راسخ کرانے، قومی زبان اردو کی ترویج اور طلباء و طالبات میں کتب بینی اور تحریر نگاری کے ذوق کو اجاگر کرنے کے لیے ’فروغ‘ کے نام سے ایک جامع پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت گزشتہ سال ستمبر میں بچوں کے پہلے ڈیجیٹل میگزین ’روشنی‘ کا اجرا کیا گیا۔ ’روشنی‘ کو پاکستان اور شاید دنیا بھر کے بچوں کے لیے

Read more

بہاول پور میں اجنبی

مظہر اقبال مظہر کی کتاب ‘بہاولپور میں اجنبی’ پڑھی تو اندازہ ہوا کہ مظہر اقبال قصہ گو نہیں ہیں قصہ گر ہیں. کتاب کے ابتدائیہ میں مصنف کی اٹھان کی بھرپور جھلک موجود ہے. . پہلے ساری کتاب الٹ پلٹ کر دیکھی. کتاب کے پسِ ورق اور تعارف و تمہید میں پوری پانچ تصاویر ہیں. ان میں خود مصنف کی ایک بھی نہیں. یعنی اگر آپ مصنف کی صورت دیکھ کر کتاب پڑھنے یا نہ پڑھنے کا فیصلہ کرتے یں

Read more

تاریخ میرپور کے چند گمشدہ اوراق

میرپور شہر ایک قدیم تاریخی شہر تھا جو پچپن سال پہلے دریا جہلم پر بننے والے منگلا ڈیم کے پانیوں میں ڈوب گیا۔ ڈیم بننے کے بعد میرپور شہر اور اس کے نزدیکی دیہات کے علاوہ اندرہل کے سیکڑوں گاؤں بھی ڈیم میں غرق آب ہوئے۔ یہاں بسنے والے ہزاروں خاندان اجڑ گئے۔ اجڑنے والے شہر پھر دوبارہ کہاں اپنی اصلی حالت میں آباد ہوتے ہیں یہی حال میرپور شہر کا بھی ہوا۔ شہر اور قریبی دیہات میں بسنے والے

Read more

کچھ فکری روایات کے بارے میں

جمشید اقبال کی شخصیت پر بات کرنا، گویا سورج کو چراغ دکھلانے والی بات ہے۔ اور خاص طور پر جب بات کرنے والا ہم ایسا کم علم انسان ہو تب تو مشکل اور بڑھ جاتی ہے کہ کیا کہا جائے ایسے شخص کے بارے میں جس کے حلم، علم، فکری شعور، ابلاغ پر عبور، دانشوری، انداز دلبری، اور کسی بھی طرح کے تصنع سے عاری عاجزی و انکساری پر بات کرنے کے لئے کوئی تمثیل ہی نہ بن پائے۔ بس

Read more

ایلک راس کی کتاب "مستقبل کی صنعتیں” کا ایک جائزہ

  ایلک راس ؔ (Alec Ross ) امریکہ میں سیکرٹری آف سٹیٹ ہیلری کلنٹن کا سینئر ایڈوائزر برائے جدت طرازی کام کر رہا تھا، مدت ملازمت کے اس دور میں اس نے مختلف انواع کے اکتالیس ممالک کا سفر کیا اور دنیا کے ہر ہر کونے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے ہونے والی تازہ ترین پیشرفت کا جائزہ لیا۔ ایلکس نے افریقہ کے ان حصوں میں جہاں کوئی بنک نہ تھے وہاں بینکاری کے لوازمات کو پروان چڑھتے

Read more

مطربہ شیخ کا افسانوی مجموعہ: مناط

”مناط“ مطربہ شیخ کے افسانوں کی پہلی کتاب ہے جس میں اکیس مکمل افسانے اور ایک درجن مختصر افسانے شامل ہیں۔ کتاب کا سرورق بہت پر کشش ہے۔ ہلکے زرد رنگ کے پس منظر میں زینے کی علامت اور ایک عورت کا اس کے پہلے زینے پر براجمان ہونا جس کا ایک ہاتھ افق پر سورج کو چھو رہا ہے یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ سورج سے حرارت اور توانائی لے رہی ہے اور وہ دوسرے ہاتھ کو ماتھے

Read more

وقت کے امکانات کا شاعر۔۔۔۔عامر عبداللہ

عامر عبداللہ کی نظمیں (مشمولہ "اجلی کرن کی پگڈنڈی پر”) ان کی تخلیقی صلاحیتوں اور فنی مہارتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔وہ اپنی نظموں میں ایک ایسا دائرہ تشکیل دیتے ہیں جس کا مرکزی نقطہ وقت ہے۔اس دائرے کے ان گنت نقاط ہیں جو اپنے وجود میں کائناتی وسعتوں اور وقت کو اس کے تمام تر امکانات کے ساتھ سمیٹے ہوئے ہیں۔اس دائرے کی متعین حدود کے اندر بیک وقت کئی ذیلی دائرے بنتے اور بکھرتے رہتے ہیں جن سے

Read more

مدفن کی تلاش

میرے دوستوں جیسے استاد ڈاکٹر ظہیر عباس کا پہلا افسانوی مجموعہ ’مدفن کی تلاش‘ عکس پبلیکیشنز سے شائع ہو چکا ہے۔ اس میں کل آٹھ کہانیاں ہیں جن میں ”کردار کا ماتم“ ، ”مدفن کی تلاش“ ، اجنبی شہر میں ”،“ قافلہ ”،“ مزدور منڈی ”،“ ساجو کی ماں کی۔ ”اعمال نامہ“ اور الجھے رشتے شامل ہیں۔ ظہیر عباس موجودہ دور کے فکشن پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ایک اچھے لکھاری کو ایک اچھا

Read more

"جدید ادب کا سیاق” میری نظر میں

”جدید ادب کا سیاق“ ڈاکٹر علمدار حسین بخاری کی مشرقیت پسندی کا ثمر ہے۔ جو 2019ء میں فکشن ہاؤس سے شائع ہوئی۔ بخاری صاحب نے اپنے اس مطالعے میں جدید ادب کے پس منظر میں کارفرما نوآباد کاروں کے عزائم کو دریافت کر کے جدید ادب کی تفہیم کا ایک نیا در وا کیا ہے۔ جس سے قاری کو استفادہ کرنا چاہیے۔ ”جدید ادب کا سیاق“ کا مطالعہ نو آباد کاروں کے طرز فکر اور ان کے استحصالی طریقہ کار

Read more

مدفن کی تلاش

میرے دوستوں جیسے استاد ڈاکٹر ظہیر عباس کا پہلا افسانوی مجموعہ ’مدفن کی تلاش‘ عکس پبلیکیشنز سے شائع ہو چکا ہے۔ اس میں کل آٹھ کہانیاں ہیں جن میں ”کردار کا ماتم“ ، ”مدفن کی تلاش“ ، اجنبی شہر میں ”،“ قافلہ ”،“ مزدور منڈی ”،“ ساجو کی ماں کی۔ ”اعمال نامہ“ اور الجھے رشتے شامل ہیں۔ ظہیر عباس موجودہ دور کے فکشن پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ایک اچھے لکھاری کو ایک اچھا

Read more

یوسف پرواز کا افسانوی مجموعہ بے گھر

میرے نزدیک ادب کی پھلواری میں تخلیق ایک ایسا بیج ہے جس کے پھل سے طرح طرح کے ذائقے چکھنے کو ملتے ہیں اور اس میں خاص بات یہ ہوتی ہے جس کو جس طرح کا پھل اور ذائقہ پسند ہو وہ اسے ہی کھانا پسند کرتا ہے۔ تخلیق کے ان پھلوں اور ذائقوں کی خوشبو دوسوں کے نتھنوں تک پہنچی جاتی ہے۔ یوں قارئین تجسس کے ماحول میں ادب کی خوشگوار آب و ہوا میں سانس لے سکتے ہیں۔

Read more

ریل کی سیٹی

یہ کتاب شاید ایک سفرنامہ ہے، ایک ایسے مسافر کا جو ریل میں بیٹھا کھڑکی سے باہر جھانکتا ہوا مناظر کو پیچھے کی طرف گامزن ہوتا دیکھتا ہے۔ میدانوں، کھیتوں، پہاڑیوں، نہروں، دریاؤں، ریگ زاروں اور آبادیوں میں منزلیں مارتا، ان کے رنگوں کو ذہن کے کینوس پر اتارتا، وہاں بسنے والے لوگوں کی خوشبو کو دل میں بساتا اور پھر صفحات پر نقش کرتا چلا جاتا ہے۔ ریل جب دریا کے کسی پل سے گزرتی ہے تو اس کی

Read more

”حسرت تعمیر“ میری نظر میں

قاری کو جو چیز زیر مطالعہ فن پارے کی سب سے پہلے متاثر کرتی ہے وہ اس کا عنوان ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ فن پارے کا عنوان اچھوتا اور جاذبیت کا حامل ہو تاکہ قاری کی توجہ حاصل کر سکے۔ اگر فن پارے کا عنوان آفاقی شعر سے منتخب کیا گیا ہو تو سونے پر سہاگے کا کام دیتا ہے۔ حسرت تعمیر ”ایک ایسا ناول ہے جس کا عنوان اچھوتا اور منفرد ہے۔ اس کے عنوان کا

Read more

چراغ رخ زیبا، اردو ادب میں گراں قدر اضافہ ہے

تحریر : طارق محمود مرزا۔ سڈنی، آسٹریلیا قریباً دس برس قبل گرما کی ایک شام تھی۔ میں اپنے گھر کے عقبی صحن کی ہری بھری گھاس کے فرش پر کرسی ڈالے، ہاتھ میں خوشبودار چائے کا مگ تھامے سبزہ و گل سے محظوظ ہو رہا تھا کہ میرا موبائل گنگنا اٹھا۔ میں نے اسکرین پر دیکھا تو یہ نمبر میرے احباب کی فہرست میں شامل نہیں تھا۔ یہ پروفیسر ڈاکٹر علی محمد خان تھے جو بتا رہے تھے کہ کسی

Read more

ذکر وزیر آغا، میری نظر میں

اچھے ادیب کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہوتی۔ لیکن اس کے کچھ پہلو (خاص طور پر سماجی) ایسے ہوتے ہیں جو پوشیدہ رہ جاتے ہیں۔ جنہیں دریافت کرنے کے لیے اچھی خاصی تلاش و بسیار کرنا پڑتی ہے۔ یہ کام انتہائی مشکل اور محنت طلب ہوتا ہے۔ اگر ادبی شخصیت ڈاکٹر وزیر آغا جیسی متنوع جہات اور ہمہ گیر ہو تو کام اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسی شخصیت کا سماجی پہلو اس کے ادبی پہلو کی

Read more

مجھے فیمینسٹ نہ کہو: ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی یہ دوسری کتاب ہے جس کا میں نے ابھی مطالعہ کیا ہے۔ ان کی پہلی کتاب ”کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ“ پر میں ایک تاثراتی مضمون رقم کر چکا ہوں۔ زیر نظر کتاب بھی ڈاکٹر صاحبہ کے لکھے ہوئے مضامین یا کالموں کا مجموعہ ہے۔ چونکہ کتاب کا نام ”مجھے فیمینسٹ نہ کہو“ ہے تو ذرا دیکھیں فیمینزم ہے کیا؟ فیمنزم کی کوئی خاص تعریف ممکن نہیں۔ یہ سیاسی، سماجی، نظریاتی اور عورتوں کے بارے

Read more

انتخابِ غزلیاتِ میرؔ ۔ محمد حمید شاہد

ستمبر 2021 میں میرؔ کی برسی کے موقع پر بک کارنر جہلم نے نوید سنائی کہ ایک نیا انتخاب غزلیات میرؔ منظر عام پر آنے کو ہے جس کے مدون محمد حمید شاہد صاحب ہیں۔ پھر جب فیس بک کے ذریعے ہی معلوم ہوا کہ یہ انتخاب شمس الرحمن فاروقی صاحب کی ”شعر شور انگیز“ (بعض اوقات کتابت کی غلطیاں بھی لطیفے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ابھی میں نے انگیز کو انگریز لکھ دیا تھا) کی بنیاد پر کیا گیا

Read more

سُرخ گلاب

محمد الیاس کی کتاب : سرخ گلاب ”سرخ گلاب“ گیارہ افسانوں، کہانیوں اور دو ناولٹ پر مشتمل محمد الیاس کی تازہ ترین کتاب ہے، جس کا سرورق خوبصورت مصوری کے ذریعے عارف علی ٹیپو نے ڈیزائن کیا ہے۔ 224 صفحات پر مشتمل کتاب کھولیں تو ابتدائیہ کچھ یوں آپ کا استقبال کرتا ہے : ”ابتدا میرے اللہ کے نام سے جو بجا طور پر متکبر ہے۔ مگر اس کی زمین پر ان کا کیڑا بھی گردن اکڑائے پھرتا ہے۔ “

Read more

کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ: ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی حقیقت نگاری

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی سے میرا تعارف ” ہم سب” پر ان کے کالموں کے حوالے سے ہوا ۔ یہ کالم ہمارے سماج میں عورت سے روا رکھی جانے والی زیادتیوں اور خواتین کے ذہنی اور طبی مسائل کے بارے میں ہیں اور جس چیز نے میری توجہ ادھر مبذول کی وہ ان کا منفرد اسلوب ہے جس میں افسانوی رنگ نمایاں ہے  انکی کتاب ، ” کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ” میں نے ابھی ابھی پڑھی ہے۔ یہ کتاب

Read more

2021: پسندیدہ 5 کتابیں جو میں نے پڑھیں

2021 میری زندگی میں مشکل ترین سالوں میں سے ایک رہا ہے, غروب ہوتا ہوا سورج بھی کچھ سکھا کے گیا, مشکل یوں تھاکہ  اس سال کے پہلے دن میں  نے خود کو کراچی سول اسپتال میں پایا. لیکن میرا موضوع آج دو ہزار اکیس کے تجربات نہیں بلکہ کتابوں کا ایک معمولی عاشق ہونے کے ناطے اپنے اس سال پڑھی گئی 5 کتابوں پر مختصراً بات کرنا ہے . اول اول میں نے دس کتابیں چن لی تھی لیکن طوالت کی

Read more

عفرا بخاری اور سنگ سیاہ کے افسانے

دسمبر کی چھٹیوں سے غالباً ایک یا دو دن پہلے زمیندار کالج گجرات کی پارکنگ میں میری ملاقات احمد عطا سے ہوئی۔ احمد عطا نے ایک کتاب مجھے دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے دوست عامر فراز کی والدہ کا افسانوی مجموعہ ”سنگ سیاہ“ ہے۔ سرورق پر کتاب کے نام کے نیچے بنی تین تصویروں کو میں نے بغور دیکھتے ہوئے کہا کتاب کے نام کی مناسبت سے ٹائٹل پر سیاہ پس منظر میں بنے یہ تین نسائی چہرے

Read more

اکرام اللہ کا ناول ”گرگ شب“: نفسیاتی و فنی مطالعہ

سب سے پہلے ہم نفسیات و فن پر مختصر بات کریں گے، نفسیات انگریزی لفظ (Psycholgy) کا ترجمہ ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کی روح کے بارے میں علم، گو عام طور پر نفسیات کو جدید ترین علوم میں شمار کیا جاتا ہے مگر ایسا نہیں کیونکہ نفسیات، خود انسان جتنی ہی قدیم ہے۔ آج کی مانند قدیم زمانہ کا انسان بھی اعصابی الجھنوں، دماغی خلل اور شخصیت کے بحران کا شکار تھا۔ انسانی تاریخ کے ہر

Read more

فرید الدین عطار کی مثنوی ’‘ منطق الطیر ”کے بارے میں

ایران کے شہر نیشاپور پر چنگیز خان کے حملے کے دوران ایک شخص کو گرفتار کیا گیا۔ جلد ہی کسی نے، اس شخص کو پہچان کر، اس شخص کو گرفتار کرنے والے منگول سپاہیوں کو اس شخص کی رہائی کے بدلے بطور تاوان ایک ہزار چاندی کے سکوں کی پیشکش کی۔ اس شخص نے بڑی بے اعتنائی سے سپاہیوں کو متنبہ کیا کہ اس کو اس قیمت پر نہ بیچا جائے، کیونکہ وہ اس قیمت سے کہیں زیادہ گراں ہے۔

Read more

عشق وہ کار مسلسل ہے… راشد رحمن کی جدوجہد

دسمبر کے آغاز میں سیالکوٹ میں پریانتھا کمارا کے ہجوم کے ہاتھوں قتل نے پوری قوم کو ہلا کے رکھ دیا اور دسمبر کے اواخر میں راشد رحمن کے بارے میں توصیف احمد خان کی لکھی ہوئی کتاب میرے سامنے آئی تو مجھے یوں لگا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب توہین مذہب کے نام پر جھوٹے الزامات لگانے اور اور اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ مجھے نہیں معلوم آج

Read more

ہاروکی موراکامی کا ناول: Norwegian Wood

جدید فکشن نگاری میں ہاروکی موراکامی ایک بڑا نام ہے۔ وہ جاپانی ادب کے نمایاں لکھاریوں میں سے ہیں۔  ‘نارویجین ووڈ’ ہاروکی موراکامی کا کثیر الاشاعت ناول ہے۔ اس کا پچاس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور اردو میں اس کا ترجمہ ڈاکٹر عبد القیوم نے عمدگی سے کیا ہے۔ اردو ترجمے والی جلد میں نارویجین ووڈ کا ٹائٹل ‘نغمٔہ مرگ’ ہے۔ یہ ناول جنگِ عظیم دوئم میں امریکہ سے جاپان کی شکست کے بعد جاپان میں

Read more

جب انڈیا جاتے ہوئے نورجہاں کو چلتے جہاز سے اتار لیا گیا تھا

(نورجہاں کی اکیسویں برسی کے موقع پر ان کے دو رۂ ہندوستان کی یادیں ) 9 فروری 1982 کی دوپہر کو پاکستان ائر لائنز کی فلائٹ پی کے 276 کا بھارت میں جتنا انتظار تھا، اتنا کبھی نہیں ہوا تھا۔ اور اتفاق یہ تھا کہ جو فلائٹ صبح ساڑھے دس بجے بمبئی (جو آج ممبئی ہے ) پہنچنا تھی وہ اس روز لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے پہنچی۔ اس جہاز کا انتظار سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگ کر رہے تھے۔

Read more

رحیم گل کا ناول: جنت کی تلاش

اسّی کی دہائی میں جب رحیم گل کا ناول ‘ ‘ جنت کی تلاش” منصہ شہود میں آیا تو میں نے اسے دو دفعہ خریدا اور دونوں دفعہ یہ ناول چوری ہو گیا اور یہ ناول اس قابل تھا کہ اسے چوری کر لیا جائے۔میں جب جب بھی ناول کھولتا اس میں کسی انگریز لگتے والے شخص کی تصویر ہوتی تو یقین ہی نہ آتا کہ یہ رحیم گل ہو سکتا ہے اس کی وجہ اس کا انتساب تھا ۔

Read more

مریم مجید ڈار کے افسانے: سوچ زار

shabgazeeda@gmail.com  مریم مجید ڈار کے افسانے انٹر نیٹ کی وساطت سے مختلف فورمز میں پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ افسانوں کے مواد اور زبان نے مجھے متوجہ کیا اورایک دو افسانے میں نے اپنے ای میگزین ” پینسلپس میگزین” میں بھی شائع کئے(۔بغیر اجازت کے ۔جس کے لیے معذرت) پھر خبر ملی کہ مریم صاحبہ کے افسانوں کا مجموعہ بھی شائع ہو چکا ہے تو میں نے  ” سوچ زار” حاصل کیا۔ ہمارے معاشرے میں گھٹن کے اسباب کیا ہیں،

Read more

سلمان اختر: ڈاکٹر، شاعر اور دانشور

میں ایک شام امریکہ میں دو بھائیوں سے ملا۔ دونوں نہایت عمدہ شاعر ہیں لیکن ایک جتنا معروف ہے دوسرا اتنا ہی غیر معروف۔ معروف فلمی دنیا کا جاوید اختر اور غیر معروف ماہر نفسیات سلمان اختر۔ چند روز پیشتر جب میں سلمان اختر کے مجموعہ کلام۔ دوسرا گھر۔ کا مطالعہ کر رہا تھا اور محظوظ و مسحور ہو رہا تھا تو سوچ رہا تھا کہ اردو کے بہت سے شاعر یا تو رومانوی شاعری کرتے ہیں یا سیاسی شاعری لیکن

Read more

پروفیسر ڈاکٹر سیّد اسلم  کی کتاب: عافیت

ایک روایت کے مطابق شاہ عبداللطیف بھٹائی نے مشہور ہم عصر شاعر عبدالرحیم گرہوڑی سے منظوم سوال کیا: ” بلا وہ کیا ہے جو سب سے ہے خوب۔“ انہوں نے جواب دیا: ”ایک تن کی درستی دوسرے جوار محبوب!“ (ترجمہ ”قلم بخود“) یہ بات اور ہے کہ کئی لوگ اس بیت کو مکمل طور پر شاہ عبداللطیف بھٹائی کا ہی سمجھتے ہیں۔ اسی طرح مرزا قربان علی سالک بیگ بھی تندرستی کے گن گاتے دکھائی دیتے ہیں لیکن وہ تندرستی

Read more

لبنیٰ طاہر کا افسانوی مجموعہ: قرطاسِ اسود

افسانہ لکھنا، کہانی بننا ایک فن ہے۔ اکثر و بیشتر قلمکار خامہ فرسائی کے لیے ایسے کردار یا کہانیاں چنتے ہیں جو عام روش سے ہٹ کر ہوتے ہیں۔ جن کا انوکھا پن پہلی نظر میں ہی دل کھینچ لیتا ہے اور قاری اس کہانی کے ان دیکھے جہان میں ایک سیاح کی مانند ان چھوئے حالات و واقعات کی خوشبو سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ زندگی کے نئے رخ دیکھتا ہے اور ان پر غور کرتا ہے لیکن اس

Read more

ٹوٹی ہوئی دیوار” سے "کھوئے ہوئے صفحات” تک”

کھوئے ہوئے صفحات ڈاکٹر بلند اقبال کی تازہ ترین تخلیق ہے۔ یہ ایک شہکار ناول ہے، جو ایک جرمن عورت کی کہانی بیان کرتا ہے، جو نازی جرمنی کے مظالم کا شکار ہو کر پاکستان میں پناہ گزین ہونے پر مجبور ہوتی ہے۔ لیکن یہ صرف ایک عورت کی آپ بیتی ہی نہیں ہے، بلکہ ایک پورے زمانے کی کہانی ہے، جس میں کروڑوں لوگ رنگ، نسل، عقیدے اور دیگر تعصبات کا شکار ہوئے۔ یہ کہانی آج بھی جاری ہے۔

Read more

لطافت علی صدیقی کی کتاب: ہزاروں انکشافات

لطافت علی صدیقی کی کتاب  ’ہزاروں انکشافات‘  کا ذیلی عنوان ہے، سازشیں، سیاہ راتیں، قاتل و مقتول کی داستانیں۔ لطافت علی صدیقی کا تعلق منہاج برنا اور نثار عثمانی کے قافلے یعنی بقول احفاظ صحافیوں کی اس کھیپ سے ہے جو درد مند دل اور صاف ہاتھ رکھتے ہیں اور اپنے پیشیکی حرمت کا بھی احساس رکھتے ہیں۔ ا ب وہ کینیڈا کی شہریت اختیار کر چکے ہیں۔ کورونا نے دنیا میں جتنی بھی تباہی مچائی ہو لیکن لاک ڈاؤن

Read more

جیم عباسی کی کتاب: "زرد ہتھیلی اور دوسری کہانیاں”

طویل آمرانہ دور میں جب نظام شریعت کے نفاذ کا غوغا ہماری زیادہ تر آبادی کے ذہنوں پر محیط تھا، سکولوں میں پڑھائی جانے والی عربی زبان کی کلاسوں میں طالب علموں پر ہونے والے دہشت ناک مظالم کا میں عینی شاہد اور غازی (سروائیور) بھی ہوں۔ بعد میں ناظرہ پڑھنے کے لیے مدرسے جانے کی روایت بھی مجھ پر بیتی ہے جہاں حافظ یا عالم بنتے ہوئے طالب علموں کی مدرسی زندگی کو نسبتاً قریب سے دیکھنے کا موقع

Read more

نبیل قریشی کی ”کھیل کھیل میں“ ، مستنصر حسین تارڑ صاحب کی ”راکھ“ اور تاریخ پاکستان

’میں تمہیں موٹی عقل کا مالک اس لئے کہتا ہوں کہ تم بنیادی طور پر ایک ذہین انسان ہونے کے باوجود تاریخ کا شعور نہیں رکھتے۔ تم نتیجہ اخذ نہیں کر سکتے۔ ایک وہ تاریخ ہے جو تمہیں نرسری سے پی ایچ ڈی تک پڑھائی جاتی ہے اور ایک ادھر دوسری تاریخ ہے جس کے بارے میں تمہیں لاعلم رکھا جاتا ہے۔ تم اسے جان نہیں سکتے، اس کا ذکر نہیں کر سکتے۔ اگر کرو گے تو پوری اسٹیبلشمنٹ کمر

Read more

عقل اپنی بھی ایڑی میں ہے

شروع کرتا ہوں اس کا نام لیے بغیر جس کی ذات اپنی فردی پہچان، خودمختاری، اور بغیر کسی امتیاز کے سماج میں اپنے مقام کا حق لینے کی جد و جہد میں مصروف ہے۔ جی بالکل میرا اشارہ اس ذات کی طرف ہے تمام گالیاں، تقریباً لطیفہ اور اکثر خطبات جس کی ذات سے منسوب کیے گئے ہیں۔ ہم سب ڈاٹ کام ٹیم کی دریافت کی گئی ایک اور بری عورت کی اچھی باتوں کا تذکرہ آگے چل کر کرتے

Read more

سیکس اور سماج: سعید ابراہیم

سیکس اور سماج۔ یہ نہایت ضروری کتاب میں نے ابھی ابھی مطالعہ کی ہے۔ اس کتاب کے مصنف سعید ابراہیم ہیں جو نیشنل کالج آف آرٹس اور دیگر کئی ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں سے منسلک رہے۔ کچھ عرصہ جنگ گروپ میں بطور آرٹ ڈائرکٹر بھی کام کرتے رہے اور مسرت کی بات یہ ہے کہ میری جنم بھومی، گوجرانوالہ کے فرزند ہیں۔ کتاب کے نام کے نیچے باریک فونٹ میں لکھا ہے ”مکالمہ ضروری ہے“ اور شاید یہی وجہ کہ محترم سعید

Read more

مناط ( افسانوی مجموعہ )۔

بعض اوقات زندگی کے بکھیڑوں سے ضروری اور من پسند کاموں کے لیے وقت نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک بک ریڈر کا خواب پر آسائش کمرہ ہرگز نہیں ہوتا۔ وہ تنہائی اور سکون کے چند لمحات کا آرزو مند ہوتا ہے تاکہ کوئی تیسرا اس کے اور کتاب کے درمیان مخل نہ ہو۔ راحت میں جو حائل ہو وہ راہ کا کانٹا ہے۔ ہماری طرف کچھ دن سے ایک کانٹا نہیں بلکہ کانٹوں کی طویل قطار لگی تھی۔ اس

Read more

میتھیو محسن کا شعری مجموعہ ”خزاں کی محبت“

فنون لطیفہ روز اول سے تاحال انسان کو متاثر کرتے آرہے ہیں اور جب تک دنیا قائم و دائم ہے تخلیق کا عمل بھی نسل در نسل ظہور پذیر ہوتا رہے گا۔ بلاشبہ اصناف ادب میں غزل نے اردو شاعری کو فکری تنوع اور حیات نو بخشی ہے۔ اگر غزل کو اردو شاعری کی جان کہا جائے تو غزل کی اہمیت مطالعاتی تجسس کو بڑھا دے گی۔ ویسے اگر غزل کے حقیقی اور بنیادی موضوع کو زیر بحث لایا جائے

Read more

بوم بسیرا: کتابوں کی باتیں

بوم بسیرا۔ ایک نوجوان کی ہوشربا داستان جو امریکا جا کر گھر کی واپسی کا راستہ بھول گیا۔ آپ کس قسم کی کتاب پڑھنے جا رہے ہیں، اس کا اندازہ آپ کو درج ذیل سطور سے ہو جائے گا: ”اس ناول کے آغاز میں ہی روداد نویس اعتراف کرتا ہے کہ کہانی کے تمام کردار فرضی اور قصہ گو کے خراب دماغ کی اختراع ہیں اور عام زندگی کے چلتے پھرتے لوگوں سے ان کی مطابقت محض اتفاقیہ ہے۔ تصوراتی

Read more

یوسف پرواز کا شعری مجموعہ ”نقد دل“

شاعری حساس اور دل موہ لینے والا عرش بریں کا وہ عظیم تحفہ ہے، جس کا دروازہ ان لوگوں پر کھلتا ہے جو اپنے افکار و نظریات اور قلبی احساس کو ادب کی پھلواری میں اس طرح سے جاتے سجاتے جیسے ایک باغبان اپنے گلشن کو خوبصورت بنا تا ہے اسی طرح جو شاعری یا فن پارہ اپنے ماحول اور معاشرے کی آب و ہوا خوشگوار نہ بنائے وہ اپنے فکری اور فنی محاسن کی لاج بھی نہیں رکھ سکتی۔

Read more

وفا کا راہی

*جو نگاہ خرد میں ہوں انمول ایسے موتی محیط دل سے اچھال میرے نزدیک شاعری کیا ہے حسن الفاظ اور حسن خیال گذرتا وقت جہاں انسانی زندگی میں بدلاؤ لاتا ہے وہاں شعر و ادب بھی نئے سانچوں میں ڈھلتے ہیں۔ یہی سب اردو شاعری کے ساتھ بھی پیش آیا۔ روایات کی زنجیروں میں جکڑی اردو شاعری آہستہ آہستہ بغاوت و انقلاب کے پھریرے اڑانے لگی ہے جکڑ بندیوں سے آزاد ہو کر آزادی کی راہوں پر چل نکلی ہے۔

Read more

پری زاد: ایک خبطی کی تخلیق؟

زندگی تقریباً تمام بڑے فلاسفرز کی نظر میں اذیت کی حیثیت رکھتی ہے۔ میرے لحاظ سے زندگی مجموعی طور پر اپنے پھٹے ہوئے لباس کے ساتھ اب کھل کر ہمارے سامنے آ چکی ہے۔ ہمیں اس کا کیسے سامنا کرنا ہے یہ ابھی طے ہونا باقی ہے۔ مگر یہ طے ہو چکا ہے کہ اس کے پھٹے ہوئے لباس سے اخلاقی اور معاشرتی تعفن کو کیسے ڈھانپا جا سکتا ہے۔ یوٹوپین ادب، فینٹسی، سائنس فکشن اور دیگر ایسی تکنیک کا

Read more

گمشدہ سمندر کی آواز

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے شاعر منیر مومن صاحب کی بلوچی نظموں کا اردو میں ترجمہ کر کے احسان اصغر نے واقعی نظم کے قارئین پر احسان کیا ہے کہ احساس کی اس درجہ نزاکت اور مشاہدے کی اس درجہ باریک بینی سے بنی نظمیں ہر ایک پر کہاں اترتی ہیں اور ہر پڑھنے والے کو باآسانی دستیاب کب ہوتی ہیں! منیر مومن کی آنکھ سے نتھری دنیا کو احسان نے جس شفافیت سے ہم تک پہنچانے کی سعی کی

Read more

بارش بھرا تھیلا (نظمیں)۔

شاعر مسعود قمر مقالہ نگار۔ راشد جاوید احمد آج سے ساتھ ستر برس پہلے اردو نظم کی جو روایت ظاہر ہوئی اس میں نمایاں نام ن۔ م۔ راشد، میرا جی اور مجید امجد کے تھے۔ ان کی نظموں کا موضوع انسان تھا جس کی پہچان اس کے خارجی حوالوں میں موجود تھی۔ اس دور کی نظم میں انسان کی شناخت کا گہرا احساس موجود ہے۔ گزشتہ چالیس پچاس برسوں کی نظم فکری اعتبار سے وجودی فلسفے سے متاثر رہی ہے۔

Read more

جیم ف غوری کا شعری مجموعہ: ستارہ ندی اور میں

میرے لیے یہ بڑے استحقاق کی بات ہے، کہ مجھے جیم ف غوری کی کتاب ”ستارہ ندی اور میں“ کے متعلق لکھنے کا شرف ہوا تاکہ میں ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا جوہر قلمی اور قلبی تاثرات کی روشنی میں بیان کر سکوں۔ یقیناً کسی بھی ادیب یا شاعر کے متعلق کچھ لکھنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس کے فن و شخصیت سے واقفیت ہو، تاکہ الفاظ کی مجسمہ سازی کرتے ہوئے اس کی شخصیت کا نمایاں عکس بنے۔

Read more

موت سے جنم لیتی کہانی۔ دشت امکاں

کہانی ایک خاتون کی اپنے مرحوم شوہر کی زندگی کی روداد سے شروع ہوتی ہے اور زمان و مکاں سے بہت دور کرداروں کے سہارے چلتی ہوئی صحرا کی ریت کے ذروں میں کہیں جا سوتی ہے۔ کہانی ختم ہونے کے بعد بہت دیر آپ کہانی سنانے والی کے بیان سے جنم لینے والے پہلے مکالمے کو یاد کرتے ہیں جو آہستہ آہستہ کئی مکالموں کو جنم دیتا ہے۔ مرحوم شوہر بہت بڑے مؤرخ تھے، ان کا نام جو بھی

Read more

قلعہ جنگی: سات نوجوان، سات کہانیاں

میری ذاتی کم علمی سمجھ لیجیے کہ پڑھنے سے قبل میں نے مستنصر حسین تارڑ کے ناول قلعہ جنگی کا کہیں ذکر نہیں سنا تھا۔ گزشتہ برس تارڑ صاحب کی سالگرہ پر سنگ میل پبلشرز نے 25% کی رعایت کا اعلان کیا تو کچھ کتب منگوائیں، زیر نظر ناول قلعہ جنگی بھی اس میں شامل تھا۔ تارڑ کو زیادہ تر سفر نامہ نگاری کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے، جو کہ بلا شبہ ایک جائز وابستگی ہے۔ لیکن راکھ اور

Read more

مسافر۔ اک جہان حیرت

زندگی حرکت سے عبارت ہے اور سفر زندگی کا استعارہ ہے۔ سفر اپنے اندر کا ہو یا بیرون کا، مسافر پر حیرت کے در وا کرتا ہے۔ تین سو چھتیس صفحات کو محیط ”مسافر“ کے تجربات بھی پڑھنے والے کو جا بہ جا حیران کرتے ہیں۔ دیکھے ہوئے مناظر کے ان دیکھے پہلو دکھاتے ہیں۔ یوم الست جب بھی طلوع ہوا تھا، اسی وقت سے انسان سفر میں ہے یا شاید اس سے بھی پہلے کا سفر نصیب۔ اس کی

Read more

شبنم گل اور خواب نگر (کتاب پر تبصرہ)۔

شبنم گل کا کردار، کام، تحریر، مزاج لب و لہجہ، شخصیت اور حتی کہ اس کا نام ایک دوسرے سے مربوط ہیں، شبنم کی تحریر کانوں کو دکھائی اور آنکھوں کو سنائی دیتی ہے۔ اس کی تحریر میں چوڑیوں کی جھنکار، پرندوں کی چہچہاہٹ، ہوا کا شور، پتوں کی سرسراہٹ، بارش کی چھم چھم بچوں کی ہنسی، لڑکیوں کی سرگوشیوں کی آوازیں مدھم موسیقی کی طرح کانوں میں رس گھولتی ہیں۔ شبنم کی تحریر ایک گداز احساس کا نام ہے۔

Read more

وحید احمد کی شاعری : ”پریاں اترتی ہیں“

وحید احمد کی شاعری متنوع خیالات و موضوعات کی شاعری ہے۔ وہ بنیادی طور پر نظم کے شاعر ہیں۔ ”پریاں اترتی ہیں“ تیس نظموں پر مشتمل ان کی چوتھی کتاب ہے۔ اس سے قبل ان کی منظوم شاعری کی جو شاہکار کتب منظر عام پر آئیں ان میں : ”شفافایاں“ ”ہم آگ چراتے ہیں“ اور ”نظم نامہ“ شامل ہیں پریاں اترتی ہیں ”پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ شاعر کے اندر ایک متجسس اور بے قرار روح بستی ہے جو

Read more

تذکرہ مہ و سال

گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ساہیوال ایک ایسا تاریخی دانش کدہ ہے جس نے نا جانے کتنے ذہنوں کی فکری سماجی اور اخلاقی آبیاری کی ہے۔ اس کی فضاوٴں میں عجب ترنم ہے جو اس سے محبت کرنے والوں کو محسوس ہوتا ہے۔ اس سے منسوب ہر فرد اس کا طالب علم ہونے پہ فخر کرتا ہے۔ یہ ایسا ادارہ ہے جو ہر نئے آنے والے کو اپنی پہچان بنانے کا جذبہ دیتا ہے۔ یا پھر شاید صرف ان کو جو

Read more

مناط ( افسانے )۔

افسانہ نگار۔ مطربہ شیخ مقالہ :: راشد جاوید احمد اردو افسانہ اپنی پیدائش سے اب تک نت نئے تجربات کی زد میں رہا ہے اور اس کی پہچان اور وسعت میں روز افزوں اضافہ ہی ہوتا رہا ہے۔ ترقی پسند تحریک سے جدید دور تک اور پھر آج بھی افسانے میں کئی تجربات ہو رہے ہیں۔ فکشن نگار اپنے زمانے کے حالات، مسائل، موضوع، تکنیک، اسلوب، کردار، زبان اور بیان، میں تجربات کرتے آئے ہیں اور اس لحاظ سے مختلف

Read more

میرا کتابی شوق کا سفر

یہ تحریر میں نے اپنے کتابی شوق کے نام پر لکھی ہے اور اس تحریر میں میں نے اپنے کتابی شوق کو بیان کیا ہے۔ میں نے آج 50 ویں کتاب کو پڑھ کر پورا کیا اور اس کتاب پڑھنے کے مشغلے کے لیے کتابی شوق پر تحریر لکھی ہے، اور اپنے کتابی شوق کو اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ کتابیات (bibliophilism) کتابوں سے محبت ہے، اور bibliophile یا bookworm وہ فرد ہے جو کتابوں سے

Read more

یخ بستہ دہلیز پر دستک

”یخ بستہ دہلیز“ شاعر و محقق، ڈرامہ نگار اور افسانہ نگار ڈاکٹر سید زبیر شاہ کا دوسرا افسانوی مجموعہ ہے۔ ان کے پہلے افسانوی مجموعے ”خوف کے کتبے“ کا مطالعہ کر چکا ہوں موضوعات کے لحاظ سے یہ اس کی دوسری کڑی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو یہ کریڈیٹ دینا پڑے گا کہ انھوں نے موضوعات اپنے ارد گرد سے چنے اور معاشرے کی بیماریاں نہ صرف ایک ماہر نباض کی طرح تشخیص کیں بلکہ ان کو اپنی کہانیوں میں دلکشی

Read more

نسل کشی کے موضوع پر اردو کا ایک کامیاب ناول: کھوئے ہوئے صفحات

میں ڈاکٹر بلند اقبال کو ’جو ادیب بھی ہیں‘ طبیب بھی ہیں اور بہت سوں کے حبیب بھی ہیں ’اردو کا ایک کامیاب ناول لکھنے کی مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ڈیڑھ سال کی کرونا وبا کی پابندیوں اور جکڑ بندیوں کے بعد جب ڈاکٹر بلند اقبال سے مسی ساگا کے بوسٹن پیزا رسٹوڑانٹ میں ڈنر پر ملاقات ہوئی تو میں بہت خوش ہوا کہ چلو زندگی نے دوبارہ نارمل ادبی محفلوں کی طرف قدم بڑھانا شروع کیا ہے۔ مجھے

Read more

گینجی کی کہانی: قدیم روایت کا جدید آہنگ

بعض ناقدین ادب ہست افسانہ کو جواز فراہم کرنے کے لیے ناول کی معدومیت کا راگ الاپنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ممکن ہے کہ قارئین ادب میں ایک تعداد ان کی ہم نوا اور ہم خیال ہو لیکن اس نقطہ نظر پر اگر ہم غیر جذباتی انداز میں سوچیں تو یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ مذکورہ بالا رائے سے جزوی اتفاق تو کیا جا سکتا ہے مگر اسے کلی طور پر قبول کرنے سے کئی پیچیدہ سوالات جنم

Read more

صبح بخیر زندگی!

میں جس بستی میں رہتا ہوں، اس کے گردا گرد گنجان آباد محلے ہیں اور ان محلوں میں جا بہ جا مساجد۔ آپ جانتے ہیں کہ لوئر مڈل کلاس آبادیوں کی مساجد میں لاؤڈ سپیکر کا استعمال بے دریغ ہوا کرتا ہے۔ چندا مانگنے سے لے کر مذہبی تہواروں کی رسومات تک، سبھی لاؤڈ سپیکر پر طے پاتی ہیں۔ ایک آدھ مسجد میں تو کبھی یہ اعلان بھی سننے کو ملتا ہے کہ جماعت کھڑی ہونے میں دو تین منٹ

Read more

سات عادات اور دوسری پر اثر کتابیں

پچھلی تحریر میں میں نے ان دس کتابوں کے نام لکھے تھے جو میں نے اپنے دوست مبین کو پڑھنے کے لیے تجویز کی تھیں۔ آج میں بتاؤں گا کہ میں نے ان کتابوں کا انتخاب کیسے کیا۔ The 7 Habits of Highly Effective People by Stephen R. Covey اس کتاب کو منتخب کرنے میں میرا کوئی کمال نہیں۔ یہ تو بس اس دن میری ٹیبل پر موجود تھی جب مبین نے مجھ سے پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا

Read more

دس کتابوں کا قصہ

مبین سے میری دوستی یونیورسٹی کے زمانے میں ہوئی۔ مگر میں اسے کالج کے وقت سے جانتا تھا۔ ہم دونوں کا تعلق ایک ہی شہر سے تھا۔ انجینئرنگ اور اس کے بعد کئی ہوسٹلوں میں ہم ساتھ رہے۔ سو ہماری رہائش، کھانا پینا اور آنا جانا ایک ساتھ تھا۔ یوں ہماری دوستی زیادہ گہری اور بے تکلف ہو گئی۔ کہیں جاتے ہوئے کتابوں کے اسٹور دیکھ کر میں اکثر غائب ہو جاتا۔ مبین سمیت میری یہ عادت میرے دوسرے دوستوں

Read more

لنڈی کوتل کی لالٹین اور پولیس مقابلے

ہماری پہلی ملاقات کب ہوئی ٹھیک سے یاد نہیں لیکن اتنا پتہ ہے کہ سجاد اظہرسے تفصیلی تعارف عامر رانا کے ساتھ نشستوں کے دوران ہوا ۔ سجاد مختلف قومی اخبارات کے ساتھ منسلک رہے ہیں۔ تجزیات نامی تحقیقی مجلے کی ادارت بھی کرچکے ہیں۔ ایک عرصہ امریکہ میں بھی رہے مگروہاں بھی دل نہ لگا تو وطن واپس لوٹ آئے۔ صاحب مطالعہ وتجربہ ہونے کے باعث ان سے جب بھی ملاقات ہوئی ہمیشہ سیکھنے کو ملا۔ ہم سال 2014-15

Read more

”آئینہ سی زندگی“ ۔ رومی اور شمس تبریز کے بارے میں ایک خوبصورت ناول

رومی کا یہ شعر ان کی معرکہ آرا مثنوی کے ابتدائی اشعار میں سے ہے۔ یوں رومی کی ساری شاعری اپنی اصل سے وصل کی تمنا معلوم ہوتی ہے اور اسی تمنا کی بازگشت ربی سنکربل کے اس ناول میں سنائی دیتی ہے۔ عظیم صوفی اور عالم بے بدل مولانا جلال الدین رومی کی سات سو سال قدیم اس مثنوی کی شہرت دنیا کے کونے کونے میں ہے۔ مولانا جلال الدین رومی کی حیات کے گرد بنے گئے اس ناول میں حقیقت اور فسانے کی کئی پرتیں نظر آتی ہیں۔ ناول کے واقعات کہیں مولانا کی زندگی سے اور کہیں ان کی حکایتوں سے اخذ کیے گئے ہیں اور یوں آپ کو ایک ایسی دنیا میں لے جاتے ہیں جو حقیقت بھی ہے اور حکایت بھی۔

Read more

کہانی کا آخری کنارہ ۔۔۔۔ منزہ احتشام گوندل

” کہانی کا آخری کنارہ“ منزہ احتشام گوندل کے افسانوں کا دوسرا مجموعہ ہے۔ اس سے پیشتر ان کے افسانوں کا مجموعہ ”آئینہ گر“ شائع ہوا جس پر اپنے تاثرات رقم کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا کہ منزہ اپنے ہم عصر افسانہ نگاروں میں سب سے زیادہ حیران کردینے والی تخلیقی صلاحیت کی مالک ہیں۔ آئینہ گر کا پیش لفظ، ”اعتراف“ بجائے خود حیران کن تخلیق تھا۔ اب جب کہ میں نے ”کہانی کا آخری کنارہ“ کا مطالعہ کیا

Read more

شہید خان عبدالصمد اچکزئی کی کتاب: میں اور میری زندگی

پشتون قوم پرستوں کی ایک مضبوط آواز، ایک توانا لیڈر، بلوچستان میں صحافت کا معمار، اور ایک متاثر کن ادبی شخصیت۔ جن کی خدمات نے انہیں آج تک زندہ رکھا ہوا ہے۔ ادب کے میدان میں انہوں نے کئی کتابوں کا ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ خود بھی کئی کتابوں کے مصنف رہے۔ زیر نظر کتاب میں اور میری زندگی ایک شاہکار کتاب ہے جس کا انگریزی اور یوکرائنی زبانوں میں ترجمہ بھی کیا گیا ہے زیر نظر تجزیہ اب

Read more

شینا قاعدہ: عبد الخالق تاج کا بڑا کارنامہ

ایک طرف نفسا نفسی اور بے چینی کا دور دورہ ہے، دوسری طرف مٹھی بھر لوگ علم و ادب اور تخلیقی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ عبدالخالق تاج کے پاس زندگی گزارنے کے لئے درکار ہر سہولت موجود ہے۔ وہ چاہیں تو گھر میں بیٹھ کر عیش و عشرت اور آرام کی زندگی گزار لیں۔ لیکن ان کے اندر تخلیق کا ایک طوفان اکثر بپا ہوتا دیکھا گیا ہے جو ان کو کچھ نہ کچھ کرتے رہنے پر مجبور کر دیتا

Read more

خادم حسین چاکرانی: اچھڑو تھر کے پھول کی لاہور میں پھیلتی مہک

نوجوان خادم حسین چاکرانی کا گاؤں سکھر سے اچھڑو تھر کے کنارے پر تعلقی صالح پٹ میں آتا ہے۔ تھوڑے سے گھروں پر محیط گاؤں ’گلن خان چاکرانی‘ میں کوئی سکول نہیں تھا مگر اس کے والد شہباز ڈنو اور بڑا بھائی کی خواہش تھے کہ خادم حسین پڑھے، اس لئے خادم کو گاؤں کے قریب ایک قصبے کہ سکول میں داخل کروایا گیا۔ اس قصبے کے شروع میں موجود ایک قدآور نیم کا درخت اور اس کا احاطہ پورے

Read more

دو کوزہ گر – شبلی نعمانی اور ظفر علی خان

شمس العلما مولانا شبلی نعمانی فروری 1883 ء سے اواخر 1998ء تک علی گڑھ کالج سے وابستہ رہے۔ وہ اس تاریخی دانش گاہ میں عربی کے استاد اور طلبا کی ادبی تربیت کے لیے بنائی گئی مجلس ”لجنۃ الادب“ کے نگران تھے۔ علی گڑھ میں اپنے سو سالہ قیام کے دوران کئی نسلوں کی آبیاری کی، ان کے شاگردوں میں مولانا محمد علی جوہر ’مولانا شوکت علی‘ مولانا حسرت موہانی ’مولانا حمیدہ الدین فراہی‘ مولوی عزیز مرزا ’خواجہ غلام الثقلین‘

Read more

دریائے سندھ کی ”آب بیتی“ ۔ ڈاکٹر مظفر انجم کا فنی کمال

پچھلے دنوں ضلع کھرمنگ بلتستان کے آخری گاؤں واژرہ (wachra) جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ گاؤں دریائے سندھ کے بائیں کنارے بلتستان کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی سمت آخر میں واقع ہے اور یہیں سے دریائے سندھ پاکستان کی حدود میں داخل ہوتا ہے۔ واژرہ کی دوسری جانب خیبر اور ڈانسر گاؤں موجود ہیں۔ بعد ازاں مرول گاؤں کے پاس دریائے سندھ میں دریائے دراس اور دریائے سورو کارگل کا مشترکہ پانی آ کر شامل ہوجاتا ہے اور کھرمنگ کی وادی میں چٹانوں سے پرشور ٹکراتا ہوا سکردو کی جانب تیزی سے گامزن ہو جاتا ہے۔ کر یس کے مقام پر نوبرا سے آنے والا دریائے شیوک اس سے گلے ملتا ہے اور گرمیوں میں پانی کی سطح اونچی ہوجاتی اور گہرے مٹیالے رنگ میں ڈھل جاتا ہے۔

Read more

شیخ عبدالرشید کی کتاب مرقع گجرات پر تبصرہ

لکھنا آسان نہیں، اور لکھے ہوئے کو سنبھالنا؟ یہ اور بھی مشکل کام ہے۔ لیکن اس کے باوجود لکھا جا رہا ہے اور کتابی صورت میں محفوظ بھی ہو رہا ہے۔ ہم کیوں لکھتے ہیں اور پھر کیوں چاہتے ہیں کہ ہمارا لکھا ہوا محفوظ رہے۔ اس سوال کے کئی جوابات ہو سکتے ہیں۔ لیکن بہت سے جوابات میں سے کم از کم ایک جواب مصنف کی اس فطری خواہش میں مضمر ہے کہ وہ اپنی تحریر میں ہمیشہ کے

Read more