قصہ ایک نو آموز کا جس نے دو ناول لکھ ڈالے

واجد ابرار اٹلی میں رہتے ہیں، لیکن سانس پاکستان میں لیتے ہیں۔ ابھی کھیلنے کودنے اور تفریح کے دن تھے کہ نا جانے اسے کیا سوجھی، کاغذ قلم اٹھایا اور گھر کے کونے میں کسی پارک کے بینچ پر اور کسی جنگل میں جھیل کنارے بیٹھ کر لکھنا شروع کر دیا۔ لکھتے رہے اور بس لکھتے رہے۔ تین ماہ بعد گھر والوں اور دوستوں پر انکشاف ہوا کہ موصوف ایک عدد ناول لکھ چکے ہیں۔ کسی نے یقین نہ کیا۔ کیوں کہ اس نے کوئی ادبی ناول تو کجا، کبھی کوئی ادبی کتاب تک نہیں پڑھی تھی۔ البتہ وہ مطالعے کا شوق رکھتا تھے۔

آج کے اردو ادب اور اس کے ”درخشاں ستاروں“ سے اسے کوئی شناسائی نہیں تھی۔ حتیٰ کہ اسے کلاسیک ادب اور کلاسیک مشاہیر ادب سے بھی شدھ بدھ نہ تھی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ قدرت اللہ شہاب کون ہے؟ امجد اسلام امجد، اشفاق احمد، ممتاز مفتی اور تو اور وہ مستنصر حسین تارڑ کے مشکل نام اور اس سے وابستہ واقعات سے بھی واقف نہیں تھا۔ وہ صرف پاکستان کے ایک نامور ادبی بزرگ ”فصیح باری خان“ کے نام سے واقف تھا۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ فصیح باری خان نامور تو تھا، لیکن ادبی بزرگ ہر گز نہیں تھا۔

Read more

محمد بلال غوری کی کتاب ”لاپتا کالم“

پاکستان میں تواتر سے استعمال ہونے والے دو لفظوں یعنی ”لاپتا“ اور ”نا معلوم افراد“ کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ کیوں کہ جب بھی کچھ لاپتا ہوتا ہے تو اس کا الزام نا معلوم افراد پر عائد کیا جاتا ہے۔ اختر مینگل حکومت کے اتحادی بنے تو مطالبات میں ”لاپتا“ کی گونج سنائی دی۔ محمد حنیف صاحب کے باوردی ”آم“ بازار میں دستیاب ہوئے تو نا معلوم افراد کی ایک لہر نے انہیں بھی لاپتا کر دیا اور پھر خاصے عرصے سے لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے وکالت کرنے والے انعام صاحب اچانک لاپتا ہو گئے، وزارت دفاع سے بازیاب تو ہوئے، مگر بعد ازاں غیر ملکی ایجنٹ مشہور ہیں۔

اسی سلسلے میں بہت عرصے سے لاپتا ہونے والے کالموں پر مشتمل ایک کتاب پڑھنے کو ملی، کتاب کا نام ہی ”لاپتا کالم“رکھا گیا ہے، مصنف روزنامہ جنگ کے معروف کالم نگار محمد بلال غوری ہیں اور اسے ساگر پبلشرز نے شائع کیا ہے۔ کتاب پڑھنے کے بعد بہت سے کالموں کے ”لاپتا“ ہونے کے پیچھے چھپے ”نا معلوم افراد“ بھی معلوم ہونے لگتے ہیں۔ پلٹ کے، جھپٹ کے، کیسے کیسے اور کس کس ”مقدس گائے“ کے بارے میں لکھے گئے کالم لاپتا کیے گئے، ذرا احوال پڑھیے:

Read more

آنکھوں کے اس پار: فوزیہ رباب کی شاعری

اردو شاعری کے وسیع تر کینوس پر ادھر دو دہائیوں میں جن شاعرات نے اپنے شعری وجود سے فضا کو مشک بار کیا ہے، ان کی فہرست اگر چہ طویل ہے، پھر بھی کچھ شاعرات ایسی ہیں، جنہوں نے اپنی فکری توانائی سے غزل کے وہ رنگ بکھیرے ہیں، جو ہمارے عہد کی یقیناً شناخت کہے جا سکتے ہیں۔ ان شاعرات کے بنائے ہوئے راستے پر جن شاعرات نے آگے کا سفر طے کیا، ان میں ایک نمایاں نام فوزیہ رباب کا بھی ہے۔ فوزیہ رباب کا تعلق گجرات سے بھی ہے اور یو پی سے بھی، کہ ان کی تعلیم و تربیت احمد آباد میں ہوئی اور زندگی کا اعتبار بجنور، یوپی میں حاصل ہوا۔ ان کے شوہر کا تعلق روہیل کھنڈ کے اسی دیار سے ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اب معاشی ضرورتوں کے تحت یہ ایک عرصے سے گوا میں مقیم ہیں۔

جہاں تک فوزیہ رباب کے شعری سروکار کا تعلق ہے میرے پیش نظر ان کا شعری مجموعہ ”آنکھوں کے اس پار“ ہے، جس میں غزلیں بھی ہیں اور نظمیں بھی۔ ان کی شاعری کے مطالعے سے لگتا ہے کہ انہوں اس میدان میں پوری سنجیدگی کے ساتھ قدم رکھا ہے اور سنبھل سنبھل کر یہاں تک کا سفر طے کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کے یہاں زبان و بیان کا کوئی مسئلہ نہیں۔ ان کا تعلق یقیناً ایک علمی و ادبی گھرانے سے رہا ہے۔ ویسے ادھر جو شاعری کے نئے رجحانات ہمارے سامنے آرہے ہیں، ان کی تازگی اور لفظوں کے نشست و برخاست کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شاعری اس شاعری سے کسی حد تک الگ ہے، جسے ہم بیسویں صدی کے ڈوبتے سورج کے ساتھ ہی چھوڑ آئے۔

Read more

سیاست کا جغرافیہ ( باب نہم)کچھ روشن طبقات کے روشن نکات

ریاست میں بے شمار طبقے ایسے ہیں، جن کے ہر وقت چودہ طبق روشن رہتے ہیں۔ انہی میں سے کچھ کے وضع کردہ نکات با برکات کی تفصیل ذیل میں دی جاتی ہے۔

قائدین وکالت کے چودہ نکات:

1۔ وکلاء کی معاشرے میں امتیازی و دست درازی حیثیت ہر صورت تسلیم کی جائے۔

2۔ کسی بھی محکمے میں وکلا کے دفتری کاموں کو ترجیحی بنیادوں پہ حل کرنے کا یقین دلایا جائے اور عام لوگوں کے ساتھ قطار میں لگ کاروباری کے انتظار کی شرم ناک شرط ختم کی جائے۔

Read more

جبار آزاد منگی کی سندھی میں ریڈیو اسکرپٹس کی کتاب: ”ایٔ عشق جو آواز“ (یہ عشق کی آواز)

مختلف زبانوں کے نثر میں ایسے قلم کاروں نے، جن کا تعلق ریڈیو یا ٹیلی وژن سے رہا ہے، اپنے لکھے ہوئے اسکرپٹس کو کتابوں کی صورت میں ترتیب دے کر طبع کروایا ہے، تا کہ وہ گفتگو، جو ایک بار نشر ہو کر ہوا میں اڑ گئی، وہ محفوظ ہو سکے اور اس میں شامل تحقیق، مستقبل کے محققین کے لئے حوالے کے طور پر بھی کام آ سکے۔ ورنہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے پاس خود اپنے یادگار ترین پروگراموں کی نہ ریکارڈنگز محفوظ ہیں، نا ہی ان کے اسکرپٹ۔

کہنے کو تو پاکستان ٹیلی وژن کے تمام مراکز کے اندر اسکرپٹ لائبریری موجود ہیں، مگر ان کا احوال یہ ہے کہ مجھے جب کبھی جس کسی ٹیلی وژن پروگرام کا اسکرپٹ درکار ہوتا ہے، تو وہاں دستیاب نہیں ہوتا۔ ریڈیو پاکستان کے آرکائیوز کا احوال تو نا ہی پوچھیں! جہاں کہنے کو تو تمام صوبائی دار الحکومتوں کے ریڈیو اسٹیشن پر ”سنٹرل پروڈکشن یونٹ“ (مرکزی ادارۂ پیش کش) قائم ہیں، جن کا کام، نا صرف ریڈیو پاکستان کے تمام اسٹیشنوں کے لئے موسیقی اور گفتگو کے پروگرام، خواہ فیچرز بنا کر انہیں فراہم کرنا ہے، بلکہ اپنے اپنے خطے کے صوتی اثاثے کو محفوظ کرنا بھی ہے۔

Read more

ناسٹیلجیا: سلمان باسط کا آتش رفتہ کا سراغ

پروفیسر سلمان باسط۔ ایک علمی اور ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے دادا غلام حیدر مرحوم صاحب دیوان شاعر تھے۔ دادا کے بھائی میراں بخش منہاس، پنجابی زبان کے پہلے ناول نگار اور عمدہ شاعر بھی تھے۔ سلمان باسط کے بڑے بھائی عثمان خاور شاعر اور سیاح ہیں اور سیاحت نگری پر خامہ فرسائی فرماتے رہتے ہیں۔ سلمان باسط انگریزی ادب کے استاد اور پروفیسر ہیں۔ انہوں نے انگریزی زبان و ادب کے چند چنیدہ کتابوں کے اردو میں تراجم بھی کیے اور ایک اچھے شاعر اور طنز و مزاح خاکہ نگار بھی ہیں۔ ان کی کتاب ”خاکی خاکے“ خاصی مقبول ہوئی۔ ”ناسٹیلجیا“ آپ کی تازہ ترین کتاب ہے جو کہ آپ بیتی پر مشتمل ہے اور ابھی اس کا پہلا پڑاؤ ہے۔ یعنی آپ پہلا حصہ کہہ سکتے ہیں اور یہ آج کل ادبی حلقوں میں بہت پذیرائی حاصل کر رہی ہے۔

کہتے ہیں کہ انسان ماضی گزیدہ ہے، اور اگر اس کی یاد داشت اچھی ہو تو وہ خواب گزیدہ جہاں، اس کے لیے عذاب بھی بن سکتا ہے۔ اور اگر جنت گم شدہ میں بچپن کا ساون، کاغذ کی کشتی اور بارش کا پانی ابھی بھی آنکھوں میں موجود ہو، تو وہ کبھی خدا سے اپنے حافظے کے چھن جانے کی استدعا نہیں کرے گا۔ وہ بیتے دنوں کو کبھی بھول نہیں پائے گا اور آخری دن تک یاد رکھتا ہے۔ بچپن سب کا ایک جیسا ہی حسین خوبصورت اور دلربا ہوتا ہے، یہ ایک ایسی ٹائم مشین ہے جس میں کوئی بھی جب چاہیے ان وادیوں میں اتر سکتا ہے اور جتنا چاہے اپنے آپ کو گم کر کے اک خوشی، اک تسکین سی پا سکتا ہے۔ اس ٹائم مشین کی فریکوئنسی اور کانفیگریشن تبھی مکمل ہو گی، جب آپ ناسٹیلجیا کے بٹن کو پریس کریں گے۔

Read more

حامد سراج کا ناول آشوب گاہ: ایک مطالعہ

 آشوب گاہ حامد سراج کا اہم ناول ہے ناول کے دو مرکزی کردار، خلجی اور خدیجہ ہیں، جن کے درمیان محبت کا سلسلہ چل رہا ہے، لیکن کئی معاون کردار بھی اہم ہیں جن سے بہت سی سرگوشیوں کو سنا اور روزنوں سے جھانکا جا سکتا ہے، خاص طور پہ سامری، جو ناول کے بیانیہ کو پر اسرار بنا دیتا ہے۔ ناول کے یہ کردار مختلف جگہوں، یونیورسٹی، گاؤں، شہر گھومتے ہیں، زیادہ حصہ ایک ریلوے پلیٹ فارم پہ گزرتا

Read more

زاہد کاظمی صاحب کا ”کتابی تحفہ“

ہری پور سے تعلق رکھنے والے زاہد کاظمی صاحب، ایک کتاب دوست آدمی ہیں۔ ان کی طرف سے تحفے میں مجھے چند ماہ قبل کچھ کتابیں موصول ہوئیں۔ ان میں سے ایک کتاب ”آغا سے آغا ناصر تک: عمر کہانی“ ہے، جو کہ آغا ناصر صاحب کی خود نوشت ہے۔ آغا ناصر صاحب نے ایک شاندار زندگی گزاری، جس کا واضح ثبوت 383 صفحات پر مشتمل ان کی دل چسپ آپ بیتی ہے۔

آغا ناصر صاحب کے حالات و واقعات زندگی پر مشتمل یہ کتاب، پورب اکادمی اسلام آباد نے شائع کی ہے۔ آغا ناصر صاحب لکھتے ہیں کہ میرے بہت سے ساتھیوں کا خیال تھا کہ کتاب کا پیش لفظ یا دیباچہ، جس نام سے بھی چاہیں آپ پکار لیں، ضروری ہے کہ اس کا حصہ ہو۔ دوست یہ بھی کہتے تھے کہ ملک کے نامور قلم کار یا نثر نگار سے یہ ابتدائیہ لکھوایا جائے گا! مگر سوچ بچار کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ابتدائیہ لکھنے کے لیے کسی بھی بڑے ادیب یا قلمکار کی کوئی ضرورت نہیں، تعارفی صفحہ کے لئے چند الفاظ میں خود ہی لکھ دوں گا۔

Read more

مجھے پتہ ہے، قید میں چڑیا کیوں گاتی ہے

آٹھ برس کی عمر میں زنا بالجبر سے چھلنی بچپن کے ساتھ بڑی ہوتی ہوئی مایا اینجلو نے کئی مقام دیکھے۔ کال گرل، بس کنڈیکٹر اور پھر ادیب، یونیورسٹی کی سطح پر تدریس، ملک و بیرون ملک امریکا کی نمائندگی، اخبارات و جرائد کی ادارت اور ان گنت اعزازات سے نوازی جانے والی اس امریکی ادیبہ، شاعرہ، رقاصہ، ڈرامہ نگار اور صحافی نے فروری 2014 میں وفات پائی۔  I Know Why the Caged Bird Sings (1969)ان کی خود نوشت ہے۔

Read more

ریاستیں کیوں ناکام ہوتی ہیں؟

ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہر سیاست پروفیسر جیمز اے رابنسن اور ایم آئی آٹی کے ماہرمعیشت ڈیرن ایس موگلو کی لکھی ہوئی کتاب ”Why Nations Fail: Origin of power, prosperity and poverty“ میری پسندیدہ ترین کتابوں میں سے ایک ہے۔ پانچ سو اکہتر صفحات پر پھیلی یہ کتاب اس سوال پر بحث کرتی ہے کہ ریاستیں کیوں کامیاب یا ناکام ہوتی ہیں۔ کتاب میں سوال کیا گیا ہے کہ ایک اوسط امریکی، پیرو کے شہری سے دس گنا، سب صحارا افریقہ کے شہری

Read more

امن کی تلاش میں

حال ہی میں کینیڈا کے ایک ٹی وی چینل اور یو ٹیوب پر آغاز کیا جانے والا، ڈاکٹر خالد سہیل اور ڈاکٹر کامران احمد کا پرو گرام ”In Search of Peace“ دیکھا، بہت اچھا لگا۔ ۔ ۔ دل چاہا کہ چند سطور دل چسپی کے لئے اپنے قارئین کی نذر کروں۔ اس پرو گرام کا بنیادی خیال ڈاکٹر خالد سہیل کا ہے۔ اس قبل وہ اور ڈاکٹر بلند اقبال اسی ٹی وی چینل پر: In Search of Wisdom : کے نام سے

Read more

ڈاکٹر شیرشاہ سید کی نئی کتاب: ”امراض سے آگہی اور ہسپتالوں کی تاریخ“

آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہو گا ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلا یا ہوگا اس شعر کو پڑھ کر مجھے ڈاکٹر شیرشاہ سید کی آبلہ پائی یادآجاتی ہے جوبطور معالج اورادیب حالات کی آندھی اور مخالف ہوا کے سامنے مسلسل علم و آگہی کا چراغ جلانے میں کوشاں ہیں۔ ”نہ ستائش کی تمنا اور نہ صلہ کی پرواہ“ پہ عمل پیرا انسان دوست شیر شاہ سیدمسلسل اپنی تحریروں سے علم و آگہی کے سلسلہ کو دراز

Read more

”بابری مسجد: آنکھوں دیکھا حال“ ایک دستاویز

یوں تو سینئرصحافی معصوم مراد آبادی کی کتاب ”بابری مسجد :آنکھوں دیکھا حال“ لاک ڈاؤن سے پہلے حاصل ہو گئی تھی لیکن اس کا مطالعہ لاک ڈاؤن کے دوران اور وہ بھی اس وقت شروع کیا جب سپریم کورٹ کی جانب سے لکھنو کی خصوصی سی بی آئی عدالت کو دی گئی یہ ہدایت نظروں سے گزری کہ آئندہ 31 اگست کو بابری مسجد کی شہادت میں مجرمانہ سازش کے مقدمے کی سماعت مکمل کرلی جائے۔ خیر عدالت میں تو

Read more

ناول، ادھ ادھورے لوگ

انسان تو کیا پرندے درخت اور پودے بھی اگر اپنی جڑیں کسی انجانی زمین میں پائیں تو آپ ان کے مزاج، گیت سنگیت اور پھلوں کو بد مزا ہی پائیں گے۔

فارس کے لوگ کہتے ہیں کہ ”وطن شیراز است“ انسان کے دل سے اس کے وطن کی محبت نکالنا ناممکن ہے، کون نہیں جانتا کہ ظہیر الدین بابر کے ساتھ سمر قند و بخارا سے آئے لوگوں نے اپنے وطن کی خاطر فتح کی سرزمین ہندوستان کے تخت و تاج کو ٹھوکر ماری اور واپس اپنے پہاڑوں پر جا آباد ہوئے تھے۔ تاریخ آج ان کا نام و نشان نہیں جانتی مگر مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے وطن کی خاک میں خاک ہو کر سو سال حکومت کرنے والے بابر کے بیٹے بہادر شاہ ظفر کی رنگون میں تڑپتی روح پر مسکراتے ہوں گے۔

Read more

ناصر کاظمی کا انتخاب انیسؔ: ایک تعارف

(1) ایک دن پاپا نے کہا کہ میر انیسؔ کے کچھ شعر پڑھ کے توایسا لگتا ہے جیسے امام حسین ؑ نے اسے خواب میں آ کے لکھوائے ہوں۔ اس وقت انہوں نے جو شعر سنائے وہ بہت عرصہ مجھے یاد رہے۔ کاش میں انہیں نوٹ کر لیتا۔ پاپا انیسؔ کے ایک مرثیے کا مصرع، اس عہد میں سب کچھ ہے پر انصاف نہیں ہے، اور ایک سلام کا یہ شعراکثر پڑھا کرتے تھے: در پہ شاہوں کے نہیں جاتے

Read more

علاقہ کھڑی: تاریخ کے آئینہ میں

انگلستان آنے سے دو دن پہلے اپنی جنم بھومی علاقہ کھڑی کے متعلق ایک کتاب ً کھڑی ًکے نام سے نظر سے گزری۔ فوراً خرید کر ایک پورا دن لگا کر پڑھ بھی ڈالی۔ فاضل مصنف نے اس کتاب پر بہت محنت کی ہے اور علاقہ کے متعلق کافی ساری معلومات اکٹھی کی ہیں۔ اس پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ لیکن کسی بھی مقام کا تاریخ اور جغرافیہ بیان کیے بغیر اس مقام کے بارے میں بات مکمل

Read more

داستاں چھوڑ آئے

تخلیقی ذہن کے حامل افراد، خواہ وہ شاعر ہوں، یا ادیب، فنکار ہوں یا مصور، دانشور ہوں یا سائنسدان، کسی بھی ملک کا قیمتی سرمایہ ہو تے ہیں۔ یہ افراد کسی بھی قوم میں ذہنی نشوونما اورمثبت رویوں کی نمود کا باعث بنتے ہیں۔ ان کی قدر کی جانی چاہیے۔ مجھے یہ خیال رحیم گل کی، ان کے اپنے قلم سے لکھی سوانح حیات: ”داستاں چھوڑ آئے“ پڑھ کر آیا ہے، کہ ان کا تعلق بھی اسی تخلیقی گروہ سے

Read more

جندر، حاجرہ، ایک آزاد عورت

کتنے نسوانی کردار ہیں جو کسی تخلیق کار کی نظر اور بنت کے انتظار میں ہیں۔ ان میں سے ایک پہ تو اختر رضا سلیمی کی نظر گئی ہے۔ اور حق ادا کر گئی ہے۔ حاجرہ کا کردار ناول کے وسطانیے کے بعد رونما ہوتا ہے۔ ناول میں وہ ایک ضدی اور خود شناس خاتون کے روپ میں متعارف کرائی گئی ہے۔ جو مرکزی کردار ولی خان کی چچا زاد ہے اور اس سے بارہ برس چھوٹی ہے۔ چھ بھائیوں کی اکلوتی بہن کا یہ اعزاز ہے کہ وہ اپنے گاؤں کی پہلی میٹرک پاس لڑکی ہے۔

لڑکوں کے ہائی اسکول میں پڑھنے والی واحد لڑکی ہونے کے باعث بہادری اور بے خوفی اس کا وصف بن گئی ہے۔ وہ سکول کے زمانے سے ہی ولی خان کے پاس جندر جاتی ہے اور یہیں اسے کتب بینی کی چاٹ لگتی ہے اور یہ کتاب دوستی اس کے ذہن کی پرواز کو بلند اور شعور کو پختہ کر دیتی ہے۔ وہ میٹرک کے بعد آنے والے ہر رشتے سے انکار کر دیتی ہے اور اسکول میں پڑھانا شروع کر دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ تعلیم جاری رکھتے ہوئے علاقے کی پہلی بی اے خاتون کا حق بھی محفوظ کر لیتی ہے۔

Read more

خالد حسینی کا ناول: اے تھاوزنڈ سپلینڈڈ سنز

آج زیر مطالعہ ناول کانام ہے ’‘ A Thousand Splendid Suns ”جس کے مصنف ہیں خالد حسینی۔ یہ وہی خالد حسینی ہیں جو اس سے پہلے دی ’‘ کائٹ رنر“ جیسا معروف ناول دے چکے ہیں۔ ان کا تعلق افغانستان سے ہے۔ خالد حسینی ایک ڈاکٹر ہیں جو اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ شمالی کیلفورنیا میں رہتے ہیں وہ 1965ء میں کابل میں پیدا ہوئے ان کے والد ایک ڈپلو میٹ تھے اور ماں فارسی اور تاریخ پڑھاتی

Read more

ڈاکٹر شیر شاہ سید کی کتاب: دل ریزہ ریزہ

ڈاکٹر شیر شاہ سید کا شمار ان نابغۂ روزگار دیدہ وروں میں ہوتا ہے، جنہیں ملیں تو لگتا ہے پڑھ رہے ہیں، پڑھیں تو لگتا ہے مل رہے ہیں۔

شاہ صاحب اس دور کے وہ انسان ہیں جو کسی بھی دور میں کہیں بھی پیدا ہو جاتے سب کو ایسا ہی گرویدہ کر لیتے۔ اچھا انہیں گرویدہ کرنے سے غرض بھی نہیں ہوتی، یہ تو خود گرویدہ رہتے ہیں سب کے، ہر ایک کے۔ بغیر کسی وجہ کے، چھوٹی چھوٹی باتیں اور درد، جن کے لوگ اپنے چہرے پر لگی آنکھوں کی طرح عادی ہوتے ہیں، یہ انہیں بھی پہاڑ ایسا محسوس کرتے ہیں۔

Read more

غالبؔ : لسانی و اسلوبیاتی مطالعہ

غالبؔ کو شعراء میں یہ امیتاز بھی حاصل ہے کہ ان کا وہ کلام بھی محفوظ ہے جسے آغاز شعر گوئی کہا جاتا ہے۔ کلام میں شعریت، شعری حسن اور جامعیت اور بے ساختہ پن نمایاں ترین خصوصیات ہیں۔ غالبؔ زندگی کا شاعر ہے، غالب نے زندگی کے مد و جزر اور شکست و ریخت کو بیان کیا ہے اور انسانی کمزوریوں اور اعلیٰ اقدار کو اپنی شاعری میں بیان کیا ہے۔ طالب علم کے خیال میں غالب کی شاعری

Read more

گمنام گاؤں کا آخری مزار اور رؤف کلاسرہ

جہلم کی بہت سی امتیازی خصوصیات ہیں۔ تاہم میں سمجھتی ہوں کہ آنے والے وقتوں میں جہلم بک کارنر اس شہر کا لینڈ مارک بننے جا رہا ہے۔ خوبصورت کتابوں کی بہترین اور دیدہ زیب اشاعت اور ان سے متعلق تمام انتظامی معاملات و امور کو حسن و خوبی سے نمٹانا جناب شاہد حمید کے سعادت مند بیٹوں گگن شاہد اور امر شاہد پر ختم ہے۔ ہماری معروف کالم نگار سعدیہ قریشی نے ملک کے نامور صحافی رؤف کلاسرا کی حالیہ چھپنے والی فرانسیسی ادیب بالزاک کی کتاب کا تذکرہ کیا۔ ہم پرانے لوگ اچھی کتابوں کے تو رسیا ہیں۔ فوراً اسے لکھا کہ سعدیہ پبلشر کا لکھو۔ کرونا کا خوف بھی اب کم ہو گیا ہے خریدتی ہوں۔ اسے گگن نے بھی کہیں پڑھ لیا۔ سعادت مند بچہ فوراً ہی بیچ میں کودا۔ ”ارے نہیں آپا میں بھیج رہا ہوں آپ کو“ ۔

Read more

تشبیب تصرف

سید ساجد مجید طاہر ادبی دنیا میں سید طاہر کے قلمی نام سے معروف ہیں۔ آپ کا تعلق واھوا کی مردم خیز مٹی سے ہے۔ زیر نظر کتاب ”تصرف“ ان کا دوسرا غزلیہ مجموعہ ہے جسے حرف زاد پبلیکیشنز کراچی نے اپریل 2020 ء میں شائع کیا۔ اس سے پہلے ان کا شعری مجموعہ ”زندہ رہنا پڑتا ہے“ ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔ سید طاہر نعت بھی خوب کہتے ہیں۔ ان کا ایک نعتیہ مجموعہ ”حرف

Read more

چھوٹی سی خصال کی بہت بڑی شاعری

زاہد کاظمی نے جو کتابیں بھیجیں ان میں خوبصورت سرورق والی دو پیپر بیک بھی تھیں۔ یہ دو بچیوں کی لکھی کتابیں تھیں۔ دس برس کی خصال زینب کی Blossoms in the early spring جو اس کی شاعری، نثر نگاری اور مصوری پر مبنی ہے۔ دوسری کتاب پندرہ سالہ فاطمہ زہرا کی مصوری اور شاعری پر مشتمل کتاب Whispers in the spring۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ محبی فیض علی، جو کسٹمز کلکٹر ہیں کی بچیاں ہیں۔ کسٹمز اگرچہ نیک

Read more

فوزیہ رفیق کے پنجابی ناولٹ ”کیڑو“ کا ایک جائزہ

پاکستان میں کتنی مذہبی گھٹن ہے، کتنی تنگ نظری ہے اور کتنی منافرت ہے اس کا اظہار فوزیہ رفیق نے اپنے پنجابی ناولٹ ’‘ کیڑو ”میں کیا ہے۔ فوزیہ رفیق کینیڈا میں رہتی ہیں۔ اس سے پہلے ان کا پنجابی ناول سکینہ بھی سنجیدہ حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔ فوزیہ رفیق ایکٹیوسٹ ہیں انگریزی زبان میں ارٹیکل لکھتی ہیں جو کینیڈا میں شائع ہوتے ہیں۔ اس ناول کا عنوان کیڑو یعنی کیڑے یا حشرات الارض ہے جو ایک

Read more

دھنک رنگ، سب رنگ

گزشتہ دنوں حسن رضا گوندل صاحب کی مرتب کردہ ایک کتاب شایع ہوئی ہے۔ یہ کتاب ان کہانیوں میں سے چند کا انتخاب ہے جو سب رنگ میں شایع ہوچکی ہیں۔ کہنے کو تو یہ کہانیاں مغربی کہانیوں کا ترجمہ ہیں لیکن اس قدر خوب صورت زبان اور دل نشیں انداز بیان ہے کہ ترجمے کے بجائے طبع زاد کہانیاں محسوس ہوتی ہیں۔ سب رنگ کا آغاز جنوری 1970 میں ہوا اور شکیل عادل زادہ کی ادارت میں جنوری 2007

Read more

جندر: اختر ر ضا سلیمی کا ناول

ناول ”جندر“ ازل سے ابد تک کی کہانی ہے، جس کی ابتدا اس روز ہو چکی تھی، جب حضرت آدم علیہ السلام نے گندم کا پہلا دانہ چبایا تھا۔ یہ کہانی رو زمین پر انسان کے قدم دھرتے ہی شروع ہوئی اور روز قیامت صور پھونکے جاتے تک چلتی رہے گی۔ گندم کا پہلا دانہ کھا کر انسان نے اپنے وجود کو چکی کے دو پاٹوں بیج دے کر اپنی روح کو تار تار اور اپنے جسم پر موجود گوشت

Read more

خوابوں والی گلی کے قصے

میرے بچپن میں جب بندر اور ریچھ کا تماشا دکھانے والا مداری آتا، سپیرا اپنے سانپوں کی پٹاری لئے محلے میں داخل ہوتا تو مجھ سمیت گلی کے سب بچے اپنی مائوں سے جیب خرچ لے کر آ وارد ہوتے اور تماشا دکھانے والے کے گرد ایک حصار بنا لیتے۔ محلے کی بڑی بوڑھیاں اپنی اپنی پیڑھیوں پر بیٹھی یہ پورا منظر دیکھ رہی ہوتیں۔ بچے پلک جھپکے بغیر بندر کے آٹا گوندھنے، ریچھ کے سسرال جانے اور سانپ کے

Read more

"پہل اس نے کی تھی” کیوں لکھا گیا؟

کسی کی نثری و شعری تخلیق کو علمی ادبی تناظر سے دیکھنا پڑھنا اور اس کی نئی جہتیں جو پڑھتے محسوس ہوں اسے دیگر قارئین کے سامنے لانا گویا کتاب لکھنے سے زیادہ کٹھن کام ہے اور ایسے امور کو ماہر نقاد اور سینئر اہل قلم ہی سر انجام دیتے ہیں۔ لیکن میں آج آپ کی بصارتوں کی نظر ایک منفرد اور عام اسلوب و موضوع سے ہٹ کر لکھے گئے ناول ”پہل اس نے کی تھی“ پر اپنا نقطہ

Read more

عہد ساز شخصیت: سرسید احمد خاں

پنددرہویں صدی میں نشاۃ ثانیہ نے یورپ میں صنعت و حرفت، فلسفہ و الٰہیات، سیاسیات و سماجیات، سا ئنس اور ٹکنالوجی، آئین اور قانون کے میدان میں ایسا عظیم انقلاب برپا کیا کہ معاصر اسلامی دنیا جواب تو کیا دیتی, اسے سمجھنے سے بھی قاصر تھی۔ اٹھارہویں صدی سے پسپائی شروع ہوئی اور انیسویں صدی کے آخری عشرے تک پورا اسلامی ایشیا اور افریقہ مغربی استعمار کے سمندر میں غرقاب تھا۔ اس مسئلے کے علاج کی غرض سے کئی احیائی

Read more

مشرف عالم ذوقی کا ناول: مرگ انبوہ

مرگ انبوہ کیا ہے؟ ’‘ ملک کاغذ پر بنا کمرہ نہیں ہوتا اگر تمہارے گھر ایک کمرے میں آگ لگی ہو تو کیا تم دوسرے کمرے میں سو سکتے ہو؟ اگر تمہارے گھر کے ایک کمرے میں لاشیں سڑ رہی ہوں تو کیا تم دوسرے کمرے میں عبادت کر سکتے ہو؟ ” مرگ انبوہ کا شمار دنیا کے ان چند سیاسی ناولوں میں ہوتا ہے جنہیں پڑھ کر قاری پر ایک خوف طاری ہو جاتا ہے۔ یہاں بلیو وہیلؔ نام

Read more

شہرِ پُرکمال کی باکمال شخصیات: کرشن چندر، بیدی اور کنھیا لال کپور

 عموما لوگ شہروں میں بستے ہیں لیکن بعض شہر لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں۔ لاہور ایک ایسا شہر ہے جو لوگوں کے دلوں میں بستا ہے۔ لاہور آنے سے پہلے ہم لاہور کو تین حوالوں سے جانتے تھے:۔ 1.وہ پیدا ہی نہیں ہوا جس نے لاہور نہیں دیکھا۔ 2.غلام عباس کے افسانے اوور کوٹ کے حوالے سے. 3.گاؤں کے ایک بزرگ کے جملے سے "بالاں کوں لہور پڑھائی کنڑ بھیج کے ولاونڑ ایویں اوکھے جیویں سور کماند اچوں کڈھنڑاں

Read more

جنگ آزادی 1857ء اور پنجاب

تاریخ میں 1857 ء کو ایک غیر معمولی حیثیت حاصل ہے۔ اس حوالے سے پنجاب کے کردار پر بہت کچھ لکھا گیا اور مختلف نقطہ ہائے نظر سامنے آچکے ہیں اور مزید بھی آتے رہتے ہیں۔ ایک سوچ وہ ہے جسے عبداللہ ملک مرحوم نے پاکستان ٹائمز میں ”پنجاب نے برطانیہ کا ساتھ کیوں دیا؟ کے عنوان سے مضامین لکھ کر پیش کیا۔ جس کا بنیادی استدلال پنجابیوں کی فوج میں بھرتیوں کو بنایا جو 1857 ء سے دوسری جنگ

Read more

فارس مغل کے افسانوی مجموعے ’آخری لفظ‘ کی یاترا

شال (کوئٹہ) کے قدیم محلے کی کنج گلی میں روایتی مکان کے روشن کمرے میں اجلی آنکھوں اور کشادہ پیشانی والے ’نکے ویر‘ فارس مغل نے مجھے اپنائیت کے ساتھ، خلوص میں ڈوبے لفظوں سے آراستہ ”آخری لفظ“ ہاتھوں میں تھامنے کا موقع فراہم کیا۔ اس کے لیے ’شکریہ‘ لفظ بہت معمولی ہے۔

” آخری لفظ“ فارس مغل کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔ جس میں بیس افسانے اور پانچ افسانچے شامل ہیں۔ اسے صریر پبلیکیشنز لاہور نے کتابی شکل میں دلکش اور بامعانی سر ورق کے ساتھ جولائی 0202 شائع کیا۔ اس سے قبل فارس کے دو ناول بعنوان ’سو سال وفا‘ اور ’ہمجان‘ اردو ادب میں گراں قدر اضافہ ثابت ہوئے ہیں۔ ان ناولوں کونہ صرف وطن عزیز بلکہ ہندوستان کے علاوہ جہاں جہاں اردو پڑھنے والے موجود ہیں، بے حد پسند کیا گیا۔ فارس نظم کا شاعر بھی ہے، ذرا ایک بار اس کا شعری مجموعہ ’سرخ ہونٹوں کی کنج گلی میں‘ پڑھ کر دیکھ لیں۔

Read more

حماد حسن: ثابت قدم صحافی

لکھنے والے تو بہت ہیں، مگر حق اور سچ کو بطور امانت آئندہ نسلوں تک پہنچانے کی نیت کتنوں کی ہوتی ہے؟ مسلمان بھائی کے لئیے درست مشورہ ایک امانت ہے جسکا لوٹانا لازم ہے- اگر ماضی میں بھی سچ کے امانت دار لکھاری ہوتے تو پاکستانی قوم آج ایک بار پھر دوراہے پر نہ ہوتی- طاقت ور سرکار، اسکے سرکاری میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے محدود سچ نے بنگلہ دیش کے قیام کے حقائق کے حوالے سے ہماری امانت

Read more

شہر خواب: موسیٰ کلیم دوتانی

چند دن پہلے گرمی کی شدت اپنے عروج پر تھی اور شام ڈھلنے کے باوجود تپش ابھی تک برقرار تھی۔ لیکن موسموں کی سختی ہمیشہ غریبوں اور مسکینوں کے لیے ہی ہوا کرتی ہے اور ان ہی کو جھیلنی پڑتی ہے۔ امراء کی لغت میں تو شاید اس چیز کا نام و نشان ہی نہیں ہوتا کہ ان کی دولت موسم گرما کو سرما اور جاڑے کو گرمیوں میں بدلنے کی قوت رکھتی ہے۔ اس وحشت خیز گرمی میں جہاں

Read more

فروغ نعت اور سید صبیح الدین رحمانی

نعت گوئی ’نعت خوانی اور فروغ نعت کے سلسلے میں سید صبیح رحمانی کا نام ایک سند کی حیثیت رکھتا ہے۔ حمد و نعت ان کے خمیر میں ایسے رچ بس چکی ہے کہ ان سے تعلق رکھنے والے ہر شخص تک عقیدت و محبت کی یہ خوشبو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور سے پہنچ ہی جاتی ہے۔ وہ نعت گوئی کے تمام تقاضوں اور اصول و ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم سے اپنی

Read more

فارس مغل کا افسانوی مجموعہ: آخری لفظ

سلیمان رینج کے بلند و بالا پہاڑوں سوئی ڈیرہ بگٹی کے ٹیلوں اور کچھی کے بنجر میدانوں تک بکریاں چراتے بلوچ اور اونٹوں کے کاروان ہانکتے جت ساراوان بتاتے ہیں کہ انھیں بلوچستان کی مشہور حقیقی رومانی داستان کے ہیرو مست توکلی کی شاعری کی باز گشت آج بھی ہر اور سنائی دیتی ہے۔ جس میں وہ اپنی محبوبہ کے حسن و جمال کو ایسی ایسی چیزوں سے تشبیہ دیتا ہے جو اس علاقے کے کسی بندے کے لیے دیکھ

Read more

ڈونلڈ ٹرمپ پر کتاب کا ریویو (آخری حصہ 2 / 2 )

گزشتہ سے پیوستہ کتاب کے دوسرے حصہ کا عنوان دا رنگ سائیڈ آف دی ٹریکس میں مری نے ٹرمپ کی بھدی اور ناپسندیدہ حرکات وسکنات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ نیویارک ملٹری اکیڈمی سے پاس آؤٹ ہونے کے بعد ٹرمپ نے فورڈھم Fordhamیونیورسٹی میں داخلہ لیاجس میں حاضری کی سختی و پابندی نہ ہونے کی وجہ سے اس کا بہت سا وقت لڑکیوں کو چھیڑنے اور ان کو چڑانے میں گزرتا۔ ڈونلڈ کا فلرٹ کرنا ایسا ہوتا کہ

Read more

اورنگزیب: ایک شخص اور فرضی قصے

برصغیر ہند و پاک میں مغل عہد کی تاریخ نگاری میں تعصب اس قدرسرایت کیا ہوا ہے کہ عوامی حافظے میں مغل بادشاہوں سے متعلق بہت سی فرضی داستانوں نے دستاویزی حیثیت حاصل کرلی ہے۔ چھٹے مغل بادشاہ اورنگزیب سے منسوب ایسی داستانوں کی اس قدر بہتات ہے کہ نہ صرف عوامی حافضے میں بلکہ علمی مباحث میں بھی ان کی حیثیت مسلم ہو چکی ہے اور بعض اوقات ان سے نبرد آزما ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان داستانوں

Read more

ظفر عمران کی افسانوی دنیا

اسکرپٹ رائٹر، ایکٹر، ڈائریکٹر، پروڈیوسر۔ ۔ ۔ اتنے بھاری بھرکم سابقے لاحقے سن کر آدمی ویسے ہی تعارف سے متاثرہو جاتا ہے۔ ہم جیسا مگر سہما سہما فاصلے پر رہتا ہے۔ اس لیے ظفرعمران سے فیس بک کی سلام دعا کے باوجود ہم ایک محتاط فاصلے پر ہی تھے، تاوقتیکہ ان کی افسانوی دنیا سے آشنائی نہ ہوئی۔ گلزار صاحب شاید پہلے فلم ڈائریکٹر تھے جنھوں نے اپنے افسانوں کی کتاب ’دستخط‘ کے نام سے چھاپی۔ ایک انٹرویو میں کسی

Read more

سہ ماہی ”الزبیر“ بہاول پور: آسمان ادب کا مہر منور

سابق صدر، شعبہ تاریخ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور، اردو اکادمی بہاول پور کے معتمد عمومی، ممتاز مصنف، محقق، مورخ اور مرتب پروفیسر ڈاکٹر شاہد حسن رضوی صاحب کی طرف سے علمی، ادبی و تحقیقی جریدے سہہ ماہی ”الزبیر“ اور ادب، سیاست، مذہب کے حوالے سے خوبصورت تحاریر کے مرقع میگزین ماہنامہ ”الہام“ کے تحائف بذریعہ ڈاک ایک ساتھ موصول ہوئے اور اس زمین زاد کو ایک خوشگوار حیرت میں مبتلا کر گئے۔ شاید ڈاکٹر صاحب نے اس لئے اس ناچیز

Read more

سلویا پلاتھ کے ناول ’دی بیل جار‘ کا ایک جائزہ

آئیے آپ کو ایک اور ناول سے متعارف کروایا جائے۔ ناول کا نام ہے ”دی بیل جار“ جسے سلویا پلاتھ ؔنے لکھا۔ پہلی بار یہ ناول 1963 میں وکٹوریا لوکاس ؔکے فرضی یا قلمی نام سے چھپا۔ میرے سامنے اس کتاب کا پچاسواں اینی ورسری ایڈیشن ہے۔ سلویا پلاتھ کا تعلق نیو انگلینڈ امریکہ کی ریاست میساچوسٹس کے شہر بوسٹن ؔسے تھا اور یہ اس کا واحد اکلوتا ناول ہے۔ اس کے بعد محض اکتیس برس کی عمر میں اس نے خود کشی کر لی تھی۔ یہ ناول ایک سوانحی ناول ہے اور یہ کچھ حد تک اس کی اپنی زندگی پہ اساس کرتا ہے جب کہ اس ناول کا شمار ماڈرن کلاسکس میں ہوتا ہے۔

Read more

مجاہد بریلوی صاحب کی کتاب ”فسانہ رقم کریں“

معروف کالم نگار مجاہد بریلوی صاحب کی دوسری کتاب پڑھنے کا اتفاق ہوا، جو ”فسانہ رقم کریں“ کے عنوان سے لکھی گئی ہے اور باتوں، یادوں، ملاقاتوں پر مشتمل ہے۔ کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، اول حصہ سیاستدانوں کے نام، دو م صحافی و شاعر حضرات کے لئے وقف کیا گیا ہے۔ سیاستدانوں کی فہرست میں شامل بینظیر بھٹو، پروفیسرغفوراحمد اور معراج محمد خان جیسی شخصیات کا تذکرہ تو اکثر مل جاتا ہے مگر اس کتاب

Read more

میری ٹرمپ: ڈونلڈ ٹرمپ پر کتاب کا ریویو (پہلا حصہ)

میری ٹرمپ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی بے ڈھنگی شخصیت پر مبنی کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جن میں چودہ ابواب ہیں۔ پہلے حصے کا نام ”دی کریولٹی از دا پوائنٹ“ کے پہلے باب میں خاندان کا پس منظر بیان کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کے والدین میں کمیونیکیشن گیپ بہت زیادہ تھا جس کی وجہ ٹرمپ کے والد فریڈ کی کاروباری شخصیت ہونے کی وجہ سے خاندان والوں کو وقت نہ دینا شامل ہے۔ ٹرمپ ابھی دو سال

Read more

زرار پیرزادو کے منفرد سندھی کالمز کی کتاب: ”نوٹ کرنڑ جہڑیوں گالھیوں“ (نوٹ کرنے جیسی باتیں )

سندھ کے سندھی زبان میں خدمات انجام دینے والے نامور اور منفرد صحافی اور قلمکار، بلکہ ”صحافی ابن صحافی“ ، زرار پیرزادو، تعلیمی لحاظ سے تو ”ماہر آثار قدیمہ“ (آرکیالاجسٹ) ہیں، مگر عملی میدان میں وہ 90 ء کی دہائی سے سندھی صحافت سے عملی طور پر وابستہ ہیں۔ وہ سیماب مزاج ہرگز ہیں، جس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ اپنے کم و بیش تین دہائیوں پر مشتمل مکمل صحافتی کیریئر میں فقط ایک ہی اخبار

Read more

یہ مقام ہے بابا عشق کا، یہاں ننگے پاؤں چلا کرو

یہ بات سچ ہے کہ کئی دہائیوں کے کڑے اور تھکا دینے والے مسلسل سفرکے بعد اردو غزل کی انگڑائیاں ابھی تک بھی بدستور جاری ہیں۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد وطن کی مٹی کی حفاظت کے لیے جہاں ہر محکمے اور ادارے نے بڑھ چڑھ کر دعوے کیے اور کسی حد تک ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کی وہاں ادب اور ادیب نے بھی اپنے کاندھوں پر لی گئی ذمہ داریاں خوب نبھانے کی

Read more

وزیرستان کا نوعمر مصنف: بلاول داوڑ

پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ بار بار نظر سے گزری کہ 12 سالہ بچے نے ”پشتون ہیروز“ کے عنوان سے پشتونوں کی تاریخ پر مبنی ایک کتاب لکھی ہے، یہ پوسٹ دیکھتے ہی یک دم میرے ذہن میں علامہ اقبال (رح) کا یہ شعر گردش کرنے لگا، نہیں ہے نا امید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاں اللہ رب العزت نے پاکستان

Read more

مولوی حاجی احمد ملاح: قرآن مجید کے منظوم سندھی مترجم

سندھی ادب کا ”سنہرا دور“ تو کلہوڑا دور حکومت ( 1719 ء تا 1788 ء) کو کہا جاتا ہے، لیکن ”سومرا دور حکومت“ ( 1050 ء تا 1351 ء) وہ اہم ترین دور ہے، جو سندھی زبان کے تحریری ادب کا نقطۂ آغاز ہے، جہاں سے ہمیں سندھی زبان میں تحریری ادب کی اولین نشانیاں ملتی ہیں۔ البتہ صدری ذرائع سے سندھی ادب، نثر خواہ نظم میں اس سے بھی قدیم ہے۔ سومرا دور حکومت اس حوالے سے بھی اہم

Read more

فلک زاہد کا "قدیم چرچ”

یہ ایک بھیگی ہوئی رات کا قصہ ہے جب میرا پورا علاقہ اندھیے میں ڈوبا ہوا تھا۔ میرے کمرے میں صرف ایمرجینسی لائٹ کی روشنی تھی۔ میرے موبائل اور کمپیوٹر کی بیٹری بھی بہت حد تک گر چکی تھی۔ گھر کے مکینوں کی اکثریت نیند کے ساتھ سفر پر تھی۔ مگر میں ٹیرس پر بیٹھی بارش کی آواز کے سحر میں گم تھی۔ ایسے میں میری نظر فلک کی کتاب ”قدیم چرچ“ پر پڑی اور مجھے لگا جیسے سرورق پر

Read more

خوابوں کی راہ گزر

میری یاداشت ساتھ نہیں دے رہی کہ وہ کون سی تاریخ تھی لیکن اس شام ہم جس ہستی سے روشناس ہوئے تھے وہ بہت ہی عظیم اور عالی مرتبت تھی۔ کافی دیر تو ہم اس بات کا افسوس کرتے رہے کہ ان کے بارے میں ہم اتنے لاعلم کیوں تھے۔ خیر انہیں جاننے کی خوشی زیادہ تھی اس لئے وہ افسوس پر غالب آ گئی اور ہم سب یعنی میں عاطف اور صدف تاریخ کے اس ورق سے جو کچھ بھی کشید کر سکتے تھے وہ ہم نے کیا۔ ۔ ۔ کیا شاندار انسان تھے بی ایم کٹی صاحب۔

دبلے پتلے اور آنکھوں میں بلا کی ذہانت۔ اس شام شہر کے مختلف حلقوں سے وابستہ افراد جمع تھے۔ بائیں بازوں کے کارکنوں سے لے کر پیپلز پارٹی کی کئی نامی گرامی شخصیات، سول سوسائٹی کے کے سر گرم لوگ، مزدور تحریک سے وابستہ کئی مزدور لیڈر اور کئی جامعات کے پروفیسر اور ہم جیسے دیوانے لوگ۔ ۔ ۔ پی ایم اے ہاؤس کراچی میں بی ایم کٹی صاحب کے اعزاز میں اس تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا اور ان کے سبھی یار دوست اور مداح انہیں ان کی زندگی بھر کی جدوجہد پر شاندار خراج تحسین پیش کر رہے تھے۔

Read more

سب رنگ کہانیاں اور ڈائجسٹ

کتنی ساری دوپہریں تھیں اور کتنی ہی بھیگتی راتیں جو ڈائجسٹوں کے ساتھ بسر ہوئیں۔ الیاس سیتا پوری، محی الدین نواب، عبدالقیوم شاد اور کیسے کیسے نام تھے جو پڑھنے والے کو اس کے محل وقوع سے اغوا کرکے اپنے قلم کے اعجاز سے پیدا کردہ دنیاؤں میں لے جاتے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب رشید آباد والی اختر لائبریری اور شاہ شمس روڈ والے سہیل بک سنٹر سے کرائے پر ملنے والی ٹارزن، آنگلو بانگلو، چلوسک ملوسک، عمرو عیار

Read more

تنقید کے نئے تناظر

کسی بھی ادبی پرچے کا ظاہری کردار یہ ہے کہ وہ تازہ تخلیقات کو قاری تک پہنچاتا ہے لیکن اس ظاہری کردار کے پس منظر میں کچھ اور چیزیں بھی ہیں کہ ایک اچھا مدیر نہ صرف نئی نسل کی فنی تربیت کرتا ہے بلکہ عصری و فکری مسائل پر بھی رائے دے کر ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جس میں بحث مباحثہ کے ذریعے نئے فکری رجحانات پر گفتگو ہوتی ہے۔ اسی لیے کسی ادبی پرجے کے مدیر کی

Read more

دیار شمس اور اس کا مسافر

ڈاکٹر طارق کلیم کو اللہ سلامت رکھے، ایک بار ان کے دل کا درد جاگا اور انھوں نے صحافتی ہنگامہ خیزی کے باعث زبان و ادب پر مرتب ہونے والے اثرات پرغور و فکر کا موقع فراہم کیا۔ کانفرنس بڑی کامیاب رہی کیوں کہ صحافت اور ادب، ان دونوں شعبوں کی بڑی اہم اور نمایاں شخصیات اس میں شریک ہوئیں جیسے کشور ناہید، عطا الحق قاسمی، ڈاکٹر طاہر مسعود،سید طلعت حسین، اوریا مقبول جان، ملک محمد معظم اورجناب سجاد میر۔

Read more

ایک خط کسی کا، سب کے نام: (محمد سلیم الرحمن کی کتاب ’نظمیں‘)

یہ کیسا سفر ہے ! مانوس سے نامانوس کی طرف، یا جہان معلوم سے ایک جہان نامعلوم کا۔ یا ایک انفرادی تجربے کا بیان جو بالآخر ہمیں اپنی اجتماعی دنیا تک پہنچا دے۔ ذاتی سے اجتماعی (Personal to impersonal) کا یہ مسئلہ شاعری میں بہت پیچیدہ اور مبہم ہے۔ اس پر علیحدہ بحث کی جانی چاہیے۔ پچھلے چند برسوں میں شاعری کے جو مجموعے میرے مطالعے میں آئے، یہ ان سب سے مختلف ہے۔ مختلف تو خیر ہر نئی اور

Read more

واصف علی واصف کی کتاب: حرف حرف حقیقت

یہ کتاب مجموعہ ہے حضرت واصف علی واصف کے لکھے گئے مضامین کا ’جو انھوں نے اپنی زندگی میں لکھے اور ان مضامین کو کتابی شکل میں ترتیب دیا۔ اس کتاب میں زندگی کی حقیقتوں کو بڑی خوبصورتی سے موتیوں میں پرویا گیا ہے۔ حضرت واصف علی واصف فرماتے ہیں کہ ہمارے الفاظ بہت اہم ہوتے ہیں یہ ہمیں خاص سے عام اور عام سے خاص بناتے ہیں بات تو وہی ہوتی ہے جو سب جانتے ہیں لیکن اس کو

Read more

ہندی ادب کا ”وار اینڈ پیس“ : یشپال کا ”جھوٹا سچ“

آج کے شمارہ نمبر 98۔ 99۔ 100 یعنی پورے تین شماروں میں صرف ایک ناول شایع ہوا۔ یہ مایہ ناز ہندی فکشن نگار یشپال کا ضخیم ناول ”جھوٹا سچ“ ہے۔ جسے ہندی فکشن کا وار اینڈ پیس قرار دیا گیا ہے۔ سہ ماہی آج کے برعکس اردو کے بیشتر ادبی جریدوں کو ناول کی نسبت افسانوں کی اشاعت سے رغبت خاص رہی ہے۔ ان جریدوں کے مدیروں کی جو بھی مجبوریاں رہی ہوں لیکن ان کے اس رویے کی وجہ سے ناول جیسی عظیم صنف کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

لیکن اسی صورت حال میں سہ ماہی ”آج“ اپنی اشاعت کے آغاز سے ناول جیسی فکشن کی اہم ترین صنف پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اس میں اردو اور دیگر زبانوں کے بہترین ناول تواتر کے ساتھ شایع ہوتے رہے ہیں۔ سہ ماہی ”آج“ نے نہ صرف فکشن کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے بلکہ اردو میں ناول جیسی صنف کے دوبارہ احیا میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

Read more

انیتا نائر : اسلام کو سمجھنے اور بتانے کی ضرورت ہے

ہندوستانی ادب دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ چھ برسوں میں ہندوستان بدل گیا۔ فسطائیت کا عروج ہوا۔ بی جے پی کا آئی ٹی سیل مسلم مخالفت میں تمام حدود سے تجاوز کر گیا؟ حضرت محمد کے خلاف بولنے والے بھی بی جے پی سے واہ واہیاں لوٹتے نظر آئے۔ زی نیوز جیسے ٹی وی چینلز باضابطہ اسلام مخالفت میں سامنے آ چکے ہیں۔ پاکستانی بھگوڑے کو بلا کر قرآن شریف، حدیث کی حرمت پامال کی جا رہی ہے۔ چند

Read more

کرامت علی: راہ گزر تو دیکھو

1968۔ 70 کے دوران کراچی یونیورسٹی میں جمعیت کا راج تھا۔ سات سال قبل حسین نقی کے این ایس ایف کے پلیٹ فارم سے جیتنے کے بعد سے جمعیت یونین کے الیکشن جیتتی چلی آ رہی تھی۔ این ایس ایف دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ کاظمی گروپ اور رشید گروپ۔ لیکن یونیورسٹی سے باہردنیا بدل رہی تھی۔ پیپلز پارٹی کا قیام عمل میں آ چکا تھا اور اس کا روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ عوام کے لئے

Read more

باغ و بہار: اپنے عہد کی اجتماعی زندگی اور تہذیبی احوال و آثار کی مستند دستاویز

”باغ و بہار“ میرامن دہلوی کی داستانوی کتاب ہے جو انہوں نے فورٹ ولیم کالج میں ”محسن اردو“ جان گلکرسٹ کی فرمائش پر لکھی۔ داستانوں میں جو قبول عام ”باغ و بہار“ کے حصے میں آیا ہے وہ اردو کی کسی اور داستان کو نصیب نہیں ہوا۔ عوام اور خواص دونوں میں یہ داستان آج بھی اتنی ہی مقبول ہے جتنی آج سے پونے دو سو برس پہلے تھی۔ اس کی غیر معمولی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ اس

Read more

زمان خان دانش سے مکالمہ کرتے ہیں

بہت پرانی بات ہے۔ جب ٹی ہاوس بند ہوا تو ہم چند دوست ہر اتوار کی شام نیرنگ گیلری میں بیٹھنے لگے۔ نیر علی دادا نے اتوار کی شام وہاں گذارنے کی پر خلوص رعایتوں بھری دعوت عام ہمیں دے رکھی تھی اور ہم برسوں اس سے پورا پورا استفادہ کرتے رہے ۔ زمان خاں سے میرا تعارف وہاں پر ہوا۔ وہ ان دنوں جناب آئی اے رحمان کی ہمراہی میں ہیومین رائٹس کمشن کے سٹاف پر تھے۔ اس سے

Read more

ایلف شفق کا ناول: دس منٹ اڑتیس سیکنڈز، اس عجیب دنیا میں

ایلف شفق ؔ ایک ایوارڈ یافتہ برٹش ٹرکش ناولسٹ ہیں اور ترکی میں سب زیادہ پڑھے جانے والی خاتون لکھاری ہیں ان کا کام پچاس زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ ایلف ؔ کا ناول، ’‘ دس منٹ اڑتیس سیکنڈز، اس عجیب دنیا میں ”، ایک حیرت انگیز ناول ہے۔ اس کی قرات کے بعد آپ خود کو مجبور پاتے ہیں کہ اس پہ بات کی جائے۔ یہ ناول سن دو ہزار انیس عیسوی کے بکر پرائز کے لئے شارٹ

Read more

محترمہ فاطمہ جناح اور ان کی کتاب ”میرا بھائی“

ایک رات پہلے وہ شادی کی تقریب میں شامل ہوئیں اور اگلی صبح، حسب روایت، اخبار لینے کے لئے ان کے کمرے کا دروازہ نہ کھلا۔ جب کافی دیر تک دروازہ نہ کھلا تو لیڈی ہدایت اللہ کی موجودگی میں غسل خانہ کی کھڑکی توڑی گئی، کمرے میں جاکر معلوم ہوا کہ محترمہ فاطمہ جناح خالق حقیقی سے جا ملی ہیں۔ اپنی ”مادر ملت“ کے ساتھ دوران زندگی ”زندہ دل“ قوم نے جو کیا وہ تو باعث شرمندگی ہے ہی مگر 9 جولائی ( 1967 ) کو ان کی ہونے والی ”موت“ نے بھی بہت سے سوالوں کو جنم دیا:

جیسا کہ وفات سے قبل فاطمہ جناح ”قصر فاطمہ“ کے تمام دروازے بند کروا کے چابی اپنے پاس منگوا لیا کرتی تھیں اور اگلی صبح کھڑکی سے چابی نیچے پھینک دیتی تھیں۔ تو فاطمہ جناح کو یہ کس قسم کا ڈر تھا؟ محترمہ کا آخری دیدار کیوں نہ کرنے دیا گیا؟ ان کے جنازے پر لاٹھی چارج کس کے حکم پر ہوا؟ محترمہ کی وفات کے بعد قائداعظم کے بھانجے، اکبر، ایوب خان کے دور میں پاکستان آئے، انہوں نے فاطمہ جناح کے قتل کی تحقیقات کرانے کی درخواست کی تو انہیں ”کورا“ جواب کیوں دیا گیا؟

Read more

کشمیر کو بچا لو: جبار مرزا کا کشمیری نوحہ

کون با ذوق قاری ہو گا جو جبار مرزا کو نہیں جانتا۔ آپ انہیں دنیائے شعر و ادب اور تحقیقی صحافت کے امام کا درجہ سکتے ہیں۔ اعلیٰ پایہ کے نثر نگا ر سینئر صحافی، محقق، مورخ، سوانح نویس، مدیر اور کالم نگار یہ آپ کی شخصیت کے مستند حوالے ہیں۔ ” کشمیر کو بچا لو“ جبار مرزا کی 21 ویں اہم اور تاریخی دستاویز پر مشتمل کتاب ہے۔ جو حالیہ کرونائی عہد میں لکھی گئی ہے۔ کشمیر جبار مرزا

Read more

بانیان پاکستان اور ملک کی موجودہ صورتحال!

مؤرخ ’مصنف‘ کالم نویس ’منتظم ڈاکٹر صفدر محمود ادارہ قومی تحقیق و حوالہ‘ وزارت اطلاعات و نشریات کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں 1971 ء میں اعلیٰ مرکزی سروسز کے لئے منتخب ہوئے اور مختلف انتظامی عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر صفدر محمود حکومت پنجاب کے محکمہ اطلاعات و ثقافت اور بعد ازاں محکمہ تعلیم کے سیکرٹری بھی رہے قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ پاکستانیات میں تعلیم دیتے رہے ’پوسٹ گریجوایٹ کلاسز کو نہ صرف تاریخ پاکستان کی تعلیم

Read more

اورنگ زیب عالمگیر کے فرامین اور ہندو مندر

’پاک سر زمیں‘ کے دارالحکومت ’اسلام آباد‘ میں آج کل ایک ہندو مندر کی تعمیر بارے گفت و شنید زوروں پر ہے۔ ’مجاہدین اسلام‘ اورچند موقع پرست سیاسی جماعتیں اپنے اپنے تیر اور جگر آزمانے میں مصروف ہیں۔ ایک دفعہ پھر ’اسلام خطرے میں ہے‘ کی دہائی ہے۔ بہرحال، اس سارے قضیے میں اس بات پہ تو سب متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ میں غیرمسلموں کی عبادت گاہوں کا ہر لحاظ سے تحفظ کیا جانا چاہیے۔ تنازع

Read more

علی سفیان آفاقی کی کتاب "فلمی الف لیلیٰ”

بچپن سے ہی مجھ کو فلم سے جنون کی حد تکا لگاؤ تھا، نا صرف فلم دیکھنا بلکہ فلم کے بارے پڑھنا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا، اسی لیے فیملی میگزین یا اخبار جہاں اگر پڑھتا تو شوبز والے سیکشن سے ہی شروعات کرتا (اکثر وہیں تک ہی محدود رہتا ) ۔ یہ2012 کی بات ہے جب پہلی دفعہ میں نے فمیلی میگزین میں علی سفیان آفاقی کی ”فلمی الف لیلی“ کے نام سے آپ بیتی پڑھی تو اسی میں ہی

Read more

سب رنگ کہانیاں۔ سب رنگ کا عشق مشترک

سب رنگ ہم نے اس کی اشاعت کے پہلے یا شاید دوسرے سال میں پڑھنا شروع کیاتھا اور اس کی اشاعت کے آخری سال تک پڑھا۔ اس میں تب کی پڑھی ہوئی کہانیاں آج چالیس پینتالیس سال بعد بھی یاد ہیں۔ پرانی کتابوں کی الماری سے اگست 1971 کا سب رنگ کا شمارا چند دن قبل ملا تو اس میں ماں پر موپساں اور ولیم سمرسٹ ماہم کی کہانیاں پڑھ کر ماضی میں سب رنگ میں پڑھی ہوئی بہت سارے

Read more

وباؤں کا خاتمہ: انسانیت کے لئے منڈلاتا ہوا خطرہ اور اسے کیسے روکا جائے

کتاب ”وباؤں کا خاتمہ: انسانیت کے لئے منڈلاتا ہوا خطرہ اور اسے کیسے روکا جائے“ ( 2018 ء) ڈاکٹر جوناتھن ڈی کوئیک کے خیالات۔ ”اگر آپ یا آپ سے محبت کرنے والے لاکھوں افراد میں سے کوئی ایک مہلک بیماری سے ہلاک ہو سکتا ہے تو کیا ہوگا؟ آپ کو نمبروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیسا کہ میں نے بھی دیے ہیں، میں آپ کی آنکھوں کو قریب سے دیکھتا ہوں، تو آپ بھی میری آنکھوں میں دیکھیں، نمبر

Read more

پاکستانی پارلیمنٹ پر ’خداؤں‘ کا سایہ ہے!

پارلیمنٹ کو کسی بھی جمہوری ملک میں ’اداروں کی ماں‘ کہا جاتا ہے۔ کیونکہ پارلیمنٹ ہی دیگر ریاستی اداروں کو وجود بخشتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں پارلیمنٹ کی کیا حیثیت ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایسے تمام مصنفین جنہوں نے پاکستانی ریاستی اداروں پر بہت کچھ لکھا ہے، انہوں نے پاکستانی پارلیمنٹ کو بطور ادارہ دیکھنا اور لکھنا مناسب نہیں سمجھا۔ اسی کمی کو ڈاکٹر محبوب حسین نے شدت سے محسوس کیا

Read more

عزیز احمد کے ناول ’آگ‘ میں سلگتا ہوا کشمیر

ایک جہنم وہ ہے جو افلاطون کے بیان کردہ عالم امثال میں ہے اور جو ہمارے اجتماعی لاشعور سے منعکس ہوتا ہوا ہمارے شعوری تصورات میں مبہم طور پر موجود رہتا ہے۔ مختلف اقوام کی اساطیر سے لے کر الہامی کتب تک جابجا اس جہنم کا بیان نافرمانی کے مرتکب لوگوں کے لیے سامان عبرت کے طور پر موجود ہے۔ مغرب میں نشاۃ ثانیہ کے اریب قریب دانتے نے ”ڈیوائنا کامیڈیا“ میں اپنے پر بہار تخلیق کے زور پر اس

Read more

کتابیں: محبت کی پیامبر

میری کتابوں سے محبت بہت چھوٹی عمر سے شروع ہویٰ اور شاید اس کی وجہ تھی کہانی کی کتابیں، کہانی کی کتابیں جو پڑھنے والے کو کسی اور دنیا میں لے جاتی ہیں۔ اس دنیا میں جہاں تصور کی سلطنت میں مادی رکاوٹیں اس حیثیت کی حامل نہیں ہوتیں جو کہ حقیقی دنیا میں وہ رکھتی ہیں۔ کہانی کی دنیا تو تصور کی آزادی اور خیال کی پرواز کی دنیا ہے، جہاں آپ وہ سوچتے اور پڑھتے ہیں جس کا

Read more

ناول” خوشبو کی ہجرت” کے بارے میں

بظاہر ایک ناول کا مطالعہ نامعلوم سے معلوم کے سفر جیسا ہے۔ یعنی مطالعے سے پہلے وہ ہمارے لیے ایک نامعلوم جزیرے کی طرح ہوتا ہے۔ جیسے ہی ہم اسے پڑھنا شروع کرتے ہیں، نامعلوم ہمارے لیے دھیرے دھیرےمعلوم میں تبدیل ہونے لگتا ہے اور مزید کچھ وقت گزرنے کے بعد ہم اس معلوم کے اس درجہ عادی ہوتے چلے جاتے ہیں کہ ہم یہ بھی فراموش کردیتے ہیں کہ ناول کے صفحات پرلفظوں کی قطاروں کے پیچھے حرکت کرتا

Read more

کون مظلوم مصنف؟ پبلشر؟ یا قاری۔ ؟

یقین کریں کچھ صحافیوں ادیبوں میں بلا کا مطالعہ ہو تا ہے۔ وہ کتاب سے محبت اور عشق کرنے میں انگریز کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ جو کہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے کہ ان سے بڑا کتب بین کوئی کیا ہوگا۔ پچھلے تین چار ماہ سے کرونا نے سب لکھنے پڑھنے والوں، آوارہ منش ادباء اور شعراء اور سفر نامہ نگار سیلانیوں کو گھر بٹھا دیا ہے۔ ان میں جو سیانے نکلے انہوں نے تخلیق کے کرب کو انجوائے اور قلم

Read more

بے نظیر۔ ایک سوانحی ناول

سوانح عمری ایک انسان کی پیدائش سے موت تک کے افعال کا بیان ہے۔ یا یوں کہیے کہ ایک انسان کی حیات یا تاریخ ہے۔ سوانح نگاری کے سلسلے میں اردو ادب میں نیا تجربہ سوانحی ناول کی صورت میں کیا گیا جو کا میاب رہا۔ سوانحی ناول، سوانح اور ناول کا حسین امتزاج ہے۔ کسی سوانح کو جب افسانوی رنگ دے کر ناول کی تکنیک برتتے ہوئے پیش کیا جائے تو وہ سوانحی ناول کہلاتی ہے۔ سوانحی ناول میں

Read more

شاہد علی خان: قرنطینہ کی کورونا ڈائری

مجھے چینی خاتون ووین کے بارے میں علم تھا، کہ اس نے ڈائری لکھی اور چینی حکومت اسے گرفتار کرنے کے لئے حیلے بہانے تلاش کرنے لگی۔ کورونا ایک حقیقت ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ہر ایک صدی کے بعد ایسا دیکھنے کو ملا ہے کہ انسان اور فطرت ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ فطرت کی فتح ہوتی ہے۔ اور انسان از سر نو زندگی کے تماشے میں الجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ جنگ کبھی

Read more

ڈھاڈری۔۔۔ ایک سوانحی ناول

اردو ادب میں سوانح نگاری اور ناول نگاری دو الگ اصناف نثر ہیں۔ سوانح ناول کی گنجائش قارئین کی دلچسپی کے عنصرکو بڑھانے کے لیے نکالی گئی لیکن کسی ناول کو سوانح قرار دینا ایسا کچھ آسان بھی نہیں جب تک متن میں ہر دو اصناف کے بنیادی اجزا دکھائی نہ دیں۔ ناول نگار کا نقطہ نظر ہی ناول کی ہیئت کا تعین کرتا ہے۔ آپ بیتی کے اسلوب میں ناول ڈرامائی فارم اختیار کرلیتا ہے تب جس زاویے سے

Read more

بھاگ بھری: دہشت اور جنون کا مطالعہ

 ”میں جب سے اس گاؤں میں بیاہ کر آئی یہاں مسلمانوں کو ہی بستے دیکھا۔ ہاں البتہ گاؤں کی ایک پسماندہ گلی میں عیسائیوں کے کچھ گھر ضرور تھے، جو پورے گاؤں کی بطور بھنگی دیکھ بھال کرتے تھے۔ اس چھوٹی سی آبادی کے مسلمان بھی کیسے تھے، پورے گاؤں میں کوئی باقاعدہ مسجد نہ کوئی امام! حصول ِعلم ِدین کے لئے کوئی باقاعدہ مدرسہ نہ مدرس! تبلیغی جماعت کا کوئی ماہانہ درس اور نہ ہی چلّہ کاٹنے والے زاہد

Read more

سب رنگ نگار خانہ: ایک خواب کی تعبیر

”سب رنگ ڈائجسٹ“ اور شکیل عادل زادہ کے ان گنت عاشق ہیں۔ انھی میں ایک حسن رضا گوندل کا نام نمایاں ہے۔ حسن کا تعلق منڈی بہا الدین سے ہے، لیکن روزگار کے سلسلے میں برمنگھم میں مقیم ہیں۔ دو ہزار سولہ کے آخری مہینوں میں حسن میرے پاس کراچی آئے۔ غرض یہ تھی کہ شکیل عادل زادہ سے ملاقات کی جائے، نیز انھیں اس بات پر قائل کیا جائے کہ ”سب رنگ ڈائجسٹ“ کی کہانیوں کو کتابی صورت میں شایع کیا جائے۔ ایسا کئی بار ہوا، جس کسی پبلشرز کے علم میں آتا، میرا شکیل عادل زادہ سے انس کا تعلق ہے، وہ مجھ سے ضرور یہ مطالبہ کرتا کہ ”سب رنگ ڈائجسٹ“ کی کہانیوں کو کتابی صورت میں شایع کرنے کی اجازت لے دوں۔ میں نے ایک پبلشرز سے پوچھا، کیا شکیل بھائی کو کچھ رقم دی جائے گی؟ جواب یہ رہا، بدلے میں، وہ میرا ناول مفت میں چھاپ دے گا۔ اس پیش کش سے اندازہ ہوتا ہے، ہمارے یہاں لکھنے والا اپنی کتاب شایع کروانے کے لیے جیب سے خرچ کرتا ہے۔ میں نے موصوف کو انھی کے لہجے میں جواب دیا، ”جب میں ناول لکھوں گا، تب آپ سے رابطہ کروں گا“ ۔

Read more

مرزا اطہر بیگ کے ناول "غلام باغ” کا مختصر جائزہ

اردو ناول کی سو سوا سو سال پرانی تاریخ میں ہمیں اکا دکا علامتی اور تجریدی ناول تو مل جائیں گے، شاید ایک آدھ اینٹی ناول بھی مل جائے، مگر ایسا ناول شاید ہی ملے جو اپنے اندر بہ یک وقت کئی رجحانات سموئے ہوئے ہو۔ یعنی وہ بہ یک وقت حقیقی بھی ہو، علامتی اور تجریدی بھی ہواور اینٹی ناول بھی ہو۔ اسے ہماری یا اردو زبان کی خوش نصیبی کہیے کہ اب ہمارے پاس غلام باغ کی صورت

Read more

کتاب پر تبصرہ: رجب طیب اردوغان

نام کتاب : رجب طیب اردوغان مصنف : ڈاکٹر راغب السرجانی مترجم : ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی تبصرہ نگار : شیخ زید مشکور احمد ندوی صفحات : 328 قیمت : 250 ناشر : ہدایت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز، نئی دہلی، انڈیا۔ ملنے کے پتے : مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، 307۔ D، ابوالفضل انکلیو، اوکھلا، نئی دہلی 110025۔ منشورات پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز، 61۔ D جامعہ نگر، اوکھلا، نئی دہلی 110025۔ پاریکھ بک ڈپو، ٹیگور مارگ، ندوة العلماء روڈ، ڈالی

Read more

چھانگیا رکھ – بلبیر مادھوپوری کی آپ بیتی

’چھانگیا رکھ‘ بلبیر مادھوپوری کی آپ بیتی ہے جو سن دو ہزار دو میں پنجابی زبان میں شائع ہوئی تھی۔ اس کتاب کے متعدد زبانوں میں تراجم کیے جا چکے ہیں۔ دو ہزار دس میں آکسفورڈ پریس نے اس کا انگریزی ترجمہ شائع کیا۔ یوں ’چھانگیا رکھ‘ دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں تک پہنچ گئی۔

’چھانگیا رکھ‘ کو ’دلت لٹریچر‘ میں اہم مقام حاصل ہے۔ دلت لٹریچر میں ہندوستان کے اچھوت ذاتوں سے تعلق رکھنے والے ادیبوں اور شاعروں نے اپنے مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ دلت لٹریچر مظلوم اور پسے ہوئے طبقے کی پکار ہے۔

Read more

جاتک کہانیاں اور آصف فرخی

نور عنایت کی انگریزی میں مرتب کردہ ’جاتک کہانیاں‘ کا آصف فرخی کا اردو ترجمہ ابھی ابھی تو پڑھا تھا اور پڑھ کر ایک طرح کا سکون اور اطمینان محسوس ہوا تھا کہ کوئی تو ایسا ہے جو آج کے دنوں میں، جب ادبا و شعرا اپنی شہرت اور اپنی خود نمائی کے لیے مغربی ادب کے دامن میں پناہ لینے پر فخر کرتے ہیں، مشرقی ادب کی بازیافت کر رہا ہے۔ امید تھی اور یقین بھی تھا کہ وہ مشرق کے ایسے ہی مزید چھپے ہوئے خزانوں کو ہمارے سامنے لائیں گے۔

لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے، انہیں کسی اور منزل کی طرف روانہ ہونے کی جلدی تھی، وہ روانہ ہو گئے۔ ’چپ چاپ‘ گوتم بدھ کی طرح جیسا کہ ’جاتک کہانیاں‘ کے تعارف میں انہوں نے لکھا ہے : ”وہ (گوتم بدھ) کپل وستو کے راج کمار تھے لیکن انہوں نے اس دنیا کے بارے میں جب سوچنا شروع کیا تو اس زندگی سے اکتا گئے۔ عیش و آرام کی زندگی سب کو چھوڑ کر ایک دن چپ چاپ اکیلے ہی چل دیے“ ۔

Read more

صدر الدین ہاشوانی کا ”سچ کا سفر“

اپنے ارد گرد خوشحال چہروں کو دیکھ کر انسان اندازہ نہیں لگا سکتا کہ یہ لوگ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے ہیں یا ان کے پیچھے برسوں کی مشقت کا تھکا دینے والا سفر ہے۔ جناب صدرالدین ہاشوانی بھی ایسے ہی چہروں میں سے ہی ایک ایسا چہرہ ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو وقت آنے پر خود ہی اس راز سے پردہ اٹھا دیتے ہیں کہ دودھ اور شہد کی یہ نہریں جو

Read more

فدا محمد ناشاد اور مرثیہ نگاری

” متاع فکر“ میرے ہاتھوں میں ہے اور میں اس میں گم ہوں۔ مرثیہ ہے ”مدینہ سے کربلا تک“ مسدس کا وھی کرافٹ، الفاظ کے چناؤ میں وھی شائستگی اور احتیاط، عقیدت کا وھی انداز، وھی حفظ مراتب کا خیال جو کلاسیکل شعراء کے ہاں مستعمل ہیں اور پھر کربلا کی وھی دردناک داستان جس کے پڑھنے سے جگر لخت لخت ہو جاتا ہے۔ اردو میں لکھے گئے اس مرثیے میں سلاست، طرزبیاں اور فکری روایت مجھے میر ببر علی

Read more

مظلوموں کی تعلیم

مظلوموں کی تدریس پاولو فرارے کی لکھی ہوئی کتاب ہے جس کو تعلیم کے میدان میں وہی مقام حامل قرار دے سکتے ہیں جو انگریزی ادب میں شیکسپیئر کے ڈرامے جولیس سیزر کو حاصل ہے۔ پاولو فرارے موجودہ دور کے چند گنے چنے ماہرین تعلیم میں سے ہیں جنہوں نے تعلیم کے تصور کو اور فلسفے کو ایک نئی سمت دی ہے۔ اگر آپ تعلیم کو ترقی، خود اعتمادی، سماجی انصاف کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں تو اس کتاب

Read more

اختر رضا سلیمی کی ناول نگاری

ناول نگاری ادبی اصناف میں ایک ایسی صنف ہے جو مصنف کے خیال کے اظہار کے لیے اپنا دامن اتنا وسیع کر دیتی ہے کہ جس کی وسعت کو سمندری وسعت سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ یہ نہیں کہ ناول بے شتر مہاڑ گھوڑا ہے جس کی کوئی روک ٹوک نہیں بل کہ جتنا وسیع خیال کا دامن ہوتا ہے اتنی ہی زیادہ محنت اور جتن ناول نگار کو لکھنے کے دوران میں کرنے پڑتے ہیں۔ وہ تب جاکر

Read more

جاوید صدیقی کے خاکوں کا روشن دان

جاوید صدیقی کے خاکوں کی کتاب ’روشن دان‘ ایسی روشن، قیمتی اور دلچسپ شخصیات سے متعارف کراتی ہے کہ کچھ دیر کے لئے جاوید صدیقی سے حسد ہونے لگتا ہے کہ کیسی نایاب کہکشائیں انہیں میسر رہیں اور وہ ان کے ساتھ رشتوں میں جڑے رہے۔ اس کتاب میں دس شخصی خاکے ہیں۔ خاکے کیا ہے، محبت نامے ہیں اور کہانیاں ہیں جو پل پل مڑتی ایک نئی کروٹ لیتی چلی جاتیں ہیں۔ ان خاکوں کا مزاج اردو کے روایتی

Read more

شبنم گل کا سندھی مجموعۂ کلام ”درد جی لے“

شبنم گل سندھی کی معروف و منفرد افسانہ نویس، ناول نگار، کالم نویس، شاعرہ اور دانشور کے طور پر پچھلی کم و بیش تین دہائیوں سے اپنی منفرد و ممتاز پہچان رکھتی ہیں۔ گوکہ شبنم بنیادی طور پر ایک فکشن نگار ہیں، مگر شاعری کے میدان میں بھی انہوں نے برسوں سے قلم آزمایا ہے، اور قارئین خواہ نقاد کی توجہ بھی حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ ان کی شاعری کی پہلی کتاب ”آخری لفظ“ کے عنوان سے شایع

Read more

رچرڈ بیوک اور شعور کا ارتقا

RICHARD BUCKEکا شمار بیسویں صدی کے صف اول کے ماہرین نفسیات و روحانیات ’فلسفیوں اور دانشوروں میں ہوتا ہے۔ انہیں اپنی درویشانہ شخصیت کی وجہ سے اتنی بین الاقوامی شہرت نہیں ملی جس کے وہ مستحق تھے۔ رچرڈ بیوک 1837 میں انگلستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد HORATIO BUCKE پادری تھے۔ انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ انگلستان سے کینیڈا ہجرت کی اور لندن اونٹاریو میں سکونت اختیار کی۔ رچرڈ بیوک نے پہلے اپنے والد کے ساتھ کھیتوں میں

Read more

مولانا مودودی سے زاہد حسین چھیپا تک

ہم جیسوں کی عمر کا بڑا حصہ ایک خاص قسم کے دور جاہلیت سے گزرتا ہے۔ بچپن سے ہی قرآن پاک کا ادب آداب سکھا دیا جاتا ہے۔ ایسے نہیں پکڑنا، اونچی جگہ پر رکھو، غلاف میں لپیٹ کر رکھو، پاک ہو کر ہاتھ لگانا ہے، ادب کے ساتھ بیٹھ کر پڑھو، آہستہ آواز میں پڑھو، ٹھہر ٹھہر کر پڑھو، ستر ڈھانپ کر پڑھو، ٹوپی پہن کر پڑھو وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب اپنی جگہ ضروری، لیکن اس کا ایک نتیجہ

Read more

سرائیکی زبان میں آقائے دو جہاں سے محبت کے اظہار کا عقیدتوں بھرا سفر

وجہ تخلیق کائنات کی شان، فضیلت، تعریف بیان کرنے کو اردو میں نعت کہتے ہیں جبکہ عربی زبان میں نعت کے لئے لفظ ”مدح رسول“ استعمال ہوتا ہے۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی انداز بیاں کو نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔ اسلام کی ابتدا میں بہت سے صحابہ اکرام نے نعتیں لکھیں اور حضورؑ کی شان کو بیان کرنے کا یہ سلسلہ آج تک جاری و

Read more

محبت اور ترس میں فرق کی نفسیات

اسٹیفن زیویگ (Stefan Zweig) یورپ کے ان چند ادیبوں میں سے تھا کہ جس کے کام پر لوگوں کی نظر بہت بعد میں پڑی۔ ایک وجہ یہ تھی کہ اس کے عہد میں یورپ میں بڑے دیو قامت ادیب موجود تھے۔ دوسری وجہ یہ کہ زیویگ کا دور خوفناک جنگوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ زیویگ کو خود اپنی حیات میں سکون نہیں مل سکا۔ جنگ عظیم دوئم سے بھاگ کر وہ لاطینی امریکا چلاگیا۔ لیکن وہاں وطن کی تباہی و

Read more

بشریٰ اقبال ملک کا افسانوی مجموعہ: مجمعے کی دوسری عورت

بشری اقبال ملک کے پہلے افسانوی مجموعے ”حیات نو یافتہ“ کی اشاعت کے ایک لمبے عرصے کے بعد مصنفہ کا دلنشین سرورق کے ساتھ 28 افسانوں پر مشتمل مجموعہ ”مجمعے کی دوسری عورت“ پڑھنے کو ملا۔ مصنفہ نے اس مجموعے کے زیادہ تر افسانوں میں نہایت موثر انداز میں عورتوں کے حقوق کو سلب کرنے والے، مذہب کو سیاسی کارڈ کے طور پر استعمال کرنے والے اور انسانوں کے انسانوں کو مختلف رنگ میں بیوقوف بنا کر اپنے مقاصد کے

Read more

جندر: داستان گوئی کی تجدید

میں داستان گوئی کو متروک صنف سمجھ چکی تھی۔ مگر کبھی کبھی دل میں اُس کی یاد تازہ کرنے کے لئے ”ناپا “یا ”آرٹس کونسل“ میں داستان گوئی کے کسی پروگرام پر پہنچ جاتی جہاں سفید لبادوں میں ملبوس داستان گو اسٹیج پر بچھی چاندنی پر بیٹھ کر عوام کی نبض پر ہاتھ رکھے بغیر ہی رٹی رٹائی داستان سناتے چلے جاتے تھے۔ یہ مُٹھی بھر لوگ تھے جو پاک و ہند میں داستان گوئی کے احیاءپر کام کر رہے

Read more

مئی میں "دسمبر کی رات” اور کتابوں کی چھانٹی کا غم

کتابوں کی چھانٹی اور انہیں لائبریری بدر کرنا میرے لیے ایسا ہی عمل ہوتا ہے جیسا نئی کتابوں کا آنا اور انہیں لائبریری میں سجانا۔ آجکل میں اسی عمل سے گزر رہا ہوں۔ چاہے کوئی عام سی کتاب ہو مجھے اس کو چھانٹی کا مال بناتے ہوئے بڑا دکھ ہوتا ہے۔ کتاب دوست کی طرح ہوتی ہے اور اسے لائبریری سے رخصت کرتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے دوست کو رخصت کر رہے ہوں۔ میری عادت ہے کہ چھانٹی کے

Read more

کیا اسلامی انقلاب جیسی اصطلاحات بیسویں صدی کی اختراع ہیں؟

حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب، ”مذہبی انتہا پسندی“ (اسلامی انقلاب و حکومت اور جوانی بیانیہ) از شمس الدین حسن شگری کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں مکتبہ خلافت ( اہل سنت) اور مکتبہ امامت ( اہل تشیع) دونوں مکاتب فکر کے قدیم اور جدید اہل علم کی آرا کو پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کے پیش لفظ میں ڈاکٹر روش ندیم لکھتے ہیں کہ مسلم دنیا میں مقامی جدیدیت کا عمل سب سے پہلے

Read more

قاضی علی، کولاج اور کتاب کی افادیت

ہمیں بہت سی کتابیں تحفتہً ملتی ہیں۔ جنہیں ہم، کبھی پڑھ کر اور کبھی پڑھے بغیر، ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ کتابیں الماریوں میں پڑی رہتی ہیں اور ہم انہیں بھول جاتے ہیں۔ اور پھر برسوں گزر جانے کے بعد الماریوں کی صفائی یا کیڑے مار دوائیوں کا اسپرے یا کتابوں کی چھانٹی کرتے ہوئے کہ نئی کتابوں کی جگہ بن سکے، کچھ کتابیں پھر سے ہمارے سامنے آ جاتی ہیں اور ہم انہیں پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ میرے

Read more

ثمینہ سید کی تصنیف: ہجر کے بہاؤ میں

چند سال پہلے کی بات ہے محفل مشاعرہ تخلیقی جلوہ کاریوں سے منور تھی۔ شعرائے کرام تذکیر و تانیث کے حسین امتزاج کے ساتھ نوبت بنوبت ڈائس پہ جلوہ گر ہو رہے تھے۔ رنگ محفل روایتی انداز میں حدود اختتام کو چھونے کے لئے کوشاں تھا کہ کھنکتی، جھنکتی، چھنکتی آواز نے سماعتوں کی گہرائیوں کو چونکا دیا۔ چہرے پہ دمک اٹھتا ہے جب رنگ حیا اور ایسے میں مزہ دیتی ہے اپنی ہی ادا اور تبحر عمیق سے پھوٹتے اعتراف

Read more