فرخ سہیل گوئندی کمال کے انسان ہیں۔ تین چار مشکل لیکن دل چسپ شوق پال رکھے ہیں۔ جن میں ان کی جہان گردی جو اب ان کی شخصیت کا حصہ بن چکی ہے۔ دوسرا لکھنا، جو ان کی سرشت میں شامل ہے۔ بھٹو سے بھگت سنگھ پر اور سماج کے زوال پر اور سلطنت عثمانیہ کا ترکی پر بے تکان بولتے ہیں۔ تیسرا، اچھی تحقیقی اور لطیف اور ذوق جمالیات پر مبنی کتابیں شوق سے اپنے پبلشنگ ادارے سے چھاپتے ہیں اور پھر جتنا ہو سکے اپنے پلے سے اچھے ہوٹلوں میں لنچ ڈنر کے ساتھ ان کتابوں کی تقریب رو نمائی بھی کر گزرتے ہیں۔
کم عمری میں بھٹو کے سحر میں مبتلا ہوئے اور ان کی کچی قبر کی مٹی سے تجدید نو کر کے اٹھے کہ اس بکھرتے سماج کے حوالے سے اپنی تئیں ایک مثالی اور با مقصد جد و جہد زندگی بھر کرتے رہیں گے۔ چوں کہ وہ مطالعے کے رسیا اور کتاب کو گھول کے پینے والوں میں سے تھے، سو انہیں لکھنے کا ڈھنگ آہنگ بھی اوائل عمری میں آ گیا تھا۔ لکھنے کے لگے بندھے اصولوں کے وہ قائل نہ تھے، سو انہوں نے چل پھر کے اور گھاٹ گھاٹ کے پانی پینے ہی میں دانش مندی کا ثبوت دیا، اور اصل حقیقت اور اصل بات کی تہیہ تک اتر جانے ہی میں اپنی بقا اور شناخت سمجھی۔ شخصیت پرستی کے طلسم کو اور شرم و جھجک کو بالائے طاق رکھتے ہیں، سو ان کے کیے گئے اور لکھے گئے خاکے اور انٹرویو سب سے الگ مستند اور تاریخ کا ریفرنس قرار پائے ہیں۔
Read more