میں تمثال ہوں: فحاشی کے الزام کا جواب

آج کل عارفہ شہزاد کا ناول "”میں تمثال ہوں“ ادبی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ یہ کتاب ٹھیک دو دن پہلے میرے ایک قریبی دوست نے عنایت کی تھی۔ اس وقت یہ کتاب میرے سامنے ہے جس کو میں تین نشستوں کے بعد مکمل کر چکی ہوں۔ کتاب درحقیقت ایک خودنوشت ہے جو مرکزی کردار تمثال کے گرد گھومتی ہے۔ کتاب کے اندر تمثال اپنی زندگی کے اتار چڑھاؤ بیان نہیں کرتی نہ ہی وہ یہ بیان کرتی دکھائی دیتی

Read more

’نطق‘: آج کے ترکی کی کامیابی کا منشور

ترکی پاکستان کے سیاسی، صحافتی، علمی، ادبی اور عوامی حلقوں میں اب ایک مقبول موضوع بن چکا ہے۔ لیکن ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ اس حوالے سے ہمارے ہاں حال میں لکھی جانے والی تحریریں، کالم، مضامین اور سوشل میڈیا پر وی لاگز، سب تحقیق اور معلومات سے کوسوں دور ہیں۔ کسی قوم، ملک اور سماج کو جاننے کے لیے، تحقیق کے لیے عرق ریزی کرنا پڑتی ہے۔ دعوؤں، خواہشات اور تصورات پر کسی سماج، قوم اور تہذیب کو

Read more

علی اکبر ناطق کے افسانوی مجموعے ”قائم دین“ اور ”شاہ محمد کا ٹانگہ“

علی اکبر ناطق کے عقیل سین کی وساطت سے موصول ہونے والے دونوں افسانوی مجموعے ”قائم دین“ اور ”شاہ محمد کا ٹانگہ“ پڑھ لیے ہیں۔ اس عمل سے کشید کیا گیا لطف قطرہ قطرہ چکھتا رہوں گا، اب دیکھیں صراحی کتنا عرصہ ساتھ دیتی ہے ؛ بعد میں پھر صراحی پانی سے بھر کر عرق کے عرق کا سواد لے لوں گا۔ ناطق کا طریقہ واردات زبردست ہے۔ قاری کو اپنے ساتھ لیے چلتے چلے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ؛

Read more

میں تمثال ہوں: اردو کے بیضہ مور ناقدین اور فحاشی کا الزام

کچھ دن قبل، میں نے ”میں تمثال ہوں“ کے متعلق ایک تبصرہ لکھا جو ”ہم سب“ پر شائع ہوا۔ جیسے ہی وہ تبصرہ فیس بک پر شیئر کیا، مجھے بہت سے میسجز موصول ہونے لگے جن میں ناول کی تکنیک، کردار نگاری، منظر نگاری اور اسلوب کے حوالے سے اعتراض اٹھائے گئے تھے۔ کچھ دوستوں نے چند مشہور ادبی شخصیات کے اس ناول پر لکھے جانے والے تبصرے بھی بھیجے جو میرے سابقہ تبصرے کی نفی کر رہے تھے۔ میرے

Read more

”دل بھٹکے گا“ تک دل کیسے پہنچا!

کوئی خاص چیز جو آپ خرید کر کھاتے ہیں، پہنتے و اوڑھتے ہیں، ایسا نہیں ہوتا کہ رات خواب میں جھلک آوارد ہوئی اور اگلی صبح آپ تکمیل کو پہنچ گئے، ہاں معاملہ محبوب کو اس میں استثناء حاصل ہے۔ کچھ چیزیں آپ تبھی خرید اور دیکھ لیتے ہیں کہ چلو میاں یہ تو پوری قوم کر رہی۔ کھادی کے کپڑے، ارطغرل غازی اور گیم آف تھرانز کا سیزن، کچھ چیزیں صرف اس اس لیے چل رہی ہیں کہ کوئی

Read more

کیا بیت گئی؟ قطرہ پہ گہر ہونے تک: غنی الاکرم سبزواری کی سوانح حیات

یہ کتاب ”کیا بیت گئی؟ قطرہ پہ گہر ہونے تک“ پروفیسر ڈاکٹر غنی الاکرم سبزواری صاحب کی خود نوشت سوانح حیات ہے جس کو انہوں نے بہت ہی مفصل انداز میں 19 مضامین میں تشکیل دیا ہے۔ سوانح حیات لکھنا اس اعتبار سے بھی مشکل ہے کیونکہ طویل کیرئر کا ہر واقعہ اپنے ذہن میں تازہ کرنا ، پھر اس کی اہمیت کو اجاگر کرنا  ، ان واقعات کی ترتیب اور پھر یہ خیال کرنا کہ سچ لکھا جائے اور

Read more

کتابیں بولتی ہیں

ان دنوں میں رابرٹ بی ڈاؤنز کی کتاب (Books that changed the world) پڑھ رہا ہوں جس کا غلام رسول مہر نے ترجمہ کیا ہے۔ اس کتاب نے مجھ پر کتب بینی کے کئی در وا کیے۔ ہمارے ہاں عمومی طور پر کتابوں اور کتب خانوں کے حوالے سے جو تصور عام ہوا وہ یہ کہ کتابیں بے جان ، غیر موثر اور بے حیثیت چیزیں ہیں جو خانقاہوں اور یونیورسٹیوں کے سایہ دار رواقوں اور علمی مامنوں میں رکھی

Read more

بکھرے خواب (ایک تبصرہ)۔

حساس لوگ ہمارے آج کے معاشرے کا اثاثہ ہیں اور معاشرے کی دکھتی نبض کو بھی یہی لوگ سمجھ سکتے ہیں۔ ناصر محمود شیخ بھی ہمارے معاشرے کا اثاثہ ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے تو ایک بڑے میڈیا گروپ سے وابستہ ہیں لیکن اپنے شہر واسیوں کے لئے ایک مہربان اور ہمدرد انسان ہیں جو ہر لمحہ اپنے وسیب کی فکر میں کچھ نہ کچھ کرتے نظر آتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ان کی پہلی کتاب ”بکھرے خواب“ منظر عام پر آئی۔

Read more

ڈاکٹر جاوید حیات کی آزادکشمیر کی سیاست سے متعلق کتاب

ڈاکٹر جاوید حیات نے کچھ عرصہ قبل اپنی کتاب Azad Jammu & Kashmir: Polity, Politics and Power-Sharing تحفتاً مجھے پڑھنے کے لیے دی جس کے لیے میں ان کا تہ دل سے شکرگزار ہوں۔ غالباً یہ اس نوع کی واحد کتاب ہے جس میں آزاد جموں و کشمیر میں بسنے والوں کے اندرونی اور بیرونی حق خوداختیاری کو 1947ء سے آج تک کے حالات و واقعات کے تناظر اور متعدد قانونی موشگافیوں کے بیچ تلاش کرنے کی عالمانہ کوشش کی گئی

Read more

فرخ سہیل گوئندی کی کتاب: ”بکھرتا سماج“

اس طرح کے سماج میں رہنے والے کبھی ضیاء الحق اور کبھی ملا عمر کی شکل میں ”اسلام“ کے غالب آنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ یہ سماج آج کل رجب طیب اردوان میں ”صلاح الدین ایوبی“ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ گوئندی صاحب کا کہنا ہے کہ میڈیا مراکز میں اہل دانش کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب میڈیا میں اہل فکراور دانشور لوگ Engage نہ کیے جا رہے ہوں تو یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ معاشرے میں میڈیا تعمیر کی جانب گامزن ہے۔ ایک ایسی ریاست، جس کے رجحانات اس بات کی عکاسی کر رہے ہوں کہ سماج اور ریاست بکھرتے جا رہے ہیں، وہاں میڈیا کا اس قسم کا کردار دراصل بکھرنے کے عمل کو اور بھی تیز کر رہا ہے۔

Read more

ہندکو متلاں۔ کتاب و اینڈرائیڈ ایپ

ہندکو زبان میں ضرب الامثال یا کہاوت کے لئے دو الفاظ رائج ہیں پہلا ”اکھانڑ“ اور دوسرا متل۔ اکھانڑ پہ غور کریں تو یہ لفظ ”آکھڑیں“ سے یعنی ”آخریں“ یا ”کہنے“ سے اخذ کیا گیا ہے۔ دوسرا لفظ متل ہے جو کہ لفظ ”مت“ سے اخذ کیا گیا ہے جس کے معنی ”مت“ یعنی ”عقل والی بات“ کے ہیں۔ یہ بنیادی طور پہ بزرگوں کی کہی ہوئی عقل و دانش یا فہم و ادراک کی باتیں ہیں۔ عربی میں محاوروں

Read more

میں تمثال ہوں: ایک سائنسی مطالعہ

ہمارے معاشرے میں نفسیاتی مسائل کو وہ توجہ نہیں دی جاتی جو دی جانی چاہیے۔ ہم اپنی زندگی چند مقدس متون کے سکرپٹ کے تحت گزارنے کی کوشش کرتے ہیں اور دور۔ حاضر میں درپیش مسائل کے مطابق ان میں کوئی ترمیم نہیں کرتے۔ ہم صرف ان کرداروں، کہانیوں، استعاروں اور واقعات کو قبول کرتے ہیں جو مقدس متون سے مماثلت یا مطابقت رکھتے ہوں۔ نفسیاتی الجھنوں کو تسلیم کرنے کے بجائے ہم ان کے وجود سے ہی انکار کر

Read more

جی میں کس کا تصور آ گیا

اس سے پہلے شاہد ملک کے کالم پڑھنے کو ملے تھے۔ اب ان کی ایک اور کتاب سامنے آئی ہے جو خاکوں پر مشتمل ہے۔ اخباروں کے لیے کالم لکھنے میں یہ دقت ضرور ہے کہ کالم کے لیے جگہ مقرر ہوتی ہے۔ دو تین سطریں کم یا زیادہ ہو جائیں تو مضائقہ نہیں۔ بعض اوقات کالم کے آخر میں “جاری ہے” لکھ کر اسے طول دیا جا سکتا ہے۔ اس طرح وہ مضمون کی شکل اختیار کر لیتا ہے

Read more

سید ماجد شاہ کی کتاب ”ق“ : ایک طلسم نگری

میرے پاس یہ کتاب پی ڈی ایف میں تقریباً دو سال سے موجود تھی۔ اور ہر چند ماہ بعد پڑھنا شروع کرتی تھی اور کسی نہ کسی وجہ سے بیچ میں وقفہ آ جاتا تھا۔ اس جنوری پکا ارادہ کر کے کھولی کہ اب ختم کر کے ہی چھوڑوں گی۔ پہلے بھی کچھ افسانوں پہ پڑھ کے فوراً مختصر رائے اپنی فیس بک وال پہ شیئر کی تھی لیکن پوری کتاب پہ رائے یقیناً تب ہی دی جا سکتی تھی

Read more

تتلی کے پنکھ مضبوط ہوتے ہیں

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کے منفرد، مضبوط، انوکھے اور ولولہ انگیز کالموں کا مجموعہ آپ کے ہاتھ میں میں ہے۔ مجھے اس بات کی ازحد خوشی ہے کہ طاہرہ نے اپنی دل جمعی اور استقلال سے لکھی ہوئی تحریروں کو ایک سنجیدہ، بامقصد اور بامعنی کام سمجھ کر مجتمع کیا اور یوں اپنے پڑھنے والوں کے لئے آسانی کر دی۔ اب ہم جب جی چاہے، انہیں ہاتھ میں لے کر پڑھ سکتے ہیں۔ جہاں تک مجھے علم ہے یہ خوبصورت کالم

Read more

ایلف شفق: Ten minutes 38 Seconds in This Strange World

”کیا ہو اگر موت کے بعد انسانی دماغ کچھ اور منٹ تک چلتا رہے؟ صرف دس منٹ اور اٹھتیس سیکنڈ ہی سہی!“ اور ایلف شفق کا ناول Ten minutes,38 seconds in this strange world انہی کچھ منٹس کی کہانی ہے جو ناول کے مرکزی کردار تاکیلہ لیلی نے مرنے کے بعد سانسیں بھرتے دماغ کے ساتھ گزارے ہیں وہ دس منٹ جس میں زندگی بھر کے چلتے ہوئے قدموں پر سے اسے ایک بار پھر گزرنا پڑا، جب صرف دس

Read more

کافکا برلب ساحل

’‘ کافکا برلب ساحل ”معروف جاپانی مصنف ہاروکی موراکامی ؔکے ناول ’‘ کافکا اون دی شور“ کا اردو ترجمہ ہے اور اسے ترجمے کے قالب میں ڈھالا ہے نجم الدین احمد نے اور بہت خوب صورتی اور عمدگی سے ڈھالا ہے۔ ناول کے پہلے صفحے پہ درج ہے ’‘ بجھارتیں ڈالتا، مابعد الطبیعاتی گتھیاں کھولتا، طلسماتی حقیقت نگاری کا مرقع، شاہکار جاپانی ناول ”اور ناول کی طلسماتی فضا اور اس کے پراسرار کردار واقعی ایسے ہیں کہ وہ آپ کو

Read more

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی اور "کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ”

آپ کسی شاعر کا مسلسل ایک ہی ڈھب سے لکھا ہوا کلام بار بار پڑھیں تو کیا ایسا ممکن ہے کہ آپ ہر بار اسے داد دیں؟ یا پھر کوئی مُصنف جو ایک ہی چیز ایک ہی موضوعِ کو زیرِبحث لائے، اور بار بار ایسے کرتے ہوئے بھی وہ اتنی ورسٹائلٹی کے ساتھ حقائق سے روشناس کروائے کہ لُطف آ جائے۔ تب تو آپ بھی یقیناً میری طرح اس مُصنف / مُصنفہ کے عشق میں مبتلا ہو جائیں گے۔۔۔۔۔کچھ ایسا

Read more

نیلم احمد بشیر کے افسانے: لے سانس بھی آہستہ

نیلم آحمد بشیر سے کب کیسے کہاں میرے لگاؤ کی ابتدا ہوئی مجھے علم نہیں۔ یقین جانیے ان کو پڑھا بھی نہیں تھا۔ کچھ مقناطیسیت تھی۔ فیسبک پہ ان کو ایڈ کیا۔ نیلم جی، جو بھی لکھتیں۔ میں شوق سے پڑھتی۔ پہلی بار ملاقات ہوئی نیشنل بک فاؤنڈیشن کے میلے میں ہوئی جہاں مجھے بھی بولنے کو مدعو کیا گیا تھا۔ میں نے حسب عادت کتابی باتوں کی بجائے اپنے دل اور سوچ کی پٹاری کھولی۔ بے جھجک بولی کیونکہ

Read more

کیا ادب کا مسلک ہو سکتا ہے؟

پرسوں اپنے اک دوست، علی سجاد شاہ سے اک مختصر بات ہوئی تو اس میں علی اکبر ناطق کی حالیہ کتاب، کماری والا، پر پاکستانی شیعیت کی چھاپ کا حوالہ ابھر کر سامنے آیا۔ باوے سے عرض کیا کہ (ماخوذ) اک لکھاری کو اس کے مسلک کا حق حاصل ہے اور ادب کو مسلک کی گفتگو سے ماورا اور الگ رکھ کر دیکھنا چاہیے۔ شاہ جی اور میں اکثر اختلاف کر بھی جائیں تو بھی یہ مہذب ہی رہتا ہے، اور ایسا ہی رہے گا بھی۔ تعلق کے علاوہ اخلاق کا تقاضا ہے کہ بات کہہ کر آگے بڑھ جایا جائے، اور نہ کہ بات کی چیونگم بنا لی جائے۔

Read more

ڈاکٹر اشتیاق احمد کی کتاب’پاکستان: عسکری ریاست‘ کا نیا ایڈیشن

کتاب میں اس جنگ بارے کافی سارے آرمی آفیسرز کے انٹرویو لیے گئے ہیں جو اس باب کی خوبصورتی میں اضافے کا موجب ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کے عروج و زوال کی داستان کے بعد اس کتاب کا سب سے دلچسپ حصہ ہے۔ اس حصے میں ’مولوی ضیاء الحق‘ کے اسلام کی کہانی ہے۔ جنرل ضیاء نے پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کے لئے آغاز فوج سے کیا، ضیاء دور میں فوجی یونٹوں میں تعینات مولویوں کو ترقی دیتے ہوئے جونیئر کمیشنڈ افسر کا رینک دے دیا گیا۔ اسی دور میں بریگیڈئیر ایس کے ملک نے ”جنگ کا قرآنی تصور“ نامی کتاب لکھی جس کا پیش لفظ تحریر کرتے ہوئے ضیاء الحق نے لکھا:

Read more

انجینئر عبدالحکیم ملک: منشور قرآن سے کلام اقبال میں عکس قرآن تک ایک جائزہ

کون سوچ سکتا تھا کہ مظفرگڑھ کے ایک دور افتادہ دیہاتی علاقہ میں پیدا ہونے والا ایک بچہ بڑا ہو کر عالمی شہرت حاصل کرے گا۔

آبائی علاقہ جہاں پینے کو صاف پانی نہیں تھا، نہ کوئی سکول مکتب جہاں مروجہ معیاری تعلیم سے کوئی صاحب ادراک بن پاتا یا جدت کردار حاصل کر پاتا لیکن وہ کیا خوب حضرت علامہ اقبالؒ فرما گئے کہ

جرات ہو نمو کی تو فضا تنگ نہیں ہے
اے مرد خدا، ملک خدا تنگ نہیں ہے

Read more

ڈاکٹر رؤف پاریکھ کی لغات: تحقیق و تنقید، ایک تعارف

کتاب:۔ لغات: تحقیق و تنقید۔ مصنف: ڈاکٹر رؤف پاریکھ۔ پبلشر: سٹی بک پوائنٹ، اردو بازار، کراچی
۔ سال اشاعت: 2020ء

یہ کتاب ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے مرتب کی ہے۔ ڈاکٹر رؤف پاریکھ پاکستان کے مشہور ماہر لسانیات ہیں۔ لغت، تحقیق اور تنقید کے حوالے سے ان کے ان گنت مقالے اور کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ لغت نویسی کے موضوع پر کام کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس موضوع پر کام کم ہوا ہے۔ لغات اور لغت نویسی کے موضوع پر اہل علم اور ماہرین کے مقالات پر مبنی ڈاکٹر رؤف پاریکھ کی مرتب کردہ یہ چوتھی جلد ہے۔ اس سے قبل اس موضوع پر ڈاکٹر رؤف پاریکھ کے مقالات کے دو مجموعے بھی شائع ہو چکے ہیں۔

Read more

مکالمات افلاطونِ،اڑھائی ہزار برس بعد بھی اہم

افلاطون کا شمار سقراط کے ان قریبی شاگردوں میں ہوتا ہے جنھوں نے سقراط کے فلسفے کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنے اور سقراط کو دریافت کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یوں تو افلاطون کے تمام مکالمات کو ہی بہت پذیرائی نصیب ہوئی مگر ”ری پبلک“ کے بعد افلاطون کے جو مکالمات سب سے زیادہ پڑھے گئے ان میں اپالوجی، کریٹو اور فیڈو ہیں۔ یہ تین مکالمات اس سہ المیے کی تشکیل کرتے ہیں جس میں ایتھنز کی شہری عدالت میں سقراط کے مقدمے اور اس مقدمے میں سقراط کے لیے سزائے موت کے فیصلے سے لے کر اس سزا پر عمل درآمد تک کے تمام واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ فکر انسانی کی تاریخ میں سقراط کو ایک اہم مقام حاصل رہا اور یہی وجہ ہے کہ اپنے دور کے اس عظیم فلسفی کے انجام کی یہ روداد قارئین اور سقراط کے مداحین کے لیے ہمیشہ دل چسپی کا باعث رہی۔

Read more

قید میں لکھی گئی تین عظیم کتابیں

دنیا میں جتنے بھی غیر معمولی کام ہوئے ہیں وہ سب مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے انجام دیے گئے ہیں، چاہے ان کا تعلق مذہب سے ہو یا پھر وہ سیاسی ہوں یا پھر سائنسی ، سب کام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے سرانجام دیے گئے ہیں۔ انگریز سامراج کے دور کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس دوران برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں اور ہندوؤں نے وہ کارنامے سر انجام دیے ہیں جن کا آج

Read more

کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ

یہ چند ہفتے پہلے کی بات ہے۔ کراچی آرٹس کونسل کی تیرہویں عالمی اردوکانفرنس ہو رہی تھی جب مہ ناز رحمان کا میرے پاس فون آیا۔ انھوں نے اس ادبی محفل میں شرکت کے لیے آنے والی ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کو اپنے گھر مدعوکیا تھا۔ اس دعوت میں شہرکی نام دار اور عورتوں کے حقوق کے لیے سرگرم خواتین مدعو تھیں۔ اپنی طبیعت کی ناسازی کے سبب میں نے معذرت کر لی اور افسوس رہا کہ ڈاکٹر طاہرہ سے ملاقات

Read more

کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ: دل و دماغ کی یکجائی میں لکھی کتاب

کہتے ہیں گانے والوں کو جن چیزوں سے پرہیز ہوتا ہے، مثلاً کھٹائی وغیرہ، وہ اپنے سامنے بچوں کو کھلا کر خوش ہو لیتے ہیں۔  ہم جس شعبے میں رہے ہیں وہاں عام فہم زبان لکھنے کا جاری حکم ہے۔ ایک بار تو متضاد لکھنے پر بھی اعتراض ہوا، اس کی جگہ الٹ لکھنے کے لئے کہا گیا۔ ایسے ہی ایک ادارے میں تو ہدایت تھی کہ ایسی زبان لکھیں کہ آٹھ جماعتیں پڑھی گھریلو عورت بھی سمجھے۔ سو ہماری

Read more

گرو نانک جی کے ننکانہ سے ناصر تک

دنیائے ادب کی تاریخ میں ایک ایسا ہی مقدر والا دانش ور، فلسفی اور مصنف گرو نانک جی کی دھرتی ننکانہ صاحب سے پانچ میل دور اپنی جاگیر میں رہتا ہے۔ دور اور نزدیک سے لوگ اسے ملنے آتے ہیں۔ علم و دانش کے موتی اس کے ہونٹوں سے گرتے رہتے ہیں جو دیکھتے ہی دیکھتے کتابی شکل اختیار کرتے رہتے ہیں ۔ دنیائے ادب میں اس کے نام کی گونج ہے۔ شاعر، ادیب، دانشور، فلسفی جس کا پورا نام رائے محمد خان ناصر ہے۔

Read more

بلاسفیمی اور نورمحمد ترہ کی کا ناول’سنگسار‘

وبا کی اولین تالا بندی کے دوران دنیا کا ہر مندر، گرجا، چرچ، کلیسا بند ہو گیا مگر ہم یہ سوچتے رہ گئے کہ خدا کے نام پر بننے والے وطن عزیز میں اسی کے گھر پہ تالا ڈالنے والے ہم کون ہوتے ہیں! عالمی برادری نے ایک لمبی سی ’ہوں‘ کی صورت ہمارے جذبہ ایمانی کی داد بھی دی۔ مجھ جیسا سامع تو ابھی اسکرین پر پیش کیے گئے اسی کھیل میں محو تھا کہ ایک دھماکہ ہوا۔ دین

Read more

پروفیسر شہاب صفدر کا مجموعہ کلام: ”گم گشتہ”

مجھے شاعری سے خصوصی شغف ورثے میں ملا ہے۔ بچپن ہی سے علامہ اقبال، مرزا غالبؔ، اکبر الہ آبادی اور میر تقی میر کا مداح رہا ہوں۔ میں شعر و شاعری پڑھنا اور سننا دونوں پسند کرتا ہوں ، قطع نظر اس سے کہ شاعری اردو، انگریزی یا سرائیکی زبان میں ہو۔ میر، غالب، داغ سے لے کر آج کے جدید دور تک، ہر دور میں شعرا نے اسی دور کی ترجمانی کی ہے اور غزل کو نئے نئے انداز

Read more

جنوبی ایشیا کی تہذیب و تاریخ اور جدید پاکستانی تاریخ دان

مٹی، پانی، آگ اور ہوا کے اشتراک سے وجود پانے والی شے انسان ہے۔ چار اشیاء کا مرکب ہونے کی وجہ سے ہر انسان طبیعت میں دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ اس مختلف پن کی وجہ سے ہر انسان کا مظاہر فطرت کو دیکھنے اور پرکھنے کا انداز بھی جدا ہے۔ میشل فوکو کے بقول انسانی فکر ثقافتی تشکیل کی مرہون منت ہے۔ میرے خیال میں انسان فطرتاً دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو فوکو کی بات کو

Read more

عشق، عورت اور عنکبوت

یہ ناول مجھے پہاڑوں کی ایک ملکہ نے دیا تھا اور اس ناول کے اندر سے جھانکتی مصنفہ کی بہتے جھرنوں جیسی آنکھوں کا سامنا کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں تھا اور مصنفہ بھی وہ جو آپ کے لئے بہت قیمتی ہو جس کے وجود کے اندر سے صرف محبت اور وفا کی باس اٹھتی ہو۔ جو کسی ایک لمحے میں آپ کے دل کے بہت قریب ہو چکی ہو اور اس سے بڑی بد قسمتی کیا ہو گی کہ ایسی قیمتی اور پیاری دوست کے دلنشیں جملوں سے سجے گلستان میں جانے کا آپ کے پاس وقت نہ ہو ، سو ناول بھی آتے جاتے مجھے اپنے اندر اترنے کی دعوت دیتا رہا۔ جنوری کی ایک سرد رات میں بالآخر میرا وجود گل ارباب کے لفظوں سے سجے گلستان ’’عشق ،عورت اور عنکبوت‘‘ میں داخل ہو گیا۔

Read more

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی کتاب: کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ

ڈاکٹر طاہرہ منفرد انداز بیاں کی مالکہ ہیں، وہ دور رس نگاہ رکھتی ہیں اور ذہانت کے ساتھ خواتین کے مسائل اور ان کے حل پر بات کرتی ہیں اور یہی ان کی خوبی ہے جو مجھے متاثر کرتی ہے۔ بلوغت کے مسائل ہوں یا زچگی کی پیچیدگیاں، یا فرسودہ نظریات و رسوم رواج کی بھول بھلیاں، ڈاکٹر طاہرہ ہر موضوع پر بے خوفی اور جرأت سے قلم اٹھاتی ہیں۔

Read more

شاہد اختر اور خالد سہیل کی”نگر نگر کی کہانیاں“

ہر زبان اپنے اندر جغرافیائی، ثقافتی اور معاشرتی مزاج رکھتی ہے۔ ترجمہ ابلاغ کی وہ کارآمد ’تار‘ ہے جو مختلف زبانوں میں لکھی گئی کہانیوں کو قاری کی زبان سے جوڑ کر اس تک پہنچا دیتا ہے۔ ترجمے کی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ اگر الہامی کتابوں کے ترجمے نہ ہوتے تو مذاہب سکڑ کر مقامی ہی رہ جاتے وہ بین الاقوامی شہرت کبھی حاصل نہ کر پاتے۔ اساطیرالاولین کے تراجم نہ کیے جاتے تو آج ہم، بدھا، مہاویرہ، کنفیوشس، افلاطون، سقراط، بقراط، ارسطو اور زرتشت جیسے فلاسفروں اور سماجی سائنسدانوں کے ناموں سے شاید واقف بھی نہ ہوتے۔

Read more

ڈاکٹر امجد ثاقب کی کتاب: "اخوت کا سفر”

شاد باش اے عشق خوش سودائے ما اے طبیب جملہ علت ہائے ما (مولانا روم) ڈاکٹر امجد ثاقب کی کتاب ”اخوت کا سفر“ نظر سے گزری۔ کہنے کو یہ امریکا کا سفرنامہ ہے مگر اس کے ہر ورق پر تاریخ و معاشرت کا گہرا شعور، بنی نوع انسان سے بے لوث محبت، مجبوروں کی آہیں، مختاروں کی درد مندی، سعی پیہم کے ناقابل یقین اثرات اور امید کے لحظہ لحظہ جلتے چراغ نظر آتے ہیں اور پھر ان سب عوامل

Read more

عہد حاضر اور ناصر عباس نیر کا افسانہ

سرمایہ دارانہ دور کے آغاز کے ساتھ ہی بادشاہت اور مذہب کے گٹھ جوڑ میں ایک تیسری قوت بھی شامل ہو گئی۔ اب طاقت کے حصے داروں میں اضافے کے ساتھ ساتھ طاقت پر قبضے کے طریقوں میں بھی تبدیلی آئی۔ اب انسانوں پر اختیار قائم رکھنے کے لیے جسمانی کے ساتھ ساتھ ذہنی تسلط کا ہتھیار بھی استعمال کیا جانے لگا۔ (شہنشاہیت میں بھی ذہنی تسلط قائم کیا جاتا تھا مگر مخصوص منطقے میں، اتنی وسعت سے ہر گز نہیں) یہ تسلط پہلے کی نسبت زیادہ مستحکم ہوتا ہے۔

البتہ ان معاشروں میں اس کے اندر ہی اس سے آزاد ہونے کی صورت بھی نمودار ہوتی ہے جہاں افراد کے ذہن کو آزادانہ سوچنے، تجزیہ کرنے، تشکیکی رویہ اپنانے، سوال اٹھانے اور تضادات پر غور کرنے کی تربیت دی گئی ہو۔ مگر جس سماج میں ذہن تقلید محض اور اندھے اعتقاد کا عادی ہو وہاں طاقت کے ادارے اپنے من پسند بیانیوں کو رائج کر کے جسمانی اور ذہنی دونوں طرح کا تسلط قائم کرتے ہیں اور مکمل اختیار سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ وہ معاشرے جو نو آبادیاتی ماضی کے حامل ہیں اور آزادی کے بعد ایک نئی استعماریت کے تجربے سے گزر رہے ہیں وہاں اسی قسم کے حربے اختیار کیے جاتے ہیں۔

Read more

سیمیں درانی کا افسانوی مجموعہ: آنول نال

سیمیں کے ہاں موضوعات کا تنوع نظر آتا ہے۔ انہوں نے سائنس فکشن پر بھی قلم اٹھایا ہے۔ ان کے افسانے ”پیمپر“ اور ”یو مے کس دا برائیڈ“ اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ایک ذہین ادیبہ مستقبل میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے، آنے والے دور میں سائنسی ترقی کس طرح انسان کی فطرت اور اس کی ذہنی، جسمانی و جنسی صلاحیت کو کس حد تک متاثر کرے گی اور انسانی شعور کی سطح اور خالص انسانی اقدار کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹیکنالوجی کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے قابل ہو سکے گی یا نہیں۔

Read more

محبت کرنے والی ہر عورت تمثال ہے

آج کل یو اے ای یاترا پہ ہوں۔ سوچا تھا یہاں بڑی فرصت رہے گی۔ کتابیں پڑھنے کا بہترین ماحول ہو گا۔ مگر وہ کہتے ہیں ناں، ”دکھ ڈھاڈھے نیں تے جندڑی ملوک“ ۔ بس وہی صورت حال ہے۔ ”میں تمثال ہوں“ آنے سے پہلے ان کتابوں میں شامل تھی۔ جو میں ساتھ لائی۔ چار دن ہوئے ایک ہی نشست میں کتاب ختم ہوئے۔ اور چار دن سے میں اس کے اثر میں ہوں۔ کئی بار کتاب کھولی۔ پڑھی، ہائی لائٹ کیا۔ اور پھر اس پہ سوچتی رہی۔ مجھے کتاب اور فلم دونوں کا اثر دیر تک محسوس ہوتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں بہت کچھ سکھاتی ہیں۔ میں نے اپنی اب تک کی زندگی میں بہت کم ایسے لوگ دیکھے، یا پڑھے۔ جنہوں نے اپنے متعلق خطرناک حد تک سچ لکھا ہو۔ تمثال ان میں ایک نیا اضافہ ہیں۔ انہوں نے جس بے باکی سے اپنی محبتوں کو تسلیم کر کے سفاکی کی حد تک سچ بیان کیا ہے۔ وہ قابل داد ہے۔

Read more

مکتوبی ادب اور ایپس ٹولری ناول ”پاپی“

کون جانتا تھا کہ ای میل کے توسط سے مکتوبی ادب ’کا جو سلسلہ، دو سال قبل ”درویشوں کا ڈیرہ“ سے شروع ہوا تھا۔ ایک دن سات کتابوں کی شکل میں انگریزی و اردو ادب کے افق پر ایک درخشاں قوس قزح بن کر نمو دار ہوگا اور عالمی ادب میں خطوط نویسی کو بطور ادبی صنف کہ دوبارہ زندہ و تابندہ کر دے گا۔ اس اہم صنف کے احیا ء کا خواب خالد سہیل نے 2018 ء میں دیکھا

Read more

سہ ماہی اثبات کا تازہ شمارہ: ایک جائزہ

اشعر نجمی ایک شخصیت کا نہیں بلکہ ایک تحریک کا نام ہے۔ وہ ایک غیر معمولی ذہن کے مالک ہیں۔ وہ ان لوگوں میں نہیں ہیں جو گنبد بے در میں بیٹھ کر اپنی ہی صدا کے اسیر رہتے ہیں بلکہ ان کی نگاہ زبان و ادب کے عالمی منظر نامے پر گہری ہے ہمیں اس بات پر فخر کرنا چاہیے کہ ہمارے پاس اشعر نجمی جیسا غیر معمولی فکر رکھنے والا مدیر اور اثبات جیسا معیاری جریدہ ہے۔ اثبات

Read more

تقلیدی مذہب کے مسائل کیا ہیں؟

سید سلیمان ندوی خطبات مدراس میں ایک خطبے میں بتاتے ہیں کہ ہم اوائل فروری 1924 ء میں حجاز و مصر سے واپس آرہے تھے، اتفاق سے مشہور شاعر ڈاکٹر ٹیگور بھی اسی جہاز میں امریکہ کے سفر سے واپس ہو رہے تھے۔ ایک رفیق نے ان سے سوال کیا کہ برہمو سماج کی ناکامی کا سبب کیا ہے؟ حالانکہ اس کے اصول بہت منصفانہ صلح کل کے تھے۔ اس کی تعلیم تھی کہ سارے مذہب سچے اور کل مذہبوں کے بانی اچھے اور نیک لوگ تھے۔ اس میں عقل اور منطق کے خلاف کوئی چیز نہ تھی۔وہ موجودہ تمدن، موجودہ فلسفے اور موجودہ حالات کو دیکھ کر بنایا گیا تھا، تاہم اس نے کامیابی حاصل نہ کی۔ فلسفی شاعر نے جواب دیا کہ یہ اس لیے ناکام ہوا کہ اس کے پیچھے کوئی شخصی زندگی اور عملی صورت نہ تھی جو ہماری توجہ کا مرکز بنتی۔

Read more

جنت کے لیے سرگرداں

میں اپنی جنت کی تلاش میں لاہور روانہ ہو گیا۔ میرے ہوسٹل میں پنجاب کے دور دراز شہروں سے آئے کامیاب امیدوار موجود تھے۔ ہر کمرے میں تین سے چار لڑکوں کو ٹھہرایا گیا تھا۔ میں نے اپنے روم میٹس کے ساتھ ایک جگہ ڈیرے ڈال دیے۔ اگلی صبح بس ہمیں لینے آ گئی۔ ہم نصرت فتح علی خاں کے ’علی دا ملنگ‘ پر جھومتے یونیورسٹی پہنچے۔ وہاں ایک نئی دنیا آباد تھی۔ پھر علم و ہنر کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔

Read more

ناول ’پیرِکامل‘، ایک جائزہ

ایک دوست اسے اپنی گرل فرینڈ امامہ کے بارے میں بتاتا ہے جس کا تعلق ریڈ لائٹ ایریا سے تھا تو سالار کو اپنی سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ وہ اس سے درخواست کرتا ہے کہ مجھے اس سے ملا دو۔ لیکن وہاں پہنچ کر وہ جب دیکھتا ہے کہ وہ کوئی دوسری لڑکی ہے تو وہ وہیں سجدے میں گر جاتا ہے۔ اسے اللہ کی ایک نئی پہچان ہوتی ہے اور وہ اس کا شکر بجا لاتا ہے کہ اللہ نے اسے ایک بہت بڑی اذیت سے بچا لیا ہے۔ اللہ چاہے تو سب کچھ کر سکتا ہے۔

Read more

محمود الحسن: اک پرکمال لکھاری

محمود الحسن ان چار لاہوریوں میں سے ہے جسے ملنے کو میرا دل ہمیشہ مچلتارہتا ہے۔ میں دوستوں کے چناو کے لحاظ سے ویسا ہی محتاط ہوں جتنا اچھی کتاب کے معاملے میں ہوں۔ دوست برا لکھیں گے تو ممکن ہی نہیں کہ ان کے لکھے کا دفاع کروں اور ان سے اپنے معاملے میں بھی، میں یہی توقع رکھتا ہوں۔ محمود الحسن کی نثر مجھے بہت مرغوب ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ موضوع، شخصیت اور قلم

Read more

ملکہ پکھراج کی آپ بیتی، ایک تأثر

بہت عرصے بعد ایسا ہوا کہ کوئی کتاب شروع کی تو اس وقت تک رکھ نہ پائی جب تک ختم نہ ہو گئی اور وہ دلچسپ کتاب ملکہ پکھراج کی آپ بیتی ”بے زبانی زباں نہ ہو جائے“ تھی۔ ملکہ پکھراج اپنی آن بان سے اپنی کہانی قاری کو سناتی جاتی ہیں جس میں ان کا اپنا مرکزی کردار بھرپور قوت سے سربلند رہتا ہے اور دیگر تمام کردار فلم کے پردے پر آتے جاتے رہتے ہیں، کہانی بہت متانت سے آگے بڑھتی جاتی ہے۔ ملکہ پکھراج کی شخصیت ایک خاص کشش کے ساتھ تدبر کی حامل رہی، یہی پہلو تمام کتاب کا خاصہ ہے۔ ذاتی حوالوں سے قطع نظر کتاب تاریخی اعتبار سے بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔

Read more

مستنصر حسین تارڑ کا ناول: ’‘شہر خالی، کوچہ خالی”

شہر خالی، جادہ خالی، کوچہ خالی، خانہ خالی جام خالی، سفرہ خالی، ساغر و پیمانہ خالی افغان شاعر اور موسیقار امیر جان صبوری کا کلام جسے تاجک گلوکارہ نگارہ خالوا نے گایا ہے اور جو یک دم پاکستان میں مقبول بھی ہوا اور وبا کے دنوں میں حسب حال بھی تھا کو جناب مستنصر حسین تارڑ نے اپنی تحریر کا حصہ بنایا ہے اور آغاز میں ہی اس نظم کو اردو ترجمے کے ساتھ شامل کیا ہے اور ناول کا

Read more

نیئر مصطفیٰ کا ناول ”ڈھشما“ : ایک تبصرہ

ڈرامہ ناولٹ لٹریچر کی ایک خوبصورت طرز ہے جس پر مبنی کتب کا شمار اردو ادب میں انگلیوں پر کیا جا سکتا ہے ۔ ادب کی اس صنف کو اردو ادب میں وہ مقام اور پذیرائی نہ مل سکی جس کی یہ حق دار تھی لیکن ”ڈھشما“ نے اس ادبی جمود کو توڑتے ہوئے ڈرامہ ناولٹ کی پہچان میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ڈرامہ ناولٹ کی خصوصیت اس کے جاندار مکالمے ہوتے ہیں جو قارئین کو اپنے سحر میں

Read more

بھیشم ساہنی، انعام ندیم اور ”امرتسر آ گیا ہے“

یہ سترہ اٹھارہ سال پہلے کی بات ہے، مجھے میرے پیارے دوست آصف فرخی نے دو کتابیں ایک ساتھ عنایت کی تھیں۔ ان کتابوں میں سے ایک کانام تھا: ”اور کہاں تک جانا ہے؟“ جب کہ دوسری تھی: ”درخواب“ ۔ دونوں شاعری کے مجموعے اور دونوں شاعر میرے لیے نئے۔ تاہم آصف فرخی نے کہا تھا: ”انہیں پڑھیے ضرور آپ کو مایوسی نہیں ہوگی۔“ ان میں سے پہلی کتاب اکبر معصوم کی تھی۔ وہی اکبر معصوم جو آصف فرخی کی

Read more

زرد موسم کے گلاب: اردو زبان میں عربی ادب کا مطالعہ کیجئے اور حظ اٹھائیے

قطری ناول نگار نورہ فرج کا عربی ناول ’ماء الورد‘ ایک دلچسپ تاریخی فینٹسی ہے جو آپ کو 319 ہجری کے ایک عرب شہر ’لظی‘ میں لے جاتا ہے جو آج کی دنیا سے قطعی طور پہ مختلف دنیا ہے۔ اس ناول کا ترجمہ اردو زبان میں ’زرد موسم کے گلاب‘ کے عنوان سے عبید طاہر قاضی نے کیا ہے جو ریڈیو قطر کے پروڈیوسر اور ریڈیو قطر کی ایک دلکش آواز ہیں۔ لیلیٰ جو اس ناول کا مرکزی کردار

Read more

کراچی کی دوسری اسٹریٹ لائبریری تباہ حالی کا شکار

گولیوں کی گونج اور بارود کی مہک سے پہچانے جانے والا کراچی کا علاقہ لیاری جو چند سال قبل قانون نافد کرنے والے اداروں کی دن رات انتھک محنت کے سبب امن و امان کی اعلیٰ مثال قائم کر چکا ہے ایک مرتبہ پھر اپنے ماضی کا رخ کرنے پر مجبور ہے پانچ ماہ قبل لیاری کے علاقے بلوچ چوک پر سابق کمشنر کراچی افتخار شلوانی کے ہدایت پر ڈی ایم سی ساؤتھ کے تعاون سے قائم کی گئی دوسری

Read more

ڈاکٹر عارفہ شہزاد کا ناول ’میں تمثال ہوں‘ کئی اعتبار سے ایک منفرد ناول ہے

یہ کہانی ایک مشرقی مسلمان عورت کی کہانی ہے جو ایک شاعرہ ہے۔ تمثال کسی بھی تخلیق کار کی طرح رومان پرور ہے اور ہم مزاج افراد سے گفتگو اور ہلکی پھلکی دل لگی سے توانائی کشید کرتی ہے۔ ایکسٹرا میریٹل افئیرز کے تجربات سے گزرتی ہے۔ شوہر کی بے توجہی کے باعث وہ اپنی ناآسودہ جنسی خواہشات بھی کسی اور مرد کے ساتھ پوری کرتی ہے۔ مگر دلی ناآسودگی ہے کہ تھم کے نہیں دیتی۔ تمثال کی فکری تربیت مذہب کے زیر سایہ پروان چڑھی ہے اس لئے وہ ان تمام معاملات کا مذہبی نظریے سے بھی جائزہ لیتی ہے۔ جذبات اور مذہب کی کشمکش اسے ذہنی تشویش کا شکار کر دیتی ہے۔ وہ دھیرے دھیرے اس بات کو قبول کر لیتی ہے کہ عشق اور جسمانی تعلق دو الگ باتیں نہیں۔ لہٰذا ان تجربات سے گزرتی چلی جاتی ہے مگر قرار نہیں پاتی۔

Read more

بڈھا گوریو: بالزاک کے عظیم ناول کا اردو ترجمہ

یہ ناول انسان کے ایثار، بے حسی، شقاوت، تام جھام اور زندگی کی دوڑ میں ہر قیمت پر آگے بڑھنے کے لیے اختیار کردہ حیلوں کی داستان ہے۔ ناول کا مرکزی کردار بڈھا گوریو ہے جس نے خود کو دو بیٹیوں کی خوشی اور آسائش کے لیے وقف کردیا ہے۔ یہ التفات کا وہ روایتی تعلق نہیں جو عام طور سے باپ کا بیٹی سے ہوتا ہے بلکہ اسے آپ مجنونانہ اور بعض صورتوں میں مبالغانہ بھی کہہ سکتے ہیں۔

Read more

شمس الرحمن فاروقی کی شعری کلیات

’’مجلسِ آفاق میں پروانہ ساں‘‘ شمس الرحمن فاروقی کی شعری کلیات ہے۔ کتنا اچھا نام ہے۔ شاعر پروانہ ہی تو ہوتا ہے جو اپنی ایک ہی دفعہ ملنے والی زندگی کو کسی کے نام کردیتا ہے۔ نہ سُود کی فکر نہ زیاں کی پروا۔ اور وہ پروانہ ہی کیا جس کے پاس شمع سے محبت کی کوئی نشانی نہ ہو ۔ شعر نشانیاں ہی توہوتے ہیں جو آرام سے جلنے والے آئندگاں کے لیے چھوڑ جاتے ہیں۔ اور وہ ہر

Read more

شہزادہ سیف الملوک اور بدیع الجمال کا سفر عشق

میاں محمد بخش ؒ کی تصنیف ً سیف الملوک ًسے شدبد ہمیں بچپن میں ہی ہو گئی تھی۔ ابا جان گھر میں اکثر رات کو اونچی آواز میں سیف الملوک پڑھا کرتے تھے۔ گھر میں دوسری کتابوں کے ساتھ سیف الملوک بھی کتابوں والی الماری میں رکھا ہوا تھا۔ لیکن اس وقت پنجابی پڑھنی نہیں آتی تھی۔ ہمارے ایک رشتہ کے بھائی ہر ماہ چن چڑھی جمعرات کو بابا پیرے شاہ ؒکے دربار پر حاضری دیتے تھے جو ہمارے گاؤں

Read more

رحیم گل کا ناول : تن تارا را

نام بڑا اچھوتا ہے۔ کتاب کے سرورق پر ”تن تارا را“ اور ایک حسینہ پر شباب کی تصویر دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے یہ کوئی موسیقی، رقص یا شاعری کی کتاب ہو۔ مگر یہ ایک رومانوی ناول ہے اور ”تن تارارا“ اس ناول کی ہیروئن کا نام ہے۔ اگر آپ نے رحیم گل کی آپ بیتی ”داستاں چھوڑ آئے“ پڑھی ہے تو شاید میری طرح آپ بھی محسوس کر رہے ہوں گے کہ یہ ناول ایک حقیقی کہانی

Read more

بانو قدسیہ کے ناول راجہ گدھ کا جائزہ

یوں تو بے شمار قلم کاروں نے اس کتاب کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہو گا جن کا اردو ادب میں ایک بلند مقام ہے۔ میں تو اس میدان میں نو آموز ہوں۔ میرا ان سے ہر گز کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ میں نے تو اس کتاب کو پڑھنے کے بعد جو محسوس کیا اور جو سمجھا ان خیالات کو اپنے سادہ سے الفاظ میں آپ تک پہنچا نے کی ادنٰی سی کوشش کی ہے۔ پڑھ کر

Read more

منفرد شاعر و صحافی، قاضی عبدالحئی قائل کی حیات و خدمات پر لکھی سندھی کتاب

16 دسمبر 2020 ء کا دن، سندھ کے منفرد شاعر، ادیب، صحافی، عظیم مدرس، تعلیم دان و سماجی کارکن، قاضی عبدالحئی ”قائل“ سرشاری کے 103 رے یوم پیدائش کے حیثیت سے ان کی یاد ساتھ لایا، جو ایک سو تین برس قبل، 16 دسمبر 1917 ء کو لاڑکانے ضلع کی زرخیز زمین کے رتو دیرو نامی قصبے سے متعلق، اس دور کے سندھی، عربی اور فارسی کے معروف شاعر، قاضی عبدالحق ”عبد“ کے گھر (والد کی ان دنوں سندھ کے ضلع جیکب آباد کے ”ٹھل“ نامی شہر میں تعیناتی کے باعث) ٹھل میں پیدا ہوئے، اور 23 جولائی 1989 ء کو مکۂ معظمہ میں، حج ادا کرنے کے بعد ، اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اور وہیں ”جنت المعلیٰ“ کے شہر خموشاں میں سپرد خاک ہوئے۔

Read more

پروفیسر ڈاکٹر غنی الاکرم سبزواری کی کتاب: احتساب قبل یوم الحساب

یہ کتاب ”احتساب قبل یوم الحساب“ پروفیسر ڈاکٹر غنی الاکرم سبزواری صاحب نے لکھی ہے جس کا پہلا ایڈیشن 2005 میں شائع ہوا اور دوسری اشاعت 2019 میں ہوئی۔ اس کتاب میں تیرہ ( 13 ) مختلف عنوانات پر بات کی گئی ہے۔ تمام مضامین روزمرہ کی زندگی اور مسائل پر منبی ہیں جن کا اسلام اور قرآن مجید کی روشنی میں حل بیان کیا گیا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر غنی الاکرم سبزواری صاحب کا شمار پاکستان کے عظیم اسکالرز میں

Read more

"صبر طلب جمہوریت” اور صاحبزادہ فاروق علی خان کی خاموش موت

1973 ء کا متفقہ آئین منظور ہونے کے بعد معرض وجود میں آنے والی پہلی قانون ساز اسمبلی کے بلامقابلہ سپیکر منتخب ہونے والے صاحب زادہ فاروق علی خان طویل علالت کے بعد 29 نومبر 2020 ء کو ملتان میں انتقال کر گئے۔ 5 ستمبر 1931 ء کو گکھڑ منڈی میں پیدا ہونے والے صاحب زادہ فاروق علی خان 9 اگست 1973 ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی کے نویں سپیکر منتخب ہوئے اور 27 مارچ 1977ء تک اس منصب

Read more

صدیق سالک کی کتاب "ہمہ یاراں دوزخ”: جنگی قیدی کا روزنامچہ

دسمبر جاڑے کا شباب ہے۔ دنیا کے بیشتر حصوں میں اس ماہ کا بڑی بے صبری سے انتظار کیا جاتا ہے۔ مغرب کا سب سے بڑا تہوار اس انتظار کی ایک وجہ ہے جہاں سفید روئی کے گرتے گالوں کے درمیان زندگی ہنستی، کھیلتی یہ مہینہ بتاتی ہے۔ وطن عزیز کے درو دیوار میں بھی ایک چاشنی سی اتر آتی ہے۔ درخت اپنے زرد پتوں کو زمین کا ایندھن بنا ہی رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے پربت اور کہسار سفید

Read more

آپ زندگی سے کیا چاہتے ہیں؟

ڈیریک سیورز کی تصنیف Anything You Want کا ترجمہ اور تلخیص۔ یہ کتاب میرے دس سالہ تجربے کا نچوڑ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ میرا ایک مشغلہ اتفاقی طور پر ایک بڑے کاروبار میں تبدیل ہو گیا۔ میں نے اس تجربے سے بہت کچھ سیکھا اور تربیت کے کئی مراحل سے گزرا۔ اس ضمن میں مجھ سے بہت سی غلطیاں بھی ہوئیں۔ میرا کام کرنے کا اپنا طریقہ ہے۔ اور میری کامیابی اسی کی مرہون منت ہے۔ کام کرنے کے

Read more

عارفہ شہزاد کا ناول: میں تمثال ہوں

مشرقی معاشرے کے ٹیبوز کو توڑنا اور عورت کے قلم سے ایسی کہانی لکھے جانا۔ شاید بہت سے لوگوں کو ہضم ہی نہ ہو پائے۔ مگر کیا کیا جائے اب تو لکھنے والی نے لکھ دیا۔ میرے سامنے اس وقت ”میں تمثال ہوں“ کے عنوان سے عارفہ شہزاد کا تحریر کردہ ناول ہے جو اپنی نوعیت، تکنیک اور موضوع کے اعتبار سے قدرے منفرد ناول ہے۔ عارفہ شہزاد اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور میں اردو کی استاد ہیں۔ فکشن کی دنیا

Read more

نقوش شبلی: ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کا ایک اور کارنامہ

ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کی نئی کتاب ”نقوش شبلی“ دیکھ کر یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ علامہ شبلی نعمانی کی حیات و خدمات کے مختلف گوشوں پر ڈاکٹر صاحب پہلے ہی درجن بھر سے زائد کتابیں لکھ چکے ہیں، اس نئی کتاب کی بھلا کیا ضرورت تھی؟ مزید یہ سوال بھی اٹھ سکتے ہیں کہ علامہ شبلی نعمانی کی حیات و خدمات پر کتابیں پڑھی ہی کیوں جائیں؟ اور یہ کہ بھلا آج کے ہندوستان اور ہندوستانی مسلمانوں

Read more

”بہاریں سوگ میں ہیں“

جن دنوں دوری کا درس عام ہے۔ ملاقات سے فاصلے پر رہنے میں بہتری ہے۔ ہر فرد وہ کتنا ہی محبوب کیوں نہ ہو، اس کے دور رہنے میں ہی بہتری ہے۔ چھ فٹ کے فاصلے کی ہدایات ہر سو سنائی دے رہی ہیں۔ ایسے دنوں میں امریکا میں مقیم شاعر و صحافی حسن مجتبیٰ کا شعری مجموعہ ”تم دھنک اوڑھ لینا“ ملن کی چاہت لے کر ہمارے ہاتھوں میں پہنچا ہے۔ یہ دن ہجر و وصال کے گیت لکھنے والے شاعر حضرات کے پیغام کا مکمل رد ثابت ہوئے ہیں۔ نیویارک سے لے کر نواں کوٹ سندھ تک ملن کی تمنا کے شہید کورونا وبا نے ایک جیسے کر دیے ہیں۔

سانسوں سے سانس اور ہاتھوں سے ہاتھ ملانے سے گریز کرنے کی بات دنیا کے ہر کونے سے سنائی دے رہی ہے۔ اگر ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ سے اور ایک سانس دوسری سانس سے ملی تو سانسوں کا قائم رہنا خطرے میں پڑ جائے گا۔ کورونا کی وجہ سے زندگی میں پہلے جیسی زندگی نہیں رہی۔ بازار اور بار ویران ہیں۔ صرف ہسپتالوں کے انتہائی نگہداشت والے وارڈ آباد ہیں۔ صدیوں کی تنہائی یکجا ہو کر آج کے انسان کا مقدر بن گئی ہے۔ جس نیویارک کی روشنیوں میں سارا جہاں رقص کرتا تھا، اس شہر کا اب بقول مجتبیٰ یہ عالم ہے۔

Read more

عمران خان کے بکھرتے خواب : گوئندی کے تلخ و شیریں تجزیے

پاکستان کی قومی اور عالمی سیاست پر مبنی تجزیے، تحریر و تقریر میں فرخ سہیل گوئندی کا نام بہت مستند اور احترام سے لیا جاتا ہے۔ وہ کسی سیاسی پارٹی اور اس کے منشور کی وکالت نہیں کرتے بلکہ جو زمینی حقائق ہوں انہی کو احاطہ تحریر میں لانے میں بغیر کسی ہچکچاہٹ اور تعلق داری کے خامہ فرسائی میں ہمیشہ پیش رہے ہیں۔ پاکستان کی سیاست پر انہوں نے جو پہلی کتاب لکھی تب ان کی عمر 19 سال

Read more

آنکھیں آبیاری کررہی ہیں پھر سے خوابوں کی

سچ تو یہ ہے کہ اس بار جب ڈاکٹر خالد سہیل نے اپنی کتاب آدرش مجھے عنایت فرمائی تو میں خوش ہونے کے بجائے کچھ چڑ سا گیا۔ دل جھلا سا گیا سوچا پلٹ کر پوچھ ہی لوں کہ ڈاکٹرصاحب آخر آپ کا مسئلہ کیا ہے؟ پچھلے چالیس برسوں سے آپ مسلسل لکھ رہے ہیں شاعری، افسانے، مضامین، ترجمے، نفسیاتی مسائل۔ یعنی درجنوں کتابیں آپ کی آ چکی ہیں، مگر پھر بھی طبعیت ہے کہ آپ کی بھرتی ہی نہیں۔

Read more

لیلی للامی کی کتاب: امید اور دوسرے خطرناک مشاغل

اردو قارئین کا کتاب سے رشتہ جوڑنے اور مطالعے کو فروغ دینے میں جو کام اجمل کمال کی آج کی کتابوں اور آصف فرخی کی شہرزاد نے کیا ہے اس کی نظیر کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس میں خاص طور پر عالمی ادب کے معیاری تراجم اور مناسب داموں میں نفیس اور دیدہ زیب کتابوں کی اشاعت شامل ہے۔ ایسی ہی ایک پیپربیک مراکش کی لیلی للامی کی ’امید اور دوسرے خطرناک مشاغل‘ تھی۔ محمد عمر میمن نے اسے اردو کے قالب میں ڈھالا۔

امید اور دوسرے خطرناک مشاغل ایسے پرعزم افراد کی کہانی بیان کرتی ہے جو بہتر زندگی کی تلاش میں اسپین ہجرت کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے رستے میں رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں مگر وہ مصروف عمل رہتے ہیں۔ وہ معاشرہ کی جکڑ سے آزاد ہو کر کھلی فضا میں سانس لینا چاہتے ہیں۔ انہیں پردیس کی سختیوں کا اندازہ ہے۔ لیکن خاندان کے بہتر مستقبل کے لیے انہیں یہ قدم اٹھانا پڑے گا۔ ان کی زندگی میں کہیں یادوں کی ٹھنڈی چھاؤں ہے اور کہیں انتظار کی کڑی دھوپ۔ وعدوں کے سائے طویل ہوتے جاتے ہیں۔ ان کی امید انتہائے کار پاش پاش ہو جاتی ہے۔ آنے والے وقت کی فکر میں انہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا حال ان کے ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔

Read more

جہان حیرت۔ ڈاکٹر شاہد مسعود خٹک

یوں تو دنیا میں بے شمار لوگ مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب آتے جاتے رہتے ہیں لیکن بہت ہی کم لوگ اپنی ان مصروفیات یا سیاحت کو قرطاس پر منتقل کرنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔ ادبی ذوق کی حامل شخصیات اپنی سفری مصروفیات کو خواہ مختصر ہی کیوں نہ ہوں قلم بند کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔ مایہ ناز سائیکاٹرسٹ، علمی و ادبی و فکری شخصیت جناب ڈاکٹر شاہد مسعود خٹک صاحب نے اپنی پہلی کتاب ”پاکستانی معاشرہ، ایک سماجی و نفسیاتی تجزیہ“ کے بعد اپنے پانچ ممالک، پانچ شہر اور پانچ چاندنی راتوں کے پرفسوں مناظر پر مشتمل مختصر سفر کو کتابی شکل ”جہان حیرت“ میں ترتیب دے کر سفرنامہ پڑھنے والوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے جب ”جہان حیرت“ عطا کی تو وہیں بیٹھے بیٹھے پیش لفظ کی قرات کے ساتھ ساتھ جب ورق گردانی کی تو الفاظ کی جڑت، نثر کی روانی، تاریخ اور منظر نگاری نے تو ایک ہی نشست میں کتاب پڑھنے پر آمادہ کر لیا۔

Read more

یہی ہے زندگی، کچھ خواب، چند امیدیں ( ”آدھے ادھورے خواب“ پر تبصرہ)۔

پچھلے دنوں، ایک گفتگو کے دوران میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا کہ جس طرح پوری دنیا کے ادب میں ایک عام انسان کو ہیرو بنایا جا تا رہا ہے، ہمارے ہاں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟ کیوں اردو ناول میں ہر ہیرو بزنس مین، زمین دار، ڈاکٹر، انجینیئر یا کوئی خاص اور نمایاں خصوصیات کا حامل کردار ہوتا ہے، کوئی استاد اس کا مرکزی اور سب سے طاقت ور کردار کیوں نہیں ہو سکتا؟ سوال اپنی جگہ بہت اہم تھا اور جواب اس لیے وہاں نہیں دیا جا سکا کیوں کہ اس وقت تک ”آدھے ادھورے خواب“ ہاتھ نہیں آیا تھا۔ اب جو ہاتھ آیا ہے تو جواب بھی ہاتھ آ گیا ہے اور یہی اس پر لکھنے کا سبب بھی ہے کہ اگر میری طرح کوئی اور بھی اس تاخیر کا شکار ہے تو اب بھی وقت ہے۔

Read more

اصغر خان کی ڈائری ( طنز و مزاح)

بات کچھ عرصہ پہلے کی ہے، محبان بھوپال فورم کی زیر اہتمام ایک ادبی تقریب اردو ڈکشنری بورڈ میں منعقد تھی۔ تقریب کا دعوت نامہ سوشل میڈیا پر دیکھا، وقت بھی مناسب تھا، گھر سے بھی نزدیک، ہم نے اس تقریب کا رخ کیا اور وقت مقررہ پر پہنچ گئے یہ معلوم نہ تھا کہ تقریب اعلان کردہ وقت کے دو گھنٹے بعد شروع ہوگی۔ خیر صاحب ہم ایک عام سامع کی حیثیت سے گئے تھے، مقصد ادبی تقریب میں احباب کو سننا تھا۔ چند احباب نے ہمیں دیکھا تو ہمیں اگلی سیٹ پر پہنچا دیا، حالانکہ ہم پیچھے بیٹھنے کے عادی بھی ہیں اور بیٹھنا بھی چاہتے تھے تاکہ جلد اٹھ کر جاسکیں۔

مجبوری یہ بھی ہے کہ زیادہ دیر بیٹھنا ہماری کمر کو گوارا نہیں، وہ بہت جلد ہم سے واپس چلنے کی ضد کرنے لگتی ہے۔ ہم اگلی سیٹ پر بیٹھ گئے ایک کرسی چھوڑ کر، کچھ ہی دیر میں ایک صاحب بھاری بھر کم، دراز قد، ہم سے پہلے والی سیٹ پر آ کر براجمان ہوئے۔ دھیمی آواز میں سلام کا تبادلہ ہوا۔ وہ ہمارے لیے اجنبی اور ہم ان کے لیے اجنبی تھے۔ لیکن ادب ہمارے بیچ ایک مثبت تعلق ادا کر رہا تھا۔ ہم بیٹھے بیٹھے اندازہ لگا رہے تھے کہ یہ کون صاحب ہیں جو بالکل خاموش بیٹھے ہیں۔

Read more

’’بچے کا مقدمہ‘‘

’’بچے کا مقدمہ‘‘یہ ایک کتاب ہے ،مکمل کتاب۔اس کی خواندگی کے بعد آپ اپنے بچے کو جان پائیں گے،جب جان پائیں گے ،تواُس کی تربیت بھی کر پائیں گے۔ مَیں نے جب یہ کتا ب پڑھی،تو مصنف (وقاراحمد ملک) سے جنہیں ،مَیں اُن کی تحریروں سے جانتا تھا، فون پر بات کی اورایسی کتاب لکھنے کا شکریہ اداکیا۔مجھے بچوں پر ایک کتاب’’زینب کیس:ایک سماجی مطالعہ‘‘لکھنے کا موقع ملا۔یہ کتاب لکھنے سے قبل ،مجھے بچوں پر لکھی کتابوں کو دیکھنے اور

Read more

باراک اوبامہ کی کتاب: دی پرامسڈ لینڈ، (سرزمین موعودہ)

امریکہ کے 44 ویں صدر کے عہدے پر سبکدوش ہونے والے بارک اوبامہ نے حال ہی میں دنیا کی توجہ اپنی نئی تصنیف کی جانب مرکوز کرؤائی جس کا نام The Promise Land یعنی سرزمین موعودہ ہے، اپنی یاداشتی تحریر میں سابق امریکی صدر اوبامہ نے سپر پاور ملک کے صدر کے طؤر پر عہدے پر فائز مشکلات، فیصلے اور عالمی معاملات پر مفصل نظر ڈالی ہے، اؤبامہ کی یہ تحریر انتظامی سپاہی کے طور پر منظرعام پر آئی ہے، جس میں

Read more

پراعتماد بچے کی پرورش

پرورش و تربیت ایک ایسا موضوع ہے، جس کی اہمیت سائنس و ٹیکنالوجی میں روز بروز ترقی کی وجہ سے آئے دن بڑھتی جا رہی ہے۔ ہمارے ہاں اس موضوع پر بہت کم لکھا گیا ہے اور جو لکھا بھی گیا ہے وہ انتہائی غیر معیاری اور سطحی ہے۔ حالانکہ قوم کو اس موضوع پر رہنمائی کی اشد ضرورت ہے۔ بچے کسی بھی ملک یا قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ اگر ان کی رہنمائی یا تربیت احسن انداز سے نہ

Read more

علی اکبر ناطق کا ناول: نو لکھی کوٹھی

گزشتہ دنوں علی اکبر ناطق کا تحریر کردہ ناول ”نو لکھی کوٹھی“ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ ایک تاریخی ناول ہے۔ ناول میں کچھ ایسی باتیں پڑھنے کو ملیں جو تاریخی اعتبار سے غیر حقیقی محسوس ہوتی ہیں۔ جن کو پڑھ کر اس پر تبصرہ کرنے کا سوچا۔ آج میں ”نو لکھی کوٹھی“ کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر اپنے قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ یہ ناول متحدہ ہندوستان کے وسطی پنجاب میں 1930 ء کی دہائی سے لے

Read more

داستان رنگ: ایک اجمالی جائزہ

بیسویں صدی نے اردو افسانے کے کئی ادوار کو جنم بھی دیا اور پروان بھی چڑھایا۔ یہاں وہ افسانہ نگار بھی آئے جنہوں نے روایتی بیانیے کے زیر اثر زندگی کے تلخ و شیریں مناظر کو کہانی کا پیرہن عطا کیا اور وہ بھی جنہو ں نے افسانے کو ابہام اور چیستاں بنا دیا۔ لیکن اسی صدی کے ربع آخر میں وہ دور بھی آیا جس میں بیانیہ اپنی پوری تب و تاب کے ساتھ کہانی میں جلوہ گر ہوا۔

Read more

کچھ لکھاری اداسی کے موسم میں مجھے بلاتے ہیں

آگ کے دریا کے کنارے بیٹھی آنسو بہاتی عینی آپا ہیں۔ زندگی کے خالی پن کی وجودی کیفیت کو محسوس کرواتا جاپان کا موراکامی ہے۔ لفظوں سے گمشدہ ماضی کی تصویریں بناتا ترکی کا اورحان پامک ہے۔ مٹتی ہوئی منتشر یادوں، باتوں، اور خوابوں سے اپنی انسانی پہچان برقرار رکھنے کی کوشش میں چیک ریپبلک کا میلان کنڈیرا ہے۔ غلام معاشرے کی ٹریجک کامک صورتحال بیان کرتے مرزا اطہر بیگ ہیں۔ نظریوں کے ٹوکوں سے ادھڑی لاشوں میں زندگی تلاش

Read more

میں ہوں تیمور ( 1336۔ 1405 )

اس مضمون کا عنوان دراصل ایک کتاب سے مستعار لیا گیا ہے جو کہ ایک فرانسیسی مصنف مارسل بریون Marcel Breven کی تصنیف ہے اور اردو زبان میں اس کا ترجمہ خلیل الرحمٰن اور ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی نے کیا اور پاکستان میں سیارہ ڈائجسٹ نے شائع کیا۔ یہ کتاب تاریخ سے شغف رکھنے والوں کے لئے ایک اہم کتاب ہے۔ مارسل بریون نے امیر تیمور لنگ کی خود نوشت کا ترجمہ کیا ہے۔ امیر تیمور کی بھرپور زندگی کا احاطہ ایک مضمون میں تو نہیں کیا جا سکتا لیکن اس مضمون میں اس کی زندگی کے متعلق چند دلچسپ واقعات و حقائق بیان کیے جائیں گے جو کہ مذکورہ بالا کتاب سے نقل کیے گئے ہیں۔

امیر تیمور موجودہ ازبکستان کے شہر کیش میں پیدا ہوئے جو کہ سمر قند سے 50 کلومیٹر کی دوری پہ واقع ہے۔ امیر تیمور تفاخر کے طور پر خود کو منگول نسل کا بتاتے تھے اور چنگیز خان کو اپنا پردادا بتلاتے تھے مگر مورخین کے مطابق دراصل وہ ترک منگول تھے نہ کہ خالص منگول۔ امیر تیمور نے پانچ سے زائد نکاح کیے۔ امیر تیمور کے والد کا نام ”ترقائی“ تھا۔ خیبر پختونخوا میں کچھ لوگ نام کے ساتھ ”ترکئی“ قوم لکھتے ہیں، ہو سکتا ہے ان کی آپس میں کوئی نسبت ہو کیونکہ ہندوستان فتح کرنے کے لئے تیمور باب خیبر سے ہی ہندوستان میں داخل ہوا تھا۔

Read more

خلیل جبران: محبت کے خطوط

کہتے ہیں کہ خلیل جبران نے اپنی زندگی میں پانچ عورتوں سے محبت کی: لبنانی حلا، فرانسیسی میشلن، امریکی میری ہیسکل، مصری می زائدہ اور امریکی باربرا ینگ۔ خلیل جبران کی ایک کتاب ’محبت کے خطوط‘ شایع ہوئی، جس میں می زائدہ کے ساتھ ان کے رومان کی خط و کتابت نقل کی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خلیل جبران، جنہوں نے دنیا کے بہت سے ممالک کے سفر کیے، کبھی اپنی مصری محبوبہ سے بالمشافہ نہیں ملے۔

Read more

لن یوتنگ کی کتاب: جینے کی اہمیت

وہ سرمئی رنگ کی مضبوط جلد والی کتاب تھی۔ اسے دیکھ کر میرا پہلا تاثر یہ بنا کہ یہ کتاب زندگی سے لطف اٹھانے اور مشکلات سے نبرد آزما کے گر سکھاتی ہے۔ تناؤ کی سچوایشن میں موڈ کو خوش گوار بنانے کے لئے اکثر اس کا مطالعہ کرنے بیٹھ جاتا۔ ایک طرح سے یہ میری سیلف ہیلپ کی پہلی کتاب تھی۔ یہ لن یوتنگ کی ’جینے کی اہمیت‘ تھی۔ یہ کتاب زندگی گزارنے کے چینی فلسفے پر روشنی ڈالتی

Read more

تاریک ایام: سویڈش ادیب ہینی مانکل کے ڈرامے کا اردو قالب

’تاریک ایام‘ سویڈش ادیب ہینی مانکل کے ایک ون ایکٹ پلے کا اردو قالب ہے جسے نارویجئن پاکستانی ادیب، ڈائریکٹر اور اداکار ٹونی عثمان نے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ اوسلو میں اسٹیج پرپیش کرنے کے لئے اس ڈرامے کا ترجمہ تین برس قبل کیا گیا تھا تاہم موضوع کی اہمیت اور یورپ آنے والے مہاجرین کے دکھوں اور تکلیفوں کو اردو قارئین تک پہنچانے کے لئے اسے اب کتابی شکل میں شائع کیاگیا ہے۔ یہ اردو زبان میں

Read more

” خضر کی کہانی“ اور پاکستان کا سفر

بہت انتظار کے بعد آخر کار پاکستان کے سفر کا موقع ملا تو جیسے ایک دیرینہ خواہش پوری ہوئی۔ مارچ کے آخر میں اسی سفر کی ساری تیاریاں مکمل کر کے جب جانے کا وقت قریب آیا تھا تو کرونا کی وبا کی وجہ سے ساری پروازیں منسوخ ہو گئی تھیں اور یوں میرا سفر بھی۔ میں پچھلے کئی سالوں سے کینیڈا میں مقیم ہوں لیکن اپنے پیاروں کی محبت اور اپنی مٹی کی کشش مجھے ہر سال جانے پر

Read more

سورج پہ کمند: ایک صبر آزما سفر

مئی 2012ء میں جب ہم نے این ایس ایف ری وزیٹڈ نامی فیس بک گروپ کے قیام کے ساتھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی تاریخ مجتمع کرنے کا آغاز کیا تو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ہم ایسے سفر پر روانہ ہو رہے ہیں کہ جس کے پر پیچ راستوں سے گزرنے میں آٹھ برس سے زائد عرصہ درکار ہو گا۔ ہماری یہ کم علمی اس لحاظ سے بہتر ثابت ہوئی کہ آئندہ عرق ریزیوں کا پیشتر

Read more

” البیان“ ترجمہ و شرح قرآن پر ایک نظر

بعثت نبئی آخرالزماں ﷺ کا سب سے بڑا اور زندہ جاوید معجزہ قرآن مجید ہے۔ آج بھی تاریخ کے دامن میں صفت لاریب سے متصف واحد کتاب ہے۔ عالم انسانیت کے لیے صراط مستقیم کا راز قرآن حکیم میں ہی مضمر ہے۔ یہی کتاب قوموں کے عروج و زوال کا معیار ہے۔ اسی لیے اہل دین و دانش قرآن مجید کو انسان کی اول و آخر ضرورت قرار دیتے ہیں۔ اس کے بغیر نہ مادی زندگی کے تقاضے پورے ہو

Read more

جب ڈپٹی نذیر احمد کی آخری کتاب نذر آتش کی گئی

مرحوم ڈاکٹر آصف فرخی نے اپنے ایک مضمون میں ڈپٹی نذیر احمد کے ناول توبة النصوح کا ذکر کیا ہے جس میں نصوح کچھ کتابوں کو نذر آتش کرتا ہے۔ یہ کتابیں نصوح کے بیٹے کی ہیں جنہیں نصوح قابل اعتراض قرار دے کر جلادیتا ہے۔ اس کتاب پر بات کرتے ہوئے میرے دوست اجمل کمال نے مجھے یاد دلایا کہ بالآخر خود ڈپٹی نذیر احمد بھی ایسے ہی سلوک کا شکار ہوئے تھے جب ان کی زندگی کے آخری

Read more

سب رنگ کہانیاں (2) : حسن رضا گوندل کی سب رنگ سے عقیدت کا کمال

ًسب رنگ ً ڈائجسٹ میں غیر ملکی کہانیوں کے تراجم پڑھ کر ہمیں بھی عالمی ادب پڑھنے کا شوق پیدا ہو گیا تھا۔ لیکن ہم جیسے چھوٹے شہروں میں رہنے والوں کا المیہ ہے کہ ان شہروں میں کتابوں کی دکانیں بھی چھوٹی ہوتی ہیں جن میں انگریزی زبان کی کتب نا پید ہی ہوتی ہیں۔ کلاسیک ادیبوں کی کتابیں تو پھر کالج کی لائبریری سے مل ہی جاتی تھیں لیکن دوسری اچھی اور نئی کتابوں کے لئے بڑے شہر

Read more

معنی کی تلاش میں بھٹکتے افسانے

افسانہ کسی ایک جملے، واقعے یا کردار پر لکھا جا سکتا ہے، یعنی آپ محض ایک جملے کو حیات بخشنے کی خاطر ایک کہانی ترتیب دیتے ہیں اور اس کہانی میں کہیں وہ جملہ ایسے پرو دیتے ہیں کہ وہ پورے متن سے رشتہ جوڑ لے۔ وہ جملہ کہلوانے کی چاہ میں ایک کردار پکڑا جاتا ہے اور اس کردار کی شخصیت، سماجی زندگی اور نفسیاتی صورت حال کو ایسے نکھارا جاتا ہے کہ وہ ایک جملہ اس کے منہ

Read more

شہر مرگ (ناول)

یہ ڈاکٹر طاہر نواز کا پہلا ناول ہے۔ ان کی فکشن کی پہلی کتاب ہے۔

ناول میں ایک شہر تو ہے لیکن یہ کسی شہر کی کہانی نہیں اور نہ ہی کسی شہر کے عروج و زوال کا نوحہ ہے۔ شرقی اور غربی حصوں میں تقسیم یہ ایک بے نام شہر ہے البتہ اس کے نقشے اور چند دیگر تفصیلات کو مد نظر رکھیں جیسا کہ لوگوں کا رہن سہن، کرداروں کے نام، بعض مبہم اور غیر مبہم حوالے، واضح کلچرل اور مذہبی کوڈز اور پھر بین المتونیت کی بلا واسطہ موجودگی، ایسے میں (شعوری اور لاشعوری طور پر ) ایک مانوس دور کا منظر نامہ ابھر کر سامنے ضرور آتا ہے جسے بہ سہولت نو آبادیاتی دور سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔

Read more

راج دھارا تے لوک تکنی اور ڈاکٹر سعید خاور بھٹا

وقت گزرے جا رہا ہے، زندگی بسر ہو رہی ہے۔ دونوں کے بیچ میں انسان اپنے حصے کا دورانیہ پورا کر کے اچھی بری یادیں چھوڑ کر دنیا کی سب سے بڑی حقیقت موت کو گلے لگا کر واپس اپنی ماں (مٹی) میں دفن ہو جاتا ہے۔ ماں سے ماں تک کا یہ سفر ہر آنے والے کو طے کرنا پڑتا ہے۔ طے کرنے کا عمل نشاں دہی کرتا ہے کہ یہ مرنے والے کے ورثا کے لیے فخر یا

Read more

قید یاغستان: ایک فراموش شدہ کلاسیک

ایک قاری کے لیے بسا اوقات یہ انتخاب کرنا مشکل ہو جاتا ہے جب اس سے یہ دریافت کیا جائے کہ آپ کے مطالعے اور ذوق کے پیش نظر کون سی کتاب یا ناول سب کا سرخیل ہے۔ چنانچہ احقر نے جب اس سوال کو ذہن کے دریچوں میں کھنگالا تو اپنے آپ کو ایک مشکل یا یوں کہیے ایک مصیبت میں گرفتار پایا کہ کس کو منتخب کیا جائے اور کس کو چھوڑ دیا جائے۔ پھر بھی درج ذیل

Read more

داستان ہونے کے بعد………

شمع خالد پاکستان کی ایک معروف مصنفہ ہیں۔ ان کی تحریروں افسانوں پر حقیقت کا گماں ہوتا ہے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے بی ایڈ کیا سندھ یونیورسٹی سے ایل ایل بی اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے ( اردو، پولیٹیکل سائنس، ہسٹری ) کیا۔

مصنفہ ہونے کے علاوہ، ان کے پاس پروڈکشن اور پروگرامنگ کا 24 سال کا بھی تجربہ ہے۔ وہ پی بی اے (پاکستان براڈکاسٹنگ ایسوسی ایشن) کے لئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ریڈیو پروڈکشن ان کا شعبہ تھا جسے انہوں نے اپنے کیریئر کے طور پر جاری رکھا۔ اس کی پیش کش میں بی بی سی لندن سے ریڈیو ڈرامہ کی تیاری اور دیگر پروڈکشن شامل ہیں شمع خالد نے بہت سی کتابیں لکھیں لیکن ”داستان ہونے کے بعد“ جس خوبصورتی سے لکھی گئی ہے شاید ہی کوئی اور ہو۔

Read more

کافی ہاؤس آف لاہور: ایک خود نوشت 1942 ۔ 1957

مدت ہوئی, خدائے سخن میر نے کانپتے ہاتھوں سے لکھا ”زمانہ زندہ رہنے کے قابل نہیں رہا، اب اس سے دامن کھینچ لینا ہی اچھا ہے“۔ اور دھندلی آنکھوں سے دہلی کی اجڑی گلیوں میں ماضی کی حسین یادیں ڈھونڈتے رخصت ہوئے۔ زمانہ گزرا, دہلی آباد ہونے کے بعد پھر اجڑی، قیامت کے ہنگامے میں میاں نوشہ نے دل گم گشتہ کو بار بار یاد کیا۔ تقسیم کے ہنگاموں میں امروہہ کی تہذیب کو اجڑتے دیکھنے والے جون ایلیا نے

Read more

ای بکس کی اہمیت و افادیت

صاحب وہ زمانے لد گئے جب بغل میں مسودہ دبائے کتاب کی اشاعت کے لیے پبلشر کے آفس کے چکر لگائے جاتے تھے۔ کتاب کے ٹائٹل کے لیے کس نامور مصور کی خدمات لی جاتی تھیں، کتاب کی معیاری اشاعت کی کئی بار یقین دہانی کے بعد پبلشر کے ہاتھ میں پیشگی رقم تھمائی جاتی تھی۔ کتاب کے لیے معیاری کاغذ کا اہتمام کیا جاتا تھا، اور پھر خد ا خدا کرے کتاب اشاعت کے پل صراط سے گزرتی تھی،

Read more

تخلیقی اقلیت کے خواب اور مسائل پر تبصرہ

جب کوئی شخص ”تخلیقی اقلیت“ کے یہ دو الفاظ سنتا ہے تو اس کے دماغ میں بہت سے سوالات پیدا ہوسکتے ہیں : تخلیقی صلاحیتں کیا ہیں؟ تخلیقی عمل کیا ہے؟ کیوں کچھ لوگ تخلیقی ہوتے ہیں اور ان کی مشترکہ خصوصیات کیا ہیں؟ کیا وہ اپنے خاندانوں اور معاشروں کی روایات اور اقدار کے ساتھ تنازعات میں نہیں ہیں؟ اگر ایسا ہے تو کیا وہ مسائل کو حل کرنے کے قابل ہیں؟ جب میں نے خالد سہیل کتاب کی

Read more

اپنی اگلی پسندیدہ کتاب سے ملیے

سوشل میڈیا ہماری آنکھوں کے سامنے زندگیوں کا ناگزیر حصہ بن گیا۔ یونیورسٹی میں پہلی دفعہ ٹویٹر اور فیس بک کا نام سنا۔ پہلے پہل ان کا مقصد کچھ سمجھ نہیں آیا۔ ٹویٹر تو لگا کہ یہ عوام کے لیے ہے ہی نہیں۔ صرف مشہورشخصیات مداحوں کو باخبر رکھنے کے لئے اسے استعمال کرتے ہیں۔ میں نے بھی اپنے پسندیدہ لوگوں کی تلاش شروع کر دی۔ کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ ملی۔ ایک رائیٹر کا خود ٹویٹر اکاؤنٹ بنا کر

Read more

ایلف شفق کا ناول: حوا کی تین بیٹیاں

” حوا کی تین بیٹیاں“ ایلف شفق کے قلم سے نکلا ایک اور عمدہ ناول ہے۔ ناول چار ابواب یا چار حصوں میں منقسم ہے اور ہر باب کے نیچے بہت سی چھوٹی چھوٹی سرخیاں ہیں۔ ایلف شفق کے ناولز کی ایک خصوصیت سامنے ابھر کر آتی ہے وہ ہیں مضبوط نسوانی کردار جو کہانی میں کسی مفعول یا بھرتی کے کردار نہیں ہوتے بلکہ وہ کہانی کے فاعل ہوتے ہیں، وہ ”عشق کے چالیس دستور“ کی ایلا ہو یا

Read more

بوہومل ہرابل کا ناول:Too Loud a Solitude

تم پوچھتی ہو نا ہر وقت کتابیں کیوں پڑھتے رہتے ہو۔ کہتی ہو! زندگی میں ان خشک کتابوں کے سوا اور بھی بہت کچھ ہے ۔ چھوڑو سب کچھ اور میری طرف دیکھو ،مجھ سے باتیں کرو۔ میں تمھاری بات مان کر کچھ دیر کو تمھارے حسن کے سحر میں کھو تو جاتا ہوں۔ مگر دل انھیں خشک کتابوں میں اٹکا رہتا ہے۔ تم جاننا چاہتی ہو نا کہ آخر ان کتابوں میں کیا کشش ہے جو کم ہونے کا

Read more

لوگ در لوگ: تاریخ ساز لوگوں کی مثنوی یوسف

فرخ سہیل گوئندی کمال کے انسان ہیں۔ تین چار مشکل لیکن دل چسپ شوق پال رکھے ہیں۔ جن میں ان کی جہان گردی جو اب ان کی شخصیت کا حصہ بن چکی ہے۔ دوسرا لکھنا، جو ان کی سرشت میں شامل ہے۔ بھٹو سے بھگت سنگھ پر اور سماج کے زوال پر اور سلطنت عثمانیہ کا ترکی پر بے تکان بولتے ہیں۔ تیسرا، اچھی تحقیقی اور لطیف اور ذوق جمالیات پر مبنی کتابیں شوق سے اپنے پبلشنگ ادارے سے چھاپتے ہیں اور پھر جتنا ہو سکے اپنے پلے سے اچھے ہوٹلوں میں لنچ ڈنر کے ساتھ ان کتابوں کی تقریب رو نمائی بھی کر گزرتے ہیں۔

کم عمری میں بھٹو کے سحر میں مبتلا ہوئے اور ان کی کچی قبر کی مٹی سے تجدید نو کر کے اٹھے کہ اس بکھرتے سماج کے حوالے سے اپنی تئیں ایک مثالی اور با مقصد جد و جہد زندگی بھر کرتے رہیں گے۔ چوں کہ وہ مطالعے کے رسیا اور کتاب کو گھول کے پینے والوں میں سے تھے، سو انہیں لکھنے کا ڈھنگ آہنگ بھی اوائل عمری میں آ گیا تھا۔ لکھنے کے لگے بندھے اصولوں کے وہ قائل نہ تھے، سو انہوں نے چل پھر کے اور گھاٹ گھاٹ کے پانی پینے ہی میں دانش مندی کا ثبوت دیا، اور اصل حقیقت اور اصل بات کی تہیہ تک اتر جانے ہی میں اپنی بقا اور شناخت سمجھی۔ شخصیت پرستی کے طلسم کو اور شرم و جھجک کو بالائے طاق رکھتے ہیں، سو ان کے کیے گئے اور لکھے گئے خاکے اور انٹرویو سب سے الگ مستند اور تاریخ کا ریفرنس قرار پائے ہیں۔

Read more

مالک اشتر کی جنوں پاشی

فیسبک کی جگمگاتی دنیا میں جو سنجیدہ نوجوان حلقۂ احباب میں شامل ہوئے یا جنہوں سے اپنی منفرد تحریروں سے متاثر کیا انہیں میں ایک نام مالک اشتر کا بھی ہے۔ پیشے سے ایک پروفیشنل صحافی ہیں اور حالات حاضرہ، مسلمانوں کے مذہبی، سماجی اور اقتصادی مسائل پر ان کا رخش قلم ایک رفتار سے رواں دواں رہتا ہے۔ میری اگرچہ ان سے بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی مگر سوشل میڈیا کے ذریعے جو کچھ میں نے جانا ہے اس حوالے

Read more

عشق کے چالیس اصول: ناول پر ایک تاثر

کہانی کے اندر ایک اور کہانی کو بیان کرنا ہر لکھاری کے بس کی بات نہیں، اور یہی نہیں بلکہ ان دونوں کہانیوں کے حسیں امتزاج کی مثال عشق کے چالیس اصول The Forty Rules of Love نامی ناول ہے۔

ترکی نزاد مصنفہ الف شفق کے اس ناول کا مرکزی کردار ایک شادی شدہ امریکی عورت ایلا اپنے شوہر اور تین بچوں کے ساتھ خوش حال زندگی گزار رہی ہے، لیکن اس کے اندر محبت سے عاری خلا ہے۔ وہ ایک پبلشر کے لئے ناول ’شگفتہ توہین‘ Sweet Blasphemy کو تنقیدی ذہن کے ساتھ پڑھ رہی ہے، تا کہ وہ اسے اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کرے کہ یہ ناول شائع کرنے کے قابل ہے کہ نہیں۔ شگفتہ توہین کتاب شمس تبریزی کے بارے میں ایک ناول ہے، جو ایک خانہ بدوش درویش، عالم اور دانشور ہے اور چند مافوق الفطرت (supernatural) خصوصیات کا حامل ہے۔

Read more