کشمیر آزاد ہو چکا!

ہوش سنبھالنے کے بعد، خارجہ امور، پاکستان کے بین الاقوامی معاملات اور سویلین ملٹری تعلقات سے بہت دلچسپی رہی۔ جب سے لفظوں کی گھسیٹا کاری شروع کی اس دوران بھی یہ کوشش رہی جد و جہد کشمیر، پاک بھارت چپقلش، افغانستان کی صورتحال، بڑی طاقتوں کی خوشنودی کے لیے مفت میں ریاست کا پراکسی کردار، پڑوس اور خلیج کے ممالک میں سینڈوچ بنی حالت اور سویلین ملٹری تعلقات کو سمجھنے اور اپنی ناقص سوچ دنیا تک پہنچانے کی کوشش کروں۔

لیکن وہ کہتے ہیں بڑی مچھلی ہمیشہ چھوٹی مچھلی کو نگل لیتی ہے، یہی حال ہمارے ملک میں خبر اور ابلاغ کی دنیا کا ہے۔ پچھلا پورا ہفتہ میڈیا اور حکومت کی توجہ کا مرکز سعودی ولی عہد کا دورہ رہا۔ اسی دوران مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی فوجی کانوائے پر بارود بھری گاڑی کی مدد سے خودکش حملہ ہوا جس کے نتیجے میں 46 انڈین فوجی جہنم واصل ہو گئے۔ جس کے بعد حسب توقع انڈین میڈیا پر آہ و فغاں شروع ہو گئی، بغیر ثبوت و تحقیقات لمحاتی تاخیر کے بغیر الزام پاکستان اور جیش محمد پر لگا۔

Read more

بچوں کا جنسی استحصال

ہر مہذب معاشرہ اپنا وجود انسانوں کی وجہ سے قائم رکھ پاتا ہے۔ انسانوں کے صحت مند رویے معاشرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ ہر معاشرے کا کل اس کے بچے ہیں۔ جن کی حفاظت معاشرے کا فرض ہے۔ جس میں ماں باپ کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے۔ اور کبھی کبھی اس معاملے میں لاپرواہی سنگین نتائج کا باعث بنتی ہے۔

بچپن عمر کا سب سے خوب صورت دور ہوتا ہے۔ اس کو بے فکری سے تعبیر کیاجاتاہے۔ معصومیت بچے کا اصل سر مایہ ہو تی ہے۔ لیکن کبھی کبھی اس کے بر عکس بھی ہو تا ہے بچوں کا جنسی استحصال کر کے ان سے بے فکری اور لاعلمی چھن لی جا تی ہے۔ جب بھی کوئی جنسی درندہ اپنی وقتی تسکین کے لئے کسی بچے کو نشانہ بنا تا ہے تو اس کے بعد کا ٹروما بچے کی ساری زندگی پہ اثر انداز ہو تا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی جنسی زیادتی کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہو تا جارہا ہے ہر سال ہزاروں بچے اس ظلم کا شکار ہو تے ہیں۔ اور ساری زندگی اس ناکردہ گناہ کی سزا بھگتتے رہتے ہیں۔

Read more

ایک تڑپتا ہوا باپ اور پاکستانی قانون !

بابر ایک خوبصورت ہنڈ سم سا لڑکا تھا جو گاؤں سے روزگار کے سلسلے میں اسلام آباد آیا اس کی جاب ایسی جگہ پہ تھی جہاں سیاحوں کا آنا جانا تھا اسی دوران اس کی ملاقات ایک (ت) نامی لڑکی سے ہوگئی دونوں کو ایک دوسرے سے محبت ہوگئی بابر کے گھر والے گاؤں میں رہتے تھے جبکہ (ت) کے شہر میں رہتے تھے دونوں خاندانوں کی سوچ اور رہن سہن میں کافی فرق تھا لیکن یہ دونوں ایک دوسرے سے دور رہنے کا تصور ہی نہیں کر سکتے تھے دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا (ت) کی ماں اس شادی کے خلاف تھیں جبکہ بابر کے گھر والے اپنے بیٹے کی خوشی کی خاطر مان گئے تھے جبکہ (ت) نے ماں کی مرضی کے خلاف جاکے یہ شادی کر لی اور یوں دونوں اسلام آباد میں رہنے لگے بابر کے گھر والوں نے تو (ت) کو آنکھوں کا تارا بنا لیا کہ یہ اپنے گھر والے چھوڑ کے آئی ہے اور ہماری ہی بچی ہے گاؤں کی شادیوں میں جاتے تو بڑے فخر سے اپنی بہو کے نخرے اٹھاتے اور لوگوں سے اس کا تعارف کراتے لوگ نھی اس کی خوبصورتی کی تعریفیں کرتے اور دونوں کے پیار پہ رشک کرتے۔

Read more

21 فروری مادری زبانوں کا عالمی دن

21 فروری کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ 17 نومبر 1999 کو یونیسکو کی انسانی ثقافتی میراث کے تحفظ کی جنرل کانفرنس کے اعلامیہ میں 21 فروری کو مادری زبان کا دن منانے کا اعلان کیا اور 2000 سے یہ دن پوری دنیا میں منایا جا رہا ہے۔ 21 فروری 1952 کو ڈھاکہ یونیورسٹی جگن ناتھ یونیورسٹی اور ڈھاکہ میڈیکل کالج کے طلبا جو اردو کے ساتھ بنگالی کو بھی قومی زبان

Read more

پاکستان کے راجہ گدھ

آرٹیکل ’راجہ گدھ کے مطابق قوم کی دیوانگی کا سبب‘ بانو قدسیہ کے ناول راجہ گدھ سے منسوب تھا، جس میں رائٹر نے بڑی خوبصورتی سے معاشرے کے اس طبقے پر روشنی ڈالی جو حرام مال پر پل رہا ہے۔

یہ آرٹیکل بھی اسی کڑی کا ایک تسلسل ہے، اس آرٹیکل میں پاکستان کے ’راجہ گدھ‘ جن کے بارے میں ہم جانتے تو ہیں لیکن کبھی بات نہیں کی، یہ وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے ملک برباد ہوا بھی اور ہو بھی رہا ہے، اور ہوتا بھی رہے گا۔ یہ لوگ کیسی گدھ سے کم نہیں ہیں، لالچ، خودغرضی، آلسی پن، نا اہلی، کاہلی، آنا اتی ہے کہ قدم زمین پر نہیں ٹکتے، مردار کھانے میں بھی یہ لوگ گدھ سے پیچھے نہیں ہیں ہاں البتہ یہاں مردار صرف کھانا نہیں اور بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے۔

Read more

پاک سعودی دوستی تاریخ کے آئینے میں

روئے زمین کی مقدس ترین سرزمین عالم اسلام کا ڈھرکتا ہوا دل سعودی عرب کی عزت وشرف کسی ذی ہوش مسلمان پرمخفی نہیں۔ کیوں نا ہو، وہاں مسلمانوں کے دو متبرک ومقدس روحانی و تاریخی مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی صورت میں موجود ہیں۔ دنیا میں موجود ہرمسلمان کی دلی خواہش ہے کہ حرمین شریفین کی زیارت اسے نصیب ہو۔ پاکستان اور سعودی عرب کا دوستانہ رشتہ اور تعلقات کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی ان ملکوں

Read more

لوگ کیا کہیں گے؟

کہتے ہیں ایک گاؤں میں باپ بیٹا رہتے تھے۔ ان کے پاس ایک گدھا تھا۔ ایک دن وہ گاؤں سے باہر جارہے تھے۔ بیٹا گدھے پر سوار تھا جبکہ باپ ساتھ پیدل چل رہا تھا۔ ایک راہگیر نے انہیں روکا اور بیٹے سے کہنے لگا ”تم پاگل ہو؟ تمہارا باپ پیدل چل رہا ہے اور تم سواری کے مزے لے رہے ہو“۔ بیٹے کو شرمندگی ہوئی، وہ نیچے اتر آیا اور باپ کو گدھے پر سوار کردیا۔ تھوڑا اور آگے

Read more

جنگ کے جنون سے بیزار ہیں ہم

سوشل میڈیا دیکھ لیجیے یا پھر ٹی وی کا بٹن ان کرلیجیے۔ اس وقت جو سودا سب سے مہنگا بک رہا ہے وہ جنگی جنون کا ہے۔ کیا اس جنگی جنون میں دو ایٹمی طاقتوں کے عوام کو جان بوجھ کر مبتلا کیا جارہا ہے؟ یہ سوال غور طلب ضرور ہے۔ دونوں طرف کے عوام جو ایک طویل سرحد کے ساتھ جڑے ہیں۔ یہ طویل سرحد صرف جغرافیے کی نہیں ثقافت کلچر، نفسیات، رسومات، زبان و چٹخارے کے ذائقے کے اشتراک سے لے کر کون کون سی سانجھ ہے جس میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ مشترک نہیں۔ رنگ ایک ہم بہت سوں کے، اب و جد ایک، سرحد پار علاقوں میں اکثر آدھا خاندان ادھر آدھا ادھر، خونی رشتے ہیں جو تقسیم ہوے پڑے ہیں، کیا ان تمام اشتراکات کے بعد یہ جنگی جنون ہمارے ذی ہوش ہونے پہ بہت بڑا سوال کھڑا نہیں کرتا؟

Read more

مادری زبانوں کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں

پوری دنیا میں 21 فروری کو مادری زبانوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 1999 میں یونیسکو کی طرف سے میں اس دن کو باقاعدہ منانے کا اعلان ہوا اور 2008 مین یو این او میں باقاعدہ ایک قرارداد کے ذریعے اس سال کو عالمی زبانوں کا سال قرار دیا گیا۔ 21 فروری 2000 سے اس دن کو باقاعدہ منایا جارہا ہے۔ اس سال بھی اسی مناسبت سے آج یعنی 21 فروری کو پوری دنیا میں یہ دن منایا گیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد تمام زبانوں کو فروغ دینا اور ثقافتی تغیر اور ملٹی لنگویلیزم کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

Read more

مادری زبانوں کے ادبی میلے کہ جب مصنفین اپنی کتابیں گھر بھول آئے

بین الاقوامی مادری زبانوں کا دن ہر سال 21 فروری کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1952 کے 21 فروری کی وجہ سے منتخب گیا ہے جس دن ڈھاکہ یونیورسٹی، جگن ناتھ یونیورسٹی اور ڈھاکہ میڈیکل کالج کے طلبہ ملک میں اردو کے ساتھ بنگالی کو بھی قومی زبان بنانے کے لیے احتجاج کر رہے تھے کہ پولیس نے گولی چلا کر انہیں ہلاک کر دیا اور جس کے نتیجے میں شہید مینار بنا جس نے مینار پاکستان میں دراڑ ڈالی اور بنگلہ دیش بن گیا۔ ہمیشہ سے ہی میلے ہماری ثقافت کا وہ رنگ رہے ہیں جن کے انعقاد سے معاشرے میں ہر سو خوشبو پھیلتی رہی ہے۔

میلے چاہے ہمارے روایتی کھیل سے سجے ہوں یا کتب بینی سے یا پھر راگ رنگ سے ان کے اثرات ہمیشہ معاشرے پر مثبت ہی نظر آئے ہیں۔ گزرتے وقت کے ساتھ ان میلوں کے طور طریقے اور اغراض و مقاصد تبدیل ہوتے رہے ہیں اور اب یہ میلے کروانے والے پر منحصر ہے کہ ان کے میلے کا ایجنڈا کیا ہے۔ آج کل روایتی کھیلوں اور راگ رنگ کی جگہ ادبی، صوفی اور لاہوتی میلوں کا انعقاد زور و شور سے ہو رہا ہے۔ میلوں کا انعقاد، فنڈنگ اور پبلسٹی بھی ایک فن ہے جو ہر کسی کی بس کی بات نہیں ہے۔

Read more

اغیار میری زبان کو ایک دوزخی زبان سمجھتے ہیں

ہر انسان کی فطری زبان ان کی اپنی مادری زبان ہوتی ہے۔ مادری زبان کو بھلا کر بعض لوگ حقیقت میں اپنی ماں اور فطرت کے ساتھ خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ مادری زبان ہی میں انسان اپنا اظہارمافی ضمیر کسی بھی دوسری زبان کے مقابلے میں بہترکرسکتاہے۔

ماں کی زبان حقیقت میں خواب وخیال کی زبان ہوتی ہے اسی لئے علم نفسیات اور لسانیات کے ماہرین اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ بچوں کو ایسی زبان میں تعلیم دینی چاہیے جس میں وہ خواب دیکھتے ہوں۔ ان ماہرین کا یہ دعویٰ بھی طویل تجربات کے بعد سچ ثابت ہوا ہے کہ جس بچے کو اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، نتیجے کے طورپر وہ ان بچوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں جنہیں یہ مواقع میسر نہ ہوں۔

Read more

سوشل میڈیا: پاک و ہند کا کشمیر محاذ

وادیَ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں پیش آنے والے واقعے کو آج پانچواں روز ہے۔ واقعے کے فورا بعد آنے والے بھارتی موَقف میں حسبِ روایت ہم ہی مورد الزام ٹہرائے گئے۔ دونوں ممالک میں ہر شعبے سے تعلق رکھنے والوں نے انسانی جانوں کی ضیاع پر افسوس کا اظہارکیا۔ تاہم اس حملے کے فوراً بعد بھارت میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ پاکستان مخالف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا جس کا اظہار تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیا۔

Read more

مولانا فضل الرحمان آخر کیا چاہتے ہیں ؟

کہا جاتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان بھی عجیب آدمی ہیں، اقتدار میں رہتے ہیں تو خاموش رہتے ہیں اور جب اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو مچھلی کی طرح تڑپتے رہتے ہیں۔ کچھ روز قبل سابق صدر پرویز مشرف نے یہاں تک کہ دیا کہ مولانا فضل الرحمن حکومت کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ وہ جب اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو حکومت گرانے کے لئے کوشاں ہوتے ہیں۔ جبکہ مولانا فضل الرحمان کے لئے یہ بات مشہور

Read more

میں لفظوں کا دھندا کرتا ہوں تم کس کا دھندا کرتے ہو؟

تم نے میرے کمرے کے بارے میں پوچھا ہے، تم کبھی میرے کمرے میں آکر دیکھو! تمہیں جابجا بکھرے الفاظ ملیں گے، ٹوٹے پھوٹے، شکستہ، بے حال، بے جان، بے بال و پر الفاظ میری شکستگی کی ایسی منظر کشی کر رہے ہوں گے کہ تم دیکھتے ہی دلِ ویران کی شکستگی کی تصویر کا با آسانی تصور کر لو گے۔ جب تم مزید غور کرو گے تو تم پھٹے پرانے، دریدہ الفاظ کا ایک بوسیدہ پیرہن میرے جسم پر

Read more

ترقی پسندی کا سفر اور پی ڈبلیو اے

انسان اپنی تخلیق کے بعد مختلف زاویے سے ’مختلف انداز سے‘ مختلف اشکال سے اور مختلف مراحل سے ترقی کی منازل طے کرتا چلا آرہاہے۔ بعض تھیوریز کے مطابق انسان نے جسمانی ارتقاء کا سفر بھی طے کیا جس میں اس کے ظاہری خدوخال اور بناوٹ و سجاوٹ میں تبدیلی و ترقی آتی رہی لیکن ایک منزل پر پہنچ کر اس کا جسمانی ارتقاء ٹھہراؤ یا جمود کا شکار ہوا جس کے بعد سے لمحہ موجود تک اس کی ساخت میں ظاہری تبدیلیاں وقوع پذیر نہیں ہوئیں لیکن اس کا یقین نہیں کہ کتنی صدیوں کے سفر کے بعد کیا کبھی مزید تبدیلیاں رونما ہوں گی یا انسان اپنے ظاہری خاتمے سے دوچار ہوگا یا پھر ایک نئی تخلیق کے بعد نئی دنیا کا سامنا کرے گا۔ ؟ یہ سوالات صاحبانِ تحقیق اور جستجویانِ حقیقت کو متوجہ کرتے رہیں گے کہ وہ انسان کے ماضی کی جسمانی تبدیلیوں کو مستقبل کے جسمانی ارتقاء سے کیسے مربوط و منسلک کرتے ہیں یا پھر جسمانی جمود پر عقیدہ رکھ کر مزید ارتقاء کو ناممکن و عبث قرار دیتے ہیں۔

Read more

انفارمیشن اڈیکشن اور معاشرے کا سطحی پن

انسان ہمیشہ ہی سے انفارمیشن دینے اور لینے کا رسیا رہا ہے۔ انفارمیشن کے اس عمل کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ انسان خود پرانا ہے۔ ہزاروں سال قبل پتھروں پر کندہ تصویری زبان انفارمیشن کے ہی اس عمل کی ایک مثال ہے۔ انفارمیشن کا یہ عمل اس وقت ہزار چند ہوگیاجب سے انسان نے قلم کے ذریعہ لکھنا سیکھ لیا اور پھر قلم کے ذریعہ علم کا حصول کتاب کی اشاعت پر جا کر منتج ہوا۔ گزشتہ دوصدیاں قبل انسان نے انفارمیشن کے اس عمل کے لئے خلا کا استعمال شروع کر دیا اور ٹیلی گرافی، ریڈیو، اور ٹیلی ویژن وغیرہ جیسی ایجادات سے انسانی معاشرہ کی شناسائی ہوئی۔

Read more

پلوامہ حملہ اور پاکستان پہ الزام

مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کے ایک حملے میں پچاس سے زائد فوجی ہلاکتوں کے بعد بھارت اور پاکستان ایک مرتبہ پھر عسکری محاذآرائی کے راستے پر ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین آزادی کی جانب سے یہ پہلا حملہ نہیں تھا،

تاہم جمعرات 14 فروری کے روز ہونے والا یہ حملہ ہلاکتوں کے اعتبار سے متنازعہ خطے میں ماضی میں پیش آنے والے واقعات کے مقابلے میں زیادہ خون ریز تھا۔

Read more

مادری زبانیں

انسان کی تہذیب و معاشرت اس کی زبان سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ جیسے جیسے انسان تہذیب سے آشنا ہوتا گیا زبانوں کا ارتقاء عمل میں آتا گیا۔ زمانہِ قدیم میں لوگ قبائل کی شکل میں رہتے تھے ان کی زبانیں بھی مخصوص تھیں جن میں وقت کے ساتھ ساتھ اختلاط رونما ہوتا گیا اور نئی زبانیں بنتی گئیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے

Read more

فاختاؤں نے گیت امن کے گاتے رہنا ہے!

زندہ رہنے کے لیے ہر کوئی طاقتور بننا چاہتا ہے اور طاقت دور کہیں محو استراحت ہے اس تک پہنچنا مشکل ہے مگر نا ممکن نہیں!

جو اڑ سکتے ہیں وہ وہاں تک با آسانی پہنچ سکتے ہیں ان کے دلوں میں خوف بھی ہے کہ اگر وہ ناکام ہو گئے طاقت کے جال میں الجھ گئے تو پھر کیا ہو گا۔ ؟

ابھی تک شاید ہی کوئی کمزور طاقتور بن سکا ہو گا مگر اب نیا سورج طلوع ہونے جا رہا ہے اس کی روشنی نا توانوں اور لا چاروں کے تن بدن میں ایک نئی توانائی بھر رہی ہے۔ وہ شعور کی دنیا میں قدم رکھ رہے ہیں اور جہاں شعور جا گتا ہے راستے اور منزلیں خود بحود اس کے قریب آ جاتے ہیں۔ !

Read more

ہم بنجاروں کا حال مت پوچھو

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان 2 روزہ تاریخی دورہ پر اتوار کی رات پاکستان پہنچ گئے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی پاک فضائیہ کے ایف 16 اور جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے حفاظتی حصار میں لیا۔ سعودی ولی عہد کا نورخان ائربیس پہنچنے پر وزیراعظم عمران خان، وفاقی کابینہ کے ارکان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سعودی سفیر نے پرتپاک استقبال کیا جبکہ بچوں نے شاہی مہمان کو گلدستے بھی پیش کیے۔ سعودی ولی عہد کو نورخان ائربیس پر 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔ بعد ازاں وزیر اعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد کی گاڑی خود ڈرائیور کی اور برابر میں ولی عہد بیٹھے۔ وزیر اعظم ہاؤس میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے۔

Read more

صیاد و باغباں میں ملاقات ہوگئی

ؔ تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم کو قرض کی مئے سے ریاستی انصرام چلانے کی عادت پڑگئی اس کے لئے اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونا مشکل ہو جاتاہے۔ کچھ یہی حال وطنِ عزیز کا ہے کہ قیام سے اب تک ہر حکومت آئی ایم ایف کے ہاتھوں مقروض سے مقروض ترہوتی گئی۔ ادھر آئی ایم ایف کا وتیرہ رہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو قرض کے جال میں یوں پھنساتی ہے کہ وہ قرض کے نشے کے عارضے میں مبتلا ہوکر عالمی معاشی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ افراطِ زر میں تیزی سے اضافہ مہنگائی کی سونامی کا موجب بنتا ہے اور گردشی قرضے بھی بڑھنے لگتے ہیں۔

Read more

کمپیوٹر اور استاد کا کیا مقابلہ

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ دور سب سے تیز رفتار اور ترقی یافتہ دور ہے اور یہ ساری ترقی ٹیکنالوجی کے مرہون منت ہے اور یہاں کمپیوٹر کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ جہاں پہلے کسی معلومات کے لئے کئی کتابوں کو کھوجنا پڑتا تھا اب وہیں ایک کلک پر ساری معلومات آپ کے سامنے جن کی طرح حاضر ہو جاتی ہے اور آپ اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ ہر شعبے سے وابستہ لوگوں کے

Read more

درویش نامہ

پاکستان کا مطلب کیا، مک مکا، مک مکا۔ ﷲ یہ میں نہیں کہا۔ یہ تو ایک کتاب کچھ دن قبل موصول ہوئی جس کا نام ہے ”درویش نامہ“ جس میں درویشی کا رنگ شگفتہ شگفتہ ہے۔ اور انتساب ”درویش“ کی مونث ”درویشی“ کے نام ہے۔ آئیے کتاب سے غزل سناتی ہوں۔ ہم کہ ٹھہر ے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد پھر کریں گے ”مک مکا“ کتنی ملاقاتو ں کے بعد مک مکا کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ طاعت

Read more

تحریک ”آزادی“ کشمیر کا تاریک پہلو

اسے میں کشمیریوں کی بدقسمتی ہی کہوں گا کہ پلوامہ حملے کے بعد سرحد کے دونوں اطراف ڈیڑھ ارب کی آبادی میں کوئی ایک شخص بھی نہیں تھا جو اسے ”تحریک آزادی جموں کشمیر“ کے تناظر میں دیکھ رہا تھا بلکہ سب اسے پاکستان اور ہندوستان ہی کی جنگ تسلیم کیے جا رہے تھے۔ ہندوستان بھر میں سرجیکل اسٹرائیک دوم اور ایک کے بدلے دس کے ہیش ٹیگ سوشل میڈیا پر چل رہے تھے جبکہ پاکستان کے بعض حلقوں کی جانب سے اس بات کی خوشی منائی جا رہی تھی ایک ہی وقت میں اتنے سارے بھارتی فوجی ایک ساتھ ہلاک ہوئے۔

Read more

انسانیت پہ ظلم آخر کب تک

یہ 2003 کی بات ہے بھارت کے ضلع امرتسر کی تحصیل تارن تارن کے ایک چھوٹے سے گاؤں گاندھیوند کا ایک 19 سالہ نوجوان ملک کی سب سے بڑی پولیس فورس میں بھرتی ہوتا ہے۔ خاندان کی خوشی دیدنی ہوتی ہے کیونکہ گھر کا سارا بوجھ یہ نوجوان سنبھالنے جا رہا ہوتا ہے۔ ملازمت پکی ہونے کے بعد نوجوان کی شادی کر دی جاتی ہے۔ شادی کو سات سال بیت جاتے ہیں نوجوان کے گھر میں اولاد نہیں ہوتی ان سات سالوں میں بڑی منتیں مرادیں کی جاتی ہیں۔ سات سال بعد قدرت مہربان ہوتی ہے اور نوجوان کو چاند سا بیٹا عطا کرتی ہے اس دوران وہ نوجوان ملازمت میں ترقی پا کے کانسٹیبل سے ہیڈ کانسٹیبل بن چکا ہوتا ہے اوپر سے بیٹے کی سات سال بعد پیدائیش سونے پے سہاگا ہوجاتا ہے اس خوشی کے موقع پے سرکار اس نوجوان کو پورے ایک مہینے کی چھٹی عنایت کرتی ہے۔

نوجوان بڑا خوش ہوتا ہے، ہوتا بھی کیوں ناں؟ گاؤں جا رہا ہوتا ہے وہ بھی اتنے عرصے بعد اور پھر پورے ایک مہینے کے لیے، اس مہینے یعنی جنوری کی 13 تاریخ کو تو ”لوہری“ کا میلہ بھی ہوتا ہے۔ (لوہری ہندوستانی پنجاب میں ایک عرس ہوتا ہے جسے ہر سال 13 جنوری کو منایا جاتا ہے جس میں سکھ، ہندو اور مسلمان سبھی شرکت کرتے ہیں ) ۔

Read more

کلبھوشن یادیو کا مقدمہ۔ پاکستان کیا کرے

پاکستان میں دہشت گردی کے الزام میں گرفتار و سزا یافتہ ہندوستانی انٹلی جنس کے افسر کلبھوشن یادیو کے کیس کی سماعت بین الاقوامی عدالت انصاف میں بروز پیر پھر ہو نے جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کو کیا کرنا چاہیے، کن خطوط پردلائل دینے چاہیئں۔ آئیے اس بات پر بات کرتے ہیں۔

بین الاقوامی عدالت انصاف کی طرف سے کلبھوشن یادیو کیس میں عبوری فیصلہ کسی کے خیال میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ان کے بھارتی تاجر دوست سجن جندال کی ملاقات اور کسی کے خیال میں پاکستانی وکلاء ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کا نتیجہ تھا جبکہ کسی کے بقول پاکستان کووہاں جانا ہی نہیں چاہیے تھا یا یہ کہ بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے کو ماننا لازم نہیں اس لئے کلبھوشن کو فوراً پھانسی چڑھا دینا چاہیے تھا۔

Read more

ریکٹر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یاسین زی کے تعلیم پر خیالات

ریکٹر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یاسین زی کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کریکولم کی بہت اہمیت ہے اسے دیکھ کر ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دس سال میں ہم کہاں کھڑے ہوں گے۔ گفتگو کرتے ہوئے ہوئے انہوں نے کہا کہ دوچیزوں پر پالیسی سازوں کو خود بھی کلیر ہونا ہے اور پوری قوم کو بھی واضح کرنا ہے کہ ہم کس طرح بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں اور کس طرح کی تحقیق ملک میں ہورہی ہے۔

اس قسم کے سوالات کے جوابات اب قوم جاننا چاہتی ہے۔ ریکٹر انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں موجود افراد جن کا براہ راست تعلیم سے تعلق ہے انہیں مل بیٹھ کر ان مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا جو اس وقت ہمارے تعلیمی نظام کو درپیش ہیں۔ ہمیں جائزہ لینا ہوگا کہ ہمارا کریکولم کیا 21 ویں صدی کی ضروریات کے مطابق ہے یا نہیں کیا اس کریکولم کے مطابق ہم ایسے گریجویٹ پیدا کررہے ہیں جو مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق ہوں صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہیں اور 21 ویں صدی کے جو چیلینجز ہیں ان کے ساتھ نبرد آذما ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔

Read more

سیاحت کے فروغ کے لیے بنیادی ڈھانچے کی اہمیت

سیاحت کا نام سن کر ذہن میں قدرتی پر فضا مقامات کا تصور ابھرتا ہے، لیکن کیا صرف خوبصورت سیاحتی مقامات کی موجودگی سیاحوں کو جذب کرنے کے لیے کافی ہے؟ درحقیقت جدید دور میں سیاحت کے فروغ کے لیے سیاحتی مقامات کی موجودگی کے علاوہ دیگر عوامل بھی اہمیت اختیار کرچکے ہیں، ان عوامل کی موجودگی یا عدم موجودگی براہ راست سیاحت کے فروغ پر اثر انداز ہوتی ہے۔ بنیادی ڈھانچہ (Infrastructure) کا شمار انہی اہم عوامل میں ہوتا ہے۔

Read more

کتب بینی

پاکستان میں کئی اقسام کی کتابیں چھپتی ہیں۔ جن میں سے کچھ تو اس لئے مجبوراً پڑھی جاتی ہیں کہ یہ نصابی کتب ہیں لہذا ان کو پڑھنا مجبوری ہے۔ یہ خریدی جاتی ہیں کیونکہ خریدنا لازمی ہے۔ رٹی جاتی ہیں کیونکہ امتحان پاس کرنا کامیابی ہے۔ دوسری قسم کتابوں کی غیر نصابی کتب پہ مشتمل ہے اس میں دینی کتابیں، حکیمانہ کتابیں اور ادبی کتابیں (شاعری، افسانہ، ناول ) وغیرہ شامل ہیں۔

دینی کتابیں بانٹی جاتی ہیں خریدی جاتی ہیں تحفتاً دی جاتی ہیں۔

Read more

ادب، ادیب اور معاشرتی رویے

ادیب کی حیثیت کسی بھی معاشرے کے لیے ارتھ ورم کی سی ہے۔ عجیب سی بات نہی ہو گئی کہ اچھے بھلے سمجھدار لوگوں کو ایک کیڑے سے مشابہت۔ اس کے لیے ارتھ ورم یعنی کیچوے کا تعارف ضروری ہے۔ کیچوا ایک کسان دوست کیڑا ہے جو زمین کی زرخیزی میں کئی طرح سے اضافہ کرتا ہے۔ یہ گلے سڑے نامیاتی و نباتاتی معدوں کو خوراک کے طور پر استعمال کرکے ایکو سسٹم کو مینٹین رکھتا ہے۔ نامیاتی معدوں کو

Read more

ولی عہد محمد بن سلمان کے بارے میں یہ ضرور پڑھیے

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی پاکستان میں حالیہ آمد کے موقع پر مثبت معاشی و سیاسی اثرات کے حوالے سے بہت بات کی جارہی ہے۔ ایسی شخصیت جو اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی بناء پر نوجوانی میں ہی عالمی شہرت حاصل کرچکی ہو، اُس کی ذات کے بارے میں بھی لوگ زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتے ہیں۔ آج کے اِس کالم میں ولی عہد محمد بن سلمان کی نجی زندگی کے حوالے سے چند اہم پہلوؤں کو قلم بند کیا گیا ہے جو قارئین کے لئے بہت دلچسپی کا باعث ہوں گے۔

آغاز میں یہ بتانا ضروری ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان 31 اگست 1985 ء کو ہفتے کے دن سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں پیدا ہوئے۔ اُن کی تاریخ پیدائش کے اعتبار سے علم نجوم میں اُن کا برج سنبلہ یعنی وِرگو ہے۔ جب ولی عہد محمد بن سلمان پیدا ہوئے تو اُس وقت فہد بن عبدالعزیز سعودی عرب کے بادشاہ تھے جبکہ دنیا کے پانچوں طاقتور ممالک امریکہ میں صدر ریگن، برطانیہ میں وزیراعظم مارگریٹ تھیچر، فرانس میں صدر متراں، سوویت یونین میں میخائل گورباچوف اور چین میں صدر لی شیانیان برسراقتدار تھے۔

Read more

خودساختہ نظام جمہوریت؟

پاکستان کی سیاسی صورتحال کا اگر جائزہ لیا جائے تو تبدیلی کی جدوجہد سات دہائیوں سے کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ لیکن پر عزم، ایماندار اور محب وطن قیادت کے فقدان اور سیاستدانوں کے روایتی طرز عمل کے باعث تبدیلی دلپذیر نعروں، وعدوں اور دعوؤں سے آگے کی حد عبور نہ کر سکی۔ بد قسمتی سے اس ملک کی سیاسی اشرافیہ اقتدار کا حصول اور اپنے مفادات کے تحفظ کو ہی مفاد عامہ سے زیادہ اپنی ترجیحات کو

Read more

میں اور میرے کھیت

میرے کھیت مجھ سے پیار کرتے ہیں میں روز شام کو ان سے پیار کرنے جاتا ہوں میں دیکھ رہا ہوتا ہوں کہ وہ میرا انتظار کر رہے ہیں جیسے ہی ان کی نظرمجھ پہ پڑتی ہے کھلکھلا اٹھتے ہیں

میرے دوست ہیں نا۔

تو میں سمجھ جاتا ہوں کہ کیا کہ رہے ہیں اگر میرے ہاتھ میں کتاب ہو تو ٹیوب ویل والا شیشم کا درخت خوشی سے جھومنے لگتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ ابھی ادھر میرے پاس بیٹھ کر پڑھیں گے اور میں ان کو سایہ مہیا کروں گا۔

Read more

مفاد پرست صاحب حثیت سیاسی لوگ

اگر مذہب فرقہ قومیت کو ایک طرف کرتے ہوئے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے توسماج میں صرف دو قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں اچھے اور برے لوگ۔ لیکن اس بیاض میں بھی کئی اقسام ہوتی ہیں اور جو ان ہی اچھے برے لوگوں سے منسلک ہوتی ہیں۔ جن میں سیاسی لوگ سماجی علاقائی قوم پرست علاقہ معززین وغیرہ شامل ہیں۔ اگر ان میں تفریق کی جائے تو نچلے طبقے کے لوگ اور صاحب حثیت لوگ سیاسی وسماجی حلقوں مین عام پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی بھی علاقے کی فلاح وبہبود کے لئے ان دو حلقوں کا اہم کردار ہوتا ہے، خواہ سیاسی میدان میں سماجی یا علاقائی میدان میں اور کسی بھی معاشرے کی کسی بھی ترقی کا انحصار ان پر ہوتا ہے۔

لیکن میں اپنے موضوع کے عین مطابق بات کرونگا اور وہ ہے صاحب حثیت لوگ یہ معاشرے کے کسی بھی حصے میں پائے جاتے ہیں۔ کئی ایک فرد کی صورت میں، ایک گھرانے یا ایک خاندان کی صورت میں ان میں اچھا ہونے کی صفت بہت کم ہوتی ہے ضروری نہیں سارے برے ہوتے ہیں۔

Read more

کراچی شہر کی متنوع زندگی

مجھے کراچی میں تین ہفتے ہوچکے ہیں۔ اس دفعہ قریب دو سال کے بعد میں نے کراچی میں قدم رکھا ہے۔ بلتستان یونیورسٹی اِسکردو سے جب میں چلا تھا تو میرے دماغ میں دو اہم اُمور گردش کررہے تھے :

اول: یہ کہ میں اپنی کتاب بعنوان: ”نگاہ اِنتخاب: سماج کے عامیانہ اُسلوب کا تحلیلی جائزہ“ شائع کرواسکوں اور یہ کتاب میری اب تک کی علمی و تحقیقی محنت کی ایک جھلک ہے۔ اِس کتاب میں، میں نے اپنی زندگی کے بعض راز بھی طشت از بام کیے ہیں۔ جبکہ سماجیات کی کئی گُھتیاں سُلجھانے کی سعی بھی کی ہے۔ بین السطُور کتاب طباعت کے مراحل طے کر رہی ہے۔ 329 صفحات پر مشتمل یہ کتاب میں نے اپنے والدین سے منسوب کی ہے جبکہ اظہارِ تشکر میں اپنے بھائیوں، پی ایچ ڈی مقالہ (یہ کتاب پی ایچ ڈی مقالہ کے مسوّدہ پر مشتمل نہیں ہے ) کے نگراں سمیت دوستوں کی ایک طویل فہرست مرتب کی ہے تاکہ اُن تمام بہی خواہوں کے حضور چند ستائشی کلمات پیش کرسکوں۔

اب تک مذکورہ کتاب کو چھپ کر آنا چاہیے تھا لیکن بعض نامساعد حالات کی وجہ سے تاخیر ہوئی اور وہ حالات میرے لئے بالکل بھی غیر

Read more

ویلنٹائن ڈے کے لڈو

آج ویلنٹائین ڈے تھا۔ محبت کرنے والوں کا دن، محبت میں امر ہو جانے والوں کا دن۔ اس کی تاریخ جو بھی رہی ہو، جب سے ہوش سنبھالا ہے اس کا ذکر سنتے آئے ہیں۔ کبھی تو یہ ذکر ”خیر“ کے زمرے میں ہوتا ہے اور کبھی وہ ”شر“ کہ الاماں۔ فروری کے آغاز سے ہی سوشل میڈیا پہ اس جنگ کا آغاز شروع ہوا کہ اس سال یہ دن کس طرح منایا جائے؟

تجاویز تو بڑی نایاب اور بہترین پیش کی گئیں کہ اس دن کو ”حیا ڈے“ اور ”سسٹر ڈے“ کے نام سے منایا جائے گا۔ یہاں تک کہ ہماری گنہگار آنکھوں نے یہ بھی پڑھا کہ اس دن لڑکے اپنی اپنی بہنوں کو ”حجاب“ اور ”عبایا“ گفٹ کریں گے۔

Read more

انصاف تمام فلاحی اقدامات پر فوقیت رکھتا ہے

انصاف باقی تمام اصلاحی اقدامات پر فوقیت رکھتا ہے
”فاطمہؓ اس کائنات کی تمام خواتین کی سردار ہے۔ “
”فاطمہؓ تمام جنتی عورتوں کی بھی سردار ہے۔ “
”فاطمہ ؓ میرے جسم کا ٹکڑا ہے۔ “
”جس نے فاطمہؓ کو تکلیف دی، اُس نے مجھے تکلیف دی۔ “

باپ بیٹیوں سے محبت کِیا ہی کرتے ہیں۔ ان کی دلجوئی اور تشفّی کے لیے بڑے سے بڑا کلمہ کہنے سے بھی گریز نہیں کرتے لیکن مذکورہ بالا کلمات کسی عام باپ کے نہیں بلکہ اُس نبی ٔ برحقؐ کے ہیں، جس کے سر پر ختمِ نبوت کا تاج ہے اور جو تمام انبیاء ورسل کا تاجدار ہے۔ چونکہ یہ باپ کوئی عام باپ نہیں، اس لئے ان فرمودات کو صرف ایک باپ کی اپنی بیٹی کے لیے محبت و شفقت کا اظہار قرار دینا بھی کسی صورت درست نہیں۔ نہ یہ بیٹی عام ہے، نہ یہ باپ عام کہ ان کی باتوں کو عام انداز میں دیکھا اور سمجھا جائے۔

Read more

نئے رزمیہ کی تیاری

خالی جیبوں، خالی ہاتھوں اور خالی ذہنوں کے ساتھ یہ چند کنگلے اور سرپھرے صحافی نما انسان، اپنے تئیں سچ کا علم اٹھائے پچھلیکئی دنوں سے پریس کلبوں کے باہرپُرامن دھرنے دیے بیٹھے ہیں۔ گلے گلے پھاڑ پھاڑ کرتقریریں جھاڑتے، نعرے لگاتے، سینہ کوبی کرتے، سر پیٹتے اپنے آپ کو ریاست کا چوتھا ستون سمجھنے کے جنون میں مبتلاہیں۔ دن چڑھے فٹ پاتھوں پر آ کر دھما چوکڑی کرتے اورشام ڈھلے خالی دامن جھاڑ، اپنے اپنے ویران اورفاقہ زدہ گھروں کو ناکام و نامراد واپس لوٹ جاتے ہیں۔

ان احتجاجیوں کا مطالبہ ہے کہ آزادی اظہار پر قدغن، اخبارات اور میڈیا چینلز سے سینکڑوں کارکنوں کی جبری برطرفیوں، نامعلوم گمشدگیوں اور سخت ترین سنسرشپ کا خاتمہ کیا جائے۔ ڈی چوک میں قریباً ایک سو بیس دنوں کے پرتشدد دھرنے سے لے کر فیض آباد اور پھر لاہور کے چئیرنگ کراس دھرنے کی لائیو نشریات دکھانے والے یہ بے چارے کم علم صحافی اس حقیقت سے ہی بے خبرہیں کہ کسی بھی پرُامن احتجاج کے ذریعہ آج تک کون اپنا  حق حاصل کر پایا۔

Read more

میں شاعر ہو گیا ہوں 

ہم اپنی بات نہیں کرتے البتہ شعرا کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ حضرات خبطی واقع ہوتے ہیں ’اس کی وجہ نہ تو ہمیں پہلے پتہ تھی اورنہ اب ہے۔ پرانے زمانے میں بیچارے شعرا خواہ مخواہ بدنام بھی توتھے ناں‘ ہم سب کی بات نہیں کرتے البتہ کہاجاتاہے کہ کتابی شعرأگلے فٹ ہو جائیں تو جان چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتے۔ مثال کے طورپرایسا کوئی شاعر آپ کو راستے میں ٹکر گیاتو پھر آپ کا گھنٹہ دو

Read more

ہمارے تعلیمی اداروں میں بڑھتا ہوا اخلاقی زوال

جو تعلیم باقاعدہ طور پر کسی تعلیمی ادارے یعنی سکول، کالج، مدرسہ یا یونیورسٹی میں حاصل کی جائے اسے رسمی تعلیم کہتے ہیں۔ ہر معاشرہ کچھ ایسے تعلیمی ادارے قائم کرتا ہے جہاں تعلیم ایک نصب العین اور نظریات کی روشنی میں تیار کردہ نصاب کے مطابق دی جاتی ہے۔ پاکستان کا تعلیمی نظام چار طرح کے تعلیمی اداروں پر مشتمل ہے جس میں پرائمری، مڈل، ثانوی و اعلی ثانوی اور یونیورسٹی سطح کی تعلیم شامل ہے۔ اس کے علاوہ

Read more

محبت قربانی مانگتی ہے اظہار نہیں

آج کل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ کافی وائرل ہو رہا ہے۔ جس میں ایک پاگل سے جب اس کے پاگل ہونے کی وجہ پوچھتے ہیں۔ تو وہ کہتا ہے کہ میں اپنی محبت کا اظہار نہ کرسکا اور اس کی (یعنی محبوبہ) کی شادی ہو گئی اور میں اس غم میں پاگل ہو گیا۔ اور اب بھی میں اس کے لئے یہ دعا کرتا ہوں۔ کہ وہ جہاں رہے خوش رہے اور اسے یہ تک بھی علم نہیں کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ اس ویڈیو نے مجھے عجب کشمکش میں ڈال دیا کہ محبت کا اظہار کرنا چاہیے یا نہیں۔ آئیے اس سوال کا جواب کچھ کہانیوں اور افسانوں کے علاوہ حقیقی دنیا میں بھی ڈھونڈتے ہیں۔ کہ کسی کو محبت کا اظہار کر کے کیا ملا اور محبت چھپا کے کیا ملا۔

کل ہی ایک انٹرویو میں جب میں نے اپنے محترم استاد سے سوال کیا کہ شاعری میں محبت کو ایک لازوال جذبے کے طور پر لیا گیا ہے آپ کے خیال میں یہ جذبہ زیادہ تر کس طرف لے جاتا ہے اچھائی کی طرف یا برائی کی طرف۔ تو ان کا کہنا تھا کہ محبت ایک پاک اور پوتر جذبہ ہے جو انسان کو سیدھی راہ کی طرف لے جاتا ہے۔ محبت ضروری نہیں کہ کسی آدمی سے ہی کی جائے محبت خدا سے بھی کی جاتی ہے۔ اور انسان سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ

Read more

پلوامہ میں بہتا ہوا بھارتی خون مجھے پریشان کرتا ہے

کل بھارتی کشمیر میں اک فوجی بس پر حملے کی ذمہ داری نیٹ پر گردش کرتی ہوئی ایک ویڈیو کے مطابق جیشِ محمد نے قبول کی ہے۔ جیش محمد نے اس بارے میں کوئی تردیدی یا تصدیقی بیان آفیشلی جاری نہیں کیا ہے۔ جیش کے سالار، محترم مولانا مسعود اظہر صاحب ہیں اور سنہ 2000 میں جیش کو بنانے میں جناب مفتی نظام الدین شامزئی کا بھی بہت بھرپور کردار رہا تھا۔ بعد میں وہ بہرحال پچھتائے اور دیگر معاملات کے ساتھ، اپنے پہلے والے نظریات سے رجوع کرنے کی قیمت انہوں نے اپنی جان دے کر ادا کی۔

جیشِ محمد کی بنیاد اس وقت کی حرکت المجاہدین، جو پہلے حرکت الانصار تھی، کی زمین پر اٹھائی گئی تھی۔ حرکت المجاہدین کے تب کے امیر جناب مولانا فضل الرحمٰن خلیل تھے اور یہ تب کے زمان و مکاں کے تناظر میں کاسٹ اینڈ بینیفٹ کا سلسلہ تھا۔ جیشِ محمد نے حرکت کے مقابلے میں کم خرچ بالا نشین کی آپشن فراہم کی تھی۔

Read more

پاکستانی کلچر کو بچاؤ، مغربی تہواروں کو آگ لگاؤ

میں دوست کی عیادت کے لئے اس کے گھر گئی۔ حال احوال کے بعد اچانک سے اس کے چہرے پر ایک خوشی کی لہر دوڑی اور وہ پرجوش انداز میں اٹھی۔ میں نے پوچھا کہ آپ کو کچھ چاہیے تو مجھے بتائیں۔ اس نے کہا: نہیں ’مجھے تو کچھ نہیں چاہیے۔ میں آپ کے لئے چاکلیٹ لاتی ہوں کیونکہ آج 9 فروری ہے اور آج چاکلیٹ ڈے ہے۔ یہ سنتے ہی میری حیرانی اور بڑھ گئی۔ یہ چاکلیٹ کا بھی

Read more

چین میں مسلمانوں کی حالت

آج کل چین میں مسلمانوں پر ہونے و الے مظالم کی خبریں ہم جگہ جگہ انٹرنیٹ پر دیکھ رہے ہیں۔ اللہ جانے ا س کی جڑ میں کون سے عوامل ہیں۔ لیکن یہ بات تو مسلّم ہے کہ چینی لوگ اپنا ہدف حاصل کرنے کے لیے اپنی انگلی ہر ممکن طور پر ٹیڑھی کر سکتے ہیں۔ پہلے بھی اس قوم نے اپنی قوم کو ایک بچے کی اجازت کا فرمان جاری کر کے اپنی عوام کو قریبی رشتوں سے ایک مدّت تک محروم رکھا۔ جو کہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اس پالیسی کی وجہ سے خالہ چچا پھوپھو ماموں وغیرہ کا رشتہ ان کے معاشروں میں عنقا ہو گیا ہو گا۔ لیکن ان کو کیا؟

چین ایک نہایت کثیرالآبادی ملک ہے۔ اس کے پاپولیشن اتنی ہے کہ ملک میں سمائے نہ بنے۔ شہروں کی گنجلک اور گنجان آبادی ا س کا دم گھوٹ رہی ہے۔ پانی کے ذخائر کی کمی۔ دوسرے وسائل کی کمی بھی ان کو نظرآ رہی ہے۔ ان کو جگہ درکار ہے۔ آنے و الے زمانوں کے لیے وسائل درکار ہیں۔ ایسے میں طویلے کی بلا بندر کے سر۔

مسلمان جو پہلے ہی اللہ کے چنیدہ ہونے کے زعم میں دوسروں کو قریب قریب حشرات الارض کا درجہ دیتے ہیں اور حقارت سے دیکھتے یعنی خود کو اللہ کا لاڈلا سمجھتے ہیں اوربڑی تعلّی سے یہ حق سمجھتے ہیں کہ کسی کا بھی جو حشر کرنا چاہیں کرییں۔ اپنی ریاست میں غیر مسلموں کو حقوق محدود دیتے ہیں جبکہ دوسروں کے ملک میں اپنے حقوق اور مراعات ٹھوک بجا کر لینا اپنا حق سمجھتے ہیں۔

Read more

کہ دن ہی کم تھے محبت میں فروری کی طرح

محبت ایک بہت ہی مضبوط اور خوبصورت جذبہ ہے۔ محبت ایک زبردست طاقت کا منبع ہونے کا ساتھ خوشی اور نقصان کا بھی باعث ہے۔ محبت ایک خاص جذبہ ہوتا ہے جو کہ صرف خاص لوگوں کے لئے ہوتا ہے۔ محبت کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ محبت قربانیاں مانگتی ہے، کبھی روح کی، کبھی جان کی اور کبھی خواہشات کی۔ ہر سال 14 فروری کو ”ویلنٹائن ڈے“ کے نام سے محبت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ ویلنٹائن ڈے کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو اس کی ابتداء 279 عیسوی کو ہوئی۔

اس دن کا آغاز رومن سینٹ ویلنٹائن کی مناسبت سے ہوا۔ سینٹ ویلنٹائن کو مذہب تبدیل نہ کرنے کی وجہ سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ قید کے دوران ہی اسے جیلر کی بیٹی سے عشق ہو گیا۔ جیلر کی بیٹی روز اس کے لئے پھول لاتی۔ جب بادشاہ کو یہ ماجرا پتا چلا تو اس نے ویلنٹائن کو پھانسی کی سزا دینے کا حکم سنا دیا۔ ویلنٹائن نے پھانسی پر چڑھنے سے پہلے جیلر کی بیٹی کو الوداعی خط لکھا۔ جس پر اس نے دستخط سے پہلے لکھا تھا، ”تمہارا ویلنٹائن“۔ اسی واقعہ کی یاد میں آج بھی یہ دن منایا جاتا ہے۔

Read more

پِیے جاتے ہیں ”واں“ حسرت، لہو انساں ہی انساں کا!

کوئی مجھے بتاؤ کہ اس دیس میں کیا اب کوئی ایسا دن گزرتا ہے جس میں کسی انسان کا لہو نہ بہایا جاتا ہو؟ جس میں کسی انسان کو بے دردی سے مارا نہ جاتا ہو؟ جس میں آہیں اور سسکیاں نہ ہوتی ہوں؟ جس میں آہ و فغاں نہ ہوتی ہو، کوئی مجھے کیا بتائے گا؟ میری آنکھیں نہیں جو میں دیکھ نہ سکوں، میرے کان نہیں جو میں سن نہ سکوں، میرے دیکھنے اور سننے میں تو کوئی دن اب اس دیس میں ایسا نہیں گزرتا جس میں انسان ہی انسانوں کا لہو نہ پیتا ہو۔ ایسے دردناک ماحول میں باقی کے لوگ کیوں نہیں بلکتے، باقی کے لوگوں کو درد کیوں نہیں محسوس ہوتا۔ لوگوں کے سامنے لوگوں کو بے دردی سے مار دیا جاتا ہے لیکن لوگ چپ رہتے ہیں۔ آخر کیوں؟ کیا اس کی یہی وجہ ہے کہ لوگ چپ رہتے ہیں کہ کہیں انہیں بھی نہ مار دیا جائے، کہیں ان کا بھی لہو نہ پی لیا جائے؟ نہیں نہیں ایسا ہر گزر بھی نہیں ہے۔ اب معاملہ تو یہاں تک آن پہنچ چکا ہے۔

Read more

تھر میں موت کا رقص

روزمرہ کی طرح میں اپنے کاموں میں مشغول تھاکہ ایک ٹیلی ویژن اسکرین پرچلنے والے ٹکرز پر نظر پڑی کہ تھرمیں بچوں کی اموات کا سلسلہ تھم نہ سکا، سول ہسپتال مٹھی میں غذائی قلت کے باعث تین مزید بچے جاں بحق ہوگئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے تمام ٹی وی چینلز خبر بریک کرنے کی دوڑ میں شامل ہوگئے، ہر کسی نے اپنے اپنے انداز سے تفصیلات بتائیں۔ حتی کہ ایک دو بیپر بھی لئے گئے۔ بریکنگ نیوز میں چلنے والے ٹکرز چینلز پر کچھ وقت تک نمودار ہوتے رہے اور پھر غائب ہوگئے۔ اس کے ساتھ ہی ہم نے تھر میں جاری اموات کا ماتم تین منٹ تک مناکر اپنا حق اداکردیا اور اپنی زندگیوں میں مصروف ہوگئے۔

ضلع تھرپارکر صوبہ سندھ کا ایک پسماندہ ضلع ہے، اس کے شمال میں عمر کوٹ اور میرپور خاص، مشرق میں بھارت کے بارمیر اور جیسلمیر کے اضلاع، مغرب میں بدین اور جنوب میں رن کچھ کا متنازع علاقہ واقع ہے۔

Read more

ارشاد رانجھانی کے قتل کی ایف آئی آر

جس وقت کراچی میں اک دیہاتی نوجوان ارشاد رانجھانی کے سرعام قتل کے گھونج سندھ اسمبلی میں وزیر اعلی سندھ کے آواز میں سنی جارہی تھی اسی وقت ہزاروں لوگ شاہراہ فیصل پر کارساز کے قریب اس جگھ پر امن احتجاج کر رہے تھے، جہاں مشرف دور میں نامعلوم شہری لوگوں نے اپنا پرتشدد احتجاج رکارڈ کرواتے بیسیوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

یہ اتنا پر امن احتجاج کرنے والے لوگ کون تھے، کہاں سے آئے تھے، کس کے کہنے پر آئے تھے، اس کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو حیران کن حقائق سامنے آتے ہیں۔ دلچسپ یہ ہے کہ اس احتجاج کی کال کسی بھی سیاسی جماعت نے نہیں دی تھی۔ اور نہ ہی کسی غیر سیاسی جماعت نے، نہ کسی سردار وڈیرے نے بندے بھیجے تھے، نہ ہی کسی سرمایہ دار نے سرمایہ لگایا تھا، کسی سرکاری ادارے کی گاڑی لوگوں کو اکٹھا کرنے پر متعین نہ تھی۔ احتجاج میں شامل لوگوں کے لئے آخر میں کسی نے بھی ”سندھی بریانی“ یا ”بمبئی بریانی“ کے پیکٹ تقسیم نہیں کیے تھے نہ ہی پیسوں والے لفافے۔

Read more

گئو کشی کے ملزمان پر نیشنل سیکورٹی ایکٹ کا اطلاق؟

مدھیہ پریش کے کھنڈوا میں مبینہ گئو کشی کے معاملہ میں تین لوگوں کو این ایس اے (نیشنل سیکورٹی ایکٹ) کی دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ مدھیہ پریش میں برسر اقتدار آنے والی کانگریس حکومت بھی یوپی کی یوگی سرکار کے نقش قدم پر چلتی نظر آرہی ہے۔ کمل ناتھ حکومت نے گئو کشی کے3 ملزمین ندیم، شکیل اور اعظم پر قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کا اطلاق کیا ہے۔ اِس سے پہلے بی جے پی کی

Read more

عمران خان میرا سُپر ہیرو

انسان کی فطرت بھی عجیب ہے اُسے خود سے بہتر لوگ متاثر کرتے ہیں مگر ”دور“ سے اور اگر قریب ہوں تو محترم حسد کرنے لگتے ہیں۔ خیر گزرے جملے کا دوسرا حصہ ایک علیحدہ معاشرتی رویہ ہے اور کسی علیحدہ مضمون میں اسے موضوع بنائیں گے۔ فی الحال ہم خود سے بہتر لوگوں پہ ”دور“ سے غور کرتے ہیں۔ مثلاً میں موٹر سائیکل پہ ویلی نہیں مارسکتا وجہ صرف یہ ہے کہ مجھے احمقانہ کام کرنا پسند نہیں، لیکن اگر کوئی ویلی مارتا ہوا پاس سے گزرے تو میری نگاہیں اُس کا تعاقب کرتی ہیں، گرنے تک یا کم ازکم آنکھوں سے اوجھل ہونے تک۔

اور اگر کبھی موت کے کنویں کا منظر دیکھ لوں تو آنکھیں اور منہ دونوں کھلے رہ جاتے ہیں۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ دل اندر ہی اندر کہتاہے ”ابے یار کمال کردیا“۔ شائقین کے دلوں کی یہی آواز زبان تک لانے کے لئے فلم والوں نے ٹارزن کا مضبوط جسم والا خوبرو کردار متعارف کروایا۔ سب کو پسند بھی آیا بِنا یہ سوچے کہ ٹارزن بھائی صاحب کی جنگل میں روز اتنی صفائی سے شیو کون بنا کے جاتا ہے؟ سُپر مین، بیٹ مین، اسپائیڈر مین، ایک دو ”وومین“ بھی، ہلک، ایونجرز، مسٹر انڈیا، کِرش اور مولا جٹ وغیرہ وغیرہ۔

Read more

آپ کیسے حساس ہیں؟

ٹھیک ہے مان لیتے ہیں کہ رضوان رضی نے کچھ تلخ نامناسب ٹویٹز اور پوسٹس کیں جو انہیں اپنی عمر کا لحاظ رکھتے ہوئے نہیں کرنی چاہیے تھیں۔ انہوں نے کچھ حدود سے تجاوز ضرور کیا ہے اپنے لیڈر کی محبت میں مگر آپ یہ کام بہت پہلے کر چکے ہیں سرکار۔

ڈاکٹر عمار جان بھی شاید اپنے نظریے کا حامی ہے شاید وہ بھی اختلاف رائے رکھتا ہو۔ کئی قوم پرست بھی ہوسکتا ہے غلطی پر ہوں۔

وطن سے محبت اور وطن کو عزیز رکھنا بھی فطرتی ہے جسے فوقیت دی جانی چاہیے۔ بات ان کی اخلاق باختہ تحریروں کی کریں، مٹھائیاں بانٹیں یا ان کی ہتھکڑی زدہ تصویروں پر تمسخر اڑائیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ اس کام کی ابتداء کہاں سے ہوئی کس نے کی، ہوسکتا ہے ستر سالہ تاریخ میں ابتداء سے ایسی غیر اخلاقی زبان استعمال کی گئی مگر ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے آپ کے مہاتما اور ان کے حواریوں سے لے کر آپ احباب کی بھی کاوش شامل رہی۔

Read more

پائیدار ترقی کے مقاصد 2030 کا حصول اور این جی اوز پر پابندی

کسی بھی معاشرے کی خوشحالی کے لئے ضروری ہے کہ اُس کے تمام شعبوں کو ساتھ لے کر چلا جائے تا کہ معاشرے کو یقینی طور پر خوشحال بنایا جا سکے۔ دُنیا کے اعلیٰ دماغ رکھنے والے پالیسی میکرز نے ترقی پذیر ممالک کو خوشحال بنانے کے لئے پائیدا ر ترقی کے مقاصد 2030 کے اہداف مقرر کیے ہیں جن کے مقصد 2030 ء کے تحت ترقی پذیر ملکوں کو ترقی یافتہ بنانے کے لئے عملی طور پر کام کرنا ہے تا کہ 2030 ء تک دُنیا کے ترقی پذیر ممالک بھی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہو سکیں۔

ان دیرپا مقاصد میں ”ہرطرح کی غربت کا خاتمہ، خوراک، سلامتی اور بہتر غذائیت کا حصول، دیرپا زراعت کا فروغ، صحت مند زندگی کو یقینی بنانا، ہر عمر کے ہر فرد کی فلاح کو فروغ دینا، سب کی شمولیت اور برابری پر مبنی معیاری تعلیم کو یقینی بنانا، برابری کی سطح پر سیکھنے کے مواقع کو فروغ دینا،

Read more

ایک کی چوکھٹ پر حاضری دوسرے کو ہتھکڑیاں: کپتان صاحب! یہ ماجرا کیا ہے؟

یوں تو نئے پاکستان میں عجیب و غریب واقعات و سانحات رونما ہو رہے ہیں جن کو دیکھ کر گاہے نئے پاکستان کے بانی کی بے بسی اور بے چارگی پر رحم آتا ہے اور گاہے مظلوم و مجبور پاکستانیوں کی مفلو ک الحالی اور حالت زار پر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ جناب عمران خان نے نئے پاکستان کی بنیاد رکھتے وقت عوام سے وعدہ کیا تھا کہ نئے پاکستان میں دودھ و شہد کی نہریں بہنے کے علاوہ عدل اجتماعی اور سماجی مساوات کا یہ عالم ہو گا کہ شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پئیں گے۔

انصاف کا بول بالا اور ظلم و جبر کا منہ کالا ہو گا۔ کشمیر سے کراچی تک شب دیجور میں سونے چاندی سے لدھی پھندی عورت بغیر کسی خوف و خطر چلی جائے گی اور کوئی مائی کا لال اسے میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکے گا۔ ملک کی معیشت اس طرح بام عروج پر پہنچے گی اور خوشحالی کا ایسا دور دورہ ہو گا کہ زکات لینے والا کوئی نہیں ہو گا۔ اللہ کے فضل سے اب نواز شریف وزارت عظمٰی سے معزول ہونے کے بعد تا حیات نا اہل ہو کر جیل میں اپنی زندگی کے بچے کھچے دن کاٹ رہا ہے اور چوروں، ڈاکوؤں اور لٹیروں کی جگہ صدیقین، صا لحین اور مجاہدین کی حکومت قائم ہو چکی ہے۔

Read more

قلم کی روشنی

ادب سے لگاؤ رکھنے والے اچھی کتابوں کے منتظر ہمیشہ رہتے ہیں اور کوئی بھی منفرد کتاب و رسالہ ہاتھ لگنے پر، جلد از جلد، اُس سے سیراب ہونا چاہتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی تجربہ میرے ساتھ ”قلم کی روشنی“ موصول ہونے پر ہوا۔ اردو ادب کی عظیم مصنفہ محترمہ بانو قُدسیہ کی زیرِ سر پرستی وجود میں آنے والے ادبی مجلے ”قلم کی روشنی“ سے میرا پہلا تعلق شاید اسی لیے بنا کہ بانو آپا سے دلی عقیدت رکھنے والی ایک ادنٰی مرید میں بھی ہوں۔ اس مجلہ کی بانی و چیف ایڈیٹر (مرحومہ) رفعت خان اور موجودہ مولفِ اعلٰی (ناول و افسانہ نگار) جناب محمود ظفر اقبال ہاشمی ہیں۔

Read more

رمشا اور زعیم کے بعد ارشاد رانجھانی کا بے رحم قتل، اور انصاف سوال

جب قانون انصاف موجود ہو تو اپنی عدالتیں قائم کرکے ریاست کے اندر ریاست قائم کرنا کھلی دہشت گردی ہے اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کے برابر بھی ہے۔ پاکستان سمیت جیسے جیسے قومیں ترقی یافتہ ہوتی جا رہی ہیں۔ انفرمیشن ٹیکنالوجی زور پکڑتی جا رہی ہے۔ دنیا گلوبل ولیج میں تبدیل ہوگئی۔ دنیا میں جنگیں اسلحہ کی زور کے بجائے سوشل میڈیا پر پروپگینڈہ کرکے مقابلہ کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا واٹس ایپ۔ ٹویٹر۔ فیس بوک۔ انسٹاگرام نے دنیا کو ایک جال کی طرح لوگوں کو جوڑ کر رکھ دیا ہے۔

انسانوں سے انسانیت بھی دم توڑتی جا رہی ہے۔ پہلے زمانے میں لوگ جنگلات میں نکل جاتے تھے دعا کرتے تھے کہ اللہ کرے کوئی جانور سامنے نہ آجائے انسان مل جائے۔ تب دنیا میں خوف کی علامت آدم خور جانور ہوا کرتے تھے۔ ہم بچپن میں اپنے والدین یا بزرگوں سے جب رات کو سوتے وقت کہانیاں سنتے تھے وہ ساری فرضی کہانیاں انسانیت پر مبنی ہوتی تھی۔

Read more

قفس سے فریاد

جیسے جیسے اس انسان دنیا میں نشوونما کے مختلف مراحل طے کیے جاتا ہے، ویسے ویسے اُس کی عقل کی بھی تربیت ہوتی جاتی ہے۔ مگر یہ عقل کس چشمہ سے سیراب ہوکر ترقی کے زینے طے کرتی ہے، یہ ایک مختلف چیز ہے جو انسانی زندگی کی جہت کا مقصد متعین کر کے یا تو اُسے اعلیٰ و ارفع انسان بنادیتی ہے یا جانور سے بھی بدتر مقام کہ جہاں ماسوائے ذاتی اغراض کی تکمیل کے کوئی دوسرا مقصد کارفرما نہیں ہوتا۔ یہ چشمہ کہ جہاں سے عقل کو حیات ِ جاودانی یا قعر ِ مذلت ملتی ہے، دراصل معاشرے کے مجموعی تائثر کی آئینہ دار ہوتی ہے، کہ ایک انسان جس معاشرے میں آنکھ کھولتا ہے وہ اُسی کے رواج و تہذیب کے سائے تلے پروان چڑھ کر ہی اپنی زندگی کی ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔ یہ ترجیحات کس قسم کی ہیں، اور اُن کا مال کیا ہے، اس کو سمجھنا اور پھر اس کے اندر موجود مفاسد کو الگ کرنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔

Read more

سندھ یاترا – مکلی کا قبرستان

ان کے دور کی اپنی چھاپ ان کے مقبروں پر نظر آتی ہے۔ ترخانوں کے بعد اس سرزمین پہ مغلوں کا تسلط قائم ہوا جو 1592 ء سے 1739 ء تک قائم رہا۔ تعمیراتی ڈیزائن اور مقبرہ مصوری مغلیہ دورِ حکومت میں اپنے معراج پہ پہنچے۔ ہر دور کے دانشوروں، اولیا، امرا، راجاؤں اور رانیوں کے مقبروں کو اپنی اپنی شان کے مطابق وسیع اور ہیبت ناک مقبروں میں دفن کیا گیا۔ ترخانوں کے پہلے بادشاہ عیسیٰ خان کا مقبرہ اس قدر بلند و بالا اور فنی اعتبار سے شاہکار ہے کہ دیکھنے والا مرعوب ہوئے بنا نہیں رہ سکتا۔

مقبرہ کیا ہے ایک محل ہے جو اس کی قبر پر تعمیر کیا گیا ہے مگر اس کی قبر تک جانے کا کوئی رستہ نہیں ہے۔ یہ سب مقبرے اینٹوں اور پتھروں سے تعمیر کیے گئے ہیں اور اینٹیں بھی ایسی ہیں کہ توڑنے پر شیشے کی کرچیوں کی طرح بکھر جاتی ہیں۔ یہ اب تک کے پاکستان میں فنِ تعمیر اور فنِ خطاطی کے حسین امتزاج کے سب سے بڑے آثار ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق یہاں پانچ لاکھ کے لگ بھگ قبریں ہیں۔ بعض روایات کے مطابق یہ قبرستان چھ مربع میل جبکہ بعض کے مطابق نو مربع میل تک پھیلا ہوا ہے۔

Read more

منسوخی حج سبسڈی

گزشتہ پیر خورشید ندیم صاحب کا کالم ”حج سبسڈی“ نظروں سے گزرا۔ خورشید ندیم ان چند کالم نگاروں میں سے ہیں جو سماجی موضوعات پر ترقی پسند نکتہ نظر اپناتے ہیں اور مذہب کی عموماً سیکولر تشریح کرتے ہیں۔ اپنی بات خوبصورت انداز میں قارئین تک پہنچانے کا ہنر جاتے ہیں اور زبان پر بھی ملکہ حاصل ہے۔ ہم بھی ان کے مستقل قاری ہیں فیس بک پیج پر فلاور بھی۔ حج سبسڈی والے کالم میں حسب خلاف ایک ”غیر فکری“ انداز اپنایا اور مذہبی فریضہ کو سماجی پہلو کے دیبز پردے میں لپیٹ کر پیش کیا جس سے ہمارے نزدیک فکری مغالطہ کی صورت گری ہوئی۔

Read more

راجہ گدھ کے مطابق قوم کی دیوانگی کا سبب

انسان اپنی زندگی کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ انسان ہر ممکنہ طور پر اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ اس کی زندگی لمبی ہو، لیکن پھر آج کل کے دور میں انسان خودکشی کیوں کررہا، انسان جس کو اپنی زندگی بہت پیاری تھی، وہ خودکشی پر مجبور کیوں ہے۔ ان سوالات کے جواب بانو کے ناول راجہ گدھ سے ملے۔

بانو قدسیہ اپنے ناول (راجہ گدھ) میں کہتی ہیں کہ انسان کی خودکشی ”دیوانے پن“ کی وجہ ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ”دیوانے پن یا پاگل پن“ کس وجہ سے پیدا ہوتا ہے، بانو قدسیہ اس سوال کے جواب میں وہ ایک تھیوری پیش کرتیں ہیں کہ ”مغرب کے پاس حلال حرام کا تصور نہیں ہے، اس لیے میری تھیوری ہے کہ جس وقت حرام رزق جسم میں داخل ہوتا ہے تو وہ انسانی جینز کو متاثر کرتا ہے، رزق حرام سے ایک خاص قسم کی چیز ہوتی ہے جو خطرناک ادویات، شراب اور ریڈی ایشن سے بھی زیادہ مہلک ہے، رزق حرام سے جو جینز تغیر پذیر ہوتے ہیں، وہ لولے لنگڑے اور اندھے ہی نہیں نا امید بھی ہوتے ہیں نسل انسانی سے۔ یہ جب نسل در نسل ہم میں سفر کرتے ہیں تو ان جینز کے اندر ایسی گندگی پیدا ہوتی ہے، جس کو ہم پاگل پن کہتے ہیں۔ رزق حرام سے ہی ہماری آنے والی نسلوں کو پاگل پن وراثت میں ملتا ہے۔ اور جن قوموں میں من حیث القوم رزق حرام کھانے کا لپکا پڑ جاتا ہے، وہ من حیث القوم دیوانی ہونے لگتی ہیں۔ “

Read more

جاگتی رات کا جمال: جمال احسانی

نہ کوئی فال نکالی نہ استخارہ کیا
بس ایک روز یونہی خلق سے کنارہ کیا

20 فروری 1998 ء کو خلق سے کنارہ کرنے والے جمالؔ احسانی کا استعارتی جہان دیکھ کر اُنھیں ”جاگتی رات کا جمال“ کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔ جمال کے مختصر احوال زندگی کچھ یوں ہیں کہ جمالؔ نے 21 اپریل 1951 ء کو سرگودھا جیسی زرخیززمین پرآنکھ کھولی اوائل عمر میں خاندان کے ساتھ کراچی شہرجا بسے۔ سنتالیس سالہ زندگی میں مختلف ملازمتیں کی، کرایے کے گھر بدلتے کراچی کا قریہ قریہ گھوما، غمِ روزگار میں ملک سے باہر بھی گئے، شادی کی، بچے ہوئے لیکن یہ سب کام جمال کے لیے گویا جُز وقتی مصروفیات تھیں۔ جمال کی زندگی میں کوئی شے جو جمال کے لیے سب سے بڑھ کے توجہ کے قابل تھی، وہ شاعری تھی، اِس کے علاوہ کچھ اور نہ تھا۔

Read more

آزاد محبت کی کہانی: افلاطون سے سلیکون تک

347 قبل مسیح کا عظیم یونانی فلسفی افلاطون پیدائشی امیر اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا۔ ایتھنز میں دی اکیڈمی کے نام سے قائم کیاجانے والا سکول آج بھی یورپ کی سب سے پہلے یونیورسٹی تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسی عظیم فلسفی نے اپنے ہونہار شاگرد ارسطو کو نصیحت کی کہ اگر تم دنیا میں کسی بڑے مقام تک پہنچنا چاہتے ہوتو عورت سے ہمیشہ بچ کے رہنا۔ یہ کائنات کی وہ تخلیق ہے کہ جو اس کے دام میں الجھا،

Read more

بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں بڑھتے ہوئے منفی رجحانات

دنیا میں وجود رکھنے والا ہر شے کسی نہ کسی غرض و مقصد کے لئے بنا ہوا ہے اور ان کے وجودیت کا اہمیت وقت اور ضرورت کے مطابق بروکار لایا جاتا ہے۔

دنیا میں ہر انسان اپنا ضرورت پورا کرنے کے لیے ہر اُس شے کو بروکار لاتاہے جو اُسکے مقصد کے حصول میں آسانی پیدا کرے اور اسُکے ضروریات پورا کر سکے۔

Read more

میرے وطن کے رنگ

زندگی مہنگی ہو گئی ہے یا میرے وطن کے لوگ جینا نہیں چاہتے۔ اللہ تعالٰی کی تخلیق کردہ مخلوق میں سے انسان واحد مخلوق ہے جو مکمل شعور رکھتی ہے۔

مگر کیا انسان واقعی شعور رکھتا ہے؟

ہاں رکھتا ہے کیوں نہیں رکھتا کیا روز کے قتل و غارت کے واقعات ہمیں نہیں بتاتے وہ باشعور ہے۔ بچوں کے سامنے ماں باپ کا قتل، یہ لوگوں کی حق تلفی، سیاسی گرم میدان اور یہ خون کی پیاس کون چلا رہا یے یہ نظام۔

Read more

حج کے بعد دیگر سبسڈی بھی ختم کر دی جائے

موجودہ حکومت نے عوام کی سہولت کے لئے دی گئی مختلف اداروں کی سبسڈی ختم کر دی ہے جیسے میٹرو اور حج سبسڈی وغیرہ شامل ہے۔ ان کو ختم کرنے سے ملکی حالات تو پھر بھی بہتر نہیں ہوئے اب جب سبسڈی ختم ہی کر دی ہے تو پھر تمام اداروں کی سبسڈی ختم کر دی جائے اس سے شاید ادارے کچھ منافع بھی دیں دے۔ جس واپڈا سرفہرست ہے۔ واپڈا کے تمام ملازمین کے لئے بجلی مفت ہے ایک تو بھاری تنخواہیں لیتے ہیں اوپر سے بجلی بھی مفت اور اپنا کام بھی ٹھیک طرح نہیں کرتے ملک میں اربوں روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے وہ قابو نہیں کر سکتے اور جو مفت بجلی ملتی ہے اس کا غلط فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔

Read more

سچل اور رومی کی شاعری: فطرت و کائناتی شعور کا عکس بے مثال

فطرت اور کائناتی شعور یہ دو ایسے مکتبہ فکر ہیں جو انسان کی باطنی آنکھ کو روشن کردیتے ییں۔ مظاہر فطرت کے پاس ایک الہامی رویہ ملتا ہے۔ بارش سے پہلے حبس، بارش کی پیشنگوئی کردیتا ہے۔ فطرت کی زندگی میں ہم آہنگی، رابطہ و برداشت نظر آتی ہے۔ جس کے بعد انسان پر کائنات کی سمجھ کے بند دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ یہ آگہی ماورائی جمالیات سے بہرہ ور ہے۔ تصوف یا صوفی ازم کی بات کی جاتی ہے تو اسے فکری یا فلسفے کے طور پر سماجی زندگی سے متصل کردیا جا تا ہے۔ اور اس کا روحانی و ماورائی پہلو نظر انداز کردیا جا تا ہے۔ روحانیت بھی روزمرہ کی سوجھ بوجھ و سمجھ کا ردعمل ہے۔

Read more

بوٹ، تابوت اور ارمان

وہ خاموش رہی مگر اُس کے آنسؤوں کی روانی میں وہی کہانی تھی جو دریدہ دل، لرزیدہ زبان پہ ہوتی ہے۔ تہہ در تہہ، گنجلک جس کی جڑیں کئی تہذیبوں سے ٹکراتی ہیں۔ جہاں سے حقوق کی شاخیں پھوٹتی ہیں۔ وہ انھی شاخوں کی آبیاری پہ مامور تھی۔ اِس سے قبل اُسے علم نہیں تھا کہ خون پانی سے زیادہ گاڑھا ہوتا ہے۔ جب علم ہوا تب وہ اپنے سارے خاندان سمیت گردن تک لہو کے دریا میں ڈوب چکی

Read more

عہد حاضرکی سختیاں

عہد حاضر درحقیقت ہے کیا؟ ذرا پہلے اس بات کو سمجھا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عہد حاضر دراصل وہ جگہ ہے کی جو انسانوں کے لیے تو شاید وجود میں لائی ہی نہ گئی تھی موجودہ حالات میں کوئی بھی شخص کم از کم اس بات پر تو متفق ہوں گے کہ شاید یہ تحریر کچھ حد تک درست ہے۔

مگر قارئین یہ تو سوچیں کہ ایسا ہوا ہی کیوں؟ ایسی نوبت آئی ہی کیوں؟ تو ذرا بغور مطالعہ کریں تو شاید میری ادنی سی بات لوگوں کے دلوں میں گھر کر جائے۔ اگر آپ غور کریں تو ایک سوال میں آپ سے کرتا ہوں کہ عہد حاضر میں کون سا ایسا شخص ہے کہ وہ اپنی زندگی خود ہی اپنے بل بوتے پر جی رہا ہو؟ ہم جب بھی کوئی بھی اچھا یا برا خواہ کوئی بھی کام ہو ہمارا وتیرہ یہی ہوتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ سماج کیا کہے گا؟ تو ایسی زندگی کا کیا فائدہ کہ آپ اپنے فیصلے بھی جہاں خود نہ کر سکیں۔

Read more

سِول یا فوجی ہر حکمران کی خواہش آزاد خارجہ پالیسی

ناکام، مایوس اور مستقبل سے خوفزدہ اشرف غنی نے پاکستان کے حوالے سے جو حالیہ بیان دیا ہے وہ نہ صرف پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے بلکہ ٹیکنیکل طور پر اُن سِول ایکٹوسٹس کے خلاف بھی جاتا ہے جن کی حمایت میں وہ اپنا منہ سرخ کررہے ہیں کیونکہ اِس سے لگتا ہے کہ اُن سِول ایکٹوسٹس کو افغان ایجنسیوں کی حمایت حاصل ہے۔ اشرف غنی اپنے آپ کو افغانستان کا صدر کہتے ہیں لیکن دنیا کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ وہ صرف کابل کے صدر ہیں۔

Read more

ریمنڈ ڈیوس سے سانحہ ساہیوال تک

جس دن سانحہ ساہیوال جیسا اندوہ ناک زندہ روحوں کو تڑپا دینے والا افسوس ناک اور باعث شرم وقوعہ ہوا میں اچانک ٹی وی والے کمرے میں گیا میری بیوی انتہائی پریشان ایک مجسمے کی طرح بالکل ساکت دانتوں میں انگلی دبائے ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھیں شاید پلکیں جھپکنا بھول چکی تھیں۔ مجھے دیکھ کر بھرائی ہوئی آواز میں بولی نوید دیکھو یہ کیا ہو رہا ہے۔ دیکھو یہ دیکھو یہ بچی تو ہماری مانو جتنی ہے۔ یہ دیکھو چھوٹی بچی کے ہاتھ میں دودھ والا فیڈر ہے۔ سب مارے گئے سب کے سب مارے گئے پورا خاندان لٹ گیا اب ان بچیوں کا کیا ہوگا۔ کیا ان کے معصوم دل ودماغ سے ان کی آنکھوں سے یہ وحشت ناک منظر کبھی اوجھل ہوگا۔ ان معصوم بچیوں کی آنکھوں کے سامنے ان کے ماں باپ کو کتنی بے دردی سے سیدھی گولیاں مار دی گئیں۔ کیا یہ اس قیامت کی گھڑی کو بھول پائیں گی۔

Read more

فسانہ ایک میٹرک فیل کا

کل سویرے میں آنکھیں مل رہا تھا کہ گاؤں سے ملک صاحب کا فون آگیا، ملک صاحب ہمارے عزیز اور بذلہ سنج دوست ہیں پر جلد یوں روٹھ جاتے ہیں جیسے ساس مر گئی ہو، ہیں قوم کے ابڑینڈ مگر بزورِ بندوق ملک صاحب کہلوانے میں ان کا کوئی ثانی نہیں، شاعر واعر ہیں، پڑھاتے وڑاھتے ہیں، چھوٹتے ہی بولے :۔ ”میاں بہت دن سے کراچی ہو، پر افسوس کہ ہمارے بھیا سے نہ ملے۔“ میں نے جھٹ کراچوی لہجہ اپنایا اور پوچھا:۔ ”اڑے وہ سالا رہتا کہاں ہے۔“ ملک صاحب اس پر بولے :۔ ”یہ تو مجھے بھی معلوم نہیں کہاں رہتا ہے، پر تمہیں رابطہ بھیج رہا ہوں، ذرا بات کرو۔ “ ملک صاحب نے نمبر بھیج دیا اور میں اپنے ایک سخن ور دوست عبدالرحمن مومن کے ہمراہ ساحل سمندر کی آوارگی کو نکل کھڑا ہوا۔ اول اول ہم مزار قائد گئے پر بوٹ والوں نے کاندھے پر لٹکے تھیلے پر قدغن لگائی کہ آپ یہ اندر نہیں لے جاسکتے، تو وہیں سے سوئے ساحل چلے کہ تھیلے یاں کس کے رحم و کرم پر چھوڑتے۔

ملک صاحب کے اس دوران پانچوں فون چھوٹ گئے مگر چھٹے کی گرفت غنیمت ہوئی تو بولے :۔ ”یار کہاں مرگئے، ابھی جا کر ملو، وہ انتظار بیٹھا ہے۔“ ساحل کنارے کالی تصویریں نکالتے جب شام ڈھلے ہم نکلے تو لکی ون شاپنگ مال پہنچتے خاصا وقت لگا۔ فون لگاتے ہی وہ سامنے آن کھڑا ہوا۔ ہمارے دوست ملک صاحب کی طرح نکلتا ہوا قد، سوکھا نکھرا منہ، فرانسیسی تراش خراش، بودوباش صاحب لوگوں کی، عمر سترہ اٹھارہ، ہوٹل منتظم کے لبادے میں وہ چمک رہا تھا۔

Read more

نیا امتحان۔ حکومت جائے گی یا ممبران اسمبلی؟

حکومت خطرے میں ہے اور وزیراعظم اراکین اسمبلی کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے خوب تگ و دو کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے جہاں عوام کی فلاح و بہبود کے لئے تاریخی اقدامات کیے وہیں ان سے متعدد ایسی غلطیاں بھی سرزد ہوئیں جن کی وجہ سے اندر ہی اندر لاوہ پکتا رہا جو بالآخر آتش فشاں بن کر نمودار ہوا ہے۔

Read more

ضلع گانچھے میں انتظامی افسر ان کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی

گلگت بلتستان کے کسی بھی دوسرے ضلع کی طرح بیورو کریسی کا ایک طبقہ ضلع گانچھے کے لوگوں کے بنیادی حقوق کو بڑے ناز و نخرے کے ساتھ پامال کر نے کی خبریں آہستہ آہستہ میڈیا کی زینت بن رہی ہیں۔ یہ ضلع پاک بھارت سرحدی حدود میں واقع ہونے کی وجہ سے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ اس علاقے کے لوگوں کی حب الوطنی بھی اپنی مثال آپ ہے۔ مثال کے طور پر سال 2012 میں گیاری سیکٹر میں برفانی تودہ گرنے سے شہید ہونے والے پاک فوج کے سینکڑوں نوجوانوں میں کھرکوہ نامی گاؤں کے دو جوان بھائی بھی شامل تھے ان کی شہادت پر اس بہادر باپ کا کہنا تھا کہ اگر میرے اور پانچ بیٹے بھی ہوتے تو انہیں بھی وطن پر قربان کرنے سے دریغ نہ کرتا۔

ضلع گانچھے اپنی شرافت اور امن پسندی کی وجہ سے اپنی الگ پہچان رکھتا ہے کیونکہ جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے اس لئے وزیر اعظم عمران خان اقتدار میں آنے سے یہاں کے لوگوں کو تہذیب یافتہ قرار دیتے ہوئے ان کی تہذیب سے سیکھنے کی تلقین کرتے تھے۔ عمران خان کی یہ ویڈیو یوٹیوب پر موجود ہے۔ مگر بدقسمتی سے بیوروکریسی کے بعض عنصر ان کی اس شرافت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں پر مسلط ہونے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔

Read more

فیل کریں مگر پہلے پڑھائیں بھی تو

میری بڑی خوش نصیبی رہی ہے کہ عمر کے ہر حصے میں میری ہر عمر کے لوگوں سے دوستی رہی ہے۔ چھوٹی تھی تو بڑوں سے دوستی رہی اور اب عمر کے اس دور میں بہت چھوٹے اور نوجوانوں بچوں سے دوستی رہتی ہے میری ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ میں عمر وں کی اس خلیج کو جیسے عام فہم زبان میں جنیریشن گیپ کہا جاتا ہے کبھی اپنے اور اپنے بچوں کے درمیان نہ آنے دوں اور اس کوشش میں اہم کردار میرا تدریسی پیشہ ادا کرتا ہے۔

مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے جو مسئلے مسائل میری بھانجی مجھ سے بیان کرتی ہے یا اس کی پوسٹ جب میں پڑھتی ہوں تو جو باتیں وہ لکھتی ہے اور جن مسئلوں کی طرف وہ نشاندہی کرتی ہے ان ہی مسائل سے گزر کر میں بھی یہاں تک پہنچی ہوں۔ اور آج صرف ایک بات کا ہی ذکر کروں گی۔ حالانکہ یہ بات کرتے ہوئے بہت عجیب لگ رہا ہے۔

Read more

سزائے موت کا قانون، پراسیکیوشن اور نا انصافیاں

عجیب لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ سزائے موت کا عمل معاشرے میں مثبت تبدیلی کا باعث ہے۔ اس عمل سے جرائم پیشہ عناصر اعمال بد سے توبہ تائب ہو کر راہ راست پر چل پڑتے ہیں۔ غرضیکہ معاشرہ مستقبل طور پر امن کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ یہ دلائل محض بے وقوفانہ ہیں۔ اس خیال کو اگر خوش فہمی کا نام دے دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ سزائے موت کا قانون صرف اور صرف انتقامی کار روائیوں اور اپنے سیاسی مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

بلکہ انہی اغراض مقاصد کے لئے ہی استعمال کیا جاتا ہے! میری ان سطور پر یقینا حکام مملکت و عدلیہ خفاء تو ضرور ہوں گے۔ کہ سزائے موت کا عمل نہایت ہی ایماندارانہ طریقے سے انجام پاتا ہے۔ لیکن اگر ہمارے عدالتی حکام یعنی ججز حضرات عملی زندگی میں بذات خود ان تمام معاملات کو مانیٹر کریں تو حقائق سامنے آ جائیں گے کہ کس حد تک تحقیق و تفتیش کا عمل شفاف ہے۔ سردار انہ و جاگیر دارانہ نظام کی مداخلت پر مقدمات کا قائم کرنا۔

Read more

گلگت بلتستان عبوری صوبہ یا سیاسی چالوں کا عجوبہ

اعمال کا درومدار نیتوں پر ہے۔ گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے میں اللہ کرے تحریک انصاف کو کامیابی ملے لیکن نیتوں میں فتور ہے، نیتوں کے فتور کے ساتھ کامیابی کی منزل مل نہیں سکتی، معتبر ذرائع اور نظر آتے حقائق سے واضح ہو رہا ہے کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں آنے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے ایک سیاسی چال چلنے لگی ہے، عبوری صوبے کے نام پر، صوبہ بنے گا نہیں، صرف سیاسی ڈرامہ چلے گا۔

سیاست بھی عجب کھیل ہے جہاں نہ انسانی جذبات کی قدر ہے تو نہ انسانی ضروریات اور زمینی حقائق کا ادراک، پوری دنیا میں حکومتیں عوام کے لئے ڈیلیور کرتیں ہیں اورسیاست صرف سیا سی جماعتیں کرتیں ہیں حکومت سیاست نہیں کرتی ہے۔ صرف خدمت، ہمارے ہاں تو حکومت سے لے کر سیاست تک کا باواآدم ہی نرالا ہے، کسی کی موت پر بھی سیاست، قدرتی آفت پر بھی سیاست اور قوموں کے مستقبل پر بھی سیاست، کچھ ایسا ہی گلگت بلتستان کے ساتھ بھی ماضی میں ہوا اور اب حال میں کچھ نیا ہونے جا رہا ہے۔

Read more

میں باغی ہوں، جو چاہے مجھ پر ظلم کرو

سچ لکھنا اور کلمہ ء حق کہنا بہادری ہے، یہاں گنے چنے لوگ ہیں جو سیدھی اور سچی بات کہتے ہیں اور اکثر تو جی حضوری و خوشامدی ٹولہ ہے جو حقائق کو مسخ کرتا ہے اور من مرضی کی تصویر دکھا کر واہ واہ کے ڈونگرے برساتا ہے مگر پھر بھی چند لوگ ہیں جو کلمہ ء حق کہتے ہوئے سچ کا علم بلند کیے ہوئے ہیں جو کہ آسان نہیں ہے کیونکہ جس دور میں حق بات لکھنے

Read more

بلا امتیاز احتساب، وقت کی ضرورت!

صوبہ پنجاب کی کابینہ میں شامل حکومتی پارٹی تحریک انصاف کے اہم وزیر عبدالعلیم خان کو نیب نے گرفتار کر کے احتساب عدالت سے ان کا نو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔ نیب کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعلامیہ کے مطابق سینئر سوبائی وزیر عبدالعلیم خان کو آمدن سے زائد اثاثے بنانے پر حراست میں لیا گیا۔ علیم خان کی گرفتاری سے زیادہ آج کل سوشل میڈیا پر ان کا اپنی وزارت سے مستعفی ہونے کی خبر ٹاپ ٹرینڈ بنی ہوئی ہے جسے سنجیدہ عوامی حلقوں میں ایک اچھی روایت کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔

میں یہ سمجھتا ہوں اس روایت کو تقویت دیتے ہوئے ان تمام سیاسی پلرز کو بھی اخلاقی طور اپنے عہدوں سے دستبردار ہو جانا چاہیے جن پر کرپشن و بدعنوانی کا قدغن لگ چکا ہے خواہ وہ پارٹی عہدیدار ہے یا حکومتی بنچ پر بیٹھا ہے۔ ملک میں احتساب کے اداروں کوسابقہ حکومتوں کے ادوار میں انتقامی سیاست کے طور استعمال کیا جاتا رہا ہے اسی لئے ملک میں جاری احتساب کو بھی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن انتقامی کارروائی قرار دے رہی ہے۔

Read more

میرے بھائی، آپ بھلے اردو میڈیا کو قومی میڈیا کہو، میں نہیں مانتا

کراچی کے علاقے بھینس کالونی میں ایک نوجوان کے بہیمانہ قتل پر ہر ذی شعور انسان محوِ حیرت ہے، سندھ کے مختلف شہروں میں واقعے کے خلاف احتجاج ہورہا ہے، ہڑتال کی کالز آرہی ہیں، حکومتِ سندھ نے واقعے کی عدالتی تحقیقات کے لئے سندھ ہائی کورٹ کو درخواست کردی ہے مگر اسی وقت اردو میڈیا کے ’پروفیشنل‘ چئنلز اپنے ”ذرائع“ کے حوالے سے ایک ہی خبر دینے میں لگے ہوئے ہیں کہ مارا جانے والے شخص ارشاد رانجھانی کا کرمنل رکارڈ موجود ہے۔

بھئی اپنے ذرائع سے اس رکارڈ کا کوئی ثبوت ہی لا کر دکھا دو، مگر نہیں، سوشل میڈیا پر دھوم مچی ہوئی ہے کہ قاتل رحیم شاہ پر لینڈ گریبنگ، منشیات فروشی اور بھتے کے الزامات ہیں، مختلف اوقات میں اس کے خلاف بیس مقدمات درج ہوچکے ہیں، ڈی ایس پی آفس کے ایک حصے پر قبضے میں ملوث ہے، چلئے، مان لیا کہ آپ کے ذرائع بہت باخبر ہیں، کیا ان سے یہ پوچھنے کی زحمت کی گئی کہ قاتل پر لگنے والے الزامات میں کہاں تک صداقت ہے؟

Read more

خدائی چلانا صرف رب کے بس میں ہے

آپ میں یا کوئی بھی انسان جو کسی پریشانی میں ہو تو اس کے لئے اس کی زندگی ایک مشکل ترین دور سے گزر رہی ہوتی ہے۔ اس کا بے بس ہونا اور مشکل کا ختم نا ہونا اس وقت اس کے لیے وبال جان سے کم نہیں ہوتا۔ ان سب کیفیات کے ساتھ اپنی زندگی کو بہتر طریقے سے دیکھنا بہت تکلیف دہ یا کہیں کہ ایک مشکل امر ہے۔ جس طرح سے کسی کی تکلیف کو دیکھنا اور اس کو رفع کرنے کی کوشش کرنا انسانیت کا معیار اور مقصد ہے۔ اسی طرح انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی تکلیف کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔ اور اس میں کامیاب نا ہو تو ان سب باتوں سے گھبرا کر جو سب سے پہلا احساس ہوتا ہے وہ ہوتا ہے کہ میں کیوں ہوں اور میرا انسان ہونا آسان تھوڑی ہے۔

اور اس کیفیت میں مجھ جیسے کم ظرف انسان کا اپنے خدا سے برابر گلہ شکوہ جاری رہتا ہے۔

Read more

غریب کا کام تو بس صبر کرنا ہے

مولانا جلال الدین رومی کے مطابق، اپنا دل اس وقت تک توڑتے رہو جب تک یہ کھل نا جائے۔

غریب بچے کے صبر کا امتحان تب شروع ہوجاتا ہے جب وہ اپنے باپ کی انگلی پکڑ کر پرانا یونیفارم پہن کر مٹی سے آلودہ جوتوں کے ساتھ پہلے دن اسکول پہنچتا ہے اور دیکھتا ہے کہ باقی بچے تو اپنے باپ کی بڑی بڑی گاڑیوں سے اتر کر نئے یونیفارم پہن کر چمکتے ہوئے جوتے کے ساتھ سکول تشریف لارہے ہیں۔ مگر غریب کا بچہ گھر آکر اپنے والدین سے شکوہ نہیں کرتا کیونکہ اس کو معلوم ہوتا ہے کہ غریب کا کام تو صرف صبر کرنا ہے۔

Read more

جدت کی بدعت یا قدامت پہ ندامت

بندے کو فقیر ہونے کا گماں ہے نہ ہی امارت کا زعم، بس ہنگام شب و روز میں زندگی گزر رہی ہے بلکہ دوڑ رہی کہ کہیں ذرا سی بے ہنگمی کے باعث کچلی نہ جائے۔ ویسے فقیری کا لقب ادیب لوگوں کی کسر نفسی کی مرہون منت ہی زندہ ہے وگرنہ اس جہان آب و گل میں ہر ذی روح کو انفرادیت و اشرافیت کا واہمہ لاحق ہے۔ اب بندے کی کیفیت ہی دیکھ لو کہ چاروقت کی روٹی

Read more

مسئلہ بلی کے گلے میں گھنٹی لٹکانے کا ہے

سپریم کورٹ کا واضح، صاف صاف اور تحریری فیصلہ آگیا ہے۔ اس قسم کے فیصلے کی موجودہ دور میں سامنے آنے کی کوئی توقع تو نہیں تھی اس لئے کہ عدالتیں روزاول تا حال، ہمیشہ ہی ”طاقت“ کے زیر اثر رہی ہیں جس کی وجہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ ہر منصف نے اپنی تعیناتی کو سرکاری نوکری سمجھا اور اس سے علیحدہ ہوجانے کو بڑا نقصان جانا جس کی وجہ سے ”طاقت“ کے حوصلے بلند سے بلند ترہوتے چلے گئے یہاں تک کہ آئین کو توڑدینا یا مسخ کروادینا بھی ان کے لئے ایک ہنسی مذاق کا مشغلہ بن کر رہ گیا۔

پرویز مشرف اور اس سے قبل کے سارے عسکری ادوار میں یہی دیکھا گیا ہے کہ کورٹ عدل و انصاف پر مبنی فیصلے کرنے کی بجائے عسکری انقلابیوں کی مرضی و منشا کے مطابق فیصلے کر کے ان کے انقلاب کو قانونی تحفظ فراہم کرتی رہی ہے۔ جو بات سمجھ سے بالا تر رہی کہ وہ ججز جو احکامات ماننے سے انکار کی وجہ سے مستعفی ہونے پر مجبور کر دیے گئے یا مجبور ہو گئے ان کو عوام میں وہ پزیرائی نہیں مل سکی جو ان ججوں کے نصیب میں آئی جو قانون اور آئین توڑنے والوں کے ساتھی بنے۔

Read more

کچھ بات بلتستان یونیورسٹی کی

مختصرت سی مُدت! طویل المعیاد حکمت عملی! زینہ بہ زینہ ترقی کی جانب گامزن! نئی نسل کی بے باک و بے مثال ترجمان! گلگت بلتستان کی آن، شان اور نرالی پہچان! یونیورسٹی آف بلتستان، یونیورسٹی آف بلتستان! (ڈاکٹر ریاض رضیؔ) ہمارے ایک دوست نے کہا کہ اِدھر دیکھو بلتستان یونیورسٹی اُدھر دیکھو بلتستان یونیورسٹی، سوشلستان دیکھو بلتستان یونیورسٹی۔ آخر کسی اور یونیورسٹی کا چرچا اِس قدر کیوں نہیں جس قسم کی تشہیر آپ لوگ بلتستان یونیورسٹی کی کر رہے ہیں۔

Read more

ڈاکٹر سید معین الدین عقیل سے ملاقات

کراچی میں بچوں کے ایک غیر معمولی اہمیت کے حامل پرچے ماہنامہ ’ساتھی‘ کے مدیر اعظم طارق (کوہستانی) نے 3 فروری کی صبح ناشتہ کا اہتمام کیا تھا۔ ہمارا قیام سینیئر صحافی و خوش مکھ دوست زاہد حسین کے یہاں تھا۔ رات گپ اڑاتے گزری۔ سویرے نہا کر کپڑے پہنے تو پتلون تنگ پڑگئی، معاملہ بھانپ کر زاہد بھائی اپنی پتلون لائے اور بولے :۔ ”میاں یہ پہنو۔ “ پہنی تو میں زاہد صاحب کا بہروپیا دکھا۔ جلد اتار پھینکی

Read more

اللہ کی رحمت مسجد میں داخل نہیں ہو سکتی!

آج تو بارش کا زور ٹوٹنے میں ہی نہیں آ رہا تھا، سرد ہواؤں کی نئی لہر سے سردی کی شدت میں بے پناہ اضافہ ہو چکاتھا۔ ٹاٹ کے پیوند لگانے کے باوجود بارش کا برفیلہ پانی، سرد ہواؤں سمیت شیدے کی جھونپڑی میں گھسا جا رہا تھا۔ دھند میں لپٹے سورج سے عاری دن میں ظہر کی نماز ہوئے بھی کافی وقت گزر چکا تھا۔ محلے کی جامع مسجد میں حاجی لیاقت کی والدہ کا چہلم ہو رہا تھا، حاجی صاحب اپنی سخاوت کے باعث پورے علاقے میں مشہور تھے اور آج محلے کے غریب بڑی آ س لگائے بیٹھے تھے کہ آج تو ضرور کچھ اچھا کھانے کو ملے گا۔ شیدے نے اپنے آٹھ سال کے، آدھی پھٹی قمیض پہنے، بیٹے شمس القمر (پتہ نہیں یہ نام رکھنے کی کون سی وجہ تھی مگر شمس اور قمر دونوں ہی شیدے کے بیٹے کا یہ حال دیکھ کر شرماتے ضرور ہوں گے ) کو ٹانگ مارتے ہوئے کہا کر جا کرمسجد کے باہر کھڑا ہو جائے اور ختم کی کم از کم ایک پلیٹ بریانی تو ضرور لے کر آئے۔

Read more

کرپشن کا خاتمہ ٗ مگر کیسے؟

کسی بھی ملک و قوم کی تباہی میں کرپشن کا بنیادی کر دار ہو تا ہے۔ جب ذاتی مفادات ملک و قوم سے مقدم ہو جاتے تباہی یقینی ہوتی ہے۔ اسی لیے کرپشن کو ”ام الخبائث“ بھی کہا جا سکتا ہے۔ کرپشن ٗبد عنوانی پاکستان کا مسئلہ ہی نہیں ہے، بلکہ یہ بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ کیونکہ بے بہا برائیاں اس کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں۔ کرپشن اعلیٰ اقدار کی دشمن ہے، جو معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ کر اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ چاہے یہ کسی بھی صورت میں ہو، جس قوم میں جتنی زیادہ کرپشن ہو وہ قوم اتنی ہی جلدی بربادی کے گڑھے میں جاگرتی ہے۔

اگر کسی قوم کے رگ و پے میں کرپشن سرایت کرجائے تو وہ اپنی شناخت و ساخت اور مقام و مرتبے سے یوں ہاتھ دھو بیٹھتی ہے، جیسے کوئی بلند مقام کبھی اس قوم کو ملا ہی نہیں تھا۔ کرپشن وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ اُردو میں اس کے معنی بدعملی، بدعنوانی، بداخلاقی، بگاڑ اور بدکاری استعمال ہوتے ہیں، جب کہ عربی میں ”کرپشن“ کا لفظ الفساد، انحراف اور مفسد کے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے۔ کرپشن کا لفظ ہر زبان، ہر ملک اور ہر معاشرے میں گھناؤنے اور منفی کاموں کے لیے بولا جاتا ہے اور ناپسندیدگی کے ساتھ اس کا اظہار کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ کسی صورت بھی اچھا عمل نہیں ہے۔

Read more

ہمارے ہیروز متنازعہ کیوں ہیں؟

برسوں پہلے کی بات ہے میں کالج سے واپس آ رہا تھا گاڑی تقریبا خالی تھی۔ ایک آدمی گاڑی میں سوار ہوا اور میرے ساتھ آ کر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے خود ہی بڑے بے تکے انداز میں بات کی کہ قائداعظم بڑا خراب آدمی تھا۔ پھر ایک کرنسی نوٹ نکال کر مجھے دکھایا اور کہا یہ دیکھو ان کاغذوں کے لئے قائداعظم کی تصویر والے ان کاغذوں کے لئے نہ جانے کتنی برائیاں اور کتنے ہو

Read more

مرد ہر عمر میں عورت کا محتاج ہے، پھر یہ ظلم و جبر کیوں؟

مرد کو ساری زندگی عورت کی ہی ضرورت پڑتی ہے، چاہے وہ کس روپ میں بھی ہو۔ عورت کا ہر روپ اس کی لئے بے مثال اور بے لوث ہے۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ، مرد شاندار عمارت تو بنا سکتا ہے، لیکن اسے گھر ایک عورت ہی آکر بناتی ہے۔

جب ایک بچہ جنم لیتا ہے تو اس کو صرف اور صرف ماں کی ضرورت پڑتی ہے، (جو ایک عورت ہی ہے ) ۔ باپ بھلے کام کاج کے سلسلے میں کہیں دور چلا جائے تو بھی پرواہ نہیں، پر ماں سے چھوٹا بچہ ایک لمحہ بھی دور نہیں رہہ پاتا۔ اس نونہال بچے کو ساری دنیا میں صرف ایک ماں سے ہی زیادہ پیار ہوتا ہے، اور اگر وہ دو منٹ بھی کہیں گم ہوجائے، بچہ سسک سسک کے رونے لگتا ہے اور کسی اور قریبی رشتیدار کے پاس چپ نہیں ہوتا، جب تک اسے ماں کی گود نہ مل جائے۔

Read more

عظمت حضرت زہراؑ غیرمسلم دانشوروں کی نظر میں ”

سلیمان کتانی (Solomon Katani) کا نام تو آپ سب سے سنا ہوگا۔ یہ ایک مسیحی محقق ہیں۔ ان کی پیدائش امریکہ میں ہوئی اور دو سال کی عمر میں والدین سمیت لبنان آئے۔ بیس سال تک مختلف یونیورسٹیز اور مدارس میں تدریس سے منسلک رہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں حضرت محمدؐ پر 9 جلدکتابیں تحریر کیں اور ان کی صاحبزادی پر ایک مستقل کتاب لکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے علم کے وارثو ں میں سے حضرت علی ؑ سے لے کر امام موسیٰ کاظم ؑ تک ہر امام پر کتاب تحریرکی۔ موصوف نے ”فاطمة الزہرا، وتر فی غمد“ میں پیغمبر خاتم (ص) کی لخت جگر کی مختلف خصوصیات پر قلم فرسائی کی۔ ﴿ 1 ﴾

Read more

کشمیر سے محبت اور باکسنگ رنگ کا یونس خان

کشمیر پر بھارتی مظالم کا آغاز تقسیم ہند سے ہی شروع ہوگیا تھا۔ بھارت نے کشمیر میں ظلم کی ایسی داستانیں رقم کیں جن پر شاید انسانیت تو کیا ابلیس بھی شرما جائے۔ یوں تو دنیا کے منصف ہر فورم پر امن امن کی رٹ لگائے رکھتے ہیں لیکن کشمیر کی وادیوں میں بہتا خون نہ تو اقوام متحدہ کو نظر آتا ہے نہ ان سپر پاورز کو جو طالبان سے مذاکرات کے لئے بلکہ اپنی جان چھڑوانے کے لئے

Read more

ماس کمیونیکیشنز کے پانچ ادوار

ماس کمیونیکیشنز کے شعبہ کو دو بنیادی اکائیوں ”سوسائٹی“ اور ”میڈیا“ میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ سوسائٹی، میڈیا کے بارے میں مختلف تھیوریز (theories) کے تناظر میں ماس سوسائٹی پر میڈیا کے اثرات کا جائزہ لیتی ہے۔ اس میں عوام الناس اور میڈیا سکالرز میڈیا کے بارے میں پائی جانے والی قیاس آرائیوں، مفروضات، تحقیقات اور مشاہدات پر رائے زنی کرتے ہیں۔ جبکہ ماس کمیونیکیشنز کی دوسری اکائی میڈیا انڈسٹری کی تشکیل، اس کے پھیلاؤ اور عروج کے بارے

Read more

جنرل بپن راوت اور کابل پر دستک دیتے ہوئے طالبان

”اگر افغانستان میں بھارت کی دلچسپی ہے، اور یقیناً ہے تو وہ بات چیت (امن مذاکرات) سے الگ نہیں رہ سکتا۔ ہمں کسی طرح سے اس بات چیت میں شامل ہونا چاہیے۔ بھارت یہ جاننا چاہتا ہے کہ بات چیت میں کیا ہورہا ہے۔ اور جب تک آپ بات چیت کی میز پر نہیں ہوں گے، آپ نہیں جان سکتے کہ کیا ہورہا ہے۔ “ بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت 11 جنوری کو سالانہ نیوز کانفرنس میں یہ بات

Read more

صحافت کا روشن مستقبل: موبائل جرنلزم

گزشتہ روزوزیر اطلاعات فواد چودھری نے میڈیا کانفرنس میں ا پنے موقف کو دہراتے ہوئے بتایا کہ صحافیوں کو نئے دور ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ چلنا ہوگا بدقسمتی ای پی پی نیوز ایجنسی کے 80 فیصد صحافیوں کو اپنا ایمیل چیک کرنا نہیں آتا اگر کسی صحافی کو اپنا ای میل چیک کرنا نہیں آتا تو وہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی اس دوڑ میں بہت پیچھے ہے۔ وزیر اطلاعات اس سے قبل بھی الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا سے وابستہ خطرات کو

Read more

محمد عاقل اپنی دنیا کا بادشاہ کیسے بنا؟

وہ زمین پر رینگتی چیونٹیوں کو دیکھ کر برابر بول رہا تھا اور اسی دوران کبھی کبھی جذباتی ہوکر اُس کے معصومیت سے بھرے رخساروں پر آنسو ایسے بہہ جاتے جیسے کسی برساتی نالے سے پانی کی غصیلے لہریں بہتی ہوں۔ وہ بول رہا تھا ”میں خود اپنے بارے میں وثوق سے کوئی رائے قائم نہیں کرسکتا کیونکہ میری فطرت بالکل گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی رہتی ہے لیکن ایک بات ہے جس کی وجہ سے میں اللہ کا ہر

Read more

ہمت ہے تو پاس کر، نہیں تو برداشت کر

شہر کی کشادہ اور بڑی سٹرک پر اپنی کار کے شیشے بند کر کے اونچی آواز میں شیلا کی جوانی اور منی کی بدنامی والے گانوں میں کھوئے جا رہے ہوں اچانک آپ کی نظر آگے جانے والے رکشے پر پڑتی ہے جس پر لکھا ہے ”جلو مت، کالے ہو جاؤ گے۔“ اس جملے کی جلن کے احساس سے آپ نکل نہیں پاتے دوسرا جملہ آپ کا امتحان لے رہا ہوتا ہے، ”ہمت ہے تو پاس کر، نہیں تو برداشت

Read more

کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور مسئلہ کشمیر!

میں نے مسئلہکشمیر پر جس قدر بھی غور و فکر کیا، حقیقت کی جگہ حکایت، حقائق کی جگہ جذبات، خبر کے بجائے خواہش، تعبیر کے بجائے خواب اور سلجھاؤ کی جگہ الجھاؤ ہی دکھائی دیا۔ عالمی طاقتوں کو تو خیر شاید کشمیر کے نام سے ہی زیادہ آگاہی نہیں، مجھے تو خود پاکستان کے کردار اور مؤقف کی ٹھیک طریقے سے سمجھ نہ آ سکی۔ اس حوالے سے میں اپنی فہم ناقص اور فکری کوتاہی و تاریخی حقائق سے غفلت

Read more

برف باری کی رات میں اکیلی لڑکی

مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ میں برف باری میں گِھر جاؤں گا۔ اگرچہ بارش کی پیش گوئی تھی لیکن یہ جنوری کا اواخر تھا اور میں اس حقیقت کو فراموش کر بیٹھا تھا کہ مری میں سردی کے مہینوں میں اکثر بارش برف میں تبدیل ہو جایا کرتی ہے۔ رات کے نو بجے تھے ابھی میں تریٹ تک پہنچا تھا کہ گاڑی کی ونڈ سکرین کو برف کے اولین گالوں نے چوم لیا۔ آثار اچھے نہیں تھے لیکن

Read more

پاک و ہند

انڈیا کے سنجے منجریکر اور پاکستان کے رمیز راجا کے کمنٹری کرنے کا انداز مجھے ہمیشہ سے بے حد پسند رہا ہے۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالا تب سے پاکستانی ٹیم کے ہمراہ رمیز راجہ کو ہی دیکھتا چلاآرہا ہوں۔ ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی اگر کسی میچ میں اتفاقاَۤ کمنٹری نہ کرتا تو میچ پھیکا پھیکا سا لگتا تھا اور جس میچ میں دونوں ہوتے تھے تب تو مزہ دوبالا ہو جاتا تھا۔

اب جب کبھی رمیز راجا کو دیکھتا ہوں تو ایک بات سمجھ نہیں پاتا کہ آخر راز کیا ہے؟ وہ یہ کہ ہم بچے ہوا کرتے تھے تب رمیز راجہ کمنٹری بکس پر براجمان تھے، ہم جوان ہوئے اور اب بڑھاپے کی سیڑھی چڑھنے کی تیاری میں ہیں کیا خبر کہ کب کوئی سانپ نگل لے اور ہم نیچے چلے جائیں۔

Read more

اس سے پہلے کہ زخم ناسور بن جائیں

ہم پوری ڈھٹائی سے مصر ہیں کہ ہم نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھنا، ہم بار بار انہی راستوں کا انتخاب کیوں کرنے سے باز نہیں آ رہے جن پر چل کر ہم ذلت کی گہری کھائیوں میں پہلے بھی گر چکے ہیں، میں اسے کوئی نام دینے سے قاصر ہوں، بے حسی کہوں، جھوٹی اناؤں کی قید یا پھر مجرمانہ غفلت، بہرحال جو بھی ہے ٹھیک نہیں ہے۔

ارسطو نے کہا تھا ”ریاست خاندانوں اور دیہاتوں کا ایسا مجموعہ ہے جو خوشیوں بھری زندگی حاصل کرنے کے لئے قائم کی جاتی ہے“ محض ارسطو ہی نہیں متعدد علمائے سیاست و معاشرت کا بھی ایسا ہی خیال رہا ہے، خیر اب ریاست محض خاندانوں اور دیہاتوں کا مجموعہ تو نہیں رہی، اس کا دائرہ کار اس سے کہیں آگے پروان چڑھ چکا ہے مگر ”خوشیوں بھری زندگی“ کی فراہمی ریاست کا اولین اور انتہائی مقصد ہے اسے کسی طور جھٹلایا نہیں جا سکتا۔

Read more

سیاسی اتحاد اور عوام

رائج الوقت سیاسی نظام میں اعداد و شمار کو بڑی اہمیت حاصل ہے کہ جس کسی سیاسی جماعت کے پاس زیادہ نشستیں ہوں وہ ”بادشاہ“ اور جس کو کم نشستیں حاصل ہوں وہ اقتدار سے محروم ہو جاتی ہے!

پی ٹی آئی کو عام انتخابات میں چونکہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پی پی پی اور مسلم لیگ نون سے زیادہ نشستیں مل گئیں لہٰذا اس نے حکومت قائم کر لی اور اپنا کام شروع کر دیا مگر اس کی مخالف جماعتیں تنقید کر رہی ہیں کہ وہ امور مملکت چلانے میں مہارت نہ رکھنے کی بنا پر مزید مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ معیشت کو سنبھال نہیں پا رہی انتظامی معاملات میں بھی اس کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی جس کے نتیجے میں عوام میں بے چینی بڑھنے لگی ہے اور وہ پریشان ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا وہ ایک اتحاد کے ذریعے حکومت کو متحرک کرنا چاہتی ہیں اگر وہ پھر بھی صورت حال کو جوں کا توں رکھتی ہے تو وہ اسے ”ہلا جلا“ بھی سکتی ہیں۔

Read more