رسول کی بیٹی نمونہ عمل کیوں نہیں؟

ساڑھے 14 سو سال پہلے کی خواتین کیا آج کی خواتین کے لئے نمونہ عمل ہیں؟ سوال تو بنتا ہے اس دور میں جب یہ سب کچھ نا تھا، نہ تو زندگی میں کوئی ایسی چہل پہل تھی نہ ہی دنیا اتنی تیزی سے رواں دواں تھی۔ نہ ایسی چاشنی تھی نہ ایسی روشنی تھی۔ عورتوں کو زندہ درگور کیا جاتا ہے یہ تو خیر سب ہی جانتے ہیں لیکن یہ شاید کم لوگوں کے ذہن میں آتا ہے کہ جب بیٹیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا تب ایک پیامبر خدا نے بیٹی کے استقبال کے لئے کھڑے ہو ہو کر عوام کو یہ بتایا کہ بیٹی رحمت ہے، اور بیٹی بھی تو ملیکۃ العرب کی تھی، عرب کی سب سے بڑی بزنس وومن۔ امیر ترین ماں اور رحمۃ العالمین کی بیٹی کی زندگی بھی یقینا قابل رشک اور نمونہ عمل ہونی چاہیے، آخر اتنے بڑے خاندان میں پیدا ہونے والی اس خاتون کا ابھی اپنا ہی مقام ٹھہرا۔

Read more

ذاتی انانیت میں پیامِ اصلاح

اگر بات علم کی حد تک ہی کی جاے توہم سب من حیث القوم غیر معمولی عقل و دانش پر اپنے وجود کی عمارت کو تعمیر کرتے ہوے دِکھائی دیتے ہیں اور اپنی فانی و ناپا ئیدار شخصیت کے ساتھ نا انصافی کرتے ہوئے اپنے منہ سے نکلی ہر بات کو آ خری حد تک درست مانتے ہیں اور درستگی کا بھی وہ انتہائی درجہ اپنانے کی کوشش کرتے ہیں جس میں غلطی کرنے کی ذرا سی بھی گنجائش باقی نہ ہو۔ اِس مفلوک الحال فکری انداز کے پیچھے جو چیززیادہ شدت سے کارفرما ہوتی ہے میرے نزدیک اُسے۔ ”ذاتی انانیت“ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ یہ لفظ اپنے حجم کے اعتبارسے تو بالکل مختصر وجود رکھتا ہے البتہ یہ ایک لفظ پوری بشری معاشرت کے عروج و زوال پر گہرے اثرات مرتب کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

Read more

زیمبیا کا لوساکا ائیرپورٹ چین نے ضبط کر لیا

زیمبیا براعظم افریقہ کے جنوب میں واقع تقریباً پونے دو کروڑ افراد ر مشتمل ایک چھوٹاسا ملک ہے (جس کے پاس کوئی سمندری راستہ نہیں ہے ) ۔ جھیلوں، معدنیات اور جنگات کی دولت سے مالامال اس ملک نے 1964 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی، آزادی سے قبل اس کا نام شمالی رہوڈیشیا تھا۔ اس کی سرحدیں کانگو، تنزانیہ، موزمبیق، زمبابوے، بوٹسوانا، نمیبیا اور انگولا سے ملتی ہیں۔ بیشتر افریقی ممالک کے برعکس زیمبیا ایک پرامن ملک ہے اوریہاں پر خانہ جنگی کی کوئی صورت حال نہیں ہے۔ کانگو کے بعد زیمبیا کا افریقی ممالک میں تانبے کی پیداوار میں دوسرا نمبر ہے۔

Read more

یہ میری ماں کا خون ہے

جب سے یہ علم ہوا تھا کہ چاچو کی شادی ہے۔ ہم سب بہت خوش ہیں۔ بابا نے ہماری خوشی یہ کہہ کے دوبالا کر دی کہ ہم سب اس شادی میں بطور خاص شرکت کریں گے۔ بابا کے واٹس ایپ پہ چاچو کے ہاں ہوتی لائٹنگ دیکھ کے تو دل چاہتا ہے ابھی اُڑ کے وہاں پہنچ جاوں۔ ہمیشہ چھٹیوں میں ہی وہاں جا پاتے ہیں۔ چاچو سے اپنے لاڈ اٹھوائے بہت دن ہو گئے۔ اس دفعہ تو میں

Read more

ایک ملٹی نیشنل کا واقعہ: سیاسی مماثلت محض اتفاق ہو گی

اندر سے تو وہ خود کو مار ہی چکا تھا۔ شیخ عمر سمیت کسی کے بھی لئے یہ بہت مشکل تھا کہ وہ زندہ رہتے ہوئے اپنے ساتھی ملازمین کے حقوق پر ہائیر مینیجمنٹ کے دباؤ پر ڈاؤن سائزنگ (لوگوں کو بے روزگار کرنے ) یا تنخواہوں اور مراعات میں شدید کمی پر سمجھوتہ کر سکے۔ اس لئے شیخ عمر نے خود کو مار لیا تھا۔ یہ بہت ضروری تھا کیونکہ زندہ رہتے ہوئے وہ کبھی بھی اپنے سابقہ مالکوں

Read more

صحافی بنوں یا حاشیہ بردار؟

صحافت کیا ہے اور صحافی کا بنیادی کام کیا ہے؟ اس حوالے سے بہت سارے موضوعات پر مختلف عنوانات لکھے گئے ہیں۔ میں نے صحافت پڑھتے وقت یہ پڑھا ہے کہ صحافت معاشرے کی تیسری آنکھ اور جمہوریت کا چوتھا ستون ہے۔ صحافت نام ہے اطلاعات تک رسائی اور اطلاعات کو لوگوں تک پہنچانے کا اور اُن کے دل کی بات کو زبان پر لانے کا، صحافت نام ہے تبصرے کا، تجزیے کا نہیں۔ صحافت نہ تعریف کرنے کا نام

Read more

پنجاب کی خاموشی اور پشتون تحفظ موومنٹ

”جاگ میرے پنجاب کہ پاکستان چلا“ پنجاب کے ایک مشہور شاعر حبیب جالب کی مشہور نظم کا عنوان تھا جو نظم انہوں نے غالبا سقوط ڈھاکہ کے وقت کہی۔ سقوط ڈھاکہ جسے اس وقت بھی اتنا ہی پراسرار رکھا گیا جب یہ سانحہ ہونے کو تھا جتنا آج اسے پراسرار رکھا جارہا ہے ورنہ اس سانحہ سے سیکھنے کو تو بہت کچھ سیکھا جا سکتا تھا۔ محرکات کیا تھے؟ دوریوں کی وجوہات کیا تھیں؟ نفرتوں کے بیچ کیوں دیکھتے ہی دیکھتے قدآور

Read more

نواز لیگی پنجاب کو قتل کرنے پر تل گئے؟

ہمارے خیال میں مسلم لیگ نواز نے کوئی انوکھی سیاسی ”واردات“ مستقبل کی سیاست میں ہلچل مچانے کے لئے نہیں ڈالی ہے کہ جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبہ کے لئے آئینی ترمیمی بل جمع کرا دیا ہے۔ اور پنجاب کے حقیقی معنوں میں صوبوں (بہاولپور۔ جنوبی پنجاب۔ وسطی پنجاب) کی شکل میں تین ٹکڑے کرنے کے لئے آگے بڑھ گئی ہے۔ ان کی اس ادا کو پنجابی دوستوں کی طرف سوشل میڈیا میں ”پنجاب کے قتل“ اور ”پنجاب کو ٹوٹے“

Read more

آکٹوپس: ایک حیران کن جاندار

آکٹوپس بلاشبہ دنیا کے ذہین ترین اور سمارٹ غیرانسانی جانداروں میں سے ایک جان دار ہیں۔ جو کہ ریوکیوب کو حل کرنے سے لے کر فٹبال ورلڈکپ میں کامیاب پیشن گوئیاں کرنے تک، جیسے حیران کُن کام انجام دے چکے ہیں۔ یہ سمندری مولسکنز کے خاندان Cephlaopods سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس کے مزیدارکان میں کٹل فش اور سکوئڈ شامل ہیں۔ لیکن کیا آپ کو پتا ہے کہ ایک پچاس پونڈ کا آکٹوپس صرف دو انچ کے سوراخ میں سما

Read more

جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جھوٹی گواہی!

قتل کے ننانوے مجرم شک کا فائدہ لے کر بری ہوتے ہیں تو ہو جائیں لیکن کوئی ایک بھی بے گناہ پھانسی نہ چڑھے قانون کے اس اصول کافائدہ پورے ننانوے ملزم اس طرح اٹھاتے ہیں کہ پیسہ اور اثر و رسوخ استعمال کر کے کبھی ایف آئی آر کے مندرجات میں تضاد پیدا کروا دیتے ہیں تو کبھی پولیس کے طریقہ تفتیش میں ایسا سقم پیدا کروا دیتے ہیں کہ جس کی بنیاد پر پورا مقدمہ ہی دھڑام سے

Read more

سیاحت اور حنوط شدہ لاشیں

ابھی الجزیرہ نیوز بتا رہا ہے کہ مصر میں آثار قدیمہ کے ماہرین نے ایک مزید مقبرہ ( 323۔ 30 قبل مسیح) المنیا کے صحرا میں کھوج نکالا ہے جس میں 50 حنوط شدہ لاشیں (ممیز) دفن تھیں۔ یہ لاشیں متوسط گھرانوں کی لگتی ہیں جن میں 12 لاشیں بچوں کی ہیں۔ ان ممیز کو ایک تقریب میں رکھا گیا جن میں سے کچھ لاشیں لینن کی پٹیوں میں لپٹی ہوئی تھیں اور کچھ پتھر اور لکڑی کے تابوتوں میں

Read more

کراچی میں مامتا سمندر میں کیسے غرق ہوئی؟

” کوئی جگہ نہیں دے رہا تھا اب جگہ مل گئی میری انعم کو۔ “ کراچی کی شکیلہ نے اس نے اپنی بیٹی کو، پھول جیسی بیٹی کو سمندر میں پھینک دیا اور اب اس طرح کے عجیب و غریب بیان دے رہی ہے۔ وہ قاتلہ ہے، کسی اور کی نہیں اپنے جگر کے ٹکڑے کی، سزا کی مستوجب ہے جو قانون اسے دے گا۔ ہر جرم کے پیچھے سبب ہوتا ہے، محرک ہوتا ہے، بیٹی کو قتل کرنے کی

Read more

طالب علم اور کتاب

طالب علم اور کتاب میں گہرا رشتہ ہے۔ سائنس کے اس برق رفتار ترقی کے باوجود نیز انٹرنیٹ کے مقبولیت سے ٹکر لیتی ہوئی کتاب ہر لمحہ اپنی اہمیت کا گہرا احساس دلاتی جاتی ہے آج بھی کتابوں کے بغیر پڑھائی کا تصور بھی نہیں کرسکتے نصاب میں کتاب شامل نہیں ہوگا ایسا ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ بچپن سے ہی طالب علم کتابوں سے وابستہ ہوجاتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ آپ چاہتے ہیں کہ ایک بچہ

Read more

ہمارا دوغلا سماج اور منافقت کے مکروہ نقاب

 ہم اس معاشرہ کا حصہ ہیں جہاں لوگ مسلمانیت کا لبادہ اوڑے ہندوآنہ رسومات میں جکڑے انگریزوں کے طرز عمل پر زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمارے ہاں سارے گناہ کرنے کی اجازت ہے مگر ”چھپ کر“ زمانہ کے سامنے شرافت کا لباس پہنے رکھنے میں ہی بھلائی سمجھی جاتی ہے۔ یہ منافق معاشرہ بہت سارے مظالم کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور یہاں کے لوگ اندھے ’گُونگے ہونے کے ساتھ ساتھ بے حس ہو گئے ہیں یہ لوگ بہت

Read more

موسمی تبدیلی کے اثرات میں صحرا تھر کی بھٹکتی زندگی

تھرپارکر کا تصورآنے سے ہی ریت کی زندگی ذہن میں آ جاتی ہے، جس کے زندہ رہنے کے سارے ذریعے ریت کے ٹیلوں پے بارش کی رم جھم سے اپنا دم لیتے ہیں، اگر بارش نہیں ہوتی تو صحرا تھر کے سماجی، معاشی، ثقافتی اور ماحولیاتی رنگ روپ بے رنگ ہوکر بکھر جاتے ہیں۔ صحرا تھر کے روکھے پھیکے چہروں کو پڑھنے اور اُن پر لکھی آڈھی ترچھی لکیروں کے کرب کو سمجھنے کی کوشش کرنے کے لئے کوئی نہیں

Read more

امریکہ کا اعتراف شکست

امریکہ جو طالبان کو جڑ سے اکھاڑنے اور افغانستان پر دائمی قبضہ جمانے کے لئے آیاتھا اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ کہ وہ اپنی تمام تر مادی طاقت اوراتحادیوں کے باوجود خالی ہاتھ طالبان کے مقابلے میں عسکری میدان میں شکست کھا کراعتراف کرنے پر مجبور ہوگا اور مذاکرات کی بھیک مانگے گا۔ فوجی اورمادی طاقت پر گھمنڈ رکھنے والے امریکہ نے اگر طالبان کے ساتھ لڑائی میں اپنے ہزاروں فوجیوں کی لاشیں اور بڑے بڑے مالی

Read more

سیاسی ٹاک شوز کے نفسیاتی پھندے

میلے ٹھیلے، بحث مباحثے اور تفریح ازل سے انسانی معاشرے کا لازمی حصہ رہے ہیں۔ تجسس انسان کی بنیادی جبلت ہے۔ بچہ جیسے ہی رینگنے کے قابل ہوتا ہے اسے روکنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اسے ماحول میں آزاد چھوڑ دیا جائے تا کہ وہ خود اسے دریافت کرے۔ گھر کے کونوں کھدروں الماریوں وغیرہ کی تلاشی لی جاتی ہے۔ یہ انسانی جبلت تا عمر ختم نہیں ہوتی۔ تجسس اور بحث مباحثے ہمیشہ انسان کے

Read more

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہمیں تعریف کرنے کا موقع ہی نہیں دیا

کیا کریں، کسی کے کہنے پر ثاقب نثار کی تعریف نہیں کر سکتے۔ لیکن اگر کچھ سوالوں کے جواب مل جائیں تو کھڑے ہو کر سابق چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار کا استقبال کرنے پر بھی ہم تیار ہیں، اب یہ سوالات ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ ان کے منصب پر ہوتے ہوئے یہ سوالات جس نے بھی کیے، اس پر توہین عدالت کا کیس بنا کر سزائیں سنائی گئیں۔ میڈیا کبھی

Read more

مہاتما گاندھی کی جواہر لعل نہرو کو نصیحت

مہاتما گاندھی نے جواہر لعل نہرو کو نصیحت کی تھی کہ اگر تم فلاحی ریاست چاہتے ہو تو تین چیزیں کبھی مہنگی نہ ہونے دینا "سائیکل، آٹا اور سینما کا ٹکٹ” تینوں کی قیمتوں پر کنٹرول کرنا کیونکہ ان تینوں کا تعلق غریب آدمی ہے۔ غریب آدمی سائیکل پر سفر کرتاہے۔ کھانے کو دو وقت کی روٹی اسے میسر رہے اور لے دے کے اس کے پاس تفریح محض سینما گھر ہی ہوتا ہے۔ مہاتما گاندھی کا حکم تھا یا

Read more

شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور

پی ٹی ایم والوں کے احتجاج اور کچھ لبرلز کے ایک ہی اعتراض کہ اس ملک میں وردی والے کوئی بھی جرم کریں انہیں جائز ہے، ان کا کوئی بال بیکا نہیں کر سکتا وہ ہر قسم کے احتساب سے مستثنیٰ ہیں وہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں۔ کو باربار سننے کے بعد میں نے ٹھنڈے دماغ سے سوچنا شروع کیا، کیا واقعی یہ الزامات درست ہیں؟ کیا آرمی میں احتساب کا عمل نہیں، وہ اگر قتل کر دیں تو

Read more

سینٹرل چوک

موبائل کی رِنگ ٹون مسلسل بج رہی ہے۔ صبح صبح کون تنگ کر رہا ہے؟ قدموں کی رفتار تیز کرتے ہوئے، گھڑی کی سوئیوں پر نظر دوڑاتا ہوں تو پارہ چڑھنے لگتا ہے۔ نو بج کر سات منٹ ہی تو ہوئے ہیں۔ آدمی ہیں بھائی۔ مشین تھوڑی ہیں۔ ایسی بھی کیا غلامی! دفتر سے لیٹ ہونے کے نقصانات تو بہت سارے ہیں مثلاً ذلت، شرمندگی وغیرہ۔ فائدہ یہ ہے کہ سکول کی ویگنوں اور بسوں کا رش کم ہوجاتا ہے،

Read more

مسئلہ کشمیر ’کل جماعتی قومی مشاورت‘ ۔ سفارتکاری یا جہاد؟

ہر سال 5 فروری کا دن پاکستانی قوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پوری دنیا میں مناتی ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کو ملانے والے راستوں پر بھی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جاتی ہے اور مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ بھارتی انتظامیہ کے ظلم و ستم کے خلاف ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ اس حوالے سے 2 فروری کو اسلام آباد کے ایک نجی ہوٹل میں جمعیت علماء اسلام پاکستان کے زیر انتظام، کل جماعتی قومی مشاورت، اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ اس اجلاس میں پاکستان کی موجودہ حکمران جماعت پی ٹی آئی کے علاؤہ تقریباً دیگر تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے شرکت کی اور مشترکہ اعلامیہ بھی پیش کیا گیا

اس کانفرنس میں کیا ہوا، یہ سب عوام تک بھی پہنچنا چاہیے۔ کنٹرول لائن کے اس پار بیٹھے ہوئے ہمارے کشمیری بھائی کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان جو ہر سال 5 فروری کو اظہار یکجیتی کرتا ہے، اس بار بھی کچھ نیا کیا ہے یا نہیں۔ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان صاحب کا کردار بحیثیت کشمیر کمیٹی چیئرمین بھی ہم سب نے دیکھا ہے اور آج اس کانفرنس کے میزبان ہونے کی حیثیت سے بھی ہم سب کو معلوم ہونا چاہیے۔

Read more

کیا مسئلہ کشمیر حل ہو گا؟

یوں کشمیر نام سے واقفیت تو شاید ہوش سنبھلنے ہی ہو گئی تھی لیکن یہ علم نہ تھا کہ یہ کس مرض کی دوا ہے۔ اسی طرح میرے کچھ حالات پاکستان کہ نام کے ساتھ تھے، میں ہمیشہ اسی کشمکش میں پہنسا رہتا کہ بھلا یہ پاکستان کہاں پہ واقع ہے۔ جب کسی سے پوچھتا تو جواب ملتا بھئی تم پاکستان میں ہی تو رہتے ہوں، میں مزید پریشان ہو جاتا کہ میں تو پاک پتن میں رہتے ہوں، پاکستان کہاں سے آگیا۔

خیر جیسے جیسے شعور آتا گیا، تو کشمیر میں ہونے والے انسان سوز مظالم کے بارے میں پتہ چلتا گیا۔ اور کوئی ایسا دن نہ گزرتا جس میں کوئی ایسی خبر سننے کو نہیں ملتی تھی کہ آج کشمیر میں اتنے نوجوان زخمی یا شہید ہو گئے۔ آئے روز کشمیر میں ہونے والی ہڑتال اور حریت رہنماؤں کی گرفتاری کی خبر یں بھی زیر گردش رہتی۔ کشمییری ماؤں بہنوں کی عصمتوں سے کھلواڑ ہمیشہ یہ سوچنے پہ مجبور کرتا کہ ان ماؤں بہنوں کا صرف یہ ہی قصور ہے کہ وہ کشمیر میں پیدا ہوئیں۔

Read more

سانحہ ساہیوال اور شہری تحفظ مارچ

سانحہ ساہیوال حالات حاضرہ کا ایسا دل دہلا دینے والا واقعہ ہے جس نے ہر صاحب انسانیت کے دل پر کاری ضرب لگائی۔ معصوم بچوں کی اپنے والدین اور بہن کے خون میں دھلے کپڑوں کی تصاویر دیکھ کر ایک بہت بڑا جذبہ انسانیت دیکھنے کو ملا تو احساس ہوا یہ معاشرہ اس قدر بے حس نہیں جیسا میں تصور کرتا ہوں، مگر چند ہی دنوں میں اس واقعے پر چپ سادھ لی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے جب پشتون تحفظ موومنٹ کے ارمان لونی کو شہید کر دیا گیا تو ان تمام فیس بکی مظاہرین کی طرف سے بھی خاموشی دیکھنے کو ملی جنہوں نے جذبات میں آکر ساہیوال واقعے پر اپنی ڈی پی سیاہ کی۔ گو کہ ایک واقعہ چند دنوں پہلے ہوا مگر چونکہ اس کی لوکیشن پنجاب تھی بہت واویلا مچایا گیا، مگر اس خاموش ریاستی قتل پر تمام مظاہرین کے منہ پر تالے لگ گئے اور ایسا محسوس ہوا کہ شاید ان کے فیس بک اور ٹوئٹر کے تمام ایم بیز بھی ختم ہوگئے۔

Read more

جام کا لسبیلہ

زندگی ایک سفر ہے۔ جو چلتے چلتے ختم ہوجاتا ہے۔ میں بھی ایک ایسی ہی منزل کی طرف گامزن ہوں۔ جس کا نام ضلع لسبیلہ ہے۔ جہاں ستر سالوں سے جام خاندان کی حکومت ہے۔ میں اسی علاقہ کے ایک مشہور شہر حب چوکی میں داخل ہو کر اپنے سفر کا آغاز کرتا ہوں۔ جو کراچی سے 20 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ میں اسی امید سے بہت خوش تھا کہ شہر بہت ترقی پذیر ہو گا۔ شہر میں

Read more

پرامن ساحل اور پاکستان نیوی

ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی بہتر معاشی صورتحال سے منسلک ہے۔ معاشی امور کے ماہرین کے مطابق دنیا کی معیشت میں تجارت کا اہم ترین ذریعہ بحری راہداریاں ہیں۔ بحری تجارت پر توجہ دینے والے ممالک نے نمایاں ترقی حاصل کی۔ یہ ہی نہیں بلکہ بحری تجارت کے ذریعے یہ ممالک دوسرے براعظموں کے ساتھ اپنے مفادات کے اثر و رسوخ قائم کرنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔ اللہ نے پاکستان کو سمندر جیسی نعمت دی ہے۔ جس کی بدولت ہم اپنی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔

Read more

کیا آپ کو بھاوٗ تاوٗ کروانا آتا ہے

ہماری ایک ملنے والی آنٹی ہیں۔ ویسے تو اُن کی باغ و بہار شخصیت بہت سی خوبیوں سے آراستہ ہے مگر ایک خوبی ایسی ہے جس کے باعث وہ پورے خاندان میں ہردلعزیز ہیں۔ یہ آنٹی بھاوٗ تاوٗ کروانے میں ماہر ہیں۔ آپ ان کو اپنے ساتھ بازار لے جائیں اور انہیں ایک ٹاسک دے دیں کہ آپ نے ہزار روپے والی چیز سو روپے میں لانی ہے بس پھر آنٹی اپنا کام شروع کر دیں گی اب چاہے اُنہیں

Read more

محبت کیسے جیتی؟

”تم سگریٹ کیوں پی رہے ہو“ ”اس کی بات سنتے ہی میں آنکھیں مچکا کر میں بولا کہ اس سے لڑکیاں متوجہ ہوتی ہیں، “ ”لیکن مجھے تو تمہاری سگریٹ سے شدید الجھن ہو رہی ہے“ ”تو تم بتاؤ سگریٹ پینے کا کیا نقصان ہے، جو تمہیں ناگوار گزر رہی ہے۔ “ ” اس میں ناگواری کی بات ہو نہ ہو لیکن تم بیمار ہو جاؤ گے اور ایک دن موت نقینی ہو جائے گی“ ”موت تو ویسے بھی ایک

Read more

5فروری۔۔۔ یوم یکجہتی کشمیرکی تین دہائیوں کا سفر

پانچ فروری کا دن کشمیریوں سے یکجہتی کے اظہارکے طور پر تین دہائیوں سے اس عزم کے ساتھ منایا جا رہا ہے کہ کشمیریوں کی بھرپور اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھتے ہوئے عالمی برادری کو اس جانب مبذول کرنے میں کامیابی حاصل کر لی جائے گی کہ کشمیریوں کو ان کا حق حق ِ خودارادیت دینے کے لئے بھارت پر زبردست دباؤ ڈالا جائے۔ یہ دباؤ اس نوعیت کا ہو کہ بھارت کشمیرمیں استصواب رائے کروانے کے لئے

Read more

بلاول اور شیخ رشید کا رشتہ

کوئی مہینہ بھرپہلے کاواقعہ ہے، ن لیگ کے دو سینئر رہنما اسلام آباد میں میڈیا سے ہم کلام ہونے جارہے تھے۔ تیاریاں جاری تھیں اور آپس میں گفتگو بھی، کیمرہ اور مائیک کھلے تھے اور آف دی ریکارڈ کچھ گفتگو میڈیا کے دفاتر میں سنی جارہی تھی۔ مشاہد اللہ کا موقف تھا کہ بلاول کا مزاج سیاسی ہے، رانا ثناء کا اصرار تھا کہ اردومیں ڈھنگ سے بات کرنے کا سلیقہ بہرطور ضروری ہے، مشاہد اللہ بولے یہ مسئلہ تو

Read more

اے مظلومان سری نگر میں صرف ” دور” سے دیکھ پاتا ہوں

اے مظلومان سری نگر کاش کشمیرمیرے وطن عزیز کا حصہ ہوتا۔ تو راہ چلتے ہوئے تم بچوں سمیت یوں بے دردی سے نہ مارے جاتے۔ تمہیں گھروں یا بازاروں سے اٹھا کر لاپتہ نہ کیا جاتا۔ بوڑھے والدین عقوبت خانوں سے تشدد زدہ لاشے نہ وصول کرتے۔ ماورائےعدالت مار ڈالنے کے بعد تمہارا جرم نہ تلاش کیا جاتا۔ جوان بچےکی میت پر بوڑھی ماں یہ بین نہ کرتی کہ قتل تو کرتے ہو، خدارا بعد از قتل تذلیل نہ کرو۔

Read more

آپ کے ذاتی تنازعات۔ چند سوال

تنازعات کے اصل متبادل حل پر مضامین کی سیریز کی دوسری قسط میں ہم نے ایسے طریق کار کے بارے میں گفتگو کرنے کا وعدہ کیا تھا جس کا اطلاق آپ اپنے ان تنازعات پر کر سکیں جن کا آپ کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آج کی اس تیسری قسط میں ہم آپ سے چند سوالات کریں گے۔ بغیر کسی تکلف اور لحاظ کے۔ اور آپ کو بھی ان کا جواب بھی بغیر لگی لپٹی کے دینا ہوگا۔ یہ آپ کے لئے اچھی خبر بھی ہے اور بری بھی۔ پہلے اچھی خبر۔ وہ یہ ہے کہ یہ سب معاملہ صیغہ راز میں رہے گا۔ اگر آپ خود نہ چاہیں تو آپ کے علاوہ کسی اور کو پتہ نہیں چلے گا کہ آپ کا جواب کیا ہے۔ آپ کسی ندامت کے شکار نہیں ہوں گے۔ بری خبر یہ کہ صحیح جواب آپ کوخود اپنی نظروں میں قصور وار بھی ٹھہرا سکتا ہے۔

Read more

روحی بانو: میرا خدا اور زمانہ

میرا خدا کہتاہے، زمانے کو برا نہ کہو، اس لئے کہمیں ہی زمانہ ہوں۔ توکیا میں خدا کا گنہگارہوجا ؤں، یہ کہہ کر کہ میری ممدوح روحی بانو خود نہیں مری بلکہ اسے اس ظالم زمانے نے اپنی روایتی بے حسی اور ناقدری کے پے درپے کچکوکے دے دے کر مار دیا۔ آہستہ آہستہ اپنے چھوٹے چھوٹے ذاتی مفادات کے انجکشنوں میں سستی شہرت کا زہر بھر بھر کر اس کی رگوں میں اتارا گیا۔

وہی زمانہ جس نے گورنمنٹ کالج میں تعلیم حاصل کرتی ایک معصوم طالبہ کو کلاس روم سے اٹھا کر پاکستان ٹیلی ویژن کی راہداریوں تک پہنچایا اور پھر اس مصنوعی رنگین غباروں جیسی ناپائیدار مگر خوشنما دنیا میں یک و تنہا چھوڑ دیا۔ ایک ایسے وقت میں جب طلعت حسین، عابدعلی، فردوس جمال، عظمیٰ گیلانی اور خالدہ ریاست جیسے بڑے بڑے فنکاروں کا طوطی بول رہا تھا، لیکن ان کے سامنے جب سانولی سلونی، غلافی آنکھوں اور چھریرے بدن والی ایک نوخیر لڑکی ڈائیلاگ بولتی، سٹیپ اٹھاتی اپنی انوکھی اور البیلی اداکاری کرتی تو بہت سے بت دھڑام سے اوندھے منہ زمین پر آٰن گرتے۔

Read more

نوجوانوں کے لئے تفریح کے سکڑتے مواقع

بالاخر حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ کرلیا کہ اس سال بھی بسنت نہیں منائی جائے گی۔

لاہور تاریخی اہمیت کا شہر ہے جو اپنی علمی اور ادبی سرگرمیوں کے علاوہ تفریحی اعتبار سے بھی ہردل عزیز شہر رہا ہے۔ جو لوگ لاہور میں رہے ہیں خصوصا اندرون شہر میں انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ یہاں پر ہر موسم کے اپنے کھیل تھے۔ اگر بسنت کا موسم ہوتا تو سبھی لوگ گھروں کی چھتوں پر ہوتے۔ کرکٹ میچیز کھیلنے کے لئے کوئی غیر ملکی ٹیم پاکستان کا دورہ کرتی تو پورے لاہور کی گلیوں اور سڑکوں پر کرکٹ کھیلی جاتی اور جب تک ہاکی مرحوم نہیں ہوئی تھی تو گھر میں موجود جو ڈنڈا، سوٹا ہاتھ میں آتا اس سے ہاکی کھیلنے لگتے۔ لیکن پچھلے کچھ عرصے سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ دانستہ یا نا دانستہ طور پر لاہورشہر کے لوگوں سے اجتماعی تفریح کے مواقع چھینے جا رہے ہیں۔

Read more

خدا خیر کرے

موجودہ حکمرانوں کے برسراقتدار آتے ہی کچھ ایسے مسلمہ ریاستی امور کو متنازعہ بنایا گیا جس سے حکومت کو نہ صرف اپنا بیان واپس لینا پڑا بلکہ سبکی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ سب سے پہلے ایک با تدبیر وزیر نے سی پیک کے حوالے سے ایک شوشہ چھوڑا جو چند دن کے بعد حکومت نے وزیر کی ذاتی رائے کہ کر جان چھڑائی جس کے بعد پاکستان کے چیف صاحب کو چین کا دورہ کرنا پڑا۔ پھر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے حکومتی ذمہ داروں کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو اخبارات کی زینت بنی۔ جو بعد ازاں وقتی مصلحت کے باعث دب گئی یا دبا دی گئی۔ بعد ازاں اٹھارہویں آیئنی ترمیم کے حوالے سے ایک خوش گلو و خوش گفتار وزیر نے اپنی پہلے سے اونچی سیاسی دکان کو مزید اونچا کرنے کی کوشش کی۔ یہ وہی شیریں دہن وزیر ہیں جن کی خوش کلامی کی سماعت سے سینٹ آف پاکستان نے دو بار معذرت کی۔

Read more

چرسی ڈاکٹر

”ڈاکٹر صاحب! ڈاکٹر صاحب! میری تھوڑی سی۔ “

میں روز ہسپتال پیدل جاتا ہوں۔ قریب ہی ہے۔ بڑی سڑک پار کر کے، سامنے پرانی گلی میں دائیں طرف موڑ کر، چوک سے گزر کر ہسپتال پہنچ جاتا ہوں۔ کئی مہینوں سے میں اسی ایک راستے سے گزرتا ہوں تو گلی میں ایک بڑے بالوں، عجیب سا ڈراؤنی شکل، کمزور، گندے کپڑوں میں ملبوس ایک شخص، جس کی عمر کوئی تیس بتیس سال ہوگی اس کے ساتھ ایک کتا، سگریٹ کی کچھ ڈبیا اور سیمنٹ کی کچھ خالی بوریاں ہوتی جن کو شاید وہ رات کے وقت سونے کے لیے استعمال کرتا تھا۔

Read more

آخرکب تک؟

جنت نظیر وادئِ کشمیر ایک عظیم ریاست اپنی دلکشی کے لیے مقبول نظر ہے۔ اس کی سرحد پاکستان سے سات سو کلومیٹر تک ملی ہوئی ہے۔ پاکستان اور کشمیر کے درمیان یہ تعلق نہ صرف سرحدی بلکہ مذہبی اور معاشرتی لحاظ سے بھی ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔ پاکستان کے چاروں دریا کشمیر سے نکلتے ہیں۔ بڑے سے بڑے لکھاری یا ادیب بھی وادئِ کشمیر کو دنیا کی جنت لکھے بغیر نہیں رہ سکے۔ اور بلاشبہ کشمیر جنت کا استعارہ ہے۔ دل کو موہ دینے والے وادی کے دلکش اور روح افزاء مناظر دیکھ کے یوں لگتا ہے کہ جیسے اللّہ تعالٰی نے بہشت بریں کو اتار کے پہاڑ کے دامن میں رکھ دیا ہو۔ لیکن بدقسمتی سے یہ وادی اور اس کے باسی غلامی کی سانس لے رہے ہیں۔

Read more

شناخت سے محروم شہری اور قومی شناختی کارڈ

نوجوان بیٹاحصول روزگار کے لئے دن بھر خاک چھانتارہا بلاآخرتھک ہارکے دبے قدموں کے ساتھ گھرمیں داخل ہوئے توماں نے پوچھا بیٹاکوئی کام ملا؟ بیٹے نے مایوس کن لہجے میں جواب دیا نہیں ماں کمپنی کے مالکان نے قومی شناختی کارڈ مانگاہے۔ بغیرقومی شناختی کارڈکے کہیں پربھی نوکری ممکن نہیں۔ کراچی کے ہزاروں گھروں کی یہی رودادہے شہرقائدمیں نوجوان سستی کاہلی یا ہنرنا ہونے کی وجہ سے بیروزگار نہیں بلکہ قومی شناختی کارڈ ناہونے کی وجہ سے ناصرف بیروزگار ہیں بلکہ نوجوان تعلیم و تربیت سے خواتین و بزرگ شہری صحت کی سہولیات سے محروم ہیں۔

Read more

بیٹیوں کے حقوق بھی دیجئے

  ہم اپنے فرسودہ رسوم و رواج اور خیالات کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کی زندگیاں تباہ کرتے ہیں۔ حالانکہ ہماری ریاست کو اسلامی جمہوری ریاست کا نام دیا گیا ہے، مگر اسلام یہاں اب صرف اور صرف نمائش کےلئے رہ گیا ہے۔ بات اسلام کی ہو جائے تو سب ٹھیکیدار بنتے ہیں لیکن عمل کا وقت آجائے تو اسلام کے بجائے فرسودہ رواج کے تحت عورت کو عزت نہیں دی جاتی ہے۔ ہمارے یہ نام نہاد اسلامی ٹھیکیدار صرف

Read more

مسئلہ کشمیر پہ ”ہماری منافقت“

چوہدری رحمت علی نے جب مستقبل کی اسلامی ریاست کے نام کے لیے لفظ ”پاکستان“ کا انتخاب کیا تو بتایا کہ ”ک“ کشمیر کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ Uprising In Kashmir کے صفحہ سترہ پر لکھا ہے کہ چوہدری صاحب سے ایک مغربی صحافی نے سوال کیا کہ ”ک“ کی بنیاد پر آپ ریاست کا نام تجویز کر رہے ہیں، اگر کشمیر نے پاکستان میں شمولیت اختیار نہ کی تو کیا ہو گا۔ ؟ چوہدری صاحب نے مختصر جوا

Read more

(5th Feb) کشمیر، پاکستان کی شہ رگ

تحریر: ڈاکٹر محمد عماد بن رمضان amaad_1986@hotmail.com فارسی کے مشہور شاعر شیرازی نے کہا تھا کہ اگر کوئی مردہ پرندہ وادی کشمیر آجائے تو وہ بھی زندہ ہو جاتا ہے۔ اگر آج ً 5 فروری 2019 ء کو کوئی شاعر یا فلسفی کشمیر بارے کچھ لکھنا چاہے تو اس کے قلم سے سیاہی نہیں لہو ابل پڑے گا۔ ساٹھ سالہ ظلم و ستم کی یہ داستان آنے والے وقتوں میں جب کوئی تاریخ کا طالبعلم پڑھے گا تو وہ اس

Read more

کشمیر کے چند ممکنہ حل

پاک و ہند کی آزادی سے ہی کشمیر دونوں ممالک کے مابین فساد کی جڑ ثابت ہوا ہے۔ 71 سال بعد بھی مسئلہ کشمیر پاک و ہند تعلقات میں اہم مقام رکھتا ہے۔ اس تنازعہ کے بیج تقسیم کے وقت ہی بو دیے گئے تھے جب 565 ریاستوں کی اپنی مرضی سے پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنے کا حق تفویض کیا گیا۔ اس وقت کشمیر 77 % فیصد مسلمان آبادی کے ساتھ ہندو مہاراجہ کے ماتحت تھا۔ کشمیر

Read more

جنت نظیر وادی میں خون کی ہولی

قصہ کچھ یوں ہے کہ جنت نظیر وادی ریاست جموں و کشمیر ڈوگرہ راج کے سائے میں پروان چڑھتی ہے جہاں مہاراجہ رنجیت سنگھ ڈوگراوں کے خلاف جنگ کرکے جموں کو فتح کرتا ہے اور اس کی مدد ڈوگرہ راجہ گلاب سنگھ کرتا ہے جو شوں کو پیٹھ دکھ کر مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج میں ملازمت اختیار کرتا ہے اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کا ایجنٹ بن کر کئی ڈوگرہ جیالوں کو قتل کرتا ہے جس کے عوض راجہ گلاب

Read more

یوم یکجہتی کشمیر و عالمی برادری

یومِ یکجہتی کشمیر گذشتہ 28 برس سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جارہا ہے۔ دنیا بھر میں مقیم پاکستانی و کشمیریوں سمیت مسلمانانِ عالم یوم یکجہتی کشمیر مناتے اور اقوا م عالم کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ آزادی کے لیے 7 دہائیوں سے برسرِجدو جہد کشمیریوں کو آزادی کی منزل ملنی چاہیے وہیں قربانیوں کی اَن گنت داستانیں رقم کرنے والے مظلوم، محکموم و مجبور کشمیریوں کو پیغامِ یکجہتی بھی دیا جاتا ہے کہ اِن کی جد وجہد

Read more

کنچے

25 سال بعد اس کی ہاتھی دانت جیسی سفید، شیور لیٹ لمحہ بہ لمحہ اسے اس کے گاؤں کے قریب لیے جا رہی تھی، اس کی گاڑی اصل میں ماضی کے راستے پر دوڑنے والا سرپٹ گھوڑا تھا جو اب عین اس جگہ آ رکا تھا جہاں وہ روز شب تصور میں آ کر کھڑا ہوتا تھا اور ماضی کے کمرے کی کھڑکی سے اپنے بچپن کو اس کمرے میں گھومتا پھرتا دیکھتا تھا۔

کار کا دروازہ بند کرتے ہوئے گزرے وقت کا دروازہ اس کے لیے کھلتا چلا گیا۔ 25 سالوں میں کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا سوائے محلے کی کچی دیواروں کے پکے ہونے اور ان کی چھتوں پر دھوپ سینکتے ڈش انٹینوں کے۔

Read more

حکومت نے حج پر سبسڈی ختم کر کے کیا غلط کیا؟

حج تو فرض ہی بنیادی طور پر ان لوگوں پر ہے جن کی اپنی اسطاعت ہے بلکہ جن کے پاس اپنے اور اپنے خاندان کی کفالت کے بعد ضرورت سے زائد دولت ہے۔ ایک جید مذہبی عالم کہتے ہیں کہ ”حج ہر عاقل بالغ آزاد مسلمان پر فرض ہے جس کے پاس اپنی ضروریات سے زائد اتنا مال ہو کہ جس سے مکۃ المکرمہ تک آنے جانے کے اخراجات اور اہل و عیال اور اپنے زیر کفالت افراد کا خرچہ

Read more

پنجاب پولیس اور بدمعاشیہ

میرؔ کیا سادہ ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب​ / اُسی عطّار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں۔
ہم میں سے کسی نے بھی اپنے اللہ کو تو نہیں دیکھا لیکن اس رب ذوالجلال کی قدرت کو دیکھ کر اس کے ہونے کی شہادت دیتے ہیں گزشتہ سال وسط ستمبر میں خان صاحب نے ملک کی انتہائی اعلی، بددیانت، اور پڑھی لکھی بے حس ایلیٹ کلاس (بیوروکریسی) سے خطاب کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جن کا بال بال کرپشن میں جکڑا ہوا ہے۔ جو سیاستدانوں کو کرپشن کے گُر بتاتے ہیں۔

لیکن ”کارروائی“ ہمیشہ سیاستدانوں کے خلاف ہوتی ہے۔ خان صاحب کا ان بیوروکریٹس سے خطاب بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف تھا۔ جب احتساب کا شکنجہ ان کے گرد کسا جانے لگا تو ارباب شہزاد ایسے لوگوں کو بھی یاد آ گیا کہ ہماری یہ احتساب اور قانون سے بالاتر ایلیٹ کلاس ”عالمِ پریشانی“ میں ہے اور ٹھیک طرح سے ”پرفارم“ نہیں کر پا رہی میں حیران ہوں کہ گذشتہ کئی دھائیوں سے یہ لوگ قوم کا ناطقہ بند کیے ہوے تھے تب ارباب شہزاد جیسے لوگ کہاں تھے؟

Read more

اپنا تو منشور ہے جالب سارے جہاں سے پیار کرو

ہمیشہ منفرد نمایاں انداز کا لباس زیبِ تن کرنا طبیعت کا خاصہ رہا، اس کوشش کبھی میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور کبھی مولانا حالی کی نیچرل شاعری کے مصداق مرچ مصالحہ زیادہ ڈال دیتے ہیں جس سے ایک نیا ذائقہ جنم لیتا ہے۔

زندگی میں تجربات ازحد ضروری ہیں دراصل زندگی تجربات کے اتصال اور انضمام کا نام ہے بالکل اسی طرح جس طرح علم کیمیا میں آمیزے دوسرے آمیزوں میں ملاؤ تو نئے آمیزے جنم لیتے ہیں اور فارمولوں کی ترتیب جدید نئے فارمولوں کو جنم دیتی ہے بالکل اسی طرح زندگی تحصیل تجربات کا دوسرا نام ہے اور یہ ایک مسلسل عمل کا نام ہے انہی تجربات سے زندگی کا خمیر اٹھتا ہے اور زندگی ارتقاء و انقلاب کی طرف گامزن رہتی ہے ایک بڑا تجربہ دراصل چھوٹے چھوٹے بہت سے تجربات کا مجموعہ ہوتا ہے۔

Read more

کشمیر اک ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں!

حکومت کی جانب سے یوم یکجہتی کشمیر منانے کے لئے پروگرامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے ملکی تاریخ میں پہلی بار وزیراعظم کی قیادت میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس اور ایوان صدر کے سامنے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جائے گی مجوزہ پروگرام کے تحت وزیراعظم عمران خان ڈی چوک اسلام آباد میں کشمیر پر خطاب بھی کریں گے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی پانچ فروری کو آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے

Read more

صحرائے تھر کی زبان اور لوک ادب

انسان اپنے وجود سے لے کرلاکھوں سال ارتقائی سفر طے کرکے اپنی موجودہ منزل پے پہنچا ہے ارتقائی سفر کے دوران اندرونی بیرونی کیفیت کا طریقہ اظہار، فکر، رہن سہن اور جسمانی بناوٹ میں بیشمار تبدیلیاں آئی ہیں۔ انسان کی سفری کہانی میں کبھی تاریخ، کبھی روایات، کبھی سائنسی نقطہ نظرسے کچھ اصول بناکراس کی روشنی میں تحقیق ہوتی رہی ہے، نہ کبھی انسانی سفر رکا ہے، نہ کبھی تحقیق کا عمل بند ہواہے۔ انسانی کہانی پہ تحقیق کا سائنسی عمل علم بشریات جسم، آثارقدیمہ، زبان اور ثقافت جیسے چارمرکبات پہ مشتمل ہے۔

ضلع تھر پارکر میں یہ چاروں مرکبات اپنی انفرادیت اور کثرت سے ملتے ہیں۔ صحرائے تھر کا خطہ تہذیبی، ثقافتی اور تاریخی حوالے سے منفرد رہا ہے، تھر کی زبان اور رہن سہن سے لے کر رسم رواج تک زندگی منفرد اور سادی ہے۔ تپتی ہوئی ریت اورجلتی ہوئی دھوپ میں ویرانی کا روپ دکھائی دینے والا ریگستان برسات کی حسین رت میں قدرت کا عظیم شاھکار بن جاتا ہے۔ ریگستان جہاں قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، وہاں شاعری وموسیقی میں بھی درجا کمال کے روحانی سکون کا سبب ہے۔

Read more

جہد مسلسل سے ممکن ہے کامیابی

محترم قارئین! آج جس موضوع پر مجھ ناچیز نے چند الفاظ لکھنے کے لئے اپنی قلم کو جنبش دی ہے وہ ہے ”کامیابی کا حصول“ قارئین! کسی بھی محنت و لگن سے کام کرنے والے شخص کی یہ دلی خواہش اور سوچ ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کی منزلیں پا تا ہوا کامیابی کے بام عروج پر پہنچ جائے اور کامیاباں ہی سمیٹتا جائے۔ اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ محنت کیے بغیر کامیابی کے حصول کی تگ و دو میں مضطرب رہنا غیر دانشمندی کے ساتھ ساتھ احمقوں کی دنیا میں رہنے کے مترادف ہے۔

Read more

لاشوں کے تاجر

انیس جنوری دن بارہ بجے کے قریب ساہیوال میں سی ٹی ڈی نے کارروائی کر کے چار افراد کو مار ڈالا۔ اس بات کو کتنی بار لکھا جائے، کب تک پڑھا جائے۔ کب تک نوحہ لکھ جائے، کب تک مرثیہ پڑھا جائے۔ ہم اس پر چار دن ماتم کریں گے اور پھر اپنی ازلی بے حسی کی چادر اوڑھ کر تلاش معاش میں، کسی نئے مواد کی تلاش میں نکل پڑیں گے۔ اپنے اپنے گورکھ دھندوں میں مصروف ہو جائیں گے۔ سانحہ ساہیوال ہر شخص کی زبان پر ایک ہی داستان۔ گولیوں کی تڑ تڑ میں آوازوں کی بھنبھناہٹ میں ہر آنکھ اشکبار، ہر دل سوگوار۔

کارروائی کرنے والوں کا کہنا کہ دہشت گرد کو مارا گیا۔ گاڑی چلانے والا ذیشان دہشت گرد تھا۔ ہو گا وہ دہشت گرد مان لیتے ہیں کہ اس کے سوا چارہ جو کوئی نہیں۔ لیکن کیا تیرہ سالہ اریبہ اور اس کی ماں بھی دہشت گرد تھی۔ کیا اس کا باپ خلیل بھی دہشت گرد تھا۔ ہم مان لیتے ہیں کہ اگر یہ سب دہشت گرد ہی تھے۔ تو کیا بچ جانے والے تین معصوم بچے بھی دہشت گرد تھے۔ جن کی آنکھوں کے سامنے ان کے والدین اور بہن کو ماردیا گیا۔

Read more

پاکستانی سیاست پر انگریزی تبصرہ

آزاد کشمیر 1973 میں سردار عبدلقیوم خاں صاحب کے زیرِ اقتدار تھاجو اپنے اسلام کو حقیقی اسلام سمجھتے تھے۔ انہوں نے نفاذ اسلام کے نام پر نظامِ عدل کو مشرف با اسلام کرنے کے لئے قانون دان جج صاحبان کے ساتھ ان کی اعانت کے لئے مذہبی علماء ( سکالرز) کی قاضیوں کی تقرریاں بھی فرمائیں۔ اسی سال مئی میں آزاد کشمیر کے ایک نامور وکیل جناب چوہدری محمد منظور صاحب مرحوم کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقعہ ملا۔ پنجاب میں ان دنوں گرمی نے اُدھم مچا رکھا تھا۔

Read more

ساہیوال واقعہ : حکومتی کارکردگی

ماڈل ٹاؤن اور ساہیوال میں ہونے واقعات شاید پنجاب کی تاریخ میں ہونے والے سب سے زیادہ تکلیف دہ واقعات میں سے ہیں۔

ماڈل ٹاؤن اور ساہیوال کے واقعات میں سب سے پہلا فرق سیاسی مداخلت کا ہے۔ ماڈل ٹاؤن واقعہ کے پیچھے سیاسی محرکات تھے جب کہ ساہیوال واقعہ کے بارے میں سیاسی عہدیداران کو خبر تک نہ تھی۔ ماڈل ٹاؤن اور ساہیوال کے واقعات میں دوسرا بڑا فرق قانون نافظ کرنے والے اداروں کے مقاصد کا ہے۔ ماڈل ٹاؤن کے واقعہ میں پولیس کا قطعی مقصد کسی کو مارنا نہیں تھا جبکہ ساہیوال واقعہ میں سی ٹی ڈی کا مقصد صرف اپنے ٹارگٹ کا خاتمہ تھا۔

Read more

پارلیمنٹ! ایک ہنگامہ شب و روز بپا رہتا ہے

پارلیمنٹ وہ ادارہ ہے جہاں منتخب عوامی نمائندے ملک و قوم کو درپیش مسائل کے حل کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ لیکن آج تک چند ایک مواقع ہی ایسے ہوں گے جہاں پارلیمنٹ نے اپنا حقیقی کردار ادا کیا ہو۔ ارکانِ پارلیمنٹ کی تقسیم حکومتی ارکان اور حزبِ اختلاف کے ارکان پر مشتمل ہوتی ہے۔ ایک تیسرا گروہ بھی ہر پارلیمنٹ میں ہوتا ہے جو طاقتور کے ساتھ اپنے الحاق رکھنا چاہتا ہے۔ یہ گروہ ہر اہم موقع پر اپنی رائے دینے کی بجائے واک آوٹ کا سہارا لیتے ہوئے خاموش تماشائی بنا رہتا ہے۔

قومی انتخاب میں سیاسی انجینئرنگ نے پوری کردی جس کے سبب حکومتی ارکان اور حزب اختلاف کے ارکان کی تعداد میں معمولی فرق رکھا جاتا ہے۔ لیکن کسی بھی حزب اختلاف نے کبھی کسی حکومت کو آسانی سے حکومتی معاملات چلانے نہیں دیے ہیں۔ حزبِ اختلاف کے وجود کا جواز بھی اس وقت تک ہی رہتا ہے جب تک وہ اپنا مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے حکومت کو پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہونے پر مجبور نہ کردے۔ لیکن ہر حزبِ اختلاف نے حکومتی پالیسیوں پر تیکنیکی تنقید کرنے کی بجائے ہلڑ بازی اور شور شرابے کا راستہ اختیا ر کیا ہے اور جواب میں حکومتی ارکان نے بھی یہی وتیرہ رکھا ہے۔

Read more

کابل پھر سے دہشت گردوں کے حوالے کرنے کی تیاریاں!

داستان 18 برس پرانی ہے۔ ملا محمد عمر کابل کے حکمران تھے۔ ان کی سیاسی جماعت کا نام تھا ”طالبان“۔ افغانستان کے صوبہ قندھار میں اس کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبا اس جماعت کے کارکن تھے۔ قندھارمیں طالبان کا ظہور ایک ردعمل کے طور پر ہواتھا۔ سوویت یونین شکست کے بعداپنا بوریا بستر گول کرکے دریائے آمو کے اس پارجاچکا تھا۔ ان کا عالمی وجود کئی ٹکڑوں میں بٹ چکا تھا۔ جاتے وقت انھوں نے افغانستان ”مجاہدین“ کے حوالے کیا۔

Read more

سر دھنیں یا پیٹیں

کتے کی دم کے متعلق تو سنا تھا کہ وہ بارہ سال تک پائپ میں رہی لیکن جب پائپ نکالا گیا تو وہی ٹیڑھی کی ٹیڑھی، لیکن معلوم ہوا کی امریکیوں کی دموں کا اس سے بھی برا حال ہے۔ 17 برس افغانستان کے پائپ میں پھنسی رہنے کے باوجود بھی جب جب پائپ نکالا گیا ہے دمیں ٹیڑھی کی ٹیڑھی ہی نظر آئی ہیں۔

میں متعدد بار لکھ چکا ہوں یہ منافقین کا ٹولہ ہے اور بے غیرتی کی اس حد پر ہے جہاں آگے جانے کی ایک ملی میٹر کی بھی گنجائش نہیں رہتی۔ وقت پر سب کو باپ بنانے والا وقت نکل جانے پر خود سب کا باپ بننے میں لمحہ نہیں لگاتا۔ یہی وہ امریکا ہے جو پاکستان اور طالبان کے آگے سجدوں پر سجدے کیے جارہا تھا لیکن جب اپنی مرضی و منشا میں کامیاب نہیں ہو سکا تو کہتا ہے کہ میں نے ساری نمازیں بلا وضو ہی پڑھیں تھیں۔

Read more

ادیبوں اور شاعروں کے لطیفے

(شیطان غالب) رمضان کا مہینہ تھا، ”اسد اللہ غالب“ نوا ب حسین مرزا صاحب کے ہاں بیٹھے تھے۔ غالب نے پان منگوا کے کھایا۔ ایک فرشتہ سیرت، نہایت متقی وپرہیز گار صاحب اس وقت حاضر تھے۔ انہوں نے پوچھا، قبلہ آپ روزہ نہیں رکھتے؟ غالب بولے ”شیطان غالب ہے“۔ (سودائی) ایک مجلس میں غالب صاحب اور شیخ ابراہیم ذوق صاحب دونوں موجود تھے۔ مرزا غالب نے میر تقی میر کی تعریف کی، ابراہیم ذوق نے سودا کو میر تقی میر

Read more

گندے نالے میں تیرتی انسانیت

میں لفظوں کی تمہید کیسے باندھوں۔ کم سن عظمیٰ کا چہرہ میری نظروں سے ہٹ نہیں رہا۔ اس کی نیل و نیل آنکھ الجھے بکھرے بال پچکا ہوا چہرہ سوجن زدہ ہونٹ اس کی بے بسی چیخ چیخ کے بتا رہی ہے کہ اس کے ساتھ کیا جانے والا سلوک کس قدر اندوناک تھا۔ کس بے دردی سے اسے مارا گیا ہو گا۔ کتنے دن درد سے تڑپتی رہی ہو گی۔ کیسے سسکتی رہی ہو گی۔ جب رسی ڈال کر

Read more

مہنگائی: بھول گئے بیچارے لوگ، خوشی اور خرید

مہنگی صرف چیزیں نہیں ہوتیں، ان کے ساتھ سب کچھ مہنگا ہو جاتا ہے رشتے، ناتے، پیار اور ہنسی بھی۔ مہنگائی کی بیزاری سب کچھ ختم کر ڈالا۔ (ہندی فلم: سارے جہاں سے مہنگا) پی ٹی آئی حکومت نے منی بجٹ پیش کر دیا ہے۔ جس میں مہنگے موبائل فون، گاڑیوں پر ٹیکس لگا کر سرمایہ داروں کو انگلی کاٹ کر شہید ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس بجٹ میں گردشی قرضے سے نمٹنے کا کوئی ذکر نہیں،

Read more

ہمارے ملک میں عدم برداشت کیوں بڑھ رہی ہے؟

معاشرہ کئی اکائیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان اکائیوں کے باہم مربوط اور منظم رہنے سے ہی معاشرے کی بقا اور فروغ ممکن ہے۔ ان اکائیوں میں سب سے اہم اکائی اتحاد ہے اور اتحاد کے لیے سب سے اہم ضرورت ایک دوسرے کے نظریات کو برداشت کرنا ہے۔ یہ برداشت ہی قوموں کو مہذب بناتی ہے۔ جس معاشرے میں برداشت کی روایت دم توڑنے لگے وہاں فسادات پھوٹنا شروع ہو جاتے ہیں اور پھر یہ فسادات امن و امان

Read more

خاموش باسی

چلو یہ مان لیتے ہیں کہ ہم شہر خموشاں کے مغربی حصے کے خاموش باسی ہیں۔ ہم بھی ملک کے دوسرے شہریوں کی طرح ہر پانچ سال بعد اپنے حق رائے دہی استعمال کرکے اپنے لئے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ روزگار سفارش کے تحت من پسند سیاسی حامی اور کارکنوں کا حق ہے۔ اور ہمیں یہ حق نہیں کہ ہم کسی منتخب نمائندے سے یہ سوال کریں؟ کہ ہمیں روزگار کیوں نہیں مل

Read more

اینی میٹڈ فلم آپریشن 786

ہالی وڈ ہو یا انڈیا کی فلم انڈسٹری یہ سب دنیا کی بہترین انڈسٹری میں سے ایک ہیں۔ بھارت ”اینی میٹڈ فلم“ میں آگے نکل گیا، امریکا بھی اس انڈسٹری میں کافی ایوارڈ حاصل کر چکا ہے۔ کچھ سال پہلے تک پاکستان میں ”اینی میٹڈ فلم“ کے بارے میں کسی کو اتنا معلوم نہ تھا لیکن کچھ عرصے سے پاکستان اس انڈسٹری میں بھی کافی آگے نکل گیا۔ پاکستان نے ویسے تو کافی ”اینی میٹڈ فلم“ بنائی ہیں اور بہت

Read more

پاکستان کو لاحق خطرات اور تدارک

اگر دیکھا جائے تو پاکستان کو اس وقت بے پناہ خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ جس میں ہر شہری خواہ غریب ہو امیر ہو، شہری ہو دیہاتی ہو، خواتین ہو، مرد ہو اقلیت ہو یا اکثریت تمام خراب معیشت، عدم تحفظ، عدم برداشت، انتہا پسندی اور غیر یقینی کی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ اور ان تمام برائیوں کی جڑ وہ تصور ہے جس کی بنیاد پر اکہتر سالوں سے ملک کو چلایا جا رہا ہے۔ ہندوستان دشمنی، دو

Read more

واٹس ایپ میں دوستوں کے ڈیلیٹ پیغام پڑھنا ممکن

واٹس ایپ نے نومبر 2017 میں صارفین کا بڑا مطالبہ اس وقت پورا کردیا تھا جب کمپنی نے غلطی سے بھیجے جانے والے پیغامات کو ڈیلیٹ کرنے کا فیچر متعارف کرایا۔ اینڈرائیڈ، آئی فون اور ونڈوز فونز استعمال کرنے والے صارفین اس فیچر کے ذریعے کسی بھی پیغام کو ایک گھنٹے کے اندر ڈیلیٹ کرسکتے ہیں۔ تاہم اب واٹس ایپ میں ایک خامی سامنے آئی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ فیچر اتنا بھی کارآمد نہیں اور ڈیلیٹ کیے

Read more

پولیس اصلاحات ۔ مبادا دیر ہو جائے

محکمہ پولیس کی نوکری کرنا دراصل پیچ و خم سے بھرپور پگڈنڈی پر سفر کرنے کے مترادف ہے جس پر جابجا خار بکھرے پڑے ہیں جس پر شوقین راہرو گلاب چننے آتے ہیں مگر کانٹوں سے دامن بھر لیتے ہی اور کچھ زخم تو ایسے کاری لگتے ہیں کہ جسم کے ساتھ روح بھی گھائل ہو جاتی ہے۔ آ پ اس محکمے کی دگرگوں صورت حال کی ذرا سی کھوج میں جائیے آپ کو کئی مسند نشینوں کے قبیح چہرے

Read more

سانحہ ساہیوال، آؤ کہ آنسو بہانے چلیں

”میری پوتی کو لوگ کیا کہیں گے کہ یہ دہشت گرد کی بیٹی ہے؟ یہ کہ میں دہشت گرد کی ماں ہے؟ ، آپ میرے گھر آکردیکھو کیا حال ہے، آپ کھاتے ہیں، پیتے ہیں ہم صرف روتے ہیں، اب میں رات کو نہ سوتی ہوں نہ دن کو چین آتا ہے، مجھے ڈر لگتا ہے، رو رو کے اللہ سے ا لتجا کرتی ہوں، اللہ ان لوگوں کو ہدایت دے جنہوں نے میرے بیٹے کو مارا، کیا یہ قانون

Read more

پولیس آرڈر 2002 نافذ کرنے کا صحیح وقت

کیا سانحہ ساہیوال جیسے اندوہناک واقعے کے بعد بھی کوئی گنجائش باقی رہ گئی ہے؟ کیا اب بھی وقت نہیں آیا جو ہم انگریز دور کے فرسودہ اور عوام دشمن پولیس ایکٹ 1861 سے نجات حاصل کرے؟ 1857 میں جب انگریز نے برصغیر میں اپنا تسلط جمایا تو عوام کے دلوں میں اپنے اقتدار کی دھاک بٹھانے کے لئے پولیس ایکٹ جیسے قوانین متعارف کرائے۔ جس نے ریاستی ادارے کو بے عنان کیا جس کے نافذ العمل ہونے کے بعد

Read more

نصیبوں جلی

” نصیبوں جلی“ بچپن میں یہ لفظ پڑھا اورُ سنا مگر مطلب سمجھ میں نہ آسکا لڑکپن اور جوانی کی لا اُبالی طبیعت نے تو ہنس کر اس بہت بڑے لفظ کو چھوٹا سا سمجھ کر تمسخرانہ ہنسی میں اُڑا دیا مگر آہستہ آہستہ زندگی کے مشاہدات نے اس لفظ کے معانی سکھا دیے۔ بیٹی اپنی پیدائش سے پہلے پیٹ لکھائی کی رسم کی بھینٹ چڑھتی ہے، پیدائش کے بعد بھائیوں کے لئے قربانیاں دینا اُس کی زندگی کی ابتدا

Read more

شادی دو لوگوں کا مسئلہ ہے

”ارے یار تم میرے بھائی کی شادی پہ بلا شبہ کپڑے مت پہننا، مجھے کو ئی اعتراض نہیں ہو گا“ بینا کھلکھلا کے ہنس پڑیں ”او سچی۔ “ ”رابعہ شادی اصل میں دو لو گوں کا مسئلہ ہے جسے ہم نے سوسائٹی کا مسئلہ بنا دیا ہے۔ تین دن بعد ہاتھ میں طلاق کے پیپرز ہو تے ہیں۔ تو بھی ہم الزام دوسروں کو دیتے ہیں“ ”بینا جی یہی تو میں دیکھتی ہو ں کہ آپ کسی بھی شادی پہ

Read more

گھریلو ملازمہ پر تشدد

وطنِ عزیز سے آئے دن ایک سے ایک لرزہ خیر وارداتوں کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ پہلے تو یہ زیادہ تر مردوں کی بربریت کے حوالے سے ہوا کرتھیں اب اس خواتین بھی مقابلے پر حصہ ڈالنے لگی ہیں۔ عورت تو محبت کا استعارہ ہے۔ ممتا عورت کا اعزاز اور فخر ہے۔ ابھی ابھی ایک اتنی بھیانک خبر پڑھی ہے کہ سکتے میں ہوں۔ لاہور اقبال ٹاؤن میں ایک سولہ سالہ گھریلو ملازمہ جس کا نام عظمیٰ تھا، اس کو

Read more

کالے ہیں تو کیا ہوا؟

نوجوانی سے سنتے آئے کہ گورے رنگ پہ فخر کرنا اچھی بات نہیں اور اگر کوئی گورا نہ ہو تو اسے گندمی رنگت کے کھاتے میں گنِنا چاہیے تاکہ اُسے بُرا نہ لگے اور اگر آپ جو خود کو گورا سمجھ رہے ہیں خود کو اس سے مختلف بھی سمجھ سکیں۔ یہ کوئی پہلا تضاد نہیں جس کو ہم ساتھ لے کر چل رہے تھے یعنی دِل سے کچھ اور سمجھنا اور زبان سے کچھ اور ہی کہنا۔ کچھ کالے

Read more

صحافت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

صحافت کیا ہے؟ بس یہ عوام تک خبر پہنچانا، خبر کوئی بھی ہو، کسی کی بھی، کہیں کی بھی، کیونکہ خبر تو خبر ہے، اور جب کچھ نا بھی ہو رہا ہو تو یہ بھی ایک خبر ہی ہوتی ہے، آپ نے تو سن رکھا ہے کہ ہر خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے، جب ہم جیسے جوان خون صحافت کی پٹری پر چڑھتے ہیں تو ہی پتہ چلتا ہے کہ اس ٹریک پر کئی جنکشن اور اسٹیشن

Read more

گلگت بلتستان ہی پاکستان ہے

قوموں کی اجتماعی زندگی میں تاریخی غلطیوں کا بوجھ بڑھ جائے تو اک نہ اک دن سزا کا اعلان ہو ہی جاتا ہے، سزا بگڑنے کے لئے نہیں، سدھرنے کے لئے ہوتی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد گلگت بلتستان کے میں اک عجب افراتفری مچی ہے، نام نہاد قوم پرست اپنی ڈفلی بجا رہے ہیں تو ملک سے باہر مقیم مہرے اپنی ڈفلی بجا رہے ہیں۔ وفاق پرست جماعتیں اس حوالے سے ایک پیج پر آنے کی کوشش

Read more

لیڈر، میرٹ اور پرچی

لیڈر وہ شخص ہوتا ہے جو کسی بھی ادارے یا قوم کی ترقی کے لیے ہونا نہایت ہی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر ترقی کے سفر پر گامزن ہونا صرف اور صرف ایک خواب ہی ہے۔ بنیادی طور پر بہترین لیڈر کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہمت و حوصلے کا باعث بنے، انصاف پسند ہو اور مثبت سوچ رکھتا ہو۔ مگر ان سب سے بڑھ کر لازم ہے کہ ایک لیڈر میں کس حد تک میرٹ کا نظام

Read more

سوتیلی ماں کے جیسی ریاست؟

ریاست کا درجہ ماں کا ہوتا ہے۔ عام آدمی کی زندگی کی حفاظت کی ذمہ دار ریاست ہوتی ہے۔ تازہ ترین سانحہ نے یہ ظاہر کردیا ہے، اس ملک میں عام آدمی کتنا محفوظ ہے۔ مزید ضروری ہو گیا ہے، اگر آپ کوئی مرسیڈیز یا مہنگی گاڑی میں سفر کریں تو شاید محفوظ رہ سکیں گے۔ ورنہ تین چار لاکھ کی پرانی تھکی ہاری گاڑی کو دیکھ کے آپ کی اوقات بھی پتہ چل جائے گی۔ سرعام آپ کو چند

Read more

ایک کروڑ نوکریاں: ایک یتیم بیٹے کا ارمان

پھوپھی زاد بہن کی ناگہانی موت کی خبر شام کو ملی تھی، لیکن ابھی تدفین نہیں ہوئی تھی۔ رات بھر آنکھ نہیں لگی۔ صبح سویرے اٹھا اور روانہ ہوا۔ برف باری کے باعث سڑک بہت خراب تھی اور مجھے جلدی نماز جنازہ اور تدفین کے لئے پہنچنا تھا لیکن ڈرایئور بڑی احتیاط سے گاڑی چلا رہا تھا۔ مجھے اندازہ تھا کہ ہم بہن کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کر پائیں گے۔ جیسے ہی میں گاوں میں داخل ہوا تو

Read more

معاشرہ اور سیاستدان

میں اس معاشرے کا ایک اہم حصہ ہوں، اِس معاشرے کے ہر اچھے اور برے کے برابر کا شریک ہوں۔ اِس معاشرے میں جو ظلم، جبر، ڈاکہ زنی، ملاوٹ، طبقات کی تقسیم، لالچ، حرام خوری، فحاشی، جو کچھ بھی ہو رہا ہے میں بھی اس میں شامل ہوں۔ اس معاشرے میں امیر، غریب پر ظلم کر رہا ہے، طاقتور، کمزور پر، مالک، نوکر پر تو ڈاکٹر، مریضوں پر، ڈاکٹر تو انسانیت کے قصائی بن گے ہیں، یہاں کوئی گاڑی لے لے

Read more

سیاسی می ٹو

جس طرح می ٹو کو استعمال کرتے ہوئے اپنی جنسی ہراسانی کی کہانی سنانا ایک ٹرینڈ بن گیا ہے اسی طرح پاکستان کی سیاست میں بھی ایک می ٹو کا ہیش ٹیگ چل رہا ہے اور ہر سیاست دان یہ ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے کہ ماضی بعید یا ماضی قریب میں اس کے ساتھ بھی سیاسی ہراسانی ہو چکی ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے ساتھ مسلسل سیاسی ہراسانی ہو رہی ہے۔ جو

Read more

فوجی عدالتوں کی توسیع ناگزیر کیوں

15 دسمبر 2014 ہوا میں خنکی، جیسے دسمبر میں سردیوں کی شامیں ہوتی ہیں یہ بھی ایک ویسی ہی شام تھی۔ معمولات زندگی اپنی رفتار سے چل رہے تھے۔ آج چونکہ ایک دن کے وقفے کے بعد بچے اسکول میں اپنے دوستوں سے مل کر آئے تھے تو اب اگلے دن کی تیاری میں بھی مصروف تھے۔ ہوم ورک اور ٹیوشن سے فارغ ہو کر ٹی وی چینلز کے سامنے بیٹھے کارٹونز اور اپنی اپنی پسند کے چینلز دیکھے جا

Read more

گورنمنٹ کالج لاہور میں سائنس کانفرنس کا انعقاد

گورنمنٹ کالج کی یہ دیرینہ روایت رہی ہے کہ یہاں وقتاً فوقتاً مختلف ادبی و علمی سوسائٹیز کے زیرِ اہتمام پروگرام، اجلاس اور سیمینارز منعقد کرائے جاتے رہتے ہیں۔ ادبی ارتقاء کے اس عمل نے گورنمنٹ کالج کو شہر بھر کی تمام جامعات میں وہ مقام بخشا ہے کہ اس کی ملائم آغوش میں نامور علمی اور لٹریری افراد پیدا ہوئے۔ یہاں سے فارغ التحصیل طلباء ہماری روایت، ثقافت، معاشرت اور تہذیب کے امین بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ

Read more

چین میں انسانی حقوق کی ویب سائٹ کے بانی کو 5 سال قید کی سزا

چین نے ریاست کی رٹ کو چیلج کرنے کے الزام میں اپنے ملک کی نمایاں ہیومن رائٹس ویب سائٹ کے بانی کو پانچ سال قید کی سزا سنا دی۔ لی فے یو نے چین میں شہریوں کے حقوق کے حوالے سے ایک ویب سائٹ بنائی تھی جو احتجاج، شہریوں پر ظلم، حکومتی کرپشن اور دیگر حساس معاملات سمیت انسانی حقوق کے مسائل پر آواز اٹھاتی ہے، ان مسائل کو چین میں میڈیا کی پہنچ سے دور رکھا جاتا ہے۔ سائی

Read more

کوئی ملک پاکستان کے خلاف سازش نہیں کرتا

پاکستان میں بہت زیادہ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ پاکستان کے خلاف بہت سارے ممالک سازش کرتے ہیں اور پاکستان کو ختم کرنا چاہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ ساری باتیں سیاسی پنڈتوں کی طرف سے کی جاتی ہیں جنہیں عوام اپنے دماغوں میں ذہن نشیں کر لیتے ہیں۔ حکمران یہ ساری باتیں اور ڈر عوام میں صرف ووٹ لینے کے لیے پیدا کرتے ہیں کہ انہیں ووٹ دے کر منتخب کیا جائے اور ہم ان ممالک کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ ہمارے بھولے بھالے عوام ان کی باتیں سن کر انہیں بہادر سمجھنے لگتے ہیں اور اپنا محافظ جان کر اپنا قیمتی ووٹ دے دیتے ہیں اور پھر ہوتا یہ ہے کہ یہی حکمران اقتدار میں آکر انہی ممالک سے بھیک مانگتے ہیں اور اسی لیے آج حال یہ ہے کہ ہر پاکستانی پر تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار کا قرض ہے جو ماشا اللہ مسلم لیگ ن کی جانب سے پاکستانی عوام کو تحفہ ہے اب کیا یہ بھی یہودیوں کی سازش ہے؟

Read more

گلگت بلتستان میں صحت اصلاحات اور ڈاکٹروں کا رویہ

گلگت بلتستان مملکت پاکستان کا سب سے چھوٹا انتظامی یونٹ ہے جس میں استعداد کار، تجربات، اور بجٹ کی کمی کا مسئلہ گزشتہ صدی سے چلا آرہا ہے، اب سے چند برس قبل تک پورے گلگت بلتستان کا بجٹ ایک ارب بھی نہیں تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے قابل ذکر حد تک پہنچادیا گیا ہے اور ہر آنے والی حکومت اپنا حصہ ڈالتی چلی گئی۔ یوں یہ اب بجٹ اب 17 ارب کے آس پاس آگیا ہے لیکن ملک کے دیگر تمام علاقوں سے یہ بجٹ اب بھی بہت کم ہے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان کا اپنا بجٹ نہ ہونے کی وجہ سے سارا انحصار وفاقی حکومت پر ہوتا ہے جس کی وجہ سے گلگت بلتستان کو امدادی اقدامات کی ہمیشہ ضرورت رہی ہے۔

صحت کا شعبہ بلاواسطہ انسانی جانوں کے ساتھ منسلک ہے، جس میں ذرا سی دیر اور ذرا سی لاپرواہی بھی انسانی جان کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ گلگت بلتستان گزشتہ چند سالوں سے امراض قلب کی وجہ سے پورے ملک میں مشہور ہوگیا تھا، گلگت بلتستان میں امراض قلب کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، ایک اندازے کے مطابق سالانہ 15 ہزار امراض قلب کے مریضوں میں اضافہ ہورہا ہے، جبکہ گلگت بلتستان کے مریضوں کو امراض قلب کا علاج اور دیگر سہولیات کم و بیش ایک ہزار کلومیٹر دور میسر تھی جو کہ صاحب استطاعت افراد کے لئے بھی کافی بھاری اور مہنگاثابت ہوتا تھا ایسے میں غریب مریضوں کا پوچھے تو کون؟

Read more

نسلی اور صنفی تعصب کا شکار ہمارا معاشرہ

یہ دسمبرکی ایک ٹھٹھرتی شام تھی۔ ادھیڑعمرکی ایک سیاہ فام خاتون دن بھرکی جانکاہ مشقت کے بعدگھرجانے کے لیے بس سٹینڈپرکھڑی تھی۔ پندرہ بیس منٹ کے انتظارکے بعدبس آگئی اوروہ وہ ایک خالی نشست پربیٹھ کرعمیق سوچوں میں گم ہوگئی۔ بس چلتی رہی اورہرسٹاپ پرمسافربیٹھتے رہے۔ رش کی وجہ سے کچھ مسافراندرکھڑے بھی تھے۔ معاً ایک وجیہ و شکیل نوجوان نے خاتون کواس کے لیے نشست خالی کرنے کوکہا۔ خاتون نے خلاف روایت و خلاف توقع نشست خالی کرنے سے انکارکردیا۔

پھرکیاتھابس میں ایک ہنگامہ برپاہوگیا۔ سب گوری چمڑے والے اس خاتون پرپل پڑے اوربرابھلاکہنے لگے۔ مگرخاتون نے کمال ہمت، جواں مردی اوربہادری کامظاہرہ کرتے ہوئے نشست خالی کرنے سے انکارکردیا۔ ڈرائیوربس کومنزل مقصودکی طرف لے جانے کے بجائے سیدھاپولیس سٹیشن لے گیا۔ خاتون پرمقدمہ درج کیاگیا۔ اس پر بھاری جرمانہ کیاگیا اورجیل میں ڈال دیاگیا۔ یہ آہنی اعصاب اورعزم و ہمت کی پیکرسیاہ فام خاتون روزاپارکس تھی۔ شہرتھامنٹگمری اورواقعہ دسمبر 1953 کاہے اوراس کا یہ حرف انکارتاریخ کے چندعظیم اورٹرننگ پوائنٹ انکاروں میں شامل ہے۔

Read more

تعلیم کی تباہی اور اس کا حل

مرحوم محمد خان جونیجو (سابق وزیر اعظم) وہ انسان تھے جس نے سندھ کی تعلیم کی بربادی کی بنیاد رکھی۔ مرحوم کے دور میں ہر ایرے غیرے کو ماسٹر بنایا گیا، سلیکشن کا کرائٹیریا میٹرک پاس، (وہ بھی جعلی ڈگری) نہ این ٹی ایس کے ذریعے ٹیسٹ اور نا ہی انٹرویو کا جھنجھٹ، امیدوار شام کو اپنی بھیڑ بکریاں باڑہ میں بند کر کے آتا تھا کہ اس کا ابا جان آرڈر لیے کھڑا ہوتا تھا، بیٹا پریشان کہ میں

Read more

عورت کائنات کی حسین ترین مخلوق

عورت کائنات کی حسین ترین مخلوق۔ جس کے بنا کائنات کا حسن مانند ہی نہیں پڑتا بلکہ اس کے وجود کے بنا کائنات مکمل ہی نہیں ہوتی۔ اس کے بنا کائنات ادھوری رہ جاتی ہے۔ عورت کے کئی روپ۔ اور ہر روپ میں وہ مکمل۔ اس کا سب سے پیارا حسین روپ بیٹی ہے جو بہت پیاری ہوتی ہے لیکن اگر سمجھا جائے تو۔ گھر کی چہکار، چڑیوں کی طرح چار دن چہک کر بابل کے آنگن سے اڑجاتی ہے۔ بیٹی جسے رب کائنات نے رحمت کہا لیکن لوگوں نے اسے زحمت سمجھ لیا۔

اسے صرف عورت سمجھا گیا جو باپ کے لئے بوجھ بن گئی، بھائی کے لئے زحمت اور شوہر کے لئے ضرورت بن کے رہ گئی۔ زمانہ جاہلیت میں بیٹی کے پیدا ہونے پر اسے زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ یہ رسم آج بھی جاری ہے بس انداز بدل گئے۔ بیٹی کو بوجھ سمجھنے والوں نے اسے پنجروں میں بند کر دیا۔ اس کی رخصتی کے وقت کہا جانے والا یہ جملہ ”کہ اب اس گھر سے تمھارا جنازہ اٹھے“ اور پھر وہ بیٹی عورت ہونے کے جرم میں ایک جنم میں جانے کتنی بار مرتی ہے۔

Read more

اگر وہ دہشت گرد بھی ہو

ہم بحثیت مجموعی بہت بھلکڑ قوم ہیں۔ بہت جلدی ہم سانحات کو بھول جاتے ہیں۔ یا پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں حادثات، سانحات اس قدر تیزی سے وقوع پذید ہوتے ہیں کہ ہمیں پچھلے سانحے کو یاد کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ نقیب اللہ محسود کا کیس اس کی تازہ ترین مثال ہے جو کچھ عرصہ میڈیا کی زینت بنا رہا لیکن اس کے بعد تو کون میں کون والا حساب ہوا اور میڈیا پہ اب اس کیس کے حوالے سے اکا دکا خبر ہی سننے کو ملتی ہے۔

بھلا ہو سوشل میڈیا کا جس کے آنے کے بعد جہاں بہت سے منفی رجحانات نے جنم لیا ہے وہاں سوشل میڈیا کا مثبت پہلو یہ واضح ہوا کہ یہاں بنا کسی کی منت کیے آپ مدعا ڈال سکتے ہیں اور لمحوں میں آپ تک نتائج بھی پہنچنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یوں کہہ لیجیے کہ سوشل میڈیا کے حوالے سے اب معاملات کو پوشیدہ رکھنا کم و بیش ناممکن ہوگیا ہے۔ جب تک کہ کوئی نیا معاملہ سر نہ اُبھارے جس کی وجہ سے پرانا معاملہ سردخانے کی نذر ہو جائے۔

Read more

تبت : چائینز سنٹرل ایشیا – 1893 ٕ

جس علاقے کو آج تبت Tibet کہا جاتا ہے وہ قدیم چائنیز (پانچویں صدی) تاریخ میں Tubat کے نام سے رقم ہے۔ منگول اسے Tubet، یورپی (بارہویں صدی) Thibbet جبکہ عربی Tubbett کے ناموں سے پکارتے رہے۔ مختلف ادوار میں اسے Tebet، Thabat وغیرہ سے بھی جانے جاتے رہے۔ مقامی باسی اس علاقے کو بودھ یول Bodyul (بلتی/ تبتی زبان۔ یعنی بدھ مت کے پیروکاروں کی سرزمین Bodland) کے نام سے پکارتے ہیں۔ یورپی ممالک آسٹریا، فرانس اور سپین کو

Read more

فطرت کی آواز

رات کے کھانے کے بعد چہل قدمی کی غرض سے باہر سٹرک پر نکلا ہی تھا اتنے میں ایک وجیہ چہرے والے شخص سے میری ملاقات ہوئی۔ قیافے سے معلوم ہورہا تھا کہ یہ کوئی اہل معرفت شخص ہے۔ میں نے متواضعانہ انداز سے انہیں سلام کیا۔ انھوں نے محبت بھرے لہجے میں میرے سلام کا جواب دیا۔ ان کا اخلاق بھی مثالی تھا جس سے میں بہت متاثر ہوا۔ راہ چلتے چلتے حال احوال بھی دریافت کیے۔ اتنے میں نے موقع غنیمت جان کر وقت ضائع کیے بغیر پوچھا: حضور کیا دین سے متعلق کچھ سوالات کرسکتا ہوں۔

انھوں نے کہا ضرور لیکن ہمیشہ کے لیے یاد رکھنا کہ کسی بھی حوالے سے سوال کرنا اچھی بات ہے لیکن اگر یہی سوال انسان کے ذہن میں شبہے کی شکل اختیار کرجائے تو یہ انسان کو گمراہ کردیتا ہے۔ لہذا جب بھی دین سے متعلق کوئی سوال ذہن میں آجائے فورا کسی عالم دین یا کسی دانشور سے اس کا جواب طلب کر لیا کرو تو یہ آپ کے لیے تسکین قلب کا سامان قرار پائے گا اور آپ کے دینی معلومات میں اضافے کا بھی سبب بنے گا۔ ان کی یہ نصیحت مجھے بہت ہی پسند آئی۔

Read more

یہ ہوتا ہے یو ٹرن

لوگوں کا کیا ہے وہ تو یوں ہی ہماری موجودہ حکومت کو بدنام کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ دیکھو جی اپنی بات سے پھر گئے۔ دیکھو ”یو ٹرن“ لے لیا۔ ہر جگہ سے یو ٹرن کا نشان ہٹا لیا جائے وزیر اعظم کی تصویر لگادی جائے وغیرہ وغیرہ۔ یہاں تو ساری دنیا ہی ”یوٹرن“ ہے۔

پرسوں ہی کی بات ہے کہ بڑا شور تھا کہ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان نہ صرف مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں بلکہ فریقین کے درمیان ایک معاہدہ بھی طے پاگیا ہے جس کے تحت طالبان اس بات پر راضی ہوگئے ہیں کہ جب امریکا افغانستان سے اپنا مال و اسباب لے کر جارہا ہوگا تو ”جان کی امان پاؤں“ کے تحت کوئی اف تک نہ کریگا اور وہ نہایت سکون اور اطمنان کے ساتھ تمام مال و اسباب لے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو جائے گا۔ ابھی پاکستان سمیت کئی ممالک اور فریقین کے شادیانوں کی گونج بھی نہیں تھمی تھی کہ ”تڑک کرکے“ ساری کی ساری امیدیں ٹوٹ کر رہ گئیں۔

Read more

ہنسنا منع ہے۔ صرف مسکرائیے

اس دنیا میں انواع و اقسام کے مرد و خواتین پائے جاتے ہیں آئیے ان میں سے چند کا یہاں تذکرہ کرتے ہیں۔

بنیادی طور پر مرد تین طرح کے ہوتے ہیں اور یہی تین قسمیں گھوم پھر کر ساری دنیا میں ملیں گی۔ اس میں پہلی قسم کے پاس دماغ بیش بہا مقدار میں پایا جاتا ہے یقینا جب عقل بانٹی جا رہی ہوگی تو یہ قطار میں سب سے آگے ہوں گے۔ شاید اسی لیے یہ ہر معاملے میں اپنی عقل استعمال کیے بغیر رہ نہیں سکتے کیونکہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان سے زیادہ کوئی عقل مند اس دنیا میں ہے ہی نہیں اور اسی وجہ سے یہ دوسروں سے مشورہ لینا انتہائی ناپسند کرتے ہیں۔

Read more

نوید صبح

ساجد! شہر ڈو ونج، مگر شرط ہے ایہا سینہ جے میڈی جان! زمانے دا صاف ہے ہمارے وسیب، ہماری دھرتی اور ہمارے خطے کے عالمگیر شاعر فرید ساجد کا یہ شعر عکاس ہے ان جذبات کا، عکاس ہے اس کا خوف جو ہم سب کو لاحق ہے، یہ خوف محض واہمہ نہیں یقین ہے۔ اس خوف سے لاپروائی خود کو خطرات سے دو چار کرنے کے مترادف ہے۔ ”مائیں“، اس خوف سے اپنے جگر گوشے شہر نہیں بھیجتیں کہ ان

Read more

دیسی ریاست مدینہ بھی چار قتل کھا گئی

ہمارا نظام اتنا طاقتوراور ہوشیار ہے یہ ساری قوم کی آنکھوں میں دھول جھونک سکتا ہے۔ یہ ساری قوم کو الو بنا سکتا ہے۔ یہ حقائق کو جس طرح چاہیے جب چاہے توڑ مروڑ دے اس کی صلاحیت ہے۔ اوپر سے ریاست مدینہ کی ملمع کاری کے بعد بھی اس کا عملی چہرہ ایسا ہی خوفناک ہے۔ ہو بھی کیوں نا؟ ملع سازی سے جبلت یا بنیادی کیمسٹری تو تبدیل نہیں ہوتی نا ہاں البتہ نمائشی پن آجاتا ہے ذرا۔ وہ بھی دھل جانے تک۔

ویسے اس جدیدریاست مدینہ نے بھی کون سی کمال کیا اور نئی روایات کی بنیاد ڈال دی؟ پہلے بھی سیاسی ایما پہ پولیس افسر تبدیل ہوجاتے تھے اب بات آئی جی تک پہنچ چکی ہے۔ وہ تو ثاقب نثار کا بھلا ہو کہ انہوں نے معاملے کی قلعی کھولی اور حقائق عوام تک آئے ورنہ اس ریاست کے گورکن کیا کیا دفن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ہماری عقل اس کا احاطہ بھی نہ کر سکے۔

Read more

انصاف ناپید کیوں؟

گزشتہ شب ایک دوست سے ملاقات ہوئی کافی دنوں بعد ملاقات کے سبب اچھا خاصہ ٹائم ساتھ گزرا۔ بہت سی باتیں ہوئیں وہیں ایک بات انصاف کے حوالے سے چل نکلی۔ دوست نے اپنے ایک ماموں زاد کی بات سنائی اور ٹھنڈی آہ بھری اور افسردہ ہو گئے۔ کہنے لگے کہ میرے کزن جو امریکہ میں مقیم ہیں ایک معاملے میں پھنس گئے۔ جس میں قصور بھی ان کا نہ تھا اور فریقِ مخالف نے کیس بھی انہی پر کر دیا۔ چونکہ فریق ثانی اثروسوخ والی ایک خاتون تھیں جس کے سبب وہاں کی پولیس بے بس تھی۔

معاملہ ایکسیڈنٹ کا تھا۔ جس جگہ معاملہ پیش آیا وہاں کوئی کیمرہ نصب نہیں تھا۔ جس کے باعث وہ اپنی طاقت کا زور دکھا کر الٹا ان پر رعب ڈال رہی تھیں۔ دوست کا کہنا تھا کہ ممانی نے درخواست وہاں کی ہائی کورٹ کو دی، عدلیہ نے اپنا فرض پورا بھی کیا۔ صرف گیارہ دنوں میں کیس کی تحقیقات کر نے کے بعد مجرم کو سزا کے ساتھ ساتھ بھاری جرمانہ بھی سنا دیا۔ یہ ساری بات سن کر یک لخت میں کانپ گیا کہ ہمارے اس ملک کا نظامِ عدل اتنا کمزور کیوں ہے۔

Read more

سانحہ ساہیوال: پولیس دہشت گردی

پولیس دہشت گردی پاکستانی نام نہاد مُہذب معاشرے میں نئی بات نہیں ہے۔ محکمہ پولیس میں اب تک ایسے افراد ہیں جن کے گھناؤنے اعمال کے سبب پولیس سے وابستہ اچھے سپاہیوں و افسران کی قربانیاں اورنیک کارنامے بھی بدنامی کی گہری سیاہ دھند میں چھپ جاتے ہیں۔ کراچی میں چوہدری اسلم، ذیشان کاظمی، بہادر علی، سرور کمانڈو اور راؤ انواروغیرہ کے ہاتھوں 1992 ء کے ریاستی آپریشن میں ایم کیو ایم کے ہزاروں کارکنان و دیگر کا ماورائے عدالت قَتال اور سینکڑوں افراد کو لاپتہ کر دینا پاکستانی تاریخ میں پولیس دہشت گردی کی سیاہ ترین مثال ہے۔

میر مرتضی بھٹو اور نقیب اللہ محسود ماورائے عدالت قتل کیس بھی پولیس افسر راؤ انوار و چند دیگر پولیس والوں کے سیاہ کارنامے ہیں۔ اسی طرح بلوچستان، پنجاب اورخیبر پختونخواہ میں بھی پولیس کے چند افرادکے ماورائے قانون قَتال و دیگر مظالم کی داستانیں میڈیاپر دیکھ اور پڑھ کریہ اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا کہ انسان کو دو پاؤں والا جانور اسی لئے کہا جاتا ہے کہ طاقت کے زُعم میں اپنے مفادات حاصل کرنے کی ہوس اسے انسان سے حیوان اور حیوان سے شیطان بنا دیتی ہے۔ سانحہ ساہیوال میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے اہلکاروں نے جس سفاکی سے خلیل، اس کی زوجہ نبیلہ، تیرہ سالہ بیٹی اریبہ اور ڈرائیور ذیشان کو پولیس گردی کا نشانہ بنا کر شہید کیا اُس پر ہر درد مند دل انسان افسردہ اور غصے کی کیفیت میں مبتلا ہے۔

Read more

بھیڑوں کا لشکر اور چھوٹی سی دیاسلائی

نپولین نے کہا تھا کہ اگر سو بھیڑوں کی فوج کا سربراہ شیر کومقررکردیاجائے تووہ بھیڑیں شیروں کی طرح لڑیں گی اوراگر سو شیروں کا سربراہ بھیڑ کو مقررکردیاجائے تو وہ شیر بھیڑوں کی طرح جنگ کریں گے۔ ہوسکتاہے کہ نپولین کو خبر نہ ہوکہ وہ کسی ایک خاص ملک یا شہر یا ریاست کے حوالے سے یہ بات کررہے ہیں لیکن لگتایہی ہے کہ شاید مرحوم مغفور پاکستان کی بابت اتنی بڑی بات کہہ گئے کہ قیادت ہی کسی

Read more

رام تیری گنگا میلی ہو گئی

15 جنوری کو لاکھوں ہندو زائرین نے پریاگ راج ( الہ آباد ) کے پاوِیتر (پاک) گنگا ندی میں مقدس غسل سے اپنے پاپ کو دھویا اور ایک اچھے انسان بننے کی بھگوان سے دعا مانگی۔ الہ آباد ہندوستان کا ایک قدیم شہر ہے جو گنگا اور جمنا کے سنگم پر آباد ہے۔ تاریخی مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ’الہ آباد‘ شہر کا نام 1583 میں مغل شہنشاہ اکبر نے رکھا تھا۔ فارسی میں الہ آباد کے معنی ’خدا

Read more

ذکر چترال میں ریستوران کی مالک خاتون کا

زندگی میں کچھ نیا کرنے کے لیے صلاحیت اور محنت کا عمل دخل یقیناً ہوتا ہے مگر مردوں کے معاشرے میں ایک خاتون کے لیے کچھ منفرد کرنا، جو مردوں کے لیے چیلنج کی مانند ہو، کے لیے قابلیت اور جستجو کے علاوہ بے پناہ ہمت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ شاہدہ پروین ان گنی چنی باہمت اور با صلاحیت خواتین میں سے ایک ہے جو چترال جیسے پسماندہ اور رجعت پسند معاشرے میں ریستوران کھولنے جیسے انٹرپرینرشپ کام کا کامیابی سے آغاز کر چکی ہے۔

اپنی ماسٹرز مکمل کرنے کے بعد دوسرے نوجوان لڑکیوں کی طرح ٹیچنگ کے شعبے میں، جسے خواتین کے لیے سب سے موزوں جانا جاتا ہے، ملازمت حاصل کرنے کے لیے ریس میں لگنے کی بجائے شاہدہ نے کچھ مفرد کرنے کا سوچا۔ ایسے میں روایتی چترالی کھانوں پر مشتمل ریستوران قائم کرنے کا آئیڈیا اسے سب سے زیادہ موزوں لگا۔ شاہدہ کے بقول اس کی سب سے بڑی انسپیریشن اس کی ماں ہے جنھوں نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر سکول میں کنٹین چلا کر اپنے تمام بچوں کو یونیورسٹی تک پڑھایا جو کہ ایک پسماندہ اور روایتی علاقے میں بذات خود ایک بہت بڑی ایچومنٹ ہے۔

Read more

راولپنڈی میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی صورت حال

پچھلی حکومتوں میں ایسے منصوبے اور وارداتوں کو کاغذوں میں متعارف کروایا گیا کہ نظام میں بہتری خاک آنی تھی، مرض بڑھتا گیا، جوں جوں دوا کی۔ ماڈل ٹاون سانحہ سے لے کر سانحہ ساہیوال تک کی بھیانک کارروائی کے بعد اس بات کا یقین پختہ ہو چلا ہے کہ نظام صرف نعروں میں بدلتا ہے، عملی طور پر نصاب وہی چل رہاہے جو کہ پچھلے چھوڑ کر جاتے ہیں۔ تبدیلی کے پرچار میں بھی ساہیوال میں وہی ہوا ہے

Read more