پاک بھارت کشیدگی: کون جیتا کون ہارا؟

جنگیں دراصل دوصورتوں میں لڑی جاتی ہیں۔ پہلی صورت میں لڑنے والی جنگوں کو ہم ناگزیر صورتحال سے جنم لینے والی جنگیں کہہ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پرحالات اضطراری بن جاتے ہیں، دشمن حملہ آور ہو جاتا ہے یوں دشمن کے اقدام سے نمٹنے کی خاطر ایک ملک کو چاروناچار جنگ کی آگ میں کودنا پڑتا ہے۔ جبکہ دوسری صورت میں لڑنے والی جنگوں کا سبب ناگزیر حالات نہیں ہوتے بلکہ اس کے پیچھے مطلق رعونت اور عیاشی کارفرما

Read more

مگر یہ رائے مری ذات تک رہی محدود

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان غیرریاستی عناصر کو ملک اور خطے کے امن کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دے گا اور یہ کہ وہ شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی حکومت کسی ملیشیا یا کسی جنگجو تنظیم کو ہتھیاروں کے استعمال اور ان کے ذریعے دہشتگردی کے پھیلاؤ کی اجازت نہیں دے گی۔ اگر کوئی گروپ ایسا کرتا ہے تو

Read more

پاکستان مسلم لیگ نون

30 دسمبر 1906 کو نواب سلیم الملک کے گھر مسلم لیگ کے قیام کی تجویز پیش کی گئی۔ سر آغا خان مسلم لیگ کے پہلے صدر منتخب ہوئے اور بعد میں قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں مملکت خداداد وجود میں آئی۔ قیام پاکستان کے بعد ہر آمر نے اپنی سیاسی بقا کے لئے مسلم لیگ کو توڑنا فرض عین سمجھا اور رفتہ رفتہ اس کے کئی گروپس بنا ڈالے گئے۔ لیکن ماضی قریب سے میاں

Read more

کیا جنگ ابھینندن کی ہار اور حسن صدیقی کی جیت ہے

جنگ کسی ابھی نندن کی ہار اورکسی حسن صدیقی کی جیت کا نام نہیں بلکہ جنگ انسانیت کی ہار کا دوسرا کا نام ہے کیونکہ جہاں جنگ جیتتی ہے وہاں انسانیت ہار جاتی ہے۔ جنگ میں ایک طرف جہاں سینوں پر جرات، بہادری اور شجاعت کے تمغے سجھائے جاتے ہیں وہاں دوسری طرف انسانیت لہو لہو ہوتی ہے اورانسانیت کے ناحق خون کی صفِ ماتم بچھتی ہے۔ فرشتوں نے تخلیق انسان پر اسی لئے اعتراض کیا تھا کہ یہ ناحق ایک دوسرے کے خون کو مباح ٹھہرائے گا تو خالق انسان نے ان کے اس خدشہ کو یہ کہتے رد کر دیا تھا کہ وہ انسان کی ایسی خصوصیات کے بارے میں جانتا ہے جو فرشتے نہیں جانتے چنانچہ خالق انسان کے مدنظر وہ انسانیت تھی جو انبیاء اور اوتاروں کی شکل میں دنیا میں آئی جس نے انسانیت کے ساتھ سچی ہمدری اور خیر خواہی کا درس دیا۔ انسانوں میں سے ہی ایسے انسان پیدا ہوئے جن کا اوڑھنا بچھونا بس انسانیت ہی انسانیت تھا چنانچہ ایدھی، رتھ فاؤ اور مدر ٹریسا وغیرہ اس کی چند مثالیں ہیں۔

Read more

مودی کا ہیرو، ہمارا محسن

ابھے نندن ہمارا ہیرو ہے۔ اس نے پاکستان کا ایف سولہ طیارہ مار گرایا ہے۔ جس کا ملبہ ہوا میں تحلیل ہو گیا اور اس کے بے نام پائلٹ کی راکھ دریائے سندھ میں جا گری۔ مودی نے اپنے ہیرو کو واپس آنے پر مبارک باد دی ہے۔ یہ ہیرو پاکستان پر حملہ کرنے آیا تھا۔ پاکستانی جہازوں نے اس ہیرو کے جہاز کو نشانہ بنایا۔ یہ ایجکٹ کر گیا۔ پاکستانی ظالموں نے اسے جان سے مارنے کی کوشش کی

Read more

اسلام کا قلعہ اور تنہا پہرہ دار

پائلٹ ابھینندن گھر پہنچ چکا ہے۔ انڈیا نے 24 گھنٹے گزر گئے شکریہ کے دو بول نہیں بولے۔ بولتا بھی کیوں؟ اس نے تو ہوا باز کو مانگا ہی نہیں تھا۔ ہماری حکومت (اصلی اور ظاہری دونوں ) چاہے کتنا ہی خیر سگالی، انسانی ہمدردی وغیرہ کا راگ الاپتے رہے مگر دنیا ماننے کو تیار نہیں۔ حکومت کچھ عرصے کے لئے عوام (خاص کر پی ٹی آئی کے جوشیلے کارکنوں ) کو تو بیوقوف بنا سکتی ہے مگر دنیا بیوقوف

Read more

کتابوں والی الماری اور ذات کا قید خانہ

مجھے اپنا کمرہ بہت پسند ہے آپ جیسے علم دوست شاید اس کی صرف حسرت ہی کر سکتے ہیں۔ ایک ایسا کمرہ جس کی دیواریں چاروں اطراف سے کتابوں سے مزین ہیں۔ جہاں باہر کی دنیا کی کوئی آلودگی نہیں۔ صرف کتابیں، ہنستی مسکراتی، زندگی کے ہنر سکھاتی، میرا شاندار ماضی اور حال بتاتی، مجھے زندگی کے اصول پہ عمل کرواتی کتابیں۔ ایسے مت دیکھیں مجھے، یہ جوش خطابت نہیں ہے میری کتابیں واقعی انسانوں کی طرح مجھ سے باتیں

Read more

آخر کس کے لئے؟

آواز اَن سُنی اتنی شدید کے کانوں کے پردے چاک کر گئی درجہ حرارت بڑھتا جا رہا تھا راقم ارضِ خاک کے ساتھ خاک ہو گیا۔ جنگ تو ایسے ہی ہوتی ہے، آپ کو مجھے کہاں موقعہ ملے گا اپنی تنقید بیچنے کا، ہو گا یہ کوئی بم دُشمن کا، پہلے اپنے بچوں کو پڑھا لیجیے۔ صُلح کا قدم خان صاحب نے بڑھایا اچھی بات، معاملہ کی شدت میں کمی آرہی ہے بہترین، لیکن سوال تو وہی ہے، آخر کِس کے لئے جنگ؟ مستقبل کشمیر کا بغاوت کو 30 سال ہو گئے مجاہدین لاتعداد بار بدنام ہوئے آپ بھی اُنھیں دہشتگرد قرار دے گئے۔ مگر اب وہ مجاہد ہیں یا دہشتگرد؟

Read more

جنگ کے ماحول میں امن کی شمع

امن کی سرحدیں کسی ایک ملک، ریاست یا قوم تک محدود نہیں ہیں، امن ہر معاشرے، قوم اور ریاست کی آج سے نہیں بلکہ دنیا کی ابتدا سے ایک ناگزیر خواہش ہے اور اِس کو قائم رکھنا کسی ایک ملک کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر قوم پر لازم ہے۔ دنیا میں کوئی بھی ملک یا قوم اگر جنگ اور بدامنی سے اپنے مفادات حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو یہ اس ملک کی ایک بڑی بھول ہے، کیونکہ اگر وہ آج کسی ملک کے حالات خراب کرنے کی متمنی ہے تو پھر وہ وقت بھی جلد آپہنچا جب ان کے اپنے گھر میں آگ لگ گئی۔

Read more

حب الوطنی

سوشل میڈیا پر وائرل ایک تصویر، پھٹے پرانے کپڑے پہنے ایک بچہ، سردی سے کانپتا ہوا نازک جسم، ریاست کا جھنڈا ہاتھ میں لئے۔ سوچتا ہوں تعلیم، صحت، انصاف اور فلاح جیسے الفاظ ان معصوم کانوں کے لئے کتنے اجنبی ہوں گے۔ وہ تو کسی محب وطن گاہک کی انتظار میں تھا کہ کوئی اس سے جھنڈا خریدے اور وہ اپنی بھوک مٹا سکے۔ اور دوسری جانب دو ریاستوں کے مابین جنگ کا نام سنتے ہی حب الوطنی کے نام پر مر، مٹنے کی باتیں۔ انا پرستی میں سڑکوں پر کچلتے ہزاروں من دشمن کے ٹماٹر۔

Read more

ہائے مزے مزے۔ ۔ ۔

کچھ روز پہلے پاکستان حدود میں دراندازی کرنے والا بھارتی طیارہ مار گرایا، پائلٹ کی عوامی چھترول کے بعد اسے فوجی حراست میں لے لیا گیا۔ ایک ایک لمحے کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئیں۔ فوج اور حکومت کے طرف سے اعلان کیا گیا کہ ایک پائلٹ زندہ گرفتار کیا گیا جس نے بہتیری بھاگنے کی کوشش کی لیکن پکڑا گیا اور پاکستانی مہمان نوازی کے مزے لوٹ رہا ہے۔اس پائلٹ کی تصاویر اور ویڈیوز کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ اسے نا صرف گن پوائنٹ پر چائے پلائی گئی بلکہ چائے اور پاکستانی مہمان نوازی کی تعریف پہ مجبور بھی کیا گیا۔ پھر مزید لطف کے لیے چائے کے سڑکے بھی لگوائے گئے تاکہ اسے اور اس کے ملک اور اس کی آرمی ٹریننگ کو زیادہ سے زیادہ مذاق کا نشانہ بنایا جا سکے۔ بعد میں طے پایا کہ مہمان پائلٹ کو واپس جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔

Read more

پاکستان بھارت جنگ کی فینٹسی اور بھولے عوام

آج کل جہاں دیکھو وہاں جنگ کی باتیں ہوتی نظر آتی ہیں۔ دفتر میں گھر میں، ٹی وی پر واٹس ایپ فیس بک اور ٹوئٹر سب جگہ کوئی اور بات ہی نہیں ہے۔ پورا پاک و ہند جنگ کی فینٹسی میں ہے، جنگ کوئی ایسی دل فریب چیز نہیں جس کی فینٹسی کی جائے۔ محاز چھوٹے سے چھوٹا ہی کیوں نہ ہو سکون اور اطمینان چھین لیتا ہے۔مجھے آج بھی یاد ہے جب کبھی اسکول میں کسی سے جھگڑا ہو جاتا تو اسکول سے گھر کے راستے میں ایک خوف کا احساس رہتا کہ کہیں دشمن پارٹی کوئی چپکے سے وار ہی نہ کر دے۔

Read more

اپنی شناخت پر فخر کیجئے

آج سے تقریباً 4 سال پہلے سوشل میڈیا کی دنیا میں قدم رکھا تو کئی دھچکے اور جھٹکے میرے منتظر تھے۔ اتفاق ایسا ہوا کہ سوشل میڈیا پہ آتے ہی میرا پہلا ٹاکرا ہی ان لوگوں سے ہوا جن کے نزدیک وطن سے محبت، دین سے لگاٶ، اپنے مشاہیر کے تذکرہ اسلامی شعائر سمیت ایک لمبی فہرست ان چیزوں کی تھی جن کا محض نام لینے کا مطلب تھا اپنی بھد اڑانا، تضحیک کروانا اور خود کو طعن و تشنیع کی توپوں کے دھانے پر بٹھا دینا۔ میرے لئے یہ ایک بالکل نیا جہان تھا جہاں دن رات مطالعٕہ پاکستان اور اسلامیات کی بھد اڑائی جاتی۔

Read more

سنجو بھائی یہ سلیوٹ آپ کو مہنگا پڑسکتا ہے

سنجو بھائی، السلام علیکم!یہ خط میں آپ کو ونگ کمانڈر ابہی نندن کی جیب میں ڈال کر بھجوارہا ہوں۔ جب آپ اُن کو سلیوٹ کرنے جائیے گا، تو ضرور لے لیجیے گا۔ باقی حالات یہ ہیں کہ یہاں سب خیر خیریت ہے۔ اور آپ کی طرف بھی خیر خیریت ہی نظر آرہی ہے۔ اور گھبرائیے مت، انشاء اللہ سب خیر خیریت ہی رہے گی۔ ہماری اور آپ کی ساری بلائیں کشمیر والے ہی اٹھارہے ہیں۔ اور آگے بھی یہی لگتا ہے کہ وہی واری واری جائیں گے۔ایک منٹ ذرا ٹھہریئے، پہلے ادھر کچھ دوستوں کے اعتراضات تو دور کردوں، جو ایک ہندو کو سلام کرنے اور بھائی بولنے پر کچھ خفا ہورہے ہیں۔ اُن کی خدمت میں عرض ہے کہ مجھے بھی آپ کے کچھ ڈائی ہارڈ فینز کی طرح یہ غلط فہمی ہے، کہ آپ نے چپکے سے اسلام قبول کرلیا ہے۔ تب ہی تو آپ کو وہاں کی تنگ نظر قوتوں کے ہاتھوں بڑی سخت کٹاس پڑی تھی۔

Read more

جنگ کا جنون اور نہ پاک-انڈیا دوستی کا شوق

نوے کی دہائی میں پیدا ہونے والے بچے مجھ سمیت سبھی انڈین کلچر دیکھ دیکھ کر جوان ہوئے ہیں۔ شادیوں میں انڈین گانے۔ رسومات بھی ہندووانہ۔ یہاں تک کہ مزاج بھی اب تو ہندووانہ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ انڈیا کے گیت گاتے ہیں اور پاک انڈیا دوستی کے گن گاتے پھرتے ہیں۔ تاج محل ہمیں بھاتا ہے۔ اور نوجوانوں کے خوابوں میں تو وہاں کی میک اپ زدہ اپسرائیں آتی ہیں۔ کچھ بھی پاکستانی تو ہمیں پسند نہیں۔ 14 اگست

Read more

شوخا چوہا اور بیدار سبز جنگل

پیارے بچو۔ !

اس دنیا میں ایک بہت خوبصورت خطہ اراضی پر مشتمل بہت خوبصورت جنگل آباد تھا۔ اس کی زرخیز زمین، سرسبز وشاداب، نباتات سے بھرپور، پہاڑ، ندیاں، نالے اللہ کی ہر نعمت موجود تھی۔ لیکن جنگل واسیوں میں اتفاق نہیں تھا۔ شریر جاندار کثرت میں تھے۔ ان کو معصوم جانداروں سے سخت پرخاش تھی۔ جب بھی جہاں بھی موقع ملتا وہ ان معصوم جانداروں کا شکار کر لیتے۔ طرح طرح سے نقصان پہنچانے کی کوششیں کرتے۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ جنگل تقسیم ہو گیا۔

بڑا حصہ تو شریروں کے پاس رہا اور معصوم جانداروں کے حصے میں ایک چھوٹا سا پیارا سا خطہ آیا، جو بہت سرسبز و شاداب تھا۔ اب جبکہ بڑا حصہ شریروں کے پاس تھا مگر پھر بھی انہیں وہ چھوٹا سرسبز جنگل چاہیے تھا، جو معصوم جاندارں کے پاس تھا۔ وہ معصوم جانداروں کو دوبارہ سے غلام بنانا چاہتے تھے۔ آخر کار انہوں نے بہت چالاکی سے چھوٹے جنگل کے ایک خوبصورت خطے پر قبضہ کر لیا اور معصوم جنگل واسیوں پر ظلم کی انتہا کردی۔

Read more

امریکن ایجنٹ کی نشانیاں

نمازِ جمعہ ادا کرنے کے بعد جب ابا میاں، اُنکی سائیکل اور ہم۔ مسجد سے باہر آئے تو جذبہ حُب الوطنی عروج پر تھا۔ مارچ 2006 کا پہلا جمعہ تھا اور امریکہ بہادر کے خلاف شدید نعرے لگ رہے تھے، لگتے بھی تو کیوں نا۔ امریکن صدر بش اپنے دوست ”جنرل مشرف“ کی دعوت پر پاکستان جو آ رہے تھے۔ ہم نے بھی خوب جوش و خروش سے نعرے لگائے، آخر یہ زندگی کا پہلا سیاسی و مذہبی جلوس تھا

Read more

جا نندن جا! جی لے اپنی زندگی

بھارت کا جنگی جنون کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ خطے میں کشیدگی کی یہ سب سے بڑی وجہ ہے۔ موجودہ کشیدگی جو پلوامہ واقعہ سے شروع ہوئی تھی روز بروز بڑھتی چلی گئی۔ بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر کے اسے عروج پر پہنچا دیا۔ مودی سرکار نے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگاتے ہوئے سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کیا۔ بھارتی طیارے رات کے اندھیرے میں پاکستانی سرحد پار کر کے اندر تک آئے لیکن شاہینوں

Read more

کم عقل عورت

عورت ذات کو اگر سمندر سے تشبیہہ دی جائے توہرگز غلط نہ ہو گا۔ عورت کے معنی ہیں چھپی ہوئی اور اس نقطہ سے عورت ذات کی تعریف کچھ اس طرح سے ہوگی۔ جیسا کہ سہہ جانے والی، برداشت کرنے والی، نظرانداز کر دینے والی، انا کو پس پشت رکھنے والی، محبت کی ترسی ہوئی، عزت کی طلب گار۔ عورت ذات کی زندگی سمندر کی مانند ہے۔ جیسے سمندر دریا کے منہ زور پانی کواپنے اندر سمو لیتا ہے بالکل

Read more

پھول، امن ہی سے کھلتے ہیں!

اس وقت پاک بھارت کے مابین کشیدگی کی فضا قائم ہے۔ جب میں یہ تحریر رقم کر رہا ہوں دو بھارتی لڑاکا طیارے ہمارے شاہینوں نے مارگرائے ہیں بھارت کے دو ہوا باز بھی پکڑ لیے گئے ہیں۔ اس سے پہلے بھی ایل او سی کی خلاف ورزی کی گئی مگر جوں ہی پاک فضائیہ کی طرف سے اڑانیں بھری گئیں بھارتی طیارے بھاگ گئے اب انہیں فرار کا موقع نہیں مل سکا!

کہا جا رہا ہے کہ مودی سرکار ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے جنگ کا ماحول پیدا کر رہی ہے کیونکہ وہ اپنے عوام کو غربت افلاس اور بے روزگاری سے چھٹکارا نہیں دلا سکی لہٰذا اب وہ انہیں جذباتی طور سے اپنا گرویدہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے؟

Read more

کشمیر ہی نہیں، تاریخ سے بھی لاعلم وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے آج پارلیمنٹ میں کی گئی اپنی تقریر میں کشمیراورکشمیریوں سے ہی نہیں بلکہ تاریخ سے بھی لاعلم ہونے کا واضح ثبوت دیا۔ ناقص معلومات ہوتے ہوئے یوں بات کرنا اور خصوصا وزیر اعظم کی حیثیت سے، غیر ذمہ دارانہ روئیے کا اظہار ہے۔

کشمیری اور کشمیریوں سے وزیر اعظم عمران خان کی لاعلمی دیکھئے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنی تقریر میں کہتے ہیں کہ

”میں جب بیس سال پہلے ہندوستان گیا تو مجھے یاد ہے کہ کانفرنس میں جو کشمیر کے لیڈر تھے وہ علیحدگی نہیں چا رہے تھے، وہ ہندوستان کے ساتھ تھے، اب جو کشمیر کا سچو ایشن (صورتحال) ہے، کوئی بھی کشمیر کا لیڈر سپورٹ نہیں کر رہا، جو ہندوستان کی ٹیکٹس ہیں بلکہ اب نیچے سے پبلک کا اتنا پریشر ہے کہ آزادی کے علاوہ اب وہ آزادی کے علاوہ کوئی بات ہی نہیں سننے کو تیار“۔

Read more

بھارت ہمیں ہلکا نہ لے

حالانکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس سے معیشت کے ساتھ ساتھ دیگر معمالات میں نقصانات کا سامنا ہوتا ہے۔ لیکن جب کوئی ہمارا پڑوسی اکڑ کر ہمیں للکارے اور جارحانہ طریقے اپنائے، ہمارے گھر میں گھس آئے اور ہمارا گریبان پکڑ کر ہمیں اپنی طاقت و غرور کا نشہ دکھائے تو اس وقت اس پڑوسی کو صوفے پہ بیٹھا کے چائے پینے کی پیشکش نہیں کی جاتی، اپنے گریبان کو اس کے ہاتھوں سے باعزت بری کروانے کے لئے سامنے والے کا گریبان پکڑ کے اسے جھنجھوڑنا نہایت ضروری ہو جاتا ہے۔ یہ سمجھانا کے لئے کہ ہمیں بھی ہلکا نہ لو۔

Read more

سعودی عرب حقوق نسواں کا حامی ہوتا جا رہا ہے

سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے، جو خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی کے نام سے زیادہ جانا جاتا ہے۔ ایک وقت تھا جب عرب خواتین کو شادی، جائداد، ملازمت سمیت بہت سے حقوق سے محروم رکھا جاتا تھا۔

2016 ع کی ورلڈ اکنامک فورم کی طرف سے گلوبل جینڈر گیپ سروی کی رپورٹ مطابق، سعودی میں جنسی عدم مساوات خطرناک حد تک دیکھنے میں آئی۔ 144 ممالک کی سروی میں سے سعودی 142 نمبر پر آیا۔ پر پچھلے کچھ سالوں میں حالات تبدیل ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ خاص کر کے پچھلا سال خواتین کے لیے بڑا ہی خوشنصیب ثابت ہوئا ہے۔ سال 2013 کو ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺣﯿﻔﮧ ﻓﻠﻢ ﺳﺎﺯ بنی، جس نے اپنی ایک مختصر فلم ”واجدہ“ کو ﺍﺑﻮﻇﮩﺒﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﺠﺎ، جس کو دنیا بھر نے سراہا۔

Read more

شکر ہے، میں بھارتی نہیں

ویسے تو 14 فروری محبت کا دن کہلاتا ہے کہ تجدید محبت ہو یا اظہار مہبت، یہ تاریخ محبت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ مگر اس 14 فروری کو پلوامہ میں ہوئے حادثے کے بعد سے آج تک تجدید محبت پاکستان سے اور اظہار محبت عمران خان سے ہو رہا ہے۔ انسانوں کی شخصیت، سادہ حساب و کتاب سے بہت مختلف ہوتی ہے اور کا بہترین مشاہدہ آج کل دیکھنے کومل رہا ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں میں نہ تو مہنگائی

Read more

پاک بھارت کشیدگی اور خطے کی صورتحال؟

اگر موجودہ حالات میں عالم اسلام اور پاکستان کی اہمیت کو دیکھا جائے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت ملک عزیز پاکستان بجا طور پر پورے عالم اسلام کی نمائندگی کا منصب سنبھال چکا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی بہترین خارجہ پالیسی کی بدولت عالم اسلام سمیت پورے جنوبی ایشیاء میں ایک ایسا ماحول تشکیل پا رہا ہے جس کے تناظر میں یہ پشین گوئیاں کی جا رہی ہیں کہ اب شاید جنوبی ایشیاء میں ایک

Read more

سادھو اور مسافر

آسمان میں تارے جگ مگ چمک رہے تھے اور میں ٹریفک کے شور میں لانگ کوٹ کی جیب میں ہاتھوں کو ڈالے اداس سا سر جھکائے چل رہا تھا۔ دسمبر کی اداس شاموں کی طرح میرے اندر بہت سے سوال تھے۔ جن کی تلاش میں، میں فٹ پاتھ پہ چلتا جا رہا تھا۔ دسمبر کی شام بھی کتنی اداس اور تنہائی میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہے۔ ایسی ہی وہ شام تھی۔ میرے دائیں جانب ٹریفک اپنی ہی دھن میں رواں تھی اور بائیں جانب کچھ درخت اور گھاس تھی۔ میں سوالوں کے جوابوں کی تلاش میں اپنی سوچوں میں گم چل رہا تھا، کہ میرے بائیں جانب سے ایک آواز آئی، چلتے ہی رہو گئے یا رکو کے بھی، غور کرنے پر پتا چلا ایک بزرگ کی آواز تھی جو درختوں کے درمیان رہائش رکھے ہوئے تھے۔ زمین پر ایک بستر نما چادر تھی جس پہ وہ بیٹھے ہوئے تھے، اورپاس میں ایک شاپر رکھا ہوا تھا، شاید اس میں ان کا کچھ سامان تھا۔ میری طرف دیکھتے ہوئے دوبارہ بولے، چلتے ہی رہو گئے یا پھر رکو گے بھی۔

Read more

جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے

برصغیر کی تقسیم کو ستر سال سے زیادہ عرصہ بیت چکا مگر پاکستان اور بھارت آج بھی نفرت کی دلدل سے نکل نہیں پائے۔ جب بھی حالات صحیح ڈگر پر چلنے لگتے ہیں تو پھر کوئی فسادی اٹھتا ہے اور امن کی ساری کوششوں کو نیست و نابود کردیتا ہے۔ جوابی ردعمل کے طور پر دونوں طرف کے عوام شدید جذباتی پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کے دعوے کرتے ہیں اور ہیجان

Read more

بیوی ہزار نعمت ہے

قدرت کی جانب سے اپنے بندوں کو دنیا فانی میں جو انعامات عطا کیے گئے ہیں، ان میں سے ایک خوبصورت تحفہ بیوی کی صورت میں بھی ہے اور یہ انعام ہر کسی کو نہیں ملتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس خدا کے بندے کو یہ انعام مل گیا وہ بھی گریہ زاری کرتا دکھائی دیا اور جسے یہ تحفہ نہیں ملا، وہ بھی آہیں بھرتا نظر آیا۔ بیوی قدرت کی طرف سے خوبصورت انعام ہے، کچھ خدا کے بندے

Read more

پاکستان بمقابلہ بھارت، عمران خان بمقابلہ نریندر مودی

لفظ ”پاکستان بمقابلہ بھارت“ جب بھی نظروں سے گزرتا ہے ایک عجیب سی سنسنی دونوں ملکوں کے باشندوں کے جسموں میں ایسے دوڑنے لگتی ہے کہ پھر ”جوش سے نہیں ہوش سے“ مشورہ دینے اور کہنے والے بھی خود اتنے جوش میں آ جاتے ہیں کہ تان مقابلہ کرنے پہ ہی ٹوٹتی ہے۔ کہتے ہیں جہاں محبت زیادہ ہوتی ہے وہاں پہ اگر نفرت جنم لے لے تو پھر وہ نفرت محبت سے شدید ہوا کرتی ہے۔ چونکہ پاکستان اور

Read more

مسٹر بی بی سی! ہم محض دعوے نہیں کرتے

منگل، فروری 26 سنہ 2019 کو جو کچھ بھی ہوا اس کا خلاصہ بی بی سی نے کچھ یوں پیش کیا ہے۔ 1۔ پاکستان فوج نے منگل کی صبح دعویٰ کیا کہ انڈین فضائیہ کے طیاروں نے مظفر آباد کے پاس لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی۔ 2۔ پاکستانی فوج کے مطابق جوابی کارروائی کے نتیجے میں انڈین طیارے واپس چلے گئے اور انھوں نے جلدی میں اپنا گولہ بارود گرا دیا جو بالاکوٹ کے قریب جابہ کے علاقے میں

Read more

جنگ کی قیمت اور امن کے فائدے

پلوامہ حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد اور اقتصادی معاہدوں اور امداد کی خبروں کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ لیکن حسبِ روایت پوری قوم تمام تعصبات سے بالا ترہوکران حملوں میں پاکستان کو ملوث کیے جانے اور بھارت کی دھمکیوں کے خلاف متحد اور سراپا احتجاج ہے۔ ہندو قیادت ہمیشہ سے بھارت کے ہر نقصان کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیتی آ رہی ہے۔ پلوامہ حملہ

Read more

جنگ

کیا انڈیا اور پاکستان کے باسی ان حالات کو جانتے ہیں جو جنگ کی بدولت پیدا ہوتے ہیں؟ جنگ کی باتیں سوشل میڈیا پر ہی جچتی ہیں۔ کبھی تصور کیجیے گا کہ آپ کا بڑا بھائی چارپائی پر لیٹا ہوا ہے، ایک ٹانگ سے محروم ہے۔ کبھی تصور کیجیے، آپ کی عزیز ترین ہستی، آپ کا والد بارود کے دھویں سے اپنی آنکھیں کھو چکا ہے، کبھی تصور کیجیے گا کہ آپ کا چھوٹا بھائی، آپ کا بیٹا، بھتیجا یا

Read more

ہم اور ہمارا ایٹم بم

اور پھر بھارت باز نہ آیا یہ بالکل ایسی ہی حرکت ہے جیسے آپ کا ناراض ہمسایہ آپ کے گھر کے سامنے کیلے کے چھلکے پھینک دے مطلب اب آپ کی مرضی ہے چاہے تو اگنور کر دیں دل چاہے تو لڑائی کرلیں۔ دراصل بہت زیادہ واویلا مچانے کے باوجود مودی صاحب کی وہ گیم بنی نہیں جو وہ بنانا چاہ رہے تھے۔ جبکہ پاکستان کا بیانیہ کام کر گیا ہے کہ یہ بھارت کا الیکشن سٹنٹ ہے۔ یہی مودی

Read more

خاک و آتش

وہ آگ کے بچاری تھے۔ مقدس آگ کے آہنی الاؤ میں دہکتے انگارے ان کی مرادیں پوری کرتے۔ وہ الاؤ سے دعاؤں کے ہاتھ تاپتے۔ انھیں تائید کی حرارت ملتی جو ان کی زندگیوں کے لیے امرت تھی۔ سالہاسال یافت اور نایافت کے زندانوں میں دوزانو آتش کو بھڑکاتے رہے۔ ان کے بزرگ پہاڑوں کی چوٹیوں سے نیچے اترے تو انھیں نیلاہٹ و یخ بستگی سے نجات ملی۔ اِسی خوشی میں نئے دن کا آغاز ہوا۔ گندم کی بالیں اور

Read more

تھانیدار صاحب! کیمرے کی آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہے۔

پنجاب پاکستان کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جس کی آبادی تقریباً 110 ملین سے زائد ہے۔ اور اس سب سے بڑے آبادی والے صوبے کے لیے بنائی گئی پنجاب پولیس تقریباً 2 لاکھ پر مشتمل ہے اس طرح ایک محتاط اندازے کے مطابق 500 افراد کی حفاظت کے لیے پولیس کے پاس صرف ایک اہلکار ہے اسی طرح پنجاب بھر میں تقریباً 713 تھانے ہیں۔ اس میں بھی دو رائے نہیں کہ آبادی اور نفری

Read more

پائلٹ حسن ہمارا ہے

”واہ میرے شیر جوان۔ اسکوارڈن لیڈر حسن۔ میرے شہر تونسے کا ہے۔ زبان سرائیکی اور قوم بلوچ۔ واہ۔ شیروں کے علاقے کوہ سلیلمان کا شیر ہے شیر۔ “ ”واہ جی واہ۔ سرائیکی اور بلوچ۔ وہی سرائیکی نا جس کی کہاوتیں مشہور ہیں بڑے آئے شیر جوان۔ پوٹھوار کا شاہین ہو گا۔ دیکھ لینا۔ اِس سے قبل ملک کے کم و پیش سب نشان حیدر اسی دھرتی کے جوانوں کو ملے ہیں۔ ڈیلیٹ کرو اپنی یہ جاہلوں والی پوسٹ۔ “ ”یار

Read more

ٹیکنالوجی اور معاشرتی مسائل

دنیا سکڑ کر گلوبل ولیج بن جائگی، یہ دنیا اب وژیول ورلڈ میں تبدیل ہورہی ہے۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو کچھ سال پہلے مختلف اوقات میں سننے کو ملے جو ہمارے دور طالب علمی میں اور جو ہمارے اسباق کا حصہ تھے اب عملی صورتحال اختیار کر گئے ہیں۔ شاید اسٹیو جابز کو اندازہ نہ تھا کہ مستقبل میں اس کی ایجاد کردہ اینڈرائڈ ٹینکالوجی دنیا میں انقلاب برپا کرنے کی بنیاد ہوگی اور شاید یہی اندازہ مارک زگربرگ

Read more

پنجاب کی نئی تعلیمی پالیسی: چربہ سازی کی دستاویز

بالآخر انگریزی زبان میں تحریر کی گئی پنجاب کی صوبائی تعلیمی پالیسی میں اُردو زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کا عہد کیا گیا ہے، اُردو ذریعہ تعلیم بنے گی یا نہیں انگریزی میں لکھی گئی تعلیمی پالیسی سے ادراک کیا جاسکتا ہے۔ یہ پالیسی ایسے ہی جیسے پھٹی پرانی کتابوں کو نئے بستے میں رکھ کر طالبعلم کو دے دیا جائے تاکہ وہ ذہنی آسودگی حاصل کرسکے۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد پنجاب میں مسلم لیگ نواز نے دس سال

Read more

عوام کے بنیادی حقوق اور اداروں میں ٹکراؤ کا سوال

ریاست کے تین اہم ستون ہیں، جس میں پارلیمنٹ، حکومت اور عدلیہ شامل ہیں، ملک میں بہتر حکمرانی کے لئے تینوں ستونوں کا آپس میں گہرا تعلق ہونا لازم ہے، آئین میں ہر ادارے کے لئے حدود کا تعین بھی کردیا گیا ہے، جس کے تحت تمام ادارے اپنے حدود میں رہتے ہوئے بہتر حکمرانی کو فروغ دے سکیں، اکثر دیکھا گیا ہے کہ سماج کا زیادہ تر زور حکومت پر ہوتا ہے کہ وہ بہتر حکمرانی کرے، باقی دو

Read more

جنگ کیا ہوتی ہے؟ سرحدی مکینوں سے پوچھو

جنگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں۔ میڈیا جنگی جنون کو ہوا دینے میں مصروف ہے۔ آر پار کی بھوک و افلاس زدہ عوام جنگ کی تباہ کاریوں اور ہولناکیوں سے بے خبر ایک دوسرے کی ہلاکتوں اور تباہی و بربادی پر جشن مناتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہلاکتوں کی گنتی جاری ہے۔ یعنی دونوں جانب کی جنتا حکمرانوں کے سفاکانہ عمل کے زیر اثر آکر اپنی زندگی کی تلخیاں بھول کر جنگی جنون میں مبتلا ہے۔ جنگ کی مخالفت اور

Read more

کتب بینی کی اہمیت اور صدائے حق

عربی زبان کے نامور شاعر متنبی نے کیا خوب کہا ہے کہ ”زمانہ میں بہترین ہم نشین اور دوست کتاب ہے“۔ اور یہ واقعی ایک حقیقت ہے کہ اچھی کتاب اپنے قاری کے لیے ایسے دوست کی حیثیت رکھتی ہے جو اْس کو کبھی تنہائی کا احساس ہونے دیتی ہے اور نہ اکتاہٹ کو اْس کے قریب پھٹکنے دیتی ہے۔ کتاب ایک ایسے ساتھی کی طرح ہے جو اپنے قاری کو دوردراز کے علاقوں کی سیر کرادیتی ہے اور بہت

Read more

بھارتی جنگی جنون اور شہری دفاع کی تربیت

قدیم دور میں لڑائی کے لیے میدا نِ جنگ کا انتخاب کیا جاتا تھا لیکن موجودہ دور میں سائنسی ترقی کی بدولت انسان نے ایسے تباہ کن ہتھیار تیار کے لیے ہیں جن کے ذریعے کسی شہر کو پلک جھپکنے میں صفحہ ہستی سے مٹایا جاسکتا ہے۔ حال ہی میں پلوامہ حملہ کی آڑ میں بھارتی جنگی جنون انتہا کو پہنچ چکا ہے جس کی وجہ سے لائن آف کنٹرول پر جھڑپیں جاری ہیں۔ دونوں ایٹمی طاقت کے حامل ممالک

Read more

باطل سے ڈرنے والے ۔۔۔ اے آسماں نہیں ہم!

حالانکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس سے معیشت کے ساتھ ساتھ دیگر معاملات میں نقصانات کا سامنا ہوتا ہے۔ لیکن جب کوئی ہمارا پڑوسی اکڑ کر ہمیں للکارے اور جارحانہ طریقے اپنائے، ہمارے گھر میں گھس آئے اور ہمارا گریبان پکڑ کر ہمیں اپنی طاقت و غرور کا نشہ دکھائے تو اس وقت اس پڑوسی کو صوفے پہ بیٹھا کے چائے پینے کی پیشکش نہیں کی جاتی، اپنے گریبان کو اس کے ہاتھوں سے باعزت بری کروانے

Read more

انا کی جنگ، سرپرائز، مودی سرکار اور تبدیلی سرکار آمنے سامنے

پاکستان بھارت کے تعلقات ہمیشہ ہی سردمہری تنگ نظری اور کشیدگی کاشکار رہے ہیں۔ ان کو یہ زعم کے ہم تو خطے کے چوہدری ہیں تو ہم کو یہ گمان کے ہم بھی امت مسلمہ کا قلعہ ہیں۔ ادھر یہ خیال ہے کہ ہم دنیا میں گیم چینجر ہیں تو ادھر یہ قیاس کہ گیم کے ماسٹر مائنڈ ہم ہیں۔ ادھر ایک ارب تیس کروڑ کی آبادی تو ادھر بھی اکیس کروڑ سے زیادہ ہی آبادی۔ ادھر دفاعی سازوسامان کی خریداری ہر سالانہ ساٹھ ارب روپے کا خرچہ تو ادھر بھی دفاعی بجٹ آٹھ ارب ڈالرز کو چھوتا ہوا۔

Read more

ہوش کے ناخن کہاں سے لیں؟

یہ 6 اگست 1945 کا دن تھا ”لٹل بوائے“ نام کا ایک ایٹمی بم ہیروشیما نام کے ایک شہر پے گرتا ہے اور چند ہی لمحوں میں ایک لاکھ پچاس ہزار کے قریب انسانی زندگیوں کو لقمہ اجل بنا دیتا ہے، اس درد ناک دن کو گزرے ابھی تین ہی دن ہوئے ہوتے ہیں کہ 9 اگست 1945 کو ناگا ساکی نام کے شہر کو ”فیٹ مین“ کے نام کا ایک بم تباہ و برباد کر دیتا ہے۔ یوں تین ہی دنوں میں اڑھائی لاکھ جانیں دوسری عالمی جنگ میں ایٹم بم کی نظر ہو جاتی ہیں اور تاریخ گواہ ہے اتنی جانوں کے ضیائع کے بعد پھر یہی عالمی طاقتیں بات چیت سے اپنے مسائل حل کر لیتی ہیں۔

برصغیر پاک و ہند کی تاریخ بہت پرانی ہے اس دھرتی پہ جنگ و جدل ہمیشہ سے رہا ہے آج کل یہ دھرتی ایک مرتبہ پھر جنگ کا سماں پیش کر رہی ہے۔ اس دھرتی پے رہنے والے دو انتہائی اہم ملک پاکستان اور بھارت ہیں جن کے درمیان تقسیم کے بعد سے لے کر آج تک کشمیر سب سے بڑا تنازعہ رہا ہے اس کی وجہ سے یہ دونوں ممالک 1947 سے لے کر آج تک تین بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں۔ لیکن مسئلہ کشمیر جوں کا توں ہے۔ حالیہ تنازعہ کی وجہ بھی کشمیر ہی ہے اور خدشہ ہے کہ اس مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پھر کوئی بڑی جنگ نا چھڑ جائے۔

Read more

عجیب قوم ہے پاکستانی

پاکستانی بھی بڑی عجیب قوم ہیں۔ یہ دشمن کو پتا ہی نہیں چلنے دیتے کہ ان کے رویے کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

آپ یقیناً راقم الحروف کی بات سے نہ صرف مکمل اختلاف کا حق رکھتے ہیں بلکہ اس وقت میری اس بے تکی بات پہ قیاس کے گھوڑے بھی دوڑا رہے ہوں گے۔ قیاس کے گھوڑوں کی لگام ذرا کس لیجیے اور سوچ کی راہداریوں میں جھانکیے۔ چند ماہ پہلے سے شروع ہونے والے منظر نامے اور چند دن پہلے کے حالات کو مد نظر رکھ کے اس تحریر کو جانچیے۔

شہباز شریف کا نام ای سی ایل پہ ہے، حمزہ شہباز شریف کو اجازت لے کر باہر جانا پڑ رہا ہے، میاں محمد نواز شریف کے دو صاحبزادگان اشتہاری کا درجہ پا رہے بشمولے میاں صاحب کے سمدھی کے، میاں محمد نواز شریف خود اس وقت جیل یاترا پہ ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی جیسی بڑی جماعت کے گرد شکنجہ کسا ہوا ہے، کچھ بعید نہیں کہ آنے والے دنوں میں زرداری صاحب شکنجے میں ہوں۔ غیرضیکہ پورے پاکستان میں اس وقت سیاسی صورت حال نہایت دگرگوں ہے۔

Read more

ایک جنگ کے بعد کا خواب

میں کہیں بچوں کو سکول چھوڑنے میں لیٹ تو نہیں ہوگیا تھا کیونکہ میری آنکھیں کھلی تھی لیکن آنکھوں کے سامنے اندھیرا تھا جیسے کمرے کی لائٹ ابھی تک آف ہو اور پردے نے کھڑکی کو مکمل ڈھانپ رکھا ہو۔ غنودگی تھی یا کچھ اور سمجھنا تھوڑا مشکل تھا لیکن آہستہ آہستہ کانوں نے کچھ آوازیں سنیں۔ سماعت نے جب دھیان دینا شروع کیا تو کچھ دھندلا منظر نظر آیا۔ کچھ لوگ ایک بھاری بھرکم پتھر کو ہٹانے کے لیے مدد پکار رہے تھے۔ شاید یہ وزنی پتھر ایک اور پتھر کے سہارے میرے اوپر تھا۔

آنکھیں جوں، جوں کھلتی جا رہی تھیں منظر تھوڑا واضح ہو رہا تھا۔ میں ایک کنکریٹ کے بڑے پتھر کے نیچے مٹی میں اٹی سانسوں سے آکسیجن کشید کر رہا تھا۔ ٹانگیں سن لیکن جسم کا باقی حصہ درد سے اتنا چور تھا کہ سمجھ نہیں پا رہا تھا، زیادہ تکلیف جسم کے کس حصے میں ہے۔ میرا سر اس قدر درد سے لبریز جیسے زمین کے ساتھ سلائی کر دیا گیا اور اسے اٹھانے کی کوششیں میں حرام مغز کی کھال کھینچتی محسوس ہو۔ یہ سب کیا تھا، ابھی بھی سمجھ نہیں آرہا تھا۔

Read more

آسمان کے گوشے میں بیٹھے تین انجان بوڑھے، اور میری روح

سردیوں کی ایک خاموش اور طویل رات تھی جب میری روح چپکے سے سیاہ آسمانوں کی جانب محوپرواز ہوئی، ایسا کبھی کبھار بلکہ طویل وقفوں کے بعد ہوتا ہے جب یہ کائنات کے کسی انجان گوشے کے سفر پر نکلتی ہے اور اپنے ساتھ ہمیشہ بے شمار اندیشے، وسوسے، سکون، سوال اور جواب کے خزانے لے کر واپس آتی ہے۔ اس رات بھی جب یہ کالے آسمانوں پر چمکتے تاروں کو عبور کرکے بہت دور نکل گئی تو اس نے وہاں آسمان کے ایک الگ تھلگ گوشے میں بیٹھے تین عمررسیدہ، باریش اجنبیوں کو دیکھاجو ایک بیضوی سے دائرے کی شکل میں سرجوڑے

Read more

موت پر فیس بُک کا تصدیقی سرٹفکیٹ

چند دن پہلے کسی نے اپنی والدہ کے انتقال کے محض چند گھنٹوں بعد اُن کی موت کا اسٹیٹس لگایا تو ایک لمحے کو خیال آیا کہ اس شخص کا دل کتنا مضبوط ہے۔ بھلا کوئی اپنی ماں کو کھونے کے بعد فیس بُک استعمال کر سکتا ہے مگر پھر یہ سوچ کر میں نے اپنے دل کو تسلی دے دی کہ شاید یہ آج کل کے دور کا تقاضا ہے۔ کچھ دیر پہلے ہی کسی چینل پر اُس بدنصیب باپ کا انٹرویو چل رہا تھا جس کے پانچ چھوٹے بچے اور ایک بہن زہریلا کھانا کھانے سے موت کے منہ میں چلے گئے۔

میں جب بھی اُن بچوں کی تصاویر دیکھتی ہوں تو دل کٹ سا جاتا ہے۔ ضبط کے باوجود بھی میں آنکھوں میں آئی نمی کو روک نہیں پاتی۔ اپنے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے دفنانے کے بعد اُس شخص کی حالت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی مگر ریٹنگ بڑھانے کے لئے اُینکر اُس باپ کو کیمرے کے سامنے لے آیا، ایک بار پھر موت کہانی سُنی اور خوب داد سمیٹی۔ اُسے اس بات سے کیا غرض کہ وہ باپ اذیت کے کس مقام سے گزر رہا ہے۔ مجھے اُن رپورٹرز پر بہت رشک آتا ہے جو کسی جوان کے جنازئے پر بین ڈالتی ماں سے پوچھتے ہیں کہ آپ کیسا محسوس کر رہی ہیں۔

Read more

یہ مودی ہے کہ موذی

کہتے ہیں کہ انسان کے کردار اور نیت کا پتہ اس کے اعمال سے چلتا ہے۔ محض کھوکھلے دعوؤں اور چرب زبانی سے کوئی اچھا یا عظیم الشان نہیں بن جاتا۔ اگر اسی پیرائے میں دیکھا جائے تو اقوامِ عالم میں کچھ ملکوں اور ان کے سربراہان کی حالت بھی ”اپنے منہ میاں مٹھو“ کی مصداق ہے۔ زیادہ دور نہیں جاتے اپنے پڑوسے اور دیرینہ دشمن ملک ہندوستان اور اس کے فتنہ پرور وزیراعظم نریندر مودی کو ہی دیکھ لیجیے، جس دن سے انہوں نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی ہے اس دن سے ہی ان کی ساری توانائی پاکستان دشمنی اور نہتے کشمیریوں پر مظالم میں اضافے میں صرف ہو رہی ہے۔

Read more

یہ جنگ ہم جیت گئے ہیں

ہندوستان عجیب انسانوں کی سرزمین ہے۔ آپ اندازہ لگالیں یہ خود کو دنیا کی بڑی جمہوریت کہتے ہیں لیکن نکمے پَن میں ان سے زیادہ آگے پوری دنیا میں کوئی نہیں۔ یہ باقی دنیا کے انسانوں کو ورطہ حیرت میں بڑی آسانی سے ڈال دیتے ہیں۔ آپ کو اگر ان کی کج فہمیوں اور غلط روشوں کا اندازہ لگانا ہو تو آپ کو ان کے تین بڑی قوتوں کا مطالعہ کرنا ہوگا۔

ان کی سیاست اور عوام، ان کی فوج اور ان کی میڈیا۔ یہ دنیا کا واحد تکون ہے جہاں تکون کے کونوں کو ایک دوسرے کا بالکل پتہ نہیں۔ رابطوں کا شدید فقدان کی وجہ سے یہ جھولتا تکون کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ یہ وہ واحد تکون ہے جہاں تینوں کونوں پر موجود قوتیں ہر روز کوئی نہ کوئی ایسا لطیفہ پوری دنیا کے انسانوں کے سامنے رکھ دیتی ہے اور پوری دنیا ہنس ہنس کے پاگل ہوجاتی ہے۔

Read more

بھارتی فضائی کارروائی۔ مودی کی انتخابی مہم زوروں پر

2019 بھارت میں عام انتخابات کا سال ہے۔ یہ انتخابات اپریل اور مئی میں مرحلہ وار منعقد ہوں گے۔ بھارتی الیکشن کمیشن جلد ہی حتمی تواریخ کا اعلان کر دے گا۔ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے 12 جنوری سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

بی جے پی 2014 کے انتخابات میں مرکزی اقتدار میں آئی تھی۔ ان انتخابات میں کانگریس کو شکستِ فاش ہوئی تھی۔ قریباً پورے ملک سے کانگریس پارٹی کا صفایا ہو گیا تھا۔ مودی ایک کرشماتی رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے وزیر اعظم کا منصب سنبھالا۔ اس کے بعد بھی مودی کی مقبولیت برقرار رہی۔ ایسا دکھائی دے رہا تھا جیسے کانگریس کو اپنی سیاست کی بقا کے لالے پڑ گئے ہوں۔

Read more

برصغیر کے عوام کسی ایک جنگ کا انتخاب کریں

بھارت اور پاکستان کو جغرافیائی طور پر تقسیم کرنے والی سرحد کے دونوں اطراف غربت اپنے خونی جبڑے کھولے غرا رہی ہے۔ غربت کا یہ عفریت الیکٹرانی ساعت کی ہر جنبش پر کسی انسانی زندگی کے خاتمے کا اشارہ دیتا ہے۔ سرحد کے دونوں اطراف ایک محتاط اندازے کے مطابق کم و بیش تیس فیصد انسان انتہائی غربت کی قاتلانہ حد پر بڑی مشکل سے سانس لیتے ہوئے زندوں کی صف میں شامل ہیں۔ کم و بیش پینتالیس سے پچاس فیصد انسان بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

یعنی دونوں اطراف ملا کر پچھتر سے اسی کروڑ انسان فی کس دو ڈالر یومیہ کی آمدنی پر زندہ ہیں۔ لگ بھگ اس سے زیادہ آبادی کو پینے کا

Read more

شاہراہِ ریشم کے دیرینہ دوست

شاہراہِ ریشم دنیا کی اہم تاریخی اور تجارتی شاہراہوں میں سے ایک ہے جو چین کو جنوبی ایشیاء کے ممالک کے ساتھ ساتھ مشرقی وسطیٰ اور مغرب تک رسائی حاصل کرنے میں نہایت اہم کردار اداکرتی ہے۔ چین جو دنیا کا ایک اہم تجارتی ملک ہے اور اس کی خشکی کی تجارتی سر گرمیوں کا انحصار شاہراہِ ریشم پر ہی منحصر ہے۔ چینی مصنوعات اسی شاہراہِ سے گزر کر گوادر پھر پوری دنیا میں پہنچ جاتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ شاہراہِ ریشم پر تجارتی سرگرمیاں تین سو قبل مسیح سے جاری ہیں۔

قدیم یونان میں چین کے لئے سیرس (Seres) کی اصطلا ح استعمال کی جات

Read more

سنہ 1965 سے 2019 تک کا سفر

ملک محبتوں کے سائے میں پروان چڑھا کرتے ہیں۔ سختیاں اور چھا جانے کا جذبہ بظاہر ایسا احساس ضرور دلاتا ہے کہ ”سب اچھا“ ہے لیکن یہ احساس دھوکے کی ٹٹی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا۔ آزادی کے لئے کیا کچھ کرنا اور قربان کرنا پڑتا ہے اس بات کا ادراک آج کل کے جوانوں اور نو جوانوں کے لئے بہت مشکل ہے بلکہ پاکستان میں موجود کروڑوں لوگوں کو بھی اس کا اندازہ کرنا کہ آزادی کتنی قربانیوں کے بعد حاصل ہوتی ہے، بہت مشکل ہے اس لئے کہ یہ بات آگ و خون کے دریاؤں کو عبور کرنے والوں کے دل ہی جان سکتے ہیں۔

اگر آزادی کی قدر معلوم کرنا ہو اور اس کی خاطر قربانیاں دینے کا جذبہ اگر دیکھنا ہو تو کوئی کشمیر میں جاکر دیکھے۔ ہر روز بہنے والا تازہ تازہ خون، پیلٹ گنوں سے چھدنے والے بدن، سماعتوں اور بصارتوں سے محروم ہوجانے والے مردوزن، جلتی بستیاں، بلکتے بچے اور لٹتی عزتیں ا ور آبروئیں آزادی کی داستانیں سنا رہی ہوں گی۔

Read more

کیا پاکستان کا جوابی کارروائی کا فیصلہ درست ہے؟

دو عالمی جنگیں ہوئی اور اُن جنگوں سے جو نقصان ہوا اُس نقصان کو پورا کرنے کے لیے انسانی کوششوں کو صدیاں گزر گئیں لیکن وہ نقصان نہ پورا ہوا۔ برسوں انسانی سوچ و فکر کے بعد یہ نتیجہ حاصل کیا گیا کہ کسی مسئلے کا حل جنگ نہیں اور جنگ سے ہونے والی تباہی و بربادی کا ازالہ بھی ممکن نہیں۔ وہی قومیں جن کے درمیان دو عالمی جنگیں ہوئی جن کا وجود شاید دنیا میں کچھ دن اور باقی نہ رہنے والا تھا، انہیں قوموں نے اس نتیجے کو لے کر اپنے وجود کو باقی ہی نہیں رکھا بلکہ دنیا کو ہر پہلو سے سب سے مضبوط ہو کر دکھایا۔ کیا پاکستان اور ہندوستان کو اس حقیقت سے سبق نہیں سیکھنا چاہیے؟

Read more

مودی کے نام مہاتما گاندھی کا خط

آدھرنی پردھان منتری شری مودی جی، نمسکار! سب سے پہلے تو میں دیر سے سہی لیکن پلوامہ حملے کی کڑی نندا کرتا ہوں، اور آپ سے بِنتی کرتا ہوں کے حملے کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ اس کے بعد اب میں آپ جناب کی حیرانگی دور کرتا چلوں کہ کیوں میں نے آپ کو سورگ میں بیٹھ کر بھی تار بھیجنے کی زحمت کی تو ونیت پردھان منتری جی پلوامہ حملے کے بعد سے ہندوستان کی طرح یہاں سورگ میں بھی کم بے چینی نہیں پل پل کی قبریں یہاں پہنچتی ہیں تو دل بیٹھ جاتا ہے۔

Read more

بھارت سرپرائز کا انتظار کرے! اب ہماری باری ہے

جب اآپ کے گھر پر کوئی حملہ کرتا ہے، چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو آپ چپ چاپ، ہاتھ پہ ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے رہتے بلکہ اپنے گھر اور اس کے مکینوں کی حفاظت کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

بھارت کی ننگی جارحیت اور اس کا منہ توڑ جواب:

جی ہاں! منگل کی صبح 2 بج کر 54 منٹ پر آٹھ بھارتی جنگی طیاروں نے پاکستان کی علاقائی خود مختاری کی خلاف ورزی کرنے کی جسارت کی، اور پاکستان کی غیرت مند قوم اور اس کی با ہمت افواج کو للکارا۔ دشمن کا خیال تھا کہ رات کے اس پہر گھر کے چوکیدار گہری نیند کے مزے لے رہے ہوں گے اور وہ چپکے سے اپنی کارروائی کر لے گا، لیکن پاک فضائیہ کے شاہینوں نے انہیں موثر طور پر روکا

Read more

کبھی عوام سے بھی پوچھیے حال دل؟

اب تک کے حکومتی اقدامات سے عوام میں خوشی کی لہر نہیں ابھر سکی وہ پہلے بھی مایوس تھے اب بھی ہیں حکومت مگر انہیں یقین دلا رہی ہے کہ بس جلد وہ خوشحالی کا در وا ہوتا دیکھیں گے کیونکہ چند امیر ممالک یہاں سرمایہ لانے کا پروگرام بنا چکے ہیں جس سے ملکی معیشت ایک ہی جست میں اوپر جا سکتی ہے لہٰذا غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کا بھی خاتمہ ہو سکتا ہے؟

عوام کا کہنا ہے کہ ایسے دعوے ماضی میں بھی کیے جاتے رہے ہیں، منصوبے بھی بنتے رہے ہیں، معاہدے بھی کیے گئے اور وفود کا تبادلہ بھی ہوتا رہا مگر ان لوگوں کے تب بھی نہیں پھرے لہٰذا وہ مطمئن نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حکومت کے وعدوں سے کہ وہ جو کہتی ہے اس پر من و عن عمل بھی کر پائے گی۔ شاید ایسا اس لیے ہوا ہے کہ وہ (حکومت) احتساب پر بڑی شد و مد کے ساتھ کہہ رہی تھی کہ احتساب ہو گا اور بلا تفریق ہو گا۔ ملک سے باہر گیا پیسا واپس لایا جائے گا مگر اب ایسا کچھ نظر نہیں آ رہا احتساب کسی بڑے کا نہیں ہو رہا جو ہو رہا ہے وہ محض دکھاوا ہے؟

Read more

انڈیا کا ”حملہ:“ میں عمران، جوان اور جرنیلان کے ساتھ ہوں

پاکستان سے بھاگ نکلنے والے ”ترقی پسند“ دانشوران، اور پشتون تحفظ تحریک کے چند ارکان علاوہ خود ترحمی کے مارے ہوئے ڈیڑھ پنجابی دانوں اور مقامی سرخیلوں کے برعکس، راقم حضرت میکاولی کے خیال سے جنم لینے والی کلاسیکی ریاست کا حامی ہے اور اس کی غلطیوں میں سے لطف کشید نہیں کرتا۔

لطف کشید نہ کرنے کی وجہ ذاتی لالچ پر بنیاد کرتی ہے اور کلاسیکی ریاست کے وجود کے قائم رہنے کے حوالے سے اک قومی اعتماد پر بھی۔ ذاتی لالچ اس لیے کہ راقم چونکہ دانشور نہیں تو لہذا موقع اور وسائل رکھنے کے باوجود پاکستان سے بھاگ نکلنے کا کوئی شوق نہیں اور ارادہ بھی نہیں۔ اور ریاست کے وجود سے جڑا قومی اعتماد اس لیے کہ پچھلے چالیس سالوں میں افغان، وسطی ایشیائی، صومالی، کانگوی، سرے لئیونی، فلسطینی، بوسنیائی، عراقی، شامی اور یمنی ریاستوں کے گرنے کی وجہ سے ان کے شہریوں کی دربدری دیکھ رکھی ہے۔ ان تمام ریاستوں کا قومی وجود اور نقشہ تو آج بھی ویسے کا ویسا ہی قائم ہے، کیا وہاں ریاستیں موجود ہیں؟ اس کا جواب آپ خود ہی تلاش کر لیجیے۔

Read more

بھارتی جنگی جنون اور ایشیاء کا امن!

پلوامہ حملہ کے الزام کی آڑ میں بھارت نے مقبوضہ وادی میں ظلم کے پہاڑ توڑنے کے ساتھ ہی آزاد کشمیر میں شدید لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنا شروع کر دی۔ یہ آج کی بات نہیں بھارت نے ہمیشہ راہِ فرار اختیار کی۔ اگر تاریخ کے اوراق اٹھا کر دیکھیں تو بھارتی حکومت اگر ایک طرف کوئی ایسا قدم اُٹھاتی ہے یا اقدام کرتی ہے جس سے پاکستان سے مفاہمت کا تاثر اُبھرتا ہے تو ساتھ ہی وہ

Read more

اکثریت جنگ نہیں چاہتی

شاباش پاک فضائیہ، ویلڈن پاک فوج، جو گھر میں گھسنے کی جسارت کرے اسے ایسا جواب ہی دیتے ہیں۔ غنیم رات کے اندھیرے میں گھسا، تم نے دن کے اجالے میں اسے اوقات یاد دلائی۔ دفاع تمہاری ذمہ داری ہے اور تم نے اپنا فرض بخوبی نبھایا۔ انسانی امنگیں تاہم جنگ کے ماحول میں نہیں، حالت امن میں ہی پنپتی اور پوری ہوتی ہیں۔ امن کے حوالے سے فوج کا کام ہر عاقبت نا اندیش مجرمانہ حرکت کا بھرپور جواب

Read more

جنگ ہرگز بھی پکنک نہیں

کسی بھی قوم کی ذہنی نشوونما کا اندازہ اپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ وہ جنگ میں زیادہ خوش رہتی ہیں یا امن میں۔ بد قسمتی سے پاکستان اور ہندوستان دونوں قومیں امن سے زیادہ جنگ میں خوش رہتی ہیں۔ ہندوستان کے سوشل میڈیا کے مطابق ادھے پاکستان پر وہ سرجیکل سٹرائیک کر چکے ہیں جبکہ پاکستان کے سوشل میڈیا کے مطابق ہم اس وقت سیالکوٹ کے قریب ہندوستان پر پاکستان کا جھنڈا لہرا چکے ہیں۔ ہمارے نزدیک

Read more

ہمارے پاک فوج کے جواں!

وطن عزیز سے پیارا کچھ نہیں ہوتا۔ ایک شہری اپنے ملک و قوم کے لئے اپنے آپ میں وہی جذبات رکھتا ہے جوکہ ایک فوجی جوان۔ آج کی سیاہ رات دیگر راتوں سے منفرد ہے۔ سنا ہے کہ میرے وطن کے جانباز نوجوان وطن کی سرحدوں پر بڑی جیدہ دلیری سے دشمن وطن سے لڑ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس تیز دور میں اس کی ساری رپورٹ لمحہ بہ لمحہ مل رہی ہے جبکہ حکومت پاکستان نے اس طرح

Read more

بغیر ٹیسٹ وانٹرویو اساتذہ کی بھرتیاں، تعلیم دشمن اقدام

ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ کی حکومت کے قیام کے بعد بلوچستان میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پہلے مرحلے میں تعلیمی بجٹ میں چار فیصد سے اضافہ کرکے 24 فیصد کردیا گیا۔ اساتذہ کی کمی کے پیش نظر این ٹی ایس کے ذریعے صوبے بھر میں پانچ ہزار اساتذہ کی تعیناتیاں عمل میں لائی گئیں۔ اس کے ساتھ نواب اسلم رئیسانی کے دور حکومت میں حقوق بلوچستان پیکیج کے تحت بھرتی ہونے والے ہزاروں اساتذہ کو مستقل

Read more

شہزادے کا دورہ، کشمیر چین اور دہشت گردی

اب جب کہ شہزادہ محمد بن سلمان کا ایشیائی ممالک کا دورہ مکمل ہو چکا ہے وقت ہے غور کریں کہ اس سے ہمیں کیا سبق سیکھنا چاہے۔

شہزادہ اگر چہ ابھی ولی عہد ہے مگر حقیقی طور پر مملکت کے اندرونی اور بیرونی تمام معاملات میں وہی حرف آخر ہے۔ انہوں نے اپریل 2016 میں سعودیہ کا وژن 2030 کا پروگرام پیش کیا جس کا ہدف اپنی معیشت کا انحصار تیل سے کم کر کے دوسرے ذرائع اختیار کرنا ہے۔ دوسرے ممالک کے ساتھ معاشی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا، جس میں تیل کے ساتھ ساتھ اشیاء کی تجارت مثلا ہتھیار، اشیاء صرف، سیاحت وغیرہ کو فروغ دینا ہے۔

اس سلسلے میں اکتوبر 2018 میں ریاض میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی جو کہ پوری طرح کامیاب نہ ہوئی کیونکہ اس سے پہلے ترکی میں جمال خشوگی کا قتل ہو گیا۔ اس قتل کے بعد سعودیہ مغربی دنیا میں کارنر ہوتا چلا گیا۔ اور شاید اسی وجہ سے ولی عہد کا ملائشیا اور سنگا پور کا موجودہ دورہ بھی ملتوی ہوا۔ سعودیہ پچھلے چار سال سے یمن میں بری طرح الجھا ہوا ہے۔ یمن کی جنگ کی طوالت کی وجہ سے ہلاکتیں اور عام شہریوں کی تکلیفات بڑھ رہی ہیں اوراس سے بھی سعودیہ پر عالمی دباوبڑھتا جا رہا ہے۔

Read more

آؤ نا جنگ کرتے ہیں

میں صبح ماڈل ٹاون پارک سے تازی ہوا کھا کر واپس فلیٹ پر پہنچا آفس کی تیاری کے ساتھ ساتھ میں ٹی وی پر صبح خبریں لگا لیتا ہوں ہمارا میڈیا پہلی دفعہ اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہت اچھی رپورٹنگ کر رہا ہے جس میں ابھی تک جنگ کی بو نہیں آ رہی میں نے کہا چلو انڈینن نیوز چینل لگا کر بھی ان کا موقف دیکھا جائے پھر کیا تھا مجھے لگا کہ ان کی میڈیا تک پاگل ہوا پھر رہا ہے سب چیز کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالے ڈالے جار ہاہے۔

پلوامہ حملہ ہوا کشمیر میں جس کی ذمہ داری قبول کی جیش محمد  نے قصور وار ٹھہرایا جا رہا ہے پاکستان کو۔ ہمارے وزیر اعظم عمران خان صاحب کی بات بڑی وزن والی ہے کہ پلوامہ میں ہونے والے اس دھماکہ سے پاکستان کو کیا فائدہ ہونا تھا جب کہ پاکستان میں اس وقت سعودی عرب سے پورا وفد پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے آیا ہوا تھا۔ سب سے پہلے کسی واقع سے سب سے زیادہ جس کو فائدہ ہوتا ہے اس پر شک کیا جانا بنتا ہے تو اس حوالے سے سب سے زیادہ فائدہ مودی حکومت اُٹھانا چاہتی ہے وہ جنگ کا ماحول بنا کر زیادہ سے زیادہ پاکستان مخالفت میں ووٹ لینا چاہتی ہے۔

Read more

سنو! آواز تم میری

اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات

آج دن بہت جلدی گزر گیا ایک لمحے کے لئے خیال آیا یہ زندگی بھی جلد ہی گزر جائے گی۔ گئے دنوں کو یاد کرتی ہوں تو ہنس دیتی ہوں در حقیقت میں ہی سب سے زیادہ ہنسنے والی بچی تھی خاک ہو زندگی! ہمیں بے وجہ رلاتی رہتی ہے۔ بھلازندگی کب آسان ہوتی ہے اسے تو آسان بنانا پڑتا ہے۔ کبھی خود کو جھوٹی تسلی دے کر کبھی جنّت کا تصور کر کے۔ خیرصبح اٹھ کر خدا کی کتاب کو چوما اور گھر کی صفائی کیں، کتابیں پڑھ پڑھ کے نظر کمزور ہو گئی ہے اب تو لوگوں کو بھی مشکل سے پہچانتی ہوں۔ علم کا شوق کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا ہے جتنا پڑھتی ہوں لگتا ہے بہت ہی کم ہے۔

Read more

مسیحی آبادیوں کی ترقی

پاکستا ن میں مسیحیوں کی تعداد 2017 کی مردم شماری کے مطابق 3,237,893 ہے جو کہ ٹوٹل آبادی کا 1.6 فیصد ہے اور زیادہ تر مسیحی لوگ صوبہ پنجاب اور اسلام آباد کے حدود میں رہتے ہیں۔ جن میں سے بیشتر کرسچن اپنی آباد کی گئی بستیوں اور حکومت کی طرف شہروں سے دو ر آباد کی گئی آبادیوں میں رہتی ہیں، اور اب زیادہ تر آبادیاں شہروں کی حدود پھیلنے سے شہروں کا حصہ بن چکی ہیں۔ اور شہری حدود میں قائم ہونے کے باوجودزیادہ تر مسیحی آبادیوں کی ترقی کی حالت اور ارد گرد دیگر لوگوں کی آبادیوں میں ترقیاتی کاموں کی صورتحال کو دیکھ کر ایک تفریق کا احساس ہوتا ہے، اگرچہ سابق حکومت کا ایک فرد ایک ووٹ کا فیصلہ کم از کم سیاسی اعتبار سے حکومتی نمائندوں کو مسیحیوں اور مسیحی آبادیوں کے رہائشیوں کے پاس تو لے آ یا مگر الیکشن کے بعد پھر سے ان نمائندوں کی محبت ختم ہو جاتی ہے اور ترقی کے لیے ہمیں اپنے نمائندوں سے رجوع کا سبق پڑھایا جاتا ہے۔

Read more

حصولِ علم کے لیے قسمت، محنت اور دولت کا کردار

انسان کی زندگی کا سب سے اہم مقصد اور فرض سمجھ بُوجھ حاصل کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے جو وہ کوشس کرتا ہے اسے تعلیم کہتے ہیں۔ یہ تعلیم روحانی، ذہنی اور جسمانی ہر طرح کی ہوتی ہے اور اس طرح ہم اشرف المخلوقات کے درجے تک پہنچتے ہیں۔ مذہبِ اسلام کی ابتدا بھی لفظ اِقراء (پڑھ) سے ہے۔ علم کا لفظی مطلب ہے جاننا، آگاہی، پہچان وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الذہر آیت نمبر 9 میں فرماتا ہے،

اے نبی کہہ دیجیے کیا علم والے (عالم) اور بے علم (جاہل) برابر ہو سکتے ہیں۔

Read more

جینا ہے تو آگے بڑھنا ہے

نجانے ہم لوگ دکھ اوڑھ کے اتنا خوش کیوں ہوتے ہیں۔ صدیوں پرانی تہذیب کے کھوجانے کا دکھ ہو یا کسی اپنے پرائے کی کہی گئی کسی بات یا عمل کا دکھ۔ عجیب بات ہے ہمیں دکھ میں رہنا اتنا پسند ہوتا ہے کہ زندگی بالکل متوازن بھی ہو تو کوئی بھولی بسری یاد نکال کے خود کو دکھی کر لیتے ہیں۔ بات یہ نہیں کہ ہم حساس نہیں ہونا چاہیے بات یہ ہے کہ ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ احساس کس کیفیت کا نام ہے۔

ہم اپنے حوالے میں حساس نہیں بلکہ اوور سنسیٹو ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہر توجہ، ہر جذبہ، ہر خیال ہمارا حق ہو اور اس کے بدلے میں ہمیں کچھ نہ دینا پڑے۔ جہاں تھوڑی سی اس حق پہ ضرب پڑتی ہے ہم تڑپ اٹھتے ہیں۔ اور پھر تہیہ کر لیتے ہیں کہ اب کبھی اس بات کو معاف نہیں کرنا۔ پھر ہر جاننے والے سے ایک ہی شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ فالاں وقت یہ بات ہوئی۔ دراصل ہم بھلانا نہیں چاہتے نہ ہی اس کیفیت سے نکلنا چاہتے ہیں

Read more

کیا پاک بھارت ایٹمی جنگ کا امکان ہے؟

پلوامہ حملے کے بعد بھارت کی طرف سے اس کی ذمہ داری پاکستان پہ ڈالتے ہوئے کھلے عام جنگ کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں جنگ کے نقارے بج رہے ہیں اور پاکستان پہ چڑھ دوڑنے اور مٹانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، بھارتی میڈیا جنگی صحافت کرتے ہوئے اشتعال کی آگ بھڑکانے میں مصروف ہے جبکہ دوسری طرف پاکستانی میڈیا بھی اس کا بھرپور جواب دے رہا ہے۔

سرحدوں اور بلخصوص لائن آف کنٹرول پہ کشیدگی بڑھ چکی ہے بھارت نے لائن آف کنٹرول پہ اپنے زیر قبضہ کشمیر کے دیہات خالی کروا لیے ہیں۔

Read more

خانوزئی اور پھولوں کے جنازے

بلاشبہ انسانی زندگی مختلف سانحات اورالمیوں سے عبارت ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ روئے زمیں پر ہر ذی روح کو فنا ہوناہے اور صرف خداوندباری تعالیٰ کی ذات ہی باقی رہنی ہے ”کُل مَن علیہا فان ویبقیٰ وجہ ربک َذُوالجلالِ والاکرام (القرآن) ۔ ہمارا یہ بھی عقیدہ ہے اور ہونا چاہیے کہ پَل پَل بدلتی انسانی زندگی میں تقدیر کے رول کو ایک بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن ان لوگوں کی عقل پرتو ماتم ہی کیا جاسکتاہے جو ہرناخوشگوار واقعے کو صرف مقدر کی کارستانی کہہ کر انسان کو بری الذمہ قرار دیتے ہیں۔ اگر ان قابل رحم انسانوں کی بات کو مان لیاجائے تو پھر اس کا یہ مطلب ہوتاہے کہ انسان ایک مجبورِ محض مخلوق ہے اور نظام زندگی میں ہونے والی خرابیوں کے ادنیٰ درجے کی ذمہ داری بھی اس پر عائد نہیں ہوتی ہے۔

Read more

پاک بھارت کشیدگی میں اِضافہ، ایک لمحہ فکریہ

اس بات سے کوئی دلیلاً انکار نہیں کر سکتا کہ پاک بھارت تعلقات ہمیشہ ہی سے کم و بیش کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ دونوں ممالک شروع ہی سے ایک دوسرے کو آنکھیں دِکھاتے آ رہے ہیں۔ بغیر کسی ہلچل کے ایک ماہ کا گزرنا ایک دیوانے کا خواب لگتا ہے۔ آپ اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ دنیا چاند پر پہنچ گئی، سمندروں کی تہہ تک پہنچ چکی ہے اور یہ دونوں ملک واہگہ بارڈر پر اس کشمکش میں ہیں کہ کس کی ٹانگ اوپر جاتی ہے!

Read more

قاتل کون

سب صحیح کہتے ہیں میں زمین پر بوجھ ہوں اس لئے مجھے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے، میرا مر جانا ہی بہتر ہے۔ کاغذ پر یہ سطریں بکھری پڑی تھیں، جو زمین پر علی کے ساتھ گرا پڑا تھا، علی کے منہ سے سفید جاگ نکل رہی تھی۔

مریم اماں سے کہتی ہے یہ علی کہاں ہے؟ کب سے بلا رہی ہوں مجھے کوثر کی طرف جانا ہے۔ کہیں موبائل پر لگا ہو گا نمرہ سے باتیں کرنے۔ آپ اسے سمجھاتی کیوں نہیں۔ اماں کہتی ہے، میں کیا سمجھاؤں وہ سمجھتا کب ہے میری، ویسے بھی بچپن کی منگنی ہے۔

مریم اگے سے ہاں آپ کیوں سمجھائیں گی وہ تو ویسے بھی آپ کا لاڈلا ہے، اب میں خود ہی جارہی ہوں اس نے تو سننی نہیں بات، آج کل رہتا بھی اتنا چڑچڑا ہے۔ نمرہ فون پر ایمان سے کہتی ہے، میں نے توڑ لی ہے منگنی علی سے، میں تنگ آ گئی تھی اس کے پاگل پن سے، وہ نفسیاتی مریض بن چکا ہے۔ ابھی بابا اور پھوپھو لوگوں کو نہیں پتہ مگر اماں کو بتا دیا ہے انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ میرا ساتھ دیں گی اور بابا کو منا لیں گی۔

Read more

فروری دو عظیم شخصیات کا یوم وفات 22

22 فرورى ہر سال آتا ہے اور ہمیں دو عظیم انقلابى شخصیات کى یاد دلا جاتا ہے، ان دونوں شخصیات کا زمانہ اگرچہ الگ الگ ہے لیکن ان میں بہت سی فکری مماثلتیں موجود ہیں، پہلى شخصیت برصغیر کے نامور انقلابی لیڈر، تحریک آزادى کے علمبر دار، اما م الہند حضرت مولانا ابو الکلام آزاد رحمہ اللہ کى ہے۔

مولانا آزاد کا شمار برصغیر کى ممتاز دینى، مذہبى، علمى اور سیاسى شخصیات میں ہوتا ہے، وہ غیر معمولى ذہن اور دماغ کے مالک تھے، ملت اسلامیہ کے بڑے قابل قدر اور نابغہ روز گار شخصیت تھے، اپنے علم وعمل، اخلاق واطوار، وضع و تہذیب اور سیرت و کردار کے اعتبار سے بلند مقام پر فائز تھے، وہ ایک عظیم اور قومى لیڈر کے طور پر سامنے آئے اور دیکھتے ہى دیکھتے پورے ملک پر چھا گئے، اللہ تعالى نے مولانا کو وسیع فکر ونظر اوربے پناہ سیاسى شعور سے نوازا تھا جس کى بنا پر انہوں نے مسلمانان برصغیر کے دلوں میں عظیم انقلابی روح پھونک دى اور یوں خواب غفلت میں سوئى ہوئى قوم کو بیدار کر دیا۔

Read more

سیاست کا جغرافیہ

فی زمانہ سلطنتِ سیاست اک محیرالعقول ریاست کا روپ دھار چکی ہے۔ آئیے اس کی نوعیت، خدو خال اور لوازمات جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

حدو د اربعہ : سلطنتِ سیاست کے مشرق میں اقتد ار کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر پوری آب وتاب سے موجزن ہیں جس کے ساحل پہ شاہینوں کے بسیروں کے واسطے قصرِسلطانی کے بے شمار گنبدبھی ہیں۔ مغرب میں اقتدار کی راہ میں روڑے اٹکانے والے پہاڑ اور نفرتوں کے منجمد گلیشئر ہیں۔ شمال میں بڑے بڑے ہمالے اور چھوٹے چھوٹے اڈیالے وجود رکھتے ہیں جبکہ جنوب میں مایوسیوں، دکھوں، انتقاموں اور طعن وتشنیع کے جھلستے ریگستان پھیلے ہوئے ہیں۔ جگہ جگہ وعدوں کے سبز باغات کے ساتھ ساتھ مایوسی کے کالے باغ بھی قابلِ ذکر ہیں۔ شمال مغربی کونے میں قرضوں کے کوہِ گراں اور مرکزی خطوں میں ترقی کی چٹیل ڈھلانیں ہیں۔ کہیں کہیں ڈیل اور ڈھیل کے ہرے بھرے صحت افزاء مقامات بھی ہیں۔

Read more

پاکستانی سیاحت توجہ اور کام چاہتی ہے

ہماری دھرتی پاکستان قدرتی حسن سے مالا مال وہ خطہ جہاں فطرت نے جابجا اپنی فیاضی بکھیری ہے۔ یہاں دنیا کے تین عظیم و شان پہاڑی سلسلے قراقرم، ہمالیہ، اور ہندوکش ایک ساتھ اپنا دیدار کراتے ہیں جن کے پہاڑ وں کی چوٹیاں دیکھنے والوں کو خودبخود خالق قائنات کی کاری گری کے سامنے سر جھکانے پر مجبورکردیتی ہیں پھر چاہے وہ دنیا کی آٹھ ہزار میٹر سے بلندچودہ چوٹیوں میں سے پاکستان کی پانچ، کے ٹو، نانگا پربت، گیشربرم

Read more

جنگل نما معاشرہ اورانصاف

پاکستان کی موجودہ حیثیت اور شکل کا جائزہ لیا جائے تو ایک خطرناک جنگل کا شکل اختیار کیا ہوا ہے جس میں خونخواد درندے روز بروز تعداد میں بڑھ رہے ہیں اور معصوم اور بے ضررجانوروں کی بہتاط نظرآرہی ہے۔ روز ہزاروں ایسے کیسز نظر آجاتے ہیں جو ظلم بربریت اوروحشت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ چند دن میڈیا خبروں کی زینت بنتے ہیں پولیس حکام بالا اورریاستی اداروں کی طرف سے افسوس، مذمت اور قانونی کارروائی کے دعوے ہوتے

Read more

جمہوریت یا ذاتی مفاد کا کھیل؟

قومی احتساب بیورو (نیب) نے اسپیکرسندھ اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے رہنما آغا سراج درانی کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کرلیا جس پر سابق صدر مملکت اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے سخت ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو جتنا وقت دینا تھا دے دیا اور اب مزید وقت نہیں دیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمن قدم بڑھائیں ہم ساتھ ہیں جب کہ پارٹی سربراہ بلاول نے اسپیکر قومی

Read more

ایک سیاستدان ایک صحافی

گزشتہ دنوں بلوچستان کے شہر ڈیرہ اللّٰہ یار ضلع جعفر آباد میں ایک صحافتی تقریب کا انعقاد ہوا۔ اس تقریب میں صحافیوں کے علاوہ سیاستدان اور سرکاری افسران سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور عام شہری بھی کثیر تعداد میں شریک تھے۔ اس موقع پر بلوچستان کے ایک بزرگ صحافی سعید احمد نعمانی نے سیاستدانوں صحافیوں اوربیورکریٹس کے متعلق نہایت اہم ترین اور سبق آموز تجربات اور مشاہدات بیان کیے۔

ان میں سے سیاستدان اور صحافی کے واقعات بیان کرنا چاہتا ہوں۔ ایک تحریک آزادی کے اہم رہنما فدائے ملت اور حضرت قائد اعظم کے قریبی ساتھی میر جعفر خان جمالی اور دوسرے قابل رشک کردار کے مالک صحافی ملک رمضان بلوچ ہیں۔ یہ دونوں شخصیات دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں اور ان دونوں کا تعلق نصیرآباد ڈویژن سے تھا جس سے میرا تعلق بھی ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میں ان کے علاقے سے تعلق رکھتا ہوں۔ محترم سعید احمد نعمانی کے مطابق واقعات کچھ اس طرح کے ہیں۔

Read more

اپنے حصے کا دیا

مجھے یہ کہنے میں کوئی عار یا شرمندگی بالکل بھی محسوس نہیں ہوگی کہ آج ہمارا معاشرہ بے حس اور بے راہ روی کا شکار ہو چکا ہے۔ آئے روز ایک نہ ایک واقعہ ایسی رپورٹ ہوتی ہے جس کے وجوہات جان کر انسان دنگ رہ جاتا ہے اور اپنے وجود کا خدا سے گلہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ جس تیزی کے ساتھ دنیا ترقی کے منازل طے کرتی ہے اس تناسب سے ہماری ذہنی پسماندگی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے حتیٰ کہ یہ خیال تک نہیں آتا ہے کہ اپنے اعمال پر شرمندہ ہو کر توبہ کرے اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالے۔

عموماً ہم اپنے لیے وکیل اور دوسرے کے لیے جج کا کردار ادا کرتے ہیں کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنے کی زحمت نہیں کرتے ہیں کہ میرے اندر کتنے خرابیاں ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں خلل پیدا ہو سکتا ہے، چونکہ معاشرے کو بنانے اور بگاڑنے میں انفرادیت کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ ہمارا پسندیدہ مشغلہ یہ ہے کہ معاشرے کی اصلاح کے لیے ہم کوئی عملی کام نہیں کرتے بلکہ دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرا کر اپنا بوجھ ہلکا کر دیتے ہیں، حالانکہ انفرادی اصلاح کے بغیر اجتماعی اصلاح ممکن نہیں ہے۔

Read more

مستقبل بینی

انسانی ذہن بہت پیچیدہ ہے۔ یہ ایک طرف دماغ میں خارج ہونے والے مختلف کیمیائی مادوں اور ان کے باہمی تعاملات سے پیدا ہونے والے جذبات، احساسات اور خیالات اور دوسری طرف ارد گرد پھیلے حالات و واقعات یعنی معروض سے تسلسل کے ساتھ ملنے والے پیغامات کے باہمی ملاپ سے تشکیل پاتا ہے۔ گویا ہمارے ہر خواب، خیال اور عمل کے پس منظر میں ارب ہا نیورانوں کا ایک دیوانہ وار رقص ہوتا ہے۔ ایک انسانی سماج بنیادی طور

Read more

یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا

خبروں کے مطابق پی ٹی آئی حکومت نے جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو کالعدم قراردیدیا۔ بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے۔ ہر قسم کی سرگرمیوں پر بھی پاندی عائد کردی۔ دفاتر سیل کرنے کا حکم جاری کردیا گیا۔ دونوں تنظیمیں پہلے ہی واچ لسٹ میں شامل تھیں۔ خبروں میں کہا گیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد اورکالعدم جماعتوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ وزیر اعظم ہاؤس میں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کے اجلاس میں ہوا۔

اجلاس میں حکومت نے جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو کالعدم قراردیدیا اورکالعدم جماعتوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عملدرآمد کیا جائے گا جس کے تحت کالعدم تنظیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن ہوگا۔

Read more

وزیراعلی بلوچستان کا ضلع سیلاب کی زد میں

سیلاب ہو یا زلزلہ کبھی بتا کر نہیں آتا جبکہ کوئی بھی آفت بتا کر نہیں آتی۔ اور اس سے نمٹنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ لیکن کسی بھی سانحے یا حادثے سے پہلے حفاظتی انتظامات کرنا نقصان سے تو بچا نہیں سکتا مگر نقصان کی نوعیت کو کم ضرور کرتا ہے۔ اور باقاعدہ اس انتظام کے لئے ہر ریاست کی عین ذمے داری ہوتی ہے جس میں وہ متاثرین کو مکمل ریلیف دینے اور آفت آنے

Read more

ایٹمی قوتیں جنگوں کی متحمل نہی ہوسکتیں

جمعۃ المبارک 22 فروری کی سہ پہر ڈی جی آیی ایس پی آر آصف غفور صاحب نے میڈیا بریفنگ دی۔ قومی و بین الاقوامی صحافیوں کے جھرمٹ میں یہ ایک بہترین کانفرینس تھی۔ اپنی بات اور ریاست کی حکمت عملی سے آگاہ کرنے کے بعد سوال و جواب کی نشست لگی۔ ایک صاحب نے پوچھا کہ وزیر اعظم عمران خان صاحب نے قومی سلامتی کے اجلاس میں افواج کے سربراہان کو جو جنگی اختیارات تفویض کیے ہیں ان میں نیوکلیئر ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت بھی دی ہے تو ایک بہترین جواب تھا جو ایک ذمہ دار مہذب قوم کی ترجمانی کر رہا تھا۔

ڈی جی صاحب نے فرمایا کہ آپ کا سوال ہی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ بلکہ ان کے الفاظ اس سے بھی قدرے سخت تھے۔ کئی بار انہوں نے اس سوال کو دیوانگی آمیز سوال کہا۔ جواب کیا تھا وہ لائق تحسین ہے۔ ”ایٹمی اسلحہ جنگوں کے لیے نہی ہوتا۔ یہ سیاسی ڈیٹیرینس ہوتی ہے جو اقوام کو جنگ کرنے سے روکتی ہے۔ مہذب اقوام جنگ کرنے کا سوچ بھی نہی سکتیں، اور ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال تو جنگی پلان کا حصہ ہی نہی ہوتا۔ رہی بات وزیراعظم صاحب کی اجازت کی تو انہوں نے جنگ کرنے کی اجازت نہی دی کیونکہ ان کے نزدیک جنگ کا آغاز ہمارے بس میں ہوتا ہے، انجام کا کسی کے پاس کوئی حل نہی۔ انہوں نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ اگر اس پار سے جنگ شروع کی جائے تو اس کا جواب دینا ہے۔ “

Read more

سوات کی زبانیں خطرے سے دوچار

اکیس فروری کو مادری زبانوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یونیسکو نے نومبر 1999 کو اپنے پیرس کے ہیڈکوارٹر میں مادری زبانوں کے عالمی دن کو منانے کا اعلان کیا۔ مادری زبانوں کو منانے کا مقصد ان چھوٹی زبانوں کو تحفظ اور فروغ دینا ہے جو معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ان زبانوں کی معدومیت سے مقامی ثقافت اور اس زبان سے جڑے حقائق بھی معدوم ہوجاتے ہیں۔ اسی لئے یونیسکو نے ذریعہ تعلیم کو بھی مادری زبان میں دینا لازمی قراردیا۔ ترقی یافتہ ممالک میں سرکاری تعلیم مادری زبان میں دی جاتی ہے۔ اس لئے ترقی یافتہ ممالک کا معیار تعلیم بہ نسبت ترقی پذیر ممالک بہت بلند ہے۔

پاکستان میں بھی 74 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ جن میں بڑی زبانوں میں سے پنجابی، پشتو، ہندکو، سرائیکی وغیرہ ہیں۔ لیکن ایسے کئی چھوٹی زبانیں بھی موجود ہیں جن میں سے کئی معدوم ہوچکے ہیں اور کئی کو معدومیت کا خطرہ ہے۔ ان خطرے سے دوچار زبانوں میں سے 7 زبانیں صرف وادی سوات میں بولی جاتی ہیں۔ جن میں پشتو، گوجری، گاؤری، توروالی، کھوار، اشوجو اور بدیشی شامل ہیں۔ مادری زبانوں کے تحفظ پر کام کرنے والے محمد زمان ساگر کے بقول بدیشی زبان ختم ہوچکی ہے، جبکہ اشوجو صرف تین افراد بول سکتے ہیں۔

Read more

پاکستان سوچے گا نہیں، جواب دے گا!

چند روز قبل مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی سیکیورٹی فورسزپرہونے والے حملے کے بعد سے بھارت عالمی اور قومی فورم پر پاکستان کےخلاف زہر اگلنے میں مصروف ہے۔ چاہے سفارتی شخصیات ہوں یا بھارت کی ادبی اور شوبز سے تعلق رکھنے والی سیلیبریٹیز، ہر جگہ سے جنگ کی آوازیں اور نفرت کی آگ بلند ہوتی نظر آ رہی ہے۔ پلوامہ حملے کے بعد بھارتی سوچ کی غلاظت بھی سوشل میڈیا پر ہر طرف پھیلی نظر آ رہی ہے۔

Read more

اب لال ٹماٹروں کو ترسو

سوشل میڈیا پر ایک بھارتی کسان کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے، جس میں وہ دھمکی دے رہے ہیں کہ اب ہم اپنے ٹماٹر پاکستان کو فروخت نہیں کریں گے، کیونکہ وہ ہمارے ٹماٹر کھا کر ہمارے ہی جوانوں کو مارتے ہیں۔ اور یہ ویڈیو ایک مشہور بھارتی نیوز چینل ABP نیوز سے لی گئی ہے۔ جہاں ایک خاتون نیوز اینکر اس بڑی خبر کی جانکاری ان الفاظ میں دے رہی ہیں۔

”اب نہیں دیں گے ٹماٹر پاکستان کو“

اب لال ٹماٹروں کو ترسے گا پاکستان ”

Read more

عالمی اردو کانفرنس اور ہندوستان کا سفر

ہندوستان جانا محض ایک اتفاق نہیں ہے بلکہ میری پیدائش ہندوستان میں ہوئی ہے جس کی وجہ سے میرا ہندوستان جانا لازمی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ آج بھی ہمارے خاندان کے لوگ وہاں آباد ہیں اور چاہنے والوں کا ایک جم غفیر ہے جو ہمیشہ بانہیں پھیلائے میرا استقبال کرنے کو تیار رہتا ہے۔ ہندوستان کی ثقافت، تہذیب، زبان پکوان تو دنیا بھر میں مقبول ہے۔ لیکن میں ان تمام باتوں کے علاوہ ہندوستان کے سیاسی اتار چڑھاؤ، تعصب، تعلیم، طبقاتی تفریق اور دیگر مسائل پر زیادہ توجہ دیتا ہوں۔ جو شاید موجودہ حالات میں انسان کے لیے دردِ سربنا ہوا ہے۔

ہر سال میں ہندوستان کا سفر کسی نہ کسی بہانے کر ہی لیتا ہوں لیکن اس بار کا سفر کچھ خاص تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ورلڈ اردو ایسو سی ایشن نے دلی میں عالمی اردو کانفرنس منعقد کیا تھا اور مجھے بھی اس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ تاہم لندن کی مصروف زندگی سے کانفرنس کے تینوں دن کے لیے وقت نکالنا میرے مشکل تھا اس لیے میں نے آخری دن ہی شرکت کرنے کا فیصلہ کیا۔

Read more

پرتشدد واقعات میں پاکستانی نہیں لوکل کشمیری ملوث ہیں

انڈین حکومت کے ذرائع یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ سنہ 2014 سے نریندر سنگھ مودی کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے کشمیر میں امن قائم کرنا ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ جس کی بہت سی وجوہات میں سے کشمیری مجاہدین کی طرف سے ایک کے بعد ایک حملوں نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان امن قائم کرنے کے لئے بات چیت بھی شروع نہیں ہونے دی۔ اعداد و شمار کے مطابق، ان حملوں میں ہر 2 کشمیری حریت پسندوں کے بدلہ ایک بھارتی فوجی جوان کی موت ہوئی۔ اس کے علاوہ ہر 82 کشمیری مجاہدین کی شہادت پر 18 عام کشمیری لوگوں کی جانیں بھی قابض بھارتی افواج کے ہاتھوں گئی ہیں۔

گزشتہ سال 8 جولائی 2016 ء کو برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر وادی میں حالات بہت زیادہ خراب ہو چکے ہیں۔ کشمیری نوجوان سڑک پر آ چکے ہیں۔ ہر روز کشمیری شہید رہے ہیں، بھارتی فوجی مارے جا رہے ہیں۔ اور مودی حکومت کی ہر ممکن تدبیر کے باوجود کشمیر میں معمول کی زندگی کو واپس لانے کی کوششیں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔ انڈین حکومت کے حمایت شدہ ادارے ساوتھ ایشیا ٹیرریزم پورٹ (ایس اے ٹی پی) پر موجود 2014 ء سے 2018 ء تک کے ڈیٹا کے تجزیہ کے مطابق وادی کے حالات 2018 ء کے بعد پہلے سے مزید کشیدہ ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال چھوٹے بڑے ملا کر کشمیری مجاہدین نے کل 205 حملے کیے۔ تاہم 2017 ء میں تشدد کے کل 164، 2016 ء میں 112، 2015 ء میں 88 اور 2014 ء میں 90 معاملے سامنے آئے تھے۔ وہیں 2019 ء کے دو مہینے میں اب تک 16 حملے ہو چکے ہیں۔

Read more

فخرِ فقر، حضرتِ ابوذر رضی اللہ عنہ

ہر وسیع اجتماعی انقلاب میں جو معاشرے کی ناگفتہ بہ کیفیت کے خلاف آیا ہو کچھ سبقت کرنے والے ہوتے ہیں۔ انقلاب کی اُٹھان انہی کے کندھوں پر ہوتی ہے۔ در حقیقت انقلاب کے سب سے زیادہ وفادار وہی ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا رہبر جب ہر لحاظ سے تنہا ہوتا ہے وہ اس کے گرد جمع ہوتے ہیں اور اگرچہ وہ مختلف حوالوں سے مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اور طرح طرح کے خطروں سے دوچار ہوتے ہیں، نصرت اور وفاداری سے دست بردار نہیں ہوتے۔

ان اخلاقی اور تحریکی صفات سے مزین، پاکیزہ اور سلیم قلوب کے حامل، جو علم میں بہت زیادہ درک اور گہرائی کے ساتھ ساتھ نہایت سادہ طرزِ زندگی اپنانے والے ہوتے ہیں۔ تاریخِ عالم کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایسے انقلابی، تحریکی، وفادار، اخلاقی اور سادگی پسند کارکنان صرف تحریک اسلام کے پلیٹ فارم پر محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رہبری میں جدوجہد کرتے دکھائی دیں گے، جنہیں اصحابِ محمد کہا جاتا ہے۔

Read more

کچھ ذکر سر سجاد کی سُریلی بانسری کا

اُردو ادب سے وابستگی میرے کیریئر کا ایک اہم فیصلہ تھا ورنہ شاید مجھے برسوں پتہ نہ چلتا کہ انسانی سماج میں ادب، لوک ادب، کتھا کہانی اور اساطیر کا کیا کردار ہے۔ انگریزی میڈیم بے شک مجھے اِس معاشرے میں زیادہ اہم بنادیتا لیکن میں اپنی مٹی اور اس میں گندھی ماضی کی خوشبو سے محروم رہتی مجھے ان کتابوں کے خشک اور غیر رومانوی موضوعات نے اپنی اصل کی طرف پلٹنے اور زندگی کو ایک اور زاویہ سے دیکھنے کا موقع دیا۔ میں اپنے والدین اساتذہ اور دوستوں کی ممنون ہوں اور یہ شکر مجھ پہ واجب ہے۔

Read more

بچپن۔ چند یادیں

یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی مگر مجھ کو لوٹا دو وہ بچپن کا ساون وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی انسانی زندگی تین ادوار پر مشتمل ہے بچپن ؛ جوانی اور بڑھاپا لیکن ان سب سے جو یاد رکھنے والا دور ہے وہ بچپن ہے اور ہر انسان اسے اپنی زندگی کا خوبصورت دور سمجھتا ہے اور بچپن کے کھیل ہمیشہ انسان کو من و عن

Read more

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا

”ہمیر جی ڈھانی“ تحصیل ڈیپلو کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، جس میں ضلع تھر پارکر کا ایک بڑا شاعر اور قانوندان پریت پال سنگھ راجپوت رہتا ہے، جس سے میری شناسائی جنموں کی سی ہے، شاعر اور شاعری کے موضوع پر میری اور اُس کی بہت ساری فنی و فکری نشستیں ہوتی رہتی ہیں۔ شاعری کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ”شاعری ہوا کی لہروں کی مانند ہے، پیڑ سے گرتے ہوئے پتے کو زمین تک پہنچنے

Read more

جمہوریت اور امن

پاکستان میں تبدیلی آچکی ہے۔ اور جناب محترم عمران خان کو حلف اٹھاتے چھ مہینے سے زیادہ گزر بھی چکے ہیں۔ ہمارے ملک کی روایت کے مطابق اس الیکشن میں بھی دھاندلی کے الزام لگے اور ہمیشہ کی طرح الزام ملک کے طاقتور ادارے پر لگے۔ بعض تجزیوں کے مطابق الیکشن ماضی کے الیکشن سے قدرے بہتر تھے اور اکثریتی رائے اور سروے کرانے والے اداروں کے مطابق حالیہ الیکشن پچھلے الیکشن سے بہتر نہ تھے۔ میرا ذاتی خیال بھی کچھ اس طرح ہے۔

اور یہ کہاوت مشہور ہیں۔ کہ بدترین جمہوریت آمریت سے بہتر ہے۔ ایک اور کہاوت کے مطابق جمہوریت ایک بدترین نظام ہے لیکن اس سے بہتر نظام اب تک دریافت نہیں ہوئی۔ جمہوریت کی ابتداء تو یونان سی ہوئی لیکن ہمارا ہمسائے ملک بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ہیں۔ بحیثیت ایک عام اور روشن خیال پاکستانی یہ میری شدید ترین خواہش ہے کہ میرا ملک اس عزاز کا حقدار ٹھہرے اور نا امیدی گناہ ہے۔ کشمیر میں حالیہ دہشتگردی کے واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات ماضی سے بھی زیادہ خراب۔

Read more

شدید سردی میں ٹھٹھرتی زندگیاں۔ ہماری توجہ کی منتظر

روئے زمین پر زندگی کے وجود کو قائم رکھنے اور اس کی نشوونما کے لئے مختلف موسموں کا ایک مربوط اور منظم نظام بھی خدا تعالے ٰ کی اپنی مخلوق کو عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ اس کائنات میں بسنے والا ہر ذی روح ان ماحولیاتی اثرات کے زیرِ اثر رہتا ہے۔ موسموں کے نظام میں تغیر کے موجودہ حالات کے باعث مختلف امراض کے جنم لینے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اپنی خوراک، لباس اور دیگر معمولات زندگی کواس تبدیلی کی مناسبت سے ڈھالا جاتا ہے۔

کیونکہ ذرا سی بے احتیاطی سے یہ موسم آپ کے لئے رحمت سے زحمت بن سکتا ہے۔ پاکستان شدید موسموں والے خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ بہار اور خزاں کا موسم مختصر سہی لیکن طویل موسم گرما اورپھر صبر آزما جاڑا۔ پہاڑی علاقے مہینوں برف سے ڈھکے رہتے ہیں جبکہ میدانی علاقوں میں شدید دھند کا راج رہتا ہے۔ موسم کی شدت سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے لوگ گرم کپڑوں، خشک میوہ جات اور ایندھن کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ لیکن انھی حالات میں ایک کثیر تعدادایسے نفوس کی بھی ہے جن کے لئے موسم سرما کی آمد کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہوتی۔

ان کی اکثریت یا توکھلے آسمان تلے سڑکوں پر یاپھر کپڑے کے جھونپڑوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہے۔ ایسے میں بارش کی آمد ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیتی ہے۔ سردی ہر کسی پر اپنا اثر چھوڑتی ہے لیکن بچے اور بزرگ افراد کم قوت مدافعت کے باعث موسم کی شدت کا زیادہ شکا ر ہوتے ہیں۔ ’جان ہاپکنز یونیورسٹی‘ اور غیر سرکاری تنظیم ’سیو دا چلڈرن‘ کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق اگلی دہائی کے آخر تک دنیا بھر میں ایک کروڑ آٹھ لاکھ بچے نمونیا کے باعث ہلاک ہو سکتے ہیں۔

Read more

خواجہ سراؤں کو عزت دی جائے

ایک خواجہ سرا بھیک مانگتے مانگتے سہیل صاحب کی کار کے قریب آیا اور خیرات کی فریاد کی پہلے پہل تو سہیل نے معافی طلب کرنا چاہی مگر ایک دم سے ناجانے اُسے کیسا خیال آیا کہ جیب میں موجود سارے پیسے اُس خواجہ سرا کو تھما دیے۔

شاید اُسے خواجہ سرا کی آنکھوں میں وہی خالی پن نظر آیا ہو جس کا سامنا وہ اپنی ذات میں پچھلے کئی سالوں سے کر رہا تھا گاڑی، پیسا، اعلئی عہدہ، دوست، بیوی، بچے حتٰی کہ زندگی کی ہر آسائش کے ہوتے ہوئے بھی وہ احساسات سے خالی زندگی گزار رہا تھا۔

Read more

انڈین گیدڑ بھبکیاں , بالی وڈ اور ہم

کچھ جملے بچپن سے سنتے سنتے دل تنگ آچکا ہے حکومتوں سے لے کر گھروں کے دالانوں تک چند ایک گھسی پٹی باتیں۔

کچھ روز پہلے مقبوضہ کشمیر میں ایک دل خراش واقعہ جس میں انڈین فوجی جوان مارے گئے الزام حسب روایت پاکستان پہ عائد کیا گیا۔ کیا سچ ہے کیا جھوٹ کچھ روز میں عیاں ہو جائے گا۔ حسب روایت انڈین دھمکی آمیز رویہ جو کبھی انڈین چیف کے منہ سے سن لیں یا مودی سرکار سے کوئی نہ کوئی نئی پھلجھڑی پٹاخہ پھوٹ رہا ہے۔ نئی بات نہیں لیکن اس وقتی ابال کی وجہ سے ہمارے سوشل میڈیا پہ ایسی ایسی مضحکہ خیز باتیں دیکھنے اور سننے میں آ رہی ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ جیسے آج کل بہت سے فیس بک فرینڈز کی وال پہ ”انڈین موویز“ کا بائیکاٹ کریں ٹائپ چیزیں۔ کیونکہ وہ ہماری اقدار اور اخلاق کو تباہ کر رہے ہیں۔ انڈین کلچر یہ انڈین کلچر وہ۔ لامحالہ لفظوں کی جنگ۔

Read more

ریاست ہوگی ماں کے جیسی؟

بانی پاکستان اور تحریک آزادی کے ہزاروں لاکھوں کارکنوں کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے لئے ایک ایسی الگ ریاست حاصل کرنا تھا کہ جہاں کے باسی اپنی امنگوں کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ ہر شہری اپنے فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اپنے حقوق سے بھی مستفید ہو سکے۔ ہم ایک ایسا خطہؑ ارضی تو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ جہاں حکومت تو ہمارے لوگ ہی کرتے ہیں پر یہاں کہ عام شہری آج تک ویسی ہی گھٹن کی زندگی جی رہے ہیں جیسے ان کے بزرگ برطانوی راج میں جی رہے تھے اور یہ رویہ لوگوں کے لئے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے کہ جب ان کے اپنے لوگ ان پر ظلم کرتے ہیں۔

Read more