کورونا وائرس ویکسین اور سازشی نظریات

اس وقت دنیا دو قسم کے لوگوں میں تقسیم ہے ، ایک وہ جو انسانیت کو بچانے کی کوششوں میں اپنے شب و روز قربان کر رہے ہیں اور ایک وہ لوگ جو انسانیت کو گمراہ کرنے کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ مثلاً: ایک سابق سینیٹر  نے سینکڑوں کے مجمعے میں یہ دعویٰ کیا کہ یہ ویکسین دجال کا منصوبہ ہے۔ اس کے لگتے ہی محرم رشتوں کی تمیز بھی ختم ہو جائے گی اور اس سے incest کو فروغ دیا جائے گا اور بالآخر منصوبہ ہو گا گریٹر اسرائیل کی تکمیل کا۔ ایک خودساختہ دفاعی تجزیہ کار مزید انوکھی بات لائے، اب انہیں لگتا ہے کہ ویکسین جس بھی خاتون کو لگی وہ بچے پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جائے گی۔

Read more

ہزارہ: نام میں موت رکھی ہے!

” کیا حیدر؟” "نہیں ہاشم” "جی نہیں! حیدر زیادہ اچھا ہے” "پر میرے دل کو ہاشم بھاتا ہے” مسئلہ بہت گھمبیر تھا! نام دو تھے اور اور بچہ ایک! یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہمارے گھر کے آنگن میں دو صاحبزادیوں کے بعد پھر سے قلقاریاں گونجنے والی تھیں اور شنید تھی کہ بہنوں کا بھائی تشریف لانے کو پر تول رہا ہے۔ گھر میں نام چننے کے مراحل میں گرماگرم بحث چھڑ چکی تھی جس کی ایک

Read more

رودادِ سفرِحجاز (پہلی قسط)

شب و روز اسی طرح گزر رہے تھے، ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ میں کسی بہت بڑے ہال میں ہوں۔ میری نظر ہال کی دیوار پر پڑی تو میں نے دیکھا کہ وہاں ایک بہت بڑے سائز کی سلائیڈ چل رہی ہے جس پر بجلی کے سبز رنگ کے قمقموں سے ”محمد الرسول اللہ“ لکھا ہوا ہے۔ میری نظر اس پر ٹک گئی اور میں نے بھی پڑھنا شروع کر دیا۔ ایک سرور والی کیفیت تھی اورنجانے کتنے لمحے اس کیفیت میں گزر گئے۔ پھر میری آنکھ کھل گئی اور سارا منظر آنکھوں میں نقش ہو گیا۔ میں جتنی مرتبہ اس کو یاد کرتی ، اتنی مرتبہ لطف اندوز ہوتی۔ درود پاک کا ورد میری عادت میں شامل تھا۔ اب میں نے کلمے کا ورد بھی شروع کر دیا۔

Read more

برہمن آباد: ’چار دروازوں والے شہر‘ کے نیچے اسلامی تہذیب سے کئی صدیوں قبل کے آثار برآمد

شاہ عبدالطیف یونیورسٹی کے شعبے آرکیالوجی نے حالیہ سائنسی تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ یہاں قبل اسلام تین عیسوی صدی کی آبادی کے آثار بھی موجود ہیں۔

Read more

لکھنوٴ سے آئی نظمیں

ماسٹر صاحب نے تو آوٴ دیکھا نہ تاوٴ۔ تسلیم کو سامنے بلایا اور دو تین چھڑیاں اس کے دائیں بائیں بازو پہ جڑ دیں۔ اور غصے میں بولے، ”گندی بچی۔ ایک ایک بال میں دس دس جوئیں ہیں تمہارے۔ پہلے وہ تو نکلواؤ پھر اس بچی کے قریب بیٹھنا اور خبردار جو آئندہ زارا کو ڈرانے کی کوشش کی، ورنہ تمہارے ناناجان سے شکایت کروں گا پھر دیکھنا کیا حشر کریں گے وہ تمہارا۔“ تسلیم نے کینہ پرور نظروں سے اس کو دیکھا۔ ماسٹر صاحب نے پیار سے زارا کے سر پہ ہاتھ پھیرا اور بولے۔ ”اب ہم خود اپنی بیٹی کو روزانہ چھٹی میں گھر تک چھوڑ کر آئیں گے تاکہ یہ تسلیم پگلی ہماری بیٹی کو تنگ نہ کر سکے۔“

Read more

ہمارے یہاں شہید بنانے کا کام تسلی بخش کیا جاتا ہے

میرے عزیز ہم وطنو، میں جانتا ہوں کہ آپ کو اب میرے خطاب سے کوئی دلچسپی نہیں اس لئے میں اس تحریر کے ذریعے آج آپ سے مخاطب ہوں۔ آج میں آپ کو یہ بات بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے یہاں شہید بنانے کا کام تسلی بخش کیا جاتا ہے۔ پڑھ کر حیران مت ہوں یہ حقیقت ہے یہ سعادت آپ کو کب کہاں، کیسے میسر آ جائے آپ کو بھی معلوم نہیں۔ لیکن یقین جانیے جب بھی ایسا ہو

Read more

ہزارہ ہم خدا دارہ

پتہ نہیں قربان علی آج کہاں ہے۔ وہ جو اپنے ہر دکھ میں مغموم، خوشی میں مسرور، ناکامی پہ پرامید اور کامیابی پہ مست ہوکر چلّاتا تھا۔ ”ہزارہ ہم خدادارہ “ یعنی ”ہزاروں کی بھی خدا سنتا ہے“۔ جو ہر مصیبت، ہر راحت، ہر مشکل اور ہر آسانی پہ صبر اور شکر کیلئے یہی ایک نعرہ لگاتا تھا۔ ”ہزارہ ہم خدادارہ“۔ قربان علی کون تھا اور آج کیوں مجھے اتنی شدت سے یاد آرہا ہے۔ اس کی تفصیل میں جانے

Read more

ہزارہ: بنکاک کی بتول سے مچھ کے مزدور تک سانحہ در سانحہ

پچھلے سال بنکاک جانے کا اتفاق ہوا، ہوٹل کی لابی میں ناشتے کے دوران میں نے محسوس کیا کہ ہوٹل اسٹاف میں موجود ایک لڑکی (جو بظاہر تھائی) لگ رہی تھی ہماری طرف متوجہ ہے تھوڑی ہی دیر بعد وہ ایک غیر محسوس طریقے سے ہمارے قریب آئی اور اپنا تعارف کچھ اس طرح سے کروایا کہ میرا نام بتول بی بی ہے کیا آپ لوگ کوئٹہ والی کڑک چائے پینا پسند کریں گے؟

Read more

ہزارہ- اب ’خوب است‘ کہنے والا کوئی بچا

پانی تقسیم چوک سے آرچرڈ ہاؤس کی طرف جانے والی سڑک پہ مڑیں تو پہاڑی کے دامن میں ڈھیروں چمکتے جگنو سامنے آ جاتے ہیں۔ کچھ تو اس قدر نزدیک کہ ہاتھ بڑھا کر مٹھی میں قید کیے جا سکیں۔ کوئٹہ میں یہ تمام جگنو ہزارہ کے نام سے جانے جاتی ہیں۔ دبیز قالینوں میں دبے گھر ان لوگوں کی درویش صفتی کے عکاس ہیں، نہ مکینوں کو کسی کی باتیں چبھتی ہیں نہ ہی گھر میں کوئی نوکدار چیز ملتی ہے۔ رات کی روٹی اسی دسترخوان میں لپیٹ کر سو جاتے ہیں اور صبح اسی سے ناشتہ کر کے نکل جاتے ہیں۔ ایک ایسے شہر میں جہاں سے 1935 ء کا زلزلہ ابھی تک گیا نہیں، ہزارہ لوگ وہ جگنو ہیں جو اپنے مخصوص ”خوب است۔ خوب است“ سے پورے شہر کو اجالتے پھرتے ہیں۔

Read more

خوش آمدید 2021 ء

نئے سال میں پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں زیادہ بحران متوقع ہے۔ امریکہ کی سیاست نئے صدر سے بدل سکتی ہے، کورونا کی ویکسین کی تیاری اور اس کی فروخت میں مسائل پیدا ہوں گے۔ ویکسین بنانے والے ملک اپنی اپنی ویکسین کو کارآمد دوسروں کی ویکسین کو فضول قرار دیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمائیں۔ویکسین کی تیاری پر چند بڑے ممالک کی اجارہ داری ہوگی۔ وہ غریب ممالک کو ویکسین سپلائی کریں گے اور رقم کمائیں گے۔

Read more

انتہاپسندی، ماضی کی مہربانیوں کا ہے یہ فیض

گزرتا ہوا سال رخصت ہوتے ہوتے انتہا پسندی کا ایک اور داغ دے کر چلا گیا۔ کرک کے قصبہ ٹیڑی میں ہندو برادری کی عبادت گاہ پر حملہ ملک میں کئی دہائیوں پر محیط انتہا پسندی کی عکاسی کرتا ہے۔ اویس توحید کا بلاگ

Read more

نسٹ کے ایک سٹوڈنٹ کا سوال اور انجنیئر محمد علی مرزا کی پیش گوئی

"میں نسٹ کا اسٹوڈنٹ ہوں اور میں نے وہاں یہ چیز بہت محسوس کی ہے کہ کافی لوگ دین سے دور ہٹتے جا رہے ہیں۔ اس کی وجہ جو مجھے محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں کو دعوت ٹھیک طور پر نہیں دی جاتی، اکثر ہمارے ہوسٹل میں جب تبلیغی جماعت والے آتے ہیں تو بہت کم لوگ ان کی بات سنتے ہیں۔ جب ہمارے نوجوان دین بیزار ہو رہے ہوں اور دعوت بھی جو تبلیغ کے ذریعہ

Read more

گڑیا کی شادی 2020ء

دو ہزار بیس کا آغاز ہوا۔ دھند آلود فضاؤں میں آتش بازی کی آوازیں بتا رہیں تھیں کہ نئے سال کا پرانا آغاز ہو گیا ہے۔ تمام دنیا ”کرونا، نامی وبائی مرض کی لپٹ میں تھی، مگر گڑیا پاکستانی تھی، جاپانی نہیں۔ وہ اپنے واش روم میں دو واشنگ مشین لگائے کپڑے دھو رہی تھی۔ اس کو یقین ہو گیا، لو جی، سال کا آغاز کپڑے دھو نے سے ہو رہا ہے، تو اب سارا سال، وہ کپڑے دھوتی رہے گی۔ وہ مسکرائی۔ ”چلو دیکھتے ہیں“۔

Read more

خوش آمدید :2021 نیا برس ،نئی امیدیں اور نئے خواب

مسلمان ہونے کے ناتے ہم اسلامک کیلنڈر جسے ہجری یا عربی کیلنڈر بھی کہتے ہیں کی پیروی کرتے ہیں جس کے تحت محرم میں نیا سال شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن چونکہ ہم نے بہت ساری قدریں ، ’رسم و رواج‘ روایات اور ثقافت دوسرے معاشروں کی اپنائی ہوئی ہیں صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ان میں رچ بس بھی گئے ہیں۔ جب نئے انگریزی سال کی آمد ہوتی ہے تو ہم اپنے اہداف کا تعین کرتے ہیں۔ ایسا نہیں

Read more

سعودی عرب: خواتین کے حقوق کی کارکن کو 20 سال قید کی سفارش

سعودی عرب میں سرکاری وکیل نے خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن لوجین الحاتلول کو زیادہ سے زیادہ قید کی سزا دینے کی سفارش کی ہے جس کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ ہفتے عدالتی فیصلے میں اُنہیں 20 سال قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

اکتیس سالہ الحاتلول کو 18 دیگر خواتین کے ہمراہ خواتین کی ڈرائیونگ سے متعلق قانون میں تبدیلی سے قبل مئی 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اُن پر قومی سلامتی کے خلاف مغربی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے اور حساس معلومات شیئر کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جا رہا ہے جسے رواں سال نومبر میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں منتقل کیا گیا تھا۔

Read more

سلام آخر

”مولا تجھے بی بی کی ردا اور شہید کربلا کا واسطہ مجھ بڈھے گناہ گار کو اس وقت تک موت نہ دینا جب تک اس منبر پر علامہ سجاد نجفی کو نہ دیکھ لوں۔ اس کے بعد جو تیری مرضی۔ تو جانے تے حسین جانے۔“ زوار صادق شاہ نے ظہرین ادا کرنے کے بعد دو ٹوک دعا مانگی ’خدا اور حسین کو آمنے سامنے کیا‘ سجدہ گاہ کو واسکٹ کی جیب میں رکھا اور علم کو بوسہ دے کر امام

Read more

وائس ورسا

اور جب کیدو نے ہیر کو بالوں سے پکڑا اور اس کے باپ سردار چوچک سیال کے سامنے لا پٹخا تو چوچک نے اپنی نوک دار مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا: ”دس اوئے ہیرئیے! ۔ اے رانجھو تیرا کی لگدا ہے؟“ تو ہیر کی آواز میں جیسے کسی نخلستان میں چوکڑیاں بھرتی ہرن کے گلے میں بندھی گھنٹیوں کا سوز اتر آیا اور وہ جذب کے عالم میں دھیرے سے گنگنائی:

”رانجھا رانجھا کردی نی میں، آپے رانجھا ہوئی
سدونی مینوں دھیدو رانجھا، ہیر نہ آکھو کوئی ”

اور پھر مورخ نے بتایا کہ رانجھا بھی تو ”ہیر ہیر“ کہتا، خود ہیر سیال بن گیا تھا لہذا جب وہ ایک دوسرے کے روبرو آئے تو ایک دوسرے کو پہچان نہ پائے۔

Read more

آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی ﷺسے

پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی ﷺ سے آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی ﷺ سے والدین کی وفات کے بعد مجھے اپنی ملازمت کی مصروفیات کی وجہ سے ان کے گھر چکر لگانے کا کم ہی اتفاق ہوا۔ ویسے بھی وہاں جا کر والدین کو نہ پا کر ڈپریشن ہی طاری ہو جاتا تھا۔ پہلے تو شہزاد بھائی کی فیملی وہاں مقیم تھی۔ وہ خود ریاض (سعودیہ) میں ملازم تھا۔ تب تو کبھی کبھار شاہدرہ جانا ہو ہی جاتا

Read more

نکاح کے ساتھ بھی۔ توبہ توبہ! (مکمل کالم)

مفتی منیب الرحمن صاحب نہ صرف بڑے عالم دین ہیں بلکہ عمدہ لکھاری بھی ہیں، اس بات کا ثبوت ان کے کالم ہیں جن میں شگفتگی بھی ہوتی ہے اور طنز کی کاٹ بھی، غالب جیسے ’آدھے مسلمان‘ کو بھی ’کوٹ‘ کرتے ہیں اور فیض جیسے ’کمیونسٹ‘ کو بھی، کالم میں حسب ضرورت شگوفے بھی بکھیرتے ہیں اور حسب توفیق پھبتیاں بھی کستے ہیں۔ بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہوگا کہ آج سے چودہ سال پہلے جب

Read more

لو وہ بھی کہہ رہے ہیں

اردو کے کچھ اشعار ایسے ہیں جو نہ صرف زباں زد عام ہیں بلکہ ان کا استعمال ضرب المثل اور محاوروں کے بطور ہوتا رہتا ہے جیسے یہ شعر کہ

ہم دعا لکھتے رہے اور وہ دغا پڑھتے رہے
ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کر دیا

ہم نے مساجد توڑ پھوڑ کر ان ڈھیر لگا دیا۔ مدرسوں کے گرد گھیرا تنگ کر کے رکھ دیا۔ اسلام آباد جیسی قیمتی زمین مندر تعمیر کرنے کے لئے وقف کردی۔ 4 سو سے زائد ٹوٹ پھوٹ کا شکار مندروں کی تزئین و آرائش کا ذمہ لیا۔ توہین رسالت کرنے اور اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے والوں کو کھلی اجازت دی کہ جس طرح چاہیں ملک کے طول و عرض میں ان کی عظمت و احترام کی دھجیاں بکھیرتے رہیں۔ ان کی راہ میں رکاوٹ بننے والے افراد اگر جذبہ ایمانی میں کسی کے خلاف کوئی کوئی کارروائی کر گزریں تو ان کو تختہ دار پر بھی کھینچ دیا۔

Read more

مکافات عمل اور قانون دفع

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر عمل کا ایک رد عمل ہوتا ہے۔ یہ اصول سائنسی طور پر بھی ثابت شدہ ہے اور اس پر تاریخ نے بھی اپنی مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ یہ بات جس طرح فرد کے کردار اور اس کے نتائج کے لحاظ سے مبنی بر اہمیت ہے، بالکل اسی طرح اس کا اطلاق اجتماعی اور قومی معاملات پر ہوتا ہے۔ انسان کا یہ ایک آزمودہ تجربہ ہے کہ نہ صرف موذی فرد کو اپنی

Read more

محبت رسول ﷺ کے تقاضے

محبت رسول کے بلند آہنگ دعووں کے باوصف ہم ان کی شایان شان اظہار محبت کے اصول سے کورے معلوم ہوتے ہیں۔ دعوی جو بھی ہو، درست بات یہ ہے کہ یہ گراں قدر دولت ہر کس وناکس کے لیے ارزاں نہیں ہوتی، اور جنہیں حاصل ہوتی ہے وہ اپنے ڈھب سے پہچان لیے جاتے ہیں۔ سچی محبت کرنے والے عموماً ڈھنڈورا نہیں پیٹتے، محبوب کے نام کی تختیاں اپنے سینوں پر سجائے نہیں پھرتے، بلکہ چال ڈھال، رکھ رکھاؤ

Read more

لبرٹی چوک کا نام رین بو چوک کرنے کا نیک نیت احمقانہ فیصلہ

گزشتہ دنوں ایک خبر پڑھ کر جتنی خوشی ہوئی اس سے کہیں بڑا صدمہ تصویر دیکھ کر ہوا۔ خبر یہ تھی کہ لبرٹی چوک کا نام تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ہماری رائے میں یہ ایک بہت اچھا فیصلہ ہے۔ وطن عزیز ایک نظریاتی ملک ہے۔ یہاں مادر پدر آزادی کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔ جب بھی لبرٹی چوک پر کسی مظاہرے کی خبر آتی تو یہی پتہ چلتا کہ موم بتی مافیا نے بلاوجہ کا ہنگامہ برپا کیا ہوا ہے۔

کبھی علم ہوتا کہ غیرت کے نام پر کوئی قتل ہو گیا ہے تو اس پر احتجاج ہو رہا ہے۔ بھلا اس نظریاتی ملک میں یہ اجازت دی جا سکتی ہے کہ کوئی بے غیرتی کرے تو اسے قتل نہ کیا جائے؟ یہ درست ہے کہ کئی مرتبہ جائیداد یا دشمنی وغیرہ کے چکر میں بھی غیرت کا الزام لگا کر قتل کر دیا جاتا ہے، مگر بحیثیت مجموعی دیکھا جائے تو اس قتل و غارت کے سبب معاشرے میں اعلیٰ انسانی اقدار اور امن و آشتی کی ترویج ہوتی ہے۔ پھر احتجاج کیوں؟

Read more

عقیدہ ہے ایمان نہیں ہے

بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے کان میں اذان دی جاتی ہے اور اس کو مسلمان کا لقب دے دیا جاتا ہے۔ عقیدہ حاصل کرنا مشکل نہیں، آج کل کے دور میں ہر انسان کوئی نہ کوئی عقیدہ لیے پھرتا ہے۔ بات کی جائے اگر مسلمان کی تو مسلمان کے پاس عقیدہ ضرور ہے مگر ایمان نہیں۔ ایمان کو پرکھنے کے تین درجے ہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ

Read more

کیا بڑا جنازہ حق پر ہونے کی دلیل ہے؟

علامہ خادم رضوی چند دن بخار میں مبتلا رہنے کے بعد راہیٔ ملک عدم ہوئے۔ وہ بلا شبہ پاکستان کے ایک جید عالم، بریلوی مسلک کے روح رواں، شعلہ بیان خطیب، عشق رسول صلعم کے دعویدار، تحریک ختم نبوت کے سرخیل اور عوامی سطح پر ایک مقبول و معروف شخصیت تھے۔ انہوں نے پانچ مرتبہ اسلام آباد پر چڑھائی کی، جس طرح ظہیر الدین بابر ہندوستان پر پانچویں یورش کے بعد جان سے گزر گئے، ہمارے علامہ صاحب کا آخری

Read more

بغیر نکاح کے؟ توبہ توبہ

میں صبح اٹھ کر تمام بڑے اردو انگریزی اخبارات کا مطالعہ کرتا ہوں پر یہ خبر نہ جانے کیوں میری نظر سے نہیں گزری۔ بھلا ہو پروفیسر ہود بھائی کا جن کا انگریزی کالم پڑھ کر مجھے پتا چلا کہ گزشتہ ہفتے سے متحدہ عرب امارات میں نئے قوانین کا اطلاق ہوا ہے جن کے بعد اب وہاں شراب پینے پر رہی سہی پابندی بھی ختم کر دی گئی ہے، یہی نہیں بلکہ اب غیر مرد اور عورت بغیر شادی کے اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کچھ قوانین میں ترمیم کی گئی ہے جیسے کہ غیرت کے نام پر قتل کو اب عام قتل کی طرح ہی جرم سمجھ کر مقدمہ چلایا جائے گا اور شادی، طلاق، وراثت وغیرہ کے قوانین بھی تبدیل کیے گئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کبھی کوئی لبرل قسم کا عالم دین کھینچ تان کر کہیں سے شراب کی گنجایش پیدا کر لے مگر نا محرم مرد اور عورت کا بغیر نکاح کے اکٹھے رہنا کہیں سے بھی اسلامی قوانین یا شریعت کے مطابق نہیں۔ تو کیا یہ سمجھا جائے کہ امارات میں مذہب کی نئی تشریح کی گئی ہے یا پھر وہاں کے حکمران بدل گئے ہیں؟ جی نہیں، ایسا کچھ نہیں ہوا، مذہب بھی وہی ہے اور حکمران بھی پرانے ہیں، فقط زمانہ بدل گیا ہے۔ کچھ دہائیوں کی بات ہے، شاید مسلمان ممالک ہم جنس پرستی کی اجازت بھی دے دیں!

Read more

دھندہ دشمن حکومت

ایف ایم سٹیشنوں سے زیادہ مؤثر اور ہومیوپیتھک میڈیا کسی حکومت کو نہیں مل سکتا لیکن خدا جانے حکومت کے کان کس نے بھرے ہیں کہ جن شرطوں پر 15 سال پہلے لائسنس ملے تھے اب اس سے دگنا پیسہ مانگ رہی ہے اور یہ بھی کہہ رہی ہے کہ ابھی دو ورنہ دھندہ بند کرو اور گھروں میں بیٹھو: محمد حنیف کا کالم

Read more

عشق کی نئی تفہیم

پروفیسر صاحب نے غصے سے پہلو بدلا اور گویا ہوئے ”کیا گلیوں اور گھروں میں چراغاں کر نے ’عشق رسول ﷺ کے دھواں دار نعرے لگانے‘ لنگرکی تقسیم سے ’محفل نعت اور محفل میلاد سجا نے یا جلوس نکال کر سڑکیں بلاک کردینے سے عشق کا تقاضا پورا ہو جاتا ہے؟“ مجھے ان کی بات میں وزن لگا۔ میں نے مسکراتے ہوئے انکار میں سر ہلا دیا۔ پروفیسر صاحب نے سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے دوبارہ گفتگو کا آغاز کیا۔

Read more

جون ایلیا: فیس بک اور واٹس ایپ پر ’اردو کے مقبول ترین شاعر‘ کو پڑھنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جون ایلیا کی شاعری خصوصاً محبوبہ کو مخاطب کر کے کی جانے والی شاعری نوجوانوں کو متوجہ کرتی ہے۔ مگر یہ فیس بک کا کمال ہے کہ جون ایلیا اس وقت اردو کے مقبول ترین شاعر بن چکے ہیں۔

Read more

کافر عشقم، مسلمانی مرا درکار نیست

گزشتہ اٹھارہ ماہ میں اپنوں اور غیروں سے طعن و دشنام سننے کی عادت سی ہو گئی تھی۔ لیکن اب کی بار جو پتھر آئے ہیں انہوں نے نہ صرف روح کو تار تار کیا ہے کہ برس ہا برس کے تعلق داروں نے بھرم توڑ دیا ہے۔ پریم رس کا پیالہ پھوڑ دیا، جو مے تھی، بہا دی مٹی میں۔ اور ہمیں سوچنے پہ مجبور کر دیا کہ پاکستان کا اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ بنیادی انسانی حقوق کو کس

Read more

وہ پہلا خط

خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں
ایک پرانا خط کھولا انجانے میں (گلزار)

کہتے ہیں پرانے زمانے میں بیٹیوں کو تعلیم نا دلوانے جو عوامل کار فرما تھے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ پڑھ لکھ کر وہ خط و کتابت کے قابل ہو جائیں گی اور پھر خطرہ تھا کہ ”ادھر ادھر“ ڈاک ہی نا چلانے لگیں مگر جو بیٹیاں دور دیس بیاہی جاتی تھیں اور کبھی ماں باپ سے حال دل کہنے کو تڑپتی ہوں گی تو انھیں کون خط لکھ کر دیتا ہو گا، اور پی جب سونا لاون دور دیس جاتے تھے اور واپسی بھول جاتے تھے تو چاندی ہوتے کیس لے کر برہا کی ماری نو جوان سہاگنیں اپنی بے تابی کو کس سے قلم بند کراتی ہوں گی؟ پتہ نہیں!

Read more

مجھے شرارتی دلہن چاہیے

شیطانی دماغ کے ساتھ معصوم چہرہ بھی ایک نعمت ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے، جب معصومیت کو کوئی منہ نہ لگاتا تھا، اس نے مجھے گلے لگا لیا۔ شاید یہی وجہ ہے، ہمارا معصوم سا چہرہ تو سب نے سنا تھا، پر ہمیں دیکھ کر تو معصوم ادائیں بھی لوگوں کو نظر آئیں۔ اور یہ معصوم ادائیں ہماری ہر غیر محرم عورت کے سامنے اپنے پورے جوبن پر ہوتی ہیں۔ ویسے بھی کہا جاتا ہے، پاکستانی مرد معصوم ہو نہ ہو، بیوی کے سامنے معصوم بنے ہی نظر آتے ہیں۔ میرے خیال میں مرد معصوم کم اور بھیگی بلی زیادہ بنے نظر آتے ہیں۔

لیکن بات آج میری معصومیت کی ہو رہی ہے۔ تو میں بتاتا چلوں، کبھی کبھی مجھے لگتا ہے، کہ بچپن میں پولیو کے بجائے مجھے معصومیت کے قطرے پلائے گئے تھے۔ تبھی مجھ سے ایسی حرکات سرزد ہوئیں، جن کا ذکر آج میں ڈنکے کی چوٹ پر کرنے جا رہا ہوں۔ لیکن اس سے پہلے سمجھ لیں، مجھے ہمدردی سے نفرت ہے، تسلی سے الجھن ہے، بھرم رکھنے بھی نہیں آتے اور فرشتہ صفت تو بالکل بھی نہیں ہوں، میٹھے جھوٹ کا ہنر سیکھ نہیں پایا اور معصوم سچ نے کئی لوگ چھین لے مجھ سے۔

Read more

سیمنٹ کی فروخت میں زبردست اضافہ، کیا کاروباری و تعمیراتی شعبے میں تیزی ظاہر کرتا ہے؟

پاکستان میں سیمنٹ کی پیداوار اور فروخت کے کاروبار سے منسلک لکی سیمنٹ کی پیداوار اور فروخت میں حالیہ عرصے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

Read more

موقع پا کر درندگی پر اترنے والے مسیحا

ایک خاتون اسپتال یا کلینک میں بچہ جن رہی ہو اور کوئی اجنبی اس کی نہایت فطرتی اور تکلیف دہ مرحلے میں خفیہ طور پر مجرمانہ فلم بندی کرنے میں مصروف ہو، تا کہ کل کو وہ اس خاتون کو اس کے نہایت ذاتی اور فطرتی عمل کی عکس بندی دکھا کے شرمسار کرے، یا ہراساں کر سکے اور اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کر سکے۔ جہاں تک دوران پیدائش مرحلے کو فلم بند کر کے کسی کو ہراساں کرنے کا ہے، جو خالصتاً شرم ہی سے منسوب ہے، تو بتاتی چلوں کہ دنیا کا ہر انسان بشمول عورتوں کی زچگی میں فلم بندیاں کرنے والے اور عزت اور تقدس کو عورت کی زانو میں رکھ کر نفرت اور تشدد کو فروغ دیتے تمام آدم، عورت کی زانو ہی سے دنیا میں تشریف لائے ہیں، جسے وہ ماں کہتے ہیں۔

وہ ہم جماعت، ہم کار، ٹی وی پر ”تیرے جسم میں ہے کیا؟ آہ تھو“، کرنے والوں سمیت ہر کوئی عورت کے جسم سے جنا گیا ہے۔ یہ الگ مدعا ہے کہ زندگی جننے والے اعضا کو شرم سے تشبیہ دے کر ”غیرت“ کو ہوا دی جاتی ہے۔ مگر یہاں اس بحث کا محور، مجرمانہ طور پر خفیہ عکس بندیاں ہیں، جو اسپتالوں میں ہوتی ہیں۔ مریض کی بیماری سے فائدہ اٹھانے والے کم ظرف ہیں، جو مریض کی بیماری میں بھی، ذلت کے گڑھے میں کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔

Read more

اپنے دکھ مجھے دے دو: راجندر سنگھ بیدی

شادی کی رات بالکل وہ نہ ہوا جو مدن نے سوچا تھا۔ جب چکلی بھابی نے پھسلا کر مدن کو بیچ والے کمرے میں دھکیل دیا، تو اندو سامنے شالوں میں لپٹی اندھیرے کا بھاگ بنی جا رہی تھی۔ باہر چکلی بھابی اور دریا آباد والی پھوپھی اور دوسری عورتوں کی ہنسی، رات کے خاموش پانیوں میں مصری کی طرح دھیرے دھیرے گھل رہی تھی۔ عورتیں سب یہی سمجھتی تھیں کہ اتنا بڑا ہو جانے پر بھی مدن کچھ نہیں

Read more

مگر مفتی منیب الرحمن کا قصور

پرانے علما تو کب کے لد گئے اور جو اس دور میں موجود ہیں ان کا المیہ یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق مسجد یا مدرسے سے ہوتا ہے۔ یہیں سے ان کی دینی تربیت کا آغاز ہوتا ہے اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد، یہیں سے وہ مستقبل کی قوم تیار کرنے کا آغاز کرتے ہیں۔ انسان جس دائرے میں رہتا ہے، اس کا مشاہدہ بھی اسی دائرے تک محدود ہوتا ہے۔ مختلف امور پر اس کی رائے اسی مشاہدے کی مرہون منت ہوتی ہے۔ لہذا جب تک علما ایک مدرسے یا مسجد تک محدود ہوتے ہیں تو ان کی گفتگو یا تقاریر کے موضوعات اسی دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔ مثلاً: یہ فلاں مکتب فکر کا مولوی، فلاں فرقے کی کتاب، فلاں فرقے کی تنظیم یا پھر فلاں مذہب کا مدرسہ۔

یہ دائرہ اور نقطۂ نظر اتنا سخت اور تنگ ہو چکا ہے کہ آپ کو یہاں اللہ کی مسجد تو نہیں ملے گی لیکن دیو بندیوں، بریلویوں، شیعوں یا اہل حدیثوں کی مساجد ضرور مل جائیں گی۔ جب کوئی عالم دین اس حصار سے نکل کر ملکی و عالمی سطح کے دائرے میں آتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ ملکی سلامتی کے تقاضے کیا ہیں، ملک اور اسلام کے خلاف کیا کیا سازشیں ہو رہی ہیں، یعنی جب اس کی سوچ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو اس کی سوچ اور فکر کی سطح اور گفتگو کے موضوعات یکسر بدل جاتے ہیں اور وہ مذہب کے دائرے سے نکل کر دین کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔

Read more

”ذمہ دار کون؟ عورت یا مرد!“

وطن عزیز میں رہنے والے بے شمار لوگ ازخود اور بہت سے بلند فشار خون اور قلب کے مریض، ڈاکٹر کے مشورے کے بعد، اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ خبر اور اخبار سے جتنا دور رہا جائے، زندگی اتنی پر سکون گزرے گی۔ دیکھا جائے تو ایک حد تک یہ بات درست ہے اور ایسا کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں، لیکن دوسری طرف اگر آج کل ہونے والے واقعات پر نظر ڈالیں تو ان میں سے بعض ایسے ہولناک اور دل خراش ہیں کہ نا صرف لمحوں میں زبان زد عام ہو گئے، بلکہ کوئی بھی کسی بھی وجہ سے کتنا ہی خود کو ان کے بارے خبروں سے دور رکھنا چاہتا ہو، وہ غیر متعلق نہ رہ سکا۔

ہمارے یہاں کے نام نہاد لبرل اور موم بتی مافیا نے بھی ان مواقع سے پورا پورا اور بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے، ”عورت کارڈ“ کھیلنا شروع کر دیا۔ حالاں کہ ان واقعات کے متاثرین میں عورتوں کے علاوہ کم عمر لڑکیوں اور یہاں تک کہ لڑکوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ پورے ملک کا ہر طبقہ اپنی اپنی سمجھ بوجھ اور ذہنی استعداد کے مطابق، بحث مباحثے میں الجھ گیا کہ در اصل ان واقعات کے اسباب ہیں کیا، اور ذمہ داران کون ہے۔ کچھ نے ہمارے معاشرے کو ”مردوں کا معاشرہ“ قرار دیتے ہوئے، ان واقعات کی وجہ ”مرد“ کا وحشی پن و حیوانیت بیان کی، اور کچھ نے ”عورت“ کو دی جانے والی مادر پدر آزادی، فحاشی و عریانیت۔

Read more

خواجہ سگ پرست از اسد محمد خان

میں نے یوپی کا شہر گورکھپور نہیں دیکھا، ضرورت بھی نہیں پڑی۔ فراق گورکھپوری صاحب، مجنوں گورکھپوری صاحب اور پھر شمشاد نبی ساقی فاروقی سے مل لیا، ان صاحبان کا لکھا ہوا پڑھتا رہتا ہوں۔ یوں سمجھیے شہر گورکھپور میں جتنا کچھ دیکھنے اور جاننے لائق ہو گا، حسین اور دل آویز ہو گا، تقریباً سبھی دیکھ لیا۔ شہروں میں اور ہوتا بھی کیا ہے؟

جی ہاں! ساقی گورکھپور میں پیدا ہوا تھا۔ ڈھاکے میں اس نے ابتدائی تعلیم حاصل کی، کراچی یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ ایم اے انگریزی میں پڑھ رہا تھا، تو لندن روانہ ہو گیا اور لندن یونیورسٹی میں انگریزی ادب میں داخلے کی کوششیں کرنے لگا۔ یونیورسٹی والوں نے کہا، ”یہاں تمھیں بی اے دوبارہ کرنا پڑے گا۔“

Read more

کراچی: جامعہ فاروقیہ کے مہتمم مولانا عادل اور ان کا ڈرائیور فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک

کراچی میں دیوبند مسلک کے نامورعالم اور جامعہ فاروقیہ کے مہتمم مولانا عادل اپنے ڈرائیور سمیت موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

Read more

ہم سفر کے سنگ خوبصورت سفر

”سنو عمرہ کرنے چلو گی؟“ ہمارے شوہر محترم نے آئینے میں بالوں کو برش کرتے ہوئے، ہم سے پوچھا، تو کچھ لمحے ہم حیرانی سے ان کی شکل ہی تکتے رہے۔ اپنی سماعتوں پر یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔ پھر حیرت اور خوشی کے سمندر سے ابھر کر ہم نے کہا، ”واقعی؟“

”ہاں نا! دیکھو، بات تو کی ہے ٹریول ایجنٹ سے۔ پہلے ہم ابو ظہبی اور دبئی جائیں گے، پھر چار دن وہاں رک کر ان شا اللہ مکہ جائیں گے۔ بس دعا کرو ویزا لگ جائے۔

اصل میں ان کا بچپن ابو ظہبی میں گزرا ہے۔ اور جہاں بچپن گزرا ہو وہاں کی یاد اکثر و بیش تر انسان کو ستاتی رہتی ہے۔ ان کی بڑی خواہش تھی کہ ہمیں بھی ایک دفعہ ضرور وہاں لے کر جائیں اور ہمیں بھی ان گلی محلوں کی سیر کروائیں، جہاں بچپن میں وہ کھیلا کرتے تھے۔ سوری محلے تو نہیں وہاں تو بلڈنگ اور فلیٹس سسٹم ہے۔ یہ محلے وغیرہ تو ہمارے دیسی علاقوں میں ہوتے ہیں۔

Read more

کرناٹک میں اشاروں کی زبان میں انوکھی مجلس

قوتِ گویائی و سماعت سے محروم انسانوں کو 1400 برس قبل کربلا میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں بتانا اور سمجھانا کوئی آسان کام نہیں مگر انڈین ریاست کرناٹک کے گاؤں علی پور کے رہنے والوں نے اس کا حل اشاروں کی زبان میں مجلسِ عزا کی شکل میں نکالا ہے۔

Read more

باجوڑ بار میں محسن داوڑ پر حملے کا افسوسناک واقعہ

آج کل کے تیز رفتار ذرائع ابلاغ میں چند منٹ کی غفلت سے آپ بے خبر قرار پا جاتے ہیں۔ ایسا ہی میرے ساتھ ہوا۔ تین اکتوبر کو میں سارا دن عدالتوں میں پیشیوں سے فارغ ہوا اور پھر سیکنڈ شفٹ میں آفس کے جھمیلوں سے چھٹکارا پا کر گھر پہنچا اور اپنا موبائل کھولا تو ہر طرف باجوڑ، باجوڑ سے متعلق پوسٹس سے سامنا ہوا۔ ایک ویڈیو جو کہ باجوڑ نیوز نے آپ لوڈ کیا تھا وہ بھی نظروں

Read more

بسکٹ اور غیر اسلامی اشتہار

آج ہی علم ہوا کہ بسکٹ کے ایک اشتہار پر پیمرا نے خاندان کی بڑی بوڑھیوں کی طرح آنکھوں پے ہاتھ رکھ کے دہائی دی ہے کہ اوئی نوج۔ یہ دیدہ ہوائی دیکھنے سے پہلے میری مٹی کیوں نہ ٹھنڈی ہو گئی! یعنی اب چائے، بسکٹ بیچنے کو بھی ”مجرا“ کرنا پڑے گا؟ نری بے حیائی۔

اور یہ دیکھ کے مجھے خیال آیا کہ یہ تعین کس نے کیا کہ اشتہار کیسے بنوانا چاہیے؟ اس میں مشرقی روایات کا پاس رکھا جائے یا جنوب مشرقی ایشیائی روایات ”کا پاس رکھا جائے؟ نہیں ان دونوں میں غلطی بلکہ“ گناہ ”کا امکان ہے۔

Read more

کورونا وائرس: پاکستان میں دوسری لہر کا خدشہ، کراچی میں مائیکرو لاک ڈاؤن نافذ

آغا خان یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق کراچی میں 10 میں سے نو متاثرین میں علامات ظاہر نہیں ہو رہیں۔ شہر کی غریب اور امیر آبادیوں سے لیے گئے نمونوں کے مطابق جن 95 فیصد لوگوں میں کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ان میں کوویڈ 19 کی علامات ہیں نہیں تھیں۔

Read more

جوڑو مت بس کاٹ دو

آج کل کاٹنے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ کاٹ کی نوعیت معمولی، گہری اور مکمل طور پہ الگ کرنا ہے۔ موجودہ کاٹ ٹرینڈ، ایک خاص جنس اور رویے کے لیے ہے۔ جس میں میری طرح کے بہت سے لوگ کاٹنے کے حق میں ہیں۔ کچھ درد دل رکھنے والے اس کاٹ کے خلاف ہیں۔ وہ کہتے ہیں ایسی کاٹ سے چیلوں کوؤں کے وزن بڑھ جائیں گے۔ لیکن معاشرے پہ اس کاٹ کا اثر نہیں ہو گا۔ قوم پہلے ذہنی طور پہ کٹ کے مفلوج ہے، بس ایک اور عذر کا اضافہ ہو جائے گا۔

Read more

زیادتی کے بڑھتے واقعات اور بھانت بھانت کی بولیاں

سانحہ موٹر وے کا مرکزی ملزم عابد ابھی تک پولیس کی گرفت میں نہیں آسکا۔ البتہ ہر روز میڈیا پرجنسی زیادتی کے واقعات متواتر رپورٹ ہو رہے ہیں۔ کالم لکھنے سے قبل میں نے پچھلے چند دن کے اخبارات کا جائزہ لیا تو کم وبیش دو درجن ایسے واقعات کی خبریں دکھائی دیں۔ ملک کے ہر حصے میں یہ حادثات رونما ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں ایک بیوہ خاتون کو اسٹیٹ ایجنٹ

Read more

ریپ سے کون نمٹے گا؟

لڑکی پسند کی شادی کر کے گھر والوں کے عتاب سے بچنے کے لیے عدالت سے تحفظ مانگنے جائے تو اسے جج اپنے چیمبر میں ریپ کا نشانہ بنا دیتا ہے۔ اگر کوئی ریپ کا کیس رپورٹ کرنے تھانے جائے تو کبھی تھانیدار گینگ ریپ کا نشانہ بناتا ہے تو کبھی تفتیش کرنے کے لیے آنے والا اے ایس آئی۔ حالت یہ ہے سگے بھائیوں اور والد کی طرف سے اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ معذور عورتیں، نابالغ لڑکیاں، لڑکے حتی کہ پانچ ماہ اور ایک سال کے شیر خوار بچوں کو بھی ہوس کا نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہوئے لیکن متنازعہ کردار کا حامل پولیس افسر جب بولتا ہے وہ بھی عورت کو نشانہ بناتا ہے۔

Read more

بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کی وجہ تو تلاش کرنی ہو گی

ہر آنے والا دن اپنے پہلو میں بربریت کی ایسی داستانیں لا رہا ہے جو دل دہلا کر رکھ دیتی ہیں۔ ابھی ایک کی بازگشت ختم نہیں ہوتی کہ دوسرے اور تیسرے کی شروع ہو جاتی ہے۔ ہائی وے کے واقعہ پر ابھی دہائیاں ختم نہیں ہوئیں کہ فورٹ عباس کا واقعہ جس میں گھر میں گھس کر پندرہ سالہ بچی کو والد کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ کسی اور شہر میں شوہر کی موجودگی میں بیوی

Read more

اسرائیل کا گھمنڈ توڑ ڈالا: سبحان اللہ

ایک جانب محرم کا آغاز ہوتے ہی اندازہ ہوا کہ اب کی بار باقاعدہ تیاری کی گئی ہے کہ فقہی منافرت کو ہوا دی جائے۔ دونوں معروف فریقین کی جانب سے چن چن کے چند منٹ یا سیکنڈز کے ایسے مواد کے ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پہ اپ لوڈ کیے گئے جن سے ایک کم علم اور سادہ سنی یا شیعہ مسلم کی دل آزاری ہو۔ عقل حیران، دل پریشان، حدیث اور تاریخ سے واقف دونوں جانب کے مسلمان آیت

Read more

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں

ہمارے ہونے میں تو ہمارے اماں ابا کا دخل ہے ہی لیکن ہم جیسے ہیں، اس میں بھی ان کا کافی دخل ہے۔ اب یہی دیکھ لیجیے کہ جب ہم بچے تھے تو ہمیں یہی نہیں بتایا گیا کہ ہماری ذات کیا ہے، ہمیں یہ بھی نہیں بتایا گیا تھا کہ شیعہ سنی کا کیامسئلہ ہے۔ ہمیں کبھی یہ سوچنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی کہ ہم شیعہ ہیں یا سنی۔ جب بھی ایسی کوئی بات ہوئی تو امی

Read more

شکل دکھانے کے قابل تو رہنے دو – مظہر برلاس کا ناقابل اشاعت کالم

چند برس پہلے جنوبی ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ذاکر نائیک نے یزید کے حق میں گفتگو شروع کی تو مسلمان پریشان ہو گئے کہ یہ کیا کہہ رہا ہے، لوگوں کو پریشان کے ساتھ حیران بھی ہونا چاہیے تھا کیونکہ چودہ سو سال سے کچھ لوگ یزید کو سچا ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لاکھ کوششوں کے باوجود زمانہ اسے سچا ماننے کے لئے تیار نہیں جبکہ نواسۂ رسول ﷺ حضرت حسینؑ کو مسلمان ہی نہیں،

Read more

کافر کافر کی واپسی

کراچی میں امیر یزید کے نعرے لگے تو اگلے دن پھر بین الاقوامی سازش کہہ کر تسلی دی گئی۔ یہ تکلف نہیں کیا گیا کہ بتایا جائے کہ یہ نعرہ کہاں بیٹھ کر کس نے ایجاد کیا۔ دو دن بعد اسلام آباد میں یہ مطالبہ بلند ہوا کہ شیعوں کے ساتھ وہی کیا جائے جو احمدیوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔ پڑھیے محمد حنیف کا تازہ کالم۔

Read more

برطانیہ میں جنسی حملوں کا شکار ایک پاکستانی لڑکی رپورٹ کیوں نہ کر سکی؟

برطانیہ میں ایشیائی باشندوں کے ہاتھوں مقامی بچوں کے ساتھ جنسی جرائم سے پردہ اٹھانے والی روتھر ہیم رپورٹ اور اقلیتی کیمونٹی میں جنسی جرائم کی کثرت اور پردہ پوشی کا معاملہ معاشرے کے تلخ رخ کی نشان دہی کرتا ہے۔ ایک پاکستانی نوجوان خاتون (ر) نے اپنی ذاتی زندگی سے پردہ اٹھاتے ہوئے برطانیہ میں مقیم بیشتر پاکستانی نژاد خاندانوں میں جنسی جرائم کے متعلق منفی سماجی رویے کی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسے دس سال کی عمر سے ایک ہمسائے نے جنسی حملوں کا نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا جب اس نے دیکھا کہ اس کی برادری میں اس ظلم کا تذکرہ کرنے پر اسے ہی مورد الزام ٹھہرایا جائے گا تو اس کے پاس خاموش رہنے کا کوئی چارہ نہ تھا۔

Read more

درندگی کی سزا مزید درندگی؟

جب بھی جنسی زیادتی کا واقعہ کسی عورت کے ساتھ پیش آتا ہے اعتراض متاثرہ عورت کے لباس یا اکیلے باہر آنے پر کیا جاتا ہے اور عورت پر ہی ذمے داری تھوپ دی جاتی ہے۔ اور جب جنسی زیادتی کا واقعہ کسی بچی یا کمسن بچے کے ساتھ پیش آتا ہے تو سر عام پھانسی کا مطالبہ کر کے جان چھڑا لی جاتی ہے۔ تاثر کچھ ایسا دیا جاتا ہے کہ کوئی انتہائی قدم اٹھائے بغیر معاشرہ تبدیل کیا جا ہی نہیں سکتا جب کے ایسا نہیں ہے۔ ہمارے ہاں ہر جرم پر ذاتی غصہ نکالنے کی روایت عام ہے یہ سوچے بغیر کے سزائیں ذاتی غصے اور بدلے لینے کہ بنیاد پر نہیں دی جاتی بلکہ ریاست قانون اور انسانیت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی مجرموں کو سزا دیتی ہے اور سزا کا مقصد بدلے کی آگ بجھانا نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح اور افراد کو مجرم بنانے سے روک کر سماج کا فعال شہری بنانا ہونا چاہیے۔ ایک مجرم کو اس کی درندگی کی سزا دینے کے لیے انسانی حقوق کے قوانین توڑ کر مجرم سے بڑھ کر درندگی کرنے کی اجازت نہ اخلاقیات دیتی ہیں اور نہ ہی انسانیت۔

Read more

مخلوط تعلیم اور میرے فیورٹ مولانا

”ہر گائے دودھ دیتی ہے، گائے ایک جانور ہے لہذا ہر جانور دودھ دیتا ہے۔“
”تم ایک کرپٹ شخص ہو، تم نے ناجائز کمائی سے محل نما گھر خریدا ہے۔ جواب :تم نے بھی تو لڑکی کو بھگا کر شادی کی تھی۔“

”زید:پاکستان میں ہر پانچ عورتوں میں سے ایک عورت کبھی نہ کبھی اپنی زندگی میں جنسی ہراسانی کا شکار ہوتی ہے۔ بکر:تمہیں اس ملک میں کیڑے نکالنے کا شوق ہے، بھارت میں یہ شرح ہم سے کہیں زیادہ ہے۔“

”ایکس : دنیا میں جنوں بھوتوں کا کوئی وجود نہیں، اگر ہوتا تو کبھی نہ کبھی ہمارا اس مخلوق سے براہ راست واسطہ ضرور پڑتا۔“ زی۔ : ”ہمارا براہ راست واسطہ تو کبھی گھانا کے صدر سے بھی نہیں پڑا تو کیا ہم اس کے وجود سے بھی انکار کر دیں!“

یہ ہمارا بحث کرنے کا عمومی انداز ہے۔ اس قسم کی گفتگو کو اپنے تئیں ہم ”مدلل“ سمجھتے ہیں۔ موٹر وے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد تازہ ترین دلیل مارکیٹ میں یہ آئی ہے کہ یہ سب مخلوط تعلیم کا نتیجہ ہے۔ یہ کہنا ہے میرے فیورٹ مولانا کا ، دلیل انہوں نے یہ دی ہے کہ جہاں آگ اور پٹرول اکٹھے ہوں گے وہاں یہ سب تو ہوگا۔

Read more

بڑے بڑے سابقے لاحقے میں چھپے ہوئے چھوٹے لوگ

1۔ کیا صاحبان علم کبھی جاہل ہوسکتے ہیں؟ 2۔ کیا بڑے مرتبوں میں چھپے لوگ بھی چھوٹے ہوسکتے ہیں؟ 3۔ کیا کوئی بڑافنکار بھی چھوٹا ہو سکتا ہے؟ 4۔ کیا کوئی بڑا شاعر بھی چھوٹا آدمی ہو سکتا ہے؟ میں ان سوالات کی کھوج میں اکثر رہتا تھا کیونکہ یہ بات انسانی فطرت میں شامل ہے کہ ہم بڑے لوگوں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں اور ان کے ساتھ ایک جذباتی وابستگی کا بت فوراً ہی تراش لیتے ہیں۔

Read more

ناصر کاظمی کا انتخاب انیسؔ: ایک تعارف

(1) ایک دن پاپا نے کہا کہ میر انیسؔ کے کچھ شعر پڑھ کے توایسا لگتا ہے جیسے امام حسین ؑ نے اسے خواب میں آ کے لکھوائے ہوں۔ اس وقت انہوں نے جو شعر سنائے وہ بہت عرصہ مجھے یاد رہے۔ کاش میں انہیں نوٹ کر لیتا۔ پاپا انیسؔ کے ایک مرثیے کا مصرع، اس عہد میں سب کچھ ہے پر انصاف نہیں ہے، اور ایک سلام کا یہ شعراکثر پڑھا کرتے تھے: در پہ شاہوں کے نہیں جاتے

Read more

آگ اور پٹرول کی آزادی

موٹروے ریپ کیس نے ہمارے سامنے حکومتی رٹ کی ناکامی کھول کے رکھ دی۔ انصاف اور قانون کا بول بالا تو دور رہا۔ سب بولے (بہرے ) بن کے پھرتے رہے۔ جیسے کچھ سنائی نہیں دے رہا۔ اندھے تو پہلے ہی تھے۔ گونگے بننا تھا وہ بھی بن چکے۔ جلتی پہ تیل کا کام سی سی پی او کے بیان نے ڈال دیا۔ کہ جی رات کو کیوں نکلی۔ پٹرول کیوں نہیں چیک کیا۔ محرم کیوں ساتھ نہ تھا۔ جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ محرم کے ساتھ ہونے کے باوجود بھی عورت ریپ ہو گئی۔ شبنم کیس اتنا پرانا بھی نہیں۔ اس کے محرموں کے سامنے گھر میں گھس کے اس کا ریپ کیا گیا تھا۔ وہ تو کہیں باہر نہ نکلی تھی۔ شکر ہے تب موٹروے نہ تھی۔ ورنہ یہ کریڈٹ بھی چھوٹے میاں بڑے میاں کے کھاتے میں ڈال دیتے۔ ویسے چھوٹے میاں صاحب کھاتہ کھولتے وقت کم سے کم کھاتے کی تفصیل پڑھ لیتے ہیں۔ خیر پڑھے کون۔

عورتوں اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے یہ کیسز روزانہ کی بنیاد پہ ہو رہے ہیں۔ برسوں سے ہو رہے ہیں۔ اب سامنے زیادہ آنے لگ گئے ہیں۔ کیونکہ سوشل میڈیا و میڈیا کا دور ہے۔ لوگوں کے ہاتھ میں موبائل فون کیمرے و وڈیو کیمرے کی سہولت کے ساتھ موجود ہیں۔ سیکنڈوں میں خبر تیار ہو کے وائرل ہو چکی ہوتی ہے۔ جبکہ پہلے وقتوں میں آج کا اخبار پڑھا۔ رات نو بجے کا خبرنامہ سنا۔ جس میں سب اچھا ہوتا تھا۔ اس کے بعد سو گئے۔ اگلی صبح ہی پتہ چلے گا۔ کہ گزشتہ روز ملک میں کیا ہوا تھا۔

Read more

بُغضِ زَن کا شہر

جو عیب تم ہو ڈھونڈھتے  طرزِ زَناں میں رات دن  آفاق تک یہ ڈھونڈنا  یہ عارضہ کوئی اور ہے  جو کامل جنم کے وقت تھی کیوں سنِ بلوغ میں نصف ہے ؟ نسبت فقط وہ کیوں بنی انسان جس کی شناخت تھی اِس بُغضِ زَن کے شہر میں  یہ سلسلہ کوئی اور ہے نکلی تھی رات گھر سے کیوں؟  ڈھانپا تھا اس نے سر کو کیا ؟ توجیہہ بے جواز ہے  بس ہے فتور ذہن کا اور حادثہ کوئی اور

Read more

فجر کا وقت نزع

زندگی کی اصل حقیقت آسمانوں کا مالک جس پھر آشنا کردے۔ رومی کو دنیا بہت بڑا عالم مانتی تھی۔ ایک بار ایک جوان لڑکا، رومی کی محفل میں جا پہنچا، اس کا جوش دکھائی دیتا تھا۔ رومی سے ادب سے عرض کرنے لگا کہ میں آپ کی زندگی کا حاصل پاکر، اپنی جوانی سے فائدہ اٹھا کر سب بدلنے آیا ہوں۔ مولانا جلال الدین رومی مسکرا کر کہنے لگے۔ کل میں تیری طرح ایک چست و چالاک اور ناسمجھ انسان تھا، میں سمجھتا تھا میں ساری دنیا کو بدل ڈالوں گا، یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ آج اتنے سال بعد میں ایک تھکا ہوا، سمجھدار بوڑھا آدمی ہوں۔ آج مجھے لگتا ہے کہ میں خود کو ہی بدل ڈالوں تو یہ بھی بہت بڑی بات ہے۔

یہ وہ دن تھے، جب راقم الحروف، اس ملک کے دارالحکومت کے ایک بڑے ہسپتال میں انتہائی نگہداشت یونٹ میں کام کیا کرتا تھا۔ میں چوبیس گھنٹے جاگنے کے بعد اکثر کوشش کرتا کہ دو بجے سے فجر تک سو جایا کروں تاکہ فجر کے وقت، مریض اٹھ کے دوبارہ دیکھا کروں، فجر ایسا ٹائم ہوتا، جب مریض سیریس ہو جایا کرتے تھے، سب سے زیادہ مریضوں کی حالت اسی وقت خراب ہوتی اور وہ اللہ کو پیارے ہو جاتے تھے۔

Read more

چراغ سب کے بجھیں گے، ہوا کسی کی نہیں

پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ ایک بار پھر سلگ رہی ہے۔ یہ فتنہ جو کچھ عرصہ دبائے رکھا گیا تھا ایک بار پھر سر اٹھانے لگ گیا ہے۔ فرقہ واریت کا لاوا جب پھوٹتا ہے تو یہ بہتا ہے، اور بہتا چلا جاتا ہے۔ یہ سونامی جب آتی ہے تو فتنہ و فساد اور قتل غارت بھی ساتھ لاتی ہے۔ پاکستان میں فرقہ واریت کی یہ آگ آج کی لگائی ہوئی نہیں بلکہ اس کی ایک تاریخ ہے۔ ویسے

Read more

دو سنگتروں کی کہانی

ہم نئے نئے پولیس میں بھرتی ہوئے تھے۔ ہماری یہ کسی تھانہ میں پہلی پوسٹنگ تھی۔ یہ تھانہ صادق آباد راولپنڈی کا علاقہ تھا۔ اس علاقے کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں محرم الحرام کے دنوں میں مجالس اور جلوس کی بھرمار ہوتی ہے۔ ڈھوک کالا خان صادق آباد بازار اور دیگر محلوں میں پورے دس دن مجالس اور ماتمی جلوس نکلتے رہتے ہیں۔ اس علاقے میں کچھ ایرانی بھی آباد ہیں ان کی اپنی امام بارگاہ ہے۔ وہ

Read more

مار دو، لٹکا دو، جلا دو

لاہور سیالکوٹ موٹروے پر گوجرہ کے مقام پر ایک خاتون کے ساتھ پیش آنے والے دلخراش واقعے کے بعد بشمول عوام میڈیا کی ساری توجہ اسی واقعے پر مرکوز ہے۔ کیوں نہ ہو، واقعہ ہی اتنا دہلا دینے والا ہے۔

اس واقعے کے بعد تین طرح کی بحثیں چھڑ گئی ہیں عمومی طور پر اس واقعے سے متعلق یا اس سانحے سے متاثرہ کوئی تحریر پڑھیں یا تقریر سنیں تمام ان تین طرح کی بحثوں میں ہی اضافہ کرتی نظر آتی ہیں۔

پہلی بحث مذکورہ موٹروے پر وارداتیں رپورٹ ہونے کے باوجود سیکیورٹی کی عدم موجودگی پر مبنی ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے موٹروے پولیس کی جانب سے سیکیورٹی مقرر کرنے تک پنجاب پولیس کے 250 اہلکار مقرر کر کے بحث کا یہ ”چیپٹر کلوز“ کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن کچھ منچلے ہیں کہ رٹ لگائے بیٹھے ہیں ذمہ داروں کا تعین کرو انہیں سزائیں دو۔ ارے بھائی منچلو! جب پنجاب حکومت اہلکار مقرر کر چکی ہے تو کاہے مغز کھپاوت ہو۔ بس ہو گیا نہ عملہ مقرر۔ بات ختم۔ آگے بڑھو۔

Read more

گناہ گار عورتیں

میں صحن سے گزر رہی تھی تو میرے پھپھی زاد بھائی نے میری کلائی پکڑ کر اپنی گود میں بٹھا لیا اور گدگدی کرنے لگے، مجھے بہت ہنسی آئی، اگلے دن وہ مجھے چپس دلانے کے لئے محلے کی دکان پر لے گئے اور واپسی پہ ایک ویران احاطے میں لے گئے، مجھے کچھ سمجھ نہ آئی لیکن کچھ ایسا عجیب محسوس ہوا کہ درد کی شدت سے میرے اندر جیسے تیزدھار آلے سے اعضاء کٹ رہے ہوں، چیخ کر

Read more

حکومت اور حکومت گر دونوں ابہام دور کریں

بات تو درست ہی ہے کہ خاتون رات کے اوقات میں بغیر کسی محرم کے نکلی ہی کیوں تھی۔ پھر یہ کہ اگر سفر ہی کرنا تھا تو بجائے جی ٹی روڈ سفر اختیار کرنے کے موٹروے کو کیوں منتخب کیا مگر ان سب سے پہلے اس بد قسمت خاتون سے یہ پوچھا جائے کہ وہ فرانس جیسے غیر اسلامی ملک سے ایک اسلامی ملک میں تشریف ہی کیوں لائی تھیں۔ نہ وہ پاکستان آتیں، نہ ان کو تنہا گاڑی

Read more

موٹروے ریپ کیس: کیا شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں لاہور، سیالکوٹ موٹروے کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی؟

بی بی سی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا واقعی شہباز شریف نے ریپ واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنی جماعت کو موٹروے بنانے کا کریڈٹ دیا؟ یا اصل کہانی کچھ جو 18 سیکنڈ کے کاٹے گئے کلپ میں توڑ مروڑ کر دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

Read more

پاکستان عورتوں کے لیے غیر محفوظ کیوں ہے؟

پاکستان اگر غیر محفوظ ملک بنتا جا رہا ہے تو اس کی وجہ آزادی نہیں، پابندی ہے۔ ٭٭٭     ٭٭٭ بلا شبہ پاکستان عورتوں کے لیے غیر محفوظ ملک بن چکا ہے۔ جہاں عورت شلوار قمیص پہنے یا جینز، دپٹا پہنے یا دپٹے سے بے نیاز ہو، چادر میں لپٹی ہو یا بغیر آستینوں کے ہو، اس کی عمر تین سال ہو یا پچھتر سال ہو، وہ ریپ ہو جاتی ہے۔ اب تو صورت حال اس قدر ابتر ہو چکی

Read more

مجرم اور محافظ میں کوئی فرق باقی رہا یا نہیں؟

موٹر وے روڈ پر بچوں کے سامنے ان کی ماں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعے پر سی سی پی او لاہور کے بیہودہ بیان کو سن کر مجھے تو چنداں حیرت نہیں ہوئی کیونکہ ان کا یہ غلیظ بیان ہی تو دراصل ہمارے نام نہاد مشرقی اقدار کی دین ہے۔ پاکستان میں ہر دوسرا شخص آپ کو خواتین کے حوالے سے اسی طرح کے بیانات دیتا دکھائی دے گا کیونکہ یہی ہمارے معاشرے کی روایت ہے۔ صرف سی سی

Read more

پورن سے ریپ تک۔۔۔ سب جائز ہو گیا ہے

سکیس ڈول کلچر کو پروموٹ کیا جائے، جب یہ بات پڑ ہی گئی۔ بہت سوں کے تن بدن میں آگ اس لئے لگی کہ انہیں ڈول نہیں، انہیں عورت اور بچے بھی چاہئیں لیکن اس کے باوجود اکثریت نے شاباش کی تھپکی دی کہ جو کہی گئی نہ ہم سے، وہ کہہ دیا ہے تم نے۔ بہت سے فون بھی آئے اور والدین کا درد دل یہ تھا کہ اب ہمیں بیٹی کے ریپ ہونے سے زیادہ خوف بچوں کے

Read more

وہ چینی لفظ جو امریکی پروفیسر کے خلاف نسلی پرستی کی تحقیقات کا سبب بن گیا

امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں ایک پروفیسر کے خلاف شکایت کی تفتیش کے دوران سامنے آنے والے چینی زبان کے بظاہر ایک بے ضرر لفظ نے ایک بحث کو جنم دے دیا ہے۔

Read more

وہ چینی لفظ جو امریکی پروفیسر کے خلاف نسلی پرستی کی تحقیقات کا سبب بن گیا

امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں ایک پروفیسر کے خلاف شکایت کی تفتیش کے دوران سامنے آنے والے چینی زبان کے بظاہر ایک بے ضرر لفظ نے ایک بحث کو جنم دے دیا ہے۔

Read more

ریپ ہونے کی صورت میں محکمہ ہذا ذمہ دار نہ ہوگا – مکمل کالم

اس دنیا میں روزانہ ہر عمر کی عورت کا ریپ ہوتا ہے، تین سال کی بچی سے لے کر پچھتر برس کی بڑھیا تک۔ رنگ، نسل، مذہب، قومیت اور لباس کی کوئی قید نہیں۔ بکنی، ساڑھی، برقع، نیکر، عبایہ، جینز، حجاب، فراک، سکرٹ، شلوار، کچھ بھی پہنا ہو، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عورت رات کے دو بجے اکیلی سڑک پر ہو یا بس میں اپنے دوست کے ساتھ ہو، کسی بھرے پرے دفتر میں ہو یا نائٹ کلب میں، پنج وقتہ نمازی ہو یا کسی مرد کی طرح ڈرنک کرتی ہو، میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگاتی ہو یا یتیم بچیوں کی پناہ گاہ کی محافظ ہو، ڈومنی ہو یا پردہ دار، چہرہ بغیر میک اپ کے رکھتی ہو یا غازے کی تہیں سجاتی ہو، قائد اعظم کے مزار کے احاطے میں ہو یا اپنی قبر میں، ریپ کرنے والا اس کی لاش نکال کر بھی ریپ کرے گا اور مردوں کے اس معاشرے میں کچھ لوگ ہوں گے جو کہیں گے کہ کفن میں چہرہ ڈھانپا نہیں گیا تھا اس لیے ریپ ہوا۔

موٹر وے پر تین بچوں کی ماں کے ساتھ گینگ ریپ ہوا، اس سے زیادہ بھیانک جرم کا تصور ممکن نہیں، لیکن یہ جملے اب بے معنی ہو چکے، جس ملک میں ایسی گھناؤنی واردات کے بعد یہ بحث شروع ہو جائے کہ کیا اس عورت کو رات کے وقت ویران موٹر وے پر سفر کرنا چاہیے تھا یا نہیں اور یہ بحث چھیڑنے والے نہ صرف پڑھے لکھے لوگ ہوں بلکہ ان کا تعلق سول سروس سے ہو تو باقی اندازہ خود لگا لیں کہ اس معاشرے کا عام مرد کیسے سوچتا ہوگا۔ آپ کے لیے اگر یہ اندازہ لگانا اب بھی مشکل ہو تو بطور مرد میں مدد کر دیتا ہوں۔

Read more

عمر (رضی اللہ عنہ) بھی ہمارے اور حسین (علیہ السلام) بھی ہمارے ہیں

ہم کلمہ گو ہیں لیکن اپنے عمل کو اسلام کے تناظر میں دیکھنے کی اجازت کسی کو نہیں دیتے۔ ہم عقل کی بنیاد پہ قرآن کے فہم کی ڈٹ کر مخالفت کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی اسلام کے دائرے کو اتنی ہی وسعت دینا پسند کرتے جتنی سی وسعت ہماری عقل کو حاصل ہے۔ پوری دنیا میں رمضان کا مہنہ ایک مخصوص مذہبی جوش اور جذبے کے ساتھ گزارا جاتا ہے جس میں صاحب ثروت افراد غربا اور مسکین کو

Read more

رات کو اکیلی گھومتی ہو؟ جاؤ بی بی واپس جاؤ ہماری ”قدریں“ نہ بگاڑو

حالیہ کیس، زینب کیس کی طرح ایک ہائی پروفائل کیس بن گیا ہے سوشل میڈیا پر لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے لوگوں کا حسب معمول مطالبہ ہے کہ مجرم کو سرعام پھانسی دو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردو، نامرد بنا دو، جیسے کہ ایسا کرنے سے جرم رک جائے گا۔ مایوس کن بات یہ ہے کہ ایسا نہیں ہو گا کیونکہ مسئلے کا حل سزا کی نوعیت نہیں بلکہ سزا کا یقینی ہونا ہے۔ اگر مجرموں کو یہ پتہ ہو کہ وہ جرم کر کے بچ نہیں پائیں گے۔ پولیس پاتال میں سے بھی ان کا کھوج لگا لے گی، عدالتیں عدم ثبوت کا بہانہ بنا کر چھوڑ نہیں دیں گی تو لازماً جرائم میں کمی آئے گی۔

Read more

جنسی زیادتی ہو تو زبان بند رکھو

غلطی آپ کی ہے آپ انسان تھیں، کیا انسانیت کے اصول سیکھنے کے لیے اپنی جنم بھومی پر قدم ٹکانے ضروری ہیں۔ یہ سب حیلے بہانے چھوڑیے سچی بات تو یہ ہے کہ آپ اپنے بچوں کو پاکستان دکھانا چاہتی تھیں۔ بچوں کو سنی سنائی باتوں کے بجائے خود ان کی آنکھوں سے انہیں یقین دلانا چاہتی تھیں کہ پاکستان کے خلاف جو کچھ کافروں اور غداروں کے منہ سے نکلتا ہے سب جھوٹ ہے۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بڑے کروفر

Read more

کیا ریاست شہریوں کی حفاظت سے دستبردار ہو گئی؟

بچپن میں کبھی کسی چوکیدار سے منہ سے آتی یہ آواز سن کر کہ ”جاگتے رہنا“ توہم بہن بھائیوں نے اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے کہ چوکیدار دوسرے الفاظ میں یہکہنا چاہتا ہے کہ جاگتے رہنا اور میرے پر نہ رہنا۔

بھلا بندہ پوچھے کہ اگر خود ہی جاگنا ہے تو تمہارا پہرہ دینا چہ در معنی!

لاہور پولیس کے آفسر کا بیان سن کر بے ساختہ یہ بات آ گئی کہ بھئی عورت کوضرورت کیا تھی رات بارہ بجے گاڑی لے کر نکلنے کی؟

Read more

خاتون ویرانے میں محفوظ تھی پھر اس نے پولیس کو مدد کے لئے کال کر دی

ابھی تک ذہن ماؤف ہے۔ سوچوں تو وجود میں سنسنی سی دوڑ جاتی ہے۔ خیالات ذہن میں اتنی بری طرح گڈ مڈ ہیں۔

اگر سننے والوں کو اس واقعے کے اثرات سے نکلنے میں ہفتے مہینے لگیں گے تو جن پر یہ دلخراش سانحہ گزرا، وہ مجبور ماں اور اس کے کمسن بچے تو شاید تاعمر اس سانحے کے اثر سے نکل نہ پائیں گے۔ یہ قیامت رات تو رہتی زندگی تک ان کی یادداشتوں میں نقش ہو جائے گی۔

Read more

اللہ جانے ہم کس جانب چل نکلے ہیں

پاکستان اب ایسا ملک بنتا جا رہا ہے جس کو اسلامی پھر جمہوریہ اور پھر پاکستان، تینوں القابات سے پکارتے ہوئے ہر پاکستانی کا سر بار شرمندگی سے جھکتا چلا جاتا ہے۔ ہم سب تو پاکستان کے اندر رہتے ہیں اس لئے شرمندہ ہوں گے بھی تو ایک دوسرے کے سامنے ہی شرمسار ہو کر رہ جائیں گے لیکن میں سوچتا ہوں کہ وہ پاکستانی جو پاکستان سے باہر کسی مسلم یا غیر مسلم ملک میں قیام پذیر ہیں، غیر ملکیوں کا سامنا کس منہ سے کرتے ہوں گے۔

Read more

کیا آپ نے اپنی ماں کا ریپ ہوتے دیکھا ہے؟

یہ سوال تو بظاہر ایک انسان سے کرنا ہی تکلیف دہ ہے۔ مگر کیا آپ کے لئے یا میرے لئے ہے۔ شاید نہیں ہے۔ ہونا بھی نہیں چاہیے۔ اس ملک میں روز ایک المیہ ہے روز ایک نئی داستان ہے۔ کیا آپ نے زینب کے واقعات کے بعد سبق سیکھا۔ کیا آپ نے مانسہرہ میں پچھلے سال، چار سال کی بچی جس کو ریپ کر کے کنویں میں پھینک دیا تھا وہ وہاں تین دن پڑی رہی۔ اس سے کچھ سیکھا۔ اور اس کے اگلے دن وہ سردی اور تکلیف کی شدت برداشت نا کرتے ہوئے مر گئی تھی۔ اچھا ہوا، ورنہ ایسی اولاد کو کون پالتا۔ کون اس کے زخم سیتا۔ کون اس کی زندگی بھر کونسلنگ کرتا۔

ہم روز ایسے واقعات دیکھ دیکھ کر بے حس ہو چکے ہیں۔ آخر کب تک روئیں سر پیٹیں۔ اس کا حل کیا ہے۔ کچھ بھی نہیں۔ کسی کی کوئی ذمہ داری ہی نہیں۔

Read more

جدید ریاست مدینہ میں عورت کی تکریم

نئے پاکستان اور جدید ریاست مدینہ کے قیام کے بلند بانگ نعرے لگانے والے ہمیں قدم قدم پر باور کرواتے تھے کہ پی ٹی آئی کی حکومت بنتے ہی ہمارے وارے نیارے ہو جائیں گے۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پینا اور خوشی خوشی جینا شروع کر دیں گے۔ انصاف کا بول بالا، عدل کا اجالا اور ظلم اور ظالم کا منہ کالا ہو جائے گا۔ پھر سونے چاندی کے زیورات سے لدی عورت کراچی سے کشمیر اور لیپا سے لنڈی کوتل تک جائے گی مگر کوئی ظالم، زانی، غنڈہ اور بدمعاش و اوباش اس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکے گا۔

ان بلند آہنگ مگر کھوکھلے نعروں کی سر بریدہ اور بدن دریدہ لاش موٹر وے کے ساتھ لہلہاتے جھومتے ان کھیتوں کے بیچ پڑی نیو ریاست مدینہ والوں کا منہ چڑا رہی ہے جہاں دو دن قبل دو انسان نما درندوں اور وحشیوں نے کم سن بچوں کے سامنے ان کی ماں کا ردائے عصمت تار تار کردی۔

Read more

کورونا وائرس: کیا عقیدے اور دعا کی طاقت نے پاکستان کو کورونا سے محفوظ رکھا؟

لیکن دنیا کے لیے حیران ُکن یہ امر بھی ہے کہ لوگوں کی لاپرواہی اور حکومت کی نرمی کے باوجود پاکستان میں کورونا کا پھیلاو کافی محدود رہا۔

Read more

بیگم کلثوم نواز کی آخری خواہش اور میاں نواز شریف کا عزم

آج سے ٹھیک ایک برس پہلے بیگم کلثوم نواز کا لندن کے ہارلے سٹریٹ کلینک میں انتقال ہو گیا۔ انتقال کے وقت کلثوم نواز وینٹی لیٹر پر تھیں اور دل کے عارضے کے علاوہ کینسر بھی ان کے جسم میں پھیل چکا تھا۔ گزشتہ کئی دنوں سے کلثوم نواز، نواز شریف اور مریم نواز سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ وہ اس بات پر بہت حیران ہوتیں اور شکوہ کرتیں کہ ”باؤ جی جہاں بھی ہوں رات کو مجھے کال ضرور کیا کرتے تھے اب ایسی کون سی مصروفیت آن پڑی ہے“ ۔ لندن میں مقیم بچوں نے ان سے یہ بات چھپا کر رکھی تھی کہ نواز شریف اور مریم نواز اس وقت جیل میں ناکردہ گناہوں میں قید ہیں۔

آخری دنوں میں کلثوم نواز میں جب بھی سکت ہوتی تو وہ خود بھی کبھی موبائل ہاتھ میں لے کر ”باؤ جی“ کو کال کرنے کی کوشش کرتیں مگر کوئی جواب نہیں آتا۔ اس خدشے کے پیش نظر کہ ان کو گرفتاری کا علم نہ ہو جائے اور اس حالت میں ان کو مزید تکلیف پہنچے ان کے موبائل اور آئی پیڈ سے انٹرنیٹ کا کنکشن ختم کر دیا گیا تھا۔ اس صدمے سے بچانے کے لئے ان کے کمرے کے ٹی وی کا کنکشن بھی اتار دیا گیا تھا۔ لیکن کلثوم نواز کو دھڑکا تو لگا ہوا تھا۔ وہ ہر کسی سے پوچھتیں کہ ”تم لوگ مجھ سے کچھ چھپا رہے ہو“ ۔ ایک دن انہوں نے اپنی پرانی آیا سے بھی دریافت کیا کہ ”تم ہی مجھے اصل بات بتا دو۔ مجھے لگتا ہے یہ سب مجھ سے کچھ چھپا رہے ہیں۔“ لیکن کسی نے ان کو یہ صدمہ نہیں پہنچایا۔ وہ ہوش میں آتیں تو سوال ضرور کرتیں ”باؤ جی کا فون آیا، مریم کی کال آئی“ اور اسی جواب کے انتظار میں گیارہ ستمبر کو ان کی زندگی کا سانس سے رشتہ ٹوٹ گیا۔
پہلی تاریخ اشاعت: 10/09/2019

Read more

سماج کا کپڑا، چلغوزہ اور دو چینک چائے

ماما قادرکے سامنے سبز قہوے کا فنجان رکھا ہوا تھا اور ماما خم پہ خم انڈیلے جا رہے تھے۔عرض کیا ماما حال دو، گزشتہ آٹھ ماہ میں کیا کھویا کیا پایا؟ ماما نے آہستہ سے سر اٹھایا، ایک ابرو کو پینتالیس کے آکڑے پر لیگ سلپ کی طرح کیچنگ پوزیشن پر جمایا اور بولے، حال تو اچھا ہے مگر بہت عرصے سے ہم کو علم کا بدہضمی ہو گیا ہے۔عرض کیا ماما یہ علم کی بدہضمی والی اصطلاح پہلی بار

Read more

پاکستان میں خواتین اور بچوں کے ریپ اور ہراسانی کے واقعات پر سوشل میڈیا صارفین برہم

پاکستان میں گذشتہ چند دنوں کے دوران ریپ اور ہراسانی کے متعدد واقعات پیش آنے کے بعد لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ آیا پاکستان خواتین اور بچوں کے لیے ایک محفوظ ملک ہے۔

Read more

ملک دشمن ایجنڈا اور توہین مقدسات

پاکستان جب بھی ترقی کی راہوں پر گامزن ہوا تو غیر ملکی طاقتوں کے پیٹ میں تکلیف اٹھی۔ پاکستان کا امن تباہ کرنے کی کوشش ہمیشہ ملک دشمنوں کی اولین ترجیح رہی ہے۔ اس ناپاک عزم کے لئے غیر ملکی طاقتوں نے کبھی کم علم تو کبھی مجبور افراد کو اپنا آلہ بنایا۔ ایسے افراد جن کا مذہب صرف پیسا ہے، جو غیر ملکی ویزے کے حصول کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں وہ بھی ان طاقتوں کی چیلے بنے۔ تاریخ پاکستان گواہ ہے کہ ایسے افراد کو ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی ہے، پاکستان قائم تھا قائم ہے اور انشا اللہ قائم رہے گا بھلا اسلام کے نام پر بننے والی ریاست، رب کی رضا کے لئے قائم ہونے والی مملکت کو بھی کوئی مٹا سکتا ہے۔

Read more

یوم عاشورہ، سیکیورٹی اور ایک پرانی کہانی

ابھی کچھ دن ہوئے ہیں کہ عالم اسلام کا ایک مقدس دن ”یوم عاشورہ“ نہایت ہی عقیدت و احترام سے منایا گیا۔ یہ دن پوری دنیا میں اور بلا تفریق مذہب منایا جاتا ہے۔

میں نوکری کی وجہ سے کراچی میں رہتا ہوں لیکن اس دن سے عقیدت یا اس دن کے حوالے سے اپنے ”ناسٹیلجک“ ہونے یعنی جلوس عزاء، تعزیوں، علم کے قافلوں، روایتی نوحوں، ماتمداری اور مرکزی ماتمی جلوس میں ”حسین“ کی پر درد صدا سے اپنے جذباتی وابستگی اور بچپن سے لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی تک کے سفر کی یادداشتوں کو دوبارہ جینے کے لئے عاشورہ کے دن اپنے آبائی شہر بھٹ شاہ پہنچ جاتا ہوں۔

Read more

راکھ میں دبی چنگاریاں

صرف فرقہ واریت ہی نہیں صوبائیت اور علاقائیت نے بھی اپنے پنجے گاڑنے شروع کر دیے ہیں۔ ذرا ذرا سی بات پر وفاق کے صوبوں کو طعنے اور عوام میں گہرے بیج بوتے تعصبات ایک خوفناک منظر پیش کر رہے ہیں: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

کربلا: جمہوریت اور ملوکیت کی جنگ

محرم سے سال نو کا آغاز ہو گیا ہے، ہر انسان امام عالی مقام کی جدوجہد کے لئے اپنا اپنا نقطہ نظر رکھتا ہے۔ واقعہ کربلا کے متعلق میری ناقص رائے یہ ہے، کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی جدوجہد کا اصل فلسفہ ظالم اور جابر حکمران کے خلاف مزاحمت تھا، جسے مسلمانوں نے 61 ہجری میں ہی فراموش کر دیا تھا، حقیقی فلسفہ کی جگہ کوفیوں نے ہمیں گریہ و زاری اور ماتم کے مصنوعی فلسفے کا علم

Read more

زہرا بتولؑ کی گود کا پالا، تین دن کا پیاسا حسینؑ

عاشورہ دس محرم کو زہرا بتولؑ کی گود کا پالا، رسول ﷺ کا نواسہ، تین دن کا پیاسا حسینؑ شہید ہوکر فتح مند ہوتے ہیں۔ عزیز ملک کی ”خون حسینؑ“ میں ہے کہ ”انصار اور اہل بیتؑ میں سے کوئی بھی حضرت امامؑ کی طرف سے لڑنے والا باقی نہ رہا۔ صبح عاشورہ سے دوپہر تک ان کی محفل میں مئے وحدت کی گردش رہی۔ پھر میخانہ عشق کے یہ متوالے نشہ سرمدی میں سرشار ہوکر ستاروں کی سمت پرواز

Read more

خواہشات کی بھینٹ چڑھا ایک افسر

فرخ چند دنوں سے شدید دباؤ کا شکار تھا، محرم کے دن تھے اور ہر سال کی طرح ضلع بھر میں انتظامی معاملات کے سب جھنجھٹ اس کے ذمہ تھے۔ وہ ایک نوجوان اسسٹنٹ کمشنر تھا جسے ضلع نارووال میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا۔ آج کل کے ہنگامہ خیز حالات سے ضلعی مشینری حتیٰ المقدور نبرد آزما ہو رہی تھی، سارے دن کی تھکا دینے والی مصروفیت اور دیر تک چلنے والی میٹنگز سے فراغت کے بعد دیر سے گھر آنا ان دنوں کا معمول تھا۔

اس کی بیوی سلمیٰ اس کی اس روٹین کی رفتہ رفتہ عادی ہو رہی تھی، بچے سارا دن باپ کا انتظار کرتے اور اس کے آتے ہی اس سے چپک جاتے اور سارے دن کے حالات، ایک دوسرے کی شکایتیں اور فرمائشیں اور نجانے کیا کچھ نہ ہوتا ان کے پاس سنانے کو ۔ جب کہ اسے شکم کی بھوک مٹانے اور پھر سونے جلدی ہوتی کیونکہ ایک لمبے دن کی تکان کے بعد اگلا دن پھر مصروفیات کی لمبی فہرست لئے ہوئے ہوتا۔ صبح بھاگم بھاگ ناشتہ اور بچوں کو سکول پہنچا کر دفتر جاتا اور پھر کولہو کے بیل کی طرح زندگی کا ایک اور چکر شروع ہو جاتا، اس کی زندگی مشینی سی ہو کر رہ گئی تھی۔

Read more

گمنام گاؤں کا آخری مزار اور رؤف کلاسرہ

جہلم کی بہت سی امتیازی خصوصیات ہیں۔ تاہم میں سمجھتی ہوں کہ آنے والے وقتوں میں جہلم بک کارنر اس شہر کا لینڈ مارک بننے جا رہا ہے۔ خوبصورت کتابوں کی بہترین اور دیدہ زیب اشاعت اور ان سے متعلق تمام انتظامی معاملات و امور کو حسن و خوبی سے نمٹانا جناب شاہد حمید کے سعادت مند بیٹوں گگن شاہد اور امر شاہد پر ختم ہے۔ ہماری معروف کالم نگار سعدیہ قریشی نے ملک کے نامور صحافی رؤف کلاسرا کی حالیہ چھپنے والی فرانسیسی ادیب بالزاک کی کتاب کا تذکرہ کیا۔ ہم پرانے لوگ اچھی کتابوں کے تو رسیا ہیں۔ فوراً اسے لکھا کہ سعدیہ پبلشر کا لکھو۔ کرونا کا خوف بھی اب کم ہو گیا ہے خریدتی ہوں۔ اسے گگن نے بھی کہیں پڑھ لیا۔ سعادت مند بچہ فوراً ہی بیچ میں کودا۔ ”ارے نہیں آپا میں بھیج رہا ہوں آپ کو“ ۔

Read more

اپنا اپنا یزید

محرم ہر سال آتا ہے اور ہم میں سے کچھ یکم سے دس محرم تک اور کچھ صرف دس محرم کو ماتم یا سوگ منا کر پلٹ کر اپنے اپنے کاموں میں گم ہو جاتے ہیں کہ پھر آئندہ برس جب برسی آتی ہے تو پھر سیاہ لباس پہن کر ماتم کرنے لگ جاتے ہیں۔ حضرت امام حسین ( رض) کی شہادت کا ماتم کرتے ہیں کہ وہ کربلا میں بے یارومددگار شہید کر دیے گئے۔ روتے ہیں سینہ کوبی کرتے ہیں زنجیر زنی کرتے ہیں اور آگ پر بھی چلتے ہیں خود کو جتنی تکلیف دے سکیں دیتے ہیں کہ حضرت جی کی تکلیف کو یاد کر سکیں مگر افسوس کہ آج تک سوائے سینہ کوبی کے ہم اور کچھ نہیں کر سکے۔

Read more

قاری اللہ وسایا کی ”دلیم“۔

صبح صبح دروازے پر مسلسل گھنٹی بج رہی تھی، بجانے والے کا غالب گمان تھا کہ شاید میری چارپائی گیٹ کے ساتھ ہی ہوتی ہے اور میں گیٹ کا کنڈا تھامے سو جاتا ہوں۔ پہنچتے پہنچے گھنٹی کا گلا تقریباً جواب دے چکا تھا اور کسی قریب المرگ چڑیا کی طرح اپنی آخری سانسیں، لے رہی تھی اور محض چ ی، چ، ی، چ، ی کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ جلدی سے گیٹ کھولا تو سامنے قاری اللہ وسایا صاحب کھڑے تھے۔ قاری اللہ وسایا پانچ چھ گھر چھوڑ کر ہمارے پڑوس میں رہتے ہیں نیک آدمی ہیں۔

عربی زبان کی کافی شد بد رکھتے ہیں۔ ہر جمعرات کو دروازے پر گھنٹی بجاتے ہیں اور تبلیغی مرکز پر ساتھ چلنے کو کہتے ہیں۔ لیکن میری پہلے سے کوئی نہ کوئی مصروفیت ہوتی ہے۔ اس لیے معذرت کر لیتا ہوں، پھر کہتے ہیں چلو نیت ہی کر لیں کبھی نہ کبھی تو ضرور حاضری ہوگی اب تک وہ کئی نیتیں کروا چکے ہیں لیکن کار جہاں دراز ہے۔

Read more

محرم کی سبیل اور میری انگوٹھی والی انگلی

غالباً میں پانچویں یا چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا اور گرمیوں کی چھٹیاں اپنے ننھیال ہی گزارتا تھا۔ یہ ان برسوں کی بات ہے جب محرم الحرام کا مہینہ بھی گرمیوں کی چھٹیوں یعنی مئی جون میں آتا تھا۔ گاؤں میں محرم شروع ہوتے ہی مٹی کی چھوٹی چھوٹی ”ڈولیاں اور بادیاں“ بیچنے والے آ جاتے اور ہم ان سے ایک ایک دو دو روپے کی ڈھیروں ڈولیاں بادیاں خرید لیتے۔ یہ مٹی کی چھوٹے چھوٹے ایک ایک ہاتھ کے گاگر اور پرات نما برتن ہوا کرتے تھے گاگر یا گھڑا نما چھوٹی سی گھڑولی کو ڈولی اور پرات نما چھوٹی سی تھالی کو بادی کہا جاتا تھا۔

Read more

محرم الحرام اور ہم (شیعہ و سنی)۔

محرم الحرام کا چاند افق پہ ابھرا تو دل ناتواں نے اک قوی و مصمم ارادہ باندھا کہ مذہبی بحث مباحثہ نہیں کرنا اور حسب معمول کی تکرار سے بچنا ہے تو بعطائے فضل رہی سو فیصد تو نہیں مگر پچانوے فیصد اپنے مصمم ارادے کی تکمیل میں کامیاب رہا ہوں۔ ایک دو جگہ پہ تھوڑی بہت بات کی بھی تو معاملے کی نزاکت و طوالت کو دیکھتے ہوئے خاموشی میں ہی عافیت جانی۔

چونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم و فضل سے بخیر و عافیت دسویں محرم الحرام کا مبارک، عظیم اور دکھوں سے بھرا دن گزر چکا تو سوچا کہ جو جو اس محرم میں دوستوں سے سیکھا اس کو سہارے قلم کے زینت بنا دوں کاغذ کی۔

Read more

کیا اسلامیات کا نصاب اور استاد فرقہ وارانہ رنگ میں رنگے ہیں؟

بیس سال پرانا واقعہ ہے ہمارے گاؤں میں سکول فقط پرائمری تک تھا جس کی وجہ سے چھٹی کلاس سے دوسرے گاؤں میں واقع ایک سکول میں پڑھنے جاتے تھے۔ ہمارے گاؤں میں شیعہ سنی آبادی مل جل کر رہتی ہے اور ایک دوسرے کا احترام کرتی ہے مگر جس دوسرے گاؤں کے سکول میں تعلیم کے لیے داخل ہوئے وہاں شیعہ آبادی نہیں ہے۔ محرم کے آغاز پر ایک باریش استاد نے ایک شیعہ لڑکے کا نام لے کر بھری کلاس میں کہا اوئے فلاں تم سینہ پیٹتے ہو؟ وہ لڑکا کافی سمجھدار تھا اور زبان دراز بھی، وہ صورتحال کو سمجھ گیا کہ استاد فرقہ واریت کا کوئی موضوع چھیڑنا چاہتا ہے، اس نے چٹکلا چھوڑا جی استاد جی اپنے سینوں پر ہی پٹتے ہیں۔ یہ جملہ اس انداز میں کہا گیا کہ پوری کلاس ہنسنے لگی۔ استاد اپنا سا منہ لے کر رہ گیا اور بات آئی گئی ہو گئی۔

Read more

پیمرا: ’نفرت انگیز مواد‘ نشر کرنے پر نجی ٹی وی چینل کا لائسنس معطل

پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے دس محرم الحرام کی خصوصی ٹرانسمیشن کے دوران مبینہ طور پر نفرت انگیز مواد نشر کرنے پر ایک نجی ٹی وی چینل کا لائسنس معطل کر دیا ہے۔

Read more

شیعہ فیکٹ چیکر – کیا حقیقت ہے کیا افسانہ

جیسے ہی ماہ محرم کا آغاز ہوتا ہے، غیر تشیع حلقوں میں شیعہ عقائد کے حوالے سے بحث چھڑ جاتی ہے۔ ویسے تو سال بھر کسی نہ کسی موقع پر یہ نکات اٹھائے ہی جاتے ہیں مگر محرم الحرام کے ابتدائی دس ایام اس نوعیت کی بحث میں خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس نقطے کو سمجھنے کے لئے انٹیگریٹو کمپلیکسٹی یا انضمامی پیچیدگی کی اصطلاح کو سمجھنا زیادہ مناسب رہے گا کہ ایسا کیوں ہے۔ اس سے مراد ایسی سوچ اور شخصیت کی تشکیل ہے جو اپنے نظریات، خیالات اور عقائد کو باریک بینی، معقولیت اور دانستگی سے مرتب کرے۔

ایسے انسان خود کو دوسروں کی جگہ اور حالات میں سماں کر سوچتے ہیں۔ اس کے بنیادی تین مراحل ہیں ؛ آئسولیشن یا علیحدگی، ڈفرنسیایشن یا تفریق اور تیسرا سب سے اہم مرحلہ ہے انضمام یا شمولیت کا۔ ایک شخص کے عقائد یا نظریات دوسرے عقائد اور نظریات سے علیحدہ اور جدا ہو کر ہی ترتیب دیے جاتے ہیں۔ دو مختلف نظریات ایک دوسرے سے متفرق ہوتے ہیں اور ایک جگہ دو یا دو سے زیادہ رائے پائی جا سکتی ہیں جو کہ سنگین اور جھوٹ بیک وقت ہو سکتی ہیں۔

Read more

ہمارے بچپن کا محرم صرف شیعوں کا نہ تھا

یوں تو مجھے اسلامی مہینے اب جا کر کہیں یاد ہوئے ہیں۔ مگر بچپن میں بس دو ہی مہینوں کا پتہ ہوتا تھا۔ رمضان اور محرم۔ رمضان میں روزوں کے لیے اہتمام کرتے ہوئے بڑوں کو دیکھ کے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ کوئی خاص مہینہ ہے۔ اور خوشی یہ ہوتی تھی کہ عید آئے گی تو نئے کپڑے جوتے اور عیدیاں ملیں گی۔ محرم میں یکم محرم سے دس محرم تک امی اور خالائیں ہر چیز پہ پابندی لگا دیتیں۔ وی سی آر پہ فلمیں دیکھنا بند ہو جاتا۔ ڈیک پہ گانے نہ چلتے۔ اور ٹی وی پہ سوائے کارٹون کے ہمیں دیکھنے کو ویسے ہی کچھ نہ ملتا تھا۔

میں نے اپنے بچپن کا کچھ حصہ کراچی گزارا ہے۔ کچھ گاؤں اور زیادہ تر لاہور۔ میں آج اپنے بچپن کا دور یاد کرتی ہوں۔ تو یاد آتا ہے کہ اس وقت لوگوں کے دکھ سکھ سانجھے ہوتے تھے۔ ایک دوسرے کا احترام تھا۔ لاہور ہمارے محلے میں ایک گھر شیعوں کا تھا۔ تو محرم کے دنوں میں خاص خیال رکھا جاتا کہ ان کی دل آزاری نہ کی جائے۔

Read more