جیسے کالا پانی کے ان جزائر پر وائسرائے ہند لارڈ میو کے ساتھ موجود لوگوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کے قریب موجود ایک کمزور جسم کا پٹھان اگلے لمحوں میں کیا قیامت ڈھانے والا ہے اسی طرح کشتی میں سوار ہونے کے منتظر متحدہ ہندوستان کے گورنر جنرل وائسرائے لارڈ میو کے بھی خواب و خیال میں نہیں تھا کہ یہ اس کی زندگی کے آخری لمحے ہیں اور جس جیل کے دورے سے وہ مزید نیک نامی کمانے آیا تھا وہیں جیل اس کا مقتل گاہ بھی بن سکتی ہے۔
انگریز سرکار کی متحدہ ہندوستان میں موجود تمام تر طاقت سے مزین لارڈ میو اپنے سینکڑوں مرد و خواتین دوستوں کے ہمراہ ان جزائر پر آئے تھے تو انہیں اندازہ نہیں تھا کہ انہیں قضا یہاں کھینچ لائی ہے اور وہ قضا بھی کسی بڑی فوج کے حملے کی صورت میں نہیں بلکہ قتل کے الزام میں سزایافتہ ایک اکیلے آفریدی کو کی خیل پٹھان کے ہاتھوں لکھی ہوئی ہوگی۔ لارڈ میو کے ہمراہ حکومتی مشینری کے اہم ترین لوگوں کے علاوہ ان کی اہلیہ بھی موجود تھیں۔ سارا دن محظوظ ہونے اور قہقہے بکھیرنے کے دوران کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ واپسی پر ان کے ہمراہ لارڈ میو نہیں بلکہ ان کی لاش جائے گی۔
Read more