محمود الحسن کی بنائی ہوئی دنیا

جب محمود الحسن صاحب نے محمد کاظم صاحب کو انٹرویو کے لیے فون کیا تو انھوں نے کورا جواب دیا۔ ظاہر ہے وہ محمود صاحب کو تب تک نہیں جانتے تھے کہ وہ کس ہستی کو انکار کر بیٹھے ہیں۔ خیر کچھ عرصے بعد جب اس انکار کا تذکرہ انھوں نے مسعود اشعر صاحب سے کیا تو انھوں نے کہا کہ کیوں نہیں دیں گے انٹرویو۔ یہاں محمود الحسن صاحب کا خیال تھا کہ ”اس وقت تو ہم نے سمجھا

Read more

”بڑے گھر“ کی شیرازی کتھا

تمہیں سمجھایا گیا تھا نا کہ ”بڑے گھر“ کے بکھیڑوں میں نہ پڑنا اور نہ ہی تانک جھانک کرنا، بڑے گھر کے ایستادہ درو دیوار اور چوباروں میں عوام کے خون سے گندھے ہوئے لاشوں کی لیپ شدہ بو سونگھنے کی کوشش نہ کرنا کیونکہ تم سے پہلے تمہاری صحافتی تنظیم پی ایف یو جے کے متحرک صحافی حسن عابدی نے بھی صحافت کی آزادی کی خاطر خاموش مجاہد کا کردار ادا کیا تھا مگر حسن عابدی بھی ہمارے بندی

Read more

اللّٰہ تعالیٰ کے بےحساب انعامات

سارے جہانوں کے خالق اور مالک نے اپنے بندے سید ابوالاعلیٰ مودودی کو نیک فطرت، ذہن رسا، قلم کی بے مثال طاقت، استدلال کی لاجواب قوت، اپنی آخری کتاب اور اپنے دین حق کی قابل رشک تفہیم اور کلمۃ الحق بلند کرنے اور اس کی خاطر سر دھڑ کی بازی لگانے کا عزم اور صلاحیتیں عطا کیں۔ وہ اورنگزیب عالمگیر کے آباد کیے ہوئے شہر اورنگ آباد میں 1903 ء میں پیدا ہوئے۔ اپنے والد سے زیر دستوں کے ساتھ

Read more

وادی نیلم میں رہنے والی ایک کشمیری گڑیا کی کہانی

حفصہ مسعودی نے ایک آن لائن انگریزی جریدے میں اپنے بچپن کے ایک پراثر واقعہ کو کہانی کے طور پر بیان کیا ہے۔ وادی نیلم کے علاقے اپر لوات میں رہنے والی حفصہ کو اس کے والد نے مظفر آباد سے ایک گڑیا لا کر دی تھی۔ حفصہ کے ساتھ اس کی والدہ کا رویہ سختی کا تھا، وہ اسے عام بچوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت بھی نہیں دیتی تھیں۔ حفصہ نے اپنی گڑیا کو ہی اپنی دوست بنا لیا،

Read more

سنہ 2022 میں ہم نے کیا پڑھا؟

گزشتہ برس ہم نے سال بھر میں پڑھی جانے والی کتابوں کی فہرست اپنی فیس بک وال پر لگائی تھی۔ جسے بہت سے احباب نے پسند کیا تھا اور کچھ نے تو اسی لسٹ سے کچھ کتابیں بھی خریدی تھیں۔ اس سلسلے کو برقرار رکھتے ہوئے ہم یہاں پر رواں برس میں پڑھی جانے والی کتابوں سے آپ کو متعارف کرواتے ہیں۔ عہد حاضر میں کتاب کے لیے وقت اور پیسہ دونوں صرف کرنا بڑا مشکل کام ہے۔ مگر کتاب

Read more

چائے کا بیٹا

2737 قبل مسیح کے چینی بادشاہ شین ننگ کے حوالے سے ایک قصہ منسوب ہے کہ وہ کسی باغ میں بیٹھے تھے اور اپنے کارندوں سے کہا کہ وہ اس کے لئے ایک پیالے میں ابلتا ہوا پانی لے کر آئیں تاکہ وہ اسے پی سکے جب پیالہ چینی بادشاہ کے ہاتھ میں دیا گیا تو اسی دوران کسی پودے کے چند پتے ہوا میں اڑتے ہوئے اس پیالے میں آگرے اور ایسے میں بادشاہ کیا دیکھتا ہے کہ ان

Read more

آمریت ادیب سے کیوں ڈرتی ہے؟

پاکستان پر عظیم عسکری رہنما ایوب خان کے نزول کی تفصیلات خاصی عجیب و غریب ہیں۔ جنوری 1951 میں پاکستانی فوج کا کمانڈر انچیف مقرر ہونے سے قبل ایوب خان مزید پیشہ ورانہ ترقی کے لیے نا اہل سمجھے جاتے تھے کیونکہ انہیں برما کے محاذ پر 1945 میں ’میدان جنگ میں بزدلی‘ دکھانے پر کمان سے ہٹا کر معطل کیا جا چکا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد عبدالرب نشتر کی رپورٹ پر قائداعظم محمد علی جناح نے ایوب خان

Read more

رنگ بدلے گا موسم کا یہ اک جھونکا ہوا کا

قدرت کی طرف سے ودیعت کی ہوئی زندگی اتنی تیزی سے ہوا ہو جاتی ہے، اس کا احساس ہمیں ہر جاتے ہوئے سال کے بعد ہوتا ہے۔ گزرتا ہوا سماں اپنے پیچھے، اپنے اچھے یا برے اثرات ضرور چھوڑ کر جاتا ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف انسانی جانوں کے زیر زمین چلے جانے کی ہوتی ہے۔ یہ وہ نقصان ہے جو فطری ہے۔ آئی ٹی اور سائنس لاکھ ترقی کر لے تو بھی ٹوٹی ہوئی سانس بحال نہیں کر سکتی۔

Read more

شاعر اہل بیت، استادوں کے استاد۔ گوہر جارچوی

معروف شاعر اہل بیت اطہار ع اور استادوں کے استاد جناب گوہر جارچوی نے مولائے کائنات حضرت المرتضی کرم اللہ تعالی وجہ الکریم اور مخدومہ کائنات بنت رسول مقبول، بتول بی بی فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی شادی خانہ آبادی کے حوالے سے جو منقبتی سہرا بعنوان علی کے ساتھ ہے زہرا کی شادی لکھا اور ایسی محبت و عقیدت کے رنگ بکھیرے، وہ آج بھی دیس دیس کی فضاؤں میں دیکھے جا سکتے ہیں اور رہتی دنیا تک

Read more

شب ہوئی پھر انجم رخشندہ کا دفتر کھلا چوتھی قسط

اگلے روز مس چیکو بنک کارڈ لے کر آ گئی الخاصی پھولے نہیں سماتا تھا اسے چیکوسن مل گئی ہمیں بنک کارڈ مل گئے ہم کو پہلی مرتبہ کسی جاپانی بنک کو اندر سے دیکھنے کا موقع ملا۔ جونہی ہم ایک جاپانی دوست کے ساتھ بینک میں داخل ہوئے سامنے مختلف کاؤنٹر پر بیٹھی سات آٹھ خواتین کھڑی ہو گئیں اور ”ارشے مسے۔ ارشے مسے“ کا شور برپا ہو گیا۔ میں خوفزدہ ہو گیا کہ شاید میری کسی غلطی کے

Read more

نئے سال کی قرارداد

رواں سال کے اختتام اور نئے سال کے آغاز کے درمیانی مرحلے میں لوگ اپنی سوچ اور فکر کے اعتبار سے مختلف نفسیاتی کیفیتوں سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ عام طور پر رخصت ہونے والے سال سے لوگ خوش نہیں ہوتے ہیں لیکن آنے والے سال کی طرف وہ ضرور امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ان کو ایسا لگتا ہے کہ رواں سال ان کے لیے بیکار تھا، اس میں انہوں نے کچھ حاصل نہیں کیا اور نیا سال

Read more

پروین شاکر ایک ماں کے روپ میں

پروین شاکر کی شاعری میں اسلامی تہوار! پروین شاکر کی ایک نظم جس کا عنوان لیلتہ الصک (یعنی تقسیم امور کی رات) ہے لیلتہ الصک جسے شب برات بھی کہا جاتا ہے اس نظم میں انہوں نے اپنے عقیدے، مذہبی تہواروں، قدرت کے فیصلوں اور انسانی تمناؤں کی کشمکش کو اجاگر کیا ہے۔ یہ نظم۔ ان۔ کے اولین مجموعہ کلام خوشبو میں موجود ہے اور یہ بات بھی پروین کے فن سے محبت کرنے والوں کے لئے دلچسپی سے خالی

Read more

عارف عبدالمتین، حرف احتجاج سے حرف دعا تک: ڈاکٹر خالد سہیل کو تیسرا خط

مکتوب نگا: حامد یزدانی اور ڈاکٹر خالد سہیل حامد یزدانی صاحب! آپ نے عارف عبدالمتین کے نظریاتی ارتقا کا ذکر کیا ہے۔ میں نے اس تبدیلی کی تفہیم کے لیے ایک انٹرویو میں ان کو چیلنج بھی کیا اور ان کے عزیزوں کے چند انٹرویو بھی کیے۔ میں اس خط میں ان کے خیالات میں ارتقا کا ادبی اور نظریاتی تجزیہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ امید ہے آپ کو پسند آئے گا۔ عارفؔ عبدالمتین کی ایک یک

Read more

رویش کمار کا بی بی سی کے ساتھ خصوصی انٹرویو: ’پارلیمنٹ کوئی نہیں خرید سکتا‘

انڈیا کے معروف صحافی اور این ڈی ٹی وی کے سابق اینکر رویش کمار نے وزیراعظم مودی کے قریبی سمجھے جانے والے گوتم اڈانی کی جانب سے چینل کو خریدنے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔

Read more

جنرل ضیا کی جعلی تلاوت اور بے نظیر بھٹو کی سادگی

ممتازسیاست دان اعتزاز احسن کسی زمانے میں کہا کرتے تھے کہ اس ملک میں دو فوجی ٹرکوں کی مدد سے اقتدار پر قبضہ ہوجاتا ہے۔ ایک ٹرک وزیراعظم ہاؤس روانہ ہوتا ہے، دوسرا پی ٹی وی کا رخ کرتا ہے اورملک میں مارشل لا لگ جاتا ہے۔ اس بیان سے ماضی میں پی ٹی وی کوحاصل سیاسی اہمیت کا پتا چلتا ہے ۔ اس ادارے کی تاریخ جب بھی لکھی گئی اس میں حکمرانوں کا ذکر ضرور آئے گا، جنھیں

Read more

اسلام آباد بلدیاتی الیکشن ہارنے کے خوف میں مبتلا مسلم لیگ (نون)

میڈیا کی دکھائی ”بگ پکچر“ ہی نہیں روزمرہّ زندگی کے مشاہدات کے تناظر میں بھی وفاقی حکومت کا جائزہ لیں تو وہ کامل بے بس ومجبور نظر آتی ہے۔ریاست کے دیوالیہ ہوجانے کے خوف سے بوکھلائی حکومت کو عمران خان صاحب نے پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے حوالے سے مزید الجھا رکھا ہے۔ حالیہ دنوں میں تاہم کچھ ایسے اقدامات نمودار ہوئے جنہوں نے عندیہ دیا کہ اردو شاعری کے محبوب کی کمر کی طرح ”ہے یا نہیں ہے“والا سوال

Read more

”خوشبو“ کے حصار میں

میں دس گیارہ سال کی تھی جب میرا ”خوشبو“ سے پہلی مرتبہ تعارف ہوا۔ میری ایک کزن تھی اس کے پاس ایک پاکٹ سائز کتاب تھی جس میں پروین شاکر کا تعارف، منتخب کلام، انٹرویوز اور اس کی وفات کے بعد مختلف ادبی شخصیات کی آراء اور تعزیتی اشعار درج تھے۔ میں نے وہ کتاب کئی بار اپنی کزن کے ہاتھ میں دیکھی تھی اور یونہی جس طرح بچے شوق شوق میں پوچھتے ہیں، میں نے بھی اس سے پوچھا

Read more

اصغر ندیم سید کی کتاب ’پھرتا ہے فلک برسوں‘ کے خاکے

افسانے میں کہانی اور کردار دونوں مصنف کی انگلیاں پکڑ کر چلتے ہیں اور کبھی اسے چلاتے ہیں، کہانی میں کردار کی شخصیت بنانا مصنف کی چند بنیادی ترجیحات میں سے ایک ہوتا ہے جبکہ خاکہ اس کے برعکس ہے۔ آپ کے پاس ایک ہی شخص ہے، جسے کردار بھی بنانا ہے اور کہانی بھی۔ مگر خاکہ کہانی تو نہیں ہوتا۔ خاکہ کہانی نہیں ہوتا بلکہ اس میں کئی ادھوری، ٹوٹی ہوئی، بھولی ہوئی، مٹائی ہوئی کہانیاں ہوتی ہیں۔ جنہیں

Read more

امریتا پریتم، ساحر لدھیانوی اور امروز کی محبت

امریتا پریتم پنجابی ادب کی عظیم شاعرہ تھی۔ اس نے اپنے محبوب کے نام آخری خط لکھا تھا، وہ محبوب کون تھاَ اس کا نام جاننا چاہیے۔ اس کے علاوہ امریتا پریتم کی حقیقی محبت کے بارے میں بھی کچھ منفرد باتوں کا ذکر ہو گا لیکن سب سے پہلے میں امریتا کا وہ آخری خط سناتا ہوں جو مجھے بہت دلکش لگتا ہے۔ یہ خط نہیں ایک شاہکار ہے۔ ملاحظہ فرمایئے۔۔۔۔ میں تجھے پھر ملوں گی، کہاں، کیسے، پتہ

Read more

”صحافت محنت طلب پیشہ ہے! “ نثار عثمانی

سنہ 1978 ء میں سرسری سماعت کی فوجی عدالت میں ایک میجر کے سامنے ان کا مقدمہ چلا۔ ان پر سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ”لیکن میں نے کہا کہ نہیں، میں تو ایک اخبار، مساوات، کی بحالی کا مطالبہ کر رہا تھا کہ ہمارے لوگ اپنی نوکریوں پر بحال ہو سکیں۔ ہاں ہم مارشل لاء کی مخالفت کرتے ہیں اور ہر سلجھے ہوئے پاکستانی کو یہی کرنا چاہیے۔ میں سیاست میں دلچسپی نہیں

Read more

رتی اور جناح: اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا

آج پچیس دسمبر ہے۔ جب پوری پاکستانی قوم اپنے رہبر قائد اعظم محمد علی جناح کی سالگرہ منا رہی ہے۔ مجھے قائد کی ذات سے جڑی ایک جیسی کومل سی حسین لڑکی کا خیال آ رہا ہے۔ جس کو اولوالعزم اور ثابت قدمی سے زندگی گزارنے والے مسلمانوں کے بظاہر سخت دل لیڈر نے اپنا دل دیا تھا۔ اس پھولوں جیسا حسن رکھنے والی کم سن لڑکی کی اپنے محبوب کے ساتھ پریم کہانی کی ابتدا تو بہت تصوراتی پریوں

Read more

سینیٹر مشتاق کا دکھی دل، پردہ اور طالبان

ڈ بڑی دلچسپ خبر نظر سے گزری جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد جو حال ہی میں ٹرانس جینڈر ایکٹ پر بیان بازی کر کے شہرت حاصل کر چکے ہیں افغانستان میں طالبان کی طرف سے خواتین کی اعلی تعلیم پر پابندی پر انتہائی دکھی ہیں اور طالبان کے امیر المومنین ملا ہیبت اللہ کے نام لکھے گئے مفتی تقی عثمانی کے ایک خط کو شیئر فرما رہے ہیں جس میں طالبان حکومت کے سربراہ سے التماس کی گئی تھی

Read more

گنجینۂ علم، جھنڈیر لائبریری

مسافر نواز، ہمسفر بن جائے تو سفر کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے اور پھر سفر بھی بمثل چینی کہاوت کہ اگر آپ علم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اپنے ساتھ سو کتب لیں اور سو میل سفر کا آغاز کر دیں آپ باعلم ہو جائیں گے۔ پس ہم نے زندہ و جاوید کتب خانہ بشکل پروفیسر ابن رزمی کے کتابوں کے گلستان جھنڈیر کا رخت سفر باندھا اور بمثل طائر محو پرواز ہو چلے۔ دوران سفر ہی رزمی صاحب

Read more

مشتاق احمد یوسفی کا مقدمہ

نوٹ: پچھلے دنوں ہم سب کے صفحات پہ ایک سینئر مصنفہ کا کالم پڑھا جس میں اردو کے عظیم ترین مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کی بعض تحریروں کے اقتباسات نقل کر کے انہیں عورت مخالف یا تضحیک آمیز قرار دیا گیا۔ جس طرح کسی بھی ادیب پر تنقید مصنفہ کا حق ہے اسی طرح ان سے علمی اختلاف ہمارا حق ہے جسے استعمال کرتے ہوئے فی البدیہ ایک تبصرہ کیا مگر پھر یہ لگا کہ یوسفی صاحب سے محبت

Read more

سولہ دسمبر: گانے ریلیز کرنے کا دن

”بٹ کے رہے گا ہندوستان، بن کے رہے گا پاکستان“ ، یہ نعرہ لگانے والا اور جوانی میں اپنی سائیکل پر بنگال میں گلی گلی پاکستان بننے کے پوسٹر چسپاں کرنے والا شیخ مجیب الرحمن ہمارے لئے غدار ٹھرا۔ 16 دسمبر 1971 کو پاکستان ٹوٹا اور بنگلہ دیش وجود میں آیا جس کے پہلے وزیر اعظم شیخ مجیب الرحمن تھے۔ میں نے 16 دسمبر کو بہت سے مضامین پڑھے اور تاریخ کے اوراق کو پلٹنے کی کوشش کی۔ بہت سارے

Read more

بوڑھا فنکار

وہ پاؤں گھسیٹتا ہوا ہسپتال کے اندر داخل ہوا تو پرچی لینے والوں کی لمبی لائن دیکھ کر گھبرا گیا، اس کی کانپتی ہوئی نحیف و ناتواں ٹانگیں مزید کانپنے لگیں۔ مگر وہ ہمت کر کے لائن میں لگ گیا اور اپنی باری کا انتظار کرنے لگا۔ اس دوران اس کو دمے کا اٹیک ہوا تو اس نے اپنے کانپتے ہاتھوں سے جیب سے انہیلر نکالا اور اپنا سانس بحال کرنے لگا۔ یہ دیکھ کر لائن میں لگے ایک نوجوان

Read more

مربی سے ملاقات

خود شناسی کے لئے انسان کو شب زاد پیشہ اپنانا چاہیے۔ جب افق پر چار سو سیاہ دبیز چادر پھیل جاتی ہے تو خود شناسی کا سراغ لاتی ہے۔ ایسی ہی ایک ساعت میں شمالی امریکہ کی برفانی چادر تلے (کینیڈا) ماضی کے اوراق حافظے کی لوح پر روشن ہو گئے۔ ہمارا بہت سا وقت عمل کے بجائے معجزوں کے انتظار میں بیت گیا۔ لمحہ افسوس کا پھیلاؤ ہماری زندگی کی حکایت پر محیط ہے۔ ہمارے شعور کی کوتاہ نگاہی

Read more

شہر آشوب کا ایک پر لطف مشاعرہ

شامیں سرد ہونے لگیں تو آسمان پہ ستارے نکلتے ہی گھنٹے بھر کی چہل قدمی سے ہی میری کچھ آوارگی ہوجاتی ہے۔ اور پھر گڑ کی چائے کی چسکیاں بھرتے ہوئے نظریں کسی کتاب کی سطروں پہ نہ دوڑیں تو احساس جرم کا سا ہوتا ہے۔ لیکن 25 نومبر کی شام جب شفق کی گرفت سے نکلی تو اپنے دونوں کام چھوڑ کر میرے لئے ایک مشاعرے میں جانا ضروری ہو گیا۔ مشاعرے کا انعقاد شہر خانپور کی ادبی تنظیم

Read more

زندگی اے زندگی:ایک جائزہ

دانش ور ظفر محی الدین کی پانچ تصانیف تمثیل آزادی (سیاسی و سماجی مضامین کا مجموعہ) ، سرورق کی لڑکی (افسانوں کا مجموعہ) ، سب اچھا ہے (فکاہیہ مضامین کا مجموعہ) ، سندھ کی عدالت، حیدرآباد (دکن) کی فلاحی خدمات سمیت ان کے گزشتہ چالیس سال سے ملک کے ایک معروف اخبار میں لکھے جانے والے سیاسی، سماجی، بین الاقوامی تعلقات اور ماحولیات کے موضوعات پر مبنی مضامین، ان کی ادبی تنظیم دائرہ ادب و ثقافت کی معیاری تقریبات کی

Read more

سادھو بیلا، پاکستان میں ہندوؤں کا اہم تیرتھ استھان

سکھر صوبہ سندھ کا تیسرا بڑا شہر ہے جو دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے۔ یوں تو اس شہر میں بہت سے تاریخی و مذہبی مقامات ہیں لیکن سندھو کے سینے میں ایک جزیرے پر ایستادہ سفید سنگ مرمر سے بنا سادھو بیلا، ایک الگ ہی مقام رکھتا ہے۔ سکھر کے مقام پر سندھو میں کئی جزیرے ہیں جن میں سب سے بڑا اور مشہور بکھر ہے۔ اسی جزیرے کے جنوب میں سادھ بیلو جزیرہ ہے جس پر سادھو بیلا

Read more

مسلم عالمی تنظیموں میں مولانا کا کردار

گزشتہ کالم کے آخری حصے میں مسلمانوں کی عالمی تنظیموں موتمر عالم اسلامی، رابطۂ عالم اسلامی اور او۔ آئی۔ سی کا ذکر آیا تھا۔ موتمر عالم اسلامی کی ابتدا 1926 ء میں اس طرح ہوئی کہ مکہ مکرمہ کے فرمانروا شاہ عبدالعزیز، جنہوں نے آگے چل کر 1931 ء میں مملکت سعودی عرب کی بنیاد رکھی، انہوں نے 1926 ء میں مسلمانوں کو درپیش مسائل پر غور و خوض کے لیے مکہ مکرمہ میں پورے عالم اسلام سے دو درجن

Read more

شاعر اور دانشور عارف عبدالمتین کے دو مداحوں کا مکالمہ

خالد سہیل حامدیزدانی ————————————————————— خالد سہیل کا خط حامد یزدانی کے نام ! حامد یزدانی صاحب مجھے یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ آپ نہ صرف میرے شاعر چچا عارف عبدالمتین کو جانتے ہیں بلکہ ان سے کئی بار مل بھی چکے ہیں۔ مجھے آپ کے ان کے بارے میں تاثرات جاننے کا بہت اشتیاق ہے لیکن آپ کے تاثرات جاننے سے پہلے میں آپ سے اپنے تجربات شیر کرنا چاہتا ہوں تا کہ آپ کو ہمارے تعلق کی

Read more

ہندی اساطیر: کائنات کی ابتدا، فلسفہ شیو اور شکتی: قسط 4

ویدوں کی رو سے کائنات کی ابتداء تقریباً ویسے ہی بتائی گئی ہے جیسے کہ دوسرے الہامی مذاہب بتاتے ہیں۔ وید ایشور کو نراکار، نرگن، بتاتے ہیں۔ جس کا کوئی روپ، آکار، کوئی صفت نہیں ہے۔ تو پھر یہ دیوی دیوتا کیا ہیں؟ اور یہ تمام علامات کیا ہیں جنھیں مختلف ناموں سے پوجا جاتا ہے۔ قارئین کرام! ان سب پر گفتگو سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ دور جدید میں آپ این ایل پی نامی ایک جن سے

Read more

(آخری قسط) ڈاکٹر وزیر آغا اور سید فخرالدین بلے، داستان رفاقت

سید فخرالدین بلے کی لاہور منتقلی کے ساتھ ہی قافلہ کے پڑاؤ بھی لاہور منتقل ہو گئے۔ اس سے قبل ڈاکٹر وزیر آغا ہر مہینے کی دس یا پندرہ تاریخ کے بعد لاہور آیا کرتے تھے لیکن سید فخرالدین بلے اور ان کی قائم کردہ ادبی تنظیم کی سرگرمیاں لاہور منتقل ہونے کے بعد جب ہر ماہ کی یکم تاریخ کو سید فخرالدین بلے کی اقامت گاہ پر قافلہ کا پڑاؤ ڈالا جانے لگا تو ڈاکٹر وزیر آغا نے بھی

Read more

کوئے ملامت کو آباد رکھنے والا

عجیب شخص تھا۔ صبح سویرے کتاب اٹھاتا تو شام تک، شام تک کیا رات گئے تک کتاب ہی پڑھتا رہتا۔ بالکل اسی انداز سے دیوتا بیکس کی تعظیم کرتا۔ تارک ہوتا تو لمبے عرصے تک دست کشی اختیار کر لیتا۔ حتیٰ کہ کئی کئی سال گوشت تک نہ کھاتا۔ ہاتھ کی انگلیوں میں پتھر سجائے، دائیں بازو میں کڑے، گلے میں زنجیر، قمیض کے بٹن کھلے، آستینیں چڑھائے یہ خوش لباس باغی ساری زندگی اپنی دھن میں مست رہا۔ لوگ

Read more

آروڑا کرسینو ڈوس سینٹوس: ایک طوائف کی غیر معمولی داستان جو نفسیاتی علاج کے دوران آرٹسٹ بن گئیں

آروڑا نے تمام پینٹنگز ایک نفسیاتی علاج کے ہسپتال میں بنائی تھیں جہاں ان میں شیزوفرینیا اور آٹزم سمیت دیگر نفسیاتی بیماریوں کی تشخیص ہوئی۔

Read more

”نعیم بیگ کے ناول“ خواب انگارے ”پر ایک طائرانہ نظر“

نعیم بیگ کا شمار ہمارے سینیئر لکھنے والوں میں ہوتا ہے، انہوں نے ”ٹرپنگ سول“ ناول لکھ کر ادبی دنیا میں نام بنایا اور پھر ”گوگن پلان“ نے ثابت کیا کہ وہ اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی میں بھی کمال مہارت رکھتے ہیں، ان کے افسانوی مجموعے ”یو۔ ڈیم۔ سالا“ کو سنجیدہ اہل ادب اس عہد کا ایک اعلی اور کامیاب فن پاروں کا مجموعہ تسلیم کرتے ہیں، اس وقت خاکسار کے سامنے ان کا ناول ”خواب انگارے“ موجود ہے،

Read more

کنار آب کا خواب

خورشید حسنین کی شاعری میں انسانوں کے خواب میں کوئی شاعر ہوں اور نہ ہی نقاد لیکن میرے ہاتھ میں شاعری کی کتاب ”کنار آب کا خواب“ ہے جس کو پڑھتے ہوئے مجھے لگتا ہے کہ شاعر اور مجھ میں کوئی قدر مشترک ہو یا نہ ہو، سماجی ترقی، انصاف پسندی اور انسانی زندگی کی بہتری کے خواب اور ان کی تکمیل کی خواہش ضرور مشترک ہے۔ خورشید حسنین اپنی طالب علمی کے زمانے میں ایک ترقی پسند انقلابی لیڈر

Read more

سرخ کشمیر، بلیک ستمبر اور جنرل ضیا

سقوط ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس ناقابل فراموش سانحات ہیں۔ انہی سانحات کی وجہ سے آپ نے یوم سیاہ اور بلیک دسمبر کا نام بھی سنا ہو گا۔ تاہم بلیک ستمبر سے اکثر پاکستانی آج بھی آشنا نہیں۔ بلیک دسمبر کی مانند بلیک ستمبر سے بھی ہمارا گہرا تعلق ہے۔ بلیک ستمبر کو اردن کے شاہ حسین کی طرف سے فلسطینیوں کے قتل عام کی یاد میں منایا جاتا ہے، یہ قتل عام ستمبر 1970 ء میں شروع ہوا

Read more

فرانز فینون: جائزہ اور افادہ، وفات کے ساٹھ برس بعد

نو آبادیاتی نظام Colonialism کے بارے میں یہ خوش گمانی عرصہ ہوئی دور ہو چکی کہ محکوم ممالک کو آزادی ملنے کے ساتھ اس کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ اس کا ثبوت پوسٹ کولونیلزم، نیو کولونیلزم، ڈیجیٹل کولونیلزم اور ہائپر کلونیلزم جیسی اصطلاحات کا وہ استعمال ہے جو نو آبادیات کے بہ ظاہر خاتمے کے بعد شروع ہوا۔ نوآبادیات یا استعماریت کے بارے میں ایک بات تو طے ہے کہ آج دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں ہے کہ جس

Read more

مشتاق احمد یوسفی اور ضیا محی الدین ہنستے ہیں!

” بعض خواتین جس انداز سے چہل قدمی کرتی ہیں اسے چہل قدمی کہنا مناسب ہو گا۔ مرزا عبدالودود کہتے ہیں کہ چال کی خوبی سے ہی چال چلن کی خرابی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ( قہقہے اور تالیاں ) ۔ اس قیامت کا نظارہ کسی کو سامنے سے دیکھ کر نہیں ہوتا، پیچھے سے ہی دیکھ کر کھلتا ہے ( قہقہے ) چال کی چاپ اور چھب چھاب کیسی ہے، ایک خوبی ہو تو بیان کریں؟ ( قہقہے )

لٹک مٹک ( قہقہے )
ٹھمک جھپک ( قہقہے )

پنڈولم کی مانند دائیں سے بائیں ( قہقہے ) اس طریقے سے رگل کرنا، اور دائیں بائیں لہرا کر چلنا، خرام ناز کے قیامت ڈھانے کے ان گنت انداز ہیں۔ یعنی لہکتی، لچکتی، لہراتی، لجاتی گج گامنی، پیچھے مڑ کر دیکھنا کہ اب بھی کوئی گھور رہا ہے یا سب ہی مر گئے؟ ( قہقہے )

Read more

سقوط ڈھاکہ کے 51 سال اور ہم

16 دسمبر 1971ء کو پاکستان کی تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس سیاہ ترین باب سے شتر مرغ کی طرح آنکھیں چرا کر مسائل حل ہونے کی امید کی جا سکتی ہے کیوں کہ 15 اگست 1947ء کو وجود میں آنے والی اسلامی مملکت محض 24 برس کے قلیل عرصہ تک ہی متحد رہ سکی تھی اور متحدہ پاکستان کی 54 فیصد بنگالی آبادی جو مشرقی پاکستان کے نام سے مملکت کا حصہ تھی

Read more

مخدوم قلی فراغی۔ وسطی ایشیا کے ایک معروف شاعر

گزشتہ برس معروف محقق ڈاکٹر حسن علی بیگ کی کتاب ”صدا بہ صحرا“ شائع ہوئی۔ کتاب بنیادی طور پر مجموعہ ہے ان مضامین کا جو 45 برسوں میں مختلف مواقع پر لکھے گئے اور قومی اور بین الاقوامی جرائد میں شائع ہوئے۔ کتاب میں شامل ایک حصہ ان یادداشتوں پر مشتمل ہے جو ڈاکٹر حسن علی بیگ کے والد گرامی مرزا محمود علی بیگ مرحوم نے وقتاً فوقتاً اپنے اجداد، خاندان، رشتہ داروں، محلے داروں کے حوالے سے ڈاکٹر بیگ

Read more

غالب اور موج شراب (نیورو سائنس کی روشنی میں)

غالب، شعر و ادب کا ایسا جہاں ہے جو اپنے اندر عظیم شخصیت کی تابانی و توانی، شان بے نیازی، انداز بیاں کی لطافت، آفاقیت، محشر خیال کی فیض یابی، ظرافت کی چاشنی، شوخی تحریر، عالم تقریر، گنجینہ معنی کی طلسمات آرائی، لفظیات کی تہہ داری، معنویت کی گہرائی، تشکیک پسندی، کلاسکیت کی چمک، جدیدیت کی رمک، فلسفیانہ و سائنسی شعور، مسائل تصوف، موج شراب کا لطف، ابہام کی کیفیات، رفعت تخیل، پر کشش تراکیب، دل کش تشبیہات و استعارے،

Read more

عالمی کہانیاں اور ظفر قریشی

صحافی ظفر قریشی کو آج کے لوگ ایک مترجم ناول نگار کے نام سے جانتے ہیں جو سات سمندر پار نیویارک نامی شہر میں قیام پذیر ہیں۔ چار دہائیوں سے زیادہ کا یہ بن باس ظفر کا اپنا فیصلہ ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ ستر کی دہائی میں جب ضیائی اسلام، اسلام آباد سے نکل کے ملک کے طول و عرض میں شتر بے مہار کی طرح داخل ہونے لگا اور جیتی جاگتی زندگیوں کے سوچتے ذہنوں، دیکھتی آنکھوں

Read more

’انتظار ختم ہوا، ہمیں 21 سال بعد تاج واپس ملا ہے‘: مسز ورلڈ کا ٹائٹل جیتنے والی سرگم کوشل کون ہیں؟

یہ مقابلہ حسن 1984 میں شادی شدہ خواتین کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ ادیتی گووتریکر کے بعد سرگم کوشل دوسری انڈین ہیں جنھوں نے یہ خطاب جیتا ہے۔

Read more

پاکستان کی ٹیک انڈسٹری میں خواتین: ’کمپنی کا آغاز کیا تو سننے کو ملا کہ تم لنڈا بیچ رہی ہو‘

پاکستان کی تیزی سے آگے بڑھتی ہوئی ٹیک انڈسٹری میں اپنے منفرد آئیڈیاز کے ساتھ اب خواتین بھی خاصی سرگرم نظر آتی ہیں۔ آئیے آپ کی ایسی ہی چند خواتین سے ملاقات کراتے ہیں جو بڑی کامیابی سے اس شعبے میں اپنے مشن کو آگے بڑھا رہی ہیں۔

Read more

کوک سٹوڈیو سے شہرت پانے والے قوال بھائی زین اور زوہیب: ’امی نے ڈنڈا پکڑا ہوتا تھا کہ کالج کیوں نہیں گئے‘

زین علی اور زوہیب علی استاد حاجی رحمت علی خان کے پوتے ہیں جنھوں نے چالیس سال تک استاد نصرت فتح علی خان کے ساتھ پرفارم کیا۔

Read more

پہاڑن

میں اگرچہ سطح مرتفع پوٹھوہار کا باسی ہوں او ر ہمارے خطے میں بھی پہاڑ پائے جاتے ہیں لیکن میری جائے پیدائش کچھ میدانی سی ہے اور کچھ کٹاؤ زدہ زمین ہے۔ لیکن پہاڑ کچھ ایسی دوری پر بھی واقع نہیں ہیں۔ ہماری چھت سے شمال کے سارے سلسلہ ہائے کوہ نظر آتے ہیں۔ مجھے بچپن سے پہاڑوں کے ساتھ عشق ہے۔ کیوں ہے؟ اس کی وجہ مجھے خود نہیں معلوم لیکن مجھے پہاڑ اچھے لگتے ہیں اور اسی لیے

Read more

33 برس پہلے: جب ہارون الرشید نے نواز شریف کا قصیدہ لکھا

(معروف صحافی ہارون الرشید کی یہ تحریر ہفت روزہ ندا کے 28 مارچ 1989 کے شمارے میں "جانشین” کے عنوان سے شائع ہوئی۔) علامہ شبلی نعمانی نے کہا تھا کہ اہل کشمیر جب وادیوں سے میدانوں میں اترتے ہیں تو اگلی نسلوں میں ان کے نقوش سنورنے لگتے ہیں۔ نواز شریف کے نقوش تو کم ہی سنورے ہیں البتہ پنجاب کے میدانوں میں اس کی قسمت نے رفعتوں کو ضرور چھو لیا ہے۔ 39 سالہ نواز شریف کا چہرہ آج

Read more

رابی پیرزادہ ”نیک پروین سنڈروم“ کا شکار کیوں ہوئی

انتہائی دلکش اور دلفریب آواز میں اپنے من کی گہرائیوں میں اتر کر گانے والی ایک زبردست قسم کی سنگر اور سب سے بڑھ کر ایک خوبصورت انسان جو اپنی ذات کے سچ کے ساتھ انصاف کرتے کرتے باغی بن گئی۔ من کی راہوں پر چلتے ہو فیملی کے دباؤ کے باوجود سنگر بننے کا سپنا پورا کیا اور چاروں طرف ان کا طوطی بولنے لگا۔ سانپوں، شیروں اور مختلف پالتو جانوروں کے بیچ بے خوفی سے گھومنے والی رابی

Read more

فسانہ آزاد کا فکری/موضوعاتی مطالعہ

فکری جائزہ:۔ کسی بھی صنف کے فکری جائزے میں، اس صنف میں موجودہ موضوعات کو دیکھا جاتا ہے۔ ناول فسانہ آزاد کا نقطہ نظر لکھنؤی تہذیب کی عکاسی ہے۔ درج ذیل موضوعات فسانہ آزاد میں پائے جاتے ہیں وقت کا ضیاع:۔ ناول فسانہ آزاد کے شروع کے صفات میں ہی ایک فکری پہلو ملتا ہے وقت کا ضیاع۔ بعض اوقات ہم اپنی زندگی میں کچھ ایسے کام کرتے ہیں جن کی اس وقت ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ مشاغل بھی ہو

Read more

(3) ڈاکٹر وزیر آغا اور سید فخرالدین بلے ، داستان رفاقت

سرگودھا سے ملتان منتقلی کے بعد بھی ڈاکٹر وزیر آغا اور دیگر احباب سے مسلسل رابطہ قائم رہا۔ ڈاکٹر انور سدید تو کوٹ ادو میں پوسٹنگ ہونے کے باعث اکثر و بیشتر ہی سید فخرالدین بلے سے ملنے آ جایا کرتے تھے۔ بسا اوقات تو ہر مہینے بھی لیکن ڈاکٹر وزیر آغا بمشکل چار پانچ مرتبہ ہی ملنے کے لیے بنفس نفیس تشریف لائے ہوں گے۔ ان چھ والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب، سید انجم معین بلے

Read more

خوبصورت، طرح دار اور متحرک لکھاری سائرہ ہاشمی

رضا رومی کا میسج تھا۔ آنٹی سائرہ ہاشمی کا نمبر چاہیے۔ ”سائرہ ہاشمی“ ۔ زیر لب دہرایا۔ ماضی کی خوبصورت، طرحدار اور متحرک لکھاری جو عرصے سے ادبی منظر نامے سے دور تھی۔ دوری کی ایک وجہ علالت بھی تھی۔ کوئی پانچ چھ ماہ قبل ان کا فون آیا تھا۔ نہ ملنے کا شکوہ، بزم ہم نفساں کا نیا اجرا۔ اپنی کتابوں کی دوبارہ اشاعت جیسے موضوعات پر باتیں ہوئیں۔ اس کے بعد پھر خاموشی تھی۔ مجھ جیسی لاپروا عورت

Read more

فیض اتنے وہ کب ہمارے تھے

کان کو ہاتھ لگا کر کہتا ہوں کہ کالم کے عنوان میں فیض نامی جس شخص کا ذکر آیا ہے اس کا تحصیل چکوال کے گاؤں منگوال سے کوئی تعلق نہیں۔ خطہ پوٹھوہار کی اس مردم خیز دھرتی منگوال کو محکمہ مال کے شہرہ آفاق تحصیلدار نجف حمید جیسی اعلیٰ انتظامی شخصیت کا وطن مالوف ہونے کا شرف حاصل ہے۔ ہمارا ممدوح فیض احمد خان المتخلص بہ فیض تو نارووال کے ایک گمنام گاؤں کالا قادر کا جاٹ تھا۔ اس

Read more

میرا اسلامی فٹ بالی سپنا ادھورا رہ گیا

پوری دنیا فٹ بال کے سب سے عظیم الشان مقابلوں سے لطف اندوز ہو رہی ہے، لیکن پاکستانی بدوؤں نے جس طرح اس میں مذہب کو گھسیڑا ہے، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ مسلم مراکش کے ہاتھوں غیر مسلم بیلجیم، اسپین اور پرتگال کی شکست کے بعد تو رگ حمیت ایسی پھڑکی، جیسے طارق بن زیاد اندلس کے ساحلوں پر کھڑا، کشتیاں جلائے للکار رہا ہو۔ ان کو لگا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بذریعہ فٹ بال، پچھلے

Read more

گل مہر کتاب پر تبصرہ

تکلیف سے تڑپتے لوگوں کے لیے کہیں کچھ فرشتے اتارے گئے ہیں، جو راحت کا سامان فری ڈیلیوری کے ساتھ اپنے کاندھوں پر لیے پھرتے ہیں۔ نہ تھکتے ہیں نہ انہیں اونگھ آتی ہے۔ خوش نصیبی یہ کہ آپ ایسے فرشتوں کو دیکھ، سن اور محسوس کر سکتے ہیں۔ نگاہ حسن سے دنیا میں بے رنگی دیکھنے والے شکوہ کرنے کے بجائے خود رنگ بھرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ جن کی آہ عرش سے ٹکرا کر ان کی سماعتوں

Read more

انڈین طالبعلم نے سنکسرت کا اڑھائی ہزار سال پرانا معمہ حل کر دیا

PA Media برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے ایک طالبعلم نے سنسکرت زبان کی گرائمر کا ایک ایسا معمہ حل کر لیا ہے جس نے بڑے بڑے عالموں کو پانچویں صدی قبل مسیح سے پریشان کر رکھا تھا۔ 27 سالہ رِشی راجپوپات نے سنسکرت کے جس اصول کی گتھی سلجھائی ہے اس کے بانی ماضی قدیم کے مشہور استاد پانینی تھے جنھوں نے یہ اصول آج سے تقریباً اڑھائی ہزار برس پہلے وضع کیا تھا۔ کیمبرج یونیورسٹی

Read more

سیمسن جاوید کی صحافتی خدمات

کچھ نام اپنی ذات و عرفان میں معتبر ہوتے ہیں۔ ان کی ہمہ گیریت کا راز فن و شخصیت اور محنت شاقہ کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ دنیا میں کوئی بھی انسان ماں کے پیٹ سے عزت، شہرت، دولت اور ناموری لے کر پیدا نہیں ہوتا بلکہ اسے دنیا میں پیدا ہونے کے بعد ہی حاصلات و ثمرات کے لیے تگ و دو کرنا پڑتی ہے۔ وقت اور حالات جیسے جیسے اسے آگے بڑھنے کی تحریک و اجازت دیتے ہیں

Read more

تذکرہ ایک ماحول دوست ادیب کا

پائیدار ترقی اور ماحولیاتی مسائل پر معاصر ادیبوں کی توجہ کم ہی جاتی ہے۔ تاہم یہ ایسے موضوعات ہیں جو بڑھتی ہوئی بیداری کے تناظر میں حالیہ برسوں میں ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ ایک ادیب اپنے ارد گرد کے ماحول سے متاثر ہو کر اپنی سوچ، فکر، مطالعے اور رجحان کی وجہ سے ادب تخلیق کرتا ہے۔ موجودہ دور میں ماحولیاتی مسائل تیزی سے بڑھے ہیں۔ جس کی وجہ سے ماحول سے جڑے موضوعات پر بھی اب دنیا کا

Read more

آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟ عالمی کتب میلے کی روداد

کسی سنجیدہ اور بہترین انسان نے، کسی بہترین اور سنجیدہ مضمون میں لکھا تھا کہ نئی صدی کی ابتداء میں کسی ادب کے سنجیدہ عاشق کو اپنے ساتھ ادب کی چند چنیدہ کتب لے کر جانا چاہیے۔ حال ہی میں ایک کتب میلہ ہوا اور اس پر ایک سنجیدہ اور سنجیدہ سے ذرا زیادہ رنجیدہ لکھاری نے لکھا کہ اسے عالمی کتب میلا نہیں بلکہ مذہبی کتب میلا ہونا چاہیے۔ کتب میلے میں کیونکہ مذہبی کتب زیادہ تھیں لہذا کچھ

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب زندگی کے راز

مصنف ڈاکٹر خالد سہیل تبصرہ دعا عظیمی ”زندگی ایک راز ہے اور وقت بھی ایک راز ہے اور وقت کی کوکھ میں بہت سے اور راز بھی پوشیدہ ہیں جن سے شاعر اور دانشور ہمارا تعارف کراتے رہتے ہیں تاکہ ہم وقت کی اہمیت اور افادیت کو بہتر سمجھ سکیں۔“ یہ ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب ’زندگی کے راز‘ کی چند سطور ہیں۔ اس کتاب کو ”کتابی دنیا“ والوں نے زیور طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ کتھئی اور سرمئی رنگوں

Read more

ادب، معیشت اور سیاست

ادب، معیشت اور سیاست میں قریبی رشتہ موجود ہے۔ غور کریں تو سیاسی اور معاشی انقلابات حقیقت بن کر ادب کے توسط سے ہی عوامی شعور میں ابلاغ کی راہ پاتے ہیں لیکن تاریخ میں کئی بار ایسا بھی ہوا ہے کہ ادب نے سیاسی اور معاشی انقلابات کی راہ ہموار کی ہے۔ ادب انقلاب سے قبل، دوران انقلاب اور بعد از انقلاب، تینوں مرحلوں میں اپنا اثر و رسوخ دکھاتا ہے۔ اسی طرح ہمارے ناقدین میں ایک عمومی رائے

Read more

جدید عورت کے مسائل اور ہمارے سماجی رویے (1)۔

جب سے روئے زمین پہ شعوری زندگی کا ظہور ہوا، تب سے یہاں مرد و زن کا تعلق ہی انفرادی اور اجتماعی حیات کا مرکزی موضوع اور سماجی اصولوں کی تخلیق کا محرک بن گیا، یعنی مرد و زن کا جو رشتہ پہلے خاندان اور پھر معاشرے کی تشکیل کی اساس بنا وہی فلسفہ زیست کا سرچشمہ بھی ثابت ہوا۔ ازل سے اب تک دنیا کے تمام مذاہب، سارے فلسفے اور ہر علم اسی رشتے کے گرد گھومتے نظر آتے

Read more

فصیل دہشت سے ہاتھ بھر فاصلہ

جون 1959 کا بھوبل مہینہ تھا۔ یوں تو بکرمی مہینہ اساڑھ آسمان سے برستی آگ، لو کے تند خو تھپیڑوں اور بگولوں کا استعارہ ہوتا ہے مگر چھ دہائیاں پہلے یہ مہینہ منقسم پنجاب کی سرحد کی دونوں طرف آباد زخم زخم روحوں کے لئے ٹھنڈک کا پیغام لایا تھا۔ تقسیم کو بارہ برس گزر چکے تھے، لکیر کے دونوں طرف ابھی لہو رنگ یادوں سے دکھ رس رہا تھا۔ ایسے میں امرتسر سے لاہور آنے والے کہانی کار اور

Read more

( 2 ) ڈاکٹر وزیر آغا اور سید فخرالدین بلے، داستان رفاقت

ڈاکٹر وزیر آغا کی تصانیف کی فہرست طویل ہے جن میں، مجید امجد کی داستان محبت، تنقید اور احتساب، تنقید اور جدید اردو تنقید، دوسرا کنارا، اک کتھا انوکھی، غالب کا ذوق تماشا، مسرت کی تلاش، نظم جدید کی کروٹیں، شام اور سائے، دن کا زرد پہاڑ، اردو شاعری کا مزاج، عبدالرحمن چغتائی کی شخصیت اور فن، چمک اٹھی لفظوں کی چھاگل جیسی شاندار تصانیف قابل ذکر ہیں۔ بے شک یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مجید امجد کی

Read more

ہندی اساطیر کی حقیقت۔ ویدوں کے آئینے میں: قسط 2

تری مورتی کا یہ نظریہ بہ باطن اسلام کے نظریے سے متصادم نہیں ہے تب تک، جب تک کہ ان اوصاف خدائی کو کسی تصویری شکل / یا کسی تصوراتی شکل میں متعارف نہ کروا دیا جائے۔ اگر دیکھا جائے تو اس زمین پر تشریف لانے والے انبیاء ہمیشہ نیکی کی تعلیم اور برائی کے خاتمے کے لیے ہی نازل ہوئے ہیں یعنی کہنا حق بہ جانب ہو گا کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ترویج کے لیے

Read more

ادب میں خاتون قلمکار کی ویلڈٹی ( validity ) ، اور بھگوڑا شوہر، اشفاق احمد اور بانو قدسیائی سوچ کی روشنی میں

طنزیہ فقرے، استہزائیہ جملے، رکیک الزام، بے ہودہ مغلظات۔ چکنا گھڑا ہونے کا ایک فائدہ تو ہوا کہ سب پھسل کر غائب۔ جس نے بھی کچھ کہا یا لکھا، ہو کیئرز کہتے ہوئے اک بے نیازی کہ جواب جاہلاں خاموشی باشد۔

لیکن ایک فقرے نے گل محمد کو اپنی جگہ سے ہلنے پہ مجبور کر دیا اور اس کی اشد ضرورت یوں آن پڑی کہ ذات پہ اچھالا گیا کیچڑ تو ہمیشہ اعزاز لگے ہے ہمیں مگر اردو ادب کو ارزاں سمجھا جائے۔ یہ کیسے برداشت کریں ہم؟

ہمارے خیال میں اردو ادب اور ادیبوں کا موقف تو ایک ہی بات ہونی چاہیے لیکن تجربہ ہوا کچھ مختلف۔

انسانی حقیقتوں کا پردہ پرت در پرت چاک کرتے ہوئے ادب وہ کچھ دکھانے کی کوشش کرتا ہے جو کم نظر نہیں دیکھ پاتے۔ زندگی کا نرت بھاؤ، داؤ پیچ، انسان اور شیطان کے بیچ باریک لکیر کا سفر وہی سمجھ پاتے ہیں جو ادب کو انسانی سطح پر جاننے کی کوشش کریں۔

Read more

رشید سرابھا ایک متحرک، نڈر اور سچے انقلابی تھے!

ہماری دھرتی نے ایسے ایسے سپوت پیدا کیے ، جو اپنی ساری زندگی اپنے وطن اور اس کی مٹی سے محبت اور اس دھرتی کے مظلوم، محکوم اور پسے ہوئے عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے، انہیں سیاسی شعور دینے اور انہیں ملکی سیاسی دھارے میں لا کر انقلاب برپا کرنے کے لیے اپنی زندگیاں قربان کرتے رہے۔ جو سماجی انصاف پر مبنی خوشحال سماج کی بنیاد رکھنے کے لیے کوشاں رہے، وہ بھی ایک ایسی سماج، جس میں بالادست

Read more

( 1 ) ڈاکٹر وزیر آغا اور سید فخرالدین بلے، داستان رفاقت

سال 2022 کو دنیائے اردو ادب میں ڈاکٹر وزیر آغا صدی کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا عمر میں والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے سے تقریباً آٹھ برس بڑے تھے لیکن ہم نے ہمیشہ انہیں والد گرامی کا حد درجہ احترام کرتے دیکھا۔ ڈاکٹر وزیر آغا اور سید فخرالدین بلے کی داستان رفاقت کا آغاز کب اور کیسے ہوا، اس حوالے سے کوئی حتمی بات کہنا ہمارے لیے دشوار ہے البتہ ہم نے اپنے ہوش

Read more

حامد یزدانی اور خالد سہیل کی مشترکہ محبوبہ

حامد یزدانی خالد سہیل ۔ ۔ ۔ حامد یزدانی کے نام ادبی محبت نامہ ۔ ۔ ۔ حامد یزدانی صاحب! میری کلیات کا نام خواب در خواب ہے کیونکہ میرا خوابوں سے ایک گہرا رشتہ ہے شاعر ہونے کے ناتے بھی اور ماہر نفسیات ہونے کی مناسبت سے بھی۔ میں سمجھتا ہوں انسان کے خواب اس کی شخصیت کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ میں نے اسی لیے اپنی سوانح عمری کا نام بھی WHEN DREAMS COME TRUE رکھا۔ اس سوانح

Read more

پہاڑوں کے بین الاقوامی دن پر نذر کوہسار

پہاڑ میں ایک عجیب سی مقناطیسی کشش ہوتی ہے۔ کوہساروں کا اوج کمال کو چھوتا ہوا جاہ و جلال دیدنی ہوتا ہے۔ وہ سر بہ فلک چوٹیاں، صدیوں کی ارضیاتی، موسمیاتی، اور تہذیبی داستانیں اپنے سینوں میں دفن کیے ہوئے بڑے بڑے گلیشیئرز، آنکھوں کو تازگی اور تراوت بخشنے والے سبزہ زار، مرغ زار، پتھروں سے ٹکراتے، جھاگ اڑاتے، اور روح کو گرماتے نغمے سناتے پرشور، منہ زور دریا، یخ بستہ شفاف پانیوں والی آئینہ تمثال جھیلیں گھنے جنگل اور

Read more

شہزاد احمد کا ایک شعر، علم حیاتیات کی روشنی میں

شعر/بیت ترا کرم ہے کہ تو نے مجھے عطا کر دی وہ زندگی جو کسی اور کو نہ چاہی تھی شعر ایک ایسا آئینہ ہے جس میں انسان نور فراست سے اپنی علمی و ادبی بصیرت اور تفہیم کا چہرہ دیکھتا ہے۔ شعر اپنے باطن میں کئی مفاہیم و مطالب مخفی رکھتا ہے۔ شعر شناس، شعر سے اپنے علم و عرفان کی بنا پر معنی و مفہوم کشید کرتا ہے۔ جدیدیت و مابعد جدیدیت کی یہ اہم خاصیت ہے کہ

Read more

کراچی بین الاقوامی کتب میلے میں دکانداروں کا رویہ اور مایوسی

”بھائی صاحب ان کتابوں پر تو قیمت نہیں لکھی“ (صارف کا سوال) ”جی یہ کتابیں بہت مہنگی ہیں“ (دکان دار کا جواب) ”آپ شاید سمجھے نہیں میں ان کی قیمت جاننا چاہتا ہوں“ (صارف مسکراتے ہوئے ) ”میں بھی بتا رہا ہوں ان کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ ابھی اصل قیمت بتاؤں گا تو۔۔۔“ اب اس سے پہلے کہ کتاب کی قیمت پوچھنے والے صارف اور ہمارے دوست کو غصہ آتا ہم نے انھیں یہ کہہ کر معاملہ رفع دفع

Read more

ریڈیو پاکستان کے مسائل

ریڈیو پاکستان۔ وطن عزیز کی جملہ زبانوں، ثقافتوں کا امین اور تہذیب و تمدن کا آئینہ دار ہے۔ اس کے موجودہ اور سابق ملازمین کے ساتھ یہ سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ وطن عزیز کے قیام کا اعلان کرنے کا اعزاز ریڈیو پاکستان کے سر ہے۔ جب تیرہ اور چودہ اگست 1947ء کی درمیانی شب لاہور سٹیشن سے اردو میں مصطفی علی ہمدانی اور انگریزی میں ظہور آذر  نے پاکستان قائم ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت وطن عزیز پاکستان

Read more

بے چاری اردو اور ہم

کراچی کے اپنے ہی رنگ، موڈ اور موسم ہوتے ہیں۔ جب سارا ملک گرمی کی شدت سے جل بھن رہا ہوتا ہے تو یہاں بادل چھائے ہوتے ہیں اور کبھی کبھی تو درجہ حرارت مری سے بھی کم ہوتا ہے۔ اب کہ سارا ملک جاڑا جاڑا کھیل رہا ہے تو کراچی میں صبح شام کی خوشگوار خنکی کا آغاز ہوا ہے۔ ایسی خنکی جو روح اور جسم کو بہت بھاتی ہے بار گراں نہیں گزرتی۔ یہ خنک موسم اور اختتام

Read more

”آئینے میں جنم لیتا آدمی“ : چند تاثرات

مسعود قمر کی تخلیقی کائنات ان کی ذات کی طرح کومل، ملائم، نفیس اور منفرد ہے۔ ان کا خاصا ہے کہ وہ تجربات و احساسات کو پہلے روح کی بھٹی میں کندن بناتے ہیں اور پھر انھیں لفظوں کا روپ دے کر نظمیں تخلیق کرتے ہیں۔ ان کا اسلوب، لفظوں کا انتخاب اور خیال کی پیش کش کچھ اس طرح کی ہوتی ہے کہ وہ خیال یا احساس کو بیان کرنے سے زیادہ اس کو دکھانے پر یقین رکھتے ہیں۔

Read more

عکسی مفتی نے ”محمد ﷺ“ لکھ کر ہم جیسے پڑھے لکھے جاہلوں پر احسان کیا ہے

پاکستانی قوم کو عکسی مفتی کا مشکور ہونا چاہے کہ انہوں نے لوک ورثہ جیسا شاندار تحفہ اسے دے کر ثقافتی سطح پر کچھ تھوڑا سا معتبر کرنے کی کوشش کی ہے۔ 1986 سے 1990 تک میرا بھی شمالی علاقہ جات میں آنا جانا مسلسل رہا۔ تب راستے بڑے دشوار گزار تھے۔ میں جہاں جاتی عکسی بارے سنتی۔ تب ان دور افتادہ علاقوں کی وادیوں میں گھومنا، لوک موسیقاروں کو کھوجنا، مقامی شاعروں اور داستان گو لوگوں کی تلاش، نادر

Read more

ایک وہ ہیں کہ جنھیں تصویر بنا آتی ہے

کہتے ہیں کہ یورپ کا رومانس سر چڑھ کر بولتا ہے۔ چاہے وہ فن تعمیرات ہو یا مصوری، چرچ ہوں یا بازار، اوپرا ہاؤس ہو یا شراب خانے ہر شے اپنے اندر پوری تاریخ سموئے ہوئے نظر آتی ہے۔ مغرب آج اس مقام پر کئی انقلابات سے گزر کر پہنچا ہے۔ صرف مصوری کی ہی بات کی جائے تو کتنی تحریکیں اس خطے میں ظہور پذیر ہوئیں جن کے دور رس اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوئے۔ ہر آرٹ کی

Read more

میں۔ ۔ ۔ ابن آدم

سائنس اور ادب کو ہمیشہ سے ایک دوسرے کی ضد مانا جاتا ہے کیوں کہ سائنس اس چیز کو تسلیم کرتی ہے جس کا مشاہدہ اور تجربہ کرتی ہے جبکہ ادب اس شے پر بھی اعتقاد رکھتا ہے جو اس کی آنکھوں کے سامنے نہیں ہے۔ کوئی سائنس دان صاحب تخیل ہو سکتا ہے لیکن جب ہم سائنس کو بطور علم دیکھتے ہیں تو وہ وجود کو چھو کر دیکھتی ہے اور پھر اسے تسلیم کرتی ہے۔ ادب کسی چیز

Read more

پچاس فیصد خوشی

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ نیکی اور بدی کی کشمکش جو قلب انسان میں شروع دن سے ہے، جو اسے ہر لحظہ بے چین رکھتی ہے کیا کبھی ختم نہیں ہو سکتی اور انسان اپنے لیے ایک واضح نصب العین کا تعین کر کے ایک چین کی موت نہیں مر سکتا۔ ہر چند ضمیر اور نفس کی آواز اسے محو سفر رکھتی ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے چند امثال سے رجوع کرتے ہیں۔ ایک نو جوان جو اپنے

Read more

اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے ایک کوشش

ایک بات ہمیں کافی دیر میں سمجھ آئی ہے کہ زندگی میں جو فیصلہ بھی ہم نے کافی سوچ بچار اور مکمل غور و خوض سے کیا ہے اس پہ ہم ضرور پچھتائے ہیں۔ اور ہماری زندگی میں ایسے فیصلوں کی تعداد، خیر سے، ”نمک میں آٹے“ کے برابر ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی اور طرح سے فیصلہ کرنے کا انجام کوئی زیادہ مختلف ہوتا ہے۔ عمر عزیز میں قریب ہر فیصلے کے بعد ہی یہ فیصلہ

Read more

گلستان سعدی کی حکایتیں

آج میں اپنی سٹڈی میں اپنی کتابوں کی شیلفوں کی صفائی اور ترتیب درست کر رہی تھی کہ شیخ سعدی کی ”گلستان“ ہاتھ لگ گئی۔ یونہی ہاتھ میں لے اس کی ورق گردانی کی دل کیا کیوں نہ اس پر ہی کچھ بات کی جائے۔ شیخ سعدی کی حکایتوں میں زندگی کی حقیقتیں پنہاں ہیں۔ سیکھنے سکھانے اور داستان گوئی کا ہنر بھی شاید انہیں کتابوں سے پروان چڑھا۔ آج کی تیز ترین دنیا میں ہر کوئی اپنے اندر ایک

Read more

لسانی تنوع اور ثقافتی تبادلہ

پاکستان اللہ کی طرف سے دیا ہوا مختلف لسانی برادریوں اور ثقافتوں کا مشترک وطن ہے۔ کیونکہ یہ دیس ایک کثیر السانی اور کثیر الثقافتی ہے، اس میں تقریباً 69 سے زائد رنگ و نسل اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے کمیونٹی کے لوگ رہتے ہیں۔ تاریخ پاکستان میں ان مختلف لسانی برادریوں سے تعلق رکھنے والے ہر ایک کمیونٹی کا اپنا ایک کردار ہے۔ ان لسانی برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے پاکستان بنانے کی سرگرمیوں میں شامل

Read more

اماں نامہ۔ نشاط کی نشاط انگیزی

کہا جاتا ہے کہ اچھی کتاب بہترین تفریح کا ذریعہ ہے۔ چند روز قبل ایسی ہی کتاب میرے زیر مطالعہ رہی جو واقعی تفریح کا ذریعہ ثابت ہوئی۔ کتاب کا عنوان بھی منفرد ہے اور عنوان دیکھ کر اس کو پڑھنے کے لیے تجسس کا گھوڑا اتنا تیز بھاگنا شروع کرتا ہے کہ نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں۔ کتاب کا نام ”اماں نامہ“ ہے۔ اماں نامہ نشاط یاسمین خان کے اکیس مزاحیہ مضامین کا مجموعہ

Read more

درد بے لگام ہو گئے

بہادر خاتون کو کھل کر ہنستے دیکھا۔ پوچھا، ”سنا ہے کہ ہر ہنسی کے پیچھے کچھ غم چھپا ہوتا ہے۔ آپ نے کبھی وہ راز نہیں کھولا۔“ طنز یا کنایہ بازی تو حد ادب سے آگے ہے، ہاں رمز و اشارہ کا طریقہ تو برتا جاسکتا تھا سو کہہ دیا، ”کیا آپ بے غم ہیں؟“ جواب ملا ”انسان کے اندر پرت ہی پرت۔“ ذہین عورت تھی۔ جواب کچھ مبہم، زیادہ آشکار تھا۔ دکھوں کے جہان کی پرت پرت کھولنے کی

Read more

چار دسمبر: ریاض تسنیم کی برسی اور آرٹس کونسل

چار دسمبر کو میں کراچی آرٹس کونسل میں عالمی اردو کانفرنس میں بطور میزبان، مندوب مصروف تھا کیونکہ اس میں ایک سیشن اکیس ویں صدی اور پشتو زبان و ادب بھی رکھا گیا تھا جس میں، میں، پروفیسر اباسین یوسفزئی، قیصر آفریدی، ڈاکٹر فوزیہ اور عرفان اللہ کے ساتھ شریک گفتگو تھا۔ اس دوران میرے موبائل پر کال آئی جو میں عصر کی نماز میں شریک ہونے کی وجہ سے حاصل نہیں کر سکا۔ بعد میں جب میں نے موبائل

Read more

ارشد محمود ناشاد کی مثنوی ”کتاب نامہ“ کا مطالعہ

انسان کی سرشت میں شامل ہے کہ جہاں وہ اپنے موجود کو بہتر بناتے ہوئے امکانات کو اپنی نگاہ میں رکھتا ہے وہیں اپنے ماضی سے بھی ہمہ وقت بندھا رہتا ہے۔ اسے اپنے آباء کے ساتھ ایک فطری ربط ہوتا ہے۔ اسی طرح صاحبان قلم کی نگاہ ضرور مستقبل پر ہوتی ہے مگر انسان کا ماضی بھی ان سے اوجھل نہیں ہوتا۔ بلاشبہ انسان کی ان تھک محنت لائق تحسین اور موجودہ ترقی قابل فخر ہے۔ یہی وجہ ہے

Read more

فلم لیجنڈ آف مولا جٹ اور کازو ایشی گرو

کل آخر لیجنڈ آف مولا جٹ دیکھ لی۔ میں کافی دن اس فلم کا دیکھنا ٹالتا رہا کیونکہ کچھ مہینوں بیشتر سرمد کھوسٹ کی فلم کملی نے حال میں بننے والی پاکستانی فلم سے مجھے کافی مایوس کیا۔ لیکن لیجنڈ آف مولا جٹ کے ریلیز ہونے کے بعد میں معاشرتی میل جول کی محفلوں میں جہاں بھی گیا مجھے اس فلم کا چرچا سننے کو ملا یہاں تک میرا فزیو جس کے پاس میں اپنے کاندھے اور ایڑی کے ناقابل

Read more

فیض احمد فیض اور سید فخرالدین بلے، داستان رفاقت (آخری قسط)

نظم : مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ نظم نگار : فیض احمد فیض مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے یوں نہ تھا میں نے فقط

Read more

مجھے ڈبل کراس کیا گیا

”کسی نے شتر مرغ سے پوچھا : تم کیا ہو، شتریا پھر مرغ؟ اس نے جواب دیا : میں شتر (اونٹ) ہوں۔ پوچھنے والے نے پوچھا : تو پھر بوجھ کیوں نہیں اٹھاتے؟ اس نے جواب دیا: کیونکہ میں مرغ (پرندہ) ہوں۔ پوچھنے والا بھی بڑا کائیاں تھا۔ اس نے پوچھا:اچھا! لیکن اگر تم مرغ ہو تو پھر اڑتے کیوں نہیں؟ اس نے جواب دیا: کیونکہ میں شتر ہوں۔ شتر مرغ کیونکہ نہ اڑ سکتا ہے اور نہ ہی وزن

Read more

مآثر رحیمی – ایک نایاب کتاب

سیاسی وابستگیوں نے جہاں معاشرے کے دیگر شعبوں کا پراگندہ کیا ہے وہاں تخلیق و تحقیق کا عمل بھی اس کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہا ہے۔ جو علمی و تحقیقی کام سرکاری سطح پر ہونے چاہیے تھے وہ انفرادی طور پر کیے جا رہے ہیں۔ یہ تاریخ فراموشی اور تاریخی واقعات سے دانستہ چشم پوشی کا نتیجہ ہے کہ تا ریخ سے سبق سیکھنے کی بجائے ہم ماضی کی غلطیاں دہراتے چلے جا رہے ہیں۔ مآثر رحیمی مغل

Read more

نگر نگر پھرے بنجارہ

فرخ سہیل گوئندی کا شمار پاکستان کے ان دانشوروں میں ہوتا ہے جنہوں نے کاغذ اور قلم سے رشتہ استوار کیا۔ ان کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں۔ وہ بہ یک وقت ادیب، سفر نامہ نگار، کالم نگار، اینکر اور تجزیہ نگار ہیں۔ ہر فیلڈ میں وہ منفرد مقام کے مالک ہیں۔ سرگودھا کی دھرتی سے تعلق رکھنے والی اس نامور شخصیت نے پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ڈگری حاصل کی۔ ان کے دو عشق بہت مشہور ہیں، سیاست اور

Read more

ہمارے زمانے کا اسکول کیسا تھا؟ (مکمل کالم)

آج کل کے بڑے بڑے انگریزی میڈیم اسکولوں میں پڑھائی ہو نہ ہو ’پیرنٹ ٹیچر میٹنگ‘ ضرور ہوتی ہے، اس ملاقات میں والدین سے بچوں کی پڑھائی کے بارے میں بات چیت کی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ مبینہ طور پر ان کا بچہ کس مضمون میں کمزور اور کس میں بہتر ہے۔ پہلے میں ان ملاقاتوں میں جایا کرتا تھا لیکن پھر میں نے جانا کم کر دیا اور اب بالکل نہیں جاتا، وجہ اس کی یہ

Read more

یاسر پیرزادہ کے اتباع میں

ہماری دھرتی ہزاروں قرن پر گندھا ایک نقش مسلسل ہے کہ فلک اس کی سمائی کو کم ہے۔ رنگوں اور خوشبوؤں کا جادو ایسا کہ ہر گام پر دامن دل کھینچتا ہے۔ پیڑ بوٹوں کی گلگشت اور چرند پرند کی بوقلمونی کا کیا ذکر، مشت خاک میں ہنر کی کارفرمائی کا ایک سے بڑھ کر ایک معجزہ یہاں گزرا ہے مگر صاحبو میرؔ سا کوئی کیا ہو گا۔ انیسویں صدی اٹھا کر دیکھیے، رام موہن رائے، اسداللہ غالب، لالہ دین

Read more

ہماری پسند کے کچھ گیت اور موسیقی کی حرمت

محکمہ تعلیم، حکومت سندھ کی طرف سے صوبے میں موسیقی کی تعلیم کی اجراء کے اعلان سے اس اقدام کی موافقت اور مخالفت میں صدہا صداہائے تحسین و تائید یا پھر تنقید و ذم بلند ہو رہی ہیں۔ جہاں کچھ لوگ اس قسم کے اقدام کے اعلان سے خوش ہیں وہیں ایک طبقہ اس کے اس قدر خلاف ہے کہ موسیقی کو حرام تک ٹھہراتا ہے۔ اور ہمارا خیال ہے کہ اگر ہم ”مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کے آمر

Read more