ایاز میلو اور جیل کی ڈائری

ابھی میں سولہویں عالمی اردو کانفرنس میں شرکت کے بعد کراچی ہی میں تھا کہ سندھی شاعرہ، ادیبہ اور ماہر تعلیم محترمہ سلمیٰ لغاری کی طرف سے ایک پیغام مل چکا تھا کہ مجھے ”ایاز میلو“ میں ضرور شرکت کرنی ہے۔ یہ سلمیٰ لغاری کوئی اور نہیں معروف ایکٹیوسٹ امر سندھو ہیں ؛ جی ایاز میلو کی مدارالمہام۔ محترمہ نورالہدیٰ شاہ نے بتایا تھا کہ سندھی عورت کی آگہی کے باب میں جتنا عملی کام امر سندھو اور ان کی

Read more

اپنوں کے ہاتھوں بے توقیر سائنسداں ڈاکٹر عبدالسلام (حصہ دوم)

ڈاکٹر عبدالسلام کی دوسری محبت مسلمان تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ مشرق کے مسلمان معاشرے بہترین تعلیم سے بہرہ مند ہو کر مغرب کے مقابلے میں آجائیں۔ ان کا ماننا تھا مسلمان سائنسی ترقی کی دوڑ سے صدیوں قبل دست بردار ہو چکے ہیں اور وہ اس بات پر دُکھی تھے کہ بہت سے دیگر مسلمان ممالک کی طرح پاکستان بھی شرح خواندگی کے اعتبار سے بہت کم درجے پر ہے۔ سلام مسلمانوں کے شاندار تعلیمی ورثے پر فخر

Read more

جوائے آف اردو

زبانوں کا نہ تو کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی لباس مگر جذبات ضرور ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے بہت سے لوگوں کو جوائے آف اردو عنوان پر اعتراض ہو مگر زبانیں خطوں کی ہوتی ہیں۔ زبانوں کا نہ تو کوئی جنم دن ہوتا ہے اور نہ ہی تہوار۔ اردو برصغیر کے خطے کی زبان ہے۔ اردو موسم بہار کی وہ چڑیا ہے جو گلشن میں کھلے پھولوں پر منڈلاتی رہتی ہے۔ دنیا میں بولی جانے والی دوسری بڑی

Read more

جوائے آف اردو

زبانوں کا نہ تو کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی لباس مگر جذبات ضرور ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے بہت سے لوگوں کو جوائے آف اردو عنوان پر اعتراض ہو مگر زبانیں خطوں کی ہوتی ہیں۔ زبانوں کا نہ تو کوئی جنم دن ہوتا ہے اور نہ ہی تہوار۔ اردو برصغیر کے خطے کی زبان ہے۔ اردو موسم بہار کی وہ چڑیا ہے جو گلشن میں کھلے پھولوں پر منڈلاتی رہتی ہے۔ دنیا میں بولی جانے والی دوسری بڑی

Read more

ہم سب حیراں سرِ بازار

ریاستِ مدینہ کی اٹھتے بیٹھتے مثال دینے والا وزیراعظم دیگر ممالک کے سربراہان سے ملنے والے سرکاری تحائف سرِبازار فروخت کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا جاتا ہے، پھر بھی وہ مرید سے ترقی پاکر مرشد بن جاتا ہے! اکبر ایس بابر، ڈاکٹر شیریں مزاری، ڈاکٹر عارف علوی، شاہ محمود قریشی، اسد عمر، علی محمد خان، حفیظ اللہ نیازی، سیف اللہ نیازی، عون عباس بپی، شبلی فراز جیسے پرانے کارکن ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں جب سال پہلے پاکستان پیپلز پارٹی سے

Read more

راجہ گدھ کا تانیثی تناظر – گیارہویں قسط

یہاں سیمی کا کردار ایک بار پھر مصلوب۔ سیمی جو ماڈرن لڑکی، گلبرگ کی رہائشی اور بہت سے لڑکوں سے تعلق رکھتی تھی۔ لیکن اس موڑ پر سیمی کا کردار بانو کے قلم پر حملہ آور ہو کر عابدہ کو اس روپ میں ڈھل جانے پر مجبور کرتا ہے جس بنیاد پر بانو سیمی کو بری عورت دکھانا چاہتی ہیں۔ نکاح کے بغیر مرد اور عورت کا حرام جنسی تعلق۔ عابدہ ایک اجنبی مرد کی طرف اسی طرح بڑھتی ہے

Read more

موسیقار رشید عطرے

( 15 فروری 1919 سے 18 دسمبر 1967) امرتسر میں واقع خوشی محمد کے گھرانے میں 15 فروری 1919 کو ایک بیٹا پیدا ہوا۔ بچے کا نام عبد الرشید رکھا گیا۔ یہ موسیقی کا ربابی گھرانا تھا۔ کس کو پتہ تھا کہ عنقریب یہ بچہ موسیقی کی دنیا میں اپنی پہچان بنائے گا۔ ویسے بھی خواہ وہ موسیقی کا گھرانا ہی کیوں نہ ہو، ضروری نہیں کہ گھر کے تمام افراد مشہور ہو جائیں! اس بچے کے والد خوشی محمد

Read more

مانیکا کی ڈائری سے

کیا فرح گوگی اور بشری خاور مانیکا عرف پنکی عرف پیرنی بی بی تاریخ کی پہلی خواتین ہیں جن پر یہ الزام ہے کہ وہ ریاست کے امور چلانے کا اختیار رکھتی تھیں یا جنرل رانی سے لے کر یہ کردار بار بار کہانی میں اپنی پوری آب و تاب سے جلوہ گر رہا ہے۔ مجید نظامی صاحب نے اپنی ایک پوسٹ میں کیا خوب کہا ہے کہ ”پارلیمنٹ سے بازار حسن تک“ تین مختلف لوگوں نے اپنے اپنے ناموں

Read more

منٹو کا خط

جھوٹی دنیا کے جھوٹے لوگوں! آپ کو ایک سچے شخص سعادت حسن منٹو کا سلام! کاشف! مجھے تمہارا خط موصول ہوا، جس میں تم نے لکھا تھا کہ ”میں تمہیں اپنے بارے میں بتاؤں“ یعنی میں کون تھا، کیا تھا، کیوں تھا اور کیسا تھا۔ میرے خیال میں تم ایک نادان اور کم فہم لڑکے ہو کیونکہ تم معاشرے پر سوال اٹھانا چاہتے ہو۔ سنو! تم نے ابھی اپنے سماج کا مکروہ چہرہ نہیں دیکھا۔ خیر سنو! میں تمہاری جھوٹی

Read more

سردیوں کی شام اور دوستوں کی محفل – مکمل کالم

گزشتہ شب لاہور میں سرما کی پہلی بارش ہوئی تو موسم انگڑائی لے کر تبدیل ہو گیا، فضا کی آلودگی کم ہو گئی، ہوا میں خنکی بڑھ گئی اور کچھ رومانویت کا احساس ہونے لگا۔ ایسے میں خیال آیا کہ یاروں کی محفل سجائی جائے۔ ویسے تو ہم یار دوست تقریباً ہر ہفتے ہی ملنے کا موقع نکال لیتے ہیں مگر سردیوں میں ان محفلوں کا لطف اور دورانیہ بڑھ جاتا ہے۔ ہم سب برادرم اجمل شاہ دین کے کالج

Read more

علامہ اقبال کے افکار و نظریات اور ہم!

9 نومبر کو ہم نے علامہ اقبال کا یوم پیدائش منایا ہے۔ اپنے قومی مشاہیر کو یاد رکھنا اور ان سے جڑے دن منانا یقیناً ایک اچھی روایت ہے۔ دنیا بھر میں یہی رواج ہے۔ ہم اکثر یہ بات سنتے ہیں کہ بطور قوم ہم اپنے محسنوں اور قومی ہیرو کی بے قدری کرتے ہیں۔ سو نہایت غنیمت ہے کہ ہم شاعر مشرق علامہ اقبال کو کسی نہ کسی حوالے سے یاد رکھتے ہیں۔ یہ الگ بات کی ان کی

Read more

حضرت مفتی قوی” المعروف رفع حاجت”

سعادت حسن منٹو کہا کرتا تھا ” کہ میں کبھی شراب پینے کے بعد الائچی اپنے منہ میں نہیں رکھتا اور طوائف کے پاس کبھی منہ چھپا کے نہیں جاتا“ مطلب ”میں“ جو ہوں، جیسا بھی ہوں سو ہوں اور جو کرتا ہوں ڈنکے کی چوٹ پر کرتا ہوں اور خود کو پارساؤں کی صف میں شامل کرنے یا پاکیزہ ثابت کرنے کے لیے خود کی ذات کو خواہ مخواہ کے تقدیسی لحاف میں لپیٹنا پسند نہیں کرتا۔ جوش ملیح

Read more

تانیثیت اور اردو تانیثی ادب

تانیثی ادب سے مراد وہ ادب ہے جس میں خواتین کے سیاسی، معاشی، معاشرتی و دیگر جملہ حقوق کے متعلق اظہار خیال کیا گیا ہو۔ تانیثی ادب کا آغاز سب سے پہلے مغرب میں انقلاب فرانس اور صنعتی انقلاب کے آنے سے ہوا۔ اٹھارہویں صدی میں خواتین کو ووٹ کا حق دیا گیا۔ 1790 میں ایڈمنڈ برک نے ایک کتاب A vindication of the right of men لکھی۔ جس کے جواب میں 1792 میں میری وول اسٹون کرافٹ نے A

Read more

عابد حسن منٹو کی نظریاتی استقامت

عابد حسن منٹو کی سرگزشت ”قصہ پون صدی کا“ ہماری عوامی سرگزشت کا ایک عبرت ناک باب ہے۔ میں نے عابد حسن منٹو کو پہلے پہل گورنمنٹ کالج کیمبل پور (حال اٹک) میں یوم غالب کی ایک تقریب میں دیکھا اور سنا تھا۔ خود میں نے اس تقریب میں اپنا پہلا مضمون بعنوان ’غالب، غزل سے قصیدے تک‘ پڑھا تھا۔ بیسویں صدی کی پانچویں دہائی میں ہمارے اس کالج میں ڈاکٹر غلام جیلانی برق اور پروفیسر محمد عثمان ہر سال

Read more

ٹیلنٹڈ بندہ کہاں جائے

مانگے تانگے کی دو چار شاعری کی کتابیں پڑھ کر ہمارے اندر ایک زعم سا پیدا ہو گیا تھا کہ اردو تو ہمارے گھر کی باندی ہے۔ باقی مضامین پہ محنت کرنا تو بنتا بھی ہے مگر اردو پہ سر کھپانے کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ میٹرک کے پرچے دیے تو اردو میں اسی فیصد نمبر آ گئے اور ہمارے زعم کی گویا تصدیق ہو گئی۔ اسی طرح انٹرمیڈیٹ کا امتحان بھی اطمینان کن انداز میں پاس کر لیا۔ اب

Read more

یعقوب نظامی کا سفرنامہ ”دیکھ میرا کشمیر“

یعقوب نظامی سے میرا غائبانہ تعارف برطانیہ میں مقیم میرے دوست عبدالحفیظ نے کرایا تھا لیکن تین چار دفعہ برطانیہ بلکہ ان کے شہر بریڈ فورڈ جانے کے باوجود ان سے بالمشافہ ملاقات نہ ہو سکی۔ 2015 ء میں ایک مربی نے ان کا سفرنامہ ”پیغمبروں کی سرزمین“ پڑھنے کو دیا۔ سفر نامہ پڑھ کر میں نے انھیں اس سفرنامے کے بارے میں ایک خط لکھا تو خوشگوار حیرت ہوئی جب تین دن بعد ایمیل میں ان کا مفصل جواب

Read more

پہلی چپ کا شور: چند تاثرات

جس طرح عناصر فطرت کی اپنی ہی منطق اور ترتیب ہوتی ہے بالکل ایسے ہی تخلیق کی بھی اپنی منطق ہوتی ہے۔ تخلیق کے بے ساختہ عمل میں احساس کی جس نزاکت، کو ملتا اور تازگی کی ضرورت ہوتی ہے وہ ریاضت، لگن اور ان تھک محنت کے بغیر صریر خامہ میں ڈھل کر نوائے سروش نہیں بن سکتی۔ اگر عصر حاضر کے افسانہ نگاروں کے افسانوں کا ژرف نگاہی سے جائزہ لیا جائے تو عیاں ہوتا ہے کہ ان

Read more

”گرگ شب“ ، پیش منظر کی کہی سے پس منظر کی ان کہی تک

ناول کو زندگی کی تصویر کہا جاتا ہے، ایک ایسی تصویر جو زندگی کی کئی جہات کا احاطہ کرتی ہے۔ لکھنے والے اور اچھا لکھنے والے میں یہ فرق ہوتا ہے کہ اول الذکر اس تصویر میں خلا چھوڑنے اور حقیقت کو ملفوف کرنے سے قاصر ہوتا ہے مگر مؤخر الذکر نا صرف حقیقت کو پس پردہ بھیج کر کہانی کو ابھارتا ہے بلکہ کچھ ان کہی چھوڑ دیتا ہے جس تک پہنچنے کا کام قاری کو کرنا ہوتا ہے۔

Read more

مستنصر حسین تارڑ کے ناول "بہاؤ” کا تہذیبی شعور

ناول ”بہاؤ“ مستنصر حسین تارڑ کا شاہکار ناول ہے۔ مستنصر حسین تارڑ کا یہ ناول کئی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے۔ جس طرح انھوں نے اس ناول میں قدیم وادیٔ سندھ کی تہذیب کی تصویر پیش کی ہے شاید آج تک کوئی مصنف اس طرح جامع اور خوبصورت طریقے سے نہیں کر پایا۔ مستنصر حسین تارڑ کا تعارف مستنصر حسین تارڑ یکم مارچ 1939 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد گجرات کے ایک کاشت کار گھرانے سے

Read more

مولانا داؤد غزنوی کی شخصیت: مختصر جائزہ

مولانا داؤد غزنوی مسلک اہلحدیث کے چند بڑے علماء میں سے تھے۔ آپ پنجاب کانگریس کے صدر تھے، اور پنجاب میں وہ واحد مسلمان تھے جو کانگرس کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ آپ نے اپنی مذہبی شناخت یا جماعت کی پہچان پر عملی سیاست نہیں کی بلکہ خالص سیاسی جماعتوں کے ساتھ منسلک ہو کر انہوں نے سیاست لڑی۔ اس میں ان کا ایک خاص موقف تھا جو آگے ہم پیش کریں گے۔ مولانا نے 1946

Read more

اعلیٰ تخلیقی کام کیسے کیا جائے؟

نکولا ٹیسلا بیسویں صدی کا ایک جینئس سائنسدان تھا جس نے انجینئرنگ کے شعبے میں سینکڑوں ایجادات کیں، اُس کی ایجاد کی گئی اشیا کی فہرست اتنی طویل ہے کہ شاید ہی کوئی دوسرا سائنسدان اُسے اِس میدان میں پچھاڑ سکے۔ تاہم افسوسناک بات یہ ہے کہ تمام عمر اپنی ایجادات کی مدد سے لاکھوں ڈالر کمانے والا ٹیسلا آخری عمر میں کنگال ہو گیا۔ اُس کی موت بھی عجیب و غریب حالات میں ہوئی، وہ اپنے ہوٹل سے نکل

Read more

وارث علوی: ناقدوں کے ناقد

اب تو اس واقعے کو کئی برس ہو چلے ہیں، رات گئے منشا یاد کا فون آیا اور چھوٹتے ہی پوچھا تھا: ”آپ ای میل کا جواب کیوں نہیں دیتے؟“ حملہ اتنا اچانک تھا کہ میں ایک لمحے کو بھونچکا رہ گیا، سوچا لیکن سمجھ میں کچھ نہ آیا تو الٹا سوال کر دیا : ” کون سی میل کا جواب منشا صاحب؟“ ”میں ساجد رشید کی میل کا ذکر کر رہا ہوں، ساجد نے ایک میل تین بار بھیجی

Read more

میں بزدل کیسے ہوا؟

1978 کا برس تھا۔ آئزک بیشواس سنگر کو ادب کا نوبل انعام ملا تھا۔ درویش ان دنوں پنجاب کے ایک قدامت پسند، نیم خواندہ قصبے میں ایسی نوجوانی سے گزر رہا تھا جیسے آج کل کچھ پرجوش نوجوان سلاخوں کے پار محبوس ہیں۔ منٹو نے باری علیگ کے خاکے میں اس آمادہ بہ جستجو کیفیت کو ایک جملے میں سمو دیا ہے، ’جو اب خلوص دل سے کہہ سکتے ہیں کہ ان کو اس وقت اپنے اس جوش کے رخ

Read more

افسانوی مجموعہ ”ٹوٹے پروں کے سنہری خواب“ کا تجزیہ

نثری ادب میں افسانہ نگاری ایک معتبر صنف ہے۔ جو طویل صدیوں کا سفر طے کر کے اہل سخنوروں کے اذہان و قلوب پر براجمان ہوئی ہے۔ یہ اہل ادب کا صدیوں پرانا شیوہ ہے کہ وہ اپنے ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کے پس پردہ معاشرتی زبوں حالی کو زیر قلم لا کر ایسے حقائق کی چشم کشائی کرتے ہیں۔ جہاں کہانی خود دلچسپی پیدا کر کے اپنے قاری کو نتیجہ جاننے کی تحقیق و جستجو پر مجبور کر دیتی

Read more

جینا ہو تو ایسے جیو

عمر کی نصف سنچری مکمل ہونے پر انسان خواہ وہ مرد ہو یا عورت عجیب و غریب خیالات کا حصار اپنے گرد باندھ لیتا ہے۔ مگر صنوبر ایسی نہیں ہیں۔ انہیں جب بھی دیکھا ایک خوش گوار حیرانی بھی ہوئی اور یہ خواہش بھی پیدا ہوئی کہ صنوبر جیسی زندگی، ماں باپ، بہن بھائی، بیٹیاں اور شوہر ہر لڑکی کا نصیب ہو۔ صنوبر کی خوش قسمتی تھی کہ ان کا میکہ اور سسرال دونوں ہی ذہنی اور علمی طور پر

Read more

’خود مجھے واٹس ایپ پر میسج آیا کہ زندگی تماشا 300 روپے میں دستیاب ہے‘

’زندگی تماشا‘ کے فلمساز اور ہدایتکار سرمت کھوسٹ نے چار اگست کو اپنی فلم انٹرنیٹ پر ریلیز کی۔ سنیما گھروں میں فلم کی ریلیز پر پابندی اور پابندی ہٹوانے کی طویل جدوجہد سے لے کر ’بڑی سکرین‘ کے لیے بنائی جانے والی فلم آن لائن ریلیز کرنے کے فیصلے تک، انھوں نے بی بی سی سے اس طویل سفر کے بارے میں گفتگو کی ہے۔

Read more

"کھول دو” پر مقدمہ اس لئے چلا کیونکہ منٹو ڈپٹی کمشنر نہیں تھا

سعادت حسن منٹو کے افسانے "کھول دو” کا ذکر کیا جائے تو کچھ بندگان ریا پر قومی مفاد کی چادر دریدہ کی کوتاہ دامنی نیز تنگی چشم حسود کے باعث تشنج طاری ہو جاتا ہے۔ الزام لگایا جاتا ہے کہ منٹو نے مسلم لیگ کے شاہین بچوں اور راتوں رات تحریک پاکستان کے چھکڑے پر سوار ہونے والے موقع شناس کارکنوں کی کردار کشی کے لئے یہ افسانہ لکھا تھا۔ منٹو جیسے "ننگ ملت” کی تحریر کو اسی زاویے سے

Read more

برکس اتحاد عالمی معیشت کے لیے کتنا مفید؟

جب دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد امریکا اور سوویت یونین کے مابین چھڑنے والی سرد جنگ میں دونوں بڑی طاقتیں چھوٹے ممالک کو اپنے اپنے کیمپ میں لانے کے لیے طرح طرح سے رجھا رہی تھیں تو اس دباؤ سے تنگ آ کے انیس سو پچپن میں سوئیکارنو کی دعوت پر تیسری دنیا کے چوٹی کے رہنما انڈونیشیا کے شہر بنڈونگ میں جمع ہوئے۔ انھوں نے منٹو کے افسانے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مرکزی کردار کی طرح فیصلہ

Read more

اپنے محسنوں سے یہ سلوک؟

فیصل آباد کے تحصیل جڑانوالہ میں پچھلے ہفتے مسلم مشتعل مظاہرین کی جانب سے مسیحی بستی پر حملوں، باقاعدہ گھیراؤ اور جلاؤ کیا گیا جس کے دوران درجنوں مکانات، گاڑیاں اور دوسری املاک جل کر خاکستر ہو گئیں۔ اس بہیمانہ فعل کی بظاہر وجہ یہ افواہ تھی کہ دو مسیحی نوجوانوں نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی ہے۔ یہ سلسلہ اتنا دراز ہوا کہ باقاعدہ مسجدوں سے مسیحی برادری کے خلاف اشتعال انگیز اعلانات ہونے لگے نتیجہ یہ نکلا

Read more

خالد مسعود خان اور صدارتی ایوارڈ

شاعر و صحافی محترم خالد مسعود خان کو کالم نگاری اور شعری خدمات پر صدارتی ایوارڈ دینے کا اعلان ہوا ہے۔ اگر آپ سچ پوچھیں تو ہمیں اس پر خوشی سے زیادہ حیرت ہوئی ہے۔ اور حیرت اس بات پر کہ اندھوں کے شہر میں کون ایسا صاحب بصیرت ہے جس نے خالد مسعود خان کو دیکھ لیا ہے۔ بہروں کے دیار میں کون ایسا صاحب بصارت ہے جس نے خالد مسعود کو سن لیا ہے۔ اور مقتل وقت میں

Read more

طوائف اور ہمارے مذہبی لوگ

مرحوم احمد ندیم قاسمی صاحب نے دعا کی تھی کہ ان کے کسی بھی ہم وطن کے لئے ”حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو“ مگر محسوس یہ ہوتا ہے کہ ”جو بھیجی تھی دعا، وہ جا کے آسمان سے یوں ٹکڑا گئی کہ آ گئی ہے لوٹ کے صدا“۔ صدا اور دعا کیوں نہ لوٹ کر آئے۔ کسی معاشرے میں جب صبح شام مذہب مذہب، نماز، روزہ، حج، عمرے کی گردان ہونے لگے تو سمجھ لیجیے کہ وہ

Read more

زندگی تماشا

مجھے اب یاد نہیں پڑتا کہ کبھی بھی کوئی پاکستانی ڈرامہ باقاعدگی سے دیکھا ہو ماسوائے ”منٹو“ کے۔ اس زمانے میں منٹو کو ہی پڑھ رہا تھا اور پھر سرمد کھوسٹ کا ”منٹو“ منظر عام پہ آیا تو اسے مکمل انہماک سے دیکھا۔ سرمد کھوسٹ سے پہلا تعارف ”منٹو“ کے ہی توسط سے ہوا تھا۔ اب مصیبت ان دنوں یہ تھی کہ ہمارے گھر ہماری پڑھائی کی وجہ سے ٹی۔ وی نہیں تھا اور نہ ہی ان دنوں میرے پاس

Read more

جناب حاشر ابن ارشاد کا انٹرویو

خیالات کا اظہار، فقط خیالات کی یلغار سے تو نتھی نہیں صاحب، اس لیے انھیں کہنے کا حوصلہ بھی چاہیے۔ اور اگر حوصلے کی منزل طے ہو گئی، تو اگلا مرحلہ ہے سلیقہ۔ جی، سلیقہ نہ ہو، تو نہ ہی منصور کا سر سلامت رہتا ہے، نہ ہی سرمد کا۔ حاشر ابن ارشاد نے جبر کے اس دور میں جن روشن خیالات کا علم اٹھا رکھا ہے، اس کے مطالبات کڑے۔ سامنے ہتھیار بند لشکر اور آپ کے حواری محدود

Read more

”نظریۂ سفر“ اور ناصر عباس نیر کی تنقید

عصر حاضر کے سب سے اہم نقاد اور دانش ور ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی تحریروں میں ایک بہتر، انسان دوست معاشرے کے قیام کی خواہش جھلکتی ہے۔ انھوں نے پہلی بار اردو میں جدید اور ما بعد جدید تنقیدی نظریات کو مربوط اور منظم انداز میں پیش کیا۔ ما بعد نو آبادیاتی تنقیدی تصورات کو نہ صرف متعارف کروایا بلکہ اپنے معاشرے اور ادب کے حوالے سے نئے مباحث کو جنم دیا۔ ان کی تنقید کا مطالعہ قاری کو

Read more

پاکستان کا ارتقائی سفر

مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان جنوبی ایشیاء کا ایک ملک جو آبادی کے لحاظ سے دنیا میں پانچویں نمبر پر اور اسلامی دنیا کا دوسرا بڑا ملک جس کی آبادی 2023 کی مردم شماری کے مطابق 24.5 کروڑ ہے۔ اس کے مغرب میں ایران، شمال مغرب و مغرب میں افغانستان، شمال مشرق میں چین اور مشرق و جنوب مشرق میں انڈیا واقع ہیں۔ اس کے جنوب میں بحیرہ عرب ہے۔ آئیے، آج اس کے ارتقائی سفر پر ایک نظر ڈالتے

Read more

غدر 2: کیا سنی دیول پھر سے ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگائیں گے؟

غدر جہاں اپنے دور کی سب سے بڑی ہٹ فلموں میں سے ایک ہے، وہیں بہت سے لوگوں نے اس پر پاکستان مخالف اور مسلم مخالف ہونے کا الزام بھی لگایا۔

Read more

پاکستان کا ارتقائی سفر

مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان جنوبی ایشیاء کا ایک ملک جو آبادی کے لحاظ سے دنیا میں پانچویں نمبر پر اور اسلامی دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ جس کی آبادی 2023 کی مردم شماری کے مطابق 24.5 کروڑ ہے۔ اس کے مغرب میں ایران، شمال مغرب و مغرب میں افغانستان، شمال مشرق میں چین اور مشرق و جنوب مشرق میں انڈیا واقع ہیں۔ اس کے جنوب میں بحیرہ عرب ہے۔ آج اس کے ارتقائی سفر پر نظر ڈالتے ہیں۔

Read more

شیخ ایاز: سندھ کے انقلابی شاعر جنھیں انڈین وزیراعظم نے ’چندر شیکھر‘ کا لقب دیا

شیخ ایاز نے تمام منفی قوتوں کو للکارنے کی تحریک کی صورت اختیار کر لی اور نتیجے میں سنہ 1962 سے لے کر سنہ 1964 تک ان کی شاعری کے تین مجموعوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔

Read more

اندھا بھوت اب یہ قبر کھودنا بند کرے

شیکسپئر کے یہ جملے اب کلیشے کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں کہ دنیا ایک سٹیج ہے۔ سب اپنا کردار نبھاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ عموماً ایسا ہی ہوتا ہے۔ مگر وہ زندگی ہی کیا جو اپنی سفاکیت سے قدم قدم پہ حیران نہ کرے۔ برسوں پہلے ایک کردار اپنے اوپر خاتمے کی مہر لگا کر خاک کا پیوند ہوا۔ اب تک تو شاید اس کی ہڈیاں بھی گل سڑ چکی ہوں مگر ہم انسانوں کو معاف کرنے کی

Read more

محمد حمید شاہد کی کتاب: اندر کا آدمی

محمد حمید شاہد، یہ نام ادب کی دنیا میں یقیناً بہت پرانا ہے، نقاد بھی ہیں۔ مجھے ان کے نام اور کام سے واقف ہونے میں بڑا وقت لگا۔ بڑی مدت۔ مطالعے کا شوق رکھتے ہوئے، محمد حمید شاہد صاحب کے نام سے انجان رہنا ایک اپنی طرز میں نقصان تو ہے نہ! پہلی بار، ان کے نام سے واقفیت ہوئی جب ان کا ایک ناول ”مٹی آدم کھاتی ہے“ دیکھا۔ بک کارنر کے پورٹل پر۔ کتاب کا سرورق اتنا

Read more

ہم آپ سے سڑکوں پر برہنہ گھومنے کی آزادی نہیں مانگ رہے: ڈاکٹر رامش فاطمہ سے مکالمہ

انٹرویو: اقبال خورشید ۔ ۔ سرخیاں : کیا ”می ٹو“ اور ”فیمینزم“ پر تنقید کرنے والوں کو ان تحریکوں کا اوریجن پتا ہے؟ جذباتی وابستگی انسانوں سے ہو یا شہروں سے، وہ خراج مانگتی ہیں ایمرجنسی میں ڈیوٹی کے بعد لگا، جیسے لفظ پر سے اعتبار ہی اٹھ گیا ہو کیا ہمیں عورت قبول ہے؟ وہ عورت، جو پراعتماد ہے، ہنس سکتی ہے، جو چاہے لکھ سکتی ہے، جہاں چاہے جا سکتی ہے۔ عورت، جو سوال اٹھا سکتی ہے؟ یہی

Read more

معاصر نقاد کے نام ایک خط

لوگ کہتے ہیں کہ تمہارا مطالعہ نہایت سطحی اور بودا ہے اور زندگی کے تجربات نہ ہونے کے برابر۔ ان کا خیال ہے کہ تمہاری دانش اس جعلی زیور کی مانند ہے، جو دیکھنے میں تو کھرا سونا لگتا ہے، لیکن ٹھوک بجا کر دیکھا جائے تو دیگی لوہے کی چادروں پر سنہری پانی کے چھینٹوں سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ تمہیں چند مخبوط الحواس مدیروں اور تمہارے اپنے طالب علموں کے علاوہ کسی نے

Read more

تقسیم ہند: پنجاب اور فسادات

14 اگست سنہ سینتالیس کو ہندوستان برطانوی تسلط سے آزاد ہو گیا اور ایک نئی مملکت پاکستان وجود میں آئی۔ تاریخی طور پر مسلم لیگ کی بنیاد انیسویں صدی کے شروع میں مشرقی بنگال میں رکھی گئی لیکن شمالی ہندوستان نے مسلم لیگ کی زیر قیادت تحریک پاکستان کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا خاص طور سے علیگڑھ یونیورسٹی کے طلبا نے تقسیم ہند اور پاکستان کے قیام کے لیے زبردست تحریک چلائی اور ہندوستان کے گاؤں گاؤں جاکر

Read more

حامد میر کے خلاف حقائق تین دعوے

حامد میر کا ایک وڈیو کلپ سوشل میڈیا پہ چل رہا ہے کہ جس میں وہ دعوی کر رہے ہیں کہ سردار ابراہیم اور چودھری غلام عباس نے حکومت پاکستان کے ساتھ معاہدہ کراچی پہ دستخط نہیں کیے ۔ اس وڈیو کلپ میں حامد میر یہ دعوی بھی کر رہے ہیں کہ ان کے پاس اس کا ثبوت موجود ہے تاہم ان کی طرف سے اپنے اس دعوے کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا۔ سردار ابراہیم اور چودھری غلام عباس

Read more

کتاب تبصرہ: آنگن از خدیجہ مستور

خدیجہ مستور کے ناول کی کہانی کوئی تاریخی کہانی نہیں، یہ ہر دور کی کہانی ہے۔ یہ آج کی کہانی ہے۔ اسے پڑھتے آپ کو لگے گا یہ آپ کے شہر آپ کی آج کی ریاست کی کہانی ہے۔ یہ دو نظریوں میں جینے اور ان کے ٹکراؤ کی زد میں آ کر ٹوٹ بکھرنے کی کہانی ہے۔ یہ شراب کی تلاش میں نکلتے اور اس کی چاہ میں مٹ جانے کی کہانی ہے۔ اس ناول کا ہر کرداروں علامتی

Read more

ادبی مباحث کی کمی کے باعث ہمارے یہاں نیم حکیم ادبی نقاد بن بیٹھے : رحمان عباس

سرخیاں اردو فکشن نگاروں کے لیے عالمی ادب کا اسٹیج سجنے کو ہے تنازعات ادبی مباحث کا حصہ ہیں، تشکیک کا شکار ہوں، خود کو دریافت کرنے میں ناکام رہا معروف فکشن نگار، رحمان عباس سے ایک دل چسپ مکالمہ انٹرویو: اقبال خورشید یہ ایک ایسی کہانی ہے، جس کے پلاٹ میں تنازعات کا تسلسل ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار ایک ادیب ہے، ایک متنازع ادیب، جس نے فحش نگاری کے الزامات سہے، مقدمات کا سامنا کیا، اور اپنوں

Read more

ہم نے ہیرو ازم کے لیے غزنوی اور غوری کو ادھار پر لیا ہوا ہے: فرنود عالم

سرخیاں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا خطاطی کی طرح ماضی کا حوالہ بن جائے گا سوشل میڈیا سے پہلے روشن خیالوں کے لیے اظہار کے آزاد مواقع میسر نہیں تھے معروف کالم نگار، ہیومن رائٹس ایکٹویسٹ اور سماجی مبصر، فرنود عالم سے ایک مکالمہ انٹرویو: اقبال خورشید جبر کی تاریکی میں اس کے الفاظ کی بازگشت امید افزا ہے، پرشور سناٹے میں اس کی آواز روشن خیالی کی نوید ہے۔ یہ اس شخص کا تذکرہ جو اندھیری سرنگ میں، بغیر رکے

Read more

اردو افسانے کا دوسرا جنم

اردو افسانہ دوسری اصناف ادب کی نسبت ایک نووارد صنف سخن ہے جس کا ظہور گزشتہ دہائی میں مغربی ادب کے توسل سے ہوا۔ اس صنف کی خوش بختی کہ اسے اردو میں ابتدا ہی سے پریم چند، منٹو، بیدی، کرشن چندر، رشید جہاں ایسے نابغہ روزگار تخلیق کار میسر آئے جس کی وجہ سے ابتدا ہی سے یہ صنف ادب میں مرکزیت اختیار کر گئی۔ جدید فکری رویے، فنی میلانات، ثقافتی و تہذیبی تغیرات اور لسانی ڈھانچے جس طرح

Read more

پاکستان کا انتخاب: امریکا یا چین؟

ہم میں سے کون ہے جس نے منٹو کا افسانہ ٹھنڈا گوشت نہیں پڑھا۔ بڑے ادب کی نمود ایک سہ نکاتی قوس بناتی ہے، استرداد، قبول عام اور پھر ضرب المثل۔ سنسر کے محتسب، صحافت کے متحجر کتبے اور کور ذوق مدرس البتہ ہر زمانے میں موجود ہوتے ہیں، تخلیقی عمل اور تہذیب کا سفر ان حیاتیاتی حادثات سے بے نیاز ہوتا ہے۔ چوہدری محمد حسین اور میر نور احمد کو کون جانتا ہے؟ لمحاتی پذیرائی کے غلغلے میں لکھے

Read more

انوراگ کشیپ: ممبئی میں فٹ پاتھ پر سونے سے بڑا ہدایتکار بننے تک

انڈین سینیما کی مختلف اصناف کی طرح یہاں بھی مختلف مزاج کے فلمساز رہے ہیں۔ ان میں سے ایک انوراگ کشیپ ہیں جو حقیقی زندگی میں خون دیکھ کر بیہوش ہو سکتے ہیں اور کسی کے جنازے میں جانے کا سوچ کر ہی ان کے ہاتھ پاؤں کانپ جاتے ہیں۔

Read more

غلام عباس کا افسانہ ”اوور کوٹ“

غلام عباس کے افسانہ ”اوور کوٹ“ پر ژونگ کی پہلی آرکی ٹائپ Persona کے اثرات ہیں۔ یہ وہ آرکی ٹائپ ہے جو نسل در نسل ہم تک پہنچی ہے۔ مثال کے طور پر ہم شروع سے ایک بات سنتے آ رہے ہیں ”با ادب با نصیب“ یہ چیز نسلوں سے گزر کر ہمارے سامنے آئی ہے۔ Persona کو ہم ماسک کہہ سکتے ہیں یہ ہمارا Public face ہے۔ یہ آرکی ٹائپ ہم نے اپنے اجتماعی لاشعور سے لی ہے۔ افسانہ

Read more

اردو میں افسانوی تنقید کا نیا پیراڈائم اور آصف فرخی

(یکم جون آصف فرخی کی برسی کا دن ہے) اکیسویں صدی میں سنجیدہ تنقید کا پورا اسٹرکچر بدل گیا ہے۔ تھیوری اور فکشن کے حوالے سے بیانیات کے مباحث نے فکشن کی تنقید کا پورا پینترا ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس ذیل میں مغرب میں تو بے شمار کام ہو رہا ہے لیکن ہمارے ہاں بھی چند ناقدین ہی سہی کچھ نہ کچھ عمدہ کام کر رہے ہیں۔ ان میں گوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی اور ڈاکٹر

Read more

مئی کے مہینے میں ”خوشگوار“ موسم

بہت دنوں سے اعتراف کئے چلے جارہا ہوں کہ ذہن میرا واقعتا ”کھسک“ چکا ہے۔یہ فقرہ پڑھنے کے بعد آپ لوگوں کی اکثریت کے ذہن میں جائز بنیادوں پر میرے لئے تجویز یہ آنا چاہیے کہ اگر کسی موضوع پر توجہ مرکوز نہیں کر پا رہے۔ منتشر خیالات سے ذہن کوپراگندہ بنارکھا ہے تو یہ کالم لکھنا چھوڑ دو۔ کسی نفسیاتی معالج سے رجوع کرو اور اس کے لئے ہمت وسکت موجود نہیں تو گھر بیٹھ کر اللہ سے لولگاﺅ

Read more

"خرچے” کے بعد حاصل ہوئے نتائج۔

کسی نہ کسی وجہ سے مشہور ہوئے چند افراد کی بابت منیر نیازی صاحب کے ادا کردہ طنزیہ فقرے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زبان زد عام ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ ”جگت“ لاہور کی تہذیب کا نمایاں حصہ رہی ہے۔ادیبوں اور شاعروں نے اس صنف کومعاصرانہ چشمک کیلئے استعمال کرتے ہوئے اپنے تئیں ایک لطیف ہنر بنا دیا۔ سعادت حسن منٹو نے اس ہنر کو بھرپور انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے اپنے دور کے بڑے ناموں کے ”خاکے“

Read more

ڈاکٹر ظہیر عباس: میری نظر میں

راقم نے اردو ادب میں ایم۔ اے بطور پرائیویٹ امیدوار کیا۔ ایم۔ اے کی ڈگری لے لینے کے بعد پتا چلا کہ میرا تو ابھی تک اردو کا تلفظ ہی درست نہیں ہے، جب ایک چیز کو درست پڑھا ہی نہ جا سکے تو وہ چیز پلے کیسے پڑے گی۔ نوکری کے ساتھ ساتھ اردو کی دوسری منزل تک جانا قدرے دشوار تھا۔ دو تین سال مسلسل کوشش کے بعد اردو کسی حد تک پڑھنی آ گئی۔ اسی دوران لائیبریری

Read more

صوبیدار رب نواز اور مسئلہ کشمیر

سید سعادت حسن منٹو سنہ 1955 میں انتقال کر گئے۔ ایک عظیم دماغ تھا جو ہم سے بچھڑ گیا لیکن اگر کچھ اور بھی جیے ہوتے تو یار لوگ انتظار یہی کرتے کہ آنکھیں موند لیں منٹو صاحب، تو پھر ہم بالیں کے پاس بیٹھ کر رو لیں گے، ابھی تو آپ زندہ ہیں۔ یوں تو ’منٹو صاحب‘ کے کام کی تفصیل و تفہیم مجھ سے ’پدی کے شوربے‘ کیا خاک سمجھا پائیں گے لیکن آج ہم منٹو کے ایک

Read more

عرفان جاوید کا انٹرویو

ناپید ہوتی کتابوں کے ساتھ ہم بھی آہستہ آہستہ تحلیل ہو رہے ہیں پاکستانی ادیب کو ہمارے معاشرے میں کم ہی مرکزیت حاصل رہی اردو ناول کا مستقبل مضبوط ہے، البتہ افسانے اور خاکے کم زور نظر آتے ہیں باکمال خاکہ نویس اور فکشن نگار، عرفان جاوید سے چند دل چسپ سوالات انٹرویو نگار: اقبال خورشید کتابیں ان کا عشق۔ اسی عشق نے لکھنے کی جوت جگائی۔ تخلیق کی خواہش کو مطالعے کی کمک ملی، تو عرفان جاوید کا قلم

Read more

انتون چیخوف کی تخلیقی حسیات

  دنیائے افسانہ نگاری کے دو امام مانے جاتے ہیں جن میں سے ایک موپساں اور دوسرا چیخوف ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موپساں ایک بہت بڑا فسانہ نگار ہے اور تنقیدی سطح پر یہ فیصلہ کرنا شاید ممکن نہیں کہ موپساں اور چیخوف میں کون سا بڑا افسانہ نگار ہے (اور یہ فیصلہ کرنا کوئی ضروری بھی نہیں) مگر میں ذاتی طور پر چیخوف کو زیادہ پسند کرتا ہوں اور اس کی وجہ اس لئے نہیں بتانا

Read more

خواتین کو درپیش پہلا مسئلہ انہیں بحیثیت انسان قبول نہ کرنا ہے : شہناز شورو

سرخیاں یہ دور خاور مانیکاؤں اور چاہت علی خانوں کا ہے زیادہ تر میلے ٹھیلے اور کانفرنسیں خود نمائش و خود ستائش پر مبنی ہیں زندگی کی ناقد ہوں، یہ ایک غیر منطقی، بھونڈا مذاق ہے معروف فکشن نگار، کالم نویس، مدرس اور سماجی مبصر، ڈاکٹر شہناز شورو سے بات چیت انٹرویو نگار: اقبال خورشید یہ پندرہ برس پرانی یاد ہے۔ سندھ مدرسۃ الاسلام کالج کی خاموش سیڑھیوں سے کچھ پرے، ایک روشن کمرے میں ایک میز تھی، جس پر

Read more

سی پیک کے مرکز گوادر کی ایک دکھی ماں کی فریاد

سعادت حسن منٹو نے کہا ہے کہ لوگوں کو اتنا مذہبی بنا دو کہ وہ اپنی محرومیوں کو قسمت سمجھیں ظلم و نا انصافی کو آزمائش سمجھ کر صبر کا دامن تھام لیں حق کے لئے آواز اٹھانے کو گناہ سمجھیں، غلامی کو اللہ کی مصلحت قرار دیں اور قتل کو موت کا دن معین سمجھ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چپ رہیں۔ یہاں بھی ایک بد نصیب ماں کی کہانی ہے۔ وہ کہتی ہے میں ایک بد نصیب ماں

Read more

شاہد احمد دہلوی کے گنجینہ گوہر

”گنجینہ گوہر“ شاہد احمد دہلوی کے خاکوں کا مجموعہ ہے۔ جس میں انھوں نے اپنے عہد کی منتخب شخصیات کے خاکے لکھے ہیں۔ شاہد احمد دہلوی نے ادبا کے کارناموں کا تذکرہ کیا ہے۔ مولوی نذیر احمد کے بارے میں لکھتے ہیں کہ انھوں نے قرآن مجید کا ترجمہ کیا۔ ترجمہ مکمل ہونے کے بعد ایک نابینا جید عالم کو نظر ثانی کے لیے بھیجا گیا۔ اس میں ڈھائی سال لگ گئے لیکن تب تک اسے شائع نہ کیا جب

Read more

شہر مدفون کی ایک گلی اور حسن کوزہ گر

شمیم حنفی 6 مئی 2021 کو رخصت ہوئے تھے۔ دو برس گزر گئے۔ جانا تو سبھی کو ہے۔ موت اچھے لوگوں کو اچک لینے میں کچھ عجلت پسند واقع ہوئی ہے۔ چند روز قبل برادرم محمود الحسن سے شمیم بھائی کی باتیں ہوتی رہیں۔ اب ان کا حکم موصول ہوا ہے کہ "ہم سب” پر شائع ہونے والی شمیم حنفی صاحب کی زیر نظر تحریر پھر سے شائع کی جائے۔ تعمیل کئے بغیر چارہ نہیں۔ اس تحریر کے ساتھ شمیم

Read more

ادیب، صرف ادیب نہ رہا دانشور، صرف دانشور نہ رہا

بھارتی فلم کے ایک گانے کے بول ہیں کہ ”دوست دوست نہ رہا، پیار پیار نہ رہا“ ۔ یہ گانا کم و بیش ہر اس شخص نے سنا ہو گا جو موسیقی کا ذرا سا بھی شوق رکھتا ہے، اور اگر موسیقی کا ذوق نہ بھی رکھتا ہو تو بس اور ویگن کے سفر کے دوران ضرور اس کی سماعتوں سے ٹکرایا ہو گا۔ مجھے یہ گانا سنتے ہوئے آج کے وہ ادیب اور دانشور یاد آ گئے جو ادب،

Read more

سیر بنگال: مہرباں راتیں، بے مہر صبحوں کے بعد

80 اور 90 کی دہائی گلے ملنے والی تھیں کہ اس دنیا میں مجھے پہلا سانس نصیب ہوا۔ جہاں تک یاد پڑتا ہے، وہاں بھی جنت اور دوزخ کی تقسیم تھی۔ تقسیم کا یہ کیڑا شاید انسان وہاں سے ہی ساتھ لایا ہے۔ پیدائش کے وقت مجھے معلوم نہ تھا کہ آگے چل کے میری پیدائش کا خطہ مجھ سے اٹوٹ رشتہ قائم کر لے گا، شاید سب سے ہی کرتا ہو گا۔ مجھے اس وقت معلوم نہ تھا کہ

Read more

میں کون ہوں اے ہم نفسو، 10: فحاشی کے ایک عدالتی کیس میں سزا

فحاشی ایک نقطہ نظر ہے۔ انفرادی۔ یہی وجہ ہے اس کی قانونی یا ادبی تعریف پر اتفاق رائے کبھی ممکن نہ ہوا۔ اردو کی ادبی تاریخ میں یہ الزام سب سے پہلے ایک عورت عصمت چغتائی پر اس کے افسانے ”لحاف“ کی وجہ سے عاید ہوا لیکن جو شہرت منٹو کے افسانے ”ٹھنڈا گوشت“ کے عدالتی مقدمے کو حاصل ہوئی وہ لازوال ہو گئی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ”پریم شاستر“ اور ”کوک شاستر“ جیسی کتابوں کو اخلاق کے

Read more

چچا سام کا بھیجا ہوا کوٹ!

امی، دیکھیے میں آپ کے لیے کیسا زبردست کوٹ لے کر آئی ہوں۔ بیٹی سامان کھولے بیٹھی تھی۔
ہاتھ میں لش لش کرتا، قیمتی دکھتا کوٹ، واہ اتنا خوبصورت۔
پسند آیا؟
بہت۔ بہت۔
مما بہت گرم ہے پہن کر تو دیکھیں۔
پتہ ہے مجھے، امریکہ سے لائے ہوئے کوٹ بہت گرم اور آرام دہ ہوتے ہیں۔
کیسے پتہ آپ کو؟
ارے بیٹا سارا بچپن گزرا یہی کوٹ پہنتے پہنتے۔
بچپن میں؟ وہ کیسے؟ تب کون تھا باہر؟
تھے ہمارے ایک چچا؟
کون سے چچا؟ آپ کے تو کوئی چچا تھے ہی نہیں۔

Read more

شاعر، فکشن نگار، مترجم اور صحافی سید کاشف رضا سے ایک مکالمہ

وہ شہر کراچی کا ایک کردار ہے۔ میں اسے سڑکوں پر چلتے پھرتے دیکھتا ہوں۔ کبھی وہ کسی سرد نیوز روم میں سر جھکائے خبریں بنا رہا ہوتا ہے۔ کبھی کسی مشاعرے میں شعر کہہ رہا ہوتا ہے۔ میں نے اسے جنبش قلم سے ناول تخلیق کرتے ہوئے دیکھا، اور کی بورڈ کی ”ٹک ٹک“ میں کتابوں کے تراجم کرتے ہوئے۔ مگر سب سے پر وقت وہ منظر ہے، جس میں وہ مطالعہ کر رہا ہے، برادرز کراموزوف کا مطالعہ۔

Read more

یاسر جواد کی کتاب کہانی: ایک منفرد آپ بیتی

دوسرے لوگوں کے بارے میں جاننا مجھے بچپن سے ہی اچھا لگتا تھا۔ گھر آنے والے اکثر افراد سے ملنے پر میں ان کی زندگی کے بارے جاننے کے لیے سوال جواب کرتا رہتا تھا۔ میری اس عادت نے بچپن میں ہی مجھے کتابوں سے روشناس کرا دیا۔ کسی بھی فرد کی سوانح عمری یا خود نوشت پڑھ کر آپ کو اس کی شخصیت کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا ہے اس لیے میری کتابوں سے دوستی کی ایک

Read more

بھٹو خاندان: نوآبادیاتی راج سے زلفی کی پھانسی تک

ذوالفقار علی بھٹو، تاریخ پاکستان کی ایسی سیاسی شخصیت ہیں جن کے اثرات عہد رفتہ میں بھی وطن کو درپیش ہیں، بھٹو کی الم ناک موت، ان کی سیاسی طاقت اور حریف کی کمزوری کے گرد گھومتی ہے۔ بھٹو کا سیاسی انجام تلخ تھا تاہم بھٹو کے سیاسی تصورات و اقدامات نے پاکستان کی سیاست پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ چار اپریل کو ان کی پھانسی کو عظیم قربانی قرار دینے کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی

Read more

شہاب نامہ عصری تاریخ کا بھرپور بیانیہ ہے

سرخیاں : ریاست کا انتظامی ڈھانچہ ادب دشمن ہے، پاکستان کو ایک حجاج بن یوسف درکار ہے شکم پرور معاشرے میں کتاب لکھنا شہر نابینا میں آئینوں کی فروخت کا سودا ہے اردو ادیب اپنے پیشگی ایصال ثواب کے لیے کتاب مفت کورئیر سے ترسیل کرتا ہے باکمال فکشن نگار، سابق بیوروکریٹ، اقبال دیوان سے خصوصی مکالمہ وسیع مطالعہ، نگر نگر کا سفر، اور کہانی کہنے کی للک۔ فکشن نگاری کی سمت آنا لگ بھگ طے تھا۔ ایک جانب جہاں

Read more

منٹو اور کشمیر کی فطری خوبصورتی!

بھارت کے زیر سایہ وادی کشمیر میں ظلم و تشدد کا سلسلہ لامتناہی ہے۔ کشمیر کی کہانی آج کی بات نہیں۔ اردو کہانی کو نئی جہت دینے والے ’اردو ادب میں افسانہ کے بے تاج بادشاہ‘ سعادت حسین منٹو جو 11 مئی 1912 ء کو کشمیری گھرانے میں پیدا ہوئے ’نے کشمیر کا نقشہ یوں بیان کیا ہے :منٹو نے ایسے وقت میں جب کشمیر کا ایک حصہ پاکستان اور دوسرا بھارت کے کنٹرول میں آ چکا تھا۔ منٹو نے‘

Read more

بڑے اخبار جلدی ختم نہیں ہوں گے، مغرب میں بھی یہ نوبت نہیں آئی: اسلم ملک

سرخیاں : سوچنے سمجھنے والا کوئی شخص غیر جانب دار ہو ہی نہیں سکتا سینسر شپ کے حوالے سے ضیا الحق کا دور بدترین تھا عمران دور میں سینسر شپ محض سوشل میڈیا پروپیگنڈا تھا، سب سے زیادہ تو اسی حکومت کے خلاف چھپتا رہا وبا کے بعد لاہور دوسرے شہروں جیسا ہی لگنے لگا ہے سینئر صحافی، قلم کار اور معروف علم دوست شخصیت، اسلم ملک سے ایک مکالمہ انٹرویو نگار: اقبال خورشید صحافتی سفر پانچ عشروں پر محیط،

Read more

کتابوں کا عالمی دن

کبھی کتابیں ڈرائنگ رومز کی زینت ہوا کرتی تھیں جو گھر والوں کے ذوق اور شخصیت کی آئینہ دار ہوتی تھیں۔ شاعری کی کتابیں اور کلاسک ناولز کے مجموعے اعلی ادبی ذوق کی نشانی اور اسلامی کتب ایک دیندار گھرانے کو ظاہر کرتی تھیں۔ اسی طرح انگریزی ناول، ڈائجسٹ اور میگزینز پڑھے لکھے لوگوں کے ڈرائنگ رومز کے ایک کونے میں سلیقے سے سجے ہوا کرتے تھے اور زیادہ ذوق و شوق رکھنے والوں نے گھر کے اندر ایک منی

Read more

علامتی کہانیاں کیسی ہوتی ہیں

پچھلے کچھ عرصے سے نہ جانے کیوں الف کو یہ غلط فہمی ہو گئی ہے کہ میں اردو ادب میں کچھ شد بد رکھتا ہوں، میں نے بھی الف کی یہ غلط فہمی دور کرنے کی کوشش نہیں کی، اب اگر کوئی عزت دے رہا ہو تو اسے روکا تو نہیں جا سکتا۔ اکثر اوقات الف مجھے کوئی کلاسیکی شعر سنا تا ہے تو میں ایسے ظاہر کرتا ہوں جیسے میں نے نہ صرف یہ شعر سنا ہوا ہے بلکہ

Read more

ہائے! ہاسٹل کی سردیاں اور چائنا کا ہیٹر

ہاسٹل کے دسمبر میں کڑاکے کی سردی پڑتی تھی۔ ہاسٹل کا دسمبر اس لئے کہا کیوں کہ ہاسٹل میں جو بھی دسمبر گزرا، وہ ایک الگ نوعیت کا ہی دسمبر تھا۔ کئی لحاف اوڑھ کر اور منٹو کے دو تین افسانے پڑھ کر رات بسر کرنا پڑتی تھی۔ اس سے آپ سردی کی شدت کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں۔ ہیٹر لگانے پر سخت ممانعت تھی۔ ہاں البتہ ہاسٹل وارڈن صاحب کی طرف سے یہ گنجائش ضرور تھی کہ زیادہ

Read more

ہمارے ادب میں عورت استحصالی رویوں کا شکار رہی: طاہرہ اقبال

سرخیاں : شناخت اسی فن پارے کو ملتی ہے، جس پر مصنف کے دستخط ثبت ہوں ادب معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک خلاق ذہن کا اظہارِ ذات ہے صاحب اسلوب فکشن نگار، ڈاکٹر طاہرہ اقبال سے ایک منفرد بات چیت انٹرویو نگار: اقبال خورشید ان کا فکشن، ان کے پرقوت اسلوب کا عکاس ہے، جسے زبان پر ان کی گرفت، وسیع مشاہدہ اور مسلسل مطالعہ چار چاند لگا دیتے ہیں۔ ایک روز اسد محمد خاں سے ہمارا

Read more

آج کل ہر طرف جعلی دانش وروں کا زور ہے : مبشر علی زیدی

۔ سرخیاں : لکھنے والا اپنی مٹی سے کٹ کر مٹی ہوجاتا ہے معیشت غرق ہو چکی، اگلا الیکشن جو بھی جیتے گا، وہ سر ہی پیٹے گا ہمارے ادیب اور شاعر ڈرے ہوئے ہیں، وہ صرف پی آر کے شوقین ہیں معروف، متنازع اور منفرد قلم کار و صحافی، مبشر علی زیدی سے ایک گپ شپ وہ آیا، اس نے کہانیاں سنائیں، اور سامعین کو گرویدہ بنا لیا۔ آج ہمارا موضوع ہیں ”سو لفظوں کی کہانی“ والے معروف صحافی،

Read more

ذوالفقار عادل سے ملاقات

گزشتہ برس میرے دبئی جانے کا جب راستہ بنا تو میں طارق فیضی کا دو سبب سے شکر گزار تھا۔ یہ دو اسباب اصل میں دو افراد تھے، جن سے ملنے کے خیال سے میں خوش تھا۔ ذوالفقار عادل اور انعام ندیم۔ انعام ندیم سے اس سے پہلے میں اس قدر واقف نہیں تھا، یہ جانتا تھا کہ وہ شعر کہتے ہیں، تراجم کرتے ہیں اور ایک دفعہ ادبی دنیا پر صغیر ملال کی ایک کتاب اپلوڈ کرنے کے سلسلے

Read more

کہانی کار کیسے لکھتے ہیں

پڑھنے والوں کی دلچسپی کا ایک پہلو یہ بھی ہوتا ہے کہ ان کا کوِئی پسندیدہ مصنف کیسے لکھتا ہے۔ ان کے تصور میں ایک کتابوں سے بھری سٹڈی ہوتی ہے اور ایک رائٹنگ ٹیبل۔ اور اس پر بیٹھا بڑے بڑے بالوں اور عینک والا مصنف۔ میں نے ایک بار لکھا کہ میں تو کھانے کی میز پر بیٹھ کر لکھتا ہوں اور کہیں بھی بیٹھ کے لکھ سکتا ہوں، بندر روڈ کے فٹ پاتھ پر بیٹھ کے بھی لکھ

Read more

اس دن فرد کا اعتماد پھانسی چڑھ گیا

دن تاریخ تو یاد نہیں۔ بس اتنا یاد ہے کہ انیس سو ستر کا اگست یا ستمبر تھا۔ رحیم یار خان شہر کے محلہ کانجواں میں رازق بخش کے آم باغ میں میجر عبدالنبی کانجو نے ایک انتخابی جلسے کا اہتمام کیا جس سے بھٹو صاحب کو خطاب کرنا تھا۔ مہمانِ خصوصی کی آمد سے پہلے ہی باغ کھچا کھچ بھر چکا تھا۔ باغ کے باہر لوگ ڈھولک کی تھاپ پر ایک ہی نعرے کی دھن پر جھومر (روایتی سرائیکی

Read more

”ادب، زندگی اور سیاست“: ایک تعارف

ڈاکٹر خاور نوازش بہاءالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان میں اس وقت ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے میں انھوں نے محنت، ذہانت اور ترقی پسند نقطہ نظر کے باعث خاص پہچان حاصل کی ہے۔ تحقیق، تنقید، تنظیم اور تدریس ان کے خاص میدان عمل ہیں۔ ”ادب، زندگی اور سیاست“ ڈاکٹر خاور نوازش کی مرتبہ کتاب ہے جو مثال پبلشرز، فیصل آباد سے 2012 ء میں شایع ہوئی۔ اس کتاب میں انھوں نے ان مضامین کا انتخاب

Read more

عرفان جاوید کی کتاب: دروازے

پاکستان لٹریری فیسٹیول کے آخری روز الحمرا میں کافی زیادہ رش تھا، بھانت بھانت کے لوگ دکھائی دے رہے تھے۔ بڑے بڑے ہالز میں مختلف سیشنز جاری تھے جبکہ صحن میں محفل موسیقی اپنے جوبن پہ تھی۔ برآمدے میں کتابوں کے چند سٹالز بھی مطالعہ کا ذوق رکھنے والے کو اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔ سنگ میل کے سٹال پر مجھے عرفان جاوید صاحب کی کتابیں سلیقے سے دھری دکھائی دیں تو میں بے ساختہ ادھر لپکا اور ”آدمی“ کی

Read more

غبارہ موومنٹ کا جوکر

فنکار (اگر واقعی فنکار ہو تو ) اپنے کام، اطوار، روئیے، اور گفتگو (فن کارانہ و غیر فن کارانہ) کے علاوہ اپنے بظاہر حلیے اور ظاہراً شخصیت سے بھی جان لیا جاتا ہے۔ اور اس جاننے سے پہچاننے کی ابتدا ہوتی ہے۔ میرا پہلا تعارف ان کے اسی ظاہراً فن کارانہ لک سے ہوا تھا۔ یہ 2007 کے غروب ہونے سے ذرا پہلے مہینوں کی بات ہے جب میں ہر شام اپنی کچی پکی نظموں، غزلوں سمیت گول باغ پہنچ

Read more

سنہ 1909ء کی آئینی اصلاحات

سرسید احمد خاں بڑی استقامت اور مثبت دلائل سے ”جداگانہ طرز انتخاب“ کا مطالبہ دہراتے رہے۔ واقعات ثابت کر رہے تھے کہ مخلوط انتخابات میں مسلمانوں کا قومی وجود یکسر ختم ہو جائے گا۔ ان کا انتقال 1898 ء میں ہوا، لیکن ان سے متاثر مسلم زعما اسلامیان ہند کے اس مطالبے کے حق میں سیاسی فضا ہموار کرتے رہے۔ سید امیر علی ( 1928 ء۔ 1849 ء) جو دو معرکۃ الآرا کتابوں کے مصنف تھے اور ہائی کورٹ کے

Read more

کافروں کی نماز

”جب روح ہی کافر ہو جائے تو جسم کب تک خدائی پر جیے گا“ مذکورہ بالا تسوید فلم کا ابتدائیہ ہے جو ایک ایسی داستان کا آغاز ہے جو ناظر و سامع کو محسوس اور غیر محسوس طریقوں سے متاثر کرتی ہے۔ یہ فلم بالی ووڈ کی چند پسندیدہ فلموں میں سے ایک ہے، اس فلم کی خاص بات اس فلم کے مکالمے ہیں جو مختلف مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ فلم میں گاندھی کی شخصیت، حب الوطنی، ریاست، ہندو

Read more

دی ہولی سینرز : اور غیر اخلاقی سیکس کی اجازت

پروفیسر راز محمد راز پشتو اور اردو میں جنسی ادب لکھنے کے چند گنے چنے لکھاریوں میں سے ہیں جنہوں نے عصمت چغتائی اور سعادت حسن منٹو کی طرح قدامت پسند معاشرے میں ایسے حساس موضوعات کو چھیڑا جہاں ایسے موضوعات پر لکھنے سے پہلے لکھاری کو ہزار بار سوچنا پڑتا ہے۔ پروفیسر راز محمد راز نے اپنی تمام کتابوں میں جنس کو محض ذہنی عیاشی کے لیے نہیں بلکہ اسے ایک اہم انسانی جبلت اور معاشرتی پیرائے میں صوفیانہ

Read more

 23 مارچ: کومل اور تیور سروں کی تاریخ

برادر بزرگ کی تجویز ہے کہ 23 مارچ کی تاریخی اہمیت پر خامہ فرسائی کی جائے۔ بہت بہتر حضور! تعمیل فرمان سے سرتابی کی مجال نہیں لیکن ایک الجھن ہے۔ 23 مارچ تو ہر برس آتا ہے اور اس موسم میں آتا ہے جب دن اور رات قریب قریب برابر ہوتے ہیں۔ ادھر اردو محاورے کے مطابق کبھی کے دن بڑے، کبھی کی راتیں۔ ہماری تاریخ میں بھی 23 مارچ ایک بار نہیں، بار بار گزرا ہے اور ہر بار

Read more

قرارداد لاہور 1940 ء: کیا ہمارے مقاصد تبدیل ہو گئے؟

25 فروری 1940 ء کو دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے اجلاس میں قائدِاعظم محمد علی جناح نے سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے فرمایا کہ ’لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ مسلم لیگ کا مطمح نظر کیا ہے‘ ۔ قائد نے فرمایا ’اگر آپ کو معلوم نہیں تو سن لیجیے۔ معاملہ بالکل صاف ہے۔ برطانیہ بھارت پر حکومت کرنا چاہتا ہے اور مسٹر گاندھی اور کانگریس ہندوستان اور مسلمانوں دونوں پر حکومت کے خواہاں ہیں جبکہ ہمارا

Read more

ادب، شعوری زندگی کا عکس!

طویل مدت بعد ادب زار فورم نے ڈیرہ اسماعیل خان میں کل پاکستان مشاعرے کا انعقاد کر کے تخلیقی سرگرمیوں کی بحالی اور ہماری دم توڑتی ثقافت کو حیات نو عطاء کی، اس یادگار مشاعرہ میں خاص طور پہ بنوں اور جنوبی وزیرستان جیسے پیش پا افتادہ علاقوں کے نوجوان شعراء کی اردو شاعری اور کلاسیکی ادب سے والہانہ وابستگی سامعین کے لئے حیرتوں کے کئی در وا کر گئی۔ اسلام آباد کے معروف شاعر و نثر نگار ڈاکٹر وحید

Read more

’ڈیلیوری بوائے کا کردار آفر ہوا تو کپل شرما گھبرا گئے، کہا مجھے بھیڑ کی خوشبو بھول گئی ہے‘

’زویگاٹو‘ بطور ہدایت کار نندیتا داس کی تیسری فلم ہے۔ کپل شرما جنھیں ٹی وی کی دنیا میں کامیڈی کا بادشاہ کہا جاتا ہے ان کی فلم میں مرکزی کردار ادا کر ہے ہیں۔

Read more

لاجونتی اور دستور پاکستان کی نصف صدی

بٹوارے کے برسوں میں اردو ادب اپنے نقطہ کمال پر تھا۔ ہندوستان کی تقسیم، فسادات اور سرحد کے آرپار تبادلہ آبادی جیسے موضوعات سے حساس تخلیق کاروں کا لاتعلق رہنا ممکن ہی نہیں تھا۔ فیض، منٹو، کرشن چندر، بیدی، احمد ندیم قاسمی اور اشفاق احمد، کون تھا جس نے کائناتی سطح کے اس انسانی المیے پر قلم نہیں اٹھایا۔ اس ہنگامے کا ایک نہایت حساس حصہ ان مظلوم عورتوں سے تعلق رکھتا تھا جنہیں فسادات کے دوران اغوا کر لیا

Read more

خواتین کا عالمی دن: بھوپال کی شاہی ریاست جسے نواب بیگمات نے نئی پہچان دی

آج بھی لوگ خواتین کو اپنے سے اوپر نہیں دیکھنا چاہتے لیکن بھوپال ایک ایسی شاہی ریاست تھی، جہاں خواتین نے طویل عرصے تک حکومت کی اور پوری ریاست کو ہر طرح سے ترقی اور جدت دی۔

Read more

ٹھنڈا گوشت

ٹھنڈا گوشت 128 صفحات پر مشتمل مختصر کہانیوں کا مجموعہ ہے جسے سعادت حسن منٹو نے لکھا ہے۔ منٹو اج کے دن تک اپنی تحریروں کی وجہ سے متنازع رہے ہیں۔ وہ برصغیر میں بے باک تحریر لکھنے والے ادیبوں کے بانیوں میں سے ایک تھے جنہوں نے خواتین اور لوگوں کی نفسیات پر انتہائی باریکی سے قلمطرازی کی تھی۔ اس پر عریانی پھیلانے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔ منٹو کو تقسیم ہند کے بعد پاکستان کی طرف ہجرت

Read more

سعادت حسن منٹو کی کتاب دھواں

سعادت حسن منٹو کا شمار ہیجان خیز اردو ادب کے سرخیلوں میں ہوتا ہے۔ جس نے عورت، معاشرے اور جنس پر کام کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب عصمت چغتائی بھی اس میدان میں اپنا قدم جما رہی تھے۔ دونوں کی تحریریں پڑھ کر یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ دونوں مصنف سگمنڈ فرائیڈ سے متاثر نظر آتے ہیں۔ سعادت حسن منٹو ایک حقیقت پسند ادیب تھا جس کو معاشرتی تنزلی کا گہرا علم تھا اور اس سماجی تنزل

Read more

الطاف گوہر حیات اور ادبی خدمات

ممتاز سکالر، دانشور، ادیب اور بیوروکریٹ الطاف گوہر کے نام سے کون واقف نہیں ہے۔ ان کے سیاسی کالموں اور ادبی تحریروں نے ایوانوں اور زندانوں میں اپنی روانی کو جاری رکھا۔ ادب، سیاست اور صحافت میں ان کا کردار ہمیشہ متحرک رہا ہے۔ ان کی شاعری اور تنقیدی کاوشوں میں ان کے ماضی الضمیر کی جھلک نظر آتی ہے۔ حلقہ ارباب ذوق کو میرا جی اور الطاف گوہر کی بدولت ہی نمایاں اور برحق مقام حاصل ہوا۔ تنقید میں

Read more

ضیاء محی الدین کی رخصت؛ لہجے یتیم ہو گئے!

نہ دید ہے نہ سخن اب نہ حرف ہے نہ پیام کوئی بھی حیلۂ تسکین نہیں اور آس بہت ہے مجھے اپنے سکھانے والوں سے کچھ عجب ہی محبت ہوتی ہے۔ کوئی سکھانے والا کبھی کہیں دور چلا جائے تو دن بہ دن غم بھی گھٹنے کے بجائے طول پکڑ لیا کرتا ہے۔ عظیم لوگ مرتے تو ہیں لیکن موت ان کی عظمت میں اضافہ کرتی رہتی ہے۔ ہماری ضیاء صاحب سے پہلی شنوائی تو غالباً میٹرک کے دنوں میں

Read more

آپ نے محبت کی قوس قزح کے کتنے رنگ دیکھے ہیں؟

علی حسن اویس کا ڈاکٹر سہیل کو خط جناب مکرمی ڈاکٹر خالد سہیل! آپ مجھے نہیں جانتے مگر میں آپ کو جانتا ہوں اور پچھلے تقریباً تین سال سے جانتا ہوں۔ میرا آپ سے پہلا تعارف ”ہم سب“ پر مضمون بعنوان ” کارل مارکس ایک وفادار انقلابی اور بے وفا شوہر“ سے ہوا اور تب سے آج تک آپ کی تحریروں کا منتظر رہتا ہوں۔ ظاہر ہے کہ آپ کا تعارف صرف الفاظ اور ان میں مقید معلومات تک ہی محدود ہے۔

Read more

نانی جان، اردو کوئی نہیں خریدتا!

کاروبار اگر چلے تو واہ، نہیں تو آہ۔ کاروبار سے مراد اپنا مال، موقف، خیال، علم اور رائے دوسروں پر بیچنا ہے۔ منافع بخش خرید و فروخت کے لیے ضروری ہے کہ مال، موقف، خیال اور علم معیاری ہو اور اس کی طلب بھی ہو۔ طلب اور رسد میں توازن ضروری ہے۔ خدانخواستہ اگر مال اور خیال کی رسد، طلب سے زیادہ ہو تو پیداوار اور پیداکار دونوں خسارے میں چلے جاتے ہیں۔ یوں اس طرح کے ممکنہ خسارے سے

Read more