وارث علوی: اردو کا چومکھا نقاد

ہندوستان کے اردو نقادوں میں ہمارے ہاں شمس الرحمن فاروقی کے بعد سب سے زیادہ، اور جائز، شہرہ شاید وارث علوی کا ہوا جو اپنے بے باک انداز، جارحانہ اسلوب اور تابڑ توڑ تنقید کی وجہ سے بدنامی کی حد تک مشہور تھے۔ ان کے ہاں تنقید صرف ادبی تنقید نہیں رہتی بلکہ باقاعدہ مار کٹائی اکھاڑا بن جاتی تھی۔ یہ نہیں کہ ان کے قلم سے کسی کی تعریف نہیں نکلی۔ ضرور نکلی مگر یہ کہ جس پہ مرتے

Read more

اردو ادب اور اس کا مقام

اردو ادب برصغیر پاک و ہند کی ایک اہم ادبی روایت ہے جو فارسی، عربی، ترک، اور ہندی کے علاوہ کئی دوسری زبانوں سے متاثر ہو کر وجود میں آئی۔ اس کا مقام دنیا کے دیگر بڑے ادیبوں کے برابر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اردو ادب نے اپنی زبان کی نرمی، لطافت اور اظہار کی وسعت کی بدولت خاصی ترقی کی ہے۔ اردو ادب کے اہم پہلو: 1۔ شاعری: اردو شاعری میں غزل، نظم، قصیدہ، اور مرثیہ اہم اصناف ہیں۔

Read more

مصباح نوید، غلام معاشرہ اور غلام گردشیں

مجید امجد کے شہر ساہیوال کے ساتھ میری وابستگی کوئی 45 برس پر محیط ہے۔ 1978 میں جب میں نے مختلف اخبارات و جرائد میں اپنی غزلیں بھیجنا شروع کیں تو انہی دنوں جعفر شیرازی صاحب سے بھی رابطہ ہوا۔ وہ خط و کتابت کا زمانہ تھا اور اخبارات میں قلم کاروں کی تخلیقات کے ساتھ ان کے پتے بھی شائع کیے جاتے تھے۔ سو شیرازی صاحب کے ساتھ قلمی دوستی کا آغاز ہوا۔ شیرازی صاحب اسی زمانے میں ڈپٹی

Read more

تاریخ کے مخطوطے میں ترمیم نہیں ہوتی

معمورہ دنیا میں روز اک خرابی چلی آتی ہے۔ اصحاب سبحہ و زنار دست و گریباں ہیں۔ 25 کروڑ خاک نشین اپنے دکھوں کی ستر پوشی میں الجھے ہیں۔ انہیں دستور کی شق 175 (اے ) سے واسطہ ہے اور نہ 184 ( 3 ) سے تعلق ہے۔ انہیں تو منٹو مارلے اصلاحات کے بعد سے دائرے میں بٹھا رکھا ہے کہ تبادلہ، توسیع اور ترمیم کی سہ شاخہ ترشول سے بندگان عالی قدر کی ترقی کا تماشا کیا کریں۔

Read more

ہمیں بدبو کیوں نہیں آتی؟

وہ ایک طوائف تھی، کوئی کہہ رہا تھا کال گرل ہے، وہ شاید نشے میں تھی لیکن مجھے وہ صرف ایک عورت لگی جسے رات کے ڈیڑھ بجے لوکل پولیس شہر کے مضافاتی جنگل سے برہنہ اٹھا کر لائی تھی، جس کے چہرہ اور اعضائے مخصوصہ کو تیزاب سے جلایا گیا تھا۔ ہسپتال کا ایمرجنسی کمرہ تیزاب کی بدولت شدید بدبودار ہو چُکا تھا۔ پولیس اہلکار اعلی افسران اور میڈیا کو ”ایک خبر“ دینے کی تگ و دو میں تھے۔

Read more

‏شہرِ خموشاں کے گمشدہ مندر

سعادت حسن منٹو سے تو آپ واقف ہوں گے؟ وہی منٹو جو تقسیم ہند کے درد کی کہانیاں سناتے سناتے مر گیا لیکن یار لوگوں نے اس پر فحاشی کا الزام لگا کر بدنام کیا ہوا ہے۔ اپنے ایسے ہی ایک ”فحش“ افسانے ٹھنڈا گوشت میں منٹو ہمیں ایک سکھ ایشر سنگھ کی کہانی سناتا ہے۔ سن سنتالیس کے فسادات کے دوران یہ ایشر سنگھ اپنے ہم مذہبوں کے ہمراہ ایک مسلمان گھر پر دھاوا بولتا ہے اور چھ لوگوں

Read more

دستور میں نئی آئینی ترمیم: حاکمیت کے نوآبادیاتی فلسفے کا مطالعہ

ہندوستان پر سیاسی اجارہ داری کو تقویت دے کر، معاشی مفادات کا حصول برطانوی نوآباد کاروں کا بنیادی ہدف رہا۔ فوج کشی، جنگوں اور فسادات کے ذریعے سے، ہندوستان پر زبردستی تسلط قائم کرنے کے لیے استعماری طاقت نے نوآبادیاتی سیاسی ڈھانچہ تشکیل دیا جس کا مقصد ہندوستان میں سامراجیت کی جڑوں کو مضبوط کرنا تھا۔ برطانوی حکام نے اس ضمن میں ہندوستان میں جمہوری پراسیس کو معطل رکھا اور آمرانہ تصور حکومت کے تحت نوآبادیاتی ادارہ جات متعارف کرائے۔

Read more

وجاہت مسعود سے ایک سوال

وجاہت مسعود جارج آرویل کی طرح نہ تو جانوروں کا باڑا (Animal Form) لکھ کر اشاروں میں بات کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی پیش گوئیاں کر کے 1984 لکھتے ہیں بلکہ منٹو کی طرح کھلا سچ لکھتے ہیں اور اشارہ بھی کریں تو ساری دنیا کو وہ اشارہ، اشارہ نہیں؛ ایک واضح اعلان لگتا ہے۔ ”معلق محل سے آتی صدائیں“ اس کی مثال ہے۔ منٹو کا ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ کا استعارہ لے کر اپنے ”مجرم خیال“ ہونے کا اعتراف

Read more

معلق محل سے آتی صدائیں

کہانی ختم نہیں ہوتی، کہانی کہنے والے کو کسی موڑ پر خاموش ہونا پڑتا ہے۔ جیسے ہم سب کو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ سردیوں کی کہر زدہ شام ہو گی یا موسم گرما کی صبح میں پھیلتی ہوئی دھوپ، ایک روز خاموش ہونا ہے۔ ہماری چپ سے دنیا کا شور ختم نہیں ہو گا، بچے بستہ اٹھائے روزانہ کی طرح سکول روانہ ہوں گے، سبزی والا اپنی ریڑھی پر، معمول کے مطابق، ہرے پتوں پر سرخ

Read more

 زندہ ہے ”دو قومی نظریہ“ زندہ ہے

16 دسمبر 1971 ء کو ڈھاکا کے پلٹن میدان میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم سرنگوں ہوا تو اس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے فخریہ انداز میں کہا کہ ”آج دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں غرق ہو گیا ہے“ پاکستان اپنے قیام کے 24 سال بعد ہی دولخت ہو گیا بنگلہ بندھو 6 نکات کے ذریعے ملک کو کنفیڈریشن میں تبدیل کرنا چاہتا تھا لیکن اسے بھارت کی مدد سے بنگلہ دیش بنانے کا موقع مل

Read more

پھر ذکر کریں لاہور کا

شیام چڈھا نے منٹو سے درست ہی کہا تھا کہ لاہور وہ محبوبہ ہے جس کی گلیوں نے ہمیں عشق کرنا سکھایا تھا۔ آپ تو جانتے ہیں کہ شیام چڈھا منٹو کا یار غار ہندی فلموں کا معروف ہیرو تھا جو عین شباب جوانی میں فلم کی شوٹنگ کے دوران گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے مر گیا۔ جی یہ وہی شیام چڈھا ہے جسے معروف اداکارہ ساحرہ کاظمی کا والد ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ نہرو نے بھی

Read more

”درختی گھر“ کے افسانے : ایک تاثر

عکس پبلی کیشنز کے محمد فہد نے گزشتہ ماہ انیس احمد کا ناول ”نکا“ ارسال کیا تو اس کے ہمراہ عبدالوحید کے افسانوں کا مجموعہ ”درختی گھر“ بھی بطور تحفہ ارسال کیا۔ زندگی کی مصروفیات میں ایسا کھویا کہ اس کا مطالعہ تاخیر کا شکار ہوتا رہا۔ عبدالوحید سے اس پہلے میں اس حد تک واقف تھا کہ وہ انجمن ترقی پسند مصنفین لاہور کے طویل عرصے صدر رہے ہیں۔ اس سے زیادہ میری ان سے واقفیت نہیں۔ یہ تو

Read more

اندھیرے کنویں میں اترتی سیڑھیاں

محض ماہ و سال کا حساب ہوتا تب بھی اکرام اللہ لمحہ موجود میں بزرگ ترین اردو فکشن نگار قرار پاتے۔ اسد محمد خان 1932ء اور محمد سلیم الرحمن 1934ء میں پیدا ہوئے تھے۔ اکرام اللہ جنوری 1929ء میں جالندھر کے قصبے جنڈیالہ میں پیدا ہوئے۔ 1961ء میں اکرام اللہ کی پہلی کہانی ’اتم چند‘ ادب لطیف میں شائع ہوئی تو ان کے رنگ تحریر پر منٹو کا گہرا اثر تھا۔ موضوع اور اسلوب کے اعتبار سے اکرام اللہ کی

Read more

جنسی استحصال

یک طرفہ محبت اور یک طرفہ نفرت کی طرح جنسی استحصال بھی یک طرفہ و دوطرفہ ہوتا ہے فرق اس میں یہ ہے کہ یک طرفہ میں استحصال ایک فریق کا ہوتا ہے جو عام طور پر اور زیادہ تر معاملات و حالات میں عورت ہوتی ہے۔ دوطرفہ میں استحصال فریقین میں سے کسی کا نہیں ہوتا، الٹا وہ مزے کرتے کراتے ہیں اور دور رس (معاشی و اختیاراتی) فائدے حاصل کرتے ہیں۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ یہاں

Read more

بندے کھول دو

خطے کی تاریخ میں، کھول دو ، کی اصطلاح، بڑی معروف رہی ہے۔ منٹو کے افسانے "کھول دو” میں سماج کی ستم گزیدہ سکینہ اس اصطلاح سے دردناک حد تک شناسا ہو گئی تھی۔ ایسے ہی کچھ عقیدت مند خواتین اپنے روحانی مرشدوں کی زبان سے مذکورہ اصطلاح سننے کی خوگر ہیں۔ لیکن دل لبھانے اور مرادیں بر آنے کے خوش کُن لمحات، کھانا کھول دو ، کے تین بول ہوتے ہیں۔ یہ تین لفظ نہیں بلکہ طبلِ جنگ ہے

Read more

رام گڑھ کا رانا وسیم طاہر اور وویمنز والی بال ٹیم

دنیا بھر کے بچے کھیل کود کے رسیا ہوتے ہیں۔ جب وہ کھیلتے ہیں تو ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں جس سے صحت مند مقابلے کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔ پیار، محبت ، امن اور بھائی چارے کی فضا قائم ہوتی ہے۔ رواداری اور محبت بڑھتی ہے۔ بیسویں صدی میں فٹ بال ، ہاکی، بیس بال ، کشتی رانی اور برف پر پھسلنے کے کھیل مقبول ہوئے ۔فٹ بال چین سے آیا جبکہ والی بال امریکہ سے آیا ہے ۔

Read more

انگریزوں کے جاسوس نے چائے کیسے چرائی

چائے ہمارے معاشرتی اور ثقافتی زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ چاہے وہ دوستوں کے ساتھ بیٹھک ہو، خاندانی محفل ہو، یا کوئی خاص تقریب، چائے کا ہونا لازمی سمجھا جاتا ہے۔ خصوصاً پاکستان کے مختلف علاقوں میں چائے کی مختلف اقسام، جیسے کہ نمکین چائے (جسے عام طور پر گلگتی چائے کہتے ہیں ) کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف گرم مشروب کے طور پر استعمال ہوتی ہے بلکہ ہمارے تعلقات اور بات چیت کو

Read more

کچھ ہم جنس پسندی اور مذہبی اخلاقیات کی باتیں

پیارے درویش وجاہت مسعود! ہمارے بہت سے مشترکہ دوست ہمارے ادبی و سماجی محبت ناموں کو بڑے ذوق و شوق سے پڑھ کر محظوظ و مسحور ہوتے ہیں۔ سلیم ملک صاحب نے تو ان کے بارے میں ایک مزاحیہ کالم بھی لکھ ڈالا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ہم دونوں کو اب عورتیں لفٹ نہیں کرواتیں اس لیے ہم ایک دوسرے کو خط لکھتے ہیں۔ آپ نے نہایت رومانوی عاجزی و انکسار کا مظاہرہ کیا۔ اپنے بارے

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل اور حامد یزدانی: آپ کی ادبی شناخت کیا ہے؟

آپ کی ادبی شناخت کیا ہے؟ ڈاکٹر خالد سہیل حامد یزدانی سے پوچھتے ہیں ملاقات تو دراصل مسی ساگا کے ایک انڈین ریستوران میں ہونا طے پائی تھی مگر میرے اصرار پر اسے اونٹاریو جھیل کے کنارے واقع شہر برلنگٹن کے ایک افغان کباب ریستوران میں منتقل کر دیا گیا تھا اور یہ سب ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کی کمال شفقت کا نتیجہ تھا۔ شام ڈھلنے سے کچھ پہلے جب میں ریستوران کے پارکنگ لاٹ میں پہنچا تو ڈاکٹر صاحب

Read more

ہم بے چارے ناخالص قوم

ہماری تحریروں، الفاظ اور گفتگو میں جب بھی ناخالص کا لفظ آتا ہے تو ہمیں دودھ میں پانی کی ملاوٹ کا خیال ضرور آتا ہے اور ہائے ہمارے ایمان کا تعلق بھی دودھ میں پانی ملانے سے کچھ کم نہیں۔ مگر دودھ تو بہت چھوٹی سی مثال ہے جس میں دودھ میں پانی ملانے والے کو چار پیسوں کا ہی سہی فائدہ تو پہنچ رہا ہے، تو بات ہو جائے ہماری اپنی شناخت کی۔ جب بھی ہماری شناخت کی بات

Read more

گاندھی کا لاہور اور جناح کا بمبئی – مکمل کالم

مجھے اُن لوگوں سے بحث کرنے کا بہت لطف آتا ہے جن سے اختلاف کیا جا سکے، مسمّٰی و محبّیٰ حبیب اکرم اُن میں سے ایک ہیں، آپ ایسے نستعلیق انداز میں دلیل دیتے ہیں کہ خواہ مخواہ جناب کا موقف تسلیم کرنے کو دل کرتا ہے۔ ویسے حبیب اکرم اور میرے نظریات میں اتنا ہی فرق ہے جتنا ڈانلڈ ٹرمپ اور علامہ طاہر اشرفی کے خیالات میں ہے، گویا زیادہ اختلاف نہیں ہے، بس کچھ معاملات پر رائے مختلف

Read more

امرتا پریتم ، وارث شاہ اور پنجاب کی دو مائیں

ستتر سال پہلے انسانی تاریخ کی بدترین ہجرت، خونریزی اور عصمت دری کی ہولناک ہولی کھیلی گئی تو پنجاب کی ایک بیٹی امرتا پریتم نے وارث شاہ کو مخاطب کر کے تقسیم کا نوحہ لکھا۔ اج آکھاں وارث شاہ نوں کِتوں قبراں وچوں بول تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول اک روئی سی دھی پنجاب دی توں لِکھ لِکھ مارے وین اَج لَکھاں دھیاں روندیاں تینوں وارث شاہ نوں کہن اُٹھ درد مندایا دردیا،اُٹھ تَک اپنا پنجاب

Read more

باسی روٹی اور میٹھے ٹکڑوں کا کلچر

میرے والد صاحب صبح ناشتے میں ہمیشہ رات کی بچی ہوئی باسی روٹی اور پودینے یا سبز دھنیے کی چٹنی استعمال کرتے تھے۔ یا رات کا بچا ہوا سالن کھاتے تھے اور ہماری والدہ ہمیں ناشتے میں رات کی باسی روٹی گھی میں تل کر چائے کے ساتھ دیتیں جو اس قدر مزیدار ہوتی کہ آج تک اس کا ذائقہ نہیں بھولتا۔ چھوٹے بچوں کو ان کی چوری بنا کر دی جاتی تھی۔ اس کی وجہ غربت یا معاشی کمزوری

Read more

وجاہت مسعود کا ادبی تحفہ اور ایرانی شاعرہ فروغ فرخ زاد کا گناہِ پُرلذت

محترمی و مکرمی و معظمی وجاہت مسعود صاحب! آپ نے اپنے ادبی محبت نامے کا آغاز ابن انشا کی ایک خوبصورت نظم سے کیا تو مجھے بھی ان کی ایک ‘نظم فرض کرو’ کے چند اشعار یاد آ گئے۔ فرض کرو ہم اہل وفا ہوں ’فرض کرو دیوانے ہوں فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں فرض کرو یہ نین تمہارے سچ مچ کے میخانے ہوں فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ہم نے ڈھونڈے بہانے ہوں فرض

Read more

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، درس گاہ یا درگاہ

گورنمنٹ کالج لاہور وہ درس گاہ ہے جو انسان کے نقوش کو بدل کر رکھ دیتی ہے اب یہ درس گاہ نہیں درگاہ کا رتبہ حاصل کر چکی ہے اس نے وقت کے ساتھ جدت کو گلے بھی لگایا ہے اور ماضی سے جڑت بھی رکھی۔ یہاں ہمیں چھ سال رہنے کا شرف حاصل ہے ان سالوں میں کئی چہرے ملے جو پردوں میں لپٹے ہوئے تھے اور ہر پردہ اپنے وقت پر گر گیا لیکن کچھ درویش صفت لوگ

Read more

نشیب میں فراز

صحرا نوردی کی مشقت شوق شروع ہوئی تو ہر وقت کی دستیابی کو یقینی بنائے رکھنا پڑا۔ کسی بھی سمت کے سفر کو چلتے تو پہلے سے ہی معلوم ہوتا کہ جہاں مرضی چلے جائیں، جتنے قوس مرضی طے کر لیں آخر میں کوئی نہ کوئی صحرا ہی ہمارا منتظر ہو گا۔ ایسے ہی ایک سفر میں صحرا کے بیچ و بیچ ’پنگھوڑا‘ نظر آیا۔ ایسی ویرانی میں اس تفریح کی وجہ سمجھ نہ آئی۔ یوں بیچ صحرا کے اس

Read more

مرزا ابن حنیف: مرد افگن عشق

یہ کیسا ستم ہے جو مجھے اب بھی محسوس ہوتا ہے کہ جب میں ملتان جاؤں گا تو بیکن بکس کے سامنے یا کہیں آس پاس ابن حنیف مجھے نظر آ جائیں گے۔ سیاہ رنگ کا چھوٹا سا پرانا بیگ دائیں بغل میں دابے، سفید کرتا اور شلوار پہنے، سڑک سے کچھ ہٹ کر سر جھکائے ہوئے، ارد گرد سے بالکل بے خبر اور بے نیاز ہو کر پیدل چلتے ہوئے مل جائیں گے۔ میں ایک دم ان کے سامنے

Read more

انقلاب کی آہٹ

بچپن میں انقلاب کا لفظ اکثر سننے کو ملتا تھا۔ بعض اوقات حالات کا ستایا شخص جب جوش خطابت میں کہتا کہ اس ملک کو خونی انقلاب کی ضرورت ہے اور ایک خونی انقلاب ہی اس ملک کو بچا سکتا ہے تو لگتا کہ اس ملک کے تمام مسائل کا واحد حل ایک انقلاب ہی ہے۔ ہماری حالت منٹو کے کردار استاد منگو جیسی ہو گئی جس کا خیال تھا کہ ہندوستانیوں کی نجات ایک نئے آئین میں ہے۔ وقت

Read more

”صد رنگ“ کی جلوہ گری

صد رنگ کے عنوان سے ”ہم سب“ پر دو کالم شائع ہوئے ہیں۔ جو در اصل ہم سب کے مدیر وجاہت مسعود صاحب کے ہمہ جہت شخصیت ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کے لئے ہوئے، انٹرویوز ہیں۔ مسعود صاحب نے ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کو خوب کنگھالا ہے۔ علم و ادب کی باتیں کیں، شعر و شاعری کا ذکر ہوا۔ شاعروں کو مقبول شعروں کے حوالے سے یاد کیا۔ یورپی نفسیات دانوں کو متعارف کرایا گیا، جو عام لوگوں کی نظر

Read more

کہانیاں مرتی نہیں ہیں

کوئٹہ کی تنگ و پر پیچ گلیوں میں کسی ویران کمرے میں جہاں کوئی اکیلا ہو اور صرف کتابیں سانس لیتی ہوں تو کہانیاں پڑھنا بہترین مشغلہ ہے۔ ایسے میں اگر کہانیوں کی ایسی کتابیں میسر ہوں جن کے موضوعات ہمارے اپنے معاشرے سے ہوں تو پڑھنے کا لطف ہی الگ ہے۔ میں اردو فکیشن بہت پڑھتا ہوں۔ انگریزی میں چونکہ مجھے وہ مزہ نہیں آتا اور بلوچی فکشن میں بہت کم کتابیں ایسی ہیں جو واقعی پڑھنے لائق ہوں۔

Read more

استعمار زدہ معاشرے میں دانش اور دانشور

اطالوی مفکر، مصنف، اور ایکٹیوسٹ انتونیو گرامشی اور فرانسیسی فلسفی مشعل فوکو کے بعد ایڈورڈ سعید وہ مصنف ہے جس نے انسانی معاشروں میں موجود دانش اور دانشور کے کردار پر تفصیل سے لکھا ہے۔ ایڈورڈ سعید نے گرامشی اور فوکو کے نظریات کی تشریح، توسیع اور نظری اطلاق کا کام کیا ہے۔ گرامشی کے پیش نظر فسطائیت کا شکار اٹلی تھا جبکہ سعید کی توجہ ان مغربی دانشوروں پر رہی جو مشرق اور بالخصوص اسلام پر اپنے متعصبانہ نظریات

Read more

قرارداد مقاصد اور علامہ شبیر احمد عثمانی (9)

6 اس موضوع پر گزشتہ تحریر اس سوال تک پہنچی تھی کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی مذہبی قیادت کے دعوے دار گروہ کا قائداعظم کی سیاست سے کیا تعلق تھا۔ 1906ء میں قائم ہونے والی مسلم لیگ ہندوستانی مسلمانوں کے خالص سیاسی تحفظات کی روشنی میں قائم ہوئی تھی اور اس کا محرک 1905ء میں ہونے والی تقسیم بنگال کی آل انڈیا کانگرس کی طرف سے مخالفت تھی۔ مسلم لیگ کی طرف سے یکم اکتوبر 1906ء کو وائسرائے ہند

Read more

مجید امجد اور باطن کی مٹی

(اورینٹل کالج میں مجید امجد کی برسی پر پڑھی گئی ایک تحریر) صدر محترم، یہ کوئی علمی یا تدریسی مقالہ نہیں بلکہ میرے کچھ تاثرات ہیں جن کو میں اپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے محترم ڈاکٹر ناصر عباس نیئر کی طرف سے جو موضوع دیا گیا ہے وہ ہے ’مجید امجد اور ثقافتی جڑیں‘۔ میں نے سوچا شاید اس کے لیے مجھے جڑانوالہ جانا پڑے گا لیکن پھر خیال آیا کہ ثقافتی جڑوں کا قصہ تو ڈیڑھ

Read more

اپنی بہترویں سالگرہ پر اپنے دوستوں کے لیے ایک ادبی تحفہ

جب مجھ سے ایک روایتی اور مذہبی دوست نے پوچھا ڈاکٹر سہیل! کیسے مزاج ہیں؟ اور میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ زندگی ایک محبوبہ کی طرح مہربان ہے تو وہ خاموش ہو گئے۔ ان کی خاموشی پراسرار تھی۔ عین ممکن ہے ان کی زندگی میں جو محبوبہ آئی ہو وہ مہربان نہ ہو۔ اس نے ایک مشرقی اور روایتی محبوبہ کی طرح اپنے عشوہ و غمزہ و انداز و ادا سے بہت ظلم ڈھائے ہوں۔ ان کی محبوبہ

Read more

پاکستانی لٹریچر پر برطانوی دور کے اثرات

پاکستانی لٹریچر پر برطانوی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے، ہمیں تاریخی، ثقافتی، اور ادبی پس منظر کو مدنظر رکھنا ہو گا۔ برطانوی راج کے دوران، تقریباً دو سو سال تک، برصغیر کے ادبی اور ثقافتی میدان پر گہرا اثر پڑا۔ اس اثر کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے، ہمیں مختلف زاویوں سے اس کا جائزہ لینا ہو گا: برطانوی نوآبادیاتی دور ( 1858۔ 1947 ) نے ہندوستانی معاشرت، سیاست، اور ثقافت پر گہرے نقوش چھوڑے۔ انگریزی زبان نے

Read more

تخلیقی اقلیت: خواب اور الجھنیں

"زندگی کی تین شکلیں جن کو میں نے نام دئے ہیں: زندگی کس طرح اونٹ بن گئی، اور اونٹ شیر میں تبدیل ہو گیا، اور آخر میں شیر ایک بچہ بن گیا۔” – ’ اس طرح زرتشت نے کہا ‘ (کتاب کا نام)، مصنّف فریڈرک نطشے (1844–1900) اپنی کتاب کے آغاز میں جرمن فلسفہ دان نطشے نے علامتی طور پر تین تبدیلیوں کو بیان کیا ہے جن سے ایک فرد کو اپنے تخلیقی مقصد کے لئے آزادی حاصل کرنے کے

Read more

"متن ،قرات اور نتائج”:تعارفی مطالعہ

تخلیق، تنقید اور تحقیق ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ ان میں سے ایک بھی کمزور پڑ جائے تو ادب کا معیار تنزلی کا شکار ہو جاتا ہے۔ محاسن و معائب میں فرق کرنا ،اوصاف و اقدار کا تعین کرنا اور موازنہ و ترجیح اس کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ شوماخر نے اپنی کتاب “Elements of Critical Theory”میں تنقید کے حوالے سے جس چیز پر زیادہ زور دیا ہے ،وہ غیر جانب داری(Unbiasedness)ہے۔معاصر عہد میں کئی ایسے ناقدین ہیں

Read more

میل پتھروں کے درمیان

محبی نیر مصطفیٰ کا واٹس ایپ پر صوتی پیغام ملا کہ آتی جمعرات کو ملتان آرٹس کونسل میں اس کے اعزاز میں ایک تقریب ہے آپ ضرور آئیے گا۔ ملتان آرٹس کونسل کا نام سنتے ہی ریزیڈنٹ ڈائریکٹر محمد علی واسطی اور وہ سینہ زور رقاصائیں یاد آ گئیں جن کے دم سے آرٹس کونسل آباد تھی۔ بچارے نثر نگار تو اردو اکادمی یا ملتان آرٹس فورم تک ہی پر مار سکتے تھے۔ پھر اچانک ذہن میں آیا کہ ادھر

Read more

ڈائینوسس

اپالو اور ڈائینوسس حسن کے دو متضاد کُرے ہیں۔ اپالو تفکر، تعقل، توازن اور ترتیب کا استعارہ ہے ؛ ڈائینوسس جوش، جرات، جذبے اور جنون کی علامت ہے۔ اپالو کا حسن دھیما اور باوقار ہے ؛ ڈائینوسس کا حسن وحشت اور دیوانگی سے لبریز ہے ؛ اپالو کی خوب صورتی آنکھوں میں ٹھنڈک اور دل میں نور پیدا کرتی ہے ؛ ڈائینوسس کی خوب صورتی جلا کر راکھ کر دیتی ہے ؛ اپالو تخلیق کا دیوتا ہے، ڈائنوسس تخریب کی

Read more

مردانگی، خواہشات اور بڑھاپا

وٹرنری ڈاکٹر تو ہم ہیں نہیں کہ گھوڑے کا حال احوال جانیں مگر وہ زبان زد عام محاورہ تو آپ سب نے سن ہی رکھا ہو گا نا۔ مرد اور گھوڑا کبھی۔ ۔ ۔ جی جناب اس محاورے کی بنیاد نہ جانے خوش فہمی کے کس غبارے پہ رکھی گئی ہے؟ اور گھوڑے غریب کو اس میں کیوں شامل کیا گیا یہ بھی علم نہیں؟ خیر پوچھیں گے بھئی کسی دن وٹرنری ڈاکٹر سے۔ تو جناب، یار لوگ اس کو

Read more

نظر آئی اک شکل مہتاب میں: میر کا خلل دماغ

ذہنی و نفسیاتی صحت، مکمل صحت کا اہم اور بڑا جزو ہونے کے باوجود سٹگما کا شکار ہے۔ وجہ، گرتی ہوئی نفسیاتی صحت کا غماز، انسانی رویے اور برتاؤ میں اتار چڑھاؤ کا ہونا ہے۔ سائیکارٹری کے شروع سے اینٹی۔ سائیکارٹری مہم کا سایہ بن کر ساتھ چلنا ایک دلچسپ بات ہے۔ ایک مکتبہ فکر کہتا ہے کہ سائیکارٹری ایک چھتری ہے، تمام ایسے انسانی رویوں کے لئے جو معمول سے ہٹ کے ہیں۔ انسانی رویوں کے کچھ ماہرین کا

Read more

ڈیمُو اور ڈیموکریسی

اتفاق دیکھئے، کل ہمارے غسل خانے کی ٹوٹی ہوئی جالی سے ایک بِھڑ اندر آ  گیا، اور پھر موقع پا کر اس نے متصل خواب گاہ میں ورودِ مسعود فرمایا اور اب پچھلے دو دن سے وہ بھُونڈ ہمارا روم میٹ ہے، یعنی ’گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں‘۔ یہ کبھی گنگناتا ہوا کان کے پاس سے گزرتا ہے، کبھی سکوت اوڑھ لیتا ہے، کبھی کھڑکی کے پردے پر استراحت فرماتا نظر آتا ہے، اور کبھی تلاشِ بسیار

Read more

یہ تقریب نہیں ہو سکتی

عجب ہفتہ تھا۔ نومبر 23 تا 29 سنہ 1983۔ شہر تھا دہلی۔ چار بہت نامور خواتین میں ایک طرح کی سمجھو جنگ ہو گئی۔ اب خواتین میں ایسی جنگ پنجاب کی مصلی عورتوں یا ممبئی کی دھراوی جیسے سلم (Slum) جو ہمارے اورنگی ٹاون سے چھوٹا اور میکسکو سٹی کے چائوداد سے بڑا ہے۔ وہ والی بیلنے چمٹے پیتل کی پرات بجانے والی ساڑھی بلائوز سے لاتعلق جنگ تو ہوتی نہیں۔ اس جنگ نے بہرحال افسروں کے چھکے چھڑا دیے۔

Read more

منٹو کی ہیرا منڈی سے سنجے بھنسالی کی ہیرا منڈی تک

مغل دور میں شاہی قلعہ کے دیوان عام اور روشنائی دروازے کے سامنے ایسے لوگوں کا محلہ تھا جو شاعری، گانے بجانے اور ناچنے میں مہارت رکھتے تھے۔ شاہی قلعہ اور محل کی ہمسائیگی کی وجہ سے اس محلے کو شاہی محلہ کہا جاتا تھا۔ اس دور میں اس محلے کے رہائشیوں کا قلعہ اور شاہی محل میں بہت آنا جانا تھا، اور ان کو شاہی محل اور امراء قلعہ کی سرپرستی حاصل تھی۔ محلے کے لوگ ہی صرف قلعہ

Read more

آصف فرّخی: پل بھر کو اَمر، پل بھر میں دھواں

آصف فرخی کو گزرے چار برس ہو گئے۔ چار برس پہلے دنیا کو حیران کر کے رخصت ہو جانے والے آصف فرّخی اردو کی ادبی دنیا کی متحرک ترین شخصیت تھے، وہ ایک ہمہ جہت تخلیق کار تھے۔ کیا نہیں تھے وہ، ایک پختہ افسانہ نگار، سنجیدہ نقاد اور قابل مدیر۔ تراجم کے میدان میں بھی انہوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں تھیں۔ جہاں انھوں نے بین الاقوامی ادب کو اردو کے قالب میں ڈھالا تھا وہیں پاکستان کے

Read more

چیخوف اور افسانہ خادمہ: ایک تعارف

پیدائش: 1860 ء۔ انتقال: 1904۔ روس کا افسانہ نویس اور ڈراما نگار۔ 1884 ء میں انیس برس کی عمر میں چیخوف کے قلمی نام سے مختصر افسانے لکھنے شروع کیے۔ چیخوف نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں ‌‌ اسے ایک سخت مزاج باپ اور ایک اچھی قصّہ گو ماں نے پالا پوسا۔ چیخوف کی ماں اپنے بچّوں کو دل چسپ اور سبق آموز کہانیاں سنایا کرتی تھی۔ یوں ‌ بچپن ہی سے وہ ادب اور فنونِ لطیفہ میں

Read more

کتاب: پھرتا ہے فلک برسوں۔ 2 (خاکے )

مصنف: اصغر ندیم سید صاحب تبصرہ: عرفان علی جناح گر قبول افتد! جیسا کہ میں نے خاکہ نگاری کے فن یا صنف سے اتنی دیر بعد واقف ہوا اور اس کا مجھے افسوس بہر حال رہے گا۔ اگر میں گلزار صاحب کی کتاب ”گر یاد رہے۔“ نہ پڑھتا تو شاید اب تک خاکہ نگاری سے بے بہرہ رہتا۔ اور اگر وہاں بھی جاوید صدیقی صاحب والا خاکہ نہ پڑھتا تو! اصغر ندیم سید صاحب، یہ میرے لیے بچپن کی ایک

Read more

کیا آپ تخلیقی اقلیت سے واقف ہیں؟

دنیا کے ہر معاشرے میں افراد کے دو گروہ ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔ روایتی اکثریت اور تخلیقی اقلیت۔ روایتی اکثریت پر مشتمل افراد مروجہ معاشرتی رسم و رواج اور اصول و ضوابط کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی سوچ اور ترجیحات معاشرے اور خاندان کے بنائے گئے سانچوں میں ڈھلی ہوتی ہیں۔ جن سے انحراف گناہ اور جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ روایتی اکثریت میں تخلیقی اذہان نہ ہونے کے برابر ہوتے

Read more

قانونِ ہتک کی حمایت…ایک شرط پر

پاکستان میں سینکڑوں اچھے قوانین موجود ہیں، اور انہیں توڑنے کے ہزاروں طریقے۔کیا ہمیں مزید اچھے قوانین بنانے کی ضرورت ہے یا خوش نیتی سے موجودہ قوانین کو نافذ کرنے کی؟ ہمارے پاس تو ام القوانین یعنی اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین بھی موجود ہے، ایسے میں کیا ہمیں کسی آئینِ نو کی تلاش میں سرگرداں رہنا چاہیے؟ یا 1973ء کے آئین کو اس کی روح سمیت نافذ کرنے کی کم از کم ایک سنجیدہ سعی کرنی چاہئے؟ آئین تو

Read more

انڈیا اور پاکستان میں صوبوں کے نام تبدیل کر دیں

نقاد حضرات ادب کو دو حصّوں میں تقسیم کرتے ہیں، پاپولر ادب اور کلاسک ادب۔ پاپولر ادب تو مرضی کی تصوراتی دنیا میں لے جاتا ہے تاہم انڈیا اور پاکستان میں لکھے جانے والے اردو کلاسک ادب کا بڑا حصّہ ”وچھوڑے“ (بچھڑنے کے غم) کے گرد ہی گھومتا ہے۔ سعادت حسن منٹو نے اپنے افسانوں میں کچھ انسانوں کے اندر موجود بھیڑیے کو برِصغیر کی تقسیم کے دوران سامنے آنے کو بیان کیا تو انتظار حسین کے بارے میں کہا

Read more

شیما کرمانی: ہر تان ہے دیپک

تحریر: صائمہ حیات/ عاطف حیات پرفارمنگ آرٹ اور بطور خاص کلاسیکل رقص کو ہمارے یہاں معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ریاستی سطح پر اس فن کی پذیرائی نہ ہونے کے سبب یہ فن اب یکسر معدوم ہو چکا ہے۔ ہمارے سرکاری تعلیمی اداروں بشمول اسکول، کالجز اور یونیورسٹیز میں طالبعلموں کی اکثریت تعلیم حاصل کرتی ہے لیکن بدقسمتی سے یہ طالب علم اپنے پورے تعلیمی کیریئر کے دوران اس فن سے مکمل طور پر نابلد رکھے جاتے ہیں بلکہ نصاب میں

Read more

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے

پنجابی شاعری کے عظیم شاعر وارث شاہ کو پنجابی زبان کا شیکسپئر بھی کہا جاتا ہے۔ ان سے پہلے اور بعد میں کئی لوگوں نے ہیر رانجھے کا قصہ لکھا لیکن کسی کو وہ مقبولیت نہ ملی جو ہیر وارث شاہ کے حصے آئی۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ پنجاب میں میں قرآن کے بعد سب سے زیادہ چھپنے والی کتاب ہیر وارث شاہ ہوا کرتی تھی۔ ہیر وارث شاہ کا آغاز ہی حمد سے ہوتا ہے اور اختتام

Read more

ناول ’کبڑا عاشق‘ کا تعارف و جائزہ

کبڑا عاشق فرانسیسی کلاسیکی ناول ’ہنچ بیک نوٹرے ڈیم ڈی پیرس‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ اس ناول کی پہلی اشاعت 1831 میں ہوئی۔ ہم نے جس ایڈیشن کا مطالعہ کیا ہے اس کے 132 صفحات ہیں۔ جتنا عمدہ یہ ناول ہے اتنا ہی غیر معیاری اس کا سر ورق ہے۔ ناول کے جائزہ سے پہلے ہم ناول کے تخلیق کار کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ انقلابی سوچ کے مالک وکٹر ہیوگو ( 26 فروری 1802۔ 22 مئی

Read more

ادارہ یادگار غالبؔ (1)

”ادارہ یادگار غالبؔ“ کراچی ماضی میں اردو ادب کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم ادارہ رہا ہے۔ فیض احمد فیض اور مرزا ظفر الحسن کا شمار اس ادارے کے بانیوں میں کیا جاتا ہے۔ یہ ادارہ غالبؔ کی صد سالہ برسی کے موقع پر کراچی میں 1969 ءمیں قائم کیا گیا۔ غالبؔ لائبریری کا قیام بھی اسی ادارے کے تحت عمل میں آیا۔ اس ادارے کے پہلے صدر فیض احمد فیض اور جنرل سیکرٹری ظفر الحسن منتخب ہوئے۔ غالبؔ

Read more

افسانہ۔ کالی شلوار والی – منٹو کے جنم دن پر انہیں خراجِ عقیدت

نئی سرکار نے آتے ہی ملک میں انقلابی تبدیلی کے لئے ہر شعبے میں اکھاڑ پچھاڑ کا آغاز کر دیا تھا۔ دوسرے شعبوں کی طرح ادب پر بھی خصوصی توجہ دی گئی اور ملک کے ادیبوں کے لئے کچھ قاعدے قانون بنائے، جن پر عمل درآمد کا آغاز ایک شاندار سیمینار سے کیا جا رہا تھا جو اُس چوٹی کے ادیب کے اعزاز میں تھا جسے کبھی کسی سرکار نے بھولے سے بھی یاد نہیں کیا تھا۔ مگر نئی سرکار

Read more

نیٹ فلیکس کا ایک نیا ڈرامائی سلسلہ

یقین مانیں ملکی سیاست کے بارے میں کچھ ’نیا‘ لکھنے کی گنجائش محدود سے محدود تر ہو چکی ہے۔ ’سیاسی‘ موضوعات پر خود کو دہراتے ہوئے مجھ جیسے قلم گھسیٹ اندھی نفرت و عقیدت میں تقسیم ہوئے فریقین میں سے کسی ایک کے ذہن پر چھائے تعصبات و غصے ہی کو بھڑکائے چلے جا رہے ہیں۔ جن کلیدی وجوہات نے ہماری سیاست کو جامد کر رکھا ہے ان کے بارے میں کھل کر لکھنے کی جرات میسر نہیں۔ وہ نصیب

Read more

میرا جی: نگری نگری پھرا مسافر

"چلو تم ادھر کو ہواہو جدھر کی”۔ یہ حالی کا منشور تھا۔ "اک پل میں منسوخ کیے دیتا ہوں/ اس دنیا کو اپنی انگلی کی مستانہ جنبش سے/اپنے ذہنی ساز کی بہکی لرزش سے”۔یہ میراجی تھے۔ حالی —اور ان کا زمانہ بہ قول حسن عسکری استعارے سے خوفزدہ تھا۔ استعارے کا ڈر کب پیدا ہوتا ہے؟ جب آدمی اپنی نفسی دنیا سے بیگانہ ہو جائے اور خود کو باہر کے سپرد کردے۔ شاعر اگر خود کو باہر کے سپرد کردے

Read more

خط غربت کی جانب بڑھتے ایک کروڑ انسانوں کا مستقبل؟

نام لینے سے گریز ہی بہتر۔ چند مہینوں سے مگر اپنے سے بہت سینئر چند صحافیوں کے کالم غور سے پڑھ رہا ہوں۔ عمر کے آخری حصے میں وہ مجرموں کی طرح اعتراف کررہے ہیں کہ عمر بھر صحافت کی نذر کرنے کے باوجود وہ ”سچ“ دریافت کرنے میں ناکام رہے۔ ”سچ“ اگر جان بھی گئے تو اسے بیان کرنے کی ہمت نصیب نہ ہوئی۔ اپنے گناہوں کے اعتراف کے بعد وہ اپنی ہی عمر کے سیاستدانوں پر لعنت ملامت

Read more

تاریخی مغالطے اور حقاٸق

مادیت کا فلسفہ ہزاروں برس سے ہے اور مادیت اپنی سرشت میں الحاد ہی ہے۔ مادیت کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کسی کی تخلیق نہیں ہے، یہ اپنے ہی داخلی قوانین کی وجہ سے متحرک ہے اور ان قوانین کو عقلی طور پر جانا جا سکتا ہے۔ قدیم یونان میں فلسفی مادے کو اول مانتے تھے اور اس کی عقلی تقاضوں کے تحت تعبیر کرتے تھے۔ فلسفیوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو مذہبی خدا کو نہیں مانتا،

Read more

وفور کا ایک تجزیاتی مطالعہ

ہر تخلیق چا ہے وہ منظوم ہو یا منثور، پھر نثر میں ناول ہو یا افسانہ اس کا ایک خاص وصف یا ایک الگ خاصیت ہوتی ہے۔ اور اس ناول کی بنیادی خاصیت یہ ہے کہ یہ اپنا آغاز پانچویں باب سے کرتا ہے۔ اور یہ جو گزرے ہوئے چار ابواب ہیں وہ کسی ریسٹورنٹ میں دیے ہوئے سٹارٹر کی طرح ہے کہ یہ بھی کھانے کے تمام لوازمات میں شامل ہوتا ہے لیکن بنیادی خوراک سے چونکہ پہلے یا

Read more

سوشل میڈیا کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

عام تاثر یہ ہے کہ نئی پیڑھی کے لوگ جدید علوم میں ہم سے اگے ہیں۔ یہ جدید دور کے لوگ ہیں۔ ان کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ہے۔ ان کو اس ٹیکنالوجی کے جدید شہکار ”سوشل میڈیا“ کا فائدہ حاصل ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی برکات اور جوان نسل کی اس تک رسائی ایک ایسی حقیقت ہے، جس سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن کیا صرف ٹیکنالوجی تک رسائی اور اس کی سمجھ کافی ہے؟ اور کیا جدید ٹیکنالوجی سے واقفیت

Read more

کیا ہمارے ادیب کا تہذیبی وجود خطرے میں ہے؟

اگر آپ ادیب اور تخلیق کار ہیں یا کچھ ادب شناس اور ادب پرور ہیں یا اگر یہ نہیں بلکہ صرف جز وقتی ادیب ہیں اور دانشوروں کی محفلوں میں اٹھنا بیٹھنا پسند کرتے ہیں تو ”کیا ہمارا ادیب اپنی تہذیبی شناخت کھو چکا ہے؟“ کے سوال کا آپ تسلی بخش جواب دے سکتے ہیں۔ اور اگر فرض محال آپ اس سوال کا ’ہاں‘ یا ’ناں‘ کسی بھی ایک آ پشن میں مدلل جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو

Read more

اسی برس کا شاعر جسے اور بھی جینا ہے

کچھ دن پہلے انہوں نے کہا تھا کہ انہیں ابھی اور جینا ہے۔ پھر ہنستے ہوئے اپنی بیٹی گیتی سے ہونے والی اس گفتگو کا ٹکڑا سنانے لگے جس میں ممتاز مفتی کا ذکر ہوا تھا۔ جی ممتاز مفتی جنہوں نے نوے برس کی عمر پائی۔ اور مشتاق یوسفی کا بھی، جو پچانوے برس جیے۔ شاید ایک آدھ مثال سو برس جینے والے ادیب کی بھی ان کے ذہن میں تازہ ہو گئی ہو گی مگر وہ یہ والا جملہ

Read more

تاریخ نہ سہی، کیلنڈر ہی سیدھا کر لو

اگر زرا سی چھان پھٹک کر لی جاتی تو محض 19 برس پرانی حقیقت کی تصدیق ہو سکتی تھی کہ قرار دادِ لاہور 22 مارچ 1940 کو ایک کمیٹی نے مرتب کر کے 23 مارچ کو عام بحث کے لیے پیش کی۔ یہ بحث 24 مارچ کی رات تک جاری رہی اور پھر اسے منظور کر لیا گیا۔ پڑھیے وسعت اللہ کا کالم بات سے بات۔

Read more

’سفارش بھی چلتی ہے اور میرٹ بھی۔۔۔‘ پاکستان کے سول ایوارڈز ہر سال متنازع کیوں ہو جاتے ہیں؟

پاکستان میں ہر سال 23 مارچ کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈز مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ان کی خدمات کے اعتراف میں دیے جاتے ہیں۔ لیکن یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ ان ایوارڈز میں ’سفارش‘ اور دباؤ‘ کا بھی عمل دخل ہوتا ہے۔

Read more

کچھ غیر دیانتداری کی باتیں

دنیا کے سب معاشروں میں جینوئن ادیبوں کے ساتھ ہمیشہ یہ المیہ رہا ہے کہ یا تو معاصر زمانے نے ان کی قدر نہیں کی یا پھر ان کے کام کو چوری سے مطلب اپنے نام سے چھپایا جاتا رہا ہے۔ تاریخ بعد میں اس کی قدر قیمت کس طرح متعین کرتی ہے یہ ادیب کا مسئلہ نہیں۔ ملکی، غیر ملکی کانفرنسوں میں شرکت، ادبی جلسے، جلوسوں میں اپنی موجودگی، طاقت ور لوگوں کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھ

Read more

منٹو سے اقبال تک! چند چشم کشا حقائق

شاید آپ کو گمان گزرے کہ یہ ایک ادبی تحریر ہے تو عرض ہے کہ یہ قطعاً ادبی تحریر نہیں ہے بلکہ ”پاکستان اسٹڈیز“ جیسے مضامین پڑھ کر جوان ہونے والی نسل اس تحریر کو بے ادبی کے زمرے میں شامل کر کے میری حب الوطنی پر خدشات کا اظہار کر سکتی ہے۔ مزید براں یہ امر بھی گوش گزار کردوں کہ اس تحریر میں کہیں بھی سعادت حسن منٹو کا کوئی حوالہ یا ذکر تک نہیں ہے۔ جہاں آج

Read more

وہ ورق تھا دل کی کتاب کا: ایک شاہکار

اس کتاب کے مصنف محمد اقبال دیوان صاحب ہیں۔ دیوان صاحب کا تعلق ریاست جونا گڑھ کے دیوان اور پیٹل گھرانے سے ہے۔ آپ طویل عرصے تک بیوروکریسی کا حصہ رہے ہیں۔ ساٹھ سے زائد ممالک کی یاترا کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کا مشاہدہ عمیق ہے۔ یہ کتاب پڑھ کر دیوان صاحب کی معلومات، مطالعہ، مشاہدہ اور اپنے موضوعات پر گرفت دیکھ کر رشک آتا ہے۔ اس کتاب میں پیار و محبت کے قصے، راز و

Read more

ایران میں تبدیل ہوتا فیشن: ’یہ خواتین کی ہمت اور سوچ میں تبدیلی کا نتیجہ ہے‘

انقلاب کے بعد سے چار دہائیوں سے اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ ایرانی لباس کے انداز کو تبدیل کرنے کے معمول کو منجمد کرنے کی کوشش کی ہے اور خواتین کے جسم اور لباس پر کنٹرول کے ذریعے مثالی مسلم خواتین کے لباس کے ضابطے کے اپنے نظریے اور تشریح کو مسلط کرنے کی کوشش کی ہے لیکن گذشتہ دو سالوں میں خواتین کے لباس میں اتنی تیزی سے تبدیلیاں آئی ہیں کہ ایسی مثالیں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔

Read more

ادب، عورت اور مرد

عین اس وقت کہ جب ایک طرف عورت مارچ چل رہا ہو، عورتوں کے حقوق پر مذاکرے ہو رہے ہوں اور اکادمی ادبیات والے فرض کفائیہ ادا کرنے کو عورتوں کے مشاعرے کا اہتمام کیے بیٹھے ہوں ادارہ اردو کا ایک سیمینار ”ادب، عورت اور مرد“ کے عنوان نے اس سوال پر رکھ لینا کہ ”صنفی بنیادوں پر تخلیق کاروں میں تفرق کیوں؟“ بظاہر ایک شرارت لگتا ہے لیکن جس سنجیدگی سے یہ سوال میرے سامنے رکھا گیا، اس سوال

Read more

دھوپ چھاؤں سی۔ شمائلہ

صفحۂ ہستی پہ وارد مخلوق خدا بہ وجوہ کسی خاص مقصد، دھرتی کے سینے پہ وزن دراز ہیں۔ مخلوق خدا کے بے ہنگم اجتماع میں واحد اشرف مخلوق نے ایک طرفہ تماشا بپا کیا ہوا ہے۔ کوئی خوش تو کوئی غمزدہ، کوئی پرسکون تو کوئی بے زار، کوئی اعلیٰ تو کوئی آلہ کار۔ بعضے تو ایک جوش تغافل یا پھر تجاہل کامل کا طوفان لیے پھرتے ہیں، اور بعضے سینۂ دھرتی کی شش جہاتی تعمیر اور اسے سنوارنے سجانے کے

Read more

منٹو اور معاشرے کی روح کے زخم

  شہرت اور اہمیت کے لحاظ سے کرشن، بیدی، عصمت، حیات اللہ اور منٹو کے کارناموں پر نگاہ جاتی ہے، جن میں سے ہر ایک نے فکر و فن، موضوع و مواد اور انداز بیان پر قدرت حاصل کر کے اس میدان کو وسیع کیا جو پریم چند چھوڑ گئے تھے۔ منٹو کے بارے میں یوں اظہار خیال کیا گیا ہے : ” منٹو کا فنی شعور غالبا افسانہ نویسی کے لئے سب سے زیادہ موزوں تھا۔ اس میں ایک

Read more

ڈاکٹر امجد طفیل کی تنقیدی بصیرت پر ایک نظر

ڈاکٹر امجد طفیل کا عمر بھر کا تنقیدی سرمایہ، جو گزشتہ چالیس سال میں وقفے وقفے سے مختلف مضامین کی صورت میں ظہور کرتا رہا ہے ؛ اب سنگ میل سے پانچ کتابوں کے لگ بھگ اٹھارہ انیس سو صفحات کے مواد کے ساتھ ہمارے سامنے ہے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے : 1۔ ہم عصر اردو افسانہ: اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلے حصے میں نظری مباحث بھی ہیں اور اس صنف کے

Read more

پاکستان میں اردو افسانہ

مجھ سے ملنے والے اکثر نوجوان جو افسانہ لکھنا چاہتے ہیں، یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ کوئی ایک کتاب بتائیے کہ ہم اردو افسانے کا سفر جان لیں۔ اگرچہ یہ سہل انگاری مجھے پسند نہیں اور ایسا سوال کرنے والوں کی بابت شک میں مبتلا ہو جاتا ہوں کہ افسانہ نگاری ایسے نوجوان کی پہلی ترجیح ہے بھی یا بس گھومتے گھماتے ادھر آ نکلے ہیں اور اسے تخلیقی سطح پر اپنے وجود کا مسئلہ بنانے کی بجائے محض

Read more

حلوہ اور عمومی رویہ

پچھلے کچھ دنوں سے ہر جگہ پہ ایک ویڈیو وائرل تھی کہ ایک عورت جس نے عربی کیلیگرافی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ اس پہ حلوہ لکھا ہوا تھا جس کو دیکھتے ہی کچھ حضرات بھڑک اٹھے اور انہوں نے کہا جی ان کے کپڑے چینج کروائے جائیں۔ پولیس آئی اور ایک ڈرامہ برپا ہوا۔ پولیس کا اس معاملے کا اچھی طرح سنبھالنا قابل تعریف عمل ہے۔ اور کچھ لوگوں کے مطابق یہ پولیس کی حیثیت کو بہتر کرنے کے

Read more

جب حسن و جمال بنا عذاب

کسی نے کیا خوب کہا ہے اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے جس نے ڈالی، بری نظر ڈالی بچپن میں خواتین کو گدے میں یہ بولی گاتے بھی سنا گیا۔ گورا رنگ نہ کسے نوں رب دیوے، سارا پنڈ ویر پے گیا یہ صرف کہنے کی باتیں نہیں انسان کی عملی زندگی سے اس کا گہرا تعلق ہے۔ ہر انسان کی زندگی میں ایسے واقعات ضرور محفوظ ہوں گے کہ جب کسی کا حسن وبال جان بن گیا ہو۔

Read more

کمشنر پنڈی اور جنرل ضیا کا ریفرنڈم

منٹو نے اپنا افسانہ رسوائے ادب مگر بہترین افسانہ ”بو“ یوں شروع کیا ہے : ”برسات کے یہی دن تھے۔ کھڑکی کے باہر پیپل کے پتے اسی طرح نہا رہے تھے۔ ساگوان کے اس اسپرنگ دار پلنگ پر، جو اب کھڑکی کے پاس سے تھوڑا ادھر سرکا دیا گیا تھا، ایک گھاٹن لونڈیا، رندھیر کے ساتھ چمٹی ہوئی تھی۔” فروری کی سردیوں کے یہی دن ہیں۔ ان ہی دنوں نمی نمی دھوپ میں کمشنر راولپنڈی ریٹائرمنٹ سے یہی کوئی پندرہ

Read more

”پاپا“ ناجی صاحب

غلطی سے انہیں گفتگو کی روانی میں ”ناجی صاحب“ پکارتا تو خفا ہوجاتے۔ میز پر ہاتھ پٹختے ہوئے بلند آواز سے یاد دلاتے کہ ”میں تمہارا پاپا ہوں“ اور پاپا اب دنیا میں نہیں رہے۔ ان سے پہلی ملاقات آج بھی دل ودماغ پر نقش ہے۔ 1970ء کے ابتدائی ایام تھے۔ وہ ہفت روزہ ”شہاب“ کے مدیر تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہورکے دو دوستوں کے ساتھ میں اس ہفت روزے کے دفتر ان سے ملاقات کے لئے گیا تھا۔ ہم وہاں

Read more

محمود الحسن کی کتاب: ”شمس الرحمن فاروقی۔ جس کی تھی بات بات میں اک بات“

کسی عبقری پر لکھنے کے مختلف طریقے ہوسکتے ہیں۔ اردو میں سب سے مقبول طریقہ خاکہ نگاری اور سوانح نگاری کا رہا ہے۔ خاکہ نگاری میں نہ چاہتے ہوئے بھی لکھنے والے کی اپنی شخصیت کا پرتو در آتا ہے جب کہ سوانح نگاری اکثر اسپاٹ اور پھیکے بیانیے میں تبدیل ہو کر رہ جاتی ہے۔ ان چیزوں سے بچنے کے لیے محمودالحسن نے جو طریقہ اختیار کیا وہ محنت اور دقت طلب ہونے کے باوجود شان دار محسوس ہوتا

Read more

عابد حسن منٹو کی سوانح: قصہ پون صدی کا

نامور ترقی پسند ادیب، دانشور، ماہر قانون، انسانی حقوق کے علم بردار اور مارکسی راہنما عابد حسن منٹو کی خود نوشت سوانح ”قصہ پون صدی کا“ شائع ہوئی تو بک کارنر جہلم کے روح رواں امر شاہد جی کی کاوش سے ہمیں برطانیہ پہنچ گئی۔ تین سو تینتالیس ( 343 ) صفات اور 8 حصوں میں تقسیم منٹو جی کی اس کتاب کو موضوعات کی مناسبت سے 57 ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں ان کا خاندان، وکلا

Read more

یہ ملک ہے یا ٹوبہ ٹیک سنگھ؟

سہہ پہر کے بعد میں یہ خبر سُن کے لرز گیا کہ حساس ترین پنڈی ڈویژن کا چارج ’ایک سائیکو پیتھ‘ کے ہاتھ میں تھا جس کا رابطہ ’لینڈ مافیا‘ سے ہے اور وہ خود بھی ’کرپٹ‘ ہے۔ برطرفی یا ریٹائرمنٹ یا ریاستی بیانیے کو چیلنج کرنے کے بعد ہی یہاں کیوں پتہ چلتا ہے کہ فلاں تو بدکردار تھا، بے ایمان تھا، نااہل، نشئی، نفسیاتی مریض اور غدار تھا۔

Read more

مذہبی اقلیتوں کے لیے مخلوط انتخابات کا تاریخی پس منظر

جس موضوع پر بات کرنا مقصود ہے وہ ہمارے ملک میں مذہبی اقلیتوں کے طریقہ انتخاب اور دوہرے ووٹ کی بات ہے کیونکہ الیکشن کا دور دورہ ہے اور شنید ہے کہ آٹھ فروری 2024 کو عام انتخابات ہو ہی جائیں گے اس سلسلے میں مذہبی اقلیتوں کے افراد کچھ تو مایوس ہوتے ہیں کچھ ان کے نام نہاد رہنما خم ٹھونک کر میدان میں آ جاتے ہیں اور سادہ لوح لوگوں کو مزید گمراہ کرتے ہے اگر ان نام

Read more

وحید نور ایک وجدانی شاعر

رب کائنات نے انسانوں کو جہاں دیگر حسیات سے نوازا ہے، ان میں ایک جمالیات کی حس بھی ہے، رب کائنات کی ذات جمیل ہے اور وہ جمال کو پسند کرتے ہیں، انسان خلیفۃ الارض ہے تو وہ بھی زمین کے ہر شے میں جمال تلاش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب اسے قوت گویائی ملی تو روزمرہ کی ضرورت کی بات چیت کے بعد اس نے شاعری کی جانب توجہ دی، شاعری جو سراپا جمال ہے انسان کی

Read more

علم اور ادب کی دستاویز: ولیم پرویز

علمی اور ادبی رشتوں کا آغاز بڑا منفرد ہوتا ہے اور یہ رشتے خلوص، محبت، احساس اور وقت سے پروان چڑھتے ہیں۔ گزشتہ سال معروف صحافی انجم ہیرالڈ گل کی زندگی پر آرٹیکل لکھنے کے لیے تحقیق کر رہا تھا کہ اچانک ایک نام سامنے آیا جن کی فیس بک پروفائل دیکھی اور ان کے انٹرویو کا ایک کلپ دیکھا، جسے سن کر اور ان کے ادبی سفر کی کہانی جان کر یوں محسوس ہوا جیسے یہ تو میری کہانی

Read more

رنگ باز اور اس کی رنگ بازیاں

میں معذرت کے ساتھ عرض کرتا ہوں اور اس کے سوا چارہ بھی کیا ہے۔ لوگ سنتے ہیں ورنہ آج کل کے دور میں کون کسی کی سنتا ہے اور اگر کوئی سن بھی لے تو پھر کھری کھری سنا کر جانا اپنا فرض عین سمجھتا ہے۔ طول دینا چھوڑے دیتا ہوں اور اصل نکتہ کی طرف آتا ہوں۔ جناب من یہ غزالی آنکھیں، پنکھڑی جیسے ہونٹ، مخروطی انگلیاں، ستواں ناک، صراحی دار گردن یہ خوبصورتی و بدصورتی، چھوٹی و

Read more

موٹر سائیکل اور سماج

تجھے تو پتہ ہے مجھے ذاتی طور پر موٹر سائیکل بہت پسند ہے، اس میں مجھے سردی اور گرمی دونوں موسم کا بھرپور احساس ہوتا ہے، ہنسی آتی ہے جب لوگ بند گاڑی سے اتر کر انتہائی بے شرمی سے کہتے ہیں ”بہت سردی ہے یار“ ایمی سردی تو بہت ہے آج لیکن قسم لے لے میں گاڑی سے نہیں فلیٹ سے اتر کر آ رہا ہوں۔ ویسے لوگ تو گاڑی کا دروازہ کھول کر پان یا گٹکہ بھی پیکتے

Read more

کلاسیکی گائیک استاد بدر الزماں

پیرس، فرانس میں رہنے والے میرے دوست خاور خان نیازی استاد بدر الزماں صاحب (صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی) کے بہت بڑے مداح ہیں۔ گزشتہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں ان سے بات چیت ہوئی تو موصوف نے استاد صاحب سے ملنے اور انٹرویو کرنے کا کہا۔ میری استاد صاحب سے کبھی ملاقات تو نہیں تھی لیکن میں ان کے نام اور ان کے کام سے بہت حد تک واقف تھا۔ زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

Read more

نینا عادل کی کتاب: مقدس گناہ

مصنفہ: صاحبہ تبصرہ: عرفان علی جناح (ڈنور) آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں! رنگ تھے چار۔ رنگوں سے بھرا ہوا یہ ناول میرا ایک طلسمی تجربہ ٹھہرا۔ یا پھر مصنفہ کی محنت اتنی باریکیوں تک کو بیان کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہاں آپ کو رنگوں کی دنیا ملے گی۔ شبدوں میں جو رنگ ہوتے ہیں وہ ہر ورق کر نظر آئیں۔ مجھے تحریر، الفاظ اور خیالات کی بہتی ہوئی روانیوں نے بے حد لطف پہنچایا۔ میں نے

Read more

علی سردار جعفری، ایک سرخ انقلابی نقاد

تفرقہ پڑتا ہے جب دنیا میں نسل و رنگ کا لے کے آتی ہوں پرچم انقلاب و جنگ کا (علی سردار جعفری کی نظم ”آزادی“ ) علی سردار جعفری ( 2000۔ 1913 ) ایک ایسا نام ہے جس کا ذکر کیے بغیر ترقی پسند تحریک کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔ ترقی پسند تحریک کا ذکر ہو اور علی سردار جعفری کی کتاب ”ترقی پسند ادب“ کو موضوع بحث نہ بنایا جائے تو بات تشنہ تکمیل رہتی ہے۔ وہ ترقی پسند

Read more

اقبال خورشید کا فن انٹرویو اور فکشن سے مکالمہ

”وہ بوڑھا ہو گیا تھا۔ چند دانت گر گئے۔ بہت سے بال سفید ہو گئے۔ مجھے وہ توقع سے زیادہ پراسرار اور تروتازہ محسوس ہوا۔ تو میں نے اسے دیکھا (گو میں اسے پہلے بھی دیکھ چکا تھا) ، اور اسے سنا، (گو پہلے بھی سن چکا تھا) ، اور اس آواز کو اتنا ہی جوان پایا، جتنی وہ پہلے تھی۔“ یہ کتاب محض مکالموں کا بیان نہیں، سپاٹ سوال و جواب کی تکرار نہیں، انٹرویو جب ہونے والی گفتگو

Read more

پیش گفتار

محمود الحسن سے میل جول کو اب دس برس تو ضرور ہو گئے ہوں گے۔ جوں جوں وہ قریب آ رہا ہے اور دل آویز ہوتا جا رہا ہے۔ اقبال کا مصرع: نوجوان و مثل پیراں پختہ کار اس کی شخصیت کی ایک اچھی تصویر بناتا ہے۔ اس کی دل بستگی بھی جوانوں سے زیادہ بوڑھوں کے ساتھ ہے۔ میں نے کئی بار اس سے کہا ہے کہ محمود! تمھاری دوستی ساٹھ برس سے کم کے آدمی سے نہیں ہو

Read more

تارڑ کے خس و خاشاک زمانے اور سفیر اعوان

دیکھا گیا ہے کہ وہ لکھنے والے جو عوامی سطح پر مقبول ہو جاتے ہیں ان کے فن کی بارے میں سنجیدہ تنقیدی مکالمہ رک سا جاتا ہے۔ جو تسلیم کیا جا چکا اس پر تنقید کی کیا ضرورت ؛ بات ”بلے بلے“ سے آگے نہیں بڑھتی۔ ہم نے ایسا منٹو کے ساتھ ہوتے دیکھا تھا اور اب مستنصر حسین تارڑ کے باب میں دیکھ رہے ہیں۔ منٹو مقبول تھا اور یہی کافی سمجھا جاتا رہا۔ فن سے زیادہ شخصی

Read more

  زندگی کا پہلا جبر

نشست کی پشت پہ سر ٹکا کر میں نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں تو سامنے پھر مہر بانو کھڑی مجھے اضطرابی نظروں سے گھور رہی تھی جیسے کچھ کہنا چاہتی ہو اور کہہ نہ پا رہی ہو۔ ذہن کے کباڑ خانے میں دھول مٹی سے اٹی پرانی فائلوں میں سے مطلوبہ فائل کی تلاش آسان کام نہیں۔ بہت سی گمشدہ فائلیں یک لخت مل جائیں تو انہیں پروسیس کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ میں نے جھنجھلا کر

Read more

نئے سال کا استقبال

آغا حسن عابدی ایک ذہین اور دور اندیش بینکر تھے۔ 1972 ء میں انہوں نے بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس انٹرنیشنل یعنی بی سی سی آئی کی بنیاد رکھی۔ اس بینک کی رجسٹریشن لگسمبرک میں ہوئی اور اس کا ہیڈ آفس برطانوی دارالحکومت لندن کے علاوہ کراچی میں بھی قائم کیا گیا۔ اپنے قیام کے دس برس میں ہی بی سی سی آئی نے دنیا کے 78 ممالک میں اپنی برانچز بنا لیں اور اس کے اثاثے 20 بلین ڈالرز

Read more

طارق بلوچ صحرائی کی کتاب ”کتبے سے تراشی زندگی“ تعارفی مطالعہ

معاصر کہانی کاروں میں ایک اہم نام طارق بلوچ صحرائی کا ہے۔ صحرائی سے میری پہلی شناسائی ماریہ عروج کے سٹیٹس دیکھنے سے ہوئی جب وہ طارق بلوچ صحرائی کی مختلف کہانیوں سے چھوٹے چھوٹے اقتباسات کو اپنے واٹس ایپ کی زینت بناتی تھی۔ ماریہ گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی، فیصل آباد میں کیمسٹری کی سٹوڈنٹ تھی۔ سائنس کے مضامین اپنی جگہ لیکن لٹریچر سے بہت لگاوٴ رکھتی تھی۔ محترمہ کے سٹیٹس پر صحرائی کی تحریریں دیکھ دیکھ کے میری پیاس

Read more

کتاب لفظوں میں تصویریں: ایک جائزہ

بحیثیت افسان نگار ممتاز حسین کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ جھنگ میں پیدا ہوئے، اپنی راہیں خود بنانے کی تگ و دو میں نیویارک میں مستقل قیام کیا۔ بحیثیت مصور، ڈرامہ نگار، شاعر، افسانہ نگار، اور فلمساز نام کمایا مگر جھنگ کی خوشبو اور مٹی کو اپنے ساتھ رکھا۔ سولہ افسانوں کے اس مجموعے میں قاری کا واسطہ مختلف کردار، تجربات، انسانی احساسات، معاشرتی تصادم سے پڑتا ہے۔ ہر افسانہ زندگی کے حقائق اور معاشرے کے مختلف پہلوؤں

Read more

نئی نسل کو سچ بتانا ضروری ہے

خوش آئند بات ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے اخبارات میں سقوط ڈھاکہ کی وجوہات کے بارے میں ریاستی بیانیے سے ہٹ کر بھی مضامین شائع ہو رہے ہیں۔ لیکن یہ کافی نہیں، نئی نسل کو آگاہی دینے کے لیے ضروری ہے کہ نصاب میں بتایا جائے انتھک محنت اور بے مثال قربانیوں سے حاصل کیا گیا وطن اپنے قیام کے کچھ ہی عرصہ بعد کیوں دولخت ہوا تھا۔ اس بحث کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اس سانحے کو

Read more

استاد منگو اور گورے کا قضیہ

تحریک تنویر (Enlightenment) کی کوکھ سے جنم لینے والے انقلاب نے انسانی زندگی کی صورت بدل دی بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ایک نئی صورت تراشی، نئے اصول منضبط کیے، بوسیدہ مشقیں ترک کیں، فرسودہ روایات کے داغ دار پیرہن اتار کر، اجلی پوشاک اوڑھی گئی۔ روشن خیالی کی تحریک کے اثرات کی فہرست طویل ہے۔ المختصر، سماج اور ریاست کے تعلق کی نوعیت کو، فرد کی اہمیت تسلیم کرتے ہوئے ترتیب دیا گیا۔ سماج کے مقام کو

Read more

مشتاق احمد یوسفی کا لندن

آغا حسن عابدی ایک ذہین اور دور اندیش بینکر تھے۔ 1972 ء میں انہوں نے بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس انٹرنیشنل یعنی بی سی سی آئی کی بنیاد رکھی۔ اس بینک کی رجسٹریشن لگسمبرک میں ہوئی اور اس کا ہیڈ آفس برطانوی دارالحکومت لندن کے علاوہ کراچی میں بھی قائم کیا گیا۔ اپنے قیام کے دس برس میں ہی بی سی سی آئی نے دنیا کے 78 ممالک میں اپنی برانچز بنا لیں اور اس کے اثاثے 20 بلین ڈالرز

Read more