شوبز ڈائری: سنجے کپور شاہ جہاں کی روح سے ملنے اور راکول پریت سنگھ پاکستان دیکھنے کی خواہشمند

بالی ووڈ اداکارہ راکول پریت سنگھ پاکستان جانے کی خواہشمند، راکھی ساونت کی بالکنی کیسے ٹوٹی اور سنجے کپور شاہ جہاں کی روح سے کیوں ملنا چاہتے ہیں، یہ سب پڑھیے اس ہفتے کی شوبز ڈائری میں۔

Read more

عید کا چاند اور متوازی کمیٹیاں

چاند تو دنیا کے ہر ملک میں نکلا۔ اسلامی ممالک میں بھی عید منائی گئی۔ ان ملکوں میں بھی جہاں مسلمان آباد ہیں ۔لیکن ہمارا چاند بھی نرالا، ہماری عید بھی نرالی۔ چاند دیکھنے کے لئے نئی کمیٹی بیٹھ تو گئی لیکن پورے پاکستان میں شاید ہی کسی کو یقین ہو کہ بدھ کے دن چاند نظر آجائے گا۔ ایک وجہ تو یہ تھی کہ سعودی عرب سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں پورے تیس روزے رکھے گئے۔ افغانستان، عام

Read more

”انکل سرگم کی مہکتی“ کلیاں

ہم خوش قسمت تھے کہ ہمارے بچپن میں طنز و مزاح کا مطلب کسی کا پھسل جانا، کسی کو گرا دینا، پھکڑ پن، زو معنی جملے، تھپڑ اور پرانک نہیں تھا بلکہ ہنستے لفظ، پیاری باتیں، مسکراتے جملے اور پروقار لہجے ہوا کرتا تھا۔ کلیاں ”اداس ہیں۔ طنز و مزاح کا ایک باب اور ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ فاروق قیصر صاحب المعروف ہمارے انکل سرگم کو جنت الفردوس میں مسکراتا رکھیں جیسے انہوں نے ہمارے بچپن میں بہت ساری مسکراہٹیں

Read more

بستی بے داد گراں

وہ موت سے نہیں ڈرتا لیکن خوف زدہ ہے۔ وہ اس کارواں میں شامل ہے جو ایک پتھریلی زمین کو ہموار کر کے اس میں خوبصورت بستی بسانا چاہتا تھا۔ ان پتھروں سے پہلے ایک گھنا جنگل ہے جس میں خونخوار درندے ہیں۔ کچھ نظر آتے ہیں کچھ پوشیدہ ہیں۔ ان کی آوازیں رات کی تاریکی اور کمرے کی چپ چاپ میں خوف زدہ کر دیتی ہیں۔ وہ موت کے علاوہ کسی سے بھی نہیں ڈرتا۔ وہ جانتا ہے کہ

Read more

انکل سرگم سے میری اتفاقیہ ملاقات!

انکل سرگم بھی اس دنیا سے چلے گئے۔ انگریزی زبان کا ایک محاورہ ہے کہ اپنے ہیروز سے کبھی نہ ملیں ورنہ وہ آپ کی توقع کے مطابق نہیں ہوں گے اور آپ کو مایوسی ہوگی۔ لیکن انکل سرگم فاروق قیصر سے ملاقات ہوئی تو وہ ہماری توقع سے بھی بڑھ کر شفیق، ملنسار، شاندار اور اچھے اخلاق والے نظر آئے۔ ان کے جانے سے دل و دماغ پر ایک عجیب کیفیت طاری ہے۔ وہ ”اوئے باتمیز، چھوٹا کراکری رولا“

Read more

دنیا کے انکل سرگم اور میرے انکل فاروق

فن کی دنیا کا عظیم فنکار فاروق قیصر المعروف انکل سرگم انتقال کر گئے، فاروق قیصر نیشنل کالج آف آرٹس کے گریجوایٹ تھے، جن لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پیدائشی فنکار ہے، فاروق قیصر ان میں شامل تھے، آرٹ سے بہت محبت تھی، 1976 میں پاکستان ٹیلی ویژن سے ”کلیاں“ کے نام سے بچوں کا پروگرام شروع کیا جو بعد میں بڑوں کا بھی پروگرام بن گیا، فاروق قیصر نے انکل سرگم کا پپٹ بنایا اور

Read more

ہمارے انکل سرگرم ہم سے روٹھ گئے!

ستر، 80 ء اور 90 ء کی دہائیوں میں پاکستان میں پیدا ہونے والے بچوں کی تربیت میں جہاں ان کے والدین اور اساتذہ کا اہم کردار رہا، وہیں اس دور کے ذرائع ابلاغ کے کچھ پروگراموں کا بھی بہت بڑا عمل دخل رہا۔ جن کی جانب سے سکھائی ہوئی مثبت باتوں کے نقوش، تاعمر ان کی شخصیت پر قائم و دائم رہیں گے۔ یوں تو عالمی سطح پر ”جنریشن۔ ایکس“ کو اب تک کی خوش قسمت ترین نسل کہا جا رہا ہے، جس نے تغیرات اور ٹیکنالوجیکل ارتقا کا جو انقلاب دیکھا ہے، وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آیا، مگر ہمارے وطن میں پنپنے والی وہی ”جنریشن۔

Read more

گمراہی سے گولی تک

سب سے پہلے تو لیاقت بلوچ صاحب کو ان کے بیٹے کی ٹورنٹو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی پر مبارکباد، اس میں نہ کوئی طنز ہے اور نہ کوئی طعنہ، خود باپ ہوں اس لئے ایک باپ کو اپنی اولاد کی کامیابی پر جو خوشی ہوتی ہے اس کا مجھے احساس ہے، لیکن بلوچ صاحب کے اس ٹویٹ سے اپنے خاندان کی گمراہی کے دن اور کچھ دبے ہوئے غم یاد آ گئے سوچا آپ کے سامنے آج کچھ اور اعترافات کروں، ہو سکتا ہے میرے اعتراف سے مزید لوگوں کی سمجھ میں یہ بات آ جائے کہ مذہب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر کے کس طرح سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنایا جاتا ہے

Read more

جب آپ کے بھائی کو کوئی آپ کی آنکھوں کے سامنے قتل کر دے

تعارف : عزیز الحق ایک ایسے دانشور تھے جو لاہور کے پاک ٹی ہاؤس کی ادبی اور سیاسی محفلوں میں بڑے ذوق و شوق سے شامل ہوتے تھے اور ادب ’فلسفے اور سیاست کے متنازعہ موضوعات پر گرما گرم بحثوں میں شرکت کرتے تھے۔ وہ بیک وقت کارل مارکس کے بھی مداح تھے اور ژاں پال سارتر کے بھی۔ وہ اپنے آپ کو EXISTENTIALIST MARXIST کہلانا پسند کرتے تھے۔

اور پھر مئی 1972 میں ان کی ناگہانی موت نے ان محفلوں کو سونا کر دیا۔ چونکہ ان کی موت قتل کی وجہ سے ہوئی اور قاتل نے عزیز الحق کو قتل کرنے کے بعد اپنے آپ کو بھی قتل کر دیا اس لیے وہ موت اور بھی پر اسرار ہو گئی۔ میں نے عزیز الحق کی زندگی کے حالات اور ان کے مقالات پڑھے تو مجھے ان کی پراسرار موت کے بارے میں تجسس ہوا۔

Read more

’آدھے گنجم، آدھے بالم‘

ہم میں سے جو لوگ اسی کی دہائی میں پلے بڑھے انہوں نے پی ٹی وی کی صورت میں ایک عجیب و غریب دور دیکھا۔ ایک چینل تھا، ایک حکمران تھا اور ایک ہی قسم کی خبریں ہوا کرتی تھیں۔ میرا بچپن اور لڑکپن جنرل ضیا کی صورت دیکھتے ہوئے گزرا، اس وقت یوں لگتا تھا جیسے یہ صورتحال آنے والی صدیوں تک ایسی ہی رہے گی۔ تاہم پی ٹی وی کے تفریحی پروگراموں کا معاملہ مختلف تھا۔ پی ٹی وی کو خبروں کا طعنہ تو دیا جا سکتا ہے مگر تفریحی پروگراموں میں اس کے نمبر پورے تھے۔

Read more

اختلاف ،انسان اور تضاد

ایک بار انسان نام ور، با اثر اور شہرت یافتہ لوگوں میں شمار ہو جائے پھر اس کے کسی بھی قول سے اختلاف کرنا گناہ عظیم اور جرم سنگین مانا جاتا ہے۔ اگر اختلاف کرنے والا مشہور و معروف نہیں پھر اس کے دلائل کو ہی مسترد نہیں کیا جاتا بلکہ اسے طنز و تمسخر کا نشانہ بنا کر بدنامی کے اس مقام تک لایا جاتا ہے جہاں اس کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں رہتا کہ وہ عزت

Read more

ہمارے پیارے لافانی انکل سرگم

پروگرام کا نام ہے کلیاں اور 80 ء کی دہائی ہے۔ انکل سرگم، ماسی مصیبتے، رولا، ڈڈو اور دیگر فنکار سیٹ پر موجود ہیں اور ہلکی پھلکی طنز و مزاح جاری ہے۔ 1985 ء کے غیر جماعتی الیکشن کے بعد نتائج کے اعلان کرنے کا سیٹ لگا ہوا ہے اور انکل سرگم کا امیدوار ہار گیا ہے جس پر وہ جذباتی ہیں اور رولے کو ڈانٹ ڈپٹ کر ہے ہیں۔ اس میں لوگوں کے خطوط پڑھنے کا سیگمنٹ ہے اور

Read more

عید، عید کارڈز اور اشعار

گو ہم نے بزرگوں کی باتوں کا کبھی اعتبار نہیں کیا لیکن وہ درست کہتے تھے۔ وقت کتنی جلدی بدل رہا ہے۔ اس کا اب احساس ہوا ہے۔ وہ بھی یوں کہ محض ایک دہائی قبل عید کارڈ کی جو رسم عید کے چاند جتنی ہی ضروری سمجھی جاتی تھی، عنقا ہو گئی ہے۔ بہرحال، عید آ گئی ہے اور میاں محمد بخش صاحب کی یاد بھی : لے او یار! حوالے رب دے، میلے چار دناں دے اس دن

Read more

انکل سرگم جیسے آرٹسٹ مرتے نہیں، روٹھ جاتے ہیں

لاک ڈاؤن اور عیدالفطر کے انفراغ میں آج کل ہم اپنے گھر کے چھوٹے سے کتب خانے کی کیٹلاگ سازی کر کے کتابوں کو کسی ضابطے میں لانے کی سعی کر رہے ہیں۔ آج شام کو اس عمل کے دوران کتابوں کی موضوعاتی درجہ بندی کرتے ہوئے اچانک ایک کتاب نے ہمیں اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ وہ کتاب میرے، آپ کے، ہم سب کے ”انکل سرگم“ یعنی سید فاروق قیصر کے طنزیہ قطعات، پیروڈیز، گیتوں، غزلوں، نظموں پر مشتمل ان کا مجموعہ کلام ”میرے پیارے اللہ میاں“ تھا۔

Read more

خالد حمید کی یادیں: کیسی یہ عید آئی!

پاکستان کی حکومت کے اعلان کے مطابق اس بار عید پر آٹھ دن تک لاک ڈاؤن ہے۔ حکومت نے ہدایت کی تھی کہ لوگ گھروں میں رہیں اور احتیاط برتیں۔ ایک مشیر نے تو صاف کہہ دیا تھا کہ اس عید پر کوئی تقریبات، پارٹیاں، میل ملاپ، معانقہ یا مصافحہ نہیں ہوگا۔

بھارت میں تو صورتِ حال اور بھی گھمبیر ہے۔ وہاں عید کیسے ہوئی ہوگی؟ رہی بات یہاں امریکہ کی، تو یہاں نمازیں تو ہوئیں لیکن دور دور کھڑے ہو کر۔ ماسک لگا کر اور کوئی قریب نہیں آئے گا۔ کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا۔ بس دور سے مسکرائے گا۔

Read more

اپنے کرداروں کے ذریعے بولنے والے فاروق قیصر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے

کراچی — نامور مزاح نگار، اداکار، کارٹونسٹ اور شاعر فاروق قیصر کے انتقال نے جہاں ان کے لاکھوں مداحوں کو سوگ میں مبتلا کر دیا وہیں پاکستان میں پتلی تماشہ کا ایک باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔

پچھتر سالہ فاروق قیصر کا رواں ہفتے جمعے کی شب اسلام آباد میں حرکتِ قلب بند ہونے سے انتقال ہوا۔

فاروق قیصر کی وجہٴ شہرت اسکرپٹ رائٹنگ اور اداکاری کے ساتھ ساتھ ان کی صوتی فنکاری تھی جس میں وہ پسِ پردہ رہ کر اپنے کرداروں سے وہ کچھ کہلواتے تھے جو خود نہیں کہہ سکتے تھے۔

Read more

شیخ محمد عالم عرف ’ڈاکٹر لوٹا‘: پاک و ہند کے پہلے سیاستدان جنھیں وفاداریاں بدلنے پر لوٹا کہا گیا

ڈاکٹر عالم لوٹا کون تھے؟ اُنھیں لوٹا کا خطاب کب، کس نے اور ان کی کن اداؤں کی وجہ سے دیا، یہ پوری روداد نہایت دلچسپ ہے، یہاں تک کہ بانی پاکستان تک اُن پر طنز کر چکے ہیں۔

Read more

انکل سرگم: معروف ٹی وی کردار کے خالق فاروق قیصر چل بسے

فاروق قیصر نے اپنے پرستاروں سے منھ کیا موڑا، ہر کسی کے ذہن میں اپنے بچپن کا وہ وقت گھوم گیا جب پڑھائی اور کھیل کود سے فارغ ہونے کے بعد گھر والوں کے ساتھ مزے سے اُن کے شو سے لطف اندوز ہوا جاتا تھا۔

Read more

کچھ بات ابراہیم جلیس کی

ابراہیم جلیس نام تھا ۔ حیدر آباد دکن کی مٹی تھی اگرچہ انہیں خود خبر نہیں تھی کہ ان کی مٹی کہاں کی تھی ۔ قلم براق اور طبیعت پارہ صفت۔ لکھنے کی چٹیک نے علی گڑھ یونیورسٹی ہی میں آن لیا تھا جہاں سے 1940 میں بی اے کیا ۔کچھ دن سرکاری ملازمت کا بھاڑ جھونکا ۔ یک بینی و دو گوش نکال باہر کئے گئے۔ ابھی بیس برس کے نہیں ہوئے تھے کہ ہندوستان کے بہترین ادبی ماہنامے

Read more

کورونا کو وبا نہ ماننے والوں کے لیے انتباہ

جب شروع شروع میں کورونا کی تشخیص ہونے لگی تو ہم سب بخار ہونے کو کورونا ماننے لگے پھر ہر جگہ بخار چیک کرنے کے آلات استعمال ہونے لگے۔ بینکس جائیں یا کسی بھی دفتر تو وہاں پر آپ کا بخار چیک کیا جاتا اور بخار نہ ہونے کی صورت میں آپ کو اندر جانے کی اجازت ہوتی اور آپ کو سروس فراہم کی جاتی پر اصل میں ایسا نہیں تھا۔ آپ صرف بخار ہونے کو کورونا وائرس نہیں کہہ سکتے پھر جنوری میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھی یہی انڈیکیٹ کیا کہ آپ صرف بخار چیک کرنے سے کورونا وائرس نہیں کہہ سکتے اور ایک آلہ جسے میڈیکل کی زبان میں پلس آکسیمیٹر کہا جاتا ہے اسے لازمی استعمال کرنے کے بارے میں کہا گیا۔

Read more

امریکہ میں اکیلی ماں اور پاکستان میں بن باپ کی بیٹی

میں چوبیس سال کی تھی اور وہ چالیس عمر کے اس فرق کو میرے گھر والوں نے اس لیے نظر انداز کر دیا کہ وہ اعلی تعلیم یافتہ اور بیرون ملک برسرروزگار تھے کراچی کی ایک معروف انجینئرنگ یونیورسٹی سے ڈگری لینے کے بعد امریکہ سے ایم ایس کیا ہوا تھا۔ میرے پاس ڈاکٹر آف فارمیسی کی ڈگری تھی اور ایک اچھی فارماسوٹیکل کمپنی میں جاب کر رہی تھی۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہم امریکا شفٹ ہو گئے۔ میرے شوہر کی اچھی تنخواہ تھی مگر انھوں نے مجھے مجبور کیا کہ میں بھی جاب کروں۔

میں شرعی پردہ کرتی تھی مجھے بالآخر ایک میڈیکل اسٹور پر نوکری مل گئی جس کا مالک ایک مسلم تھا اور انھیں میرے پردے پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ اپنی آدھی سے زیادہ تنخواہ میرے شوہر پاکستان بھیج دیتے اور گھر کے اخراجات کے لے میری تنخواہ خود رکھ لیتے کہتے یہاں پر مرد عورت سب برابر ہیں گھر کا کرایہ گروسری سب میں تم شیئر کرو گی۔

Read more

دانشِ فرنگ اور ہمارا ستر سالہ سنیاسی ماہر مغرب

کسی نے سوشل میڈیا پر لکھا ”ہمارے پاس شاعر مشرق تھا۔ اب ہمارے پاس ماہر مغرب بھی آ گیا“ ۔ اس شوشے کی وجہ بنا ہمارے وزیراعظم صاحب کا وہ بیان کہ جس میں انہوں نے فرمایا کہ مغرب کو ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ اور وہ 20 سال مغرب میں رہے ہیں اور انہیں بہت زیادہ جانتے ہیں۔ وزیراعظم کے یہ الفاظ ایک ایسے وقت میں سامنے آئے جب پاکستان میں مذہبی ہنگامہ سازوں نے فرانسیسی سفیر کو

Read more

آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر نظرثانی

لگی لپٹی کے بغیر وزیر خزانہ شوکت ترین صاحب نے ان کی وزارت پر نگاہ رکھنے والی قومی اسمبلی کی کمیٹی کو بتادیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے جو معاہدہ کیا ہے پاکستان اس پر کاربند رہا تو اقتصادی ترقی کا حصول ناممکن ہوجائے گا۔ اس معاہدے پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ ترین صاحب کی رائے سے اختلاف ممکن نہیں۔ معاشیات کی مبادیات سے نابلد ہوتے ہوئے بھی اس کالم میں 2019سے دہائی

Read more

آئیں عاشق تلاش کریں

ایمان و جان کی امان پاؤں تو عرض یہ ہے کہ پہلے تو تحریر کے عنوان کو طنز نہیں بلکہ چیلنج سمجھا جائے تو بات سمجھ میں آ سکے گی۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ غیر تو غیر ہیں۔ ہم تو اپنے ہیں ہمیں، جو یقین رکھنے، جانثار کرنے والے ہیں ان سے زیادہ عاشق نظر آنا چاہیے جنہیں ہم گستاخ کہتے ہیں۔ ظاہر سے لے کے باطن پہ محبت کا اثر نمایاں ہو۔ نظر آتا ہو لیکن کچھ نہ

Read more

بی جے پی کی بنگال میں شکست: بے جے پی کے ’چانکیہ‘ کی چالیں بھی کام نہ آئیں

مغربی بنگال میں بڑے انتخابی دھچکے کے بعد اس وقت وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے شاطر سیاستدان کہے جانے والے ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ مغربی بنگال میں اپنی شکست کا ماتم منا رہے ہوں گے یا پھر ریاست آسام میں اقتدار میں واپسی کی امید پر اطمینان کا سانس لے رہے ہوں گے۔

Read more

مولانا طارق جمیل سے اختلاف کس بات کا ہے؟

مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ جب میں سکول و کالج میں پڑھتا تھا تو جب بھی تبلیغی جماعت نزدیکی مسجد میں آتی تھی تو دو چیزیں خاص طور پر سننے کو ملتی تھیں. ایک : دنیا کی نہیں دین کی فکر کرو. ایک صحابی کا واقعہ سنایا جاتا تھا کہ انہوں نے دیوار کھڑی کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ دنیا کے ہر کام میں خسارہ ہے. فضائل اعمال ایسی ضعیف احادیث سے بھری پڑی ہے جس

Read more

اردو ترجمے کا مفہوم، ضرورت و اہمیت اور اغراض و مقاصد

زندگی جہاں بھی اپنا اظہار کرتی ہے ، اپنا نظام اور ماحول خود بنا لیتی ہے۔ اگر گردوپیش میں دیکھا جائے تو مختلف جاندار اور بے جان اشیاء اپنے وجود کا اظہار کرتی نظر آتی ہیں۔ جانداروں میں حیوان، درندے، انسان اور نباتات ہیں اور بے جان اشیاء میں پہاڑ، دریا، صحرا، جنگل، زمین اور پانی وغیرہ موجود ہیں۔ ماحول میں ہر وقت مختلف طرح کی آوازیں اپنا اظہار کر رہی ہیں۔ یہ آوازیں درحقیقت اشارات اور علامات ہیں۔ جب

Read more

زرد دوپہر کی تپش

اکثر ہم پاکستان ٹیلی وژن پر یہ الزام سنتے آئے ہیں کہ اس میں ہمیشہ راوی چین ہی چین لکھتا ہے چاہے خبریں ہوں ڈاکومنٹری ہو یا پھر کوئی ڈرامہ۔ غرض یہ کہ ہر طرف سب اچھا ہے کا ہی شور سنائی دیتا رہا ہے۔ لیکن حالیہ کچھ عرصے میں کورونا کی بدولت ملی فرصت نے کچھ ایسے ماضی کے ڈراموں کو دیکھنے کا موقع دیا کہ خاصی حیرانی ہوئی کہ کیا واقعی پاکستان ٹیلی وژن پر ایسا تخلیقی اور انقلابی متن میسر ہوا کرتا تھا؟ میں آج دو ایسے ماضی کے ڈراموں پر بات کرنا چاہوں گا جو گویا پچیس سے تیس برس پہلے کے ہیں مگر ان میں چھپا سیاسی طنز، آمریت کے اندھیروں اور نام نہاد جمہوری علمبرداروں کو بے نقاب کرنے کی بے باک جستجو آج بھی روح کو گرما دیا کرتی ہے۔

Read more

چمکیلا کاغذ

طوطا اگر کھمبے کے اونچے تاروں پر بیٹھنے کے بجائے کسی درخت پر ہی بیٹھ جاتا تو اس کی جان بچ جاتی! لیکن شاید وہ بہت بلندی پر ہوا خوری کرنا چاہتا تھا، یا ہو سکتا ہے کہ کسی نے اسے ڈرایا ہو اور وہ درختوں کی شاخوں پر بھی امان محسوس نہ کرتا ہو۔ پتہ نہیں وہ کہاں سے بھاگ کر آیا۔ موت اس کا پیچھا کرتی آئی اور وہ اونچے کھمبوں کے درمیان تنے ہوئے بجلی کے ننگے تاروں پر جا بیٹھا، بجلی کا ایک تار اس کے پنجے کی گرفت میں تھا اور اس کے پر دوسرے تار کے ساتھ چپکے ہوئے تھے۔

Read more

بارہ ہفتے کا بیٹا: جیتا تو آج گبھرو ہوتا

“کیا آپ کا حمل کبھی ساقط ہوا؟ کیا آپ اس تکلیف سے کبھی گزریں؟” سامنے بیٹھی مریضہ کا زارو قطار روتے ہوئے ہم سے یہ سوال تھا۔ “جی ہاں، دو مرتبہ” ہم نے دھیرے سے کہا۔ “کیا آپ کو رحم کی صفائی کے مرحلے سے گزرنا پڑا؟” اگلا سوال۔ “ہاں بالکل” “کیا آپ کو صدمہ پہنچا تھا؟” وہ بے قراری سے بولی، ہم چپ رہے۔ “ڈاکٹر آپ تو ڈاکٹر ہیں نا، آپ کو تو سب علم ہے نا” “ارے بھئی

Read more

سیکنڈ وائف ڈاٹ کام: مسلمانوں کے لیے دوسری بیوی تلاش کرنے سے متعلق ڈیٹنگ ویب سائٹ کو پاکستان میں تنقید کا سامنا

منفرد نام کی وجہ سے توجہ کا مرکز بننے والی ویب سائٹ اور اس کے تخلیق کرنے والے آزاد چائے والا کو اس ویب سائٹ کے جواز پر برطانیہ میں بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور حال ہی میں پاکستان کے سوشل میڈیا پر بھی وہ زیرِ بحث ہیں۔

Read more

صورت حرف

جو کہانیاں نانیاں اور دادیاں سناتی تھیں وہ کتابوں میں حرف کی صورت اتر آئیں، تو یہ امید کرنے میں میں حق بجانب ٹھہروں گی کہ ادب زندہ رہے گا۔ اور دعا کروں گی کہ ہماری پیاری زبان اردو کا ادب زندہ بھی رہے اور اس میں ایک معیار بھی باقی رہ جائے۔ میں کوشش کرتی ہوں کہ تازہ واردان ادب کی تخلیقات کو خصوصی توجہ سے پڑھوں۔ اس پس منظر میں زیرنظر مجموعے کے افسانوں کو پڑھا تو بڑی خوشگوار طمانیت کا احساس ہوا۔

ایک تو یہ کہ سبھی افسانہ نگار خواتین ہیں اور ان میں کوئی کہنہ مشق اور معمر نہیں ہے۔ یہ آج کی نوجوان نسل ہے۔ اس نسل کی اردو سے وابستگی ہی دل خوش کن ہے۔ اور بیشتر افسانے اس بات کے ضامن ہیں کہ ایک معیار نہ صرف برقرار رہے گا بلکہ آگے اور آگے بڑھتا جائے گا۔ اور ہاں یہ خواتین افسانہ نگار اس بات کی بھی ضامن ہیں کہ زبان و ادب ساری تکنیکی ترقی کے باوجود نئی نسل میں ضرور منتقل ہوں گے۔

Read more

رمضان میں ماہواری: پاکستانی خواتین کِن مشکل حالات کا سامنا کر رہی ہیں؟

پاکستانی معاشرے میں نا صرف خواتین کو پیریڈز کی وجہ سے ہتک اور طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ جسمانی اور جذباتی تبدیلی کے اِن مشکل دنوں میں بھی رمضان کے اہتمام میں شریک ہونا اُن کی مجبوری بن جاتی ہے اور روزہ نہ رکھنے پر ان سے طرح طرح کے سوال بھی کیے جاتے ہیں۔

Read more

تجزیے کا تجزیہ

تجزیہ لفظ جزو سے مشتق ہے۔ جزو ٹکڑے یا حصے کو کہا جاتا ہے۔ تجزیہ بنیادی طور پر سائنس سے منسوب ہے۔ کسی بھی کیمیائی مادے کے اجزاء کو علیحدہ کرنے کو تجزیہ یعنی Analysis کہا جاتا ہے۔ جب اس لفظ کو سماجی یا عمرانیاتی حوالے سے برتا جاتا ہے تو اسے بالعموم آراء شماری کہا جاتا ہے جس کی پھر تحلیل کی جاتی ہے یعنی Synthesis۔ اس سے مراد ٹکڑوں یا اجزاء کو نئی، مناسب یا ممکنہ ترتیب میں

Read more

وزیراعظم کا خطاب اور سپیکر کی گھبراہٹ

وزیر اعظم کا قوم سے خطاب معمولی واقعہ نہیں ہوتا۔ بحران کے دنوں میں ’’اچانک‘‘ ہو تو اس کا واحد مقصد بحران کا سبب ہوئے کسی موضوع کی بابت حتمی رائے کا اظہار ہوتا ہے۔اس تناظر میں گویا ریاست اور حکومت کی جانب سے بہت سوچ بچار کے بعد اپنائی پالیسی۔ پیر کی سہ پہر عمران خان صاحب نے قوم سے خطاب کیا۔ذاتی طورپر مجھے یہ خطاب قبل از وقت محسوس ہوا۔وجہ اسکی یہ تھی مذکورہ خطاب سے دو گھٹنے

Read more

دوست، سیاست اور جہانگیر ترین

حکایات سعدی کے چرچے تو پوری دنیا میں ہیں ، ایک دن کسی نے شیخ سعدی سے پوچھا، دوست اور بھائی میں کیا فرق ہے تو انہوں نے لب کشائی کی، بھائی سونا ہوتا ہے اور دوست ہیرا۔ پوچھنے والے کو سمجھ نہ آئی تو وضاحت پوچھی، سعدی شیرازی نے جواب دیا کہ سونا اگر ٹوٹ جائے تو اسے جوڑا جا سکتا ہے مگر ہیرے کو دوبارہ بنانا مشکل ہے۔

سیاست جاننے والے کہتے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا جبکہ سیاسیات کے استاد میکاولی کا یہ کہنا ہے کہ سیاست میں اخلاقیات نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔

Read more

جارج فلائیڈ قتل کیس میں وکلا کے دلائل مکمل،اب جیوری فیصلہ سنائے گی

امریکہ میں گزشتہ سال مئی میں ایک سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت میں نامزد پولیس افسر ڈیرک شاون کے خلاف اقدام قتل کے کیس میں آج پیر کے روز فریقین کے وکلا نے اختتامی دلائل مکمل کر لیے ہیں۔ اب اس اہم کیس کا فیصلہ جیوری پر منحصر ہے، جو انتہائی سیکیورٹی کے انتظامات کے درمیان دونوں جانب کی شہادتوں اور وکلا کے دلائل کی روشنی میں کیس کا فیصلہ سنائے گی۔

پیر کو جیوری کے اراکین کے سامنے اپنے اختتامی دلائل دیتے ہوئے جارج فلائیڈ کے وکیل اسٹیو شلائکر نے کہا کہ آفیسر ڈیرک شاؤن کو یہ معلوم ہونا چاہیے تھا کہ وہ جارج فلائیڈ کی گردن پر ٹانگ رکھ کر انہیں زندگی سے محروم کر رہے ہیں۔

Read more

چالان بر گردن راوی

اگر مزاح نگار طنز نگاری شروع کر دیں تو سمجھیں کہ کہ ملک سنسرشپ کا شکار ہے اور اگر وہ پھر سے مزاح نگار بن جائیں تو سمجھ جائیں کہ مارشل لاء لگ چکا ہے۔ اس فلسفے کی آمد تب ہوئی جب لوگوں نے پوچھا کہ نئے طریقے سے ایسا مزاح کیسے تخلیق کیا جاسکتا ہے؟ جو اپنا اپنا معلوم ہوتا ہو۔ دیکھی، سنی، سامنے کی بات لگتی ہو۔ یہ پوچھنے والے دراصل ہمارے حصے کے بے وقوف تھے۔ وہ

Read more

ممتاز مفتی کا "سمے کا بندھن”

بندھن بہت سے ہوتے ہیں ، ان میں سے ایک سمے کا بندھن بھی ہوتا ہے جو روح کو باندھ لیتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ایک طویل مرحلہ ہوتا ہے جس میں اندر کے سروں کو پکا کرنا پڑتا ہے، تال ملانی پڑتی ہے، آئینہ بننا پڑتا ہے، آئینہ دکھانا جتنا آ سان ہے ،  آئینہ بننا اور پھر بن کے رہنا اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ اخلاص نہ ہو تو بے دردی جنم لیتی ہے اور بے

Read more

ہائی برڈ نظام کا تسلسل اور نیا ”برڈ“

جناب جہانگیر ترین مالی اور سیاسی طور پر موجودہ حکومت کے معماروں میں شمار جبکہ سیاسی سوچ و کردار کے حوالے سے مکمل طور پر جاری ہائی برڈ سیاسی ٹیکنالوجی کی پیداوار ہیں حکومت کے اندر ان کے اثر و رسوخ میں کمی اور بالآخر خاتمہ پچھلے برس کا واقعہ ہے ، حکومت سے علیحدگی کے بعد وہ چند ماہ ملک میں موجود رہے ، اس اثناء میں وہ خاموشی سے مصالحت کی کوشش کرتے رہے ۔ جب حالات میں

Read more

ضیا شاہد اور یادیں

آج چھٹا دن ہے۔ میں روزانہ اپنے فون کو دیکھتی ہوں اور سوچتی ہوں کہ ابھی فون آئے گا اور وہ کہیں گے ”ہاں جی۔ دنیا کی سب سے بیمار اور سست ترین عورت۔ کیا خبریں ہیں“ اور میں ہنستے ہوئے انہیں اندر کی خبریں اس شرط پر بتاؤں گی کہ وہ مجھے کوٹ کر کے نہیں چھاپیں گے۔ لیکن میرا فون خاموش ہے۔

ضیا صاحب دنیا کے لئے پاکستان کی جدید صحافت کے بانی اور مایہ ناز نڈر صحافی تھے لیکن میرے لئے۔ صرف ایک صحافی یا میرے چیف ایڈیٹر نہیں تھے۔ وہ میرے دوست تھے، میرے استاد تھے، اور میرے باپ تھے۔ میرا ان سے تعلق اگست 2013 سے شروع ہوا۔ میں تب برطانیہ کے ہفنگٹن پوسٹ کے لئے انگریزی میں لکھتی تھی کہ مجھے خبریں کے کالم نگار مکرم خان نے کہا کہ میں ضیا صاحب کے اخبار کے لئے اردو میں لکھنا شروع کروں۔ مکرم بھائی ہی نے میری ضیا صاحب سے پہلی بار بات اگست دو ہزار تیرہ میں کروائی اور اس پہلی بات چیت کے بعد ہی ہم فیملی بن گئے۔

Read more

روزنامہ امت، عورت مارچ اور اسی کوڑوں کی سزا

یہ اس عاجز کی کم علمی ہے کہ میں اب تک روزنامہ امت کے وجود سے بے خبر تھا۔ لیکن اس روزنامے کے مدیران اور مضمون نگاروں کو داد دینی چاہیے کہ اب اس کو بھولنا بہت مشکل ہو گا۔ انہوں نے ایک تحریر کے بل بوتے پر ہی اتنی توجہ حاصل کر لی ہے جسے حاصل کرنے کے لئے کسی بھی شریف النفس انسان کو کافی لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے۔

اس روزنامہ کی 5 اپریل کی اشاعت میں اس کے ایک وقائع نگار خصوصی کی مہیا کردہ خبر شائع ہوئی۔ اس کی سرخی کا آغاز یہ تھا ”چودہ ملکوں میں سب سے زیادہ عورتوں سے زیادتی ہوتی ہے“ اور اس کے بعد اس تحریر کے بے لگام گھوڑے کا رخ ان خواتین کی طرف ہو گیا جنہوں نے عورت مارچ میں شرکت کی ہے۔

Read more

کرکٹر معین علی پر متنازع ٹویٹ کے بعد تسلیمہ نسرین نے ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی

ایک متنازع ٹویٹ میں تسلیمہ نسرین نے کہا تھا کہ معین علی کرکٹر نہ ہوتے تو دولتِ اسلامیہ میں ہوتے۔ چاروں طرف سے زبردست تنقید کے بعد تسلیمہ نسرین نے ٹویٹ تو ڈیلیٹ کر دی لیکن ساتھ ہی اپنی صفائی میں بھی بہت کچھ کہا۔

Read more

کورونا پھر آ گیا

زندگی جیسے کچھ محتاط سی گزرنے لگی ہے، ویسے بھی زیادہ تر کسی قاعدے اور قانون کے تحت چل بھی نہیں رہی تھی، ایک برس بیت گیا ، پوری دنیا نے چلن بدل لیا یا پھر عادتیں تبدیل کرنے کے جتن میں لگے ہیں۔ زندگیوں کا تعلق معاش ، صحت اور تعلیم سے بھی ہوتا ہے۔ ان سب کو مہلک وائرس نے بری طرح متاثر کیا ہے۔ بڑی طاقتوں سے لے کر غریب ملکوں کے بندوبست کرنے والے جان بچانے

Read more

پروین بابی: چھوٹے شہر سے آ کر بالی وڈ پر چھا جانے والی لڑکی کی کہانی

70 کی دہائی میں بالی ووڈ اداکارہ پروین بابی سنیما کے پردے پر وہ سب کچھ کررہی تھیں جو اپنی محبت جدیدیت اور خود انحصاری کے لیے عورتیں آج کرنا چاہتی ہیں۔

Read more

رن آؤٹ تنازع: ڈی کوک کی دھوکہ دہی یا فخر زمان کی اپنی غلطی؟ سوشل میڈیا پر تبصرے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بیٹسمین فخر زمان نے جنوبی افریقہ کے خلاف جوہانسبرگ کے دوسرے ون ڈے میں اپنے رن آؤٹ کو میزبان وکٹ کیپر کوئنٹن ڈی کوک کی دھوکہ دہی قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رن آؤٹ ان کی اپنی غلطی کا نتیجہ تھا۔

Read more

خدا کی بستی میں بستا سائیں امر جلیل

پولیس کے چاق و چوبند دستے گاڑیوں سے اتر رہے ہیں اور پھرتی سے یہاں وہاں پوزیشن سنبھال رہے ہیں۔ نیچے سڑک پر اوپر عمارتوں پر شکرا نظر بندوقچی سانس بند انداز میں کھڑے ہو گئے ہیں۔ خاتون نے گھر کی طرف بڑھتے بڑھتے ایک اچھلتے پھدکتے افسر سے سہمے ہوئے انداز میں پوچھا، خیر تو ہے کون سا قیامت آ گیا ہے؟ افسر بولا، وزیر اعظم آ رہا ہے۔ یہ سنتے ہی خاتون کی سانس بحال ہو گئی۔ طنزیہ سے انداز میں مسکرائی اور بولی، مڑا اچھل کود تو تم لوگوں نے ایسا لگا رکھا ہے، جیسے ڈپٹی کمشنر آ رہا ہے۔

Read more

بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات اور ایک والد کا احساس

کاشف خان قائل میرے گاؤں، علاقہ نظام پور ضلع نوشہرہ کے ابھرتے ہوئے شاعر ہیں۔ سوشل میڈیا پر خاصے مستعد ہیں۔ آئے دن کوئی نہ کوئی مزاح یا طنز بھری چار پانچ سطری پوسٹ کرتے رہتے ہیں اور ہر پوسٹ بے ساختگی، کاٹ اور سبق آموزی سے لبالب بھری ہوئی ہوتی ہے۔ آج کراچی ہائی کورٹ بار میں کیسز سے فارغ ہونے کے بعد جب حسب معمول موبائل کھولا تو ان کی ایک تازہ ترین پوسٹ پہلی فرصت میں میری

Read more

حسرت ان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے

استاد ذوق کا یہ شعر مختلف مواقع پر بروقت استعمال کی وجہ سے ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اگر آپ قبرستان جائیں تو کئی کتبوں پر یہ شعر کندہ نظر آئے گا۔ ویسے تو کتبے پڑھنا کوئی دلچسپ امر نہیں مگر پڑھتے رہنا چاہیے کہ غلام عباس کا ’کتبہ‘ کتنی ہی قبروں پر ایستادہ دعوت فکر دیتا ہے۔ اسی طرح طنز و مزاح نگاروں کے ہاں بھی یہ مصرعہ خاص پسندیدگی کا حامل رہا ہے۔ تاہم مقصد

Read more

 واویلا مچانے کی ضرورت نہیں

اپنی صحافتی عمر کے کئی برس 1980 کی دہائی سے میں نے خارجہ امور کے بارے میں رپورٹنگ کی نذر کئے ہیں۔ پاکستان کے بھارت کے ساتھ تعلقات اس حوالے سے اہم ترین رہے۔ پیشہ وارانہ فرائض نبھانے کے لئے بھارت کے بے تحاشہ سفر بھی کئے ہیں۔ دلی کے علاوہ وہاں کے کئی اور شہروں میں بھی خجل خوار ہوتا رہا۔ کئی برس کی تگ ودو کے بعد بالآخر دریافت یہ کیا کہ دُنیا بھر کی اشرافیہ کی طرح

Read more

بھٹو شہید : پاکستانی سیاست کا ایک لازوال کردار!

شہید ذوالفقار علی بھٹو فقط ایک نام نہیں پر ایک صدا، ایک پکار، ایک التجا ہے، ایک غم، ایک درد اور ایک آنسو ہے، جو آنکھوں کی پلکوں میں اٹک سا گیا ہے، جس کا جب بھی نام سامنے آتا ہے تو اندر میں بے بسی اور بے اعتمادی کا گہرا احساس ابھر آتا ہے، اور وہ بھاری سوال بھی ذہن میں امڈ آتا ہے کہ کیا کسی فرد کے ساتھ اتنا ظلم و جبر بھی ہو سکتا ہے؟ اور

Read more

حفیظ شیخ کی فراغت …مگر

تاریخ اور مہینہ یاد نہیں رہا۔ غالباََ گزشتہ برس کے ستمبر یا اکتوبر میں یہ واقعہ ہوا تھا۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس تھا۔ وہاں ڈاکٹر حفیظ شیخ صاحب نے اپنے لیپ ٹاپ کے بٹن دباتے ہوئے چند اعدادوشمار دکھائے۔ان کی بنیاد پر دعویٰ کیا کہ ہماری معیشت بالآخر ’’بحال‘‘ ہوجانے کے بعد ’’استحکام‘‘ کی جانب گامزن ہے۔ اگلا موڑ یقینا خوشحالی کی جانب لے جائے گا۔اعدادوشمار سے لدی یہ Presentationختم ہوئی تو اجلاس میں خاموشی چھاگئی۔ ندیم افضل چن نے

Read more

گل مہر آباد: ایک جائزہ

ادب زندگی اور سماج کی ترجمانی کرتاہے اسی لیے دنیائے ادب میں وہ تخلیق بہترین شمار ہوتی ہے جس میں معاشرتی خوبیوں کے ساتھ ساتھ خامیوں کو بھی اجاگر کیا گیا ہو۔

اس تناظر میں یاد داشت، مشاہدات و تجربات عزخ پر مبنی کتاب ”گل مہر آباد“ کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے اپنی اس تخلیق میں زندگی و سماجی ترجمانی کے فرائض نیک نیتی سے انجام دیے ہیں جس کی بدولت کتاب کی بنیاد مضبوط ہے۔

Read more

سوئز کینال: پھنسا ہوا بحری جہاز اب تک نکالا نہ جا سکا، کنٹینر اتارنے کی تیاریوں کا حکم

ایک شپنگ ماہر کے مطابق کنٹینروں کو دوسرے جہاز میں منتقل کرنے کے لیے حکام کو ایسی کرین لانی ہوں گی جو کہ دو سو فٹ تک کی اونچائی تک پہنچ سکیں۔

Read more

پی ڈی ایم اور ’سب سے بھاری‘ کی سیاست

ایک مشہور ضرب المثل ہے کہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز حجم کے اعتبار سے بڑی ہوتی ہے اور طاقتور بھی ہوتی ہے تو تمام چھوٹی چیزیں اس کی اطاعت شروع کر دیتی ہیں اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ فی زمانہ یوں سمجھیں کہ عہدے اور اختیارات کے اعتبار سے جب کوئی طاقت ور شخص کسی کمزور کو کوئی حکم دیتا ہے تو کمزور شخص بلاچوں

Read more

قائد حزبِ اختلاف سینیٹ کے تقرر کا معاملہ: مریم اور بلاول کا ایک دوسرے پر طنز

پاکستان میں حزبِ اختلاف کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ میں شامل ملک کی دو بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے درمیان سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کے قائدِ حزبِ اختلاف بننے پر بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔ دونوں سیاسی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت بھی ایک دوسرے کی پالیسی پر تنقید کر رہی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ایک چھوٹے عہدے کے لیے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) سے سینیٹ میں اپنے امیدوار کی شکست کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان جیسے ردِ عمل کی امید نہیں تھی۔

Read more

تمنا کی وسعت اور حسن کوزہ گر کا ویران گھر

حسن کوزہ گر نے بوڑھے عطار یوسف کی دکان پر جہاں زاد کی افق تاب آنکھوں میں وہ تابناکی دیکھی کہ نو سال دیوانہ پھرتا رہا۔ بغداد کی خواب گوں رات کے تعاقب میں حسن کی کوزہ گری فراموش ہو گئی۔ اس کی ہنر مند انگلیوں میں زندگی پانے والے جام، سبو، فانوس اور گلدان گم شدہ ماضی کی ٹھیکریاں بنتے چلے گئے۔ اس دوران حسن کوزہ گر کی سوختہ بخت بیوی اسے شانوں سے ہلاتی رہی، ’حسن اپنے ویران

Read more

اردو کے برطانوی اسکالر ڈیوڈمیتھوز کی موت ، ایک درخشندہ باب کا اختتام

ہمارے یہاں مستشرقین کے بارے میں ہمیشہ سے ایک کشش سی رہی ہے۔ جس قدر انہیں ہمارے بارے میں جاننے کی جستجو ہوتی ہے ، اس سے کہیں زیادہ ہمیں ان غیر زبان کے لوگوں کے بارے میں جاننے کی خواہش ہوتی ہے۔ پروفیسر ڈیوڈ میتھوز کی شخصیت بھی ایسی ہی تھی۔

آج سے تقریباً نصف صدی پہلے کی بات ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے مشہور و معروف ڈاؤننگ کالج کے باہر ایک نوجوان انگریز طالب علم نے اپنی سگریٹ سلگائی اور انگلستان کی مسلسل اور تھکا دینے والی بارش سے بچنے کے لیے خود کو ذرا سا سائبان کے نیچے کر لیا۔ اسی اثنا میں ایک اور طالب علم، جو اپنی شکل اور وضع قطع سے جنوبی ایشیا کا رہنے والا معلوم ہوتا تھا، اس کے نزدیک آ کر کھڑا ہو گیا۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب دو سگریٹ پینے والے کھلی فضاء میں سگریٹ کے کش لگاتے ہیں تو بل کھاتے ہوئے دھوئیں کے درمیان نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔

انہوں نے اپنے اسی دوست سے برصغیر کی زبانوں کے بارے میں کچھ ابتدائی معلومات حاصل کیں اور انٹرویو دینے چلے گئے۔ وہاں ان کے موضوع پر سوالات کے بعد انٹرویو لینے والی پروفیسر نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کسی جنوبی ایشیائی زبان سے بھی واقف ہیں تو ڈیوڈ نے ایک رباعی جو انہوں نے اپنے پاکستانی دوست سے سیکھی تھی، اسے مکمل اعتماد کے ساتھ پڑھ کر سنا دی۔ خاتون نے کہا آپ کو تو بہت اچھی اردو آتی ہے۔

ڈیوڈ کی قسمت نے ان کا ساتھ دیا چونکہ وہاں اور کوئی ان سے بہتر امیدوار موجود نہ تھا لہٰذا ان کی ڈگریوں اور بنیادی قابلیت کی بناء پر لندن یونیورسٹی کے شعبۂ لسانیات میں ان کا تقرر ہو گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ڈیوڈ نے جو رباعی اپنے انٹرویو کے دوران سنائی تھی اس کا دور دور تک اردو زبان سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ وہ رباعی عمر خیام کی تھی۔

Read more

مریم کو نواز شریف کی ڈانٹ اور پی ڈی ایم کی آئندہ حکمت عملی

عمران خان نے اعتماد کا ووٹ لے کر بازی پلٹ دی تھی جس کے بعد سے حزب اختلاف کا لشکر مسلسل پسپائی کا شکار ہو کر باہم دست و گریبان ہو رہا ہے مولانا فضل رحمن مایوسی کے عالم میں اخلاقی حمایت کے لئے جاتی عمرہ کی چوکھٹ پر ماتھا رگڑائی کے لئے پہنچ رہے ہیں۔ جبکہ شریف خاندان میں پہلی بار اختلافات کی واضح دراڑیں دکھائی دے رہی ہیں کہ ہزار تردیدوں کے باوجود بات بن نہیں رہی ہے۔

Read more

’جل پریوں‘ کے ہاتھ کی بنی ڈھاکے کی ململ کہاں گئی؟

تقریباً دو سو برس پہلے ڈھاکے کی ململ کا شمار دنیا کے سب سے مہنگے کپڑوں میں ہوتا تھا۔ پھر سب اسے بھول گئے۔ ایسا کیوں ہوا؟ اور کیا ہم اسے واپس لا سکتے ہیں؟

Read more

عورت مارچ، صلاحیتیں اور طنزیہ ردعمل

طنز کے نشتروں سے وار کرنے کا مقصد سماجی قدغنیں لگانا اور معاشرے کی ترقی اور روشن خیالی کے آگے رکاوٹیں ڈالنا ہوتا ہے۔ جن کو سماج کی ترقی اور کھلے پن سے چڑ ہے ، وہ ان جملوں کی بناوٹ ایسی رکھتے ہیں کہ لوگوں کی عزت اور احترام پر حرف آئے اور آئندہ کے لے دوسروں (یعنی خاموش حامیوں) کی ذہن سازی بھی ہو جائے کہ ان کی لگائی ہوئی سماجی قدغنوں کو پھلانگنے کے بارے میں کوئی

Read more

دو انتہاؤں کے درمیان پستی مظلوم خواتین

جیسے ہی مارچ کا مہینہ شروع ہوتا ہے، عورت مارچ کو لے کر معاشرے میں گرما گرمی اور بحث مباحثے شروع ہو جاتے ہیں۔ جس میں ایک طرف مذہبی اور نیم مذہبی طبقہ عورت مارچ کے چند نعروں کو بنیاد بنا کر طنز و تشنیع کے تیر چلانا شروع کر دیتا ہے، دوسری طرف عورت مارچ کے حامی بھی اپنے موقف میں شدت اختیار کرتے چلے جاتے ہیں۔ بظاہر دونوں ہی طبقات معاشرے کی پسی ہوئی خواتین کے نمائندے نہیں

Read more

سیاسی گرمی میں مذاکرات کی دعوت؟

حکومت نے سینیٹ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن کے بعد اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات پر مذاکرات کی دعوت دی ہے ۔ یہ دعوت وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی فو ادچودھری اور وزیر اطلاعات شبلی فراز نے پریس کانفرنس میں دی ۔ فواد چودھری کا کہنا تھااگر اپوزیشن حکومت کے مینڈیٹ کو تسلیم کرے تو ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن ان کے مقدمات پر بات نہیں ہوسکتی، اپوزیشن لانگ مارچ منسوخ کر دے کیونکہ یہ میثاق جمہوریت کی

Read more

الطاف صدیقی تھا صورت گر کچھ خوابوں کا

روزنامہ مساوات کراچی سے جاری ہوا تو ابتدائی طور پر جن صحافیوں کو چنا گیا ان میں، میں بھی شامل تھا اور میرے ذمہ ثقافتی سرگرمیوں کا صفحہ تھا۔ آغاز میں مختلف شہروں میں جو نمائندے مقرر ہوئے، ان سے رابطہ ہونے لگا اور متعلقہ نمائندوں سے خبریں آنا شروع ہوئیں تو پہلی مرتبہ الطاف صدیقی کا نام سامنے آیا، جو کوئٹہ میں نمائندے تھے۔

Read more

مجھے اچھا لگتا ہے شوہر سے ایک قدم پیچھے چلنا۔ کیوں؟(مکمل کالم)۔

آج میرا ارادہ عورت مارچ کے خلاف لکھنے کا ہے اور اس ضمن میں مجھے اپنے پیٹی بند بھائیوں اور ان بہنوں کی مدد درکار ہے جو عورت مارچ کو مغرب زدہ این جی اوز کا یجنڈا، صیہونی سازش، غیر ملکی امداد اکٹھا کرنے کی مہم اور ہماری اخلاقی اور مذہبی اقدار پر حملہ سمجھتے ہیں۔ جو لوگ میری اس بات طنز سمجھ رہے ہیں ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ میں گزشتہ دو دن سے پوری نیک نیتی کے ساتھ عورت مارچ کے خلاف دلائل اکٹھے کر رہا ہوں۔

Read more

چھ مارچ 1953: پہلے مارشل لاء سے جوتوں اور تھپڑوں کی سیاست تک

چھ مارچ کو وزیر اعظم نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا۔ اور اسمبلی کی عمارت کے قریب ہی تحریک انصاف کے کارکنان وزیر اعظم پر اپنا اظہار اعتماد کر رہے تھے۔ اسی عمل کے دوران تحریک انصاف کے کارکنان نے مسلم لیگ نون کی ترجمان محترمہ مریم اورنگ زیب صاحبہ پر حملہ کر دیا۔ احسن اقبال صاحب پر جوتا پھینکا گیا۔ مصدق صاحب کو تھپڑ مارا گیا۔ شاہد خاقان عباسی صاحب پر بھی حملہ ہوا۔ جب

Read more

ہم سب کے لکھنے والوں سے مدیر کی معروضات

”ہم سب“ کے سب لکھنے والے محترم ہیں۔ ان کی ہر تحریر ہمارے لئے باعث تکریم ہے۔ چند نکات عرض گزار کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے بیشتر لکھنے والے نوجوان ہیں اور ان کی تعلیم انگریزی زبان کے غالب اثر میں ہوئی ہے۔ کسی کو الزام دینا مقصود نہیں۔ ناگزیر طور پر کچھ غلطیاں ہماری اردو میں چلی آئی ہیں۔ درویش کو لسانی ناسخیت یعنی بال کی کھال اتارنے کا شوق نہیں۔ یہ بھی واضح ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ

Read more

مشرقی اقدار، یوم خواتین اور مشرق کی عائشہ

آج کل سوشل میڈیا پر خواتین کے عالمی دن کو لے کر خوب گہما گہمی ہے۔ کہیں مختلف نعروں کے حق میں دلائل دیے جا رہے ہیں تو کہیں ان پر طنز فرما کر اپنی ذہانت اور قابلیت وغیرہ کا ثبوت دیا جا رہا ہے۔ یہ رائے کا اختلاف ہے جو کہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ راقم کی نظر میں اختلاف کسی بھی گھر یا معاشرے کے لئے بہت اہم ہے۔ یہ تنوع اور خوبصورتی ہے۔ اختلاف رائے کے

Read more

یہ عائشہ کی نہیں محبت کی موت ہے

’’ہیلو۔ السلام و علیکم۔ میرا نام ہے عائشہ عارف خان اور میں جو بھی کچھ کرنے جا رہی ہوں اپنی مرضی سے کرنا چاہتی ہوں۔ اس میں کسی کا زور یا دباؤ نہیں ہے۔ یہ سمجھ لیجیے کہ خدا کی دی ہوئی زندگی اتنی ہی ہوتی ہے اور مجھے اتنی ہی زندگی بہت سکون والی ملی، وی آرڈیڈ۔ کب تک لڑیں گے اپنوں سے۔ کیس ود ڈرال کر دوں، نہیں کرنا۔ عائشہ لڑائی کے لئے نہیں بنی۔ پیار کرتے ہیں

Read more

ہانیہ عامر کا ویڈیو پیغام: رنگت سے متعلق ویڈیو میں ’بیوٹی فِلٹر‘ کے استعمال پر تنقید

پاکستان کے معاشرے میں جہاں عورتوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق کے بارے میں لاتعداد مسائل وہاں رنگت کی بنیاد پایا جانا والا تعصب بہت عام ہے جس کے خلاف بہت سی خواتین آواز اٹھا رہی ہیں۔

Read more

پریم چند اور منٹو: چند مماثلتیں

اردو ادب میں موازنے کی پختہ روایت رہی ہے۔ میر انیس کا دبیر سے موازنہ ہمارے سامنے کی مثال ہے۔ دو شاعروں کا ان کی شاعرانہ خصوصیات کی بناء پر موازنہ کرنا برا بھی نہیں اگر غیر جانب داری سے کام لیا جائے۔ علامہ شبلی پر یہ الزام آیا کہ انہوں نے انیس کو دبیر پر فوقیت دی۔ موازنہ کرنا اور مماثلتیں ڈھونڈنا بڑا ادق اور پچیدہ کام ہے۔ ذرا سا دھیان بھٹک جائے تو ذہن کسی اور وادی کی

Read more

مولانا طارق جمیل ’حقیقت پسند‘ کیسے بنے؟

ایک خبر کے مطابق مولانا طارق جمیل نے ملبوسات کی اپنی برانڈ: ’ایم۔ ٹی۔ جے۔‘ کے نام سے شروع کی ہے۔ برانڈ کے افتتاح پر جب ہم نے ان کو بغور دیکھا تو موصوف ایک عقیدت پسند مولوی کی بجائے حقیقت پسند بزنس مین نظر آئے۔ ان کے تبلیغی مقلدین کو امید ہے کہ مولانا کا برانڈ بھی، ان کے مرحوم و مغفور شاگرد جنید جمشید کی برانڈ ’جے ڈاٹ‘ کی طرح دن دگنی رات تگنی ترقی کرے گا۔ جہاں

Read more

مائی لولی پاپ… مائی لولی پاپ

یو آر مائی ٹیلی ویژن یو آر مائی فریج یو آر مائی آئسکریم یوآر مائی لولی پاپ یو آر مائی مون بار میں جا کر بیٹھا تھا کہ یہ آواز آئی اورمیں سمجھ گیا کہ گلو کسی لڑکی کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے اور اب وہ یہی کہے گا کہ میرا ٹیلی ویژن مجھے دنیا دکھاتا ہے اور تم نئی دنیا کی طرح ہو، تم فریج اس لئے ہو کہ اس کے سرد خانے میں میں نے اپنا دل رکھ

Read more

سینیٹ الیکشن میں تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شہریار آفریدی کا ووٹ مسترد، سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے

کئی لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ اتنے عرصے سے رکنِ پارلیمان رہنے والے شہریار آفریدی اس اہم موقع پر یہ غلطی کیسے کر سکتے ہیں۔ اس پر تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا عملہ ان کی رہنمائی کرنے میں ناکام رہا۔

Read more

سوشل میڈیا کے نامعلوم تخلیق کار

ان تخلیق کاروں کے لئے میرا دوسرا لقب ہے سوشل میڈیا کے نامعلوم سپاہی۔ یہ وہ بے نام تخلیق کار ہیں جو کہ پس پردہ رہ کر اپنی نت نئی تخلیقات سے ہمیں نوازتے رہتے ہیں۔ ہم جیسے ہی سوشل میڈیا میں داخل ہوتے ہیں۔ ایک سے ایک دیدہ زیب کارڈ، برجستہ جملے، انتہائی دلچسپ طنز و مزاح، روح میں اترنے والے اقوال، پند و نصائح ، دور ماضی کی وہ تصاویر اور ویڈیوز جن کے متعلق محض ہم نے

Read more

تالیوں اور گالیوں کے درمیان ڈولتی تبدیلی سرکار

قوم کو دروں بین نہیں تماش بین سمجھ رکھا ہے۔ چونکہ راقم تمام مسلمانوں کی طرح ریاضی میں نہایت کمزور واقع ہوا ہے ، اس لیے چھ ہزار ارب کے مجموعے میں الجھ کر رہ گیا ہے۔ غالباً ہمارا اس سال کا بجٹ خرچ 7300 ارب روپے ہے۔ قربان جائیے اپنے کپتان کے جو ایک تجارتی مرکز کی کاروباری سرگرمیوں سے سالانہ چھ ہزار ارب روپے حاصل کرنے کا مژدۂ جاں فزا سنا رہا ہے۔ اس عظیم خوشخبری کو بھی

Read more

خاقان ساجد کا افسانوی مجموعہ ’آدم زاد‘

میں ساجد کو ایک مصور اورکارٹون آرٹسٹ کے طور پر تو جانتا تھا۔ مگر ساجد افسانے بھی لکھتا ہے؟ اس کی خبر تین سال قبل اس وقت ہوئی جب اس کی کتاب ”آدم زاد“ میرے سامنے آئی۔ میں ان دنوں اردو افسانوں کا انگریزی ترجمہ کر کے ان کو شارٹ سٹوری بک بنانے کی اپنی دوسری کتاب پر کام کر رہا تھا۔ مجھے ایسے ابھرتے ہوئے افسانہ نگاروں کی تخلیقات درکار تھیں۔ جو زمانۂ حال کے جینوئن اور ٹیلنٹیڈ ادیب

Read more

دوسری شادی اور ہمارا معاشرہ (صوفیہ کاشف سے معذرت کے ساتھ)۔

محترمہ صوفیہ کاشف بہت اچھی افسانہ نگار، بلاگر اور کالم نگار ہیں۔ خواتین کے سلگتے مسائل پر لکھتے وقت ان کا قلم آگ کے شعلے اگلتا ہے۔ کیا خوبصورت الفاظ ہیں، ”لال کپڑے پہنا کر، دنیا کے سامنے ڈولی میں بٹھا کر اپنی عزت کی پگڑ پھر سے بلند کرنے کی کوشش کرنے والوں کی پگڑ پر آہ لگ چکی تھی ۔  رسیوں سے باندھ باندھ عزت کو سنبھالنا پڑا ۔  راتوں رات عزت دار گھر چھوڑ کر کہیں دور دیس نکل گئے۔ کچھ ہی روز میں پاگل عورت کی لاش سڑک کنارے کوڑے کے ڈھیر پر پڑی تھی۔“

دو تین دن پہلے شائع ہونے والا ان کا کالم ”دوسری شادی اور ہمارا معاشرہ“ ہم سب کی مقبول ترین فہرست میں شامل تھا۔ میٹھے سے طنز کے ساتھ اس کا آغاز ہوا تھا۔ ”درد روحانیت کی پہلی سیڑھی ہے ۔ روحانی بلندی کا طالب ہر کوئی ہے۔“ اگلا فقرہ سارے کالم کی جان ہے، ”کوئی بھی انسان نہیں بننا چاہتا، سب کو صوفی، پیغمبر اور فرشتہ بننا ہے۔“

Read more

شوبز ڈائری: ’میری جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو شاید وہ حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دیتی‘

شوبز میں اپنی جدو جہد کے بارے میں آئٹم نمبرز کے لیے مشہور اداکارہ نورا فتحی کا کہنا ہے کہ جن حالات سے وہ گزری ہیں ان کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو شاید وہ حا لات کے سامنے ہتھیار ڈال دیتی۔ پڑھیے اس ہفتے کی شوبز ڈائری میں مزید اور کیا خبریں ہیں۔

Read more

اب کیا بابائے قوم کو بھی قزاق سمجھیں؟

تاریخی اعتبار سے لفظ قزاق ترک زبان سے اردو زبان میں اپنے معنی اور ساخت کے اعتبار سے من و عن داخل ہوا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو گرائمر کی رو سے یہ لفط اسم نکرہ مذکر ہے جبکہ معنی کے اعتبار سے یہ لفظ راہزن، لٹیرا اور ڈاکو کی تصویر ہے۔

آج سے پہلے اس لفظ کو میں فقط مجرم کی شکل یا تعزیرات پاکستان کی دفعہ 391 کی حد تک جانتا تھا لیکن وکالت کی تعلیم مکمل کر کے جن سینئر وکیل صاحب کے ساتھ عملی تربیت کا آغاز کیا ہے ، آج انہوں نے بتایا کہ ان کے بچے آرمی پبلک سکول میں زیر تعلیم ہیں اور وہ انہیں بجائے ٹیوشن بھیجنے کے، سکول کا کام خود کرواتے ہیں لیکن کل شام جب وہ اپنے جماعت ہفتم کے بچے کو اردو کی کتاب ”صریر خامہ“ پڑھا رہے تھے تو بابائے اردو مولوی عبدالحق کا مضمون ”املی کا درخت“ پڑھاتے ہوئے انہیں ورق کے حاشیہ پر لکھا ایک لطیفہ دکھائی دیا جس کا عنوان ”خوش قسمت“ تھا۔

Read more

اداس نسلیں: وجودی مسائل کی خوبصورت داستان

بوریت، بے کاری اور مایوسی سے لبریز ان دنوں میں ہمیں اردو ادب کی شان دار کتاب ”اداس نسلیں“ کے ”مکرر“ مطالعے کا ایک بار پھر موقعہ ملا۔ اس ناول میں عبداللہ حسین نے مذہب، محبت، خدائی انصاف، سیاست، انسانی دکھوں اور گزرتے وقت کے ساتھ فرد کے اندرون کی اور سمٹ کے آنے والے وجودی مسائل کا ایک کہانی کی صورت میں احاطہ کیا ہے اور کیا ہی خوب کیا ہے۔ مذکورہ ناول کا ایک ”حسب حال“ اقتباس قارئین

Read more

زچہ کی طبیعت کیوں خراب ہے؟

لیجیے جناب زچگی ہو چکی اور زچہ وبچہ خیریت سے گھر پہنچ چکے۔ اب ماحول کچھ یوں ہے کہ شادیانے بج رہے ہیں، مٹھائیاں بٹ رہی ہیں، دوست احباب سے مبارکبادیاں وصول کی جا رہی ہیں اور ننھیال ددھیال میں نام رکھنے کی رسہ کشی جاری ہے۔ ابا حضور کے مقام پہ فائز ہونے والے صاحب خواہ مخواہ مونچھوں پہ تاؤ دیتے چلے جا رہے ہیں لیکن کیا کسی نے زچہ کی خبر لینے کی کوشش کی جو سر لپیٹے

Read more

میں پاگل خانے میں کیوں رہتا ہوں؟

سگمنڈ فرائیڈ علم نفسیات کے ان چند مفکرین میں سے ہیں جنہوں نے جدید علم نفسیات کی نہ صرف بنیاد رکھی، بلکہ ذہن انسانی کے پوشیدہ پہلوؤں کو دریافت کیا اور نئی جہتوں سے روشناس کرایا۔ ان کے نفسیاتی طریقہ علاج میں ایک جدت تحلیل نفسی ہے۔

فرائیڈ جب کسی نفسیاتی مریض کی تحلیل نفسی کرتا تھا تو وہ مریض کو کرسی پہ سامنے بٹھانے کی بجائے ایک صوفے پر لٹا دیتا اور خود مریض کے سر کے پیچھے اسرخ پر بیٹھ جاتا کہ مریض اس کو دیکھ نہیں پاتا تھا۔ اس تکنیک سے مریض کے خیالات کی ترسیل میں نفسیات دان مانع نہیں ہوتا تھا، اور مریض اپنے لاشعوری خیالات کا بلاجھجھک اظہار کرتا تھا۔

Read more

وکٹوریہ کی بلی

وکٹوریہ نے اپنی آستین اوپر کی اور مجھے اپنے کندھے کی خراشیں دکھاتے ہوئے کہا، ’دیکھو کل کیٹی نے میرا کیا حشر کیا، میں ساری رات صحیح سے سو نہیں سکی، وہ چلاتی رہی اور مجھ سے لحاف چھینتی رہی‘ وکٹوریہ، جسے سب وکی بلاتے تھے، کو میں نے کہا ’وکی تمہیں کیا ملتا ہے اس منحوس بلی سے ، جسے تم نے اپنے سر پر سوار کر رکھا ہے، رات بھر تمہیں سونے نہیں دیتی، میں تو کہتا ہوں

Read more

’رافعہ کا مافیا‘: ’پیار کا لفظ بولو تو لوگ ناراض ہو جاتے ہیں اس لیے میں محبت کا لفظ استعمال کرتی ہوں‘

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ریڈیو شوز کے دوران اپنی شوخ اور چُلبُلی باتوں کے لیے رافیا سامعین میں کافی مقبول ہیں تاہم سوشل میڈیا پر بعض حلقے اُن پر تنقید کرتے ہیں یہاں تک کہ اُنھیں کئی مرتبہ شدید ٹرولِنگ کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

Read more

سیاسی کارکن رہنماؤں کی کہہ مکرنیوں کے تابع نہیں

چند روز قبل ایک سفر سے واپس آ رہا تھا کہ کھانا کھانے کی غرض سے ہائی وے پر بنے ایک ہوٹل پر گاڑی روکی۔ جہاں ایک کونے میں زمین پر چھ سات سال کا بچہ سویا ہوا تھا، اتنے میں ایک لڑکا جس کی عمر دس بارہ سال ہو گی آیا اور اس نے سوئے ہوئے بچے کے بال کھینچ کر اٹھایا اور تھپڑ مار کر لوگوں کی جانب بھیک مانگنے کے لیے دھکیل دیا۔ اس بچے کی آنکھیں

Read more

ہالی ووڈ میں کورین فلم ‘مناری’ کے چرچے، کئی ایوارڈز کے لیے نامزد

ویب ڈیسک — طنز و مزاح پر مبنی جنوبی کوریا کی آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ‘پیراسائٹ’ کے بعد ایک اور کورین فلم ہالی وڈ میں دھوم مچانے کو تیار ہے۔

کورین فلم ‘مناری’ سے متعلق ہالی وڈ میں ایسے موقع پر چرچے ہو رہے ہیں جب ایوارڈز کے دن قریب آ رہے ہیں۔ یہ فلم امریکی سنیما گھروں میں دکھائی جا رہی ہے اور مارچ میں اسے جنوبی کوریا میں نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔

Read more

شادی پر بے جا اخراجات عقل مندی نہیں!

معاشی طور پر کمزور طبقے کی زندگی میں چند موقعے بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جس کے لئے وہ کئی سال منصوبہ بندی کرتے ہیں اور پھر اس خواب کو پورا کرنے کے لئے مختلف قسم کے جتن کرتے ہیں۔ ان چند موقعوں میں ایک موقع شادی کا ہے۔ شادی مطلب بہت ساری محافل ۔ برات، ولیمہ، مایوں، منگنی اور اس کے علاوہ ڈھولکی، قوالی نائٹ، چوتھی اور بھی درجنوں چھوٹی تقریبات بھی اس سلسلے میں شامل ہیں۔ زندگی

Read more

معذوری کے بارے میں ایک لطیفہ جو کینیڈا کی سپریم کورٹ تک پہنچا

کینیڈا میں ایک گلوکار جیریمی گیبریئرل اور کامیڈین مائیک وارڈ کے درمیان قانونی جنگ سپریم کورٹ تک جا پہنچی ہے اور اس کی وجہ مائیک وارڈ کا جیریمی گیبریئل کی معذوری کا مذاق اڑانے والا ایک لطیفہ ہے۔

Read more

شبلی فراز کی جارحیت زمینی حقائق نہیں بدل سکتی

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز بڑے نفیس اور دلچسپ قسم کے انسان ہیں۔ سینیٹ میں قائد ایوان کی حیثیت سے انہوں نے بڑی سنجیدگی اور ٹھنڈے مزاج کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں۔ وہاں وہ بڑے دھیمے لہجے میں بات کیا کرتے تھے۔ لیکن وزارت اطلاعات کا منصب سنبھالتے ہی ان کے طرز تخاطب میں حیرت انگیز تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ شاید یہ ان کے نئے منصب اور پارٹی پالیسی کا تقاضا تھا۔ وزیراعظم چونکہ خود بھی بڑے جارحانہ

Read more

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر: ڈیڑھ سال سے جیل میں بنا سماعت کے قید افراد کی رہائی کے منتظر کشمیریوں کی کہانی

اگست 2019 میں جب انڈیا کی حکومت نے جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کیا تو اس وقت کشمیر میں ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا تھا تاہم ملک میں اور عالمی سطح پر تنقید کے باوجود انڈین حکومت کا کہنا ہے کہ ریاست میں حال ہی میں شدت پسندانہ کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے یہ گرفتاریاں ضروری تھیں۔

Read more

’میرا کالم، میری مرضی‘

سرکاری طور پہ بزرگ شہری بن جانے کے باوجود ابھی میرا شمار اُن بڈھے بابوں میں نہیں جنہیں نئے زمانے کی ہر چیز بُری لگتی ہو۔ کون کِس سے ملتا ہے؟ فرصت کے مشاغل کیا کیا ہیں؟ عالمانہ توند کے مالک گنجے آدمی کو سالگرہ منانی چاہیے یا نہیں؟ یہ اور اِسی نوع کے کئی اور سوال پرسنل چوائس کا معاملہ ہوا کرتے ہیں۔ اِس وضاحت کے پیشِ نظر آپ بھی کہہ سکتے ہیں کہ آج ویلنٹائن ڈے ہے اور

Read more

علی اکبر ناطق کے افسانوی مجموعے ”قائم دین“ اور ”شاہ محمد کا ٹانگہ“

علی اکبر ناطق کے عقیل سین کی وساطت سے موصول ہونے والے دونوں افسانوی مجموعے ”قائم دین“ اور ”شاہ محمد کا ٹانگہ“ پڑھ لیے ہیں۔ اس عمل سے کشید کیا گیا لطف قطرہ قطرہ چکھتا رہوں گا، اب دیکھیں صراحی کتنا عرصہ ساتھ دیتی ہے ؛ بعد میں پھر صراحی پانی سے بھر کر عرق کے عرق کا سواد لے لوں گا۔ ناطق کا طریقہ واردات زبردست ہے۔ قاری کو اپنے ساتھ لیے چلتے چلے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ؛

Read more

سینٹ میں عربی کی تعلیم کا بل: برائے نام مسلمان توجہ کریں

یکم فروری 2021 کو سینیٹر جاوید عباسی صاحب نے پاکستان کی سینیٹ میں اسلام آباد کی حدود میں عربی زبان کی تعلیم کو لازمی قرار دینے کا بل پیش کیا۔ بل تو منظور ہو گیا لیکن رضا ربانی صاحب نے ہمت کر کے کچھ نکات اٹھائے۔ اور اس کے نتیجہ میں جو بحث ہوئی، میرے نزدیک اس کے نتیجے میں اتنے سوالات کے جوابات نہیں ملے جتنے نئے سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ ہمیں رضا ربانی صاحب کا شکر گزار

Read more

محبت، سیکس اور شادی: ڈاکٹر خالد سہیل کا اپنے بھانجے کے نام خط

ہم ایک ایسے سماج میں رہتے ہیں جہاں پر زندگی کی حقیقتوں کو پرکھنے کے لیے تنگ نظری کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور چیزوں کو گناہ و ثواب کے پیمانے پر پرکھا جاتا ہے۔ اس دائروی چلن کی وجہ سے زندگی کی لاتعداد حقیقتیں ہم سے پوشیدہ رہ جاتی ہیں، ہم حقائق سے کچھ دیر تک نظریں تو چرا سکتے ہیں مگر پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔ کچھ باتیں اور چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو کہ ہر انسان کی تربیت

Read more

ریڈیو پاکستان سے عابد علی تک!

ہمارے زمانہ طالب علمی میں گرد و پیش سے جان چھڑانے کے لیے فراریت کے دو تین ہی میڈیم ہوا کرتے تھے۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن، جاسوسی ناولز یا پھر کبھی کبھار بڑے پردے پر فلم۔ لہروں کے دوش پر جو صدا کار چھوٹے سے ریڈیو سیٹ سے ہم تک پہنچتے وہ خوابوں کی دنیا کے مسافر لگتے۔ پاکستان ٹیلی ویژن پر جو ڈرامے پیش کیے جاتے وہ ہر وقت دل و دماغ پر چھائے رہتے۔ پھر بھی تشنگی کم نہ

Read more

کیا بیت گئی؟ قطرہ پہ گہر ہونے تک: غنی الاکرم سبزواری کی سوانح حیات

یہ کتاب ”کیا بیت گئی؟ قطرہ پہ گہر ہونے تک“ پروفیسر ڈاکٹر غنی الاکرم سبزواری صاحب کی خود نوشت سوانح حیات ہے جس کو انہوں نے بہت ہی مفصل انداز میں 19 مضامین میں تشکیل دیا ہے۔ سوانح حیات لکھنا اس اعتبار سے بھی مشکل ہے کیونکہ طویل کیرئر کا ہر واقعہ اپنے ذہن میں تازہ کرنا ، پھر اس کی اہمیت کو اجاگر کرنا  ، ان واقعات کی ترتیب اور پھر یہ خیال کرنا کہ سچ لکھا جائے اور

Read more

پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ: کیا بابر اعظم بھی مصباح کی تاریخ دہرا سکیں گے؟

فی الوقت مصباح الحق اور بابر اعظم تازہ ہواؤں کے جھونکوں سے بخوبی لطف اٹھا سکتے ہیں۔ کیونکہ اب کوئی تجزیہ کار اس طنز کے نشتر تو نہیں برسا سکتا کہ بدوؤں کے خالی میدانوں میں سپنرز کے بل پہ کسی ورلڈ کلاس ٹیم کو ڈھیر کر لیا۔

Read more

ایک پرانا دوست

میرا دوست بھگوان آج کل تہہ خانے میں رہتا ہے۔ یہ کسی کو پتہ نہیں کہ وہ خود تہہ خانے میں رہتا ہے یا کسی نے اسے وہاں رہنے پر مجبور کیا ہے۔ آپ نہیں جانتے ہوں گے کہ بھگوان کون ہے۔ میں آپ کو اس کے بارے میں بتاتا ہوں۔ بھگوان میرا دوست ہے۔ میں جب سوچنے کے قابل ہوا تو بھگوان پیدا ہو چکا تھا۔ اس حساب سے وہ میرا ہم عمر ہے۔ ہم نے لمبا عرصہ ساتھ

Read more

سرخی (طنز و مزاح)۔

سرخی ہونٹوں کی ہو یا اخبار کی، نظریں سب سے پہلے ادھر ہی جاتی ہیں۔ اخبار کی سب سے بڑی سرخی آٹھ کالمی ہوتی ہے جبکہ خوبصورت ہونٹوں کی سرخی بڑی ظالمی ہوتی ہے۔ اپنی بیوی کی سرخی مشکل سے ایک کالمی نظر آتی ہے جبکہ کسی اور کی سرخی آٹھ کالمی ہونے کے ساتھ ساتھ ظالمی بھی لگتی ہے۔ سرخی واحد پراڈکٹ ہے جس پر تقریباً ہر خاتون کے نہ صرف جملہ حقوق بلکہ جمیلہ حقوق بھی محفوظ ہیں۔

Read more