آزادی سے مادر پدر آزادی تک!
ہم لے کے رہیں گے آزادی، ہم چھین کے رہیں گے آزادی، ان نعروں سے یوں لگا جیسے یہ کشمیری خواتین ہیں جو بھارتی فوج کے مظالم سے تنگ آئی ہوئی ہیں اور یہ اپنی آزادی حاصل کرنے کے لئے یوں باہر روڈ پر بیٹھ کر احتجاج کر رہی ہیں۔ لیکن ان کے کپڑے، ہنستے مسکراتے لڑکوں کے ساتھ خوش گپیاں لگاتے، تصویریں بناتیں اور ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے پلے کارڈ اور ان پر لکھے جملے پڑھ کر پتہ لگا کہ یہ کوئی کشمیر کی مظلوم عورتیں نہیں ہیں بلکہ یہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اپنے حقوق مانگتی خواتین ہیں۔اپنے حقوق مانگنا ہر ایک کا حق ہے اورانسانیت کے دائرے میں رہ کر یہ خواتین اپنے جائز حقوق مانگتیں تو ان کو بہت سراہا جاتا۔ ہر پلیٹ فارم پر ان کی واہ واہ ہوتی اور ان خواتین کو جائز حقوق دلانے میں کئی مرد حضرات بھی ان کے حق میں لڑتے۔ ان کی زندگیوں کے مسائل حل کر کے بہتری کی طرف لانے کی کوششیں کی جاتیں۔ لیکن ان کے پلے کارڈ پر لکھے نعرے کچھ اس طرح سے تھے : میرا جسم میری مرضی، میں کھانا گرم کر دوں گی بستر خود گرم کر لو، میری شادی کی نہیں آزادی کی فکر کرو
Read more























































































