آزادی سے مادر پدر آزادی تک!

ہم لے کے رہیں گے آزادی، ہم چھین کے رہیں گے آزادی، ان نعروں سے یوں لگا جیسے یہ کشمیری خواتین ہیں جو بھارتی فوج کے مظالم سے تنگ آئی ہوئی ہیں اور یہ اپنی آزادی حاصل کرنے کے لئے یوں باہر روڈ پر بیٹھ کر احتجاج کر رہی ہیں۔ لیکن ان کے کپڑے، ہنستے مسکراتے لڑکوں کے ساتھ خوش گپیاں لگاتے، تصویریں بناتیں اور ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے پلے کارڈ اور ان پر لکھے جملے پڑھ کر پتہ لگا کہ یہ کوئی کشمیر کی مظلوم عورتیں نہیں ہیں بلکہ یہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اپنے حقوق مانگتی خواتین ہیں۔اپنے حقوق مانگنا ہر ایک کا حق ہے اورانسانیت کے دائرے میں رہ کر یہ خواتین اپنے جائز حقوق مانگتیں تو ان کو بہت سراہا جاتا۔ ہر پلیٹ فارم پر ان کی واہ واہ ہوتی اور ان خواتین کو جائز حقوق دلانے میں کئی مرد حضرات بھی ان کے حق میں لڑتے۔ ان کی زندگیوں کے مسائل حل کر کے بہتری کی طرف لانے کی کوششیں کی جاتیں۔ لیکن ان کے پلے کارڈ پر لکھے نعرے کچھ اس طرح سے تھے : میرا جسم میری مرضی، میں کھانا گرم کر دوں گی بستر خود گرم کر لو، میری شادی کی نہیں آزادی کی فکر کرو

Read more

اقلیتوں کے لئے جمہوری اقدامات

جنرل الیکشن 2018 میں ا یک غیر روایتی سیاسی پارٹی کا تبدیلی اور نئے پاکستان اور کے نعرے پر اقتدار میں آنا ستر سالہ تاریخ میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی تھی۔ ایک غیر روایتی سیاستدان کا اقتدار میں آنا، دنیا میں آئی سیاسی تبدیلی کا شاخسانہ ہے۔ دنیا کی بیشتر جمہوری حکموتوں میں ووٹرز نے غیر روایتی لیڈروں کو اقتدار دلا کر روایتی سیاسی لیڈروں سے بے زاری کا اظہار کیا ہے۔ اور ظاہری سی بات اس بے زاری کے پیچھے لوگوں کا جمہوری حکومت کو اشارہ ہے کہ ووٹرز نے اسٹیٹس کو، جھوٹے وعدوں اور شاہانہ حکومتی اخراجات کو ختم کر کے ٹرانسپیرنسی، برابری، احتساب اور سوشل ریاست کے نعروں کو ووٹ دیا ہے۔

Read more

فیمینزم! عورت کے حقوق کی جنگ یا آزادی کی؟

8مارچ آیا اور آ کر چلا گیا مگر اس کی باز گشت ابھی تک سنائی دے رہی ہے۔ عورتوں نے اپنا عالمی دن کچھ اس ادا سے منایا کہ مجھ جیسے نو آموز قلم کار جو پی ایس ایل کی ہوشربائیوں سے نکل کر بھارتی میڈیا کی جنگی گیدڑبھبھکیوں میں گم تھے وہ بھی اپنے اپنے قلم دوات لے کر اس موضوع پر طبع آزمائی کرنے کے منصوبے بنانے لگ گئے۔اس موضوع پر کچھ لکھنے سے پہلے میں چند ایک سوالات سامنے رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہماری یہ بحث کسی منطقی نتیجہ تک راہنمائی کر سکے۔ پہلا سوال یہ کہ پاکستان میں عورتوں کا عالمی دن کیا فیمینزم کی کوئی کڑی ہے؟ آیا فیمینزم عورت کے حقوق کی جنگ ہے یا آزادی کی؟ آزادی کی صورت میں کس سے آزادی چاہیے مرد سے یا فرسودہ رسومات سے؟ اور آخری مگر اہم ترین سوال کیا منعقدہ عورت مارچ ہماری کثیرالجماعتی عورتوں کی جائز نمائندگی کرنے میں کامیاب بھی رہا یا نہیں؟

Read more

فرائض سے غفلت اور حقوق خود ساختہ جنگ

مارچ کا مہینہ بچپن سے ہی ہمارے لئے اہم رہا ہے۔ کیونکہ اس روشن اور اجلی دھوپ والے مہینے کی 31 تاریخ کو ہماری کامیابی و نا کامی کا فیصلہ ہوا کرتا تھا۔ سرکاری سکولوں میں 31 مارچ کو کلاسز کا سالانہ رزلٹ نکلا کرتا اور کچھ لوگ کامیابی کے زینے طے کرتے اگلی کلاسوں میں منتقل ہو جاتے اور کچھ دوست مزید وہی تعلیم سیکھنے کے لئے اسی کلاس کا حصہ رہتے۔ اپنے فرائض نبھانے والے خوشی خوشی گھروں کو لوٹتے اور اساتذہ سے صرف اپنے حقوقِ کا رونا رونے والے نم آنکھوں کے ساتھ گھر کی راہ لیتے۔بچپن سے لڑکپن کی دہلیز پہ پہنچے تو 23 مارچ 1940 کی قرارداد بھی کچھ سمجھ میں آنے لگی اور ”مارچ“ کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ لڑکپن سے جوانی کی طرف آئے تو 8 مارچ ”خواتین کا عالمی دن“ کے متعلق معلومات ملیں کہ عورتوں کے حقوق کے حوالے سے ایک دن متعین کیا گیا ہے جس میں خصوصاً ان عورتوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے نہ صرف فلاح معاشرہ کے لئے مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا بلکہ آزادی کی تحریکوں میں بھی اپنے وجود کا کردار درست ثابت کیا۔

Read more

"افسانے کی حقیقی لڑکی ” ۔۔۔ ایک مختصر تبصرہ

”افسانے کی حقیقی لڑکی“۔ ناول کا عنوان ہی یہ بتانے کو کافی ہے کہ یہ ناول کہانی میں موجود ایک کردار کی حقیقی زندگی کا آئینہ دار ہے۔ ایک ایسا عہد جس میں چیزوں کو آئیڈیل حد تک کامل دکھایا جاتا ہے اور اسی کاملیت کو لوگ حقیقت سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور حقیقت میں ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں مگر جب حقیقت کو تصوراتی دنیا سے کوسوں دور پاتے ہیں تو توڑ پھوڑ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں یہ ناول تصوراتی دنیا سے حقیقت کی دنیا کے سفر اور حقیقی زندگی کے تلخ تجربات کی جھلک دکھاتا ہے۔ اور نہ صرف حقیقی زندگی میں آنے والی مشکلات پر روشنی ڈالتا ہے بلکہ ان کی وجہ بننے والے عوامل کا کھوج لگانے اور ان مشکلات کو حل کرنے کا ٹھب بھی سکھاتا ہے۔

Read more

انڈین پائلٹ کی رہائی کے بعد وزیراعظم کا قوم سے تاریخی خطاب

پاکستان نے انڈین جنگی طیارہ کے ایک پائلٹ کو گرفتار کرنے کے بعد ’جذبہ خیر سگالی‘ کے تحت پائلٹ کو رہا کردیا۔ جس کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کا مثبت تشخص ابھر آیا۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور خطے میں امن و امان کے قیام کے لئے مذاکرات کی دعوت دیدی۔ وزیراعظم کے قوم کے نام عزیز ہموطنوں اور برادران وطن کے خطاب میں واضح الفاظ میں کہا گیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان معاملات میں جس طرح بگاڑ پیدا ہوا اور ایک جنگ کا خطرہ جس طرح سرپر منڈلانے لگا وہ کئی راز نہیں ہے۔

Read more

مرد اور عورت کے درمیان دوستی میں بے جا خواپشات رکھنے کا ذمہ دار مرد قرار

ایک معاصر ویب سائیٹ میں مشہور لکھاری لالہ صحرائی صاحب کا ایک زبردست مضمون شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے مرد اور عورت کے درمیان دوستی کو ڈسکس کیا ہے۔ راقم یہاں اس مضمون کے کچھ اقتباسات کے ذریعہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ مرد اور عورتوں کے درمیان دوستی میں زیادہ تر مرد یہ خواہش بھی رکھتے ہیں کہ ان کی خاتون دوست ان سے رومانوی اور جنسی تعلق بھی رکھے حالانکہ اس کے مقابلہ میں بہت کم عورتوں کے ذہن میں ایسا کوئی خیال ہوتا ہے۔ریمونڈ والٹر کالج (Raymond Walter College) کے ریسرچر ڈان اومائیرا کا کہنا ہے کہ جنسِ مخالف کے درمیان سچی دوستی کا تصور تو موجود ہے جس میں ایک دوسرے کے لئے پیار محبت، عزت و احترام اور ایک دوسرے کی مدد کرنا وغیرہ سب کچھ شامل ہے لیکن کسی وقت تنہائی میں قریب بیٹھنا یا عام روٹین میں فریقین کا گلے ملنا بھی کسی ایک کے دل میں جنسی کشش اور جنسی تعلق کی خواہش پیدا کر سکتا ہے۔ یہ خواہش اس دوستی کے بیچوں بیچ کہیں نہ کہیں گھومتی ضرور رہتی ہے جو کسی نازک وقت میں ایک تقاضے کے طور پہ سامنے آجاتی ہے۔ اس خواہش کو نظر انداز کرنا بھی فریقین کے لئے خاصا مشکل کام بن جاتا ہے۔

Read more

کالعدم تنظیمیں اور ریاستی اقدام کا عینی شاہد

جب ہم اپنے اسکول پہنچے تو ایک عجیب منظر دکھائی دیا۔ ہر طرف پولیس اہلکار مسلح کھڑے تھے کچھ سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار بھی تھے ان میں سے چند ایک جو ہم جانتے تھے جو اکثر ہمارے اساتذہ کے ساتھ اور اس ادارے کے منتظمین کے ساتھ آتے جاتے تھے۔ ہمارے اکثر دوست پہلے تھوڑے سے پرشان ہوئے لیکن جلد ہی ان میں وہ جذبات غالب ہو گئے کہ ہم نے ان سے کئی گنا طاقت ور دشمن جا مقابلہ کرنا ہے۔ دروازوں پہ تالے لگے ہوئے تھے اور اوپر سے سفید کپڑے پہ لال رنگ کی مہر بھی سبت تھی۔غیر مقامی اساتزہ میں سے کوئی بھی موجود نہیں تھا البتہ مقامی ایک استاد محترم موجود تھے۔ جو بچوں کو حوصلہ دے رہے تھے۔ مجھے آج بھی صحیح یاد ہے کہ ہماری آنکھوں میں ایک قہر تھا کہ ان پولس والوں کو ختم کر دیں انہون نے امریکہ کی غلامی کرتے ہوئے ہمارے اسکول کو بند کر دیا تھا۔ ہمارا دل چاہتا تھا کہ ہم ان پولیس والوں پہ حملہ کر دیں حلا نکہ ہم بہت چھوٹے اور ناتواں بھی تھے۔ مگر معاذ اور معوذ رضی اللہ عنہ کی بہادری ہمارا جوش بڑھارہی تھی۔

Read more

نوے کی دہائی میں بیتا بچپن

بچپن کا زمانہ ہر کسی کے لئے بہت خاص ہوتا ہے اور اس کی یادیں ایک سہانے خواب کی مانند ہوتی ہیں۔ یہ وہ دور ہوتا ہے جب زندگی امکانات سے بھرپور ہوتی ہے۔ پریشانی نام کی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ چھوٹی چھوٹی سی باتیں ڈھیروں خوشیوں کا سامان ہوا کرتی ہیں۔ حسد، رقابت، بغض اور کینہ جیسے منفی جذبات کا ادراک ہی نہیں ہوتا۔ اگر کوئی غیر معمولی حادثہ نہ پیش آ جائے تو ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہوتی ہیں۔ کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں کہ ذہن میں آ جائیں تو آنکھوں میں آنسوؤں کا ایک سیلاب امڈ آتا ہے۔ہم نوے کی دہائی میں بچپن گزارنے والے شاید وہ آخری نسل ہیں جس کا بچپن پچھلی نسلوں کی روایتوں سے اک گہرا ربط رکھتا ہے۔ ہمارے کھیل، رسم و رواج، شادی بیاہ، میلے ٹھیلے اور گاؤں کی چوپالیں ہی ہماری کل کائنات ہوا کرتے تھے۔ میرے ابتدائی بچپن میں ہمارے گاؤں میں بجلی نہیں ہوا کرتی تھی۔ گرمیوں کے دن دھریک کی چھاؤں تلے گزارے جاتے۔ ذرائع آمد و رفت انتہائی محدود تھے۔ گھوڑا، گدھا یا پھر سائیکل عام سواری ہوا کرتے۔ دو تین دن بعد ابا جی سے ایک آدھ روپیہ مل جاتا تھا جسے ہم شاہانہ انداز میں خرچ کرتے۔

Read more

غیرمعیاری کسٹوڈین شپ۔ ہم سانپ تو نہیں ہیں

انسانی ہسٹری کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ جب سے مرد اور عورت کے درمیان شادی کا رواج پڑا اُسی وقت سے دونوں کے درمیان علیحدگی یا طلاق سے پیدا ہونے والے مسائل بھی شروع ہوئے۔ یہ الگ بات کہ اُن مسائل پر بہت دیر بعد توجہ دینی شروع کی گئی لیکن اب بھی ایسے حل طلب ایشوز ہیں جو بہت سنگین ہیں۔ طلاق کے بعد کے عمومی مسائل میں سب سے اہم مسئلہ بچوں کی پرورش اور کسٹوڈین شپ کا ہوتا ہے۔ طلاق کے بعد کے حالات کو جتنا بھی موافق بنالیا جائے اُس کے مختلف اثرات بچوں پر ضرور پڑتے ہیں۔مختلف ممالک میں اِن اثرات کی نوعیت اور شدت مختلف ہوتی ہے۔ اِن اثرات کے نتائج کا تعلق اُس معاشرے کے ثقافتی پس منظر، مذہبی رسم و رواج اور قوانین پر ہوتا ہے۔ مغربی ممالک میں بچوں کے حوالے سے عمومی قوانین بھی بہت سخت اور چیک اینڈ بیلنس کے نظام کے تحت ہوتے ہیں۔ اُن ممالک میں عموماً مذہبی رسم و رواج سے دوری اور ثقافت میں روایتی خاندانی نظام کا نظریہ ختم ہو جانے کے باعث طلاق شدہ والدین کے بچے نفسیاتی، معاشرتی اور معاشی خستہ حالی سے کسی قدر محفوظ رہتے ہیں۔

Read more

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

عورت نصف انسانیت ہے۔ عورت کے تصور سے ہی کائنات میں رنگ وبو ہے۔ عورت مختلف اور منفرد خصائل وصفات کی مالکہ، فہم وفراست، عود ومشک گلاب سے بہتر عزت وقار میں عرفہ وشفقت رحمت سے اس کے معور کا ہر خاکہ رنگین ومذین ہے۔ علامہ اقبال نے نہ جانے کس ترنگ میں آکر اپنے ایک مصرع میں وجود زن کو کائنات کی تصویر میں رنگ قرار دیا۔ بس ہم ان کے اسی ایک مصرع کو پکڑ کر کچھ ایسے بیٹھ گئے کہ زن بے چاری کو شمع محفل بنا کر ہی دم لیا۔ کیا شاہراہوں پر لگے قد آدم بل بورڈز اور کیا ٹیلی وژن پر چلنے والے الم غلم اشیاء کے اشتہار ’ان سب میں عورت ہی سے رنگ آمیزی کی کوشش کی جاتی ہے۔یہ مصرع ہر خاص و عام فہم کا شخص اس طرح استعمال کرتا ہے کہ جیسے عورت فقط ایک

Read more

اشرف المشروبات – چائے

مشروب سے مراد پی جانے والی رقیق چیزہے جو ”شُرب“۔ بمعنی پینا سے مشتق ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ کچھ پئیے بغیر زندگی ممکن نہیں۔ اہم ترین مشروب پانی ہے جسے ہر جاندار، ہر وقت اور ہر جگہ استعمال کرتا ہے۔ چین جیسے ترقی یافتہ ملک کا قومی مشروب سادہ پانی ہے جسے سرکاری وغیر سرکاری اداروں میں بڑے فخر پیش کیا جاتاہے۔ ہمارے ہاں غریب سے غریب شخص یا ادارہ مہمانوں کی سادہ پانی سے تواضع خلاف آداب سمجھتا ہے۔ سافٹ ڈرنکس یا اور چائے دو ہی توچیزیں ہیں جو ہمارا بھرم رکھے ہوئے ہیں۔ڈرنکس سے بوجوہ کبھی کبھار سرد مہری ممکن ہے مگر چائے کی شان میں گستاخی یا انکار گناہِ صغیرہ کی حدود تک جاتا ہے۔ فی زمانہ کوئی چیز چائے کی مثل اور ثانی نہیں۔ چائے کو تمام ڈرنکس پہ ڈھیروں فضیلتیں حاصل ہیں۔ یہ سیاسی، مذہبی اور سماجی تقریبات کی شان اور جزوِ لا ینفک ہے۔ سرکاری اداروں میں تو جیسے SOPs کاحصہ ہے کہ احباب اپنے فرائض کی انجام دہی کریں یا نہ کریں، چائے نوشی کے ناغے کا تصور بھی ممکن نہیں۔ کسی مہمان یا افسر کی آمد کی صورت میں چائے کا آ نابھی ناگزیر ہو جاتا ہے۔

Read more

عورتیں تو ظلم نہ کریں

ہندوستان کی تہذیب و ثقافت صدیوں سے ایک کام تواتر کے ساتھ کرتی چلی آئی ہے اور وہ کام ہے عورت کی تذلیل۔ عورت کو ستی کرنے کی رسم سے لے کر ساری ساری عمر بیوگی میں گزارنے کی روح فرسا روایات برصغیر کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ یہ روایات آج بھی اس ظالم، بدمعاش اور بدکردار معاشرے کا منفی چہرہ ہیں۔ اسلام، بدھ ازم اور بابا گرونانک ان رسومات کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔ یہ معاشرہ جو ہندو، بدھ، سکھ اور دیگر مذاہب میں تقسیم ہے لیکن عورت کی تذلیل میں یکجا ہے۔ حالانکہ برصغیر میں ان مذاہب کے جانکاروں نے ان رسومات کی ہمیشہ حوصلہ شکنی کی ہے لیکن یہ بدمزاجی اور بدمزگی شاید ہمارے ڈی این اے تک سرائیت کر چکی ہے۔

Read more

چھوٹی سی رشوت

گذشتہ دنوں پاسپورٹ بنوانے کی ضرورت پیش آئی۔ تو مجھے بھی وہی کام کرنا پڑا جس کام کی ہمیشہ مخالفت کی۔ دل سے برا جانا بلکہ شجر ممنوعہ سمجھا۔ اتنا برا سمجھا کہ اس کی مخالفت میں بول بول کر تھک گئی۔ کئی بار اس کے خلاف لکھا، دوسروں کو تلقین کی کہ اس پہ خاک ڈالئے، یہ غلط کام ہے، ایسا مت کریں۔ شارٹ کٹ مت ڈھونڈیں۔ لیکن سچ ہے کہ جس تن لاگے سو تن جاگے۔ جی تو قصہ کچھ یوں ہے کہ پاسپورٹ بنوانے جب پاسپورٹ دفتر پہنچے تو دفتر کے باہر مرد و زن کی لمبی قطار دیکھ کر حواس جاتے رہے۔یوں لگا ہمارے پاسپورٹ بنوانے کی مخالفت میں سارا شہر اکٹھا کیا گیا ہے تا کہ ہم بیرون ملک نہ جا سکیں۔ کہ ہو سکتا ہے شہر کی رونق ہم ہی سے ہو۔ اتنی لمبی قطار میں بھلا ہم۔ جیسے کہاں کھڑے ہو سکتے ہیں۔ کہ اب اقبال کے شاہینوں کے کرنے کے کیا یہ ہی چھوٹے کام رہ گیاہے۔ سو ہم شاہینوں کی لاج رکھتے واپس آگئے۔ واپسی پہ اپنے کسی جاننے والے سے رابطہ کیا کہ ہماری مشکل آسان کرنے میں مدد کی جائے۔ کہ لمبی قطار میں کھڑے ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن۔

Read more

عورت مارچ

آٹھ مارچ آیا اور رخصت ہوگیا لیکن اس دفعہ بڑی دھج دکھا گیا۔ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ اگر ہم سماج کو دائیں، بائیں اور لبرل خانوں میں رکھ کے دیکھیں تو ہر طبقے نے اپنی آواز اٹھائی۔ سڑکوں پر بھی اور سوشل میڈیا پر بھی خوب رونق رہی۔ اگر لبرل خواتین اپنی روٹی خود پکانے کا پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھیں تو کچھ مجاہد خواتین نے اعلانیہ نہ صرف روٹی پکانے بلکہ عزت بھی کرنے کا ردعمل دیا۔ اور ہمارے بائیں بازو کی بہنوں کا زیادہ زور اس بات پہ تھا کہ ہم مزدور اور مظلوم عورتوں کے حق میں کھڑے ہیں، لیکن وہ این جی اوز اور لبرل فحاشی ایجنڈے کو لتاڑنا نہ بھولیں۔

Read more

بیچارے میڈیکل سٹوڈنٹس

ان دنوں ہمارا ایم بی بی ایس سال اول کا امتحان ہو چکا تھا۔ عصر کی نماز پڑھ کے جب ہم تین دوست مسجد سے نکل آئے تو سورج بھی مغرب کی جانب بادلوں سے نکل چکا تھا۔ ہلکے ہلکے بادل آسمان پر ادھر ادھر گھوم رہے تھے جیسے انہوں نے بھی عصر کی نماز ادا کی ہو اور سکون کی حالت میں ہو۔گاؤں کی صاف ستھری فضا، کھیتوں کی ہریالی اور پرندوں کی چہک ویسے بھی بنی آدم کو شام کے وقت ہری بری کھیتوں کی جانب کھینچتی ہے لہذا ہم بھی سڑک کے کنارے آہستہ آہستہ گپ شپ لگاتے چلتے گئے۔

Read more

ایک بیٹی کی التجا

ابا شرو ع سے میرے آئیڈیل تھے میرے کیا شاید ہر بیٹی کے لئے اس کا باپ آئیڈیل ہی ہوتا ہے۔ یاد کی سیڑھی کے پہلے سرے پر ابا نظر آتے ہیں پینٹ کوٹ پہنے ہاتھ میں دھواں اڑاتا سگریٹ۔ سچ پوچھیں تو ہیرو لگتے تھے۔ پھر تھوڑی سمجھ آنے لگی تو ابا کے ہاتھ کا سگریٹ سٹائل سے زیادہ نقصان بتانے لگا۔ ہم لگے ابا کو منانے کہ مضر صحت ہے لیکن ابا کہاں مانتے تھے۔ ہزار ہا کوشش کے بعد بھی ناکام ہی رہے۔ 6 بیٹیوں کے بعد جب اللہ نے ابا کو 2 بیٹے دیے ابا پھر سے جوان ہو گئے لیکن دل بوڑھا ہو رہا تھا اچانک سے انجائنا اٹیک آیا اور ابا ڈر گئے کہ 6 بیٹیاں ہیں میری اور بیٹے کیسے ذمہ داری اٹھا پائیں گے۔ ابا نے اچانک ہی سگریٹ نوشی ترک کر دی اور صحت مند ہو گئے۔ ہم اسی فخر میں رہے ابا نے ہماری بات سنی ہے۔

Read more

سید وقاص علی شاہ سے آخری ملاقات

دبلا پتلا درمیانے قد کے 24 سالہ نوجوان کو میں نے ویڈیوز میں تقاریر کرتے دیکھا اس کا لہجہ ایسا تھا کہ پنڈال میں بیٹھے شرکاء کہیں کھو جاتے تھے، کبھی سر پر پٹی باندھے تو کبھی کیپ پہنے وقاص شاہ اپنی گرج والی آواز کے ساتھ نہایت ہی جوشیلے انداز میں لوگوں کے جذبات کو محو کرلیتا تھا۔سنہ 2015، یہ منگل کا روز تھا جب میری وقاص شاہ سے ملاقات ہوئی، اس سے قبل اُس سے کبھی اس طرح گفتگو نہیں ہوئی تھی، چونکہ اُن دنوں میں باصلاحیت نوجوانوں کی کھوج میں تھا تو اس لیے وقاص کا بھی انتخاب کیا جو تقریر اور الفاظ کی ادائیگی پر مہارت رکھتا تھا۔آپ کو اس تحریر کے ذریعے ملاقات کا وہی منظر دکھانے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ معلوم ہو کہ کیسا باصلاحیت نوجوان کھو گیا اور اُس کے قاتل چار سال گزرنے کے باوجود انجام تک نہ پہنچے۔

Read more

ہیروشیما کا بوڑھا کسان اور ہمارے آن لائن جنگجو

ھیروشیما کا بوڑھا کسان ایک پر سکون شام میں اپنے کھیتوں میں بیٹھا گہری سوچ میں گم ہے، آج بہت حد تک زندگی واپس لوٹ آئی ہے، لیکن سخت محنت میں گزرے بیسیوں سال اس کے دل و دماغ پہ نقش ہیں کہ کیسے بانجھ زمین پہ پھر سے گھاس تک اگانے کے لئے اسے سال ہا سال محنت کرنی پڑی لیکن یہ قیمت بہت ہی کم تھی اس نسلوں کے کرب سے جو نا کردہ گناہوں کے پاداش میں سہا گیا۔ عالمی سامراج کے مہروں کی لڑائی سے بوڑھے کسان کا کیا لینا دینا تھا، اسے کیا معلوم کہ اسلحہ ساز فیکٹریوں کے کاروبار کی وسعت کے لئے معصوم زندگیاں درکار ہوتی ہیں، دھرتی ماں کو قربانی دینا ہوتی ہے۔

سالوں کا قرب اس کے چہرے کی جھریوں سے عیاں ہے۔ یہ ان چند لوگوں میں سے بچا ہے جو اس روز کے قیامت خیز دھماکے میں زندہ بچ جانے والوں میں سے تھا۔ اسے معلوم ہے کہ جنگ کس چڑیا کا نام ہے، سارے خاندان کے مرنے کے بعد جینا کیسا ہوتا ہے، چند لمحوں میں چلتی پھرتی زندگیاں کیسے موت کا لبادہ اوڑھتی ہیں، جنگ کا آسیب کروڑوں زندگیاں لے کے ہی راضی ہوتا ہے۔ جس پیڑھی نے جنگ کے صرف افسانے پڑھے ہیں ان کو کبھی اس کی ہولناکی کا ادراک نہیں ہو سکتا۔

Read more

لفظ میراثی اور ہمارا سماج

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ میں ریڈیو پر ایک پروگرام کی کی میزبانی کرتا تھا۔ جس کا نام تھا ”میرا ورثہ میری میراث“ اس شو میں ہم ہر شعبہ زندگی سے وابستہ ان نوجوانوں کو بلاتے تھے جو ہماری دھرتی کہ ان فنون و ہنر کو لے کر آگے بڑھ رہے تھے جو کہ ختم ہو رہے ہیں اور بطور قومی ورثہ ان کو سمبھالنا ضروری ہے۔ اپنے ہر شو میں لفظ ”میراث“ کے حوالے سے میں سننے والوں کی توجہ اس طرف ضرور دلاتا رہا کہ ہمارے معاشرے میں لفظ میراثی کو ایک خاص سوچ کے پیرائے میں لے کر تمسخر، مذاق، اور طنز بنا دیا گیا ہے جو کہ اصلاح طلب نکتہ ہے مگر شاید اس پہلو کو اجاگر کرنے اور اس تاثر کو بہتر کرنے کے لئے کوئی ایک پروگرام کافی نہیں رہا۔

Read more

قانون کی تبدیلی اپنی جگہ، عملدرآمد اصل مسئلہ

پہلے زمانے میں بھی ایک بادشاہ گزرا، جسے یقین کی حد تک گمان تھا کہ اس کی رعایا بہت ایماندار اور پارسا ہے۔ بادشاہ کی اس بات سے اس کے وزیر کو اختلاف تھا۔ وہ سمجھتا تھا بادشاہ جیسا سوچتا ہے رعایا ویسی نہیں ہے۔ ایک دن بادشاہ کو جانے کیا سوجھی، اس نے سوچا رعایا کا امتحان لے کر دیکھتے ہیں۔ یہ خیال آتے ہی اس نے اپنے وزیر کو حکم دیا شہر کے بیچ درمیان ایک وسیع و عریض تالاب تعمیر کرائے۔ حکم کی جب تعمیل ہو گئی تو وزیر نے اطلاع دی، حضور تالاب تو بن چکا۔اب کیا حکم ہے؟ بادشاہ نے کہا! شہر میں منادی کرائی جائے کہ آج رات ہر شہری اس تالاب میں ایک گلاس دودھ لا کر ڈالے گا۔ صبح یہ تالاب مجھے دودھ سے بھرا ہوا چاہیے۔ سورج ڈھلا، اندھیرے نے پر پھیلائے تو شہری ایک ایک کر کے گلاس اٹھا کر آتے گئے اور اپنے حصے کا گلاس تالاب میں خالی کر کے واپس لوٹتے گئے۔ غرض رات پوری یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا۔ صبح پو پھوٹتے بادشاہ تالاب کی طرف نکلا کہ جا کر دیکھے رعایا نے اس کے حکم پر کتنا عمل کیا۔

Read more

میڈیا، بریکنگ نیوز اور ٹینشن

آج کل جس طرح کے حالات چل رہے ہیں ایسے میں تو یہی لگتا ہے کہ مسکرانا منع ہے جس طرف دیکھو بری خبریں ہی سنائی دیتی ہیں ایسے میں بندے کی گبھڑاہٹ ہی نہیں جاتی اس زمر میں میڈیا خاص اہمیت کا حامل ہے جنہوں نے ہر وقت سنسنی پھیلا ئے رکھنے کا عہد کر لیا اور اب تو یہ ٹرینڈ بن گیا ہے۔ ایک چھوٹی سی بات کو اس طرح سنسنی خیز بنا دیا جاتا ہے کہ کیا کہیے۔نیوز چینلز کی بات ہی مت کیجئے آپ خود ہی دیکھیے کہ جب بھی ٹی وی آن کریں اور نیوز چینل پر کریں تو کسی نہ کسی حادثے یا سانحے کی خبر ہی ملتی ہے، معجزہ۔ ہی ہوجاتا جب کوئی اچھی خبر سننے کو ملے۔

Read more

معاشرتی تبدیلیاں اور مذہبی ہم آہنگی

دور حاضر کی تیزی سے بدلتی روایات اور ثقافتی تغیر نے بلاشبہ معاشرے میں ایک ہیجان بپا کر رکھا ہے۔ معاشرے کا کوئی طبقہ ایسا نہیں جو اپنے آپ کو اس بدلتی صورت حال سے محفوظ تصور کرتا ہو۔ معاشرہ مغرب کا ہو یا مشرق کا سب ہی اس معاشرتی تغیر کا شکار ہیں۔ فرق ہے تو صرف اتنا کہ مغرب نے اس معاشرتی رفتار کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں جس کا فائدہ یہ ملا کہ انھوں نے مذہب اور معاشرت کو ایک کر کے اپنے لئے آسانیاں پیدا کر لی ہیں جس کے نتیجے میں وہ اپنے اپنے مذاہب کو ایک مسلسل ارتقائی عمل کے سپرد کیے ہوئے ہیں۔

انسانیت کو سب سے مقدم مذہب کا درجہ دے کر مغرب آج ہر اس قدم کو اٹھا نے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا جوانھیں بہتر دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں آج مذہب سے زیادہ معاشرت کے قوانین کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اور انسان کی بہتری اور فائدے کے لئے تجویز کردہ انسانی قوانین کی سختی سے عمل داری کی جاتی ہے جس کی وجہ سے مغربی معاشرے زیادہ مہذب اور ترقی یافتہ محسوس ہوتے ہیں۔ معاشرتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کے لئے ان کے معاشرے میں کوئی رعایت نہیں کی جاتی جس کے نتیجے میں وہ معاشرہ اور اس کے افراد قول و فعل کے پکے اور دیانت دار کہلاتے ہیں۔

Read more

”عورت مارچ“ عام عورت کے لیے تضحیک کا سامان ہے

گزشتہ برس 8 مارچ کو پاکستان کی خواتین نے انٹرنیشنل ویمن ڈے کی مناسبت سے عورت مارچ کا انعقاد کر کے اپنی طرز کی اچھوتی اور منفرد تاریخ رقم کر دی۔ پاکستان کے چند بڑے شہروں میں عورت مارچ کے نام سے چند منظم اجتماعات ہوئے اور خواتین نے اپنے لیے مساوی حقوق کا مطالبہ کیا۔ پاکستان جیسے معاشرے میں رہتے ہوئے قابل حیرت چیز یہ مطالبات نہیں تھے بلکہ خواتین کے وہ پلے کارڈز تھے جو مارچ کے دوران انہوں نے تھام رکھے تھے۔ان میں سے چند پلے کارڈز جو تقریباً پورا سال ہی مذاق اور تزہیک کا نشانہ بنتے رہے ان پر درج تحریر کچھ یوں تھی۔ ”میرا جسم میری مرضی“، ”اپنا کھانا خود گرم کر لو“، ”خواتین تمہارے باپ کی جاگیر نہیں“ وغیرہ وغیرہ۔ نتیجتاً پاکستانی معاشرے کا ہر فرد جو ہر معاملے میں اپنی رائے دینا انتہائی ضروری سمجھتا ہے نے اس ایشو پر بھی خوب کھل کے ریمارکس دیے۔

Read more

خواتین کا عالمی دن اور اسلام میں عورت کا مقام

8 مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد عالمی سطح پر خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنا اور ان کے حقوق کا تحظ کرنا ہے۔ اگرچہ پہلے خواتین کے عالمی دن کے لئے مختلف ایام تھے مگر اب باقاعدہ طور پر 8 مارچ کو ہی منایا جاتا ہے۔ اب یورپ سمیت دنیا بھر عورتوں کو حقوق دینے کے دعویدار ہیں مگر تارخی حوالوں سے دیکھا جائے تو خواتین کے عالمی دن کے منائے جانے کے حوالات بیسویں صدی کے اوائل میں ہی ملتے ہیں۔

Read more

”تذکار رفتگاں“ اھل علم کے لیے ایک علمی سوغات

اسوقت مولا نازاہد الراشدی صاحب کی تازہ تصنیف ”تذکار رفتگاں“ ہمارے سامنے ہے، کتاب کیا ہے پڑھ کر ہی اندازہ ہو سکتا ہے کہ کس پائے کی کتاب ہے اور اس میں کتنا قیمتی تاریخی علمی مواد موجود ہے، یہ کتا ب تقریباً نصف صدی سے زائد کے اکابر علماء، زعماء، مشائخ، قائدین، سربراہان مملکت اور قومی وبین الاقوامی شخصیات کے حالات زندگی کا احاطہ کرتی ہے، کتاب میں اس فانی دنیا سے رخصت ہوجانے والے اکابر اھل علم کی وفات پر ہلکے پھلکے انداز میں مولانا نے اپنے قلبی تاثرات وجذبات کا اظہار پیش کیا ہے، مولانا کو اللہ رب العزت نے گوناں گوں کئی صفات وکمالات سے نوازا ہے، علم وعمل، درس و تدریس، تقریر وتحریر، خطابت وصحافت، فقہ واجتہاد، تواضع وانکساری، جیسی صفات سے مالا مال فرمایا ہے،

Read more

ففتھ جنریشن وار

وہ دن گئے کہ جب جنگیں میدانِ جنگ میں روایتی ہتھیاروں سے لڑی جاتی تھیں. تین عظیم جنگوں میں 10 کروڑ انسانوں کو لقمہ اجل بنانے کے بعد بھی دنیا پر حکمرانی کی خواہش مند طاقتیں اپنے مقاصد میں جب کامیاب نہ ہو سکیں تو ان کے بڑے سر جوڑ کر بیٹھے اور کوئی ایسی ترکیب ڈھونڈنے لگے کہ ان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے. انہیں میں سے کسی نے ففتھ جنریشن وار فیئر کا تصور دیا. یہ غیر روایتی طرزِ جنگ کا ایک ایسا طریقہ ہے جس میں بغیر ہتھیار اٹھائے لاکھوں میل دور بیٹھی کسی قوم کو اپنا تابع بنایا جاسکتا ہے اور بجا طور پر اب تک ایجاد کردہ جنگ کے تمام تر طریقوں میں یہ سب سے مہلک ہے. اس جنگ کا سب سے بڑا ہتھیار میڈیا ہے جس کی مدد سے کسی قوم کو ذہنی طور پر اپنے من پسند نظریات اور خیالات ماننے پر مجبور کردیا جاتا ہے.ایک پاکستانی محقق کے بقول”اس قسم کے طرزِ جنگ میں میڈیا ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم سے بھی زیادہ افادیت و اہمیت رکھتا ہے۔جسے جمہوریت کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے دراصل وہی دشمن کا اہم ترین ہتھیار بن جاتا ہے”

Read more

انڈیا نے شرمندہ کروادیا

اگر کوئی شخص پوچھے کہ انڈیا کا کیا تعارف ہے تو آپ بلاتعصب کہیں گے کہ انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جس نے باوجود کثیرالقومی اختلافات کہ معجزانہ طور پر جمہوری نظام کو بلاتعطل جاری رکھا ہوا ہے۔ آپ یہ بھی کہیں گے کہ بھارت ایک سیکیولر ملک ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ بھارت کشمیر کے حق خودارادیت کا احترام نہیں کر رہا اور فسادات کے دوران اپنا پلڑا ہندو اکثریت کی طرف رکھتا ہے لیکن اگر وہاں موجود ہندو اکثریتی دباؤ کو دیکھا جائے تو ان حالات میں سیکیولر امیج بنائے رکھنا قابل تعریف ہے۔ حتی کہ بی جے پی واضح اکثریت لے کر بھی سیکیولر روایات کے خلاف قانون سازی میں ناکام رہی۔ علاوہ ازیں گجرات، مہاراشٹر اور یو پی کے علاوہ قریباً تمام انڈین ریاستیں سیکیولرازم پر سختی سے کاربند ہیں۔

Read more

جنگ کے خلاف جنگ ہونی چاہیے

بیچنے والے بھی کیا کیا کمال کرتے ہیں، کسی کو اس کی اپنی ہی چیز بیچ ڈالتے ہیں، کسی کو اس کی اشیآ کی افادیت اور حفاظت کے لیے اپنی مصنوعات کو لازم گردان کر بیچ ڈالتے ہیں۔ فروخت صرف اشیا کے عوض نہیں ہے بلکہ احساسات، جذبات، مذہب اور وطنیت کے عوض بھی جاری ہے اور یہ ذریعہٍ فروخت سب سے زیادہ منافع بخش تجارت ہے جو ہتھیاروں اور طاقت کی منڈی کو جٍلا بخشتا ہے۔ معروف معیشت دان جے بی سئے نے کہا تھا کہ رسد اپنی طلب خود پیدہ کر لیتی ہے مگر ہم جس تجارت کی بات کر رہے ہیں وہ طلب و رسد کے معاشی اصولوں سے ماورا ہے۔وہ کہیں طلب پہلے پیدا کرتی ہے اور رسد کا سامان بعد میں، کہیں رسد پیدا کر کے پھر اس رسد کے لیے منڈی پیدا کرتی ہے۔ کچھ جگہوں پر تو اس کو منڈی پیدا کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی، یہ اہتمام بعض جہلا نے اپنے طورپر کر رکھا ہوتا ہے۔ یہ منڈیاں کسی نہ کسی انجانے خوف کا پرچار کر کے وجود میں لائی جاتی ہیں جن کا مقصد یا تو اصل مسائل سے توجہ ہٹانا ہوتا ہے یا حاصل شدہ طاقت اور اقتدار کوجائز قرار دے کر عارضی استحکام بخشنا ہوتا ہے یا پھر حصولٍ اقتدار کا راستہ بنانا۔

Read more

مودی کی سیاست،آرمی کیپ اور ہماری عبادت گزاری!

سیاست تو صرف مودی ہی کر رہا ہے۔ کبھی مبمئی حملے کروا کے، کبھی پٹھان کوٹ پر یلغار کر کے، کبھی پارلیمنٹ پر حملہ کروا کے، کبھی اوڑی میں ٹانگ اڑا کے، کبھی گجرات میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل کے۔ اور اب پلوامہ میں اپنے نیم فوجی جوانوں کی لاشوں پر الیکشن کا تاج محل سجانا چاہتا ہے۔ مودی نہیں بلکہ سیاست گردی کا موذی کردار ہے جو پاکستان کے پہاڑی علاقے بالاکوٹ میں فضائی حملہ کر کے جیش محمد کے تین سو دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانے کا سہرا اپنے سر باندھ کر آنے والے الیکشن میں تین سو نشستیں حاصل کرنے کے درپے ہے۔اس نے تو الیکشن میں بہر صورت کامیابی حاصل کرنے کے لیے پوری دنیا کا امن داؤ پر لگا دیا ہے۔ مودی سیاست کاری کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ جب کہ اس کے ہم وطن حریف سیاست دان، ریٹائر جنرلز اور صحافی و تجزیہ کار دن رات مودی کی بازاری سیاست پر کیچڑ اچھال کے عین عبادت کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اپوزیشن لیڈر اور جناب عمران احمد نیازی کے دیرینہ دوست نوجوت سنگھ سدھو نے پلوامہ حملے کو ڈراما اور بالا کوٹ سرجیکل سٹرائیک کو سیاسی سٹنٹ قرار دے کر ان کی بھرپور مذمت کی ہے۔

Read more

توپ کے سامنے تمہیں باندھ کرا گر پھینک دیا جائے تو؟

معلوم نہیں مجھے ہند یاترا کا شوق کیوں ہے۔ شاید میرے اجداد وہیں سے ہجرت کر آئے تھے تب، یا شاید وہاں کے مختلف شہروں سے دلی لگاؤ ہے جو وہاں کے شہروں میں گھومنے کا اشتیاق ہے۔ دہلی، بنارس، ممبئی، کلکتہ، علی گڑھ، آگرہ، اجمیر، امرتسر، بنگلور، چندی گڑھ وہاں کے چند شہروں کے بے ترتیب سے نام ہیں جو دماغ کی تختی پر رقم ہیں۔ مجھے گوا کے ساحلوں پر ہوا خوری کی آرزو ہے۔ ایسے ہی مہران گڑھ پورٹ جودھپور، مودھرا سن ٹمپل، جے پور میں امبر پورٹ، چتوڑ فورٹ، دھنکر موناسٹری، کونارک کا سن ٹمپل، اجنتا اور ایلورا کے بتانِ برہنہ کی دید کا بھی اشتیاق ہے۔ لال قلعہ، ہمایوں کا مقبرہ، جامعہ مسجد دہلی، خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ کے مزار پر حاضری کو دل مچلتا ہے۔ لیکن یہ امنگ کب پوری ہوگی؟ کچھ نہیں کہا جا سکتا قریب قریب تو پورا ہونے کا امکان بھی نہیں ہے۔

Read more

خواتین کاعالمی دن

پاکستان سمیت دنیا بھرمیں خواتین کاعالمی دن آج 8 مارچ کو منایاجارہاہے، اس دن کو منانے کا مقصد خواتین کی اہمیت کو تسلیم کرنا اوران کے حقوق سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔ خواتین جو کہ انسانی آبادی کا نصف حصہ ہیں، انہیں ہمارے معاشرے میں عام طور پر صنف نازک کہا اور سمجھا جاتا ہے، آج کے جدید دور میں بھی کارو کاری، وٹہ سٹہ، ونی اور ستی جیسے جاہلانہ رواج عروج پر ہیں، جہاں عورت کو حقیر اور کم تر سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان میں گزشتہ تین برسوں میں قانون سازی کی گئی ہے۔ خواتین نے دنیا کے ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ جدوجہد کرکے ثابت کیا ہے کہ ان کی شمولیت کے بغیرکوئی بھی معاشرہ ترقی کی راہ پرگامزن نہیں ہوسکتا۔ خواتین کی معاشرے میں اسی اہمیت کواجاگرکرنے کے لیے دنیا بھرمیں سیمینارز، کانفرنسیں، ریلیاں ہو رہی ہیں۔ خواتین کے حقوق کا عالمی دن منانے کا مقصد ان بہادرخواتین کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جنہوں نے اپنے حقوق کے حصول کی جنگ لڑی آج سے تقریباً سو سال قبل نیو یارک میں کپڑا بنانے والی ایک فیکٹری میں مسلسل دس گھنٹے کام کرنے والی خواتین نے اپنے کام کے اوقات کار میں کمی اور اجرت میں اضافہ کے لیے آواز اٹھائی تو ان پر پولیس نے نہ صرف وحشیانہ تشدد کیا تھا بلکہ ان خواتین کو گھوڑوں سے باندھ کرسڑکوں پرگھسیٹا بھی گیا تاہم اس بد ترین تشدد کے بعد بھی خواتین نے جبری مشقت کے خلاف تحریک جاری رکھی۔

Read more

جاوید بھٹو سندھ کی امانت تھے

سنا ہے کل دو ہنسوں کا جوڑا اُڑتے ہوئے کراچی ایئرپورٹ پر پہنچے گا۔ جس میں سے ایک اشکبار آنکھوں سے اور دوسرا ابدی نیند سوئے ہوئے اپنی دلبر دھرتی پہ اتریں گے۔ نفیسہ آپ اور ادا جاوید تو ہر دفعہ اپنے دھرتی کو دیکھنے، اپنے عزیزوں اور دوستوں سے ملنے آتے تھے۔ پر ایسا استقبال تو کبھی نہیں ہوا کہ سوشل میڈیا پر خبر چلائی گئی ہو کہ آؤ اپنے محبوب دوست کا استقبال کرو اس کا جسدِ خاکی کو ریسوو کرو۔ یہ خبر دل کو ڈبونے کے لئے کافی ہے۔

Read more

ٹرینڈ میکر پارٹی اور سندھ میں نئے کلچر کی افزائش

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کے لئے سب سے زیادہ قربانیاں کسی پارٹی کے کارکنان نے اگر دی ہیں، تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ عوامی طاقت کے مظاہروں سے لے کر مزاحمتی سیاست کے طریقوں تک پیپلز پارٹی ایک ٹرینڈ میکر پارٹی رہی ہے۔ اس میں بھی کوئی مبالغہ نہیں کہ پیپلز پارٹی کی تاریخ مضبوط وفاق کی علامتوں اور سیاست کے روشن خیال حوالوں سے بھی عبارت ہے! مگر پ پ پ نے، بی بی کی شہادت کے بعد جس طرح بالائی ایوانوں سے عوامی دفاتر تک کرپشن کلچر کی ترویج روا رکھی ہے، اس نے سندھ کا ترقیاتی سفر بیحد سست کرنے کے ساتھہ ساتھہ، عوامی سطح پے جائز نائز، صحیح غلط اور اہل نا اہل کے درمیان تمیز کو بھی دھندلا کر دیا ہے۔

Read more

عورت کی آزادی اور نظریاتی جنگ کے قیدی

”ڈاکٹر حافظ اسامہ اکرم غوری کے قلم سے فیمن ازم کا شکار بہنوں کے لئے کچھ درد بھرے جملے“

کل 8 مارچ کو عورتوں کے عالمی دن کے طور پر منایا گیا۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق اس پر اظہار رائے کر رہا ہے۔ کچھ لوگ اس پر چٹکلے چھوڑ رہے ہیں، کچھ اس پر اپنی غیرت جتا کر پلے کارڈ اٹھائے ہوئے ہماری ہی مسلمان بہنوں کو لتاڑ رہے ہیں اور کچھ ”لٹھ برادر“ اس کے رد میں ”تحفظ حقوق مرداں“ کی تحریک چلانے کا اعلان کر رہے ہیں۔

لیکن ہم ہمیشہ کی طرح معاملہ فہمی سے عاری فقط جذباتی ہی واقع ہوئے ہیں۔ ہم اس بات کو سمجھ نہیں پارہے کہ جب تک کسی مرض کی جڑ تک پہنچ کر اس کا علاج نہیں کیا جاتا تب تلک ہم اس سے چھٹکارہ نہیں پا سکتے۔

Read more

خواتین کا عالمی دن اور آج کی عورت

میڈیا کے اس طوفانی دور میں ایک پروگرام نظر سے گزرا جسمیں ماڈرن اینکر کچھ لڑکیوں کے اوپر ہونے والے مظالم کو دکھا رہی تھیں جن کو سن کے روح اور جسم کانپ جائے کہ ہمارے معاشرے میں اس طرح بھی ہوتا ہے، لڑکیوں کی بیچارگی ان کے چہروں سے عیاں تھی جس کو دیکھ کر دل اور دکھتا تھا۔ میں یہ سوچنے پہ مجبور ہو گئی کہ ہمارے معاشرے میں ایسی تنظیمیں تو ہیں جو ان ایشوز کو اٹھاتی ہیں مگر ہم نے کبھی کوئی ایسا پروگرام نہیں دیکھا جس میں بتایا گیا ہو کہ یہ وہی فلاں لڑکی ہے جس پہ ظلم ہوا تھا اور آج ہم نے اس کو گروم کر کے اس قابل بنا دیا کہ یہ اب معاشرے میں سر اٹھا کہ جیتی ہے۔

میں نے سوچا اس میں ہم خواتین میں بھی تو کہیں کچھ کمی نہیں؟ کہیں ہم بھی اپنے مقصد ِ حیات کو جانے بغیر ہی تو نہیں جیتے چلے جا رہے؟ کہیں مذہب سے دوری ہمارے مردوں میں سے ہوتی ہوئی ہم تک تو نہیں آ پہنچی؟ ایسا ہے تو اس کا ازالہ ممکن ہے۔ ہم جب تک زندہ ہیں ہر نیا دن ہمیں ایک نیا موقع دے رہا ہے دوبارہ سے زندگی کو اس کے صحیح معنوں میں جینے کا۔ اور ہم سے یہ سوال ضرور کیا جانا ہے کے زندگی کس طرح گزاری؟ رب نے قرآن میں فرما دیا سورہ بقرہ میں کہ ہم تمھیں ضرور آزمائیں گے۔ تو یقیناً یہ سوال بھی اٹھے گا کہ جب آزمایا گیا تو ہمارا کیا رویہ رہا؟

خواتین کا عالمی دن آیا تو خیال آیا کہ بحثیت خاتون اس پہ اپنی رائے کا اظہار کیا جائے شاید کچھ اور لوگ بھی میری طرح سوچتے ہوں۔

Read more

عورت رے عورت!

عورت کو ہمارے معاشرے میں ہمیشہ برتا گیا ہے۔ مذہبی لوگ ہوں، لبرل یا کوئی تیسرا طبقہ جو کسی حد تک مذہبی اور تھوڑا بہت لبرل ہو ہر کسی نے ممکنہ حد تک عورت کا استحصال کیا اور مضحکہ خیز بات یہ کہ ہر طبقے نے اپنے علاوہ باقی سب پر یہ الزام دھرا کہ وہ عورت کے حقوق کے پاسدار نہیں۔ مذہبی مذہب کے نام پر بے جا پابندیاں لگا کر اور کالے کفن میں لپیٹ کر عورت کا استحصال کرتا رہا اور لبرل آزادی کے نام پر کھلے بندوں اسے سڑکوں پر آنے کے لیے اکسا کر یہی سب کر رہا ہے۔

عورت کو روایات سے بغاوت کے نام پر انتشار اور بدنظمی پھیلانے کے ٹول کے طور پر کام میں لایا جاتا رہا۔ مذہبی اور لبرل دونوں ہی طبقے خصوصاً عورت کے معاملے میں دو انتہاؤں پر کھڑے ایک دوسرے کو کھائی میں دھکیلنے کے خواہاں ہیں۔ اعتدال کا راستہ کسی نے نہیں اپنایا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عورت نے خود اپنے آپ کو ہمیشہ آسان ہدف بنائے رکھا۔ اس نے اپنے حقوق کو سمجھا نہ انہیں حاصل کرنے کے طریق پر توجہ دی۔

Read more

ٹک ٹوک۔ نوجوانوں کا نیا نشہ

پاکستان کے عوام بالخصوص نوجوان کو سوشل میڈیا کی یلغار نے گزشتہ چند برسوں میں بری طرح اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ جدید طرح کی ایپلیکیشنس نے نوجوان ں سل کوسو شل میڈاکی دنیا میں مشغول کر دیا ہے۔

ہماری نوجوان نسل سوشل میڈیا کی تخلیق کا مقصد تو دور کی بات اپنا مقا صد زندگی بھی بھولتے جارہے ہیں۔ شاید آج کل کے لوگ کھائے پیے بغیر تو زندہ رہ سکتے ہیں مگر سو شل میڈیا استعمال کیے گچھ گھنٹے بھی نہیں گزارسکتے۔

Read more

جنگ، پروپیگنڈا اور اخلاقی جیت

دنیا میں جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں ان میں کسی کو ہار تو کسی کو جیت ملی ہے۔ لیکن جنگ نے آج تک سوائے ایک فرد کے کسی کو بھی فائدہ یا نقصان نہیں پہنچایا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں ایک بادشاہ، ظالم یا طاقت کے نشے میں چور لوگوں نے اپنے مفاد اور طاقت کامظاہرہ کرنے کے لئے جنگیں لڑی ہیں۔ تاہم ان جنگوں میں ہزاروں ایسے لوگوں کی جانیں بھی گئی ہیں جو اپنے مالک اور آقا کے حکم کے سامنے بے بس تھے۔

Read more

خواتین کا عالمی دن اور فوقیت کی جنگ

خواتین کا عالمی دن کافی جوش سے منایا جا تا ہے اور ہر کوئی خواتین کو خراج عقیدت پیش کر تا ہے، کرنا بھی چاہیے کیونکہ ”وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ“ یہ کچھ غلط بھی نہیں۔ گھر گھرستی ہو یا کوئی بھی پیشہ پاکستانی خواتین ہر شعبے میں اپنا آپ منوا رہی ہیں۔ پولیس، طب، کاشت کاری، ریسلنگ، کرکٹ، ویٹ لفٹنگ، آئی ٹی یہاں تک کہ اگر موٹر سائیکل یا ٹریکٹر چلنے کی بھی بات آئے تو خواتین کسی طور کسی مرد سے کم نہیں۔ہاں یہ کہنا عجیب ہی ہے کہ ہم ہر جگہ خواتین کا موازنہ مردوں سے کر کے ایک قسم کی دوڑ میں لگ گئے ہیں جبکہ اس دوڑ میں لگنے سے قبل یہ سوچ ضروری ہے کہ مرد اور عورت دونوں پہلے انسان ہیں پھر ان میں جنسی فرق آتا ہے۔ جس سے کسی طور انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ خواتین کو کمزور سمجھ کر یا یوں کہہ لیں جسمانی طور پر کمزور سمجھ کر مرد حاکمیت جتانا اپنا حق سمجھ بیٹھتا ہے۔

Read more

قضائے عمری

کچھ عرصے سے نماز کے موضوع پہ لکھنا چاہ رہی تھی مگر قلم نہیں اٹھا سکی۔ ہمارے یہاں دین کے معاملے میں لکھنا ذرا ہمت طلب کام ہے۔ لیکن بحیثیت مسلمان ہم سب پہ فرض ہے کہ ہم وقتاً فوقتاً معاشرے کی دینی و معاشرتی اصلاح میں اپنا حصہ ڈالتے رہیں۔میں نے اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ نماز قضا ہو گئی، ان شا اللّٰہ کسی دن فرصت سے ایک ساتھ ساری ادا کریں گے۔ یا جو نماز چھوٹ جائے اسے پھر کبھی فرصت میں ادا کر لیں گے۔ لوگ شبِ معراج اور رمضان کے لئے بھی اپنی قضا نمازوں کو بچا کے رکھتے ہیں کہ ان دنوں میں ادائیگی کا ثواب زیادہ ملے گا۔ یہ دیکھ کہ افسوس ہوتا ہے کہ ہم ثواب کی دوڑ میں نماز کا اصل مقصد بھول گئے ہیں۔ اللّٰہ تعالٰی کے ہمیں دن میں پانچ بار اپنے سامنے حاضر کرنے میں نہایت خوبصورت حکمت پوشیدہ ہے۔ ہمیں وہ جاننی ہے۔ آئیں اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

Read more

خود بدلتے نہیں ہم، حکمرانوں کو بدل دیتے ہیں

یہ حقیقت ہے کہ حکمرانوں کی بے شمار ذمہ داریاں ہیں جن کو اچھے طریقے سے نبھانا ان کا فرض ہے اور وہ ان ذمہ داریوں کو اچھے طریقے سے نبھانے میں بڑی حد تک ناکام ہیں، لیکن اس کے باوجود ہرقسم کے فساد کا ان کو ذمہ دار ٹھہرانا اور معاشرے کی تمام تر برائیوں کو ان کی طرف منسوب کرنا بھی کوئی انصاف نہیں بلکہ ان میں سے اکثر ہماری اچھی تربیت نہ ہونے کا یا بے پروائی کا نتیجہ ہیں۔ اگر ہم ایک اچھا معاشرہ وجود میں لانا چاہتے ہیں تو ہمیں خود کو بدلنا پڑے گا نہ کہ حکمرانوں کو، نماز، روزہ کی پابندی، زکوۃ اور صدقات سے غریبوں کی مدد نمود و نمایش سے پاک حج، قرآن کی تلاوت، بڑوں کا ادب، چھوٹوں پر شفقت، رشتداروں سے صلہ رحمی، بیماروں کی تیمار داری اور بے کسوں کی دل جوئی یہ سب اور اس قسم کے تمام اچھے ک

Read more

آؤ جنگ لڑیں

شہادت کے جذبے سے سر شار ملک، عزت اور مذہب کے نام پر مر مٹنے کو تیار قوم کے ساتھ انڈیا کیا خاک جنگ لڑے گا؟ خیر یہ ہمارے جذبات ہیں ویسا بھی ہم جذباتی قوم ہے۔ ملک و قوم پر کبھی کوئی آنچ آنے نہیں دیں گے۔ مسلح افواج کا کام وطن کی دفاع کرنا ہے جو احسن انداز میں بخوبی اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ شیخ رشید اور فیصل واوڈا ہتھیار اٹھا کر بارڈر پر جانے کے لیے تیار ہیں، بلکہ فیصل واوڈا اگلے مورچوں پر پہنچ کر وطن کے محافظوں کے ساتھ سیلفی بنوانے میں کامیاب بھی ہوگئے۔ شہادت کا جذبہ ہمارے دلوں میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے ہیں۔ مودی نے اس قوم کو للکارا ہے جو پیدا ہی شہادت پانے کے لیے ہوتی ہے۔

Read more

آئی ایس او پاکستان ڈاکٹر شہید محمد علی نقوی کا لازوال تحفہ

دنیا میں وہی افراد کامیاب شمار کیے جاتے ہیں جنہوں نے اپنی آئیڈیالوجی کی خاطر تن من دھن کی قربانیاں دی ہیں اور ہر مشکل کو سر کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔جب تک انسان ایک خاص نظریے کے زیر سایہ چل رہا ہوتا ہے تو اس وقت تک وہ شخص اپنے ضمیر کا سودا نہیں کرسکتا۔ڈاکٹر شہید جہاں ایک شب زندہ دار شخصیت تھے اور عمومی طور پر دعا و مناجات کی محفلیں سجاتے تھے تاکہ نوجوان طبقہ شہوت نفسانی کا اسیر ہونے کے بجائے اس ہستی سے لو لگا بیٹھے کہ جس کی محبت دائمی‛ جس کا عشق لازوال اور جس کی رحمتیں بے انتہا ہیں۔ جس ہستی سے حقیقی رابطہ برقرار ہونے کے بعد کبھی یہ رابطہ ٹوٹنے کا نام نہیں لیتا‛ وہیں رہبانیت سے اجتناب کرتے ہوئے آپ خود بھی موجودہ حالات سے اچھی طرح آگاہ رہتے تھے اور اپنے دوست احباب کو بھی دنیا جہاں میں رونما ہونے والی نت نئی تبدیلیوں کے بارے میں خصوصی نظر رکھنے کا مشورہ دیتے تھے

Read more

صفائی نصف ایمان ہے تو حکومت کیوں ناکام ہے

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دین فطرت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس دین کو تمام انسانوں، خاص طور پر مسلمانوں کو تمام چھوٹی اور بڑی باتوں سے قرآن اور حدیث کے ذریعے سے آگاہ کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :”اَلطَّہُوْرُ شَطْرُالْاِیْمَان“ ”صفائی ایمان کا حصہ ہے“۔ اگر شرعی اصولوں کے مطابق طہارت نہ ہو گی تو ہماری کوئی بھی عبادت قبول نہ ہو گی۔ جیسے نماز سے پہلے وضو کرنا لازمی ہے اس طرح اپنے ارد گرد کے ماحول کو بھی صاف رکھنا انتہائی ضروری اور لازمی ہے۔ صفائی کا تعلق صحت سے ہے میڈکل سائنس کہتی ہے ہاتھوں کو دن میں پانچ دفعہ دھونے سے بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں سے پاکستان میں گندگی کی وجہ سے پھیلنے والی بیماریوں کی شرح میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔

Read more

میرا ٹیپو سلطان

کسی سیانے نے کہا تھا کہ اگر تم امن چاہتے ہوں تو جنگ کے لئے تیار رہو۔ سنا تو یہ تھا کہ جنگیں ہتھیاروں سے نہیں جذبوں سے لڑی جاتی ہیں۔ مگر کپتان سے پتہ چلا کہ جنگ کردار سے بھی لڑی جا سکتی ہے اور جیتی بھی جا سکتی ہے۔ کپتان تو شروع دن سے ہی خوش قسمت تھا، جس چیز کو چاہا اسے حاصل کیا۔ بلند حوصلہ، پختہ ارادے کا مالک، نا امیدی اسے چھو کر بھی نہیں گزری، کپتان نے محنت، کوشش اور لگن سے نا ممکن کو ممکن بنا کر دیکھایا۔1992 کا ورلڈ ہو یا شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر، نمل یو نیورسٹی ہو یا وزارت عظمی کی کرسی پر براجمان ہونا۔ یہ سب کپتان کی خوش قسمتی کی ہی داستانیں ہیں۔ بے شک یہ تمام کامیابیاں خدا کے خاص فضل و کرم کا ہی نتیجہ ہیں۔ کپتان کی یہی خوش قسمتی اب اس ملک کی کوشش قسمتی بھی بنتی جا رہئی ہے۔ عمران خان ایک ایسے وقت میں پاکستان کے وزیر اعظم بنے جب ملک کی معشیت قرضوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ملک کا ہرادارہ زبوں حالی کا شکار ہے۔

Read more

جس کو کوئی نوکری نہیں ملتی وہ استاد بن جاتا ہے

”جس کو کوئی نوکری نہیں ملتی اور کسی جگہ وہ جا نہیں سکتا تووہ استاد بن جاتا ہے۔ “ گزشتہ چند دنوں سے تعلیمی حلقوں میں بہت زیادہ چرچا جس بات کا ہو رہا ہے وہ ہمارے پنجاب کے صوبائی وزیر تعلیم جناب ڈاکٹر مراد راس کا یہی جملہ ہے جو کہ موجودہ اساتذہ کے بارے میں انہوں نے ایک پریس ریلیز میں اس وقت ادا کیا تھا جب وہ نئی تعلیمی اصلاحات کا تعارف کروا رہے تھے۔ اس بیانیے

Read more

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

8 مارچ خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1913 سے منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد خواتین کو مردوں کے برابر حقوق دلانا اور خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کو ختم کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جب جنت کو تخلیق کیا اور آدم علیہ اسلام کو جنت میں رکھا تو آپ علیہ السلام جنت میں اکیلے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ اسلام پر نیند غالب کر کے ان کی دائیں پسلی میں سے ایک پسلی نکال کر اس سے حوا کو پیدا فرمایا اور حضرت آدم علیہ السلام کی نکالی ہوئی پسلی کی جگہ کو گوشت سے بھر دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ عورت کی پیدائش پسلی ہوئی ہے اور پسلی ٹیڑھی ہوتی ہے اس سے نرمی احتیار کریں کیونکہ پسلی کو اگر سختی کے ساتھ سیدھا کریں گے تو وہ ٹوٹ جائے گی۔ اور اس کا ٹوٹنا ”طلاق“ ہے اس لیے حتی الامکان عورت سے نرمی احتیار کرو۔

Read more

عورتوں کا بین الاقوامی دن اور پاکستانی عورتوں کی حالت

امریکی عورتوں کا دن انیس سو گیارہ سے باقاعدہ طور پر مناتے ہیں۔ یوں تو یہ دن سرمایہ دار دنیا مناتے ہیں جہاں پر بھی عورت انسان نہیں جنس ہوتی ہے لیکن ایسی جنس جو کم از کم معاشی اور سماجی طور پر اتنی خود انحصار ہوتی ہیں کہ وہ اپنے فیصلے خود کرسکتی ہیں۔ چاہے ان کے اپنے والدین ہوں، رشتہ دار یا سماج کوئی طاقت یا مجبورکرکے ان پر اپنے فیصلے مسلط نہیں کرسکتا۔ اور اپنے زندگی کے ذاتی فیصلے خود کرتی ہیں۔ اتنی سی بات ہے جس کی بدولت مغربی ممالک سماجی، سیاسی اور معاشی طورترقی یافتہ ہیں۔ اگر کوئی کہے کہ عورت جنس نہیں انسان ہے تو سرمایہ داری نظام میں نہ صرف عورت بلکہ ہر فرد کو جنس اور نفع و نقصان کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اور یہ دن منانے کا مقصد عورتوں کے حقوق، ذمہ داری اور ترقی کے حوالے سے احساس دلانے کے لئے ہوتا ہے۔

Read more

غیر معمولی عورت

حسین عورتیں حیران ہیں کہ میرے فخر کا راز کیا ہے۔ میں پیاری نہیں، نہ کسی ماڈل جیسی جسامت میرا خواب ہےلیکن جب میں یہ کہتی ہوںتو گمان کیا جاتا ہے میں جھوٹی ہوںمیں کہتی ہوںمیرے بازوں کے ہالےمیری پشت کا پھیلاومیرے لبوں کے ابھارسب یہی بتانے کے لیے ہیںکہ میں عورت ہوں

Read more

پروفیشنل گروتھ

ہم نوجوانوں کی مشکلات میں شاید نہیں حقیقتاً اضافہ ہوچکا ہے کیونکہ آج مقابلہ کی فضا بڑھ گئی ہے اور آج کے نوجوان کو یوں محسوس ہوتا ہے کے اس کی مٹھی میں سے زندگی ریت کی مانند نکل رہی ہومگر ایسا بھی نہیں کے تمام رستے بند ہوچکے ہیں مگر آج کے نوجوان کو آگے بڑھنے کے لیے اپنی شخصیت میں بدلاؤ پیدا کرنے کی ضرورت ہے آس پاس ہونے والے تمام واقعات پر نظر رکھنا اہم ہوچکا ہے تاکہ پروفیشنل لائف میں سروائیول ممکن ہوسکے اور اس کے لیے کیا کچھ کرنا ضروری ہے آئیں میں آپ کو آگاہ کرتی ہوں۔

Read more

خواتین کا عالمی دن

خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے ہر سال ہم دیکھتے ہیں کہ خواتین کے حق میں ریلیاں نکالی جاتی ہیں جن میں شرکاء بڑے بڑے بینرز اٹھائے ہوتے ہیں جن پر خواتیں کے حقوق لکھے ہوتے ہیں مختلف ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز کا انتظام کیا جاتا ہے جس میں ہمارے معاشرے کی وہ خواتین جو کامیاب ہوتی ہیں مہمان خصوصی ہوتی ہیں اور خواتین کے مسائل پر بات کرتی ہیں یہ خواتین ڈاکٹر وکلاء صحافی انجینئر ہوتی ہیں اپنے شعبے کی ماہر ہوتی ہیں جو روز اپنے گھروں سے اپنے اپنے کاموں پر نکل جاتی ہیں اپنے گھر کو چھوڑ کر نکلنے والی یہ عورتیں بے شک ہمارے معاشرے کا فخر ہیں۔

لیکن ان خواتین کے علاوہ بھی کچھ خواتین وہ ہیں جو نہ تو ڈاکٹر ہوتی ہیں نہ صحافی نہ وہ وکیل ہوتی ہیں نہ وہ انجینئر یہ وہ خواتین ہوتی ہیں جو اُن تمام خواتین کے گھر میں جب موجود ہوتی ہیں جب وہ خود یا تو گھر سے باہر ہوتی ہیں یا پھر آرام کر رہی ہوتی ہیں۔ جی یہ ہمارے گھروں میں کام کرنے والی وہ خواتین ہوتی ہیں جو اپنے بچوں کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے اپنے گھروں سے نکلتی ہیں یہ وہ مجبور خواتین ہوتی

Read more

نہ جنگ کی تمنا، نہ راہِ فرار

”آپ کس سے جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔ آپ ان سے جنگی اقدام کر رہے ہیں، جن کا پختہ عقیدہ ہے کہ اگر وہ مرتے ہیں، توشہید ہوں گے۔ بلکہ ان کی زندگی ہی موت کے بعد شروع ہوتی ہے۔ گویا ایک طرف وہ ہیں جن کی موت ہی زندگی ہے، جو مرنا ہی اپنی حیات سمجھتے ہیں۔ ۔ اور دوسری طرف وہ جو مرنا نہیں چاہتے۔ یعنی ایک طرف وہ مرنے کو تیار اور دوسری طرف وہ جو مرنے سے فرار، اب ذرا سوچیں! کہ یہ کیسا مقابلہ ہے؟ کیا ان سے جنگ بے وقوفی نہیں؟ “ایک صحافی نے انڈین اینکر پرسن کے ایک سوال پر یوں لب کشائی کی۔تجزیانہ طور پر ان باتوں کو ذرا دلجمعی کے ساتھ سوچیں کہ، ان باتوں میں کس حد تک سچائی ہے کہ، کیا واقعی جنگ کرنا بے وقوفانہ حرکت ہوگی؟ جی ہاں!جس قوم کی حیات موت سے شروع ہو، اس کو مارنے کی دھمکی دینا، بے وقوفی نہیں تو اور کیا ہے؟

Read more

کھلی ایف آئی آر

ابتدائی اطلاعی رپورٹ نسبت جرم قابلِ دست اندازی پولیس زیردفعہ 154 مجموعہ ضابطہ فوجداریتاریخ و وقت رپورٹ :4 مارچ 2019، بوقت شام 7 بج کر 20 منٹنام و سکونت اطلاع دہندہ و مستغیث :ابن تقی، ہم سب ویب سائٹ کے لکھاری برائے اصلاحِ معاشرہ

Read more

پشاور کی بیٹی شہناز بیگم اور تعلیم سے محروم بچے

تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور یہ حق حکومت پاکستان اس ملک کے بچوں کو دسویں جماعت تک مفت فراہم کرتا ہے، تاہم اس کے باوجود لاکھوں کی تعداد میں ایسے بچے ملتے ہیں جو کہ اس حق سے محروم ہیں۔ تعلیم پر کام کرنے والے ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس وقت خیبرپختونخوا میں ایک اعشاریہ آٹھ ملین بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔ کہتے ہیں کہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے کرسی اور میز

Read more

ویمن ڈے

ویمن ڈے مغرب کی اختراع ہے جو آج تر قی پذیر ممالک میں بھیڑ چال کے طور پہ منایا جاتا ہے ۔ وہ مغرب جہاں عورت کو قانون کے نام پہ مردوں کے برابر حقوق دیے گئے اور ہر میدان میں مردوں کے شانہ بہ شانہ جگہ دی گئی وہاں ویمن ڈے کا نعرہ لگا نا اس کو منانا سمجھ میں آتا ہے لیکن پاکستان جیسا ملک جہاں عورت کی حیثیت نچلے طبقے میں جانور کی سی ہے جس کا

Read more

عالمی یومِ خواتین اور بھارت کی عورتیں

صرف بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ دینے سے خواتین کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ عالمی یومِ خواتین، خواتین کی سماجی، ثقافتی، اقتصادی اور سیاسی کامیابیوں کا عالمی جشن ہے۔ گزشتہ برسوں میں خواتین کے حقوق، مساوات اور انصاف کے لئے بے مثال عالمی تحریک دیکھی گئی۔ عالمی یومِ خواتین بین الاقوامی طور پر 8 مارچ کو منایا جاتا ہے۔ اِس کا ایک اہم ترین مقصد خواتین کی اہمیت سے دنیا کو آگاہ کرنا اور لوگوں میں خواتین پر

Read more

عینی کے لفظوں سے جُڑے چند خواب

کچھ کتابیں محض کتابیں نہیں ہوتیں علامتیں ہوتی ہیں۔ دوستی، تعلقات اور محبت بھری یہ علامتیں دیکھنے میں بہت خوبصورت لگتی ہیں۔ ایسی ہی ایک علامت ان دنوں میرے سرہانے بیٹھی مجھ سے سرگوشیوں میں رازونیاز کرتی رہتی ہے۔ مجھ سے کہتی ہے کہ میں اسے کھول کر اس کی خوشبو کو سمیٹ لوں۔ محبت سے گُندھی ہوئی اس تخلیق کا نام میرا اعتبار رکھنا ہے۔ قرۃالعین سکندر کی یہ کتاب محض کتاب نہیں ہے۔ یہ اُس کے خواب ہیں اور ان خوابوں سے لپٹی کچھ خوشبویئں ہیں جو کہانیوں کی شکل میں اُس نے صفحہ قرطاس پر منتقل کر دی ہیں۔

Read more

سردار عثمان بزدار! دور اندیش یا احسان فراموش

سردار عثمان بزدار بلوچ نے وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد جو کارکردگی دکھائی ہے اس پہ ہر ذی شعور کو اعتراضات ہیں لیکن سرائیکی وسیب کے لوگ عثمان بزدار کی اس بات سے بہرحال خوش ہیں کہ اب میگا منصوبے اور پچانوے فیصد بجٹ لاہور سے نکل کر ڈی جی خان کی طرف گامزن ہیں۔ لیکن ساتھ ہی سردار عثمان بزدار جس طرح بلوچ قوم پرستی کے مظاہرے کر رہے ہیں اس پر سرائیکی قوم پرست تحفظات کا بھی اظہار کر رہے ہیں۔ سردار عثمان بزدار خود کو سرائیکی قوم پرست کی بجائے بلوچ قوم پرست ثابت کرنا چاہ رہے ہیں حالانکہ وہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑے تھے اور جیتے تھے۔

Read more

آخر تم کرتی کیا ہو سارا دن

سارا دن گھر میں تھیں فلاں کام نہیں کرسکتیں تھیں؟ سارا دن فارغ ہوتی ہو گھر میں ایک کام یاد نہیں رہا تمہیں؟ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتا آخر تم کرتی کیا ہو سارا دن؟ ؟ یہ وہ کلمات ہیں جن سے تقریبا ہر مشرقی خاتون کی سماعت مانوس ہوگی اور شاید ہم مرد حضرات بھی۔ کیوں کہ ہم ہی تو وہ عظیم ہستی ہیں جو ان زہر آلود احسان فراموش اینٹوں سے ایک اچھی بھلی خاتون کو بگاڑنے

Read more

آؤ امن امن کھیلیں

کہتے ہیں کہ کسی ملک میں لکھے جانے والے ناول، بننے والی فلمیں اور ڈرامے اس ملک کی سوچ اور معاشرے کی عکاسی کرتی ہیں۔ میں اس میں مزید یہ اضافہ کرنا چاہوں گا کہ آج کل ہر ملک کا میڈیا بھی اس ملک اور معاشرے کا عکاس ہے۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات ہمیشہ سے ہی قابل افسوس رہے ہیں۔ دونوں ملک ایک سے ہی دو ہوئے لیکن 70 سال سے زائد عرصہ بیت جانے کے باوجود بغض کو

Read more

منظور پشتین میرے پشتون بھائی ہیں

منظور پشتین کی حمایت پر اپنا حلقہ احباب مخالف ہوگیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ منطور پشتین ملک دشمن ہے۔ غدار ہے۔ غیرملکی ایجنٹ ہے۔ اس کی حمایت چھوڑ دیں۔ جو ارد گرد کے لوگ حلقہ احباب میں شامل نہیں وہ مجھے کبھی قادیانی (احمدی) کہہ کر ڈراتے ہیں۔ کبھی فوج کے مخالف کہہ کر ڈراتے ہیں کہ ایم آئی کے اہلکار آئے تھے تمہاری تفصیل پوچھ کر لے گئے ہیں۔ کبھی آئی ایس آئی سے ڈراتے ہیں۔ بعض کھلے عام ملک دشمن کافراور غدار قرار دیتے ہیں۔خیرخواہ اور قریبی دوست رازداری سے کہتے ہیں کہ آپ منظور پشتین کی حمایت چھوڑ دیں۔ پشتین کون سے آپ کے چچا اور ماموں کا بیٹا ہے۔ آخر تمہیں کیا فائدہ ہے۔ ایک ہی جواب دیتا ہوں کہ منظور پشتین ملک دشمن نہیں اور نہ غدار ہیں وہ میرے پشتون بھائی ہیں۔ نہیں چاہتا کہ یہ رسم مزید چلے کہ ہم ملک دشمن اور غدار قرار دے کر حقوق کی آوزیں بند کرتے چلیں جائیں۔ منظور پشتین پاکستان کی اٹوٹ اکائی کا حصہ ہیں۔ بطور پنجابی جس طر ح میں ایک اکائی کا حصہ ہوں۔

Read more

اندھیروں میں ڈوباہوا روشنیوں کا شہر

اگر عوامی ضرورت کی سب سے اہم ایجاد موجودہ دور میں دیکھا جائے تو بلب اور بجلی کی ایجاد ہے۔ جن کے باہمی تعلق کی وجہ سے گھروں کو رونق ملی اور شہروں میں چمک آگئی ہے۔ اگر چہ بجلی ایجاد ہونے سے اب تک عشرے نہیں بلکہ صدیاں گزری ہیں لیکن اس کے باوجود سب سے اہم ضرورت بجلی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بجلی کی فراہمی کو عوامی بنیادی حقوق کی فہرست میں بھی شامل کردیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی کی یہ ایک آسان مثال بن گئی جس کے اعداد و شمار سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور فراہمی کو تولا جاسکتا ہے۔گلگت بلتستان اپنے قدرتی وسائل کی وجہ سے محققین کے لئے ہمیشہ سے دلچسپی کا باعث رہا ہے۔ بعض اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ یہاں پر ایک لاکھ میگاواٹ بجلی پیداکرنے کی صلاحیت ہے جبکہ باقی اعداد و شمار اس بات پر متفق ہیں کہ گلگت بلتستان میں کم از کم 50 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، اور 50 ہزار میگاواٹ کا یہ ہندسہ صرف پن بجلی کا ہے، جدید جنریٹرز، ہوا سے بجلی پیدا کرنا اور سورج کے ذریعے بجلی کی پیدا کرنے کی صلاحیتیں اس کے علاوہ ہیں۔ جن کو ساتھ شامل کرنے سے کئی گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔

Read more

انڈیا نے خود کو ہی شرمندہ کروا دیا

اگر کوئی شخص آپ سے پوچھے کہ انڈیا کی شناختی علامات بتائیں تو آپ بلاتعصب کہیں گے کہ انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جس نے باوجود کثیرالقومی اختلافات کہ معجزانہ طور پر جمہوری نظام کو بلاتعطل جاری رکھا ہوا ہے۔ آپ یہ بھی کہیں گے کہ بھارت ایک سیکیولر ملک ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ کہ بھارت کشمیر کے حق خودارادیت کا احترام نہیں کر رہا اور فسادات کے دوران اپنا پلڑا ہندو اکثریت کی طرف رکھتا ہے لیکن اگر وہاں موجود ہندو اکثریتی دباؤ کو دیکھا جائے تو ان حالات میں سیکیولر امیج بنائے رکھنا قابل تعریف ہے۔ حتی کہ بی جے پی واضح اکثریت لے کر بھی سیکیولر روایات کے خلاف قانون سازی میں ناکام رہی۔ علاوہ ازیں گجرات، مہاراشٹر اور یو پی کے علاوہ قریباً تمام انڈین ریاستیں سیکیولرازم پر سختی سے کاربند ہیں۔

Read more

آٹھ مارچ : عالمی یوم خواتین

خواتین کو جو مقام و مرتبہ اسلام نے دیا وہ دُنیا کی تاریخ پیش نہیں کر سکتی۔ جب سے ہم نے اسلامی سنہری اصولوں کو پسِ پشت ڈالا۔ وہ رشتے جو ہر لحمہ نبھانے کے تھے اب سال میں ایک دن منانے کی نوبت آن پہنچی۔ عالمی یومِ خواتین کا دن منانے کا آغاز امریکہ سے ہوا۔ جہاں 08 مارچ 1857 کو نیو یارک میں گارمنٹس فیکٹری کی خواتین نے کم اجرت ٗمشکل حالات کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔

Read more

سیانے پٹھان کہتے ہیں

سیانے پٹھان کہتے ہیں کہ ”ا حمق جب حماقت پر اتر آتا ہے تو مخالف کا اتنا نہیں بگاڑتا جتنا نقصان وہ خود کو پہنچا دیتا ہے“۔ پاکستان دشمنی کے سلسلے میں بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے بھی وہی احمقوں والا گیم کھیل کراپنے ملک کی وقعت کا جنازہ نکال دیا۔ پلوامہ حملے کا وجہ وقوع (Cause of occurence) کو نظر انداز کرنے کی بجائے مودی صاحب کو اس حملے کے بنیادی اسباب اور سیاق وسباق کو سمجھناچاہیے تھا کہ

Read more

جو گزرتے ہیں داغ پر صدمے

عام طور پر کہا یہی جاتا ہے کہ زمانہ بدل گیا۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ ”ہم“ بدل گئے ہیں۔ دور مت جایئے، ذرا ظاہری آنکھیں بند کرکے دل کی آنکھیں کھول کر اپنے ماضی کو کریدیئے۔ جنگ تو بہت بڑی اور ہولناکی کی بات ہے۔ ملک میں بھی اگر بد امنی پھیل جایا کرتی تھی یا حالات کوئی سنجیدہ شکل اختیار کر لیا کرتے تھے تو ریڈیو ٹی وی کا ہر پروگرام غم و اندوہ میں ڈوب جایا کرتا

Read more

کیا طالبان نے امریکہ کو استعمال کیا؟

پاکستان گزشتہ چالیس برسوں سے حالت جنگ میں ہے۔ اس جنگ کو غیروں کی جنگ کا نام بھی دیا گیا، وقتاًفوقتاً اس جنگ سے جان چھڑانے کی باتیں بھی کی جاتی رہی ہیں اور یہ بھی کہا گیا کہ اس جنگ سے منشیات اور کلاشنکوف کا کلچر پاکستان میں درآیا۔ ان دعووں میں کتنی حقیقت ہے اور ہم نے اس جنگ سے کیا کھویا اور کیا پایا؟ امریکی سی آئی نے 17 جنوری 2017 ءکو اپنی خفیہ دستاویز کو عام

Read more

ٹِک ٹوک (tik tok) ، نوجوانوں کا نیا نشہ :

پاکستان کے عوام بالخصوص نوجوانوں کو سوشل میڈیا کی یلغار نے گزشتہ چند برسوں میں بری طرح اپنی گر فت میں لے لیا ہے۔ جدید طرح کی ایپس (Applications) نے نوجوان نسل کو سوشل میڈیا کی دنیا میں مشغول کر دیا ہے۔ ہماری نوجوان نسل سوشل میڈیا کی تخلیق کا مقصد تو دور کی بات اپنا مقاصدِ زندگی بھی بھولتے جا رہے ہیں۔ ۔ شاید آج کل کے لوگ کھائے پیئے بغیر کچھ دیر تو رہ سکتے ہیں مگر سوشل میڈیا

Read more

پاکستان کی نامور خواتین

ویسے تو عالمی اقتصادی فورم W E F کے ایک سروے کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے جن میں خواتین کو صنفی امتیاز کے سلوک کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 149 ممالک کا سروے کیا گیا جن میں پہلے نمبر پر سعودی عرب دوسرا پاکستان تیسرا مصر اور چوتھا ملک یمن ہے جہاں خواتین دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت زیادہ صنفی امتیاز کا نشانہ بنتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان میں

Read more

OIC یا OH I SEE

عصرِ حاضر کے ایک مثبت اور روشن فکر دانش ور ندیم نے درست لکھا ہے کہ آج اُمتِ مسلمہ ایک روحانی تصور ہے سیاسی نہیں۔ اس سے ایک قدم آگے بڑھیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ خاص کر سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے دنیا نظریاتی بنیادوں کی بجائے معاشی مفادات کی بنیاد پر تعلقات استوار کرتی نظر آرہی ہے۔ اسلامی ممالک کے تعلقات کو سیاسی اور معاشی مفادات کے تناظر میں دیکھیں تو یمن میں سعودی جارحیت، ایران

Read more

خزاں سردی میں آتی ہے؟

کبھی آپ نے ٹنڈ مُنڈ درخت دیکھے؟ کبھی چِر چِر کرتے پتوں کی آواز سُنی؟ کبھی شاں شاں کرتی تیز ہواؤں سے پالا پڑا؟ کبھی کمرے سے باہر نکلنے پر ایسا لگا کہ جیسے باہر پھوار میں آ گئے ہوں آپ، جبکہ باہر موسم بالکل صاف ہو؟ کبھی آپ کے نصیب نہیں، بلکہ آپ کے پاؤں کی جلد پُھوٹی؟ کبھی سورج کو چِینُو مِینُو سا بچہ بن کر آتے اور فوراً ہی چھپ جاتے دیکھا؟ اچھا یہ بتائیے کہ آپ

Read more

سندھ میں عالمی خواتین دن منعقد کرنا کیوں زیادہ ضروری ہے؟

ہر سال کی آٹھ مارچ پر منعقد ہونے والا عالمی خواتین دن عنقریب مگر ایک سوال سب کے ذہنوں میں پیدا کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر اس دن کا منعقد کرنے کا بنیادی سبب تو عورت اور مرد کے درمیاں ہونے والا واضح امتیازی سلوک ختم کرنے کی ایک چھوٹی سے کوشش ہے۔ جس میں عورتوں کو مرد کے برابری دلانا اہم کردار ہے۔ چاہے وہ اقتصادی برابری ہو، قانونی ہو یا سیاسی معاشرے کے ہر پہلو پر تحریک

Read more

کشمیر کمیٹیوں کی کارکردگی

رہ رہ کر آج کل عالی جاہ، با اخلاق۔ وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان صاحب کے ملفوظات رذیلہ ستا رہے ہیں، یوں سمجھ لیجیے کہ رات کا سکون, دل کا چین ہی کہیں رفو چکر ہو گیا۔ پتا نہیں کیوں مجھے پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبال بار بار یاد آ رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا شجرہ نصب بھی جنت نظیر کشمیر سے تھا اور تین شادیاں کیں اور وہ بھی تینوں کشمیری گھرانوں سے۔ اس کے لئے ڈاکٹر جاوید اقبال کی تصنیف ”زندہ رود“ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ شاید وقت فرصت علامہ اقبال کے پوتے سینیٹر ولید اقبال ہی وزیر موصوف تک یہ کتابی نسخہ پہنچا دیں کہ ان میں بھی کشمیری خون ہی گردش کر رہا ہے۔ لیکن خدا جانے وزیر صاحب کو مطالعے کا بھی شوق ہے یا نہیں؟ فی الحال انداز تکلم سے لگتا تو نہیں ہے۔ ! اگر خواجہ آصف کے الفاظ مستعار لو تو کہوں

Read more

پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو خراج تحسین

کسی بھی ملک کی داخلی اور خارجی سیکورٹی کی ذمہ داری اس کی ایجنسیز کی ہوتی ہیں اللہ نے پاکستان کو بھی ایسی ہی سیکورٹی ایجنسی سے نوازا ہے جو ہر وقت ہر دم تیار رہتی ہے پاکستان کی حفاظت کے لئے جی ہاں پاکستان کی خفیہ ایجنسی ”آئی ایس آئی ISI“ جو انٹر سروسز انٹیلی جنس کے نام سے جانی اور پہچانی جاتی ہیں۔ یہ پاکستان کے دفاع کی آخری لکیر ہے۔ الحمد اللہ یہ دن رات ایک کر

Read more

سردی مفید ہے

ہمارے یہاں کئی اقسام کے موسم ہوتے ہیں، بنیادی طور پر پانچ ہوتے ہیں مگر سال میں ان کی تعداد چار ہوتی ہے، سٹھیا نہیں گیا، میں بالکل صحیح بیان کر رہا ہوں، جس طرح اگر کہوں کہ سال میں تین سو چھیاسٹھ دن ہوتے ہیں تو آپ پکار اٹھیں گے کہ اس کے دماغ کی چولیں ہل چکی ہیں مگر جب وضاحت کردوں کہ لیپ کا سال تین سو چھیاسٹھ دن کا ہوتا ہے، تو آپ میری بات سے

Read more

پاکستان امن چاہتا ہے لیکن؟

پاکستان کی مستعد ائیر فورس کی بر وقت جوابی کارروائی کے پیش نظر پاکستان کے شاہین صفت پائلٹ محمد حسن صدیقی نے جس جنگی مہارت کے ساتھ بھارت کے دو جنگجو طیارے مار گرائے اور بھارت کو پاکستانی سرحدی در اندازی پر جس طرح شکست و ریخت کا سامنا کرنا پڑا اس سے مودی سرکار کوبھارت میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں اپنی کمزور دفاعی استعداد پر بھی شرمندگی اٹھانا پڑی۔ پاکستان سے شکست کے بعد نریندر مودی کی

Read more

چست پائے جامہ اور سست لڑکے

بے شک پجاما تو پجاما ہی ہوتا ہے، چاہے چست ہو یا سست۔ یہ کہانی ایک نیک و معصوم طالب علم کی ہے جو اعلی تعلیم حاصل کرنے کی نیت سے ایک یونیورسٹی میں داخلہ لیتا ہے اور پہلے دن اپنی یونیورسٹی میں تیار ہو کر پہنچ جاتا ہے۔ اندر داخل ہونے کے بعد پہلی بار اپنی یونیورسٹی کا نظارہ کرتے ہوئے سیڑھیاں چڑھ رہا ہوتا ہے مگر اچانک معصوم کی نظر جینس، چست پجامے، اور بغیر بازو کے لباس

Read more

کالج میگزین: میری زندگی کے کچھ صفحے

گلابی گالوں بھوری آنکھوں والی تبسم کالج میں ایک کاپی لے آئی تھی۔ اس کاپی میں اس نے مختلف پروڈکٹس کے ریپر کاٹ کر نفاست سے چپکائے ہوئے تھے مجھے یہ کاپی بہت ہی پسند آئی پھر میں نے وہی کاپی بنانا شروع کی پر اس میں یہ اضافہ کیا کہ ریپر کے حساب سے شعر بھی لکھ دیتی تھی۔ یہاں تو ہر ایک لڑکی شعروں والی کاپی کے معاملے میں خود کفیل تھی۔ ایک کاپی تو ہر ایک کے

Read more

آْنکھیں بولتی ہیں

اللہ تعالی نے انسان کو حواس خمسہ سے نوازا ہے سننے، دیکھنے، سونگھنے، بولنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت دی ہے انسان ان پانچوں میں سے کسی ایک سے بھی محروم ہو تو یہ کمی کسی طور بھی پوری نہیں کی جاسکتی۔ آنکھیں تو اللہ کی وہ نعمت ہیں جن کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے پل بھر کو بھی اگر آنکھوں سے دیکھنا بند ہوجائے تو انسان بوکھلا جاتا ہے اور پھر اسے احساس ہوتا کہ وہ

Read more

بھارتی میزائل پلان ایک اور عادل ڈار کے انتظار میں

1971 کے بعد پہلی دفعہ بھارتی فضائیہ نے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہو کر کارروائی کرنے کی کوشش کی۔ یہ جملہ سنتے ہی سنسنی جنم لیتی ہے۔ پھر اس کارروائی پر مشتعل لوگ ایک سرپرائز کارروائی کی نوید بارے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں سنتے ہیں۔اگلی صبح دس بجے ایک ایٹمی طاقت دوسری ایٹمی طاقت کے دو جہاز گراتی ہے ایک پائلٹ کو زخمی حالت میں گرفتار کرتی ہے اور پھر چائے کے کپ پر گپ شپ چلتی ہے۔ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان باقاعدہ جنگ چھڑنے میں چند لمحوں کی دیری ہے۔ وزیر اعظم عمران خان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انٹیلیجنس رپورٹ پر انڈیا کے پاکستان پر میزائل داغے جانے کے پلان بارے آگاہ کرتے ہیں۔ یہ وہ پلان تھا جس کو شاید انٹرنیشنل پریشر اور ممکنہ ایٹمی ردعمل پر عملی جامہ نہی پہنایا جا سکا۔مگر یہ میزائل داغے جانے کی نوبت آئی کیوں۔ ؟

Read more

پاک بھارت جنگ، پنجابیوں اور کشمیریوں کا نقصان

یہ الفاظ میرے اپنے نہیں یا ذاتی تجزیہ بھی نہیں بلکہ وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تقریر کے دوران ادا کیے۔ پاک بھارت جارحیت کے خلاف قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں ہر رکن نے وطن کے دفاع اور سلامتی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا، سب نے ہی دشمن کو منہ توڑ جواب دینے پر سراہا۔وزیراعظم عمران خان نے خطے میں امن کی خاطر ایک روز قبل سرکاری ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کیا اور بھارت کو دوٹوک پیغام دیا کہ اب وہ پیچھے کے بجائے آگے کا پرامن راستہ تلاش کرے، مذاکرات کی میز پر آئے بات چیت سے ہی مسائل حل ہوں گے وگرنہ نقصان دونوں ممالک کے اقوام کا ہوگا۔سیاسی قائدین تقاریر پر مہارت رکھتے ہیں اس لے اسمبلی میں موجود سوائے دو جو آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیاب ہوئے اور تعلق (پی ٹی ایم) سے ہے کو بولنے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا، محسن داوڑ نے اس بات کا شکوہ بھی کیا کہ انہیں اسپیکر بولنے کا موقع فراہم کریں۔

Read more

سقوطِ ڈھاکہ اور بھٹو

آج بھی کئی لوگ بنگلادیش کے بننے کی وجہ بھٹو کو قرار دیتے ہیں۔ میرے خیال میں بھٹو کی صرف ایک غلطی تھی کہ وہ خاموش رہا۔ جس وقت بنگالیوں کے ساتھ زیادتیاں ہو رہی تھیں بدقسمتی سے اس وقت بھٹو حکومت کا حصہ تھا۔ لیکن بنگال کے ساتھ شروع سے ہی زیادتیاں ہو رہی تھیں۔ ایسا نہیں کہا جا سکتا کہ صرف 70 کے الیکشنز کے بعد یحییٰ کے کردار کی وجہ سے یا بھٹو کی وجہ سے بنگلادیش بنا۔ اس میں کافی عوامل شامل تھے۔ بنگالیوں کو فوج و بیوروکریسی میں بھی مناسب جگہ نہیں دی جا رہی تھی۔اس وقت کہا جاتا تھا کہ یہ چھوٹے قد والے کیا کریں گے فوج میں۔ بنگالی زبان کا اشو تو پاکستان کے بننے کے وقت سے ہی شروع ہو چلا تھا۔ ایوب خان کی صدارتی الیکشنز میں بھی مجیب الرحمان اور اس کے ساتھیوں نے فاطمہ جناح کو سپورٹ کیا تھا جس کے وجہ سے ایوب خان نے بنگالیوں بالخصوص مجیب الرحمان کو اس کی سزا دی بلکہ کچھ عرصہ کے لیے مجیب کو گرفتار کر کے جیل میں بھی ڈالا۔ 65 کی جنگ کے وقت بھی بنگالی کہتے رہے ہمیں بھی تحفظ فراہم کیا جائے لیکن وہاں آرمی نہیں بھیجی گئی اور انہیں بھارت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔

Read more

جنگ اور امن

جنگ کی عدم موجودگی کو امن کہا جاتا ہے، لیکن انسانی تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی سماج تاریخ کے ہر دور میں جنگ و جدل کی زد میں رہا البتہ ہر دور میں انسانوں کی اکثریت نے جنگ کی مخالفت کی ہے اور امن سے محبت کی ہے۔ کیونکہ جنگ و جدل میں بے شمار بے گناہ اور معصوم انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے، اس لیے دنیا بھر میں بے شمار انسان جنگ سے نفرت اور امن و سکون سے محبت کرتے ہیں، کیونکہ جنگ سے نہ صرف معاشرے تباہی سے دوچار ہوتے ہیں بلکہ غربت افلاس اور بھوک و بیماریوں کی وجہ سے تباہی برپا ہو جاتی ہے۔اکثر اوقات بڑی جنگوں کی صورت میں بڑے بڑے ممالک میں انقلابات بھی برپا ہوتے ہیں یا پھر بڑے بڑے ممالک زوال کا شکار ہو کر ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں مثلاً پہلی جنگ عظیم کے نتیجے میں زار روس کی بادشاہت ہمیثہ کے لیے ختم ہوئی اور زار روس کی بادشاہت میں دنیا کا سب سے بڑا سوشلسٹ انقلاب برپا ہوا جبکہ سلطنت عثمانیہ کا شیرازہ بکھر گیا، اور سلطنت عثمانیہ کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوا۔جبکہ دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے دنیا میں کبھی سورج غروب نہ ہونے والی تاج برطانیہ معاشی طور پر دیوالیہ ہو گیا اور سلطنت برطانیہ کا شیرازہ بکھر گیا۔

Read more

پاک بھارت امن وقت کی ضرورت

پلوامہ حملے سے پیداُ ہونے والی صورت حال کے بعد پاک بھارت تعلقات جو پہلے ہی سرد مہری کا شکار تھے ان میں جیسے آگ بھڑک اٹھی ہے۔ بھارت نے اس حملے کا تمام تر الزام حسب معمول اور حسب روایت پاکستان پر عائد کیا اور ایسا کرنے میں بھارتی حکومت نے اتنی جلد بازی دکھائی کہ ابھی جائے وقوعہ پر امدادی عملہ بھی نہیں پہنچا تھا۔ یہ بھارت کا ایک پرانہ وتیرہ ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو پاکستان پر تھوپ دیا جاتا ہے۔پاکستانی حکومت فوری طور پہ اپنا تعاون بڑھانے کا فیصلہ کر لیتی ہے۔پلوامہ واقعہ کے بعد اس مرتبہ بھارت کا رویہ بہت جارحانہ ہے اور مودی سرکار نے خطہ کو جنگ کی دلدل میں پھینکنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ موجودہ مگر بہت ہی کشیدہ سرحدی صورت حال کو ہمیں تین مختلف زاویوں دیکھنا ہو گا۔اوّل جنگ اگر ہوتی ہے تو اس کا دائرہ کس حد تک وسیع ہو سکتا ہے

Read more

ایبٹ آبادکے بارے میں

ایبٹ آباد، ضلع ایبٹ آباد کا صدر مقام اور صوبہ خیبر پختونخوا، پاکستان کا ایک اہم شہر ہے۔سطح سمندر سے اس کی بلندی 4120 فٹ ہے۔ راولپنڈی سے 101 کلومیٹر دور یہ پاکستان کا پرفضا مقام ہے۔ 1998 کی مردم شماری کے مطابق اس شہر کی آبادی 881,000 افراد پر مشتمل ہے اور 94 فیصد افراد کی مادری زبان ہندکو اور پہاڑی علاقے میں پہاڑی زبان بولی جاتی ہے۔

Read more

امن پرستی اور وطن پرستی

پلوامہ اٹیک کے کئی دنوں تک بھارت جنگ کی دھمکیاں دیتا رہا مگر کسی نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا یہاں تک کہ بدھ کے دن بھارت کے طیارے لائن آف کنٹرول کو کراس نہیں کر لیتے ہیں، جس کے بعد تفشیش بڑھ جاتی ہے اور پاکستان کے بہادر جوان ان کو نیست و نابود کر دیتے ہیں۔ اب سب کہنا شروع کر دیتے ہیں ابھی جنگ ہوئی ابھی ہوئی اور ابھی ہوئی، ہر جگہ انٹرنیٹ ہو، ٹی وی سکرین ہو یا موبائل فون ہو ہر جگہ ماحول گرم ہے ہر کوئی جنگ جنگ کرنے لگا ہوا تھا۔ہم لوگ یونیورسٹی میں تھے جب خبریں گردش زدہ عام تھیں، دل گھبرا رہا تھا، زبان سے بس یہی نکلتا تھا خدا خیر کرے۔ آزاد کشمیر کے ساتھی زیادہ پریشانی میں تھے، ان کے تو علاقے بھی خالی کرا لیے گئے تھے۔ مگر اس سب میں ایک چیز نمایاں تھی وہ جذبہ تھا کسی میں بھی کم نہ تھا، سب وطن کے لیے لڑنے مرنے کو تیار تھے، اس کی سکت ان میں تھی یا نہیں یہ الگ بات ہے۔ مگر اس سب میں، میں نے جو جانا ہے وہ یہ کہ بیک وقت وطن پرست اور امن پسند نہیں رہا جاسکتا ہے، یا تو وطن پرستی نبھائی جا سکتی ہے یا امن کی خواہش کی جا سکتی ہے۔

Read more

کوا مرا طبعی موت خدا، خدا کر کے

پرندوں میں اْلو اور کوے کو سب سے سیانا مانا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اْلو کی دانش کا راز اس کے تیز دماغ اور کوے کا اس کی عمرِدراز میں پوشیدہ ہے۔ جہاں تک بات اْلو کی ہے تو بھائی ہمیں زیادہ جانکاری نہیں، کہ کم بخت رات میں نمودار ہوتا ہے اور ہمیں جلدی سونے کی عادت ہے (یعنی نہ صرف ابھی تک کنوارے ہیں بلکہ سنگل بھی ہیں ) ۔ ہاں! مگر کوے کی بات الگ ہے۔ کوے سے ہماری واقفیت تب سے ہے جب سے اس نے ہمیں پہلی بار ’ٹھونگا‘ مارا تھا۔بڑے بوڑھوں سے سنتے آئے ہیں کہ کوے کی عمر قریب قریب 300 سال ہوتی ہے۔ اب اس بات میں کس قدر سچائی ہے اس کا علم تو خدا کوہی ہے مگر ہم کوے کی حادثاتی موت کا احوال بخوبی جانتے ہیں۔ ہم ہی کیا، پاکستان میں موجود بچہ بچہ جانتا ہے۔ خدا بھلا کرے واپڈا والوں کا کہ ان کی محنت کے نتیجے میں کووں کی آبادی کافی کنٹرول میں ہے۔ آپ نے یہ روح پرور نظارہ تو ضرور دیکھا ہو گا کہ جب بھی کوئی کوا حادثاتی طور پر اپنی جان سے ہاتھ دھوتا ہے تو نہ جانے کیسے اس کے سبھی رشتہ داروں، دوستوں، ہم شجروں اور موجودہ و سابقہ بیگمات کو اس کی خبر مل جاتی ہے۔

Read more

جنگ! تم سے نفرت ہے

بعض اوقات ہمیں معلوم ہی نہیں ہو تا کہ دشمن کی نفرت وعناد کی حدو د کہاں تک ہے وہ کس قدر عداوت و بغض کے سا نپ اپنے آستینوں میں چھپا ئے اپنے وار کا انتظار کر رہا ہے اسے ہما ری ہر کامیابی ترقی کھٹکتی ہے جس طرح فطرت تبدیل نہیں کی جا سکتی ویسے ہی نر یندر مودی جیسے لو وگوں کی ذہنیت بھی تبدیل نہیں کی جا سکتی۔بھارت میں کو ئی بھی حا دثہ ہو اس کی سا ری ذمہ داری پا کستان پر ڈا لنے میں کو ئی دیر نہیں لگا ئی جا تی یہی سب کچھ پلوا مہ حملے کے بعد کیا گیا ہو نا تو یہ چا ہیے تھا کہ پو ری ذمہ دا ری کے ساتھ وجوہات تلاش کی جا تی چھان بین ہوتی پھر کسی کو ذمہ دار ٹہرایا جا تا مگر مودی سرکا ر کو جنگ کا اس سے اچھاسنہری مو قع کب مل سکتا تھا رات کی تاریکی میں حملہ کیا جس کا جواب ہما ری فوجی جو انوں نے بھر پور انداز سے دیابھارت کا ایک پا ئلٹ گر فتار ہوا پا کستان نے بڑے پن کا ثبوت دیتے ہو ئے اسے وا پس بھی کر دیا لیکن افسوس کہ بھارت کھلے دل سے شکر گزارہو نے کے بجا ئے سرحدوں پر سیز فا ئر کا سلسلہ جا ری رکھے ہوئے ہے۔

Read more

پاک بھارت کشیدگی اور مودی

جنگیں دراصل دوصورتوں میں لڑی جاتی ہیں۔ پہلی صورت میں لڑنے والی جنگوں کو ہم ناگزیر صورتحال سے جنم لینے والی جنگیں کہہ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پرحالات اضطراری بن جاتے ہیں اوردشمن کے اقدام سے نمٹنے کی خاطر ایک ملک کو چاروناچار جنگ کی آگ میں کھودناپڑتاہے۔ جبکہ دوسری صورت میں لڑنے والی جنگوں کاسبب ناگزیر حالات نہیں ہوتے بلکہ اس کے پیچھے مطلق رعونت اور عیاشی کارفرما ہوتی ہے۔ ایسی جنگوں کی نوبت جب آتی ہے تو پھر طبل جنگ بجانے والے کسی معقول دلیل کوخاطرمیں لاتے ہیں، نہ ہی کسی کی مشاورت کاسہارالیتے ہیں۔پاکستان اور بھارت کے بیچ چھڑنے والی حالیہ جنگ بھی عیاشانہ جنگ کی ایک بین مثال ہے جس کاسہرانریندر مودی حکومت کو جاتا ہے۔ مودی نے ایک عیاشانہ جنگ کی ابتداء تو کردی لیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ آگے چل کر اس کے نتائج تباہی، بربادی اور انسانی جانوں کی ضیاع پر منتج ہو گا۔ نریندرمودی نے ایک غیرمعقول جنگ کا دروازہ تو کھول دیا لیکن ڈیڑھ ارب آبادی کے اس انتہا پسند حکمران کہ یہ معلوم نہیں تھاکہ جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں ملکوں کے درمیان یہ جنگ کسی بھی وقت جوہری ہتھیاروں کی جنگ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

Read more

استفادہ ءعام اور تحدیثِ نعمت کے لیے

انسان دیکھنے میں زندگی سے بھرپور تونگرو توانا لگتا ہے لیکن بعض اوقات ایک اچھے خاصے انسان کی ز ندگی د یکھتے ہی دیکھتے ہاتھوں میں آ جاتی ہے۔ شایدبیمار ہو کے بچنا بچ کر بیمار ہوجا ناپھر دوا کھانا اور صحت ہو جانازندگی کو کرنے کا ہے ا ک بہانہ

Read more

پے لوڈ کے ساتھ مورال بھی گر گیا

صرف ایک ہفتے میں اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کے ساتھ بھارت کے تمام ادارے اور تکبرانہ سوچ زمین بوس ہوتی ہوئی پوری دنیا دیکھ چکی ہے۔ جنگ کا ماحول بنا کر نریندرا مودی جو فوائد حاصل کرنا چاہتا تھا اس سلسلے میں اسے مکمل ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ نریندر مودی کے حکم پر بھارتی ایئر فورس نے بالاکوٹ میں دراندازی کی جو واردات کی تھی اس سے بھارت کے لئے مایوسیوں کے سفر کا آغاز ہوگیا

Read more

جنگ میں کسی کی جیت نہیں۔ انسانیت کی شکست ہوتی ہے

تقسیم ہند سے اب تک ہندوستان نے کبھی پاکستان کو تسلیم نہیں کیا، پاکستان کے قیام کے بعد 1948 میں ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی جنگ کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں کشمیر کا ایک حصہ قابض بھارت کے تسلط سے آزاد ہوا۔ 1965 میں پھر بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی اور لاہور پر غیر اعلانیہ حملہ کردیا۔ اس جنگ کو ٹینکوں کی دوسری بڑی جنگ کہا جاتا ہے۔ یہ جنگ بھارت نے

Read more

پاکستان تجھے سلام!

اڑتالیس سال بعد ہندوستان اور پاکستان کی افواج میں سے ائیر فورس نے ایک دوسرے کی ہوائی حدود پار کی گئیں۔ اس کی وجہ بنی ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی کا پہلے پلوامہ میں ہونے والے حملے کا پاکستان پر الزام لگانا اور پھر اسی کو بنیاد بنا کر پاکستان میں مزعومہ جیشِ محمد کے ٹھکانوں پر ہندوستان کی طرف سے بمباری کرنا۔ پاکستان کا موقف بہت واضح تھا کہ ہندوستان پلوامہ میں ہوئی دہشت گردی میں پاکستان کے ملوّث

Read more

پاک بھارت نہیں، پاک امریکہ جنگ؟

جنوبی ایشیا جغرافیائی اعتبار سے ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔ جب سے ہوش کے آنگن میں قدم رکھا، تاریخ کا مطالعہ کیا، حقیقت کی چادر دنیاوی ننگے کھیل کے بدبودار جسم سے اٹھنے لگی۔ انسانی تعلقات اور تہذیب کی بقا و نمومیں دو عنصر مضمر ملے ”اطاعت اور حکومت“۔ جو قومیں محض ارادہ و اناکے بل بوتے پر زندہ رہنا چاہتی ہیں، اطاعت کی صلاحیت سے یکسر محروم ہیں، وہ صلاحیت کے استعمال کو باعث ننگ سمجھتی ہیں۔ اس سے کم پر راضی نہیں ہوتیں، ہم قدمی سے بھی جی چراتی ہیں۔وہ صرف حکومت ہی کرنا چاہتی ہیں، ان کے مقدر میں اندھیرے لکھے ہیں، بہت ہی کم اقوام اپنے خواب شرمندہ تعبیرکرپاتی ہیں اور ایسا صرف ان کی سوچ و لگن کا باعث ممکن ہے۔ بات کڑوی ضرور ہے مگر سچ ہے، دوستی، محبت تکریم ہر مال بکاؤ ہے۔ کسی کی کوئی قدر نہیں، دور نہ جائیں اپنی دھرتی ماں کو دیکھ لیں، 70 سالوں میں جو آیا اپنی اناؤں کے بھنور میں پھنسا ملا، ہر بار نئی داخلہ و خارجی پالیسی دیکھنے کو ملی ہے۔

Read more

ہم محبت نہیں کر سکتے کیا؟

بھارت سرکار نے ایک دھماکے کا الزام پاکستان پر لگایا کہ دھماکے کرنے والے پاکستانی تھے۔ جس پر پاکستان کی حکومت نے بہت اچھا جواب دیا کہ ثبوت دیا جائے ہم کارروائی کریں گے۔ مگر بھارت کی سرکار نے ثبوت دینے کی بجائے جنگ کا ماحول پیدا کردیا۔ باقی تمام کہانی سے سب واقف ہیں۔ پاکستان کی سرکار نے ایک قدم اور بڑھ کر امن کی بات کرتے ہوئے گرفتار بھارتی پائلٹ کو رہا کردیا اوربا عزت طریقے سے بارڈر پار بھارتی حکام کے حوالے کردیا۔امن کے خواہاں حلقوں، باشعور پاکستانیوں سمیت دنیا بھر نے پاکستانی سرکار کے اس عمل کو دادتحسین دی اورسراہاہے کہ وزیراعظم عمران خان نے تدبر، دانش مندی اور صلح جوئی کا بہترین مظاہرہ کیا ہے۔ مگر اس کے برعکس پاکستان کے عوام کی اکثریت نے جنگ کے شعلے بھڑکائے رکھنے کی خواہش کا برملا اظہار کرتے ہوئے امن کی بجائے جنگ کو ترجیح دی ہے اور وزیراعظم عمران خان کے اقدام کو مسترد کیا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ ہم امن کی بجائے جنگ کے دلدادہ کیوں ہیں۔

Read more

آو جنگ کریں

شاید میرا یہ مشورہ طبع نازک پر گراں گزرے کہ کیسی احمق ہے جو امن کی بجائے جنگ کی بات کر رہی ہے جی میں بقائمی ہوش و حواس لکھ رہی ہوں کہ چلیں ہم سب مل کر جنگ کرتے ہیں۔ جنگ کیا ہے؟ اپنی اپنی بہترین قوتوں کا استعمال ہے ناں؟ اپنی سلطنت کی بقا کی لیے لڑئی جاتی ہے۔ اپنی قوم کے کمزوروں کی حفاظت کے لیے طاقتور ان کا دفاع کرتے اور ان کو دشمن سے بچاتے ہیں۔تو آیئں آج سے ہم بھی ایک نئی جنگ شروع کرتے ہیں۔ اگر ہم اتنے ہی طاقتور ہیں۔ اتنی ہمت رکھتے ہیں تو میں ان دونوں ملکوں سے کہتی ہوں

Read more

مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے

مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے۔ اے اے مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے کل سر پر دوپٹہ اوڑھ کر بجلی والے ہیڑ کے سامنے بیٹھے ہوئے بہت جذب سے گا رہی تھی۔ گھر کے بچوں نے سن کر خوب لطف لیا کہ بیٹھے بٹھائے بظاہر سلجھی ہوئی سنجیدہ سی پھوپھی کو کیا سوجھی کہ باقاعدہ راگ الاپنے لگی۔ ابھی میرا من تو مزید جنگی ترانے گانے کو تھا۔ لیکن یہ نئی پود کیا جانے کہ جب دل

Read more

کشمیر پر ہمارا رویہ معذرت خواہانہ کیوں ہے؟

پچھلے کئی سالوں سے خارجہ محاذ پر ہندوستان کی مسلسل پیش قدمی نے کشمیر کے معاملے پر ہمیں دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا تھا۔ کشمیر کا مسئلہ کبھی ہندوستان کے گلے کی ہڈی ہوا کرتا تھا، اور بھارت کے پاس کمیشر میں اس کی سیکیورٹی فورسز کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے دفاع میں کہنے کے لئے زیادہ کچھ نہیں ہوتا تھا، مگر پھر بھارت کی معاشی ترقی نے جہاں دنیا بھر کے سرکردہ ممالک

Read more

جذباتیت اک کارگر ہتھیار

پاکستان کے عوام کی منتشر خیالی ہی اصل میں ملک کی ناز ک صورتحال ہے۔ دانستہ قوم کا لفظ استعمال کرنے سے گریزاں ہوں۔ حالیہ جنگی ماحول میں اس امر کی قلعی کھل کر سامنے آگئی ہے کہ 72 سالہ سفر میں بطور پاکستانی قوم بننے اور قوم کی طرح جینے کے ڈھنگ سے ہم کوسوں دور ہیں اور دور ہوتے جا رہے ہیں۔ جذباتیت کے گھوڑے پر سوار ہیں جو معلوم نہیں کہا ں رکے گا۔ دلچسپ امر ہے

Read more