وہ آئیں گھر میں ہمارے

آسٹریلیا میں کوئی تقریب منعقد کرنی ہو تو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس میں مدعوین کا انتخاب اور مہمانوں کی درست تعداد کا اندازہ لگانا سب سے مشکل کام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر تقریب کا اپنا مزاج ہوتا ہے۔ ہر شخص ہر تقریب کے لئے موزوں نہیں ہوتا یا ہر تقریب ہر شخص کے لئے ایک جیسی دلچسپی کی حامل نہیں ہوتی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہر تقریب کی اپنی گنجائش ہوتی

Read more

کچھ باتیں شعیب بن عزیز کی

لاہور کن کن نعمتوں سے محروم ہوا۔ انہی میں سے ایک مال روڈ کا شیزان ریستوران بھی ہے۔ اس کے جلنے کے ساتھ ہماری مل بیٹھنے کی اک تہذیبی روایت بھی جل گئی۔ چلو اچھا ہی ہوا۔ اب یاروں کو فرصت بھی کہاں رہی ہے۔ وہ فرصت فارغ البالی کے ٹھنڈے میٹھے زمانے اور تھے۔ اب نہ وہ لوگ رہے اور نہ ہی وہ فرصت اور نہ ہی آپس میں انس و محبت اور رواداری۔ ”تھے کتنے اچھے لوگ کہ

Read more

فرید الدین عطار کی مثنوی ’‘ منطق الطیر ”کے بارے میں

ایران کے شہر نیشاپور پر چنگیز خان کے حملے کے دوران ایک شخص کو گرفتار کیا گیا۔ جلد ہی کسی نے، اس شخص کو پہچان کر، اس شخص کو گرفتار کرنے والے منگول سپاہیوں کو اس شخص کی رہائی کے بدلے بطور تاوان ایک ہزار چاندی کے سکوں کی پیشکش کی۔ اس شخص نے بڑی بے اعتنائی سے سپاہیوں کو متنبہ کیا کہ اس کو اس قیمت پر نہ بیچا جائے، کیونکہ وہ اس قیمت سے کہیں زیادہ گراں ہے۔

Read more

اکرم کنجاہی کی کتب :غزل کہانی اور شعور سے لاشعور تک

”مجھے دل سے یقین ہے کہ میں لکھنے کے لیے پیدا ہوئی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ میں لکھ کر اپنی زندگی کا مقصد پورا کر رہی ہوں۔ میرے کتبے پر یہ الفاظ قابل تعریف ہوں گے ۔ ”وہ لکھنے کے لیے زندہ تھی“ ۔ مارگریٹ منکس کی طرح شاید ہر لکھنے والے کی کم از کم یہ خواہش ضرور ہوتی ہے کہ اس کے بعد کہیں نہ کہیں یہ تذکرہ ضرور ہوتا رہے کہ وہ لکھنے کے لیے زندہ

Read more

ورجینیا وولف اور سلویا پلاتھ کا خودکشی سے پہلے آخری خط

انگلستان کی مایہ ناز ادیبہ ورجینیا وولف نے مارچ 1941 میں فیصلہ کیا کہ وہ ڈپریشن کی اذیت سے اتنا تھک چکی ہیں وہ مزید زندہ نہیں رہنا چاہتیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے کوٹ کی جیبوں کو بھاری پتھروں سے بھرا اور اپنے گھر کے قریب دریا میں اتنی دور تک چلتی چلی گئیں کہ واپس لوٹ کر نہ آئیں۔ خودکشی کے لیے گھر سے رخصت ہونے سے پہلے وہ اپنے شوہر لینرڈ وولف کے لیے ایک خط چھوڑ گئیں

Read more

سید نذیر نیازی ’بیاض یادداشت اور علامہ اقبالؒ!

علامہ اقبالؒ کی شاعری میں ہمیشہ امت کا درد ’آزادی‘ اتحاد ’یگانگت‘ شعور بیداری کے پیغام کے ساتھ ہی امت کے زوال کا درد بھی ہے ’انہوں نے شاعری سے مسلمانوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کیا۔ انہوں نے مرض کی صحیح تشخیص کر کے نہ صرف غلامی کے خلاف علم بلند کیا۔ بلکہ تہذیبی‘ تمدنی ’معاشرتی اور ذہنی غلامی کا طلسم بھی پاش پاش کیا۔ انیسویں‘ بیسویں صدی کے استعماری دور میں مسلمان ممالک غلامی میں پوری طرح جکڑے

Read more

عشق وہ کار مسلسل ہے… راشد رحمن کی جدوجہد

دسمبر کے آغاز میں سیالکوٹ میں پریانتھا کمارا کے ہجوم کے ہاتھوں قتل نے پوری قوم کو ہلا کے رکھ دیا اور دسمبر کے اواخر میں راشد رحمن کے بارے میں توصیف احمد خان کی لکھی ہوئی کتاب میرے سامنے آئی تو مجھے یوں لگا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب توہین مذہب کے نام پر جھوٹے الزامات لگانے اور اور اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ مجھے نہیں معلوم آج

Read more

شہید بینظیر بھٹو! مزاحمتی سیاست کا استعارہ

پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد سے ہی ریاستی وسائل، عوامی اختیارات پہ نا اہل سول اور ملٹری افسر شاہی قابض ہو گئی، پاکستان اسی کشمکش میں دولخت ہوا، مگر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی اقتدار و اختیار کی بھوک ان کی ہوس کم نہ ہوئی، ان کے اس بھوک کے خلاف، سماجی نا انصافیوں کے خلاف، آئین کی بار بار پامالیوں کے خلاف، عوام کے حقوق پہ ڈاکوں کے خلاف، ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کی جدوجہد

Read more

با ادب، با ملاحظہ ہوشیار

  اردو کے مباحث میں غلط العام کا چلن عام ہے مگر چند ستم گزیدہ الفاظ تو معنویات کی دیوار میں ایسے چنوا دیے گئے کہ شراب سیخ پر اور کباب بوتل میں جا پڑا ہے۔ ان کے جہان معانی میں زمین و آسمان کا فرق ہے پر اپنے متضاد معنی میں طمطراق سے مستعمل ہیں اور خوب ہیں۔ چنداں ملاحظہ ہوں۔ مغوی و مغویٰ سب کا ادبی اجتہاد ہے کہ مغوی اغوا ہونے والے متاثرہ فرد کو کہتے ہیں۔

Read more

غالب کے یوم پیدائش پر۔ انٹرنیٹ جنریشن کا غالب کے نام خط

ہیلو انکل! امید ہے جہاں ہیں خیریت سے ہوں گے۔ کم از کم دلی کے اجڑے دیار سے بہت اچھی زندگی گزر رہی ہو گی۔ سب سے پہلے تو جنم دن پہ بہت بہت مبارکباد۔ میں جانتی ہوں آپ یہ سمجھ رہے ہوں گے کہ میں آپ کے ہزاروں مداحوں میں شامل ہوں اور اب آپ کی شاعری کی تعریف کروں گی۔ آپ کی عظمت کا اعتراف کر کے پھر نئی غزل کی فرمائش کروں گی۔ لیکن ایسا ہر گز

Read more

”تھو کوڑی“

اتوار کی رات سونے سے قبل سوشل میڈیا پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ اس دن منیرؔ نیازی صاحب کی برسی بھی تھی۔ یہ جان کر یاد یہ بھی آیا کہ آج سے کئی ماہ قبل اس کالم میں عہد باندھا تھا کہ کچھ وقت نکال کر منیرؔ صاحب کی شاعری کو غور سے پڑھا جائے گا اور پھر ان کے شعروں کا حوالہ دیتے ہوئے اصرار ہو کہ وہ وطن عزیز کے ٹھوس حقائق کے حقیقی ترجمان تھے۔

Read more

ہاروکی موراکامی کا ناول: Norwegian Wood

جدید فکشن نگاری میں ہاروکی موراکامی ایک بڑا نام ہے۔ وہ جاپانی ادب کے نمایاں لکھاریوں میں سے ہیں۔  ‘نارویجین ووڈ’ ہاروکی موراکامی کا کثیر الاشاعت ناول ہے۔ اس کا پچاس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور اردو میں اس کا ترجمہ ڈاکٹر عبد القیوم نے عمدگی سے کیا ہے۔ اردو ترجمے والی جلد میں نارویجین ووڈ کا ٹائٹل ‘نغمٔہ مرگ’ ہے۔ یہ ناول جنگِ عظیم دوئم میں امریکہ سے جاپان کی شکست کے بعد جاپان میں

Read more

چودھویں عالمی اردو کانفرنس: علم و ثقافت کا اجتماع

 کراچی شہر میں ہر طرح کی سرگرمیاں ہوتی ہیں جن میں سیاسی، سماجی اور ثقافتی سرگرمیاں بہت زیادہ اور بہت بڑے پیمانے پر ہوتی ہیں۔ سال کے اختتامی مہینوں میں جب گرمی کی شدت کم ہونے لگتی ہے۔ موسم قدرے خُنکی ماٸل ہوتا ہے۔ تب ادب شناس اور ادب نواز سُخن وران، یوں لگتا ہے کہ جیسے جوش سے بھر جاتے ہیں اور یکے بعد دیگرے ادبی تقریبات منعقد ہونے لگتی ہیں ادبی محفلیں سجنا شروع ہوجاتی ہیں۔ کراچی کی

Read more

دسمبر اور اک بے نظیر دکھ

ستائیس دسمبر کے دن کے ساتھ کچھ ایسی یادیں جڑی ہوئی ہیں جو دل میں آگے شجر غم کی پرورش کرتی رہتی ہیں اور ہر سال اس درخت پہ بہت ہی گہرے سرخ کے عجب سے پھول آتے ہیں جن کی خوشبو اور رنگ قربانیوں کی بہت سی داستانوں کا دکھ اجاگر کرتے ہیں. ہمیں کیا خبر تھی، ہمیں کیا پتہ تھا. کہ ستائیس دسمبر کا دن اک عظیم المیے کو جنم دے گا اور پھر ادب، شاعری اور زندگی

Read more

نئے لکھاریوں کے لیے چند مشورے

تحریر کسی بھی انسان کے خیالات و افکار کی عکاس اور جذبات کے اظہار کا بہترین ذریعہ ہوتی ہے۔ تحریر ذاتی ہو تو بہترین تخلیق بھی قرار پاتی ہے۔ اسی وجہ سے کوئی بھی تحریر بے حد اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ تحریر کے ساتھ تحریر کا تخلیق کار (لکھاری) بھی اہم ہوتا ہے۔ وہ معاشرے کے ان خاص افراد میں سے ہوتا ہے جو انتہائی حساس اور تیز نگاہ رکھتا ہے۔ اپنے اردگرد کے ماحول اور معاشرے کو المیہ

Read more

کیا پاکستان سستا ترین ملک ہے؟

اس وقت مہنگائی پاکستان کا سب سے بڑا مسلہ ہے، مہنگائی نے تھاں تھاں ڈیرے ڈالے ہوئے، جس کی وجہ سے عام آدمی پریشانی کا شکار ہے۔غریب آدمی دو وقت کی روٹی کھانے سے تنگ ہے۔اور دن بدن اس مہنگائی میں اضافہ ہی ہوتا  چلاجارہا ہے۔ رواں ہفتے بدھ کو پاکستان میں جاری کردہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق نومبر میں ملک میں مہنگائی کی شرح یعنی افراط زر(inflation) 11.5فیصد رہی جبکہ اکتوبر میں یہ شرح 9.2فیصد تھی۔ عالمی بینک کے

Read more

ڈاکٹر کہور بلوچ کی رحلت

24 نومبر دوپہر دو بجے کا پہر تھا ڈاکٹر کہور بلوچ کی کراچی سے فون کال آئی ان کی زیر طبع کتاب کی اشاعت کے متعلق بات ہوئی علاوہ اس کے سیاسی مسائل و نقطہ ہائے نظر میں تجدید کیلئے بھی کچھ نکات زیر بحث آئے میں نے عرض کیا کہ 25 نومبر کو میری کوئٹہ واپسی ہے ڈاکٹر صاحب نے بھی اپنی صحت یابی بارے اطمینان کا اظہار کیا طے پایا وہ چند روز بعد کراچی سے کوئٹہ پہنچیں

Read more

منیر نیازی: خواب میری پناہ ہیں

بس میرا چلتا نہیں جب سختی ایام پر فتح پا سکتا نہیں جب یورشِ آلام پر اپنے ان کے درمیاں دیوار چن لیتا ہوں میں اس جہانِ ظلم پر اک خواب بُن لیتا ہوں میں منیرنیازی کی شاعری مجھے اچھی لگتی ہے۔یہ شاعری ایسی نہیں ہے جسے آپ پڑھتے چلے جائیں اور یہ آپ کو روکنے کی سکت نہ رکھتی ہو۔ اس کی تاثیرمیں اکیلے کردینے والا عجیب بھید چھپا ہے۔ اس راز کو منیرنیازی نے ہرایک پرنہیں کھولا ۔

Read more

منیر نیازی سے ایک ملاقات

میں‘زاہد ڈار اور سعید احمد ’سنگِ میل‘ کے دفتر میں بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے کہ اصغر ندیم سید مسکراتے ہوئے داخل ہوئے اور جلد ہی فضاﺅں میں لطیفوں اور قہقہوں کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔ ’خالد سہیل! تم اتنی دور کنیڈا سے لاہور آئے ہو۔ ہم تمہاری کیا خواہش پوری کر سکتے ہیں؟‘ اصغر ندیم سید نے پوچھا۔ ’میری ایک دیرینہ خواہش ہے کہ میں منیر نیازی سے ملوں۔ یہ ایک کرامت ہوگی کیونکہ کنیڈا میں ایک دفعہ کسی

Read more

دبے پاؤں آتی میل کاٹ تبدیلی کا قصہ

حکومتیں لاکھ خراب سہی، ان کی کارکردگی مایوس کن سہی مگر وہ بھی کسی انفرادی یا غیر سرکاری پروجیکٹ کو کامیاب ہوتا دیکھتی ہیں تو اس کی روشنی میں نہانا چاہتی ہیں۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

’جب پاکستانی آم چین میں مقدس پھل بن گئے‘

جن لوگوں نے اس پھل کے مقدس ہونے پر اپنے تحفطات کا اظہار کیا ان کو سخت سزائیں بھی دی گئیں۔ ایک گاؤں میں ایک دندان ساز کو آم کو شکر قندی سے تشبیہ دینے پر سر عام پھانسی دے دی گئی۔

Read more

شکریہ عمران خان: ہم صادق و امین قرار پائے

ہوش سنبھالتے ہی ہمیں مطالعے کے شوق نے آن گھیرا، شاید اس کی وجہ ہمارے گھر میں آنے والے دائیں بازو کے ایک نمائندہ اخبار کا ہفتہ وار بچوں کا ایڈیشن تھا جس کا ہمیں شدت سے انتظار رہتا، شوق نے زور پکڑا اور ہمیں مقامی پبلک لائبریری تک پہنچا دیا، اس وقت تک ہمارا اخبار نظریاتی طور پر ہمیں متاثر کر چکا تھا اس لیے لائبریری میں بھی ہم نے چن چن کر دائیں بازو کا ادب پڑھا اور یہ

Read more

کچھ نور جہاں کے بارے میں

21 ستمبر 1926 کو پیدا ہونے والی اللہ وسائی کی 23 دسمبر 2021 کو ، اکیسویں برسی ہے۔ وہ کوٹ مراد خان ضلع قصور میں مدد علی اور فتح بی بی کے گھر پیدا ہونے والے 11 بچوں میں سے ایک تھیں۔ وہ اپنی بہنوں عیدن بائی، حیدر بندی، گلزار بیگم اور اندام بیگم میں سب سے چھوٹی تھیں۔ پانچ یا چھے سال کی عمر سے ہی ان کی گانے میں دلچسپی عیاں تھی۔ کم عمر اللہ وسائی اپنی قابلیت کے

Read more

شاعری، مائنڈ سیٹ، مذہبی رویوں میں تبدیلی

خیال ہے کہ جینوین شاعر اور ادیب معاشرے میں جاری سوچ سے تھوڑا ہٹ کے ایک مخصوص مائنڈ سیٹ رکھتے ہیں۔ ایسا نہ ہو تو نہ تو وہ اچھی شاعری کر سکتے ہیں نہ اعلٰی نثری ادب لکھ سکتے ہیں۔ اس لیے کہ اچھی شاعری اور دل کو چھو لینے والی نثر لکھی ہی اس وقت جا سکتی ہے جب دل و دماغ پہ آمد ہو رہی ہو اور آمد شاعر اور ادیب کے اپنے بس میں نہیں ہوتی۔ کس

Read more

ٹوپیوں والے حکمران سے عہد شغلیہ تک

اورنگزیب عالمگیر دین اور دنیا دونوں پر گہری نظر رکھنے والا بہت لائق اور متدین بادشاہ تھا۔ قرآن پاک کی خطاطی اور ٹوپیاں سی کر گزارہ کرنے کی داستانوں کے ذریعے اسے درویش بادشاہ کے روپ میں بھی پیش کیا گیا۔ اس نے کبھی کوئی نماز قضا نہ کی اور کسی بھائی کو زندہ نہ چھوڑا۔ یہ ضروری تھا، اس لئے کہ اس کے سب بھائی نالائق تھی جیسا کہ ہر بادشاہ کے ہوتے ہیں۔ نالائق نہ ہوں تو خود

Read more

چلی کا الیکشن ترکی میں جشن: چلی کے بائیں بازو کے طلبا رہنما کی کامیابی ترکی میں زیرِ بحث کیوں؟

ترکی اور چلی کی سیاسی تاریخ میں فوجی بغاوت، نیو لبرل اقتصادی پالیسیوں اور عدم مساوات کی تاریخ میں ایک مماثلت ہے۔ اس لیے ترکی کے بائیں بازو کے حلقے چلی میں بائیں بازو کے نوجوان رہنما کی کامیابی کو اپنی سیاسی جد و جہد کے لیے ایک مثال قرار دے رہے ہیں۔

Read more

للی پوٹ پارا کا افسانہ: موبائل فون

(سلووینین زبان میں لکھی گئی اس کہانی کی مصنفہ للی پوٹ پارا ہیں۔ وہ سلوینین ادب کی ایک معروف اور انعام یافتہ ادیبہ ہیں اور مترجم ہیں۔ ان کی کہانیوں کا مجموعہ ”باٹمز اپ اسٹوریز“ کو 2002 میں پروفیشنل ایسوسئیشن آف پبلشرز اینڈ بک سیلرز آف سلووینیا کی طرف سے پرائز فار بیسٹ لٹریری ڈبیو ”کے اعزاز سے نوازا گیا۔ موجودہ ترجمہ کرسٹینہ ریئرڈن کے انگریزی ترجمے کا ترجمہ ہے، جو“ ایلکیمی جرنل آف ٹرانسلیشن ”میں شائع ہوا تھا۔ ***

Read more

پشتو ادب کے خدائی خدمت گار

فضل محمود روخانؔ سوات اور پختون خوا کے ادبی حلقوں میں روخانؔ ہی کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ روخان صاحب اسم بامسمیٰ ہیں، روشن و تاباں شخصیت کے مالک۔ وہ زندہ رہنے کا سلیقہ بھی جانتے ہیں اور تماشائے زندگی دیکھنے کا ہنر بھی۔ وہ ایک اچھے کالم نگار، ادیب اور نثری نظموں کے بہترین شاعر ہیں مگر اس سے بڑھ کر وہ پشتو ادب کے خدائی خدمت گار ہیں اور ان کی یہ بے لوث خدمت مستقل مزاجی

Read more

کلیسا, صیہونی طاقتیں اور انقلاب فرانس

قرون وسطیٰ میں یورپ میں جو اجتماعی نظام اس وقت غالب تھا وہ جاگیر دارانہ نظام تھا. دولت کا ارتکاز عوام میں فقط تین گروہوں کی طرف ہو ریا تھا. جاگیر دار, کلیسا اور صیہونی ساہو کار. یقینی طور پر یہ اس وقت کا سرمایہ دارانہ نظام تھا. عوام پوری طرح سے اس استحصالی نظام کا شکار تھی. جہاں ایک طرف کسان بمشکل گزارہ کرتے تھے, ان سے اکثر بلا معاوضہ کام کروایا جاتا تھا اور جو معاوضہ دیا جاتا

Read more

بطور استاد میں شرمندہ ہوں

میرا تعلق ٹیچنگ پروفیشنل سے ہے تقریباً زندگی کے چودہ سال اس فیلڈ میں لگا چکا ہوں۔ ہمارا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے جہاں پر مختلف مذاہب کے بہت تھوڑے تھوڑے لوگ آباد ہیں مگر عیسائی لوگ کچھ زیادہ تعداد میں ہیں۔ لیکن اس طبقے کی حالت کوئی زیادہ اچھی نہیں ہے اور ان کی اکثریت سینٹری ورکر ہوتی ہے، ان میں سے کچھ پڑھے لکھے والدین ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنے بچے بچیوں کو پڑھا لکھا کر اعلٰی

Read more

یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی

اگر آپ کو کتابیں تحفے میں دینے والے دوست موجود ہیں تو سمجھیے کہ آپ اس دنیا کے خوش قسمت ترین انسان ہیں۔ آج کے اس ڈیجیٹل دور نے انسان کو کتاب دوستی سے دور کر دیا ہے۔ پہلے وقتوں میں جتنا وقت کسی اچھی معیاری کتاب کے مطالعہ کرنے، لاٸبریری جا کر اسے تلاش کرنے اور پھر اُس پر گھنٹوں تبصرہ کرنے پر لگتا تھا، اب یہ سب ایک خواب لگتا ہے۔ کالج کے زمانے میں دیوانِ غالب کی

Read more

مَردوں کا پردہ بکارت

ملک پور ایک چھوٹا سا مضافاتی قصبہ تھا۔ وہ بھی پنجاب کے دور افتادہ علاقے میں۔ ملک بشیر وہیں پیدا ہوا اور پلا بڑھا۔ اس نے کسی نہ کسی طرح میٹرک تو پاس کر لیا تھا لیکن اس کے بعد نہ تو اس نے آگے پڑھنے کی کوشش کی اور نا ہی کوئی ہنر سیکھنے کی طرف دھیان دیا۔ البتہ کبھی کسی ایک اور کبھی کسی دوسرے دوست کے ساتھ مل کر کوئی کاروبار شروع کرتا اور ناکام ہوتا رہا۔

Read more

جمعیت کو بیدار رہنا ہوگا!

یوم تاسیس، یوم تجدید عہد ہوتا ہے۔ تحریکات اور تنظیمات کو یہ دیکھنا لازمی ہوتا ہے کہ اس کی قیام کا مقصد کیا ہے اور مقاصد کے حصول میں کہاں تک کامیاب ٹھہری ہیں؟ کیا وہ صراط مستقیم پر حکمت واستقامت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں یا حالات کے سامنے سرنگوں ہوچلی ہیں؟ جن حضرات نے طلبہ کی اس تنظیم کو قریب سے نہیں دیکھا وہ اسے "سیاسی بچوں” کا ایک سیاسی جھتہ سمجھتے ہیں جو تعلیمی اداروں کو

Read more

فکشن کی تنقید کا المیہ

ڈاکٹر وارث علوی کے نام سے کون واقف نہیں ہے۔وہ ایک منجھے ہوئے اور نڈر نقاد سمجھے جاتے ہیں۔ وہ تنقید برائے تنقید نہیں کرتے بلکہ ان کا مقصد اصلاح اور حقائق پر مبنی بات کرنا ہوتا ہے۔اردو ادب کا خاصا رہا ہے کہ اس میں ہر دور میں ایسے لوگ سامنے آئے جن کی چپقلشیں بڑی دل آویز رہی ہیں۔ شمس الرحمٰن فاروقی کی ” افسانے کی حمایت میں ” اور وارث علوی کی ” فکشن کی تنقید کا

Read more

گلگت بلتستان : منگو کوچوان اور عبوری صوبہ کی کہانی

1857 کی جنگ آزادی ہند کو کچلنے کے بعد تاج برطانیہ نے مغلیہ سلطنت کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو رنگون کے ایک جیل میں مرتے دم تک قید کر دیا – رنگوں کے اس زندان  میں مرنے سے قبل بہادر شاہ ظفر نے انسانی روح کو ہلا دینے والی شاعری کے زریعے اپنی بے بسی اور بدنصیبی کا زکر ان الفاظ میں کیا. کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار

Read more

اختر احسن: آنے والے وقتوں کا ماہر نفسیات

شعبہ اطلاقی نفسیات پنجاب یونیورسٹی میں داخلے سے پہلے ہی مجھے میرے ذی قدر استاد پروفیسر خالد سعید دام ظلہ نے ڈاکٹر اختر احسن کے بارے میں مختصراً یہ بتایا تھا کہ وہ ایک پاکستانی ماہر نفسیات ہیں۔ انہی کی طرح ڈاکٹر اجمل مرحوم کے شاگرد ہیں۔ شاعر ہیں۔ مائتھالوجی کے ماہر ہیں۔ فلسفی ہیں۔ اور نفسیاتی علاج کے ایک نئے مکتبہ فکر کے بانی ہیں۔ خالد سعید صاحب چونکہ فرائڈ کی عینک سے نفسیات کو دیکھتے ہیں اسی لیے

Read more

پری زاد کا کالا ہیرو

پری زاد کا کالا امیر ہیرو۔ اس ایک لفظ نے ہمیں ڈرامے کی بجائے ناول اور مصنف کی طرف مائل کیا۔ دل کو قرار آ یا کہ ہاشم ندیم خان مصنف ہیں۔ اگر کسی خاتون نے یہ آگ لگائی ہوتی تو لطیفہ بھی الٹا بننا تھا۔ سب سے پہلے تو مصنف اور ان کی پو ری ٹیم کو یہ مبارک کہ کالے ہیرو کو ایک بار پھر زندہ کیا گیا۔ دوم مرد کے مسائل پہ آ واز اٹھی۔ ورنہ عشروں

Read more

دیار مغرب دکان ہی ہے!

منو بھائی فرمایا کرتے تھے کہ بگڑا ہوا گائیک قوال، بگڑا ہوا عاشق شوہر اور بگڑا ہوا شاعر نقاد بن جاتا ہے۔ ویسے منو بھائی شاعر کی کایا کلپ کو کچھ اور عنوان دیا کرتے تھے جسے آج کل کے مشتعل ماحول میں دہرانا ممکن نہیں۔ البتہ یہ بتایا جا سکتا ہے کہ آج کے پاکستان میں از کار رفتہ اداکار سماجی کارکن، ریٹائرڈ اہلکار دفاعی تجزیہ کار اور مغرب کو اچھی طرح سمجھنے والے کھلاڑی سیاست دان بن جاتے

Read more

راشد منیر کی بیوی اور کیلے کا چھلکا

راشد منیر کا حلقہ احباب ایسے لوگوں کا تھا جن میں بزعم خود لبرل بھی تھے اوراسلام شناس دنیا سے ہم آہنگ افراد بھی جن میں سے بہت سوں کو حقوق نسواں اورآزادی نسواں سے متعلق منصف ہونے کا دعوٰی تھا۔ ہردو طرح کے لوگ اپنے اپنے اندازمیں اس صفت کی وضاحت کیا کرتے۔ کوئی کہتا کہ ہم نے عورتوں کو غلام بنا کے رکھا ہوا ہے جبکہ عورتوں نے مغرب میں مرد کی بالا دستی سے آزادی پا لی

Read more

مریم مجید ڈار کے افسانے: سوچ زار

shabgazeeda@gmail.com  مریم مجید ڈار کے افسانے انٹر نیٹ کی وساطت سے مختلف فورمز میں پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ افسانوں کے مواد اور زبان نے مجھے متوجہ کیا اورایک دو افسانے میں نے اپنے ای میگزین ” پینسلپس میگزین” میں بھی شائع کئے(۔بغیر اجازت کے ۔جس کے لیے معذرت) پھر خبر ملی کہ مریم صاحبہ کے افسانوں کا مجموعہ بھی شائع ہو چکا ہے تو میں نے  ” سوچ زار” حاصل کیا۔ ہمارے معاشرے میں گھٹن کے اسباب کیا ہیں،

Read more

سید وارث شاہ۔ پنجابی سخن کا وارث (3)

وارث شاہ سے پہلے کئی شاعروں نے قصہ ہیر رانجھا منظوم کیا۔ ہر ایک کے لکھے ہوئے قصہ میں کوئی نہ کوئی خوبی ہوتی تھی لیکن وارث شاہ کے قصہ میں جو کمالات اور خوبیاں ہیں وہ اور کسی قصہ میں نہیں ہیں۔ پنجابی شاعری میں وارث شاہ پہلے شاعر ہیں جنہوں نے مقولہ شاعر کا رواج قصے میں ڈالا یعنی جو بات انہوں نے قصہ کے کسی کردار سے نہیں کہلوانا چاہی وہ مقولہ شاعر کے تحت کہہ دی

Read more

جغرافیہ، قافیہ، اشرافیہ اور مافیا

جغرافیہ کے لحاظ سے ہمارا ملک انتہائی زرخیز اور اہم خطے میں واقع ہے۔ ہماری جغرافیائی اہمیت پر ماضی قریب میں بہت کتابیں لکھی گئی ہیں۔ گئے وقتوں میں لوگوں کو یہ گلہ رہتا تھا کہ قافیے کا صحیح استعمال نہیں ہو رہا اور اب بہت سے لوگ یہ گلہ کرتے پائے جاتے ہیں کہ ہم اپنے جغرافیہ کا صحیح استعمال نہیں کر رہے۔ برصغیر میں بسنے والے تمام افراد بالعموم اور مومن حضرات بالخصوص عمر کے کسی نہ کسی

Read more

پاپولر ادب

کچھ دن پہلے بوریت کی وجہ سے میں نے اپنی بیوی کا ایک ناول اٹھا کر پڑھا تو پرانی یادیں تازہ ہو گئیں جب بچپن میں ’عمرو عیار‘ سے لے کر ’عمران سیریز‘ اور بعد میں والدہ کے رومانی ناول پڑھا کرتے تھے۔ دل نے کہا بیٹا اس موضوع پر کچھ لکھو۔ اس مضمون کا مقصد ہلکا پھلکا طنز و مزاح ہے نا کہ کسی بھی صنف کو برا کہنا ہے۔ چلیں دیکھتے ہیں اس قسم میں پہلی طرح کی

Read more

پاکستان کی ابتدائی فلموں کے ستارے ملک رحیم خان المعروف سکے دار

 قیام پاکستان کے وقت جہاں حکومت کے اپنے وسائل برائے نام تھے وہیں ہماری فلمی دنیا کا حال بھی اس سے کچھ الگ نہیں تھا۔ 1950 کی دہائی میں فلمی دنیا میں مثبت تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں۔ یاد رہے کہ اسی دہائی میں پاکستانی فلمی صنعت میں سکہ بند لوگوں نے اپنے انفرادی اور اجتماعی کام سے اپنا اپنا سکہ منوا یا۔ ایسا ہی ایک نام جس نے اپنی پہچان فلمی کہانی لکھنے میں کروائی اور اس کے ساتھ ساتھ

Read more

معاشرے کی سوچ

معاشرے کی سوچ کو اگر تہذیب کی خوراک نہ ملے تو وہ بےہنگم اور منتشر ہو جاتی ہے۔ اس بےہنگم اور منتشر سوچ کی کوئی خاص سمت نہیں ہوتی۔ یہ حالات کے ہاتھوں کھلونا بنتے ہوئے اسی کی مرضی سے ہانکی جاتی ہے۔ انتشار زدہ یہ سوچ عفریت کا روپ دھارے سارے معاشرے کو چاٹ جاتی ہے۔ کہتے ہیں سوچ ہی حقیقت ہے، سارا جسم محض ایک سوچ کا فرماں بردار ہوتا ہے، شخصیت کی تعمیر سوچ کے مثبت یا منفی

Read more

سریلی آواز کا بےتاج بادشاہ

وہ آیا اور چھا گیا اور ایسا چھایا کہ دنیا حیرت سے تکنے لگی اپنے بیگانے رفيق و حریف سب ہی عش عش کر اٹھے اس نے محمد رفیع لتا منگیشتر اور سروں کی ملکہ میڈم نورجہاں کی طرح جس بھی شاعر کے کلام کا انتخاب کیا اور اسے پھر اپنی سریلی آواز سے عوام الناس کی سماعت تک پہنچایا اس کلام نے مقبوليت کی بلندیوں کو چھونا شروع کردیا۔ میں بات کر رہا ہوں ایک ایسے درویش ، خاموش طبع،  سادہ

Read more

اردو ادب کی شہزادی: بُلبُلِ غزل ‎‎پروین شاکر

آج ہم ایک ایسی شاعرہ پر گفتگو کریں گے جسے بلا مبالغہ مملکت شعر و سخن کی شہزادی ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ افسوس اس کی عمر نے وفا نہ کی، اگر وہ اپنے ”عمو“ احمد ندیم قاسمی کی سی عمر پاتی تو یقیناً نسائی شاعری کی ”میر“ ہوتی۔ پروین شاکر 24 نومبر سن 1952 کو کراچی میں سید ثاقب حسین شاکر کے ہاں پیدا ہوئیں۔ رضویہ گرلز ہائی اسکول سے میٹرک، سرسید گرلز کالج سے بی اے اور جامعہ

Read more

پنجاب کا دانشور اگر مزاحمت نہیں کرتا تو "واریں” کون لکھتا ہے

دھرتی اور وطن سے محبت ایمان کا حصہ اور مظہر ہے. بلاشبہ پاکستان میں بسنے والی اکائیاں اپنی دھرتی، تہذیب، بولی اور ثقافت سے بے لوث محبت کرتی ہیں، اور اپنی شناخت پر فخر کرتی ہیں. یہ ہی فخر ان کو پاکستانیت سے جوڑتا اور آپس میں بھائیوں کی طرح متحد رکھتا ہے. اگر قوم کا اپنی دھرتی اور بولی سے رشتہ کمزور پڑجائے تو سرحدوں پر کھڑے سپاہیوں کے قدم لڑکھڑانے لگتے ہیں. سندھ کے لوگ اپنی دھرتی، بولی اور

Read more

سلمان اختر: ڈاکٹر، شاعر اور دانشور

میں ایک شام امریکہ میں دو بھائیوں سے ملا۔ دونوں نہایت عمدہ شاعر ہیں لیکن ایک جتنا معروف ہے دوسرا اتنا ہی غیر معروف۔ معروف فلمی دنیا کا جاوید اختر اور غیر معروف ماہر نفسیات سلمان اختر۔ چند روز پیشتر جب میں سلمان اختر کے مجموعہ کلام۔ دوسرا گھر۔ کا مطالعہ کر رہا تھا اور محظوظ و مسحور ہو رہا تھا تو سوچ رہا تھا کہ اردو کے بہت سے شاعر یا تو رومانوی شاعری کرتے ہیں یا سیاسی شاعری لیکن

Read more

اداس تم بھی ہو یارو، اداس ہم بھی ہیں

فراز جب بھی ہندوستان جاتے اور کسی محفل یا مشاعرے میں شرکت فرماتے تو اپنی یہ مشہور نظم ضرور سناتے اور ساتھ میں یہ بھی کہتے کہ جب آپ کسی مقصد کو لے کر چلتے ہیں تو اپنی کسی غزل یا نظم کو بار بار دہرانا یا پڑھنا معیوب نہیں ہوتا- اس نظم کے کچھ اشعار ہم بھی یہاں  یاد کرتے ہیں- ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کے تناظر میں فراز کی یہ نظم- گزر گئے کئ موسم کئ رتیں

Read more

آئن سٹائن کی نظر میں اضافیت کا تصور

ڈاکٹر رضی الدین صدیقی کا نام اہل علم کی فہرست میں سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہے۔ 1940 میں انہوں نے علمی اور سائنسی سطح پر کارنامہ ہی ایسا سر انجام دیا کہ وہ اسی اعزاز کے مستحق ہیں۔ جامعہ عثمانیہ حیدراباد دکن میں ریاضی پروفیسر تھے اور اپنے زمانے کے تمام صاحبان علم سے ربط و رابطہ رکھتے تھے۔ علامہ اقبال سے بھی دوستی تھی۔ یہ 1938 کے اوائل کی بات ہے کہ علامہ جو فلسفے اور سائنس

Read more

پاکستان اور دیگر ملکوں کے مصنفین کے مقالے مسترد ہونے کی وجوہات کیا ہوتی ہیں؟

ایک بین الاقوامی ڈیٹا بیس کے مطابق چھ دسمبر 2021 تک دنیا کے مختلف جرنلز میں شائع ہونے والے پاکستانی مصنفین کے ایسے مقالے جنھیں مختلف وجوہات کی وجہ سے واپس لیا گیا، ان کی تعداد 254 ہو چکی ہے۔

Read more

منٹو نے "ٹھنڈا گوشت” کا دفاع کیسے کیا؟ (2)

ڈاکٹر آئی لطیف ہیڈ آف دی سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ ایف سی کالج، لاہور بلائے گئے۔ میں نے ان کا نام سنا تھا لیکن دیکھا کبھی نہیں تھا۔ آپ صوفی صاحب کے بیان کے دوران میں میاں سعید صاحب کے پاس بیٹھے تھے اور رسالہ ”جاوید“ کا خاص نمبر ان کے ہاتھ میں تھا۔ میں نے ان کی طرف غور ہی نہیں کیا تھا۔ جب وہ بیان دینے لگے تو میں نے انہیں غور سے دیکھا۔ کالا رنگ، سب سے پہلے مجھے

Read more

نیوز ریڈر کی خبر میں تلفظ کی غلطی ناقابل معافی ہوتی ہے

ایک دن میڈم پروین نے کہا، ”مبشر! جاکر ڈکشنری لے آؤ۔ ‘‘ میں نے پوچھا، ”کہاں سے ملے گی ڈشکنری؟ ‘‘ وہ ہنس پڑیں، ”ڈشکنری نہیں، ڈکشنری! میڈم الہیٰ بخش کے کمرے سے لے آؤ۔ ‘‘ میڈم الہیٰ بخش قائداعظم پبلک اسکول کی ہیڈمسٹریس تھیں۔ حسنین چیمبرز نام کی عمارت آج بھی خانیوال کے بلاک بارہ میں موجود ہے۔ قائداعظم پبلک اسکول اس کی پہلی منزل پر قائم تھا۔ مجھے یاد ہے کہ اس میں ایک طرف تین اندھیرے سے

Read more

لوگ فحش مواد کیوں دیکھتے ہیں؟

گزشتہ دنوں پاکستانی نژاد برطانوی شہری عابدہ احمد کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام ہوا۔ اس نشست میں موضوع کے حساب سے کچھ نیا تو نہیں تھا البتہ عابدہ کے تجربے اور ان کے خیالات سے کافی کچھ سیکھنے کو ملا۔ عابدہ احمد برطانیہ کی پہلی مسلم خاتون ہے جس نے سیکس ایڈکشن کاؤنسلنگ میں تربیت حاصل کی ہے۔ انھوں نے ڈیویلپمنٹ اسٹڈیز اور انگلش لٹریچر میں ماسٹرز بھی کیا ہوا ہے اور اس وقت “امانہ کاؤنسلنگ” کے نام سے اپنا ادارہ چلا رہی

Read more

سقوطِ ڈھاکہ کے 50 برس: پاکستان اور بنگلہ دیش میں معافی پر سیاست، آگے کیسے بڑھا جائے؟

پاکستان محققین اور صحافیوں کے لیے 1971 کے واقعات کے بارے میں لکھنا آسان نہیں ہے۔ اس موضوع پر جتنا بھی مواد موجود ہے، یا عوامی طور پر 1971 کے بارے میں جو بیانیہ مقبول ہے، اس میں انڈیا کی سازشوں اور مکتی باہنی کی زیادتیوں کو مورد الزام ٹھیرایا جاتا ہے۔ لیکن یہ طرز عمل انسانی تکلیف اور المیے کے متعلق اُن اہم سوالات کو نظر انداز کر دیتا ہے جو ان لاکھوں، کروڑوں پاکستانیوں اور بنگالیوں کے ذہنوں پر ابھی بھی نقش ہیں۔

Read more

منٹو نے "ٹھنڈا گوشت” کا دفاع کیسے کیا؟ (1)

بمبئی چھوڑ کر کراچی سے ہوتا ہوا غالباً سات یا آٹھ جنوری 1948ء کو یہاں لاہور پہنچا۔ تین مہینے میرے دماغ کی عجیب و غریب حالت رہی۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کہاں ہوں۔ بمبئی میں ہوں۔ کراچی میں اپنے دوست حسن عباس کے گھر بیٹھا ہوں یا لاہور میں ہوں جہاں کئی ریستورانوں میں قائد اعظم فنڈ جمع کرنے کے سلسلے میں رقص و سرود کی محفلیں اکثر جمتی تھیں۔ تین مہینے تک میرا دماغ کوئی فیصلہ

Read more

 جو لوگ سمجھتے ہیں اداکارائیں فحاشی پھیلاتی ہیں، وہ ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیں: اداکارہ اشنا شاہ

پاکستانی اداکارہ اشنا شاہ نے ایک پیغام میں اداکاراؤں پر تنقید کرنے والوں کے لیے پیغام جاری کیا ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اشنا شاہ نے ٹوئٹر پر سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ادب و آداب اور اپنی اخلاقیات کا خیال رکھنے والا ہر پاکستانی جو اداکاری کے شعبے اور اداکاروں کو کم تر سمجھتا ہے، اور یہ سمجھتا ہے کہ اداکارائیں فحاشی پھیلاتی ہیں وہ ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیں۔ اداکارہ اشنا شاہ نے

Read more

لاپتہ ۔۔۔ سقوط ڈھاکہ

نجانے ہم کب سے لاپتہ ہیں،ہماری شناخت ہماری شخصیت ہمارے راہ و رسم ہمارا شعر و ادب ،ثقافتی اکائیاں اور صحافت کہیں گم ہوچکی ہے، اور ہم سب ایسی ڈگر پر چل نکلے ہیں کہ باوجود تلاش کے ہم 72 برس سے اپنی پہچان سے نہ صرف محروم کر دیئے گئے ہیں،بلکہ بے یار مددگار ہونقوں کی طرح ٹکر ٹکر کسی امید و آس سے ایک دوجے کو دیکھے جارہے ہیں کہ شاید کوئی ہمیں منزل کے نشاندہی کرادے،جدوجہد اور حقوق

Read more

جون صاحب کے نثری شاہکار

آج جون ایلیاصاحب کا یوم ولادت ہے ، جون سے محبت کرنے والے آج خوشی کے ساتھ جون صاحب کی اداس شاعری کو شئیر بھی کررہے ہیں۔ جون صاحب کی وجہ شہرت ان کی شاعری ہے جو بیک وقت نوجوانوں ، بلکے ہر عمر کے لوگوں میں یکساں  مشہور ہیں ، بڑی عمر کے لوگ جون صاحب سے کتابوں کی شکل میں  جڑے ہیں اور نوجوان نسل سوشل میڈیا کی شکل میں جون صاحب سے محبت کا اظہار کرتے رہتے

Read more

للی پوٹ پارا کا ایک اور افسانہ: ہائی وے

(سلووینین زبان میں لکھی گئی اس کہانی کی مصنفہ للی پوٹ پارا ہیں۔ وہ سلوینین ادب کی ایک معروف اور انعام یافتہ ادیبہ اور مترجم ہی۔ موجودہ ترجمہ کرسٹینا ریئرڈن کے انگریزی ترجمے کا ترجمہ ہے جو ”ایلکیمی جرنل آف ٹرانسلیشن“ میں شائع ہوا تھا۔ اس کہانی کی راوی خود ہی اس کا مرکزی کردار بھی ہے۔ وہ عجیب جذباتی کشمکش سے گزر رہی ہے۔ ابتدا میں ایک روحانی انکشاف نے اس پر ایک مسرت کی کیفیت طاری کر دی

Read more

دسمبر کے کارنامے

کلدیپ نیر ایک نابغہ روزگار صحافی تھے۔ 14 اگست 1923 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے دنگوں اور فسادات میں ہندوستان چلے گئے۔ اعلی تعلیم حاصل کی اور صحافت میں چلے گئے۔ بھارت کے پارلیمنٹ رکن بھی رہ چکے تھے۔ بھارت کے بہت سے حساس عہدوں پر فائز رہے ۔ لال بہادر شاستری کے پریس سیکرٹری اور معاہدہ تاشقند کے رپورٹر رہے۔ ان کی اصل پہچان صحافت ہے اور کالمز لکھنے میں بڑا نام پیدا کیا تھا ۔

Read more

لبنیٰ طاہر کا افسانوی مجموعہ: قرطاسِ اسود

افسانہ لکھنا، کہانی بننا ایک فن ہے۔ اکثر و بیشتر قلمکار خامہ فرسائی کے لیے ایسے کردار یا کہانیاں چنتے ہیں جو عام روش سے ہٹ کر ہوتے ہیں۔ جن کا انوکھا پن پہلی نظر میں ہی دل کھینچ لیتا ہے اور قاری اس کہانی کے ان دیکھے جہان میں ایک سیاح کی مانند ان چھوئے حالات و واقعات کی خوشبو سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ زندگی کے نئے رخ دیکھتا ہے اور ان پر غور کرتا ہے لیکن اس

Read more

پروفیسر وینسنٹ پیس کا فن و شخصیت

کچھ نام اپنی ذات و عرفان میں معتبر ہوتے ہیں جن کے لیے قلمی وقلبی احساس شدت جذبات کی تصویر بنانے لگتا ہے ۔ان میں سے ایک معتبر نام پروفیسر وینسنٹ پیس عصیم صلیبی کا بھی ہے ۔ لائل پور( فیصل آباد) کی سرزمین سے جنم لینے والی یہ شخصیت نہ صرف خوبصورت ہے بلکہ ادبی اعتبار سے روح پرور بھی ہے ۔خیر اس بات کی کسے خبر تھی کہ ایم اے پیس (میکسو ایل ایلن) کے ہاں پیدا ہونے

Read more

قلم کی روشنائی اور تاریخ کی سیاہی

درویش شہرت عام اور بقائے دوام کے دربار میں جگہ پانے کی خواہش نہیں رکھتا۔ افتاد طبع کو تو ایک طرف رکھیے، انحرافی فکر اور تقلید کی روش سے گریز پائی کا رجحان اپنی جگہ بھاری پتھر تھا کہ لغت میں مشکل پسندی بھی بغیر بتائے چلی آئی۔ لفظ تو مشکل نہیں ہوتا، لغت میں رکھا ہے تو معنی جاننا کیا دشوار ہے۔ امتحان تو یہ ہے کہ لفظ کی سادگی میں خیال کے امکان کو کیسے سمیٹا جائے۔ یہاں

Read more

زبان سنبھال کے (مکمل کالم)

یہ ہمارے اسکول کے زمانے کی بات ہے، پی ٹی وی پر اشفاق احمد کا ایک ڈرامہ نشر ہوا، نام تھا ’توتا کہانی‘ ۔ ہم نے اردو قاعدے میں طوطا ہمیشہ ط سے پڑھا تھا، اس لیے جب پی ٹی وی پہ ت سے توتا دیکھا تو سمجھ نہ آئی کہ کون سا طوطا ٹھیک ہے۔ بعد میں ایک مرد عاقل نے سمجھایا کہ برخوردار اگر اشفاق صاحب نے ت سے لکھا ہے تو یہی درست ہو گا لہذا اسی

Read more

ستیہ جیت رے: آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی فلم ہدایتکار

2 مئی 1921 ء تا 23 اپریل 1992ء فلمی سیٹ پہ کام میں مصروف، منہ میں سگار دبائے، سوچتی آنکھیں، نپے تلے انداز میں گفتگو کرتے چھ فٹ پانچ انچ کے باوقار ستیہ جیت رے ایک متاثر کن شخصیت کے مالک، منفرد فلم ساز اور ہدایتکار تھے۔ جن کی کامیابی اور فنی قامت کا رمز انسانی دوستی، جراتمندی، روایت شکنی، فن شناسی اور سادگی میں پوشیدہ ہے۔ وہ پہلے ہندوستانی فلم ڈائریکٹر ہیں جنہیں 1991 میں آسکر ایوارڈ سے نوازا

Read more

فحاشی اور ادب

ﮨﻤﺎﺭﮮ ﯾﮩﺎﮞ ﻓﺤﺎﺷﯽ ﮐﮯ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﮐﯽ ﻧﻮﻋﯿﺖ ﺍﺏ ﺗﮏ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺗﮩﺬﯾﺒﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﺭﻭﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﺎﺿﯽ ﺑﻌﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﻣﺤﺾ ﭘﭽﺎﺱ ﺳﺎﭨﮫ ﺑﺮﺱ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﮏ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺣﺎﻝ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﻧﻈﺮ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﺑﮩﺖ ﮐﭽﮫ ﺟﺎﻥ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﯿﮯ، ﮨﻤﺎﺭﮮ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺳﻌﺎﺩﺕ ﺣﺴﻦ ﻣﻨﭩﻮ ﺍﻭﺭ ﻋﺼﻤﺖ ﭼﻐﺘﺎﺋﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺻﺎﻑ ﮔﻮﺋﯽ، ﺑﮯ ﺑﺎﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻧﮕﺎﺭﯼ ﯾﺎ

Read more

جون ایلیا ایک منفرد شاعر

جون ایلیا سے میری پہلی شناسائی یونی ورسٹی کے زمانے میں ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب میں قراقرم انٹرنیشنل یونی ورسٹی سے ایم اے ایجوکیشن کر رہا تھا۔ مجھے وہ دل نشین لمحات آج بھی یاد ہیں جب ہم لکچر سے فارغ ہو کر یونی ورسٹی کی کیفے ٹیریا تو کبھی سبزہ زار میں لکڑی کی سادہ کرسیوں پر ایک پیالی چائے سے محظوظ ہونے بیٹھ جاتے تھے۔ انگریزی ادبیات کا ایک طالب علم میرا دوست تھا۔ کبھی کبھار

Read more

ٹوٹی ہوئی دیوار” سے "کھوئے ہوئے صفحات” تک”

کھوئے ہوئے صفحات ڈاکٹر بلند اقبال کی تازہ ترین تخلیق ہے۔ یہ ایک شہکار ناول ہے، جو ایک جرمن عورت کی کہانی بیان کرتا ہے، جو نازی جرمنی کے مظالم کا شکار ہو کر پاکستان میں پناہ گزین ہونے پر مجبور ہوتی ہے۔ لیکن یہ صرف ایک عورت کی آپ بیتی ہی نہیں ہے، بلکہ ایک پورے زمانے کی کہانی ہے، جس میں کروڑوں لوگ رنگ، نسل، عقیدے اور دیگر تعصبات کا شکار ہوئے۔ یہ کہانی آج بھی جاری ہے۔

Read more

سو کہانی ہے اک کہانی سے

پانچویں کلاس کے بعد سراج الہدیٰ میں حفظ کی کلاس میں داخلہ ہو گیا جہاں زندگی کا ایک بہترین وقت گزارا۔ اڑھائی سال کے قلیل وقت میں دنیا کی سب سے عظیم کتاب کو اپنے سینے میں محفوظ کر کے والدہ کا دیرینہ خواب پورا کیا۔ اب اگلا مرحلہ دنیاوی تعلیم کا تھا ’گھر والوں اور جامعہ کے اساتذہ کے اتفاق رائے سے یہی فیصلہ ہوا کہ مجھے مدرسے سے ہی چھٹی اور ساتویں کا امتحان ایک ساتھ دینا چاہیے۔

Read more

اقبال کے نظریۂ فن کا افلاطون اور ارسطو سے اجمالی جائزہ

فن کی جامع تعریف بیان نہیں کی جا سکتی البتہ کسی کام میں ایسی حسن و خوبی پیدا کرنا کہ اس سے انسان کا ذوق جمال تسکین پائے، فن کہلاتا ہے۔ راقم الحروف نے فن کے حوالے افلاطون اور ارسطو کے فلسفہ کو پیش کرنے کے بعد اقبال کے نظریہ فن پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ جہاں افلاطون فن کو نقالی کہتا ہے اور شاعری کو نقل کی نقل قرار دے کر شعراء کو اپنی جمہوریت سے دیس

Read more

ماں

دسمبر کو اداسی اور غم کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے اور شاعروں نے دسمبر کی اداسی کو اپنی اپنی شاعری میں مختلف انداز میں بیان کیا ہے اس کا خلاصہ عشقیہ غزلوں گیتوں اور مختصر شعروں پر مشتمل ہوتا اور اب سوشل میڈیا پر دسمبر سے پہلے ہی دسمبر کا ذکر شروع ہو جاتا ہے نامی گرامی شاعروں نے اپنی شاعری میں دسمبر کے دن اور راتوں کے سناٹے کو خوبصورت الفاظ کے خزانے کے ساتھ سجایا ہے۔

Read more

آہ! پروفیسر رئیس علوی بھی چل بسے

سڈنی آسٹریلیا کا اس لحاظ سے منفرد شہر ہے کہ یہاں تین دہائیوں سے اردو شعر و ادب کا گلستاں آباد ہے۔ مقامی ادباء اور شعرا ء کا ایک گلدستہ سجا ہے جن کی درجنوں کتابیں چھپ چکی ہیں۔ ادبی محافل منعقد ہوتی ہیں۔ علاوہ ازیں علاوہ پاکستان اور ہندوستان سے بھی اہم ادبی شخصیات تشریف لاتی رہتی ہیں جن کی وجہ سے ادبی رونقیں جاری و ساری رہتی ہیں۔ قریباً دس برس قبل پاکستان کے شہر کراچی سے مشہور

Read more

کھڑکی سے: للی پوٹ پارا

(سلووینین زبان میں لکھی گئی اس کہانی کی مصنفہ للی پوٹ پارا ہیں۔ وہ سلوینین ادب کی ایک معروف اور انعام یافتہ ادیبہ ہیں اور مترجم ہیں۔ ان کی کہانیوں کا مجموعہ ”باٹمز اپ اسٹوریز“ کو 2002 میں پروفیشنل ایسوسی ایشن آف پبلشرز اینڈ بک سیلرز آف سلووینیا کی طرف سے پرائز فار بیسٹ لٹریری ڈیبیو ”کے اعزاز سے نوازا گیا۔ موجودہ ترجمہ کر سٹینہ ریئرڈن کے انگریزی ترجمے کا ترجمہ ہے، جو “ ایلکیمی جرنل آف ٹرانسلیشن ”میں شائع

Read more

کیسے کیسے چور!

ضرورت خواہش لالچ انسان کی سوچ پر جیسے سوار رہتی ہیں۔ ان کے بوجھ تلے دبے لوگوں کی نگاہیں ہمیشہ دوسرے کی من پسند اشیاء پر لگی رہتی ہیں۔ وہ شے کسی طور حاصل کرنے کا جتن اکثر بے خوف اور کہہ لیں بندے کی شرم بھی مار لیتا ہے۔ زندگی میں جانے انجانے یہ حرکت انسان سے سرزد ہوجاتی ہے۔ ضروری نہیں ہر کوئی فطری طور پر ایسا فعل کرتا ہو لیکن لالچ غرض اور کسی حد تک حرص

Read more

سعودی عرب میں تبلیغ پر پابندی: اصلاحات میں تیزی

اردو شاعری میں ہمیشہ سے ایک منفی کردار موجود رہا ہے جسے شیخ، زاہد، ملا، ناصح، خطیب، واعظ، محتسب جیسے ناموں سے پکارا گیا ہے۔ یہ کردار لکیر کا فقیر ہے، دخل در معقولات کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ اس کا وجود منافقت، ریاکاری اور بوالہوسی سے عبارت ہے۔ اردو شاعری میں پایا جانے والا یہ تنہا فرد جب 80 ء کی دہائی میں تبلیغی جتھوں کی شکل میں محلے محلے گشت کرنے لگا، مساجد میں ٹولیاں بنا کر بیٹھنے

Read more

سیالکوٹ سانحہ، موثر اقدامات یا ”دودھ کا ابال“

سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کے غیر انسانی اور سفاکانہ قتل کے بعد ملک بھر میں سامنے آئے والا ردعمل اگرچہ حوصلہ افزاء ہے لیکن نیا نہیں۔ ماضی میں بھی جب اس طرح کے واقعات سامنے آئے تو ایسا ہی ردعمل بھی آیا تھا۔ خاص طور پر سات برس پہلے آرمی پبلک سکول کے معصوم بچوں پر دہشت گردوں کے حملے اور سینکڑوں شہادتوں کے واقعے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس سانحے کے زخم آج

Read more

سید وارث شاہ۔ پنجابی سخن کا وارث (2)

وارث شاہ نے غریبوں اور عوام کی معاشی استحصال اور انفرادی تذلیل کا تذکرہ جہاں اپنے کلام میں اپنے انداز میں کیا ہے وہیں اسلامی شرع کے منافی اپنے خاوند اور اہل خانہ کو بے عزت کرنے والی خواتین اور اوباش مردوں کو بھی نشانہ تنقید بنایا ہے۔ اپنے کلام میں لالچی کھتریوں اور ظالم چوہدریوں کے کالے کرتوت کھول کر پیش کیے ہیں۔ انہوں نے پنجاب کی صبح کا ایسا نقشہ کھینچا کہ پنجاب کا کلچر اور رہن سہن

Read more

یوسف رند: جذبات و تخیلات کا شاعر

تخلیق مشکل اور کٹھن راستہ ہے جس پر چلنے والے بہت کم  لوگ ہوتے ہیں اور خاص طور پر تو ایسے روگ کو پالنے سے لوگ گریزاں ہوتے ہیں ۔ کیونکہ اس میدان میں مقصدیت کی راہ ہموار کرنے کے لئے کھیت میں ہل چلانا پڑتا ہے تب کہیں جا کر دل کی زمین زرخیز ہوتی ہے ۔اگر تخلیق کے میدان اور انتخاب میں یوسف رند کا نام  بھی لیا جائے تو فیصل آباد کی زمین علم و ادب سے

Read more

قائد اعظم کی عینک اور دیگر مال مسروقہ

اس برس اکبر الہ آبادی کی وفات پر ایک صدی گزر گئی۔ 1846 میں پیدا ہونے والے اکبر الہ آبادی نے 1857 ء کا ہنگامہ بھی مشاہدہ کیا اور پہلی عالمی جنگ بھی دیکھی۔ اکبر اردو ادب میں قدامت پسندی کی اولین آوازوں میں سے تھے۔ سرسید، علی گڑھ تحریک اور آزادی نسواں کے سخت مخالف تھے۔ بدیشی علوم اور ثقافت پر تنقید کے لئے طنزیہ علامتیں تراش رکھی تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود اکبر نے سرکاری مدارس

Read more

زمانہ بدلا پر خطبہ نہ بدلا

گھروں میں گھر وہ گھر جس میں ہم بچے سے بڑے ہوئے مسجد کے زیر سایہ تھا۔ جب ہم بچے تھے تو مسجد کچی اور گھر سے کافی فاصلے پر تھی۔ جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے گئے مسجد کا دامن پھیلتا گیا اور وہ ہمارے گھر سے قریب آتی گئی یوں ہمیں مسجد کے زیر سایہ بندہ کمینہ بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ بچپن سے بڑے ہونے تک اور مسجد کا دامن وسیع ہونے تک ہم نے کیا کیا نہ

Read more

عجیب و غریب کرامات کا عہد

غیرسیاسی طاقتوں کی تمام تر کوششوں کے علی الرغم سید ابوالاعلیٰ مودودی کی عمرقید کی سزا چھبیس مہینوں ہی میں ختم ہو گئی۔ اس وقت کے بلند قامت وکیل جناب شیخ منظور قادر نے لاہور ہائی کورٹ میں مقدمہ بڑی مہارت سے لڑا جس کی بدولت ان کا جماعت اسلامی سے تعلق ان کی زندگی میں ایک بڑے انقلاب کا باعث بنا۔ میاں طفیل محمد نے اس عظیم الشان انقلاب کی روداد بیان کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ 1954

Read more

مدثر نارو: وزیر اعظم عمران خان کی لاپتہ بلاگر کے والدین، کمسن بیٹے سے ملاقات

وزیرِ اعظم عمران خان نے لاپتہ صحافی اور بلاگر مدثر نارو کے والدین کو واقعے سے متعلق تحقیقات اور تمام تر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے اور کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مدثر کے والدین کو ‘تسلی بخش جواب’ دیں۔

Read more

پرتشدد ہجوم کے واقعات اور تحریک ناموس رسالتﷺ

کوئی بھی شخص جو توہین رسالتﷺ کو ایک ناقابل معافی جرم سمجھتا ہے وہ کسی پر توہین کی جھوٹی تہمت لگانے کو بھی گستاخی ہی سمجھتا ہے اور اسے بھی ناقابل معافی جرم سمجھتا ہے۔ کیونکہ ہمارے بابا جیؒ کی تعلیمات ان کی سوچ اور فکر نے ہمیں یہ ہی درس دیا ہے کہ کائنات کی سب سے مقدس ہستی ﷺ کے متعلق ہلکی سی نازیبا سوچ بھی انسان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتی ہے تو جو اس

Read more

سید وارث شاہ۔ پنجابی سخن کا وارث ( 1 )

وارث شاہ کو پنجابی زبان، پنجابی شاعری، پنجابی ثقافت اور تہذیب و تمدن کا وارث کہا جاتا ہے۔ وہ قصبہ جنڈیالہ ضلع شیخوپورہ متحدہ ہندوستان (موجودہ پاکستان ) میں 1722 ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے یوم پیدائش پر مختلف دانشوروں اور محققین کی مختلف آرائیں ہیں لیکن کوئی واضح ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ان کے کلام میں موجود مختلف اشعار کی روشنی میں ان کا سن پیدائش 1722 ء ہی مانا جاتا ہے۔ آپ کے والد محترم

Read more

واللہ خیۡر الۡماکریۡن۔ بہتر سے بہترین عطا کرنے والا رب

ایف ایس سی کا امتحان دے کر فارغ ہوئے ہی تھے کہ ائر پورٹ سیکیورٹی فورس میں اے ایس آئی کا اشتہار آیا، فوراً درخواست دے ڈالی، تھکا دینے والی دوڑ کے بعد تحریری امتحان اپنے تئیں سب سے بہترین کر کے آئے۔ دو تین ہفتے گزرے رزلٹ کے کوئی آثار نہ دیکھتے ہوئے ائر پورٹ جا پہنچے، معلوم ہوا کہاں کا رزلٹ؟ بندے تو سیلیکٹ ہو کر جوائن بھی کر چکے۔ یہ پہلا اتفاق تھا۔ چند ماہ بعد ایک

Read more

لشکری پہ اس کے نام کا اثر ہے؟

ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا کہ کوئی قدآور سیاسی و قبائلی رہنما پاکستانی سیاست سے بددل ہو کر سیاست کو ہمیشہ کے لئے خیرآباد کرنے کا سوچ رہا ہو بلکہ پاکستانی سیاست کی بھول بھلیوں میں گم ہو کر پھر سیاست سے بددلی کا راستہ تلاش کرنے والے ایک سے زائد موجود ہیں۔ مشہور و معروف کالم نگار تجزیہ کار سابق فوجی افسر اور روس میں پاکستان کے سفارت کار رہنے والے چکوال کے بے باک انسان ایاز امیر

Read more

کیا عورتیں آپ کو دیکھ کر دوپٹہ درست کرتی ہیں

مجھے ذاتی طور پر سر پر دوپٹہ لینا پسند ہے اور خالصتاً اپنی مرضی سے۔ مجھے رنگ برنگے، ہلکے بھاری، لمبے چوڑے پھولوں اور بیلوں والے دوپٹے بھی بہت پسند ہیں اور سب سے پسندیدہ امر یہ ہے کہ اپنی مرضی سے کسی بھی انداز سے دوپٹہ لیا جائے اور کسی کی ناگوار نگاہوں کے خوف کے بنا لیا جائے۔ ایک وقت تھا جب اس طرح کی باتیں بہت عام تھیں جو کہ آج بھی ویسی ہی عام ہیں کہ

Read more

علامہ اقبال: ایک عظیم مردِ خود آگاہ

آج ہم بیسویں صدی کی ایک عظیم شخصیت ڈاکٹر شیخ محمد اقبال ”رح“ کے یوم پیدائش نو نومبر 1877 کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے آج کا دن اس بلند اقبال کے نام کرتے ہیں جس کی ترنم ریزیاں ایک قریب المرگ قوم کے لئے صدائے قم ثابت ہوئیں اور انہوں نے بعض بے جانوں میں حرکت پیدا کردی۔ کوئی کہتا ہے کہ اقبال شاعر ہے، کوئی اسے حکیم و فلسفی بتاتا ہے، تو کوئی سیاستدان و مدنیات کا علم

Read more

رومانوی نظموں کا شہنشاہ: نزار قبانی

عرب دنیا کے مقبول ترین شاعر "نزار قبانی” کی رومانوی نظموں کی یہ کتاب بہت ہی خوبصورت اور اچھوتی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے سے قبل میں نزار قبانی کے نام اور انکی دلکش نظموں سے تھوڑا بہت واقف ضرور تھی لیکن اس کتاب کو پڑھنے کے بعد میں نزار قبانی کی نظموں کے عشق میں گویا گرفتار ہوچکی ہوں۔ کیا اس قدر خوبصورت نظمیں بھی کوئی تخلیق کر سکتا ہے وللہ! نزار قبانی نے محبت کی روشنائی سے لکھی

Read more

ناصر کاظمی کی ”پہلی بارش“

(8 دسمبر ناصر کاظمی کا یوم پیدائش ہے) (1) میں سکول میں پڑھتا تھا۔ نیا نیا شعر کہنا شروع کیا تھا۔ ایک محبوب مشغلہ پاپا کی غیرموجودگی میں، ان کے کمرے میں، ہر قسم کے نئے اور پرانے رسالے ’کھنگالنا‘ تھا (غیرنصابی کتابیں پڑھنے کا دور ابھی نہیں آیا تھا) ۔ ایک روز ’نیا دور‘ کے دو مختلف شماروں میں پاپا کی کئی غزلیں ایک ساتھ ملیں۔ ان کے بارے میں انوکھی بات یہ تھی کہ یہ سب کی سب

Read more

آفتاب جاوید کے گیان

شعر و سخن میں ابھرتا ہوا ایک تابندہ نام آفتاب جاوید کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کی علمی و ادبی حلقوں میں شاعری کے حوالے سے جو پہچان ہے وہ قابل ستائش اور قابل رشک ہے۔ جس کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے وہ علم و ادب سے گہرا شغف رکھتے ہیں جو ان کے شعور کی پختہ علامت ہے۔ ان دنوں میرے زیر مطالعہ ان کی کتاب گیان تھی جسے پڑھ کر احساس ہوا کہ قدرت نے ہر

Read more

قاضی نذرالسلام: کراچی کا حوالدار جو ’باغی‘ نذرالسلام کے نام سے مشہور ہوا

شنبھو رائے لکھتے ہیں کہ قاضی کے پاس رابندر ناتھ ٹیگور کی تمام کتابیں تھیں اور سرات چندرا کی تحریریں اس کے علاوہ اور تمام ہفت روزہ میگزین بھی ہوتے تھے، انھوں نے اس کے پاس انقلابی مواد بھی دیکھا جس سے انھیں اندازہ ہوا کہ وہ انقلابی تحریک کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

Read more

امروہے والے ماموں اور کراچی والے چچا

کیا یہ بات کسی اعزاز سے کم ہے کہ آپ کا نام اور جون ایلیا کا نام کسی رسالے میں ایک ساتھ شائع ہو؟ میں ابھی اسکول میں پڑھتا تھا کہ لیٹر ٹو دی ایڈیٹر لکھنا شروع کردیے۔ اِدھر اُدھر تو بھیجتا ہی تھا، سسپنس ڈائجسٹ کو بھی بھیجنے لگا۔ کبھی سوچا نہیں تھا کہ ایک دن اس ادارے میں بیٹھ کر دوسروں کے خطوط چھانٹوں گا۔ لیکن وہ بہت بعد کا واقعہ ہے۔ اسکول کالج کے دنوں میں خط

Read more

ماحولیاتی تنقید، پیسٹورل ایلجی اور ہم

آج کل میں پشتو ادب میں ماحولیاتی تنقید میں پیسٹورل ایلیجی پر کتاب لکھ رہا ہوں اور اب تک چھ متعلقہ مضامین سوشل میڈیا پر شائع کرا چکا ہوں اور سنجیدہ دوستوں نے اس کاوش کو سراہا بھی ہے۔ عالمی ادب میں تو اس پر خاصہ کام ہو چکا ہے لیکن ہمارے اردو ادب میں صرف اورنگ زیب نیازی صاحب نے اس موضوع پر خارجی لکھاریوں کے مضامین اکٹھا کرنے کے بعد ترجمہ کر کے کتابی صورت میں شائع کیا

Read more