خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر
میری پیاری امی۔ میں جب ہسپتال پہنچی تو میری زندگی سے کی امنگوں سے بھرپور، اور پر جوش امی نیم بے ہوشی کے عالم میں ہچکی نما سانسیں لے رہی تھیں۔ ابو نے کہا کہ آج رات تمہیں ہسپتال میں رہنا پڑے گا، میں ذرا سا بھی نہیں گھبرائی میں نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ ایسا بھی ہو گا۔ پھر کچھ دیر میں میں نے اپنے آپ کو ایک سٹریچر کے پاس کھڑا ہوا پایا میرے سامنے میری خوش
Read more














































































