ابوجی کی ساتویں برسی
میں ان کی اس بات پر بہت حیران ہوا کیونکہ اس سے قبل کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ میرے ابو نے میرے ان شعبوں کی کھل کر تعریف کی ہو بلکہ ہمیشہ پڑھائی پر دھیان دینے کی نصیحت کرتے تھے۔ ڈاکٹر کے جانے کے بعد مجھے کہنے لگے کہ ”بیٹا میں نے کبھی تم پر یہ شعبہ چھوڑنے کے لیے زبردستی نہیں کی اور اب کرنا بھی نہیں چاہتا ، بس اس قلم کی حرمت کی حفاظت کرنا کیونکہ یہ قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے“ ۔ یہ وہ الفاظ تھے جو میرے ابو نے میرے لیے پہلی اور آخری دفعہ ادا کیے تھے ، میں آج تک ان کی اس نصیحت کو پلے باندھ رکھا ہے۔
Read more



























































































