ابوجی کی ساتویں برسی

میں ان کی اس بات پر بہت حیران ہوا کیونکہ اس سے قبل کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ میرے ابو نے میرے ان شعبوں کی کھل کر تعریف کی ہو بلکہ ہمیشہ پڑھائی پر دھیان دینے کی نصیحت کرتے تھے۔ ڈاکٹر کے جانے کے بعد مجھے کہنے لگے کہ ”بیٹا میں نے کبھی تم پر یہ شعبہ چھوڑنے کے لیے زبردستی نہیں کی اور اب کرنا بھی نہیں چاہتا ، بس اس قلم کی حرمت کی حفاظت کرنا کیونکہ یہ قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے“ ۔ یہ وہ الفاظ تھے جو میرے ابو نے میرے لیے پہلی اور آخری دفعہ ادا کیے تھے ، میں آج تک ان کی اس نصیحت کو پلے باندھ رکھا ہے۔

Read more

غلامی کے نئے روپ

ویسے تو غلام بنانے کے پانچ طریقے ہو سکتے ہیں۔ جنگ میں قیدی بنا کر غلام بنانا۔ کسی پُرامن شخص کو زبردستی پکڑ کر یا اغوا کر کے یا لوٹ مار کے ذریعے غلام بنانا۔ غلام کی اولاد کو پیدائشی غلام بنانا۔ کسی شخص کو اس کی اپنی مرضی یا اس کے گھر والوں کی مرضی یا بااثر لوگوں کی مرضی سے کسی رقم یا فائدے یا ہرجانے یا قرض کے عوض غلام بنانا۔ کسی مفسد، ڈاکو یا باغی کو گرفتار کر کے غلام بنانا۔ لیکن اب ذرائع بدل گئے ہیں

Read more

مجھے نانی اماں کیوں یاد آئیں؟

جو واقعہ میں آپ کو سنانے لگی ہوں، ہو سکتا ہے آپ کو معمولی سا لگے لیکن میرے لئے بہت اہم ہے ، اس لئے نہیں کہ یہ میری اماں کا ہے بلکہ اس لئے کہ اس میں ایک پیاری عورت کی تصویر ہے۔ میں شاید بی کام کے پارٹ ٹو میں تھی، عید الضحیٰ قریب تھی، ہم سب سہیلیوں نے حسب معمول عید پر گھومنے پھرنے کا پلان بنا رکھا تھا مگر میرے عید کے کپڑے کسی وجہ سے ابھی تک نہیں بنے تھے۔ میں امی سے ناراض ہو کر کمرا بند کیے رو رہی تھی کہ اچانک نانی اماں آ گئیں۔

Read more

سلطانہ صدیقی: پی ٹی وی میں ملازمت سے اپنے چینل تک کے سفر میں ’عورت ہونا ہی بڑا چیلنج تھا‘

پاکستان کے معروف انٹرٹینمنٹ چینل ہم ٹی وی کی بانی سلطانہ صدیقی نے کئی دہائیوں سے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا ایک جانا پہچانا نام ہیں اور بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں انھوں نے اپنے سفر اور مشکلات سے لے کر عصرِ حاضر کے ڈراموں پر بات کی ہے۔

Read more

گریٹ خان کی رحم دلی کا ایک قصہ

دنیا کی تاریخ میں بہت بڑے بڑے حکمران گزرے ہیں لیکن چنگیز خان سے وسیع سلطنت کسی کی نہیں تھی جو ایک ہی جغرافیائی حد میں باہم متصل ہو اور درمیان میں سمندر نہ آتے ہوں۔ چنگیز خان کو منگول پیار سے اور باقی لوگ خوف سے گریٹ خان کہتے تھے۔ گریٹ خان ایک سیدھا سادہ سا آدمی تھا۔ وہ زیادہ تین پانچ نہیں جانتا تھا۔ کسی ملک پر حملہ کرتا تو اسے نہایت فراخ دلی سے اپنی غلامی میں آنے یا موت میں سے ایک کا انتخاب کرنے کی چوائس دیا کرتا تھا۔ وہ غلامی میں آ جاتے تو ان سے خراج اور سپاہی وغیرہ وصول کر کے انہیں زندہ رہنے دیا کرتا، ورنہ قتل کر دیتا۔

اسے تعمیرات کا بہت شوق تھا لیکن کیونکہ اس نے دنیا فتح کرنی تھی تو وقت کی کمی آڑے آتی تھی۔ اس لیے مفتوحہ علاقوں میں انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنا کر اپنا شوق پورا کر لیا کرتا تھا۔ یوں مشہور ہو گیا کہ وہ بہت ظالم ہے۔ حالانکہ وہ صرف انہیں قتل کرتا تھا جو اس سے اختلاف کیا کرتے تھے۔ جو ذی شعور تھے، ان کی وہ بہت قدر کیا کرتا تھا۔

Read more

امریکہ میں جمہوریت کے پرخچے

امریکہ دنیا کی سپر پاور، دنیا کی سب سے بڑی جمہو ریت، دنیا میں ترقی یافتہ اور باشعور مملکت، مہذب معاشرہ کہلا نے والے ملک میں 3 نومبر 2020 ء کو صدارتی انتخابات ہوئے۔ ٹرمپ دوسری بات ریپبلکن کی جانب سے صدارتی امیدوار تھے جب کہ ڈیموکریٹس کی جانب جو بائیڈن صدارتی امیدوار تھے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کو شکست ہونے لگی تو ٹرمپ نے نامنظور نامنظور کا واویلا شروع کر دیا۔ رفتہ رفتہ شکست اس کا پیچھا کرنے لگی مختلف امریکی

Read more

سائنس کی دنیا سے!

1۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق اگر کم ازکم 70 فیصد لوگ مستقل ماسک پہنے رکھتے تو کووڈ۔ 19 کی عالمی وبا کو روکا جا سکتا تھا۔ 2۔ ایک جدید تحقیق نے ظاہر کیا ہے کہ ڈولفنز اپنے دل کی دھڑکن کو گہرے پانی میں غوطہ لگانے کی مدت کے مطابق ایڈجسٹ کر سکتی ہیں۔ 3۔ سونے میں بے قاعدگی انسانی دماغ کے سفید مادے کو کم کر کے انسانی شعور کی کار کردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ 4۔

Read more

کب تک اس شاخ گلستاں کی رگیں ٹوٹیں گی

پاکستان ایک عرصے سے دہشت گردوں کے حملوں اور ان کے ظلم و جبر کا سامنا کر رہا ہے۔ ان دہشت گردوں کی دہشت گردی کی وجہ سے راکھ میں دبی چنگاریاں ایک دفعہ پھر سے سلگنے لگیں اور پھر کیا ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہمارا پیارا وطن شعلوں کی زد میں آ گیا، دہشت گردوں نے ہنستے بستے آنگنوں کو ماتم کدوں میں تبدیل کر کے رکھ دیا۔ دہشت گردی کی وجہ سے وزیرستان جلنے لگا، کے پی کے لہو لہو نظر آنے لگا، بلوچستان تارتار ہو گیا، پاکستان کے ہر شہر میں سانحے ہونے لگے کراچی، کوئٹہ، لاہور، ڈی آئی خان، اسلام آباد، پشاور، بم دھماکوں کی آماجگاہیں بن گئے۔

Read more

مچھ میں کان کنوں کا قتل: عمران خان کے دورے اور معاہدے پر ہزارہ برادری کیا کہتی ہے؟

ہزارہ برادری نے حکومت کے ساتھ معاہدے کے بعد امید ظاہر کی ہے کہ حالات بہتری کی طرف جائیں گے مگر برادری کے تمام لوگ ایسا نہیں سوچتے۔

Read more

بیماری اور خدا کی رحمت

مشاہدہ بتاتا ہے کہ جب کوئی کسی بھی جان لیوا بیماری میں مبتلا ہوتا ہے صرف وہی افسردہ اور اداس نہیں ہوتا بلکہ اس کے گھر والے اور عزیز و اقارب بھی تشویش ناک صورتحال سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ اگر اللہ رب العزت کو اس کی روح ہی قبض کرنی ہے تو اللہ اسے اتنی اذیت اور پریشانی سے کیوں گزارتا ہے۔ شاید اس بندے سے گناہ سرزد ہوئے ہوں گے۔ اللہ نہیں چاہتا کہ اس سے وہاں خطرناک اور وحشت ناک سزا دے۔ اس لیے دنیا میں ہی اس کو سزا دے کر وہاں اس کو جنت کا باشندہ بنائے گا۔ یہ بجا طور پر صحیح ہے لیکن نو زائیدہ بچوں نے کون سے گناہ کیے ہوتے ہیں؟ انہیں کیوں خطرناک بیماریاں دے کر دنیا میں آنے سے پہلے ہی اپنے پاس بلایا لیا جاتا ہے؟ یقیناً اس میں اللہ کی کوئی حکمت پوشیدہ ہو گی ورنہ سترہ ماؤں کے برابر محبت کرنے والی بابرکت ذات اپنے بندوں کو تکلیف اور ایذا کیونکر دے۔

Read more

فرض کریں آپ ایک ہزارہ نوجوان ہیں

پھر اچانک چیخوں سے فضا گونج اٹھی۔ میرے برابر میں ہاتھ پاؤں بندھے حسن کی شہ رگ میں جنت تلاش کی جا رہی تھی۔ آپ کو ایک ایسی بات بتاؤں جو کہ آپ کو یقیناً پتہ نہیں ہو گی۔ نامعلوم کی کوکھ اندیشے جنتی ہے اور یہ اندیشے خوف کے گہوارے میں پروان چڑھتے ہیں۔ کبھی کبھی یوں ہوتا ہے کہ برسوں پرورش پانے والے ان اندیشوں کو ادراک کی محض ایک گھڑی، محض ایک ساعت زنجیر خوف سے آزاد کر دیتی ہے۔ مجھے بھی شاید اسی لئے چھری کے کند ہونے کا پتہ نہیں چل پایا۔

ہاں یوں بھی نہیں کہوں گا کہ یہ سب آسانی سے انجام پایا۔ سوچ کے سارے دھارے گھر والوں کی جانب پھوٹ پڑے۔ بابا کی دوائیاں کافی مہنگی ہیں۔ وہ کون لائے گا۔ بہنیں پڑھ رہی ہیں۔ ان کی فیس کا کیا ہو گا۔ وہ نیک بخت جس نے گھر کو سنبھالا ہوا ہے، جب یہ خبر سنے گی تو اس کو کون سنبھالے گا۔ میری پریاں اب کس کا راستہ دیکھیں گی۔

Read more

لکھنوٴ سے آئی نظمیں

ماسٹر صاحب نے تو آوٴ دیکھا نہ تاوٴ۔ تسلیم کو سامنے بلایا اور دو تین چھڑیاں اس کے دائیں بائیں بازو پہ جڑ دیں۔ اور غصے میں بولے، ”گندی بچی۔ ایک ایک بال میں دس دس جوئیں ہیں تمہارے۔ پہلے وہ تو نکلواؤ پھر اس بچی کے قریب بیٹھنا اور خبردار جو آئندہ زارا کو ڈرانے کی کوشش کی، ورنہ تمہارے ناناجان سے شکایت کروں گا پھر دیکھنا کیا حشر کریں گے وہ تمہارا۔“ تسلیم نے کینہ پرور نظروں سے اس کو دیکھا۔ ماسٹر صاحب نے پیار سے زارا کے سر پہ ہاتھ پھیرا اور بولے۔ ”اب ہم خود اپنی بیٹی کو روزانہ چھٹی میں گھر تک چھوڑ کر آئیں گے تاکہ یہ تسلیم پگلی ہماری بیٹی کو تنگ نہ کر سکے۔“

Read more

پروردگار! یار ہمارا خیال کر

ایک شکوہ اقبال نے خدا سے کر کے بندوں کو اپنے رب سے ہم سخن کر دیا تھا مگر وہ حسن ادا سے کیا گیا شکوہ تھا، ایک شکوہ مجھے بھی اپنے خدا سے ہے۔

مجھے خدا کے سب انسانوں کے خدا ہونے یا نہ ہونے یا صرف ہندو، مسلمان، عیسائی، یہودی یا بدھ مت میں سے کسی ایک کے خدا ہونے سے شکوہ نہیں ہے، اگر کوئی شکوہ ہے تو ”اگنورنس“ کا ہے۔ جب بھی کہیں، کسی آفت میں خدا بھی اپنے ”نائب“ کی طرح مخلوق کی فریاد ان سنی کر دے یا دیر سے پہنچے تو لگتا ہے، ”خدا کہیں گم ہے۔“

Read more

حاکم کے مردہ ضمیر کی لاش بھی دفنا دیں

کیا کسی حاکم وقت کی بے حسی، سنگدلی اور بے رحمی اس درجے کو بھی پہنچ سکتی ہے کہ وہ بے دردی سے شہید کیے جانے والوں کی لاشوں کو بلیک میلر کہہ دے۔ خان اعظم فرماتے ہیں کہ دنیا میں اس طرح کبھی کسی وزیراعظم کو بلیک میل نہیں کیا جاتا۔ جناب خاقان اعظم صاحب دنیا میں اس قدر سفاک، پتھر دل اور بے رحم وزیراعظم بھی کوئی نہیں ہوتا جو اتنے بڑے سانحے کے فوراً بعد وہاں پہنچنے کے بجائے دارالحکومت میں بیٹھا اپنے پالتوں کتوں سے کھیلتا رہے اور ارطغرل ڈرامے کی ٹیم کے ناز اٹھاتا رہے اور جب اسے سانحۂ مچھ کی لاشوں کے بارے میں اطلاع دی جائے تو وہ اسے بلیک میلنگ سے تعبیر کرے۔

Read more

لیکوریا کا جن ڈاکٹر طاہرہ کاظمی نے بوتل میں بند کر دیا

ڈاکٹر صاحبہ کے کالم میں موجود بچی کی جسمانی کمزوری جس طرح بیان کی گئی ہے۔ جن بچیوں کو یہ شکایت ہے ، ان سب کی جسمانی حالت اکثر ایسی ہی ہوتی ہے جو خوراک کی کمی یا نامناسب خوراک سے بھی ہو سکتی ہے اور خوف سے بھی۔ وہی خوف جس میں ہمارے معاشرے کی بچی کو پالا جا رہا ہوتا ہے۔ چونکہ وہ بلوغت کی منازل طے کر رہی ہے اور اس کے جسم میں ضروری تبدیلیاں آ رہی ہوتی ہیں جن پر دیوان تو لکھنا پسند کیا جاتا ہے مگر حقیقت کو قبولنا گناہ سمجھا جا رہا ہوتا ہے۔

Read more

اپنے نیرو سے کچھ باتیں

ہاں مگر جان کی امان نا بھی پاؤں تو بھی پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں کہ منفی چھ ڈگری سینٹی گریڈ میں جوان بیٹے کی لاش لیے آپ کے منتظر، بوڑھے باپ اور بلکتی بہن، جس کے گھر میں اب لاشیں اٹھانے کو کوئی مرد نہیں بچا، ان کو کیا پیغام دیا جائے؟ آپ کا ذاتی نظریہ تو واضح ہو گیا، کیا ریاست ماں بھی مارنے والے کو شہید اور ذبح ہونے والے کو بلیک میلر کا سرٹیفکیٹ عطا کرے گی۔ سرائیکی کہاوت ہے کہ اپنا مارے تو کم ازکم سائے میں ڈال دیتا ہے۔

Read more

بلیک میلر لاشیں اور ریاست مدینہ ثانی

اپوزیشن میں ہوتے ہوئے ہمارے ہر دل عزیز لیڈر اس وقت کے حکمرانوں کو اس لیے کوستے رہتے تھے کیوں کہ حکمران انسانی ہمدردی کے جذبہ سے عاری تھے۔ حکمرانوں کو آڑے ہاتھوں لیتے تھے اور فرماتے یہ کیسے حکمران ہیں جو مظلوم کی داد رسی نہیں کر سکتے۔ لیکن اپوزیشن والے کپتان سے اب والا کپتان یکسر مختلف بلکہ متضاد سوچ کا حامل ہے۔ اب ان کو جلسے جلوس پسند نہیں ، نہ ہی احتجاج میں جمہوریت کا حسن نظر آتا ہے۔ سیاسی احتجاج تو اپنی جگہ اب تو کپتان کو دہشت گردی کی شکار ہزارہ برادری، جو چھ دن سے اپنے پیاروں کی لاشیں سڑک پر رکھ کر منفی دس سینٹی گریڈ سردی میں ٹھٹھر رہی ہے ، وہ بھی خلیفہ وقت کو بلیک میلر لگتے ہیں۔

Read more

دین،اخلاقیات اور انسانیت

ہمارے ہاں عموماً دین کو اخلاقیات اور انسانیت سے علیحدہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اگر کسی شخص کا زیادہ زور اخلاقیات اور انسانیت پر ہو تو اسے موم بتی مافیا یا لبرل جیسا خطاب دے دیا جاتا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ چونکہ ان لوگوں کا اصل زور اخلاقیات اور انسانیت پر ہے تو یقیناً ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ دوسری جانب سے بھی یہ ہوتا ہے کہ مذہب سے متعلق لوگوں کے جذبات سے آگاہ ہونے کے باوجود سارا زور اخلاقیات اور انسانیت پر ڈال کر کچھ ایسی باتیں کی جاتی ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دین کچھ نہیں ہے بس اخلاقیات اور انسانیت ہی سب کچھ ہے۔ دراصل دونوں اپروچز غلط ہیں اور دونوں طرف سے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

Read more

وبا سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے سماجی دوری کے 432 سال پرانے قوانین

چھ فٹ کا فاصلہ رکھیں یعنی سماجی دوری کو اپنائیں، ہاتھ ملانے گلے ملنے سے گریز کریں اور ضرورت کے وقت گھر کا ایک فرد ہی اشیائے ضروریہ کو خریدنے کے لیے باہر جائے. کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ ضوابط صدیوں پہلے ہی وبا سے نمٹنے کے لیے اپنائے گئے تھے۔

Read more

ڈاکٹر آصفہ اختر: انسانی جین کی گتھیاں سلجھانے والی انعام یافتہ پاکستانی نژاد محقق اور سائنسدان

جرمنی کے مشہور زمانہ تحقیقی ادارے میکس پلانک سوسائٹی سے منسلک آصفہ اختر کو سنہ 2021 کے لائبنس انعام سے نوازا گیا ہے۔ انھیں مزید تحقیق کے لیے تقریباً 25 لاکھ یورو کی انعامی رقم بھی دی جائے گی جو سائنسی تحقیق کے لیے مختص بلند ترین گرانٹس میں سے ایک ہے۔

Read more

بات انسانیت کی ہو تو بلیک میل ہو جانا چاہیے

جناب بات انسانیت کی ہو تو بلیک میل ہو جانا چاہیے۔ بات جب مظلوم لوگوں کے حق کی ہو تو بلیک میل ہو جانا چاہیے۔ بات جب انصاف کی ہو تو بلیک میل ہو جانا چاہیے۔ 2001 سے شروع ہوا یہ ظلم آج تک تو ختم ہو جانا چاہیے تھا پر آج اور پروان چڑھ گیا ہے۔ ایک اسلامی ریاست کا خواب جو ہمیں دکھایا گیا، کیا اس کی حقیقت یہ ہے؟ ہمیں بچپن سے لے کر آج تک اسلامی

Read more

کنواری – کرشن چندر کا افسانہ

اب میگی اور پام اور ماسٹر جی (ماسٹر متین احمد) کا تگڈم بن گیا تھا۔ تینوں برآمدے کے دوسرے کونے میں الگ سے جا کر بیٹھتے تھے تاش کھیلتے تھے اور ہر وقت تین شریر بچّوں کی طرح مسرور اور مگن نظر آتے تھے۔ آپس میں ان کی کیا باتیں ہوتی تھیں یہ تو ہم نہیں جان سکے۔ البتہ اتنا ضرور احساس ہونے لگا کہ ان تینوں میں گاڑھی چھَن رہی ہے۔ ماسٹر جی جو پہلے صرف میگی پر اپنی پوری توجّہ صرف کرتے تھے اب میگی کے اصرار کرنے پر پام پر بھی کسی قدر اپنی توجّہ دینے لگے۔ آہستہ آہستہ یوں ہو گیا کہ تعلقات برابر کے ہو گئے۔ ماسٹر جی اپنی آدھی توجّہ میگی اور آدھی توجّہ پام کو دیتے تھے اور کسی طرف ڈنڈی نہ مارتے تھے۔ بہت دنوں تک یہ سلسلہ چلا پھر ہولے ہولے غیر شعوری طور پر پام کی طرف پلڑا جھکتا چلا گیا۔ کیونکہ پام ساٹھ برس کی تھیں اور میگی اسی برس کی۔ پام کے چہرے پر جُھرّیاں بہت کم تھیں اور پام کسی قدر زندہ دل تھی، اور کیسے عمدہ لطیفے سناتی تھی۔ میگی کی روح بلاشبہ پام سے بہتر معلوم ہوتی ہے مگر جسم کو جدھر سے دیکھو ہڈیاں سی نکلی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ اور پام تو بالکل گرم پانی کی بھری ہوئی ربڑ کی بوتل کی طرح آرام دہ معلوم ہوتی ہے اور شریر پام پلڑا اپنی طرف جھکتے دیکھ کر غریب ماسٹر کو اور بھی اکسانے لگی۔ اور اپنی سہیلی کی ساری خاطر و مدارت بھول کر اسے جلانے پر تل گئی۔

Read more

لیکوریا کوئی بیماری نہیں!

ٹوکن نمبر تین کا نشان روشن ہوتے ہی وہ دونوں ہمارے کمرے میں داخل ہوئیں۔ ادھیڑ عمر خاتون کے ہمراہ دبلی پتلی بچی، چودہ پندرہ برس کا سن، سہما ہوا چہرہ اور اڑی اڑی رنگت!
بچی بہت گھبرائی ہوئی نظر آتی تھی سو اسے اپنے سامنے والی کرسی پہ بٹھا کے ہم نے بہت پیار سے پوچھا،
” بیٹا بتائیے کیا تکلیف ہے؟“

اس نے جواب دینے کی بجائے گڑبڑا کے ماں کی طرف ملتجیانہ نظر سے دیکھا، سو جواب ماں کی طرف سے آیا،
” ڈاکٹر صاحب، اس کی کمر میں بہت درد رہتا ہے، بھوک نہیں لگتی، معمولی کام سے تھکاوٹ ہو جاتی ہے۔ وہ ساتھ میں۔ وہ اصل میں لیکوریا بھی بہت ہے، تو لیکوریا کے لئے آپ کے پاس لائی ہوں“

”اف یہ منحوس لفظ۔ لیکوریا۔“

Read more

مچھ سانحہ اور ہزارہ برادری کی سادگی

جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں کوئٹہ میں، 11 کان کنوں کے قتل کے خلاف، ہزارہ برادری کا دھرنا جاری ہے شرکا کا مطالبہ ہے کہ جب تک وزیر اعظم نہیں آئیں گے تب تک لاشوں کی تدفین ہو گی نہ دھرنا ختم ہو گا بہت سے لوگ شاید یہی سوچ رہے ہیں کہ سادگی کی بھی حد ہوتی ہے بھلا یہ بھی کوئی مطالبہ ہوا؟ کیا وزیر اعظم کے آنے سے بے دردی سے قتل کیے جانے والے

Read more

وزیراعظم صاحب: اب آپ کی حکومت کا اخلاقی جواز کہاں ہے؟

گزشتہ سال نیوزی لینڈ میں ایک المناک حادثہ پیش آیا تھا جس میں ایک مسجد پر حملہ کی صورت میں اکیاون 51 مسلمان بھائی مارے گئے تھے۔ اس حادثہ کے فوری بعد نیوزی لینڈ کی پرائم منسٹر جائے حادثہ پر خود پہنچی اور لواحقین کو گلے لگا کر ان کو حوصلہ دینے کے ساتھ ساتھ وہ اس عزم کا اظہار کر رہی تھیں کہ ”we are united“ میں دکھ کی گھڑی میں آپ کے ساتھ ہوں اور جو ہمیں تقسیم

Read more

بے گور میتیں اور مردہ معاشرہ

گزشتہ کئی روز سے ہزارہ قبیلے کی بے گور میتیں ہمارے مردہ معاشرے پر نوحہ کناں ہیں۔ زبان حال سے وہ ہمارے مردہ ضمیر کی ایسی عبرت انگیز داستان بیان کر رہی ہیں کہ شاید بے ضمیری بھی کہیں منہ چھپانے کے لیے جگہ تلاش کرتی پھر رہی ہو۔ میں نہ تو کوئی تجزیہ نگار ہوں اور نہ ہی کوئی سیاستدان، لیکن کیا ایک انسان کو دوسرے انسان کا دکھ محسوس کرنے کے لیے کسی مخصوص نوع یا قبیل سے

Read more

جنازے اٹھانے والے مرد

منظر خاصا تکلیف دہ ہے لیکن پچھلے چند دنوں سے میں روز یہ منظر دیکھتی آ رہی ہوں۔ میں خود کو دوسرے کاموں میں مصروف کر کے اس منظر سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتی ہوں لیکن یہ ہر روز یہ منظر پوری شدت سے میرے سامنے آ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ کوئٹہ شہر مجھے کتنا پیارا ہے یہ تو کوئی میرے دل سے پوچھے اور جب اس شہر کو کوئی نیا زخم ملتا ہے تو مجھے لگتا ہے

Read more

ہمارے یہاں شہید بنانے کا کام تسلی بخش کیا جاتا ہے

میرے عزیز ہم وطنو، میں جانتا ہوں کہ آپ کو اب میرے خطاب سے کوئی دلچسپی نہیں اس لئے میں اس تحریر کے ذریعے آج آپ سے مخاطب ہوں۔ آج میں آپ کو یہ بات بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے یہاں شہید بنانے کا کام تسلی بخش کیا جاتا ہے۔ پڑھ کر حیران مت ہوں یہ حقیقت ہے یہ سعادت آپ کو کب کہاں، کیسے میسر آ جائے آپ کو بھی معلوم نہیں۔ لیکن یقین جانیے جب بھی ایسا ہو

Read more

قبرستان کا بادشاہ

فیض کے ایک ہاتھ میں پانی سے بھری ہوئی بالٹی تھی۔ فیض کے علاوہ اور بچے بھی وہاں تھے جو پھٹے ہوئے کپڑوں میں ننگے پاؤں چل رہے تھے۔ جیسے ہی کوئی مرد یا عورت قبرستان میں پھول چڑھانے کے لیے یا فاتحہ پڑھنے کے لیے آتا یا آتی تو یہ بچے پیچھے پڑ جاتے کہ وہ قبر کی صفائی کریں گے اور پانی ڈالیں گے۔ دو تین بار عمر کو بھی دوسرے بچوں کے ساتھ کچھ روپے مل گئے۔ عمر کو یہ کام اچھا تو نہیں لگ رہا تھا لیکن زندگی میں پہلی بار اس نے کچھ روپے کمائے تھے۔ ان روپوں کو چھو کر اسے ایک عجیب سی تسکین مل رہی تھی جو اس نے پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ وہ اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر بار بار ان روپوں کو چھو رہا تھا۔ ایک عورت نے آ کر بچوں میں چنے بھی بانٹے اور ایک دوسری عورت نے دو دو بسکٹ سب کو دیے۔ آج نہ جانے کتنے عرصہ بعد عمر نے بسکٹ کھائے تھے۔

Read more

کہانی چند سو لفظوں کی

بچپن کے ٹراماز بہت خطرناک حد تک پہنچ سکتے ہیں اور اگر بچپن کے ٹراماز کا مستند طور پر بر وقت سدباب نہ کیا جائے تو ان کا اظہار اور بھی خطرناک اور گھناؤنے طریقے سے ہو سکتا ہے۔ اس کے گھر محلے کے ایک داڑھی والے بظاہر شریف، ہر وقت تسبیح کرنے والے ایک فرد کی اکثر آمد ہوتی ہے۔ اکثر وہ دین کی باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اچانک جب وہ سوتے سے جاگتا ہے تو انہی

Read more

تم نے کہیں میرا بیٹا، میری بیٹی، میری ماں یا میرا باپ دیکھے؟

ممتا نےکہاں کہاں دوڑایا،  یہ صرف میں جانتی ہوں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ پورے سات دن قاتل ہمارے سامنے گھومتا رہا لیکن ہمیں یہ تک نہ بتایا کہ جس معصوم کو ہم تلاش کر رہے ہیں اس کی لاش ہمارے گھر کے عین نیچے کھیتوں میں سات دنوں سے پڑی ہے۔ لاش جب ملی تو خود اپنی خبر نہ رہی۔ جس وجود کو پورے پندرہ سال میں نے کبھی خود سے الگ نہ کیا وہ میرے قریب ہی سات دن تک کیڑے مکوڑوں کے لیے رزق کا ذریعہ بنا رہا۔ میں نے جیسے ہی لاش دیکھی تو ہوش نہ رہا پھر کلمہ پڑھا اور لاش کے قریب گئی۔ لاش پر بے شمار نشان تھے۔ اس کے ہاتھ پر میں نے جو دھاگے باندھے تھے وہ ہڈیوں میں پیوست ہو چکے تھے۔ میں نے اللہ کا نام لیا اور دھاگے ہاتھ سے کاٹ کر اپنے پاس رکھے جو ابھی بھی میرے پاس موجود ہیں اور ان دھاگوں پر خون کے دھبے بھی موجود ہیں۔

Read more

پرسنل باؤنڈری کے بارے میں کچھ خیالات

"اماں، یہ میری پرسنل باؤنڈری ہے، پلیز اس میں دخل اندازی مت کیجیے” حیدر میاں سے گرماگرم بحث میں الجھنے کے دوران جونہی یہ الفاظ سنے، ہم نہ صرف اپنی جگہ سے اچھلے بلکہ چودہ طبق بھی روشن ہو گئے۔ "کیا مطلب؟ میں ماں ہوں تمہاری” ہم نے ہکلاتے ہوئے کہا، "بے شک! اور میں بحثیت ماں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں اور آپ کی رائے کا احترام بھی! مجھے علم ہے کہ آپ بھی مجھ سے بہت محبت

Read more

محبت کا اعتراف

” پھر تم مجھ سے دور کیوں ہو گئے“ سندھو نے کہا۔ ” میں کب تم سے دور ہوا ہوں۔ اموشنلی تمہارے ساتھ ہوں۔ اور رہوں گا۔“ میں نے کہا۔
” پھر تم نے مجھے کیوں کہا کہ میسیج نہ کرنا، بات نہ کرنا۔ ؟“ سندھو گویا ہوئی۔ ” میرے پاس کچھ نہیں جو تمہیں دوں۔ تم نے بھی تو کہا تھا کہ ایک دن چلی جاؤ گی۔ وہ دن جس دن جاؤ گی کوئی بڑا صدمہ یا دکھ تم دو گی تو ابھی چھوٹا سا دکھ دے جاؤ۔“ سندھو نے پھر میرے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر آواز بند کردی۔

Read more

سندھ میں خاموش سیاحتی انقلاب

دیکھا جائے تو کورونا وائرس کی وجہ دنیا کے مختلف ممالک کی معیشت بہت بری طرح متاثر ہوئی ہے وہاں کاروباری دنیا سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے اور اس میں سب سے زیادہ سیاحت کی انڈسٹری اور اس سے وابستہ لوگوں کو مالی نقصان پنہچا۔ اگر پاکستان کے ٹورازم کی بات کی جائے تو ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل ٹوئرزم بہت بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کا صوبہ سندھ اپنی مخصوص عدم تشدد اور روایتی صوفی ثقافت

Read more

بارک اوبامہ بڑے بھائی سے ملتے ہیں

” تم جا کہاں رہے ہو؟“ اس نے مجھ سے پوچھا۔ ” اپنے بھائی سے ملنے“ ” مجھے نہیں معلوم تھا کہ تمہارا بھائی بھی ہے“ ” اب تک نہیں تھا“ اگلی صبح میں طیارے کے ذریعے واشنگٹن ڈی سی پہنچا جہاں میرا بھائی رائے رہتا تھا۔ ہماری آپس میں پہلی بار بات چیت آؤما کی شکاگو میں آمد کے دوران ہوئی تھی، جس نے تب مجھے بتایا تھا کہ رائے نے امریکن پیس کور کی ایک اہلکار سے بیاہ

Read more

فیمنزم اور شفاف فطری ہم آہنگی

انڈسٹری اور گلیمرائزیشن نے فیمنزم کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے انسانی ہم آہنگی پر ضرب کاری لگائی ہے جس کے نتیجہ میں مرد اور عورت الگ الگ پولز پر کھڑے ہیں۔ انسانی زندگی ایک رزم گاہ بنی ہوئی ہے جہاں حقوق کی جنگ برپا ہے۔ میں نے انسانی زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے ، زندگی بھید بھری گتھیوں کا جھمیلا ہے۔ ہم مرد اور عورت کے ہم آہنگ ہونے کے لطف کو الگ کردیں تو انسان غیر فطری زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائے۔ جیسا کہ لیسبیئن اور گے کلچر ترقی پا رہے ہیں اور بازار پلاسٹک کے جنسی کھلونوں سے بھرتے جا رہے ہیں۔ ویسے بھی ہم اپنی ضرورت کی چیزوں سے لطف اور دلچسپی نکال دیں تو شاید اپنے جسم کی حیاتیاتی ضرورتوں کو بھی پورا نہ کر پائیں۔

Read more

مشرقی روایات کی قیدی عائشہ کی المناک کہانی

والدین نے کہا کہ بیٹی رشتہ بہت اچھا ہے ، لڑکا انجینئر ہے اور ایسے رشتے بار بار نہیں ملتے۔ عائشہ نے بہت منت سماجت کی کہ مجھے مکمل ڈاکٹر بن لینے دیں پھر میں آپ کی مرضی سے شادی کرلوں گی مگر والدین نہ مانے اور تعلیم کو ادھورا چھوڑ کر عائشہ کی شادی کر دی گئی۔ کچھ عرصہ شادی پرسکون چلی مگر پھر شوہر نے عائشہ کو اپنا ادھورا خواب پورا کرنے کی اجازت نہ دے کر ہمیشہ کے لیے گھر میں قید رکھنے کا فیصلہ کیا اور وہ اکثر اوقات اس سے بدتمیزی کرتا اور مارتا پیٹتا تھا۔

Read more

ٹو فنگر ٹیسٹ اور میرا ذاتی تجربہ

اس پر بات کرنا تو سخت گناہ سمجھا جاتا ہے۔ آپ کے کردار پر سوالیہ نشان لگا دیا جاتا ہے۔ مجھے پہلی بار ماہواری ہوئی تو میری عمر سولہ سال تھی ، میں بھی ہکا بکا رہ گئی کہ یہ کیا ہو گیا مجھ سے ، میری والدہ نے جب یہ سب دیکھا تو انہوں نے یہی کہا کہ کسی کو بتانا نہیں ورنہ تمہاری پڑھائی روک دیں گے۔ میرے کندھے پر ہاتھ زور سے جماتے ہوئے ایک چھوٹا سا کتابچہ میرے ہاتھ میں تھمایا اور کہا یہ پڑھ لو اس پر عمل کرنا اور صفائی کا خاص خیال رکھنا۔

Read more

کیا ریاست ماں ہوتی ہے؟

ہم نے دوسروں کی جنگ میں اپنے بچے پہلے جہادی بنائے، ان میں زہر بھرا اور پھر 2001ء میں بابو لوگوں نے فیصلہ کیا کہ اب اس زہر کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ نتیجہ پھر ہمارے سامنے ہے 23500 کے قریب عام پاکستانیوں نے قربانی دی اور 9000 کے قریب عسکری جوانوں نے قربانیاں دیں۔ 2000ء سے 2010ء کی دہائی تک 68 ارب کا معاشی نقصان اور 2020ء تک تقریباً 126 ارب کا مجموعی مالیاتی نقصان اٹھایا جا چکا ہے، خون کی صورت میں قربانی الگ سے جاری ہے اور عسکریت پسندی کے خاتمہ کے لیے اب تک ضرب عضب اور ردالفساد بڑے معرکہ وقوع پذیر ہو چکے ہیں، مزید کتنے درکار ہیں ریاست ہی بتا سکتی ہے، ان آپریشنز کا مالیاتی بوجھ اوپر بیان کیے گئے نقصان کے علاوہ ہے۔

Read more

آگ کی بددعا اور نیرو کا سکون!

جب بھی روم کے نیرو کو پڑھتا ہوں تو کراچی کے وہ معصوم بے گناہ شہری یاد آ جاتے جو سیکڑوں کی تعداد میں لسانیت کی سیاسی آگ میں مارے گئے، منی پاکستان جل رہا تھا، لیکن نیرو ’سب ٹھیک ہے‘ کہ بانسری بجا رہا تھا، سوات، شمالی و جنوبی وزیرستان سمیت قبائلی علاقے و مالاکنڈ ڈویژن سمیت خیبر پختونخوا مکمل انتہا پسندی کے ہاتھوں جل رہے تھے، لیکن نیرو بانسری بجاتا رہا۔ بلوچستان ابھی تک جل رہا ہے، مچھ کے علاقے گشتری میں کان کنی کے محنت کشوں کو لسانی شناخت کے بعد پہاڑی علاقے میں مار دیا گیا، لیکن نیرو اب بھی ’سب ٹھیک ہے‘ کی بانسری بجا رہا ہے۔

Read more

نورا کوارین: ملائیشیا کے جنگل میں برطانوی لڑکی کی گمشدگی کا راز جو اب تک حل نہ ہو سکا

اگست 2019 میں چھٹیاں منانے کے لیے ملائیشیا آئے خاندان نے اپنی بیٹی نورا کوارین کو کھو دیا تاہم تقریباً ڈیڑھ سال بعد یہ بات اب بھی راز ہے کہ نورا کے ساتھ اصل میں ہوا کیا تھا۔

Read more

ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی معصومہ حسن جن کی زندگی ایک سکالر شپ نے بدل دی

ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی 44 سالہ معصومہ حسن کا کہنا ہے کہ امریکی کانگریس کی جانب سے ‘ملالہ یوسفزئی سکالرشپ’ قانون کی منظوری دیے جانے پر بے حد خوش ہیں اور انھیں امید ہے کہ اس کی مدد سے اعلیٰ تعلیم کی خواہش مند بہت سی پاکستانی خواتین اپنے خوابوں کو پورا کر پائیں گی۔

Read more

تھر کے شمسی توانائی کے واٹر پلانٹس پر خواتین کی حکمرانی

کراچی — سندھ کے صحرائی علاقے تھر پارکر میں واقع گاؤں مان سنگھ بھیل کی ساتویں جماعت کی طالبہ آسیہ ان دنوں کرونا وبا کے سبب اسکول تو نہیں جا رہیں۔ لیکن روزانہ صبح گھر سے پانی بھرنے ضرور جاتی ہے۔

Read more

پاکستان اور امریکہ میں مختلف سماجی رویوں کا موازنہ اور سوشل میڈیا پر بحث

انڈیا اور امریکہ کے درمیان مختلف سماجی اور معاشرتی رویوں کے موازنے کا سوشل میڈیا پر چلنے والا ٹرینڈ پاکستان تک پہنچا تو یہاں بھی سوشل میڈیا صارفین نے پاکستان اور امریکی جھنڈے استعمال کرتے ہوئے میم اور مزاحیہ پوسٹ بنانی شروع کر دیں۔

Read more

سوال غدار ہے!

ہم نے تو بچپن سے گریجویشن تک مطالعہ پاکستان کی کسی بھی کتاب میں یہ ’خرافاتی نظریہ‘ نہیں پڑھا کہ ریاست کا بنیادی فرض عوام کے جان، مال، عزت اور حقوق کا تحفظ ہے کیونکہ ہمیں تو یہی بتایا، رٹایا جاتا رہا ہے کہ ہم ہمیشہ سے ہی کتنی انوکھی مخلوق ہیں لہٰذا خصوصی طور پر ہمارے لیے یہ مقدس زمین حاصل کر کے ہم پہ جو عظیم احسان کیا گیا ہے اس کا حق یہی ہے کہ بجائے ہم ریاست سے اپنے حقوق کا سوال کر کے غداری کے مرتکب ہوں، اپنے اور اپنے عزیزوں کے خون کی بلی چڑھا کر ریاست کی لمبی عمر کی دعائیں کرنا ہی ہمارا دھرم ہونا چاہیے ۔

Read more

سیاسی اُفق کا شہاب ثاقب بھٹو

” حالات بڑی سنگدلی کے ساتھ حتمی تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں، اس کا انجام انتہائی بھیانک بھی ہو سکتا ہے۔ اسپین بھی اس طرح کے تصادم سے دوچار ہو چکا ہے، چالیس سال کا عرصہ بیت چکا ہے (یا زیادہ) لیکن ہسپانوی عوام کو اس وقت کی یادیں ایک ڈراؤنے خواب کی طرح آج بھی ڈراتی ہیں، اسپین پاکستان کو دو طرح سے انتباہ کرتا ہے، ان میں سے ایک انتباہ فوج اور عوام کے درمیان متوقع تصادم کے بارے میں ہے اور دوسرا اس اسلامی ریاست کے خاتمے (نعوذ با اللہ) کے متعلق ہے“ ۔

Read more

ماہر نفسیات ایرک ایرکسن اور انسانی زندگی کے مختلف ادوار

ایرک ایرکسن کا موقف تھا کہ انسانی شخصیت کسی پتھر کی طرح ٹھوس نہیں بلکہ ایک سیال مادے کی طرح لچک دار ہے جس میں پیدائش سے موت اور بچپن سے بڑھاپے تک تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ مثبت بھی منفی بھی۔ زندگی کے ہر دور میں انسان کو ایک نیا چلینج قبول کرنا پڑتا ہے۔ اگر وہ اس چیلنج کو قبول کرنے میں کامیاب ہو جائے تو ذہنی صحت اور بلوغت کی اگلی منزل تک پہنچتا ہے ورنہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایرک ایرکسن  نے انسانی شخصیت کی نشوونما اور ارتقا کو آٹھ ادوار میں تقسیم کیا۔

Read more

لوگ بیٹی کو ’بیٹا‘ کہہ کر کیوں بلاتے ہیں؟

آج کل حال یہ ہے کہ روز ہی اہلیہ ایسی احادیث اور اقوال ڈھونڈ ڈھانڈ کر موبائل پر بھیج رہی ہیں جن میں بیٹیوں کے ماں باپ کے لیے بڑے اجر کا ذکر ہوتا ہے۔ آج بھی انہوں نے ایک ویڈیو کلپ بھجوایا ہے جس میں کوئی صاحب بتا رہے ہیں کہ بیٹیاں باپ کو ہاتھ سے پکڑ کر جنت میں  لے کر جائیں گی۔

Read more

محافظ قاتل بن جائے تو تحفظ کون دے گا؟

درحقیقت پولیس کی خرابی محض چند پولیس والوں کی نہیں، بلکہ حکمرانوں کی بدنیتی کا نتیجہ ہے، یہ لوگ پولیس کو اتنا پروفیشنل نہیں بننے دیتے کہ کل اس کا عام سپاہی انہیں بھی غیر قانونی کام پر گرفت میں لے سکے۔ یہ سارا نظام اوپر سے خراب کیا جا رہا ہے اور اوپر والے ہی کسی درجے میں بھی قانون کی بالادستی قبول کرنے کو تیار نہیں، اوپر سے لے کر نیچے تک جب یہ رویہ ہوگا تو ایسے ہی واقعات ہوں گے۔ اس واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف بظاہر دہشت گردی کا مقدمہ بھی درج کر دیا گیا ہے، لیکن اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ چند ماہ بعد نوجوان کے قاتل پولیس والے رہا نہیں ہو جائیں گے یا پھر اہلخانہ کو دباؤ ڈال کر کچھ رقم لینے پر مجبور کر کے مقدمہ داخل دفتر کر دیا جائے گا۔ یہ سارے کھیل پاکستان میں دن رات سر عام ہوتے رہتے ہیں، اس کی روک تھام کے لئے اداروں میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Read more

انڈیا کا زیرانتظام کشمیر: سابق عسکریت پسندوں کی پاکستانی بیویوں کا سفری حقوق نہ ملنے کی صورت میں ایل او سی کی جانب مارچ کرنے کا اعلان

پیر کو سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق عسکریت پسندوں کے ساتھ بیاہی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والی خواتین نے سفری حقوق نہ ملنے کی صورت میں ایل او سی کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

Read more

نادیہ خان کی شادی پر سوشل میڈیا پر بحث: ’یہ معاشرہ نہ طلاق یافتہ عورت کو قبول کرتا ہے، نہ اس کی دوبارہ شادی کو‘

مارننگ شوز کی میزبانی سے شہرت حاصل کرنے والی نادیہ خان نے حال ہی میں اپنے انسٹاگرام اور یوٹیوب چینل پر جب اپنی دوسری شادی کی خبر اپنے فالورز کے ساتھ شیئر کی تو انھیں بھی معاشرے کے ان تلخ رویوں کا سامنا کرنا پڑا جو شاید اکثر طلاق یافتہ خواتین کو دوسری یا تیسری شادی کی صورت میں کرنا پڑتا ہے۔

Read more

کورونا پر سنجیدہ دانشوری

ساقی نے سینی ٹائزر کی بجائے ڈیٹول صابن کا پانی بنا کر رکھا ہوا تھا جس سے وہ عالمی وبا کا مقابلہ کر رہا تھا۔ ساقی نے ہاتھوں کو وائرس سے پاک کیا اور کہنے لگا یہ حکومتی لوگوں کو اپوزیشن کے جلسوں کے ساتھ کورونا ایسے یاد آتا ہے جیسے کڑاہی کے ساتھ چٹنی یاد آتی ہے اور خود یہ ایسے کام کر رہے ہیں کہ وبا پھیلے نہ پھیلے عوام ان کے گرد ضرور پھیل جائے گی۔ میں نے کہا ساقی یہ عمران خان تو کہتا ہے کہ معیشت ٹھیک جا رہی ہے۔ ساقی کہنے لگا یہ باتیں اسحاق ڈار بھی کرتا تھا وہ تو ہارڈ ٹاک والے نے انیل کپور بن کر نائیک کی طرح اس کا ڈراپ سین کیا۔ ورنہ یہاں کچھ لوگ ابھی بھی کہہ رہے تھے کہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کو لے آؤ۔

Read more

گھسی پٹی محبت: ڈرامہ ریویو

ڈرامے کی ساری سچائیاں، معاشرتی رویوں پہ طنز ہر ہر سین میں عروج پہ رہا مگر ایک سین پہ دل بے تحاشا خراب ہوا کہ ایک لڑکی/ عورت جب اپنے شوہر سے کہتی ہے کہ اسے زندگی گزارنے کے لئے صرف ایک مرد کا مکمل ساتھ چاہیے اور کچھ بھی نہیں۔ کتنی سچائی تھی ان الفاظ میں۔ ڈرامے کی ہیروئن بہت بولڈ دکھائی گئی لیکن اس کی خواہش انتہائی معصوم ہے،  صرف ایک مرد کا مکمل ساتھ اور بیچارہ بدنصیب مرد اسے وہ بھی نہیں دے پاتا۔

Read more

ناول ’پیرِکامل‘، ایک جائزہ

ایک دوست اسے اپنی گرل فرینڈ امامہ کے بارے میں بتاتا ہے جس کا تعلق ریڈ لائٹ ایریا سے تھا تو سالار کو اپنی سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ وہ اس سے درخواست کرتا ہے کہ مجھے اس سے ملا دو۔ لیکن وہاں پہنچ کر وہ جب دیکھتا ہے کہ وہ کوئی دوسری لڑکی ہے تو وہ وہیں سجدے میں گر جاتا ہے۔ اسے اللہ کی ایک نئی پہچان ہوتی ہے اور وہ اس کا شکر بجا لاتا ہے کہ اللہ نے اسے ایک بہت بڑی اذیت سے بچا لیا ہے۔ اللہ چاہے تو سب کچھ کر سکتا ہے۔

Read more

نیا برس اور تین لوگوں کے عہد

رشتے کے انتظار میں بیٹھی لڑکی کا عہد: میں اس سال کسی بھائی سے بھابھی کے سامنے کچھ نہیں مانگوں گی۔ میں ہمت دکھاؤں گی۔ میں اپنے اچھے مستقبل کا انتظار کروں گی۔ میں منڈی میں بکتے جانوروں کی بولی کا جانور نہیں ، اپنے آپ کو انسان سمجھوں گی۔ میں آنکھوں میں میرے جسم کو تولتی آنکھوں کو تحمل اور برداشت سے دیکھوں گی۔ میں بالکل بھی غصہ نہیں کروں گی۔ میں اس سال اپنی تصویر کی مزید بیس کاپیاں سال کے شروع میں ہی بنوا کر رکھ لوں گی۔

Read more

ریاست یا بے رحم ڈائن؟

سوچتا ہوں کیا ماں جیسی ریاست اس کو کہتے ہیں جو اپنے ہی بچوں کو کھا جائے؟ کیا ماں جیسی ریاست وہ ہوتی ہے کہ جس میں 135 بچوں کا قاتل احسان اللہ احسان ریاستی اہلکاروں کی حراست سے ”فرار“ ہو جائے؟ کیا ماں جیسی ریاست وہ ہوتی ہے جہاں شاہدرہ میں بچی کا ریپ کر کے قتل کر دیا جائے اور ورثا کو انصاف کے لیے روڈ بلاک کرنا پڑے مگر انصاف پھر نہ ملے۔ کیا ماں جیسی ریاست وہ ہوتی ہے جو معصوم بچوں کے سامنے ان کے والدین کو قتل کر دے؟ ساہیوال کے معصوم، حیات بلوچ کی بوڑھی والدہ، قتل ہونے والے اسامہ کا باپ چیخ چیخ کر پکار رہا ہے کیا ایسی ہوتی ہے ماں جیسی ریاست؟

Read more

بے بی کا موبائل اور ادھوری فلم

دو سال سے زائد عرصہ گزر چکا تھا؛ فلم سیٹ تک نہیں جا سکی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ فلم صرف منصوبہ بندی کے مراحل میں اٹکی ہو، بہت سا کام مکمل بھی کر لیا گیا تھا۔ کہانی مکمل تھی، پہلے دو ایکٹ کا سکرین پلے لکھا جا چکا تھا، تین گانے ریکارڈ ہوچکے تھے اور کوریو گرافر استاد دتہ کی ہدایت میں ان دھنوں پر رقص کی مشق چلتی رہتی تھی۔ معاون کردار نبھانے والے اداکار چن لئے گئے

Read more

چارلس نیپئر، ملکہ وکٹوریہ کی تصویر اور سندھی سردار

آغا خان دوم کی شادی اور قیام ڈیفنس کراچی میں اس ٹھیکری پر رہا جہاں ایک انگریزوں کی تعمیر کردہ ایک عمارت موجود ہے جس کو ہنی مون لاج کہا جاتا ہے۔ اسی اہم علاقے کو سرگوشیوں میں کراچی کی ڈیفنس ہائوسنگ سوسائیٹی کا فیز تھری مانا جاتاہے۔ اسے کسی نقشے میں احتیاطاً اور مصلحتاً اس دھڑلے سے ظاہر نہیں کیا جاتا۔ جیسے فیز ایک سے آٹھ تک کا کونہ کونہ چپہ چپہ ان رہنما نقشوں میں مذکورہے ہز ہائی

Read more

ریاست مدینہ میں عام شہری کا تحفظ

ریاست مدینہ کے دارالحکومت اسلام آباد میں سری نگر ہائی وے پر رات کے دو بجے اسلام آباد پولیس نے 22 سالہ معصوم لڑکے پر 22 گولیاں چلا کر قتل کر دیا۔ کیا یہی ہے وہ ریاست مدینہ ہے جس کا دعویٰ وزیراعظم عمران خان صاحب اپنی تقریروں میں کرتے ہیں؟ کیا ریاست مدینہ میں عام شہری کو یوں رات کے وقت قتل کیا جاتا تھا؟ پولیس کے بیان کے مطابق پہلے گاڑی میں سے فائرنگ کی گئی جس کے

Read more

سعودی ولی عہد اور آزادی کا جادو

آج سے ایک سو دس سال پہلے دنیا میں زیادہ تر مملکتوں میں بادشاہت قائم تھی۔ تب دنیا میں اتنی جمہوری حکومتیں تھیں جتنی آج بادشاہتیں ہیں۔ لیکن آج بادشاہتیں دنیا سے مٹتی ہی کیوں چلی جا رہی ہیں اور اگر کہیں قائم بھی ہو رہی ہیں (جیسے شمالی کوریا یا پوتن کا روس یا بیلا روس) تو یہ ملک بھی خود کو شہنشاہیت کیوں نہیں قرار دیتے؟ شمالی کوریا بھی ہر چند سال بعد بڑی دھوم دھام سے انتخابات

Read more

فلسفۂ بینظیر ایک بار پھر تاریخ رقم کر گیا

پاکستان اور عالم اسلام کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم، کارزار سیاست کی عظیم دانشور، باہمت، بہادر ایک عظیم سیاسی جمہوری ورثے کی وارث شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی ان کے تکلیف دہ غم کو اس طرح ایک بار پھر مضبوط عزم میں تبدیل کر گئی کہ پاکستان کی سیاسی جمہوری تاریخ کی مختلف الخیال نظریات، فکر و فلسفے کی حامل جماعتیں شہدائے گڑھی خدابخش میں جمہوریت کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے

Read more

کوئی تو زنجیر عدل کھینچے

آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا نسل سے ہو ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ الفاظ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی 11 اگست کی تقریر میں ادا کیے۔ نئی ریاست کی تشکیل کے وقت یہ تھا ریاست کا وہ

Read more

سال 2020: عالم انسانیت کے لئے آزمائشوں کا سال

بہت سارے لوگ یہ کہتے ہے یہ اچھا سال تھا وہ اچھا نہیں لیکن ایسا ہرگز صحیح نہیں۔ وقت ہمیشہ بہتر اور پاک ہوتا ہے۔ اللہ پاک کا فرمان ہے کہ وقت مجھ سے منسوب ہے لہذا اسے ہرگز برا نہ کہو۔ دنیا میں صرف تغیر یعنی تبدیلی کو دوام حاصل ہے۔ دنیا میں مختلف تبدیلیاں رونما ہوتی ہے اور یہ تخلیق کائنات سے چلتا آ رہا ہے۔ وقت اللہ کی نعمت بھی ہے اور آزمائش بھی۔ وقت انسان کے

Read more

معاشرہ پھول بنائیں، انگار نہیں!

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا شرف بخشا اور ساتھ ہی دنیا میں اپنا نائب اور خلیفہ ہونے کا تاج بھی سجایا۔ یہ زندگی یوں ہی نہیں مل گئی اور نہ ہی مخلوق خدا کا جینا دو بھر کرنے کا کام ہمارا ہے زندگی ایک مقصد کا نام ہے۔ وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جو دوسروں کے کام آتے ہیں ان کی زیست سہل کرتے ہیں۔ یہ ہمارافریضہ بھی ہے۔ خدمت خلق مخلوق خدا کی خدمت کرنا ہے

Read more

غیرت آباد کا موضع عزت پورہ

شاید چاندکی ابتدائی تاریخیں چل رہی تھیں۔ ہلکی ہلکی چاند کی روشنی میں بھی ملک مصور اشفاق المعروف ملک ساجی کا وجیہہ چہرہ واضح نظر آ رہا تھا۔ کیکر، شیشم، پوپلر اور نیم کے درختوں کے جھنڈ میں اپنے ڈیرے پہ چارپائی پر لیٹے اور حقے کے کش لیتے ہوئے بھی اس کی نگاہ گاؤں سے آنے والی پگڈنڈی پر ہی مرکوز تھی۔ پشت کی جانب سے نذیرا ماچھی ننگے پاؤں کسی اٹھائے ڈیرہ پہ پہنچا تو ساجی نے پلٹ

Read more

شب گزیدہ: محبت کرنے والوں کی کہانی

بیس بائیس سالہ نوجوان جو شکل و شباہت سے کسی شریف گھرانے کا فرماں بردار بیٹا اور یونیورسٹی کا طالب علم نظر آتا تھا ایک طرف کھڑا تھا۔ کمرہ عدالت میں بے چین بھنبھناہٹ تھی جو اس کے شل اعصاب کو مزید بوجھل کر رہی تھی۔ لڑکے کا باپ سرجھکائے عدالت میں اور ماں گھر میں دل ہی دل میں خدا سے مخاطب تھے شاید وہ سن لے بندگان خدا نے تو کان اور آنکھیں دونوں بند کر لیے تھے۔

Read more

اگلے ریاستی قتل تک خُداحافِظ

پاکستان میں ہر کچھ عرصے بعد ایسا کوئی نہ کوئی سانحہ ہوتا ہے جس میں ریاست اپنے ہی بچوں کو مار دیتی ہے۔ اس میں سے کچھ سانحات میڈیا کی زینت بنتے ہیں اور بہت سے ایسے واقعات ہیں جو کہ میڈیا پر آتے ہی نہیں اور کچھ بے گناہ تاریک راہوں میں مارے جاتے ہیں، ان کی لاش کسی ویران، سنسان، سڑک پر یا کسی کھائی میں پڑی ملتی ہے۔ جو واقعات میڈیا کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ان پر چند دن سوشل اور الیکڑانک میڈیا پر شور مچتا ہے، کچھ اہلکار معطل ہوتے ہیں ان کے خلاف مقدمے درج ہوتے ہیں اور پھر کچھ عرصہ بعد جب معاملہ ٹھنڈا پڑ جاتا ہے میڈیا اور عوام کسی اور نئے سانحے کے پیچھے لگ جاتے ہیں تو یہ مجرم عدم ثبوت، کمزور شہادتوں اور جان بوجھ کر کمزور بنائے گئے کیس کی وجہ سے آرام سے چھوٹ کر کسی اور ماں کا لخت جگر چھیننے کے لئے اپنی ڈیوٹی پر واپس آ جاتے ہیں۔

Read more

سوات کے دکاندار کی ایمان داری

مینگورہ شہر بہت ہی رش والی جگہ ہے۔ اگرچہ پاکستان کے دوسرے شہروں کی مانند یہاں کی گلیاں اور بازار بہت کشادہ نہیں مگر لوگوں کے دل کشادہ اور مہمان نوازی، خلوص اور محبت سے بھرے ہوئے ہیں۔ میں بہت حیران ہوا جب میں نے بازار میں تقریباٰ ایک کلومیٹر لمبی گاڑیوں کی قطار دیکھی۔ حیرت انگیز طور پر ڈراؤر اپنی لین میں صبر کے ساتھ چل رہے تھے۔ کسی نے لائن توڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کی۔

Read more

ہزارہ- اب ’خوب است‘ کہنے والا کوئی بچا

پانی تقسیم چوک سے آرچرڈ ہاؤس کی طرف جانے والی سڑک پہ مڑیں تو پہاڑی کے دامن میں ڈھیروں چمکتے جگنو سامنے آ جاتے ہیں۔ کچھ تو اس قدر نزدیک کہ ہاتھ بڑھا کر مٹھی میں قید کیے جا سکیں۔ کوئٹہ میں یہ تمام جگنو ہزارہ کے نام سے جانے جاتی ہیں۔ دبیز قالینوں میں دبے گھر ان لوگوں کی درویش صفتی کے عکاس ہیں، نہ مکینوں کو کسی کی باتیں چبھتی ہیں نہ ہی گھر میں کوئی نوکدار چیز ملتی ہے۔ رات کی روٹی اسی دسترخوان میں لپیٹ کر سو جاتے ہیں اور صبح اسی سے ناشتہ کر کے نکل جاتے ہیں۔ ایک ایسے شہر میں جہاں سے 1935 ء کا زلزلہ ابھی تک گیا نہیں، ہزارہ لوگ وہ جگنو ہیں جو اپنے مخصوص ”خوب است۔ خوب است“ سے پورے شہر کو اجالتے پھرتے ہیں۔

Read more

رشتہ کروانے والیاں کس طرح کام کرتی ہیں

کراچی میں گھر بنانا اور گھر بسانا ایک بندے کے بس کی بات نہیں رہی ہے اگر آپ کو گھر بنانا یا کرائے پر لینا ہے تو بغیر بروکر کے ممکن نہیں۔ ہمیں اس لفظ کی اردو آتی ہے مگر کیا کریں اس لفظ کی اردو لکھنا نہیں چاہتے عجیب سا لفظ ہے اسی لیے اردو پڑھاتے وقت ہم اپنے اسکول کی انتظامیہ سے گزارش کرتے ہیں کہ کہیں کہیں اردو کی جگہ انگریزی کا سہارا لینے دیا کریں مگر آگے سے معیاری اردو کا سن کر خاموش ہونا پڑتا ہے ورنہ یقین جانیئے جو مزا ”دفع ہو جاؤ“ کہہ کر غصہ نکالنے میں ہے وہ گیٹ آؤٹ میں قطعی نہیں ہے اور مجبوری ایسی کہ آپ گیٹ آؤٹ کا سہارا نہیں لے سکتے بس اسی لیے ”جماعت سے باہر نکل جائیے“ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

Read more

شاباش تم کر سکتے ہو کی موٹی ویشن۔ مائی فٹ!

زی ہمارا کالج کے زمانے کا دوست ہے، اچھا خاصا معقول آدمی ہے، پڑھائی لکھائی میں بھی ٹھیک تھا، بہت زیادہ ذہین تو نہیں کہہ سکتے البتہ غبی یا نالائق بالکل نہیں تھا، آپ اسے اوسط سے کچھ اوپر درجے کے لوگوں میں بھی شامل کر سکتے ہیں۔ کالج کی تعلیم کے بعد اس نے وہی کیا جو سب کرتے ہیں، نوکری کی تلاش، ایک یونیورسٹی میں لیکچرر کی آسامی نکلی تو وہاں درخواست بھجوا دی۔ انٹرویو کے لیے بلاوا آ گیا۔ اس سے پہلے دو درجن امیدوار وہاں اسی نوکری کے لیے موجود تھے۔

ابھی دس امیدواروں کے انٹرویو ہی مکمل ہوئے تھے کہ اچانک اس یونیورسٹی میں کوئی ہنگامہ شروع ہو گیا، منتظمین نے باقی انٹرویو منسوخ کر دیے اور امیدواروں سے کہا کہ انہیں اگلی تاریخ سے آگاہ کر دیا جائے گا۔ لیکن وہ اگلی تاریخ کبھی نہیں آئی۔ جتنے امیدواروں کے انٹرویو کیے گئے تھے انہی میں سے ایک شخص کو بلا کر نوکری کا پروانہ دے دیا گیا۔ جس خوش نصیب کو وہ نوکری ملی، کسی زمانے میں وہ ہمارے دوست زی کا ہم جماعت تھا اور کسی بھی طرح زی سے زیادہ قابل نہیں تھا۔

Read more

نکاح یا بغیر نکاح؟

کسی بھی انفرادی یا اجتماعی ادارے کی بنیادوں میں معیشت کا ایک بڑا ہاتھ ہے۔ تاریخی شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ روایتی شادی کا ادارہ تقریباً ساڑھے چار ہزار سال سے رائج ہے۔ اس سے پہلے ہزاروں سالوں سے انسانی بستیاں تقریباً تیس افراد پر مشتمل ہوتی تھیں جن میں مرد، عورتیں اور بچے سب شامل ہوتے تھے۔ زمین اور ماحول سے جڑے ان قبائلی معاشروں میں صنفیں محض دو نہیں ہوتی تھیں جن کا پہننا اوڑھنا یا ان

Read more

فرات کے کنارے کتا

اب تو لکھتے ہوئے بھی رائیگانی کا احساس ہی رہتا ہے۔ پتھر کی سماعتوں پر ہمارے الفاظ کیا اثر کریں گے؟ جو دل سانحہ ساہیوال پر نہ پسیجے، جو کلیجے تربت کے واقعے پر نہ پھٹے، جن کو سرفراز کی موت پر شرم نہ آئی انھیں اب کیا فرق پڑے گا؟ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

یہ خون کے دھبے اس نئی ریاست مدینہ کے منہ پر طمانچہ ہیں

اس بار سوچا تھا کہ پچھلا سال اس قدر تکلیف دہ رہا تو اس سال کا آغاز کسی اچھے کالم کسی اچھے بلاگ کے ساتھ ایک نئی امید کے ساتھ کروں گی۔ لیکن شاید کچھ ارادے وہ خواب ہوتے ہیں جو ادھورے ہی رہتے ہیں۔ ہماری بدقسمتی ہی ہے کہ اس ملک کا ایک عام آدمی پولیس تھانے کا نام سن کر ہی خوف سے کانپ جاتا ہے۔

پولیس کا کام عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے لیکن جہاں تھانیدار بھی بڑوں کی مرضی کے ہوں اور ان کی ڈیوٹی صرف مخالفین کو مزہ چکھانے کے لیے مخصوص ہو وہاں پر کسی قسم کے انصاف کی توجہ رکھنا تو شاید ایسا ہی ہے جیسا کسی پہاڑ کو کھود کر پانی کی نہر نکالنا۔ سوچ کر ہی ڈر لگتا ہے کہ گھر سے باہر اگر رات گئے اکیلی باہر نکلی تو انجام کیا ہوگا اگر عزت بچ جائے تو شاید جان نہ بچ پائے۔

Read more

جا اسامہ بیٹا سو جا، سکون تو صرف قبر میں ہی ہے

کئی تصویریں سامنے ہیں۔ ایک اکیس برس کا نوجوان۔ زندگی سے بھرپور۔ ایک تصویر میں وہ ایک پہاڑی پر ساز بجا کر زندگی کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ دوسری میں وہ ایک آبشار کے سامنے کھڑا ہے۔ تیسری میں وہ تحریک انصاف کی ٹوپی پہنے دوستوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ چوتھی میں وہ آئی ایس ایف کے کسی کارکن کے ساتھ بظاہر انتخابی پرچیاں بھر رہا ہے۔ بہتر زندگی کے خوابوں کے سوا کیا ہے ان تصویروں میں۔ جن کے بیٹے بھتیجے اٹھارہ بیس برس کے ہوں، وہ ان خوابوں کو جانتے ہیں۔ وہ ان میں اپنی جوانی دیکھتے ہیں۔ اور اپنا بڑھاپا بھی۔ بالکل ویسا ہی بچہ جیسا آپ کا اور ہمارا ہے۔

بیس اکیس برس کی عمر میں اس طالب علم کو ایک نئی نکور گاڑی ملی تھی۔ اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں ہو گا۔ جب مڈل کلاسیے بچے کو کالج جانے کے لیے موٹرسائیکل بھی ملے تو وہ خوشی سے بے حال ہو جاتا ہے۔ یہ تو پھر نئی گاڑی تھی۔ اس کا خاندان ظاہر ہے کہ بہت خوشحال نہیں تھا۔ بینک سے قسطوں پر لی گئی تھی اور غالباً قسط اتارنے کی ذمہ داری بھی اسامہ کو دی گئی تھی کہ وہ اوبر پر اس گاڑی کو چلاتا تھا۔ زندگی اور کتنی خوبصورت ہو سکتی ہے ایسے نوجوان کے لیے۔ پھر ایک اور تصویر سامنے آتی ہے۔ وہ گاڑی گولیوں سے چھلنی ہے۔ ایک اور تصویر سامنے ہے۔ زندگی سے بھرپور نوجوان اب ایک لاش بن چکا ہے۔ وہ گاڑی اس کا تابوت بن گئی ہے۔

Read more

قوموں کی تباہی اور زوال کے اسباب

جب کسی قوم میں بدعملی، بدخلقی اور نا انصافی اجتماعی طور پر آ جائے تو تباہی و بربادی اس کا مقدر اور زوال پذیر ہو جاتی ہے۔ جب ہم حیات انسانی کے ارتقاء پر نظر ڈالیں تو ہمیں اس کا رخ اجتماعیت کی طرف ہی نظر آتا ہے اور جب وہ فطرت کے خلاف چلیں، قانون قدرت کو بھلا دیں، نافرمانی و گستاخی کریں ، خدا تعالیٰ کے متعین کردہ اصولوں سے روگردانی اور انحراف کریں تو خداتعالیٰ کی پکڑ

Read more

حضرت عیسیٰ ؑ نے چور سے سچ کیسےاُگلوایا

(قصص الانبیاء و دیگر اسلامی کتابوں سے منسوب ایک حکایت)۔

ایک مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہیں سفر پر جا رہے تھے کہ ایک شخص آپؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ”یا نبی اللہ، میں آپ ؑکی خدمت میں رہنا چاہتا ہوں تاکہ آپؑ کی خدمت کرسکوں اور علم دین سیکھ سکوں۔“ آپؑ نے اس کو اپنے ہمراہ رہنے کی اجازت دے دی۔ اجازت ملنے کے بعد وہ شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ سفر کرنے لگا۔ چلتے چلتے راستے میں جب دونوں ایک نہر کے کنارے کے پاس پہنچے تو آپؑ نے فرمایا ”آؤ کھانا کھالیں۔“

Read more

کیا سیکس کے لیے پر سکون ماحول ضروری ہے؟

سیکس ایک ایسا عمل ہے جو دو بالغ افراد کے درمیان باہمی رضا مندی سے ہوتا ہے۔۔ چاہے یہ عمل تخلیق کے لیے ہو یا جنسی سکون کے لیے ہو مگر یہ عمل ہر انسان کی فطرت کا خاصہ ہے اور اس سے فرار ممکن نہیں۔ مغربی سماج کے برعکس مشرقی سماج میں اس عمل پر گفتگو کرنا بے ادبی اور بدتہذیبی تصور کیا جاتا ہے اور اس عمل کو شادی کے ساتھ نتھی کر دیا جاتا ہے۔ وقتی طور

Read more

ایک عام سا شخص

وہ ایک عام سا شخص تھا، اس میں ایسی کوئی بات بھی نہیں تھی جو اسے خاص بناتی۔ پھر بھی ہر شام جب میں آفس سے واپس آتا تو میری نظر خود بخود اس کے کمرے کی جانب اٹھتی جہاں سے کمرے کی کھڑکی اور کچن کے ویکیوم فین سے چھن چھن روشنی باہر آتے دیکھ کر مجھے اس کی موجودگی کا پتہ چلتا۔ میری اس سے پہلی ملاقات ہوئی تو گرمیوں کا موسم شروع ہو چکا تھا، میں آفس

Read more

سماجی دُوریوں کے دَور میں

”سماجی دوری“ آپ نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی شاید ہی یہ لفظ سنا ہو لیکن 2019 کے بعد اس لفظ سے آپ بخوبی واقف ہو گئے ہوں گے۔ مجھے بھی پہلے اس لفظ  کا مطلب معلوم نہیں تھا لیکن اب میں بھی جانتی ہوں۔ کیا کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ اس لفظ کے معنوں میں بہت کچھ چھپا ہے ۔ بظاہر تو اس کا مطلب سماج کے لوگوں یا اپنے اردگرد کے لوگوں سے فاصلہ اختیار کرنا

Read more

سرابوں کے تعاقب میں

کچھ ہفتے قبل راقم کی نظر سے محترم پرویز ہود بھائی صاحب کا ایک مضمون گزرا، جس میں انہوں نے دنیا بھر کی جامعات کی درجہ بندی اور اس کے طریقہ کار کے متعلق خامہ فرسائی تھی۔ اپنے اس مضمون میں آنجناب میں جس اہم حقیقت کی طرح اشارہ کیا وہ اس نظام میں پائے جانے والے بنیادی نقائص ہیں جس کی وجہ سے اعداد و شمار کا ہیر پھیر کر کے غیر مستحق جامعات اور اساتذہ کو ابتدائی درجہ

Read more

’ایئر آف دی نرس اینڈ دی مڈوائفس 2020: پاکستان کی آٹھ نرسیں عالمی فہرست میں شامل، ملک میں اس شعبے کی بہتری کیسے ممکن؟

100 نرسوں کی عالمی فہرست میں شامل ہونے والی ڈاکٹر روزینہ کہتی ‘جب میں نے نرسنگ میں کام شروع کیا تو اس وقت مریضں اور ان کے رشتہ دار کہتے تھے کہ کیا آپ کے بھائی یا والد کما کر کھلا نہیں سکتے جو نرسنگ میں آ گئی ہو۔۔‘

Read more

عمر کی نقدی (5)

ایف ایس سی کے سال اول میں تھے تو ایک دن وسیم نے کہا کہ ایئرفورس میں میٹرک کی بنیاد پر کیڈٹس رکھ رہے ہیں، چلو اپلائی کرتے ہیں۔ ان دنوں راولپنڈی صدر میں ایئرفورس کا رجسٹریشن سنٹر تھا۔ ایک دن ہم دونوں بس پر پنڈی گئے، رات وسیم اپنے کسی رشتہ دار کے ہاں ٹھہرا اور میں نے راجہ بازار کے ایک ہوٹل میں قیام کیا۔ صبح ہم دونو ں مری روڈ پر اکٹھے ہوئے اور ایک ٹیکسی میں

Read more

بھیشم ساہنی، انعام ندیم اور ”امرتسر آ گیا ہے“

یہ سترہ اٹھارہ سال پہلے کی بات ہے، مجھے میرے پیارے دوست آصف فرخی نے دو کتابیں ایک ساتھ عنایت کی تھیں۔ ان کتابوں میں سے ایک کانام تھا: ”اور کہاں تک جانا ہے؟“ جب کہ دوسری تھی: ”درخواب“ ۔ دونوں شاعری کے مجموعے اور دونوں شاعر میرے لیے نئے۔ تاہم آصف فرخی نے کہا تھا: ”انہیں پڑھیے ضرور آپ کو مایوسی نہیں ہوگی۔“ ان میں سے پہلی کتاب اکبر معصوم کی تھی۔ وہی اکبر معصوم جو آصف فرخی کی

Read more

پانیوں پر لکھے ہوئے نام والا جان کیٹس

یہ بتانا مشکل ہے کہ سات سمندر پار اس رومانوی کلاسیکل شاعر کیٹس سے میرا عشق کب شروع ہوا؟ بلکہ اس میں اگر تھوڑا سا اضافہ کروں تو یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اس دوڑ میں اس کے دوست شیلے اور بائرن بھی شامل تھے۔ گو کیٹس ہمیشہ میری کمزوری رہا۔ تاہم شیلے بھی کم نہیں۔ ہاں البتہ اس رومینٹک تکون نما مثلث کا تیسرا سرا لارڈ بائرن کہیں تھوڑا سا پیچھے ہے۔ روم اور یہیں وہ سپینش سٹیپ

Read more

تلخ یاد کے ساتھ گزر گیا یہ برس بھی

سال کا آخری دن ہے، آج گزرے سال کا جائزہ لیا اور احتساب کیا جا سکتا ہے۔ یہ سال  کسی کے لیے ناقابل فراموش تو کسی کے لیے ہر سال کی طرح نارمل رہا ہو گا، زندگی کے اس مختصر سفر کا ایک اور سال گزر گیا۔ انسان اس دنیا میں آتا ہے زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے بچپن، جوانی اور پھر بڑھاپے میں قدم رکھتا ہے، جس ماحول میں آنکھ کھولتا ہے اس ماحول کا اس کی

Read more

کورونا وائرس ڈائری: کووڈ سے متاثرہ سات ماہ کی حاملہ خاتون کی ڈاکٹروں سے التجا ’میرا بچہ بچا لیں‘

22 سالہ مہ پارہ حاملہ ہونے کے دوران کووڈ کی وجہ سے شدید بیمار ہو گئی تھیں، لیکن بالآخر ماں اور بچے دونوں کو ہی بچا لیا گیا۔

Read more

منور ظریف سے طارق ظریف تک: ہدایت کار شاہد مہربان کی نئی فلم ”سچی مچی“

میں ایک عرصے سے کوشش کر رہا تھا کہ عظیم کامیڈین منور ظریف کے کسی قریبی عزیز سے ملاقات ہو جائے۔ ایک دوپہر میں ایور نیو اسٹوڈیوز کے منیجر، نگار ایوارڈ یافتہ فلم ایڈیٹر زیڈ اے زلفی صاحب کے دفتر میں بیٹھا تھا کہ مجھے برابر میں واقع باری فلم اسٹوڈیوز سے فلمساز و ہدایتکار نوید رضا کا فون آیا کہ آپ کے مطلب کی خبر ہے۔ میں فوراً ان کے دفتر پہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ منور ظریف مرحوم کا

Read more

سنہ 2020 موت کا سال تھا

سنہ 2020 موت کا سال تھا، لیکن اللہ ہی نے ہمیں یہ باور کرایا کہ موت بے شک کتنی ہی ظالم کیوں نہ سہی لیکن انسانیت کو کرونا شکست نہیں دے سکتا۔ آج جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے تو دنیا کے کئی ملکوں میں 2021 کا نیا سورج طلوع ہو چکا ہوگا۔ آج برطانیہ بھی یورپی یونین سے تاریخی علیحدگی کے بعد اپنا نیا سفر شروع کر رہا ہے۔ ہم اب یورپی یونین کا حصہ نہیں رہے۔ بریکسٹ نے ہمیں کیا دیا یا نہیں وہ اگلے کالمز میں، لیکن یہ برطانیہ ہی ہے جہاں کرونا کو شکست دینے کے لئے دنیا کی سب سے پہلی ویکسین لگائی گئی اور ابھی دنیا بھر کے جتنے ممالک میں امریکی منتخب صدر جو بائیڈن سے لے کے محمد بن سلمان تک جس جس کو ویکسین لگی ہے، وہ ہمارے پاکستانی جغادریوں کے فتووں کے برعکس بندر یا سور میں تبدیل نہیں ہوا۔ پاکستان نرالا ملک ہے اور پاکستان کے سیاسی شور و غل کا بہرحال کرونا بھی کچھ نہیں بگاڑ سکا لیکن یہ کالم بہرحال سیاسی نہیں ہے۔

Read more

آسکر وائلڈ کی شہرہ آفاق کہانی: رحم دل شہزادہ

شہر کے مرکز میں بنے سنگ مر مر کے ایک اونچے لمبے ستون کی چوٹی پر ایک نوجوان شہزادے کا سنہری بت کھڑا تھا۔ شاہی وردی میں ملبوس، بت کی کمر میں بندھی تلوار کے دستے میں ایک بڑا سا یاقوت اور آنکھوں میں دو نیلم جڑے ہوئے تھے۔ ستون کے ارد گرد بہت چہل پہل رہتی۔ شہزادے کے ہونٹ ہمیشہ دلفریب انداز میں مسکراتے۔ ہر کوئی اپنے اپنے ڈھب سے شہزادے کی خوبصورتی کو سراہتا۔ ایک رات ایسا ہوا

Read more

اک وصل کی خاطر

”بی بی جی مجھے آج جلدی گھر جانا ہے“ ”کیوں کیا ہوا“ ”آج وہ گھر پہ ہے نا اس کی چھٹی ہے۔“ چاہت کمو ’کے لہجے سے چھلک رہی تھی۔ پہلی بار بلور بی بی جی نے کسی پہ رشک کیا۔ جب میں نے ”بلور“ کی خبر سنی تو سوچا ”شاہ لطیف“ نے حرف بہ حرف درست کہا تھا کہ ”عورت معشوق نہیں عاشق ہے“ بلور میری بچپن کی سہیلی تھی۔ ہم دونوں اپنے دکھ سکھ کی باتیں کیا کرتے

Read more

سال 2020: نیٹ فلکس کی وہ فلمیں جنہوں نے سنیما کی کمی پوری کر دی

دنیا بھر کے لیے سال 2020 جیسا بھی رہا ہو، لیکن اسٹریمنگ کمپنی ‘نیٹ فلکس’ کے لیے بہترین ثابت ہوا۔ سنیما کی بندش اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھروں تک محدود فلموں اور ڈراموں کے شائقین نے دنیا بھر میں اس سروس سے خوب فائدہ اٹھایا۔

اور فائدہ کیوں نہ اٹھاتے، دنیا بھر میں نیٹ فلکس صارفین کو گھر بیٹھے وہ سب کچھ مل رہا تھا جس کے لیے انہیں پہلے سنیما جانا پڑتا تھا۔ اور وہ بھی صرف ایک ٹکٹ کی قیمت میں۔

آئیے اس سال کی نیٹ فلکس کی ان فلموں اور ڈراموں پر ایک نظر ڈالتے ہیں جنہوں نے ناظرین کو نہ صرف محظوظ کیا بلکہ ان سے سنیما کی بندش کا احساس بھی کم ہوا۔

Read more

بچوں سے جنسی زیادتی اور تشدد

بچپن میں تو بد قسمتی سے، یقیناً کسی نہ کسی طرح کم و پیش، ہم سبھی تھوڑی بہت جنسی زیادتی کا شکار ہو چکے ہیں اور بہت سے خواتین اور مرد ایسے بھی ہیں، جو اپنی نو جوانی اور بڑھاپے میں بھی اس ٹرامے کا اثر رکھتے ہیں۔

اکثر افراد جنسی زیادتی سے جڑی شرم اور تذلیل کو لا شعوری طور سے اپنا قصور مان کر اپنی یاد داشت سے ان واقعات کو نا صرف مٹا چکے ہیں، بلکہ اس سلسلے میں ”می ٹو موومنٹ“ کی اہمیت کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

Read more

گڑیا کی شادی 2020ء

دو ہزار بیس کا آغاز ہوا۔ دھند آلود فضاؤں میں آتش بازی کی آوازیں بتا رہیں تھیں کہ نئے سال کا پرانا آغاز ہو گیا ہے۔ تمام دنیا ”کرونا، نامی وبائی مرض کی لپٹ میں تھی، مگر گڑیا پاکستانی تھی، جاپانی نہیں۔ وہ اپنے واش روم میں دو واشنگ مشین لگائے کپڑے دھو رہی تھی۔ اس کو یقین ہو گیا، لو جی، سال کا آغاز کپڑے دھو نے سے ہو رہا ہے، تو اب سارا سال، وہ کپڑے دھوتی رہے گی۔ وہ مسکرائی۔ ”چلو دیکھتے ہیں“۔

Read more

دو سال سے کم عمر بچوں کو میٹھی چیزیں نہ دیں، ماہرین غذائیات

ویب ڈیسک — امریکی حکومت نے دو سال سے کم عمر بچوں کی خوراک کے لیے نئی گائیڈ لائنز جاری کی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ انہیں میٹھی گولیاں، کیک، آئس کریم جیسی چیزیں نہ دی جائیں جن میں چینی ہوتی ہے۔ گائیڈ لائنز میں کہا گیا ہے کہ چھ ماہ کی عمر تک بچے کو صرف ماں کا دودھ ہی دیا جائے۔

Read more

گرلڈ چمگادڑ، وبا کی نحوست اور بھٹی کی گالی

آپ نئے سال کی خوشیاں منانے کی تیاریاں کر رہے ہوں گے لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کی چھوٹی سی عیاشی انسانیت کے بقا کو خطرے میں ڈال سکتی ہے؟ آپ کی لمحوں کی خطا کی سزا صدیوں پر محیط ہو سکتی ہے؟ اور آپ کی ذرا سی غلطی لاکھوں انسانوں کی جان لے سکتی ہے؟ اگر آپ کو میری

اس بات پر اعتبار نہیں آ رہا تو آئیں میں آپ کو ایک ایسا سچا قصہ سناتا ہوں جس کے سننے کے بعد آپ کو یقین کامل ہو جائے گا کہ خوشیاں مناتے وقت باقی دنیا کا خیال کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

Read more

ننھے ننھے ہاتھ

ہاشم کا فون تھا امریکا سے۔ میں اس سے ہی بات کر رہا تھا۔ اس کی ماں کی طبیعت خراب تھی اور وہ چاہ رہا تھا کہ اگر میں کچھ کر سکوں تو ضرور کروں۔ میں نے وعدہ کر لیا تھا کہ کل ہی اس کی ماں کو سول ہسپتال میں پروفیسر صاحب کو دکھا دوں گا۔ اس نے بتایا تھا کہ اس کا بھائی ماں کو لے کر صبح صبح میرے پاس آ جائے گا، پھر میں دونوں کو

Read more