نیب کے دانت کون نکالے گا؟

پیراگون سٹی کیس میں خواجہ برادران کی ضمانت منظور کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ نے حال ہی میں جو تاریخی فیصلہ دیا اس کا ”جواب الجواب“ آگیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے دورکنی بینچ کے سربراہ جسٹس مقبول باقر کے تحریر کردہ اس فیصلے میں نیب کو خاصا رگڑا لگایا اور فیصلے میں وہ باتیں کہی گئیں جو زبان زدعام ہیں کہ نیب سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے اور احتساب کا یہ ادارہ صرف اپوزیشن کے سیاستدانوں کو

Read more

تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ: نادان دوست

بہت پہلے، ایک بادشاہ رہتا تھا جو بندروں کو بہت پسند کرتا تھا۔ اس کے پاس ایک پسندیدہ بندر تھا جو وہ ایک دوست کی حیثیت سے اس سے بہت قریب رہتا تھا۔ کیونکہ بادشاہ کے خیال کے مطابق بندر بہت ہی چالاک اور مخلص تھا۔ جب بادشاہ اپنے کمرے میں آرام کرتا، بندر اس کے پاس بیٹھا رہتا تھا اور محافظ کی طرح اس کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ کچھ دن بعد، بادشاہ جانوروں اور پرندوں کا شکار کرنے

Read more

گیتوں میں گندھی اردن کی ایک شام!

عجیب سا اشتہار تھا! ” آپ کے ووٹ کی ضرورت ہے، دنیا کے نئے سات عجائبات کے چناؤ ميں حصہ لے کر اپنا ووٹ ڈالیے” ساتھ دی گئی فہرست میں ڈھیروں ڈھیر مقامات کے نام شامل تھے۔ ہم نے حیرت سے پڑھا اور سوچا، تو کیا وہ عجائبات قصہ پارینہ ہوئے؟ کوئز ٹیم کے کیپٹن ہونے کے ناطے بچپن کے تمام برس دنیا کے ساتوں عجائبات کا محل وقوع اور تفصیل یاد کرنے میں گزر گئے۔ جب ذہنی آزمائش کے

Read more

پاک فوج سے محبت کی لازوال داستان

یہ بات حقیقت ہے کہ جنگیں افواج نہیں قومیں لڑا کرتی ہیں۔ پاکستان کے قیام کی بات ہو یا 1948 کے معرکے کی پاکستان کی غیور عوام نے پاک فوج کا ہمیشہ ساتھ دیا۔ 1965 کی جنگ میں لاہور اور سیالکوٹ کے محاذ پر خصوصی طور پر فوج کے ساتھ ساتھ شہریوں کی خدمات قابل قدر ہیں۔ 1971 کی جنگ میں عوام نے فوج کا بھرپور ساتھ دیا۔ 1999 کی کارگل کی جنگ میں ہم نے دیکھا کہ لوگوں نے

Read more

موسیقار خلیل احمد

ہم سب ڈاٹ کام کے قاری جمیل احمد صاحب نے مجھ سے کہا ہے کہ فلم اور پی ٹی وی کے نامور موسیقار خلیل احمد صاحب کے بارے میں لکھوں۔ لیجیے تحریر حاضر ہے : 3 نومبر 1936 کو آگرہ شہر میں پیدا ہونے والے خلیل احمد خان یوسف زئی کو زمانہ پاکستانی فلموں اور پاکستان ٹیلی وژن کے نامور موسیقار خلیل احمد کے نام سے جانتا ہے۔ ان کے بعض تذکروں میں پیدائش کی تاریخ 3 مارچ اور شہر

Read more

فلک زاہد کا "قدیم چرچ”

یہ ایک بھیگی ہوئی رات کا قصہ ہے جب میرا پورا علاقہ اندھیے میں ڈوبا ہوا تھا۔ میرے کمرے میں صرف ایمرجینسی لائٹ کی روشنی تھی۔ میرے موبائل اور کمپیوٹر کی بیٹری بھی بہت حد تک گر چکی تھی۔ گھر کے مکینوں کی اکثریت نیند کے ساتھ سفر پر تھی۔ مگر میں ٹیرس پر بیٹھی بارش کی آواز کے سحر میں گم تھی۔ ایسے میں میری نظر فلک کی کتاب ”قدیم چرچ“ پر پڑی اور مجھے لگا جیسے سرورق پر

Read more

مصنوعی ذہانت اور قدرتی حماقت

خوشخبری کا ایک حصہ تو یہ ہے کہ کم از کم اگلی چند دہائیوں میں ہمیں مصنوعی ذہانت کے شعور حاصل کرنے اور انسانیت کو غلام بنانے یا مٹانے کا فیصلہ کرنے والی سائنس فکشن کے ڈراؤنے خوابوں سے نمٹنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم تیزی سے الگورتھم پر انحصار کریں گے، لیکن اس بات کا امکان نہیں ہے کہ ہمارے لیے فیصلے کرتے کرتے الگورتھم شعوری طور پر ہم سے ہیرا پھیری کرنے لگے گا۔ کیونکہ وہ کبھی بھی

Read more

بانو قدسیہ : راجہ گدھ یا ملکہ رانی؟

کالج کا زمانہ تھا۔ بانو قدسیہ کا ناول ہاتھ میں تھا۔ مگر الٹنے پلٹنے کی خواہش نہیں ہو رہی تھی۔ سرورق پر لمبی گردن والے ایک گدھ کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ اس کے نیچے لکھا تھا۔ بانو قدسیہ۔ میں لگاتار گدھ کو دیکھے جا رہا تھا۔ ملکہ رانی راجہ گدھ کیسے ہو سکتی ہیں؟ ویسے بھی گدھ اپنی تصویر میں خونخوار نظر نہیں آ رہا تھا۔ جیسے تیسے ناول کا مطالعہ کیا۔ کچھ سمجھا کچھ نہیں سمجھا۔ یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کہ پہلی قرات میں مجھے ناول سمجھ میں نہیں آیا۔

Read more

خوابوں کی راہ گزر

میری یاداشت ساتھ نہیں دے رہی کہ وہ کون سی تاریخ تھی لیکن اس شام ہم جس ہستی سے روشناس ہوئے تھے وہ بہت ہی عظیم اور عالی مرتبت تھی۔ کافی دیر تو ہم اس بات کا افسوس کرتے رہے کہ ان کے بارے میں ہم اتنے لاعلم کیوں تھے۔ خیر انہیں جاننے کی خوشی زیادہ تھی اس لئے وہ افسوس پر غالب آ گئی اور ہم سب یعنی میں عاطف اور صدف تاریخ کے اس ورق سے جو کچھ بھی کشید کر سکتے تھے وہ ہم نے کیا۔ ۔ ۔ کیا شاندار انسان تھے بی ایم کٹی صاحب۔

دبلے پتلے اور آنکھوں میں بلا کی ذہانت۔ اس شام شہر کے مختلف حلقوں سے وابستہ افراد جمع تھے۔ بائیں بازوں کے کارکنوں سے لے کر پیپلز پارٹی کی کئی نامی گرامی شخصیات، سول سوسائٹی کے کے سر گرم لوگ، مزدور تحریک سے وابستہ کئی مزدور لیڈر اور کئی جامعات کے پروفیسر اور ہم جیسے دیوانے لوگ۔ ۔ ۔ پی ایم اے ہاؤس کراچی میں بی ایم کٹی صاحب کے اعزاز میں اس تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا اور ان کے سبھی یار دوست اور مداح انہیں ان کی زندگی بھر کی جدوجہد پر شاندار خراج تحسین پیش کر رہے تھے۔

Read more

اہل بیت اور تحفظ بنیاد اسلام بل: چودھری پرویز الٰہی کے رابطے

لاہور (اکرام راجہ): 26 جولائی 2020
سپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے مندرجہ ذیل تحریر ارسال کی گئی ہے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کی علامہ ساجد نقوی، مفتی منیب الرحمن، مفتی راغب نعیمی، پیر امین الحسنات شاہ، علامہ ریاض حسین نجفی ہیڈ شیعہ مدارس کونسل، ثاقب رضا مصطفائی، سید سبطین حیدر سبزواری، سید صفدر شاہ، سابق ایم پی اے سید تقلید رضا شاہ آف تلہ گنگ، علامہ گلفام ہاشمی سے تحفظ بنیاد اسلام بل کے متعلق ٹیلیفون پر مشاورت۔

Read more

سبز پاسپورٹ، ترک اہلکار اور پاکستانی مسافر

سبز پاسپورٹ کو دیکھتے ہی اور پاکستان کا نام سنتے ہی ان کی آنکھوں کی پیشہ ورانہ سختی اک ہی لمحے میں برادرانہ محبت میں بدلی اور ان کے پیشہ ورانہ لہجے میں اک اپنائیت سی در ائی۔ بڑی محبت سے اس نے کہا کہ آپ اپنا دستی سامان اور لانگ شوز اس ٹرے میں رکھ دیں۔ استنبول کا اتاترک بین الاقوامی ہوائی اڈا سیاحوں اور مسافروں سے بے انتہا آباد سا تھا۔ جہاں دیکھو مختلف تہذیبوں، جغرافیائی خطوں، زبانوں

Read more

مس مارگریٹ نعت پڑھتیں تو لگتا پکی مسلمان ہیں

نوشابہ کی ڈائری بڑی خالہ کراچی چلی گئیں۔ انھیں جانا ہی تھا۔ خالو کے ریلوے سے ریٹائر ہونے کے بعد وہ لوگ اور کتنے دن سرکاری مکان میں رہتے۔ پھر شہاب بھائی کی ملازمت بھی تو کراچی میں ہے۔ خالہ کتنے دکھ کے ساتھ کہہ رہی تھیں ”دلی چھٹنے کے بعد یہاں آئے، کس مشکل سے دل لگا، اور اب یہ شہر اپنا ہوگیا تو کراچی جانا پڑ رہا ہے۔“ بڑی خالہ امی سے یہ بھی کہہ رہی تھیں کہ

Read more

شاعر ایسا ہی ہوتا ہے بھائ اسے جوتے مت دیجیے

شاعر کئی قسم کے ہوتے ہیں، بیوروکریٹ شاعر، پی آر پسند شاعر، افسر شاعر، شوقین شاعر، شو باز شاعر، تاجر شاعر، بے روز گار شاعر، کل وقتی یا جز وقتی شاعر۔ اور ایک ہوتا ہے صرف شاعر۔ ایسا شاعر دنیا وی معاملات میں کرنا تو بہت کچھ چاہتا ہے، لیکن فطرتاً اس شعر کی عملی تفسیر ہوتا ہے۔ کیا کر رہا ہوں اور کیا کیا کروں گا میں کرنے کے کے باب میں یہی سوچا کروں گا میں تقریباً سارے

Read more

جون ایلیا سے محمد خالد تک

ہم نئی صدی کی پہلی دہائی کے نوآموزوں کو جون ایلیا سے تعارف 2002 میں یعنی ان کی وفات کے بعد ہوا۔ زیادہ عجیب نہیں لگا تھا کیوں کہ ہم خود نووارد تھے۔ تاہم نئے دیوانوں کے حلقے میں اظہار تاسف ضرور ہوا کہ ہم جہاں دیگر بڑے شعرا سے باخبر تھے وہاں جون سے بے خبر کیوں رہے۔ سلیم شہزاد اور عامر سہیل سے نئی نئی سنگت تھی، جون ہماری پہلی محبت بنے اور ثروت آخری۔ قصہ ختم۔ تقریباً

Read more

بدلنا بہار کا دائمی خزاں میں

راجشاہی میڈیکل کالج کے ہوسٹل کی بود و باش میں تقریباً سوا سال کا عرصہ بیت چکا تھا۔ اس دوران وہاں مقامی رہنے والوں سے دوستی اور تعلقات قائم ہو چکے تھے اور جہاں تک ویسٹ پاکستانی طالبعلموں کی بات ہے ہم ایک فیملی کی مانند تھے۔ آپس کی ہمدردی اور سینیئرز کی شفقت قابل رشک تھی۔ شروع شروع میں ایک روز چھٹی کے دن صبح صبح میں سیر کے لیے نکلا۔ اور واپس ہوسٹل پہنچنے تک ایک بج چکا

Read more

پتہ نہیں ایک ڈرامہ ہے بس

کرونا وائرس نے ساری دنیا کے طول و غرض میں تباہی مچادی ہے۔ اس تباہی نے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک طرف انسانیت کے بچاؤ کے لئے ڈاکٹروں، نرسوں اور دوسرے شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ جو دن رات کام کر رہے ہیں۔ اپنی زندگیاں داؤ پرلگائے ہوئے ہیں۔ ہر ملک میں ہزاروں کے تعداد میں میں زندگیاں گنوا بیٹھے ہیں لیکن ان لوگوں کے زندگی کا مقصد انسانیت کا بچانا ہے۔ بہت سے

Read more

ایک دوست کی کہانی: خلیل جبران کی زبانی

میں اپنے اس دوست کو نوجوانی کے اس دور سے جانتا تھا جب وہ زندگی کی راہ بھٹک چکا تھا جب وہ اپنی خواہشات کی شہ پر موت سے ہولی کھیلنے سے باز نہ آتا تھا۔ میں اسے اس دور سے جانتا تھا جب اس کی تشنہ آرزوئیں اسے نفسانی خواہشات کی بے جا تکمیل کے سمندر میں دھکیلے چلی جاتی تھیں۔ میں اسے اس وقت بھی جانتا تھا جب وہ گاؤں میں ایک ظالم لڑکے کی طرح جانا جاتا تھا جس

Read more

گٹھڑی اور گھڑی

ٹرین میں بیٹھی حنا کی زندگی کسی ٹرین ہی کی طرح بھاگتی دوڑتی دھواں دیتی، مسافتیں ناپتی منزلیں سر کرتی آخری منزل کی طرف بڑھے جا رہی تھی۔ اور اس ٹرین میں کھڑکی کے شیشے سے لگی وہ ایک بوسیدہ گٹھڑی اور ایک درذیدہ گھڑی سینے سے لگائے بیٹھی تھی۔ بوسیدہ پھٹی پرانی اڑے ہوئے رنگوں والی گٹھڑی جس میں بہت سی یادیں بندھی تھیں۔ کچھ ٹوٹ چکے خواب، ایک گمشدہ محبت، سالوں کی دھوپ میں سڑ چکے کچھ خوبصورت

Read more

رکن اسمبلی رخسانہ کوثر کی قرارداد اور زیبائشی داڑھی۔۔۔

آج کل سوشل میڈیا پر ایک نئی پھلجھڑی چھوڑی گئی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی رخسانہ کوثر نے حال ہی میں ایک قرارداد جمع کروائی ہے جس میں ارکان اسمبلی سے تائید کی گذارش کی گئی ہے کہ مردوں کو نت نئے ڈیزائن کی داڑھیاں ترشوانے سے روکا جائے۔ اگر وہ اس درخواست میں یہ بھی کہہ دیتیں کہ ان فیشن ایبل داڑھیوں کی وجہ سےمعصوم بیبیوں کے ایمان متزلزل ہو جاتے ہیں تو مجھے ان

Read more

غلام مصطفیٰ عباسی: تیرا تذکرہ برسوں رہے گا۔۔۔

کسی بھی خطے کی تاریخ کے مطالعے سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ معاشروں کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر خدمات انجام دینے والی، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق اہم معروف شخصیات کے ساتھ ساتھ ایسے ان گنت گمنام کرداروں اور کارکنوں کا بھی ہاتھ رہا ہے، جو بے لوث انداز میں اپنا کام کرتے رہتے ہیں، لیکن آج ان کو انفرادی طور پر سے یاد نہیں کیا جاتا۔ وہ جس جس تحریک کا حصہ رہے، وہ وہ تحاریک

Read more

سوتیلی ماؤں اور سگے والد کے نام

خدا نہ کرے، اگر ناگزیر وجہ سے کسی شخص کو دوسری شادی کرنے پڑے تو نئی آنے والی خاتون سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ شوہر کے پہلے بچوں کو ایک ماں کی شفقت دے گی۔ اگر آنے والی ان بچوں کے کھانے پینے اور دیگر ذمہ داریوں کو مناسب طور پر ادا کرتی ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ وہ ایک اچھی خاتو ن کہلائے جانے کے قابل ہے۔ کیونکہ ضروری نہیں کہ وہ ایک

Read more

پرانی کوٹھی، نئے مکین اور مردہ روحوں کا بسیرا

میں اور میرے میاں کچھ عرصے سے خریدنے کے لیے گھر ڈھونڈ رہے تھے۔ یہ گھر خریدنا بہت مشکل کام ہے خصوصاً اگر آپ کے پاس پیسے کم ہوں اور اگر آپ کے ذہن میں پہلے سے خیال ہو کہ آپ کیسا گھر خریدنا چاہتے ہیں، تو یہ اور مشکل ہو جاتا ہے۔ ہمارے معاملے میں مسئلہ اور گمبھیر تھا کیونکہ ہم ایک پرانا گھر خریدنا چاہتے تھے۔ کم پیسوں کے ساتھ پرانا گھر ہی خریدا جاسکتا ہے، مگر ہمارا

Read more

ارتغرل نہیں، عبدالسلام ہمارا ہیرو ہے

زندہ قومیں اپنے قومی ہیروز کو کبھی فراموش نہیں کرتیں۔ انہیں زبان، ذات، رنگ، نسل، مذہب و مسلک سے بالاتر ہوکر عزت بخشتی ہیں اور ہمیشہ یاد رکھتی ہیں۔ انسانی تاریخ میں کئی جنگجوؤں کو اچھے الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے لوگوں کے دفاع اور ملکی سلامتی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر قوم میں جذبہ محب وطنی سے سرشار لوگ پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے وقت آنے پر

Read more

مشرق کے مرد نے مشرق کی عورت کے دل میں کبھی جھانکا؟

"میری بظاہر رنگین مزاجی اور باتوں کے بر عکس میں بنیادی طور پر ‘ون وومن مین’ ہوں عمومی تاثر (promiscuous) کے بر خلاف میں نے کبھی اپنی بیوی کترینہ کو چیٹ (دھوکا) نہیں کیا۔ کام کاج بزنس میں مصروف تھا۔ انیس سالہ تعلقات کے خاتمے پر میں نے کبھی شادی نا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس میرج انسٹیٹیوشن کے ہی خلاف ہو گیا۔ 2017ء میں آفیشل طلاق کے بعد جشن آزادی کے طور پر ڈیٹیں مارنی شروع کیں اور ڈیٹیں

Read more

بیمار کا حال اچھا ہے (کچھ مزید طبی، سماجی اور روحانی مشاہدات)

مریض کی ٹانگ کا بریس کھول کر ڈاکٹر لیزلی نے زخم کا جائزہ لیا۔ کچھ دیر پیر کو گود میں رکھ کر ہلکے ہلکے مختلف سمتوں میں موڑا۔ مریض کو بستر سے سہارا دے کر کمر میں ہاتھ ڈال کرکمرے کے دو تین چکر لگائے۔ نوجوان کا دو ماہ بعد بغیر بیساکھی کے چلنے کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ اس دوران وہ ایک منٹ کے لیے بھی مریض کے چہرے کے تاثرات سے غافل نہ ہوئیں۔ زخم کے گرد خشک

Read more

باز سے بازی تک

قائد اعظم کے چودہ نکات کے بعد زرتاج گل کے انیس نکات سے متاثرہ افراد کے علاوہ کرونا میں سب سے زیادہ جو مخلوق ”متاثر“ ہوئی وہ خاوند حضرات ہیں جو کرونا کے بعد بیوی کی اس ”پیار بھری“ عادت سے تنگ ہیں کہ جانو یہ کرونا، یہ کر لیا ہے تو اب وہ کرونا، آسان مفہوم میں جانو جھاڑو لگا لیا تو برتن دھو لو نا، کپڑے دھو لئے ہیں تو جھاڑو پونچھا بھی لگا لو نا۔ بہرحال کرونا

Read more

ینگو ورما: زندگی رکے گی نہیں

جب سے ہماری جنریشن کے لوگوں نے سالگرہ منانی شروع کی ہے تب سے ہی میرے چاہنے نہ چاہنے کے باوجودمیری سالگرہ آبھی جاتی ہے اور ہو بھی جاتی ہے۔ اور پتہ نہیں ایسا کیا ہے کہ ہوتی بھی خوب دھوم دھام سے اور پیار خلوص سے ہے اور مجھے حیرت ہو تی ہے کہ ہر سال کسی نہ کسی کو مجھ پر پیار آیا ہی ہو تا ہے۔ ایموجیز کا رواج ان پیج میں نہیں ہے ورنہ پچھلے جملے

Read more

وائرس کی وحشت نے مجھے کیسے جمود سے نکالا

ہم سب کی زندگیوں میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب ہمیں لگتا ہے کہ ہم کسی ایک ہی جگہ پر اٹک کر رہ گئے ہیں۔ وہی روزانہ ایک ہی کام، ایک ہی جیسی روٹین، ایک ہی جیسے صبح شام گزارتے گزارتے دل بوجھل ہونے لگتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ سفر جاری ہے مگر آپ کسی مقام پر پہنچنا نہیں چاہتے یا سفر اس قدر سست روی سے کٹ رہا ہے کہ دل سے کہیں پہنچنے کی امید ہی

Read more

قلم کی آپ بیتی

میرا تصور کئی ہزار سال پرانا ہے، انسان میری اہمیت و اہلیت کا ہمیشہ سے معترف رہا ہے۔ اگر میں اپنی فلسفیانہ تعریف کرنا چاہوں تو یہ کہنا بے جا نا ہوگا کہ میں آلہ کار ہوں، صفات کا عکس دکھانے والا آئینہ ہوں، اچھے کہ ہاتھ میں اچھا برے کے ہاتھ میں برا ہوں۔ میں نے ہر روپ دیکھا ہے اور ہر شخصیت کا مظہر بنا ہوں، یہ صفات میرے ساتھ ہی منسوب ہیں کہ میں کہیں قاضی تو

Read more

روحانیت اور تصوف: انسان کا خالق کائنات کے ساتھ یکتائی کا تجربہ

تصوف، صوفی، اہل صوف یا انگریزی میں صوفی ازم کی اصطلاح اسلامی سلسلہ روحانیت کے لئے مستعمل ہے لیکن اس بات کا ادراک ضروری ہے کہ اس کے پیچھے روحانیت کا جو عظیم تجربہ ہے اس کا تعلق صرف اسلام سے یا کسی ایک مذہب سے نہیں بلکہ یہ تجربہ انسان کا اپنے خالق کے ساتھ یکتائی کا تجربہ ہے۔ اس تجربہ کی جڑیں انسانی شعور کے فطری تجسس میں موجود ہیں۔ جب انسان اول اول اس دنیا میں آیا

Read more

سگریٹ نوشی اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا یوٹرن

مئی کے ماہ میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ایک رپورٹ پیش کی کہ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کو کورونا زیادہ متاثر کرتا ہے بہ نسبت اس کے کہ جو سگریٹ نوشی نہیں کرتے۔ بھلا ہو میڈیا کا یہ خبر پہنچی کچھ کمزور دل والے افراد کو اور کچھ زندگی سے پیار کرنے والے کو جن میں ہمارے استاد محترم بھی شامل ہیں نے فوراً سگریٹ نوشی ترک کی اور حفاظتی اقدامات کو اپنے ارد گرد بڑھانا شروع کر دیا۔

Read more

جنت میں ناسٹیلجیا

احمر آج معمول سے زیادہ اداس تھا ایک مستقل متذبذب کیفیت اسے بے چین کیے رکھتی۔ کل شام چائے کی میز پر جب وہ ماضی کی یادوں میں کھویا ہوا تھا تو اس کی بیوی کی چہکتی آواز نے اسے چونکا دیا۔ بھئی اگر دنیا میں کہیں جنت ہے تو وہ صرف امریکہ ہے، مریم کی آنکھوں کی چمک اور پر سکون چہرہ دیکھ کر اسے لمحہ بھر کو طمانیت کا احساس ہوا اور اس نے اپنے رجائیانہ خیالات کو

Read more

کفر کے فتوے اور ملکی ترقی

پاکستان میں ٹیلیویژن چینلز پر وقتاً فوقتاً احمدیوں کے مسئلے پر اظہار خیال ہوتا رہتا ہے۔ انٹرنیٹ پر تو گویا اس موضوع کی بھرمار ہو گئی ہے۔ ٹیلیویژن اور یو ٹیوب کے لیے تیار کیے گئے پروگراموں میں مولوی حضرات، سیاستدان اور تجزیہ نگار کھل کر ختم نبوت کے عقیدہ پر اپنے ایمان کا مکمل اظہار کرتے نظر آتے ہیں اور احمدیوں کے کفر پر اپنی مہر ثبت کرتے ہیں۔ اور حال ہی میں ٹیلیویژن پروگراموں کے میزبانوں نے خود بھی اس میں اپنا حصہ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ اس مضمون کے ذریعے یہ پیش کرنا مقصود ہے کہ ایسی روش ملکی مفاد کے خلاف ہے۔

اس سے پہلے کہ میں اپنے دعوے کے حق میں دلیل پیش کروں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ احمدیہ جماعت کا کفر ایک مذہبی مسئلہ ہے جو بظاہر سیاسی طور پر حل کرنے کے باوجود ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ بھٹو صاحب مغربی پاکستان میں اکثریتی ووٹ لے کر وزیر اعظم بنے تھے۔ خاصے مقبول تھے۔ ملک کو آئین دینے میں بھی کامیاب ہو گئے۔ انھوں نے عوام کو فخریہ اور علانیہ بتایا تھا کہ انھوں نے یہ نوے سالہ پرانا مسئلہ حل کر دیا ہے۔ مگر ضیا صاحب کو پھر اس مسئلہ میں الجھنا پڑا۔ چنانچہ انھوں نے پاکستان میں احمدیہ عقائد پر عمل کو جرم بھی قرار دے دیا گیا۔ اب یہ مسئلہ تقریباً 130 سال پرانا ہو چلا ہے تو پھر نواز شریف صاحب کے تیسرے دور میں اور عمران خان صاحب کے دور میں حل ہو کر بھی بے حل ہو جاتا ہے۔ میں اس معمے کو ابھی یہیں چھوڑ کر اصل موضوع پر واپس آتا ہوں۔ یعنی احمدیوں پر کفر کے فتووں کی میڈیا پر تشہیر۔

Read more

نواب شبیر احمد چانڈیو ٹرسٹ کی سندھ میں تعلیمی خدمات

ہمارے ملک میں اکثریت خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے، بنیادی حقوق تک سے محروم ہے۔ انسان کی ضروریات میں صحت، تعلیم، لباس اور طعام و قیام شامل ہے مگر ہمارے ملک میں آبادی کا بڑا حصہ ان بنیادی ضروریات سے محروم ہے، آج کے پر فتن دور میں ایسے ادارے بڑی اہمیت کے حامل ہیں جو خدمت خلق فلاحی اور سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اور لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کر رہے ہیں۔ عوامی مسائل کے حل کے لیے جہاں حکومتی اقدامات ناکافی ہوں تو یہ فلاحی ادارے ان کے حل کے لیے سامنے آتے ہیں۔ ان کا وجود یکساں طور پر کسی بھی ترقی یافتہ اور پسماندہ ممالک کے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 177، اسلامی عقائد، عبادات، معاشرتی فلاح و بہبود اور رفاہ عامہ کا عالمگیر چار ٹر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے :

Read more

خبرناک اور مجید امجد

مجید امجد نے کہا تھا ؂
جانے کتنی ایسی روحیں ان کمیں گاہوں میں ہیں،
کون ہو ان کا حریف،
کاش اس خنداں ہزیمت کا تصور، ایک دن،
ہو سکے خود ان کے دل پر حملہ آور، فتح یاب!

گزشتہ دنوں جیو نیوز کے کامیڈی پروگرام ”خبرناک“ میں مجید امجد کی سالگرہ کے موقع پر انھیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک سیگمنٹ پیش کیا گیا۔ سیگمنٹ کے فارمیٹ کے مطابق مجید امجد کا مماثل کردار (ڈمی) بھی تیار کی گئی تھی۔ ڈمی سے مجید امجد کی سادگی، متانت اور چہرے سے عمومی تفکر ظاہر ہو رہا تھا اور اس کی خاموشی سے مجید امجد کی حقیقی شخصیت میں موجود کم گوئی کا عنصر نمایاں ہوا۔ ۔ ۔ سیگمنٹ میں مجید امجد کی زندگی، مزاج اور فن پر ہلکے پھلکے انداز میں گفتگو کی گئی۔

Read more

تارکین وطن غدار ہیں یا مظلوم؟

انہیں کہا جاتا ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ انہوں نے شہریت ترک کر دی۔ وہ ہمارے مقامی معاملات میں دخل نا دیں۔ جو لوگ ملک میں رہ رہے ہیں، ان کا حق ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ انہوں نے ملک کیسے چلانا ہے، جو اسے چھوڑ کر چلے گئے ہیں وہ کس منہ سے اس کے معاملات میں بولتے ہیں۔ تارکین وطن اگر غدار نہیں بھی ہیں تو ان کا کم از کم درجہ ملک سے بیزاری رکھنے والوں کا ہے۔ ہم ہی اصل محب وطن ہیں جو مواقع ہونے کے باوجود باہر امیگریشن لینے سے انکاری ہوئے ہیں اور ملک میں رہنے کو ترجیح دی ہے۔

بات یہ ہے کہ سب سے پہلے تو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ ملک چھوڑ کر کیوں گئے تھے؟ کسی کو روزگار کا مسئلہ تھا۔ کسی نے اپنی جان بچانی تھی۔ کسی نے اپنی عزت بچانی تھی۔ کسی نے پراسرار طور پر غائب ہونے کی بجائے حاضر رہنے کو ترجیح دی۔ کسی نے اپنی نسلیں بچانی تھیں اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی اولاد کو بھی وہی سب کچھ سہنا پڑے جو انہوں نے برداشت کیا تھا۔ انہوں نے سسٹم کے آگے ہتھیار ڈال دیے اور کہا کہ ہماری زندگی میں تو یہ درست نہیں ہو گا، ہم میں اتنی طاقت نہیں ہیں کہ اسے بدل سکیں، تو اپنا دیس چھوڑ جاتے ہیں۔

Read more

سرکار دربار کے پراسرار معاملات

زندگی میں کئی واقعات ایسے بھی ہوتے ہیں جو آپ کو خوش گوار حیرت میں مبتلا کردیتے ہیں۔ منگل کی رات میں نے ایسا ہی محسوس کیا۔ ہمارے ساتھی مطیع اللہ کے ساتھ اس دن ہوئے معاملے نے دل اداس کردیا تھا۔ The Nation کے لئے پریس گیلری والے کالم میں اس کا ذکر ضروری تھا۔ میں برجستہ لکھنے کا عادی ہوں۔لیپ ٹاپ کھول کر ٹائپ کرنا شروع کرتا ہوں تو کالم ختم کرنے کے بعد ہی رُکتا ہوں۔منگل کی

Read more

شہباز گِل کی بلاول بھٹو کے اجرک کے کپڑے سے بنے ماسک پر تنقید کے بعد سوشل میڈیا پر ردعمل

پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پر نشر ہونے والے ٹاک شوز میں یوں تو آئے روز سیاست دانوں کی آپسی نوک جھوک جاری رہتی ہے تاہم گذشتہ روز ایک ٹاک شو پر معاملات تب بگڑے جب موضوعِ بحث ‘اجرک’ بنی۔

Read more

اعتبار کا جادو

”اعتبار“ بظاہر ایک چھوٹا سا لفظ ہے لیکن اس لفظ میں دنیا و آخرت کی کامیابی کا ایک گہرا سمندر پوشیدہ ہے۔ اعتبار انسان کو فرش سے عرش تک محبوب بناتا ہے۔ اگر آپ غور کریں تو یہ پوری کائنات ”اعتبار کی بنیاد“ پر قائم ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کا اعتبار کھو دیں تو نظام کائنات درہم برہم ہو جائے۔ ذرا تصور کیجیے کہ آپ سڑک پر چل رہے ہوں۔ اچانک کوئی آدمی آپ کے سامنے آئے اور آپ

Read more

سیکس کی نفسیات: آزادی اور اخلاقیات

محبت کا کیا ہے وہ تو آتے جاتے ہو ہی جاتی ہے۔ اصل امتحان اسے نبھانا ہے۔ تعلقات استوار تو ہو جاتے ہیں لیکن جب انہیں کوئی نام دینے کی بات آتی ہے تو کچھ لوگ بدک جاتے ہیں۔ بعض لوگوں کے لیئے ریلشن شپ ایسے ہی آسان ہے جیسے سانس لینا یا کھانا پکانا۔ لیکن کچھ لوگوں کے لیئے کمٹمنٹ یعنی بندھ جانا آسان نہیں۔ محبت نبھانا کیا ہے؟ محبت نبھانا یہ ہے کہ جس سے محبت کا دعوی

Read more

بغداد میں شراب، شباب اور شیش کباب کے شاعر ابو نواس سے ملاقات

بغداد کی رات کے اس پہلے پہرجب میں دجلہ کے پانیوں میں ڈوبی روشنیوں کے عکس دیکھنے میں گم تھی۔ مجھے تو معلوم بھی نہ ہوا تھا کہ کب ایک وجہیہ عراقی بو ڑھا میرے پاس آکر بیٹھ گیا تھا۔ اس کا روایتی لباس، اس کی مخمور آنکھیں، اس کی سنہری رنگت، اس کا بانکپن سبھوں نے میری توجہ کھینچ لی تھی۔ میں نے استفہامیہ نگاہوں سے اسے دیکھا یقیناً آنکھوں کی زبان اس نے پڑھ لی تھی۔ گھن گرج

Read more

والدین اور خدا، ایک رشتہ ایک تشبیہ

کبھی آپ نے غور کیا کہ اللہ نے دنیا میں صرف دو ہستیوں کو اپنے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ ماں اور باپ۔ ماں کا ذکر کیا تو جنت ماں کے قدموں تلے رکھ دی اور جب اپنی محبت کا ذکر کیا تو کہا کہ میں اپنے بندوں کا ستر ماؤں سے زیادہ چاہتا ہوں۔ باپ کا ذکر کیا تو باپ کی رضا رب کی رضا اور باپ کی ناراضگی رب کی ناراضگی بنا دی۔ اس بات کا احساس تو مجھے

Read more

بیس برس سے طویل دو برس

گزرے دو برس بیس برس سے زیادہ طویل ثابت ہوئے، ہر روز امید جگاتی آفتاب کی پہلی کرن نمودار ہوتی ہے اور پھر دن خلفشار، غیر سنجیدہ اقدامات اور نا اہلی کے نئے مناظر لیے اختتام پذیر ہوتا ہے۔ احساس قوی ہونے لگتا ہے کہ ملک پر چھانٹ کر حکمران گروہ مسلط کرنے والے ہاتھ ملک و قوم کے مفاد میں دلچسپی رکھنے کے بجائے صرف اپنے مفادات کی حفاظت اور ملکی وسائل پر گرفت مضبوط کرنے میں مصروف ہیں، انہیں

Read more

باعزت زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ

دروازے کی گھنٹی بجی، صاحب خانہ نے گھڑی دیکھی، رات کا پہر تھا، اُن کے سونے کا وقت ہو چلا تھا۔ شب خوابی کا لباس پہنے انہوں نے دروازہ کھولا تو بھونچکے رہ گئے۔ دروازے پر ڈیڑھ درجن پولیس کی گاڑیاں اور باوردی اہلکار بندوقیں سنبھالے یوں چوکس کھڑے تھے جیسے انہوں نے گھر سے کسی دہشت گرد کو برآمد کرنا ہو۔ یہ سفید پوش لوگوں کا محلہ تھا اور جس گھر پر یہ دھاوا بولا گیا تھا وہ بھی

Read more

کیا پاکستانی قوم نئے پاکستان کے لیے سنجیدہ ہے؟

چینی کا بحران ہو، آٹے کا فقدان یا پٹرول کی عدم دستیابی کا طوفان ہونیزجے آئی کی پھنکار ہو، مائنس ون کی للکار ہویا کورونا کی جھنکار ہو، ہماری اپوزیشن ہر قدم پر ہر مقام پر، ہر آہٹ پر اور ہر چوکھٹ پر سجدے کے لیے بے تاب اور عمران خان سے نجات کا خواب دیکھ رہی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارا پورا معاشرہ بھی نفسا نفسی کے عالم میں گھرا ہوا ہے اور ”ہل من مزید“ سے آگے سوچ

Read more

بچوں پر جنسی تشدد کے معاشرتی اثرات!

بچے کے جھکے ہوئے سر نے دل دہلا دیا اور اس دن سے جب بھی خیال آتاہے نہ تو تکلیف کم ہوتی ہے نہ آنسو تھمتے ہیں۔ خدا نے اسی لیے ماؤں کے دل نرم رکھے ہیں کہ وہ نہ صرف اپنے بچے کی ذرا سی تکلیف پر بے چین ہوجاتی ہیں بلکہ راہ چلتے کسی بھی انجان بچے کی تکیلف ان کی برداشت سے باہر ہوجاتی ہے اور ایسے میں دل رو روکے چاہتا ہے کہ ان معصوموں کو

Read more

عید۔۔۔ اور قربانی!

جن دنوں راقم کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج (حالیہ یونیورسٹی) میں زیر تعلیم تھا، پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم میڈیسن پڑھایا کرتے تھے، ان دنوں تازہ تازہ اسسٹنٹ پروفیسر ہوئے تھے، آج کل یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ڈین ہیں۔ کرونائی موسم میں اکثر چینل انہیں اپنے ٹاک شو میں لیتے ہیں، پروفیسرصاحب کی گفتگو بہت جاندار، ٹھوس اور سائنسی حقائق پر مبنی ہوتی ہیں۔ گزشتہ دنوں عید قربان کے حوالے سے ایک گفتگو سننے کا اتفاق ہوا، قربانی کے حوالے سے

Read more

Death, I love you

ستر برس کے سفر کے بعد تھک گیا تھا اور کچھ دیر آرام کرنے کی غرض سے زندگی کی دوڑ سے الگ ہوا تھا جس یوں کہئیے اب زندگی نے خود ہی مجھے سائیڈ پرکر دیا سوچا ذرا ماضی میں جھانک کر دیکھو کہ کیسے گزری ہے۔ زندگی کیا کھویا کیا پایا۔ پہلی جھلک جو میں نے ماضی کے جھروکوں میں دیکھی وہ میری پہلی سائیکل تھی جسے چوم کر اسے دوڑاتے ہوئے اپنے پاپا سے آئی لو یو پاپا

Read more

اپندر ناتھ اشک اور گرتی دیواریں

بیدی: میرا ہم دم میرا دوست اور منٹو میرا دشمن کے خالق اپندر ناتھ اشک اپنے عہد میں، اپنے ہمعصر لکھنے والوں سے بہت پیچھے رہ گئے۔ یہ دور حقیقت میں بڑے لکھنے والوں کا دور تھا۔ اشک بسیار نویس تھے۔ پھر اپنا پریس بھی بٹھایا اور اپنی کتابیں بھی خوب شایع کیں۔ ان کی اہلیہ کوشلیا اشک بھی افسانہ نگار تھیں۔ مجھے کوشلیا کے دو ایک افسانے پسند ہیں۔ اشک کا افسانہ ڈایے چی بھی اس زمانے میں بہت

Read more

مطیع اللہ جان کا اغوا: وزیر اعظم بھی احتجاج میں شامل ہو جائیں

عام شہریوں، صحافیوں، سیاسی کارکنوں، لیڈروں، جرنلسٹ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے علاوہ متعدد وزرا بھی صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا پر سراپا احتجاج ہیں۔ وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ ’یہ بات تو واضح ہے کہ مطیع اللہ جان کو اغوا کیا گیا ہے۔ ان کی باحفاظت واپسی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ہم ان کی بازیابی کی پوری کوشش کررہے ہیں‘۔ اگر حکومت

Read more

مطیع اللہ جان کے کارنامے

(برادر صحافی اسلم خان صاحب نے یہ تحریر آج صبح "ہم سب” کو ارسال کی تھی۔ یہ تحریر موصول ہونے کے بعد مطیع اللہ جان کے اغوا کی خبر آئی اور اس تحریر نے ایک نیا پس منظر اختیار کر لیا۔ "ادارہ ہم سب” کا اس تحریر کے سب مندرجات سے اتفاق ضروری نہیں لیکن ایک محترم صحافی کی یہ امانت پڑھنے والوں تک پہنچانا ہمارا فرض ہے۔ مدیر ) اصول، سچائی اور انصاف کے لئے ڈٹ کر کھڑے ہونے

Read more

ارسطو نے سکندر کو کیا سکھایا: کہانی انسانی تاریخ کو کیسے بدلتی ہے؟

زمانہ خواہ کتنا ہی کیوں نہ بدل گیا ہو، راجہ رانی تبدیل ہو گئے ہوں، لیکن قصے کہانی کا دور جاری ہے اور کہانی کی حکومت ہمارے دلوں پر قائم ہے۔

Read more

کیدار ناتھ سنگھ :اردو کا رسیا

سر، میں ہندی میں کویتا لکھنا چاہتی ہوں ۔ آپ نے میر و غالب کا مطالعہ کیا ہے؟ لیکن سر، میں ہندی میں لکھنا چاہتی ہوں ۔ ۔ ۔ میر و غالب کے مطالعہ کے بغیر آپ کویتا نہیں لکھ سکتیں۔ حضرت شمس تبریز کے تعلق سے ایک واقعہ ہے کہ انہیں بھوک لگی اور وہ گوشت کا ایک ٹکڑا بھوننا چاہتے تھے تو انہوں نے ایک اشارے پر سورج کو نیچے بلا لیا تھا۔ یہاں ایسا کچھ بھی نہیں

Read more

کینال پارک کی رات، میڈیکل سٹور پر موت اور گھر کا دروازہ

وہی دوست جس کا تذکرہ پہلے قابل توجیہہ تحیر میں ہوا تھا، اس واقعے کے تین سال بعد کی بات ہے، جب ہم دونوں لاہور منتقل ہو چکے تھے۔ میں کینال پارک کے دوکمروں اور ایک برآمدے والے گھر میں رہا کرتا تھا۔ گلی کے باہر مین بازار میں حسن نثار کی رہائش تھی۔ ہمارا ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا لگا رہتا تھا۔ میرے اس دوست کا ہمارے مشترکہ دوست کی بہن سے افئیر چل رہا تھا۔ وہ کبھی

Read more

گریش کرناڈ: طاق میں چراغ

گریش کرناڈ کو رخصت ہوئے سال بھر سے زیادہ کا وقت گزر گیا۔ ’’زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی…‘‘ اگر محمود الحسن (لاہور) نے ایک دھندلی ہوتی ہوئی یاد کی طرف توجہ نہ دلائی ہوتی۔ جنوبی ہندوستان کے کئی مشہور لکھنے والوں سے دور اور پاس کا تعلق رہا۔ ایپاپنکر، سچدا نندن، سلمیٰ، یو آر اننت مورتی، گریش کرناڈ۔ اپنے رہن سہن، وضع قطع، بات چیت اور مزاج کے اعتبار سے ان میں اور شمالی ہندوستان کے ادیبوں میں بہت

Read more

جنت سے رہائی

نور نے اپنی ماں کو ایک خط لکھا پھر اسے پھاڑ دیا۔ نور نے اگلی رات اپنی ماں کو دوسرا خط لکھا پھر اسے بھی پھاڑ دیا۔ نور نے تیسری رات اپنی ماں کو پھر ایک خط لکھا اور اسے بھی تتر بتر کر دیا۔ نور پچھلی تین راتوں سے بہت کم سویا تھا۔ اسے یوں لگا جیسے نیند اس سے ناراض ہو گئی تھی۔ نور نے اپنی ماں کو پچھلے چند ماہ میں کئی خط لکھے تھے اور ان

Read more

چینی ٹی وی پروگرام اور فلمیں

آج کل اگر آپ چینی بولنے کی مشق کر رہے ہیں، تو چینی دوست آپ کو پانچ ٹی وی پروگرامز دیکھنے کا مشورہ دیں گے جن کے چینی ناموں کا ترجمہ کچھ یوں ہے : اپارٹمنٹ، بھاگتے رہو، غیر رسمی گفتگو، موتی شہزادی اور ابدی محبت۔ اس وقت چین کی ٹیلی ویژن انڈسٹری میں ہائی ٹیک پروگرام پروڈکشن، ٹرانسمیشن اور کوریج شامل ہے۔ چائنا سنٹرل ٹیلی ویژن چین کا سب سے بڑا اور طاقتورقومی ٹیلی ویژن ہے۔ 1987 ء میں

Read more

مریم نواز کے ساتھ ملاقات میں پنجاب یونیورسٹی کا کیا ذکر ہوا؟

جامعہ پنجاب میری پہلی محبت ہے۔ اسکول کے زمانے سے ہی میں اس میں پڑھنے کے خواب دیکھا کرتی تھی۔ ایک وقت تھا جب میں یہاں داخلے کے لئے مرے جا رہی تھی۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب مجھے یہاں جز وقتی تدریس کا موقع ملا۔ سچ یہ ہے کہ یہاں پڑھنا اور پڑھانا میرے لئے ہمیشہ باعث افتخار رہا۔ میرے رب کا فضل اور احسان جس نے مجھ نا اہل کو فخر کرنے کے لئے کئی حوالے عطا

Read more

ڈیجیٹل آمریت: اکیسویں صدی کے اکیس سبق (قسط نمبر 14)۔

جب تک روبوٹ شفیق آقاؤں کی خدمات میں لگے رہتے ہیں، یقیناً تب تک ان کی اندھی فرمانبرداری میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہاں تک کہ جنگ کے دوران قاتل روبوٹوں پر انحصار کرنا اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار میدان جنگ میں جنگی قوانین پر عمل کیا جائے گا۔ انسانی فوجی کبھی کبھار اپنے جذبات سے مغلوب ہو کر قتل، لوٹ کھسوٹ اور عصمت دری جیسے اعمال کی بدولت جنگی قوانین کی خلاف ورزی کر بیٹھتے ہیں۔ عمومی طور پر ہم جذبات کو ہمدردی، محبت اور رحم دلی سے جوڑتے ہیں، لیکن اکثر جنگ کے وقت خوف، نفرت اور ظلم جیسے جذبات ہمارے اوپر حاوی ہو جاتے ہیں۔ چونکہ روبوٹ میں جذبات نہیں ہوتے ہیں، اس لیے ان پر اعتماد کیا جاسکتا ہے کہ وہ ہمیشہ سخت نوعیت کے فوجی ضابطہ اخلاق کی پابندی کریں گے اور کبھی ذاتی خوف اور نفرتوں کے زیر اثر بہہ نہیں جائیں گے۔

Read more

نواز شریف اور میر شکیل الرحمن میں کیا مماثلت ہے؟

کل رات فون پر ایک حبیب عنبر دست سے بات ہو رہی تھی۔ اچانک انہوں نے مجھے ایک خوشگوار حیرت سے دوچار کر دیا۔ فرمایا، چند برس پہلے تک تم سے جان پہچان نہیں تھی۔ کسی مشترکہ دوست سے تمہارا تعارف چاہا تو انہوں نے علاوہ تمہاری دیگر ناقابل اشاعت خوبیوں کے یہ بھی بتایا کہ اس شخص کو "کیری لوگر بل” میں بہت موٹی رقم موصول ہوئی تھی۔ یہ اطلاع پا کر کئی ہفتوں سے چھائی میری اداسی یکایک

Read more

میری نادان دوست جسے چودہ برس کی عمر میں بیچ دیا گیا

سائرہ، میرا اس سے ایسا گہرا دوستانہ تو نہ تھا، بس ہم دونوں مناسب طریقہ سے ہم جماعت تھے۔ البتہ میں اس کی چچا زاد کی قریبی سہیلی تھی۔ دو سال تو وہ مجھ سے الگ جماعت میں رہی جبکہ ساتویں میں ہماری جماعت یکجا ہو گئی جب ہی اس کی چچا زاد سے میری وابستگی گہری ہوئی۔ سائرہ عام لڑکیوں کی طرح نسوانی انداز نہیں رکھتی تھی۔ آواز میں گھن گرج رکھ کے ایسے بولتی کہ سب پر اس کا طاقتور ہونا عیاں ہو جائے۔ اس نے آستین چڑھائی ہوئی ہوتی جس پر ہر بار ہی استانی سے سننے کو ملتا کہ سائرہ لڑکیاں آستین نہیں چڑھاتیں۔

سامنے والا ایک بٹن بھی بند رکھنے کی درخواست ہوا کرتی تھی کہ سائرہ سامنے والے تکمے بند کرو۔ سائرہ کی چال ڈھال بھی نسوانی نہیں تھی۔ چلتی ایسے کہ دنیا سے بے خبر ہو جیسے۔ پتلی سی نحیف سی سائرہ کے بال سنہرے اور چہرے پر باریک باریک دھبے جو مشرقی یورپ میں حسن و جمال کی علامت تصور کیے جاتے ہیں، انگریزی میں جس کو فریکل کہتے ہیں۔

Read more

مسئلہ داڑھی کا نہیں، اسمبلیوں کے اختیارات کی حدود کیا ہیں؟

پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ نون کی رخسانہ کوثر صاحبہ نے داڑھیوں کے بارے میں ایک قرارداد پیش کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ چونکہ داڑھی سنت ہے، اس لئے داڑھیوں کے مختلف ڈیزائن بنانے پر پابندی لگائی جائے۔ اور ایسے اشخاص اور ایسے نائیوں کے خلاف کارروائی کی جائے جو اس کے مرتکب ہوں۔ 2018 میں ڈیرہ غازہ خان کی ڈسٹرکٹ کونسل نے اسی قسم کی قرارداد منظور کی تھی اور ہارون آباد اور بلوچستان کے ایک قصبہ کی مقامی انتظامیہ نے داڑھیوں کا ڈیزائن نہ بنانے کا حکم جاری کیا تھا۔

کیا پاکستان وہ واحد ملک ہے جس میں اس قسم کی پابندی عائد کی گئی ہے؟ تاجکستان کی حکومت کے نزدیک دہشت گردی سے نمٹنے کا مجرب نسخہ یہی ہے کہ زبردستی لوگوں کی داڑھیاں مونڈی جائیں۔ چنانچہ 2016 میں الجزیرہ نے خبر دی کہ تاجکستان پولیس نے سولہ ہزار افراد کی داڑھیاں مونڈ دی ہیں۔ اور اس کے ساتھ یہ خبر بھی آئی کہ داڑھی والے مردوں کو پاسپورٹ جاری نہیں کیے جا رہے۔

Read more

بونیر کے لوگ اور شتر بے مہار ”گابا“ پبشلرز

، عمر رسیدہ بابا جی اب حیات نہیں ہیں اللہ ان کی مغفرت فرمائیں۔ دیر میں جب پہلی بار ان سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے طویل وقت تک مجھے اپنے سینے سے لگائے رکھا۔ خود سے جدا کرتے وقت انہوں نے میرا ماتھا چوما اور وہاں موجود لوگوں سے کہنے لگے۔ ”بونیر کے لوگ محبت دیتے ہیں اور محبت ہی سے خوش ہوتے ہیں۔ یہ بڑے سادہ دل ہوتے ہیں ان کو بھوک و پیاس کی سختیوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا یہ بس محبت اور مسکراہٹ ہی سے کام چلا لیتے ہیں اور مجھے ضلع بونیر کے ہر فرد سے بے تحاشا محبت ہے“ ۔

Read more

ریڈ انڈین آنسوؤں کی پگڈنڈی

آیوکی اس کا نام تھا پہلے دن ایسا لگا جیسے یہ نام کچھ جانا پہچانا سا ہے۔ وہ ریڈ انڈین تھی اور میڈیکل کالج میں اس کا داخلہ ریڈ انڈین لوگوں کے لیے مخصوص نشست پر ہوا تھا۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ امریکا کے میڈیکل کالجوں میں بھی مختص سیٹیں ہوتی ہیں اور ان سیٹوں پر مخصوص لوگوں کو کم نمبر کے باوجود داخلہ دیا جاتا ہے۔ میرے ڈیڈی کا تعلق پاکستان سے تھا، وہ ڈاکٹر بن کر امریکا آ گئے تھے۔ میری تو پیدائش بھی امریکا میں ہوئی اور یہیں پلا بڑھا تھا میں۔ کولوراڈو کے جس ڈسٹرکٹ میں ہم لوگ رہتے تھے وہاں کا اسکول بہت اچھا تھا، یہیں تعلیم حاصل کی میں نے اور اتنے اچھے نمبروں سے ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا کہ مجھے کالج جانے کے لیے وظیفہ مل گیا تھا۔

Read more

رانا اعجاز محمود۔ ۔۔۔ قافلہ درد کا اب کیا ہو گا

پہلی دفعہ ایسا ہو رہا ہے کہ کچھ لکھنے بیٹھا ہوں تو سمجھ نہیں آ رہا کہ شروعات کہاں سے کروں۔ آج اس شخصیت کے بارے میں قلم اٹھا رہا ہوں جس نے مجھے یہ قلم پکڑنا سکھایا، اس قلم کی حرمت سے روشناس کروایا۔ رانا اعجاز محمود صاحب ایک عہد ساز شخصیت تھے۔ اگر ہم رانا صاحب کے اپنے الفاظ میں بیان کریں تو ایسے دانے دنیا میں بہت کم رہ گئے ہیں۔ رانا صاحب سے پہلی ملاقات تب

Read more

سلام فیصل آباد

کالے کالے بادل آسمان پر چھائے ہوئے تھے، ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، موسم بہت خوش گوار تھا۔ چھٹی تھی اور میرا دل مچلا کہ لاہور گھوما جائے۔ ریاض بھائی نے کہا گاڑی کی بجائے بائیک پر چلتے ہیں۔ میں نے ان کے کان میں دو جگہیں بتائیں جہاں مجھے جانا تھا، پہلی پر وہ مسکرائے اور دوسری پر بس رو ہی دینے والے تھے کہ میں انہیں ان کی بائیک سمیت گھر سے نکال لایا۔ اپنی اپنی بائیک پر

Read more

جوائنٹ فیملی سسٹم

ہندوستان کے جوائینٹ فیملی سسٹم کی جڑیں ان کی رامائین، مہا بھارت اور ویدک میتھالوجی سے جڑی ہیں۔ پاکستانی، جو اپنا ہر تعلق عربوں سے جوڑتے ہیں، انہوں نے وہاں سے اوڑھنا بچھونا، کھانا اور نام تو امپورٹ کر لئے، مگر فیملی سسٹم نہیں کیا اور شروع سے ہی یہاں زیادہ تر گھرانوں میں ہندوستانی جوائینٹ فیملی سسٹم ہی رائج ہے۔ ہندو گھرانوں میں عموماً گھر کا سربراہ گھر کا اور اولاد کی زندگی کا ہر فیصلہ کرتا تھا اسی

Read more

ماں بولی پنجابی

جیتے جی اگر اپنی ماں بولی پنجابی کے حسن پر نہ لکھا تو پھر کیا لکھا۔ اگرچہ میں بھی ان مظلوم بچوں میں سے تھا، جنہیں بچپن سے ہی یہ وہم دل میں ڈال دیا جاتا ہے، کہ اردو اور انگلش بولنے والے ہی صرف تہذیب یافتہ ہوتے ہیں اور پنجابی بولنے والے پینڈو۔ جب کہ میرے نزدیک پنجاب کا مطلب ہی یہ ہے، کہ پنجابی بولنے والوں کا علاقہ۔ خیر جب ہم ایف سی کالج لاہور گیارہویں جماعت میں

Read more

اپنا اپنا آسمان

آپ نے اپنی روز مرہ زندگی میں کسی نہ کسی باشعور شخص سے یہ بات سن رکھی ہوگی کہ زندگی بالکل ایک عینک کی مانند ہے، عینک کے شیشے جس رنگ کے ہوں گے زندگی کے مناظر اسی رنگت کے دکھائی دیں گے، اب یہی دیکھ لیجیے کے کالے شیشوں سے منظر کالے کالے اور نیلے شیشوں سے دیکھے گئے مناظر میں نیلاہٹ کا عنصر ضرور ہوگا، بعین ہی خباثت، تعصب اور نا امیدی کی عینک سے دیکھے گئے مناظر میں

Read more

آپ کو کیا تکلیف ہے؟

مرد ظالم ہے یہ جملہ تو بہت بولا، سنا اور لکھا گیا۔ مگر ایک عورت دوسری عورت پر جو ظلم ڈھاتی ہے اس کا شمار کون کرے؟ عورت خواہ رشتے دار، محلے دار، پڑوسن، جان پہچان والی یا ایک ماں ہو۔ تمام کا طریقہ کار تو مختلف ہو سکتا ہے لیکن منشا ایک ہی ہے۔ عام خیال یہی ہے کہ گھروں پر مرد کی حکمرانی ہوتی ہے۔ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں اور دیکھیں جہاں مرد حکمران ہے وہاں حقیقت میں

Read more

میری عید مبارک کر دے

رنگ حنا، آج ”حنا“ کے ہاتھوں پر کچھ زیادہ ہی جچ رہا تھا۔ کبھی نرم و ملائم ہتھیلیوں کو دیکھتی تو کبھی چوڑیوں کے اندر موجود کانچ جیسی نازک کلائیوں پر نظر چلی جاتی اور تو اور آدھ گھنٹے میں پانچویں بار آئینے کا سامنا اتفاقا ہو گیا تھا، وہاں سب سے پہلی نظر اس کی اپنی شرمیلی مسکراہٹ پر ہی جاتی پھر لال ڈوپٹے کی اوٹ سے لال ہونٹ دیکھ کر میچ کرنے لگتی، آج اس نے بال نہیں

Read more

عہد حاضر کی چند زندہ اشتراکی یادگاریں

سوویت یونین کے انہدام کو تین دہائیاں گزر چکیں۔ آج دنیا میں صرف پانچ ممالک ہیں جو خود کو اشتراکی گردانتے ہیں۔ اس فہرست میں چین، کیوبا، ویتنام، لاؤس اور شمالی کوریا شامل ہین۔ ان تمام ہی ملکوں میں صرف شمالی کوریا ہی اب تک عملاً اشتراکی ہے۔ مگر شمالی کوریا میں بھی اشتراکیت کوئی ولولہ، کوئی انقلاب نہیں، بلکہ بقول غالب ”دین بزرگان“ ہی ہے۔ کیا آج سے 30 سال قبل کوئی کہہ سکتا تھا کہ اشتراکیت کا یوں اتنا خوفناک اس قدر ذلت آمیز انجام ہو گا؟

Read more

بچوں میں فطری مشاہدے کو مَت ختم کریں

چند سائنسدانوں کی سوانح عمریاں پڑھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ان سائنسدانوں نے جتنی بھی انسانیت کے فائدے کے لئے حیران کن ایجادات کی ہیں وہ اپنے فطری مشاہدے کی بنیاد پر کی ہیں۔ ہر انسان دنیا میں اپنا ایک علیحدہ مشاہدہ کرنے والے طبیعت اور ذہن لے کر پیدا ہوتا ہے۔ دنیا میں پیدا ہونے اور آنکھ کھولنے کے بعد اپنے حواس خمسہ اور دماغ کو فطرت کے اصولوں کو جاننے کے لیے استعمال کرنا شروع کرتا ہے۔ ہر انسان کا مشاہدہ تجربہ اور اس کا اظہار مختلف ہوتا ہے۔

Read more

اب عمران خان ایمانداری چھوڑ کر دیکھیں

کالم نگار عمر عزیز کے73 ویں برس یہ سوچ رہا ہے۔ جس دن جگمگائے گا شبستاں ہم نہیں ہوں گے۔ پھر ’کہیں ہم کو دکھا دو اک کرن ہی ٹمٹماتی سی‘ والی خواہش بھی اس کے دل میں موجود ہے۔ عمر خیام نے اس دکھ کا رونا اپنی ایک فارسی رباعی میں رویا۔ ایک مچھلی نے ایک بط سے مخاطب ہو کر کہا۔ کیا خشک ہو جانے کے بعد پانی کی روانی پھر پلٹ کر آئے گی؟ اس نے کہا،

Read more

قومی بیانیہ

”بیانیے“ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی بنی نوع انسان کی۔ آدم علیہ السلام جو پیغام لے کر دنیا میں آئے، وہ انسانوں کے لیے پہلا نظام یا دستور حیات تھا اور یہی پہلا بیانیہ بھی تھا۔ پھر یہ سلسلہ نسل در نسل اور قوم در قوم چلتا رہا، کئی قومیں آئیں کئی برباد ہوئیں، اگر یہ کہاجائے تو بے جا نہ ہو گا کہ بیانیے کی تاریخ قوموں کے عروج و زوال سے جڑی ہے۔ نبی آخرالزمان قیامت

Read more

مجھے عشق نہیں ہوا، قصے ہیں، افسانے ہیں

میں نے دس گیارہ سال پہلے ایک تحقیقی کتاب لکھی تھی جو فکشن ہاؤس لاہور سے شائع ہوئی تھی۔ عنوان تھا، ”محبت۔ ۔ ۔ تصور اور حقیقت“ جس میں میں نے پیار، محبت، عشق، جنوں میں فرق بیان کیا تھا۔ جسے انگریزی میں Love کہا جاتا ہے اسے میں نے تحقیق کے بعد عشق جانا۔ پیار Liking، محبت Infatuation اور جنوں Passion۔ یہ کتاب میں نے یونہی نہیں لکھی تھی بلکہ عشق سے متعلق جو میں نے تھیوری وضع کی

Read more

چواسیدن شاہ کی ایک پراسرار رات

کسی نے پیر پر ٹھڈا مارا اور کہا، ”اٹھ عثمان اٹھ، باقی لوگ پہنچ رہے ہیں، اٹھ ابھی اگلا سفر پڑا ہے، اور دیکھ سڑک کے ایک طرف ہو کر لیٹا کر، کسی گاڑی کے نیچے آکر مارا جائے گا“ ۔ مجھے علم نہیں ہے کہ کتنے ٹھڈے مارے گئے تھے، اور کون تھا جس نے ٹھڈے مارے تھے۔ یہ جو ڈائریکٹلی مولڈیڈ سول جوتے جنہیں عام زبان میں ڈی۔ ایم۔ ایس شوز کہتے ہیں، ان کا سول اتنا موٹا

Read more

آخری قسم

ببلو آج بہت دن بعد میرے پاس آیا اورسلام دعا کیے بغیر کہنے لگا کہ ”میں قسم کھاتا ہوں کہ اب کسی سے بھی محبت نہیں کرونگا۔“ ” کیا ہوا، کیوں قسم کھا رہے ہو، پہلے بھی تم قسمیں کھا چکے ہو، یہ کون سی قسم ہے؟“ میرے اتنے سوالوں پر ببلو ایسے مچلا جیسے بن جل مچھلی تڑپتی ہے۔ کہنے لگا ”یار محبت راس نہیں آتی۔ دو دن، چار دن بعد پھر وہی داغ جدائی، بس اب نہیں۔“ ”

Read more

چالیس برس پہلے ڈومیلی کا سفر

بڑے بھائی نے کہا: ”تم کو پتا ہے، اس دفعہ گرمیوں کی چھٹیوں میں، ہم ڈومیلی نانا اور نانی جان کے پاس جائیں گے“ ۔ ڈومیلی کتنا دور ہے، اس کا تو علم نہیں تھا لیکن یہ خبر خوش کن تھی کہ ٹرین میں طویل سفر طے کرنے کا موقع ملے گا۔ سکول کی چھٹیوں کا کام ایک ہفتے میں نمٹانا تھا۔ چونکہ ہم بہن بھائی اسکول کا کام نمٹانے میں لگے گئے اور امی سفر کی تیاریوں میں۔ شامی

Read more

مرد و زن ۔ ایک شعر لیکن دو الگ الگ مصرعے

(محترم وقار حیدر کے استدلال سے ادارہ "ہم سب” کو اتفاق نہیں۔ ان کی رائے کے احترام میں یہ تحریر شائع کی جا رہی ہے۔ اگر پڑھنے والے اس پر اپنی رائے دیں تو اسے بھی اسی طرح جگہ دی جائے گی۔ مدیر) صنف انسان میں مرد اور عورت مجھے قافیہ اور ردیف لگتے ہیں۔ ۔ ۔ جن کے بغیر وجود کا شعر مکمل نہیں ہوتا۔ محبت، نفرت، خامشی، شور، نشیب و فراز، خوشی، غم، وصل و ہجر کے جذبے

Read more

رحمان بابا کا مختصر تعارف

پشتو شاعری کے حافظ شیرازی کہلائے جانے والے پٹھانوں کا ہر دل عزیز اور عظیم صوفی شاعر رحمان بابا کا نام عبدالرحمٰن مہمند تھا۔ آپ 1632 عیسوی بمطابق 1041 ہجری کو پشاور سے جنوب کی طرف پانچ میل کے فاصلے پر واقع ایک گاؤں بہادر کلئی میں پیدا ہوئے۔ آپ پٹھانوں کے مہمند قبیلے کی ایک شاخ غوریہ خیل سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد گرامی کا نام عبدالستار تھا۔ آپ پشتو کے ایک اور عظیم شاعر اور بہادر

Read more

دیرلیش ارطغرل، ایک عظیم الشان سلطنت کا ابتدائیہ

تاریخ کو افسانے کی شکل میں ڈھالنے کا ایک مقصد ہوتا ہے کہ تاریخ کی اہم شخصیات کو اعلی خوبیوں کی علامت بنا دیا جائے اور کردار نگاری، ماجرہ سازی اور رومانیت کی آمیزش سے سے قارئین کے لیے ایک دلچسپ اور پر اثرداستان ترتیب دی جائے، اس سے ایک طرح کی پیغام رسانی کا کام لیا جاتا ہے۔ خاص طور پر قوموں کے زوال کے دور میں ان کے شاندار ماضی کو افسانوی رنگ میں رنگ کر مرقع اور

Read more

کنور اخلاق محمد خاں، شہریار: خوابوں کا سوداگر

گہے خندم گہے گريم گہے افتم گہے خيزم مسيحا در دلم پيدا و من بيمار می گردم (مولانا روم) جب اداسی رقص کر رہی تھی، وہ جنوں کی حالت میں تھا۔ کبھی تو میں ہنستا ہوں، کبھی روتا ہوں۔ کبھی گرتا ہوں اور کبھی سنبھلتا ہوں۔ میں بیمارعشق ہوں مگر میرے دل میں میرا مسیحا پیدا ہو گیا ہے اور میں اپنے مسیحا کے گرد طواف کرتا ہوں۔ یہ کسی کی زندگی میں بھی عجیب عالم ہوتا ہے، ذات اپنے

Read more

آئینے پر غبار رہنے دو

یونیورسٹی کے دن زندگی میں ایک الگ ہی مقام رکھتے ہیں۔ دھندلی یادوں کے بیچ واضح تصویریں لیے ، ان مٹ آوازوں اور ناقابل فراموش علمی تصورات عطا کرنے والے۔ یہاں سے زندگی ایک نیا موڑ لیتی ہے۔ ایک بہت بڑے راؤنڈ اباؤٹ کی طرح یہاں سے نکلے والے رستے سب کو ان کی الگ الگ ان دیکھی دنیاؤں میں لے جاتے ہیں۔ پر ایک بات یقینی ہے کہ جو خواب آنکھوں میں لئے نوجوان یہاں قدم رکھتے ہیں وہ

Read more

یہ جو لوگ محو کلام تھے مجھے کھا گئے

لوگ بولتے ہیں اور بے محابا بولتے ہیں۔ بغیر وقفے کے اور بغیر مطلب کے۔ یہاں مطلب سے مراد مفہوم ہے ورنہ پاپولر والے مطلب کے بغیر تو کیا ہی ہے اس دنیا میں۔ لوگوں کے بولنے کی یقیناً بہت سی وجوہات ہوتی ہوں گی مگر ہمیں اپنی کم نظری کے باعث ایک آدھ ہی نظر آتی ہے۔ یا پھر شاید ساری وجوہات مل ملا کر اسی ایک آدھ میں کولیپس کر جاتی ہوں۔ خیر یہ تصوف کے مسائل ہیں

Read more

گھر کی دیوار پر نفرت لکھ دو

صاحبو! امریکہ میں بے مثل کام ہو رہا ہے۔ ۔ ۔ مصور کمیونٹی سڑکوں پر نکل آئی ہے اور تمام سڑکوں کو اس سیاہ فام کی تصویروں سے بھرنے میں جت گئی ہے جو پولیس اہلکار کے گھٹنے نیچے یہ کہتا مر گیا تھا کہ ”اوئے! چھڈ دے مینوں۔ ۔ ۔ مینوں ساہ نہیں آ ریہا“ ۔ ۔ ۔ پولیس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نتھ ڈالنے کے لئے ایک ایک سڑک پر پولیس کے خلاف نفرت بھری جا رہی

Read more

کتنے بچے پیدا کریں؟

ضروری نہیں ہے کہ ہر شادی شدہ جوڑا بچے پیدا کرے۔ بچے صرف اور صرف ان لوگوں کو پیدا کرنے چاہئیں جو ذہنی اور جسمانی طور پر صحتمند ہوں۔ بہت سے لوگ جو ذہنی یا جسمانی طور پر بیمار ہوتے ہیں وہ بچے پیدا صرف اس لیے کرتے ہیں کہ ان کی نسل بڑھ سکے۔ یار ایک بات بتاؤ آپ نسل کیوں بڑھانا چاہتے ہیں؟ اس لیے کہ آپ کا نام زندہ رہے؟ اپنے دادا کے ابا کا نام تو بتائیں۔ اکثریت کو نہیں آتا ہوگا۔ تو کیا آپ کے آنے سے ان کا نام زندہ رہا؟

نہیں نام ایسے زندہ نہیں رکھے جاتے۔ نام زندہ رکھنے کے لیے کام کرنا پڑتا ہے آپ کا کام آپ کی سوچ کا بیج جو آپ نے بویا ہوتا ہے وہ آپ کو زندہ رکھتا ہے۔ غالب کو آپ جانتے ہیں؟ اس کے تو سارے بچے مر گئے تھے پر نام اس کا زندہ ہے۔ سقراط ارسطو کیا ان کا نام ان کی اولاد نے زندہ رکھا؟ نہیں ان کی سوچ نے رکھا۔ ایم اے نفسیات، تاریخ، فلسفہ اور پولیٹیکل سائنس تب تک مکمل نہیں ہوتے جب تک ان کا ذکر نہ کیا جائے۔ انسان مر جاتا ہے پر اس کی سوچ زندہ رہتی ہے۔

Read more

نامور سنگھ: بے وفا نہیں تھا

”باسی بھات میں خدا کا ساجھا“ نامور سنگھ کا مضمون تھا، جس کی زبردست مخالفت ہوئی۔ باسی بھات مطلب اردو اور اس پر خدا کی شمولیت۔ ہندی ترقی پسند نہ صرف ناراض ہوئے بلکہ نامور سنگھ کے نام کی تختیاں بھی جلائی گئیں۔ یہ مضمون شایع کرنے سے قبل راجندر یادو نے مجھے پڑھنے کے لئے دیا تھا۔ میں نے بھی آسہمتی یعنی غصہ کا اظہار کیا اور یادو جی سے پوچھا، کیا آپ بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اردو کا رسم الخط تبدیل ہونا چاہیے؟

اردو پر اسلام کا اثر ہے؟ اردو مسلمانوں کی زبان ہے؟ اس زمانے میں کم و بیش یہی رویہ کملیشور کا بھی تھا۔ اس مضمون سے بہت قبل عصمت چغتائی بھی رسم الخط تبدیل کیے جانے کی بات کہہ چکی تھیں۔ اردو، مسلمان، شریعت کو لے کر بھی مضامین لکھے گئے۔ ہنس میں جب نامور جی کا مضمون شایع ہوا تو اردو خیمے سے زیادہ ناراضی ہندی خیمے میں تھی۔ ترقی پسندوں نے مورچہ کھول دیا۔ یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ ہندی میں سو فی صد اکثریت ترقی پسندوں کی ہے۔ جو مسلمان اور اردو کے خلاف کچھ بھی سننا پسند نہیں کرتے۔

Read more

چند سو لفظی کہانیاں

تصویریں
تپتی دوپہر میں شہر کی مصروف سڑک کے ساتھ فٹ پاتھ پر وہ پریشان نگاہوں سے زمین پر بیٹھی کچھ ڈھونڈ رہی تھی۔ اس کے چہرے کے اڑتے رنگ اور ہاتھوں کی کپکپاہٹ واضح تھی۔ پریشان آنکھوں میں آنسو سنبھالتے ہوئے مسلسل کچھ ڈھونڈنے کی کوشش میں لگی تھی۔
” کیا ہوا، کیا ڈھونڈ رہی ہو“
” میموری کارڈ گم ہو گیا ہے“
”تو اس میں پریشانی والی کیا بات ہے، نیا لے لینا“
” اس میں میرے تینوں بچوں کی تصویریں تھیں“
”تصویریں بھی نئی بنا لینا“
” وہ تینوں مر چکے ہیں“ اس نے زمیں پر بکھری راکھ کریدتے ہوئے جواب دیا۔

Read more

لمس کوئی سا بھی ہو، نہیں چاہیے!

مسافروں سے بھری ٹرین چھکا چھک دوڑتی چلی جا رہی تھی۔ زیادہ تر لوگ کھڑے تھے، کچھ سائڈ پہ نصب نشستوں پہ تشریف رکھتے تھے، ہر کوئی اپنے حال میں مست، اپنے آپ میں گم نظر آتا تھا۔ جب بھی کوئی سٹیشن آتا، کچھ لوگ اتر جاتے، کچھ سوار ہو جاتے لیکن کہیں بھی کوئی بدنظمی نظر نہ آتی۔ ہمارے ساتھ بیٹھی ہوئی خاتون کی گود میں ایک ننھا منا بچہ قلقاریاں مار رہا تھا۔ کبھی منہ میں ہاتھ ڈالتا،

Read more

ایک خط کسی کا، سب کے نام: (محمد سلیم الرحمن کی کتاب ’نظمیں‘)

یہ کیسا سفر ہے ! مانوس سے نامانوس کی طرف، یا جہان معلوم سے ایک جہان نامعلوم کا۔ یا ایک انفرادی تجربے کا بیان جو بالآخر ہمیں اپنی اجتماعی دنیا تک پہنچا دے۔ ذاتی سے اجتماعی (Personal to impersonal) کا یہ مسئلہ شاعری میں بہت پیچیدہ اور مبہم ہے۔ اس پر علیحدہ بحث کی جانی چاہیے۔ پچھلے چند برسوں میں شاعری کے جو مجموعے میرے مطالعے میں آئے، یہ ان سب سے مختلف ہے۔ مختلف تو خیر ہر نئی اور

Read more

چین والے اور پاکستانی طلبہ

”میں اپنے مقالے کے نامکمل پرنٹ ہوئے اوراق تھامے اینچھی کی بارش سے بھیگی سڑک پر تنہا گھومتی تو میرے آنکھوں سامنے زندگی کی فلم چلتی اور دل پسیج کر رہ جاتا“ ۔ یہ ہیں الفاظ چائینا‏‏ یونیورسٹی آف جیو سائنسز ووہان کی طالبہ ماہ وش منظور کے جو کرونا وبا کے باعث ووہان سے کوسوں دور اینچھی میں محصور تھیں۔ کسی طالب علم کے لئے منطقی مقالے کی تکمیل کس حد تک جذباتی تناؤ کا باعث ہوتا ہے اس

Read more

گرگ زادہ

میری بہت سی کہانیوں کی طرح یہ بھی ایک سچی کہانی ہے۔ اس کے تمام کردار میرے پاس ہی رہتے ہیں۔ جو بقید حیات ہیں وہ موت سے بد تر زندگی گزار رہے ہیں اور جو مر چکے ہیں ان میں سے کچھ بھوت پریت اور سایہ بن کرزندہ لوگوں کے جیون کو دہشت زدہ کر رہے ہیں اور کچھ دوسری قسم کے مردوں کی روحیں اپنی حسرتوں اور موہوم امیدوں کی وجہ سے ابھی تک بھٹکتی پھر رہی ہیں۔

Read more

سرمد کھوسٹ کی فلم اور مجھے ’’بکری‘‘ بنانے والا ماحول

ترکی کے صدر نے پندرہ سو برس قبل تعمیر ہوئی ایک عمارت میں خلافتِ عثمانیہ کے دوران بنائی مسجد کی ”بحالی“ کا اعلان کیا تو اس کی بابت کچھ لکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔متعلقہ کالم کے آغاز ہی میں نہایت دیانت داری سے اعتراف کیا کہ فیصلہ تاریخی ہے۔اس کا مثبت اور منفی ردعمل بھی شدید ترین ہوگا۔ یہ فیصلہ درست ہے یا غلط اس کے بارے میں ذاتی رائے دینے سے البتہ گریز کیا۔زیادہ توجہ یہ سمجھنے پر مرکوز

Read more

یہ میرا سچ ہے، ہو سکتا ہے آپ کا کچھ اور ہو

آپ میں سے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے اپنا سچ خود تلاش کیا؟ شاید بہت زیادہ یا پھر بہت ہی کم۔ آپ نے کیسے یقین کر لیا جو کچھ آپ کو بتایا گیا ہے صرف وہی ٹھیک ہے؟ اور پھر آپ نے کیا کیا اپنا سچ دوسروں پر مسلط کرنا شروع کر دیا، کیا آپ کا سچ میرا سچ ہو سکتا ہے، نہیں بالکل نہیں، میرا سچ صرف میرا سچ ہے اور ہو سکتا ہے آپ میرے سچ پر یقین

Read more

ہائے گرمی سے بھیگنا

گرمیوں میں لکھنا ایسے ہی ہے، جیسے خود کا بھیگنا، صفحہ کا بھیگنا اور جس جگہ بیٹھے ہیں اس کا بھی بھیگنا۔ کچھ لوگوں کو برسات میں بھیگنا پسند ہے اس لئے اس پر کافی لکھا، گایا اور فلمایا گیا ہے۔ پر ہم آپ کو پسینے میں بھیگنے کی عظمت سنائیں گے۔ سال کے بارہ مہینوں میں جولائی کی گرمی کا بھی وہی مقام ہے جو پاکستانی سسرال میں داماد کا ہوتا ہے۔ اسی لیے شاید بہادر سے بہادر انسان

Read more

بین الاقوامی سطح پر قومی زبان کی شناخت کا مسئلہ

کسی بھی زبان کو اپنی پہچان کروانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اس زبان کا اپنا رسم الخط اور مناسب تعداد میں اپنا لٹریچر موجود ہو۔ پاکستان کے طول و عرض میں درجنوں زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے بہت سی ایسی ہیں جن کا اپنا رسم الخط اب موجود نہیں ہے اور ان کا لٹریچر بھی مناسب تعداد میں اب دستیاب نہیں ہے۔ بہت سے لسانی ماہرین کے مطابق زبان کی تعریف میں مختلف بولیاں یا مختلف

Read more

واصف علی واصف کی کتاب: حرف حرف حقیقت

یہ کتاب مجموعہ ہے حضرت واصف علی واصف کے لکھے گئے مضامین کا ’جو انھوں نے اپنی زندگی میں لکھے اور ان مضامین کو کتابی شکل میں ترتیب دیا۔ اس کتاب میں زندگی کی حقیقتوں کو بڑی خوبصورتی سے موتیوں میں پرویا گیا ہے۔ حضرت واصف علی واصف فرماتے ہیں کہ ہمارے الفاظ بہت اہم ہوتے ہیں یہ ہمیں خاص سے عام اور عام سے خاص بناتے ہیں بات تو وہی ہوتی ہے جو سب جانتے ہیں لیکن اس کو

Read more

جناب وزیر اعظم! الہٰ دین کا چراغ ہے تو سامنے لائیں

یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ لفظوں کے طوطا مینا بنانے سے کام نہیں چلنے والا۔ تقریروں اور خوش نما وعدوں سے دفتر سیاہ کئے جا چکے۔ جانے والوں نے کیا کیا اور ہم آنے والے وقت میں کیا کارنامے انجام دینے والے ہیں۔ باتیں سننے میں بہت خوبصورت لگتی ہیں لیکن اب سماعت اس سے ماورا کچھ چاہتی ہے۔ اب لفظوں سے پیٹ نہیں بھرتا ۔ اب گھر کا چولہا جلانے کے لئے روزگار اور امور حکومت چلانے

Read more