کیا مودی ہمارے بھی ہیرو ہیں؟

حضرت وجاہت مسعود صاحب کا پچھلے ہفتے کا نوحہ ”بارہ مولا کا بشیر احمد خان اور جامشورو کا گل محمد چھچھر“ مجھے دو، تین دن تک عجیب سی کیفیت میں مبتلا کیے رکھا۔ میں وجاہت صاحب کی قلمی طاقت اور معاشرتی درد و فکر کے بارے سوچ رہا تھا۔ وہ مجھے پرندوں کے اس جھنڈ میں دکھ رہے تھے جس کا ذکر فقیہہ حیدر اس شعر میں کرتے ہیں،

ہوا میں نوحہ کناں ہیں تھکے پروں کے ساتھ
پرندے جلتے شجر کا طواف کرتے ہوئے

Read more

ہندی ادب کا ”وار اینڈ پیس“ : یشپال کا ”جھوٹا سچ“

آج کے شمارہ نمبر 98۔ 99۔ 100 یعنی پورے تین شماروں میں صرف ایک ناول شایع ہوا۔ یہ مایہ ناز ہندی فکشن نگار یشپال کا ضخیم ناول ”جھوٹا سچ“ ہے۔ جسے ہندی فکشن کا وار اینڈ پیس قرار دیا گیا ہے۔ سہ ماہی آج کے برعکس اردو کے بیشتر ادبی جریدوں کو ناول کی نسبت افسانوں کی اشاعت سے رغبت خاص رہی ہے۔ ان جریدوں کے مدیروں کی جو بھی مجبوریاں رہی ہوں لیکن ان کے اس رویے کی وجہ سے ناول جیسی عظیم صنف کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

لیکن اسی صورت حال میں سہ ماہی ”آج“ اپنی اشاعت کے آغاز سے ناول جیسی فکشن کی اہم ترین صنف پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اس میں اردو اور دیگر زبانوں کے بہترین ناول تواتر کے ساتھ شایع ہوتے رہے ہیں۔ سہ ماہی ”آج“ نے نہ صرف فکشن کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے بلکہ اردو میں ناول جیسی صنف کے دوبارہ احیا میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

Read more

مذہب، جنس اور نفسیات

انسانی بچہ جس خاندان، سکول اور معاشرے میں پلتا بڑھتا ہے اس ماحول کی روایتیں اور رویے اپنے اندر ایک اسفنج کی طرح جذب کرتا چلا جاتا ہے۔ یہ رویے اور روایتیں اس کی شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

اگر ایک بچہ ایک روایتی مذہبی ماحول میں تربیت پاتا ہے تو عین ممکن ہے اسے مذہبی اعتقادات بھی وراثت میں ملیں اور وہ ان نظریات کو بھی بغیر سوچے سمجھے اپنی شخصیت کا حصہ بنا لے۔
جب بچہ جوان ہوتا ہے تو اس کے جسم، دماغ، اور ذہن میں اہم تبدیلیاں آنی شروع ہو جاتی ہیں۔ لڑکیوں کو حیض آنا شروع ہو جاتا ہے اور لڑکوں کو شہوانی خواب آنے لگتے ہیں۔

Read more

ہم خوش قسمت ہیں یا بد قسمت؟ – مکمل کالم

ہمارے ایک بزرگ دوست تھے، اب بھی حیات ہیں، خدا انہیں دنیا میں ہی جنت نصیب کرے، بڑی مزے مزے کی باتیں کرتے ہیں۔ ایک دن کہنے لگے کہ خوش قسمتی یا بد قسمتی کوئی چیز نہیں ہوتی، یہ آپ کے اچھے برے فیصلے ہوتے ہیں جن کے نتائج بھگتنے پڑتے ہیں۔ اگر فیصلے دانشمندی کی بنیاد پر کرو گے تو نتائج خوشگوار نکلیں گے اور اگر فیصلے حماقت پر مبنی ہوں گے تو نتیجہ بھی ویسا ہی نکلے گا۔ کوئی بھی شخص زندگی میں کسی ایک فیصلے کی وجہ سے کامیاب یا نامراد نہیں ہوتا، یہ فیصلوں کا ایک سلسلہ ہوتا ہے جو کسی کو ظفر مند اور کسی کو ناکامران بناتا ہے۔

کامیاب لوگ بھی زندگی میں غلط فیصلے کرتے ہیں اور ناکام لوگ بھی کوئی نہ کوئی درست فیصلہ کرتے ہیں، مگر کسی بھی شخص کی ناکامی یا کامیابی ایک فیصلے پر نہیں ٹکی ہوتی۔ زندگی کے ہر مرحلے پر کوئی نہ کوئی موڑ ایسا ضرور آتا ہے جب آپ کو اپنا اختیار استعمال کر کے راہ منتخب کرنی پڑتی ہے، ہو سکتا ہے نادانستہ طور پر آپ غلط راہ کا انتخاب کر لیں مگر کوئی بات نہیں ایسی ایک آدھ غلطی کی گنجایش ہوتی ہے بشرطیکہ آدمی اس غلطی کا ادراک کرے اور اگلی مرتبہ درست فیصلہ کرے۔ لیکن اگر آپ کسی شاہراہ پر گاڑی چلاتے ہوئے مسلسل غلط راستوں کا انتخاب کرتے رہیں گے تو منزل پر پہنچنا تو دور کی بات، ہو سکتا ہے کہ راستے میں حادثہ کروا کے ٹانگ تڑوا بیٹھیں اور پھر بد قسمتی کا رونا روئیں!

Read more

کیا مذہبی اقلیت ہونا جرم ہے؟

آج کے اس روشن خیال اورترقی یافتہ دور میں بھی انسان تفریق کو زبان، رنگ و نسل اور مذہب کی بنیاد پر نفرت کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ خصوصاً کورونا وائرس جس نے پوری دنیا کو اپنی لیپٹ میں لے کر بڑے سے بڑے ترقی یافتہ ممالک کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بد سے بد انسان بھی خداکی طرف روجوع لے آیا ہے اوراپنے گناہوں سے توبہ کرکے خدا کی حضوری میں سجدہ ریز ہوگیا ہے۔ اس کے

Read more

بچہ گود لینا – پاکستانی تناظر میں 

پہلے حصے میں بچہ گود لینے کی بات مغربی ملکوں کے معاشرے کو سامنے رکھ کر کی تھی۔ اب کچھ بات کرتے ہیں کہ پاکستان میں بچہ گود لینے کا کیا طریقہ کار ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ پاکستان میں مغربی طریقے پر بچہ گود لیا ہی نہیں جاسکتا۔ اور اسی لیئے اس پر قانون سازی بھی نہیں ہوئی۔ کسی لاوارث بچے کا سر پرست تو بنا جا سکتا لیکن بچے کو اپنی اولاد نہیں بنا سکتے۔ 1989 میں

Read more

نرگس بیمار کا احوال اور رشک پری پیش چشم کی حکایت

(برادر محترم محمد اقبال دیوان پار سال اپنے ایک قریبی عزیز کی تیمارداری کے ضمن میں تین ماہ امریکہ میں مقیم رہے۔ ہر چند کہ وجہ سفر اضطراب اور تشویش سے عبارت تھی، دیوان صاحب کے مشاہدات امید اور انسانی ہمدردی کا ایک حوصلہ افزا باب معلوم ہوئے۔ طے پایا کہ ہم سب کے پڑھنے والوں کو اس دنیا کے کچھ قصے سنائے جائیں اور جہاں ممکن ہو، لفظ کے نقش کو تصویر کی مدد سے مزید گہرائی دی جائے۔

Read more

میڈم فرحت محبوب: دیا کس کا جلا، کس کا بجھا ہے؟

یہ اس موسم کی کیسی ہوا ہے کہ میڈم فرحت محبوب ( پرنسل مرغزار کالج، گجرات ) نے ابھی کچھ دن پہلے دو بہنوں اور بہنوئی کو الوداع کہا اور آج خود بھی اس جہانِ فانی کو خداحافظ کہہ گئیں؟ یقینا موت زندگی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔ لیکن پتا نہیں کیوں آج کل ایسی خبریں سن کر ایسا لگتا ہے کہ یہ مرحلہ مسافروں کے سامنے جلد آ رہا ہے۔ شاید پہلے مرحلے کی تگ و تاز

Read more

آیا صوفیہ ”تاریخی“ اقدام!

اس کالم کے چند قارئین نے ای۔ پیغامات کے ذریعے یہ گلہ کیا ہے کہ میں نے ترکی کے صدر اردوان کی جانب سے استنبول میں تقریباً پندرہ سو سال سے قائم ”آیا صوفیہ“ کی بابت لئے فیصلے کے بارے میں کچھ نہیں لکھا۔ اکثریت ان قارئین کی 30 سال سے 40 سال کے درمیان عمر والے افراد پر مشتمل تھی۔ اس گروہ میں شامل افراد کی رائے کو میں بہت سنجیدگی سے لیتا ہوں۔ وہ کئی حوالوں سے ہمارا مستقبل ہیں۔ ان کے ذہن میں اٹھے سوالوں کا جواب دینا ضروری ہے۔

لازمی نہیں کہ وہ ان جوابات سے اتفاق بھی کریں۔ سنجیدہ اور حساس موضوعات پر ٹھنڈے دل سے دلائل کے ساتھ مکالمے کے لئے مگر مناسب ماحول بھی درکار ہے۔ دست بستہ عرض کرنے کو مجبور ہوں کہ فی الوقت ہمارے ہاں وہ ماحول موجود نہیں ہے۔ دانشوری بگھارنے کے بجائے لہٰذا ”اپنے بچنے کی فکر کرجھٹ پٹ“ والی فکر میں مبتلا رہتا ہوں۔ کوئی مانے یا نہیں یہ حقیقت مگر اپنی جگہ مسلم ہے کہ اردوان کا اٹھایا قدم ہر اعتبار سے ”تاریخی“ ہے۔

Read more

مندر کی بے حرمتی

کچھ دن پہلے فیس بک پر سکرولنگ کرتے ہوئے بچوں کی ایک کتاب پر نظر پڑی جس کا نام تو مجھے یاد نہیں البتہ سرورق پر شیو لنگ کا بت تھا جسے ایک داڑھی والا شخص کلہاڑا مار کر توڑ رہا تھا۔ بچپن سے کتب بینی کہ عادت ہے ایسے سرورق، عنوانات یا مضامین میرے لئے نئے نہیں ہیں پھر بھی مندر کے حوالے سے چلتے ملک میں حالیہ تنازع کے باعث وہ سروق کئی دنوں میرے دماغ سے چپکا

Read more

بیرون ملک پاکستانی اور سلطان راہی کے دو روپ

آج سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہوئی ایک پوسٹ پر نظر پڑی جس میں سلطان راہی کی پیار بھری مسکراہٹ والی تصویر تھی اور ساتھ ہی غصے اور قہر سے بھرپور ایکسپریشنز والی تصویر جو وہ نوری نت یعنی ولن کو دیکھ کر دیا کرتے تھے۔ پیار والی تصویر پر لکھا تھا ”مسلمان بیرون ملک“ اور دوسری تصویر (قہر والی) پر درج تھا ”مسلمان اپنے ملک میں“ میں پاکستان میں پلا بڑھا، کالج، یونیورسٹی گیا اور ایک بڑے ادارے میں

Read more

آیۂ صوفیہ’’ تاریخی ‘‘اقدام!

اس کالم کے چند قارئین نے ای-پیغامات کے ذریعے یہ گلہ کیا ہے کہ میں نے ترکی کے صدر اردوان کی جانب سے استنبول میں تقریباََ پندرہ سو سال سے قائم ’’آیۂ صوفیہ‘‘ کی بابت لئے فیصلے کے بارے میں کچھ نہیں لکھا۔ اکثریت ان قارئین کی 30سال سے 40 سال کے درمیان عمر والے افراد پر مشتمل تھی۔اس گروہ میں شامل افراد کی رائے کو میں بہت سنجیدگی سے لیتا ہوں۔وہ کئی حوالوں سے ہمارا مستقبل ہیں۔انکے ذہن میں

Read more

اشرافیہ: گوئبلز کی راہ پر

جرمنی میں ہٹلر کے اقتدار کی راہ ہموار کرنے والا سب سے نمایاں نام جوزف گوئبلز تھا۔ ایک غیر مطبوعہ ڈاکٹری مقالہ کا مصنف، بلا کا جذباتی شخص، پاؤں کی معذوری کے باعث فوج میں شامل نہ ہو سکا، احساس محرومی کے باعث انتقام پسندی شخصیت کا حصہ بن گئی، شہرت کی شدید پیاس تھی، اور کمال کا موقع پرست بھی۔ قوم پرستی کا پرچارک بن گیا۔ اور اسی پرچار کے لئے بطور ایڈیٹر اخبار کی اشاعت شروع کر دی۔

Read more

کشمیری عوام کے لیے

میں پچھلے تین روز سے باغ آزاد جموں کشمیر میں ہوں اورکشمیر کی خوبصورت فضاؤں اور چشموں کی طرح صاف شفاف لوگوں کی محبت اورمیزبانی لطف اندوز ہو رہا ہوں۔ باغ آزاد کشمیر کا انتہائی پرفضا مقام ہے جس کی آبادی تقریباً پینتیس ہزار جبکہ رقبہ سات سو ستر مربع کلومیٹرہے جو ہمیشہ سے سیاحوں کا توجہ کا مرکز رہا۔ اس کے شمال میں جہلم ویلی (ہٹیاں بالا) او رمظفر آباداور جنوب میں پونچھ ہے۔ باغ کے قرب و جوار

Read more

مذہبی تحریک کا سماجی کردار

1981 ء میں قائم ہونے والی مذہبی جماعت بنام ”دعوت اسلامی“ دنیا کے دو سو سے زیادہ ممالک میں دین اسلام کی اشاعت میں مصروف عمل ہے۔ دینی موضوعات پر کتب و رسائل کے اجراء اور ماہنامہ ”فیضان مدینہ“ کے نام سے رسالہ کی باقاعدہ اشاعت نے گھر گھر دین کے پیغام کو پہنچانے میں اہم کردار ادا کیاہے۔ پاکستان کی علاقائی زبانوں میں کتب و رسائل کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ دنیا کی تیس

Read more

ادب اور معاشرہ

ادب ہمیشہ سے ہی انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ پڑھے لکھے ان پڑھ سب کی زندگی کا، یہ بڑے بوڑھوں کی کہانیاں ہوں، شعرا کی شاعری ہو، ناول نگار کی داستان ہو، مضمون نگار کا مضمون ہو، پردے کے پیچھے کا اسٹیج ہو، پردہ سکرین ہو، یا پھر آج کا میڈیا، ہر حال میں معاشرہ کا خیال ساز و کردار ساز رہا ہے۔ اپنی کردارنگاری، رومانویت، مکالمہ بازی اور باقی ادبی لوازمات کے ساتھ یہ اپنے پڑھنے

Read more

مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح قتل یا طبعی موت؟

”وہ اپنے عظیم بھائی کی ہو بہو تصویر تھیں۔ بلند و بالا قد، بہتر برس کی عمر میں بھی کشیدہ قامت، گلابی چہرہ، ستواں ناک، آنکھوں میں بلا کی چمک، ہر چیز کو ٹٹولتی ہوئی نظر، سفید بال، ماتھے پر جھریوں کی چنٹ، آواز میں جلال و جمال، چال میں کمال، مزاج میں بڑے آدمیوں سا جلال، سرتاپا استقلال، رفتار میں سطوت، کردار میں عظمت، قائداعظم کی شخصیت کا آئینہ، صبا اور سنبل کی طرح نرم، رعد کی طرح گرم،

Read more

باغ و بہار: اپنے عہد کی اجتماعی زندگی اور تہذیبی احوال و آثار کی مستند دستاویز

”باغ و بہار“ میرامن دہلوی کی داستانوی کتاب ہے جو انہوں نے فورٹ ولیم کالج میں ”محسن اردو“ جان گلکرسٹ کی فرمائش پر لکھی۔ داستانوں میں جو قبول عام ”باغ و بہار“ کے حصے میں آیا ہے وہ اردو کی کسی اور داستان کو نصیب نہیں ہوا۔ عوام اور خواص دونوں میں یہ داستان آج بھی اتنی ہی مقبول ہے جتنی آج سے پونے دو سو برس پہلے تھی۔ اس کی غیر معمولی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ اس

Read more

وینٹی لیٹر پہ پڑی انسانیت کو بچا لیں

مختلف انواع کے جانوروں اور پرندوں کی انسان کے ساتھ وقت گزرنے کے ساتھ کسی حد تک مانوسیت کا پیدا ہو جانا ایک عام سی بات ہے۔ مفید مویشیوں کے علاوہ کچھ دوسرے جانور بھی ہیں جو بظاہر تو بھیڑ بکریوں اور بھینسوں کی طرح کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے لیکن انسان کی قربت میں رہنے کی وجہ سے مانوس ضرور ہونے لگتے ہیں۔ جیسا کہ بلی اور کتے کی مختلف اقسام جن کو اکثر پالتو جانوروں کے طور پر گھروں

Read more

ایدھی صاحب کا تذکرہ۔ قلب بہ قلب، دہن بہ دہن

چار برس قبل، 8 جولائی 2016 ء کو 88 برس کی عمر میں ہم سے بچھڑنے والے عبدالستار ایدھی صاحب کے طبعی طور پر ہم سے جدا ہونے کا دکھ فقط اس قوم ہی کا نہیں، بلکہ پوری انسانیت کا دکھ بن کر سامنے آیا تھا، جس کا اظہار پوری دنیا نے بھرپور انداز میں کیا اور یہ اظہار جاری ہے اور جاری رہے گا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ایدھی صاحب کی زندگی، عمل سے تعبیر تھی۔ 8 جولائی

Read more

قاصد کی خبر، جمہوریت کا مستقبل اور عمران خان کا متبادل

قاصد بار بار تبدیلی کی خبر لارہا ہے۔ کبھی اسلام آباد میں حکومت کا لے آؤٹ تبدیل کرنے کی بات کی جاتی ہے اور کبھی فی الحال عمران خان کو بے بس و بے اختیار بنانے کے لئے پنجاب میں ان کے پسندیدہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار عرف وسیم اکرم پلس کو تبدیل کرنے کی بات سامنے آتی ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ قاصد تبدیلی اور عمران خان پر کم ہوتے اعتماد کی خبر پھیلاتا ہے لیکن یہ نہیں

Read more

آیا سوفیا اور عبداللہ دیوانہ‎

ابھی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کا غلغلہ تھم نہیں پایا تھا کہ پاکستانی مجاہدین کے ہونے والے خلیفہ نے آیا سوفیا میوزیم کو مسجد میں تبدیل کرنے کا عندیہ دے کر لال قلعہ پر پاکستانی پرچم لہرانے اور بھارت کو ایٹم بم سے راکھ کا ڈھیر بنا دینے کا عزم رکھنے والے صوم وصلاة، پابند شریعت، پکے اور سچے مسلمانوں کو نعرہ تکبیر لگانے اور بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ بننے کا ایک اور موقع فراہم کر دیا،

Read more

اور راجہ نے "سزا” بھگت لی !

محنت کرنے کے عادی کو محض ثمرات سمیٹنے ہی پر خوشی نہیں ہوتی وہ محنت کے لمحات سے بھی لطف اندوز ہوتا ہے. بات ہے سنہ 2017 کی جب راجہ پرویز اشرف پنجاب کی تنظیم سازی کے دورہ پر تھے۔ ان کی ہم قدم ٹیم بھی ان کی رفاقت کے سبب پراعتماد تھی۔ جب پوچھا گیا کہ صاحب پنجاب میں مایوسی کا سامنا کس ضلع میں ہوا تو جواب ملا کہ میانوالی اور بھکر کے اضلاع میں چیلنجز ہیں تاہم مایوسی

Read more

کس کے گھر جائِے گا سیلاب بلا ؟ (مکمل کالم)

نومبر 2019 میں ایک فارمولہ طے پا گیا تھا کہ مرکز میں عمران خان کو گھر بھیج کر مسلم لیگ ن کو ایک بار پھر موقع دے دیا جائے۔ شرط مگر یہ کہ مرکز میں شریف خاندان کے کسی فرد کی بجائے شاہد خاقان عباسی یا ایازصادق کو وزیراعظم بنایا جائے۔ غالبا ایاز صادق پر اتفاق بھی قائم کر لیا گیا تھا۔ پنجاب کی کمان عثمان بزدار سے لے کر گجرات کے چوہدریوں کے حوالے کرنا تھی۔ پرویز الہی ایک

Read more

شیخ لئیق احمد: بنام مرشد نازک خیالاں

شیخ لئیق احمد کی عمر لگ بھگ اسی سال ہے۔ چھ سال کی عمر میں بٹوارہ دیکھا۔ نامساعد حالات میں بھارتی پنجاب سے ہجرت کر کے پاکستان پہنچے۔ بلوے مار کاٹ خون ریزی ہم نے کتابوں میں پڑھی ہے انہوں نے آنکھوں سے دیکھی اور خود بھگتی ہے۔ حالات کے تھپیڑوں نے فیصل آباد لا پٹخا۔ محنت ان کا شیوہ ہے اس لیے آٹو پارٹس کا کاروبار شروع کیا۔ ایسا کبھی ہوا ہے کہ محنت کرنے والے کی کبھی ہار

Read more

جوڑوں کے درد

فرشتوں کے لکھے پہ پکڑے جانے والے انسان کو عرش پہ بنے جوڑوں کی وساطت سے دنیا میں لانے کا اہتمام ہوا۔ پھر انسانی جسم میں تین سو ساٹھ جوڑوں کی موجودگی نے جوڑوں کی اصطلاح کو انسان سے لازم کر دیا۔ یوں انسان کے اندر کے جوڑوں اور عرش پہ بنے جوڑوں کے اپنے اپنے درد متعارف ہوئے۔ پر یہاں فقط اک دوجے کے لباس قرار دیے گئے جوڑوں کے گفتہ، شگفتہ و نا گفتہ دردوں کا تذکرہ ہے۔

Read more

ایلف شفق کا ناول: دس منٹ اڑتیس سیکنڈز، اس عجیب دنیا میں

ایلف شفق ؔ ایک ایوارڈ یافتہ برٹش ٹرکش ناولسٹ ہیں اور ترکی میں سب زیادہ پڑھے جانے والی خاتون لکھاری ہیں ان کا کام پچاس زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ ایلف ؔ کا ناول، ’‘ دس منٹ اڑتیس سیکنڈز، اس عجیب دنیا میں ”، ایک حیرت انگیز ناول ہے۔ اس کی قرات کے بعد آپ خود کو مجبور پاتے ہیں کہ اس پہ بات کی جائے۔ یہ ناول سن دو ہزار انیس عیسوی کے بکر پرائز کے لئے شارٹ

Read more

6000 روپے بجلی کا بل اور تنخواہ میں 25% کٹوتی کا پہاڑ

وبا نے میرے اندازے کے مطابق بدترین اثر تو نہیں دکھایا مگر وطن عزیز میں معاشی حالات کا دھارا بدل ڈالا ہے۔ حکومت وقت نے وبا سے لڑنے کے لیے خاص اقدامات کیے ہوں گے مگر یہ خاص انتظامات حکومتی عہدیداران تک محدود رہے۔ عوام کو سڑکوں پر رُلتے میں نے انہی گنہگار آنکھوں سے دیکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں اس طبقے میں سے ہوں جس نے غربت بہت قریب سے دیکھ رکھی ہے۔ اور اسی غربت کا

Read more

داستان گوئی خیال یا حقیقت

داستان گوئی ادب کی ایک ایسی صنف ہے جو اردو ادب میں رفتہ رفتہ ختم ہوتی جا رہی ہے یا یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ناپید ہو چکی ہے وجہ یہ بتائٰ جاتی ہے کہ چوں کہ یہ دور حقیقت پسندی کا دور ہے لہذا اایسی چیزیں بے کا ر تضیح اوقات ہیں یعنی ٹیکنالوجی کے اس دور میں ایسی باتیں مضحکہ خیز لگتی ہیں آئیے دیکھتے ہیں کہ داستان گوئی ہے کیا۔ داستان گوئی دراصل قدیم ہندوستانی فن

Read more

مندر اور مسجد کی سیاست

برصغیر زمین کا ایک ایسا خطہ رہا ہے۔ جہاں لوگ بہت پرامن طور طریقوں سے زندگی گزارتے چلے آ رہے ہیں۔ برصغیر پر کئی خاندانوں کی حکومت رہی جن کا تعلق مختلف مذاہب سے رہا ہے لیکن انگریز حکومت نے برصغیر پر جو اثرات چھوڑے ہیں ان کی حدت آج تک بہت شدت سے محسوس کی جا سکتی ہے۔ انگریز دور نے مذہبی منافرت کا جو بیج ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان بویا ہے نا جانے وہ کب ختم ہوگا۔

Read more

گورکن: خلیل جبران کے عربی افسانے کا اردو ترجمہ

سایۂ زیست کی وادی میں جہاں ہر طرف کھوپڑیوں اور ہڈیوں کے ڈھیر لگے تھے میں میلوں تنہا چلتا رہا۔ ہر طرف گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ دھند کے بادلوں نے ستاروں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اور رات کے پر اسرار سکوت میں خوف اور دہشت کے عفریتوں کا خاموش اور بے آواز رقص جاری تھا۔ میں دریائے اشک و لہو کے کنارے پر جا کر کھڑا ہو گیا۔ جس کی لہریں چتکبرے سانپ کی طرح

Read more

ہم اختلاف میں عدم برداشت کے قائل اور متشدد کیوں ہو چکے ہیں؟

ڈاکٹر صاحب میں کافی عرصہ سے یہ محسوس کر رہا ہوں کہ ترقی یافتہ معاشروں کی نسبت ترقی پذیر معاشروں میں جہاں متعدد امور میں بالغ النظری اور مفاد عامہ کی فکر پر تعصب، سطحیت اور خودنمائی غالب ہے وہیں سنجیدہ فکر رکھنے والے خواتین و حضرات بھی اس اثر سے محفوظ نہیں۔ ہمارے وہ احباب جو معاشرے میں رائج غلط روایات اور چلن پر انگلی اٹھاتے ہیں ان کی اکثریت غلطی کی جڑ کی نشاندہی اور اس پر صائب رائے دینے کے بجائے اپنے اپنے تعصبات کی عینک سے اسے ”اجاگر“ کرتی نظر آتی ہے۔ اپنے موقف پر گویا ان کا اپنا یقین بھی متزلزل ہوتا ہے جبھی فکر انگیز اور منطقی دلائل کے بجائے تضحیک و تمسخر کا سہارا لیا جاتا ہے۔ جہاں مذہب پرست لبرل خیالات کا غیر منطقی انداز میں تمسخر اڑاتے ہیں وہیں لبرل خیالات رکھنے والے اپنے موقف کی قوت اجاگر کرنے کے بجائے مذہب کی تضحیک اہم سمجھتے ہیں جسے یہ آزادی فکر اور آزادی اظہار سے تعبیر کرتے ہیں تو وہیں اس پر مذہب پرست طبقہ کے ایسے ہی اظہار کو خود تنگ نظری سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس قضیہ میں خود نمائی اور خود ستائش کا عنصر منطق پر غالب نظر آتا ہے۔

Read more

شانگلہ گرلز سکول: ملالہ کی اپنی مٹی سے لازوال محبت کا ثبوت

معذرت چاہتا ہوں کہ ایک پرانا زخم کریدنے لگا ہوں۔ اس پرانے زخم سے اٹھے ایک تازہ خوشگوار جھونکے نے آج کا دن یادگار بنا دیا۔ مہاتما بدھا نے کہا تھا، ”میں نے پریشان یا ناخوش لوگوں کی ذہنی کیفیت کا بہ غور جائزہ لیا ہے اور ان کی اذیت میں پنہاں ایک تیز دھار خنجر پایا ہے۔ چونکہ وہ خود میں یہ تیز دھار خنجر دیکھ نہیں پاتے، اس لئے ان کے لئے اپنی تکلیف سے نمٹنا مشکل ہوتا ہے“ ۔ ایسے لوگ اپنے سینے میں پیوست خنجر کو دوسروں کے سینے میں گھونپ کر اپنی تکلیف کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایسے ہی ایک خنجر کا شکار ہوئی ایک چھوٹی سے بچی (جو اب ماشاءاللہ بڑی ہو چکی ہے ) کی ایک ولولہ انگیز کاوش نے آج میرا خون گرما دیا، آنکھوں میں امید کی روشنی بھر دی اور مستقبل امید کا دیا بن کر دل کے نہاں خانوں کو روشن کر گیا۔

Read more

ایک گھریلو سا خراج عقیدت اور ایک گھریلو سی نصیحت

لائلپور سے ایک بزرگ ریٹائرڈ سکول ٹیچر حلیمہ صاحبہ کی ای میل آئی کہ ”آپ سماجی اور خاندانی رویوں پر زیادہ بات کیا کریں کہ آپ جیسی، انسان پرست اور وسیع سوچ کی ہمارے معاشرے کو ضرورت ہے، اور معاشرے کی بنیاد تب ہی اچھی پڑے گی جب اچھے خاندان بنیں گے۔ ۔ ۔“

میں کچھ اور لکھ رہی تھی، ان کا حکم سر آنکھوں پر رکھا (ایک ان کی بزرگی، دوسرا میری جنم بھومی کا حوالہ اور ”کچھ اور“ کے ساتھ وہ سب بھی لکھنے کی کوشش کی جن کی ان خاتون نے فرمائش کی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پہلے ”کچھ اور“ پڑھ لیں!

Read more

کورونا وائرس: لاک ڈاؤن میں محبت اور ندامت، اپنی سابقہ محبت سے تعلق بحال کرنے کی کہانیاں

ہماری ایک تحریر ’لاک ڈاؤن میں میرے سابق محبوب کی جانب سے موصول ہونے والا معذرت نامہ‘ کے بعد ہمیں لوگوں نے اپنی اسی نوعیت کی کہانیاں بھیجی ہیں جو اب آپ بھی پڑھ سکتے ہیں۔

Read more

مسجد ،مندر، گرجا گھر، میوزیم

مسجد، مندر، گردوارہ سب اس وقت تک ہی آباد رہتے ہیں جب تک ان میں عبادت کرنے والے موجود ہوتے ہیں۔ اس کے بعد یہ ایسی املاک بن جاتی ہیں جن پر قبضہ کرنے کو ہر شخص للچاتا ہے۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

ایک صرف بات کر کے بھی بد چلن دوسرا ریپ کر کے بھی پاکیزہ؟

جسے میں اتنی دیر سے رافع سمجھ رہی تھی وہ باسط تھا۔ میرے منہ سے چیخ نکلنے ہی والی تھی کہ اس نے سختی سے میرے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا۔

”خبردار کسی کو کچھ بتایا تو۔ تیرا شوہر تو کچھ کر نہیں سکتا مجھ پہ الزام لگایا تو میں صاف مکر جاؤں گا۔ لچھن تیرے ایسے ہیں کہ سب ہی میری بات پہ یقین کریں گے تجھ پہ کوئی یقین نہیں کرے گا“ اس کی آنکھوں میں مجھے درندے کی سی سفاکیت جھلکتی ہوئی لگ رہی تھی۔

وہ تو چلا گیا میں چپکے چپکے سسکتی رہی۔ رافع تقریباً آدھا گھنٹے بعد آئے۔ آتے ہی والٹ وغیرہ نکال کے رکھنے لگے ساتھ تفصیل بتانے لگے کہ دیر کیوں لگ گئی۔ میری طرف ان کی توجہ تب گئی جب کافی دیر تک میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

Read more

کنجوس ابا میاں اور ان کی کنجوس تر اولاد: جھوٹی کہانی

بڑا داماد۔ صبح صبح کس منحوس نے فون کیا ہے۔

کس سے بات ہو رہی ہے۔

ہو گا کوئی تمہارے میکے سے۔ ارے بھائی بولو بھی؟

بڑی بیٹی۔ میرے ابا بیہوش ہو گئے ہیں۔ تین دن سے بخار تھا شاید کرونا ہے، رات ہسپتال لے کر گئے۔

بڑا داماد۔ اور تم کو کسی نے نہیں بتایا؟

یہ تمہارا خاندان ہے یا پاگل خانہ؟

ایک میسج ایک کال؟ ارے بھائی تمہارے بھائی جس قسم کے ہیں ہسپتال میں داخل کروا کے گھر آ کے سو گئے ہوں گے، جب صبح تک آبا مرے نہیں تو سوچا بتا ہی دیا جائے۔ جب تین دن سے بیمار تھے تو تمہیں پہلے کیوں نہیں بتایا؟ میں لے جاتا ہسپتال۔

Read more

مار، عورت کا اصل زیور؟

ہمارے ہاں سونے کی قیمت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے چو نکہ مرد حضرات اپنی خواتین کو سونے سے سجا تو نہیں سکتے، اس لئے وہ ان کو تشدد کا نشانہ بنا کر ان کے جسم، چہروں پر نیل کے نشانات سے دن بدن ان کو سجا لیتے ہیں۔ حق ہے بھئی مرد کا کہ وہ جیسے چاہے جس طرح چاہے اپنے گھر میں رہنے والی عورت کی خدمت سیوا کر سکتا ہے۔ کیو نکہ وہ ہی تو عورت کا اصل محافظ ہو تا ہے اور محافظ بہتر طریقے سے جانتا ہے کہ اسے اپنی چار دیواری میں رہنے والی عورت کو کیسے اس کی اصل ”جگہ“ پر رکھنا ہے۔

ہمارے گاؤں میں ایک صاحب اپنی گھر والی کو بہت مارتے تھے اتنا تشدد کرتے تھے کہ گھر والی بے چاری مار کھاتے کھاتے بے ہوش ہو جایا کر تی تھی۔ تب صاحب بہادر کو اپنی گھر والی پر ترس آ تا تھا اور وہ ان کی جان بخشی کر دیا کرتے تھے۔ ان کی بیٹی میرے ساتھ میری کلاس میں پڑھتی تھی تو جس دن اس کی ماں کو مار پڑتی تھی وہ بچی دوسرے دن کلاس میں سارا دن مسکراتے ہوئے رہتی تھی۔ مجھے اس کے رویے پر بڑی حیرت ہو تی تھی کہ ماں کو کل ہی اتنی مار پڑی ہے اور آج اس کی بیٹی خوش ہو رہی ہے۔

Read more

صدف زہرہ گھر بچانے کی کوشش میں موت کے گھاٹ اتر گئی

عورت مارچ، عورت مارچ، ان عورتوں کو کیا خبر مسائل کی۔ بس آزادی چاہیے، گھروں سے نکلنے کی، گھر میں کوئی ٹوکے نہ روکے، بس اپنی من مانیاں کرتی رہیں۔

صحیح تو کہتے ہیں لوگ، صدف نے بھی تو من مانی ہی کی۔ ایسے شوہر کو ایک آخری موقع دینے کی من مانی، جس کے بارے میں اسے سب خبر تھی۔ آئے روز گالیوں لاتوں مکوں سے تواضع ہونے سے لے کر، اس کے گھناؤنے کردار تک، خواتین کو بلیک میل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک بیٹی کا باپ ہوتے ہوئے بھی غیر خواتین سے تعلقات تک، صدف کو سب خبر تھی۔ ماں نے روکا، اب مت جاؤ، یہ شخص نہیں سدھرے گا۔ بہن نے بھی سمجھایا، لیکن اسے تو دھن سوار تھی، ماں کو جواب دیا، اماں آخری چانس دینے میں حرج نہیں اس نے عدہ کیا ہے اب وہ ایسا کوئی کام نہیں کرے گا، بیٹی کی ماں ہوں، کل کو کوئی میری بیٹی کو طعنہ نہ دے کہ ماں کو طلاق لینے کا بڑا شوق تھا۔

Read more

صدف زہرہ: چلو ایک قصہ اور تمام ہوا

وہ مرد ہے اس کو کوئی کچھ نہیں کہے گا۔ تم کہاں جاؤگی سوچا ہے؟
اس کو وقت دو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ آج کل تو کنواری لڑکیوں کو کوئی نہیں پوچھتا تم طلاق لوگی؟
ہنسی خوشی آتی ہو تو آؤ ورنہ مت آؤ۔
ہمارے خاندان میں بیٹیوں کے جنازے بھی میکے سے نہیں اٹھتے ہیں۔
سر کا سائیں تو سلامت ہے بس کافی ہے۔

Read more

ہندوستان، شادی اور جنسی تعلق

تحریر: صلاح الدین ہندوستان میں جنسی تعلقات کے بارے میں رویے بہت تبدیل ہوئے ہیں۔ ہندوستان میں شادی کے کچھ عرصے بعد زیادہ تر مردوں کی اپنی بیویوں میں جنسی دلچسپی کم ہوجاتی ہے۔ انگریزی میگزین ’انڈیا ٹوڈے‘ کی جانب سے کیے جانے والے ایک سروے کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ جسمانی خواہشات کے بارے میں لوگوں کے رویے میں کافی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ جائزے کے مطابق اس دور میں مرد اپنی بیویوں

Read more

وسیم اکرم پلس کا ان سوئنگ یارکر

شاباش بزدار صاحب شاباش۔ ۔ ۔ ہمارے بزدار صاحب نے ثابت کر دیا کہ وہ کپتان کا غلط انتخاب نہیں ہیں۔ سوئنگ شوئنگ کرنا جانتے ہیں، گلیاں اڑا سکتے ہیں۔ 35 سال کی تحقیقاتی صحافت کرنے والے تو نری جھک مارتے رہے ہیں۔ انہیں تونسہ شریف کے اس شریف النفس وزیراعلیٰ کی صلاحیتوں کا کیا پتہ؟ ان کی ذہانت، فطانت غیر مسلمہ صحیح لیکن ہے تو صحیح۔ پنجاب کے پسماندہ علاقہ سے کسی کا سیاست میں ماسٹر کرنا خالہ جی کے گھر کا باڑا نہیں کہ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا پھلانگ کر اندر آ جائے۔

Read more

جمال حق میں جلوے ہی جلوے ہیں

خود شناسی کا سفر سر سے شروع ہوتا ہے۔ وہ جو اقبال نے کہا۔

”اپنی خودی پہچان او غافل افغان“ اب اگر یہاں ”افغان“ کی جگہ ”انسان“ کا لفظ لکھ رکھئے تو جس پہچان کا سفر ہم شروع کریں گے وہی سفر خود شناسی کا سفر کہلائے گا۔ خود شناسی کو اگر عام فہم الفاظ میں بیان کیا جانا ہے تو اوپر لکھے گئے اقبال کے مصرعے سے بہتر تعریف شاید ممکن نہ ہو۔

Read more

راجا داہر کی محبت میں مقدس ہستیوں کو چارہ نہ بنائیں!

محمد بن قاسم دریائے سندھ کے کنارے کھڑا تھا اور اس کی نظریں دریا کے اس پار موجود ایک عظیم الشان قلعے پر گڑی ہوئی تھیں۔ یہ قلعہ اس کے لیے مزید فتوحات کی راہ میں مزاحم ایک بڑی رکاوٹ تھی۔ وہ جب بھی پیش قدمی کا ارادہ کرتا اس قلعے سے ان پر آگ کے گولوں اور پتھروں کی بارش شروع ہو جاتی۔ اس پار جانے کا راستہ بھی موجود نہیں تھا اور نہ ہی پل بنانے کا وقت اور موقع۔ آخرکار اس نے اپنے سپاہیوں کو جمع کیا اور ان سے خطاب کرنے کا فیصلہ کیا۔

تمام سپاہی میدان میں جمع ہو چکے تھے اور ان کے کانوں میں محمد بن قاسم کی ایمان افروز آواز گونج رہی تھی: میرے سپاہیو! مجھے اتنا بتاؤ کیا بحر اور برکا خدا ایک ہی ہے یا سمندر کا خدا الگ ہے اور خشکی کا خدا الگ؟ یہ کہہ کر وہ ان کے جواب کا انتظار کرنے لگا۔ ”دونوں کا خدا ایک ہی ہے امیر محترم!“ تمام سپاہیوں نے یک زبان ہو کر جواب دیا۔ یہ سن کر محمد بن قاسم بولا: اگر ایسی بات ہے تو دشمن پر ٹوٹ پڑو اور یہ یقین رکھو کہ جس خدا نے ہمیں خشکی میں ذلیل و رسوا نہ کیا وہ اس سمندر میں بھی ہمارے لیے راستے ہموار بنائے گا۔

Read more

شہر بانو اور شہر زاد!

اماں کا ڈنڈا سر پہ تھا اور بیٹی کی دہائیاں! کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ان دو محبت کرنے والیوں کو کیسے سمجھائیں کہ ہمارے بس میں کچھ نہیں! ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرمئی شام کا جھٹپٹا رات کی تاریکی میں ضم ہونے کو ہے، تبھی تو کہانیوں کی پٹاری سے کوئی دھیرے دھیرے سر اٹھا رہا ہے۔ وہ سب شامیں یاد آنے لگی ہیں جب ملتان کی فورٹ کالونی میں پانچ چھ سالہ ماہم گلی میں

Read more

ایف بی آئی نے انسٹاگرامر’ہشپپی’ کو دبئی سے ’اغوا‘ کیا: وکیل

نائجیریا کے 37 سالہ شہری رامون اولورنوا عباس کے وکیل نے الزام عائد کیا ہے کہ ایف بی آئی نے انھیں غیر قانونی طور پر دبئی سے گرفتار کیا ہے۔ انھیں وائر فراڈ کرنے کی منصوبہ بندی اور لاکھوں ڈالر لانڈرنگ کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔

Read more

تیل کی بڑھتی قیمتیں اور ہندوستان کی اسرائیل دوستی کے اثرات

وزیر اعظم نریندر مودی عوام کو سبز باغ دکھلانے میں بلا کی مہارت رکھتے ہیں۔ عوام ان کے وعدوں اور دعووں کی حقیقت سے بخوبی واقف ہوتی ہے مگر اس کے باوجود ان کی قیادت پر عوام کا اندھا اعتبار ان کی بے پناہ مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں بھی عوام ان کی قیادت کی تنقید کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ بی جے پی کی حریف جماعتوں کے لئے عوام کی یہی ’اندھ بھکتی‘ بڑا مسئلہ بن کر ابھر رہی ہے جس کا نقصان انہیں بہار اور بنگال کے انتخابات میں بھی ہوگا۔

Read more

قید – افسانہ

چار میلی دیواریں جن پہ کھرنڈ جمی تھی اور جگہ جگہ سے رنگ اترا ہوا تھا۔ اور فرش پر سے بھی کہیں کہیں سے سیمنٹ اکھڑا ہوا تھا جس میں سے عجیب و غریب حشرات نکل کر باہر آتے اور دیواروں پہ چڑھنے لگتے۔ چھت پہ پرانا سا پنکھا لگا تھا جس کا زنگ آلود لوہا اتنی خوفناک آواز پیدا کرتا کہ دماغ کی نس پھٹنے لگتی اور یوں بھی مجھے پنکھے کی ہوا سے اب کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی۔ میں بس اس قبر نما ویران اور چھوٹے سے کمرے سے جلد از جلد نکلنا چاہتی تھی۔ اس کمرے میں نہ تو کوئی کھڑکی تھی نہ ہی کوئی روشن دان۔ اور روشنی کی صورت میں ایک چھوٹا سا بلب تھا جس کی زرد، مدھم روشنی سے دن بہ دن میری بینائی جواب دے رہی تھی۔ اور دل میں ویرانیاں ڈیرے ڈال رہی تھیں۔ مجھے یہاں پڑے کتنے دن کتنی راتیں ہو گئی تھیں، کوئی اندازہ نہ تھا کیونکہ کمرے میں کوئی وال کلاک نہ تھی۔ اور کلاک تو کیا اس کمرے میں ضرورت کی کوئی بھی چیز نہ تھی۔ یہ کمرہ ہر قسم کی انسانی ضرورت فرنیچر، الیکٹرانک اشیاء، بستر اور پردوں سے خالی تھا۔ نہ شیلف تھی، نہ کتابیں، نہ قلم، نہ گھڑا، نہ پانی۔

Read more

لڑکیو، یوں محبوب کی تلاش میں تماشا نہ بنو

باز آ جاؤ کے زمانہ بڑا برا برباد چل رہا ہے، یہ دھوکہ یہ فریب یہ محبت کے جھوٹے کھیت کھلیان جہاں بیویوں کی سسکیوں سے محبت کی پیاس بجھانے کی ناکام کوششیں کی جاتی ہیں، کامیاب تو ایسے لوگ ہوتے ہیں نہیں کے وہ شرافت کے ”ش“ اور مہذب کے ”ب“ سے پاک ہوتے چلے آرہے ہوتے ہیں، یعنی کیا؟

ارے ایک بار آزمائش بار بار فرمائش۔ کیا کبھی سنا نہیں آپ لوگوں نے یعنی ایک لڑکی ”یا قربان“ ہوئی اگلی خود بخود پروان چڑھتی ہیں، ایک ہی مزاج ایک انداز، ایک ہی سوچ کی عکاس یہ لڑکیاں مردوں کو پیار کا پاگل پن سکھاتی ہیں اور خوب دل کے ننھے ننھے جھوٹ اور فریب کی آگ میں پرورش پاتے خیالات کو تسلی دیتی ہیں۔

Read more

شیخ منظور الٰہی کی نثر نگاری پر ایک نظر

چند ہفتے پہلے میں نے ”ایک ادیب بیوروکریٹ کی کچھ باتیں اور یادیں“ کے عنوان سے شیخ منظور الٰہی کے حوالے سے ایک مختصر مضمون قلم بند کیا تھا جو ”ہم سب“ میں شائع ہوا تھا۔ کچھ احباب نے رائے دی کہ اس حوالے سے کچھ مزید لکھا جائے چنانچہ یہ تحریر اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاہم یہ صرف ان کی نثر نگاری کا احاطہ کرتی ہے جو دنیائے ادب میں ان کا بنیادی حوالہ ہے۔

نثر نگاری اور انشا پردازی میں منظور الٰہی کو مضامین کی صنف ہی مرغوب ہے۔ انہوں نے متنوع موضوعات پر مضامین تحریر کیے جن میں، تاریخ، تحریک پاکستان، ذاتی زندگی کے شب و روز، سفری احوال، شخصیات، ملازمت کے نشیب و فراز۔ بیوروکریسی کی اندرونی کہانیاں، سیاسی مدوجزر، غرض یہ کہ موضوعات میں بہت تنوع ہے تاہم شخصیت نگاری ان کا مرغوب اور محبوب موضوع ہے۔

Read more

تاریخ بے رحمی سے خود کو دہراتی ہے

کہتے ہیں کہ the more things change the more they stay the same یعنی تبدیلی نظر کے دھوکے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ نئے حالات سے جڑی امیدیں صرف ظاہر تک ہی محدود ہوتی ہیں۔ ذرا کریدیں تو معلوم پڑتا ہے کہ یہ سب کبھی پہلے بھی ہو چکا ہے۔ یہی احساس چند روزقبل ریحان فضل کی بی بی سی ہندی کے لئے لکھی تحریر ’سراج الدولہ: وہ شخص جس کے وحشیانہ قتل کے بعد انڈیا میں انگریزوں نے 180

Read more

مندر سے آگے جہاں اور بھی ہیں

میری سہیلی ووہان سے لاہور آئی ہوئی تھی، ایک شام یونیورسٹی سے واپسی پر بس ٹریفک میں منجمد ہو گئی۔ کسی احتجاج کی بدولت ٹریفک سرتاپا تھمی تھی، اسی اثناء میں بس میں جین مندر کے ٹھہراؤ کا اعلان ہوا۔ میری سہیلی مجھ سے مخاطب ہو کر کہتی ہے کہ اس کے بھائی کی خواہش ہے کہ وقت نکال کر جین مندر دیکھنے کو آئے۔ میں دوست کے بھائی کی معصومانہ آرزو سن کر ششدر رہ گئی، بے اختیار منہ سے نکلا کون سا جین مندر کہاں کا جین مندر۔ جین مندر بس اسٹاپ ہونے کا مطلب ہر گز نہیں کہ حقیقت کی دنیا میں یہاں کوئی جین مندر بھی ہو۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد ملک بھر کی طرح غیر ہندوؤں کا جین مندر بھی اسی طرح مسمار کر دیا گیا جیسے بابری مسجد۔ میں تو کہتی ہوں کہ پاکستان ہندوستان کے مذہبی انتہا پسندوں کا منظم گٹھ جوڑ ہے، یہ مل کر کام کرتے ہیں۔ ان کا پتا کرائیں۔ نظریات بھی ایک سے ہیں نفرت، تشدد، عدم برداشت، حماقت، غیر معقولیت وغیرہ۔

Read more

استنبول میں عالمی کشمیر کانفرنس

چلیں آئیں، چلتے ہیں، ڈاکٹر خلیل طوقار نے کہا۔ محسن رمضان اس وقت زاہدہ خاتون شیروانیہ کے پیچیدہ شعروں کے ترجمے میں مصروف تھے۔ و ہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد معصوم صورت بنا کر میری طرف دیکھتے اور کسی شعر پر انگلی رکھ کر کہتے، استاد! بس، ایک نظر اس پر ڈال لیں۔ اس ہونہار نوجوان نے اتنی گہری شاعرہ کا اپنی زبان میں ایسا پتا مار کر ترجمہ کیا ہے کہ دل سے دعا نکلتی ہے۔ دوسری طرف

Read more

عبداللہ حسین اور اداس نسلوں کا خالی انباکس

وہ ایم اے اردو کے دن تھے، جب اس سے پہلی ملاقات ایک کتاب کے سرورق پر ہوئی۔ اس کی خاموش آنکھوں اور پر اعتماد چہرے نے مجھے بہت متاثر کیا۔ وہ چہرہ دوسرے ادیبوں سے کتنا الگ تھا۔ بھلا اردو کے تخلیق کاروں کے چہروں پر اتنا اعتماد اور غرور کہاں ہوتا ہے۔ ناول تو بعد میں پڑھا تھا لیکن اس ہالی وڈ کے چہرے والے ناول نگار کی شخصیت مجھے بہت بھا گئی تھی۔ مرد لکھاری محض ایک مرد کے طور پر بھی متاثر کر سکتا ہے۔ اسی لیے اس ہالی وڈ ہیرو میں جو غرور اور وقار تھا وہ اپنی طرف کھنچے چلے جانے پر مجبور کرتا تھا لیکن یہ کشش ایک خاص طرح کی دوری بھی پیدا کرتی تھی۔ لیکن بھلا ہو اس سوشل میڈیا کا جس نے کچھ پرانے رومانوی قسم کے احساسات کو یکسر ختم کر دیا ہے۔ اسے اب کیا بتاؤں میری جنریشن کی لغت میں اب دوری، شرماہٹ، ہجر و وصال سب ختم ہوچکے ہیں۔ اب فیس بک کی ایک ”کلک“ سے لوگ دوست بن جاتے ہیں۔ ویو wave کے ایک اشارے سے یا Hi سے فاصلے ختم ہو جاتے ہیں۔ تو ایک دن یونہی اس بلیک اینڈ وائٹ تصویر سے جھجکتے ہوئے میں نے اسے وہ ”کلک“ بھیج دیا۔ مجھے جواب کا یقین نہیں تھا۔ میں جانتی تھی کہ اسے نظر انداز کیا جائے گا لیکن ایسا ہوا نہیں۔ اس نے نہ صرف اسے قبول کیا بلکہ مجھے ایک پیغام لکھا۔

Read more

اسلام کے وسیع دامن میں ایک مندر کی گنجائش ہے

روز کہتا ہوں بھول جاؤں اسے اور روز یہ بات بھول جاتا ہوں۔ یقین کریں روزانہ کی بنیاد پہ دل ناتواں سے عزم صمیم کرتا ہوں کہ مذہبی بحث و مباحثہ سے پرہیز اختیار کی جائے مگر دماغ منتشر کو دل ناتواں سے خدا واسطے کا ازلی بیر ہے جو دل کے پختہ عزم کو بھی ایسے زمین بوس کرتا ہے جیسے ساون کی تیز بارش کچی دیوار کو گرا دیتی ہے۔ اور میں اسی کشمکش میں ایک بار پھر

Read more

وینس، ویرونا اور روم

وینس کے آبی شہر میں شام اترنے لگی تھی۔ میں نے سینٹ مارکو کی سوینئر شاپ سے ایک عدد ماسک بطور نشانی خریدا۔ گھاٹ پر لگی واٹربس پر سوار ہوگیا۔ گرینڈ کنال سے ادھ گھنٹہ میں سانتا لوسیا ٹرین اسٹیشن پہنچ گیا۔ کہتے ہیں کہ دنیا کے تمام راستے روم جاتے ہیں۔ گزشتہ سال میں نے روم کے تریوی فوارے (Trevi Fountain) کے شفاف پانی میں سکہ ڈالتے ہوئے اپنے اللہ سے روم دوبارہ آنے کی دعا مانگی تھی۔ یہ

Read more

ڈیٹ نائٹ

”ہاتھ چھوڑ دو ناں کوئی دیکھے گا“ وہ منمنائی، جواباً ایک ہلکے سے قہقہے کے ساتھ اس نے اپنی گرفت اور بھی مضبوط کر دی۔ اس حرکت پہ سٹپٹا کے اسے دیکھا تو وہ بولا ”کوئی پہلی بار آئی ہو میرے ساتھ کیا؟ شرمانا کیسا؟ یہ شام انجوائے کرو یوں بھی بڑے دنوں بعد آتی ہے ہماری یہ ملاقات“ اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ ”ہاں اور اس ایک ملاقات کے لیے پورا مہینہ انتظار کرنا پڑتا ہے، کبھی کبھی تو وقت جیسے ٹھہر ہی جاتا ہے بچوں کی دیکھ بھال، ساس کی خدمت اور گھر کے کام۔

Read more

ہیروشیما: اس دشت میں اک شہر تھا

ہیروشیما بہت خوبصورت شہر ہے۔ عمارتیں شاندار اور سڑکیں جاپانیوں کے دل کی طرح کشادہ ہیں۔ شہر دریائے اوتا کے ڈیلٹا میں واقع ہے جس سے سات شاخیں نکلتی ہیں جو اس شہر کے اندر سے گزرتی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے چھ جزیرے بناتی ہوئی اور ان جزیروں پر ہیروشیما کا شہر آباد ہے۔ دریاؤں اور ندی نالوں کی وجہ سے اس شہر کو بے شمار پلوں کے ساتھ آپس میں ملایا گیا ہے۔ سات دریاؤں اور چھ جزیروں پر مشتمل

Read more

بچہ گود لینا

بے اولاد جوڑے اگر شدید تمنا رکھتے ہوئے بھی اولاد سے محروم ہوں اور سارے علاج، دعایں اور ٹوٹکے بے کار ہو چکے ہوں وقت کی ٹک ٹک آگے ہی بڑھتی جائے تو یہ ایک گہرا دکھ ہے۔ ایسے میں کوئی بچہ گود لینے کا خیال آتا ہے۔ لیکن کیا بچہ گود لینا ایک آسان سا کام ہے؟ والدین نے پیپر سائن کیے، چند ماہ انتظار کیا اور ایک ہنستا کھیلتا بچہ ان کی گود میں آ گیا۔ سونا آنگن

Read more

’میں سب سے بڑے ایڈونچر کے لیے تیار ہوں‘ – مستنصر حسین تارڑ کا انٹرویو

کچھ خواتین و حضرات چہل قدمی کر رہے تھے، کچھ بھاگ رہے تھے اور کچھ موٹی توندوں والے بابو ٹائپ حضرات وہاں لگے بینچوں پر سویرے سویرے ملکی سیاست پر تبصرے کرنے میں مصروف تھے۔

لیکن ماڈل ٹاؤن پارک کے اس جاگنگ ٹریک پر ہماری نظریں صرف مستنصر حسین تارڑ صاحب کو تلاش کر رہی تھیں، سچ پوچھیے تو میں اپنے بچپن کے ’چاچا جی‘ کی تلاش میں تھا، جن کی آواز کے ساتھ ہماری صبح ہوتی تھی۔

آنکھوں کی چمک آج بھی ویسی ہی تھی، جیسی پچیس برس پہلے ہوا کرتی تھی، لیکن بڑھاپے کی چار دیواری میں گھری ان آنکھوں میں ہلکی سرخ ڈوریاں ماضی کی ان گنت جاگتی راتوں کا پتا دے رہی تھیں۔ ’پانامہ ہیٹ‘ کے نیچے سے سفید بال چمک رہے تھے، نیلے ٹراؤزر کے اوپر کیسری رنگ کی فلیس کی شرٹ، اپر نارتھ فیس کا تھا، پاؤں میں جاگنگ شوز اور گلے میں سرمئی رنگ کا مفلر۔

Read more

ایک عورت پانچ عاشق – ہندی لوک کہانی

تاجروں کے خاندان کی ایک بیٹی کی شادی ایک ایسے مرد سے ہوئی جو سیر و سیاحت کا بہت شوقین تھا۔ ایک مرتبہ وہ سفر پر روانہ ہوا اور طویل عرصہ تک اس کی کوئی خبر نہ آئی۔ اس کی بیوی انتظار اور احساس تنہائی کے ہاتھوں تاجروں کے ایک نوجوان خوبرو بیٹے کی محبت میں گرفتار ہو گئی۔ دونوں ایک دوسرے کی محبت کے اسیر تھے ایک دن اس نوجوان کا کسی آدمی سے جھگڑا ہو گیا۔ اس آدمی نے پولیس پر رپورٹ لکھوائی۔ سربراہ پولیس نے اس نوجوان کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔ جب یہ خبر تاجر کی بیوی یعنی اس نوجوان کی محبوبہ تک پہنچی تو اس نے اپنے سب سے قیمتی کپڑے زیب تن کیے اور غصے میں آگ بگولا سربراہ پولیس کی خدمت میں پہنچی پہلے وہ آداب بجا لائی اور پھر ایک تحریری رنجش پیش کی کی۔ درج تھا :

”جس شخص کو قید میں ڈالا گیا ہے وہ میرا عزیز بھائی ہے وہ بے گناہ ہے اس کے خلاف جھوٹی شہادت پیش کی گئی ہے اور اسے ناجائز طریقے سے مقید کیا گیا ہے وہ میرے نان نفقے کا ذمہ دار ہے اور اس کے بغیر میں لاوارث ہوں اس لئے میں یہ درخواست کرتی ہوں کہ ا سے جلد سے جلد رہا کیا جائے۔“

Read more

ہم امن پسند اور مندر کی گھنٹی

ویسے تو ہم امن پسند اور روشن خیال لوگ ہیں۔ جن کی ہاتھ اور زبان سے کسی کو تکلیف نہیں پہنچ سکتی۔ جو خود سے تعداد میں کم لوگوں کا محافظ بھی خود کو مانتے ہیں۔ ما سوائے اس کے کہ انہیں جینے، سانس لینے، اپنی مرضی سے شادی کرنے، کمیونٹی میں گھر بنانے دینے کے انہیں ہر طرح کے حقوق دیتے ہیں۔ کیونکہ ہم اچھے اور امن پسند لوگ ہیں۔

ہاں جہاں ہم اقلیت میں ہیں وہاں ہمیں ہر طرح کے بنیادی حقوق اپنی مرضی سے سڑک پہ بھی عبادت کرنے کی آزادی ہونا چاہیے۔ ہم اڑتے جہاز میں بھی صف باندھ لیتے ہیں۔ چلتی ٹریفک کے بیچ و بیچ نیت باندھ کے کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہاں پہ موجود اکثریت جو دھتکاری ہوئی اقوام خیال کی جاتی ہیں ہمارے اس شخصی آزادی پہ چوں تک نہیں کرتیں بلکہ حیرت سے دیکھ کے انتظار کرتی ہیں کہ کب یہ اپنی عبادت سے فرصت پائیں اور کب وہ اپنے کام کریں۔

Read more

عہد حاضر کا استاد اور پروفیسر وارث میر

” کسی بھی قوم کی ترقی و تنزلی میں اس کے اہل فکر و دانش کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یہ طبقہ جس قدر عصری تقاضوں کو سمجھنے اور تاریک راہوں میں روشنی کے چراغ جلانے والا ہو، اسی قدر تیزی سے وہ قوم ترقی کی منازل طے کرتی ہے لیکن جس قوم کا دانشور طبقہ اپنے کردار سے غافل ہو جائے یا اس کی ادائیگی سے پہلو تہی کرے، اس قوم کے زوال کے امکانات بھی اسی قدر بڑھ جاتے ہیں“

یہ الفاظ صحافت کے عظیم استاد اور حریت فکر کے مجاہد پروفیسر وارث میر کے ایک مضمون کے ہیں جو عہد حاضر کے اساتذہ اور اہل فکر و دانش کے لیے سنہری حروف کا درجہ رکھتے ہیں۔ آج کے دن نو جولائی کو تینتیس برس قبل وفات پا جانے والے صحافت کے عظیم استاد پروفیسر وارث میر کی فکر انگیز تحریریں، عملی جدوجہد اور بلند حوصلہ و کردار عہد حاضر کے اساتذہ کے لیے مشعل راہ ہیں۔ پروفیسر وارث میر نے ضیا کی بدترین آمریت کے دوران پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے استاد ہونے کے باوجود حریت فکر کا علم بلند رکھا اور سیاسی، سماجی و مذہبی مسائل پر اپنی تحریروں کے ذریعے فکری رہنمائی کی، چالیس سال قبل لکھی گئی آزادی اظہار رائے، خواتین کے حقوق، فوج کے سیاسی کردار، جمہوریت اور آئین کی بالادستی پر ان کی فکر انگیز تحریریں آج بھی تازہ محسوس ہوتی ہیں۔

Read more

کمال کے کملیشور : ایسا اردو دوست کہاں ملے گا

مجھے سب کچھ یاد ہے۔ 2 فروری 2007، صبح 10 بجے پاکستان سے اردو کے مشہور نقاد صبا اکرام کا فون تھا۔ ”اردو کہانی یتیم ہوگئی۔ کملیشور کے جانے کا جتنا دکھ آپ ہندستانیوں کو ہوگا، ممکن ہے شاید آپ اتفاق نہ کریں، ہمارے لیے بھی یہ کسی اپنے کو کھونے جیسا صدمہ ہے۔ جان لینے والا۔ صبا بولتے رہے لیکن میرے کانوں میں صرف ایک ہی جملے کی بازگشت سنائی دے رہی تھی۔ ’اردو کہانی یتیم ہوگئی‘ لیکن اردو

Read more

پونڈی

جو لوگ اس ترکیب اور اس کے ’ترکیب استعمال‘ سے ناواقف ہیں ان پرافسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ ویسے ان سے تعزیت بھی بنتی ہے کہ بقول شخصے ”افسوس ان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے“ ۔ اس ’اصطلاح‘ سے کماحقہ آگاہی کے لیے کسی ڈکشنری کا سہارا مت لیں بلکہ ایسا کریں کہ پہلی فرصت میں کسی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیں۔ ہمیں بھی کافی عرصہ تک پطرس کا ’ٹھنڈی سڑک کی سیرکو نکل گئے‘ سمجھ نہ آتا

Read more

ماسڑ نورعالم

مارچ 2016 کی بات ہے میلبورن یونیورسٹی میں سکالر شپ پر داخلہ ہو گیا تھا اور پاکستان سے کافی طلبا طالبات یہاں پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ انہی سٹوڈنٹس میں ایک ریاض علی بھی تھا، کچھ لو گوں نے یونیورسٹی کی فراہم کردہ رہائش حاصل کر لی تھی اور کچھ نے دوستوں اور رشتہ داروں کے پاس رہنا مناسب سمجھا۔ میں نے بھی یونیورسٹی کی فراہم کردہ رہائش لے لی اور وہاں پر اپنا کمرہ سیٹ کر لیا۔ ریاض کا

Read more

معاشرتی ناہمواریاں

زمانہ قدیم سے انسان کا یہ وتیرہ رہا کہ وہ انواع و اقسام کے تقابلی جائزہ و فکر اور نت نئی ایجادات کا تمنائی رہا اس کو انسانی جبلت کہا جائے یا وقت کہ ساتھ ساتھ آنے والی معاشرتی تبدیلیوں کے نتیجے میں اجاگر ہونے والی سوچ انسان ہر دور میں ہی جدت پسندی اور تحقیق سے عملاً وابستہ رہا۔

اس اختراعی سفر نے انسانی زندگی کو بہت سی آسانیاں بھی فراہم کیں اور اسی ترقی کے نتیجہ میں انسان بے شمار معاشرتی ناہمواریوں کا سامنا بھی کر رہا ہے۔ قرہ ارض پر بسنے والے بنی نوح انسان اپنی ترقی کی رفتار کو بڑھانے میں مصروف اس سوچ سے بے خبر ہوتے گئے کہ ترقی کی اس دوڑ میں انسان کی اپنی ایجادات اس کی تباہی کا سبب بن سکتی ہیں۔ پتھروں کو دور سے شروع ہونے والا سفر تیغ۔ تلوار۔ نیزہ۔ بندوق توپ سے گزر کر آج ایٹمی توانائی سے تیار ہونے والے انسان کش مہلک ہتھیاروں تک آن پہنچا۔

Read more

مان لیں، ستار ایدھی ہم میں سے نہیں تھا

وہ جگہ، جہاں لوگ عمل سے دور، صرف باتوں کے عادی ہوں۔ وہ جگہ، جہاں خود نمائی، روزمرہ زندگی کا چلن ہو۔ وہ جگہ جہاں منافقت پر فخر کیا جاتا ہو۔ وہ جگہ جہاں، چیزوں ہی نہیں، رشتوں میں بھی ملاوٹ کی جاتی ہو۔ وہ جگہ ڈھٹائی سے جھوٹ بولا جاتا ہو۔ وہ جگہ جہاں دوسروں کے مسائل سے لاتعلق رہنے کا رواج ہو۔ وہ جگہ جہاں دکھاوے کی نیکی اور جتانے کے لئے کی گئی، بھلائی کا ڈھول پیٹا جاتا ہو۔ وہ جگہ جہاں والدین کی طرف سے بچوں کو ، حرص و ہوس کی تعلیم دی جاتی ہو۔ وہ جگہ جہاں دیانتداری، حماقت اور چاپلوسی، زمانہ شناسی قرار دی جاتی ہو۔ وہ جگہ جہاں انسانوں سے محبت اور مروت نہ رکھنے کے بہانے ڈھونڈنے جاتے ہوں۔

یہ کیسے یقین کر لیا جائے کہ ایک ایسا شخص بھی آیا تھا۔

Read more

عبدالستار ایدھی اور کراچی کے ایک ’لاوارث بچے‘ کی کہانی جو اب خود چار بچیوں کا باپ ہے

معروف سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کی آج چوتھی برسی منائی جا رہی ہے۔ ایدھی سینٹر کراچی میں پل کر جوان ہونے والے بدر نامی نوجوان آج خود چار بچوں کے باپ ہیں مگر ایدھی صاحب کی یاد آج بھی ان کے دل میں سمائی ہے۔

Read more

عورت جذباتی طور پر مرد سے زیادہ طاقتور ہے

گزشتہ دنوں ڈاکٹر سارہ نقوی کا مضمون پڑھا اور پھر اسی موضوع پر ڈاکٹر سہیل کے ایک مضمون میں بھی اظہار خیال کیا گیا کہ خواتین جذباتی طور پر مرد سے زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر سارہ نقوی نے خواتین کی بے چارگی اور بے بسی پر کافی سیر حاصل گفتگو کی اور بتایا کہ معاشرتی تار و پود میں خواتین کو کیا درجہ حاصل ہے اور کیا ہونا چاہیے۔ دونوں مضامین پڑھ کر اس بات پر خوشی ہوئی کہ

Read more

کشمیر کو بچا لو: جبار مرزا کا کشمیری نوحہ

کون با ذوق قاری ہو گا جو جبار مرزا کو نہیں جانتا۔ آپ انہیں دنیائے شعر و ادب اور تحقیقی صحافت کے امام کا درجہ سکتے ہیں۔ اعلیٰ پایہ کے نثر نگا ر سینئر صحافی، محقق، مورخ، سوانح نویس، مدیر اور کالم نگار یہ آپ کی شخصیت کے مستند حوالے ہیں۔ ” کشمیر کو بچا لو“ جبار مرزا کی 21 ویں اہم اور تاریخی دستاویز پر مشتمل کتاب ہے۔ جو حالیہ کرونائی عہد میں لکھی گئی ہے۔ کشمیر جبار مرزا

Read more

ایک بے ہودہ موضوع اور دو سینئر تجزیہ کاروں کا تذکرہ!

عباس ناصر صاحب ڈان اخبار کے سابق ایڈیٹر اور آج کل اسی اخبار میں ہفتہ وار مضمون لکھتے ہیں۔ اعزاز سید بھی روز نامہ جنگ میں لکھتے ہیں۔ میں ان دونوں نامورتجزیہ کاروں کو اکثر دلچسپی سے پڑھتا ہوں۔ چار ہزار سال قبل وادی سندھ میں آباد قدیم باشندوں کے مذہب کے بارے میں کوئی خاص معلومات نہیں ہیں، تاہم ہڑپہ کے مقام سے ایک ایسی مہر برآمد ہوئی ہے جس پر ایک برہنہ دیوی کی تصویر ہے جس کے

Read more

حیرتوں کو للکارنا ضروری ہے

نوبل انعام یافتہ ترک مصنف اورہان پاموک کی ایک کتاب ہے، اے سٹرینگنس ان مائی مائنڈ۔ اکثر ہمارے دماغ میں ایک اجنبی ہوتا ہے، جس سے ہم واقف نہیں ہوتے۔ جو شرارتیں کرتا ہے اور جو ہمارے ساتھ ہی زندگی بسر کرتا ہے۔ بعض اوقات وہ اتنا مختلف ہوتا ہے کہ دماغ میں رہنے کے باوجود ہم اس کی شناخت نہیں کر پاتے۔ ’برف‘ ، ’میرا نام ہے کہ سرخ‘ اور ’دی بلیک بک‘ جیسی کتابوں کا مصنف بار بار

Read more

رشید مصباح نہیں مرے

” جناب صدر! رشید مصباح کے بارے آپ میں سے کوئی کچھ نہیں جانتا، صرف اور صرف میں جانتا ہوں۔“ جی ہاں! عبدالرشید مصباح اگر زندہ ہوتے تو اپنے ریفرنس کا آغاز انہی الفاظ سے کرتے۔ ۔ ۔ لیکن میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہم کیوں رشید مصباح کا ریفرنس کروا رہے ہیں۔ ؟ کیا وہ واقعی مر گئے ہیں۔ ۔ ۔ ؟ جناب صدر! آپ کی اجازت سے کہنا چاہوں گا کہ ہم مصباح صاحب کے عہد میں ہیں،

Read more

کیا آپ رومانوی دانائی سے واقف ہیں؟

راؤ طاہر قیوم کا خط پیارے طبیب، آداب میرا نام راؤطاہرقیوم ہے اور پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل ہوں اور میاں چنوں میں پریکٹس کرتا ہوں۔ گزشتہ سال جب آپ پاکستان تشریف لائے تھے تو آپ کے ساتھ بالمشافہ گفتگو کا شرف حاصل ہوا تھا۔ آپ کی پیاری بہن عنبرین کوثر کے گھر پر عبدالستار اور زبیر لودھی کے ساتھ آپ کی پیاری پیاری گفتگو سننے کا اتفاق ہوا تھا۔ عبدالستار اور زبیر لودھی نے تو آپ کی باتوں

Read more

بارہ مولا کا بشیر احمد خان اور جامشورو کا گل محمد چھچھر

سات مارچ 1975 بروز جمعہ کی شام مرنے والی میری دادی غلام فاطمہ کشمیر کے کسی نامعلوم قصبے سے آنے والی یتیم بچی تھی جو لدھیانہ میں دادا کی موجودگی میں باپ کی موت کے باعث جائیداد سے محروم ہونے والے یتیم و یسیر پنجابی راجپوت محمد علی خان سے 1911 میں بیاہی گئی۔ مجھے تفصیل ٹھیک سے معلوم نہیں کہ سفید پوش گھرانوں میں ماضی چھپانے کی ثقافت ہوتی ہے۔ غربت، ذلت اور بے بسی کے سلسلہ وار المیے

Read more

سلطانہ ڈاکو اور برصغیر کے چند مشہور ’لٹیروں‘ کی داستانِ حیات

سلطانہ ہر ڈاکے کی منصوبہ بندی بڑی احتیاط کے ساتھ کرتا اور ہمیشہ کامیاب لوٹتا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ بڑے نڈر طریقے سے ڈاکہ ڈالتا تھا۔ وہ خون بہانے سے حتیٰ المقدور گریز کرتا لیکن اگر کوئی شکار مزاحمت کرتا تو وہ ان کو قتل کرنے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔

Read more

نام وفا کا قرض ادا بھی نہ کر سکے

دنیا کی ہر ثقافت میں قصے اور کہانیاں سنا کر بچوں کو اخلاقی درس دینے کا طریقہ صدیوں سے استعمال ہوتا آ رہا ہے۔ اس مقصد کے لئے خصوصی طور پر ترتیب دی گئی کہانیاں انہیں سنائی اور پڑھائی جاتی ہیں اور کہانی کے اختتام پر انہیں اس قصے، کہانی میں پوشیدہ اخلاقی درس کو دو چار جملوں میں بیان کیا جاتا ہے۔ اگر ایسی کہانیوں کو اچھے انداز سے سنایا اور پڑھایا جائے تو بچے کہانی بھول سکتے ہیں

Read more

معاف کیجیے گا میں ایک انسان ہوں

دیکھیں جی بات سیدھی سی ہے ریاست کے کہنے پر آپ نے جو خواب دیکھ رکھے ہیں وہ میں نہیں دیکھتا۔ آپ شاید پورا برصغیر فتح کرنے کے چکر ہوں لیکن میں نہیں ہوں اور ہو سکتا ہے آپ اس یقین کامل سے ہوں کہ صبح کا ناشتہ ممبئی، دہلی یا پھر امرتسر میں کریں گے اور فلمی اداکاروں کے ساتھ سیلفیاں لے گے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں میں ایسا سوچتا بھی نہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے آپ سمجھتے ہوں کہ دنیا آپ کی جاسوسی کر رہی ہے جب کہ آپ کی جیب میں ایک دھیلا تک نہیں اور میرا ماننا ہے دنیا اتنی فارغ نہیں ہے۔

آپ اپنے مذہب کو برتر سمجھتے ہوں گے اور چاہتے ہوں گے کہ دوسرے اس مذہب کو تسلیم کر لیں یا پھر آپ اپنا مذہب کسی پر زبردستی مسلط کرنے کے حق میں ہوں گے لیکن میں ایسا ہرگز نہیں چاہتا اور نہ کبھی چاہوں گا۔ عین ممکن ہے آپ ثواب کی نیت سے یہ سب کر رہے ہوں معاف کیجیے گا ایسے ثواب کمانے کی میری نیت نہیں ہے۔

Read more

دسترخوان سے اٹھ کر پانی کون لائے گا، مرد یا عورت، سوشل میڈیا پر بحث

بعض جنوبی ایشیائی گھرانوں میں مردوں اور عورتوں کا ایک مخصوص کردار تصور کیا جاتا ہے جسے معاشرے میں لوگ بغیر سوال کیے نبھاتے آ رہے ہیں۔ کچھ لوگ اس روایت کو چیلنج کرتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق یہ طور طریقے صنفی برابری کے منافی ہیں۔

Read more

تبدیلی کب آئے گی؟

ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمیں ایسی زندگی نصیب ہو جس میں خوف و حزن نہ ہو۔ خوف کی نسبت خارجی حالات سے ہے اور حزن دل کے بجھنے سے عبارت ہے۔ ہمیں اپنے جنت ارضی کے خواب کی تعبیر اس لیے نہیں ملتی کیونکہ ہمارے اندر حسد، لالچ، غصہ اور انتقام جیسے منفی جذبات کی آتش سلگ رہی ہوتی ہے اور ہمارے ماحول میں خود پرست مقتدر قوتوں نے وسائل کا رخ الناس سے موڑ کر اپنی جانب منتقل کر کے ہماری بے چینی میں اضافہ کر دیا ہوتا ہے۔

Read more

فریڈا کاہلو: رنگوں کے جھولے میں بیٹھ کر آسمان چھونے والی عورت

پولیو کے ننھے وائرس سے ہونے والی جسمانی معذوری سے ابھی تن من سنبھلا نہ ہو کہ ٹریفک حادثہ جسم کو ادھیڑ ڈالے، خستہ حال رگ و ریشہ اور سوختہ بدن، کیسے جئیں اب؟ اور اس نے جواب ڈھونڈھ لیا! "اماں، چلیے فریڈا کوہلو کی تصاویر کی نمائش پہ چلتے ہیں” "ضرور، مجھے فریدہ کاہلوں سے ملنا ہے، نام تو بالکل پاکستانی ہے” ہم شرارت سے مسکرائے، "کیا کہہ رہی ہیں، کون فریدہ کاہلوں؟” "تم نہیں سمجھو گی، تم کیا

Read more

دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو اس کا آخری سلام

کئی نامور ہستیاں ان گنہگار آنکھوں نے موت کے ہاتھوں ہارتی دیکھی ہیں۔ ہماری اپنی آنکھوں نے کیا کیا نہ غم جاناں و غم دوراں دیکھے ہوں گے مگر جتنی عزت، شہرت، عظمت اور وقار ”دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں“ والے کے حصے میں آیا ہے چشم فلک نے شاذ ہی ہمارے عصر میں دیکھا ہو گا۔ طارق عزیز ایک شخصیت نہیں بلکہ وہ ایک عہد تھا۔ ہم نے خلق کو منیر نیازی ازبر ہوتے دیکھا جس کے مرنے پر چنگ

Read more

کراچی، محرم اور طالب جوہری

یہ اس زمانے کی بات ہے جب بچپن نے آنکھیں موند کر ہمیں لڑکپن کے سپرد کیا تھا۔ کراچی میں آمد کے بعد جب پہلی مرتبہ محرم وارد ہوا تو پتہ چلا کہ شام پانچ بجے نشتر پارک میں مجلس ہو گی۔ دوبئی سے آئے ہوئے لڑکے کے لئے مجلس کا وقت اور جگہ دونوں حیرت کا باعث تھے۔ بھلا یہ کون سا وقت ہے مجلس کا اور وہ بھی پارک میں۔ ۔ ! یہ بھی شنید تھی کہ طالب جوھری

Read more

پاکستانی عورت کی جہد مسلسل

اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک ایسا مسلم ملک ہے جہاں مذہب نظریہ اور دستور میں تو موجود ہے، لیکن عملی زندگی میں ذاتی عبادات اور گناہ اور ثواب کے بھنور میں کہیں کھو سا گیا ہے۔ بات جب انسانی حقوق کی ہو، (خاص طور پر خواتین کے حقوق کی) تو اس حوالے سے نام نہاد مذہبی پیشوا ان حقوق کی تشریح صرف اور صرف اپنے ذاتی مفادات کے لئے کرتے ہیں۔ یہ بات مایوس کن ہے کہ آزادی کے 72 سال

Read more

Transsexuality (شعوری جنسیت)

ناچ تیز ہوتا جا رہا تھا۔ پوہ کی بھیگی رات دم آخریں پر پہنچ چکی تھی۔ ستاروں کے قافلے چلتے چلتے تھک گئے تھے اور ڈوبنے سے پہلے ہی بادلوں میں چھپ کر مدھم ہو رہے تھے۔ جوانی کا الاؤ بھڑک رہا تھا۔ دونوں کنچنیاں پسینے سی بھیگی ہوئی تھیں۔ چہرے لال سرخ اورجسم تپایا ہوا کندن بن چکے تھے۔ جوں جوں شعلے ٹوٹ رہے تھے، روپ سوا ہوا جا رہا تھا۔ یوں لگتا کہ گھٹائیں امڈ آئیں، بجلیاں کوند

Read more

وقت بے درد مسیحا ہے

میں اس بات پر بالکل بھی راضی نہیں تھا کہ اس سے ملوں کیوں کہ اس وقت میں بالکل بھی نہیں چاہتا تھا کہ میری بیٹی اس سے شادی کرے۔ میرا خیال تھا کہ ایک دفعہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرلے پھر عملی زندگی میں کسی عملی قسم کے آدمی کوپسند کرکے اس سے شادی کرے۔ یہ تو مجھے اندازہ تھا کہ وہ کسی بھی ایسے شخص سے شادی نہیں کرے گی جو صرف میری پسند کا ہو۔ ارینج میرج

Read more

کیا آٹھواں آسمان بھی ہے؟

ویسے تو آسمان سات ہیں لیکن جب سے غلام محمد قاصر نے اپنے کلام کا نام ”آٹھواں آسمان بھی نیلا ہے“ رکھا، اسی دن سے آسمانوں سے متعلق کا نظریہ بھی واضح ہوا ہے کہ آسمان اور زمین کا رشتہ اور یہ اٹوٹ حیثیت بہت ہی پرانی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہم سنتے آئیے ہیں کہ: کرو مہربانی تم اہل زمیں پر خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر اور یہ اسی حدیث کا عکس ہے کہ ”اگر کسی

Read more

علی سفیان آفاقی کی کتاب "فلمی الف لیلیٰ”

بچپن سے ہی مجھ کو فلم سے جنون کی حد تکا لگاؤ تھا، نا صرف فلم دیکھنا بلکہ فلم کے بارے پڑھنا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا، اسی لیے فیملی میگزین یا اخبار جہاں اگر پڑھتا تو شوبز والے سیکشن سے ہی شروعات کرتا (اکثر وہیں تک ہی محدود رہتا ) ۔ یہ2012 کی بات ہے جب پہلی دفعہ میں نے فمیلی میگزین میں علی سفیان آفاقی کی ”فلمی الف لیلی“ کے نام سے آپ بیتی پڑھی تو اسی میں ہی

Read more

عدلیہ کو تیس مار خان بننا ہو گا

12 اکتوبر 1999 کو ایک آمر نے شب خون مارا، آئین کو معطل کیا اور عبوری حکم نامہ جاری کیا، منصفوں نے حلف اٹھایا اور ”نظریہ ضرورت“ کے تحت غیر قانونی قبضے کوجائز قرار دیا۔ قاضی القضاہ نے بعد ازاں اس فیصلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے ”ارشاد“ کیا: ”کیا کوئی ایسا“ تیس مار خان ”ہو سکتا تھا جو بیک جنبش قلم مارشل لاءکو غیر قانونی قرار دے دیتا اور کیا یہ توقع ہو سکتی تھی کہ جنرل مشرف سمیت

Read more

آن لائن نظام تعلیم اور ایکولوجیکل سویلائزیشن

میں نے جب سے آن لائن کلاس کا آغاز کیا ہے اور معیشت اکیڈمی اسکول آف جرنلزم میں مدارس اسلامیہ کے طلبہ کو پڑھانے کی کوشش کی ہے مجھے شدت سے یہ احساس ہوا ہے کہ ہندوستان میں آن لائن نظام تعلیم خصوصاً مسلمانوں کے لئے انتہائی مشکل امر ہے۔ جو طلبہ گزشتہ برس آف لائن پڑھ چکے ہیں وہ بھی اس بات پر شاکی نظر آرہے ہیں کہ آن لائن میں وہ کیفیت پیدا نہیں ہو پارہی ہے جو

Read more

کورونا وائرس۔۔۔ تعلیمی ادارے ابھی نہ کھولے جائیں

ہر گزرتے دن کے ساتھ کوروناوائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اس وقت پوری دنیا میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ آٹھ لاکھ سے بھی تجاوز کرچکی ہے چاہے ترقی پذیر ممالک ہوں یا ترقی و تہذیت یافتہ، تمام تر کوششوں کے باوجود اس وبا پر قابوپانے میں تاحال ناکام ہیں اور پوری دنیا دوراہے پر کھڑی ایک عجیب مخمصے کا شکار ہے خصوصاً غریب ممالک کے لیے یہ لمحات کسی بہت

Read more

سید منور حسن روشنی کا مینار

اگچہ سید منور حسن بیمار تھے، مگر یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ رب کے حضور پیش ہونے والے ہیں۔ موت برحق ہے اور سب نے ہی اس عارضی دنیا سے حقیقی دنیا کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ سید منور حسن بھی وہیں چلے گئے جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آتا۔ لیکن کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی موجودگی اور غیر موجودگی دونوں کا احساس غالب رہتا ہے۔ جو لوگ بھی سید منور حسن کو جانتے ہیں

Read more

ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرانے کی المناک داستان

ہم آپ کو جنگ عظیم دوئم کی وہ ہولناک داستان سنانے جا رہے ہیں جس میں امریکا نے جاپان کے دو شہروں ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹمی بم گرائے تھے۔ ۔ ۔ ان ایٹمی حملوں کی وجہ سے لاکھوں انسان مارے گئے تھے۔ ۔ ۔ امریکا نے جنگ عظیم دوئم کے دوران جاپان کے شہر ہیرو شیما پر چھ اگست 1945 اور ناگاساکی پر 9 اگست 1945 کو ایٹمی بم گرائے تھے۔ دونوں شہروں پر ایٹم بم گرانے

Read more

گلگت بلتستان میں تحریک انصاف اور مذہبی جماعتوں کا ممکنہ انتخابی گٹھ بندھن

گلگت بلتستان میں 3 طرح کی سیاسی پارٹیاں انتخابات میں حصہ لیتی ہیں۔ پاکستان کی وفاقی پارٹیاں، مذہبی (مسلکی) سیاسی جماعتیں اور ایک آدھ قوم پرست تنظیمیں۔ ماضی میں یہاں مذہبی جماعتوں کا کردار اہم رہا ہے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی سیاسی قوت اور اثرنفوذ کم ہوتے گئے۔ اس وقت خطے میں 4 مذہبی جماعتیں وجود رکھتی ہیں جو گلگت بلتستان کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں بھی بطور سیاسی پارٹی رجسٹرڈ ہیں۔ ان

Read more

آہ! کامریڈ رشید مصباح

معروف ترقی پسند نقاد اور افسانہ نگار رشید مصباح بھی چل بسے۔ ایک طویل عرصہ تنہائی اور بیماری سے جنگ لڑتے ہوئے گزری اور دو جون کو ہمیشہ کے لیے دنیا سے کنارہ کر لیا۔ میرا ان سے محبت کا تعلق دس سالوں پر محیط ہے، کتنی کہانیاں، کتنے واقعات، کتنے سفر، کتنی یادیں اورکتنی تقریبات ہیں۔ کس کس بات کا ذکر کروں، کون سی یاد تازہ کروں۔ ان کی افسانہ نگاری (سوچ کی داشتہ، گمشدہ آدمی، آکاس بیل) پہ

Read more

ایلان کردی عیاد خان کے روپ میں

نیلو فردیمر ایک ترک صحافی اور فوٹو گرافر بورڈیم ترکی میں رہتی اور ڈوگن نیوز ایجنسی کے لیے کام کرتی تھی۔ 2015 ء میں جب شام میں جنگی بحران تباہی کا باعث بنا ہوا تھا تو نیلوفر نے موسم گرما میں یورپین ہجرت کرنے والے لوگوں کے انقلابی بحران کی تصویر کشی کی تھی۔ اسی دوران اس نے ایک تین سالہ شامی بچے ایلان کردی کی تصویر اپنے کیمرے میں محفوظ کی۔ وہ ننھا بچہ ساحل سمند ر پر اوندھے

Read more

زندگی کا ایک انمول سفر

جون 2011 کی صبح تھی۔ نئے تعلیمی سال کا آغاز ہونے جا رہا تھا۔ دل خوشی و مسرت کے ساتھ ساتھ غم کے جذبات سے لبریز تھا۔ ہر سال ان دنوں چھٹیاں ختم ہونے کا غم اور پھر اسکول کا آغاز، دوستوں سے ملاقات اور نئی کلاس میں داخلے کی خوشی ہوا کرتی تھی۔ لیکن اس سال خوشی اور غم دونوں کا انداز نیا تھا۔ غم اس بات کا تھا کہ نئے تعلیمی سال میں اب دوبارہ اسکول نہیں جاؤں

Read more

ہمارے رانا اعجاز محمود صاحب

علم کیا ہوتا ہے اور دانش کون چڑیا کا نام ہے، ان معاملات سے اب بھی اس کالم نگار کا کچھ لینا دینا نہیں لیکن جن دنوں کا یہ ذکر ہے تب تو پھولوں اور رنگوں اور تتلیوں کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہ تھا۔ قوت شامہ ہواؤں میں وہ خوشبوئیں ڈھونڈ لیتی تھی جو بیک وقت اجنبی تھیں اور شناسا۔ تپتی دوپہروں پر رومان کے خواب سایہ کرتے تھے اور ٹھٹھرتی رتیں خیال کی آنچ سے آسودہ رہتیں۔ مطالعہ

Read more