پائے لاگوں بانو آپا

یادوں کے دریچے وا ہوتے ہیں تو کیا کچھ یاد آنے لگتا ہے۔ ایک ایسی ہی یاد کا ذکر ہے۔ ایک روز ابا گھر آتے ہی بولے :

”آج ہم سب کو کسی کے گھر جانا ہے۔“

امی نے ہم سب بچوں کو اچھے کپڑے پہنائے اور تیار کیا۔ اس وقت ہم کرشن نگر میں رہتے تھے۔ بس میں سوار ہو کر ہم دور کی ایک بستی ماڈل ٹاؤن کے ایک بڑے سے گھر جا پہنچے۔ یہ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کے نئے نکور گھر ”داستان سرائے“ کی شاید افتتاحی تقریب تھی، جس میں انہوں نے کچھ دوستوں کو مدعو کر رکھا تھا۔ اتنا بڑا خوبصورت اور شاہانہ گھر دیکھ کر میں تو حیرت زدہ رہ گئی۔ پرتکلف کھانا کھانے کے بعد ہم سب کو پورا گھر گھمایا پھرایا گیا۔ اشفاق صاحب نے ہمیں اپنا ریکارڈنگ سٹوڈیو بھی دکھایا جہاں وہ غالباً اپنے ریڈیو پروگرام ”تلقین شاہ“ کی ریکارڈنگ کیا کرتے تھے۔ میں تو اس بات سے بھی بہت متاثر ہوئی کہ گھر میں ہی سٹوڈیو موجود ہے، واہ کیا بات ہے۔

Read more

کیا نہرو کی کشمیر سے محبت مسئلہ کشمیر کی بنیاد ہے؟

 27 اکتوبر 1947 کی صبح بھارتی فوج کی فرسٹ سکھ بٹالین کی آمد نے کشمیر کی قسمت پر تاریکی کے سائے پھیلا دیے۔ ہوائی جہازوں کے ذریعے 330 بھارتی فوجیوں کے کشمیر میں اترنے سے جس انسانی المیے نے جنم لیا اس کی خوفناک شکل آج نو لاکھ بھارتی افواج کی کشمیر میں موجودگی ہے۔ تقسیم ہند سے تین روز قبل مہاراجہ کشمیر نے نو آزاد مملکتوں پاکستان اور بھارت کے ساتھ معاہدہ جاریہ stand still agreement کی درخواست کی۔

Read more

پترمینوں نوٹ وکھا میرا موڈ بنے

اگرچہ خبر کچھ پرانی ہو گئی ہے مگر ہر نئے سننے والے کوتکلیف ضرور پہنچاتی ہو گی۔ آج ایک دوست نے فیس بک پیغام شیئر کیا جو کہ ایک اردو اخبار کے تراشے کاعکس تھا، خبر پڑھ کر دل کو یقین نہ آیا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے؟ ویسے ہونے کو توہمارے دیس میں ہر انہونی ہو کر رہی بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس ملک کا وجود میں آنا ہی ایک انہونی تھی مگر ہو

Read more

شہید موسیقی: ماسٹر مدن جسے ساڑھے 14 برس کی عمر میں زہر دیا گیا

اسے بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ ۔ ۔ اسے اور اس کے فن کی عظمت اور قد کاٹھ جاننے والے زیادہ تر لوگ یا تو اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے، یا پھر موسیقی کا ذوق رکھنے والے محدود حلقوں کا حصہ ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مشرق سے زیادہ مغرب میں موسیقی کے شائقین کے وہاں اسے جانا پہچانا جاتا ہے۔ اپنی وفات کے وقت، بظاہر فقط ساڑھے 14 برس کا ایک بچہ۔ ۔ ۔ مگر فن کا

Read more

نفاذ اردو: ابھی مناسب نہیں

2016 ء کے اوائل کی بات ہے، ہم کالج کینٹین پر بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے کہ ہمارے ایک کولیگ کی ہمراہی میں ایک بزرگ ملاقات کے لئے تشریف لائے۔ خاصے پڑھے لکھے۔ تعارف ہوا، ، غالباً کسی محکمے سے ریٹائرڈ تھے، چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے آنے کا مقصد بیان کرتے ہوئے بولے کہ جسٹس جواد ایس خواجہ کے نفاذ اردو کے تاریخی فیصلے کا تو آپ کو علم ہی ہوگا، اب اس پر عمل درآمد کروانے کے

Read more

بارش میں بھیگی یادیں

بارش شدت اختیار کر جائے تو آسمان سے برسنے والے قطروں کی لڑی، ذہن کو ماضی کا سفر کرنے کا سامان پیدا کردیتی ہے۔ ارد گرد کی بھیگی فضا اور زمین پر بنتے پانی کے لا تعداد بلبلے، جنہیں کبھی بچپن اور شاید لڑکپن میں چاہتے ہوئے بھی نہ گن پاتے تھے، ایک ایک بوند گرنے کے بعد فوری طور پر ایک مکمل ہالہ بن جاتا، یہ بلبلا جیسے اپنے ہونے کا یقین دلاتا ہے اور پھر لمحہ بھر میں

Read more

عدالتی قتل اور عدالت میں قتل

اسلام، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، صحابۂ کرام رض، بزرگان دین اور اکابر سے محبت کا ثبوت دینے کے لیے مجھے اندھی نفرت کا سہارا کیوں لینا پڑتا ہے؟ حب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آبیاری کے لیے خون ریزی اور خوں خواری کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟ خالص علمی معاملات میں ہم منطق کے بجائے تیغ و تفنگ سے لیس ہو کر زندگی کو حق و باطل کا معرکہ کیوں بنا دیتے ہیں؟ عقیدے

Read more

دوستی اور محبت ضرور کریں

فیس بک سے شروع ہونے والی اکثر دوستیاں واٹس اپ پر محبت کی صورت پروان چڑھتی ہیں۔ اور پھر تنہائی میں کی گئی باتیں سوشل ہونے پر دم توڑ جاتی ہیں۔ لڑکیوں کی غیر اخلاقی تصاویر اور ویڈیو کے لیک ہونے کی تعداد میں جوں جوں اضافہ ہو رہا ہے اس سے لڑکیاں اتنی شرمندہ تو نظر نہیں آتیں لیکن اس پر پریشان ضرور ہیں کہ کوئی دوسرا ان کی ویڈیو شیئر کر کے ان کے ساتھ زیادتی کر رہا

Read more

دنیا کے لئے رحمت، کراچی کے لئے زحمت

بے شک بارش خدا کی رحمت ہے اور ہر عمر کے انسان کے لئے باعث سکون و تفریح ہے۔ ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے شخص کو بارش خوشگوار احساس میں مبتلا کردیتی ہے۔ بارش جہاں پوری دنیا کے لئے باعث رحمت ہے اسی طرح اسی پاکستان اور بالخصوص کراچی کے لئے باعث زحمت بن جاتی ہے۔ یہ زحمت قدرت کی طرف سے نہیں بلکہ حکومت کی طرف سے ہوتی ہے اور یہ زحمتیں سالہا سال سے اسی دل

Read more

سجاد ظہیر: ترقی پسندوں کا بادشاہ

بقول قاضی عبد الستار، ”سامو گڑھ کے سینے میں وہ میزان نصب ہوئی، جس کے ایک پلڑے میں روایت تھی اور دوسرے میں دِل، ایک طرف سیاست تھی دوسری طرف محبت، ایک طرف فلسفہ حکمت تو دوسری طرف شعر و ادب اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک طرف تلوار تھی اور دوسری طرف قلم۔“ جنگ میں بادشاہ کو شکست بھی ہوتی ہے۔ بادشاہ فاتح بھی ہوتا ہے۔ جنگ بادشاہ کے اشاروں پر لڑی جاتی ہے۔ وہ لندن اور

Read more

کیا ہماری عقل زیر حراست ہے

سوشل میڈیا بہت متنوع واسطہ ہے، عوامی پلیٹ فارم ہونے کے باعث روزانہ ہی عوام کا ایک نیا نقطہ نظر سامنے آتا ہے، جو کبھی دلچسپ ہوتا ہے کبھی حیران کن، کبھی احمقانہ اور کبھی کبھی غضب ناک بھی۔

کسی خاص سماجی و سیاسی واقعے پر پاکستان میں مقیم اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا رد عمل مختلف ہوتا ہے، کبھی کبھی یہ ردعمل تصادم کی صورت بھی اختیار کر لیتا ہے اور کبھی فکاہیہ۔

پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد بیرون ملک مقیم ہے، خدا نخواستہ نہ ہی میں بیرون ملک پاکستانیوں کی حب الوطنی پر کوئی شک رکھتی ہوں نہ ہی جذبہ ایمانی کے متعلق کوئی شبہ ہے، میرے خاندان کے بزرگوں کو دوسرے ملک کی شہریت ان کی قابلیت کی بدولت ملی ہوئی ہے، بزرگوں کے طفیل ہم کو بھی یہ سہولت نصیب ہے۔ لیکن میں چند دن گزار کر واپس اپنے دیس آجاتی ہوں، کیونکہ مجھے اپنے ملک میں رہنا پسند ہے، مجھے شناخت کا نشہ ہے اور ہماری شناخت ہمارا وطن ہے۔

Read more

نقشے اور نقشے بازیاں مسئلہ کشمیر کا حل نہیں

فیصلوں کا درست اور غلط ہوجانا ایک الگ بات ہے لیکن ان کا بروقت ہونا ہی درست ہوا کرتا ہے۔ سانپ گرز جانے کے بعد لکیر پیٹنے کا کبھی کوئی فائدہ ہوا ہے اور نہ ہی سانپ مرا ہے۔ 5 اگست 2019 اور 5 اگست 2020 میں پورے 365 دنوں کا فرق ہے اس لئے میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جمعے کے جمعے، ہاتھوں سے ہر کام کو چھوڑ کر آدھے آدھے گھنٹے کھڑے ہونے، سال

Read more

یوم استحصال کشمیر، 5 اگست

جنت نظیر وادی کشمیر گزشتہ 72 سالوں سے لہو لہان ہے، بھارتی ظلم و جبر کا شکار نہتے کشمیری بھارتی فوج کے ہاتھوں یرغمال ہیں اور اپنی آزادی و بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں، ان 72 سالوں میں کشمیریوں کا مورال کمزور ہوا نہ ہی پاکستان سے محبت، حسرت آزادی کا دیپ جلائے نہتے کشمیری گزشتہ ایک سال سے تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم جبراً نظر بند ہیں، وادی کا دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔ آج 5 اگست

Read more

عرفان صدیقی : پھول کی شرح سے صرف بلبل واقف ہے

صوفی از پرتو مے راز نہانی دانست گوہر ہر کس ازیں لعل توانی دانست شرح مجموعہ گل مرغ سحر دانس و بس کہ نہ ہر کو ورقے خواند و معانی دانست ۔ حافظ شیرازی صوفی نے شراب کے پرتو سے پوشیدہ راز کو جان لیا۔ پھول کے مجموعے کی شرح صرف بلبل جانتی ہے۔ کبھی کبھی لگتا ہے، ایک آواز غیب سے آیی ہوگی، اٹھ عرفان، اٹھ عرفان صدیقی، غالب کو آئے صدیاں گزر گین۔ یہ پھولوں کا مجموعہ قبول

Read more

ظفر عمران کی افسانوی دنیا

اسکرپٹ رائٹر، ایکٹر، ڈائریکٹر، پروڈیوسر۔ ۔ ۔ اتنے بھاری بھرکم سابقے لاحقے سن کر آدمی ویسے ہی تعارف سے متاثرہو جاتا ہے۔ ہم جیسا مگر سہما سہما فاصلے پر رہتا ہے۔ اس لیے ظفرعمران سے فیس بک کی سلام دعا کے باوجود ہم ایک محتاط فاصلے پر ہی تھے، تاوقتیکہ ان کی افسانوی دنیا سے آشنائی نہ ہوئی۔ گلزار صاحب شاید پہلے فلم ڈائریکٹر تھے جنھوں نے اپنے افسانوں کی کتاب ’دستخط‘ کے نام سے چھاپی۔ ایک انٹرویو میں کسی

Read more

آئیے اور پاکستانی ڈرامے کو چار چاند لگائیے!

عید الاضحیٰ کے ایام کے دوران پی ٹی وی اور اے آر وائی ڈیجیٹل پر دو ترک اداکاروں سے انٹرویو میں یہ سوال نہایت ذوق و شوق اور عاشقانہ چاہت سے پوچھا گیا: کیا آپ پاکستانی ڈرامے اور فلموں میں کام کرنا چاہیں گے؟ کچھ ان دونوں کے بھی جذبات امڈ آئے اور وہ کہنے لگے : جی ہاں، کیوں نہیں؟ اگر ہمیں سکرپٹ پسند آیا تو ضرور پاکستانی ڈراما (یا فلم) میں کام کریں گے۔ انٹرویوز میں پوچھے گئے

Read more

جب دہشت پھیلانے والا امن کا پرچارک بن جائے

کیا انسان بنیادی طور پر نیک ہے یا بد؟ اچھا ہے یا برا؟ خیر کا نمائندہ ہے یا شر کا استعارہ؟ تشدد پرست ہے یا امن پسند؟ وہ کیسے حالات ہیں جو ایک پارسا کو پاپی اور پاپی کو پارسا بنا دیتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے بارے میں ماہرین بشریات ’نفسیات اور سماجیات برسوں‘ دہائیوں بلکہ صدیوں سے غور و خوض کر رہے ہیں۔ ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے میں نے نہ صرف بہت سے دانشوروں

Read more

میں تو چلی سنگا پور – مکمل کالم

ایک وقت تھا جب میں غیر ملکی شہریت لینے کو اچھا نہیں سمجھتا تھا، میراخیال تھا کہ اپنے وطن کی شہریت چھوڑ کر یا اُس کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے ملک کی وفاداری کا حلف اٹھانا ایک بے حد نا معقول بات ہے جس کی کوئی توجیہ نہیں دی جا سکتی۔ لیکن بارہ اکتوبر 1999کی شام کو میرے یہ خیالات تبدیل ہو گئے۔ اُس روز میں نے سوچا کہ کیا ہمارے مقدر میں یہ یہی سب کچھ لکھا ہے؟ہمارے پاس

Read more

مذہبی انتہا پسندی سے امن کا راستہ ہموار نہیں ہوگا

وزیر اعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے بھارتی اقدام کا ایک سال مکمل ہونے پر آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کی آزادی کے لئے جد و جہد جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔ انہوں نے مودی حکومت کو فاشسٹ قرار دیا اور اس یقین کا اظہار کیا کہ کشمیر جلد ہی آزاد ہوگا۔ دوسری طرف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے آیودھیا میں بابری مسجد کی متنازع جگہ پر رام مندر

Read more

اپوزیشن کی ’سرگرمیاں‘

اپوزیشن کی گذشتہ دو سال کی کارکردگی دیکھتے ہوئے باآسانی یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگلے چھ ماہ میں کوئی احتجاجی تحریک یا کسی بڑی مزاحمتی تحریک کا امکان نظر نہیں آ رہا۔

Read more

محمد عمر میمن: کچھ یادیں

شاہ فضل عباس کا فون واشنگٹن سے آیا۔ آپ عمرمیمن صاحب کو کتنا جانتے ہیں؟ انہوں نے سوال کیا۔ شاہ فضل عباس حلقہ ارباب ذوق واشنگٹن کے سرگرم کارکن ہیں، ادب، موسیقی، ثقافتی، سماجی اور ہر قسم کی سیاسی و انقلابی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں، غالب کے عاشق ہیں۔ دیوان تقریباً ازبر ہے، گاہے بگاہے مرزا کے شعر سناتے ہیں اورایک الگ تشریح کے ساتھ اپنا بھی سر دھنتے ہیں اور دوسروں کو بھی سر دھننے پر مجبور کردیتے

Read more

ہفتے میں دو دفعہ ازدواجی فرائض کی ادائیگی کے وہ فائدے جو ہم نہیں جانتے تھے

ازدواجی فرائض کی ادائیگی ہر شادی شدہ جوڑے کی زندگی کا لازمی حصہ ہوتی ہے لیکن ان فرائض کی ادائیگی کتنی باقاعدگی سے کی جاتی ہے اس کا انحصار ہر جوڑے کے اپنے موڈ اور مزاج پر ہوتا ہے۔ جسمانی صحت اور ازدواجی مسرت کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ازدواجی فرائض کی ادائیگی ہفتے میں کم از کم دو بار ضرور ہونی چاہئیے۔ یہ ماہرین صحت کی رائے ہے، جن کا کہنا ہے کہ ہفتے میں کم از

Read more

اور اب پیر سید کرم علی شاہ بھی ہم میں نہ رہے

کیا ہی غضب کا سال ہے ایک ایک کر کے سب ہی رخصت ہوئے جا رہے ہیں، ابھی سلطان مدد، راجہ عادل غیاث، ملک مسکین، حاجی جانباز، سعید افضل اور پروفیسر حشمت الہامی کے قبروں کی مٹی بھی نہ سوکھی تھی کہ گلگت بلتستان کی ایک اور بلند قامت سیاسی، سماجی و روحانی شخصیت پیر سید کرم علی شاہ بھی نہ رہے۔ ان کا سیاسی سفر ناردرن ایریاز کی مشاورتی کونسل سے گلگت بلتستان کی گورنری کے سنگھاسن تک پھیلا ہوا ہے جس میں ان کو چالیس سال تک سیاست کی بساط پر ناقابل شکست رہنے اور اس علاقے کا پہلا ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو منتخب ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

پیر سید کرم علی شاہ کے اجداد نے تاجکستان کے گورنو بدخشان، شمالی افغانستان، پاکستان میں چترال، یاسین اور ضلع غذر کے گاؤں چٹور کھنڈ تک کا سفر کیا۔ وسطی ایشیا بشمول افغانستان، چینی ترکستان اور پاکستان میں نہ صرف ان کے مریدین، معتقدین اور پیرو کاروں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے بلکہ ان کے خونی رشتے بھی موجود ہیں۔

Read more

جبر کی طویل اور تاریک شب

جس روز یہ کالم چھپے گا سرکاری اور قومی سطح پر ہم اسے ’’یوم استحصال کشمیر‘‘پکاررہے ہوں گے۔مقصد دُنیا کو یاد دلانا ہے کہ مودی سرکار کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو تاریخی خودمختاری سے محروم کئے ایک برس گزرچکا ہے۔ ڈھونگ یہ رچایا گیا تھا کہ وادیٔ کشمیر کے 80لاکھ باسی بھارتی آئین کے آرٹیکل 370کے خاتمے کے بعد آبادی کے اعتبار سے ’’دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘‘ کے باقاعدہ ’’شہری‘‘ بن گئے ہیں۔’’شہری‘‘ بناتے ہوئے مگر انہیں

Read more

ڈی جی خان ۔۔۔ شرطیہ نیا پرنٹ

ابتداء ہی سے واضح کردیں کہ اس مضمون کا عنوان قدرے مبالغہ آمیز ہے اور اس کا کوئی دور پرے کا بھی تعلق ڈیرہ غازی خان سے نہیں۔ ہمارا ارادہ قاری کو قرون اولیٰ اور عصر حاضر کے گھمرول میں ایسا الجھانا ہے کہ ہم اپنی بات بھی کہہ جائیں اور ڈی جی خان کی گرفت میں بھی نہ آئیں۔ بات کچھ یوں ہے کہ ایک زمانے میں، تمام عہدوں سے زیادہ شہرہ ایک حساس ادارے کے ڈی۔ جی یعنی

Read more

داستان – نصیر ترابی اور افتخار عارف

گزشتہ دنوں ایک محترم کالم نگار نے ”ایک ان کہی ادھوری داستان“ کے عنوان سے کالم لکھا۔ جس پر ممتاز شاعر نصیر ترابی کے ایک انٹرویو کا حوالہ دے کر افتخار عارف پر تنقید کی گئی۔ اگر یہ تنقید ادبی و علمی حوالہ رکھتی جائز تھی، مگر یہاں شخصی حوالہ سے بات کی گئی۔ افتخار عارف صاحب، نصیر ترابی صاحب اور کالم نگار، تینوں شخصیات قابل احترام ہیں کہ تینوں کا تعلق قلم قبیلے سے ہے۔ مگر محترم کالم نگار اور نصیر ترابی صاحب نے اپنے انٹرویو میں جو باتیں افتخار عارف کی ذات کے حوالے سے کہیں، وہ مناسب معلوم نہیں پڑتیں۔

کالم نگار لکھتے ہیں ”حلقہ ارباب ذوق کی ایک محفل میں انہوں (افتخار عارف) نے تنقید کے لیے اپنی ایک نئی نویلی غزل پیش کی تھی۔ اتفاق سے اسی محفل میں اس خاکسار نے اپنا ایک افسانہ سنایا تھا۔ افسانہ چل گیا، غزل نہ چل سکی“ یہ شاید کچھ دہائیوں پہلے کی بات ہے۔ واقعی افسانہ چل گیا؟ اور غزل نہ چل سکی؟ جس کی غزل نہ چل سکی وہ آج غزل کا افتخار کیوں ہیں؟ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ ”کتاب دل و دنیا“ (افتخار عارف کا مجموعہ) پر ممتاز نقاد مبین مرزا نے دیباچہ لکھا۔

Read more

سیگرٹ اور میری زندگی کے گیارہ منٹ

سوچیں ان کی زندگی کیسی ہوگی جو صرف بھوک مٹانے کے لئے کھاتے ہوں، پیاس بجھانے کے لئے پیتے ہوں اور سانس لینے کے لئے جیتتے ہوں بس؟ سوچیں ان کی زندگی کیسی گزرتی ہوگی جن کے پاس پاب کا سایہ، ممتا کا پیار، بھائیوں کی لاڈ اور بہنوں کا ساتھ نا ہوتا ہوگا؟ سوچیں ان کی زندگی کیسے گزرتی ہوگی جن کے پاس نا دوست جیسا عظیم رشتہ ہو، شریک حیات کا ساتھ ہو اور بچوں جیسی نعمت سے

Read more

چاہ یوسفؑ

قرآن کریم نے حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے کو احسن القصص بتایا گیا ہے۔ یہ ایک اساطیری داستان نہیں بلکہ ٹھوس اور مستند تاریخ ہے۔ یہ واقعہ اسلام، نصرانیت اور یہودیت کی مشترک میراث ہے۔ اردو ادب میں بہت سے استعارے یہاں سے مستعار لیے گئے ہیں۔ چاہ یوسف سے برادران یوسف تک اور زنان مصر سے زندان مصر تک اردو ادب کے محاوروں اور تلمیحات کے ذخیروں کو زرخیز کرتے رہے ہیں۔ صبر ایوبؑ کی طرح گریۂ یعقوبؑ

Read more

کیا دل واقعی ٹوٹ جاتا ہے؟

امریکہ میں میری پہلی عارضی ملازمت ایک نرسنگ ہوم میں تھی جو میرے لیے ایک یادگار تجربہ تھا۔ اتنے معمر افراد کو ایک چھت تلے زندگی کے اختتامی سفر کو طے کرتے دیکھنا میری زندگی کے اس تجربے سے یکسر مختلف تھا جو میں نے پاکستان میں گزاری تھی۔ جہاں عموماً مشترکہ خاندانی نظام کے تحت بزرگوں کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ گو اب وہ صورتحال نہیں رہی ہے اور لوگ سینیر سینٹرز میں اپنے بزرگ داخل کرکے اکثر بھول

Read more

توہین رسالت کے ملزم کو گولی مار کر ہلاک کرنے والے ملزم فیصل کے ساتھ پولیس اہلکاروں کی سیلفی پر سوشل میڈیا پر بحث

جہاں کئی صارفین اس سیلفی اور پولیس کے کردار پر تنقید کرتے اور یہ کہتے نظر آئے کہ ایک قاتل کی حوصلہ افزائی کرنا بند کیجیے، وہیں کئی صارفین ملزم خالد کے ساتھ پولیس کی تصویر دیکھ کر خاصے خوش ہیں اور انھیں دنیا کا واحد قیدی قرار دے رہے ہیں جن کے ساتھ پولیس بھی سیلفی لینے پر فخر محسوس کرتی ہے۔

Read more

فرماں برداری، کامیابی کا سیدھا راستہ یا…

شنو اور بسمہ واپس اپنے کمرے میں آ گئیں۔ بسمہ کو ابھی بھی بے چینی تھی کہ کب اسے بلایا جائے اور گھر چھوڑ کے آئیں۔ ابھی اس نے نہیں سوچا تھا کہ وہ کہاں جائے گی مگر وہ یہاں مزید نہیں رہنا چاہتی تھی۔ شنو سے بار بار پوچھنا بھی اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ پھر اسے خیال آیا کہ فاطمہ باجی نے تو کہا تھا کہ کل عدالت میں پیشی کے بعد ہی کوئی فیصلہ ہوگا۔ اسے

Read more

جتنا مرضی طبلہ جنگ بجوا لیں

ایک پیج کی وجہ سے عام تاثر بنا ہوا ہے کہ فوج ہے ایجنسی ہے عدالت ہے کپتان ہے ان سب کا اک اتحاد ہے۔ اس اتحاد کی ارمانوں سے لائی بٹھائی اور چاہی گئی حکومت ہے۔ اس کی کارکردگی نکال کر دکھانے کو ڈال لیں جیب میں ہاتھ۔ گھوم پھر شرمندہ واپس آئے گا آپ کا ہاتھ وہ بھی یہ بتانے کہ جیب پھٹی ہوئی ہے۔ یہ جو بھی اتحاد تھا یہ کس کے خلاف تھا؟ اس اپوزیشن کے خلاف جسے ووٹوں میں گنیں تو اکثریت ہے۔

Read more

جوتی

کلاس ختم ہوتے ہی میں جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی اور تیز قدموں سے باہر نکل گئی۔ آج فائن آرٹس کی ایکسٹرا کلاس تھی اور کوئی بھی دوست لیکچر میں موجود نہیں تھا۔ تجریدی آرٹ کی تھیوری یوں بھی ہمارے سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ صبح دیر سے آنکھ کھلی تھی۔ ہبڑ دبڑ میں چائے تک بھی نہ پی پائے تھے اور طرفہ یہ کہ جوتی بھی وہ پہن لی جس کا پٹہ ٹوٹنے کے قریب تھا۔ سر میں شدید

Read more

باصر سلطان کاظمی: سرزمین شعر کا اجنبی مسافر

1971 کا سال تھا جب میں گورنمنٹ کالج لاہور میں بی اے کا طالب علم تھا۔ باصر سے دوستی کا آغاز ہو چکا تھا۔ ایک دن باصر نے پہلی بار مجھے اپنی وہ غزل سنائی جس کا مطلع ہے : دم صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کے وہی ننھے ننھے پودے تھے گھنے درخت کل کے غزل مجھے بہت ہی پسند آئی اور اس کا مطلع تو حواس پر اس قدر چھا گیا کہ کئی دنوں تک ہر

Read more

سہ ماہی ”الزبیر“ بہاول پور: آسمان ادب کا مہر منور

سابق صدر، شعبہ تاریخ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور، اردو اکادمی بہاول پور کے معتمد عمومی، ممتاز مصنف، محقق، مورخ اور مرتب پروفیسر ڈاکٹر شاہد حسن رضوی صاحب کی طرف سے علمی، ادبی و تحقیقی جریدے سہہ ماہی ”الزبیر“ اور ادب، سیاست، مذہب کے حوالے سے خوبصورت تحاریر کے مرقع میگزین ماہنامہ ”الہام“ کے تحائف بذریعہ ڈاک ایک ساتھ موصول ہوئے اور اس زمین زاد کو ایک خوشگوار حیرت میں مبتلا کر گئے۔ شاید ڈاکٹر صاحب نے اس لئے اس ناچیز

Read more

رام مندر کی تعمیر: ’ایودھیا صرف تنازعے کا نہیں محبت کا بھی شہر ہے‘

رام جنم بھومی ہندو مذہب کے پیروکاروں کے لیے گہری عقیدت کا مرکز تو ہے ہی مگر رام جنم بھومی کے احاطے کے باہر درجنوں مساجد اور درگاہیں ایودھیا کے قدیم شہر کی ملی جلی وراثت کا پتہ دیتی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایودھیا ہمیشہ امن کا شہر رہا ہے اور یہاں ہر مذہب کے ماننے والوں کو مکمل آزادی حاصل رہی ہے۔

Read more

تعصّب معاشرے کو تباہ کر دیتا ہے

تعصّب، نفرت اور عصبیت زمانہء جاہلیت کی پیداوار ہیں، بلکہ یہ انتہا پسندی کا دوسرا نام ہے۔ یہ نفرت، تفرقہ، گمراہی اور بغض کو بڑھا دیتا ہے اور تعصبات حق و انصاف اور اصول پسندی کے دشمن ہیں۔ کوئی معاشرہ اس سے باہر نہیں رہ سکتا، اسی لئے ہر انسان اس کا شکار ہو جاتا ہے۔ تعصب کی مرئی اور غیر مرئی لاتعداد شکلیں ہیں۔ دنیا کے اکثر علاقوں اور خصوصاً پاکستان میں تعصّب کو فروغ حاصل ہؤا ہے۔ اخبارات

Read more

عید کہیں دبے پاؤں نہ گزر جائے !

صرف خوشیاں منانے ہی نہیں خوشیاں بانٹنے کا نام عید ہے۔ہر معاشرے اور کلچر میں شادمانیوں و مسرتوں کے رنگ سمیٹنے اور بکھیرنے کا اپنا انداز اور خاص ایام ہیں مگر فلسفہ ایک ہی ہوتا ہے کہ ان دکھوں کی نفی کرکے سُکھوں کو ضرب دی جائے کہ کوچہ و بازار اور در و دیوار بھی شہنائیوں اور رعنائیوں کا حصہ بنیں۔رنگ و بو کا ایک باقاعدہ ایکوسسٹم تراشا جاتا ہے کہ محبتیں، احساس اور اخلاص محدود نہ رہیں بلکہ

Read more

محبت نبوی ﷺ میں نفسانیت

قانون ہاتھ میں لینا، ایک ایسا جرم ہے جسے انسانی تہذیب کے کسی بھی دور میں ناقابل معافی جانا گیاہے۔ ممتاز قادری کیس کی سماعت کے دوران معزز عدالت نے کہا تھا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازتت نہیں دی جا سکتی۔ حتیٰ کہ ایک ایسا مجرم جسے عدالت سے موت کی سزا سنائی جا چکی ہو، اس سزا پر بھی عملدرآمد ایک طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہوتا ہے۔ موت کی سزا سنائے جانے

Read more

دنیا بھر میں سیکس سے منسلک 9 منفرد روایتیں

کیا دنیا میں سیکس ہر جگہ ایک جیسا ہے؟ سیکس: دنیا کا قدیم ترین اور عالمگیر عمل ہے۔ لیکن سیکس پر بات یا عمل مختلف ممالک میں مختلف انداز سے ہوتا ہے۔ بی بی سی کے پروگرام ’کراسنگ کانٹینینٹس‘ نے اس تحقیق پر گھنٹوں صرف کیے۔ کنوارے پن سے لے کر بغلوں میں سیب رکھ کر ناچنے تک، دنیا میں سیکس سے جڑی مختلف رسومات پر ایک نظر: 1. ہوائی کے قبائلی اپنے اعضا کو نام دیتے ہیں میں اپنا

Read more

بھا، بھینسا اور مولوی

تاروں بھری رات میں چھت پر لیٹے میں اور بھا فرقہ وارانہ بحث کر رہے تھے۔ وجہ بحث یہ تھی کہ ہمارا کزن اچانک مولوی ہو گیا تھا اس کی داڑھی ممنوعہ بور چھونے لگی تھی۔ شلوار نکے بھائی کی اور قمیض بلکہ کرتا ابا جی کا پہننے لگ گیا تھا۔ ماڑا بندہ اس سے بحث کرنے سے بھی کترانے لگا تھا کہ عسکری تنظیموں کے ساتھ اس نے اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا تھا۔ صرف میرا ہی وہ اب

Read more

جنس تبدیل کرنے والی اولاد اور باپ کے درمیان مکالمہ

 ”ہائی کڈ، میں ہوں ‌ تمہارا باپ۔ میں شام کو تمہیں کال کروں گا۔ مجھے ابھی ابھی تمہارا نمبر ملا ہے۔ میں تم سے پیار کرتا ہوں“۔  ”اوہ واؤ، آخر کار تم جان گئے کیا کہ تمہارا کوئی بچہ ہے؟ تم ایک خوش قسمت انسان ہو کہ میں دو برس پہلے تب مر نہیں گئی تھی جب مجھے فالج ہوا تھا جس نے میری ساری زندگی برباد کر دی“۔  ” تم میرے چھ بچوں میں سے ایک ہو۔ میں بھلا

Read more

قمر رئیس : اٹھ گیا ناوک فگن۔ ۔ ۔

(پروفیسر قمر رئیس ہندوستانی اردو تنقید میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ اسی صف میں شامل ہیں جس صف میں نارنگ، شمس الرحمن فاروقی جیسے اہم نقاد ہیں۔) اور مولانا رومی کو اقرار کرنا پڑا۔ مولوی ہر گز نہ شد مولائے روم تا غلام شمس تبریزی نہ شد تم کبھی بھی مولانا روم نہیں بنتے اگر شمس تبریز کی غلامی میں نہیں آتے۔ یہ ان کی نگاہ تجلی کمال تھا کہ مجھے اس مقام تک پہنچا دیا۔ نوجوانی کی عمر،

Read more

تعبیر

ٹرافیز شاید زندگی میں آگے نہیں بڑھا سکتیں۔ یہ بات شاید ابوعبیدہ کو بہت دیر سے پتا لگی تھی۔ اسے کرکٹ بہت پسند تھی جنون تھا کرکٹ کا جو رگوں میں خون بن کے دوڑتا تھا۔ وہ اسکول کے فوراً بعد کرکٹ گراونڈ دوڑ کے جاتا تھا۔ ہر کوئی اس کی بیٹنگ کا دلدادہ تھا مگر آج اس کی زندگی کا سب سے بڑا دن تھا وہ خوش تھا کیونکہ انڈر سکسٹین کی ٹیم کا ٹرائل دینے جانا تھا اس

Read more

گائتری کی خوشبو

وہ مکمل طور پر گائتری تھی۔ وہی دبلا پتلا جسم وہی کتابی چہرہ، وہی چوڑی پیشانی اور وہی لمبے لمبے بالوں کی چٹیا جو کمر سے نیچے تک پہنچی ہوئی تھی اور چہرے پر دو بڑی بڑی روشن آنکھیں، میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ نہ جانے کیوں میرے دل سے زیادہ میری روح نے اس کا استقبال کیا تھا۔ ایک خاص قسم کی انسیت سی محسوس ہوئی تھی ایک شدید خواہش کے ساتھ کہ اس سے بات کروں، میں نہ چاہنے کے باوجود بار بار اس کی طرف دیکھنے پر مجبور سا تھا، میری نظر مسلسل اس کا تعاقب کر رہی تھی، کوئی بات تھی ایسی کہ میں اس کی جانب مستقل طور پر متوجہ ہو گیا تھا، میں نے محسوس کیا کہ اس نے بھی مجھ پر ایک اچٹتی ہوئی نظر ڈالی تھی پھر اپنے ساتھی کے ساتھ کھانے کی ٹرے لے کر میرے سامنے سے گزرتی ہوئی اپنے دوسرے ساتھیوں کی میز پر بیٹھ گئی تھی۔ یہ ہسپتال میں آنے والے نئے ڈاکٹر تھے۔ جوان، مسکراتے ہوئے طاقت سے بھرپور تھوڑا ڈرے ہوئے بھی، ذرا سہمے ہوئے بھی، خود اعتمادی کے ساتھ ہر سال آنے والے بیج کو دیکھ کر جہاں اپنے سینئر ہونے کا احساس ہوتا تھا وہاں زندگی کی مسکراہٹوں اور جوانی کے جذبوں کا بھی جیسا دوبارہ جنم ہوجاتا تھا مگر اس دفعہ بات کچھ اور تھی۔

Read more

سلویا پلاتھ کے ناول ’دی بیل جار‘ کا ایک جائزہ

آئیے آپ کو ایک اور ناول سے متعارف کروایا جائے۔ ناول کا نام ہے ”دی بیل جار“ جسے سلویا پلاتھ ؔنے لکھا۔ پہلی بار یہ ناول 1963 میں وکٹوریا لوکاس ؔکے فرضی یا قلمی نام سے چھپا۔ میرے سامنے اس کتاب کا پچاسواں اینی ورسری ایڈیشن ہے۔ سلویا پلاتھ کا تعلق نیو انگلینڈ امریکہ کی ریاست میساچوسٹس کے شہر بوسٹن ؔسے تھا اور یہ اس کا واحد اکلوتا ناول ہے۔ اس کے بعد محض اکتیس برس کی عمر میں اس نے خود کشی کر لی تھی۔ یہ ناول ایک سوانحی ناول ہے اور یہ کچھ حد تک اس کی اپنی زندگی پہ اساس کرتا ہے جب کہ اس ناول کا شمار ماڈرن کلاسکس میں ہوتا ہے۔

Read more

چالیس سال کی محنت اور عمران خان

پتا نہیں کیوں میرا دل چاہتا ہے کہ دانش ور سے پوچھوں ”آپ کو صرف عمران خان کی بائیس سال کی محنت نظر آتی ہے، ہماری چالیس سال کی محبت اور محنت کی رائیگانی کا حساب کون دے گا؟“

80 ء کی دہائی کے آخری برسوں میں پی ٹی وی پر Bionic Woman، chips اور Six Million Dollar man جیسی انگلش موویز بڑی مقبول تھیں۔ سکول نوٹ بکس پر ان موویز کے اداکاروں کی تصویریں چھپتیں یا کرکٹ ٹیم کے اسٹارز کی۔ جاوید میانداد، ظہیر عباس، آصف اقبال، سرفراز نواز، وسیم باری، مدثر نذر وغیرہ۔ ہم جماعت دوست ان تصویروں والی کاپیاں خرید کر فخر کرتے۔ موویز کی مقبولیت اپنی جگہ، ہمیں ان کے اداکاروں سے کیا غرض، ہم کاپیاں خریدتے وقت صرف ایک ہی سٹار کی تصویر تلاش کرتے، جس کے ساتھ لکھا ہوتا تھا، چھکے مارنے والا تیز ترین باؤلر، عمران خان۔ خوبرو، عقابی آنکھیں، سنہری زنجیر گلے میں لہراتی ہوئی، کبھی باؤلنگ ایکشن میں کبھی ہنستے ہوئے، ہر نوٹ بک پر عمران :۔ یعنی گھر ہو یا اسکول عمران کی تصاویر سے بستہ بھرا ہوا، گویا

Read more

خون کے رشتے خونی ہوتے ہیں!

ہماری جناب محترم اشفاق احمد خان صاحب سے ملاقات محترمہ بینا گوئندی کے توسط سے اس وقت ہوئی جب خان صاحب اردو سائنس بورڈ کے سربراہ تھے اور بینا گوئندی وہاں شعبہ حیاتیات میں سکالر تھیں۔ چونکہ میں اور بینا گوئندی رشتہ ازواج سے منسلک تھے لہذا مجھے اپنے آفس سے واپسی پر بینا کو اردو سائنس بورڈ سے پک کرنا ہوتا تھا چونکہ بینا گوئندی کا نام علمی اور ادبی حلقوں میں اس وقت تک بہت نمایاں ہوچکا تھا۔

Read more

عورت جہاد نہیں کرتی

اس کا کمرا چار دیواروں والا تھا۔ گویا چار دیواری تھی مگر ہر دیوار میں دیواری قد و قامت کے ہی روشن دان اور کھڑکیا ں تھیں۔ جہا ں سے روشنی وہوا پھوٹتی تھی۔ ایک دیوار کے درمیان اس کا بیڈ تھا اور اس کے دونوں جانب لکڑی کی نفیس الماریاں چھت تک بنی ہو ئیں تھیں۔ ان میں کتابیں مسکرا اور اترا رہیں تھیں۔ کہ ان کو یہ گلہ نہیں تھا کہ ان کو قاری نہیں ملا۔ پلنگ کے

Read more

مجاہد بریلوی صاحب کی کتاب ”فسانہ رقم کریں“

معروف کالم نگار مجاہد بریلوی صاحب کی دوسری کتاب پڑھنے کا اتفاق ہوا، جو ”فسانہ رقم کریں“ کے عنوان سے لکھی گئی ہے اور باتوں، یادوں، ملاقاتوں پر مشتمل ہے۔ کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، اول حصہ سیاستدانوں کے نام، دو م صحافی و شاعر حضرات کے لئے وقف کیا گیا ہے۔ سیاستدانوں کی فہرست میں شامل بینظیر بھٹو، پروفیسرغفوراحمد اور معراج محمد خان جیسی شخصیات کا تذکرہ تو اکثر مل جاتا ہے مگر اس کتاب

Read more

میری ٹرمپ: ڈونلڈ ٹرمپ پر کتاب کا ریویو (پہلا حصہ)

میری ٹرمپ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی بے ڈھنگی شخصیت پر مبنی کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جن میں چودہ ابواب ہیں۔ پہلے حصے کا نام ”دی کریولٹی از دا پوائنٹ“ کے پہلے باب میں خاندان کا پس منظر بیان کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کے والدین میں کمیونیکیشن گیپ بہت زیادہ تھا جس کی وجہ ٹرمپ کے والد فریڈ کی کاروباری شخصیت ہونے کی وجہ سے خاندان والوں کو وقت نہ دینا شامل ہے۔ ٹرمپ ابھی دو سال

Read more

خانہ بدوشی میں نانی اماں والی عید؟

"اماں، عید کے دن میٹھے میں کیا بنائیں گی آپ؟” "ارے بیٹا تم لوگ تو ہو نہیں تو کیا اہتمام کروں، آئس کریم سے کام چل جائے گا” صاحب اپنوں سے سات سمندر دور رہنے کا قطعی یہ معنی نہیں کہ دور کی خبر ہی نہ لی جائے۔ سو یہ گفتگو عید سے ایک دن پہلے ماں بیٹی کے درمیان ہو رہی تھی۔ "ارے اماں، آپ سویوں کے بنا عید کیسے منا سکتی ہیں؟ بھول گئیں نانی اماں کی بنائی

Read more

ماں تجھے سلام

مجھے یہ دہرانے کی تو ضرورت نہیں کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے، امثال میں بھی لکھا ہے ”بچے کی اس راہ پر تربیت کر جس پر اسے جانا ہے، وہ بوڑھا ہوکر بھی اس سے نہیں مڑے گا۔“ لگ بھگ پندرہ سال قبل ہم نے ایک غیر سرکاری تنظیم کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں ”مدرزڈے“ کی تقریب کا انعقاد کیا۔ مدرز ڈے کے بارے میں کوئی زیادہ معلومات تو نہیں تھی اور تقریب کا

Read more

تعلیم ہی ترقی کا نسخہ کیمیا ہے

رحیم آصف ڈیرہ غازیخان کے ہمارے دوست ہیں۔ پیشہ زمینداری ہے لیکن تاریخ و ادب سے گہرے شغف کی بنا پہ چلتی پھرتی تاریخ ہیں۔ ناروال کے اک ڈی آئی جی تھے انہوں نے ڈی جی خان کے علاقے کوٹ چٹھہ میں اک غریب آدمی کے بیٹے کو بیٹا بنا کر تعلیم دلوائی۔ آج وہ بیٹا اعلی منصب پہ کام کر رہا ہے۔ ہمارے اردگرد کتنے ہی ایسے بچے ہوں گے کبھی چائے کے ڈھابے پہ کبھی جوس کی دکان

Read more

شفق : کبیر گنج والا کانچ کا بازیگر

کمرے میں بے ترتیبی سے رکھی ہوئی کتابیں۔ ۔ ۔ میں دیر سے ان بکھری کتابوں کے درمیان کچھ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ ۔ ۔ وہ کتاب یہیں کہیں رکھی تھی۔ ۔ ۔ بس ابھی کچھ دن پہلے، بالکل اسی جگہ۔ ۔ ۔ میں بھولنے پر یقین نہیں رکھتا۔ میں نے کچھ سکنڈ کے لیے کتاب کو اپنے ہاتھوں میں لیا تھا۔ ۔ ۔ اچانک آنکھوں کے پردے پر کانچ کے بازیگر

Read more

پروفیسر شکیل الرحمان : زندگی کی حسین لہروں سے کھیلنے والا مسافر

آورد بہ اضطرابم اول بہ وجود جز حیرتم از حیات، چیزی نفزود رفتیم، بہ اکراہ، ندانیم چہ بود زین آمدن و بودن ورفتن مقصود (میں اضطراب کی لہروں کے ساتھ اس فانی دنیا میں آیا۔ یہاں حیرتوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ اور جب یہاں سے لے جایا گیا تو یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ یہاں آنے کا مقصد کیا تھا۔ ) ۔ عمر خیام عمر خیام، ان کے نام پر مے خانے بھی بنے۔ سر مستی و

Read more

بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی فلمی گیت نگار قتیلؔ شفائی

ہنسو اور ہنستے ہنستے ڈوبتے جاؤ خلاؤں میں ہمیں پر، رات بھاری ہے ستارو تم تو سو جاؤ تمہیں کیا! آج بھی کوئی اگر ملنے نہیں آیا یہ بازی ہم نے ہاری ہے ستارو تم تو سو جاؤ اورنگ زیب خان المعروف قتیلؔ شفائی ہری پور سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ جب پیدا ہوئے تو اس وقت وہاں علم و ادب کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔ علم و ادب کے ایسے بنجر علاقے میں شاعری۔ ۔

Read more

ایک نیوڈ ماڈل کی داستان

بیچ مانگ کی چوٹی اور ماتھے پر چمکتی سندور بندی والی یہ خاتون تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی بس اسٹاپ پہنچتی ہیں۔ وہ اپنے گھر سے دہلی یونیورسٹی کے آرٹس ڈیپارٹمنٹ تک پورے راستے کھڑکی سے باہر دیکھتی رہتی ہیں۔ پلکیں نہ جھپکنے کے برابر جھپکتی ہیں۔ سوالوں کے چھوٹے چھوٹے جواب دیتی ان خاتون کو دیکھ کر ان کے پیشے کا بالکل بھی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ کرشنا نیوڈ ماڈل ہیں۔ بغیر کپڑوں کے ماڈلنگ کرتی ہیں

Read more

ہٹلر اور ایوا کی داستان محبت؛ چند گھنٹوں کی شادی اور انجام خود کشی

دوسری عالمی جنگ شروع کرانے کا ذمہ دار ہٹلر کو سمجھا جاتا ہے جبکہ ایک کرکٹ میچ نہ جیتنے پر پوری ٹیم کو ہی موت کے گھاٹ اتار دینے کا واقعہ بھی اسی شخص سے منسوب ہے تاہم یہ بات اکثرافراد نہیں جانتے کہ اپنی سنگدلی اور سخت گیری کی وجہ سے مشہور اس انسان کو بھی کسی سے محبت ہوئی تھی اور اس سے بھی کوئی بے انتہا محبت کرتا تھا۔ ایوا برائون نامی لڑکی جو 6فروری1912ء کو میونخ

Read more

پی ٹی وی کے ”100“ مسائل

جب ہم نے پی ٹی وی جوائن کیا تو کچھ ہی عرصے کے بعد یہ ادارہ ہمارے لئے ایک رومانس بن گیا بطور پروڈیوسر جب بھی ہم کوئی پروگرام کرتے تو آئیڈیا کنسٹرکشن سے لے کر فائنل پروڈکشن تک ہمیں ہر شعبے کے تجربہ کار لوگوں سے کنسٹرکٹو ڈبیٹ کرنا پڑتی، کبھی ہم اپنی منواتے تو کبھی ہمیں ان کی ماننا پڑتی۔ کبھی کبھار یہ پروسس بڑا تکلیف دہ ہوتا لیکن اکثر اوقات ہمارے لئے لرننگ کا باعث بنتا، یہی

Read more

مفاہمت کا بادشاہ آصف علی زرداری: ایک قومی سرمایہ

وطن عزیز میں بہت سے سیاسی قد آور شخصیات گزری ہیں، جنہوں نے سیاست کے میدان میں اپنا نام بنایا۔ ان میں سے دو اہم شخصیات شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو دونوں کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے لیکن ایک شخصیت ایسی بھی ہے جو نہ صرف سیاسی بلکہ سماجی، اخلاقی، اصول پسندی، بہادری خواہ ہر محاذ پر فاتح رہا ہے اور یہ کوئی اور نہیں بلکہ قابل محترم جناب صدر آصف علی زرداری ہیں

Read more

نِکا پیروں پہ نہیں کھڑا ہوتا

تیسرے بچے کی پیدائش پر خوب مٹھائیاں بٹیں۔ خواجہ سرا رات بھر ناچے، اگلے ہفتے اس نے نائی سے مسلمانی کا حلف اٹھایا، تو خوشیوں کے شادیانے بجنے لگے اور تیسرا بچہ سب کی امیدوں کا محور بن گیا۔ بنتا کیسے نہیں، پہلوٹی کا بچہ گونگا بہرا نکلا تو دوسرے سے امیدیں باندھی گئیں۔ اس کی آنکھیں بھینگی نکلیں۔ ماں سے بات کرتا تو دیکھ باپ کی طرف رہا ہوتا۔ دادا کو بشارت ہوئی کہ تیسرا بچہ قبیلے کا ”بے

Read more

پائلو کوئلو: گہر ہونے تک

اس سے پہلے کہ کیمروں کی فلیش لائٹس اور ریفلیکٹرز کی نیلی ڈسکو اسٹائل چمک کے بغیر پائلو کوئلو کے قدم اٹھنے سے بیزار ہو جائیں، رپورٹرز اور پاپا رازیوں کے ہجوم کے بغیر اس کا سانس دوبھر ہونے لگے، انٹرویوز، سیلفیاں اور آٹوگراف اس کے لیے زندگی کی اہم ترین خوشیاں بن جائیں اور وہ ایک عام انسان کی طرح عام بے نیاز لوگوں میں اک بے اثر بے نیازی کے ساتھ چل نہ سکے، ا س مشہور زمانہ

Read more

نئے پاکستان کے فروغ بھائی

مرزا صا حب سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے خیال میں محبت شادی سے پہلے ہونی چاہیے یا شادی کے بعد؟ اس پر مرزا صاحب نے ارشاد فرمایا، اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ محبت شادی سے پہلے ہو یا بعد میں، مگر بیوی کو اس کی ہوا بھی نہیں لگنی چاہیے۔ ایک ہمارے فروٖغ نسیم بھائی ہیں جن کی ”بیوی“ وزارت قانون کی وہ کرسی ہے کہ اگر وہ وزیر ہوں یا وکیل، ان سے ان

Read more

دادی جان کی یاد میں

جولائی سن 1976 کی 29 اور 30 کی درمیانی رات تھی۔ اس رات کینیڈا کے شہر مانٹریال میں منعقد ہونے والے اولمپک کھیلوں میں پاکستان اور آسٹریلیا کی ہاکی ٹیموں کے مابین سیمی فائنل کا میچ ہو رہا تھا۔ ہم کچھ دوست کرشن نگر میں باصر کاظمی کے گھر پر ٹی وی پر میچ دیکھنے کے لیے جمع تھے۔ پہلا ہاف مکمل ہو چکا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھول کر دیکھا تو میرا چھوٹا بھائی زاہد تھا

Read more

وراثت میں لڑکی کا حق

اسلام وہ واحد مذہب ہے جس میں عورت کو مذہبی ’سماجی‘ معاشرتی غرض ہر لحاظ سے تحفظ ’عزت و احترام دیا جاتا ہے۔ یہ وہ مذہب ہے جس میں عورت کے حقوق کی نہ صرف بات کی جاتی ہے بلکہ عملی نمونہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا جب حضور ﷺ سے ملنے تشریف لاتیں تو آپ ﷺ تعظیم میں کھڑے ہو جاتے اور اپنی چادر مبارک بچھا دیتے۔ عورت پھر وہ ماں ہو‘ بیٹی

Read more

زرار پیرزادو کے منفرد سندھی کالمز کی کتاب: ”نوٹ کرنڑ جہڑیوں گالھیوں“ (نوٹ کرنے جیسی باتیں )

سندھ کے سندھی زبان میں خدمات انجام دینے والے نامور اور منفرد صحافی اور قلمکار، بلکہ ”صحافی ابن صحافی“ ، زرار پیرزادو، تعلیمی لحاظ سے تو ”ماہر آثار قدیمہ“ (آرکیالاجسٹ) ہیں، مگر عملی میدان میں وہ 90 ء کی دہائی سے سندھی صحافت سے عملی طور پر وابستہ ہیں۔ وہ سیماب مزاج ہرگز ہیں، جس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ اپنے کم و بیش تین دہائیوں پر مشتمل مکمل صحافتی کیریئر میں فقط ایک ہی اخبار

Read more

سچل سر مست سائیں خیر پور بھٹو

پودا لگائیں تو پھل، سایہ، بیج، لکڑی اور کوئلے سے لے کر ہیر ے تک حاصل ہوتا ہے ؛ پودا علم کا ہو یا کسی بھی قسم کا ہو اس کی نمو اور ہیروں کی پہچان کے تمام مراحل اگر عالم کے ہاتھوں سے گزریں تو پھر یہ سلسلۂ علم اور وسیلۂ ملاقات دراصل نوید چشمۂ حیات بنتا ہے۔ منزل مراد تک پہنچنے کی کوششوں میں اگر علم ہی وسیلۂ محبت بنے تو پہاڑ، دریا، سمندر اور کسی بھی قسم

Read more

پیٹرا کی گم گشتہ تہذیب اور صدیوں سے انتظار کرتی کھڑکی!

کرنل صاحب اور ان کی بیگم کو اندیشہ تھا کہ ہمارے تنہا جانے کی صورت میں کہیں ان کی اردنی مہمان نوازی پہ کوئی حرف نہ آ جائےاور اگر ہم ان بھول بھلیوں میں کہیں بھٹک گئے تو پھر کیا ہو گا؟ ہم نے بہتیرا کہا کہ ہم نگری نگری بھٹکنے والے جوگی اور بیراگی لوگ ہیں، ہم خانہ بدوشوں کو ہمارے حال پہ چھوڑ دیجیے۔ مگر صاحب ہماری کہاں سنی گئی۔ انہوں نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی اسلام

Read more

امریکی کانگریس کی خاتون رکن کی صنفی امتیاز کے خلاف تاریخی تقریر

الیگزینڈریا اکوثیا کورتے (alexandria ocasio cortez) المعروف اے او سی تیس سالہ بائیں بازو کی ڈیموکریٹس سے متحرک سیاست دان ہیں۔ امریکی کانگریس کے ایوان زیریں بنام ہاؤس آف ریپریزینٹیٹوز (House of Representative) کے چودہ کانگریشنل ڈسٹرکٹ نیویارک سے سنہ 2018 میں منتخب ہوئیں۔ ڈیموکریٹس کی سیاست روشن خیال اور امریکہ میں بسنے والی تمام اقوام کو لے کر چلنے کی حوالے سے مشہور ہے۔ خود الیگزینڈریا لاطینی امریکی ہیں۔ چودہ گانگریسی ڈسٹرکٹ میں امریکہ کے دو گنجان آباد علاقے

Read more

عدالت میں قتل: دہشت گرد کو بے نام اور بے چہرہ رہنے دو

دہشت گرد کو نام اور چہرے سے محروم کر دینا چاہیے تا کہ معاشرے میں قتل و غارت گری کے علاوہ بھی ہیرو بننے کا کوئی راستہ کھلنے کی امید بن سکے۔ ہماری کہانی اتنی مشکل نہیں ہے۔ کہانی تب مشکل ہو جب ہمارے پاس کچھ تو اچھا بھی ہو۔ لیکن چونکہ کچھ بھی اچھا نہیں ہے، کچھ بھی امید افزا نہیں ہے اس لیے کہانی بہت آسان ہو گئی۔ اس لیے ہمارے مستقبل کی پیش گوئی بالکل بھی مشکل

Read more

5 اگست: کشمیر میں لاک ڈاؤن کا ایک برس

” اور اس فتنے سے ڈرو جو خصوصیت کے ساتھ انھی لوگوں پر واقع نہ ہو گا جو تم میں گنہگار ہیں، اور جان رکھو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔“ سورہ انفال کی یہ آیت پڑھی تو میں ٹھہر سی گئی۔ دوبارہ پڑھی، سہ بار پڑھی۔ اور اس آیت کو موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھنے لگی۔ 5اگست 2020 ء کو کشمیر میں لاک ڈاؤن کو ایک سال مکمل ہو جائے گا۔ ایک سال۔ ۔ ۔ یعنی 365 دن۔

Read more

ٹھرکی بابا کی باتیں

کوئی کالی قمیض ہوندی دل نہیں رج سکدا ٹھرک انج دی چیز ہوندی یہ ماہیے کے الفاظ ہر طرف گونج رہے تھے۔ جب ہم ٹھرکی بابا کے آستانے پر پہنچے۔ کیونکہ ایک معتبر دوست کے حوالے سے ملاقات کا وقت متعین تھا، اس لیے ملاقات اور گفتگو میں دشواری پیش نہ آئی۔ ہمارا پہلا ہی سوال تھا، آپ کو ٹھرکی بابا کیوں کہا جاتا ہے؟ اور پھر علم کے وہ روشن نقطے انھوں نے ہمیں بتائیے جو ہم آج آپ

Read more

ہمارا پردیسی درخت

کسی دور میں ہمارے گاؤں میں ایک فقرہ زبان زد خاص و عام تھا، ”چلو یار ونڑ پر چلیں“ ۔ گاؤں سے باہر سکول کے ساتھ ایک ونڑ کا درخت تھا (یہ ایک باریک پتوں کے ساتھ موٹے تنوں والا اور زمیں کے رخ پر پھیلا ہوا درخت ہوتا ہے، باقی علاقوں میں اسے پتا نہیں کیا کہتے ہیں لیکن ہم اس کو ونڑ کہتے ہیں ہاں البتہ نسیم حجازی کا ناول ”پردیسی درخت“ پڑھنے کے بعد میں نے بھی

Read more

الٹی گنتی

وہ اپنی شادی کی اکیسویں سالگرہ منا رہی تھی۔ سب گھروالوں کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔ کیک سامنے رکھا ہوا تھا۔ انتظار تھا تو بس اپنے بیس سالہ بیٹے اسید کا جو ان کے لیے تحفہ لینے گیا تھا۔ آج کا دن اس کے لیے بہت خاص تھا۔ اسے ہمیشہ سے یہی زندگی چاہیے تھی۔ وہ کامیاب تھی اور اتنا پیارا خاندان تھا اس کے پاس۔ وہ یہی سوچ رہی تھی کہ اس دوران اسے اسید کے نمبر

Read more

کیا عام شہری لاوارث ہے؟

یوں تو معاشرے کے کئی بنیادی اجزاء یا عناصر ہوتے ہیں لیکن جب انسان کسی خاص نظام کے تحت ایک ریاست کے اندر یکجا ہو جاتے ہیں تو وہ اپنی اجتماعی زندگی کے لئے ایک عہد نامہ کرتے ہیں۔ اس عہد نامے کو ہم عام طور پر کسی ریاست کا آئین یا دستور کہتے ہیں۔ آئین کے ذریعے ایک معاشرہ طے کرتا ہے کہ وہاں حکمرانی کا نظام کیا ہو گا؟ حکمران کس طرح چنے جائیں گے؟ انہیں کس کس

Read more

نذیر بھٹی۔ ایک یگانہ روزگار ہندکوان

پشاور کی مٹی کا یہ وصف رہا ہے کہ اس نے ایسے ایسے سپوت پیدا کیے جنہوں نے دنیا بھر میں پشاور کی دھرتی اور ہندکوان کمیونٹی کا نام بلند کیا۔ چاہے سائنس کا میدان ہو کہ مذہب کی تعلیمات ہوں، بھلے وہ کھیل کے میدانوں پہ حکمرانی ہویا پھر ادب و فنون لطیفہ کی سلطنت پہ راج ہو۔ کون سا میدان ہے جہاں پشاوری مردوں، خواتین اور نوجوانوں نے اپنا لوہانہ منوایا ہو۔ ان بے مثل ہندکووانوں میں ایک کثیر الجہت شخصیت جناب نذیر بھٹی کی بھی ہے۔

نذیر بھٹی صاب پشاور سے تعلق رکھنے ولے ایک یگانہ روزگار ادیب تھے جنہوں نے ہندکو، اردو، پنجابی اور پشتو زبانوں میں کئی فلمیں، ڈرامے، کہانیاں، افسانے اور ناول لکھ چھوڑے ہیں۔ گندھارا ہندکو اکیڈمی میں منعقد ہونے والی تقریبات میں ان سے اکثر ملاقات ہوتی تھی اور میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اتنی منکسر المزاج شخصیت زندگی میں نہیں دیکھی۔ درجنوں کتاباں، ڈرامے، ناول اور تحقیقی مضامین وغیرہ لکھنے اور متعدد ایوارڈز سے نوازے جانے کے باوجود ان میں اتنی عاجزی تھی کہ جس کی مثال دی جا سکتی ہے۔

Read more

ٹورانٹو کے دانشور دوست ضمیر احمد کی یاد میں

ایک دفعہ فیض احمد فیض لندن کے اردو مرکز میں اپنے دوستوں کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہے تھے کہ ایک اجنبی تشریف لائے اور کہنے لگے کہ میں نے آپ کی چند نظموں کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ فیض صاحب نے کہا ’سنائیں‘ ۔ جب فیض صاحب نے ان کے ترجمے سنے تو پہلے تو وہ گہری سوچ میں ڈوب گئے پھر فرمانے لگے ’ترجمہ کرنے والے کو کم از کم ایک زبان پر تو عبور حاصل

Read more

میری یادوں میں تم زندہ ہو: ایلن ہملٹن (Alan Hamilton)

”میری یادوں میں تم زندہ ہو“ میرے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ مجھے کبھی ایلن ہملٹن کی یاد میں تعزیتی مضمون لکھنا ہوگا۔ میرے عزیز دوست ایلن ہملٹن جس کے ساتھ میری رفاقت تیس سال پر محیط ہے، نوے برس کی بھرپور زندگی جینے کے بعد ستمبر 2019 کو کینٹ انگلینڈ میں وفات پاگئے۔ لیکن افسوس انتقال کی خبر مجھے ان کی باسٹھ سال سے شریک حیات جوآنا ہملٹن کے ذریعے 23 جنوری 2020 کو ملی۔ ایلن

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل اور نعیم اشرف کا ادبی مکالمہ

معزز قارئین! یہ میری خوش بختی ہے کہ مجھے ڈاکٹر خالد سہیل اور رابعہ الرباء کی پچاس خطوط پر مشتمل کتاب ”درویشوں کا ڈیرہ“ کو انگریزی میں ترجمہ کرنے کا موقع دیا گیا تھا۔ اپریل 2019 ء میں جب یہ ترجمہ مکمل ہو گیا تو باہم مشورے سے انگریزی کتاب کا نام Dervishes Inn رکھا گیا تھا۔ درویشوں کا ڈیرہ اور Dervishes Innکی مشترکہ تقریب رونمائی 14 جولائی 2019 ء کو کینیڈا کے شہر مسی ساگا میں منعقد ہوئی۔ مجھے

Read more

عید قرباں۔ عشق الٰہی کا عظیم مظہر

عید قرباں اسلام کا دوسرا عظیم تہوار ہے جو اپنی اہمیت، فضیلت، معنویت، اور روحا نیت کے حوالے سے منفرد شنا خت اور خصوصیات کا حامل ہے، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا عمل ایک طرف قرب خداوندی رضائے الہی اور پروردگار عالم کی خوشنودی کا با عث ہے تودوسری طرف ہر قدم پر سرفروشی، قربا نی، جاں نثاری اور صبر وشکر سے لبریز ہونے کے پیغام سے سرشار ہے، قربانی ایک ایسا عمل ہے جو امت مسلمہ کی طرح سابقہ

Read more

یہ مقام ہے بابا عشق کا، یہاں ننگے پاؤں چلا کرو

یہ بات سچ ہے کہ کئی دہائیوں کے کڑے اور تھکا دینے والے مسلسل سفرکے بعد اردو غزل کی انگڑائیاں ابھی تک بھی بدستور جاری ہیں۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد وطن کی مٹی کی حفاظت کے لیے جہاں ہر محکمے اور ادارے نے بڑھ چڑھ کر دعوے کیے اور کسی حد تک ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کی وہاں ادب اور ادیب نے بھی اپنے کاندھوں پر لی گئی ذمہ داریاں خوب نبھانے کی

Read more

شکرگڑھ سے ہارورڈ تک: پروفیسر کرن عزیز کا سفر

مہری پور کے چھوٹے سے گاؤں سے ہارورڈ یونیورسٹی تک کا پر شکوہ سفر کچھ یوں تمام ہوا کہ پروفیسر کرن عزیز چودھری نے واپس آکر اپنی دھرتی پر دفن ہوکر اپنے اجداد سے اپنے والہانہ لگاؤ کو زندہ مجسم کر دیا ‎”میرا مالک پروفیسر کرن ورگیاں دھیاں سب نے دیوے او تے مر کے وی بابے انورعزیز دا اگا صاف کرگئی اے” نمازجنازہ کی ادائیگی کے بعد شکرگڑھ کے دو بزرگ دیہاتی آپس میں گفتگو کر رہے تھے اور

Read more

پانی کی سطح

And the spirit of God moved upon the face of the waters۔ ’اور خدا کی روح پانی کی سطح پر جنبش کرتی تھی‘ (بائبل ) ٭٭٭   ٭٭٭ ایک برہمن تھا۔ ایک مسلمان، ایک دلت تھا۔ شہر میں درخت لگانے کے ساتھ ساتھ جانوروں کی حفاظت کے لئے ’باڑ‘ یا فارم بنائے جا رہے تھے۔ یہ کہانی وہیں سے نکلی، جہاں کانٹا چبھنے کے بعد ایک ننہا برہمن طیش میں آ گیا اور کانٹوں کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کرنے

Read more

ثریا اور شرافت

کیتلی میں ابھی چائے انڈیلی بھی نہ تھی کہ دروازہ بجا اور والدہ کی آواز گونجی، دیکھ بیٹی شام ہوگئی ہے تیرے چچا آئے ہوں گے ۔ دوپٹا درست کرتے، بڑے قدم اٹھاتے، بہت سی دعاؤں کے ساتھ میں مین گیٹ تک پہنچی اور دروازہ کھول دیا۔ واہ! آج تو ثریا بٹیا حقیقت میں ثریا کی مانند چمک رہی ہے۔ میں نے سلام عرض کیا ان کو اندر لائی اور افسردہ نگاہوں سے دروازہ بند کر دیا آج بھی چچا

Read more

برصغیر کی آزادی میں پختونوں کا کردار

کسی بھی قومیت کو تضحیک کا نشانہ بنانا انتہائی ناپسندیدہ فعل ہے۔ اگر ایسے عوامل پیدا کیے جائیں، جس سے کسی بھی لسانی اکائی کے خلاف مذموم سازش کی بدبو اٹھے تو سمجھ جانا چاہیے کہ لسانی اکائیوں کے درمیان نفرت کی فصل کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔ معروف پبلشر کی چھپی ’سات بیوقوف آدمی‘ کے عنوان سے فرضی کہانی نصاب کی کتاب میں شائع کی گئی اور ناقدین کے مطابق اس نسلی امتیاز ’پر مبنی کہانی کو خیبر

Read more

رجائیت کی پیام بر۔۔۔ڈاکٹر نگہت نسیم

ڈاکٹر نگہت نسیم کا شمار ادو شعروادب کی نمایاں شخصیات میں ہوتا ہے۔ اردو شاعری سے بھی پہلے انھوں نے اردو افسانے میں اپنے تخلیقی جوہر دکھائے۔ فرد اور معاشرے کی نفسیات پر گہری نظر رکھنے کے باعث ان کی تحریروں میں شعور اور لاشعور کی گرہیں کھلتی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے افسانوں کے کردار افسانوی دنیا کی بجائے حقیقی دنیا کے کردار ہیں جو اردگرد کے ماحول سے کشید کیے گئے ہیں۔ ڈاکٹر نگہت نسیم کی شاعری میں

Read more

آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی

یوں تو فیض صاحب نے عبادت کا سودا سویرے سویرے نہیں کیا تھا مگر عصر حاضر کی سب سے بلند قامت دعا اسی مرد حر نے مانگی تھی،

آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی

ہم جنہیں رسم دعا یاد نہیں

ہم جنہیں سوز محبت کے سوا

کوئی بت کوئی خدا یاد نہیں۔ ۔ ۔ الخ

فیض احمد فیض ایک مہذب شاعر گزرے ہیں، انہوں نے ہر شے کو تمیز کی نگاہ سے دیکھا، مقید ہوئے تو جیل کی سلاخوں کو ادب سے تھاما، صرف اخلاقی ادب ہی نہیں جیل کی سلاخیں ان کے اردو ادب سے بھی مستفید ہوئیں۔ سچ ہے کہ کم صلاحیت والوں میں اگر کوئی باصلاحیت فرد نازل ہو تو اس کی صلاحیتوں کے اعتراف میں اسے کال کوٹھڑی ضرور دکھائی جاتی رہی ہے تاکہ اس عبرت کے نشان سے عبرتوں کی لو پھوٹے اور کوئی ہم سا سامنے نہ آئے، آئے بھی تو عبرت کا بوجھ کاندھوں پر لاد کر آئے کہ ہمیں کام چہار دن کی زندگی میں اور بھی بہت ہیں۔

Read more

خوابوں کو تھامے رکھنا

خواب وہ بیش قیمت اثاثہ ہوتے ہیں جو آنکھوں میں امید و بیم کی سحر بن کر زندگی کو مقصد کی کرنوں سے منور کرتے ہیں اور اپنے وجود کی خو شبو سے زندگی میں جستجو کی مہک رچاتے ہیں۔ خوابوں سے خالی دل اس بے ثمر زمین کی مانند ہے جس پر لاکھ ابر برسے اس کی بانجھ مٹی کبھی شجر حیات کو بارور نہیں کر پاتی۔ یہ تو طے ہے کہ بہت سے نوجوانوں کی آنکھوں میں خوابوں کا ایک گلستاں آباد ہوتا ہے جہاں وہ باغبان کی صورت اپنے روشن مستقبل سے جڑے خوابوں کی کونپلوں کو امید کے جذبے سے سینچتے اور محبت سے انہیں پروان چڑھاتے ہیں۔

لیکن یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ خوابوں کی تعمیر کا راستہ کبھی بھی سہل نہیں ہوتا، یہ صحرا میں اس آبلہ پا مسافت کی مانند ہے جس میں جان کو پگھلانا پڑتا ہے۔ درحقیقت یہ خواب اس سوداگر کی سی ہیں جو خوابوں کی نگری کے مسافر سے سخت مشقت اور عزم مصمم کے روپ میں اپنی قیمت وصول کرتے ہیں۔ چنانچہ ہر مسافر کو یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ چند رکاوٹوں اور ناکامیوں کو اپنی مستقل ہار سمجھ کر اپنے خوابوں کو آنکھوں میں ہی توڑ ڈالنا ہے یا مشکلات کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہوئے اپنے حصے کا کام جاری رکھنا ہے۔ خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کی سچی لگن جب بلند و بالا ہوتی ہے تو خدائی بھی ساتھ دیتی ہے اور تب جا کر کامیابی کے ستارے مقدر میں روشنی بکھیرتے ہیں اور خوابوں کی کشتی اپنی سنہری منزل کے کنارے جا لگتی ہے۔

Read more

امریکہ اورکنیڈا سے پاکستان بھیجی گئی امداد حاصل کرنے کا طریقہ

انسان جہاں پیدا ہوتا ہے اس جگہ سے محبت ایک فطری عمل ہے اسے نہ تو کوئی طاقت کے زور پر چھین سکتا ہے اور نہ کسی ظلم یا جبر کے ذریعے۔ اچھے مستقبل اور بہتر روزگار کی کوشش کون نہیں کرتا اور جب کوئی اس کوشش میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے نہ صرف وہ اپنے فیملی کی مدد کرتا ہے بلکہ اپنے ملک اور اس میں رہنے والے تمام شہریوں کی بھی مدد کرتا ہے۔ پاکستان

Read more

نوشابہ کی ڈائری: مشرقی پاکستان اور کنفیڈریشن کا ذکر

دل کی عجیب حالت ہے، خوش بھی افسردہ بھی۔ باجی جو شادی ہوکر حیدرآباد جارہی ہیں۔ مجھے سمجھا رہی تھیں ”ارے یہ تو رہا حیدرآباد، جب ملنے کو دل چاہے امی کے ساتھ صبح آنا شام کو واپس چلی جانا۔“ کتنا بھی قریب ہو ہے تو دوسرا شہر نا، پھر ہمارے گھر میں ٹیلی فون بھی نہیں کہ جب بات کرنے کو دل کیا فون ملالیا۔ چھوٹی خالہ کے ہاں فون ہے، کتنا مزا آتا ہے رانگ نمبر ملاکر بات

Read more

لاک ڈاؤن والے بارہ ہزار

عنایا نے گھر کے دروازے سے ہوتے ہی زور سے سلام کیا ہی تھا کہ اماں نے اسے زور سے گلے لگایا۔ ارے اماں رکیں باہر سے آئی ہوں ہاتھ منہ دھو کر آتی ہوں پتہ تو ہے آپ کو وبا کا۔ ارے بیٹی بھلا ہو اس موئی بلا کا اماں بلا نہیں وبا ہاں ہاں وہی وبا کا۔ ادھر آ تجھے ایک خوشی کی بات بتاؤں، ایساکیا ہوگیا اماں جو آپ اتنی خوش ہیں؟ بیٹا آج مجھے 12 ہزار

Read more

دار الامان: بیمار معاشرے کی ٹیسٹ رپورٹ

شنو نے اسے سیدھا کر کے لٹایا اور برابر والے بیڈ پہ بیٹی کو لے کر بیٹھ گئی۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد بسمہ نیند میں سسکیاں لینے لگتی ہلکی آواز میں کچھ بڑبڑاتی بھی تھی شنو چونک کے اسے دیکھتی مگر وہ گہری نیند میں تھی۔ اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔ ایک گھنٹے تک تو شنو بیٹھی رہی پھر اکتا گئی دروازہ کھول کے باہر چلی گئی اور باہر سے کنڈی لگادی۔ کام وام نپٹا کر

Read more

بے حیا بلیاں ریپ ہی کرواتی ہیں

بلی کا ریپ۔ ہاہاہاہا۔ ہنس لیں۔ اس میں افسردہ ہونے والی کوئی خاص بات تو نہیں ہے۔ شاید ہمارے ہاں تو ہر گز نہیں۔ ان معاشروں میں افسردگی، افسوس ہوتا ہو گا۔ جہاں لوگ ماں باپ کو اولڈ ایج ہوم مین چھوڑ دیتے ہیں۔ یا حرام کی نسل کو بھی انسان سمجھ کر پال لیتے ہیں۔ ویسے ایک بابا یہاں بھی ہوتا تھا۔ جو کہتا تھا کہ میں حرام کے جنے پالتا ہوں۔ اب نہیں رہا وہ۔ کچھ تو بے حیائی کم ہو گئی ہو گی۔

ہمارے ہاں تو کم سن بچے بچیاں ریپ ہوئے کوڑے کے ڈھیر سے ملتے ہیں۔ یہ تو پھر بھی ایک بلونگڑا ہے۔ ویسے بھی ایک گھر کی پالتو بلی۔ آخر اس کا قصور ہو گا۔ کس نے کہا کہ ہر وقت آوارہ بے دھڑک گھومے وہ بھی دھڑلے سے۔ جو پیار سے بلائے اس کی گود میں لیٹنے لگ جائے۔ اس کے پاؤں میں اٹکھیلیاں کرے۔

Read more

سونو پنجابن: دلی کی بدنام زمانہ سیکس ریکیٹ کی سرغنہ جس نے جسم فروشی کو ’عوامی خدمت‘ قرار دیا

ہریانہ پولیس کے سامنے جب ایک 17 سالہ لڑکی شکایت درج کرا رہی تھی اس وقت دلی کی بدنام زمانہ سیکس ریکٹ کی سرغنہ سونو پنجابن زیر حراست تھیں۔

Read more

جان لیوا عارضے میں روح پرور معالجے کا تکمیلی احوال

محمد بلال کے رخصت ہوجانے کے بعد سر شام جب ہم جانے والے تھے تو باجی گریس آ گئیں، گوری، دبلی اور سی سی ٹی وی کیمرے کی آنکھوں والی۔ چلتی پھرتی سی۔ آئی۔ اے۔ چند دن قبل اسی وجود ناتواں نے مریض کے لیے اس کے بچپن کے ایک دوست جو وہاں طالب علم تھا اور اس کی بیوی کا کینیڈا سے آنا جانا، ہوٹل میں قیام کے اخراجات دے کر انہیں تین دن کے لیے مریض کی دل

Read more

شینا ملوانی: ٹک ٹاک سٹار کے ’وائرل‘ قہقہے اور ان کے شوہر کے مزاحیہ تبصرے سوشل میڈیا پر مقبول

پیانو بجاتی شینا ملوانی آج کل نہ صرف ایک ٹک ٹاک سٹار ہیں بلکہ انٹرنیٹ پر ان کے آواز، ہنستے چہرے سمیت ان کے ’انڈین والد‘ کے جیسے شوہر کی بھی خاصی شہرت ہے۔

Read more

نانی کی داستان گوئی اور کھوئی والی گل

کمیپیوٹر پر اپنے پسندیدہ پرانے گانوں کی پلے لسٹ لگا کر میں نے کرسی کا رخ کھڑکی کی طرف کر لیا۔ شام کے دھندلکے میں برف سے ڈھکی سڑک۔ سڑک کے پار تالاب۔ ارد گرد گھومتی پگڈنڈی۔ ٹنڈ منڈ پودے موٹی برف کی تہہ میں دبے ہوئے اور گرتے ہوئے برف کے گالے عجب بہار دے رہے تھے۔ برف باری بوندا باندی میں بدل گئی۔ سڑک پر لگے اونچے کھمبے پر بلب روشن ہوگیا۔ گرتے ہوئے چمکتے موتی لگنے لگے۔

Read more

طالبان بیٹے کی ماں

وہ میرے آفس میں کام کرنے آیا تھا۔ لانبے قد کا دبلا پتلا خوبصورت سا لڑکا تھا وہ۔ عمر بائیس تیئس سال سے زیادہ نہیں رہی ہوگی۔ آفس میں اوپر کا کام کرنے کے لیے ایک پھرتیلے بندے کی ضرورت تھی، صفائی ستھرائی، کپڑا مارنے کے لیے، چائے بنانے کے لیے، باہر سے سموسے، جلیبی اورپھل لانے کے لیے اور اسی قسم کے دوسرے روزمرہ کے کام کرنے کے لیے، وہ پھرتیلا ہی ثابت ہوا تھا اور بہت پھرتی کے

Read more

بیٹوں سے خوفزدہ مائیں

پاکستان نوجوانوں کا ملک ہے اور نوجوان ماؤں کو مار رہے ہیں۔ کچھ ہی دن ہوئے ایک بزرگ اور غریب ماں احساس پروگرام سے ملنے والے 12 ہزار روپے مٹھی میں دبائے گھر جا رہی تھی کہ بیٹے نے یہ رقم چھین کر ماں کو قتل کر دیا۔ واقعہ معمولی نہیں۔ ماں اور بیٹے کی محبت پر ہزاروں سال سے لکھے گیت اور لوریاں جلانے جیسا سانحہ ہے۔ واقعہ نہیں ہمارے نوجوانوں کی نفسیات میں ایک بگاڑ کی نشاندہی سمجھیں۔

Read more