بائیس برس بعد جنت سے ابا کا پہلا خط
ایک خط آیا ہے ہمارے نام! بے پناہ محبت سے گندھی ہوئی سطریں کسی مضراب کی طرح روح کی تاروں کو ایسے چھیڑتی ہیں کہ آنکھ کے ساکت پانیوں میں طغیانی آ جاتی ہے اور وہ بے شمار بھولی بسری یادیں ملتجی نظروں سے ہمیں یوں دیکھتی ہیں گویا اس قفس سے رہائی چاہتی ہوں۔ جان پدر! بہت ہفتوں سے دل چاہ رہا تھا کہ تمہیں خط لکھوں بالکل ویسے ہی جیسے کبھی تمہاری طالب علمی کے زمانے میں ہفتہ
Read more

























































































