جنرل طارق خان کا خواب

کسی سیانے نے سمجھایا تھا کہ جو افسر اپنا سٹریٹجی پیپر کہیں سے کاپی پیسٹ کرنے کے بجائے خود لکھے، اس سے ڈرا کرو۔ بڑا ہو کر اسلم بیگ بنے گا۔ ریٹائرڈ فوجی لکھاریوں سے بچپن میں ہی خوف آنے لگا تھا: محمد حنیف کا کالم

Read more

نبیل قریشی کی ”کھیل کھیل میں“ ، مستنصر حسین تارڑ صاحب کی ”راکھ“ اور تاریخ پاکستان

’میں تمہیں موٹی عقل کا مالک اس لئے کہتا ہوں کہ تم بنیادی طور پر ایک ذہین انسان ہونے کے باوجود تاریخ کا شعور نہیں رکھتے۔ تم نتیجہ اخذ نہیں کر سکتے۔ ایک وہ تاریخ ہے جو تمہیں نرسری سے پی ایچ ڈی تک پڑھائی جاتی ہے اور ایک ادھر دوسری تاریخ ہے جس کے بارے میں تمہیں لاعلم رکھا جاتا ہے۔ تم اسے جان نہیں سکتے، اس کا ذکر نہیں کر سکتے۔ اگر کرو گے تو پوری اسٹیبلشمنٹ کمر

Read more

سیالکوٹ میں قتل: یہ ایک جرم نہیں، قومی مزاج کا پرتو ہے

سیالکوٹ میں لاقانونیت کے ایک واقعہ پر وزیر اعظم اور آرمی چیف کی مذمت اور قصور واروں کو عبرت ناک سزائیں دینے کے بیانات سے کیا یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ پاکستانی حکومت اور ریاست ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے پر آمادہ ہے اور مذہب کی آڑ میں انسانی جانوں کو ضائع کرنے کا طریقہ قومی سطح پر ناقابل قبول عمل کہلائے گا؟ بادی النظر میں یہ قیاس کرلینا ممکن نہیں ہے۔ پاکستان میں توہین مذہب کے شبہ میں

Read more

سیالکوٹ واقعہ ہماری اجتماعی غلطیوں اور پالیسیوں کا تسلسل ہے

جمعے کے روز سیالکوٹ میں ایک مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں ایک غیر ملکی شہری کو تشدد کر کے ہلاک کرنے کے بعد اس کی لاش کو آگ لگا دی تھی۔ ہلاک ہونے والے شہری کی شناخت پریانتھا کمارا کے نام سے ہوئی ہے۔ پریانتھا کمارا سری لنکن شہری تھے۔ یہ سیالکوٹ کے وزیر آباد روڈ پر واقع ایک نجی فیکٹری میں بحیثیت جنرل مینیجر کے خدمات انجام دے رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے

Read more

’ریلیکس میجر، گولی مت چلانا‘: 12 اکتوبر کی یادیں

بی بی سی نے12 اکتوبر 1999 کو نواز شریف حکومت میں شامل ایک وزیر سے بات کی جنھوں نے دعویٰ کیا کہ اکتوبر 1999 سے ایک ماہ پہلے چند ایسے واقعات ہوئے جن سے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی کابینہ کے ارکان اور خود نواز شریف کو بھی یہ عندیہ مل گیا تھا کہ فوج انھیں برطرف کرنے والی ہے۔

Read more

احمدیت کے بارے میں برداشت کی روایت کیوں ختم ہوئی؟

ڈاکٹر صوفی محمد ضیا الحق صاحب گورنمنٹ کالج لاہور میں عربی کے صدر شعبہ تھے۔ وہ عربی زبان، بالخصوص عباسی عہد کی عربی کے بہت جید عالم تھے۔ اتنے بڑے عالم ہونے کے باوجود صوفی صاحب لکھتے نہیں تھے۔ جب کبھی طالب علم ان سے استفسار کرتے کہ آپ لکھتے کیوں نہیں ہیں تو صوفی صاحب بڑے مزے کا جواب دیا کرتے تھے۔ فرماتے قرآن حکیم میں اللہ نے کہا ہے اقرا۔ اللہ نے پڑھنے کا حکم دیا ہے، لکھنے

Read more

کپتان اور بھٹو کے ایٹمی پلان کا آخری حصہ

بھارت نے جب 1974 میں پوکھران میں ایٹم بم کا تجربہ کیا تو دنیا چونک اٹھی۔ مگر اس ایٹمی دھماکے کا باقی دنیا سے کہیں زیادہ بڑا جھٹکا پاکستان کو پہنچا جو ابھی تین برس پہلے ہی بھارت سے شکست کھا کر آدھا ملک گنوا بیٹھا تھا۔ خوش قسمتی سے اس وقت ایک زیرک اور اولوالعزم سیاست دان ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کا وزیراعظم تھا۔ بھٹو نے ٹوٹے ہوئے حوصلے والی قوم سے ایک ولولہ انگیز خطاب کرتے ہوئے اپنا

Read more

عبدالستار ایدھی۔۔۔ جیسا میں نے انہیں دیکھا

(8 جولائی کو عبدالستار ایدھی صاحب کو ہم سے رخصت ہوئےسات برس ہو گئے۔ ایدھی کے بارے میں ڈاکتر شیر شاہ سید کا زیر نظر مضمون یکم ستمبر 2021 کو ہم سب پر شائع ہوا تھا۔ اس عظیم انسان کی یاد میں اشاعت مکرر حاضر ہے) ٭٭٭      ٭٭٭ میں نے فیصل ایدھی سے کہا کہ مجھے ایدھی صاحب کے پہنے ہوئے کپڑوں کا ایک جوڑا چاہیے۔ ایدھی صاحب ہمیشہ ملیشیا کے کپڑے سے سِلا ہوا کالے رنگ کا پاجامہ اور

Read more

ضیاالحق کا یوم وفات: ’سی 130 کریش ہو چکا تھا۔۔۔ میں نے کپتان کو کہا سیدھے راولپنڈی چلو‘

’سامنے دھواں نظر آ رہا تھا، اگلے ہی لمحے ہمارا طیارہ اس کے نزدیک پہنچ چکا تھا۔ وہاں ایک ہیلی کاپٹر بھی اُتر رہا تھا، ہیلی کاپٹر کے پائلٹ سے رابطہ کیا تو اُس نے بتایا کہ ’پاکستان ون‘ (سی ون تھرٹی) کریش ہو گیا ہے اور کوئی نظر نہیں آ رہا۔‘

Read more

پاکستان میں طالبانی نظام چاہنے والوں کے نام

چند برس پہلے سرکاری سطح پر الجزائر جانے کا اتفاق ہوا۔ شمالی افریقہ میں واقع یہ ملک کافی عرصہ تک فرانس کی کالونی رہاہے۔ وہاں فرانسیسی زبان عمومی سطح پر بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ یہ ایک مکمل سرکاری طرز کا دورہ تھا۔ قاعدے اور ضوابط کے مطابق وہاں کی وزارت خارجہ نے تمام وفد کو دوپہر کے کھانے پر مدعوکیا۔ یہ حد درجہ قرینے اور شائستگی سے بھرپور ضیافت تھی۔ الجزائر کے اعلیٰ افسران جن میں مرد اور خواتین

Read more

اقتدار کی مجبوریاں اور جنرل اسلم بیگ کی دروغ گوئیاں

جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ ہماری تاریخ کا ایک اہم کردار ہیں۔ جنرل صاحب کے کریڈٹ پر بلا شبہ سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو صدر ضیاء الحق کے طیارہ حادثے کے بعد اقتدار سویلین حکومت کو لوٹانے کا کارنامہ بہرطور جاتا ہے۔ جنرل صاحب اس وقت وائس چیف آف آرمی سٹاف تھے اور اور اگر وہ چاہتے تو اپنے آپ کو چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر ترقی دے کر کر ملک کی عنانِ اقتدار سنبھال لیتے مگر

Read more

جب نواز شریف نے اپنی پارٹی قیادت کے خلاف بغاوت کی

یہ بات اس ہنگامی اجلاس کی ہے جب نواز شریف نے جونیجو کو مخاطب کر کے کہا ’سائیں، لوگ سخت غصے میں ہیں، ان کو ٹھنڈا کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آپ استعفیٰ دے دیں۔‘

Read more

ہم گٹر کے پانی پر پلنے والی اقلیت ہیں، مائی باپ!

11 اگست کو اقلیتوں کے قومی دن کے موقع پر ہمارے قومی میڈیا نے مژدہ سنایا ہے کہ عمران خان کے فلاحی ریاست کے ”ویژن“ اور وزیر اعلی پنجاب کی متحرک ”قیادت“ میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے ترقیاتی بجٹ میں 5 گنا اضافہ کیا گیا ہے۔ ہماری کم عقلی و کوتاہ بینی ہے کہ ”ویژنری“ وزیر اعظم کی موجودگی اور ”متحرک“ وزیر اعلی کی ”اعلی قیادت“ میسر آنے کے باوجود ہم ابھی تک

Read more

محمود خان اچکزئی: عظیم باپ کا عظیم بیٹا

اس خاندان نے شہادتیں دیکھی۔ قبائلی دشمنیاں برداشت کیں۔ آزادی پاکستان سے پہلے انگریزوں کے ظلم و ستم اور جیل کی کوٹھریوں کا سامنا کیا جبکہ آزادی کے بعد جنرل ایوب خان جیسے مسلمانوں کا ظلم اور سالوں جیل کی سختیاں جھیلیں۔ لیکن اپنی قوم اور وطن کے لئے چنے گئے راستے سے نہیں ہٹے۔ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی تمام زندگی ضد استبداد، ضد استعمار، لوگوں کے حقوق کی حفاظت، میڈیا کی آزادی اور جمہوریت کی آبیاری میں

Read more

اقتدار کی مجبوریاں

یوں تو ہر آرمی چیف کے سینے میں بہت سے اہم راز دفن ہوں گے مگر جنرل مرزا اسلم بیگ کا دور اس لحاظ سے اہم ہے کہ ان کی مدت ملازمت کے دوران ملک اور خطے میں انتہائی اہم سیاسی اور اسٹریٹیجک تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ شاید اسی لیے جنرل اسلم بیگ کی سوانح حیات مارکیٹ میں آئی تو بہت سے اہم کالم نگاروں نے اس کو اتنی توجہ دی۔ اس کتاب پر تبصرے کے لیے لکھے گئے کالم پڑھے

Read more

جنرل مرزا اسلم بیگ کی مجبوریاں

اگر کسی مجبوری کے تحت آپ کو اقتدار کی مجبوریاں پڑھنی پڑھ جائے تو میری طرح شاید آپ کے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہو کہ اللہ وہ دن ہم سب پر لائے جب ہم اپنے باس کو کہہ سکیں اللہ حافظ، میں تو اپنے جہاز پر جا رہا ہوں: پڑھیے محمد حنیف کا کالم

Read more

عمران خان زندہ باد

یہ سب اللہ پاک کا نظام قدرت ہے۔ وہی جسے چاہے بادشاہ بنا دے اور جسے چاہے ذلیل اور رسوا کر دے۔ ساری بڑائی اللہﷻ کو ہی کو سزاوار ہے۔ حالات اور واقعات وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں جو اچھے بھی اور بُرے بھی ہوتے ہیں۔ اچھے حالات ہماری اچھائیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں اور حالات کا بگڑ جانا یا خراب ہو جانا بھی ہمارے ہی اعمال کی شامت ہوتی ہے ہم پاکستانی ہیں اور ہمارے حالات پچھلی چار

Read more

جمہوریت کی فیصلہ کن طاقت

کم از کم وہ زمانہ اب نہیں رہا جب خوف ہی سب سے بڑا ہتھیار تھا اور یہ ہتھیار اسی لئے کارگر تھا کہ شعور اور باخبری نہ تھی۔ تاریخ یہی سمجھا رہی ہے کہ شعور کی فراوانی خوف کو ہمیشہ توڑ کر رکھ دیتی ہے اور ایسا بارہا ہوا بھی ہے۔ لیکن اگر ارتقائی حقائق اور بدلتے ہوئے زمانے کا ادراک نہیں کیا جا رہا ہے تو اسے اندیشوں بھرے خوف کے ساتھ دیکھا جائے گا کیونکہ سامنے کے

Read more

بھٹو، عمران اور صحافی

پاکستان کے بہت سے سیاسی مدبرین، تجزیہ نگار، محققین اور پڑھے لکھے لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ قائد اعظم کے بعد اگر پاکستان میں کوئی لیڈر پیدا ہوا ہے تو وہ ذوالفقار علی بھٹو ہے اور کیوں نہ ہو۔ شکست خوردہ قوم کی ڈھارس باندھنا، آئین پاکستان، 90 ہزار قیدیوں کی وطن واپسی، قوم کو سیاسی شعور دینے کی کوشش کرنا، ایٹمی پلانٹ کی بنیاد رکھنا اور بہت کچھ۔ مگر ان سب چیزوں کے باوجود جب ملک میں

Read more

شہزاد اکبر سے ان کا عقیدہ کیوں نہ پوچھا جائے؟

اس ملک کو سب سے زیادہ نقصان تو قائداعظم محمد علی جناح نے پہنچایا ہے۔ ان کی بدنام زمانہ تقریر جو انہوں نے پاکستان بننے سے چند دن قبل یعنی گیارہ اگست کو آئین ساز اسمبلی کے اجلاس میں کی تھی، بہت نقصان دہ تھی۔ اس تقریر نے دو قومی نظریہ، جماعت اسلامی اور نوائے وقت کو بہت پریشان کیا۔ یہ تقریر ریکارڈ پر لانے کے قابل ہی نہ تھی۔ جماعت اسلامی اور نوائے وقت نے جذبہ حب الوطنی سے

Read more

ایوب خان کا مضحکہ خیز ایبڈو قانون اور سیاسی محرومیوں کا نکتہ آغاز

ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے چند ہی ماہ کے بعد الیکٹیو باڈیز ڈسکوالیفیکیشن آرڈر نامی ایک قانون نافذ کیا جس کے تحت سیاستدانوں کی ایک بڑی تعداد یا تو نااہل ہوئی یا یا انھوں نے رضاکارانہ طور پر نااہلی قبول کی۔

Read more

پاک بھارت تعلق کی گانٹھ: جے رام اور اللہ اکبر

پچھترویں یوم آزادی کے حوالے سے ہندوستان ٹائمز کے سیاسی ایڈیٹر اور میرے دیرینہ دوست ونود شرما نے مجھے درخواست کی کہ "پاکستان کیسے بھارت کو دیکھتا ہے” کے حوالے سے ایک مضمون لکھوں. میں نے اس سے کہا کہ بھئی اس کا دار و مدار اس پر ہے کہ آپ کس نگاہ سے بھارت کو دیکھتے ہیں. ہر ایک کا اپنا اپنا نکتہ نظر ہے. ایسے میں مجھے اپنے دوست اور نہایت عقابی کالم نگار عبدالقادر حسن مرحوم یاد

Read more

اسلم بیگ نامہ

پاکستان میں وزرائے اعظم، صدور اور اعلی عہدے پر فائز دیگر اہم شخصیات کے علاوہ چند سیاست دانوں نے بھی اپنی زندگی کے تجربات اور دیگر اہم واقعات کو کتابی شکل دے رکھی ہے۔ ایسی کتابوں میں درج مواد مصنف کی عملی زندگی میں پیش آنے والے واقعات سے تھوڑا بہت مختلف ہوتا ہے۔ کیوں کہ کتاب لکھتے وقت مصنف صرف وہی مواد درج کرتا ہے۔ جو اس کے مثبت تشخص کو اجاگر کرتا ہے۔ ایسی کسی بات یا واقعے

Read more

جب ”بابا“ کے ہاتھوں ”بے بی“ کی حکومت برطرف ہوئی

ذکر ہے 6 اگست 1990 ء کی ایک حبس زدہ سہ پہر کا، اسلام آباد میں ظاہری طور پر تو سب کچھ معمول کے مطابق لگ رہا تھا لیکن اسی شہر خوباں کی خاموش فضا سمے کی رینگتی ساعتوں کو کچھ انہونی کا مژدہ سنا رہی تھی، ساڑھے تین بجے سہ پہر دارالحکومت کے کچھ علاقوں سے فوج کے دس، بارہ ٹرک گزرتے دکھائی دیے جن کے آگے ایک جیپ رواں دواں تھی، جیپ اور ٹرکوں میں سوار فوجیوں نے اپنی مشین گنوں کو الرٹ انداز میں اٹھا رکھا تھا اور ان کی انگلیاں ٹریگر پر تھیں، یہ قافلہ ایف 8 سے ہوتا ہوا بلیو ایریا کے اس میدان میں رک گیا جہاں کچھ عرصہ قبل قومی صنعتی نمائش منعقد ہوئی تھی، سوا چار بجے یہاں سے فوجی دستوں کو طے شدہ ٹھکانوں پر تیزی سے پہنچنے کا حکم ملا۔

Read more

کیا کراچی سیاسی لاوارث ہے؟

پاکستان کے سب سے بڑے بندر گاہ والے شہر کراچی کی اپنی ایک شناخت رہی ہے، کراچی، فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے زمانے تک ایک پڑھا لکھا، جدید اور ماڈرن شہر مانا جاتا تھا جو پاکستان کے دوسرے بڑے شہروں سے قطعی مختلف تھا، یہاں برازیل کے ریوڈی جنرو یا انڈیا کے ممبئی کی طرح جدید فیشن، اعلی تعلیمی ادارے، میڈیا ہاؤسز، صنعتیں، ساحل، روشنیوں کا سیلاب، اسپورٹس۔ غرض جدید شہروں والا ایک شاندار ماحول ہوا کرتا تھا۔ اور جیسا کہ ساحلی شہروں میں ہوتا ہے، کراچی کی صنعتی ترقی سارے ملک سے لوگوں کو اپنی جانب کھنچنے لگی

Read more

قصہ میجر جنرل صاحب سے جھڑپ کا – ”تندی باد مخالف“ قسط۔ 2

چھمب کے جھمیلے میں ابھی مقام آہ فغاں اور عشق کے امتحاں اور بھی تھے۔ اگست 1978ء کے دوسرے ہفتے، نائب کماندار کا ٹیلیفون آیا کہ ڈیو کمانڈر (جی او سی) جنرل افسر کمانڈنگ تم سے ملنا چاہتے ہیں۔ وہ کل بیس بریگیڈ میں تشریف لائیں گے، تم صبح نو بجے وہاں پہنچ جانا۔ یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ کس سلسلے میں مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ جنرل صاحب کا نام سن رکھا تھا، ان سے بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ 20 بریگیڈ ہمارے ہی ڈویژن میں تھا۔

Read more

پاکستان میں ایلیٹ خاندان کیسے اجارہ دار بنے؟

وزیر اعظم عمران خان نے بہ روز منگل اسلام آباد میں سہگل خاندان کے تحت منعقدہ تقریب میں تاریخی جملہ کہا: جب رولنگ کلاس چوری کرنے لگے تو ملک تباہ ہوجاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی یہ کلاس یعنی حکمران طبقہ کیسے وجود پذیر ہوا اور اس کا ارتقاء کیسے ممکن ہوا۔ پاکستان میں سرمایہ دارانہ جمہوریت کے ارتقاء کے نتیجے میں جو بالاتر طبقات اشرافیہ کی صورت میں پیدا ہوئے ہیں ان کا جائزہ لینے کے

Read more

بائیڈن کے فون کا انتظار کیوں؟

پولیس کی لاٹھی سے میرا جسم پہلی بار جب آشناہوا تو میں چھٹی جماعت کا طالب علم تھا۔ اپنے گھر سے رنگ محل مشن ہائی سکول جانے کو روانہ ہوا تو راستے میں تاریخی مسجد وزیر خان آئی۔ وہاں غصے سے بپھرا ہجوم موجود تھا۔ امریکی میگزین ”ٹائمز“ نے اس ہفتے اپنے صفحۂ اول پر ایک تصویر چھاپی تھی جو گستاخانہ ہونے کے سبب ہمارے مذہبی جذبات بھڑکانے کا سبب ہوئی۔ احتجاج کے اظہار کے لئے مشتعل ہجوم نے لاہور کے میوہسپتال کے پچھواڑے سے ہائی کورٹ تک جانے والی سڑک پر جانے کا فیصلہ کیا۔ راستے میں ”بینک سکوئر“ آتا تھا۔ وہاں امریکی حکومت کے مرکز اطلاعات کا دفتر بھی تھا۔

Read more

جینیٹک لاٹری اور پاکستانی سیاست

ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں عوامی رہنماؤں کی جو خوبیاں بتائی جاتی ہیں، یا دنیا کے عظیم رہنماؤں میں جو خوبیاں پائی جاتی ہیں، ان میں قد کا اونچا ہونا، تقریر کرنے کا فن ہونا، اپنے آپ پر بلا کا اعتماد ہونا، دیانتدار ہونا اور اپنے وژن کا مالک ہونا اور ہر حالت میں اپنے نظریے پر قائم رہنا شامل ہیں۔ دنیا کے تمام مہذب معاشروں میں یہ چلن ہے کہ عوامی لیڈر بننے کرنے کے لئے ضروری

Read more

جنرل صاحب، معذرت کے ساتھ

اقتدار میں رہنے والوں کا ایک بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے انہیں اقتدار حاصل کرنے اور پھر اس کے استحکام و دوام کے لئے اچھے برے کام کرنا پڑتے ہیں۔ اس سب کے بعد یہ فطری خواہش بھی ہوتی ہے کہ انہیں اچھے نام سے ہی یاد رکھا جائے۔ اسی خواہش کی تکمیل کے لئے سوانح عمریاں لکھی یا لکھوائی جاتی ہیں۔ اقتدار والوں کی سوانح عمریاں عمومی طور پر دو طرح کی ہوتی ہیں۔ پہلی وہ جن

Read more

ہماری لڑکیاں

اس بات کو ماننے میں کوئی شرم نہیں ہونی چاہیے کہ ہمارے ہاں حقوق نسواں کے لیے جتنی تحریکیں چلیں، جتنے سیمینار ہوئے، جتنے موم بتی والے احتجاج ہوئے، جتنی شعلہ بیان تقاریر کی گئیں، جتنے عورت مارچ ہوئے ؛ سب بے سود اور بے فائدہ رہے، سب دعوے زمیں بوس ہو گئے، سب نعرے ہوا میں تحلیل ہو گئے۔ ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں آج سے صدیوں پہلے زمانہ جاہلیت کے وہ لوگ کھڑے تھے جو اپنی

Read more

ممتاز بھٹو مرحوم اور لسانی بل: حقائق کیا ہیں؟

سندھ کے ممتاز راہنما ممتاز بھٹو کی وفات پر پاکستان اور بین الاقوامی میڈیا میں خبریں شائع ہوئیں جن میں سے بعض میں بیان کردہ پس منظر میں شامل مفروضے جو قومی اہمیت کے حامل مصنوعات سے متعلق ہیں حقائق سے متصادم تھے۔ چنانچہ ریکارڈ کی درستی کے لئے ضروری ہے کہ انہیں رد کرتے ہوئے حقائق کو منظر عام پر لایا جائے۔ ان مین سے ایک غیر حقیقی منظر کشی اردو کے ایک بین الاقوامی نیوز بلیٹن کی ویب

Read more

خلائی مخلوق بمقابلہ ضیائی مخلوق

یورپ امریکہ میں رہنے والے لوگ ذہنی ارتقا کے لحاظ سے پاکستان میں رہنے والوں لوگوں سے کہیں آگے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ان سے پوچھا جائے کہ کیا خلائی مخلوق کا کوئی وجود ہے تو وہ نا صرف آپ کو اپنے اس مخلوق پہ یقین ہونے کی سائنسی دلیلیں دیں گے بلکہ خلائی مخلوق کا حلیہ کچھ اس طرح پیش کریں گے کہ خلائی مخلوق کی بڑی بڑی سیاہ بیضوی آنکھیں اور بیضوی سر کے ساتھ پتلا باریک سینہ اور ٹانگیں بھی سینے کے جسامت کے حساب سے بتائیں گے۔

Read more

افغان جنگ کے موضوع پر بننے والی ہالی وڈ کی 10 بڑی فلمیں

امریکہ کی فلم انڈسٹری ہالی وڈ میں معروف شخصیات اور واقعات پر فلمیں بنتی آ رہی ہیں اور ماضی میں کئی فلمیں جنگ میں الجھے ملکوں پر بھی بنی ہیں۔

فلموں کے آغاز سے لے کر ساٹھ کی دہائی تک ہالی وڈ کی وار فلمز یا عالمی جنگوں کے گرد گھومتی تھیں یا تو کورین جنگ کے۔ لیکن 1970 اور 1980 کی دہائی میں ‘ویت نام’ کے گرد بے شمار فلمیں اور ٹی وی شوز بنے جس کے بعد ‘افغانستان’ کی باری آئی۔

Read more

کیا پاکستان افغانستان بن جائے گا؟

شاہ محمود قریشی نے فرمایا ہے کہ کچھ طاقتیں پاکستان میں استحکام نہیں چاہتیں۔ ہم اتنے ناتواں اور وہ طاقتیں اتنی توانا ہیں کہ ہمارے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے باوجود ہم ان کا نام نہیں لے سکتے۔ پھر مذکورہ طاقتیں انڈیا اور افغانستان بھی نہیں ہیں۔ وہ ہوتیں، تو ہم کب کے ان کے خلاف اقوام متحدہ میں ‘ڈوسیئر’ جمع کرا چکے ہوتے یا طورخم اور سپین بولدک چیک پوائنٹس بند کر کے ان کو ان کی

Read more

نور قتل کیس: ظاہر جعفر کے والدین کو کیوں گرفتار کیا گیا اور انھیں کیا سزا ہو سکتی ہے؟

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں نور مقدم کے قتل کے مقدمے میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی گرفتاری کے بعد سے یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ ان کی گرفتاری کیوں عمل میں آئی اور انھیں کیا سزا دی جا سکتی ہے؟

Read more

کیا ضرورت گلاب دیوی کو تھی؟

دن اواخر جون کے تھے۔ باہر سورج فضا کو آگ کر رہا تھا جب کہ اندر غموں نے دہکا جہنم کو رکھا تھا۔ آب نمکین تھا کہ جسم کے ہر اعضاء سے بہے جاتا تھا جیسے کوہ ہندو کش کی پہاڑیوں سے چشمے مسلسل پھوٹ رہے ہوں۔ اشجار کے پتے حرکت کرنے سے معذور تھے۔ معلوم ہوتا تھا کہ فضا سے ہوا کو عزارئیل نے قبض کر لیا ہے۔ لواحقین مریضوں کے دھوپ سے بچاؤ کی ہر تدبیر کرتے تھے

Read more

کوئٹہ سے جڑی چند چھوٹی چھوٹی یادیں!

ستمبر 1985 ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے تربیت مکمل کرنے کے بعد کوئٹہ میں میری پہلی تعیناتی ہوئی۔ میری یونٹ ان دنوں کوئٹہ سے باہر بلیلی گاؤں کے نواح میں سالانہ سرمائی مشقوں میں مصروف تھی۔ سارا دن ہم کھلے سنگلاخ پہاڑوں کے دور تک پھیلے کٹے پھٹے دامن میں تیز گرد آلود ہواؤں کے جھکڑوں میں گھرے تربیتی سرگرمیوں میں مصروف رہتے۔ ہمارا رہائشی کیمپ سیب کے باغوں میں گھرا ہوا تھا۔ میرا خیمہ سنہرے لال سیبوں

Read more

زراعت ایک یتیم پیشہ

بنیادی طور پر ہمارا ملک ایک زرعی ملک ہے۔ ملک کی تقریباً 64 فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہے جس کا بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق زراعت کے شعبے سے ہے۔ پاکستان کی کل آبادی میں سے تقریباً چھ کروڑ افراد محنت کش طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں سے 43 فیصد کا تعلق زراعت کے شعبے سے ہے۔ ملک کی اہم فصلیں گندم، گنا، چاول اور کاٹن ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر چھوٹی چھوٹی فصلیں، سبزیاں اور پھل بھی

Read more

مبشر علی زیدی اور مبینہ فرشتہ صفت سالار اعظم

بیرون ملک مقیم جناب مبشر علی زیدی صاحب ادب کی دنیا کا بڑا نام ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے بذریعہ ٹویٹس ایک شریف النفس اور ولی اللہ قسم کے جرنیل سے وطن عزیز کی باگ ڈور سنبھالنے کی معصومانہ خواہش کا اظہار کیا ہے۔ مذکورہ ٹویٹس سے جہاں جمہوریت پسندوں کو تشویش لاحق ہوئی ہے، وہیں زیدی صاحب سے محبت کرنے والے ان کی معصومانہ خواہشات پر حیران پریشان بھی ہیں۔ مبینہ ولی اللہ جرنیلوں سے تاریخ اسلام بھری پڑی

Read more

خارجہ و سلامتی کے امور جو وبال جان بن گئے

خارجہ و سلامتی کے جڑے ہوئے امور میں گڑ بڑ اتنی بڑھ گئی ہے کہ بدلتے ہوئے علاقائی و عالمی ماحول میں شاید اب ازسر نو غور کرنے کا وقت گزر چکا ہے۔ اب بدلتے عالمی اور خطے کے حالات کا اپنا تحرک ہے جو ہماری سمت طے کرے گا اور ہم فقط ادھر ادھر لڑھکتے رہ جائیں گے۔ سلامتی کے دو اہم مسئلوں کشمیر اور افغانستان جنہوں نے ہماری خارجہ پالیسی کا تعین کیا، وہ اب ہمارے ہاتھ سے

Read more

مرزا اسلم بیگ کی کہانی: ان ہی کی زبانی

سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ کی یاداشتوں پر مبنی ایک کتاب حال میں ہی پبلش ہوئی ہے۔ اس کتاب میں دیگر امور کے علاوہ بے نظیر بھٹو شہید اور نواز شریف کے بارے میں چند اہم باتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ جنرل ضیاءالحق کے طیارے کے حادثے میں جان بحق ہونے کے بعد انہیں چیف آف آرمی سٹاف تعینات کیا گیا تھا۔ جنرل صاحب اپنی کتاب میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے بارے میں لکھتے ہیں۔ کہ

Read more

ریٹائرڈ جرنیل، ان کے انکشافات اور پاکستانی سیاست

ویسے تو اس وقت لگتا ہے کہ پاکستانی سیاست ایک ٹھہرے ہوئے پانی کے تالاب کی مانند ہے جس کے گدلے پانی میں کوئی بھی انکشاف کسی قسم کا ارتعاش پیدا کرنے میں ناکام ہی رہتا ہے، تاہم جنرل مرزا اسلم بیگ کی سوانح عمری ”اقتدار کی مجبوریاں“ یقیناً تالاب کی تہہ میں خوابیدہ مگر مچھوں کی بے چینی کا باعث ضرور بنیں گی۔ پاکستان میں کوئی سویلین کچھ بھی لکھ دے، مگر اس کے درست اور مستند ہونے پر ذہن میں سوال بنا رہتا ہے مگر اس کے برعکس کسی حاضر سروس یا ریٹائرڈ جرنیل کی کہی ہوئی بات کو ہمارا ذہن فوری طور پر سچا، مستند اور قابل بھروسا مان لیتا ہے کیونکہ جرنیل ہماری ریاست کے طاقت کے تکونی اہرام یعنی power pyramid کی چوٹی پر براجمان رہے ہیں اور کوئی بھی معاملہ ان کی معلومات اور دسترس سے دور نہیں ہوتا یعنی ”مستند ہے ان کا فرمایا ہوا“

Read more

امریکہ ہمارا ہرجائی دوست ہے

اس وبا نے دنیا کیا بدلی کہ اب تو دنیا کا امن بھی داؤ پر لگا نظر آ رہا ہے۔ ہمارا دوست اور مہربان ملک امریکہ پاکستان سے خوش نظر نہیں آ رہا۔ ہماری سیاسی اشرافیہ کا دعویٰ ہے کہ عمران خان وزیراعظم پاکستان کی صاف گوئی نے مشکلات میں اضافہ کیا ہے پھر اہم اپوزیشن کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکہ کے سابقہ معاہدوں کی وجہ سے پابند ہے اور ان میں سب سے اہم فضائی حدود کا معاملہ ہے۔ جب افغانستان سے امریکہ نکل رہا ہے جبکہ افغانستان میں لڑنے والے گروہ کہہ رہے ہیں کہ وہ فرار ہو رہا ہے۔ جو کچھ بھی ہے پاکستان امریکہ کہ باور کرانے میں ناکام رہا ہے کہ اس طرح فرار ہونا امن کے لئے خطرناک ہے۔ امریکہ میں سرکار کی تبدیلی کے بعد ۔ اب امریکی افواج اصل میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں ان کے نزدیک بڑی فوج والا کوئی دوسرا ملک افغانستان میں ان کی جگہ لے سکتا ہے، بڑی فوج والے ممالک میں بھارت اور چین نمایاں ہیں اور چین اس معاملہ میں مکمل خاموش ہے۔

Read more

استاد دامن

برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ، جنرل ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیا ء الحق کی طاقت، ظلم اور جبر کا بلا خوف مقابلہ کیا۔ جھوٹے مقدموں کا سامنا کیا قید و بند کی مصیبتیں جھیلیں، لیکن قدم کہیں نہیں ڈگمگائے۔ ان کی انہی خصوصیات کی وجہ سے اس سخت گیر معاشرے میں لوگ ان سے پیار کرتے تھے جبکہ حکمران ان سے نفرت کرتے تھے۔ ٹکسالی گیٹ کے اندر ایک چھوٹا سا کمرا جس میں بچھی ایک چارپائی اور دو

Read more

تھینک یو جنرل اسلم بیگ

حیرت میں جب خوشی شامل ہو جائے تو خوشگوار حیرت کہلاتی ہے۔ سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کی سوانح حیات کے نام نے مجھے حیرت میں مبتلا کیا۔ ’اقتدار کی مجبوریاں‘ کے نام سے شائع ہونے والی اس سوانح عمری کا ٹائٹل بڑا دلچسپ ہے۔ اس میں جنرل صاحب کی تصویر کے نیچے ایک خاکی روبوٹ نما انسان ایک کچے دھاگے پر چل رہا ہے اور اس کے پیچھے ایک قینچی نظر آ رہی ہے، جو کسی بھی وقت

Read more

سنتوش کمار نے ظہیرکاشمیری سے کیا کہا؟

بابا ظہیر کاشمیری میرے والد کے دوستوں میں شامل تھے ، اسی رشتہ کی بنیاد پرمیں نے ہمیشہ ان کا حد سے بڑھ کر احترام کیا۔ بابا جی کو جب شہید ذوالفقار علی بھٹو نے روزنامہ ’’مساوات ’’ کا ایڈیٹر بنایا ، میں اسی ادارے میں سب ایڈیٹر کے طور پر کام کررہا تھا ، ایڈیٹر بننے سے پہلے باباجی اخبار کے ایڈیٹوریل ہیڈ تھے اور اداریہ کے ساتھ روزانہ ’’ قطعہ’’ بھی لکھا کرتے تھے۔ وہ بنیادی طور پر

Read more

ڈاکٹر محمد ضیا الحق صوفی اور ڈاکٹر خورشید رضوی

فکری افلاس کے شکار اس معاشرے کو تو جانے دیجیے، وہ اگر علمی اعتبار سے درخشاں عہد میں زیست کر رہے ہوتے، تو بھی اپنی علمیت کی بنیاد پر دوسروں سے ممتاز نظر آتے۔ گئے وقتوں میں لاہور میں کئی ایسی باوقار علمی ہستیاں موجود رہی ہیں، کہ اہل علم بھی جب کسی علمی مسئلے پر الجھن محسوس کرتے تو اپنی تشفی کے لیے ان سے بے تامل رجوع کرتے۔ اب مگر ایسا نہیں۔ اگر کسی علمی و ادبی گتھی

Read more

مریم بمقابلہ جمائما: یہود دشمنی کسی مسئلہ کا حل نہیں

ایک دوسرے کے بیٹوں کے بارے میں وزیر اعظم کے الزامات اور مریم نواز کے جواب کے بعد عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ کی ٹوئٹ نے پاکستانی سیاست کے ایک اہم پہلو کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔ انہوں نے پاکستانی معاشرے میں پروان چڑھنے والی یہود دشمنی کا حوالہ دیا ہے جو آج سے بیس برس پہلے بھی اسی شدت سے موجود تھی جس کا مظاہرہ اب مریم نواز کے ’یہود دشمنی ‘ پر مبنی تبصرہ

Read more

عمران خان کا ’فلمی ڈاکٹرائن‘ کیا ہے اور کیا پاکستانی فلمساز وزیر اعظم کے وژن کے مطابق فلمیں بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟

پاکستان میں فلمی دنیا سے وابستہ ماہرین کے مطابق فی الحال ہمارے ہاں عالمی معیار کی فلم بنانے کی تربیت،تکنیک اور وسائل نہیں ہیں۔ لیکن اگر بدلتی ہوئی دنیا میں فلم کی اہمیت کو تسلیم کر لیا گیا ہے تو ریاستی اور حکومتی سطح پر اس صنعت کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہوں گی۔

Read more

نواز شریف اور غلام اسحاق خان کی سیاسی محاذ آرائی: ’میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘ سے استعفے تک

نوازشریف کی مشکل اس وقت شروع ہوئی جب آٹھ جنوری 1993 کو حرکت قلب بند ہوجانے سے جنرل آصف نواز جنجوعہ کی وفات ہو گئی۔

Read more

پاکستان اور ناروے میں تعلقات

ناروے اور پاکستان کی دوستی خواہ سمندر سے گہری, ہمالیہ سے اونچی یا شہد سے میٹھی نہ ہو لیکن یہ مستحکم ضرور ہے. اس کی بنیاد دو طرفہ احترام اور اعتماد پر ہے. ناروے نے پاکستان کو 1947 میں ہی آزاد ملک تسلیم کر لیا تھا. پہلے ناروے کا باقاعدہ سفارت خانہ نہیں تھا. ایک اعزازی قونصلیٹ کراچی میں تھا. 1976 میں ایک سفارت خانہ اسلام آباد میں کھولا گیا. کراچی اور لاہور میں اعزازی قونصلیٹ بھی ہیں. دونوں ملک ہر لحاظ

Read more

آہ۔ شاہنواز بھٹو

18 جولائی 1985 شہید شاہنواز بھٹو کا یوم شہادت۔ بھٹوز کا گوگی، ساتھیوں کا نبیل اور خاندانی نام شاہ نواز۔ وجیہہ خوبصورت جذباتی اور بہادر۔ 5 جولائی 1977 جب فوجی ڈکٹیٹر ضیاء نے جمہوریت پہ شب خون مارا۔ ایک منتخب عوامی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا اور بھٹو صاحب کو قید خانے میں ڈال دیا اس وقت چونکہ الیکشن کا دور تھا، مرتضٰی اور شاہنواز، بھٹو صاحب کی لاڑکانہ مہم کے انچارج تھے۔

Read more

شاہنواز بھٹو: بھٹو خاندان کے لاڈلے سپوت کی پراسرار موت جس نے بھٹو خاندان کو ہلا کر رکھ دیا

یہ بھٹو خاندان کی آخری ری یونین تھی، جس میں کنبے کے تمام افراد شریک ہوئے۔ بھٹو خاندان کی چھٹیاں اور پکنک اس وقت ماتم میں تبدیل ہو گئیں جب انھیں ذوالفقارعلی بھٹو کے سب سے چھوٹے بیٹے شاہنواز بھٹو کی موت کی خبر ملی۔

Read more

افغانستان کا بحران : نہ جانے پاکستان پر کیا گزرے گی؟

افغانستان ایک بار پھر ایک بڑے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اور یہ بات یقینی ہے کہ افغانستان میں اگر بد امنی اور خانہ جنگی کی لہر اٹھتی ہے تو اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ایک بار پھر پاکستان ہی ہو گا۔ کیا ہم اس کے لئے تیار ہیں؟ بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ نہ تو قومی یا سرکاری سطح پر اس طوفان کی شدت کا بھرپور احساس ہے اور نہ ہی اس کے حوالے سے کوئی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

Read more

قومی ادارے کی تضحیک کا کھیل اب  بند ہونا چاہیئے

آزاد کشمیر میں جاری حالیہ انتخابی مہم کے دوران ایک دوسرے کے خلاف افسوس ناک زبان درازی کا سلسلہ جاری ہے۔ مریم نواز ایک بار پھر نون لیگ کا مزاحمتی چہرہ بن کر میدان میں ہیں۔ خاموشی کے ایک اور وقفے کے بعد کہ جس میں شہباز شریف کو اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیا گیا تھا، اب وہ دوبارہ عمران خان کی آڑ میں اداروں پر حملہ آور ہیں۔ کہتی ہیں کہ عمران خان نے امریکہ میں کشمیر کی سودے بازی کی۔ اسی سودے بازی کے نتیجے میں مودی نے کشمیر سے متعلق اقدامات کیے ۔ کشمیر کو صوبہ بنانے کی سازش کا الزام بھی مسلسل لگا رہی ہیں۔ مودی کے خلاف اب تک ایک لفظ نہیں بولیں!

Read more

سادگی پر زور

”پچھلے دنوں وزیر اعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وزراء، وزرائے مملکت، گورنرز، وزرائے اعلی اور دیگر حکومتی عہدیداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پروٹوکول کم کر دیں غیر ضروری شو بازیوں پر کارروائی کی جائے گی۔ ٹیکس کے پیسے کی بچت اور عوام کو زحمت سے بچانے کے لیے وہ خود بھی سکیورٹی اور پروٹوکول کے ساتھ نجی تقریبات میں شرکت نہیں کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم عوام کو مرعوب کرنے کی غرض سے جاہ و جلال کے استعمال کی اس نو آبادیاتی میراث کو ختم کر دیں گے“

Read more

بچہ بچہ کٹ مرے گا، ایک نیا طوفان

ایک زمانہ تھا جب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے انتخابات کا سب سے اہم ترین موضوع بھارتی زیر انتظام کشمیر کی آزادی ہوا کرتا تھا۔ سیاسی جماعتیں سرحد پار کے کشمیر کو بھارت سے آزادی دلانے کے وعدے کیا کرتی تھیں۔

آج وہ زمانہ ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں اور ان کے لیڈروں کی تقاریر سن کر یہ گمان ہوتا ہے کہ جیسے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو نئی دہلی کے ہاتھوں فروخت کر دیا گیا ہے اور انتخابات کے بعد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا ریاستی تشخص ختم کر کے اسے پاکستان کا ایک صوبہ بنا دیا جائے گا اور یوں مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تاریخ کے اوراق میں گم کر دیا جائے گا۔

Read more

”غدار“ بھٹو کو شہید کہنا بھی توہین عدالت ہے

پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے طویل سماعت کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کی سنائی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا۔ ان دنوں ایک جید مرد مومن جنرل ضیاء الحق صاحب ہمارے ملک کے با اختیار صدر ہوا کرتے تھے۔ ”قاتل“ کی جاں بخشی کو وہ آمادہ نہ ہوئے۔ 4 اپریل 1979 کی صبح لہٰذا بھٹو کو پھانسی لگادی گئی۔ یوں انصاف کا بول بالا ہوا۔

بدقسمتی مگر یہ ہوئی کہ بھٹو کی پھانسی کے کئی برس گزرنے کے بعد سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ صاحب میرے بھائی افتخار احمد کے ایک مقبول ٹی وی پروگرام میں شریک ہوئے۔ افتخار سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ بھٹو کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ ”دباؤ“ کے ذریعے لیا گیا تھا۔

Read more

بات چیت کے ذریعے سمجھوتے کی فطری شرائط

افغانستان میں تقریباً نصف صدی سے خون بہ رہا ہے جس کا آغاز 1975 ء سے سوویت یونین کی سیاسی مداخلت سے ہوا۔ اس نے ظاہر شاہ کا تختہ سردار داؤد کے ذریعے الٹا جو پختون نیشنلسٹ اور اشتراکی نظریات سے متاثر تھا۔ اسے جلد ہی احساس ہو گیا تھا کہ افغان معاشرہ بنیادی طور پر مذہبی معاشرہ ہے جس میں اشتراکی نظام کے خلاف ایک گونہ مزاحمت پائی جاتی ہے، چنانچہ اس نے سوویت یونین کی جبریت سے باہر

Read more

قیام پاکستان: ملک کا پہلا قومی پرچم کس نے سیا اور اس پر تنازع کیا ہے؟

دونوں بھائیوں کی اولادیں آج بھی اپنے اپنے دعوئوں پرثابت قدمی کے ساتھ جمی ہوئی ہیں اور ہر سال جب یوم آزادی قریب آتا ہے تو اس کی گونج سنائی دینے لگتی ہے۔

Read more

تحریک انصاف کی پچھتر سالہ حکومت

شیخ رشید فرماتے ہیں کہ آئندہ بیس سال تک تحریک انصاف کی حکومت ہو گی۔ اپنی جملہ مضحکہ خیز طبیعت و شخصیت کی باوجود مجھے تو ان کی یہ کئی ہزارویں پیشین گوئی بالکل درست محسوس ہوتی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ محترم شیخ رشید صاحب روحانیت اور طریقت کے رموز و اسرار جاننے والے شیخ ہیں۔ ان کی بات کا عامیانہ معنی لینا نری جہالت ہے۔ اس میں کئی معرفت کے زمزمے بہتے ہیں۔ کئی سربستہ راز دفن

Read more

بلدیاتی حکومتیں جمہوریت کی نرسریاں

بلدیاتی حکومتیں ایک محدود علاقے میں اقدامات کا تعین اور ان پر عمل درآمد کا اختیار رکھتی ہے۔ مقامی حکومت کا نظام تمام جمہوری ممالک میں مختلف ناموں سے نافذ ہے۔ یہ نظام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ مقامی حکومت فیصلہ کرنے اور اس پر عمل کرنے کے لئے علاقے میں آزاد ہوتی ہیں۔ بلدیاتی حکومتوں کو جمہوریت کی نرسریاں کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ ان اداروں کے ذریعے سے لیڈرشپ ابھر کر آتی ہے۔ یہاں جمہوریت کے رموز اوقاف

Read more

گول مارکیٹ، راہبائیں، کراچی سینٹرل اور تباہ شدہ کراچی

” ذرا دوڑ کر دھنیا تو لا دو، پیسے چھوٹے پرس میں ہیں اور ہاں اکیلے مت جانا“ ۔ امی نے باورچی خانے سے آواز لگائی۔ دوست کے ہمراہ بھاگم بھاگ گول مارکیٹ، ناظم آباد پہنچے۔ سبزی والا سفید اجلے مخصوص لباس میں ملبوس راہبہ کے ساتھ بھاؤ تاؤ کر رہا تھا۔ راہبہ دھیمے لہجے میں سبزیوں کے بھاؤ طے کر رہی تھی۔ اب تک انگریزی فلموں، ڈراموں اور ٹی وی سیریلز میں ہی عیسائی راہباؤں کو دیکھنے کا اتفاق

Read more

ناراض بلوچوں سے مکالمہ۔ ایک اچھی ابتدا

وزیراعظم عمران خان نے کچھ روز قبل گوادر میں مقامی عمائدین، طلباء اور کاروباری شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے جب یہ کہا کہ وہ بلوچستان کے ”ناراض لوگوں“ سے بات کرنے کا سوچ رہے ہیں، تو ان کا یہ کہنا ہر اس شخص کے لیے، چاہے وہ بلوچستان کا باسی ہو یا ملک کے کسی بھی دوسرے حصے میں رہتا ہو، خوشی اور امید کا پیغام تھا جو بلوچستان میں امن دیکھنے کا خواہاں ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس

Read more

انصاف کے نظام پر ایک اور زناٹے دار طمانچہ

چند روز سے اسلام آباد میں ایک جوڑے کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی ویڈیو اور خبروں نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا رکھا ہے۔ جس میں لڑکا لڑکی کو نہ صرف بدترین جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ ایک دوسرے کے سامنے زبانی اور جسمانی تذلیل بھی کی گئی۔ جنسی، جسمانی اور نفسیاتی طور پر جوڑے کو ہراساں کیے جانے کے ساتھ دونوں کی عزت نفس کو بری طرح مجروح کیا گیا۔ پوری انسانیت کی تذلیل کی گئی۔

Read more

‘ایرانی ماڈل’ یا کوئی اور طریقہ، پاکستان افغان مہاجرین کی ممکنہ لہر سے کیسے نمٹے گا؟

کراچی — امریکہ اور اتحادی افواج کا انخلا شروع ہونے کے بعد افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتِ حال کے نتیجے میں پاکستان افغان مہاجرین کے ممکنہ دباؤ پر قابو پانے کے لیے ‘ایرانی ماڈل’ سمیت مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔

Read more

جوہری مواد: کیا امریکی انتظامیہ نے مبینہ ’جوہری مواد کو پاکستان سمگل‘ کرنے کی کوشش سے صرفِ نظر کیا تھا؟

امریکی محکمے ’کسٹمز اینڈ انٹیلیجنس‘ نے سنہ 1987 میں پاکستانی نژاد کینیڈین بزنس مین ارشد پرویز کو پکڑنے کے لیے ایک جامع منصوبہ ترتیب دیا تھا۔ یہ وہ شخص تھا جس نے امریکی ریاست پینسلوینیا میں ایک کمپنی ’کارپینٹر سٹیل‘ سے رابطہ کر کے ایک خاص قسم کے فولاد کی خریداری کی بات کی تھی۔

Read more

مسئلہ بلوچستان، مذاکرات یا مذاق رات

وفاق نے اس بجٹ کے بعد بلوچستان کے لئے 730 ارب کے پیکیجز دیے جن میں 131 mega projects شامل ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ عمران حکومت نے اس ترقیاتی پیکیج سے قبل بلوچستان کے بہت سے میگا پراجیکٹس کو منسوخ بھی کر دیا تھا بلوچستان پر ایسی شفقت سی پیک میں دل چسپی ظاہر کرنا ہے یا بلوچستان کے حوالے سے اس حکومت کا بھی دانہ پانی کے بعد کچھ خواہشات کا اظہار کرنا ہے۔ اپنی

Read more

مسعود اشعر اور ذوالفقارعلی بھٹو کی سیاسی لیپا پوتی

یہ بات 5 اپریل 2018 کی ہے۔ جب ملتان سے خالد مسعود خان۔ رضی الدین رضی۔ آصف کھیتران اور دیگر احباب نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد کے مہمان تھے۔ سالانہ کتاب میلے کا افتتاح 6 اپریل کو ہونا تھا۔ تو 5 اپریل کو ڈنر پر جناب مسعود اشعر کی ملتان کے احباب سے ملاقات ہوئی۔ کہنے لگے کہ میرا ملتان کیسا ہے؟ ہم نے کہا، آپ کے بغیر ملتان اداس ہے۔ اگر ملتان میرے بغیر اداس ہے، تو پھر اہل

Read more

جنرل صاحب، پانچ جولائی اور واشنگ پاؤڈر

بہتیروں کو اس واشنگ پاؤڈر کا اشتہار یاد ہو گا جس میں ہمیں باور کروایا جاتا تھا کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں، جنہیں یہ اشتہار یاد نہیں وہ اپنی دماغی صلاحیت تیز کرنے کے لیے حکیم جاہل جان لیوا کا گاؤزبان چار ہفتوں تک استعمال کریں، اگر اللہ نے چاہا تو کچھ افاقہ محسوس نہیں ہو گا، خیر بات ہو رہی تھی داغوں کی، لباس کو لگنے والا داغ تو اچھا ہو سکتا ہے مگر تاریخ کی پیشانی پر

Read more

جمہوری آوازیں اور میڈیا کا کردار

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ذرائع ابلاغ خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے جو آگاہی اور معلومات عوام کو میسر آئیں شاید ہی کوئی دوسرے ذرائع سے حاصل کی گئی ہو۔ میڈیا نے ہمیں بتایا کہ سوموٹو کیا ہے، جی ڈی پی کیا ہے، ملک کی خارجہ پالیسی، سینٹ الیکشن، الیکٹوریل کالج، عوامی نمائندوں کی تعداد، جعلی ڈگریوں اور پیروں کی نشاندہی، گدھے اور کتوں کی گوشت پر چھاپے، کرپشن سکینڈلز، سٹنگ آپریشن، گھریلو ملازمین پر تشدد،

Read more

پاکستان کا ناراض بلوچوں سے مذاکرات کا عندیہ؛ بات چیت کون کرے گا اور کس سے کرے گا؟

کراچی — پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کا رواں ہفتے صوبہ بلوچستان کے مسائل کے حل اور قیام امن کے لیے ’ناراض بلوچ رہنماؤں‘ سے بات چیت کا عندیہ دیا ہے جس کے بعد مختلف حلقوں میں مختلف ادوار میں بلوچ عسکریت پسند رہنماؤں سے ہونے والے کامیاب اور ناکام مذاکرات کے حوالے سے بحث ہو رہی ہے۔

Read more

عمران خان کا سکیورٹی نہ لینے کا اعلان: کیا وزیرِاعظم کے کہہ دینے سے اُن کا پروٹوکول کم ہو جائے گا؟

پروٹوکول اور سکیورٹی سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ پروٹوکول میں کمی کا معاملہ اتنا سادہ نہیں کہ ایک اعلان سے کم ہو جائے۔

Read more

اپنے ضمیر کا اسیر۔ پروفیسر وارث میر

مارشل لاء ادوار خصوصاً جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان کی ”پابند صحافت اور سیاست“ کے عام رجحانات سے بغاوت کر کے اپنے نظریات کو جرات اور سچائی کے ساتھ بیان کرنا اور پھر ان پر قائم رہنا کس قدر دشوار اور جان سے گزر جانے والی دیوانگی ہے، اس کا ادراک ضیاء دور میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے اور کوڑے کھانے والے صحافی اچھی طرح رکھتے ہیں۔ چونکہ پروفیسر وارث میر نے اپنی زندگی آزادیٔ

Read more

حق پرست و صاحب کردار وارث میر تھا!

ضیا الحق کے دور آمریت میں ملوکیت اور ملائیت یکجان اور یک قالب ہو کر رہ گئی تھیں۔ اسلام کے نام پر ملائیت کی بزور شمشیر ترویج و اشاعت کے خلاف ہمارے دانشوروں کا رد عمل سیکولر ازم یا کمیونزم کے نام پر اسلام فراموشی کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ خوف و دہشت کی اس فضا میں پروفیسر وارث میر نے اسلام کی حقیقی انقلابی روح کو آشکار کرتے چلے جانے کا تاریخی کارنامہ سر انجام دیا۔ انہوں نے

Read more

افغانستان کی تازہ ترین صورت حال

امریکہ بیس برس تک افغانستان میں قتل و غارت کا بازار گرم کرنے کے بعد گیارہ ستمبر تک اپنی تمام فوجیں افغانستان سے نکالنے کا اعلان کر چکا ہے جس سے بڑے بڑے دارالحکومتوں میں کھلبلی سی مچ گئی اور اس خدشے کا اظہار کیا جانے لگا ہے کہ افغان حکومت اب چند ہفتوں کی مہمان ہے اور انخلا سے پہلے اگر شراکت داروں میں اقتدار میں شرکت کا کوئی معاہدہ طے نہ پایا، تو بدترین خانہ جنگی شروع ہو

Read more

اردن میں ضیاالحق: نئی نسل کے لیے تاریخ کی یاد دہانی ضروری ہے

پاکستانی تاریخ میں اس کی قابل ذکر شخصیات سے وابستہ اہم واقعات جنہوں نے ملک پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں یوں جڑے ہوئے ہیں کہ جونہی شمسی کیلنڈر کی سوئی تلے ان مہینوں کے وہ مخصوص دن آتے ہیں۔ تو فی الفور وہ دن، واقعات اور کردار نوک زد قلم آ جاتے ہیں۔ 5 جولائی کا دن ملکی تاریخ کا ایسا ہی دن تھا جب جمہوریت پر ڈاکا پڑا تھا۔ مارشل لا لگا تھا۔ نوے دن کا وعدہ ہوا تھا

Read more

کیا طالبان کابل پر قبضہ کر لیں گے؟

فروری 1989 میں آخری روسی سپاہی ’حیرتان پل‘ کے راستے آمو دریا کے پار اتر گیا۔ اس وقت پشتون ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کو کمزور جانا جا رہا تھا۔ 1988 میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے جنیوا معاہدہ میں سوویت یونین اور امریکہ ضامن تھے۔ امریکہ نے دسمبر 1985 میں وعدہ کیا تھا کہ وہ مجاہدین کو اسلحہ فراہم نہیں کرے گا۔ اس وعدے کی صریحاً خلاف ورزی کے باوجود گوربا چوف نے افغانستان سے اپنی فوجیں

Read more

پاکستان کے پہلے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی پیدائش ممکن بنانے والے ڈاکٹر راشد لطیف خاں کی کہانی: جب والد سے پوچھا گیا ’یہ حرام کام آپ نے تو نہیں کیا ہے؟‘

لاہور کے ڈاکٹر راشد خاں بتاتے ہیں کہ 1980 کی دہائی میں انھیں پاکستان میں آئی وی ایف کے ذریعے پہلے ٹیسٹ ٹیوب بچے کی پیدائش میں مشکلات پیش تو آئیں مگر مریضوں کی کبھی کوئی کمی نہیں تھی۔ ’وہ کہتے ڈاکٹر صاحب بسم اللہ کرو، ہمارا ہو جائے گا۔‘

Read more

مسعود اشعر کی کچھ یادیں

1953 میں تحریک ختم نبوت لاہور میں زوروں پر تھی۔ حالات اس قدر بگڑے کہ شہر میں مارشل لا لگاتے ہی بنی اور ساتھ کرفیو بھی لگ گیا۔ جنرل اعظم خان مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر ہوئے۔ میں اس زمانے میں میکلوڈ روڈ پر رہتا تھا۔ ایک دن شام کو میں سائیکل پر نسبت روڈ پر واقع لکشمی بلڈنگ کے پاس پہنچا تو فوجی چوکی پر مجھے فوجی افسر نے پکڑلیا۔ اس وقت گولیاں چلنے کی آواز آ رہی تھی۔ فوجی

Read more

مارکسی راہنما سی آر اسلم کی یاد میں

دس جولائی کو برصغیر کے نامور مارکسی دانشور، انقلابی رہنما اور پاکستان میں ترقی پسند تحریک کے بانیوں کے سرخیل، استاد محترم سی آر اسلم کی چودھویں برسی ہے، جو 10 جولائی 2007 کو اپنے دوستوں، ساتھیوں اور رفیقوں سے 70 سالہ طویل سیاسی رفاقت نبھا کر رخصت ہو گئے تھے۔ بلاشبہ سی آر اسلم برصغیر کی ترقی پسند تحریک کا ایک اہم باب تھے۔ انیسویں صدی میں انگریز سامراج نے اپنی کپڑے کی صنعت کا خام مال پیدا کرنے

Read more

62-63  کا حمام اور ننگے صادق و امین

اس ملک کا پہلا صادق و امین جنرل ضیاء تھا۔

جو خود ایک ایسا نفسیاتی مریض تھا جسے بھٹو دشمنی میں جل کر سیاہ ہو چکے مولویوں اور فتویٰ سازوں نے وردی کے اوپر امیرالمومنین کی شیروانی پہنائی تھی۔

انہوں نے اسے اس ذہنی بیماری میں مبتلا کر دیا تھا کہ ایک بھٹو کو پھانسی چڑھا کر تم بخشے جا چکے ہو۔ تمہارے تمام پوشیدہ گناہ کبیرہ بھی اور صغیرہ بھی معاف ہو چکے ہیں۔ اب تم باوضو ہو۔

ہر انسان کی طرح وہ بھی اپنی ذاتی زندگی میں گناہوں اور خطاؤں سے گزرا ہی ہو گا۔

Read more

ضیاء الحق آج بھی زندہ ہے

ذوالفقار علی بھٹو پاکستانی سیاست میں ایک عجیب مقام رکھتے ہیں۔ تاریخ دان پاکستان کی تاریخ کو بھٹو سے پہلے اور بھٹو کے بعد کے ادوار میں تقسیم کرتے ہیں۔ ان کے بعد کی سیاست آج تک ان کے گرد ہی گھوم رہی ہے۔ آج بھی ملک میں واضح سیاسی تقسیم کا محور انہی کی ذات ہے۔ پرو بھٹو اور اینٹی بھٹو ووٹ کی بھیک سے آج بھی سیاسی جماعتیں اپنے بونے قد میں اضافہ کرتی ہیں۔ وہ حسین شہید سہروردی اور ممتاز دولتانہ کے ساتھ مل کر ان چند پاکستانی سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں جو کہ نہ صرف انتہائی پڑھے لکھے تھے بلکہ پڑھنے اور لکھنے سے بھی شغف رکھتے تھے۔

Read more

ضیائی ظلمت کے بعد کتنے چراغ روشن ہوئے؟

ضیا الحق جس دن حادثے کا شکار ہوا ہم بچپن سے نوجوانی کی حدود میں قدم رکھ رہے تھے۔ 17 اگست 1988 کو کراچی میں تھے اور ایک کمرے میں بیٹھے باتوں میں مصروف۔ ٹی وی پر الا ماشاللہ ہی بریکنگ نیوز چلتی تھی۔ سی ون تھرٹی کے گرنے کی خبر چلی تو ہماری ایک عزیزہ بھاگتی ہوئی آئیں اور یہ خبر سنائی کہ ضیا الحق حادثے کا شکار ہو گیا ہے۔ یہ خبر بہت سی وجوہات کی بنا پر

Read more

طالبان کی ذہن سازی کا ماحول

طالبان کون ھیں اور کہاں، اور کس مقصد کے لئے ان کی ذہن سازی اور تربیت کی گئی ھے، سب میری نظروں کے سامنے گزرا ھے۔ صرف ایک مثال دیتا ھوں جس سے ان کا پورا تصور مذہب واضح ھو جائے گا: جب لال مسجد کے مولانا عبداللہ کو قتل کیا گیا، اس وقت میں رپورٹنگ کر رھا تھا۔ اس کے بڑے بیٹے مولانا عبدالعزیز نے لال مسجد میں پریس کانفرنس بلائی اور اعلان کیا کہ اس کے باپ کو

Read more

پنجاب کی شاہی اسمبلی

کوئی بیس سال قبل نئی دہلی کے علاقے حوض خاص میں عظیم پنجابی شاعرہ، کہانی نویس اور ناول نگار امرتا پریتم سے ان کے گھر پر ملاقات ہوئی، لاہور کی یادوں اور باتوں کے بعد انھوں نے بھارت آنے کا مقصد پوچھا جس پر انھیں بتایا کہ دہلی میں ”ورلڈ پنجابی کانگریس“ کے اجلاس میں شریک ہونے آئے ہیں، کچھ لمحے خاموش رہیں پھر دھیمے لہجے میں بولیں پنجابیاں نوں اپنی چھوٹی چھوٹی چیزاں دے وڈے وڈے ناں رکھن دی

Read more

5 جولائی اور خدماتِ ضیا الحق

بہت لوگ کہتے ہیں کہ ضیا الحق کا دور گھٹن اور سختی کا زمانہ تھا۔ لیکن اس گھٹن اور سختی کے سبب سیاسی، عمرانی اور نفسیاتی سطح پر کیا کچھ ایکسپوز ہوا۔ اس جانب دھیان کیوں نہیں جاتا۔ مثلاً اگر ضیا الحق کا دور نہ ہوتا تو یہ کیسے پتہ چلتا کہ کس طرح ایک فردِ واحد نظریے سے لے کر ثقافت و روایات اور افراد تک ہر شے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی عظیم الشان صلاحیت رکھتا

Read more

جالندھر، ہوائی جہاز اور آموں کا کریٹ

پاکستان میں ہر سال 5 جولائی کے دن جنرل ضیا الحق کو یاد نہ کرنا زیادتی کی بات ہو گی! ضیا الحق مرحوم کا آبائی شہر جالندھر تھا جو مشرقی پنجاب یا بھارتی پنجاب کے اہم شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ مشرقی پنجاب اور بالخصوص اپنے آبائی شہر جالندھر سے محبت و انسیت کا برملا اظہار جس عملی انداز سے محترم نے جمہوری پاکستان کی لگامیں کھینچنے کے بعد کیا ظاہرکرتا ہے کہ حضرت کو اپنی جنم بھومی کے خمیر

Read more

کیا ضیا الحق صاحب کو فلسطینیوں کا خون بہانے کی وجہ سے ترقی ملی تھی؟

پاکستان کی تاریخ میں 5 جولائی 1977 کی تاریخ کی ایک خاص اہمیت ہے۔ اس روز پاکستان میں ایک بار پھر مارشل لا لگادیا گیا اور پھر اس نے ختم ہونے کا نام ہی نہ لیا۔ جب بھی 5 جولائی کی تاریخ قریب آتی ہے پاکستان میں بہت سی دلچسپ آرا کا اظہار شروع ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر کیا بھٹو صاحب اور ان کے سیاسی حریف قومی اتحاد کے مذاکرات کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو رہے تھے کہ نہیں؟ مارشل لا کیسے لگایا گیا وغیرہ وغیرہ۔ اور ایسی بحثوں کا جاری رہنا ضروری ہے تاکہ ہم اپنی تاریخ سے سبق حاصل کر سکیں۔

میری رائے میں یہ جائزہ لینے سے پہلے کہ جنرل ضیا الحق صاحب نے مارشل لا کیسے لگایا، یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ ہماری فوج کے سربراہ کیسے بنے؟ اور اس سے قبل انہوں نے ترقی کے مراحل کس طرح طے کیے؟ سینکڑوں سینئر افسران میں سے جب ایک شخص ترقی کے زینے طے کرتا ہوا فوج کا سربراہ بنتا ہے تو حکام کو اس میں کچھ نظر آتا ہے تو وہ اسے اس منصب پر فائز کرتے ہیں۔ اس کالم میں یہ جائزہ پیش کیا جائے گا کہ ضیا صاحب نے کیا کارنامے سرانجام دیے تھے؟

Read more

مذہبی جنونیت کے خاتمے کے لیے بیرونی امداد درکار ہے

توہین مذہب کے الزام سے عدالت سے بری ہونے والا کانسٹیبل کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔ فاضل کانسٹیبل غالباً جج سے زیادہ قابل تھے اور اب غازی کے مرتبے پر فائز کر دیے جائیں گے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس پر علما کرام خاموش رہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ جس طرح سلمان تاثیر کے حق میں مفتی تقی عثمانی نے بیان دیا تھا، ویسے ہی اب بھی دیں گے۔ اسی کیس کی طرح پانچ سات برس انتظار کرنا ہو گا۔

بہرحال مسئلہ فی الحال یہ ہے کہ دکھائی دے رہا ہے کہ مذہبی جنونیت بڑھتی ہی جائے گی کم ہونے کے آثار نظر نہیں آتے۔ میٹرک ایف اے کے بچے خود کو مفتی کے علاوہ جج اور جلاد سمجھے بیٹھے ہیں، اور اساتذہ تک کو قتل کرنے سے نہیں ہچکچاتے۔ ملک میں ایسی کوئی قوت دکھائی نہیں دیتی جو اس مذہبی جنونیت کا راستہ روک سکے۔ ہماری ناقص رائے میں اب ایک ہی حل ہے کہ کسی بیرونی دوست ملک سے مدد لی جائے۔

Read more

1977 کا مارشل لا: بھٹو حکومت کے خاتمے کو امریکی سفارت خانہ کیسے دیکھ رہا تھا؟

امریکہ اور پاکستان کے بنتے، بگڑتے تعلقات کی ہماری آج کی کہانی ڈی کلاسیفائیڈ یا افشا کیے گئے ان ٹیلی گرامز، ایرگرامز(خطوط) اور پیغامات پر مبنی ہے جن کا تبادلہ پاکستان میں امریکی سفارت خانے اور امریکی حکومت کے درمیان پاکستانی تاریخ کے اہم ترین برسوں میں سے ایک، 1977 میں ہوا۔

Read more

جب جمہوریت تیسری بار قید ہوئی

یہ سن 1976 کے اوائل ہیں۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ایک اہم فیصلہ کرنا ہے۔ آرمی چیف جنرل ٹکا خان کی مدت ملازمت پوری ہو رہی ہے اور انہیں اب اس منصب پر نیا فرد مقرر کرنا ہے۔ وزارت دفاع 5 سینئیر ترین جنرلز کے نام ایک سمری کی صورت میں وزیر اعظم آفس بھیج دیتی ہے۔ وزیر اعظم اس سمری کے برعکس ایک فیصلہ کرتے ہیں اور وہ فیصلہ جو شاید کسی کے وہم و گمان میں

Read more

سپیشل بچے۔ والدین کی ایک بڑی ذمہ داری

ترقی اور سمجھ داری کے اس دور میں بھی معذور بچے اکثر والدین کی بے توجہی کا شکار نظر آتے ہیں۔ ذہنی طور معذور بچوں کے ایک ادارے کے سربراہ خواجہ ظفر اقبال نے گزشتہ دنوں ایک ٹی وی پروگرام میں بتایا کہ ان کے ادارے کے سپیشل بچوں نے لاہور میں منعقدہ سپیشل بچوں کے کھیلوں میں حصہ لے کر میڈل حاصل کیے۔ ہم نے ان بچوں کے لئے ادارے میں ایک تقریب کا انتظام کیا اور ان بچوں کے والدین کو بلایا۔ ایک سپیشل بچی کے گھر سے کوئی بھی نہیں آیا۔

حسب معمول ہم نے اسے میڈلز کے ساتھ اس کے گھر ڈراپ کروا دیا۔ اگلے دن اس کی والدہ سکول میں آئیں۔ تقریب میں نہ آنے پر روتے ہوئے معافی مانگی اور بتایا کہ اس بچی کو سب گھر والے فالتو سمجھ کر کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے لیکن یہ میڈل جیت کر وہ سب بہن بھائیوں میں سپیشل ہو گئی ہے اور سب بہن بھائی اب اس پر فخر کرر ہے ہیں۔

Read more

ضیا الحق کو بھٹو نے کس وجہ سے آرمی چیف بنایا تھا؟

مہینہ جولائی سال 1977 ء اور تاریخ تھی پانچ جب جنرل ضیاء الحق نے بندوق کی نوک پر پاکستان کے مقبول ترین وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سے نکال کر پابند سلاسل کر دیا اور خود پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔

بھٹو اس خوش فہمی میں رہے کہ ضیاءالحق ان کا اپنا بنایا ہوا آرمی چیف ہے وہ انھیں کبھی زک نہیں پہنچائے گا۔ ان کی خوش فہمی بجا تھی کیوں کہ بھٹو نے ضیاءالحق کو آرمی چیف بناتے وقت تمام اصول و ضوابط نظر انداز کر دیے تھے چھ جرنیلوں کو سپرسیڈ کر کے ضیاءالحق کو سپہ سالار بنایا گیا۔ ضیاءالحق کی بطور آرمی چیف تقرری بھی دلچسپ ہے۔

Read more

ذوالفقار علی بھٹو، پاکستان اور مسلم امہ

پاکستان بننے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی انتشار نے کئی سیاسی جماعتوں کو جنم دیا۔ ہر جماعت کے اغراض و مقاصد نہ صرف محدود تھے بلکہ ذاتی اور مکمل طور پر عوامی مفادات سے بھی مطابقت نہ رکھتے تھے۔ 5 جنوری 1928 ء کو لاڑکانہ میں سر شاہنواز بھٹو کے گھر پیدا ہونے والے ذوالفقار علی بھٹو کا پاکستان کے سیاسی امور سے وابستگی کا آغاز 1957 ء میں ایک بیرون ملک کے دورے میں پاکستانی وفد میں شرکت

Read more

انیس ہارون کی کتاب: ویرانی دل و دنیا – کورونا کے شب و روز کا روزنامچہ

گزشتہ سال مارچ سے جب کرونا کی وجہ سے ہم گھروں میں بند ہو گئے تو ہر کسی نے اس قید تنہائی کا اپنے طور پر کوئی علاج نکالا۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ انیس ہارون جیسی ایکٹوسٹ اور مجلسی خاتون کے لئے یہ عرصہ کتنا کٹھن گزرا ہو گا۔ انیس اور ان کے جیون ساتھی سید ہارون احمد پہ یہ مصرعہ صادق آتا ہے کہ۔ :سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے۔ ہم نے انہیں ہمیشہ دوسروں

Read more

ہلاکو خان کا شرعی جواز اور مکالمے کی سیاست

سن 1258 کی بات ہے، مسلمانوں کی مسلکی رنجشیں اپنا اثر دکھا چکیں تھیں۔ آخری عباسی خلیفہ معتصم باللہ کو قالین میں لپیٹ کے قتل کیا گیا تاکہ خلیفہ کے پاک خون کا اک قطرہ بھی خاک آلود نا ہونے پائے۔ شب طرب اپنے عروج پے تھی کہ نئے وزیروں (جو خلیفہ کے بھی وزیر رہ چکے تھے ) کو خیال آیا کہ حق نمک ادا کیا جائے اور بادشاہ سلامت کی لا دینی اور اسلام بیزار امیج کو بدل

Read more

حکومتی حلقوں میں گردش کرتی قبل ازوقت انتخابات کی سوچ

پارلیمانی نظام حکومت میں کوئی بھی جماعت عام انتخابات کے ذریعے منتخب ہوجانے کے بعد اپنی آئینی مدت ہر صورت مکمل کرنا چاہتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں یہ مدت پانچ برس تک پھیلی ہوتی ہے۔ بسااوقات مگر قبل از وقت انتخاب کا رسک بھی لیا جاتا ہے۔ قبل از وقت انتخاب کے لئے ’’رسک‘‘ کا لفظ میں نے جان بوجھ کر لکھا ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے لینے کے دینے بھی پڑسکتے ہیں۔ ہمارے ہاں مثال کے طورپر

Read more