فرشتہ مہمند کا قتل اور پشتون تحفظ موومنٹ

باوجود اس کے کہ میں منظور پشتین محسن داوڑ اور علی وزیر کا بے حد احترام کرتا ہوں اور ان کو پشتونوں کا حقیقی غمخوار سمجھتا ہوں مگر کل جب میں نے ان کو فرشتہ مہمند کی زیادتی اور قتل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دیکھا تو مجھے اچھا نہیں لگا کیونکہ میرے خیال میں یہ صرف پشتون المیہ نہیں ہے سارے ملک میں یہی حال ہے چاہے قصور کی زینب انصاری ہو یا اسلام آباد کی فرشتہ مہمند مگر

Read more

بنت حوا کو جنسی درندوں سے کیسے بچایاجائے؟

ایک سال قبل قرآن مجید پڑھنے کے لئے جانے والی دس سالہ زینب کو محلہ کے ہی ایک لڑکے نے اغوا کیا۔ جس بے جاہ میں رکھا۔ اس کو اپنی جنسی درندگی کا نشانہ بنایا اور قتل کر کے لاش کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دی۔ پولیس نے اپنی روایتی بے حسی اور بے پروائی سے اس کیس کو ہینڈل کیا۔ سوشل۔ پرنٹ میڈیا اور ٹی وی چینلز کے وا ویلا کرنے اوروالدین کے آواز بلند کرنے پر تحقیقات کا

Read more

خدا کسی دشمن کو بھی اولاد کا غم نہ دکھائے

یہ تو اولاد والے ہی جانتے ہیں کہ نہ جانے کتنی مشکلات اور امتحانات سے اولاد پلتی ہے۔ نہ جانے کتنے رت جگے اولاد کی سکھ کی نیند کے لئے ماں باپ کاٹتے ہیں۔ اپنی کتنی خواہشوں کو مار کر اولاد کے خواب خریدتے ہیں۔ اپنے ہر خواب کو اپنی اولاد سے جوڑ لیتے ہیں۔ لاڈ اٹھاتے ہیں، نخرے برداشت کرتے ہیں۔ کیونکہ اولاد دل کا ٹکڑا جو ٹہری آنکھوں کا نور ٹھہری۔ جس گھر کے آنگن میں معصوم کلکاریوں

Read more

عشقِ مجازی سے عشقِ حقیقی کا سفر ایک افسانوی تجزیہ

کہتے ہیں کہ انسان اپنا پہلا اچھا عمل ”ریا“ سے شروع کرتا ہے۔ یعنی دکھاوے سے۔ دکھاوا پھر عادتوں میں ڈھلتا ہے اور پھر یہی ”عادتیں“ پختہ ہو کر عبادات کے صوفیانہ چولے پہن لیتی ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے عشق حقیقی، عشق مجازی کی شاخ سے پھوٹ کر پورے جسم میں خوشبو کی طرح اتر جاتا ہے۔ با الفاظ دیگر یوں کہہ لیجیے کہ عشقِ مجازی وضو ہے تو عشقِ حقیقی نماز۔ اور وضو کے بغیر نماز کیسے ممکن ہے۔آج اس موضوع کو منتخب کرنے کا میرا مقصد بھی یہی تھا۔ اور یہ مقصد مجھے ملا ایک ”مجازی ملاقات“ سے اس ملاقات کے جو کرشمات تھے انہوں نے میرا دل کو مجازی سے حقیقی کی طرف کیسے راغب کیا۔ یہی روداد آج کی نذرِ نظر کرنی ہے اچھا اب ایسا بھی نہیں ہے کہ میں کوئی ولی بن گیا ہوں۔ لیکن ولایت کیا ہے، اللہ نے قران میں کیوں کہا۔ کہ ”میں اولیا کے ہاتھ، پاوں اور انکھ بن جاتا ہوں۔“ یہ آفاقی باتیں سچ میں مجھے چھو کر گزری ہیں اس فنا میں بقا کیوں ہے یہ راز مجھ پر افشا ہوئے ہیں۔ خیر۔

Read more

شوبز ڈائری: سلمان مودی کے انتخاب پر خوش اور پرینکا کے شکرگزار

Getty Imagesممبئی: کترینہ کیف اور سلمان خان اپنی نئی آنے والی فلم ’بھارت‘ کے گانے ’زندہ‘ کی تقریب رونمائی میں بات کر رہے ہیں عید آنے والی ہے اور اس کے ساتھ ہی ہر بار کی طرح سلمان خان بھی اپنی نئی فلم کے ساتھ جلوہ افروز ہونے والے ہیں لیکن ان سے پہلے مودی جی اکثریت سے ایک بار پھر اقتدار میں آنے کے لیے تیار ہیں اور بالی وڈ میں انھیں مبارکباد دینے والوں میں سلمان خان سب

Read more

آپ بھی بے رحم ہو جائیں

ہمارا روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ جب کسی کی اولاد کو کوئی زخم لگ جاتا ہے، تو وہ فوری طور پر اس کی مرہم پٹی کرواتا ہے۔ اپنے تئیں بہترین ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے۔ اچھی سے اچھی دوا لینے کی کوشش کرتا ہے تا کہ زخم خراب نہ ہو اور جلد سے جلد ٹھیک ہوجائے۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنے بچے کو زخم لگنے کے بعد اسے خدا کی مرضی سمجھ کر صبر کا مظاہرہ کرتا نظر آئے یا پھر کسی ایسے شخص سے اس کی دوا لیتا نظر آئے کہ جس کی دوا سے ہر کسی کا زخم خراب ہی ہوتا آیا ہو، یا پھر وہ زخم پر صرف کپڑا باندھ دے تا کہ کسی کو نظر آئے تو ایسے شخص کی عقل پر ناز کیا جائے یا ماتم؟

Read more

ثقافت، تہذیب، کلچر میں سے کوئی دائمی نہیں

یہ دنیا کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ زمین کا یہ گولہ جس تیزی کے ساتھ دو تین مداروں میں گھوم رہا ہے اسی تیزی سے تغیر کا پہیہ بھی حرکت میں ہے۔ یہاں رواج بدلتے ہیں رسمیں ختم ہوتی ہیں، نئی جنم لیتی ہیں۔ ہر آنے والی تبدیلی پچھلی صورتحال پر اثرانداز ہوتی ہے اور اس تبدیلی کے خلاف مزاحمت بھی ہوتی ہے جو ظاہری سی بات ہے، ایک مخصوص دورانیے کے بعد ختم ہونا ہی ہوتی ہے۔ کیونکہ تغیر نے اپنا جھنڈا سربلند رکھنا ہی ہوتا ہے۔

Read more

بے لوث محبت ہی سے راحتِ قلب ہے

ہر جذبہ جنم لینے کے لیے محبت کا محتاج ہوتا ہے۔ ہر احساس محبت سے کشید کیا جاتا ہے۔ حسد، نفرت، غصہ، دکھ، درد، خوشی، راحت، مسرت، سکون ان کا بظاہر کوئی وجود نہیں ہے، یہ محبت سے جنم لیتے ہیں۔ محبت ہر انسان پر مختلف طریقوں سے نازل ہوتی ہے۔ ہر انسان اپنی ذہنی صلاحیت اور اپنے مزاج کے مطابق محبت کو سمجھتا ہے۔ ہر انسان مختلف مراحل اور مختلف لمحوں میں محبت کے بھید پاتا ہے۔ کسی بھی

Read more

کرپشن کے کمبھ میلے سے بچھڑے سیاسی گدی نشینوں کا ملاپ

ماضی کی فلموں میں کمبھ میلہ اور اسی طرزکے کچھ میلوں ٹھیلوں کے مناطرعموماً دکھائی دیتے تھے۔ یہ میلے بھی عجیب ہوتے تھے۔ پہلے تو انہی میلوں ٹھیلوں کی وجہ سے کچھ لوگ بچھڑتے ہیں اور پھر بہت سے مصائب اور مشکلات جھیلنے کے باعث میلوں میں ہی بچھڑے ہوؤں کا ملاپ ہو جاتا۔ گزشتہ اتوار کو افطار ڈنر کے موقع پر کچھ اسی قسم کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ کمبھ میلہ برصغیر کا سب سے مشہور میلہ ہے۔ یہ

Read more

انتظار کیجیے اور اطمینان رکھیے

کچھ لوگ اپنی تعلیم 22 سال کی عمر میں مکمل کر لیتے ہیں۔ مگر ان کو پانچ پانچ سال تک کوئی اچھی نوکری نہیں ملتی۔ کچھ لوگ 25 سال کی عمر میں کسی کمپنی کے سی ای او بن جاتے ہیں اور 50 سال کی عمر میں ہمیں پتا چلتا ہے، ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ جبکہ کچھ لوگ 50 سال کی عمر میں سی ای او بنتے ہیں اور نوے سال تک حیات رہتے ہیں۔ کچھ لوگ ایک

Read more

پندرہ رمضان المبارک، عالمی یوم یتامی، ہمارے بچے، ہماری ذمہ داری

پاکستان سمیت مسلم دنیا میں 15 رمضان المبارک کو یوم یتامیٰ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی سینیٹ اور مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی کی قراردادیں منظور کی ہوئی ہیں۔ وطن عزیز سمیت دنیا بھر میں ناگہانی آفات، بے امنی، صحت کی سہولیات کی کمی، حادثات، مسلم ممالک میں دہشت گردی کے باعث جہاں ہزاروں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، وہیں لاکھوں بچے بھی یتیم ہو گئے۔ یہ بچے تعلیم و تربیت اور مناسب سہولیات نہ ملنے کے باعث معاشرتی، سماجی محرومیوں اور بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں۔ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی، حادثات، قدرتی آفات سے متاثر ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے 2017ء میں اپنی رپورٹ میں لکھا ہے، صرف پاکستان میں مذکورہ وجوہ کی بنا پر سترہ برس کی عمر تک کے 42 لاکھ بچے اپنے والد سے محروم ہو چکے ہیں۔

Read more

کامریڈ حیدر بخش جتوئی:سندھ کی کسان جدوجہد کا ہیرو

سندھ دھرتی ہمیشہ سے دلیر، بہادر، نڈر، با صلاحیت اور آدرشی انسانوں کو جنم دیتی رہی ہے، جنہوں نے اپنی عقل و دانش، جہد و مزاحمت سے دھرتی کے باسیوں کی عزت، آزادی اور خوش حالی کے لئے دن رات ایک کر دیے۔ ایسے ہی مہان اور متحرک انسانوں میں کامریڈ حیدر بخش جتوئی کا شمار بھی ہوتا ہے۔ حیدر بخش جتوئی ”جئے سندھ“ نعرے کے خالق، انقلابی ادیب، مصنف، قانون دان اور سیاستدان تھے۔

Read more

میثاق جمہوریت پر عمران خان کا آخری یو ٹرن

دنیا میں بیشتر ممالک کے وزرائے اعظم اور صدور، عوام کے ہیرو اور آئیڈیل اس لئے نہیں ہوتے کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دیانتداری سے بہتر کارکردگی دکھانا ان کا کام ہے۔ بڑے عہدوں پر براجمان سیاستدان بھی اپنے آپ کو اس سسٹم میں ڈھال لیتے ہیں۔ کوئی بھی دوسرا اہم اور طاقتور ادارہ ان کے کام میں مداخلت نہیں کرتا۔ ہیرو تو ہمارے سیاستدان ہیں جو اپنی ذمہ داریاں نبھانے، عوام کو ریلیف دینے او ر مخالفت کا نشانہ بنتے ہوئے شہید ہوتے ہیں، جیلیں کاٹتے ہیں، تشدد کا نشانہ بنتے ہیں اور جو بچ جاتے ہیں ذلت و رسوائی ان کے دامن میں ڈال دی جاتی ہے۔

Read more

دھندا ہے پر بہت گندا ہے

سکول کالج کے زمانے میں بک سٹالوں پر ’’چترالی‘‘ اور اس قسم کے ناموں کے رسالے پڑے ہوتے تھے۔ جس میں تاثر یہ دیا جاتا تھا کہ یہ بہت فحش رسالے ہیں۔ مقصد قاری کو گھیرنا یا راغب کرنا ہوتا تھا۔ کچھ فلم ایکٹریس کی، نیم عریاں تصاویر بھی ہوتیں تھیں۔ اور کچھ پڑھنے کے لئے چٹخارے دار مواد بھی ہوتا۔ خیر ان کا رسالہ بِک جاتا۔ پڑھنے والے کی رائے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ پرنٹ میڈیا

Read more

کیا غریبوں کی بھی عید ہوتی ہے؟

یہ دنیا بڑی ظالم ہے۔ یہاں پر لوگ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں ایسے لوگوں کو بھی کچلتے جا رہے ہیں۔ جو کبھی ان کی دوڑ میں شامل بھی نہیں ہوئے۔ ایسے لوگوں کی حق تلفی کی جاتی ہے۔ اس دنیا میں مختلف قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں ان کی اقسام تو مختلف ہو سکتی ہیں، مگر ضروریات زندگی تقریباً ایک جیسی ہی ہیں۔ جیسا کہ رہنے کے لیے مکان، کھانے کے لیے روٹی اور پہننے

Read more

وقت سے پہلے وکٹیں اکھاڑنے کی عادت ابھی گئی نہیں شاید

کرکٹ میچ کے دوران اکثر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ آخری کھلاڑی کے آوٹ ہو نے پر امپائر کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی مخالف ٹیم کے کھلاڑی اپنی فتح کے یقین اور جذبات کے ہاتھوں مجبور ہوکر وکٹیں نکال لیتے ہیں۔ بعض اوقات یہ عمل امپائر کو دباؤ میں لانے کے لیے بھی کیا جاتا ہے لیکن منظر تب بدلتا ہے، جب امپائر ناٹ آوٹ کا اشارہ دے دیتا ہے اور مجبوراَ وکٹیں دوبارہ لگانی پڑتی ہیں۔ خان

Read more

غلامی کا تصور اور اسلام پر اعتراض

یورپی ممالک خود کو بہت مہذب اور انسان دوست سمجھتے ہیں مگر ہیں انتہائی منافق جو انسانیت کو کچلتے پھر رہے ہیں۔ ان کی چالیں شطرنج کی چالوں سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ کچلنے کے لئے پہلے بہانے پیدا کرتے ہیں۔ ان بہانوں کو پیش کرتے ہوئے انسانیت کو کچلنا مجبوری گردانتے ہیں اور جب اچھی طرح انسانیت کو کچل چکے ہوتے ہیں تو پھر ہمدردی جتانے کے لئے دوڑے چلے آتے ہیں کہ ہم آپ لوگوں کے بہت ہمدرد

Read more

وفاق سے اچھا تعلق: گلگت بلتستان کی مجبوری

گلگت بلتستان میں حکومت قائم کرنا اور چلانا جہاں انتہائی آسان ہے وہی پر انتہائی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس بات میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ وفاق میں اقتدار میں آنے والی پارٹی ٹھیک دوسال کے بعد اپنا دائرہ اختیار کو گلگت بلتستان تک توسیع دیتی ہے۔ یہ روایت چلی آ رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے گزشتہ الیکشن کے ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کر دیا تھا کہ گلگت بلتستان اور

Read more

کفالت یتیم، جنت سے رفاقت رسول تک

میری یاد داشت میں جو زندگی کی شبیہ ہے وہ میرے بابا کی ہے۔ میں کیسے ان کی انگلی پکڑے گلی سے گزری تھی اور انہوں نے مجھے آئس کریم دلائی تھی۔ شاید ہر فرد کی یاد داشت میں جو زندگی کی ابتدا کی شکل ہے، وہ اپنے والدین کے ہم راہ ہی ہے۔ لیکن کچھ ایسی بھی بیٹیاں ہیں جنہیں بابا کی جھولی میں کھیلنے اور ان کی انگلی تھامے زندگی کا سفر طے کا موقع نہیں ملتا اور نا ہی ان کی یاد داشت میں ایسی کوئی زندگی کی ابتدا ہوتی ہے۔ ان کی یادیں معاشرے کا جبر سہتے، والدین کی بانہوں میں کھیلتے ہم جولیوں کو ترستی نگاہوں سے دیکھنے کی ہوتی ہیں۔ ان بچوں کو دنیا یتیم بچوں کے نام سے جانتی اور پکارتی ہے۔

Read more

دلی اطمینان اور پسند کا پیشہ

ماں باپ اپنے بچوں کے لئے بہت سی قربانیاں دیتے ہیں۔ وہ اپنی اولاد کو دنیا کی ہر چیز سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو ہمیشہ اس مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں، جہاں کوئی اور نہ پہنچ سکے۔ کیونکہ ان کے لئے ان کی اولاد سے بڑھ کر اور کوئی شے نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی اولاد کو ایک اونچے مقام پر دیکھنے کے لئے والدین اپنی اولاد کے بارے میں، ان کے پیشوں کے بارے میں، آنکھوں میں مختلف خواب سجاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کے مڈل کلاس طبقے میں یہ بات نہایت ہی عام ہو چکی ہے کہ بچے کو بڑے ہو کر کچھ مخصوص پیشے ہی اپنانے پڑتے ہیں۔ لڑکیوں کا ڈاکٹر اور لڑکوں کا انجینئر ہونا بہت ضروری ہو گیا ہے۔ جیسا کہ اگر اولاد ڈاکٹر، انجینئر اور پائلٹ جیسے شعبے نہیں اپنائے گی تو ان کو پڑھانا بے کار ہے۔ اور یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ صرف یہی پیشے اپنا کر نہایت اچھی آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔

Read more

سوشل میڈیا پر لغویت اور کردار کشی ختم ہونی چاہیے

جوں جوں انسان کے علم میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اسی مناسبت سے اس کی شخصیت میں نکھار، معاشرے کے بارے میں فکرمندی اور تبدیلی کا خواہاں ہوتا ہے، معاشرے میں نا انصافی، غربت، اقراباپروری، تعصب جیسے معاشرتی برائیوں کا خاتمہ چاہتا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں ”انسان کی جتنی ہمت ہو اتنی ہی اس کی قدر و قیمت ہے اور جتنی مروت اور جوانمردی ہوگی اتنی ہی راست گوئی ہو گی، اور جتنی حمیت و خودداری ہو

Read more

عالمی یوم یتامیٰ :یتیم پرور حضرت علی کی سیرت پر عمل کیجئے اور الخدمت فاونڈیشن کا ساتھ دیجئے

پاکستان میں بیسیوں ملکی اور بین الاقوامی فلاحی ادارے یتیم بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کر رہے ہیں۔ پاکستان میں یتیم بچوں کی کفالت کرنے والے چند اداروں نے پاکستان میں یتیم بچوں کی آواز بننے کے لیے پاکستان آرفن کئیر فور م تشکیل دیا جس میں الخدمت فانڈیشن پاکستان سرفہرست ہے۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان آرفن کئیر فورمہر سال 15 رمضان کو یوم یتامی کے طور پر منائے گی۔ اور گزشتہ سال پاکستان کی قومی اسمبلی میں بھی، 15 رمضان کو یوم یتامی منانے کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کی گئی ہے۔ اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی نے دسمبر 2013 میں پہلی بار ترکی کی معروف سماجی تنظیم آئی ایچ ایچ کی تجویز پر تمام اسلامی ملکوں میں 15 رمضان کویتیم بچوں کے دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا تھاجسے دنیا بھر میں یتیم بچوں کی کفالت اور فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والے اداروں نے عملاسراہا ہے۔

Read more

معاشرہ زیر تعمیر ہے

اللہ قمرزمان کائرہ صاحب اوران کی فیملی کو صبرِجمیل عطا فرمائے آمین۔نا گہانی موت کا صدمہ کیا ہوتا ہے؟ یہ صرف وہ سمجھ سکتا ہے، جو اس صدمے سے گزر چکا ہو، اور کسی والد کی اپنے کسی بچے کی موت کے دکھ کو سہنا، کسی بھی صدمے سے بڑا صدمہ ہوتا ہے۔اس حادثے کے بعد کار میں حفاظتی انتظامات کا نہ ہونا، اور اس سے متعلقہ گفتگو اس عمل کی طرف اشارہ کرتیں ہیں کہ اسی قوم میں وہ افراد بھی موجود ہیں جو درد دل رکھتے ہیں اور آئندہ کوئی اس صدمے سے نا گزرے، اس حوالے سے سوچ بھی رکھتے ہیں۔

Read more

خودکشی اور ہمارے معاشرے کا المیہ

خودکشی، جب انسان خود کو مار لیتا ہے، ختم کر لیتا ہے۔ ہمارے لیے یہ بات اب بالکل بھی نئی نہیں رہی کیوں کی اب تو ہر دن ہی ایسی خبریں آ رہی ہوتی ہیں۔ کبھی ہم نے سوچا ہے کہ خودکشی کرنے والے کو سب سے آسان کام اور تمام مشکلات کا حل خود کو ختم کرنا ہی کیوں لگتا ہے، کیوں وہ تھک جاتے ہیں جینے سے؟ ڈر، خوف اور ناکامی کی، دوسروں کے لیے کچھ نہ کر

Read more

ہم فحاشی کی بد ترین قِسم میں مبتلا ہیں

سچ سے منہ موڑ لینا ایک بدترین فحاشی ہے اور منہ بھی اس وقت موڑلینا جب سچ اپنی پوری طاقت اور برہنگی کے ساتھ قدم بہ قدم اس قوم کو جھنجھوڑ رہا ہو۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بحیثیت قوم ہم اس فحاشی کو کب تک برداشت کرسکتے ہیں اور معاشرتی زوال کی کون سی منزل پر ہمیں ہوش آئے گا۔ آج کی تلخ ترین سچائی یہ ہے کہ پاکستانی قوم کراہِ ارض کی قابلِ رحم قوموں میں ایک سرِفہرست قوم ہے۔

Read more

حنا کے رنگ میں پھیل چکا لہو

کیا افغانی کا ریپ اور قتل جائز ہے؟ درندوں کے بیچ جب زندگی دم توڑتی نظر آ‎ئے۔ جب ہوس کے پجاری ننھی کلیوں کو مسلتے ہوئے شیطانی کارندے بن جائیں۔ جب زندگیوں اور عزتوں کے محافظ جرم کو قانون کا جامہ پہنائیں۔ جب شیطان کے سامنے انسانی شیطانوں کا جادو سر چڑھ کر بولے۔ جب زندگی کے حسیں رنگوں میں خون کے رنگت کی امیزش لازمی ٹھرے۔ جب انسان درندہ بن کے انسانیت کا خون کرے۔ جب ظلم مصلحت اور منافقت کے دبیز چادر تلے دب جائے۔ جب ظلم کی درجہ بندی قومیت کی آڑ میں ہو۔ جب انسانوں کی بستی سے انسانیت روٹھ جائے۔ تب ایسی بستی میں ایسے سوال لا معنی ہیں۔

Read more

بچوں سے زیادہ والدین کو تربیت کی ضرورت

اگر میں پرانے دور کا ذکر کروں تو احساس ہوتا ہے کہ آج عورت صرف اس لیے آزاد نہیں ہے کیونکہ آغاز سے ہی تربیت بہتر طریقے سے نہیں ہوئی تھی۔ اگر اس وقت والدین بیٹے اور بیٹی، لڑکا اور لڑکی میں فرق نہ کرتے تو آج معاشرہ کچھ اور ہوتا۔ اگر آج کا آدمی عورت کی عزت نہیں کرتا تو اس میں زیادہ قصور چند والدین اور ان کی تربیت کا ہے۔ کیونکہ بچپن سے ہی لڑکوں کو سر کا تاج بنا کر رکھا جاتا تھا، جس کی وجہ سے ان میں ایسی فطرت پیدا ہو جاتی تھی، جو ان کو اپنے آپ کو عورتوں سے اعلیٰ سمجھنے کے لیے مجبور کر دیتی تھی۔ جس کی وجہ سے وہ عورت پر حکم چلانے کو اپنا فرض سمجھ بیٹھے تھے۔ کچھ تو اسے پاؤں کی جوتی سمجھ کر اس پر ہاتھ اٹھا کر اپنی کھوکھلی مردانگی کا ثبوت تک دے دیتے تھے اور آج بھی کچھ خاص فرق نہیں آیا۔

Read more

میں مسلم ہوں

ایک عرصہ سے ایک سوال میرے ذہن کو بے چین کیے ہوئے ہے کہ کیا مذہب صرف عقائد کی بنیاد پر ایک دوسرے پر کفر کا فتویٰ داغنے کا نام ہے؟ کیا اسلام نے ہمیں شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی بننا سکھایا ہے؟ان سوالوں کے جواب کی تلاش میں کچھ عقائد جو مذہب کے ٹھیکیدار مفت میں فراہم کرتے ان پر نظر دوڑائی اور چند ذاتی تجربات کو بھی مدِنظر رکھتے ہوئے جو نتیجہ نکلا وہی آج بیان کرتا ہوں۔

Read more

مرشد واپس آ گئے

جی ہاں وہی مرشد جنہوں نے معذوری کی حالت میں بھی کئی ہفتے ریاست پاکستان کو معذور بنائے رکھا۔مرشد نے جب گستاخان کے خلاف اعلان جہاد کیا تو ان کے ہزاروں نہیں لاکھوں مرید گلی گلی شہر شہر ایسے اگ رہے تھے جیسے بارش کے بعد کھمبیاں۔ گماں ہو رہا تھا کہ یہ خدائی فوجدار کبھی بھی کسی کو بھی کہیں بھی گستاخ اور کافر کہہ کر واصل جہنم کرنے میں ایک منٹ کی تاخیر نہیں کریں گے۔مگر جب مرشد اسیر ہو ئے تو مرید ایک ایک کر کے سب کے سب غائب ہو گئے۔

Read more

عید کی لوکل شاپنگ بمقابلہ برانڈڈ شاپنگ

پاکستان میں امیر اور غریب کے درمیان طبقاتی فرق مسلسل بڑھ رہا ہے : عالمی بینکمزید اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ امیر اور غریب کے درمیان طبقاتی فرق میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، جس کی ایک وجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی بھی ہے۔جس معاشرے میں امیر اور غریب کا فرق بڑھ جائے تو وہ معاشرہ پیچھے رہ جاتا ہے، وزیر اعظم عمران خان۔

Read more

نام بڑے اور درشن چھوٹے

لفظ ”بیرو“ کا مطلب ہے کام اور ”کریسی“ یعنی ”کرنا“۔ گویا ان سرکاری افسران کو ”کام کرنے“ کے لئے عہدہ دیا جاتا ہے۔ مگر وطن عزیز کی بیروکریسی ہمارے مسئلے حل کرنے میں مخلص نہیں ہے۔ وہ ٹال مٹول اور حیلے بہانے سے کام لے رہی ہے۔ مثال کے طور پر محکمہ خصوصی تعلیم کے ڈپٹی سیکریٹری صاحب کی تقریر مجھے منہ زبانی یاد ہوگئی ہے۔ ہر تقریب میں وہی بات دہرادیتے ہیں کہ ہم بہت کام کر رہے ہیں۔ کسی اور صوبے کے پاس ڈس ایبلٹی لاء نہیں ہے ہمارے پاس ہے۔ہم ایسے ایکٹ کا کیا کریں جو ہمارا حق نہیں دے سکتا؟ فرماتے ہیں کہ خصوصی افراد کی کل تعداد معلوم نہیں ہے ان کی ریجسٹریشن ہوگی پھر شناختی کارڈز بنیں گے پھر صحت کارڈز بنیں گے پھر تعداد کے مطابق اسامیاں نکالی جائیں گی، ان کے لئے ایک ایڈوائزری کاونسل بنے گی جو حکومت کو بتائے گی کہ اتنے پڑھے لکھے خصوصی افراد ہیں اور پھر اس کے بعد ملازمت ملے گی۔

Read more

غلامی در غلامی

شیخ سعدی بیان کرتے ہیں کچھ عرصہ میرا قیام دمشق میں رہا۔ ایک دفعہ اہلِ دمشق سے تنگ آ کر فلسطین کے بیابانِ قدس میں ترکِ دنیا کر کے بیٹھ رہا۔ وہاں کے عیسائیوں نے مجھے قید کر لیا اور یہودی قیدیوں کے ساتھ طرابلس کی خندق کھودنے پر لگا دیا۔ مدت بعد حلب کے ایک رئیس آدمی کا وہاں سے گزر ہوا جو میرا جاننے والا تھا۔ اس نے مجھے پوچھا کے یہ تو نے اپنی کیا حالت بنا رکھی ہے۔ میں نے کہا کچھ نہ پوچھ انسانوں سے تنگ آ کر پہاڑوں اور جنگلوں کی طرف بھاگا کے عبادت کی یکسوئی میسر آئے اور دیکھ لے میرا حال تیرے سامنے ہے۔رئیس کو میری حالت پر رحم آیا اور اور اس نے دس دینار اد ا کر کے فرنگیوں سے مجھے آزادی دلائی۔ وہ مجھے اپنے ساتھ حلب لے آیا اور سو دینار مہر پر اپنی بیٹی کے ساتھ میری شادی کر دی۔

Read more

شیطان قید ہے

رمضان المبارک کا مہینہ ہے، برکات کا نزول ہے، رحمت برس رہی ہے، کرم عام ہے، ہر طرف نیکیاں ہی نیکیاں ہو رہی ہیں، عبادات کی جا رہی ہیں، رب کا خاص احسان ہے ہم پہ۔ ایسے میں جب شیطان بھی قید ہے تو معاملہ اور اچھا ہو جاتا ہے مگر ہم تو ہم ہیں اور ہمیں جہاں موقع ملتا ہے ہم اپنا حصہ ڈالنے سے بعض نہیں آتے ہیں پھر چاہے کسی تذلیل ہو، کالی گلوچ ہو، غیبت ہو، دوسروں کے کردار کو جانچنا ہو، کسی کی حق تلفی ہو، ہم سے رہا نہیں جاتا ہے۔

Read more

مہنگائی اور اپوزیشن کی عمران ہٹاؤ تحریک

ایک شخص نے بینک میں کچھ رقم جمع کرا دی۔ وہ روزانہ رات کو بینک کے چوکیدار کوکڑک چائے پلا نے پہنچ جاتے۔ تین چار دن بعد چوکیدار نے آخر اس شخص سے پوچھ ہی لیا کہ بھائی تم مجھے روزانہ اتنی کڑک چائے کیوں پلاتے ہو؟ جواب میں اس نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہیں تم سو نہ جاؤ اورمیرے پیسے ڈاکو چرا لے جائیں۔ اگر اس ٹھنڈے لطیفے کوپاکستانی سیاست کے تناظر میں دیکھیں تو ہماری سابقہ حکومتوں کے چوکیداروں کو آئی ایم ایف قرضہ دے کر چائے پلا پلا کر ان کے جاگے رہنے کی اداکاری پر قدرے مطمین رہی، مگرعمران حکومت نے صرف چائے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ قرضہ لے کرآئی ایم ایف کے ایک ملازم ڈاکٹر باقر رضا کو گورنرا سٹیٹ بینک تعینات کردیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ پوری معاشی ٹیم پر آئی ایم ایف کی چھاپ لگی ہوئی ہے۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ملک میں فنانس کنٹرول کرنے والے اہم عہدوں پر آئی ایم ایف کو براہ راست رسائی حاصل ہو چکی ہے۔

Read more

سب گول مال ہے

سٹوپڈٹی پر بہت کم لوگوں نے لکھا ہے۔ اب تک غالباً سات سے آٹھ کتب ہی لکھی گئی ہوں گی۔ مگر اس کی خاطر خواہ تعریف کوئی نہیں کر پایا۔ ہاں مگر ہم یہاں مختلف لوگوں کے خیالات جان سکتے ہیں۔ اور شاید اپنے طور کچھ جان پائیں کہ سٹوپڈٹی کیا ہے۔بعض لوگوں کو خیال ہے کہ یہ عقل کی ابتدا سے پہلے کا سفر ہے۔ اگر انسانی تاریخ کا مطالعہ کریں تو انسان اپنی ابتدا میں جنگلوں میں رہتا تھا۔ وہ لباس، آگ اور زبان اور کئی اور دوسری اشیاء کے استعمال سے ناواقف تھا۔ یہی سٹوپڈٹی کا دور تھا۔

Read more

میرے کپتان اب ہم گھبرانا شروع ہو گئے ہیں

تبدیلی کی فضا ایسی چلی ہے کہ پناہ بخُدا! سونامی نے اس ملک کے ہر شہری کو اس قدر متاثر کیا کہ عوام کی خاموش چیخیں اور اَن سنی آہیں کانوں میں ارتعاش اس قدر پیدا کر رہی ہیں کہ اب اگر کچھ نہ بن پایا تو ایک طوفان شہر کے اندر سے اٹھے گا۔ جو وزیروں، مشیروں اور بڑے بڑوں کے محلات کی در و دیوار کو ڈھا دیگا۔ چنگاری کو ہوا ملنے لگی ہے، امیدیں دم توڑتی نظرآ رہی ہیں، جون صاحب کا ایک شعر بھی یاد آ رہا ہے
کیوں ہمیں کر دیا گیا مجبور
خود ہی بے اختیار تھے ہم تو

Read more

قیامت برپا کرنے کا بہت شکریہ اللّه جی

خدا کی قسم، یہ سوچ بہت حوصلہ دیتی ہے کہ ایک دن قیامت برپا ہونی ہے۔ حساب کتاب لیا جائے گا۔ کمزوروں و مجبوروں کی فریاد سنی جائے گی۔ فیصلہ پورے حق سے ہو گا۔ نہ تو کوئی ثبوت مٹا پایے گا نہ جعلی گواہ لا پایے گا۔ تب دنیا میں مجبور اور ڈرنے والا، بے خوف ہو گا۔ حالت سکون میں ہو گا۔ اور پھٹ پڑے گا یہ کہتے ہوے کہ۔

Read more

پاکستانی کرکٹر آصف علی کی کینسر میں مبتلا بیٹی وفات پا گئیں

PCBآصف علی کی بیٹی میں کینسر کی تشخیص رواں اس وقت ہوئی تھی جب آصف پی ایس ایل کھیل رہے تھے پاکستانی کرکٹر آصف علی کی کینسر کے مرض میں مبتلا بیٹی امریکہ میں دورانِ علاج وفات پا گئی ہیں۔ دو سالہ نور فاطمہ کا کینسر چوتھی سٹیج پر تھا اور انھیں گزشتہ ماہ علاج کے لیے امریکہ منتقل کیا گیا تھا۔ نور فاطمہ کے کینسر کے بارے میں خبریں رواں برس پاکستان سپر لیگ کے دوران سامنے آئی تھیں

Read more

سیکورٹی اسٹیٹ میں مولانا فضل الرحمان کو غیر محفوظ کرنا

پاکستان سیکیورٹی اسٹیٹ ملک ہے، یہاں وزیر اعظم سے لے کر صدر مملکت، وزیر اعلیٰ سے گورنر، چیف جسٹس سے سپہ سالار اور بیوروکریسی سے پارلیمانی ممبران تک، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مذہبی جماعتوں تک کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے جو بغیر سیکیورٹی کے اپنی مرضی سے کہیں جا نہیں سکتا۔ پرویز مشرف کے دور اقتدار کے بعد ملک میں بم دہماکے، قتل و غارت، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان میں نہ صرف اضافہ ہوا بلکہ عام آدمی کی زندگی بھی غیر محفوظ ہو گئی۔

Read more

محنت كی داستان: پہلی كہانی

کامیابی حاصل کرنا محنت سے مشروط ہے۔ جب ہم میں سے کوئی بھی کامیاب انسان یا کامیابی کی بات کرتا ہے یا اس پر لکھتا ہے تو ہمارے پیشِ نظر عام طور پر بڑی بڑی شخصیات ہوتی ہیں۔ ایسی شخصیات جو زندگی گزار چکی ہوتی ہیں اور کسی نا کسی میدان میں جھنڈے گاڑ چکی ہوتی ہیں۔ یقینناَ ایسے لوگ لائقِ تحسین ہوتے ہیں۔ لیکن میری اس تحریر کا موضوع ہمارے ارد گرد موجود ایسے کردار ہیں جن کی زندگیاں محنت اور لگن کی داستانیں ہیں، جن کی محنت سے چاہے کم لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی اور بہتری آئی لیکن وہ اس میں کامیاب رہے۔

Read more

کی جاناں میں کون

شناخت، نام و نصب کے جھگڑے کرتے ہم سب آخر میں بے نام و نشان ہیں۔ ہم میں سے کتنے ہیں جنہیں اپنے پڑ دادا کانام یاد ہوگا۔ کتنے ہیں جو جانتے ہوں کہ ان کے اباؤ اجداد کہاں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور شاز ہی کوئی ہو گا جسے اپنے پڑ دادا سے محبت کا احساس ہوتا ہو۔ پھر بھی ہم جھگڑتے ہیں اپنی ”میں“ کے دائرے میں خود کو مقید کرتے ہیں۔ اپنی اناوں کو سنچتے ہیں اور دوسروں کی عزت نفس کو روندتے ہیں۔ دوسروں کے وقار کی لاش پہ اپنا قد بلند کرکے سینہ پھلا کے خوش ہوتے ہیں۔ کہیں رتبہ مل جائے تو اپنا حق سمجھتے ہیں کہ خود سے ادنی کو روندا جائے۔ کوئی کمزور نظر آئے تو اسے دھمکاتے ہیں کہ اپنی عزت کی دھاک بٹھا سکیں۔

Read more

چھوٹی بات کا بڑا تماشا

 دیوداس فلم میں شاہ رخ خان کی بھابھی مطلوبہ کنگن نہ ملنے پر اس سے ناراض ہو جاتی ہے اور شاہ رخ خان اپنی بھابھی کو مزاح کے سے انداز میں کہتا ہے کہ ”بھابھی آپ تو چھوٹی بات کر بڑا تماشا بنا رہی ہیں“ دوستو! ہمارے گھروں میں بھی اکثر چھوٹی چھوٹی باتوں پر بڑے بڑے تماشے ہو جاتے ہیں ان میں 80 % تماشے بچوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ مسئلہ پھر وہی ”جوائینٹ فیملی سسٹم“ خواتین و حضرات! میری پہلی بات تو آپ اپنے پلے سے باندھ لیں کہ جتنا پیار ماں باپ ”بقلم خود“ اپنی اولاد سے کرتے ہیں دوسرا کوئی کر ہی نہیں سکتا یہ فطری اور بشری تقاضا ہی نہیں ہے۔

Read more

امی کی یادیں

ڈائری کا نام ڈائری نہیں ہونا چائیے بلکہ اس کا نام یادیں ہو نا چائیے ہم ان صفحات پر جو کچھ لکھتے ہیں وہ ایک یاد ہی تو بن جاتی ہے ماضی کی یا د۔ یادیں بھی کتنی ا چھی ہوتی ہیں، گزرے وقتوں کی یاد، بچپن کی بھول بھلیوں کی یاد، کھلونوں سے کھیلتے، دوستوں سے لڑنے کی یاد، امی سے ضد کرنے کی یاد، امتحان میں فیل پاس ہونے کی یاد، گڑیا گڈے کی شادی منانے کی یاد، قربانی کی یاد، بارش کی یاد، طوفان کی یاد، سردی کی یاد، گرمی کی یاد، بارش کی یاد، طوفان کی یاد، بہار کی یاد، خزاں کی یاد زندگی اتنی آگے بڑھ گئی ہے لگتا پیچھے بس یاد ہی یاد ہے مگر مجھے ان یادوں سے پیار ہے ان تمام گزرے وقتوں کی مٹھاس میرے ذہن کو جلا بخشتی ہے۔

Read more

تبدیلی زندہ آباد

کل ایک ویڈیو نظر سے گزری کہ جس میں کسی سیاسی ”راہنما“ نے نام نہاد روزے داروں کو افطار پارٹی میں بلایا۔ کہ افطار کے بعد نعرے بھی باآوازِ بلند حلق سے نکلنے چاہیں۔ پر پاپی پیٹ یہاں بھی اپنی لگامیں توڑ کر بھاگ نکلا۔ نہ سائرن بجا نہ مغرب کی اذان کی گونج سنائی دی۔ پچھلی صدی کے بھوکے لوگ۔ کھانے پر ٹوٹ پڑے۔ اب اللہ کا رزق پاؤں تلے روندا جائے۔ یا خلق سے ثابت نیچے اتارا جائے۔ یہ قصہ الگ ہے۔ انگریز کہتا ہے۔ پہلے دانہ پانی چھین لو بھوکا رکھو۔ پھر ایک ایک دانہ پھینکتے جاؤ۔ انسان دانے کے پیچھے پیچھے آتا جائے گا۔ اور آخر میں جب پیٹ بھر جائے گا تو تمہارے ہی قدموں میں پڑا لوٹ رہا ہو گا۔

Read more

سوال یہ ہے

قصہ یہ ہے کہ یہاں ہر روز کوئی نا کوئی نیا شُغل جاری ہوجاتا ہے، چند روز ہوئے فیس بک پر لوگوں کے ہاتھ نیا کھیل آیا اور وہ تھا Ask me کی ایپ کہ جس میں لوگ خوشی خوشی یہ کہتے ہیں کہ ”پوچھیے ہم سے جو سوال بھی پوچھنا ہے“ یاد رہے کہ ایسے میں سوال پوچھنے والے کا نام مخفی رہتا ہے۔بھئی اپنی قوم کا یہ قومی شُعار ہے کہ ہم مغرب سے درآمد شدہ وہ سہولت ضرور خوشی خوشی اپناتے ہیں کہ جس میں وقت کے ضائع ہونے کی سہولت دستیاب ہو سو اِس ایپ کو بھی توقع کے عین مطابق خاص و عام میں بھرپور پذیرائی نصیب ہوئی، لوگوں نے پردے کے پیچھے ایسے ایسے سوال داغے کہ کچھ نہ پوچھیے۔

Read more

ماحولیاتی دہشتگردی !

گذشتہ کافی دنوں سے یورپ میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے احتجاجی مارچ ہو رہے ہیں۔ لنڈن میں ”مدھر رائیز اپ“ گروپ کی جانب سے ایک بڑا احتجاج رکارڈ کروایا گیا۔ اسی طرح کلائمیٹ چینج کی آگاہی دینے کے لیے سکولوں کے طلبہ کی یہ تحریک ہالینڈ، اسپین، زیک ری پبلک اور تقریباَ 100 ممالک تک پہنچ گئی ہے۔ساری دنیا میں موسمی تبدیدلیوں پر نوجوان نسل میں تحرک بڑھ رہا ہے۔ یورپ میں ہزاروں طلبہ نے سکولوں کا بائیکاٹ کرکے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ”سیارہ زمین کو نئی نسل کے لیے رہنے کے قابل بنایا جائے۔ “

Read more

اسرائیل کی ریاست: آہنی عزم کے اکہتر برس مکمل

ہمارے محلے کی چھوٹی سی مسجد میں بیٹھے قاری صاحب بڑے بڑے خواب دیکھا کرتے تھے اللہ غریق رحمت کرے پوری امت کا درد دل میں سمائے ہوئے تھے۔ اُس زمانے میں اللہ کے گھر کی خدمت کے عوض انہیں پانسو ماہوار ملتے تھے اور سر بکف و سربلندی کے دعویٰ کے ناتے جمعرات اور گیارویں کا ختم بھی نہ آتا تھا مگر ان سب مشکلات کے باوجود اس وقت بھی اپنے لڑکے کو اعلیٰ کوالٹی کے ”امریکی بادام“ کھلاتے

Read more

والد سے آخری ملاقات۔۔۔ اور شباب روٹھ گیا

والدین انسان کا ایسا سرمایہ ہے جس کی موجودگی میں اس کی قدر کم ہی لوگوں کو ہوتی ہے مگر جب یہ سرمایہ چھین جائے تو ایسا لگتا ہے کہ اس کے پاؤں کے نچے سے زمین نکل گئی ہو۔ اگر یہ سرمایہ آپ سے بچپن میں چھین جائے تو اس وقت شایداتنا نہیں ہو مگر جوں جوں وقت گزرتا ہے آپ کو رکھ رکھ کر تکلیف دیتی ہے جب کوئی شخص اپنے بچے کو پیار کر تا ہوا دیکھیں

Read more

دُنیا کے عجائبات اور اُن کے عجیب گھر

(عجائب گھروں کے عالمی دن کی مناسبت سے ) ویسے تو یہ دنیا خود ہی ایک ”عجائب گھر“ ہے، مگر اس ارض کے گولے پر گزرنے والی تاریخ (جس کا ایک قلیل حصّہ صدیوں سے ایک معمّہ ہے ) کو جاننے کی کوشش کے تحت تاریخ اور آثارِقدیمہ سے پیار کرنے والوں نے پوری دنیا میں جگہ جگہ ایسے مقامات بَنا رکھے ہیں، جہاں ایسے نوادرات رکھے جاتے ہیں، جو ہمیں کسی نہ کسی طرح سے ہمارے ماضی کا کوئی

Read more

ڈالر کی اڑان اور امریکا کی سازش

اسے امریکہ کی معاشی جنگ کہیں، آئی ایم ایف کی سازش کہیں آپ کچھ بھی نام دے سکتے ہیں۔ مگر میری نظر میں سب سے پہلے اپنی کمزوریوں کو واضح کرنا اشد ضروری ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے تین ماہ کا وقت مانگا میں نے کسی قسم کی تنقید نہ کی۔ مگر تین ماہ گزر جانے کے بعد کھلے عام کہہ دیا یہ حکومت نا اہل ہے اس سے ملک نہیں چلایا جاسکتا یہ کرکٹ کا میچ نہیں ہے

Read more

جنسی زیادتی اور لڑکیوں کی بے بسی کا تماشا

کل کلاس میں ایک موضوع زیر بحث لایا گیا جس میں ایک موصوفہ کہہ رہی تھیں کہ زیادتی کے واقعات میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کا بھی قصور ہوتا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ جنسی زیادتی کے واقعے میں قصوروار کون؟ میرا خیال ہے کہ اگر کوئی ایسا واقعہ ہو کہ جس میں وہ لڑکی جس کے ساتھ دست درازی کی گئی ہے، وہ خود بھی قصوروار ہو، تو ایسے واقعے کو زیادتی قرار دینا واقعی زیادتی ہے۔

Read more

پنجرہ

1948 میں فلسطینیوں کے جبری انخلا کی یاد میں منائے جانے والے دن النکبة ( 15 مئی) کے نام۔دو دن سے قلقیلیہ میں کرفیو عائد تھا۔ عبدالعزیز نے دوسرے روز شام کو کلثوم اور دونوں بچّوں کے ساتھ کھانا کھایا اور سوچ میں پڑ گیا کہ چڑیا گھر میں اس کے دوسرے بچّے دو دن سے بھوک پیاس سے تڑپ رہے ہوں گے۔ اس کو ہر صورت میں چڑیا گھر پہنچنا ہے۔ اگلی صبح پو پھوٹنے سے پہلے ہی کلثوم کو بتاے ٔ بغیر وہ گھر سے نکل گیا۔ اس کو پتہ تھا کہ اگر کسی فوجی نے دیکھ لیا تواس کو وہیں گولی مار دی جاے ٔگی۔ لیکن آج وہ چڑیا گھر ضرور جائے ٔ گا پچھلی گلیوں سے چھپتے چھپاتے۔

Read more

15 مئی 1988 کا 15 مئی 2019 ء سے ایک سوال

یہ ٹھیک 31 برس پہلے 15 مئی 1988 ء کا دن تھا جب سوویت یونین کے جدید آرمرڈ پرسونل کیریئرز BTR۔ 80 s نے دریائے آمو پر ہیراتن پُل کراس کرکے واپس ماسکو کی راہ لی۔ افغانستان سے سوویت یونین کی فوجوں کے انخلاء کا یہ پہلا دن تھا اور یہ عمل 9 ماہ بعد 15 فروری 1989 ء کو مکمل ہوا۔ سوویت یونین کی فوجوں کی واپسی کی کمانڈ ”کرنل جنرل بورِس گروموو“ کررہے تھے۔ پاکستان میں سوویت یونین کی فوجوں کی واپسی کی خبر شادیانے بجاکر سنائی گئی کیونکہ 80 ء کی دہائی کے دنوں میں پاکستان کے گلی کوچوں میں ایک ہی نعرہ گونجتا تھا کہ ”کمیونزم کا قبرستان، افغانستان افغانستان“۔

Read more

رمضان اور مخلوقِ خدا کا احساس

حال ہی میں ایک عزیز سے ملاقات ہوئی۔ موصوف کافی جلدی میں تھے۔ پوچھنے پر جواب دیا کہ ان کے گھر میں دعوتِ افطار ہے اور دعوت میں موصوف نے اپنے باس اور ان کی بیوی کو مدعو کیا ہوا تھا۔ جناب جو کہ خاصی جلدی میں تھے، یہ فرما کر رخصت ہونے لگے کہ ایک بڑے ہوٹل سے باس کے لئے افطاری لینے جا رہا ہوں، وقت پر نہ پہنچا تو کہیں ختم نہ ہو جائے۔

Read more

گورنمنٹ کالج لاہور میں پنجابی کی تدریس

زبان ثقافتی تسلسل کا اھم ترین جزو ہے۔ کسی بھی خطہ میں بولی جانے والی زبان اس خطہ کے لوگوں کی شناخت کی ضامن ہوتی ہے۔ اس خطہ کے لوگ چاہے مختلف مذاہب ’رنگوں اور نسلوں میں تقسیم ہوں لیکن زبان کی یکانگت ان سب لوگوں میں نہ صرف ہم آہنگی پیدا کرتی ہے بلکہ نیشنلزم کو سائنسی بنیادیں بھی فراہم کرتی ہے۔ بات ہو اگر پنجاب کی تو بدقسمتی سے پچھلی صدی کے اوائل سے زبان جیسے سائنسی علم و عمل کو منفی پروپیگنڈے کی وجہ سے عمومی طور پر مذہب کے تناطر میں دیکھا گیا۔

Read more

فطرت سے رومانس کرتے ہوئے دیہی لوگ

اگر آپ کو فطرت سے رومانس کرتے ہوئے لوگوں کو دیکھنے کی چاہت ہو، تو اپنے زندگی کی مصروف گھڑیوں سے وقت نکال کر گاؤں کی زندگی کا رخ کیا جائے۔ گاؤں کہ رہن سہن اور دیہاتی باشندوں کی زندگی پر غور فکر جائے تو فطرت اور انسان کہ باہمی تعلق کا اندازہ یقینن ہوجائے گا۔ دیہات جہاں دنیا کی مختلف تہذیبوں نے جنم لیا۔ دیہات ہی سے علم کا دروازہ کھلا ہے۔ اور آج کی ترقی یافتہ سائنس و ٹیکنالوجی کہ دؤر میں ہم داخل ہوئے ہیں ان میں دیہی زندگی کا اہم کردار رہا ہے۔

Read more

لاشوں پر سیاست کرنے والے کم ظرف گدھ

قمر زماں کائرہ صاحب کے جواں سال برخودار کی ناگہانی موت پر ہر دردِ دل رکھنے والا آدمی اشک بار ہے۔ میری اہلیہ اسامہ کی موت کی خبر سن کر کئی بار فرط جذبات سے آنسو بہا چکی ہیں۔ بچے بھی ملول و مغموم ہیں۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر قمر زمان کائرہ بلا شبہ ان سنجیدہ و فہمیدہ سیاستدانوں میں سے ایک ہیں جو پارٹی وابستگی سے بالا تقریباً تمام لوگوں کے لیے قابل قبول ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی مسئلے پر ان کا تجزیہ نہایت منطقی، مربوط، صائب اور حسب حال ہوتا ہے۔

Read more

صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے حق میں نہیں: نیویارک ٹائمز

Reuters </figure>&#1575;&#1575;&#1605;&#1585;&#1740;&#1705;&#1740; &#1575;&#1582;&#1576;&#1575;&#1585; &#1606;&#1740;&#1608; &#1740;&#1575;&#1585;&#1705; &#1657;&#1575;&#1574;&#1605;&#1586; &#1705;&#1575; &#1705;&#1729;&#1606;&#1575; &#1729;&#1746; &#1705;&#1729; &#1589;&#1583;&#1585; &#1657;&#1585;&#1605;&#1662; &#1606;&#1746; &#1662;&#1740;&#1606;&#1657;&#1575;&#1711;&#1608;&#1606; &#1705;&#1608; &#1576;&#1578;&#1575;&#1740;&#1575; &#1729;&#1746; &#1705;&#1729; &#1608;&#1729; &#1575;&#1740;&#1585;&#1575;&#1606; &#1705;&#1746; &#1587;&#1575;&#1578;&#1726; &#1580;&#1606;&#1711; &#1705;&#1746; &#1581;&#1575;&#1605;&#1740; &#1606;&#1729;&#1740;&#1722; &#1729;&#1740;&#1722; &#1580;&#1587; &#1705;&#1746; &#1576;&#1593;&#1583; &#1575;&#1593;&#1604;&#1740; &#1575;&#1605;&#1585;&#1740;&#1705;&#1740; &#1587;&#1601;&#1575;&#1585;&#1578; &#1705;&#1575;&#1585; &#1575;&#1740;&#1585;&#1575;&#1606; &#1705;&#1746; &#1587;&#1575;&#1578;&#1726; &#1705;&#1588;&#1740;&#1583;&#1711;&#1740; &#1705;&#1608; &#1705;&#1605; &#1705;&#1585;&#1606;&#1746; &#1705;&#1746; &#1585;&#1575;&#1587;&#1578;&#1746; &#1672;&#1726;&#1608;&#1606;&#1672; &#1585;&#1729;&#1746; &#1729;&#1740;&#1722;&#1748; نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ نے قائم مقام وزیرِ دفاع پیٹرک شیناہین سے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے۔ اخبار نے امریکی انتظامیہ کے حوالے سے بتایا کہ وزیرِ

Read more

سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

جناب خورشید ندیم صاحب!”ہم سب“ کے ایک نیم مستقل قاری ہونے کی حیثیت سے گزشتہ دنوں جناب خورشید ندیم صاحب کی ایک تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا جس کا موضوع تھا ”مذہب پر کون بات کرے؟ “۔ جیسا کہ عنوان ہی سے واضح ہے کہ محترم خورشید ندیم صاحب نے اس مضمون میں ایک سوال اٹھایا ہے اور اس کا تناظر بیان کرکے کچھ جواب دیے ہیں۔ یہ تحریر اس سوال اور موضوع کی مختصر تنقید و تفصیل ہے۔موضوع پر اپنی رائے دینے سے پہلے یہ اعتراف ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم ایسوں نے جن صاحب علم شخصیات کو پڑھ کر لفظ کی حرمت سے واقفیت پائی ہے جناب خورشید ندیم صاحب ان میں ایک معتبرنام ہیں۔

Read more

انتہا پسندی کے اسباب اور علاج

انتہاپسندی ایک معاشرتی ناسور ہے جو معاشرے کی اخلاقی اقدار اور امن و سکون کو غارت کردیتی ہیں۔ اسی انتہاپسندی کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں شاگرد اساتذہ کو معمولی اختلاف پر قتل کرنے تک آگئے ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں انتہا پسندی کے بڑھنے کی کئی ایک وجوہات ہو سکتی ہیں۔

Read more

سب مسائل کا ایک ہی حل

گزشتہ دنوں ویزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے ایران کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے دوران جہاں خان صاحب کی اور بہت ساری مصروفیات رہیں وہیں اہم ترین بات جو سامنے آئی تھی وہ توانائی کے حصول کے سلسلے کی تھی۔ پاکستان اس وقت بہت سارے دیگر مسائل اور بحران کے علاوہ توانائی کے بحران کا بھی شکار ہے جس میں بجلی اورپٹرول کی شدید کمی کا سامنا تو ہے ہی، ساتھ ہی ساتھ گیس کی کمی بھی پاکستان کو کسی بھی وقت ایک بہت بڑے خسارے میں مبتلا کر سکتی ہے۔

Read more

کیا مسلمانوں کا مذہبی مسائل پر بحث کرنا تعمیری شغل ہے؟

ویسے تو یہ زمانہ قدیم سے چلا آرہا ہے کہ مسلمان خواہ ایک ہی مسلک کے کیوں نہ ہوں، دو خانوں۔ 1۔ دقیانوسی بنیاد پرست اور 2۔ روشن خیال لبرل میں بٹے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں اپنے کو برتر اور دوسرے کو کمتر ثابت کرنے میں توانائی صرف کرتے رہتے ہیں۔ دونوں میں کبھی تال میل نہیں بیٹھا اور اس طرح مسلم سماج کے دل و دماغ میں تعمیری سوچ پنپنے کی جگہ غیر ضروری موضوعات جگہ لیتے رہے۔ ایک طبقہ دینی تو دوسرا طبقہ دنیوی کے بینر تلے سماج میں سرایت ہے۔

Read more

انڈین وزیر اعظم نریدنر مودی کی پہلی پریس کانفرنس: ‘مگر میں چپ رہوں گا’

EPA </figure>&#1575;&#1606;&#1672;&#1740;&#1575; &#1705;&#1746; &#1608;&#1586;&#1740;&#1585; &#1575;&#1593;&#1592;&#1605; &#1606;&#1585;&#1740;&#1606;&#1583;&#1585; &#1605;&#1608;&#1583;&#1740; &#1575;&#1606;&#1672;&#1740;&#1575; &#1605;&#1740;&#1722; &#1662;&#1729;&#1604;&#1740; &#1576;&#1575;&#1585; &#1576;&#1729;&#1578; &#1705;&#1670;&#1726; &#1705;&#1585;&#1606;&#1746; &#1705;&#1575; &#1583;&#1593;&#1608;&#1740;&#1648; &#1705;&#1585;&#1578;&#1746; &#1729;&#1740;&#1722; &#1585;&#1729;&#1746; &#1604;&#1740;&#1705;&#1606; &#1711;&#1584;&#1588;&#1578;&#1729; &#1585;&#1608;&#1586; &#1575;&#1606;&#1726;&#1608;&#1722; &#1606;&#1746; &#1608;&#1586;&#1740;&#1585; &#1575;&#1593;&#1592;&#1605; &#1705;&#1740; &#1581;&#1610;&#1579;&#1740;&#1578; &#1587;&#1746; &#1608;&#1575;&#1602;&#1593;&#1740; &#1662;&#1729;&#1604;&#1740; &#1576;&#1575;&#1585; &#1575;&#1740;&#1705; &#1662;&#1585;&#1740;&#1587; &#1705;&#1575;&#1606;&#1601;&#1585;&#1606;&#1587; &#1705;&#1740;&#1748; اس پریس کانفرنس کی انتہائی خاص بات یہ رہی کہ انھوں نے کسی صحافی کے سوال کا جواب نہیں دیا۔ بلکہ جو سوالات ان سے کیے گئے اس کا جواب بی جے پی کے صدر امت شاہ نے دیے اور انھوں نے یہ بھی

Read more

آپ ٹیکنیک سیکھ لیں

خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں ڈاکٹر پر تشّدد ہوا، وہ اور ان کے ڈاکٹرز اپنی بات پر اڑے رہے اور وزیر صحت اپنی ہستی کو عزت کا سرچشمہ قرار دیتے رہے۔ دونوں جانب کے حالات دیکھ کر بابا جی اور بچّے کا سوال و جواب یاد آگیا۔بابا جی سے بچّے نے سب سے بڑی نصیحت کا مطالبہ کیا تو باباجی داڑھی پر ہاتھ پھیر کر بچّے سے مخاطب ہوئے۔ ”میرے بچے بارگاہ ایزدی میں وہ سب کچھ مانگنا جو تم چاہتے ہو لیکن کبھی ٹیکنیک کے بغیر حکمران بننے کی دعا نہ مانگنا اور جانے انجانے میں اگر دل بہک جائے تو فوراً زمین سے مٹی اٹھا کر اپنے چہرے پر مل لینا“۔

Read more

تبدیلی زندہ باد

کل ایک ویڈیو نظر سے گزری کہ جس میں کسی سیاسی ”راہنما“ نے نام نہاد روزے داروں کو افطار پارٹی میں بلایا۔ کہ افطار کے بعد نعرے بھی باآوازِ بلند حلق سے نکلنے چاہیں۔ پر پاپی پیٹ یہاں بھی اپنی لگامیں توڑ کر بھاگ نکلا۔ نہ سائرن بجا نہ مغرب کی اذان کی گونج سنائی دی۔ پچھلی صدی کے بھوکے لوگ۔ کھانے پر ٹوٹ پڑے۔ اب اللہ کا رزق پاؤں تلے روندا جائے۔ یا خلق سے ثابت نیچے اتارا جائے۔ یہ قصہ الگ ہے۔ انگریز کہتا ہے پہلے دانہ پانی چھین لو بھوکا رکھو۔

Read more

بریٹن ووڈ اور زیرو آپشن

آج صبح گھر سے نکلتے وقت بیوی نے آواز دی، بجلی کا بل، آخری تاریخ ہے لازمی جمع کروا دیں۔ آخری تاریخ سن کر میں رکا۔ یہ بل کب آیا تھا؟ پرسوں، یعنی اب دو تین دن کا ٹائم ملتا ہے؟ چودہ تاریخ ہے اور یہ کیسے آخری تاریخ ہو جاتی ہے؟ ساری زندگی یہی دیکھا سنا کہ پہلی تاریخ کے لگ بھگ بل آتے اور کم از کم دس بارہ دن کا وقت ملتا کہ بل آسانی سے جمع کروا دیا جائے۔ اتنی سی سہولت تو شہری کا حق ہے۔آج کے ترقی یافتہ دور میں، مہینے کے کچھ دن ایسے ہیں جب بنکوں کے باھر خلق خدا بے ترتیب، لاچاری کی تصویر بنے کھڑے ہیں۔ بنک والے مقررہ اوقات میں بل وصول کرتے ہیں۔ غضب خدا کا، شہری ریاست کو ریونیو دینے، بے توقیر کھڑے ہوں۔

Read more

محکمہ تعلیم اور ما نیٹرنگ

تعلیم کسی بھی شعبہ کی ترقی اور اقوام کی کردار سازی میں چراغ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ تعلیم کے بغیر زندگی کے اہداف کا نا صرف حصول بلکہ تعین کرنا بھی نا ممکن ہے۔ محکمہ تعلیم میں اسکولز کی مانیٹرنگ کرنے کا ایک طویل سلسلہ ہے۔

Read more

بلوغت کے سال، نوجوان اور آزادی

بلوغت کے سال ایک پوری زندگی کے سب سے اہم سال ہیں۔ یہ وہ دورانیہ ہے جب آپ اپنے مستقبل کی تعمیر کرتے ہیں یا اسے تباہ کر دیتے ہیں۔ یہ کچی مٹی کی مانند ہوتے ہیں جس کو کسی بھی سانچے میں ڈھالا جاسکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے دور میں، اثر و رسوخ کا اہم ذریعہ سوشل میڈیا ہے

Read more

حافی لاکھوں دلوں میں گھر کر گیا

عصر حاضر میں اردو زبان اور اردو ادب کی طرف سے لوگوں کا شوق آہستہ آہستہ کم ہوتا جارہا ہے۔ ویسے تو قیام پاکستان کے بعد اردو زبان کو ہی قومی زبان کا درجہ دیا گیا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اردو زبان کی مقبولیت اس حد تک نہ رہی جس حد تک ہونی چاہیے تھی۔ پاکستان میں اردو زبان کی ترقی اور دوام کے حوالے سے بہت سارے لوگوں نے کام کیے ہیں۔ لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے دیس کے نوجوان ان کی باتوں پر اور ان لوگوں کی کاموں پر عمل نہ کر سکے۔پاکستان کے نوجوان آج کل اردو لکھنا تو دور کی بات بولنا بھی پسند نہیں کرتے اگرکوئی نوجوان اردو لکھنے کی جسارت بھی کرتا ہے تو وہ رومن اردو لکھ دیتا ہے۔ اردو ادب اور شاعری کے حوالے سے ہمارے نوجوان تو صرف اردو کے چند نامی گرامی شعرا کو ہی جانتے ہیں۔ ان کی زبان تین چار شعرا میر تقی میر، ٍغالب، اور ناصر کاظمی کا نام لینے کے بعد رک جاتی ہے۔ لیکن کچھ دنوں پہلے میری نظر سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گزری جس میں ایک نوجوان شاعر کمال انداز میں شاعری پیش کر رہا تھا۔

Read more

سردار محمد عثمان خان بزدار کی دستار بندی

ہر علاقے، وسیب، وطن میں بسنے والے لوگوں کے اپنے علاقائی مختلف رسوم و رواجات/ روایات پائی جاتی ہیں۔ جن کی پاسداری وہاں کے بسنے والے لوگ اپنا زندگی کا طور طریقہ گزارنے کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔یہ روایات اتنی پختہ اور نسل در نسل چلی آ رہی ہوتی ہیں جن سے انحراف کرنا انتہائی ناممکن ہوتا ہے۔ پاکستان ایک کثیرالقومی ملک ہے جس میں مختلف اقوام اپنے طور طریقوں سے زندگی بسر کرتی ہیں۔ ان اقوام میں بلوچ قوم کے نام سے پورے پاکستان میں لوگ موجود ہیں۔ پورے صوبہ بلوچستان میں اس قوم کی موجودگی تو پائی جاتی ہے لیکن دوسرے صوبوں میں بھی بلوچ اقوام بکثرت رہائش پذیر ہیں۔ دوسرے صوبوں میں بسنے والے بلوچ جن میں سے کچھ اپنے زبان سے ناآشنہ ہوگئے ہیں البتہ انہوں نے اپنی روایت کو برقرار رکھا ہوا ہے۔

Read more

میں کیو ں لکھتا ہوں ؟

اکثر میرے دوست، ساتھی اور میں خود بھی اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ ”میں کیوں لکھتا ہوں۔ ؟ “ جس کا جواب دینا میرے لئے آسان ہو تا ہے مگر اُسے سمجھانا بہت مشکل۔ کیوں؟ اس کی بڑی آسان اور سادہ سی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں لکھنے پڑھنے کا رحجان قدرے کم ہے اور بدقسمتی سے ہم علم اور پڑھنے لکھنے کی طاقت اور قدر وقیمت سے واقف ہی نہیں۔ جہاں تک میری ذات کا سوال ہے تو میں کسی پڑھے لکھے خاندان، معاشرے یا طبقے سے تعلق نہیں رکھتا اور نہ ہی میں نے کہیں سے کوئی پر وفیشنل تعلیم و ٹریننگ حا صل کی ہے۔

Read more

وہوا کا فلسفی شاعر جہانزیب جہانگیر راز

جہانزیب جہانگیر راز سے میرا تعارف ان کی ایک نظم کے طفیل ہوا جو انہوں نے ”وہوا“ بی ایم پی پوسٹ کی انسپیکشن بُک میں لکھی۔ یہ نظم پی اے صاحب کی رائے کے جواب میں لکھی گئی جن کا خیال تھا کہ وہوا بی ایم پی پوسٹ کو ختم کر دیا جائے۔ زبانِ اردو پر شاعرانہ عبور اور اقبال کا آہنگ اس رباعی سے جھلک رہا تھا۔

Read more

مشرق وسطیٰ پر جنگ کے سائے

تمام دفاعی ماہرین کی یہ متفقہ رائے ہے کہ جنگ شروع کرنا آسان ہوتا ہے۔ لیکن خواہشات کے مطابق بند کرنا ناممکن ہوتاہے۔ جنگ شروع ہوتے ہی عوامل بدلتے رہتے ہیں۔ کون فریق کس کا کتنی دیر اور کس حد تک ساتھ دیتا ہے۔ شروع میں اس کا بھی کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ 3 سال پہلے جب سعودی عرب نے اپنے مخالف یمنی حوثی قبائل پر حملے شروع کیے تھے۔ تو سعودیوں کی توقع یہی تھی کہ وہ بہت جلد

Read more

ریپ میں قصور وار کون؟

ریپ ہوگیا، فلاں کا کیا قصور تھا؟ اس کی کیا غلطی تھی جو اس کے ساتھ یہ سب ہوا؟یہ تو ہے ہی اسی لائق، کپڑے دیکھا تھا کیسے پہنتی تھی اس کے ساتھ یہی ہونا تھا۔ اس کے برعکس اس نے ایسا کیوں کیا؟ یہ تو ہے ہی بدکردار کوئی بھی لڑکی دیکھ کر اس کی رال ٹپکنے لگتی ہے یہ انسانیت کے نام پر دھبہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ جملے ہیں جو اکثر اوقات ہماری سماعتوں کی نظر ہوتے ہیں مگر آج تک اس بات کا فیصلہ نہیں ہوسکا کہ قصوروار کسے ٹھہرایا جائے۔ اپنی ہوس کے آگے بے بس ہوچکے مرد کو؟ یا پھر سارا الزام مرد پر لاد کر دامن بچاتی خاتون کو؟

Read more

کیا حوالہ دینا لازم نہیں ہے؟

آپ نے اکثر ٹیلی وزن پر خبریں سنتے دیکھا ہوگا اگر کوئی ایک ادارے کی رپورٹ کو اپنے پروگرام میں نثر کر رہا ہے تو وہ پی ٹی وی کے علاوہ کسی اور چینل کی خبر کو اگر اپنا حصہ بناتے بھی ہیں تو اُس کا حوالہ دینا گوارا نہیں کرتے۔ شاید اُن کو یہ لگتا ہے کہ محنت صرف سرکاری اداروں میں کام کرنے والے لوگ کرتے ہیں باقی لوگوں کو تو ہر چیز واٹس ایپ پر آتی ہے، خیر اگر اس بات کو مان بھی لیں کہ اُن کو واٹس ایپ پر سب کچھ مل بھی جاتا ہے تو کیا قانونی طور پر حوالہ دینا لازم نہیں؟

Read more

فضیلت بیگم کا ماہ رمضان

فضیلت بیگم کا تعلق معاشرے کے اس طبقے سے ہے جن کی کتابِ زیست کے رنگین ہونے کا دارومدار ماہ رمضان میں زکوة لینے سے مشروط ہے۔ زکوة لینے کا بزنس برسوں سے ان کے خاندان کی پہچان ہے۔ ماہ صیام کی آمد سے پہلے ہی فضلیت بیگم خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ مل کر باقاعدہ طور پر منصوبہ بندی کرتی ہیں کہ رمضان میں کن کن گھروں سے زکوة اکٹھی کرنی ہے۔ کون سی مساجد کے باہر بیٹھنا ہے اور کن ٹی وی چینلز کی سحروافطار کی ٹرانسمیشنز میں شرکت کرکے اپنا بینک بیلنس بڑھانا ہے۔

Read more

عہدِ قدیم کی خوشحالیاں

میں قدِیم زمانوں کی ایک بوڑھی روح جسے لگتا ہے کہ لوگ اس کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ لیکن در حقیقت میں خود لوگوں کے ساتھ نہیں چل سکتی۔ کہ مجھے میری روایات سے پیار نہیں عشق ہے۔ آپ مجھے جدید زمانے میں بھٹکی ایک لاش کہہ سکتے ہیں۔ میں جو پُر سکون وادیوں کی مکین تھی خلوص مجھ میں بستا تھا میرے گردو نواح میں ستم ظرفی نہ تھی، سادگی تھی، عیاری نہ تھی، بلند و بالا عمارتوں کی جگہ مٹی کے کچے گھروندے تھے جس کے کچے فرش پر روز لیپ ہوتا اور مٹی کی سوندھی خوشبو مکینوں کے رگ و پے میں سرائیت کرجاتی اور لوگ بدلے میں وہی خوشبو بانٹتے پھرتے۔

Read more

زمانہ قدیم اور جدید ٹیکنولوجی

آج کل سائنس نے بہت ترقی کر لی ہے۔ سائنس اس عملی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ موبائیل فون سے لے کر ٹیلی ویژن۔ بجلی۔ گیس۔ چولہا۔ ماچش کی ڈبی تک جو ہر گھر میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ سب سائنس کی ایجادات ہیں۔ ہم آج کل ہر طرح کی انفارمیشن کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔ سائنس سے ہمارے ہزاروں اختلافات بھی ہو سکتے ہیں۔ وہ اختلافات ہم مذہبی بنیادوں پر کرتے ہیں۔ کیونکہ مسلمان

Read more

جدید دور کے ٹھگ اور تبدیلی سرکار کی چھنچھناتی چوڑیاں

پرانے وقتوں میں لوگوں کو بیوقوف بنا کر مال بٹورنے کے لیے ایک گروہ ہوا کرتا تھا اس گروہ سے وابستہ لوگ ٹھگ کہلاتے تھے،انہی ٹھگوں کا ایک واقعہ ہے کہ”ایک دیہاتی بکرا خرید کر اپنے گھر جا رہا تھا کہ چار ٹھگوں نے اسے دیکھ لیا اور ٹھگنے کا پروگرام بنایا۔ چاروں ٹھگ اس کے راستے پر کچھ فاصلے سے کھڑے ہو گئے۔ وہ دیہاتی کچھ آگے بڑھا تو پہلا ٹھگ اس سے آکر ملا اور بولا“ بھائی یہ کتا کہاں لے کر جارہے ہو؟ ”دیہاتی نے اسے گھور کر دیکھا اور بولا“ بیوقوف تجھے نظر نہیں آرہا کہ یہ بکرا ہے کتا نہیں ”۔ دیہاتی کچھ اور آگے بڑھا تو دوسرا ٹھگ ٹکرایا۔ اس نے کہا“ یار یہ کتا تو بڑا شاندار ہے کتنے کاخریدا؟

Read more

روزے کے دوران ہمارے جسم کا ردعمل کیا ہوتا ہے

 روزہ اور روزے کی اہمیت:روزہ اسلام کاچوتھا رکن میں سے ایک ہے جسے عربی میں صوم کہتے ہیں۔ مسلمان اسلامی سال کے مقدس مہینے رمضان المبارک میں روزے رکھتے ہیں۔ روزے میں مسلمان صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے اور پینے، جبکہ میاں بیوی آپس میں جنسی تعلق سے بھی باز رہتے ہیں۔ روزہ رکھنے کے لئے صبح صادق سے قبل کھانا کھایا جاتا ہے جسے سحری کہتے ہیں۔ جس کے بعد نماز فجر ادا کی جاتی ہے جبکہ غروب آفتاب کے وقت اذان مغرب کے ساتھ روزہ کھول لیا جاتا ہے جسے افطار کرنا کہتے ہیں۔

Read more

ریاست مدینہ: معاہدے کے تحت قائم ہونے والی دنیا کی پہلی سیکولر ریاست؟

چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی میں یثرب کے مقامی عرب قبائل ( اوس و خزرج) نسلوں سے جاری باہمی رقابت و جنگ و جدل کا شکار تھے۔ ان کی اس باہمی نا اتفاقی کا نتیجہ تھا کہ نخلستان یثرب کے یہود معاشی، معاشرتی اور سیاسی لحاظ سے ان کے اوپر حاوی ہوگئے تھے۔ اس زمانے میں یوں تو بلعموم پورے جزیرہ نما عربستان میں عرب قومی تشخص کا تصور پروان چڑھ رہا تھا مگر اس تحریک کا ادراکی محور خصوصا یثرب، مکہ اور نجد کے ان علاقوں میں تھا جہاں سن 70 عیسوی کے بعد سے یہود آباد تھے۔

Read more

حضرت اویس قرنیؓ، مقام و مرتبہ

ویسے تو رسالت مآبۖ کے ساتھ حضرات صحابہ میں سے ہر ایک کی محبت اور عقیدت دیدنی ہوتی تھی۔ لیکن آپۖ کے ساتھ جس تابعی کی فرط محبت پر صحابہ کرام کوبھی رشک آتاتھا، وہ تاریخ میں اویس قرنی کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کاپورانام اویس بن عامراور کنیت ابوعمرو تھا اوریمن کے مشہورعلاقے قرن میں 583 ء کو پیداہوئے۔ رسالت مآب ۖ کامبارک زمانہ پانے کے باوجود اویس قرنی دیدارنبی ۖسے مشرف نہ ہوسکے۔ مورخین اویس قرنی کی اس محرومی کی دو وجوہات بتاتے ہیں۔

Read more

بابل کا برج اور سرائیکی صوبہ

تورات میں ایک واقعہ مرقوم ہے کہ طوفان کے نوح کے چند نسلوں بعد کچھ لوگوں نے سلطنتِ بابل میں ایک برج بنانے کا قصد کیا۔ ان کا ارادہ یہ تھا کہ اس برج کو آسمان تک بلند کیا جائے۔ خدا تعالیٰ کو یہ باغیانہ کوشش پسند نہ آئی۔ سو خدا تعالیٰ نے انہیں اس کے باغیانہ کوشش سے باز رکھنے کے لیے ان کی زبانوں میں اختلاف ڈال دیا۔ یوں تھوڑے عرصے بعد زبانوں کے اختلاف کے باعث یہ لوگ ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے اس جگہ سے منتشر ہو گئے۔ اس واقعہ کو تاریخ اور ادب کی کتابوں میں برج ِ بابل کے نام سے منسوب کر رکھا ہے۔

Read more

سو جوتے، سو پیاز

سو پیاز اور سو جوتے والی کہاوت سنی ہو گی۔ ہر کہاوت یا محاورے کے پیچھے ضرور کوئی نہ کوئی کہانی ہوتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہو گا، گزرے زمانے میں بادشاہوں کا دور تھا وہ عجب شاہانہ مزاج رکھتے تھے۔ پل میں توشہ تو کبھی پل میں ماشہ، ان کی سزائیں بھی عجیب و غریب ہوا کرتی تھیں۔ بادشاہ سزا سنانے سے قبل یہ نہیں سوچتے تھے کہ ملزم کی مجھ سے وابستگی کتنی قدیم ہے یا اس کا جرم کیا ہے۔ بس جو منہ سے کہہ دیا وہ حرف آخر۔ چوں چراں، اگر مگر کی گنجائش کے بغیر۔

Read more

کیا مذہب سائنسی ترقی میں رکاوٹ ہے؟

ہمارے معاشروں یعنی اسلامی دنیا کے ممالک میں سائنس، فلسفہ اور علوم عقلیہ کے ترقی نہ کرنے کی وجوہات اور اسباب پر جب کبھی بات کی جائے تو اس کے جواب میں ایک چیز بہت کامن سننے کو ملتی ہے کہ مذہب، مذہبی طبقہ اور ایسی ذہنیت ہمارے معاشروں میں ان علوم کو پھلنے پھولنے نہیں دیتی ہے۔سائنس اور فلسفہ جن اداروں میں پڑھایاجاتاہے اور جو لوگ اس کو پڑھاتے ہیں ان کو اپنی ساری کمیوں کا مداوا اس آسان جواب میں مل جاتاہے اس لئے آسان حل جانتے ہوئے حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنے کی بجائے اس آسان جواب میں ہی امان تلاش کی جاتی ہے، لیکن کیا حقیقت میں بھی ایسا ہے؟

Read more

پاکستان کو گھیرا جا رہا ہے

پاکستان کے ایٹمی اثاثے تو پہلے ہی اغیار کو کھٹکتے تھے، اور اب گزشتہ چند سالوں سے پاک چائنہ اکنامک کوریڈور ان کے لئے درد سر بنا ہوا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق 2017 میں، پاکستان 5.7 فیصد شرح نمو کے ساتھ تیزی سے ترقی کرنے والے ملکوں کی فہرست میں، چین اور بھارت کے بعد تیسرے نمبر پر موجود تھا۔ بہترین ساکھ کے حامل بین الاقوامی معاشی اور مالیاتی ادارے پاکستان کو بہترین ایمرجنگ مارکیٹ قرار دے رہے تھے۔

Read more

ایک دن ماں کا

تین چار دن سے فیس بک پر رولا پڑا ہوا ہے ہر کسی کو اپنی ماں سے محبت ٹوٹ ٹوٹ کر جاگ رہی ہے۔ خیر ہم کون سے مولوی ہیں جو فتویٰ لگائیں گے بلکہ ماں تو ایسی ہستی ہے جسے خراج دینے کے لئے کسی وقت، کسی لمحے یا دن کی کوئی قید نہیں۔ پھر صرف ایک دن کیوں ماں کی تصویریں لگاکے اپنی عقیدت پیش کی جائے؟ ماں نے تو ہمارے ہونے کے احساس کو نو مہینے خود میں رکھ کر لمحہ لمحہ، پل پل جیا تھا۔ پھر جس تکلیف سے وہ ہمیں اس دنیا میں لاتی ہے کیا اس کی قدر فیس بک پہ ہوسکتی ہے۔ نہیں۔ ہر لمحہ ماں کا ہے کہ ہم اس کے پر توہیں۔ جو اس نے ہمیں دیا آج ہم وہ دنیا کو لوٹارہے ہیں۔

Read more

شکریہ رمیض راجہ

ایک تو کالم لکھنے کے بعد یاد نہیں رہتے۔ اپنی آواز خود سننا اور اپنا لکھا ہوا بھی خود ہی پڑھنا کم۔ سے کم ہمارے لئے تو جوئے شیر ہے۔ ہمیں قوی یقین ہے کہ کئی موضوعات بھی گڈ مڈ ہو جاتے ہوں گے۔ لیکن خدا بے ہماری اس کمزوری پر یوں پردہ ڈال دیا کہ وطن عزیز اور اس کے لوگوں کے حالات نہیں بدلتے۔ ہمارے عنوان جتنی بار مرضی گھس پٹ جائیں ہمیشہ پانی چھڑکے موتیے کے پھولوں

Read more

گھر کبھی جنت نہیں بنتے کیونکہ عورت کا تو کوئی گھر ہوتا ہی نہیں

مجھے آج بھی یاد ہے، ابو کس طرح میرے نام کی تسبیح کیا کرتے تھے۔ گھر میں قدم رکھتے ہی میرا نام سنائی دینے لگتا تھا۔ جیسے کوئی چھوٹا بچا اپنی پسندیدہ چیز کی تلاش میں پاگلوں کی طرح ادھر اُدھر ہلا مچاتا پھرتا ہے۔ عید پر میرے لیے میری ہی پسند سے کپڑے لایا کرتے تھے، میں باقی بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی اور ابا کی بہت لاڈلی بھی کیونکہ ذرا حاموش طبیعت اور حساس دل کی تھی، بہن بھائی رشتہ دار سب ہمیشہ مذاق کرتے تھے میرا کیونکہ کھانے پینے کی خاصا شوقین تھی میں۔

Read more

پشاور سے ہزاروں کلو لیموں برآمدگی کے بعد منڈی میں فروخت

EPAقبضے میں لیے گئے لیموں فروٹ منڈی میں نیلام کر دیے گئے ہیں پشاور میں حکام نے لیموں کا ایک بڑا ذخیرہ قبضے میں لے کر انھیں منڈی میں فروخت کر دیا ہے۔ یہ کارروائی لیموں کی قیمت میں مسلسل اضافے کے بعد کی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے چمکنی کے علاقے میں قائم کولڈ سٹوریج پر چھاپہ مارا جہاں سات سے نو ہزار کلو گرام لیموں ذخیرہ کیے گئے تھے۔ خفیہ اطلاع پر کارروائی ڈپٹی کمشنر پشاور محمد علی

Read more

یہ بھی گھگو گھوڑے

چند دن پہلے ایک بڑے کالم نگار کا کالم نظر سے گزرا۔ یہ ایک نہایت غیر سیاسی کالم تھا، جس میں بارہا گھگو گھوڑے کا ذکر تھا۔ اس کالم کو پڑھنے کے بعد میرا خیال گھگو گھوڑوں کی ایک دوسری قسم کی طرف گیا۔ یہ وہ گھگو گھوڑے ہیں، جو شام سات سے لے کر رات بارہ بجے تک ٹی وی سکرین پر نظر آتے ہیں، اور یہ لوگوں کی رائے قائم کرنے کا ایک اہم کام سر انجام دیتے ہیں۔

Read more

ماں کی محبت

12 مئی کو عالمی طور پر ماں کی محبت کے حوالے سے دن منایا گیا۔ تمام لوگ اپنی ماں سے محبت کا اظہار اپنے انداز سے کرتے نظر آئے، اور کیوں نہ کرتے کہ ماں وہ عظیم ہستی ہے، جب اللہ نے اپنے بندے سے محبت کا اظہار کیا، تو تقابل میں جس ہستی کی محبت کو رکھا، اسے ”ماں“ کہتے ہیں۔

Read more

استاد اور طالب علم کا باہمی تعلق

استاد اور شاگرد کا رشتہ معنی و مفہوم کہ اعتبار سے انسانی زندگی کا ستون ہے۔ وہ ستون جو زندگی کو معنی اور مفہوم کہ حسین رنگوں سے نکھار دیتا ہے۔ ایک بہترین استاد طالب علم کو اچھے اخلاق و اعتماد کی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔ وہ شاگرد کی نفسیات اور نفس و کردار کو اخلاقی کردار اخلاقی عمل کی پابندیوں تک پہچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

Read more

پندرہ روز میں دانشور بنئیے

ایک مرتبہ ڈرائیونگ سیکھنے کا شوق ہوا تو مختلف ڈرائیونگ اسکولز کے اشتہارات دیکھے، جو اشتہار سب سے زیادہ مناسب معلوم ہوا اُس پر لکھا تھا، سات روز میں موٹر سائیکل اور پندرہ روز میں گاڑی چلانا سیکھیں، خیر یہ الگ بات ہے کہ ہمارا قریبی و قلبی دوست سیف عباسی بھی گزشتہ کئی برس سے یہ دعوی (مختصراً لارا) کیے بیٹھا ہے کہ یہ کام زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے کی مار ہے۔ تاہم آخری اطلاعات تک تاحال وہ

Read more

کیا سگنل توڑنے سے روزہ مکروہ ہو جاتا ہے؟

یہ ایک نازک مسئلہ ہے کہ روزہ کن چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے یا مکروہ ہو جاتا ہے۔ کھانے پینے بد نظری جیسے گناہ سے لے کر روزہ دار کے سامنے کھانے میک اپ کر کے آنے جیسے گناہ صغیرہ تک یہ فہرست بہت طویل ہے۔ لیکن میرے جیسے عام مسلمان تھوڑا مختلف سوچتے ہیں شاید علما جیسا وسیع علم نہ رکھنے کی وجہ سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ اگر ہم گالی گلوچ یا غیبت کرتے ہیں، تو بھی روزہ مکروہ

Read more

ہائے میرا کنٹینر

جی جناب۔ وہ بھی کیا وقت تھا کہ کنٹینر پر کھڑے ہیں، جو من میں آئے کہتے ہیں۔ کچھ بھی سناتے ہیں۔ ان گنت اقسام کے خیالی پلاو پکا کر کھلاتے ہیں۔ کبھی کہنا کہ یہ کر دوں گا، میں وہ کر دوں گا۔ تو کبھی کہنا کہ تین سو ڈیم بنا دوں گا۔ پھر ان گنت من مرضی کے بھاشن کہ جن میں حقائق کو من چاہے انداز میں یوں بیان کرنا کہ آسمان نیلا نہیں سفید ہے۔ اور

Read more

زکوٰۃ کی فرضیت اور آداب

قرآنی احکامات اور تعلیمات پیغمبر سے یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ انسان نہ تو اپنی جان کا خود مالک ہے، اور نہ ہی صرف کرنے والے اموال کا، بلکہ یہ سب اللہ کی عطا کردہ ہیں، جس میں رب تعالیٰ نے اپنے بندوں کو تصرف کا اختیار دے رکھا ہے۔ اسلام یہ باور کروانا چاہتا ہے کہ نہ تو مال دار از خود مال دار ہوا، اور نہ غریب از خود غریب، بلکہ یہ مالک دو

Read more

نا کامی، کام یابی کی کنجی ہے

کہا جاتا ہے کہ جب ایڈیسن نے بلب بنانا چاہا تو 999 کوششیں نا کام گئیں اور ہزارویں دفعہ بن گیا۔ اس سے جب پوچھا گیا کہ آپ نے 999 نا کام طریقوں کے بعد ہزارویں بار صحیح بلب بنایا اور وہ کام یاب طریقہ ایجاد کیا، جس سے بلب بنایا جا سکتا ہے، تو ایڈیسن نے کہا، نہیں میں نے نا کام نہیں بلکہ 999 وہ طریقے ایجاد کیے ہیں، جن سے بلب نہیں بنایا جا سکتا، اور ہزارویں

Read more

ہنڈرڈ ملین ڈالرز ٹیکنالوجی ورسز ہنڈرڈ ڈالرز ٹیکنالوجی

آج یہاں موجودہ حکمران جدید وسائل کا رونا روتے ہیں، لیکن اس سے زیادہ بد قسمتی یہ ہے کہ اگر کہیں ٹیکنالوجی دستیاب بھی ہے، تو اس کو چلانے والے ایکسپرٹس کی کمی ہے۔ کیا پاکستان آزادی کے چند سالوں کے بعد زیادہ خوشحال تھا یا آج؟ کیا انیس سو پچاس سے ساٹھ تک یا دو ہزار سے دوہزار دس تک؟ کیا انیس سو ساٹھ سے ستر تک یا دو ہزار دس سے لے کر آج کے دن تک؟ تب تو وسائل کی بھی کمی تھی، سسٹم بھی رننگ میں نہیں تھا، پاکستان اٹامک پاور بھی نہیں تھا۔ تب تقریباً ہر ادارہ بہتری کی طرف تھا۔ آج جدید ٹیکنالوجی جدید دنیا کے مقابلے میں تونہیں، لیکن گزر بسر بہتر ہو رہی ہے۔ آج ادارے بھی ہیں۔ سربراہان بھی ہیں۔ پاکستان اٹامک پاور بھی ہیں۔ سب سے بڑی بات ملک کے وزیر اعظم بھی عمران خان ہیں، پھر خوف کے سائے کیوں ہیں؟ غربت کیوں ہے؟

Read more

سٹوڈنٹس لٹریری اینڈ آرٹ فیسٹیول: فروغ ادب کی ایک کاوش

کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں قیام امن، استحکام اور خوشحالی کے لئے وہاں موجود تعلیمی ادارے باالخصوص جامعات اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر جامعات پر امن ماحول میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں تو اس کا عکس معاشرے میں برابر نظر آتا ہے۔ تاہم بے یقینی اور کنفیوژن کی صورتحا ل میں یہ کیفیت بالکل بر عکس اثرات مرتب کرتی ہے، پاکستان میں گزشتہ چند سالوں سے جامعا ت کے اندر طلبا میں عدم برداشت، انتہا پسندی میں اضافہ

Read more