پیپلانتری: ایک باپ نے ہلاک ہونے والی اپنی 17 سالہ بیٹی کا نام کیسے زندہ رکھا؟

تاریخی طور پر انڈیا میں لڑکیوں کی قدرو منزلت ہمیشہ لڑکوں سے کم رہی ہے۔ لیکن ایک گاؤں میں جب ایک باپ کی بیٹی ایک اندوہناک واقعے میں ہلاک ہو گئی تو اُس نے ملک گیر سطح پر مرد اور عورت کی جنس کے درمیان فرق کی اقدار کے خلاف ایک آگاہی کی مہم کا آغاز کیا۔

Read more

اللہ گاؤں جانے والی عائشہ سے مکالمہ

وہ نہیں ہے۔ اللہ گاؤں چلی گئی۔ مگر میری آنکھیں اب بھی اس کو دیکھ رہی ہیں۔ میں نے اسے دیکھا، اور مسکراتے ہوئے دیکھا۔ پہلا تأثر یہی تھا کہ وہ ہنس رہی ہے اور اس کے مسکراتے چہرے پر غضب کی زندگی کی علامت ہے، اس لئے جو کچھ کہ وہ کہنے والی ہے، اس سے زندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے گا۔ اس نے مسکراہٹ کے ساتھ اللہ کو یاد کیا۔ میں نے بھی اس کے

Read more

نلیلی کوبو: ایک نو سال کی بچی جو تیل کی کمپنی کے خلاف مقدمہ جیت گئیں

نلیلی کوبو نو سال کی تھیں جب انھیں دمے، ناک سے خون آنے اور سر درد کی شکایت شروع ہوئی اور یہی جنوبی لاس اینجلس میں ان کے گھر کے سامنے ایک تیل کے فعال کنویں کے خلاف جنگ کی شروعات تھی۔

Read more

عائشہ کا اپنے خدا سے شکوہ

شکوہ ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جس میں بندہ بے خودی کی سی حالت کا شکار ہو جاتا ہے اور شکوہ کا مخاطب کوئی چھوٹی موٹی ہستی نہیں ہوتی بلکہ یہ شکوہ و شکایت کسی سر چشمہ طاقت ہستی کے حضور کھلے لفظوں میں پیش کیا جاتا ہے ۔ شاعر مشرق نے بھی ایک شکوہ بارگاہ ایزدی میں پیش کیا تھا پھر کچھ زمینی خداؤں کے ہاتھوں مجبور ہو کر جواب شکوہ لکھنا پڑا، کیونکہ شکوہ کی زبان بڑے

Read more

عجب روایتی عورت ہے

کلینڈر کے حساب سے ہر دن کوئی دن ہو گا، ہر دن کو منانے والے بھی ہوں گے اور ہر دن کے خلاف بھی۔ حیرت اس بات پہ ہوتی ہے کیا ایک دن کافی ہوتا کسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے یا ایک دن بعد مسئلہ مسئلہ نہیں رہتا، یا ہم حل طلب طبیعت رکھتے ہی نہیں، بس کچھ ہونا چاہیے دل لگی کے لئے باقی سارے دنوں پہ تو بات ہوتی رہے گی، سب سے پر لطف ٹاپک

Read more

ایک عورت جسے پیدا ہونے سے آٹھ برس پہلے ونی کیا گیا

میرا جسم تب بیچ دیا گیا جب میں عالم ارواح کی مکین تھی اور جسم ہونے اور نہ ہونے کے بیچ معلق تھا! میرے اس جسم کی خرید وفروخت جو موجود ہی نہیں تھا، کا ذمہ دار وہ شخص تھا جو دنیا میں میرا ہونے والا باپ تھا۔ اسے اپنے مادہ تولید اور اپنے قبضے میں موجود بیوی نامی غلام عورت کے رحم پہ اس قدر اعتماد تھا کہ اس نے اس سودے کی حامی بھر لی جس کا انتظار

Read more

یہ عائشہ کی نہیں محبت کی موت ہے

’’ہیلو۔ السلام و علیکم۔ میرا نام ہے عائشہ عارف خان اور میں جو بھی کچھ کرنے جا رہی ہوں اپنی مرضی سے کرنا چاہتی ہوں۔ اس میں کسی کا زور یا دباؤ نہیں ہے۔ یہ سمجھ لیجیے کہ خدا کی دی ہوئی زندگی اتنی ہی ہوتی ہے اور مجھے اتنی ہی زندگی بہت سکون والی ملی، وی آرڈیڈ۔ کب تک لڑیں گے اپنوں سے۔ کیس ود ڈرال کر دوں، نہیں کرنا۔ عائشہ لڑائی کے لئے نہیں بنی۔ پیار کرتے ہیں

Read more

روک سکو تو روک لو: 8 مارچ آتا رہے گا

کسی ”زن دشمن“ نے چیلنج دیا ہے کہ خواتین مارچ کا ہر حامی اس مارچ میں اپنی ماں، بیوی، بہن اور بیٹی کو لے کے جائے۔ میری والدہ حیات نہیں، میری بہنیں بہت زیادہ معمر ہیں، میری بیٹی مکہ معظمہ میں مقیم ہے اور میری بیوی ماسکو میں ورنہ میں ان سب سے کہتا کہ عورتوں کے حق بارے جدوجہد میں شریک ہونا نہ صرف ان کا حق ہے بلکہ ان پر فرض بھی ہے۔ میری بات ماننا نہ ماننا

Read more

کیون جیسا ضمیر ہونا چاہیے

”بچہ گھٹنوں کے بل بیٹھا سر کو زمین کی طرف جھکائے مسلسل ہو رہا تھا۔ اکیلا ایک ویرانے میں وہ کسی کا منتظر تھا۔ شاید اپنی ماں کا انتظار کر رہا تھا۔ کیونکہ چار، پانچ سال کا بچہ اور کس کا انتظار کر سکتا ہے۔ یقیناً اسے بھوک بے شدت سے تڑپا رکھا تھا۔ اس کے جسم ہڈیوں کے ڈھانچے میں بدل چکا تھا۔ وہ مسلسل فاقوں کا شکار نظر آ رہا تھا۔ اس کی حالت دیکھ کر سب کو

Read more

پیریڈز پارٹی میں جانے سے پہلے یہ کالم پڑھ لیں

ایک دو روز قبل مکرمہ محترمہ مقدس رفیق صاحبہ کا ایک کالم بعنوان ”برائیڈل شاور اور پیریڈز پارٹی“ کے نام سے شائع ہوا۔ اپنی کم علمی کے باوجود میں نے اسے ایک بار پڑھا دوسری بار پڑھا بلکہ بار بار پڑھا۔ میں یہ سمجھ نہیں سکا کہ وہ کیا سمجھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ لیکن چند ماہ میں ایسے کئی کالم پڑھنے کو ملے کہ یہی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ واضح الفاظ میں چند گزارشات پیش کی جائیں۔

Read more

72 منٹ کی فون کال کا ہینگ اوور

کہتے ہیں کہ ایک لہر ہوتی ہے، چودہویں شب کے چاند کو چومنے کے ہیجان میں مبتلا سمندر کی لہروں میں ایسی لہر اور ایک لمحہ کلائمکس کا، جو انسان کو اپنے ہاتھوں اپنی جان لینے ایسے بظاہر ناممکن فعل پر عمل درآمد کروا دیتا ہے۔ اگر وہ لمحہ گزر جائے اور جوار پر آئی لہر بھاٹے کو لوٹ جائے تو خود کی جان لینا ممکن نہیں رہ جاتا۔ کسی بھی جان دار کی جبلت اپنی جان کی حفاظت کے

Read more

مائی لولی پاپ… مائی لولی پاپ

یو آر مائی ٹیلی ویژن یو آر مائی فریج یو آر مائی آئسکریم یوآر مائی لولی پاپ یو آر مائی مون بار میں جا کر بیٹھا تھا کہ یہ آواز آئی اورمیں سمجھ گیا کہ گلو کسی لڑکی کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے اور اب وہ یہی کہے گا کہ میرا ٹیلی ویژن مجھے دنیا دکھاتا ہے اور تم نئی دنیا کی طرح ہو، تم فریج اس لئے ہو کہ اس کے سرد خانے میں میں نے اپنا دل رکھ

Read more

ریپ کے مقدمے میں ریمارکس پر انڈیا کے چیف جسٹس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

چیف جٹس ایس اے بوبڈے نے پیر کو ریپ کے ایک ملزم کی گرفتاری سے تحفظ کی درخواست کی سماعت کے دوران اس سے پوچھا تھا کہ کیا وہ متاثرہ لڑکی سے شادی کے لیے تیار ہے؟

Read more

برائیڈل شاور اور پیریڈز پارٹی

ایک عورت کی زندگی میں اس کو جب بہت زیادہ تحائف دیے جاتے ہیں تو وہ اس کی شادی کا دن ہوتا ہے جس میں اس کو ہر وہ چیز دی جاتی ہے جس کو سنبھالنے میں اس کی ساری زندگی گزر جاتی ہے اس کے بوجھ اور احسان کے نیچے وہ دبی رہتی ہے۔ اتنا بوجھ کہ اس کی سانس نہ نکل پائے اس کو اڑنے کی خواہش ہی نہ ہو۔ اگر کسی عورت کے پر نکلنے لگے تو ایک عدد ایسا انسان بھی اس کو بن مانگے تحفے میں دیا جاتا ہے جو اڑنے کی خواہش پر اس کے پر بھی کاٹتا ہے اور ہر لمحہ مجازی خدا ہونے کا کریڈٹ بھی خوب لیتا ہے۔ ان تحائف میں جہیز وہ عذاب عظیم ہے جو اس بے گناہ عورت پر نہایت خوبصورت طریقے سے نازل کر دیا جاتا ہے جس کو اس نے ساری عمر بھگتنا ہے۔ اور یہ خبیث جہیز ایسا عذاب ہے جو عورت پر نازل ہو تو مصیبت نہ ہو تو بھی وبال جان ہے۔

Read more

عورت مارچ اور ہمارا ادب

پیارے ساتھی سعید احمد کی نظم ’عورت مارچ سے گزرتے ہوئے‘ مشرف عالم ذوقی ہٹ جاؤ راستے سے، عورتوں کا جلوس آ رہا ہے، انہیں جاہیداد نہیں، عزت، انسانی حقوق اور تمھارے ساتھ برابری سے کھڑے ہونے کی جگہ چاہیے! ۔ سعید احمد وہ آ چکی ہیں اور اس بار پوری تیاری کے ساتھ ”وہ اپنے جسم کے تنے سے اپنے گرے پتے اٹھاتی ہے اور روز اپنی بند مٹھی میں سسک کے رہ جاتی ہے وہ سوچتی ہے کہ

Read more

ونی: پیدائش سے پہلے کیے گئے جرم کی سزا بھگتنے والی قبائلی خاتون کی کہانی جنھیں ان کے سسرال والوں نے کبھی معاف نہیں کیا

والد کے جرم کے بدلے ونی میں دی جانے والی زرسانگہ (فرضی نام) کی شادی جس شخص سے کروائی گئی اُن کی پہلے سے ہی دو شادیاں تھیں اور زرسانگہ اُن کی تیسری بیوی تھیں۔ لیکن ان کے مطابق شوہر کے علاوہ سسرال کے تمام لوگ اُنھیں اُن کے رشتہ دار کی ہلاکت کا ذمہ دار ٹھہراتے تھے۔

Read more

ویلنٹائن ڈے پر باحیا لوگ کیا کریں؟

حقوق نسواں، حقوق انسانیت اور پیار و محبت جیسے نعرے سننے میں تو خوبصورت لگتے ہیں لیکن اس قسم کے نعروں کے پیچھے باطل کے کچھ اور ہی مقاصد ہوتے ہیں۔ ایک عرصے سے پرفریب نعروں اور مخصوص ایام کا سہارا لے کر معاشرے میں بے حیائی کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسے مخصوص ایام میں ویلنٹائن ڈے بھی شامل ہے۔ محبت کے نام پر پوری دنیا میں بے حیائی اور فحاشی پھیلانے کے لیے اس

Read more

پیمرا کی آنکھیں اور بے شرمی و بے باکی کی لغت

کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔ مگر کہاں ہوتی ہے۔ ؟ جی ہمیں پیمرا نے ایک بار پھر یہ سوچنے پہ مجبور کر دیا ہے۔ دل نا امید، آدھے عنوان کی آدھی کہانی اتنی وزنی ہے کہ جیسے معاشرے کی دم پہ پاؤں آ گیا ہو۔ اور سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ یہ کہانی ہمارے ملک یا سماج کی نہیں۔ تو دو ٹوک بات یہ ہے کہ یہ کہانی آپ کے سماج ہی کی ہے اور آپ

Read more

کہاں تک سنائیں

یہ بات تو طے ہے۔ دنیا بے شک سیکڑوں ملکوں میں بٹی ہوئی ہے اور ہر ملک میں کسی نہ کسی قسم کی اچھی بری حکومت ہے۔ لیکن حقیقت میں، پچھلے پانچ ہزار برس سے، دنیا ایک ہی ملک ہے اور اس ملک پر آمرانہ طرز کی حکومت ہے اور یہ آمرانہ حکومت مردوں کی ہے۔ قبلِ تاریخ زمانے میں، جس کا کوئی تحریری ریکارڈ موجود نہیں، صورتِ حال کیا تھی، ہمیں نہیں معلوم۔ بعض محققین کی طرف سے دعوے

Read more

چیف الیکشن کمشنر کے نام ایک مسیحی پاکستانی کا خط

جناب عالی! میرا نام نواز سلامت ہے اور میں پاکستان کا ایک پرامن اور پابند قانون مسیحی پاکستانی ہوں۔ آپ کو خط لکھنے کا مقصد آپ کی توجہ ایک بہت ہی اہم موضوع پر دلوانا ہے، اس موضوع پر جس سے مسیحی قوم اور ان کی آنے والی نسلوں کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔ وہ مسئلہ جس کا حل آئین پاکستان میں لکھ تو دیا گیا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کیا جا رہا۔ اس سے پہلے کہ میں

Read more

عورت مارچ پر بینرز اٹھانے کا کوئی فائدہ نہیں

مارچ کا مہینہ آنے سے پہلے ہی ہر جانب عورت مارچ پر بحث و مباحثہ شروع ہو گیا ہے۔ گزشتہ برس 8 مارچ کو خواتین نے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالیں جس میں انہوں نے ’میرا جسم میری مرضی‘ کے بینرز اٹھائے تھے اور معاشرے میں خواتین کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف آواز بلند کی۔ اس مارچ میں معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کو دو ٹکے کی عورت کے الفاظ استعمال کرنے پر شدید تنقید کا

Read more

نانگا پربت کے سائے میں ایک الجھی سوچ

نانگا پربت کو، جگلوٹ ہوٹل رات ہونے کے باوجود نظر آتا تھا۔ ہم نظر نہیں آتے تھے کہ ایک درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ چودہ سالہ استوری بچہ ٹرک ہوٹل پر پانی پینے رکا تھا۔ مجھے دیکھا تو پاس آیا اور گپ شپ شروع کر دی۔ وہ استور کے فلک بوس پہاڑوں کی ایک سفید روح تھی۔ اسکی سفیدی میں، چاند رات کو نانگا پربت کی لشکتی برف کا عمل دخل معلوم پڑتا تھا، یا شاید معاملہ الٹ ہو۔ باتوں

Read more

بے مکانی سے ہارورڈ تک

وہ دسمبر 1996ء کی ٹھٹھرتی سردیوں کا ایک زرد دن تھا، جب ساری دنیا کرسمس کے بعد کی خوشیاں سمیٹ رہی تھی، الیزبتھ مرے اپنی دوست کرس کے ساتھ اپنی ماں کے تابوت کو بے نام قبر میں سونپ کر خالی ہاتھ واپس لوٹ رہی تھی۔ آج کا سوگوار دن سولہ سالہ الیزبتھ کے لیے بہت اہم تھا۔ ماں کی زندگی ہارنے اور ایک فیصلے کا دن، اور فیصلہ یہ کہ اس کا انجام ماں کی طرح نہیں ہو گا۔

Read more

آخری سطر پڑھنا ضروری ہے

اس کا نام سرمایہ ہے مگر میں اسے پیار سے مایا کہتا ہوں وہ مصنوعی خفگی سے کہتی ہے ”آپ مجھے مایا کیوں کہتے ہیں مایا تو دھوکا ہوتا ہے“ اور میں کہتا ہوں مایا دولت کو کہتے ہیں اور تم میری دولت ہو ”وہ کھلکھلا کر ہنستی ہے۔ اس کی ہنسی بڑی منفرد ہے جیسے کسی نے موتیوں کو کانچ کی طشتری میں انڈیل دیا ہو۔ اس کی یہی من موہنی ہنسی ہی تو تھی جس نے مجھے سحر

Read more

اسے صرف جہیز نے نہیں مارا

25 فروری تاریخ تھی اور دن جمعرات کا تھا۔ احمد آباد کے لئے ایک عام سی صبح رہی ہو گی لیکن اس کے لئے وہ زندگی کا سب سے نازک دن تھا۔ 23 سال کی عائشہ گھر سے نکلی اور سابرمتی ریور فرنٹ پر جا کر بیٹھ گئی۔ اپنا ایک مختصر ویڈیو بنایا، ماں باپ کو فون کیا اور پھر دریا میں چھلانگ لگا دی۔ چار دن سے سوشل میڈیا پر اس کی موت کا ماتم ہے۔ کوئی جہیز کی

Read more

یہ مائیں کتنی جھوٹی ہیں

ہم سات بہن بھائی تھے۔ ابو نے بھی دفتر جانا ہوتا تھا۔ آٹھ لوگوں کا سکول، آفس، ٹرین سب آٹھ بجے ہی لگتا تھا۔ گندھا ہوا آٹا فریج میں نہیں رکھا جاتا تھا۔ نہ ہی فریج تھے اور نہ ہی فریج کا باسی کھانے کا رواج۔ اگر کچھ بچ جاتا تو صحن میں بندھی کپڑے سکھانے کی تار سے باندھ دیا جاتا، برتن میں پانی ڈال کر دوسرا برتن اس میں رکھ دیا جاتا یا پھر کولر میں بچ جانے

Read more

عہد حاضر کی معتبر شاعرہ نصرت مہدی

اردو شعریات کی طویل رہ گزر پر خواتین کی نمائندگی یوں تو ہر دور میں رہی ہے لیکن بیسویں صدی کے نصف آخر میں ان شاعرات کی ایک طویل فہرست ہمارے سامنے ہے جنھوں نے اپنی شاعری میں نہ صرف یہ کہ نسائی جذبات و احساسات کو رقم کیا بلکہ اپنے مخصوص لہجے کو بھی اس کے تمام شوخ رنگوں کے ساتھ برتا۔ اس کا اثر بعد میں آنے والی شاعرات نے بھی قبول کیا اور پوری خود اعتمادی کے

Read more

ورجینیا وولف: ڈپریشن اور نسائی ادب

ورجینیا وولف بیک وقت خوش نصیب بھی تھیں اور بد نصیب بھی۔ ایک طرف انہوں نے تخلیقی اظہار کی بلندیوں کو چھوا اور ایسے ناول لکھے جو ان کی وفات کے 80 سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد آج بھی عالی قدر مقام رکھتے ہیں، دوسری طرف انہیں بار بار ڈپریشن کے دورے جھیلنا پڑے اور آخرکار انہوں نے اپنے کوٹ کی جیبیں پتھروں سے بھریں اور پانی کی جانب ڈوبنے کے لیے چل دیں، یوں انہوں نے

Read more

ڈاکٹر امجد ثاقب امید کا روشن ستارہ

سیاسی منظر نامہ مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ ‎انتخابات جمہوری نظام کی بنیاد اور اساس ہوتے ہیں جمہوریت کا حسن کہلاتے ہیں اور پاکستان میں یہی انتخاب جمہوریت کا منہ کالا کر رہے ہیں۔ کیا عجب معاملہ آن پڑا ہے کہ پارلیمانی نظام کو ہی داؤ پر لگا دیا گیا ہے اور آزمودہ کار سیاستدان بگڑے بچوں کی طرح ریت کے گھروندے بنانے اور گرانے کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ ‎ایوان بالا یعنی سینیٹ کا انتخاب

Read more

وہ پاکستانی نژاد برطانوی خاتون آرٹسٹ جن کے فن پارے ملکہ کے شاہی محل میں سج گئے

امینہ آرٹ انصاری کہتی ہیں وہ پاکستان کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتیں اور وہ خواتین کی ارطغرل ہیں۔

امینہ آرٹ انصاری ایک ایسی پاکستانی نژاد برطانوی آرٹسٹ ہیں جن کی ملکہ الزبیتھ دوئم اور ان کے شوہر ڈیوک آف ایڈنبرا، پرنس فلپ کی بنائی ہوئی دو پینٹگز، پہلے برطانوی پارلیمنٹ میں نمائش کے لیے رکھی گئیں اور اب ملکہ کے ونڈسر محل میں سجائی گئی ہیں۔

Read more

ہیری اور میگھن مارکل کا اوپرا ونفری کے ساتھ انٹرویو: ’ڈیانا نے یہ سب اکیلے کیسے برداشت کیا ہوگا؟‘

شہزادہ ہیری نے تین دہائیوں قبل اپنی والدہ شہزادی ڈیانا کی شاہی خاندان سے علیحدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ سوچ بھی نہیں سکتے‘ کہ ان کی والدہ کو تنہا کن کن حالات سے گزرنا پڑا ہو گا۔

Read more

عبادت سے گینگ وار کا خاتمہ: جنوبی افریقہ میں مسلمان علما ’ذکر و عبادت‘ سے کس طرح تشدد کا مقابلہ کر رہے ہیں

جنوبی افریقہ میں مسلمان سکالرز کی ایک ٹیم انتہائی خطرناک اور منشیات سے متاثرہ علاقوں میں ایک مشن پر ہے۔ اکثر جمعرات کی شام یہ سکالرز کھلی فضا میں عبادت کے لیے کیپ ٹاؤن کے گینگ لینڈ جاتے ہیں۔ افریقہ میں اس عبادت کو ’ذکر‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

Read more

اسپون فیڈنگ کسے کہتے ہیں؟

یہ ایک ایسا عمل ہے جو اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب بچہ بہت چھوٹا ہوتا ہے اور اپنی مدد آپ کے تحت کچھ بھی کھانے پینے کے قابل نہیں ہوتا تو ماں بچے کو ابتدائی خواراک کا عادی بنانے کے لیے تھوڑی تھوڑی خوراک چمچ کے ذریعے بچے کے منہ میں ڈالتی ہے تاکہ بچہ ڈائٹ پراسس کا عادی ہو سکے اور ایسا کرنا بچے کی ذہنی اور جسمانی نشوونماکے لیے ضروری ہوتا ہے، بڑھتی عمر کے ساتھ

Read more

سلیم رضا ٹھاکر کا تخلیق کردہ کردار: مانتا

کردار اور ان سے وابستہ حقائق ہمیشہ سے ادب کا محبوب موضوع رہے ہیں۔ کردار ادب اور فنی تقاضوں کے عناصر ترکیبی کا اہم جزو ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ زندگی کی مقصدیت اور کائنات کی وسعتوں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں تو کہیں ہزار ہا سال پر محیط انسانی تہذیب و تمدن کے آئینہ دار بن کر زندگی سے جڑے سوا الت کے جواب دیتے نظر آتے ہیں۔ جب مجھے ادب سے لو لگی

Read more

خودکشی مسئلے کا حل نہیں، حالات کا مقابلہ کریں

گزشتہ روز احمدآباد سے ایک دلخراش واقعہ کی خبر سوشل میڈیا پر موصول ہوئی جس میں عائشہ نام کی لڑکی نے پہلے اپنے والدین سے فون پر گفتگو کی اور شوہر، سسرال کی پریشانیوں سے تنگ آنے کی شکایت کی جس میں لڑکی روتے اپنے والدین کو اپنے حالات سنا رہی تھی اپنے ناہنجار شوہر کی بے غیرتی اور بے مروتی کو بیان کر رہی تھی اور زندگی سے تنگ آنے کی وجہ بتارہی تھی اور اپنے والدین سے روتے

Read more

میری امی کی جگ بیتی

بچپن میں ایک بار جب امی سنار کے ہاں کسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اپنی کسی چوڑی کی قربانی دینے گئیں تو میں بھی ان کے ساتھ تھی بلکہ گھر میں سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے میں اکثر ان کے ساتھ ہی ہوتی تھی۔ جب سنار نے خریدنے بعد چوڑی کو ہلکے سے موڑا تو پتہ نہیں کیوں مجھے بالکل اچھا نہیں لگا لیکن کبھی مجبوری تو کبھی ضرورت اور کبھی کبھی ہماری چھوٹی بڑی خوشیوں

Read more

سچ بیان کرنے کا حوصلہ

نفسیات دانوں کا کہنا ہے کہ انسانی شخصیت کے ابتدائی خدو خال سات سال کی عمر تک متعین ہو جاتے ہیں۔ جیسے کچھ لوگ شروع سے تنہائی پسند ہوں گے اور کچھ رونق میلے کے رسیا، بعض میں مقابلے کا رجحان ہوگا اور بعض میں قناعت کا۔ اسی طرح ایک شخص بھلا مانس سمجھا جاتا ہے، دوسرا چکر باز اور تیسرا دنیا و آخرت دونوں میں سرخرو۔ یوں، لوگوں کو آپ جتنی اقسام میں چاہیں بانٹ لیں، مگر کسی بھی

Read more

یہ سب میری ماں کی دعا ہے

ہر معاشرے میں، مختلف دور میں مختلف رجحانات، کسی نہ کسی وجہ سے جنم لیتے ہیں اور کسی نہ کسی وجہ سے جلد یا بہ دیر، غیر محسوس طریقے سے یادوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان دنوں ہمارے ہاں، ہر قسم کی گاڑیوں پر ہر قسم کے جملے (یا عبارت) لکھنے کا چلن عام ہے۔ یوں تو بہت سارے دلچسپ اور غیر دلچسپ، معنی خیز اور بے معنی، ذاتی اور خاندانی اوصاف پر مبنی جملے، بہت ساری گاڑیوں پر

Read more

مارچ کا آن پہنچا ہے مہینہ!

کیا کبھی کوئی مارچ ایسا بھی آئے گا جب عورت کو عورت سمجھا جائے گا؟ اسے اس کے اصل روپ میں، جو کہ اس نے خود اپنی مرضی سے اختیار کیا ہے، جینے کا حق دیا جائے گا؟ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

افغانستان: امن معاہدے کے ایک سال بعد بھی امن صرف ایک خواہش ہی ہے

ایک سال قبل اسی ہفتے طالبان نے امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جو نظریاتی طور پر افغانستان میں امن کی راہ ہموار کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

Read more

سلیمہ ہاشمی میری محسن

اگر میں یہ کہوں کے نیشنل کالج آف آرٹس میری پہلی محبت ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ میری این سی اے میں داخلے کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔ این سی اے جانے کی خواہش میں نے بہت پہلے ہی سے دل میں پال لی تھی۔ مجھے بچپن ہی سے رنگوں، شاعری، موسیقی اور کتابوں سے خاص دل چسپی رہی۔ ماں مجھے سائنس اور ریاضی پڑھانا چاہتی تھیں، وہ مجھے اس دور کی ہر ماں کی طرح ڈاکٹر بنانے کی

Read more

مامتا کی سنگدلی یا معاشرتی بے حسی

آج پھر ایک دل کو دہلا دینے والی خبر سنی، ایک سنگدل ماں نے اپنے دو جگر گوشوں کو قتل کر دیا۔ یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا، آئے دن اس طرح کی خبریں اخبارات کی زینت بنتی ہیں، میڈیا پر بار بار بریکنگ نیوز دی جاتی ہے، ہر چینل ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں اس مصیبت زدہ خاندان کے گھر تک جا پہنچتا ہے۔ کیوں ہوا؟ کیسے ہوا؟ ماں کے کردار پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔

Read more

پرویز رشید: ایوان بالا سے دلوں کے دربار دوام تک

پیر و مرشد پرویز رشید کو ایوان بالا سے خارج البلد قرار دے دیا گیا۔ سالار جمہوریت کو شکستہ دل رفیقوں کے لشکر میں مقام دوام کی عزت مبارک ہو۔ جس نشست سے محروم کیا گیا، وہ ایک میعادی امانت تھی، جو اعزاز نصیب ہوا، وہ ایک ابدی منصب ہے۔ مزاحمت کی سپہ کے رجز گزار کو قبیلہ حریت کی صف اول تک رسائی پر دلی تبریک۔ ”فروغ گلشن و صوت ہزار“ کے اس سفر میں شکستہ پائی ہی سالکان

Read more

دوسری شادی اور ہمارا معاشرہ (صوفیہ کاشف سے معذرت کے ساتھ)۔

محترمہ صوفیہ کاشف بہت اچھی افسانہ نگار، بلاگر اور کالم نگار ہیں۔ خواتین کے سلگتے مسائل پر لکھتے وقت ان کا قلم آگ کے شعلے اگلتا ہے۔ کیا خوبصورت الفاظ ہیں، ”لال کپڑے پہنا کر، دنیا کے سامنے ڈولی میں بٹھا کر اپنی عزت کی پگڑ پھر سے بلند کرنے کی کوشش کرنے والوں کی پگڑ پر آہ لگ چکی تھی ۔  رسیوں سے باندھ باندھ عزت کو سنبھالنا پڑا ۔  راتوں رات عزت دار گھر چھوڑ کر کہیں دور دیس نکل گئے۔ کچھ ہی روز میں پاگل عورت کی لاش سڑک کنارے کوڑے کے ڈھیر پر پڑی تھی۔“

دو تین دن پہلے شائع ہونے والا ان کا کالم ”دوسری شادی اور ہمارا معاشرہ“ ہم سب کی مقبول ترین فہرست میں شامل تھا۔ میٹھے سے طنز کے ساتھ اس کا آغاز ہوا تھا۔ ”درد روحانیت کی پہلی سیڑھی ہے ۔ روحانی بلندی کا طالب ہر کوئی ہے۔“ اگلا فقرہ سارے کالم کی جان ہے، ”کوئی بھی انسان نہیں بننا چاہتا، سب کو صوفی، پیغمبر اور فرشتہ بننا ہے۔“

Read more

مادری زبانیں، سندھ حکومت اور بھانڈے کے کوے

سندھی زبان میں ملاح دریا یا نہر میں مچھلیاں پکڑنے کے لیے جو پڑاؤ لگاتے ہیں ،ان کے لیے بھانڈے کی اصطلاح کا استعمال کرتے ہیں۔ بھانڈے کے کوے بڑی عجیب و غریب طبعیت کے مالک ہوتے ہیں۔ بھانڈے کی جگہ اگر کھانے پینے کی اشیاء سے خالی ہو تو دور دور تک ان کوؤں کا نام و نشان نہیں ملے گا مگر اشیائے خورونوش کی خوشبو محسوس ہوتے ہی وہ بھانڈے پر وارد ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے زیادہ چیزیں پانے کے لیے اپنا اپنا گروپ بنا کر طرح طرح کے حربے استعمال کرتے نظر آتے ہیں اور چیزیں ملتے ہی رفو چکر ہو جاتے ہیں۔

Read more

سائنس کی دنیا سے تازہ بہ تازہ

1۔ ‏کوویڈ 19 کے مریضوں کی آنتوں میں مخصوص جراثیمی نظام ان کی وائرس کے خلاف قوت مدافعت کو متأثر کر سکتا ہے۔

2۔ جراثیم میں دنیا کے چوبیس گھنٹوں سے مربوط ایک اندرونی گھڑی ہوتی ہے۔ سائنس دان اس دریافت کو جراثیم کے خلاف دواؤں کی اثر پذیری بڑھانے کے لئے استعمال کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

3۔ انڈونیشیا کی ایک غار میں 45500 سال پرانی پینٹنگ دریافت ہوئی ہے۔

Read more

شمیمہ بیگم کون ہیں اور کن حالات میں برطانوی شہریت منسوخ کی جاتی ہے؟

نام نہاد دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے شام جانے والی نوجوان خاتون شمیمہ بیگم کے بارے میں برطانوی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ انھیں اپنی برطانوی شہریت کا مقدمہ لڑنے کے لیے برطانیہ واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

Read more

لاک ڈاؤن، اموات اور قیاس آرائیاں: پاکستان میں کرونا وبا کا ایک سال مکمل

اسلام آباد — یہ 26 فروری 2020 کی شام تھی جب پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں اس خبر کی ہیڈ لائنز چلنے لگیں جس کا پاکستان میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ اس روز پاکستان میں کرونا وبا کے پہلے کیس کی تصدیق ہوئی جس کے بعد اس بیماری نے ایک سال کے دوران کیا تباہی مچائی وہ سب کے سامنے ہے۔

Read more

کورونا وائرس: جج کی جانب سے لائف سپورٹ بند کرنے کی اجازت، مسلمان خاتون کا خاندان ’معجزے کا منتظر‘

ایک برطانوی جج نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ایک ایسی ماں جنھیں کورونا ہو گیا ہے انھیں اپنے خاندان والوں کی خواہشات کے برعکس مرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

Read more

جواب آں غزل؛ دوسری شادی اور ہمارا معاشرہ

آج صوفیہ کاشف صاحبہ کا طویل دو قسطوں پر مشتمل مضمون پڑھا، پہلی قسط پڑھنے کے بعد کچھ اشکالات تھے، سوچا دوسری قسط پڑھ لیں شاید اشکالات دور ہو جائیں لیکن دوسرے قسط پڑھ کر اعتراضات اور شدید ہو گئے۔

ایک محترمہ کے کمنٹ کے جواب میں کہنے لگیں کہ انہیں تو حکم اذاں ہے اس لئے چاہے کسی کو ناگوار گزرے وہ تو اپنا فرض بہرحال ادا کریں گی۔ سوچا ”اذان“ پوری ہو جائے تو شاید کچھ پلے پڑے کہ کہنا کیا چاہتی ہیں۔ لیکن پوری اذان ہی تضادات کا مجموعہ ثابت ہوئی۔

Read more

عورت آزادی مارچ کو متنازع نہ بنائیں

جوں ہی مارچ میں عورت مارچ ہونے کی تیاریاں شروع ہوتی ہیں، ہر طرف سے اس کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہو جاتی ہیں، اور خاص کر مذہبی رہنما اس مارچ کو فحش قرار دیتے ہیں اور اس کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں۔ عورت مارچ کا انعقاد کرنے والی تمام تنظیموں کو، پہلے یہ بات سب کے سامنے واضح کر دینی چاہیے کہ عورت مارچ کا مطلب فحاشی یا بے حیائی پھیلانا قطعی طور پر نہیں ہے۔ عورت مارچ کا مقصد تمام خواتین اور مرد حضرات میں یہ بات عام کرنا ہے کہ، خواتین کو وہ تمام جائز حقوق دیے جائیں، جو بحیثیت انسان اور بحیثیت مسلمان ان کے حصے میں آتے ہیں۔

Read more

رانی پدمنی، انارکلی، جودھا اکبر، ملالے آف میوند؛ تاریخ کی عدالت میں

تاریخ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ برسوں سے چلتی ہوئی اور نسل در نسل منتقل ہونے والی عادت ہے۔ اس کے پیچھے مختلف وجوہات ہوتی ہیں۔ کبھی کسی ہیرو کا دفاع مطلوب ہوتا، کبھی بیانیہ کی تشکیل کرنی ہوتی تو کبھی مخالف پر کیچڑ اچھالنا ہوتا۔ اس میں سب سے دلچسپ حصہ وہ ہوتا جس میں عورتوں کے نام پر افسانے بنائے جاتے اور پھر صرف ادبی تحریروں میں ہی انہیں جگہ نہیں ملتی بلکہ سیاسی بیانیوں کی تشکیل میں بھی انہیں شامل کیا جاتا۔ یہ اپنے آپ میں ایک دلچسپ موضوع ہے کہ مختلف قوموں نے کس طرح مشہور تاریخی شخصیات یا واقعات کے ساتھ مختلف عورتوں کی فرضی کہانیاں بنا کر اسے اپنی ادبی ذخیرے یا سیاسی بیانیوں میں جگہ مہیا کی۔

Read more

یوٹرنوں کے بعد

”ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جو امریکہ چاہتا ہے کرلیتا ہے۔“

”اس کی کئی وجوہات ہیں۔ اس کے پاس طاقت ہے، اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی ہے، عالی دماغ لوگ ہیں، مالی وسائل ہیں، وہ لوگ آئین اور قانون کے اندر رہ کر کام کرتے ہیں اور سب سے بڑی بات کہ وہاں افراد نہیں اداروں کی حکمرانی ہے۔“

”انہوں نے یہ سب کچھ کیسے حاصل کیا۔“

”یہ کہانی بہت خوبصورت ہے اور بہت بد صورت بھی۔ بد صورت کہانی میں بہت سے پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں۔“

Read more

وائٹ ہاؤس میں حجاب پہنے کشمیری خاتون: کیا اس کا اثر امریکی پالیسیوں پر نظر آئے گا؟

جنوری کے آغاز میں نو منتخب امریکی صدر نے کئی انڈین نژاد امریکیوں کی اپنی آنے والی انتظامیہ کے عہدوں پر تقرری کا اعلان کیا تھا، ان میں ایک کشمیری نژاد امریکی خاتون کا نام بھی شامل تھا جس نے اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کرنے کے لیے میڈیکل تعلیم چھوڑ کر سماجی امور کی تعلیم حاصل کرنے کا عزم کیا تھا۔

Read more

گوجرانولہ کا ڈاکٹر باپ جس نے بیٹی کی موت کے بعد اپنی زندگی کا مقصد بدل ڈالا

پنجاب کے شہر گوجرانولہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اسد کو آج سے دو سال پہلے تک شاید ان کے اپنے شہر میں چند ہی لوگ جانتے ہوں گے مگر اب اپنی بیٹی فاطمہ کی بدولت ان کی شناخت بدل چکی ہے۔

Read more

بڑی کھڑکیوں والا فلیٹ

مالک مکان نے گھر خالی کرنے کا حکم صادر کر دیا تھا۔ وہی مکان مالکوں کا پرانا بہانہ، انہیں اپنے بیٹے کے لئے ضرورت ہے۔ اب یہ ایک اور کار مشکل سر پر آن پڑا تھا۔ دوسرا مکان ڈھونڈنا کوئی آسان امر ہے۔ نہیں صاحب جس پہ پڑی ہو وہی جانے۔ میں عموماً اپنے پندرہ سالہ بیٹے کو ہر قسم کے فیصلے میں شامل کرتا ہوں۔ بھئی آگے چل کر گھر کا سربراہ اسے ہی بننا ہے تو نوعمری سے

Read more

”حقوق نسواں“ کا مطلب، کیا ہے، کیا سمجھا گیا؟

کیا آپ اپنی بیٹی بہن کو تعلیم دلوانے کے حق میں ہیں؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ اسے صحت کا حق دیا جائے کیا؟ آپ چاہتے ہیں کہ اس کی زندگی کے فیصلوں میں اس کی مرضی شامل ہو؟ کیا آپ ایسا سوچتے ہیں کہ حکومتی ایوانوں میں خواتین کی نمائندگی ضروری ہے؟ کیا آپ کے خیال میں خواتین کا جنسی استحصال ظلم ہے؟ کیا آپ اس بات کے حق میں ہیں کہ برسرروزگار خواتین کو مردوں کے مساوی معاوضہ

Read more

وزیرستان میں چار خواتین سوشل ورکرز کی ہلاکت، ‘وہ علاقے کی خواتین کی ترقی چاہتی تھیں’

اسلام آباد — "وزیرستان کئی دہائیوں سے شورش کی لپیٹ میں ہے۔ اس جنگ زدہ علاقے کے لوگوں کا سب کچھ مسلسل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ یہاں پر خواتین کی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہر دوسرے گھر میں کوئی نہ کوئی خاتون بیوہ اور اکثر بچوں کے سروں سے باپ کا سایہ اُٹھ چکا ہے۔ ایسے میں وہ چاہتی تھیں کہ ان تمام بے سہارا خواتین کو ہنر سکھا کر اپنے پیروں پر کھڑا کیا جائے۔”

Read more

گنگو بائی: طوائف جس نے ’نہرو کو شادی کی دعوت دی‘ اور جسے انڈر ورلڈ کے کریم لالہ نے بہن بنایا

گنگو کو محبت ہوئی لیکن ان کے گھر والے اس رشتے سے خوش نہیں تھے اس لیے وہ بھاگ کر ممبئی آ گئیں۔ لیکن ان کے عاشق نے انھیں دھوکہ دیا اور ایک کوٹھے پر فروخت کر دیا اور پھر ایک وقت ایسا آیا کے وہ خود کوٹھا چلانے لگیں۔

Read more

عورت کو آزادی چاہیے مگر کس سے؟

عورت مارچ مطلب میرا جسم میری مرضی، عورت کو آزادی دو اور عزت نہیں انسان ہوں میں وغیرہ وغیرہ۔ چلیں مان لیا ہمارا معاشرہ پدر سری ہے، مرد ظالم ہیں۔ عورت کو دبانا، نیچا دکھانا مشغلہ ہے ان کا، مگر یہ کیا عورت مارچ میں بھی کچھ مرد دکھائی دیں گے؟ تو پھر کس سے آزادی چاہیے؟ یقیناً باقی کچھ مردوں سے۔ تو اس سے یہ تو ثابت ہوا کہ سب مرد برے نہیں اچھے بھی ہوں گے۔ اب آتے

Read more

کافکا بر لب ساحل: ہاروکی موراکامی کا ناول

ہاروکی موراکامی کی تخلیق کردہ طلسماتی دنیا میں داخل ہونا آسان ہے لیکن نکلنا مشکل۔ ادب کا کوئی بھی سنجیدہ قاری ایسے ادیب کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ یہ ناول 2002 میں لکھا گیا، 2005 میں اس کا انگریزی ترجمہ سامنے آیا۔ اس ناول کی شہرت ساری دنیا میں پھیل چکی ہے اور کئی زبانوں میں اس کے تراجم ہو چکے ہیں اور اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے جناب نجم الدین احمد نے۔ اپنی طلسماتی حقیقت نگاری، منفرد

Read more

کتابوں کا قبرستان اور شعور کے گورکن

آج مجھے اپنے استاد، سائیں فقیر محمد کی بہت یاد آ رہی ہے۔ سائیں فقیر محمد ریاضی پڑھاتے تھے، جس کی سمجھ مجھے نہ تب کبھی آئی اور نہ آج آتی ہے، اس لئے طالب علمی کے زمانے میں ان کی کلاس میں ان سے بھرپور مار کھانا ایک بلاناغہ عمل تھا۔ میں شہر کے سب سے بڑے پرائمری اسکول میں پڑھتا تھا، جہاں سائیں فقیر محمد پانچویں جماعت کے کلاس ٹیچر ہوا کرتے تھے۔ ان دنوں ہمارے یہاں نجی

Read more

ہجرت کا دکھ

شکر ہے کہ میں اور میرے جیسے بہت سے تارکین وطن مہاجر نہیں ہوئے۔ اپنی جنم بھومی میں جا سکتے ہیں، لوٹ سکتے ہیں۔ یہ شکر ستیہ پال آنند صاحب کا مضمون ”میری جنم بھومی اور میں“ پڑھ کے کر رہا ہوں کیونکہ ایسے بے تحاشا لوگ تھے جو اپنی جنم بھومی کو ایک بار ، بس ایک بار دیکھنے کی آس میں اس دنیا سے کسی دوسری دنیا کے لیے روانہ ہو گئے اور ابھی ایسے بہت سے ہیں

Read more

زچہ کی طبیعت کیوں خراب ہے؟

لیجیے جناب زچگی ہو چکی اور زچہ وبچہ خیریت سے گھر پہنچ چکے۔ اب ماحول کچھ یوں ہے کہ شادیانے بج رہے ہیں، مٹھائیاں بٹ رہی ہیں، دوست احباب سے مبارکبادیاں وصول کی جا رہی ہیں اور ننھیال ددھیال میں نام رکھنے کی رسہ کشی جاری ہے۔ ابا حضور کے مقام پہ فائز ہونے والے صاحب خواہ مخواہ مونچھوں پہ تاؤ دیتے چلے جا رہے ہیں لیکن کیا کسی نے زچہ کی خبر لینے کی کوشش کی جو سر لپیٹے

Read more

دوسری شادی اور ہمارا معاشرہ(قسط دوم)

یہ بات سمجھنے کی ہے کہ نکاح ایک کنٹریکٹ ہے جو دو باشعور اور بالغ لوگوں کی مرضی سے بنتا اور اسی مرضی سے قائم رہتا ہے۔ اگر دو میں سے ایک کی مرضی نہ ہو تو یہ کنٹریکٹ نہیں بن سکتا اور اگر ایک اس معاہدے کو برقرار نہ رکھنا چاہے تو یہ کالعدم ہو جاتا ہے۔ اس معاہدے میں اپنی خوشی سے اپنی زندگی جب تک ممکن ہو سکے دوسرے فریق کے ساتھ بانٹنے کا وعدہ ضرور ہوتا

Read more

بدھا کی کہانی

خدا کیا ہے؟ انسان کیا ہے؟ کیوں انسان ہر وقت دکھی رہتا ہے؟ وہ کون سے مسائل ہیں جن کی وجہ سے انسان دکھی رہتا ہے؟ دنیا میں نفرت اور تعصب کیوں ہے؟ کیوں انسان ایک دوسرے سے منافقت کرتے ہیں؟ ایسے اور اس طرح کے سینکڑوں سوال آج سے اڑھائی ہزار سال پہلے ایک انسان کے اندر سے ابھرے اور پھر اسی انسان نے ان سوالات کی حقیقت بھی بتائی۔ جس انسان کی ہم کہانی سنانے جا رہے ہی

Read more

سرخ گلابوں کا دن، عورت مارچ اور قیادت کا بحران

چودہ فروری کو یوم محبت منایا جاتا ہے۔ محبت کرنے والے ایک دوسرے کو سرخ گلاب کے پھول دے کر اظہار محبت یا تجدید محبت کرتے ہیں۔ پچھلے کئی سالوں کی طرح حسب روایت یوم محبت گزر گیا ہے اور ساتھ ہی کئی لوگوں کا جذبہ ایمانی بھی رفوچکر ہو گیا ہے۔ یوم حیاء کا دن بھی گیا۔ یوم سسٹر بھی گیا۔ یعنی حیاء اور یوم سسٹر محبت کے دن کی ضد میں منانے کا محض اعلان کیا جاتا ہے۔ کچھ کالے دل والے محبت کی مخالفت اور نفرت کے حق میں اخبارات میں اوٹ پٹانگ مضامین تراشتے ہیں اور کئی جعل ساز رنگین اخباری ایڈیشن دے مارتے ہیں۔

Read more

مستنصر حسین تارڑ کا سفرنامہ حج: منہ ول کعبے شریف

مستنصر حسین تارڑ کا سفرنامہ حج، ”منہ ول کعبے شریف“ منفرد نوعیت کی تصنیف ہے۔ مصنف نے جہاں اس میں تمام مناسک حج کو تفصیل کے ساتھ قارئین کے سامنے بیان کیا ہے، وہاں ساتھ ساتھ تاریخ کو بھی مدنظر رکھا ہے۔ وہ جس جس مقام پر گئے، اس کے تاریخی حوالے بھی قارئین کے سامنے بیان کرتے گئے۔ اس لحاظ سے یہ سفرنامہ بہت معلوماتی اور دلچسپ بن گیا ہے۔ مصنف کا بڑا بیٹا ”سلجوق“ جدہ میں نائب کونسل

Read more

پاگل پن اور خود کشی کے بارے میں تھومس زاز کے متنازع نظریات

جب ’ہم سب‘ پر ماہر نفسیات آر ڈی لینگ کی تخلیقات اور خدمات کے بارے میں میرا کالم چھپا تو محترمی ساجد علی نے ’جن کا میں تہ دل سے احترام کرتا ہوں‘ مشورہ دیا کہ میں متنازع اور باغی ماہر نفسیات THOMAS SZASZکے بارے میں بھی ایک کالم لکھوں۔ چنانچہ اس کالم کا کریڈٹ ساجد علی صاحب کو جاتا ہے۔ تھومس زاز نے عمر بھر نفسیات کی روایت کو اس قدر چیلنج کیا کہ ان پر ANTI  PSYCHIATRY کا

Read more

جیوے پنجاب، جیوے پنجابی

بسنت پنجاب کے میدانوں اور کوہستانوں میں منایا جانے والا ایسا تہوار تھا جسے ہم نے تیز دھار والی دھاتی ڈور سے کاٹ کر سماج کے بدن سے الگ کیا۔ پنجاب صدیوں سے اناج کا گھر ہے اور یہاں کے باسی زمین کا سینہ چیر کر اپنے حصے کا رزق پاتے رہے۔ پنجاب کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ اس رزق میں دوسروں کو بھی ساجھے دار بناتا ہے۔ پانچ دریاؤں کی سرزمین پر بہار اترتی ہے تو

Read more

ناروے میں گے، لیزبین اور ٹرانس جینڈر افراد کیسے رہتے ہیں؟

آج اگر ناروے میں دو مرد ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے یا دو لڑکیاں ایک دوسری کی کمر میں بازو حمائل کیے دکھائی دیں تو اب اتنا عجیب نہیں لگتا. لیکن کچھ اتنا زیادہ لمبا عرصہ نہیں گزرا جب ایسے مناظر کو عجیب، ناپسندیدہ، عیب اور گناہ کی نشانی سمجھا جاتا تھا. یہ حقیقت ہے کہ جو گروہ یا فرقہ اقلیت میں ہو وہ کمزور بھی ہوتا ہے اور اسے اپنے حقوق کی خاطر آواز خود ہی اٹھانی ہوتی ہے. ہم

Read more

دوسری شادی اور ہمارا معاشرہ(قسط اول)۔

ایک شہر میں ہسپتال تھے اور ان میں ڈاکٹر تھے، دوائیاں تھیں، علاج تھے آلات تھے مگر پھر بھی سارا شہر بیماری میں مبتلا تھا، صحت مند نہ ہو پاتا تھا۔ کیوں؟ کیونکہ جب کوئی مریض درد کی تکلیف لے کر جاتا تو اسے کہہ دیا جاتا کہ درد روحانیت کی پہلی سیڑھی ہے ، برداشت کرو! اور مریض روحانی بلندی کا تصور کر کے روتا بلکتا واپس آ جاتا چنانچہ سارا شہر ہی گلتا سڑتا جا رہا تھا۔ کوئی بھی یہ نہ کہہ پاتا کہ شفاء نہیں مل سکتی تو یہ ہسپتال کس کے لئے ہیں، یہ اتنے ڈاکٹر کیوں بھرے ہیں، دوائیں اور آلات کیوں رکھے ہیں اگر سارے عوام کو روحانی بلندی پر ہی چڑھنا ہے تو؟

Read more

مادری زبان اور معاشرتی ارتقا

اگرچہ مادری زبان کو زندہ رکھنا ضروری ہے لیکن ضروری نہیں کہ زبان ہی شناخت کو طے کرے۔ شناخت کو طے کرنے میں زبان کے ساتھ ساتھ اور بہت سارے عوامل ہیں جیسا کہ ہجرت کرنے والے بڑے بڑے قبیلوں کی مثالیں دیکھ لیں۔ ضرورت کے تحت وہ نئی جگہ کی زبان کے ساتھ اپنی زبان کو منطبق کر لیتے ہیں۔ لیکن رسوم و رواج، رہن سہن، معاشرتی اصول، لباس، مذہب وغیرہ وہی رہتے ہیں۔ جیسے ہزارہ ڈویژن یا پنجاب

Read more

ماں بولی اور بچوں میں شعوری ترقی

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جن بچوں کو درسگاہوں میں ان کی ماں بولی میں پڑھنے کا موقع ملتا ہے، وہ بچے دیگر بچوں کی نسبت شعوری (cognitively) طور پر زیادہ ذہین اور ہوشیار ہوتے ہیں۔ زبان کی اس حقیقت کو تسلیم کیا جانا چاہیے کہ زبان محض الفاظ کا ذخیرہ نہیں ہیں بلکہ یہ لوگوں کی ثقافت کی ترجمان ہے اور اس کے الفاظ کی جڑیں روایات اور لوگوں کی روزمرہ کی میل ملاپ اور زمین کی آغوش

Read more

راج بی بی کی کہانی

میں آٹھ جوان بچوں کی ماں ہوں! ایک ستاون سالہ ادھیڑ عمر عورت! دل چاہتا ہے کہ آنکھ بند ہونے سے پہلے وہ سب کہہ دوں جو حسرت ہی رہی کہ کوئی سن لے اور سمجھ بھی لے! پھر سوچتی ہوں کہ نہ جانے میری آواز آپ تک پہنچ بھی پائے گی کہ نہیں؟ اگر پہنچ بھی گئی تو معلوم نہیں اس وقت تک میں زندہ بھی ہوں گی کہ نہیں؟ میرا دشمن کوئی اور نہیں، میرا اپنا شوہر میرے

Read more

وکٹوریہ کی بلی

وکٹوریہ نے اپنی آستین اوپر کی اور مجھے اپنے کندھے کی خراشیں دکھاتے ہوئے کہا، ’دیکھو کل کیٹی نے میرا کیا حشر کیا، میں ساری رات صحیح سے سو نہیں سکی، وہ چلاتی رہی اور مجھ سے لحاف چھینتی رہی‘ وکٹوریہ، جسے سب وکی بلاتے تھے، کو میں نے کہا ’وکی تمہیں کیا ملتا ہے اس منحوس بلی سے ، جسے تم نے اپنے سر پر سوار کر رکھا ہے، رات بھر تمہیں سونے نہیں دیتی، میں تو کہتا ہوں

Read more

سماجی سرگرمیاں اور ہمارے رویے

گزشتہ سال تقریباً مارچ کے وسط میں کورونا وائرس نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور تمام قومی و بین الاقوامی سرگرمیوں کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ رہنے سہنے ، کھانے پینے، سیرو تفریح ، سماجی تعلقات حتٰی کہ سوچنے کے انداز میں بھی واضح تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں۔ کہتے ہیں کہ وقت کے گزرتے پتہ نہیں چلتا لیکن گزشتہ سال بھر کا عرصہ بہت طویل محسوس ہوا،  اس میں کسی

Read more

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

”حصول تعلیم ہر بشر کا حق ہے۔‘‘ اکثر و بیشتر یہ جملہ سماعتوں سے ٹکراتا ہے۔ مگر نہایت دکھ کی بات یہ ہے کہ ہر طبقہ تعلیم جیسی نایاب دولت سے مستفید نہیں ہو پاتا۔ خاص طور پر غریب طبقہ جو ہمہ وقت زندگی کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں مصروف رہتا ہے، تاحیات پیٹ بھرنے کے لیے تگ و دو کرتا ہے، روٹی کے حصول کے لیے جیتا ہے اور آخر کار زندگی کی سانسیں پوری کر کے

Read more

روٹی والی

بھرے جسم اور گھنگھریالے بالوں والی وہ عورت اکثر امی سے دوا لینے آتی تھی۔ امی سے ہی سنا تھا بیچاری کچھ دن پہلے بیوہ ہوئی ہے ، چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ پتا نہیں امی اس سے فیس لیتی تھیں یا نہیں لیکن بات کرتے ہوئے ہمیشہ اس کے نام کے ساتھ بیچاری ضرور لگاتی تھیں۔ مجھے بھی دل ہی دل میں اس پر ترس آنے لگا۔ وجہ مجھے معلوم نہیں تھی مگر میں جب بھی اسے دیکھتی بیوہ کا

Read more

ہم اسٹاک ہوم سنڈروم کا شکار تو نہیں؟

نویرا رات کی ڈیوٹی کر کے تھکی ہوئی آئی تھی۔ نکھٹو شوہر گھر پر نہیں تھا۔ بچوں کو ناشتہ کرا کے بکھرے گھر کو سمیٹ کر بستر پر لیٹی ہی تھی کہ آنکھ لگ گئی۔ تھکاوٹ اتنی زیادہ تھی کہ بچوں کے اودھم مچانے کے باوجود نیند کی وادیوں میں ایسی غرقاب ہوئی کہ دروازہ پیٹنے کی آواز پر بھی نہ اٹھ سکی۔ سات سالہ بچی نے دروازہ کھولا۔ مازن کے استفسار پر بچی نے بتایا وہ سو رہی ہے۔

Read more

افسانے ہی رہ گئے ہیں کہنے کو

اس کی بیوی سامنے ہی فرش پر بچھے گدے پر لیٹی لحاف کے اندر کسمسا رہی تھی اور وہ کچھ دور دور پلنگ پر ٹیک لگائے، ٹیبل لیمپ کی روشنی میں ادق سی کتاب پڑھتے، باوجود اس کی قربت پانے کی اپنی خواہش پر، اس کی کل کی تلملاہٹ کو یاد کر کے، جب اس نے اسے اپنے قریب ہونے کا حد درجہ برا مناتے ہوئے چلانا شروع کر دیا تھا، سوچ رہا تھا کہ ممکن ہے اس کے من میں بھی اس کے قریب آنے کی خواہش کلبلا رہی ہو، تبھی کسمسا رہی ہے لیکن وہ چند منٹ بعد ساکت ہو گئی تھی اور اس کی لمبی سانسیں بتا رہی تھیں کہ وہ تو واقعی سو گئی۔

Read more

تم سے اگر ہو گفتگو

کچھ لوگ فطرتا کتنے ہی سخت گیر کیوں نہ ہوں مگر اتنے نادر ہوتے ہیں کہ ہمارا خیال یہ ہوتا ہے کہ ان کے چلے جانے سے وقت کی سانسیں رک جائیں گی، فضا تھم جائے گی، ہر منظر سوگواری کی چادر اوڑھ لے گا۔ اس لئے ہم تصور بھی نہیں کرنا چاہتے کہ وہ کبھی جا بھی سکتے ہیں۔ اور پھر ہوتا بھی یوں ہی ہے۔ وقت کی سانسیں تھم جاتی ہیں، فضا سوگوار ہوجاتی ہے، ہر منظر دھندلا جاتا ہے، ایسی تاریک گہری سرمئی رات چھا جاتی ہے کہ گویا اب سحر ہی نہ ہونے پائے گی۔

Read more

ہم جہالت کی ذلت سے کب نکلیں گے؟

بھلے ہم اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں اور سائنسی ایجادات کی بنیاد پر اس کو ترقی یافتہ دور کہہ سکتے ہیں لیکن ہمارے طرز زندگی، مذہبی عقائد، سوچ، رہن سہن اور اخلاقی گراوٹ کو مدنظر رکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارا معاشرہ دور جہالت سے مشابہہ ہے۔ دور جہالت میں لوگ جن گناہوں میں مبتلا تھے ، ہم بھی ان گناہوں میں ملوث ہیں۔ ہم ویسی ہی زندگی گزار رہے ہیں جیسی زندگی کی عکاسی ظہور اسلام سے قبل راویان نے تواریخ میں کی ہے۔

Read more

اب فصلیں آپ کے کنٹرول میں ہوں گی

ضرورت ایجاد کی ماں ہے، ایسا محاورہ ہے جسے ان دنوں میں رٹا لگایا تھا جب ایجاد کے معنی بھی معلوم نہیں تھے اور کئی دنوں تک یہ سوچتے رہے کہ یہ لفط ماں ہی ہے یا مان ہے۔ خیر یہ تو ایک ضمنی بات ہے البتہ ضمنی الیکشن کی بات بالکل نہیں ہے۔

ارتقاء ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے حیوانات و نباتات نے اپنے آپ کو موجودہ ماحول میں زندہ رکھنے کے لیے اپنے طریقہ ہائے کار میں تبدیلیاں کرتے رہتے ہیں، یہ تبدیلیاں وقتی بھی ہوتی ہیں اور مستقل بھی۔

Read more

ماں بولی، سید حسن مرتضیٰ،مختارا اور پنجابی اکھان

کہتے ہیں ماں بولی زبان سب کو پیاری ہوتی ہے اور اس کا پرچار کرنا سب پر لازم ہے لیکن پنجابی کے ساتھ جو سلوک پنجاب میں کیا جا رہا ہے ، اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ بچوں کے کلاس رومز سے لے کر بیڈ روم تک پنجابی بولنے پر ممانعت ہے جس کا نہ صرف پنجابی زبان کو بلکہ پنجابی کلچر اور پنجابی روایات کو نقصان پہنچے گا۔

21 فروری پنجابی ماں بولی کا عالمی دن ہے ، اس دن کا انعقاد اور پنجابی کی ترویج ایسے ہی کریں جیسے پچھلے ایک سال سے پنجابی کی کچھ تقاریر اور پنجابی اکھان کی کی جا رہی ہے۔

Read more

پردیس سے ایک سہیلی کا خط

یقیناً تم اس وقت کوئی تحریر نہ پڑھ سکو گی، اور پڑھ بھی کیسے سکتی ہو؟ جب باپ جیسا سائبان سر سے اٹھے تو کچھ روز کے لیے آنکھیں غم کی دھوپ سے چندھیا جاتی ہیں۔ اور تم یہ جانتی ہو کہ یہ میں کیوں کہہ رہی ہوں، کیوں کہ میں اس صدمے سے گزر چکی ہوں۔ تب تم آئیں تھیں مجھ سے ملنے، کیوں کہ میں اسی شہر مہرباں میں تھی جہاں میں نے آنکھ کھولی، اپنی عمر کا بہترین حصہ تم جیسی پر خلوص سہیلیوں کے ساتھ گزارا اور پھر ایک دن وہاں سے ایسے رخصت ہوئی جیسے کوئی جڑوں سمیت کسی پیڑ کو اٹھا کر کہیں اور لگا دے۔ ایسا پیڑ کہاں پنپتا ہے بھلا؟

Read more

ندی کنارے: چیخوف کی ایک کہانی

جن دنوں میں قصبے میں رہتا تھا اپنا زیادہ تر فارغ وقت کیاریوں کے چوکیدار، ساوک، کے ساتھ گزارنا میرا معمول تھا۔ قصبے سے ذرا باہر، ندی کے کنارے یہ کیاریاں کھاتے پیتے گھرانوں کو الاٹ ہوئی تھیں۔ ان میں وہ اپنے گھر کے استعمال کے لئے سبزیاں پھل وغیرہ اگاتے تھے۔

یہ میری پسندیدہ جگہ تھی۔ یہاں میں مچھلی کے شکار کے بہانے جاتا اور ڈور میں کانٹا لگا کر آرام سے ساوک سے باتیں کرتا رہتا۔ مجھ میں اور ساوک میں کوئی بات مشترک نہیں تھی۔ وہ پچیس سال کا خوش شکل، ٹھوس بدن نوجوان تھا۔

قصبے میں اس کی شہرت بری نہیں تھی۔ لیکن وہ پرلے درجے کا کاہل تھا۔ کام کاج کے بارے میں بالکل نکھٹو۔ اسے کسی کی نوکری سے دلچسپی نہیں تھی۔ ذہین بھی تھا اور تھوڑا بہت پڑھ لکھ بھی لیتا۔ لیکن نہ ہی ذہانت نے اور نہ پڑھائی لکھائی نے اس کا کچھ بگاڑا۔ اس کی ماں بھیک مانگ کر گزارا کرتی اور جب اسے بیکار رہنے پر لعن طعن سننی پڑتی تو وہ چند دن کے لئے کوئی نوکری کر لیتا لیکن اس پر ٹکتا نہیں تھا۔

Read more

زندگی کے بدلتے موسم

میری: دس سال پہلے میں تصور بھی نہیں کر سکتی تھی کہ مجھے خون کا کینسر ہو جائے گا اور میں ایک ریسرچ والی دوا لوں گی جس سے میرا کینسر ٹھیک ہو جائے گا۔ زندگی مسلسل بدلتی رہتی ہے اور اپنے ساتھ نئے مسائل اور سوال لاتی ہے۔ جب ڈاکٹروں نے کہا کہ اس بیماری کا کوئی علاج نہیں تو میں نے خود ریسرچ کی اور ان تحقیق دانوں سے رابطہ کیا جو اس نئی دوا کو مریضوں پر آزما رہے تھے۔

اینڈی: جیسا کہ آپ جانتے ہیں، یونیٹیرین پاسٹر ہونے کے علاوہ میری ایک ٹیٹو بنانے والی دکان ہے جہاں میں آرٹسٹ ہوں۔ اب میں سمجھ چکا ہوں کہ اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے ٹیٹو بنوانا کیوں غیر قانونی ہے؟ میں ان نوجوانوں سے یہی کہتا ہوں کہ ابھی آپ سمجھ رہے ہیں کہ یہ میوزک بینڈ بہت کول (cool) ہے اور اس کا نشان اپنے جسم پر بنوانا کوئی بہت کول بات ہے لیکن آج سے تیس سال بعد آپ ایسا محسوس نہیں کریں گے۔

Read more

علی سد پارہ! تیرے بن ویران ہیں یہ راستے

محبت بھی ایک عجیب و غریب احساس ہے۔ کب کہاں کس سے ہو جائے پتہ ہی نہیں چلتا۔ محمد علی سدپارہ بھی ایسے ہی لوگوں میں سے تھا۔ جسے پہاڑوں سے بھر پور عشق تھا۔ یوں تو محمد علی سدپارہ نے دنیا کی آٹھ بلند ترین چوٹیاں سر کر رکھی تھیں۔ سب پاکستانیوں کو اس پر فخر تھا۔ لیکن اس دفعہ اس کو دیکھے بغیر محبت بھی ہو گئی تھی۔ عجب بے چین آتما تھی فطرت کے بالکل ہمرکاب ایک جفاکش سر پھری روح۔ پہاڑوں کی خاموشیوں سے ہمکلام ہونے کو انتہائی بلند چوٹیوں کے آخری مقام تک جا پہنچتا تھا۔

پربتوں سے اس کی لافانی محبت کی داد بھلا کس طرح دی جا سکتی ہے۔ وہ تو پیدا ہی زمین سے تین ہزار فٹ کی بلند و بالا چوٹیوں کے دامن میں ہوا تھا۔ مجھے ذاتی طور پر کوہ پیمائی کی کبھی سمجھ نہیں آئی۔ میں تو ان ڈرپوک لوگوں میں سے ہوں جن کو اسلام آباد کے دامن کوہ پر کھڑے ہو کر نیچے دیکھنے سے گھبراہٹ ہونے لگتی ہے۔ مری کے کشمیر پوائنٹ پر کسی اونچے ٹیرس کے سے نیچے جھانکتے ہوئے خوف کی جھرجھریاں میرے بدن میں دوڑنے لگتی ہیں۔

Read more

کیا شبنم علی 1947 کے بعد انڈیا میں پھانسی کی سزا پانے والی پہلی خاتون ہوں گی؟

جیل انتظامیہ شبنم کی موت کا وارنٹ جاری کیے جانے کا انتظار کر رہی ہے۔ آخری وقت تک اگر کوئی رکاوٹ نہ آئی تو شبنم آزاد انڈیا کی تاريخ کی پہلی خاتون ہوں گی جنھیں پھانسی کی سزا دی جائے۔

Read more

”ڈسکہ ڈانس“ اور پاکستانی امور سے لاتعلقی کیوں ضروری ہے؟

میں اس برس اپنی عمر کے 50 ویں برس میں داخل ہو جاؤں گا۔ تین روز قبل ڈسکہ میں الیکشن کے دوران، اسلامی جمہوری اور ایٹمی ریاست میں ہونے والے تماشے نے خیال کا ایک دائرہ شروع کیا، جو ابھی تھوڑی دیر قبل مکمل ہوا تو، اپنے جیسے غریب گھروں سے تعلق رکھنے والے، یا غربت کا پس منظر رکھنے والوں کے نام، کہ جن کی اکثریت ہے، پورے خلوص سے کچھ تحریر کرنے کا سوچا۔ تو یارو، یہ تمھارے نام ہے۔ پڑھ لو، باقی مرضی تمھاری ہے۔

میں پانچ برس کا تھا جب جنرل ضیاء کا مارشل لاء پاکستان پر نازل ہوا۔ اپنے ابو کے پہلو میں بیٹھے، گلی امرتسریاں ملکوال میں، باجی نگو اور (جگت) خالہ کے گھر بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی جنرل ضیاء کو سیاہ عینک پہلے، اپنے سیاہ نامہ اعمال کا آغاز کرتے ہوئے دیکھا۔ بہت مبہم سی یاد، مگر موجود ہے۔ جب جنرل ضیاء کا سایہ، خدا کے فضل و کرم سے، میرے وطن پر سے آموں کی ایک پیٹی کے طفیل اترا، میں 16 برس کا ہو چکا تھا، اور ان 11 برسوں میں پاکستان فی الحال کی گھڑی تک تو بدلا جا چکا تھا۔

Read more

فریڈی فیگرز: کوڑے دان کے قریب چھوڑا گیا لاوارث بچہ جو ٹیکنالوجی کی دنیا میں کروڑ پتی بنا

پیدائش کے بعد فریڈی فیگرز کو ایک کوڑے دان کے قریب اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا۔ جب وہ نو سال کے تھے تو ان کے لے پالک والدین نے انھیں ایک خراب کمپیوٹر تحفے میں دیا تھا۔ یہی وہ کمپیوٹر تھا جس نے ان کی قسمت بدل کر رکھ دی۔

Read more

پاکستان میں معدوم ہوتی علاقائی زبانیں: ’فیض اور اقبال کاش پنجابی میں بھی کچھ لکھ دیتے‘

پاکستان کی سب سے بڑی علاقائی زبان سمجھی جانے والی بولی پنجابی کے وارثوں کو اپنی ماں بولی کی قدر قیمت معلوم ہوتی تو پھر انہیں بنگالی ،بلوچی ،سندھی، پشتو اور سرائیکی کی بھی تکلیف معلوم ہوتی۔

Read more

ایمرسن کالج ملتان کو یونیورسٹی بنانا غلط کیوں ہے؟

انسانی ترقی میں علم وہ واحد ہتھیار رہا ہے جس نے انسان کو آگے بڑھنے میں مدد کی ہے۔ خوراک، لباس اور رہائش کے ساتھ دیگر انسانی ضروریات علم کی مرہون منت رہی ہیں۔ ہزاروں سال سے تعلیمی اداروں کا انسانی فلاح و بہبود میں اہم کردار رہا ہے اور بظاہر لگتا ہے کہ تعلیمی اداروں سے ہی قومیں کامیابی کی طرف گامزن ہوں گی ۔

قوموں نے عروج و زوال بھی علم کی وجہ سے پایا۔ جن قوموں نے اپنے علم سے ذرائع پر دسترس حاصل کی وہ کامیاب رہیں۔ جب کہ سست، علم دشمن اور کاہل قوموں کا ناکامی اور لاچاری مقدر ٹھہرا۔

Read more

مرشد! وہ یاروں کا یار تھا

فون کی گھنٹی کے ساتھ ہی شہزاد ہاشمی کا نام اسکرین پہ جگمگانے لگا۔ سلام و تسلیمات کے تکلفات کو بالکل بالائے طاق رکھتا ہوا اپنے مخصوص انداز تخاطب میں مخاطب ہوا۔ مرشد! حمید خان ہمیں چھوڑ گیا۔

سنتے ہی دل اچھل کے حلق میں دھڑکنے لگا۔ بے یقینیوں کے سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوشش کو یقین نے ایسے پکڑ لیا جیسے گرتے بچے کو لپک کے ماں تھام لیتی ہے۔ وہ کہہ رہا تھا۔ مرشد! حمید خان کے سارے یار ایک دوسرے کے گلے لگ لگ کے دھاڑیں مار رہے تھے۔ اور جب جنازہ اٹھا تو منہ چھپا چھپا کے روتی کراہتی سسکاریاں بھی چیخ اٹھیں۔ مرشد! کل ہی تو اس سے مل کے آیا تھا۔ اس نے تو کچھ ایسا نہیں کہا تھا کہ لمبی تان کے سونے والا ہے۔

Read more

روایتی موضوعات سے تنگ ناظرین کو ڈرامہ ‘رقیب سے’ کیوں پسند آ رہا ہے؟

پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری اس وقت تھپڑوں کی گونج، طلاقوں کی بھرمار اور افیئرز کی بارش کی زد میں ہے۔

اگر کسی ڈرامے میں ایک شادی شدہ آدمی کسی دوسری عورت سے محبت نہیں کرتا تو اس میں وہ اپنی بیوی پر ظلم کرتا ہے۔ اگر بیوی پر ظلم نہیں کرتا تو کسی اور سے محبت کرتا ہے اور کبھی کبھی تو بیوی کو طلاق کا طعنہ دے کر اپنی من مانی کرتا ہے۔

ان ڈراموں کی وجہ سے اچھے اور معیاری ڈرامے دیکھنے والوں نے ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیا ہے اور باقی لوگوں نے ‘ویڈیو اسٹریمنگ سروسز’ کا رخ کر لیا ہے۔

ایسے میں نام ور رائٹر بی گل اور ہدایت کار کاشف نثار نے ‘رقیب سے’ پیش کر کے ناظرین کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ کہانی بیان کرنے کا کلاسک پی ٹی وی اسٹائل آج بھی مقبول ہے بس اسے پیش کرنے کا ڈھنگ آنا چاہیے۔

Read more

پنجابی زبان کو پنجابیوں کے مان کی ضرورت ہے

پنجابی ایک قدیم زبان ہے اور اس کے ثقافتی و تہذیبی رشتے اپنی دھرتی کے ساتھ بہت مضبوط اور گہرے ہیں۔ صوبہ پنجاب کا کلچر پنجابی زبان کے ارد گرد گھومتا ہے کیونکہ پنجابی زبان مختلف خیالات، جذبات اور احساسات کے اظہار کے لیے نہایت موزوں زبان ہے۔

پاکستان کی آبادی کا 48 فیصد حصہ پنجابی بولنے والوں پر مشتمل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پنجابی پاکستان کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔ محققین اور ماہرین لسانیات کے مطابق تصورات کو بہترین طریقے سے سمجھانے کے لیے بچے کی ابتدائی تعلیم و تربیت اس کی مادری زبان میں ہونی چاہیے۔ صوبہ پنجاب میں پنجابی زبان کے لیے مروجہ رسم الخط شاہ مکھی ہے اور اسے سیکھنا آسان ہے کیونکہ یہ عربی اور فارسی رسم الخط سے قریبی مماثلت رکھتا ہے۔

Read more

ہماری ماؤں کی سلائی مشین

ماؤں کی اس دولت و متاع جس کو وہ ہمیشہ سنبھالتی ہیں اس میں سے ایک سلائی مشین بھی ہوتی ہے۔ نسل نو کو اس بات کا اندازہ نہ ہو پائے گا مگر ہم جس دور سے گزرے ہیں سلائی مشین ہر گھر میں موجود ہوتی تھی، کونے میں پڑی ہوتی تھی اور اس پر کپڑا اوڑھا دیا جاتا تھا۔ اسے تیل دینے کے لئے ”کپی“ بھی مشین کے اندر یا الگ سے موجود ہوتی تھی۔

مائیں ان مشینوں کی مسلسل صفائی کرتی تھیں۔ اس کو تیل کے ساتھ رواں رکھا جاتا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ سلائی مشین سے ہر شخص کی یادیں جڑی ہیں۔ بچپن میں راہ چلتے کپڑے پھاڑ یا ادھیڑ لینا تو عام سی بات ہوتی تھی۔ آسن، نیفا، بغل، پائنچہ تو بس ایسے ہی ادھڑ جاتا تھا۔ اماں بڑے چاؤ سے اسے سی دیتی تھیں۔ البتہ کبھی کبھار ہی یہ کہتے بھی سنا گیا کہ ”اس کے تو جسم پر کانٹے ابھرے ہوئے ہیں“ ۔

Read more