پروفیسر خورشید احمد :علمی روایت کا قصہ تمام شد

اُدھر ڈاکٹر تقی عابدی کو ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں کینڈین سول انعام ”کنگ چارلس سوم ایوارڈ“ دینے کی خبر اِدھر پاکستان پہنچی الحمد اسلامی یونیورسٹی، شعبہ اردو کے چیئرمین ڈاکٹر شیر علی خاں نے، ان کے پاکستان آنے پر ایک تقریب کی منصوبہ بندی کرلی۔ ڈاکٹر تقی عابدی آ گئے تو یہ تقریب بہت اہتمام سے ہوئی۔ میں اس تقریب کا احوال سنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ وہاں کہے ہوئے پروفیسر فتح محمد ملک کے

Read more

زندہ دل پاکستانی قوم بمقابلہ انڈین جنگی جنون

پاکستانی قوم کی زندہ دلی اور سوشل میڈیا پر ان کی جگت بازی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ جب بات جنگ کی ہو یا انڈیا کے ساتھ کشیدگی کی، پاکستانی عوام اپنے منفرد انداز میں میمز، جگتیں، اور جملہ بازی کے ذریعے نہ صرف ماحول کو ہلکا پھلکا کر دیتے ہیں بلکہ دشمن کے ہوش بھی اڑا دیتے ہیں۔ آج کل ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پاکستانیوں نے گویا جنگ کا محاذ سوشل میڈیا پر منتقل کر دیا ہے، جہاں وہ

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 40 : خدشات

” کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں دعا اور منت کے وسیلہ سے شکرگزاری کے ساتھ خدا کے سامنے پیش کی جائیں۔ تو خدا کا وہ اطمینان جو سمجھ سے بالاتر ہے، تمہارے دلوں اور خیالوں کو مسیح یسوع میں محفوظ رکھے گا۔“ فلپیوں 4 : 6۔ 7 اگلے دن یومِ آزادی کی چھٹی تھی۔ پچھلی رات کو پوری فیملی تھکن سے چور تھی۔ عارف بھی اپنے والدین کے گھر رک گیا تھا

Read more

آئینہ سفاک ہے

آئینہ تو ہمیشہ سے سفاک ہی ہے۔ چاہے ہمارے اندرون خانہ کا آئینہ ہو، دیوار پر لگا ہو، حمام کی دیوار پر چمکتا ہو، آرائش کے لئے کسی دیوار پے آویزاں ہو، کھڑکی میں جڑا ہو، کوئی چہرہ مانند آئینہ دکھتا ہو یا دل آئینہ کی طرح شفاف ہو، آئینہ تو بس آئینہ ہی ہے۔ سات سمندر پار کی رہنے والی جو کبھی کراچی کی باسی ہوا کرتی تھیں۔ وہ مشی گن کی ریاست سے بمع ”سفاک آئینہ“ شہر میں

Read more

پرانے زمانے کے بابے اور معصوم عاشق

پرانے زمانے کی باتیں سن کر کبھی کبھار ایسا لگتا ہے جیسے اس وقت ہر طرف محبت ہی محبت تھی، لوگ دودھ اور شہد کی نہریں بہا رہے تھے، اور سب کے سب اتنے سادہ اور ایماندار تھے کہ اگر کسی نے رستے میں گرا ہوا سونا بھی دیکھا تو اٹھانے کی بجائے جاکر اعلان کرواتا تھا، ”بھائیو! ، یہ کسی کی امانت پڑی ہے، اللہ کے واسطے کوئی ایماندار بندہ اسے اس کے مالک تک پہنچا دے۔“ مگر حقیقت

Read more

چِیٹو: ’ایشیائی فرانسس‘ کہلانے والے متوقع پوپ

کسی بھی جمہوری مُلک میں حکومت سازی کے انتخابات ہوں یا مذہبی منصب سنبھالنے جیسے پاپائے روم کے لئے رائے شُماری، ہر دو میں اندازے اور اُمیدواروں کی کارکردگی کے جائزے منظر پر آتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک تجزیہ متوقع پوپ کے لئے سامنے آ رہا ہے، جس میں آئندہ پوپ کے لئے متعدد کارڈینلز کے نام زیرِ غور ہیں۔ البتہ حتمی نام کا فیصلہ اِلٰہی طاقت سے سامنے آئے گا۔ پاپائے روم چُنے جانے کے لئے ایک کارڈینل

Read more

اپنے بچوں کے سکول میں پڑھانے والی مائیں

کوئی ایک نہیں بے شمار باصلاحیت، زمانے میں کچھ کر دکھانے والی،حوصلہ مند،باہمت خواتین جو بچے پیدا ہونے کے بعد صرف اس لیے سکول میں ٹیچنگ اختیار کرتی ہیں کہ ان کے بچے ان کی نظروں کے سامنے رہیں گے اور ان کے بچوں کی فیس میں کچھ رعایت بھی ہو جائے گی۔بچے نظروں کے سامنے رہیں اس کے لیے اس کے خواب، نیند، آرام، چین صبح صبح طلبا کے حاضری رجسٹر میں حاضری لگوا دیتے ہیں۔ اس کی خوشیاں،

Read more

شوقِ شمشیر زنی

پاپولسٹ سیاسی راہ نما خِرد دشمنی کے فن میں ماہر ہوتے ہیں، پاسبانِ عقل کو معزول کر دیتے ہیں، کوئی بھی مسئلہ درپیش ہو اسے تعصب اور نفرت کی عینک سے دیکھتے اور دکھاتے ہیں، فرضی دشمن تخلیق کرتے ہیں جو آپ کے خون کا پیاسا ہے، دشمن کا خوف بیدار کرتے ہیں اور پھر اس دشمن سے نفرت کی بنیاد پر اپنے قصرِ سیاست کی تعمیر کرتے ہیں۔ یہ ایک سیدھا سادہ، طے شدہ فارمولا ہے جس کوہم رو

Read more

لڑکیوں کو شادی کے خواب کیوں دکھائے جائیں؟

”پرسوں نا میری خالہ آئیں اور شام کو پاس بٹھا کر میرے ہاتھ میں انگوٹھی ڈال دی۔ میری امی نے شکر ادا کیا“ ”کل تائی اماں ہمارے گھر آئیں اور میرے سر پہ دوپٹہ ڈالا۔ امی ابا اتنے فکر مند تھے کہ وہ اتنی دیر کیوں کر رہی ہیں؟“ ”پھوپھی نے ہاتھ پہ پیسے رکھے اور ساتھ میں مٹھائی کا ٹوکرا۔ امی کے وظیفے کام آ ہی گئے“ ”آج کل روزانہ ماسی آتی ہے ہمارے گھر، ہاتھ میں ڈھیروں تصویریں

Read more

ہونڈورس والے ابو عمر کی دوسری شادی

آئیں آپ کو اپنے تاجر میمن ایکسپورٹر دوست ابو عمر کاپڑیا سے ملوائیں۔ بحر الکاہل اور کیریبئن سمندر کے درمیاں آباد اس وسطی امریکہ کے ملک کا نام ہے ہونڈورس۔ مگر ہسپانوی زبان میں ہ کو ڈراپ کر کے بولا جاتا ہے اسی لیے وہاں مقامی لہجے میں اسے اون دو رس پکارتے ہیں، جب کہ امریکہ میں اسے ہونڈورس پکارتے ہیں۔ اب وہ وہاں رہتا ہے۔ ابو عمر پہلے ایسا نہیں تھا۔ اب عیاش بھی بہت ہو گیا ہے۔

Read more

دانتے کی دوزخ میں ایک اور حلقے کا اضافہ

”ورجل یہاں کیا ہو رہا ہے؟ مجھے تو بتایا گیا تھا کہ دوزخ کے نو گڑھے ہیں۔“ ”ہاں! بیسویں صدی تک نو ہی تھے لیکن اب دوزخ کو بڑا کیا جا رہا ہے۔“ ”وہ کیوں؟“ ”یہاں ایک نئی وادی کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ گول بھی نہیں۔ ٹیڑھی میڑھی ہے بالکل اِس دور کے گناہوں کی طرح۔“ ”ورجل، میں تو پہلے ہی تھک چکا ہوں۔ رنج و محن کے اس شہر اور اقلیم درد و الم میں موت بھی

Read more

رخصتی

مجھے یہاں دربار کے باہر بیٹھے ہوئے کئی ماہ ہو گئے ہیں۔ اگر کسی کے ہوش و حواس چلے جائیں تو کوئی بات نہیں پر میرے تو ہوش بھی ٹھکانے ہیں۔ میں بس چپ کر کے بیٹھی ہی رہتی ہوں۔ مجھے کسی سے کچھ نہیں مانگنا۔ ہاتھ پھیلاتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے۔ ساری زندگی بس یہی کام تو کبھی نہیں کیا۔ روکھی سوکھی، دال روٹی یا سبزی گوشت جو میسر ہوتا تو خوش ہو کر خود بھی کھاتے اور

Read more

واقعی خدا کوئی نہیں ہے؟

کتاب کا سرِ ورق اپنے ساتھ ایک بڑا سوال لے کر حاضرِ خدمت ہوا ہے۔ نبیل حیدر کی صنف نظم پہ مبنی کتاب ’خدا کوئی نہیں ہے‘ ہمیں بہت سارے اٹھتے مسائل پہ خاموشی سے غور و فکر کرنے پہ مجبور کرتی ہے۔ مجھے اس کتاب کو دیکھتے ہی ہالی ووڈ کی ایک شاندار فلم Blood Diamond یاد آنے لگی ہے۔ یہ فلم افریقہ کے اک غیر معروف ملک سیرالیون میں پیش آنے والے حقیقی واقعات پہ مبنی ہے۔ فلم

Read more

مقیّد مسکراہٹ

گرمیوں کے دن اپنے عروج پر تھے۔ صبح کی دھوپ بھی تیز محسوس ہوتی تھی۔ سکول کی چھٹیاں ختم ہونے کو تھیں۔ میٹرک کا امتحان ہو چکا تھا، بستہ ایک طرف رکھ دیا تھا، اور دل میں ایک عجب سکون اتر آیا تھا۔ کہتے ہیں کالج کی زندگی میں آزادی ہوتی ہے، اور یہی سوچ کر میں خود کو آزاد محسوس کر رہا تھا، خوابوں سے بھرپور ایک موسم کی طرح۔ ان ہی دنوں کی ایک سہ پہر میرے بڑے

Read more

معذور افراد کی زندگی: ہماری بے حسی کا آئینہ

ایک دن ایک شخص، کسی دوسرے کا ہاتھ تھامے، میرے دفتر میں داخل ہوا۔ ساتھ آنے والے نے کرسی کھینچ کر اُسے بٹھایا اور میری طرف دیکھ کر بولا: ”سر، اِن کا مسئلہ حل کر دیں۔“ میں نے نرمی سے پوچھا، ”جی بھائی، کیا مسئلہ ہے؟“ مگر میری آواز اُس تک نہ پہنچ سکی۔ کیونکہ وہ سن نہیں سکتا تھا۔ اُس کے ساتھی نے آہستہ سے بتایا: ”انہیں اونچا سنائی دیتا ہے اور ان کی بینائی مکمل طور پر ختم

Read more

ڈارون کا نظریہ جمود

یہ جو ہم انسان نما مخلوق ہیں ہم ہیں کیا؟ چھوٹے ہوتے اگر کوئی الٹی سیدھی حرکت کر بیٹھتے تو بڑے ہمیشہ یہی کہتے ”بندے دا پتر بن“ یعنی انسان کے بچے بنو مطلب انسان بنو۔ یہ انسان ہے کیا؟ انسان بنتے کیسے ہیں؟ مشاہدہ بتاتا ہے، تاریخی قرائن بتاتے ہیں کہ ہم نے یعنی استاد ڈارون کے بندر نے ابھی تک انسان ہونے کے متعلق کوئی جواز ہیش نہیں کیا ہے سائنسی اور تکنیکی طور پر بے شک اس

Read more

بیٹیوں کے سنگدل والدین!

جب اوّل و آخر ہدف ہی شادی ہے تو کیا ضرورت ہے کتابوں میں سر کھپانے کی؟ اور اگر اچھے رشتے کی تلاش میں ڈگری لے ہی لی ہے تو نوکری کیوں کی جائے، منہ کی رونق چلی گئی تو کون پسند کرے گا؟ لیجیے آ گئی بلی تھیلے سے باہر! جی چاہا کہ اس کے جواب میں وہ سب کہا جائے جو وقتاً فوقتاً کان میں پڑتا رہتا ہے۔ ایک تقریب میں ایک خاتون دوسری خاتون سے۔ ” بہن

Read more

ایماندار افسر

” تمام سرکاری اہلکار یہ بات کان کھول کر سن لو۔ الراشی و المرتشی کلا ہما فی النار۔ رشوت دینے اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں۔ لہذا میرے دفتر میں آنے والے کسی بھی سائل سے رشوت لینے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر کوئی اہلکار پکڑا گیا تو اُس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی“ ۔ یہ اعلان محکمہ صحت کے ضلعی دفتر کے اندر نئے تعنیات ہونے والے ”بڑے صاحب“ کی طرف سے تھا جنہوں نے

Read more

لیرو لیر

فاروق کا تعلق گجرات سے تھا۔ قد درمیانہ، رنگ گندمی، عمر چالیس سال کے لگ بھگ اور سر کے بال گرنا شروع تھے۔ گجرات سے غیر قانونی طور پر یورپ آیا تھا اور یہ سفر اُس نے صرف ایک دفعہ نہیں کیا تھا۔ اُسے دو مرتبہ یورپ سے نکالا گیا تھا مگر وہ پھر کسی ایجنٹ کے ذریعے نیا راہ ڈھونڈ کر یورپ پہنچ جاتا تھا۔ نئے نام سے پاسپورٹ بنواتا، نیا راہ ڈھونڈتا۔ پہلے راستہ ایران، ترکی، یونان سے

Read more

عورت: خوبصورتی اور غربت کا چکر

صبح نو بجے کا وقت دروازہ پہ دستک ہوتی ہے۔ میں دروازہ کھولتی ہوں۔ دروازہ کے اوپری جالی دار حصے سے ایک بہت دلکش نقوش والی عورت نظر آتی ہے۔ جس کی خوبصورت کٹیلی آنکھیں کسی کو بھی مار سکتی ہیں۔ لبوں پہ مسکان سجائے وہ کہتی ہے، ”باجی میں رضیہ ہوں۔ یہاں کام کرتی ہوں۔ “ اتنے میں میری بہن کی آواز آتی ہے۔ ”ہاں دروازہ کھول دو۔ یہ ہماری کام والی ہے۔“ کراچی میں میرا قیام ہمیشہ اپنی

Read more

کافی ہاؤس لاہور کی چند شخصیات کا تذکرہ

کے کے عزیز کی کتاب لاہور کا کافی ہاؤس (The Coffee House of Lahore: A Memoir) ادبی اور علمی شخصیات کا ایک دلچسپ تذکرہ ہے۔ اس وقت کا کافی ہاؤس خاص کر بائیں بازو والوں کا گڑھ تھا۔ سوشلسٹ اور لبرل رجحان رکھنے والوں نے کافی کو چائے کے مقابلے میں زیادہ پسند کیا۔ شاید کافی سیاسی اور سماجی مزاحمت کی علامت سمجھی گئی تھی۔ یہاں بیٹھنے والوں کی اکثریت یا تو کمیونسٹ پارٹی کی رکن تھی یا پھر اس

Read more

” اِشپاتا“ کیلاش لوگوں کے بارے میں اُستاد محمد عنایت اللہ سے ایک گفتگو (1)

چترال اور کیلاشی وادیاں جون 2022 میں گھر والوں کے ساتھ چترال جانے کا اتفاق ہوا۔ کوئی چترال جائے اور کیلاش وادیوں میں نہ جائے بھلا یہ کس طرح ہو سکتا ہے! ہم لوگ بھی تینوں وادیوں : رَمبُور، بِریر اور بَمبوریت گئے۔ وادیٔ بمبوریت میں واقع عجائب گھر بھی دیکھنے گئے۔ ٹکٹ لیتے ہوئے وہاں کیلاشی تہذیب و ثقافت پر ایک کتاب ”اِشپاتا“ دستیاب تھی جو میں نے بخوشی خریدی۔ وہاں پڑھنے کا موقع نہیں ملا البتہ واپس آ

Read more

پروفیسر خورشید: ہم ہی سو گئے داستاں کہتے کہتے

پروفیسر خورشید احمد 23 مارچ 1932 ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ آپ نے قانون اور اس کے مبادیات میں گریجویشن کی۔ علاوہ ازیں اکنامکس اور اسلامیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی، جبکہ ایجوکیشن میں یونیورسٹی نے انہیں اعزازی ڈگری عطا کی۔ پروفیسر صاحب نے برطانیہ کی لیسٹر یونیورسٹی سے اسلامی معاشیات میں پی ایچ ڈی کی۔ پروفیسر خورشید احمد 1949 ء میں اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن بنے۔ 1953 ء میں انہیں ناظم اعلیٰ منتخب کیا گیا۔

Read more

جنگ اور امن میں انتخاب کی گھڑی

منگل کے روز جموں کشمیر کے شمال مشرقی علاقے پہل گام میں نامعلوم افراد نے سیاحوں پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کر دی۔ دہشت گردی کے اس واقعے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق دو غیر ملکی شہریوں سمیت 28 افراد مارے گئے۔ حالیہ برسوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد متنازع علاقے میں یہ ایک بڑا واقعہ ہے۔ بھارتی حکومت نے بغیر کسی تصدیق یا دستاویزی ثبوت کے حملے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کر

Read more

لیک ڈسٹرکٹ کی بیٹریکس پوٹر

کرونا سے پہلے تک میں ہر سال برطانیہ جایا کرتی تھی۔ ماں باپ کے جانے کے بعد میرے بھائی جان کا گھر ہی میرا میکہ ہے۔ بچپن ہی سے انگریزی کتابیں پڑھتے ہوئے انگلینڈ کی سر زمین جیسے آشنا سی لگنے لگی خصوصاً کلاسک ناولز میں بیان کیے گئے دیہی علاقے۔ آج اپنے سٹڈی روم میں کتابیں صاف کرتے ہوئے بچوں کی Peter Rabbit اور Floppsy کی شاندار کتابیں ہاتھ لگیں تو دل نے چاہا Beatrix Potter پر لکھا جائے

Read more

پروفیسر خورشید احمد کے عہد ساز اوصاف

پاکستان کے مایہ ناز اسکالر، سیاسی مدبر اور اِسلامی تحریکوں کے ہم دم پروفیسر خورشید احمد 13 اپریل کو جہانِ بقا کی طرف کوچ کر گئے۔ اِنَّا لِلَّٰہ و َاِنَّا اِلَیْہ رَاجِعُونَ۔ اُن کی عمر 93 سال تھی جس کا ایک ایک لمحہ اُنہوں نے اپنے رب کی خوشنودی میں بسر کرنے اور اُس کی مخلوق کی حالت بہتر بنانے میں صَرف کیا۔ اُنہوں نے سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کے انقلاب آفریں افکار کی ترویج جس انہماک اور جاں فشانی سے

Read more

ڈاؤن سنڈروم میں مبتلا بچوں کے لیے کراچی میں ادارہ ’سائنوسا‘ کیا کر رہا ہے؟

میرا تقریباً ہر دو سال پہ پاکستان آنا ہوتا ہے۔ ہر بار اس کی مدت ڈھائی تین ہفتے سے زیادہ نہیں ہوئی۔ کبھی کسی شادی میں شرکت تو کبھی کوئی اور خاص موقعہ لیکن اس دفعہ میرا ہدف ساڑھے تین ماہ قیام کا تھا تاکہ کراچی میں واقع عورتوں کے مفت کوہی گوٹھ اسپتال کی مڈوائفری طالبات کے ساتھ گروپ اور انفرادی تھرپی کا سلسلہ شروع کر سکوں۔ جو ملازمت کو خیر باد کہے بناء ممکن نہ تھا۔ اس دوران

Read more

طالبان کے قدموں تلے کچلا افغانستان

پاکستان کی مقتدرہ نے ہمیشہ افغانستان کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست ماننے کے بجائے اسے اپنا پانچواں صوبہ سمجھا ہے۔ موجودہ سیاسی لیڈرشپ میں آدھے تو ضیاء الحق کو اپنا پدر تسلیم کرتے ہی ہیں۔ ہم نے ان لوگوں کے پدر خانوں میں بھی ضیاء کا نام دیکھا ہے۔ جو اپنا امام ذوالفقار علی بھٹو کو مانتے ہیں۔ خیر یہ بات کسی سے ڈکی چھپی تھوڑی ہے۔ کہ حکمت یار، ربانی اور مسعود کن کی حکومت کے دوران مملکت

Read more

خالد سعید: کت گئے کھیون ہار

پرانی فلموں، پرانے گیتوں، پرانے رسالوں اور کتابوں میں سانس لیتا جہاں ہر لمحے نیا لگتا ہے۔ ایسے ہی کہیں بہت دور بچپن میں کسی رسالے میں بنگلہ گیت پڑھا تھا جس کا مکھڑا بھی یہی تھا۔ لکڑی جلی تو کوئلہ بنی۔ کوئلہ جلا تو راکھ۔ میں پاپن کچھ ایسی جلی نہ کوئلہ ہوئی نہ راکھ۔ نہ جانے اپریل آتے آتے ایسا کیوں لگتا ہے۔ شاید یوں کہ انہی دنوں میں بہت سوں کا کھیون ہار۔ خالد سعید۔ میرے ابا

Read more

ہنی ٹریپ

ہنی ٹریپ کا تصور کوئی نیا نہیں، مگر پاکستان جیسے ترقی پذیر اور سادہ دل معاشرے میں اس نے خطرناک حد تک اپنی جڑیں جما لی ہیں۔ ہنی ٹریپ ایک ایسا طریقہ واردات ہے جس میں انسانی فطرت کی کمزوریوں، بالخصوص تنہائی، محبت کی خواہش، اور جسمانی کشش کی طرف میلان کو استعمال کرتے ہوئے افراد کو ایک جال میں پھنسایا جاتا ہے۔ ماضی میں یہ طریقہ زیادہ تر خفیہ اداروں یا جاسوس نیٹ ورکس کے لیے مخصوص سمجھا جاتا

Read more

رزق تو سانجھا ہوتا ہے۔

کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ استاد دامن کا ایک چاہنے والا اُن کے لیے دیسی گھی میں پکے دو پراٹھے لے کر آیا۔ استاد دامن نے پراٹھے ایک طرف رکھے اور اُٹھ کر ایک بڑا سا پیالہ لیا جس میں چینی ڈالی۔ ایک پراٹھے کو توڑا اور پیالے میں ڈھیر ساری چوری بنا لی۔ پھر اُٹھے اور کمرے کے چاروں کونوں میں وہ چوری زمین پر ڈال دی اور واپس بیٹھ کر مہمان کو کہا کہ لو اب یہ ایک

Read more

ریاست بہاول پور کا پہلا اور سب سے بڑا نجی کتب خانہ

آج کتابوں کے عالمی دن پر ہم ذکر کریں گے ریاست بہاول پور کے سب سے بڑے اور قدیمی نجی کتب خانے کا جو صادق آباد کے ایک دیہات میں واقع ہے۔ یہ مبارک اردو لائبریری ہے جس کی بنیاد مبارک شاہ جیلانی مرحوم نے 1926 میں صادق آباد کے علاقے پیر دا گوٹھ میں رکھی تھی۔ پیر دا گوٹھ، صادق آباد کے علاقے سنجر پور کے نواح میں واقع ایک بستی ہے جسے اب محمد آباد کہا جاتا ہے۔

Read more

طنز و مزاح کے آئن سٹائن معین اختر

ٹی وی، سٹیج کے نامور مزاحیہ اداکار، میزبان، نقیب، نقال، گلوکار اور فلمی اداکار، معین اختر نے 24 دسمبر 1950 کو کراچی میں جنم لیا۔ ان کے والد کا نام محمد ابراہیم محبوب تھا۔ 6 ستمبر 1966 کے یوم دفاع پر انہوں نے اپنی پہلی ادا کاری کے جوہر دکھائے۔ ضیاء محی الدین شو میں اپنے فن کا جادو جگایا۔ انہوں نے پاکستان کی تمام بڑی زبانوں اردو، پنجابی، سندھی، گجراتی، میمنی اور بنگالی میں ادا کاری کی۔ وہ مزاحیہ

Read more

عظیم کلاسیک گائیک بڑے غلام علی خان پاکستان چھوڑ کر انڈیا کیوں چلے گئے؟

سنہ 1953 میں جب بڑے غلام علی خان انڈیا منتقل ہو گئے تو ریڈیو پاکستان میں ان پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کر دی گئی اور لگ بھگ 56 سال تک ریڈیو پاکستان کو استاد محترم کی لافانی آواز سے محروم رکھا گیا تاہم سنہ 2009 میں ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل مرتضیٰ سولنگی نے آدھی صدی سے زائد عرصہ کے بعد ریڈیو پاکستان کو اس پابندی سے آزاد کرا دیا۔

Read more

وکٹر فرینکل اور زندگی میں معنی کی تلاش

وکٹر فرینکل بیسویں صدی کے وہ واحد ماہر نفسیات ہیں جنہیں امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ اس نامزدگی کی وجہ ان کی کتاب MAN ’S SEARCH FOR MEANING تھی جس کا ترجمہ بیس سے زیادہ زبانوں میں ہو چکا ہے اور جس کی پچھلی نصف صدی میں ایک کروڑ سے زیادہ کاپیاں بک چکی ہیں۔ اس کتاب میں انہوں نے نہ صرف نازی کیمپوں میں اپنے تجربات بیان کیے ہیں بلکہ اپنے نفسیاتی طریقہ علاج

Read more

سیٹ 1-C کا مسافر

ہم پانچ دوست سیر و سیاحت کی غرض سے گلگت گئے، یہ اگست 1989 کی بات ہے، ایک ہفتہ قیام رہا،خوب سیر کی، بہت لطف آیا۔ واپسی کی ہوائی ٹکٹیں 24 اگست کی تھیں، صبح ہوائی اڈے پہنچے تو خبر ملی کہ اس جہاز پر تین سیٹیں مل سکتی ہیں۔ فیصلہ یہ ہوا کہ تین دوست آج ہی چلے جائیں اور دو اگلے دن آ جائیں۔ لہٰذا، شہباز شیخ، عماداللہ شیخ اور برادرِ بزرگ سیّد جنید غزنوی، اُس پرواز پر

Read more

رفاقت حیات کا ناول: ”رولاک“

”رولاک“ رفاقت حیات کی ایک ایسی تخلیق ہے جس نے اردو ادب کے قاری کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ یہ محض ایک داستان نہیں، بلکہ زندگی کے ان گنت پہلوؤں پر ایک گہری نظر ہے، ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہمیں اپنے معاشرے کی تلخ حقیقتیں اور انسانی نفسیات کی پیچیدگیاں واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں۔ اس ناول کو پڑھتے ہوئے، میں نے خود کو کرداروں کے ساتھ ہنستے، روتے اور سوچتے ہوئے پایا۔ یہ ایک

Read more

ماریو برگس یوسا کی یاد میں

(ماریو برگس یوسا  کا انتقال 13  اپریل  2025 کو ہوا) عالمی شہرت یافتہ نوبل انعام یافتہ فکشن نگار ماریو برگس یوسا کی موت کی خبر سب سے پہلے اس کے بیٹے الوارو برگس یوسا کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر چڑھائی گئی اور پھر یہ جنگل میں آگ کی طرح ہر طرف دکھائی دینے لگی تھی۔ وہ 89 برس کی عمر میں رخصت ہوئے تھے اور اپنے پیچھے ایسا ادبی سرمایہ چھوڑا کہ ہر کہیں یاد کیے

Read more

غیرت کے خونی سائے : کیا پاکستان میں عورت کی مرضی ایک گناہ ہے؟

”میری بیٹی نے ہماری عزت خاک میں ملا دی۔“ یہ جملہ پاکستان میں ہر اس واقعے کی بنیاد بنتا ہے جہاں کسی عورت کو صرف اس لیے قتل کر دیا جاتا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے جینے کی کوشش کی۔ غیرت کے نام پر قتل ہمارے معاشرے کی اس پدرشاہی سوچ کی ایک خونی علامت ہے جو عورت کی زندگی، فیصلہ اور آزادی کو سماجی بدنامی سے جوڑتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ ایک ایسا مسئلہ بن چکا ہے

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 39 : رونمائی

” جب وہ اُسے پا لیتا ہے تو خوش ہو کر اُسے اپنے کندھوں پر اُٹھا لیتا ہے، اور گھر پہنچ کر دوستوں اور پڑوسیوں کو بُلا کر کہتا ہے، میرے ساتھ خوشی مناؤ کیونکہ میری کھوئی ہوئی بھیڑ مل گئی ہے! “ لوقا 15 : 6 مریم کو آئے ہوئے چوتھا دن ہوا تھا اور اگلے روز شام کو اس کی واپسی تھی۔ عارف سے اس کی ملاقات صرف رات کے کھانے کے وقت ہوتی تھی۔ دونوں باپ بیٹے

Read more

سفید رنگ مٹا دو، یا پھر اقلیتوں کو جینے دو

کراچی کی گلیوں میں ایک اور لاش گری، ایک اور معصوم مارا گیا، اور اس بار بھی وجہ وہی پرانی تھی۔ مذہب۔ لاہوری مسجد کے باہر ایک 47 سالہ احمدی شہری، لئیق چیمہ، اپنے سات بچوں کا باپ، صرف اس ”جرم“ میں قتل کر دیا گیا کہ اس نے خدا کے حضور سر جھکایا۔ اس کا خون گلی میں بہتا رہا، اور ہجوم جو اسے اینٹوں، لاٹھیوں سے مارتا رہا، نعرے لگاتا رہا۔ نفرت سے بھرے ہوئے نعرے، جو اب

Read more

کیا بھٹو کے دادا نے ہندو مختیار کار کو قتل کیا؟

تحریر و تحقیق: علی بھٹو ترجمہ و تدوین: اسرار ایوبی 2 نومبر 1896 کو وڈیرہ غلام مرتضیٰ بھٹو، جو بعد میں پاکستان کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دادا بنے، صبح 7 بج کر 35 منٹ پر نوڈیرو سے لاڑکانہ جانے والی ریل گاڑی پر سوار ہوئے۔ یہ نوجوان وڈیرہ دودا خان بھٹو کا پوتا تھا، جو بالائی سندھ کے سرحدی ضلع کا سب سے بڑا زمیندار اور شکارپور کلکٹریٹ کے ممتاز ترین افراد میں شامل تھا۔ اسی صبح،

Read more

تیسری جماعت کی اردو اور اشرافیہ کا پروپیگنڈا

اکیسویں صدی میں اگر کوئی قوم اپنے بچوں کی ذہن سازی خوابوں کی تعبیر اور اسی طرح کے دوسرے توہمات سے کر رہی ہو تو اس کے مستقبل کو پتھر کا دور ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ جہاں دنیا بھر میں بچوں کی تعلیم کو ہر ممکن حد تک جدیدیت، سائنسی اپروچ، آنے والے زمانے کی ملازمتوں کی تیاری، اور مصنوعی ذہانت کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے وہیں ہماری اشرافیہ پاکستان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ

Read more

ہو چکیں غزہ میں بلائیں سب تمام

مضمون کے عنوان میں غالب کے مصرع میں بگاڑ کی معذرت لیکن یہ خیال آتا ہے کہ اگر آج کے دور میں وہ زندہ ہوتے تو غزہ کے متعلق کیا سوچتے؟ انہوں نے 1857 کی جنگ آزادی کے دوران ہوئی دلی کی بربادی کا ذکر ایک روزنامچے اور اپنے دوستوں کو لکھے خطوط کی صورت میں کیا تھا؛ 2025 کا غزہ اُنہیں کیسے اظہار پر مائل کرتا؟ میں نے کچھ ہفتے پہلے ایک مضمون میں غزہ میں موجود فلسطینیوں کی

Read more

عالمگیر ہم آہنگی کے علمبردار اور عاجزی کے پیکر پوپ فرانسس خالقِ حقیقی سے جا ملے

خورخے ماریو برگولیو جو بعد میں پوپ فرانسس کے نام سے جانے گئے 17 دسمبر 1936 کو بیونس آئرس ارجنٹینا میں پیدا ہوئے۔ وہ کیتھولک چرچ کے پہلے لاطینی امریکی پہلے جیزوئٹ اور ایک ہزار سال بعد پہلے غیر یورپی پوپ تھے۔ 13 مارچ 2013 کو منتخب ہونے کے بعد انہوں نے ”فرانسس“ کا نام اختیار کیا جو سینٹ فرانسس آف اسیسی سے متاثر تھا جو غربت، عاجزی اور امن کے علمبردار تھے۔ پوپ فرانسس نے اپنی قیادت کے دوران

Read more

عفت نوید کی ’ردی‘

جس طرح پاکستان میں اکثر ڈاکٹر لڑکیاں شادی کے بعد سسرال والوں اور شوہر کی ضد کے ہاتھوں مجبور ہو کر پریکٹس چھوڑ دیتی ہیں اور گھر بیٹھ جاتی ہیں۔ اسی طرح ادبی جرائد میں تواتر سے افسانے لکھنے والی کئی لڑکیوں کو بھی ہم نے شادی کے بعد ادبی منظر سے غائب ہوتے دیکھا ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے آخر وہ لکھنا کیوں چھوڑ دیتی ہیں؟ لکھنے لکھانے کا کام تو گھر بیٹھے ہو سکتا ہے۔ اس سوال

Read more

اقبالؒ۔ کیا ہم بھول جائیں گے؟

علامہ اقبال کو رُخصت ہوئے ستاسی برس ہو چلے۔ لیکن کیا دِلوں میں چراغِ آرزو جلانے، جہد مسلسل کا عزم عطا کرنے، خودی، خود آگاہی اور خود شناسی کا درس دینے، حاضر و موجود کی قید سے آزاد ہو کر نئے جہانوں کی تلاش و جستجو کی لگن ابھارنے، غلامی کی شبِ سیاہ میں سحر تراشی کا جنوں بخشنے اور ”لاہور سے تا خاکِ بخارا و سمرقند“ اِک ولولہ تازہ دینے والی زندہ و جاوداں شاعری کے نقوش بھی گردوغبارِ

Read more

انتظامی بحران، سماجی زوال کا محرک بن سکتا ہے

بالآخر وہی ہوا جس کا ہونا ہمارے مقدر میں لکھا ہوا ہے، یعنی ڈیرہ اسماعیل خان میں 12 سالہ بچی کو ”ونی“ کرنے کے دکھ میں مجبور باپ کی خودکشی جیسے دردناک کیس میں نامزد ساتوں ملزمان کو عدالت سے ضمانت پر رہائی مل گئی، جس سے ہم ”ونی“ جیسی انسانیت سوز رسم کی حوصلہ شکنی کا یہ موقعہ بھی گنوا بیٹھے، انتظامیہ اور پولیس کی بے حسی اور سیاسی قیادت کی انسانی دکھوں سے لاتعلقی کی وجہ سے ایڈیشنل

Read more

کینیڈا: کیا مزا اس ووٹ ڈالنے کا

لو، بھلا کوئی یہ بھی ووٹنگ ہوئی۔ وہ بھی قومی اسمبلی کے جنرل الیکشن کی۔ الیکشن کی تاریخ اٹھائیس اپریل ہے۔ برامپٹن کینیڈا کے شاپرز ورلڈ شاپنگ مال میں آٹھ اپریل سے الیکشن آفس کی شاخ کھل چکی ہے۔ آئی جاؤ، ووٹ پائی جاؤ۔ ایڈوانس ووٹنگ آپ کی سہولت کے لئے۔ دوسرے ملکوں پدھارے کینیڈین شہری ڈاک سے ووٹ بھجوا دیں۔ چلو آن لائن ڈال دو۔ اچھا چلو یہ بھی لو، آپ کے قومی اسمبلی حلقہ کے لیے ہم اٹھارہ،

Read more

افلاطون کی غار کی کہانی- کیا ہم اسیرِ غار ہیں؟

افلاطون نے اپنی کتاب ”ریپبلک“ کے ایک باب میں یہ فرضی کہانی بیان کی ہے۔ جو سچائی، حقیقت، انصاف اور خوبصورتی کے تعین کے سفر کو فلسفیانہ انداز میں پیش کرتی ہے۔ بنیادی طور پر یہ ایک مکالمہ ہے جو سقراط اور اس کے شاگرد گلوکون جو افلاطون کا بھائی تھا، کے درمیان ہوا۔ مگر سقراط نے کوئی کتاب نہیں لکھی اس لیے ہم اسے افلاطون کی تخلیق کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ فرض کیجیے ایک غار ہے جس میں

Read more

معنی کی تلاش۔ بدعت اور انحراف کی مثال

اُردو افسانے کی روایت کو سوا صدی گزر چکی ہے۔ اس دورانیے میں اِس صنف نے کئی رجحانات سے استفادہ کیا اور خود کو بدلتے تقاضوں سے ہمیشہ ہم آہنگ رکھا۔ ترقی پسند افسانہ نگاروں نے اس فن کو صحیح معنوں میں برتا اور ایسے افسانے تخلیق کیے جن کو عالمی ادب کے رو برو رکھا جا سکتا ہے۔ اردو افسانے کے ترقی پسند دور کو افسانے کے زریں دور سے تعبیر کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا،

Read more

قائد اعظم کی ازدواجی زندگی

قائد اعظم محمد علی جناح کی ازدواجی زندگی صرف گیارہ بارہ برسوں پر محیط تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی میں دو شادیاں کیں، ایک پندرہ سولہ برس کی عمر میں خاندان کی مرضی سے اور دوسری محبت کی شادی 42 برس کی عمر میں کی۔ محمد علی جناح کی پہلی شادی صرف پندرہ، سولہ برس کی عمر میں ہوئی۔ وہ سندھ مدرسہ الاسلام میں پانچویں جماعت کے طالب علم تھے۔ جب ان کے والد پونجا جناح بھائی نے انہیں لندن

Read more

جنید حفیظ: لرزتا ہوا انصاف

میرے ذہن کی پٹاری میں میرے وطن کا ایک مقدمہ ایسا بھی ہے جو 2013 سے کسمسا، بلبلا اور کروٹیں بدل بدل کے تھک سا گیا ہے مگر مقدمے کی برسوں بعد لگنے والی پیشی Forward as Recieved کی طرح بغیر سنے اور کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچے بنا اور کسی تفتیشی عمل سے گزرے بغیر ہی ختم کر دی جاتی ہے، اب میں نہیں جانتا کہ ہماری عدلیہ بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پروپیگنڈے Forward as Recieved کی طرح

Read more

سارہ وزڈم گارڈن

کئی برس بیت گئے جب میری عزیز دوست، حنا صدیقی نے ایک ڈے کیئر سنٹر کا انتظام سنبھالا اور مجھے کہا کہ آ کر دیکھو۔ مگر دن کیا، سال بیتتے گئے اور میں جا نہ سکی۔ بہرحال، کل 14 اپریل بروز پیر وہ دن آ ہی گیا جب میں نے ”وزڈم گارڈن“ نامی ڈے کیئر سنٹر جانے کا ارادہ کر لیا۔ حنا صدیقی کو میں ایک طویل عرصے سے جانتی ہوں۔ ان کا پورا خاندان سماجی خدمت کا علمبردار ہے،

Read more

امریکن سول وار کا سپاہی

پاکستان میں شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ انیسویں صدی کے درمیان جب برصغیر پاک و ہند میں انگریزوں کے خلاف بغاوت ناکام ہو چکی تھی اور انگریز ہندوستان کے طاقتور ترین حکمران بن کر ابھرے تھے عین اسی وقت ہزاروں میل دور امریکہ میں ایک ایسا تنازعہ جنم لے چکا تھا جو امریکی تاریخ کی خونخوار خانہ جنگی کا سبب بنا، یہ جنگ چھ سے سات لاکھ جانیں کھا گئی، چار لاکھ لاپتہ انسان اس کے علاوہ

Read more

سلطانہ وقاصی: گھر کی چہار دیواری سے دفتر تک

انسانی معاشرہ جتنا قدیم ہے، انسان کی کہانی بھی اُتنی ہی پرانی ہے، اور اس کہانی کے کرداروں کی رنگا رنگی مرد و زن کے گرد گھومتی ہے۔ چاہے وہ اساطیر ہوں یا تاریخ، داستان ہو یا ناول، فلم ہو یا اسٹیج۔ عورت کا کردار ہر صورت میں ایک علامت بن کر ابھرتا ہے۔ وہ کبھی رانی، شہزادی، پری، دیوی، کنیز، جادوگرنی یا نائکہ کے روپ میں جلوہ گر ہوتی ہے، تو کبھی منفی کرداروں میں بھی اپنی ہیبت رکھتی

Read more

عورت یا گالی؟

عورت کا معاشرے میں ماں، بہن، بیٹی، بیوی، گرل فرینڈ، دوست، فیلو، کولیگ بن کر رہنا کس قدر اذیت ناک ہے۔ کاش کہ پدرسری سماج یہ سمجھ سکے۔ ہر فورم پر عورت کی تضحیک کرنا ایک دلچسپ مشغلہ بن چکا ہے، جہاں قہقہوں بھری آوازوں میں ایک پرنم ہنسی دب جاتی ہے۔ گلی محلوں کی لڑائیوں میں، جو نجانے کس سے منسوب ہوتی ہیں، ان جھگڑوں میں عورتوں کو دی جانے والی گالیاں ان کے اعصاب ٹھنڈے رکھنے کے لیے

Read more

پاکستان کا والٹیئر۔ ارشد محمود

پاکستان میں روشن خیالی اور عقلیت پسندی میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ارشد محمود ایک جانا پہچانا نام ہے۔ ان سے میری پہلی ملاقات کوئی پندرہ برس قبل ہمارے مشترکہ دوست وسیم الطاف کے گھر پر ہوئی جو سول سروس میں میرے بیچ میٹ تھے۔ ان دنوں میں ایف بی آر سے رخصت لے کر برطانیہ کی وارک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ جب ارشد صاحب کا برطانیہ آنے کا پلان بنا تو میری خصوصی فرمائش

Read more

یونیورسٹی کا خفیہ نصاب: کینٹین میں بیٹھ کر ڈگری کیسے حاصل کی جائے؟ (2)

اگر آپ کا تعلق کسی راجہ مہاراجہ کے خاندان سے ہونے کی وجہ سے احسان لینا طبیعت میں ہی نہیں ہے تو اس بیماری کا بھی یونیورسٹی میں مکمل طور پر خیال رکھا جاتا ہے اور وہ یہ کہ اوپر والا طریقہ کار، یعنی پہلے تو خالص ”خدمت“ سے کام چلائے اور اگر یہ نہ چلے جو کہ عین ممکن ہے کیوں کہ یہاں پر کچھ ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو اسلام کے اس اعلیٰ اصول کی قدر

Read more

(11) خواب، محبت اور زندگی 

ابی پان کھانے کے عادی تھے۔ ہر صبح دکان کی طرف جاتے ہوئے، وہ راستے میں فٹ پاتھ پر چھابڑی لگائے بیٹھی ایک بڑھیا سے پان بنوایا کرتے تھے۔ میں جس روز بھی ابی کے ساتھ جاتی، وہ بوڑھی عورت مجھے دیکھتے ہی پان کی ایک گلوری بنا کر میری طرف بڑھا دیتی تھی اور میں اسے اس کا محبت بھرا تحفہ سمجھ کر خوشی خوشی کھا لیا کرتی تھی۔ بہت عرصہ بعد مجھے پتہ چلا کہ وہ اس گلوری

Read more

جمنا کی کہانی

  میں جمنا! چند لمحے قبل مجھے دروازہ کی گھنٹی کی آواز آئی تھی اور میں منتظر تھی کہ کوئی بتائے کون آیا ہے؟ میں جمنا کی آواز پر میں نے اخبار پڑھتے، پڑھتے گردن موڑ کے دیکھا، ایک انتہائی گھسے اور دھندلائے ہوئے پھولوں کا گھاگرا بلاؤز پہنے، سر پر سلیقے سے سوراخوں بھرا دوپٹہ جمائے، کھڑے نقوش، ہلکے براؤن رنگ کی آنکھیں، ناک میں موٹی سی لونگ، ساٹھ کی دہائی سے کچھ اوپر جاتی عمر، دونوں ہاتھ جوڑے

Read more

دس اپریل اور حسنِ اتفاق

دو دن قبل 10 اپریل کی تاریخ گزری ہے۔ 10 اپریل کی تاریخ دنیا بھر میں بہت سے واقعات کے اعتبار سے اہم ہے۔ آئیے اِن واقعات کا مختصر مطالعہ کرتے ہیں جو دلچسپی سے بھرپور ہیں۔ کیلنڈر کا 100 واں دن دس اپریل کہلاتا ہے جس کے بعد سال میں 265 دن رہ جاتے ہیں۔ اپریل کی دس تاریخ نیوکلیئر ٹیسٹ کے حوالے سے نمایاں مقام حاصل کرچکی ہے۔ یہ محض اتفاق تھا یا کوئی اور وجہ کہ سوویت

Read more

بائیکاٹ۔ پروپیگنڈا یا حقیقت

یہ غلط فہمی عام ہے کہ اسرائیل میں جو کمپنیز کاروبار کرتی ہیں یا وہاں کی صورتحال کے مطابق پالیسیز بناتی ہیں وہ اسرائیلی ہیں۔ جب کہ حقیقت میں پیپسی، کوک، کے ایف سی، میکڈونلڈ، نیسلے اور یونی لیور وغیرہ کا دور دور تک اسرائیل سے کوئی واسطہ نہیں اور نہ ہی یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ ان ملٹائی نیشنلز کے پیچھے یہودی ہیں۔ یہ کمپنیز دنیا کے تقریباً تمام ہی ممالک میں وہاں کی صورتحال کے مطابق کاروبار

Read more

ممی کی ڈائری: ممی اور بچوں پر کنٹرول

فاطمہ کی طبیعت کئی دن سے خراب چل رہی تھی۔ ممی کی ذمہ داریاں بڑھ گئی تھیں۔ لگے ہاتھوں آمنہ اور محمد بھی آگے پیچھے بیمار پڑ گئے۔ موسم بدلنا رنگ لا رہا تھا۔ ایک وائرس گھر میں آتا اور باری باری سب کے سب بیمار پڑتے چلے جاتے۔ اب صورتحال یہ تھی کہ صبح شام دیگچے بھر بھر پانی ابل رہا تھا اسٹیم کے لئے۔ تینوں بچوں کی باری باری شفٹ لگ رہی تھی مگ بھر بھر گرین ٹی

Read more

نارسائی

سب سے پہلے ڈاکٹر صاحب اور روبینہ دونوں کو مبارکباد ڈاکٹر صاحب جنہوں نے اتنی اچھی تقریب کا اہتمام کیا اور روبینہ جنہوں نے محنت اور عرق ریزی سے اتنی اچھی کتاب تحریر کی۔ لیکن میں اس کے علاوہ بھی ان کی شکر گزار ہوں۔ ڈاکٹر صاحب کی رہنمائی صبر تحمل اور کتابوں کے لیے شکریہ اور روبینہ کا اس تقریب میں شرکت اور ناول کا رویو لکھنے کی دعوت دینے کے لیے تو شکریہ ہے ہی لیکن ان سے

Read more

شارجہ صحرائی سفاری: چمکتی ریت اور مہم جوئی میں گزرا دن

صحرا نوردی کے لئے خصوصی بنی شارجہ کی صحرائی سفاری کمپنی کی فور وہیل ڈرائیو ایس یو وی جاپانی دو گاڑیاں آگے پیچھے دوبئی کی حدود سے نکل شارجہ جاتی سڑک پر ایک بڑے احاطہ میں داخل ہو چکیں تھیں۔ سارے رستہ کوہاٹ کے نواحی علاقے کا پٹھان باسی ڈرائیور ہمیں ان یک دم عمودی چڑھائی اور نیچے گراتی ڈھلوان والے صحرائی ٹیلوں پہ تقریباً چھلانگیں لگاتے اور گاڑی کی ایک سائیڈ ٹیلے کی ڈھلوان والی طرف پہ تیس پینتیس

Read more

شادی کاروبار سے دھندے تک

ابھی چند دن قبل ہی کی تو بات ہے ایک پوسٹ فیس بک پہ شیئر کی، جس میں ایک خفگی سی تھی کہ بھئی شادی شدہ عورت جب دوبارہ شادی کرتی ہے تو اس کے نخرے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اسے ڈر ہوتا ہے یہ بندا بھی ہاتھ سے نکل نہ جائے حالانکہ پنجابی کہاوت ہے، واقعہ پنجاب کا ہے تو یہاں یہ کہاوت جچتی ہے ”مرد سرانے دا سپ اے“ (مرد سرہانے کا سانپ ہوتا ہے ) گویا مرد

Read more

آہ بشارت اللہ کھوکھر۔ ایک فرد اور ایک ادارہ!

عام طور پر ان لوگوں کی اموات یا برسیوں کے مرثیے لکھے جاتے ہیں جنہیں مشہور شخصیات کے طور پر جانا یا سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کونے کے آس پاس بہت سے گمنام ہیرو موجود ہوتے ہیں۔ وہ ہماری زندگیوں کو بہت سے طریقوں سے اور بہت ساری زندگیوں کو کچھ طریقوں سے متاثر کرتے ہیں۔ وہ کمیونٹی، ساتھیوں، دوستوں، قبیلوں اور ذاتوں اور گوتوں کے سامنے ایک ماڈل ہوتے ہیں۔ بشارت اللہ کھوکھر بھی ایسا ہی ایک کردار ہے۔

Read more

افسانہ: زہریلا تریاق

آج کالج کا پہلا دن تھا اور وہ بس اسٹاپ پر ایک لفنگے کو کھری کھری سنا کر خاموش ہوئی تھی۔ پھر بس میں سوار ہوتے ہی کنڈکٹر سے کرایے کے پیسوں پر بحث کر رہی تھی۔ اس کی آواز بس میں گونج رہی تھی، تیز، بے خوف۔ چند لمحوں بعد ، وہ ہنسی، سر جھٹک کر میرے برابر آ کر بیٹھ گئی۔ اس کی خود اعتمادی مرعوب کر دینے والی تھی۔ ”کچھ لوگ قاعدے قانون کو بہت زیادہ سنجیدگی

Read more

ضلع گجرات کا پہلا امریکی گورنر، جوسایہ ہرلن ( 1832۔ 1835 )

مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج کی تاریخ میں بہت سے غیر ملکی فوجی افسران تھے جن میں سے کچھ نے خالصہ دربار میں ملازمت کے لیے برطانوی بھگوڑے ہونے کا غلط دعویٰ کیا تھا لیکن ان میں سے ایک منفرد شخص جوسایہ ہرلن نمایاں تھا جو امریکی شہریت کا سچا دعویٰ کرتا تھا جسے بعد میں رنجیت سنگھ نے گجرات کا حکمران تعینات کیا۔ جوسایہ ایک ماہر معالج کے طور پر اپنے فوجی کیریئر کا آغاز برطانوی فوج میں کولکتہ

Read more

زراعت کے ساتھ کھلواڑ

پنجاب کے دیہی منظرنامے میں کسان کا پسینہ صدیوں سے اس دھرتی کی زرخیزی کا ضامن رہا ہے۔ ہر موسم، ہر طوفان، ہر گرمی اور سردی کے باوجود وہ اپنی زمین سے وفادار رہتا ہے۔ اس کی وفاداری صرف زمین سے نہیں، ایک پورے معاشی نظام سے ہے جس کا انحصار اسی پر ہے۔ گندم کے سنہری خوشے جب لہلہاتے ہیں تو وہ صرف روٹی کے دانے نہیں ہوتے، وہ ایک خاندان کی امید، ایک ماں کی دعا، ایک باپ

Read more

سائنس دان بھی، فن کار بھی : ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کی جہتیں

سائنس، فلسفہ، ادب اور فنونِ لطیفہ میں بیک وقت مہارت رکھنا صرف غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل افراد کا امتیازی وصف ہوتا ہے۔ یہ انسانی فطرت، ذہنی ساخت، رجحانات اور مزاج کی وہ ہم آہنگی ہے جو کسی فرد کو بیک وقت مختلف علوم و فنون پر عبور عطا کرتی ہے۔ اگر اس پر مختلف زبانوں کا ادراک بھی شامل ہو جائے تو وہ شخص نہ صرف ایک انفرادی شناخت قائم کرتا ہے بلکہ علمی افق پر اپنے ان مٹ

Read more

کیا بھوک کے بت، ابراہیم علیہ السلام کے کعبے کے بتوں سے بھی بڑے ہیں؟

بھائی صاحب آپ دس قدم کی دوری پر آئے ہوتے ہیں۔ ہماری طرف لوگ ویسے ہی کم ہوتے ہیں۔ گاڑی بھیجتے ہیں لیکن آپ کبھی آتے ہی نہیں۔ مجلس اور درس میں آ جایا کریں۔ کیا آیا کروں؟ اتنے سال بعد آیا ہوں لیکن تم لوگوں کا تبرک چنے والوں چاولوں سے آگے نہیں بڑھتا۔ ہماری طرف تو اب غریب سے غریب بھی چکن پلاؤ اور بریانی سے کم بات نہیں کرتا۔ اور خود میں تو روسٹ بانٹتا ہوں۔ اوپر

Read more

ہمارا فرسودہ خاندانی نظام بدلنے کی ضرورت

ہم اپنی انشورنس کمپنی کی ششماہی بزنس کانفرنس میں شرکت کے لیے کراچی کے میریٹ ہوٹل میں مقیم تھے۔ میں جو صبح کی فلائیٹ سے کراچی پہنچا تھا، دن بھر کی میٹنگ اور سفر کی تھکاوٹ کی وجہ سے ایک پرانے دوست کی دعوت پر اُس کے گھر جانے کی بجائے ڈنر کے لیے ہوٹل کے ریستوران میں ہی بیٹھ گیا تھا۔ میں نے کھانے کا آرڈر دیا۔ کھانے کا آرڈر دیے ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ سینٹرل پنجاب

Read more

کچھ پروفیسر خورشید احمد کے بارے میں

’ بڑے لوگوں کی صحبت انسان کو بڑا بنا دیتی ہے‘ ۔ اس مقولے کو مجسم دیکھنا ہو تو پروفیسر خورشید احمد کو دیکھئے۔ ان کے آبا و اجداد جالندھر کی خاک سے اٹھے اور دلی کے ہو گئے پھر رشتوں ناتوں کا سلسلہ ترکی تک دراز ہو گیا، یوں اس خاندان میں وہ کیفیت پیدا ہوئی جسے اقبال نے سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے کہہ کر بیان کیا ہے۔ پروفیسر خورشید کے والد نذیر احمد قریشی

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 38 : محو حیرت

” مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ زندہ رہنے کے دوران خوش رہنا اور نیکی کرنا ہی بہترین ہے، اور ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ کھائے، پیے اور اپنی محنت کا لطف اٹھائے، کیوں کہ یہ سب خدا کی رضا میں شامل ہے۔ “ واعظ 3 : 12۔ 13 عادل کی کوٹھی کے آہنی گیٹ کی دونوں جانب سفید ستونوں پر پتھر سے تراشے ہوئے فطری جسامت کے دو شیر بیٹھے تھے جنہیں دیکھنے والے مجسمہ ساز کی صنّاعی

Read more

واپسی کا پتہ

عجیب الجھن ہے۔ یہ پانچواں تحفہ ہے جو میرے رہائشی پتہ پر موصول ہوا ہے۔ میں نہ چاہنے کے باوجود ان کو وصول کرتی ہوں اور پھر اگلے دن دفتر میں لا کر شہنیلا کو دے دیتی ہوں۔ شہنیلا جو میری نئی کولیگ ہے، اسے ہمارے دفتر میں آئے ہوئے تین مہینے ہوئے ہیں۔ بڑی باتونی لڑکی ہے، دنوں میں پورے دفتر سے دوستی گانٹھ لی اور سب ہی کے ذاتی حالات سے واقف ہو گئی۔ جب اسے معلوم ہوا

Read more

افسانہ: قربانی کی عورت (آخری حصہ)

کنزا جب کنیز یوسف کے بتائے ہوئے ہوسٹل میں پہنچی تو وہاں کی مالکہ تمکنت اعجاز بذاتِ خود، اُس کے استقبال کے لئے وہاں موجود تھیں۔ اگلے دو گھنٹوں میں ہی کنزا کو یقین ہو گیا کہ وہاں اُس کی ہر مطلوبہ سہولت موجود ہے۔ مسز تمکنت کے رویّے سے یہ شہادت بھی مل گئی کہ وہ بیگم کنیز یوسف کا بہت احترام کرتی ہیں اور شاید اُن کی احسان مند بھی ہیں۔ اب کنزا کے یہاں آنے سے، انہیں

Read more

پاکستان میں صنفی مساوات: مستقل چیلنجز اور پیش رفت

پاکستان میں صنفی مساوات کی جانب سفر نے کئی مستقل چیلنجز اور کچھ پیش رفت دیکھی ہے۔ صنفی تفاوت کی ایک اہم وجہ معاشرتی صنفی اقدار ہیں۔ پاکستان میں عمومی طور پر مردوں کو خاندان کا کفیل تصور کیا جاتا ہے جبکہ خواتین سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ گھر میں رہیں اور بچوں اور خاندان کے بزرگوں کی دیکھ بھال کریں، اور یہ سارا کام وہ بغیر کسی داد و تحسین یا معاوضے کے انجام دیتی ہیں۔

Read more

اوجڑی کیمپ واقعہ

ایک واقعہ سر زمین پاکستان پر 10 اپریل 1988 بروز اتوار نو بج کر پچاس منٹ کو ہوا۔ یہ واقعہ راولپنڈی اور اسلام کے سنگم پر فیض آباد میں ہوا۔ جسے اوجڑی کیمپ حادثہ یا واقعہ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ واقعہ کچھ یوں تھا کہ فیض آباد میں اوجڑی کیمپ کے اندر اسلحہ ڈپو میں آگ لگنے کے باعث بم پھٹنے لگے۔ اسلحہ ڈپو کے اندر مزائل، راکٹ لانچرز بارود کا بڑا ذخیرہ تھا۔ جس میں

Read more

صحت کی بحالی اور غیر متعدی امراض پر قابو

تحریر: ڈاکٹر ظفر مرزا ترجمہ: ربانی لودھی، بخشیس الہی الحمدللہ میں ٹھیک ہوں۔ نہ تیل کا ایک قطرہ، نہ گوشت کا ایک ٹکڑا، نہ ایک انڈا اور نہ ہی دودھ کا ایک قطرہ۔ کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھیں گے۔ میں روزانہ ورزش کرتا ہوں اور ہفتے میں پانچ بار سانس لینے کی مشق کرتا ہوں۔ ابو نعمان نے اپنی ایک ڈاکٹر منیرہ عباسی کے ساتھ مراسلت میں لکھا جو امریکہ میں غیر جراحتی طب، غدود کے امراض کی ماہر،

Read more

لوڈشیڈنگ نے کیا کیا خواب ملیا میٹ کر دیے

کیا مسئلہ ہے گھر آؤ تو لائٹ نہیں ہوتی دفتر میں بھی بجلی سے محرومی سہنی پڑتی ہے، ہوا خوری کے لیے باہر بیٹھ نہیں سکتے، ڈاکو تاک لگائے بیٹھے ہیں عمار نے جھنجھلا کر کہا۔ بجلی بندش نے دوسرے لوگوں کی طرح اسے بھی تنگ کر رکھا تھا۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے اس کا چلتا ہوا کاروبار بند ہو گیا تھا۔ لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانے کے بعد اس کے پاس اتنا سرمایہ بھی نہیں بچا تھا

Read more

بڑا کم ظرف تھا جو کر گیا ویراں شاموں کو

30 نومبر 1967 کو جب پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تو نوجوان احمد رضا قصوری بھی اس میں شامل ہو گئے۔ ان کے خاندان نے 1970 سے پہلے کبھی کسی یونین کونسل کا الیکشن بھی نہیں جیتا تھا۔ 7 دسمبر 1970 کو پاکستان کے پہلے اور تباہ کن عام انتخابات میں احمد رضا قصوری بھی پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر 30 سال کی عمر میں قومی اسمبلی کے رکن بن گئے لیکن کچھ عرصے بعد اپنے مزاج کی

Read more

کوکھ کا ادل بدل (افسانہ)

شہر کی آبادی سے میلوں دور دشوار گزار راستوں سے گزر کر دھن آباد گاؤں کی حدود شروع ہوتی تھیں۔ چند سو نفوس پر مشتمل اس گاؤں میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت فطری اصولوں کے مطابق زندگی گزارتے تھے۔ گاؤں کے لوگوں کا ذریعہ، معاش کھیتی باڑی تھا۔ کچھ لوگ شہر میں جا کر نوکری بھی کرتے تھے۔ سال دو سال بعد پیسے کما کر گاؤں آتے تو ان کی بڑی آؤ بھگت کی جاتی۔ شہر میں جوتیوں

Read more

اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر

1960 سے 1974 تک میں حصول تعلیم کے سلسلہ میں بوریوالا مقیم رہا۔ پرائمری تک مجھے اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ میں کیسا طالب علم تھا۔ کیوں کہ حساب پڑھتے ہوئے کبھی کبھار ابا جی سے ٹھکائی ہو جایا کرتی تھی لیکن پانچویں جماعت کا امتحان دینے کے بعد حصولِ وظیفہ کے لیے امتحان دینے والے طلبا میں میرا شمار ہوتا تھا۔ ہماری پانچویں کلاس کے ٹیچر بھا جی مختار تھے۔ بہت چاق و چوبند، خوش لباس، دبنگ

Read more

تیسری جنگِ عظیم

ہمیں فوجی آمروں سے اتنا خوف نہیں آتا جتنا پاپولسٹ لیڈرز سے آتا ہے، فوجی آمر آئین کو روند کر اقتدار میں آتا ہے اور ایک مسلمہ آئین شکن ہوتا ہے، کوئی شک کی گنجائش نہیں ہوتی، کوئی ابہام نہیں ہوتا، سیاست دانوں سے فطری نفرت رکھتا ہے، انہیں مسائل کی جڑ سمجھتا ہے اور خود کو مسیحا گردانتا ہے، جب کہ پاپولسٹ لیڈر آئین کے تحت اقتدار کے ایوان میں داخل ہوتا ہے اور پھر اندر سے سیند لگاتا

Read more

مرض، بندہ اور عبادت

بس یوں سمجھ لیجیے ڈاکٹر علی میرے سکول کے زمانے سے کلاس فیلو ہیں۔ ہم اندرونِ شہر کے چھوٹے گھروں میں رہتے تھے لیکن دل بڑے رکھتے تھے۔ ہمارے والدین کا بھی آپس میں کمال کا یارانہ تھا۔ علی کے والد ہر دو تین ماہ بعد ایک دنبہ ذبح کر کے یخنی میں دیگ پکاتے اور تمام دوستوں کو بلاتے۔ اُس گوشت کا ذائقہ ابھی تک زبان سے چمٹا ہوا ہے۔ اللہ دونوں کے والدین کو اعلیٰ مقام عطا کرے،

Read more

صورت کسی کی، عمرہ اماں کا

’توں اداس نہیں ہوندی، میں تاں بڑی اداس آں‘ (تو اداس نہیں ہوتی؟ میں تو بہت اداس ہوں ) ۔ فون بوتھ کے ایک طرف یہ آواز ابھرتی تو دوسری طرف خاموشی ہوتی۔ اظہار کرنے والی تو کہہ کر ہلکی ہو جاتی۔ اور جدھر خاموشی ہوتی ادھر یہ الفاظ دل پر لکھے جاتے۔ ان مٹ رہتے۔ ہفتے میں ایک مرتبہ جامعہ سے گھر بات ہونے پر وہ یہ یا اس سے ملتا جلتا جملہ سنتی۔ سو روپے کا کارڈ ڈالنے

Read more

رابطوں کے ہجوم میں تنہا انسان

ایک وقت تھا کہ خاندانوں کے اندر خاموش بیٹھ کر چائے پینا، بزرگوں کی باتیں سننا، محلے کے چھوٹے بڑوں سے سلام لینا، اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونا ہماری روزمرہ زندگی کا فطری حُسن ہوتا تھا۔ یہ سب کچھ ہماری تہذیب کا حصہ تھا، اور یہی وہ خوشبو تھی جو ہماری گھریلو فضا میں بکھری ہوتی تھی۔ دلوں میں نرمیاں تھیں، چہروں پر مسکراہٹیں، اور رشتوں میں ایک ان کہی مٹھاس ہوتی تھی۔ مگر آج اگر

Read more

کیا ”ایلفا میل“ کے روایتی تصور کو بدلنے کی ضرورت ہے؟

ہم جس سماج میں جیتے ہیں، وہاں ”مرد“ بننے کا ایک خاص معیار مقرر ہے۔ مرد کو مضبوط، خاموش، حاکم، اور جذبات سے پاک ہونا چاہیے۔ اگر وہ غصہ کرے تو ”مرد ہے“ ، اگر رونا چاہے تو کہا جاتا ہے ”کیا لڑکیوں کی طرح رو رہا ہے؟“  یہ وہ معاشرہ ہے جہاں ”ایلفا میل“ ہونا ایک خواب بنا دیا گیا ہے۔ ایک زہریلا خواب۔ ایلفا میل دراصل جانوروں کے غول میں موجود ایک ”لیڈر“ نر سے ماخوذ ہے، جس

Read more

خون کا سرطان اور اٹھائیس دن کا چِلّہ

بائیں پاؤں پر ایک چھوٹا سا نشان۔ جو وقت کے ساتھ زخم بنا۔ پھر ناسور۔ اور آخرکار، ایک ایسی جنگ۔ جس میں زندگی اور موت دونوں سامنے کھڑی تھیں۔ وقت گزرنے لگا، زخم بڑھنے لگا، جلد تو جلد ماس کو اپنی لپیٹ میں لینے لگا۔ یہاں تک کہ صفائی کرتے وقت ہڈی کی بیرونی سطح نظر آنے لگی۔ ہلکا ہلکا بخار رہتا، جسم تھکاوٹ سے چُور رہتا، وزن مسلسل کم ہونے لگا، جسم کمزور پڑنے لگا۔ ایک تیس سالہ محنت

Read more

ایک عنصر، ایک کہانی: کائنات کی پہلی چنگاری

(پہلی قسط) لوگ دھماکوں میں جان سے جاتے ہیں، اور میں؟ میں تو پیدا ہی دھماکے سے ہوئی! اپنے گھرانے کا پہلا فرد۔ ننھی منی سی، ہلکی پھلکی، نہ رنگ، نہ خوشبو۔ انتہائی سادہ۔ مگر وہ کسی شاعر نے کہا ہے نا کہ سادگی میں بھی قیامت کی ادا ہوتی ہے یہ مصرع مجھ پر سولہ آ نے صادر آ تا ہے۔ میں ستاروں کی روشنی ہوں اور زمین پر زندگی کی سانس، جانداروں کے جینیاتی مادے اور پروٹین کی

Read more

نثری نظم کو گود لینے والے مسعود قمر بھی رخصت ہو گئے

مجھے سویڈن سے سائیں سچا اور فریدہ کے پیغامات آئے کہ ہمارے مشترکہ شاعر دوست مسعود قمر بھی رخصت ہو گئے۔ میری مسعود قمر سے آخری ملاقات بھی سائیں سچا اور فریدہ کے گھر میں ہی ہوئی تھی جب سائیں سچا نے ایک ادبی محفل کا اہتمام کیا تھا اور جن دوستوں کو دعوت دی تھی ان میں مسعود قمر بھی شامل تھے۔ جب میں نے اور عظمیٰ عزیز نے ان کی خدمت میں اپنی مشترکہ کتاب عزیز الحق: لاہور

Read more

صفر کی دریافت

نویں صدی بغداد میں مذہب اور عقیدے کے موضوع پر مباحث ہو رہی تھیں۔ عباسی دور خلافت میں امام ابو حنیفہ کی مبنی بر عقل فقہ کو ایک قانون کا درجہ حاصل ہوا تو امام احمد بن حنبل نے خلیفہ کے مذہب میں دخل اندازی کے شخصی اختیارات پر سوالات اٹھا کر اجتماعی شعور یا اجماع کی ضرورت پر زور دیا۔ یونانی فلسفہ سے متاثر ہوئے علماء معتزلہ کے خیالات اور نظریات کی پرچار کر رہے تھے جن کو خود

Read more

بھگت سنگھ زندہ ہے

یہ واقعہ ہے 23 مارچ 1931 ء کا کہ جب لاہور کے سینٹرل جیل میں چار بجے دن سے کچھ کھلبلی سی مچی ہوئی تھی۔ وارڈن نے قیدیوں کو اپنی اپنی کوٹھریوں میں جانے کا حکم صادر کر دیا تھا۔ جیل کا نائی، برکت، قیدیوں کے سامنے سے چہ مگوئیوں کے انداز میں اطلاع دیتا ہوا گزرا کہ آج رات بھگت سنگھ، سکھ دیو گرو اور جگدیش کو پھانسی ملنے والی ہے۔ قیدیوں کے لیے یہ فیصلہ غیر متوقع تھا۔

Read more

4 اپریل اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات، قربانی، جمہوریت اور پاکستان

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے رہنما کم ہی ملتے ہیں جو عوام کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ وہ نہ صرف ایک سیاستدان تھے بلکہ ایک مدبر، مداح اور وژنری لیڈر بھی تھے، جنہوں نے پاکستان کو جدید بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے انقلابی اصلاحات کیں۔ میں سوچتا ہوں کہ کاش اسے شہید نہ کیا ہوتا، کاش 4 اپریل تاریخ میں نہ آیا ہوتا، کاش بھٹو شہید کا

Read more

خواب، محبت اور زندگی – 8

آج کل کے دور میں یہ سوچنا بھی مشکل لگتا ہے کہ اس ”پرانے“ دور میں امی اور ابی کے درمیان رومانس کیسے پروان چڑھا ہو گا؟ موجودہ نسل کے لئے تو اس کا تصور بھی مشکل ہے۔ لیکن جمشید پور کے امتیاز علی نے اپنی فلم ”لو آج کل ”میں ان کا یہ مسئلہ حل کر دیا ہے۔ میرے خیال سے وہ بھی اسی راہ سے گزرے ہوں گے جس سے سیف علی خان اور ان کی محبوبہ یعنی

Read more

سفید جھوٹ : پی آئی اے کا طیارہ چوری چھپے بیچنے کی خبر: اصل کہانی

ہمارے ملک میں متعدد غلط العام باتیں عام ہیں (اور لگ بھگ سچ تصور کی جاتی ہیں ) جب کہ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔ بعض اوقات حقیقت اس لئے بھی سامنے نہیں آتی کیوں کہ پھر جو ممکنہ بدنامی ہونے والی ہوتی ہے، بندہ کہتا ہے اس سے پچھلی بدنامی ہی بھلی۔ یہ قصہ بھی ایک ایسے ہی جھوٹ کا احاطہ کرتا ہے۔ یعنی پی آئی اے کا وہ جہاز جو ”کسی“ نے بیچ دیا اور متعلقہ لوگوں کو

Read more

قربانی کی عورت – دوسرا حصہ

اپنے کام سے فارغ ہو کر یاسر ایک بار پھر کنزا سے بارعب آواز میں مخاطب ہوا ”کبھی مت بھولنا کہ اب تم میری بیوی ہو۔ میری آنکھوں کے ذرا سے سوال پر بھی تمہارے جسم کی باہیں مجھے ہر وقت کھلی ملنی چاہئیں“ ۔ وہ بستر سے اُتر کر واش روم گیا اور وہاں سے سیدھا باہر چلا گیا۔ کوئی شخص اپنی نوبیاہتا بیوی کے ساتھ ایسا ذلت آمیز سلوک بھی کر سکتا ہے؟ یہ سوال کنزا کے دماغ

Read more

ذکری نسل کشی: تاریخ کا سیاہ باب

ہوت قبیلے سے تعلق رکھنے والے مکران کے آخری حاکم ملک مرزا نے جب ذکری بلوچوں پر ظلم و ستم کا آغاز کیا تو ذکریوں نے ابو سعید بلیدی کی قیادت میں ملک مرزا کے خلاف بغاوت کر دی۔ بلیدی اور گچکی مکران میں ذکری بلوچوں کے سب سے بڑے قبائل میں شمار ہوتے تھے۔ ابو سعید بلیدی نے گچکیوں کے ساتھ اتحاد کر کے ان کی مدد سے ملک مرزا کو شکست دی۔ نتیجتاً 1613 میں مکران میں بلیدیوں

Read more