انتہائی پُرشور اور ناقابل یقین حد تک قریب

عنوان میں استعمال کیا جملہ ایک ناول کے ٹائیٹل؛ ’ایکسٹریملی لاؤڈ اینڈ انکریڈبلی کلوز‘ کا ترجمہ ہے۔ یہ ناول جوناتھن سفران فوائر نے امریکہ میں ستمبر 2001 کی ٹریجیڈی کے بعد لکھا جس پر بعد میں ہالی وڈ میں ایک فلم بھی بنائی گئی تھی۔ اس جملہ سے مراد ناول کے مرکزی کردار ایک نو سالہ بچے آسکر شیل کا اپنے باپ کو نائین الیون حملوں میں کھو چکے ہونے کے بعد کا تجربہ ہے۔ آسکر نیویارک میں اپنے باپ

Read more

پرانی یادیں: اسکول کے سال

میں پشاور کے جس کنٹونمنٹ بورڈ ہائی سکول میں پڑھتا تھا وہ ایک لوئر مڈل کلاس طبقے کے افراد کے بچوں کا سکول تھا۔ عموماً ایسے سکول کی حالت حکام کی عدم توجہی کی وجہ سے نا گفتہ بہ ہوتی تھی اور اساتذہ کا اپنا معیارِ تعلیم بھی کچھ خاص قابل ذِکر نہیں ہوتا۔ مگر میں اور میرے ہم جماعت خوش قسمت تھے کہ ہمیں چند ایسے اساتذہ ملے جنھوں نے ذاتی دلچسپی اور محنت کی بدولت اس اسکول میں

Read more

عمران خان کی زندگی بھر کی غلطیاں جو انہوں نے تسلیم کیں

عمران خان، ایک نام جو کرکٹ کے میدان سے لے کر سیاست کے ایوانوں تک اپنی دھاک بٹھا چکا ہے۔ لیکن اس عظیم شخصیت کی زندگی بھی غلطیوں سے خالی نہیں۔ اپنی کتابوں، انٹرویوز، اور مختلف مواقع پر عمران خان نے خود کئی ایسی غلطیاں تسلیم کی ہیں جو ان کی زندگی کے مختلف مراحل میں سامنے آئیں، چاہے وہ کرکٹ کا دور ہو، اقتدار سے پہلے کا سیاسی سفر ہو، یا پھر اقتدار کے بعد کا مرحلہ۔ اس کالم

Read more

باکسر عالیہ سومرو۔ لیاری سے ابھرتی امید کی کرن

پاکستان میں فٹ بال اور باکسنگ جیسے کھیلوں کو نظر انداز کیا جانا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان جیسے چھوٹے صوبوں میں، اور کرکٹ میں ان خطوں کی کم نمائندگی محض اتفاقی نہیں بلکہ سیاسی اور انتظامی مسائل بلکہ کہا جائے تو کسی حد تک تعصب کی وجہ سے بھی ہے۔ کرکٹ اپنی ثقافتی اہمیت، تاریخی کامیابی اور تجارتی اپیل کی وجہ سے پاکستان کے کھیلوں کے منظر نامے پر حاوی ہے، خاص طور پر پاکستان سپر لیگ کے

Read more

میرے والد، پروفیسر محمد سلیم سندھو – کچھ یادیں کچھ باتیں

وطن عزیز کی خاطر اس پار سے ہجرت کر کے آنے والے لوگ نہ صرف اسلاف کا صدیوں میں بننے والا اثاثہ وہاں چھوڑ آئے بلکہ یہاں آ کر تعمیر نو کے مرحلہ سے بھی دوچار ہوئے۔ میرے والد جناب محمد سلیم سندھو صاحب جولائی 1953 کو ایسے ہی ایک گھرانے میں پیدا ہوئے جو 1947 میں جموں شہر کے محلہ پیر مٹھا سے ہجرت کر کے براستہ سیالکوٹ۔ کوٹلی لوہاراں ڈسکہ شہر میں آباد ہوا۔ یہ وہ لوگ تھے

Read more

لفظوں سے بنا ہوا آدمی

شہر یار راشد، ن م راشد کا بیٹا اور میرا قریبی دوست سوویت یونین کے خاتمے کے بعد تاشقند میں پاکستان کا سفیر تھا۔ ایک دن مجھے اس کا خط ملا جس میں اس نے لکھا کہ ’گل بہار جو اردو میں پی ایچ ڈی کر رہی ہے پہلی بار تاشقند سے پاکستان ارہی ہے۔ وہ کچھ ہفتے اسلام آباد رہے گی۔ میں نے اسے تمہارا فون اور پتہ دیا ہے۔ تمہیں اس کی میزبانی کرنا ہوگی۔‘ چند دنوں کے

Read more

تھی خبر گرم کہ اُڑیں گے ہمارے پُرزے

ہم نے بچپن سے زندگی کچھ ایسی نٹ کھٹ سی گزاری تھی کہ نہ کبھی شادی کا خیال آیا اور نہ ہی بچے کا شوق پالا۔ بلکہ صاف پوچھیے تو ہمیں بچے بالکل اچھے نہیں لگتے تھے (یہ بات ہمارے بچے بھی جانتے ہیں ) ۔ جونہی کسی کا بچہ رونا دھونا شروع کرتا ہماری پیشانی پہ بل پڑ جاتے، گو مُوت کے آثار دیکھ کر ہم چھی چھی کرتے ہوئے ناک آنکھیں بند کر لیتے، ممکن ہوتا تو جائے

Read more

اس کی نقلی بیماری اس کے زندہ باپ کو کھا گئی

وہ ایمرجنسی میں داخل ہوا تو اس کے چہرے پہ ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ وہ بھاگتا ہوا نرسنگ کاؤنٹر پہ آیا اور ایک مریضہ کے متعلق پوچھنے لگا۔ نرس نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ آپ کی مریضہ اس کونے میں ہیں۔ نرس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ اس کونے کی طرف دوڑ پڑا تھا۔ وہاں ایک نوجوان لڑکی بستر پہ دراز تھی۔ وہ اس کے پاس پہنچا تو اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے

Read more

دو ہمسایہ ایٹمی طاقتیں ہمہ وقت حالتِ جنگ میں

دو ملکوں کے درمیان جنگ تو دور کی بات ہے مجھے گلی محلے میں ایک دوسرے کا گریبان پکڑے افراد کو دیکھ کر بھی خوف آتا ہے۔ ایسے رویے کے ساتھ ’’امن پسندی‘‘ کا ڈرامہ رچایا جا سکتا ہے۔ سچی بات مگر یہ ہے کہ میں ایک بزدل اور خوفزدہ آدمی ہوں۔ جنگوں سے گھبراہٹ کے باوجود مگر صحافتی ذمہ داریوں کی وجہ سے افغانستان،عراق اور لبنان میں برسرزمین جاکر وہاں جاری رہی قیامتوں کا مشاہدہ کیا۔ پاکستان اور بھارت

Read more

سوتیلے باپوں کا بچوں پر تشدد

اکثر سوچتی ہوں کہ سوتیلی ماؤں کے ظلم و ستم کے بارے میں تو بے شمار کہانیاں اور قصے لکھے گئے لیکن سوتیلے باپوں کے بارے میں کیوں کچھ نہیں لکھا گیا۔ انسانی حقوق اور عورتوں اور بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے یقیناً سوتیلے باپوں کے بچوں پر تشدد کے واقعات کا علم رکھتے ہیں مگر انہیں قلم بند کرنے کا وقت نہیں ملتا۔ کچھ سال پہلے مجھے ذہنی اور جسمانی طور پر معذور بچوں کے ایک

Read more

خطۂ لاہور سے رخصتی

یہ ان دنوں کی بات ہے جب آتش جوان تھا۔ ایجوکیشن کالج لاہور سے ابھی فارغ ہوئے ہی تھے اور نیا علی گڑھ پبلک سکول مانگا منڈی میں بطور سائنس ٹیچر جاب کر رہے تھے جو کہ ایک اقامتی ادارہ تھا اور ہماری رہائش بھی یہیں ہوسٹل میں تھی۔ ایک شام والی بال کھیل کر کمرے میں واپس آئے تو وہاں پر ارشد کو موجود پایا۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ محکمہ تعلیم پنجاب نے ہماری تعلیمی قابلیت اور

Read more

رقص نامہ: پر ایک نظر

  اکیسویں صدی کے لکھاریوں میں کئی ایسے نام ہیں جنھوں نے ناول کی صنف میں طبع آزمائی کی۔ ان میں مرزا اطہر بیگ، حسن منظر، سید محمد اشرف، رحمان عباس، محسن خان، صدیق عالم، زیف سید، اختر رضا سلیمی، سید کاشف رضا اور رفاقت حیات جیسے اہم لکھاری شامل ہیں۔ ان ناموں میں سے ایک نام جیم عباسی کا بھی ہے۔ جن کے اب تک دو ناول ”رقص نامہ“ اور ”سندھو“ اور ایک افسانوی مجموعہ ”زرد ہتھیلی اور دوسری

Read more

خواب، محبت اور زندگی 25

اب میں اس دور کے بارے میں سوچتی ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ میرے والدین خوش باش رہنے والے سیماب صفت لوگ تھے۔ دونوں فلموں، کتابوں اور رسالوں کے شیدائی تھے۔ مجھے یاد ہے امی نے ایک دفعہ اردو کے ایک مشہور اخبار میں ایڈیٹر کے نام خط لکھا تھا جس میں کراچی میں تھیٹر کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فن کاروں کی سرپرستی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس مراسلے کو پڑھ کے تھیٹر

Read more

قید زَر کی کہانی

سارے دن کے معمولات سے فارغ ہو کر دفتر میں چائے پی رہا تھا کہ کلرک نے آ کر کسی مہمان کی آمد کی اطلاع دی میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ نقاب اوڑھے سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک نوعمر لڑکی میرے دفتر داخل ہوئی جس کے ساتھ دیگر دو افراد تھے۔ کبھی کبھی فضاؤں میں گھُلی خاموشی بھی چیخ بن جاتی ہے اور سسکیاں وقت کی گرد میں دب کر صداؤں کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ یہ

Read more

کینیڈا کی مالٹن ویمن کونسل اور مہاجر خواتین کے نفسیاتی مسائل

کینیڈا میں عورتوں کی کامیابی اور خوشحالی، آزادی و خودمختاری کو فروغ دینے والے ادارے مالٹن ویمن کونسل نے اپنے تئیس مئی دو ہزار پچیس کے سیمینار میں مجھے دعوت دی کہ میں ان کے ساتھ اپنے تجربات اور مشاہدات پر مبنی اپنے خیالات کا اظہار کروں کیونکہ میں نے پچھلے دو سال ان کے ادارے کی نفسیاتی مسائل کا شکار مہاجر خواتین کا علاج کیا تھا اور ان کی مدد کی تھی۔ میں اپنے اس کالم میں اپنی تقریر

Read more

الفاظ کی بغاوت

حیران  ہو رہا تھا کہ میں کچھ لکھ کیوں نہیں پا رہا۔ تم جب لکھتے ہو تو الفاظ تمہارے سامنے صف بندی کیے کھڑے ہو جاتے  ہیں کہ ان کو دامن تحریر میں لایا جائے، بابا جی نے ایک مرتبہ کہا تھا۔ لیکن حیران کن تھا کہ آج ایسا نہیں ہے۔ باوجود کوشش کہ میں کچھ لکھ نہیں پا رہا تھا۔ کافی دیر ساکت بیٹھا رہا، قلم انگلیوں میں گھماتا رہا۔ لیکن کچھ بھی تحریر کی صورت میں سامنے کاغذ

Read more

رضی الدین رضی کی کہانی میری زبانی

ملتان آرٹس کونسل کے روح رواں محترم سلیم قیصر نے محترم شیخ رضی الدین رضی کی عمر رواں کے 60 سال مکمل ہونے پر ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ علم و ادب کی مہان ہستیوں، اساتذہ، ادیبوں، صحافیوں اور مداحوں نے شرکت کر کے تقریب کو گل و گلزار بنایا۔ یہ سوشل میڈیا کا کمال ہے کہ ایسی تقریبات ہزاروں، لاکھوں نظروں سے گزرتی ہیں۔ ”شام دوستاں آباد“ نے اس کہکشاں میں اس

Read more

کالم لکھنا ہے

منگل 20 مئی کا دوسرا پہر شروع ہو چکا تھا۔ کالم قریب قریب مکمل ہو چکا تھا۔ اچانک برادرم فتح نصر نے حسب عادت Dictation بیچ میں چھوڑ کر تازہ خبروں پر ایک نظر ڈالی اور چونک کر ایک بڑی خبر سنائی۔ درویش ایک لحظے کو سکتے میں آ گیا۔ چند لمحات کی خاموشی کے بعد دھندلے پڑتے حافظے کی تختی پر عربی زبان کے دو جملے ابھرے۔ بے ساختہ کہا ’فالحمد للہ علیٰ ذالک۔ جزاکم اللہ احسن الجزائ۔‘ انسانی

Read more

نوزائیدہ بچّوں کے مسائل: دودھ اور غذائیں (حصّہ دوم)

پچھلے مضمون میں ہم نے ماں کے دودھ کے بارے میں گفتگو کی تھی۔ آج ہم اوپر کے دودھ اور مزید غذاؤں کے بارے میں بات کریں گے۔ جیسا کہ ہم نے کہا کہ نوزائیدہ بچّے کے لئے بہترین دودھ اور غذا ماں کا دودھ ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ لیکن اس کے باوجود کبھی کبھی کچھ ایسی صورت حال بھی ہو سکتی ہے جب ماں کا دودھ میسّر نہ ہو یا کچھ نا قابل عمل

Read more

نیتوں کے رشتے اور خاموش دیواریں

ہمارے ہاں جب کوئی شادی یا غمی کا موقع ہوتا تو سب سے پہلے ابا جی کہتے کہ چاند خان کو اطلاع دو۔ چاند خان بھی ہمیشہ تقریب کا روح رواں بن جاتا تھا۔ بوڑھے چاند خان کے سفید بالوں کے باوجود ہمارا رشتہ بھائی کا بنتا تھا۔ اس لیے کہ بھائی چاند خان ابا جی کو چچا کہتے تھے۔ وہ گھر میں خواتین بچوں اور نوجوانوں میں سب سے زیادہ مقبول اور ہردل عزیز سمجھے جاتے تھے۔ جب بھی

Read more

بابا بلیک شیپ کا مابعد نو آبادیاتی مطالعہ

میرا چھوٹا بھتیجا خوشی خوشی انگریزی نظم ”Baa Baa Black Sheep“ گنگنا رہا تھا۔ اس کے لہجے میں ایک معصوم خوشی، نرمی اور بے فکری تھی۔ نرسری کلاس کے دنوں میں ہم بھی اسی طرح جھوم جھوم کر انگریزی نظمیں گاتے تھے اور سیکھنے کے عمل کو تفریح کے طور پر محسوس کرتے تھے۔ آج، جب میں نے اس مشہور زمانہ نظم کو مکمل توجہ سے سنا، تو اس کے الفاظ میرے لیے یکایک اجنبی اور کسی حد تک چونکا

Read more

دادیوں والا گاؤں

گھنٹی دوسری بار بجی تو ملازم دوڑ کر دروازے کی طرف لپکا۔ دروازہ کھولا تو سامنے ایک اجنبی نوجوان ایک نوعمر بچے کی انگلی تھامے کھڑا تھا اور دوسرے ہاتھ سے ایک چھوٹا چرمی بیگ اٹھایا ہوا تھا۔ ہاں جی! کیا کام ہے جی؟ کس سے ملنا ہے؟ یہ محمد رشید کا گھر ہے؟ اجنبی شخص نے سوال کیا۔ یہاں تو مجید دادا اور ان کے بیٹے بھائی یاسین رہتے ہیں۔ کم عمر ملازم نے سر کھجاتے ہوئے جواب دیا۔

Read more

چراغ کا انصاف

سہ پہر کے ڈھلتے سائے میں لاہور کچہری کے ہال میں بیٹھا میں اپنے اگلے کیس کے کاغذات دیکھ رہا تھا کہ دروازے پر ایک نحیف سا نوجوان دکھائی دیا۔ چہرے پر تفکر کی پرچھائیاں، آنکھوں میں امید کی آخری جھلک۔ سلام کے بعد دھیرے سے بولا ”سر آپ سے مشورہ چاہیے۔“ میں نے سر ہلایا، وہ سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک خستہ کاغذ کا لفافہ تھا جس میں والد کی وفات کا سرٹیفکیٹ،

Read more

سمندر، جزیرے اور جدائیاں

ایک زمانہ گزر گیا مگر میری دائیں ہاتھ کی انگلیوں کی پوروں سے اس ملائم ڈھلکتے کپڑے کا لمس ابھی تک زائل نہیں ہوا جس کا تانا ایک رنگ کے ریشم کا تھا اور بانا دوسرے رنگ کے دھاگے کا۔ اگر میں بھول نہیں رہا تو تانے بانے میں ایک تند کتھئی سی تھی اور دوسری بادامی۔ بچپن میں رنگوں کی اتنی پہچان تو نہ تھی، یہ تو اب پیچھے کہیں دور جیسے مجھے نظر آتے ہیں ویسے رنگوں کے

Read more

راجہ گدھ کے کرداروں کا نفسیاتی تجزیہ

بانو قدسیہ کا ناول راجہ گدھ اُردو کے ان چند ناولوں میں سے ایک ہے جن پر تنقید بھی کی گئی اور اس کے ساتھ اُسے مقبولیت بھی حاصل ہوئی۔ لیکن اسے محدود معنوں میں لیا گیا۔ کہیں اسے رزق حلال و حرام کی بحث قرار دیا گیا تو کہیں اسے ناکام محبت کی داستان کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اس بات سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ دونوں موضوع اس میں موجود ہیں۔ لیکن اگر

Read more

پرانی یادیں: اسکول میں داخلہ

میرے والد محکمہ موسمیات میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس محکمے میں لوگوں کا ایک یا دو سال ایک جگہ گزارنے کے بعد کافی باقاعدگی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ تبادلہ کیا جاتا تھا۔ جب 1957 میں ان کی پوسٹنگ کراچی میں تھی تو انہیں پشاور جانے کے لیے تبادلے کے احکامات ملے۔ پشاور میں انہوں نے محکمہ موسمیات سے وابستہ جس آفس کو جوائن کیا اس کا نام Upper Atmospheric Research Station (UARS) تھا۔ اگرچہ یہ دفتر

Read more

گل شیر سنگھ کی دادی حسینو کو بچھڑے بھائیوں کا انتظار

کئی دنوں سے واٹس ایپ پہ لگاتار کال آ رہی تھی اور کتنی ہی دیر گھنٹی بجتی ہی رہتی تھی۔ جب سبز بٹن دبایا تو سرحد پار کہیں سے کسی گل شیر خان کی گھگھی سی آواز میرے کانوں میں گونجنے لگی۔ انڈین پنجاب کے ضلع مکتسر کے گاؤں ’چبھڑاں والی‘ سے کریانے کی ایک چھوٹی سی دکان پہ بیٹھا گل شیر کوئی بہت ضروری بات کرنا چاہتا تھا۔ انیس سو سنتالیس کی ہجرت کے وقت چبھڑاں والی کا ضلع

Read more

دا کائٹ رنر: مطالعہ تجزیہ اور تبصرہ

  3۔ کائٹ رنر: خالد حسینی کا پرو امریکن اور پرو ویسٹرن ازم کائٹ رنر پڑھتے ہوئے مصنف کا بیانیہ واضح طور پر مغربی افکار اور نظریات سے متاثر محسوس ہوتا ہے۔ اس بنا پر ”دا کائٹ رنر“ کتاب کچھ حد تک مشکوک بھی ہو جاتی ہے کہ کیا یہ کسی ایجنڈے کے تحت کی گئی تصنیف ہے یا واقعی غیر جانبداری سے حقائق اور احساسات بیان کرنے کی کوشش کی گئی؟ کیا مصنف کوئی منطق اور ثبوت فراہم کر

Read more

آخر کب تک؟

اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ پاکستان میں 22.8 ملین کی تعداد میں بچے سکول نہیں جا پاتے جن میں سے جن میں سے 12 ملین کی تعداد تو صرف بچیوں کی ہے۔ مگر اس کا ذمہ دار کون؟ افسوس ناک امر یہ ہے کہ امتحانی مراکز بھی خریدے اور بیچے جاتے ہیں۔ امتحان میں کامیابی کے لیے ناجائز ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔ پاکستان کے شہروں اور دیہات میں یہ وبا اس قدر پھیل چکی

Read more

سموکنگ۔ راحتِ جاں یا عذابِ جاں

عالمی ادارۂ صحت ایک عرصے سے ٹوبیکو کنٹرول یعنی تمباکو پہ قابو پانے کی کوششوں میں سر گرداں ہے۔ اس کارِ خیر میں اس کے شریکِ کار دنیا کے 194 ممالک بھی ہیں جن کا مالی تعاون اور مدد اسے حاصل ہے۔ اب کچھ عرصے سے بعض ادارے، تنظیمیں، اور افراد عالمی ادارۂ صحت سے بھی چار قدم آگے بڑھتے ہوئے ’اینڈ سموکنگ‘ یعنی سگریٹ کے مکمل خاتمے کی بات کر رہے ہیں۔ ان سب کا کہنا ہے کہ سگریٹ

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 42 : تسکینِ تلاطم

”بہتیرے کہتے ہیں کہ کون ہم کو کچھ بھلا دکھائے گا؟ اَے خداوند! تُو اپنی رُوشنی ہمارے اُوپر ظاہر کر۔ تُو نے میرے دل میں وہ خوشی بخشی ہے جو اُن کو اُن کے اناج اور مَے کی فراوانی کے وقت حاصل ہوتی ہے۔ میں امن سے لیٹوں گا اور سو جاؤں گا، کیوں کہ، اَے خداوند، تُو ہی مجھے اکیلا، سلامتی سے بسنے دیتا ہے۔“ زبور 4 : 6۔ 8 ڈئیر شاہد، بھئی سب سے پہلے تو میں تمہارا

Read more

حق اور فرض میں فرق

انسانی معاشرہ حقوق اور فرائض کی بنیاد پر قائم ہے۔ معاشرے کے ہر فرد پر کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں جن کی ادائیگی اس پر لازم ہوتی ہے۔ اسی طرح ہر فرد کچھ ایسی چیزوں کا مطالبہ کر سکتا ہے جن کے مانگنے کی اجازت اسے مذہب، اخلاقیات، قانون اور معاشرہ دیتا ہے۔ یہ تمام چیزیں اس فرد کا حق کہلاتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ہر فرد حق اور فرض کی اصطلاحات استعمال کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ سوال یہ

Read more

تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد

ایوب خان کا دور، جو اکثر سنہری دور کہلایا جاتا ہے، اتنا چمک دار تھا کہ آنکھیں چندھیا جائیں۔ ملک میں دن دونی اور رات چوگنی ترقی کا ایسا شور تھا کہ اگر کسی نے رات کو آنکھ کھولی تو لگا جیسے کوئی نیا صنعتی انقلاب برپا ہو چکا ہو۔ سڑکیں، ڈیم، صنعتیں اور وہ مشہور و معروف ”ترقی“ جو صرف چند خاص علاقوں اور خاص طبقات تک محدود تھی۔ سب ایوب خان کی حکومت کے چمکتے دمکتے کارنامے تھے۔

Read more

خاموش الزام، بے آواز سچائی

میری عدالت میں پیشی تھی۔ موسم کی خنکی میں کچھ خاص شدت نہ تھی، مگر دلوں میں کچھ ایسا ضرور تھا جو سرد مہری کی چادر اوڑھے ہوئے تھا۔ میں اس دن عدالت میں بچوں کے نان و نفقہ کا مقدمہ دیکھ رہا تھا۔ یہ غالباً سنہ 2020 اوائل میں پاکستان میں کورونا کے باعث لاک ڈاؤن سے دو ماہ پہلے کی بات ہے۔ میں ان دنوں فیملی کیسز بہت ہی کم لیتا تھا مگر ایک وکیل دوست کے اصرار

Read more

خواب، محبت اور زندگی (23)

ابی کے اسپتال میں داخلے کا مطلب یہ تھا کہ وہ خاندان کی کفالت کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے تھے۔ کراچی میں ہماری آمدنی کا کوئی اور ذریعہ بھی نہیں تھا۔ ابی خاندان کے واحد کفیل تھے۔ ظاہر ہے یہ بات ان کے لئے سوہان روح تھی۔ انہیں یہی فکر ستاتی رہتی تھی کہ ہمارا گزارا کیسے ہو گا۔ اس لئے کچھ عرصہ بعد وہ موقع پاتے ہی ہسپتال سے فرار ہو کر گھر آ گئے اور اخبار میں

Read more

تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول۔ قسط نمبر : 6

1946 کا زمانہ مقام باریسال کا گاؤں صاحب رائے : ”سؤر کہتا ہے پاکستان نہیں بنے گا۔ کہو نا ایک بار پھر۔ نہ میں تیرا جبڑا توڑ دوں تو میرا نام بھی شلپی نہیں۔“ یہاں تاڑ کے درختوں کے پاس کھڑا وہ قہر بھری نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔ جس کی ٹھوڑی پر ابھی ابھی اس نے ایک زور دار مُکہ رسید کیا تھا۔ وہ قد کاٹھ میں اس سے خاصا لمبا تھا اور کاہی رنگی چارخانہ دھوتی کو

Read more

دا کائٹ رنر موضوعاتی مطالعہ : پاکستان کی نمائندگی میں غیر علانیہ تعصب کی جھلکیاں (حصہ اول)

  1۔ تعارف اور کہانی کا مختصر خلاصہ دا کائٹ رنر (The Kite Runner)  اس صدی کا مشہور انگریزی ناول ہے جسے افغان نژاد امریکی مصنف خالد حسینی نے تحریر کیا۔ یہ ان کا ڈیبیو ناول تھا جو 2003 میں شائع ہوا اور فوری طور پر عالمی شہرت حاصل کر گیا۔ ناول افغانستان کے سیاسی اتار چڑھاؤ، سماجی عدم مساوات، دوستی، غداری، ندامت اور کفارے جیسے موضوعات کو بیان کرنے کی کوشش ہے۔ یہ کہانی کابل کی پرانی خوبصورتی سے

Read more

امرتا پریتم اور دکھوں کے پنجر

  ہندوستان کی تقسیم، فسادات اور ہجرت پر لکھی جانے والی بعض کہانیاں ایسی سوہان روح  ہیں کہ جنھیں پڑھ کر کوئی حساس انسان سکون کی نیند نہیں سو سکتا، درد و رقت کے یہ زخم خودبخود روح کی گہرائیوں میں اتر کر آپ کا قلبی و ذہنی سکون تہس نہس کر دیتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم جب جب سرحدی اطراف میں پھیلی نفرت کی وجوہات کا تعین کرنا چاہیں گے ہمیں تب تب تاریخ کے اس

Read more

ابھرتا ہوا ستارہ

ہم نے آندھی میں چراغوں کو جلائے رکھا اور بہر طور چراغوں کی حفاظت کی ہے جب کبھی ظلم ہوا ہے کہیں انسانوں پر ہم نے ہر ظلم کی پرزور مذمت کی ہے آج کی تحریر اس ابھرتے ہوئے ستارے کے نام جس کا عقیدہ، مذہب، عشق اور جنوں صرف اور صرف انسانیت ہے۔ جس کا جذبہ اس کی شاعری اور لگن اس کا کام ہے۔ وہ کوئی بھی کام کرتا ہے پوری ایمانداری اور دل کی لگن کے ساتھ

Read more

احمد کریم خان اور بین الاقومی فوجداری عدالت

اپنے مفادات کی بات ہو تو مغرب اپنے کپتان امریکہ کی سربراہی میں ملکوں اور حکومتوں کو برباد کے لئے کسی قسم کے ٹھوس شواہد کا محتاج نہیں۔ چند باتوں اور مفروضوں پرہی یو این سیکورٹی کونسل راتوں رات قراردادیں  منظور کر کے کسی بھی ملک پر چڑھائی کی اجازت دے دیتی ہے۔ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے ملکوں اور شخصیتوں پر پابندیاں لگ جاتی ہیں۔ امریکہ یوکرین کی مدد کے لئے اربوں ڈالر اور اسلحے کے انبار لیے دوڑا

Read more

وہ پاکستانی جس نے آزادی کی جدوجہد اور تعلیم کو عام کرنے کے جرم میں 33 سال جیلوں میں گزارے

باچا خان ایک غدار یا عوام دوست؟ لڑکپن سے ہی میں ان کے بارے میں بہت سی منفی باتیں پڑھتا یا سنتا رہا ہوں۔ لیکن کافی عرصہ پہلے میں نے یہ طے کر لیا تھا کہ جو کچھ بھی سنوں یا پڑھوں، اسے سو فیصد سچ اور حقیقت تسلیم نہ کروں، بلکہ اس میں شک کی گنجائش رکھوں اور خود اس پر تحقیق کروں۔ باچا خان کے بارے میں سچ کی تلاش میری مسلسل کوشش تھی کہ اتفاقاً الجزیرہ چینل

Read more

جہیز کا سامان اور بکھرے خواب

گاؤں کے پرانے کچے راستوں سے اٹھ کر شہر کی عدالت میں پہنچی وہ لڑکی اپنے ساتھ ایک خاموش مقدمہ بھی لائی تھی۔ جی ہاں یہ ایک ”واپسی سامان جہیز“ کا کیس تھا۔ وہ سامان جو شادی کے دن اس کے باپ نے اس کے خوابوں، اس کی خواہشوں، اس کی ماں کی چپ اور اس کے بھائی کی مزدوری سے بھر کر دیا تھا۔ مگر مقدر ہاری وہ بیچاری شادی کے چند ماہ بعد ہی مطلقہ بن گئی تھی۔

Read more

آندھی میں دیا کس نے جلایا؟

حساس اداکارہ اور شاعرہ مینا کماری نے جانے زندگی کے کن تجربات کی بنا پہ یہ شعر لکھا ہو گا۔ آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہو گا ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہو گا لیکن آج مجھے پتہ ہے کہ یہ شعر کوہی گوٹھ کے مستعد، مخلص اور دیانت دار عملہ بالخصوص ممتاز اور مادھوری پہ  صادق آتا ہے، جو الفارابی ہسپتال کی دو مستعد مڈوائفز ہیں۔ یہ ادارہ کوہی گوٹھ ہسپتال کا ایک ذیلی مرکز

Read more

درد باقی ہے دشمن کا بھی میرا بھی

  دو ماہ سے گردن میں تکلیف تھی۔ فرق خاک پڑتا، ایک مجھے یہ بیماری بھی تو ہے کہ ذرا آرام محسوس کروں تو دوائی چھوڑ دیتی ہوں۔ عید کے بعد گردن میں مسلسل تکلیف تھی۔ اوپر سے نند کے بیٹے کی شادی۔ اب تکلیف جائے بھاڑ میں، شادی کی تیاری تو بھرپور ہونی چاہیے۔ ساس نے کہا سیالکوٹ جا  رہی ہو تو ڈاکٹر کو دکھا کر آنا۔ گھر واپسی پہ انھوں نے پوچھا کیا کہا ڈاکٹر نے۔ کہا اب

Read more

تنہا: سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول (5)

اس گھر میں پچھلے چند دنوں سے عجیب سا شور تھا۔ گھر کا معمر ترین فرد دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں سے اٹھارہ گھنٹے ہر چھوٹے بڑے کو یہ سمجھانے میں صرف کر رہا تھا کہ اس نامعقول لڑکی کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ لاڈ و پیار نے اس کا ستیاناس کر ڈالا ہے۔ وہ جوان ہے اور یوں ایک جوان لڑکی کا ہزار میل دور پڑھنے کے لئے جانے کی ضد کرنا قطعی احمقانہ بات ہے۔ اور

Read more

مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہو گئیں (4)

جب آپ بیمار ہوتے ہیں تو بہت سے خیال، بہت سی سوچیں بہت سے ادھورے کام یاد آتے ہیں جو آپ نے پورے کرنے تھے لیکن نہیں کر سکے۔ پرامید ہونے کے باوجود بھی کبھی کبھی خیال آتے ہی ہیں، جب میں سوچتی تھی تو اطمینان ہوتا تھا کہ میں نے اپنا وصیت نامہ لکھ رکھا ہے۔ یہ وصیت نامہ برسوں پہلے جب پہلے عمرے پہ جا رہی تھی تو میں نے فرحت ہاشمی کی کتاب ”میرا جینا میرا مرنا

Read more

وادی ترئی میں سرمایہ کاری کا سنہری موقع

میں پچھلے سال سویٹزر لینڈ گیا ہوا تھا۔ جنیوا میں ایک بہت بڑی جھیل ہے جو 73 کلومیٹر لمبی ہے۔ اس جھیل کی سب سے بڑی خاصیت اور قابل دید چیز یہ ہے کہ جھیل میں ایک مشین لگائی گئی ہے جو 500 لیٹر پانی فی سیکنڈ کی رفتار سے ایک سو چالیس میٹر تک ہوا میں پھینکتی ہے، یہ جھیل کی خوب صورتی میں بے انتہا اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اس جھیل کی دوسری بڑی خاصیت یہ ہے

Read more

پروفیسر فریدہ فیض اللہ

  ایک بار ایک حد تم نے پار کرلی اور نئی اُڑان بھر لی تو سمجھو زمین کی قید سے آزاد ہوئی اب خلا اور وقت آواز اور روشنی کی حدوں کو پار کرنا ممکنات میں ہے تخیل (پسٹن) کو بھڑکاتا ہے پہلے جذبہ اونچا اُڑتا ہے پھر راکٹ گھن گرج کے ساتھ نکل جاتا ہے درج بالا اشعار دراصل پروفیسر فریدہ فیض اللہ کی انگریزی شاعری کا ترجمہ ہے۔ پروفیسر صاحبہ کراچی کے عبداللہ کالج میں انگریزی کی استاد

Read more

کیا یہ بہترین پیرنٹنگ ہے؟ (حصہ دوم)

میں اب کالج میں جانے والا تھا، مجھے پرائیویٹ کالج میں جانا تھا کیونکہ میں نے سرکاری جامعات میں اساتذہ کا طالب علموں سے رویہ بہت تحقیر آمیز دیکھا تھا۔ انٹرمیڈیٹ پارٹ ون: والدین اور اساتذہ کی طرف سے رہنمائی کا فقدان پہلے تو پاپا نے کہا کہ ہاں میں کسی نجی کالج میں داخلہ کروا دوں گا  لیکن ہمارے کاروبار کے حالات بہت خراب چل رہے تھے اور یہ بات میرے نانا، ماموں کو بھی پتا تھی تو میرے

Read more

بنگلہ دیش میں چند دن۔ قسط : 10

تحریر: ڈاکٹر شیرشاہ سید ترجمہ اور تخلیص :گوہر تاج ڈھاکہ کو ضیاء بین الاقوامی ہوائی اڈہ قرار دیا گیا لیکن حسینہ شیخ نے کمال ہوشیاری سے اس کا نام تبدیل کر کے شاہ جلال ہوائی اڈہ رکھ دیا۔ شاہ جلال 1271 ء میں پیدا ہونے والے ایک صوفی بزرگ تھے جن کا تعلق یمن سے ہے۔ شاہ صاحب نے اس علاقے میں اسلام کو پھیلایا۔ حسینہ شیخ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی اس نام کو تبدیل کرنے

Read more

افلاطون کی حیات اور خدمات

افلاطون نوجوانی میں ایک سپاہی تھے۔ وہ کئی جنگوں میں شرکت کر کے بہادری کے بہت سے تمغے بھی حاصل کر چکے تھے۔ سقراط سے ان کی ملاقات ہوئی تو ان کی زندگی بدل گئی۔ وہ ایک سپاہی سے ایک فلسفی بن گئے۔ وہ اپنے استاد سقراط سے اتنے متاثر تھے کہ انہوں نے کہا مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں سقراط کے عہد میں پیدا ہوا۔ تین سو ننانوے قبل مسیح میں جب سقراط نے زہر کا

Read more

ملکہ جوار خاتون: تاریخ گلگت کی ایک ناقابل فراموش حکمران

  گلگت بلتستان کے تاریخ ساز حکمرانوں میں شری بدت، علی شیر خان انچن، گوہر امان، عذر خان، صفدر خان، کے بعد اگر کسی حکمران کو لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں تو ان میں ایک بہترین خاتون حکمران ملکہ جوار کا نام سرفہرست ہے۔ ملکہ جوار خاتون کو مقامی لوگ جنگ کی وجہ سے نہیں بلکہ امن اور ترقی کی وجہ سے یاد کرتے ہیں اور ان کی خدمات کو پورے دل سے سراہتے ہیں۔ ملکہ جوار گلگت بلتستان

Read more

اک آگ سی ہے سینے کے اندر لگی ہوئی

  بات کچھ بھی نہیں تھی۔ ہم اس محلے میں نئے نئے آئے تو وہ لوگ بھی نئے نئے ہی آئے تھے۔ وہ ایک پتلی سی لمبی سی لڑکی تھی۔ پھولوں جیسی، نازک سی۔ دکان کے سامنے سے گزرتے ہوئے مجھ پر ایک اُچٹتی ہوئی نگاہ ڈالتی اور چلی جاتی۔ بات تو معمولی ہی تھی اور قابل غور بھی نہیں تھی۔ میں عموماً ابا کی ڈانٹ ڈپٹ سے تنگ آ کر محلے کی دکان پر رکھے بینچ پر آ کر

Read more

انسانی جان اور ہمارے ادارے

گھر کی مددگار آج پھر کافی تاخیر سے آئی تھی۔ خاتون خانہ آج دفتر سے چھٹی پر تھی۔ ہاں تھوڑا بہت ضروری ساتھ ہو بھی رہا تھا کہ طبیعت کچھ نڈھال تھی۔ لیکن ملازمہ کا دیر سے آنا اسے آرام سے بیٹھنے نہیں دے رہا تھا۔ خیر جب وہ آئی تو اس نے شکر ادا کیا۔ ابتدائی دعا، سلام کے بعد کہنے لگی۔ آج بہت پریشان ہوں۔ پھر گھر پر لڑائی ہوئی ہے۔ نہیں باجی۔ تو پھر پیسوں کی وجہ

Read more

کامران بشیر کی واپسی اور دہلی کی فتح

  یو ٹیوب اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم اتنے عقل مند ہو چکے ہیں کہ آپ کی پسند کے مطابق موضوعات، مضامین اور ویڈیوز خود ہی سامنے لے آتے ہیں۔ جس جے ٹین جہاز کو یورپ گھاس نہیں ڈالتا تھا اور ماضی میں فرانس نے پیرس ائر شو میں جس J 10۔ C کی انٹری 4.5 جنریشن کے جہازوں میں شامل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اب اسی انتظامیہ نے اگلے پیرس ائر شو میں چنگڈو ایوی ایشن کو

Read more

125 سی سی کی لاش اور سجی سنوری قبر

رات کی تنہائی میں جب شہر نیند کی پناہوں میں چلا جاتا ہے تب کچھ آنکھیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو نیند کے سنگھاسن پر کبھی سوار نہیں ہو سکتیں۔ لودھراں کی وہ ماں بھی آج ساری رات چھت پر آنکھیں جمائے بیٹھی ہو گی۔ وہ ماں، جس نے اپنی سادہ سی بیٹی کو زندگی کی سب سے بڑی خوشی دینے کے لیے تنکا تنکا جوڑا تھا، برتنوں کی چھن چھن سے لے کر دلہن کی چوڑیوں کی کھن کھن

Read more

ممی کی ڈائری: ممی اور امید

وہ بہترین نہیں ہے! ” مگر میں نے اسے چنا نہیں ہے! ایک دن کسی نے مجھ سے کہا آگے بڑھو! دوڑو! تم سخت پتھروں پر گر جاؤ گے لیکن تمھیں اس کی عادت ہو جائے گی تمھارے کچھ پر ٹوٹ بکھریں گے لیکن یہ تمھاری زندگی ہے جو وہ وعدے پورے نہیں کر سکے گی جو اس نے تم سے کیے لیکن وہ کچھ معجزے بھی کرے گی تم اسے سمجھ نہیں سکو گی یہ ”شاید“ سے بنی ہے

Read more

نثر میں شاعری کرنے والا شخص، عبدالقادر حسن۔ جنہوں نے قلم کو زندگی کا چراغ بنا دیا

  آج میرے والد، عبدالقادر حسن کی سالگرہ ہے۔ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے مگر اُن کی تحریریں، اُن کی خوشبو، اُن کی تہذیب اور اُن کا لہجہ میرے دل میں، ہمارے گھر کے درو دیوار اور اس ملک کے صحافتی افق پر آج بھی زندہ ہے۔ میں جانتا ہوں کہ وہ کبھی تعریفی باتیں سن کر مسکرا دیتے تھے اور پھر آنکھیں چرا لیتے تھے۔ مگر آج ان کی غیر موجودگی میں، میں ان کے بارے میں

Read more

دروازہ اور گپھا

(کہا جاتا ہے، انسان عمر بھر دو دروازوں کے درمیان سفر کرتا ہے۔ ایک دروازہ سماج کا، جو باندھتا ہے ؛ دوسرا فطرت کا، جو چھڑاتا ہے۔ لیکن کچھ مسافر ایسے بھی ہوتے ہیں، جو ان دونوں کے بیچ ایک تیسرا راستہ تلاش کرتے ہیں۔ یہ افسانہ ایسے ہی ایک مسافر کی داستان ہے جو گپھا میں گیا، مگر دروازہ کھول کر لوٹا) شہر سے دور، ایک پرانا تیرتھ استھان تھا۔ پہاڑوں کی آغوش میں چھپی ایک گپھا، جس کے

Read more

یوم مادر کی مناسبت سے ماں کے محبت بھرے الفاظ میں گندھی ہوئی تحریر

ماں کولی، بے بے کولی، ماں صدقے جائے، بسم اللہ کراں بیبا بچہ، یہ وہ محبت بھرے الفاظ تھے جو ہماری مائیں ہمیں بچپن میں پیار سے کہتی تھیں۔ صبح سویرے اٹھانے کا انداز ہی بڑا پیارا ہوتا تھا۔ علی الصبح اٹھ جاتیں تھیں، حوائج ضروریہ اور گھر کے ضروری کاموں سے فارغ ہو کر، بچوں کو نماز اور قرآن شریف پڑھنے کے لیے اٹھاتیں۔ سرہانے آ کر بیٹھ جاتیں، سر کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھیر کر سہلاتیں اور

Read more

مومن فقط احکام الہی کا ہے پابند۔

ہمارے ابا جی نے دوسری جنگ عظیم سے لے کر آزادی کشمیر اور دفاع پاکستان 1965 ء پھر مشرقی پاکستان تک کی تمام جنگوں میں ناصرف حصہ لیا بلکہ بے شمار جنگی اعزازت بھی حاصل کیے۔ ان کی بہادری کے اعتراف میں انہیں پاکستان آرمی میں کمیشن دیا گیا وہ فرسٹ اوٹی ایس منگلا کے ذریعے کمیشن حاصل کرنے والے پہلے افسر تھے۔ انہیں آزاد کشمیر رجمنٹ کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جیسور کے محاذ پر زخمی ہو

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 41 : تذبذب

” تو مت ڈر کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں۔ ہراساں نہ ہو کیونکہ میں تیرا خدا ہوں، میں تجھ کو زور بخشوں گا۔ میں یقیناً تیری مدد کروں گا اور میں اپنی صداقت کے داہنے ہاتھ سے تجھ کو سنبھالوں گا۔“ یسعیاہ 10 : 41 مریم نے اپنے بستر کے برابر میز پر رکھی ٹائم پیس کے اندھیرے میں چمکتے ہوئے ڈائل پر نظر ڈالی تو ساڑھے تین بج رہے تھے۔ ایک رات چٹاگانگ سے واپسی کی نذر ہو گئی

Read more

نرسوں کا عالمی دن

نرسوں کا عالمی دی انٹرنیشنل کونسل آف نرسز کے زیر اہتمام ہر سال 12 مئی کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو باقاعدہ منانے کا آغاز 1965 سے ہوا۔ تاحال یہ دن اسی تواتر و تسلسل اور جوش و جذبہ کے ساتھ نرسوں کی خدمات کے اعتراف میں ہر سال منایا جاتا ہے۔ امسال بھی یہ دن دنیا بھر میں تمام سرکاری اور پرائیویٹ سطح پر منایا جائے گا۔ پاکستان میں نرسنگ کے شعبے کی بنیاد بیگم رعنا لیاقت علی

Read more

مقبوضہ علاقوں کے باسیوں کی زندگی

جہلم ندی کی موجیں انہیں جھولے جھلا رہی تھیں۔ لائف جیکٹس سے کبھی ہوا نکال کر گہرے پانی میں غوطہ زن ہو جاتے اور کبھی منہ سے پھلا کر ندی کے اندر دور تک چلے جاتے۔ کنارے پر آتے تو توپوں کی گھن گرج اور بندوقیں چلنے کا شور سن کر پہاڑی تودوں کے پیچھے چھپ جاتے۔ ان کی نگاہیں افق کے پار اس مقام تک پہنچنا چاہتی تھیں جہاں توپیں چلنے کے دھماکے ہو رہے تھے۔ ”ہاشم بھائی! مجھے

Read more

ویہلا مُنڈا

صبح کا دھندلکا ابھی چھٹا ہی تھا، جب اماں نے چولہے پر پہلا دیا جلایا اور باورچی خانے سے ہلکی ہلکی سوں سوں کی آوازیں گونجنے لگیں۔ دال کا پانی ابال کھا رہا تھا اور پرانی چارپائی پر لیٹے ابا جی حسبِ معمول اخبار پر چڑھے ہوئے تھے، مگر نظریں باہر صحن میں پڑی اس چارپائی پر تھیں، جہاں گھر کا ”ویہلا“ لڑکا ایک بار پھر کسی ان دیکھے خواب میں کھویا ہوا تھا۔ اسے دیکھ کر اماں کے منہ

Read more

ہلکی سی مسکراہٹ۔

انتساب: 1948 میں فلسطینیوں کے جبری انخلاء کی یاد میں منائے جانے والے دن النکبۃ ( 15 مئی) کے نام۔ النکبۃ ستّتر سال کے بعد بھی جاری ہے۔ فیضان چہرہ نچڑا ہوا، پیٹ اندر دھنسا ہوا، بازو اور ٹانگیں جیسے سوکھی ہوئی ٹہنیاں، پسلیاں نمایاں، بال بکھرے ہوئے، بدن کئی ہفتوں سے غسل سے محروم، چند چیتھڑوں میں لپٹا ہوا، ایک زندہ لاش۔ اس نے بمشکل اپنا دھڑ سنبھالا، آنکھیں ایک اجنبی عورت پر جم گئیں۔ ”میرے ماں باپ کہاں

Read more

ایک لرزتا ستارہ: تھیلیسیمیا اور پاکستان میں زندگی کا کرب

آٹھ مئی کا دن میرے لیے محض ایک تاریخ نہیں، یہ ایک پکار ہے، ایک چیخ ہے جو ہر سال میری سماعتوں میں گونجتی ہے۔ یہ بین الاقوامی تھیلیسیمیا ڈے ہے۔ میں اس دن حیدرآباد سندھ میں فاطمید فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ایک آگاہی سیمینار میں شریک ہوا۔ وہ ایک بعد دوپہر کا وقت تھا جب مئی کی تپش ماحول میں گھلی ہوئی تھی۔ ننھے ننھے بچے، جن کی آنکھوں میں وہ چمک ہونی چاہیے تھی جو کھلتے پھولوں میں

Read more

مجید امجد کی 51 ویں برسی

انوکھے اور منفرد لہجے کے شاعر مجید امجد کا اصل نام عبد المجید تھا۔ اپنی اعلیٰ اور منفرد شاعری میں انہوں نے اپنا تخلص امجد رکھا تو پھر پوری زندگی مجید امجد کے نام سے جیے اور اسی نام سے شہرت پائی۔ مجید امجد 29 جون 1914 کوجھنگ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میاں علی محمد ایک جفاکش انسان تھے۔ مجید امجد کا بچپن اور آخری عمر بہت زیادہ تنگی و عسرت اور مشکلات میں گزری، جس کا اثر

Read more

مصنوعی ذہانت اور اُردو ادب

مصنوعی ذہانت کمپیوٹر سائنس کی ایک شاخ ہے جس میں مشینوں کو ذہانت دی جاتی ہے تاکہ وہ سوچ سمجھ کر انسانی طرز کا کام کر سکیں۔ اس بات سے کوئی معترض نہیں کہ مصنوعی ذہانت سے انسانی زندگی میں بہت سہولتیں پیدا ہوئی ہیں۔ انگریزی لغت Oxford English Dictionary میں آرٹی فِیشل کے معانی یوں دیے گئے ہیں۔ Of a thing: Mad or constructed by human skill, in imitation of, a substitute for, Man-made اور انٹیلی جنس کے معانی

Read more

بھوری مٹیالی آنکھیں

شبانہ تیوری پر بل ڈالے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ بھوری آنکھیں خوف کو اجاگر کر رہی تھیں۔ ”ذرا مسکراؤ!“ فوٹوگرافر نے مسکرانے کی اداکاری کرتے ہوئے اسے سمجھایا۔ بولو، ”چیز۔“ وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ کسی کو پرواہ نہیں تھی؛ ایک بچی کو انجان آدمی کے سامنے بٹھا کر مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ مسکرا کر بھی دکھائے۔ تیوری چڑھانا اس ظلم کے خلاف احتجاج تھا۔ زندگی کے پہلے دروازے پر کھڑی سات سال کی

Read more

روپی کور کی کتاب پر تبصرہ: Milk and Honey

  روپی کور ہندوستانی نژاد کینیڈین مصنفہ ہیں۔ ملک اینڈ ہنی روپی کی ڈیبیو کتاب ہے جو انگریزی شاعری اور نثری شاعری کا مجموعہ ہے۔ روایت پسند اور کلاسیکیت سے جڑے لوگ شاید اسے شاعری کا درجہ دینے سے گریز کریں کیونکہ کتاب کے مضامین کافی غیر روایتی انداز میں اور مروجہ قواعد کو نظر انداز کر کے قلم بند کیے گئے ہیں۔ روایتی رائم اور ردھم کا استعمال نہیں کیا گیا۔ یہ ”بلینک ورس“ بھی نہیں ہے، ”آئیمبک پینٹا

Read more

سقراط کے نظریات، موت اور حیات جاوید

  سقراط یونان کے عظیم دانشوروں میں سے ایک تھے۔ وہ سادہ لباس، سادہ خوراک اور سادہ طرز زندگی گزارنے والے ایک درویش منش دانشور تھے۔ یونان کے نوجوان ہر گلی، ہر بازار اور ہر چوراہے پر انہیں گھیر کر ان سے مکالمہ کرتے تھے اور سقراط ان سے ایسے چبھتے ہوئے سوال پوچھتے تھے جن سے انہیں اپنی روایات اور اعتقادات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی تحریک ہوتی تھی۔ سقراط سے شہر کے سب نوجوان خوش تھے اگر

Read more

خواب، محبت اور زندگی: ہیرو سے نشئی بننے تک (19)

ہم سب بے حد خوش تھے کہ ابی واپس ہماری زندگی میں آ گئے تھے لیکن ہمیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ ایک ڈراؤنا خواب ہمارا منتظر تھا۔ لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ رہتے ہوئے انہیں پیتھیڈین کے انجکشن لگانے کی عادت پڑ گئی تھی۔ یوں سمجھ لیجیے کہ یہ کوکین کے خواص سے مشابہ ایک ٹیکہ تھا۔ دراصل اس خاتون کے ساتھ رہتے ہوئے ابی جب بھی امی اور ہمارے لئے پریشان ہوتے تھے تو وہ ان کا ذہنی دباؤ

Read more

بالی ووڈ کا پاکستان

بھارتی میڈیا کا قصور نہیں انہوں نے پاکستان صرف بالی ووڈ میں دیکھا ہے جہاں ہر گلی محلے میں سبز جھنڈیاں لگی ہوئی ہیں۔ لوگوں نے ٹوپیاں پہن رکھی ہیں۔ ہر آدمی کے داڑھی ہے۔ کندھے پر مکے مدینے والا حاجی رومال ہے۔ بوڑھے مردوں نے داڑھیوں میں لال مہندی لگائی ہوئی ہے اور جوانوں نے آنکھوں میں ڈیڑھ ڈیڑھ پاؤ سرمہ لگا رکھا ہے۔ دکانوں پر ابھی تک سن انیس سو چورانوے والے پینٹروں کے لکھے لوہے کے سائن

Read more

جنگ نہیں امن چاہیے

  دہشت گردی کے بارے میں یول نوح حراری نے کہا ہے کہ دہشت گرد مچھر کی طرح کسی چینی دکان (نازک شیشے کے سامان کی دکان) میں کھڑے بدمست بھینسے کے کان میں بھنبھنا کر اس کو بد حواس کر دیتا ہے اور باقی کام بھینسا کر دیتا ہے۔ جموں و کشمیر کی سیاحتی وادی پہلگام میں دہشت گردی کے واقعہ کے بعد جنوبی ایشیا  کے دو ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ملک بھارت اور پاکستان ایک بار پھر آمنے

Read more

جب میں مقبوضہ جموں کشمیر گیا

  پہلگام کا دردناک واقعہ بھارتی سکیورٹی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گیا، بھارت کے بہت سے صحافی اور ریٹائرڈ ملٹری پرسنیلز جو بھارتی کشمیر میں موجود آرمی کی بڑی تعداد سے مکمل آگاہ ہیں، اس بارے میں آواز اٹھا رہے ہیں، لیکن کوئی انہیں سننے کو تیار نہیں کیونکہ کنٹرولڈ میڈیا کے ذریعے جنگی جنون بھارت میں خوفناک شکل اختیار کر چکا ہے، جس کی رو میں بہت سے انٹلیکچولز، بظاہر پڑھے لکھے سمجھدار لوگ بھی بہہ

Read more

فسطائیت اور فلم سازی کی چومکھی

انڈر کور فلم میکنگ دنیا میں کہیں نہیں ہوتی سوائے ایران کے۔ آرٹ سینما کے یہ بے تاج بادشاہ، نت نئے، ہم عصر اور اچھوتے موضوعات پر فلمیں تو بناتے ہیں مگر سرکار سے چُھپ کر۔ فلم ریلیز ہوتی ہے تو جیل چلے جاتے ہیں۔ سزا کاٹ کر نکلتے ہیں تو پھر فلم بناتے ہیں۔ سو، ایرانی ریاست اور متوازی سینما کے ان فلمی ہدایت کاروں کے مابین آنکھ مچولی کا یہ کھیل جاری رہتا ہے۔ مگر کہانی کہنے پر

Read more

کیا یہ بہترین پیرنٹنگ ہے؟ (حصہ اول)

میرے اکثر رشتہ دار میرے والدین کی تربیت کو بہت شاندار کہتے ہیں لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ میرے والدین کو پیرنٹنگ کرنا ہی نہیں آتی ہے کیونکہ اولاد کے ساتھ کیا ہو رہا تھا میرے والدین ان ساری باتوں سے بے خبر تھے۔ نرسری سے پانچویں جماعت تک:۔ والدین کی غفلت:۔ میں چار سال کا تھا جب مجھے میرے والدین نے اسکول میں داخلہ دلوایا تھا۔ میرا اسکول ایک لوکل پرائیویٹ اسکول تھا۔ میں صبح اسکول جاتا تھا

Read more

میرے سوالوں کا سفر

آج ایک عرصے کے بعد قلم پکڑا ہے تو عجیب سی کیفیت کا شکار ہوں۔ ہمیشہ کچھ لکھنے کے بعد ابو کو دکھایا کرتی تھی۔ ان کی علمی نظر کے سامنے میری تحریریں گویا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہو گا مگر ابو نے ہمیشہ حوصلہ بڑھایا۔ پچھلے سال وجودیت پر کچھ لکھنے کی جرات کی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ اردو میں اس موضوع پر اتنا مواد نہیں۔ مگر بعد میں معلوم ہوا کہ متعدد گمنام جواہر ہیں

Read more

استاد پردیسی

استاد پردیسی کا شمار اُن باورچیوں میں ہوتا ہے جنہیں اُس وقت ہی کسی تقریب میں کھانا پکوانے کے لئے بلایا جاتا ہے جب لاکھ کوشش کے باوجود کوئی اچھا کاریگر نہ ملے۔ وہ کون ہیں اور کیا کرتے ہیں ہمیں ان سب باتوں کا ہرگز علم نہیں تھا۔ ہمیں اُن کی ذات سے آگاہی اُس وقت ہوئی جب ہمارے ایک دوست نے اپنی بیٹی کے عقیقے کے لئے نہ چاہنے کے باوجود بھی اُنہیں بلا لیا کہ اتفاق سے

Read more

ہندوستان اور پاکستان: خدارا عقل کریں

  حسب معمول صبح جلدی اٹھ کر واک کرنے کا ارادہ تھا لیکن رات کو دیر سے سویا اور دیر تک سوتا رہا اور روٹین واک کے لئے آنکھ نہ کھل سکی جو آئے روز مجھ سے ترک ہو جاتی ہے۔ لیکن آج سات مئی کو جب آنکھیں ملتا ہوا بستر سے اٹھا تو معلوم ہوا کہ رات کو میرے خواب خرگوش میں آلتیاں پالتیاں مارتے ہوئے بھارت نے پاکستان پر تین اطراف سے دھاوا بولا۔ کشمیر، سیالکوٹ اور مریدکے

Read more

جنگ

  راجکُمار کم سن تھا مگر راجہ صاحب نے اسے صغرسنی میں ہی اپنے مصاحب خاص کے حوالے کر دیا تھا کہ وہ ہمہ وقت اسے اپنے زیر سایہ رکھے اور راج پاٹھ پڑھائے کہ مستقبل میں سنگھاسن پر براجمان ہونے کے بعد اسے اقتدار کی پرپیچ گتھیوں کو سلجھانے میں ذرا بھی دقت نہ ہو۔ ایک شام شہزادہ اپنے اتالیق کے ساتھ ہوا خوری کے لیے جا رہا تھا کہ اس کی نظر ایک گھنے درخت پر پڑی اور

Read more

خواب، محبت اور زندگی 18

یہاں مجھے اعتراف کرنے دیجئے کہ ابتدائی عمر کے اسی طرح کے واقعات نے مجھے جارحیت کی بجائے مصالحت کرنا سکھایا اور میں ایک کسی کو بھی ناراض نہ کرنے والی ”پیپل پلیزر“ شخصیت میں ڈھل گئی۔ ایک دس سال کی بچی زندگی کے دکھ دیکھ کر اپنے پیاروں کو مزید دکھ نہیں دینا چاہتی تھی۔ بعد میں جب میرے اندر چھپی ہوئی بغاوت کا طوفان امڈ کر باہر آیا تو میں بغاوت اور بچپن میں سیکھی ہوئی ملنساری اور

Read more

کیا آپ ایک اچھا تھراپسٹ بننے کے سات مشوروں سے واقف ہیں؟

جب میں نے نفسیات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے کینیڈا کی میموریل یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور ایک پروفیسر نے ہماری کلاس کے تیرہ طلبا و طالبات سے پوچھا کہ آپ اس کلاس میں کیسے آئے؟ تو میں یہ جان کر حیران و ششدر رہ گیا کہ میں واحد طالب علم تھا جو بڑے ذوق و شوق سے وہاں آیا تھا اور ایک ماہر نفسیات بننا چاہتا تھا۔ باقی طلبا و طالبات میں سے کوئی انٹرنسٹ بننا چاہتا

Read more

مودی کا پاگل پن

ایک شخص نے دو ارب افراد کی زندگی خطرے میں ڈال دی، نریندر مودی کے بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا، انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایٹمی طاقت نے دوسری ایٹمی طاقت پر براہِ راست میزائل برسا دیے، پاکستان بھارت تنازعات کی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ ہے جب ساری دنیا متفق ہے کہ ہندوستان نے لڑائی میں پہل کی ہے، بھارت جارح ملک ہے، بھارت نے پہلگام واقعہ کو بہانہ بنایا مگر دنیا کے سامنے اس واقعہ

Read more

مُوکُوہاتوجُو کی مایا

  گزشتہ دنوں پڑوسی ملک سے حالات کشیدہ ہونے کی خبریں عام ہونے کی صورت میں سوشل میڈیا پر رنگ برنگی مِیمز دیکھنے کو ملیں۔ دشمن کو للکارنے کا یہ انداز سمجھ سے بالا تر تھا۔ ایسی ہی صورتحال میں بچوں کے جاپانی ادب کے بہت بڑے نام موکوہاتوجو کا ناول ”مایا“ پڑھنے کا موقع ملا جس کو اردو میں ترجمہ کرنے والی خاتون کا تعلق بھی اگرچہ جاپان سے تھا لیکن انہوں نے بہت عمدہ انداز میں کتاب کا

Read more

خواب رنگ اور شہزاد رائے

  چند دن قبل معروف سماجی کارکن اور گلوکار شہزاد رائے نے میرے والد کی ایک غزل کو اپنی آواز دی۔ آج اسی نسبت سے میں اور میرا چھوٹا بھائی سید ذریون ایلیا شہزاد رائے کی دعوت پر زندگی ٹرسٹ کے زیرِ انتظام اسکول گئے۔ ہم نے وہاں نہ صرف ایک ادارہ دیکھا بلکہ خوابوں کی تعبیر کی ایک روشن جھلک بھی دیکھی۔ زندگی ٹرسٹ ایک غیر منافع بخش فلاحی تنظیم ہے جو پاکستان میں تعلیم کے فروغ بالخصوص بچیوں

Read more

ذہن کے پوشیدہ سمندر: شعور، تحت الشعور اور لاشعور کا ایک جذباتی سفر

انسان کیا ہے؟ محض گوشت پوست کا چلتا پھرتا وجود؟ یا سوچوں، خوابوں، خواہشوں اور انجانے خوفوں کا ایک پیچیدہ جال؟ ہمارا ذہن، یہ کائنات سے بھی وسیع، کیا صرف وہی ہے جو ہم جانتے ہیں، جو ہماری جاگتی آنکھوں کے سامنے ہے؟ یا اس ظاہری سطح کے نیچے گہرے، پراسرار سمندر موجزن ہیں جن کی لہریں ہماری زندگی کے ساحلوں سے ٹکراتی رہتی ہیں، چاہے ہمیں ان کا احساس ہو یا نہ ہو؟ قدیم فلسفیوں سے لے کر جدید

Read more

جاپان کا تاج محل ” خیال ِ یا ر تیرے سلسلے نشوں کی رُتیں“ (پہلی قسط)

ہمارے سامنے سمندر تھا۔ ہم دونوں ساحل پر رکھے بنچ پر بیٹھے سمندر کا نظارہ کر رہے تھے۔ جہاں تک نظر پڑتی تھی پانی کی سلطنت تھی۔ پانی کی مدھر لہریں ساحل سے ٹکرا رہی تھیں۔ اگرچہ سمندر کی وسعت دیکھ کر ہیبت طاری ہو جاتی تھی لیکن یہ سب اچھا بھی لگ رہا تھا۔ فضا میں سیگل کا شور تھا جو پانی کے اوپر چہکار رہی تھیں۔ بادبانی کشتیاں سمندر کی سطح پر بادبان کھولے رواں دواں تھیں۔ آسمان

Read more

ترکوں کا ہیرو، اپنے گھر میں اجنبی!

میں یہ کالم کم و بیش ایک صدی پہلے کے قسطنطنیہ اور آج کے استنبول سے لکھ  رہا ہوں۔ کل مجھے ایک پاکستانی کی صد سالہ برسی کی تقریب میں شرکت کرنی ہے۔ تُرک قوم اُسے اپنا ہیرو مانتی، اپنا فرزند کہتی ہے۔ صدر طیّب اردوان جب بھی پاکستان آئے، کسی نہ کسی تقریب میں اُس کا ذکر ضرور کیا۔ ذکر بھی ایسا کہ ایک ایک لفظ گہری محبت کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ کیا قوم ہے کہ ایک

Read more

کتاب ”رب سے جڑنے کا سفر“: (2)

4۔ ہدایت و تبلیغ کے نام پر شدت پسندی کا فروغ یہ ناول اتنا شدت پسندانہ انداز سے تحریر کیا گیا ہے کہ مجھے محسوس ہوا القاعدہ اور داعش جیسی گم راہ تنظیموں کے نظریات کو عین دین حق سمجھ کر پھیلایا گیا ہے۔ ابنِ قیم اور ابن تیمیہ جیسوں کی کتب کے حوالے اس کا ثبوت ہیں۔ ذیل میں مختلف جہتوں سے شدت پسندانہ نظریات کی نشان دہی کی ہے ان نکات پر غور کریں۔ 1۔ احساسِ گناہ کو

Read more

سوچ سمجھ کر شیئر کریں – مکمل کالم

”چند ماہ قبل میری بہن نے ایک واٹس ایپ نمبر کے ذریعے نوکری کے لیے درخواست دی، یہ نمبر اسے ملازمت کے متلاشیوں کے ایک مشترکہ گروپ سے ملا تھا۔ اِس نمبر کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ کراچی کے کسی تجارتی مرکز سے منسلک ہے۔ بہت سے امیدواروں کی طرح، اُس نے بھی اپنا تعارف (سی وی) بھیج دیا جس میں اُس کی ذاتی تفصیلات درج تھیں اور جواب کا انتظار کرنے لگی۔ پہلے پہل تو

Read more

لوٹ آنے کے بعد

جاڑے کی شدید دھند میں لپٹی ایک سسکیوں سے لبریز مظلوم آواز ارد گرد کی فضا کو مزید نم ناک کر رہی تھی۔ ”آج تو حد کر دی ہے اس نے۔ میں اب نہیں جاؤں گا گھر، رہے یہ اکیلی“ چاچے شیدے نے دل کو مضبوط کرتے ہوئے آنسوؤں کو حلق سے اتارتے ہوئے ارادہ کیا۔ ”اب تو اولاد بھی جوان ہو گئی ہے، لیکن اس کو شرم نہیں آتی تماشا لگاتے ہوئے، میں نے کیا کہہ دیا تھا اسے

Read more

ملازمت کا آغاز

بی ایس سی کا امتحان دینے کے بعد میں گاؤں میں چلا آیا۔ ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ گاؤں میں گزارا۔ میں ذہنی طور پر گو مگو کی کیفیت میں تھا۔ کورس کی کتابیں پڑھنے کو دل نہ کرتا کیوں کہ میں تو امتحان دے چکا تھا لیکن فیل ہونے کا ڈر لگا رہتا۔ ایک ڈیڑھ ہفتے بعد میں اکتا کر دوبارہ بوریوالا چلا آیا۔ یہاں بازار میں مجھے بشیر شاہین مل گیا۔ پوچھنے لگا کہ آج کل کیا کر رہے ہو

Read more

امریتا پریتم کی رسیدی ٹکٹ: چھوٹا کاغذ، بڑی کہانی

  ایک لکھاری، شاعر، ایک اچھا بیٹا، پیار کرنے والا باپ اور انسانیت کی معراج میرا دوست، جسے میں عورتوں کے درد کا ہم نوا کہتی ہوں۔ وہ صرف عورتوں کے حق میں بولتا نہیں، ان کے جذبات، خواب، بغاوت، اور خاموشی کو سمجھتا بھی ہے۔ اس کی باتوں میں کبھی نرمی، کبھی فکر اور کبھی جرات جھلکتی ہے۔ ایک دن اُس نے مجھ سے کہا، ”تم نے ابھی تک ’رسیدی ٹکٹ‘ نہیں پڑھی؟ تمہیں یہ کتاب بہت پہلے پڑھ

Read more

اصل کرپٹ کون؟

پاکستانی معاشرے میں حکومت، سیاست دانوں یا کچھ مخصوص محکموں اور افراد پر انگلی اٹھانا آسان ہے حالانکہ یہ انگلیاں اٹھانے والے بعض افراد خود بھی اپنی ذمہ داریوں اور معاملات میں کچھ نہ کچھ غلط کر رہے ہوتے ہیں۔ رمضان میں روزہ رکھ کر سر پر ٹوپی اور اونچی شلوار کے ساتھ مسجد سے نماز پڑھ کر نکلنے کے بعد ملاوٹ اور منافع خوری کرنے والا ایک عام آدمی بھی ہمارے کرپٹ معاشرے کا حصہ ہے۔ باقی گیارہ مہینوں

Read more

تنہا: سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثرانگیز ناول (2)

چھاؤنی کی یہ شفاف اور فراخ سڑک جس کے سینے پر میری جیپ اس وقت تیز رفتاری سے دوڑ رہی ہے ایلگن روڈ کہلاتی ہے اور میں افسران میس جانے کی بجائے وہاں جا رہا ہوں جہاں جانے کی مجھے ہمیشہ تمنا رہتی ہے۔ ہر دو حالتوں میں جب میں خوش ہوتا ہوں یا مجھ پر اداسی طاری ہو۔ میرے نزدیک بیٹھا یہ سرخ و سفید پنجابی نوجوان محسن میری قریبی نشست کی طرح میرے دل کے بھی اتنا ہی

Read more

سندھی ادب و ثقافت کی ہمہ جہت شخصیت: ایاز عالم ابڑو

ادب اور ثقافت کے مختلف شعبوں میں بے شمار کام کرنے کے باوجود، ان کی عادت میں شور مچانا شامل نہیں۔ وہ محفلوں کے شوقین کبھی نہیں رہے۔ اگر کسی قریبی دوست کے اصرار پر کسی تقریب میں شرکت کرتے بھی ہیں تو خاموشی سے کسی کونے میں بیٹھ جاتے ہیں، اور بات کرنے کے بجائے سننے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی خاموشی سے بس کام کیا ہے، اور ہمیشہ ان کے کام کی خوبصورتی نے

Read more

دبئی میں پاکستانی اور بنگلہ دیشی محنت کش۔ کچھ گپ شپ

شیخ محمد بن راشد بلیوارڈ دبئی، اڑتیسویں منزل کی مشرق کو کھلتی بالکونی سے طلوع آفتاب کا دل کش منظر، طلوع آفتاب کے بعد آسمان کو چھوتے پلازوں کے سورج کی سنہری کرنوں سے چمکتے شیشے، اور ان کے چاروں طرف کی بلڈنگز سے منعکس ہوتی لہروں کے نظر آتے منفرد و فرحت بخش نظارے دیکھتے بالکل سامنے والی اسؔی نوؔے منزلہ بلڈنگ کی چھت کے پیچھے نظر رک گئی۔ برج خلیفہ اپنے ہی رنگ میں ڈھکا ہوا تھا۔ اتفاقا

Read more

جیمز جوائس بحیثیت فکشن نگار

بیسویں صدی کے معروف ناول نگار، شاعر، افسانہ نگار اور نقاد، جیمز جوائس دو فروری 1882 ء کو آئر لینڈ کے شہر ڈبلن میں، ایک متمول خاندان میں پیدا ہوئے۔ اس کی زندگی کے ابتدائی ایام آسودگی میں گزرے لیکن آگے چل کر دو شادیوں اور بیٹی (Lucia) کی علالت نے اسے ذہنی اذیت اور کرب میں مبتلا رکھا۔ اس مشکل اور اذیت ناک صورت ِ حال کے باوجود، اس کی تخلیقی قوت اور ذہانت میں کمی نہیں آئی اور

Read more