عید پر دکھی کر دینے والی خبریں!

عید الفطر بھی گزر گئی۔ عید بے حد خوشی کا تہوار ہوتا ہے۔ سب لوگ، خاص طور پر بچے اس دن کو نہایت خوشی اور مسرت کے ساتھ مناتے ہیں۔ اس دن بچے نئے کپڑے پہنتے، عیدی وصول کرتے اور اپنے والدین کے ساتھ سیر و تفریح کرتے ہیں۔ اپنے بچے ہم سب کو کتنے پیارے ہوتے ہیں۔ ہم خواہ خود عید پر نئے کپڑے بنوائیں یا نہ بنوائیں، اپنے بچوں کو کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دیتے۔ لیکن

Read more

جو قتل ہوا، وہ زندہ ہے

ذوالفقار علی بھٹو برصغیر کی تاریخ میں مخلوق خدا، مسلمانوں اور پھر ان دونوں میں موجود اکثریتی تعداد یعنی غریب، کمزور، بے بس، مقہور، مظلوم، بدبختیوں کے شکار انسانوں کے مایوس صحرا میں ان کے لئے صدائے ایمان و یقین، صدائے عزم و جہد، صدائے وقار و احترام بن کے ابھرا، گونجا، چمکا، تھرتھرایا، لوگوں نے اسے جئے بھٹو کے جھنکار آمیز نعروں کی یلغار میں کندھوں پہ اٹھا کے اعلان کیا، ہم ذلت کے مارے لوگوں کی صف میں

Read more

یہ دشت کی تنہائیاں اور درد کا تنہا سفر: سفرنامہ جاپان

ہیرو شیما کی وحشتوں سے نکل کر ہم کیوٹو پہنچ چکے تھے ہمارے سامنے وسیع جنگل تھا حد نگاہ تک سرسبز و شاداب فصلیں اور درخت ہی درخت تھے جس طرح اشجار کا لامتناہی سلسلہ تھا۔ اسی طرح میرے اندر لا متناہی خیالات اور الجھنوں کی کشاکش جاری تھی اگرچہ میرے ارد گرد میرے ساتھی تھے جن کا اس تمام عرصے خوبصورت ساتھ رہا۔ مسٹر چڑراج دادا رحمنٰ اور سیکوسن ان کے ساتھ گزرے بے مثال دن یاد گار راتیں

Read more

امریکی ویزا، ایڈولیسنیس اور چودہ سالہ پاکستانی امریکن ٹک ٹاکر لڑکی کا قتل

پچھلے ہفتے بہت سی باتیں ہوئیں اور سب ہی سنانے کو جی چاہتا ہے۔ امریکہ جو ہمارا محبوب بھی ہے اور دشمن جاں بھی، جہاں پہنچنے کو ہر کسی کا جی چاہتا ہے مگر گالی بھی اسی کو دی جاتی ہے۔ عجیب محبت و نفرت کا رشتہ ہے۔ پچیس تیس برس پہلے پاکستانی عوام ان ممالک میں شامل تھے جو ویزا لاٹری میں درخواست ڈال سکتے تھے۔ سچ پوچھیے تو لاٹری وغیرہ پہ یقین کچھ کم ہی تھا کہ ہمارا

Read more

کیا فرائیڈ کو ازسرِ نو پڑھنے کا وقت آ گیا ہے؟

سگمنڈ فرائیڈ گزشتہ صدی کے چند ایسے انسانوں میں سے ہیں۔ جنہوں نے علمِ نفسیات، سینما اور ادب پہ گہری چھاپ چھوڑی ہے۔ بالخصوص نفسیات کے شعبہ میں ان کے ذکر کے بغیر مضمون کا تعارف ادھورا معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے ایک مشہور تھیوری یعنی نفسیاتی تجزیہ Psychoanalysis کی بنیاد رکھی۔ میں نے اپنے ادبی سفر اور سکول و کالجز میں درس و تدریس کی زندگی میں محسوس کیا ہے کہ مذکورہ تھیوری کو اک باقاعدہ علم کے طور

Read more

اگر یہ عیب ہے تو بھی خدا کے ہاتھ کا ہے

آج سے بیس پچیس سال پہلے ہر وہ بچہ جو اپنی عمر کے بچوں سے مختلف نظر آتا تھا، ابنارمل کہا اور سمجھا جاتا تھا، اس کے رویے اور اس کے مسائل کو سمجھنے کے لئے اس کے علاوہ اور کوئی لفظ نہ تھا، ہاں یہ اندازہ ضرور تھا کہ ہر ابنارمل بچہ بھی ایک جیسا نہیں ہوتا، کوئی بول نہیں سکتا، کوئی غصے کا تیز ہے، کوئی پڑھ لکھ نہیں سکتا اور کسی کو کوئی اور مسئلہ ہے جو

Read more

ناول ”نِکّا“ (انیس احمد) کا تجزیاتی مطالعہ

ناول ”نکّا“ انیس احمد کی تخلیق ہے جو گزشتہ برس عکس پبلی کیشنز سے شائع ہوا۔ اس سے قبل ان کا ایک ناول ”جنگل میں منگل“ شائع ہو چکا ہے۔ جدید دور کے مختصر ناولوں کے مقابلے میں پانچ سو گیارہ صفحات پر مشتمل یہ ”نِکّا“ اصل میں ایک بڑا ناول ہے جس کی خوبصورتی یہ ہے کہ پڑھت کے دوران یہ ناول ضخیم ہرگز محسوس نہیں لگتا۔ انیس احمد یوں کہانی سے کہانی نکالتے، کڑی سے کڑی ملاتے ہیں

Read more

خواب، محبت اور زندگی 7

خالہ کی طرح ابی بھی سرکاری ملازم تھے اور انہیں بھی یہ فیصلہ کرنا تھا کہ وہ ہندوستان میں رہیں گے یا پاکستان جائیں گے۔ ابی نے تنہا پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔ شاید اس فیصلے کی تین وجوہات رہی ہوں گی: اول یہ کہ دادا نیشنلسٹ تھے اور قیام پاکستان کے حامی نہیں تھے۔ ویسے بھی وہ چاند والی حویلی کو چھوڑنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتے تھے۔ دوسرے، امیتابھ بچن کی مشہور فلم دیوار کی طرح ابی کا

Read more

جگن کاظم، پہلے شوہر کا تشدد بڑی جلدی بھلا دیا آپ نے!

فیمنزم کو برا بھلا کہہ کر اور فیمنسٹ عورتوں / مردوں کو کچرا قرار دے کر خود کو بی بی بھولی بھالی اور گھر کے مرد کو آئیڈیل قرار دینے والی عورتوں کی ہمارے معاشرے میں کمی نہیں۔

وجہ ڈھونڈی جائے تو پتا چلتا ہے کہ وہی احساس کمتری۔ اندر کہیں مردوں سے تھپکی لے کر سیدھی راہ پہ چلتی ستی ساوتری عورت کا ٹیگ لگوانے کی شدید خواہش۔ اس خواہش کو پورا تو ایسے ہی کیا جا سکتا ہے کہ اپنی ہی ہم صنف پہ کیچڑ اچھال کر معصومیت سے کہہ دیا جائے : داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔ ( مرد) ۔

Read more

عید کا تحفہ: حفیظ جوہر کی کلیات

  باصر سلطان کاظمی لاہور جانا ہوتا ہے تو مادر علمی گورنمنٹ کالج، جو اب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ہے، میں حاضری دینا تقریباً لازمی فریضہ ہوتا ہے۔ بالعموم شعبہ اردو کے زیر اہتمام طلبہ سے ملاقات کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی ہوا۔ چونکہ یہ ناصر کاظمی کی سو سالہ ولادت کا سال ہے لہذا تقریب، جس کی منتظم صدر شعبہ اردو ڈاکٹر صائمہ ارم تھیں، ’ناصر کاظمی صدی سیمینار‘ کے زیر عنوان 17 اپریل

Read more

عفیفہ اور شاعرِ مشرق: ایک معصومانہ عقیدت کی داستان

  عفیفہ کے سب سے پسندیدہ شاعر علامہ اقبال ہیں۔ وہ بچپن میں سمجھتی تھیں کہ شاید علامہ اقبال نے شاعری کے کسی عالمی مقابلے میں ایشیا کے تمام شاعروں کو شکست دے کر ”شاعرِ مشرق“ کا ٹائٹل جیتا ہو گا۔ جیسے کوئی پوئٹری اولمپکس منعقد ہوا ہو، جس میں چین، جاپان، ایران، منگولیا اور ہندوستان وغیرہ کے شاعروں نے پسینہ بہایا ہو، مگر آخر میں علامہ اقبال کو سونے کا تمغہ مل گیا ہو، مگر ایک دن ان کی

Read more

خواب، محبت اور زندگی 6

چاند والی حویلی کے باہر اگر کانگرس اور مسلم لیگ کی انگریزوں سے آزادی کی تحریک زوروں پر تھی تو حویلی کے اندر اب جو اسٹار پلس پر ساس بہو کے ڈرامے دکھائے جاتے ہیں، اسی قسم کے ڈرامے چلتے رہتے تھے۔ برسوں پہلے جب میری دادی حویلی چھوڑ کر چلی گئی تھیں تو اس کے کچھ عرصہ بعد ہی ابی کی پھوپھیاں ہمارے دادا کے لئے نئی دلہن بیاہ کر لے آئی تھیں۔ پہلے تجربے نے انہیں بھی محتاط

Read more

مطالعہ پاکستان کی خیر و برکات

ہمیں جب بھی پاکستان کی خوبصورتی، شاندار کامیابیوں اور ناقابلِ یقین کارناموں کے بارے میں پڑھنے کا اشتیاق ہوتا ہے، تو سیدھے مطالعہ پاکستان کی کتاب کھول لیتے ہیں۔ جیسے ہی چند صفحات پڑھتا ہوں، ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے ہماری سوچ کو چنبیلی کے عطر میں ڈبو کر، شہد میں گھول کر، اور دودھ میں نہلا کر دماغ میں ڈال دیا ہو۔ یہ ایسی محب وطن کی جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ پھکی ہے جس سے ہر طرح

Read more

عوام ناخواندہ ہو سکتے ہیں جاہل نہیں

” پاکستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے لیکن اس میں نئی بات کیا ہے ؔ؟“ جب یہ طنزیہ جملہ، بڑے پیمانے پر لکھا، بولا اور سنا جانے لگے تو اس سے لطف لینے کی بجائے اپنی لاچارگی پر ماتم کرنا چاہیے۔ اس طرح کی کڑوی اور زہر میں بجھی باتیں مفلس عوام کم، دانشور، متوسط و خوش حال طبقات کے لوگ زیادہ کرتے ہیں۔ ایسی باتیں کرنے والوں سے جب ملک کے اس حال تک پہنچنے کا سبب

Read more

مظلوم کا محضر نامہ

چار جنوری 2011 کی اداس شام یاد کے حجرے میں ہمیشہ کے لئے مقید ہو گئی۔ سوریا کے انگارے زمستانی موسم کی لپیٹ میں تھے، اندھیرے کا فتور یخ بستہ ہواؤں سے لبریز تھا ایسے میں میرے گاؤں کا ڈیرہ لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ آتش دان میں پڑی لکڑیاں سلگ رہی تھیں بذلہ سنجی اور قصہ گوئی کا دور دورہ تھا کہ اچانک ایک دبلا پتلا سا نوجوان بھاگتا ہوا آیا اور بولا، تم یہاں قہقہے لگا

Read more

ٹیگور کی کہانیاں۔ آخری حصّہ

ریلوے پلیٹ فارم پہ اتنی بھیڑ تھی کہ پیر دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ غریب ملکوں کا المیہ یہی ہے کہ بچّے اتنے پیدا ہوتے ہیں جن کے دسویں حصّے کو بھی سنبھالنا ریاست کے بس میں نہیں ہوتا۔ ایسے ملکوں میں ہر انسان اتنا مردم بیزار نظر آتا ہے کہ ڈھونڈنے سے بھی کوئی چمکتا دمکتا چہرہ نظر نہیں آتا۔ پبلک پلیسز پہ تو حالت یہ ہوتی ہے کہ کوئی معذور انسان بھیڑ میں گھس جائے تو پھر اس

Read more

سالک ایک منفرد کتاب

لاہور انٹرنیشنل بک فیئر پر جہاں بہت سی کتب خریدیں وہیں کچھ کتابیں دوستوں کی طرف سے بھی ملیں۔ بہت دنوں سے انہی کتب میں سے ایک کتاب میری توجہ کی منتظر تھی، اس کتاب کا عنوان اور انتساب دونوں ہی چونکا دینے والے تھے۔ مصنف سے کسی حد تک تعارف تھا لیکن ان کی پہلی مکمل کتاب پڑھی ہے جس کے بعد خواہش ہوئی کہ مصنف کی مزید کتب پڑھی جائیں۔ خیر ایک روز میں نے سچ کی تلاش

Read more

قرضوں سے آزادی

تحریک انصاف کے دور حکومت ( 2018 ء۔ 2022 ء) کے دوران ایک خاص کمیشن تشکیل دیا گیا جس کا بنیادی مقصد یا کام یہ تھا کہ پاکستان کے کل واجب الادا قرضہ جات کے مستند اعداد و شمار کو طے کیا جا سکے۔ کل ملکی و غیر ملکی اور عالمی مالیاتی اداروں کے قرضہ جات میں تفریق کرنے کے علاوہ یہ قرضہ جات کس مد میں لیے گئے اور کس مد میں خرچ کیے گئے کو بھی دیکھنا اس

Read more

پیکا ایکٹ اور صحافی سے "بلھے شاہ” ہونے کی توقع؟

پیکا قانون جب متعارف کروایا جا رہا تھا تو مجھ جیسے بزدل بہت فکر مند رہے۔ یہ قانون تیار اور اسے عجلت میں پارلیمان سے منظور کروانے کے بعد لاگو کرنے والے مگر تسلیاں دیتے رہے۔ تواتر سے یہ بیان کرتے رہے کہ مذکورہ قانون سے ’’اصل صحافیوں‘‘ کو گھبرانا نہیں چاہیے۔ اپنی زندگیاں پیشہ ورانہ صحافت کی نذر کرنے والوں کو تو بلکہ خوش ہو جانا چاہیے کہ ایسا قانون لاگو ہونے جا رہا ہے جو موبائل فون کی

Read more

خواب، محبت اور زندگی 5

ابی کے والد، میرے دادا ضیا الدین حافظ قرآن تھے اور رمضان میں دہلی کی جامع مسجد میں تراویح پڑھاتے تھے۔ پیشے کے لحاظ سے وہ ایک ماہر خطاط تھے اور دیوان سنگھ مفتون اور دیگر اپنی تصنیفات کی کتابت کے لئے ان کے پاس آیا کرتے تھے جب کہ ان کے چھوٹے بھائی کمال الدین عمارتوں کے نقشے بنایا کرتے تھے۔ دونوں بھائی گھر کی عورتوں کے معاملات اور جھگڑوں سے الگ رہتے تھے۔ ابی تھوڑے بڑے ہوئے تو

Read more

مائے نی میں کنوں آکھاں: (خود کشی کے پس منظر میں ایک تحریر)

ماں مجھے تیری عظمت اور دیدہ دلیری پہ ناز ہوتا ہے، اس پتھر دل سماج میں تو نے مجھے جنم دیا، میں تجھ پر بیتے لمحہ با لمحہ دکھ کی شاہد ہوں، خود کو سنبھالنے اور مجھ کو پالنے میں جو تو نے تکلیفیں اور مشکلات جھیلیں بھلا وہ سارے کرب میں اپنی یاد داشت سے کیسے ڈیلیٹ کر سکتی ہوں۔ سوال یہ ہے کہ سب کچھ جانتے بوجھتے بھی تم نے مجھے جنم کیوں دیا؟ کیا تجھے نہیں پتا

Read more

ذوالفقار علی بھٹو اور نشانِ پاکستان

وطن عزیز پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پاکستانی سیاست کا ایک ایسا نام ہیں جن کی سیاست سے آپ اختلاف کریں یا اتفاق لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ پاکستانی سیاست نہ صرف ان کے ذکر کے بغیر نا مکمل ہے بلکہ انہوں نے پاکستانی سیاست پر اتنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں کے آج بھی پاکستانی سیاست میں ان کے نام کی گونج سنائی دیتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ہی پاکستانی سپریم کورٹ نے ذوالفقار

Read more

شہنشاہ جذبات ادا کار محمد علی کا 19 واں یوم وفات

پاکستانی فلمی صنعت کی مختصر تاریخ ادا کار محمد علی کے ذکر کے بغیر بالکل ہی ادھوری رہے گی۔ انہوں نے 33 برس تک پاکستانی فلمی صنعت پر راج کیا۔ 1962 ء میں ہدایت کار فضل کریم فضلی کی، فلم چراغ جلتا رہا، سے اپنا فلمی عہد شروع کیا۔ اس فلم کا افتتاح محترمہ فاطمہ جناح نے کیا اور یہ فلم کراچی کے نشاط سنیما میں نمائش پذیر ہوئی۔ چراغ جلتا رہا اتنی کامیاب فلم ثابت نہ ہوئی لیکن یہ

Read more

موت کی کتاب: ایک حقیقی ادبی تخلیق

یہ یقیناً ایک خوش آئند خبر ہے کہ معاصر ہندوستانی ادیب پروفیسر خالد جاوید کا ناول ”موت کی کتاب“ ایڈیشن بنیان کے زیرِ اہتمام شائع ہو کر منصۂ شہود پر آ گیا ہے، بالخصوص اس پس منظر میں کہ فرانسیسی زبان میں اردو ادب کے تراجم خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ اردو ادب ہمارے لیے ایک غیر دریافت شدہ براعظم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس شاندار اقدام کے لیے ڈیوڈ ایمے کو ہم مبارک باد دیتے ہیں اور روزن

Read more

دی کائٹ رنر: دوستی، بے وفائی اور ندامت جیسے احساسات پر مبنی ایک اثر انگیز ناول

دی کائٹ رنر خالد حُسینی کا پہلا ناول ہے۔ اس کی کہانی دوستی، بے وفائی اور ندامت جیسے احساسات سے بُنی گئی ہے۔ یہ کئی دہائیوں اور براعظموں پر محیط ہے اور انسان کی اندرونی کیفیات، تفرقوں میں بٹی معاشرت، سیاسی بحرانوں اور بین الاقوامی مداخلت جیسے موضوعات کو بخوبی بیان کرتا ہے۔ پہلے ناول نگار کے بارے میں جان لیتے ہیں۔ خالد حُسینی معروف افغان نژاد امریکی ادیب اور انسانی حقوق کے سرگرم رُکن ہیں۔ وہ پُراثر اور دل

Read more

کیا عوامی نظر میں مریم مرہم ہے؟ پارٹ ون

پنجاب بدلا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ مہنگائی کا جن قابو میں آ چکا ہے، گرانفروشوں کے خلاف سخت کارروائیوں کے سبب مارکیٹ میں ہر طرح کی اشیاء کی وافر مقدار موجود ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب نے ناجائز تجاوزات کے خلاف تاریخی آپریشن کر کے انتظامیہ کی ساخت کو بحال کیا ہے، اب ہر طرف گلیاں کوچے کشادہ اور صاف ستھرے دکھائی دیتے ہیں۔ صبح کے اوقات میں وردی پوش عملہ اب شہری آبادیوں تک محدود نہیں بلکہ یونین کونسل

Read more

بلوچستان، باریک بینی درکار ہے

گزشتہ کالم میں بلوچستان کے حوالے سے کچھ گزارشات عرض کی تھی۔ کچھ احباب نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس پر مزید گفتگو ہو، خاص طور پر اس تصور پر کے بلوچستان میں مسلح کارروائیاں کرنے والے عناصر کے سرپرستوں کے ذہن میں کیا کوئی اور بھی منصوبہ بندی ہو سکتی ہے اور اس زمینی حقیقت کے اظہر من الشمس ہونے کے باوجود کے وہ پاکستان کی جغرافیائی سالمیت کو گزند نہیں پہنچا سکتے ہیں مگر پھر بھی

Read more

باپ کی ممتا

ہمارے معاشرے میں باپ کو ہمیشہ ایک مضبوط، سنجیدہ اور ذمہ دار شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن اس کی ممتا کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ معاشرتی طور پر ممتا کا لفظ زیادہ تر ماں سے جوڑا جاتا ہے، جبکہ باپ کی محبت، قربانی اور احساسات کو ”ذمہ داری“ کے نام پر خاموشی سے قبول کر لیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ باپ کی ممتا بھی کسی ماں کی محبت سے کم نہیں ہوتی، بس

Read more

خواب، محبت اور زندگی (4)

امی ہمیشہ اپنے والد یعنی ہمارے نانا کو یاد کر کے اداس ہو جاتی تھیں۔ ”ابھی میں نے ٹھیک طرح سے ہوش بھی نہیں سنبھالا تھا کہ وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔“ لیکن بچپن کی کچھ خوشگوار یادیں بھی ان کے ساتھ رہتی تھیں۔ اپنی سہیلیوں کا ذکر وہ بہت محبت بھرے انداز میں کرتی تھیں خاص طور پر دو سکھ بہنوں کلونت کور اور بلونت کور کا جن کے ساتھ ان کا زیادہ وقت گزرتا تھا۔ ”سکھ، ہندو،

Read more

خواب، محبت اور زندگی (3)

جب دل ہی ٹوٹ گیا (Broken Heart Syndrome) پارٹیشن کے وقت امرتسر کی نصف آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی اور انہیں یقین تھا کہ امرتسر پاکستان میں شامل ہو گا۔ اسی طرح سکھ اور ہندوئوں کو جو لاہور کی آبادی کا ایک تہائی حصہ تھے یقین تھا کہ لاہور ہندوستان کو ملے گا۔ پارٹیشن سے پہلے کے مہینوں میں ہی امرتسر میں پر تشدد مذہبی فسادات شروع ہو گئے تھے۔ امی کے چھوٹے بھائی، ہمارے نثار ماموں کی عمر اس

Read more

مارچ یاد ہے لیکن بھگت سنگھ بھول گئے

23 مارچ جس کو یوم قرارداد پاکستان کہتے ہے۔ ہر سال 23 مارچ کو جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس پر لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ اس دن بہت سے لوگوں کو سرکاری اعزازات دیے جاتا ہیں۔ اس دن وزیر اعظم اور صدر کو پروٹوکول کے ساتھ پریڈ گراؤنڈ میں لایا جاتا ہے۔ اس دن وزیر اعظم اور صدر اپنے بیان میں اس ملک کی سلامتی کے لیے دعا کرتے ہیں۔ لیکن یہ نہیں پتہ اصل

Read more

فائدہ (افسانہ)

  آج صبح بھی جب وہ فجر کے وقت جاگا تھا تو اسے امید تھی کہ نیم گرم پانی کا گلاس یا تو بستر کے سرہانے رکھا ہو گا یا جب وہ وضو سے فارغ ہو گا تو شاید اسے نیم گرم پانی کے گلاس کی آفر ہوگی، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ مجبوراً اور حسب عادت خود ہی کچن میں جا کر ایک گلاس اٹھایا اور گیزر سے آدھا گلاس گرم پانی نکالا اور پھر ٹھنڈے پانی کے نل

Read more

مِصر کی جادو نَگری: کِپلنگ کا سفر نامہ ( 1913 ) دوسری اور آخری قسط

دریائے نیل میں تین ہفتہ مُسلسل اسٹیمر میں رہا۔ یہ دِن میں دو یا تین مرتبہ کنارے پر رُکتا۔ اِس سفر میں کچھ سیّاح ایسے بھی تھے جِن کے نزدیک مصر کی مشہوری صرف ممیوں تک محدود ہے۔ کہیں کہیں اسٹیمر کی دونوں جانب بیس بیس فٹ دور بھوری اور جامنی رنگ کی زمین تھی۔ یہ زیادہ تر صحرائی علاقہ ہے جو قدیم مصر میں اُس وقت بھی تھا جب فراعینِ مصر کے معمار اپنے فَن کی معراج پر تھے۔

Read more

جعفر ایکسپریس کا اغوا اور ہماری ’آزاد‘ صحافت

گزرے جمعہ کی شام سے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں امن وامان کی صورتحال تسلی بخش نہیں۔ حکومت مقابلہ کر رہی ہے بلوچ یکجہتی کونسل کی جانب سے برپا کیے احتجاج کا۔ مذکورہ تنظیم کی پہچان ماہ رنگ بلوچ ہیں۔ ’مسنگ پرسنز‘ کے معاملہ کو کئی برسوں سے اٹھانے کی وجہ سے یہ خاتون بلوچ نوجوانوں کے وسیع تر حلقوں میں مقبول سے مقبول تر ہو چکی ہیں۔ آخری خبریں آنے تک انھیں گرفتار بھی کیا جا چکا تھا۔ وجہ

Read more

دی پٹھان

اس نے 1914 میں آنکھ کھولی اور 1996 میں ابدی نیند سو گئے عبدالغنی خان جو کہ لیوانی فلسفی (نادان فلسفی) کے نام سے مشہور تھے ممتاز پشتون ریفارمر، سیاست دان اور عدم تشدد کے داعی خان عبدالغفار خان عرف باچا خان کے بڑے بیٹے تھے۔ سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے کی بدولت عبدالغنی خان پیدائشی سیاست دان تھے اور 1945 کی قانون ساز اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے تھے، انہوں نے 1954 میں سیاست کو خیرباد کہا اور

Read more

قربانی کی عورت

چاروں ٹانگیں رسیوں سے بندھی ہونے کے باوجود، زمین پر لٹائے ہوئے بکرے کو تین آدمیوں نے پکڑا ہوا تھا۔ قصائی بھی تیار تھا مگر جواد ہاشمی نے چھُری اپنے بیٹے تقی ہاشمی کو پکڑا کر تکبیر کا حکم صادر کر دیا۔ چھری چلتے ہی بکرے کی گردن سے خون کا ایک فوارا پھوٹا۔ کچھ چھینٹے جواد ہاشمی اور تقی ہاشمی کے چہروں پر بھی پڑے۔ قصائی نے اپنے کندھے پر پڑا صافہ جواد ہاشمی کی طرف بڑھایا کہ وہ

Read more

خواب، محبت اور زندگی( 2 )

زندگی۔ حصۂ اول یہ حصہ میرے بچپن یعنی پچاس اور ساٹھ کے عشرے کی یادوں پر مشتمل ہے۔ اس میں کچھ کہانیاں رومینٹک یا چٹ پٹی ہونے کی وجہ سے قارئین کے لئے دلچسپی کا باعث ہوں گی۔ خاص طور پر میرے والدین کی ڈرامائی لو میرج جو 1948 میں ایک غیر معمولی بات تھی۔ بچپن میں ہی مجھے سرمایہ دار طبقے کی رعونت اور جوڑ توڑ دیکھنے کا موقع ملا۔ اس کے ساتھ ساتھ میں نے اپنے والد کی

Read more

شناخت پریڈ

وضاحت: پاکستان کے قانون شہادت کی دفعہ 22 ہائی کورٹ سندھ کے مختلف سرکلرز اور سپریم کورٹ کی جاری کردہ ہدایات کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے پندرہ دن کے اندر اس کی شناخت ہوگی۔ اس شناخت کی بنیادی احتیاط یہ ہے کہ گواہ یا مدعی نے ملزم کو دوران حراست دیکھا نہ ہو، تاکہ عمل شناخت کا تقاضا غیر جانبدار اور شفاف رہے۔ اس کارروائی کی مزید تفصیل پولیس رولز مجریہ 1934 کی دفعہ 26.32 کی ذیلی شقوں سی

Read more

موت کا دریا (افسانہ)

دریا کنارے ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جس کی آبادی تیس افراد پر مشتمل تھی اور ان کا ذریعہ معاش گلہ بانی تھا۔ اِس کے علاوہ وہ زمین کے چھوٹے چھوٹے قطعات پر کھیتی باڑی بھی کرتے تھے۔ گاؤں کے مغرب میں صرف ایک کلو میٹر کے فاصلے پر برلبِ دریا ہی ایک دوسرا گاؤں تھا جو تھوڑا بڑا تھا اور وہاں چالیس سے پچاس افراد کی رہائش تھی۔ دونوں جگہوں کے رہنے والے آپس میں قریبی رشتہ دار تھے

Read more

خواب، محبت اور زندگی (1)

جوزا کچھ بھی کر سکتا ہے۔ (A Gemini can do anything) مجھے یہ کہانی پہلے، بہت پہلے لکھنی چاہیے تھی لیکن ہمیشہ کی طرح زندگی آڑے آ گئی۔ آج پچھتر سال کی عمر میں چھاتی کے سرطان کی سرجری سے گزرنے کے بعد میں میں نہیں جانتی کہ میرے پاس اپنی کہانی لکھنے کے لئے کتنا وقت بچا ہے۔ منیر نیازی کے بقول ’ہمیشہ دیر کر دیتی ہوں میں‘ ۔ جب میں کہتی ہوں کہ زندگی آڑے آ گئی تو

Read more

مصر کی جادو نگری۔ کپلنگ کا سفر نامہ۔ 1913

1913 کے مصر کا تاریخی اور سیاسی پس منظر مصر 639 میں مسلمانوں کے زیرِ انتظام آ گیا۔ تاریخ کا پہیہ چلتا رہا۔ پھر 878 سال بعد 1517 میں یہ ترکی کی عثمانیہ سلطنت کا حصہ بن گیا۔ اٹھارہویں صدی کے اواخر میں یورپی تجارتی طاقتوں، خاص طور پر فرانس اور برطانیہ نے مصر میں عثمانیہ حکومت کی عملداری کو چیلنج کرنا شروع کر دیا۔ حتیٰ کہ 1798 میں اُس وقت کے فرانسیسی حکمران نپولین نے مصر پر چڑھائی کر

Read more

فلسطین کا نوحہ

” ڈاڈھے دی مار تے لسے دی گال“ ، مطلب طاقتور مارتا ہے اور کمزور برا بھلا کہتا رہتا ہے۔ یا یوں کہہ لیجیے مغلظات کا رخ زور آور کی طرف کر دیتا ہے۔ ہم ایک عرصہ سے اپنے بے روح اجتماعات میں یہ دعا مانگتے آرہے ہیں یا اللہ ظالموں کو تباہ کردے۔ ان کے آلاتِ حرب کو زنگ آلود فرما دے، ان میں کیڑے پڑ جائیں۔ چوتھی نسل یہی دعائیں مانگتے چلے جا رہی ہے۔ مگر ظالم ٹس

Read more

کیا ہمارے معاشرے میں خواتین کی بہت عزت ہے؟

عالمی یوم نسواں کے حوالے سے احسن بودلہ صاحب کی دی بلیک ہول کی گفتگو اور کتاب کی رونمائی کی ویڈیو کے کچھ اولین لمحات دیکھنے کا موقع ملا۔ اچھی گفتگو تھی، سب کو سننی چاہیے۔ البتہ کچھ چیزیں ناچیز کے ذہن میں آئیں جن پر یہ تحریر لکھنے کی جسارت کرنی پڑی۔ ‎ڈاکٹر روش ندیم نے احسن صاحب سے پوچھا کہ ایک عام آدمی تو یہ سمجھتا ہے کہ وہ خواتین کو بہت عزت دے رہا ہے بحیثیت ماں

Read more

شیر خوار (افسانہ)

وہ سات برس کا ہو چکا تھا۔ اس کے بعد میرے تین بچے پیدا ہوئے۔ جب بھی بچہ میری کوکھ میں اپنی ٹانگیں پسارنے کی کوشش کرتا تو اس کی محبت کی قندیل اور روشن ہو جاتی۔ بہت پیارا بچہ تھا، گھنگریالے بال، گول چہرہ، دودھ ملائی سا رنگ، موتی جیسے دانت اور پھر جب وہ مسکراتا تو گالوں میں ایسا گڑھا پڑتا کہ دو بوند پانی آ کر ٹھہر جائے۔ ہم تو اسے باقی بچوں سے زیادہ چاہتے تھے۔

Read more

افضل اسٹوڈیو والے افضل ملک سے ایک بات چیت

  ریڈیو پاکستان لاہور میرا دوسرا گھر ہے۔ یہاں گیٹ کے سیکورٹی اہلکار، استقبالیہ اسٹاف، پروگرامز منیجر سلیم بزمی، میوزک پروڈیوسر استاد ثروت علی خان، لائبریری کی عظمیٰ صاحبہ، کرکٹ کمنٹیٹر راجہ اسد علی خان اور دیگر شعبوں کے ذمہ دار سب ہی بہت پیارے اور میٹھے لوگ ہیں۔ کچھ عرصہ اُدھر ایک موقع پر راجہ اسد علی خاں صاحب نے مجھے اپنے دوست، مشہورِ زمانہ افضل اسٹوڈیو کے افضل ملک کا ذکر کچھ اس انداز سے کیا کہ مجھے

Read more

قیصر عباس: جن سے نہ ملنے کے باوجود، ملنے کی خواہش برقرار رہی

بزرگوں کا یہ قول نہ جانے کتنی بار نظروں سے گزرا ہو گا کہ آدمی اپنی محفل سے پہچانا جاتا ہے۔ آج اتفاق سے ایک ایسی ہی شخصیت مقابل تھی جس سے، اس سے قبل کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی مگر وہ جس محفل سے متعلق رہے تھے، اُس سے بالواسطہ اور بلاواسطہ ضرور شناسائی رہی تھی اور شاید یہی وجہ تھی کہ اس وقت اُن سے ملتے ہوئے اجنبیت کا احساس قطعی نہیں تھا۔ ہاں! شعوری اور لاشعوری طور

Read more

داستان ایک ڈاکے کی

زندگی کا سفر طویل ہے۔ اس سفر میں بہت سے لوگ آتے ہیں۔ چلے جاتے ہیں۔ مقام آتے ہیں۔ تغیرات آتے ہیں۔ ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو دل و دماغ پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ لیکن وقت ظالم ہے۔ یہ دل کے قریب رہنے والے لوگ چھین لیتا ہے، وہ چہرے بھی چھین لیتا ہے جن کے بغیر ہم زندہ رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ پھر ان کی جگہ نئے چہرے آ جاتے ہیں۔ یہ گھر،

Read more

ایک یرغمالی کی ڈائری

یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب ہمارے ہاں اسکول صرف سرکاری ہوا کرتے تھے، ہم سنٹرل ماڈل اسکول لاہور میں پڑھتے تھے جو ہر لحاظ سے صوبے کا ایک رفیع الشان تعلیمی ادارہ تھا، اسکول کی عمارت پُر شکوہ، کمرے کُشادہ، اسمبلی گرائونڈ وسیع، اور اساتذہ طلباء کی تعلیم و تربیت میں یک سُو ہوا کرتے تھے۔ بورڈ کے امتحان میں میٹرک کی پہلی دس پوزیشنوں میں سے اگر کوئی ایک آدھ کسی اور اسکول کا طالبِ علم ’’چُرا‘‘

Read more

انوکھی لٹک اس کی باتوں میں ہے

(ارشد معراج کے لئے ایک اظہاریہ) دن کا پہلا پہر ہزارہ ایکسپریس نے جب ذرا ٹھیکی لی تو پتہ چلا یہ بھلروان ریلوے اسٹیشن ہے۔ پلیٹ فارم پر لگے سائن بورڈ پر نظر پڑتے ہی ذہن میں بے ساختہ ایک نام گونجا: ارشد معراج۔ کیوں؟ ابھی چند سال قبل تک یہ شہر اور اس کا نام میرے لیے بالکل اجنبی تھا مگر جب سے ارشد معراج کا لکھا ”بھلروان ریلوے اسٹیشن“ پڑھا مجھے یوں لگا یہ سب تو جیسے میرا

Read more

دو خوش قسمت شاعر: یزدانی جالندھری اور حامد یزدانی

دو دنیائیں ہم سب انسان دو دنیاؤں میں زندگی گزارتے ہیں۔ ایک خارج کی دنیا ایک داخل کی دنیا ایک باہر کی دنیا ایک اندر کی دنیا ایک حقائق کی دنیا ایک خیالوں کی دنیا حامد یزدانی اپنی تخلیق ”سوسن کے پھول“ کا تعارف کرواتے ہوئے رقم طراز ہیں : ’ باہر بھلے کوئی سا موسم ہو میرے اندر تو ہر دم ایک ہی رت کا ڈیرہ رہتا ہے۔ میں یادوں کے رنگا رنگ موسم میں بستا ہوں‘ حامد یزدانی

Read more

ٹیگور کی کہانیاں۔ دوسرا حصّہ

کلکتے کے مضافات میں زرعی زمینیں تھیں اور ہر طرف ہریالی ہی ہریالی تھی۔ چاول کی فصل پک رہی تھی، موسمِ گرما اپنی آخری ہچکیاں لے رہی تھی اور بادِ جنوب نمی کی وجہ سے ایک عجیب سی اُداسی لئے ناتواں بوڑھے سانپ کی طرح سرسرا رہی تھی۔ درختوں کے گرے پتّے تالاب میں بے جان مچھلیوں کی طرح بے ڈھنگی سے تیر رہے تھے۔ کافی دیر پیدل چلنے کی وجہ سے مجھے اپنے پیر بوجھل معلوم ہوئے تو میں

Read more

اے جوانانِ عجم

پوٹھوہار کی ریکارڈڈ تاریخ پہ نظر دوڑائیں تو نوآبادیاتی آقاؤں کو اپنے عسکری مقاصد کی خاطر اس خطے پہ بُری نظرِ (اور قدم) رکھنے کی وجہ یہی نظر آئے گی کہ یہاں کے باشندے تحرک پسند تھے / ہیں تبھی ولائتی سرکار نے بصرہ، فلانڈر، برما اور رنگون کے فرنگی محاذوں پہ پوٹھوہاری دیسی گندم اور گھی سے پلے نوجوان سپاہئیوں کو ”لام“ کی بھینٹ چڑھایا۔ اُن کی ہری فصلیں، بوڑھے والدین اور جوان بیوائیں دھاتی تمغوں اور انگریزی سیلوٹوں

Read more

مرد حضرات کے ہاتھوں عورتوں کا قتل

صبح صبح اٹھ کر اخبار کھولو تو زیادہ تر بری خبریں ہی پڑھنے کو ملتی ہیں۔ آج صبح بھی ایسی ہی چند خبریں پڑھنے کو ملیں اور دن بھر کوشش کرتی رہی کہ ان کے بارے میں نہ سوچوں لیکن رات گئے رہا نہیں گیا اور لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گئی۔ پہلی خبر تو یہ تھی کہ کراچی میں ملیر کورٹ کے باہر ایک صاحب نے اپنی بیوی کو چاقو کے وار کر کے ہلاک کر دیا، بیٹی نے

Read more

تنہائی کے ایک سو سال

گیبرئل گارشیا مارکیز بیسویں صدی کے سب سے ممتاز ادبی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ گیبرئل جادوئی حقیقت نگاری میں مہارت اور انسانی تجربات کی گہرائی سے تحقیق کے لیے مشہور ہیں۔ 1927 میں ارکاٹاکا، کولمبیا میں پیدا ہونے والے مارکیز نے اپنے کیریبین جڑوں سے متاثر ہو کر دیومالائی، تاریخی، اور عوامی داستانوں کو آپس میں جوڑ کر ایسی کہانیاں تخلیق کیں جو عالمی موضوعات کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کے کام خاص طور پر شاہکار ”تنہائی کے سو

Read more

سماجی نظم و ضبط ٹوٹا تو خانہ جنگی مقدر ہو گی

خیبر پختونخوا کے انتہائی جنوب میں پنجاب اور بلوچستان کے سنگم پہ واقع ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے گاؤں بگوانی شمالی میں پنچایت کی طرف سے 12 سالہ بچی کو ”ونی“ کرنے کے دکھ میں بچی کے باپ، عادل حجام، کی خودکشی کا واقعہ جہاں ہمارے نظام عدل کی زبوں حالی کا نوحہ تھا وہاں یہی دردناک سانحہ مائیکرو لیول پر بڑھتے ہوئے سماجی شعور کا انڈیکیٹر بھی واقع ہوا، ”ونی“ کی جانے والی بارہ سالہ بچی کے والد عادل

Read more

قاتلوں سے پیار: یوں بھی جشن طرب منائے گئے

اس وقت جب جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے سے، بے گناہ شہید مسافروں اور جوانوں کے غم سے سینے فگار تھے ’ان جاں گسل لمحات کی تکلیف کوئی ان مسافروں سے پوچھے جو عورتوں بچوں سمیت گولیوں کی بوچھاڑ میں قیامت خیز لمحات سے گزرے۔ دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے کچھ ذہنی عیاش نام نہاد منفی سوچ رکھنے والے طبقات اور جماعتیں‘ اس سانحہ میں دہشت گردوں کی زبان بولتے نظر آئے۔ انہیں

Read more

مولانا کوثر نیازی

ایک اعلیٰ پائے کے سیاست دان، عالم دین، خطیب و مقرر، شاعر، صحافی، ادیب اور دانشور تھے۔ فروری 1934 ء کو میانوالی کے مردم خیز علاقہ موسیٰ خیل میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ ان کے والد فتح خان نیازی اور چچا مظفر خان نیازی اپنے علاقے کی پر اثر شخصیات تھیں۔ کوثر نیازی کا پیدائشی نام محمد حیات خاں تھا۔ مدرسہ کی ابتدائی تعلیم کے دوران ہی شعر و شاعری شروع کر دی تو اپنا

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 36 : بوئنگ707

” لیکن جو خداوند پر امید رکھتے ہیں وہ نئی طاقت پائیں گے ؛ وہ عقاب کی مانند پرواز کریں گے ؛ وہ دوڑیں گے اور تھکیں گے نہیں۔ “ یسعیاہ 40 : 31 اُس زمانے میں کراچی ائرپورٹ کے ڈیپارچر ہال کی چاروں دیواروں کے ساتھ دنیا بھر کی ائر لائنز کے چیک اِن کاؤنٹرز تھے۔ کے ایل ایم، لُفتھانزا، ائر فرانس، بی او اے سی، پین ایم، ایلیٹالیا، کوانٹس، ایم ای اے، غرض دنیا کی کوئی ایسی بڑی

Read more

آشیانہ در قفس

میں نے اکمل شہزاد گھمن کی پنجابی کہانیوں کے مجموعہ ”پنجرے وچ آہلنا“ کو فارسی عنوان اپنی فارسی دانی کے اظہار کی خاطر نہیں دیا بلکہ اس لیے دیا کہ جب جدید فارسی افسانہ نگاروں اور شاعروں نے بول چال کی زبان استعمال کی اور می شود کو میشے لکھنا شروع کیا تو نہ صرف فارسی ادب کی شان بڑھی تھی بلکہ قارئین کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا تھا لیکن اکمل نے نئی چال یہ چلی کہ

Read more

غریبِ شہر زمان خان سے گفتگو

اس سال میرا پاکستان دو سال کے بعد آنا ہوا۔ اپنی ملازمت کو خیرآباد کہنا اور کمائی کے چکر سے نکل کر امریکہ سے پاکستان آنے کا ایک مقصد بہت سی ادھوری ملاقاتوں کا قرض چکانا تھا۔ وہ ملاقاتیں جن کے لیے نہ مجھے ادبی میلے ٹھیلوں میں جانے کی ضرورت ہے نہ ہی ہزاروں کا بل بناتے والے نامی گرامی فائیو اسٹارز ریسٹورنٹس میں شہر کے دانشوروں کے ساتھ دعوتیں اڑانے کی۔ اگر قریب کی آنکھ کام کر رہی

Read more

خالد سہیل اور حامد یزدانی کی مشترکہ محبوبہ

کتاب کے سرورق پر ”مشترکہ محبوبہ“ کا عنوان سامنے آتے ہی دل میں ایک شرارتی سی جنبش ہوتی ہے اور پہلا خیال یہی آتا ہے کہ یہ کسی سانجھی معشوقہ کی داستانِ دلفریب کا بیانیہ ہو گا۔ یا کوئی جادوگر حسینہ کی کتھا جو دو افراد پر عاشق ہو گئی ہے۔ اور اب اپنی کتھا سنا رہی ہے۔ مگر اس دلفریب عنوان کے نیچے اس مخمصے کو ایک بریکٹ کے اندر یہ تحریر لکھ کر دور کر دیا گیا کہ

Read more

غالب جو ایک شاعر تھا عالم میں انتخاب

دنیا میں سخنوروں کی کمی نہیں لیکن غالب کا اندازِ بیاں واقعی اور ہے۔ کہیں نہ کہیں سب مغلوب ہوئے مگر غالب ہر جگہ، غالب ہی ہے۔ شاعری فقط قافیہ پیمائی اور لفاظی کا نام نہیں بلکہ ایک بڑا شاعر ایک ہی وقت میں دانشور، عیب جُو، مورخ، حاذق، سیاستدان، عالمِ، فلسفی، طنز کار، مصلح اور صوفی بھی ہوتا ہے۔ اقبال جوانوں کو متاثر کرتا ہے جبکہ غالب ادھیڑ عمروں کا شاعر ہے اور جوانوں کے واسطے چچا غالب ہے۔

Read more

مریم نواز کی حکومت کا ایک سال۔ پارٹ 2

مریم نواز ”تخت لہور“ پر فائز ہوئیں تو ”سیاسی پنڈت“ خاتون ہونے کے ناتے ان کے ناکام وزیر اعلیٰ ہونے کے بارے میں پیشگوئیاں کرنے لگے لیکن مریم نواز نے سیاسی پنڈتوں کی تمام پیشگوئیوں کو غلط ثابت کر دکھایا گو کہ انہوں نے یہ سب کچھ دن رات کی محنت سے کر دکھایا جس کی ایک کامیاب وزیر اعلیٰ سے توقع کی جا سکتی تھی پنجاب میں دودھ اور شہد کی نہریں تو نہیں بہہ رہیں لیکن ہر کوئی

Read more

دیپ جلتے رہے: عفت نوید کی کتاب

2024 کے نومبر میں کراچی کے ایک ہوٹل کی لابی میں میری ملاقات عفت نوید سے ہوئی۔ مجھے اعزاز بخشا اور ملنے آئیں۔ ملاقات بہت مختصر رہی۔ تنگی وقت نے سیراب نہ ہونے دیا۔ لوگ دوچار ملاقاتوں میں کھلتے ہیں ہم اتنے کم وقت میں ہی کھل گئے۔ عفت سے مل کر یوں لگا جیسے کوئی سہیلی بچپن کی۔ ہم نے باتیں بھی کیں اور ہنسے بھی۔ عفت نے اپنی کتاب بھی مجھے دی۔ عفت کو جانے کی جلدی تھی

Read more

آخری اچھا مرد

بھارت کے آنجہانی ستیش کوشک کیا کچھ نہ تھے۔ اداکار، کامیڈین، رائٹر، پروڈیوسر ڈائریکٹر اور ایک بہت نفیس انسان۔ سونے کے دل والے۔ ہماری دوست کامیا پٹیل امریکی شہری قیام نیو جرسی مگر وہاں قیام صرف گرمیوں کے چند ماہ اور میں کم مگر ناسک اور ممبئی میں زیادہ قیام زیادہ رہتا ہے، اصل میں گجراتی طلاق کی وکیل اور سائیں بابا کی بھگتن۔ ستیش کوشک کو مدر تھریسا سے زیادہ مہان اور نمبر ون مانتی ہے۔ وہ اس جھگڑے

Read more

غزہ کے بچوں کے نام

دھوئیں اور گرد و غبار کے بادل روزانہ ابھرتے آفتاب کی نقاب پوشی کرتے۔ دن بھر فضائے آسمانی پر یہی چھائے رہتے۔ شام کو دبیز دھویں کی سحابی فوج تحت الثریٰ کی طرف جاتے سورج کی روشنی ڈھلنے سے بہت پہلے چھین لیتی۔ رات کو یہ سموگ پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی تو میرا کام مزید آسان ہو جاتا۔ تمام علاقہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ عمارتیں عجب ہیبت کذائی کی صورت اختیار کر چکی تھیں۔ چہار

Read more

شکرگزاری کے مریض

آج کل ہماری سیاست نسلوں سے منتقل کی گئی ”شکرگزاری“ کے لا علاج مرض میں اس قدر مبتلا ہے کہ علم اور دانش کی منتقلی کے بجائے اب ہم ”دہشت گردوں“ کی امریکا حوالگی یا منتقلی پر پھولے نہیں سما رہے اور ہمارے حکمران اور اپوزیشن کہلائی جانے والی جماعت تحریک انصاف کا بس نہیں چلتا کہ وہ صدر ٹرمپ کی قدم بوسی کر کے ”شکر گزاری“ پہ سجدہ ریز ہو جائیں اور اس وقت تک نہ اٹھیں جب تک

Read more

میری ماں، میری جنت

لفظ ماں دیکھنے میں تو محض تین الفاظ پر مشتمل ہے مگر درحقیقت دنیا بھر کی چاشنی انھی میں سمائی ہوئی ہے۔ ماں خدا کا دوسرا روپ ہوتی ہے۔ اگر پوچھا جائے کہ اس ارض و سماں پر خدا کس صورت میں موجود ہے تو اس کا بہترین جواب ماں ہے۔ ماں کی عادت خدا سے بہت ملتی ہے۔ ایک تو وہ زیادہ دیر تک ناراض نہیں رہتی دوسرا دونوں ہی معاف کر دیتے ہیں۔ ماں کی محبت کو دنیا

Read more

سیٹ ون سی

کتابیں دو قسم کی ہوتی ہیں، ایک وہ جو آپ کو مجبوراً پڑھنا پڑتی ہیں اور دوسری وہ جو آپ کو پڑھنے پر مجبور کرتی ہیں۔ ظفر مسعود کی کتاب ’سیٹ ون سی‘ کا شمار مؤخر الذکر کتابوں میں ہوتا ہے۔ ظفر مسعود پیشے کے اعتبار سے بینکر لیکن مورثی اعتبار سے فلسفی، نفسیات دان اور دانشور ہیں۔ ان کا تعلق اس خانوادے سے ہے جس کی رگوں میں نانا سید محمد تقی، رئیس امروہوی اور جون ایلیا کا خون

Read more

درد کا رشتہ

ایک تو زندگی کا سفر ہے جو موت کے ساتھ اختتام پذیر ہوتا ہے اور ایک موت نامی حقیقت کے ساتھ آگہی کا سفر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ یہ جو دوسرا سفر ہے یہ درد کے رشتے سے عبارت ہے اور اس رشتے سے ہر کوئی بندھا ہے جس نے کسی اپنے کو کھویا ہو۔ ہمارے ہاں اس درد کے رشتے کے اظہار کو افسوس یا افسوس کرنا کہتے ہیں۔ جس طرح وقت کے ساتھ باقی باتیں بدلی

Read more

مشکل کے ساتھ آسانی ہے لیکن توکل ضروری ہے

پریشان وہ نہیں جو پریشانیوں میں گھرا ہو بلکہ پریشان وہ ہے جو خود پر پریشانیوں کو طاری کر لیتا ہے۔ ہمارے ہاں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور ضروریات زندگی کا پورا نہ ہونا سفید پوش عوام کے لئے امتحان ہے۔ بہت سے افراد وقتی مشکلات کو برداشت نہیں کر پاتے ہیں اور آمدنی میں اضافے اور زندگی کو آسان بنانے کے لئے غلط راستے پر چل پڑتے ہیں۔ حال ہی کی بات ہے میں نے ایک ایپ کے

Read more

چارلس ڈارون سے کون خوفزدہ ہے؟

  (یووال نوح ہراری کی کتاب ہومو ڈیوس سے ایک مضمون کا ترجمہ) گیلپ سروے ( 2012 ) کے مطابق صرف 15 فیصد امریکی سمجھتے ہیں کہ ہوموسیپینز قدرتی انتخاب کے ذریعے ارتقا پذیر ہوئے ہیں اور کسی بھی الہامی مداخلت کے بغیر۔ 32 فیصد لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ انسان اپنی موجودہ حالت میں لاکھوں سالوں میں دوسرے جانداروں سے ارتقا پذیر ہوا ہو لیکن یہ سارا عمل خدا کی ہدایت پر ہوا ہو

Read more

جدید معاشرہ اور صنفی امتیازات

دینِ اسلام میں کوئی عورت حکمران یا کسی ملک کی سربراہ نہیں بن سکتی۔ علمائے اسلام کا خیال ہے کہ امورِ سلطنت کی نظامت مرد کے علاوہ کوئی اور نہیں کر سکتا اس لیے کہ عورت میں کچھ طبعی کمزوریاں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ شرعی حدود ہیں جس کے باعث وہ مردوں کے شانہ بہ شانہ مجالس و تقریبات میں شامل نہیں ہو سکتی۔ کچھ علما نے تو پیغمبرِ اسلام کی حدیث بھی پیش کی ہے کہ وہ

Read more

گٹیالیاں پتن اور کرشن چندر کا رومانس

کرشن چندر اردو افسانہ اور ناول نگاری میں ایک بہت بڑا نام ہے۔ اُن کے والد پونچھ کے راجہ کے ذاتی معالج تھے۔ کرشن چندر کا بچپن پونچھ میں گزرا۔ بچپن میں اپنے والد کے ساتھ اور بعد میں اکیلے متعدد بار اُنھوں نے پونچھ سے لاہور اور دہلی تک کا سفر کیا۔ یہ سفر پونچھ سے میرپور اور پھر گٹیالیاں پتن سے کشتی کے ذریعے دریا پار کر کے جہلم سے بذریعہ ریل گاڑی لاہور اور دہلی تک کیا

Read more

پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط (سلسلہ وار 8 )

ہمیں بچپن سے یہ سکھایا گیا کہ استاد کی عزت کرو ہمیشہ اپنے بڑوں سے سنا کہ جو استاد کی عزت نہیں کرتا وہ بے ادب رہ جا تا ہے۔ علم حاصل کرنے کے لئے استاد کی عزت ضروری ہے۔ آج کے بچے ماں باپ اور استاد سے دور ہو گئے ہیں اور گوگل سے قریب۔ کوئی مسئلہ پیش آیا نہیں کہ گوگل سے مدد مانگ لی۔ جب ہم کسی مسئلے میں ہوتے تو والدین کی مدد چاہتے تھے جس

Read more

بے بس مائیں، گمشدہ صدائیں

ماں کے وجود سے جنم لینے والی دنیا نے ہمیشہ اسی ماں کو صبر کا درس دیا، قربانی کا بوجھ دیا، اور خاموشی کی زنجیروں میں جکڑ دیا۔ وہ جو سب کے لیے روشنی کا مینار بنی، خود اندھیروں میں دھکیل دی گئی۔ وہ بہن جو بھائی کے لیے دعا کرتی رہی، وہ بیٹی جو باپ کے سائے میں پروان چڑھی، وہ بیوی جو شوہر کے لیے زندگی کا سہارا بنی۔ مگر جب اس نے اپنے لیے جینے کی خواہش

Read more

معلم کا روحانی پدرانہ کردار

روحانی باپ کا تصور مختلف مذاہب اور ثقافتوں میں صدیوں سے موجود ہے، جہاں روحانی رہنما کو والد جیسا درجہ دیا جاتا ہے جو رہنمائی، حکمت اور سرپرستی فراہم کرتا ہے۔ یہ تعلق نہ صرف مذہبی بلکہ جذباتی اور سماجی طور پر بھی گہرا ہوتا ہے۔ مسیحیت میں پادریوں کو ”باپ“ کہا جاتا ہے جبکہ اسلامی تصوف میں مرشد کی حیثیت ایک رہنما کی ہوتی ہے جو مریدوں کی روحانی ترقی میں مدد فراہم کرتا ہے۔ تاہم، حالیہ دہائیوں میں

Read more

بلاسفیمی بزنس گروپ بہت ایمانداری سے کام کرتا ہے

بلاسفیمی بزنس گروپ کے بارے میں فیکٹ فوکس کی تازہ سٹوری تو آپ کی نظر سے گزری ہو گی۔ اس کے بعد کچھ اور لوگوں کی تحریریں بھی سامنے آئی ہیں جنہوں نے بلاسفیمی بزنس گروپ کے خلاف اپنی دشمنی کا اظہار کیا اور خوب زہر اگلا ہے۔ یہ سب لوگ متعصب ہیں اور انسانی جان کو بہت قیمتی سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ اس بزنس گروپ کے خلاف غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں۔ اس آرٹیکل کا مقصد بلاسفیمی بزنس

Read more

پختونوں کی غداری پر دھینگا مشتی

کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر کچھ پختون قوم پرستوں، کچھ سوڈو قوم پرستوں، کچھ نیم پکے قوم پرستوں اور کچھ الٹرا قوم پرستوں کے درمیان، ملک کے ساتھ ان کے آپس کے تعلق اور اخلاص پر لڑائی جاری ہے۔ سارے قوم پرست مانیں یا نہ مانیں، لیکن وہ پاکستانی ہیں۔ دنیا بھر میں ان کی پہچان پاکستانی ہے۔ تبھی تو جب بھی ان سے شناخت مانگی جائے، تو پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پیش کر کے اپنی پاکستانی شناخت

Read more

دہشت گردی کا عفریت:ہر ایک سمت موت ہی رقصاں ہے دوستو!

ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے مصطفی خان شیفتہ کا یہ شعر ایسے بے نفسوں کی طرف توجہ مبذول کراتا ہے کہ بے غرض لوگ کیسے اہل غرض کو شرمندہ کر دیتے ہیں ایسی مثالیں تاریخ میں خال خال ہی نظر آتی ہیں۔ مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک سے جمعیت علمائے اسلام کے ٹکٹ پر 1970 ء کے انتخابات میں اجمل خٹک کو شکست دے کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ 1973

Read more

کعبہ پہ پڑی پہلی نظر

2025 کا آغاز بے حد حسین تھا۔ ہر سال کا آغاز ایسے ہی ہو تو اس سے زیادہ خوش قسمتی کسی انسان کی کیا ہو گی۔ ہم عمرہ کی نیت سے اللہ کے گھر کے مہمان بننے والے تھے۔ جیسے جیسے دن نزدیک آ رہے تھے، تیاریوں میں بھی تیزی آ رہی تھی اور اندیشوں میں بھی۔ اندیشہ اس بات کا کہ ہم تو پہلی بار جا رہے ہیں، کوئی غلطی سرزد نا ہو جائے۔ کبھی کسی سے مشورہ، کبھی

Read more

بہن بیٹی کے نام سے خوفزدہ معاشرہ

گزرے دسمبر میں ایک دوست کے بیٹے کی شادی تھی۔ دعوتِ ولیمہ میں ملک بھر سے اہم شخصیات شریک تھیں۔ جہاں بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر فائز لوگ، سیاستدان، وکلا اور کاروباری شخصیات موجود تھیں وہاں کئی مذہبی رہنما بھی تھے۔ جیسا کہ ہمارے ہاں ولیمے کا کھانا کھولنے سے پہلے کسی مولانا صاحب کو دعا کے لیے کہا جاتا ہے، تو اس ولیمے میں دعا کی سعادت چکوال کے ایک معروف عالمِ دین کو حاصل ہوئی۔ دعا کے دوران

Read more

یوم نسواں پہ کچھ اچھے مردوں کو سلام

عام عورت چاہے وہ ورکنگ ہو یا خاتون خانہ مجھے ہمیشہ مصلحت کی دریدہ چادر اوڑھے جبر کی مختلف صورتیں سہتی یہی کہتی ملتی ہے ”تم جانتی ہو یہ مرد ایسے ہی ہوتے ہیں“ یہ اعتراف نہیں اعتراف شکست ہے ؛ مرد کی بدزبانی پہ، اس کی پینترے بدلتی بلکہ کینچلی بدلتی فطرت اور بے وفائی پہ۔ یہ اعتراف شکست ہے اس کے رکھے ناروا سلوک پہ اور یہ سب سہ کر ہم اپنی بیٹیوں کو بھی یہی مصلحت بھری

Read more

جنت نما ضلع کرم جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں

ہم جب جنت کا نام سنتے ہیں تو ہمارے ذہن کی سکرین پر خوبصورت نظاروں، جھرنوں، دودھ اور شہد کے نہروں سمیت غلماں اور حوروں کی تصوراتی فلم چلنے لگتی ہے بالکل اسی طرح اگر کسی نے ضلع کرم دیکھا ہو تو اس کے ذہن میں سب سے پہلا خیال جنت ثانی کے نام سے آئے گا کہ اگر جنت ثانی ہے تو کرم کا علاقہ پاڑا چنار ہی ہے کیونکہ پاڑا چنار میں بھی ویسے ہی نظارے ہیں، خوبصورت

Read more

تنہائی کی تین وجوہات

تنہائی بظاہر اکیلے رہنے کا نام ہے۔ کیا یہ صحیح ہے۔ زیادہ تر لوگ اس بات پر اتّفاق کریں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ آپ اکثر افراد کے جھمگٹے میں گھرے ہوں گے مگر پھر بھی تنہا ہوں گے۔ تنہائی ایک احساس کا نام ہے جو ہر دم آپ کے ساتھ لگا رہتا ہے۔ آپ کے ارد گرد آپ سے بظاہر شدید محبّت رکھنے یا اس کا اظہار کرنے والے لوگ ہوں گے مگر آپ پھر بھی اپنے آپ کو

Read more

کنیز فاطمہ کو گھر بسانا ہے (پانچویں قسط)

اگر بن بلائے، بن چاہے اولاد ہو، اور وہ بھی لڑکی، کی نشانیاں لیے، تو وہ بیٹی نہیں، لڑکی ہوتی ہے۔ اور لڑکی کا نام پہلے سے نہیں سوچا جاتا، بلکہ بعد میں بھی نام کا تکلف نہیں کیا جاتا۔ اس زمانے میں ہسپتال میں تو بچے ہوتے نہیں تھے، کہ میڈیکل سرٹیفکیٹ میں نام لکھوانے کی غرض سے نرس آئے اور نام پوچھے۔ یہاں تو ہر شیر خوار، لڑکی کو منی کہا جاتا، چوتھی لڑکی تک تو کنیز فاطمہ

Read more

سرداراں بی بی: ایک باہمت اور با اثر خاتون

تصویریں نا صرف بولتی ہیں بلکہ اپنے وجود کا برملا اظہار بھی کرتی ہیں۔ اس بات کا تجربہ مجھے گزشتہ سال ہوا جب معروف ماہرِ نفسیات ڈاکٹر خالد سہیل، جو کینیڈا سے کراچی میرے گھر آئے تھے، میرے اسٹوڈیو میں لگی میری دادی کی تصویر دیکھ کر پوچھنے لگے۔ ”یہ کس کی تصویر ہے؟“ میں نے جواب دیا، ”یہ میری دادی کی تصویر ہے، جو اب اس دُنیا میں نہیں رہیں۔ وہ 5 مارچ 2016 کو اس جہانِ فانی سے

Read more

حصولِ علم کا آغاز

ہمارے گاؤں میں قیامِ پاکستان سے پہلے ہی لڑکوں کے لیے ایک پرائمری سکول موجود تھا۔ جہاں پر ہمارے گاؤں کے ساتھ ساتھ اردگرد کے دیہات کے بچے بھی حصولِ علم کے لیے آیا کرتے تھے۔ ابا جی قریبی شہر بورے والا کے ایک سرکاری سکول میں ٹیچر تھے۔ مجھ سے بڑے میرے دو بھائی تھے اور اُن دونوں نے پرائمری تک ہمارے گاؤں کے سکول میں تعلیم حاصل کی اور چھٹی جماعت میں ابا جی کے ساتھ آ کر

Read more

کوزے بچ دریا

ضرب المثل اور محاورہ کسی بھی زبان کی تکمیل کے لیے لازم تصور کیے جاتے ہیں جو گفتگو، تقریر یا تحریر کو موثر اور مختصر بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جہاں کسی بات کی وضاحت و صراحت کے لیے کئی ایک جملوں کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے وہاں ایک ضرب المثل یا محاورہ کافی سمجھا جاتا ہے اور بات کا مفہوم بھی واضح ہو جاتا ہے۔ دراصل ضرب المثل یا محاورہ انسانی زندگی میں بار بار

Read more

ٹیگور کی کہانیاں۔ پہلا حصّہ

اگر ہم یہ کہیں کہ مغربی ادب کے مطالعے نے ادب کے متعلق ہمارے روایتی فکری رویّوں کو چیلنج کیا ہے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا۔ مگر چونکہ ہماری ادب کی جڑیں مشرقی طرزِ فکر کی سرزمین میں پیوست ہیں تو ہمارا تخلیقی ادب اکثر اسی طرزِ فکر کی ترجمانی کرتا نظر آئے گا۔ مغرب اور مشرق کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ مغرب ”ڈارک ایج“ سے نکلنے کے بعد ایک واضح ڈائریکشن پہ اپنی سمت

Read more

تعلق کا نا دیدہ بوجھ: نادرہ مہر نواز کی کتاب پر تبصرہ

نادرہ مہر نواز کی تحریریں بہت عرصے سے پڑھ رہی ہوں۔ ایک بار ان سے روبرو ملاقات بھی ہوئی، جو سو ملاقاتوں پر بھاری ہے۔ ان کی شخصیت کے کئی پہلو ایک ہی ملاقات میں سامنے آ گئے۔ اس وقت سمجھ نہیں آ رہا، کہ ان کی تحریر پر تبصرہ کروں یا شخصی خاکہ لکھوں۔ انسان کو پڑھنا، سمجھنا میرا پسندیدہ موضوع ہے۔ نادرہ اپنی تحریروں کی طرح سچی اور بے باک ہیں۔ وہ کھل کر ہنستی اور کھل کر

Read more

ممی کی ڈائری: بچے بڑے ہونے لگیں تو مائیں بھی بڑی ہو جاتی ہیں

بچے بڑے ہونے لگیں تو مائیں بھی بڑی ہو جاتی ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مدرہڈ آسان ہونے لگتی ہے بلکہ بڑے ہوتے ہوتے تو یہ اور بھی مشکل ہونے لگتی ہے جب وہی گود میں ساری رات جھولا لینے والے بچے کہنے لگتے ہیں Mama, you are toxic! وہی جن کے نہلاتے دھلاتے شہزادے شہزادیاں بناتے مائیں سالہا سال منہ دھونا، نہانا کپڑے بدلنا تک بھول جاتی ہیں ان کو ایک دم ماں ان کی ساری

Read more

”ا وبنٹو ا وبنٹو“ میں اس لیے ہوں کہ ہم سب ہیں!

کہتے ہیں کہ ایک قدیم افریقی قبائل کے بچوں کو ایک پیشکش کی گئی کہ انعام کے طور پر درخت کے تنے کے قریب ایک پھلوں کی ٹوکری رکھ دی گئی اور کہا گیا کہ درخت تک پہنچنے وا لا پہلا بچہ پھلوں کی یہ ٹوکری جیت لے جائے گا جب انہیں اسٹارٹ کا سگنل دیا گیا تو وہ ایک ساتھ مل کر درخت کی جانب چلتے رہے جب تک وہ درخت تک نہ پہنچے کوئی کسی سے آگے نہ

Read more

میرا یہ حال کیوں ہوا؟

تصور کیجیے کہ آپ ایک سرنگ میں ہیں اور آپ کو وقفے وقفے سے آکسیجن مل رہی ہے۔ جس وقفے میں آکسیجن نہیں ملتی، آپ کی طبیعت بگڑنے لگتی ہے۔ آکسیجن کی بحالی آپ کو پھر سے تازہ دم کرتی ہے۔ لیکن پھر آکسیجن نہ ملنے کا دورانیہ بڑھنے لگتا ہے، آپ کی سانس تنگ ہونے لگتی ہے، ذہن پہ غنودگی چھا رہی ہے۔ آپ سرنگ سے باہر نکلنا چاہتے ہیں جلد از جلد لیکن سرنگ کا راستہ کچھ ایسا

Read more

ولادیمیر زیلنسکی صاحب، آئیں ہم افغانوں کے مہمان بنیں

زیلنسکی ٹرمپ کا میڈی شو دیکھ کر ہم نے خان بابا کو فون لگایا اور پوچھا، خان جی یہ امریکیوں نے اپنے مہمان ”اداکار“ کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا۔ آپ اس حوالے سے کیا کہتے ہیں۔ خان بابا نے اپنی کان پھاڑ آواز میں امریکیوں کے بارے میں چند نازیبا کلمات کہے اور پھر کہا، تم زیلنسکی کو بولو، وہ امریکہ ذلیل ہونے کیوں جاتا ہے، وہ ہم افغانوں کا مہمان بنے۔ پوری دنیا افغانوں اور پختونوں کی مہمان

Read more

پھولوں کے کاغذ پہ آگ کی لکھت

  ”میری تحریر، کیا نظم اور نثر، میں جانتی ہوں غیر قانونی بچّے کی طرح ہیں۔“ یہ الفاظ پنجابی کی مشہور ادیبہ امرتا پریتم کے ہیں جنہوں نے اپنی آپ بیتی لکھنے سے پہلے یہ تہیہ کر لیا تھا کہ وہ اپنی آپ بیتی صرف دس سطروں میں لکھے گی، جس کی پہلی سطر یہی ہو گی۔ سچ میں اگر آپ دیکھ لیں تو اعلیٰ پائے کا ادب جس میں صدیوں تک زندہ رہنے کی صلاحیت موجود ہو وہ سماجی

Read more

تشدد کی نئی لہر کا محرک کون ہے؟

پچھلے 45 سال سے دو بڑی افغان جنگوں کے دوران جہادی کارکنوں کے سرچشمہ کی حیثیت رکھنے والے دارالعلوم حقانیہ نوشہرہ میں خودکش دھماکہ میں ممتاز عالم دین مولانا حامد الحق سمیت چھ افراد کی شہادت بڑی پالیسی شفٹ کا شاخسانہ دکھائی دیتی ہے۔ چار دہائیوں پہ محیط عالمی طاقتوں کی ”گریٹ گیم وار فیئر“ کے دوران مدرسہ حقانیہ ہمارے نیشنل سیکورٹی بیانیہ کا نقاب ابہام ہونے کی وجہ سے خاصی اہمیت کا حامل رہا چنانچہ جامعہ حقانیہ تک خود

Read more

آخر محمد رضوان کی تسبیح ہی کیوں بری لگ رہی ہے؟

”کھیل کے میدان میں لڑنے والے دو فریقوں میں فاتح ایک ہی ہوتا ہے، اور یہ وہ ہوتا ہے جس کے پاس بہتر منصوبہ سازی، کھیل کی مہارت، جیت کا عزم اور مضبوط اعصاب ہوں۔ نہ کہ وہ جو تسبیح، وظائف کثرت سے کرتا ہو۔“ یہ وہ تنقید ہے جو پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم پر چیمپئنز ٹرافی 2025 سے پہلے مرحلے میں باہر ہو جانے کے بعد ہو رہی ہے۔ ان سے ملتے جلتے الفاظ میں یہی بات ٹی

Read more

ڈاکٹر عبدالسلام کا ادبی ذوق

پاکستان کے واحد نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام ( 1926۔ 1996 ) ادیب بھی تھے اور چوٹی کے سائنسدان بھی۔ ادیب پہلے تھے سائنسدان بعد میں بنے۔ ادب ان کے ڈی این اے میں تھا جس کو پروان ان کے مشفق والد اور بے لوث اساتذہ کی تربیت نے چڑھایا تھا۔ ایک اخباری نمائندے نے ان سے سوال کیا عموماً خیال کیا جاتا ہے کہ سائنسدان خشک مزاج لوگ ہوتے ہیں؟ اس کے جواب ڈاکٹر سلام نے کہا یہ

Read more

شاعر انقلاب، شاعر شباب و شاعر آخر الزماں کی 43 ویں برسی

جوش ملیح آبادی نے اپنے متعلق کہا تھا میں شاعر آخر الزماں ہوں اے جوش جوش ملیح آبادی کا اصل نام شبیر حسن خان تھا۔ وہ اتر پردیش، ہندوستان کے مردم خیز خطہ ملیح آباد میں 5 دسمبر 1898 کو پیدا ہوئے۔ وہ ملیح آباد کے ایک مشہور، متمول اور جاگیردار خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق آفریدی قبیلے سے تھا۔ وہ خاندانی رئیس تھے۔ ان کے والد کا نام نواب بشیر احمد خان، دادا کا نام نواب محمد

Read more