ادیبوں کے لطائف

جاوید اختر اور شبانہ اعظمی سے ٹیلی ویژن پر انٹرویو چل رہا تھا۔ اینکر نے شبانہ سے سوال کیا کہ کیا جاوید اختر جیسی شاعری کرتے ہیں یہ تو بڑے رومانٹک ہوں گے؟ شبانہ نے جواب دیا رومانس تو انہیں چھو کر بھی نہیں گزرا ہے۔ اینکر نے جاوید کی طرف دیکھا تو بولے جو لوگ سرکس میں کام کرتے ہیں وہ اپنے گھر میں تھوڑا لٹکے ہوئے ملتے ہیں۔ ضمیر جعفری نے بشریٰ رحمن کے بارے میں لکھا: اس

Read more

جدت، محبت اور ثقافت کا سنگم ‘طلسم ہوش افزا’

زمانہ قدیم کے داستان گو کے ہاں افکار و خیال سے کہیں بڑھ کر کہانی کہنے کا انداز معانی رکھتا تھا، اس کے الفاظ کا اتار چڑھاؤ سننے والوں کے دلوں میں بھی جوار بھاٹے کا باعث بنے یہ اس کی کامیابی تھی۔ وہ اپنے الفاظ سے تخیل کا ایک جہان تخلیق کرتا اور اس کے سننے والے ساتھ ہی ساتھ ان جزیروں کی سیر کرتے، باغوں کے ثمرات سے لطف و اندوز ہوتے، جانوروں سے ہم کلامی کرتے اور

Read more

غریب ملک اور عوام چل کریں

غریب لوگ بہت خوش قسمت ہیں۔ یقین نہ آئے تو کسی مذہبی رہنما سے پوچھ کر دیکھ لیں۔ غربت کے اصل فائدے وہی آپ کو بتا سکتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ غریب انسان دنیا و آخرت میں حساب کتاب کے جھنجھٹ سے بچ جاتا ہے۔ اور کم ازکم بھوک سے نہیں مرتا۔ کسی نہ کسی طرح کہیں نہ کہیں سے خوراک کا انتظام ہو ہی جاتا ہے۔ اس سے بڑا فائدہ کیا ہو گا کہ چوری بھی کرے تو چور نہیں مجبور کہلاتا ہے۔

Read more

شہزاد احمد کی فکری اور تخلیقی جہات

اردو ادب کے معروف شاعر، ادیب، نقاد، مترجم اور مجلس ترقی ادب کے ڈائریکٹر شہزاد احمد 16 اپریل 1932 ع کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے نفسیات اور فلسفہ میں ماسٹر کیا۔ ان کے شعری اور نثری کام پر ایک نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی کے ہمہ گیر پہلووٴں میں دلچسپی لینے والے ادیب تھے۔ شاعری میں صدف، جلتی بجھتی آنکھیں، ادھ کھلا دریچہ، خالی آسمان، بکھر جانے کی رت، رنگ غزل، ٹوٹا ہوا پل، زینہ بہ زینہ سمیت دس شعری مجموعے شائع ہوئے۔

Read more

یونس وریام کا فن و شخصیت

فاضل دوست یونس وریام شہر لاہور کا باسی ہے۔ اس کا ادب کے ساتھ والہانہ لگاؤ ہے۔ میری ان کے ساتھ کئی رسمی اور غیر رسمی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ ہمیشہ خلوص اور محبت سے ملیں ہیں۔ جہاں ان کی شخصیت میں علم دوستی ہے وہاں ملنساری کا جذبہ بھی پنہاں ہے۔ اگر فطرت میں محبت اور خوشی کا عنصر ہو تو ادب دوستی کا حق ادا ہوتا ہے۔ جو لوگ مذکورہ صفات سے جان چھڑاتے ہیں وہ اکثر تنہا رہ جاتے ہیں۔ مگر یونس وریام نے اس سلسلے میں ہمیشہ اپنے قد کو بلند رکھا ہے۔ ادب کا روگ ہر کوئی اپنی فطرت میں نہیں پالتا اور نہ اس کی پرورش کرتا ہے۔ کیونکہ ہر کام محنت لگن اور جستجو سے پایا تکمیل تک پہنچتا ہے۔ کیونکہ یہ بات یقین کامل ہے کہ کسی بھی کام میں جب تک مسلسل ریاضت نہ کی جائے وہ پھل دار ثابت نہیں ہوتا ہے۔

Read more

ظریفہ جان: کشمیر کی ان پڑھ شاعرہ جنھوں نے شعر کہنے کے لیے منفرد زبان تخلیق کی

ظریفہ جان انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی ایک شاعرہ ہیں۔ انھوں نے کشمیری زبان میں سیکڑوں نظمیں کہی ہیں۔ وہ پڑھی لکھی نہیں ہیں۔ انھوں نے اپنی نظمیں اور اشعار یاد رکھنے کے لیے ایک منفرد علامتی زبان تخلیق کر دی ہے۔

Read more

ہماری سیاست

کیرئیر پلاننگ والے بھانت بھانت کی بولیاں بولتے ہیں۔ میٹرک سے شروع ہو کر ایف اے، ایف ایس سی تک پورا زور دیا جاتا ہے کہ کیرئیر کی چوائس کر لی جائے تاکہ مستقبل محفوظ اور جاندار ہو جائے۔ جوان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے اور اپنا اور اپنے خاندان کے لیے مال اسباب اکٹھا کرنے کا ذریعہ ثابت ہو۔ مگر یہی کیرئیر پلاننگ ہمیں اس وقت عجیب مخمصے میں ڈال دیتی ہے۔ جب کوئی بالکل نارمل سا شخص

Read more

غافر شہزاد کے ناول ’‘ مکلی میں مرگ ”کا ایک جائزہ

  ’‘ مکلی میں مرگ ”غافر شہزاد کا چھٹا ناول ہے۔ مکلی سندھ کے علاقے ٹھٹھہ کے قریب ایک قدیم قبرستان ہے جہاں گزری صدیوں کے بادشاہوں اور نوابوں کے مقابر ہیں جو اپنے اندر دفن شخصیات کی عظمت اور سطوت کے غماز ہیں۔ سندھ کی قدیم عمارتوں اور قبرستانوں میں فن تعمیر اپنی انتہا کو چھوتا ہوا محسوس ہوتا ہے جسے دیکھنے کے لیے دنیا جہان سے لوگ یہاں سیاحت کے لیے آتے ہیں۔ ماہر تعمیرات، تاریخ کے طالب

Read more

ڈاکٹر محمد ارشد اویسی۔ مہربان اور فعال استاد، باغ و بہار شخصیت

ڈاکٹر محمد ارشد اویسی 2006 ء میں شعبہ اردو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر تعینات ہوئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مجھے یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے بطور لیکچرار منسلک ہوئے تین برس کا عرصہ ہو چکا تھا۔ چرچا تھا کہ پنجاب اسمبلی سے ایک شخص یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے وابستہ ہوا ہے۔ ڈاکٹر محمد ارشد اویسی کافی عرصے تک پنجاب اسمبلی میں اپنی خدمات انجام دے چکے تھے۔ انہیں پنجاب اسمبلی کی کارروائیوں وہاں

Read more

ایڈورڈ سعید، دانشور اور پاکستان

9 ستمبر 2001 کے حملوں کے چند ہفتوں کے بعد مجھے ایک ای میل کے ذریعے امریکی فلسفی نوم چومسکی کے ایک لیکچر کا تحریری مسودہ موصول ہوا۔ یہ لیکچر انہوں نے امریکی باشندوں کے سامنے کسی یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں دیا تھا۔ جب پورا مغرب ان حملوں کا تمام تر الزام مسلمانوں پر عائد کرنے کے بعد اسلام اور دہشت گردی کو ہم معنی قرار دے رہا تھا نوم چومسکی نے اپنے لیکچر میں امریکی حکومت کی ان فوجی

Read more

وے سب توں سوہنیا، ہائے وے من موہنیا

جو شخص سانڈے کا تیل خرید سکتا ہے وہ کوئی بھی چورن، مرہم یا پھکی خرید سکتا ہے۔ بس یہ کہ بیچنے والا ممکنہ گاہکوں کی جبلی روحانی و جسمانی کمزوریوں، خواہشات اور بے صبر طبیعت کو شاندار گرما گرم تقریر کے دھاگے میں پرونے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

Read more

”کائنات“ کے ”بیک یارڈ“ سے

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شیر نے لومڑی کو پکڑ لیا اور اسے کھانے لگا۔ لومڑی بولی بادشاہ! مجھے کھا جاؤ گے تو تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔ اگر مجھے چھوڑ دو تو میں تمہیں ایک بہت بڑی خبر سناتی ہیں۔ شیر نے کہا کہ پہلے خبر سناؤ، اگر واقعی بڑی ہوئی تو تمہیں چھوڑ دوں گا۔ لومڑی بولی کہ بادشاہ سلامت قیامت آنے والی ہے، اور اس پہاڑی کی دوسری جانب پہنچ چکی ہے۔ خبر بڑی تھی بلکہ

Read more

چین سے آئی چینی گڑیا!

دینا کے مختلف ملکوں اور ثقافتی پس منظر رکھنے والوں نے اپنے اپنے انداز اور الفاظ سے، برلن ( جرمنی ) کے ایک اجنبی ماحول میں، اجنبیت کے خاتمے کے لئے اپنی اپنی شناخت ظاہر کی۔ ان سب کا تعارف روایتی جملوں اور عام سے سادہ خیالات پر مبنی کہا جاسکتا تھا، شاید اسی لئے چین سے آئی ہوئی ( WU HUI ) وو ہوئی کی بیان کی گئی انفرادیت پر نہ صرف یہ کہ بعد میں ہونے والے تعارف سے فرق نہ آیا بلکہ گزرتے دن کے ساتھ اس کی شخصیت کے پہلو در پہلو کھلتے چلے گئے، جیسے ایک اچھی کتاب کا ہر نیا باب، پڑھنے والے کی کتاب سے دلچسپی میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے، یا کوئی اچھی اور شائستہ شخصیت اپنے جوہر، غیر محسوس طریقے سے دوسروں پر ظاہر کرتی چلی جاتی ہے۔

Read more

معصوم بچے آٹزم کے شکنجے میں

پچھلے دنوں ایک دوست کے ہاں گیا تو وہاں ایک بچے سے ملاقات ہوئی۔ پہلی نظر میں ہی یہ بچہ معذور سا لگا۔ اس کے منہ سے وقتاً فوقتاً رال بہنے لگتی تھی اور اس کا سر بار بار ایک طرف ڈھلک جاتا۔ بچے کی عمر چار سال کے قریب ہوگی لیکن وہ اب بھی سہارا لے کر اور ڈگمگاتے ہوئے چلتا تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے اس کی ہڈیاں اس کا توازن برقرار رکھنے سے قاصر ہیں۔ وہ اپنے باپ سے باتیں بھی کرتا جا رہا تھا جو میرے لئے ناقابل فہم تھیں کیونکہ یہ بے ربط تھیں اور محض آوازوں پر مشتمل تھیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ بچہ کس مرض کا شکار تھا؟ یہ آٹزم کا شکار تھا۔

Read more

”رنگ ہی رنگ، سب رنگ“

سب رنگ ڈائجسٹ وہ رسالہ جس نے عشروں سے لوگوں کو گرویدہ بلکہ دیوانہ بنا رکھا ہے۔ یہ ایسا بے مثال جریدہ تھا کہ اس میں دنیا بھر کا بہترین فکشن شائع ہوا جس کو باذوق قارئین اب بھی پڑھنا چاہتے ہیں لیکن اب سب رنگ کے پرانے شمارے ملنا قریب قریب ناممکن ہے۔ خوش قسمتی سے اب اس بہترین ذخیرے کو وقت کی دست برد سے بچانے کے لیے کتابی سلسلے کی صورت میں محفوظ کیا جا رہا ہے۔

Read more

مہاتما گاندھی کے بدیسی نظریات

پنڈت جواہر لال نہرو جن دنوں مسلمانوں سے عوامی رابطے کی مہم کے نام پہ شدھی تحریک چلا رہے تھے، مونا سید ابوالاعلیٰ مودودی اپنے ماہنامے ’ترجمان القرآن‘ میں ان پر سخت گرفت کر رہے تھے جس کے باعث مسلمانوں میں رابطے کی تحریک ایک حد سے آگے نہ بڑھ سکی۔ اسی زمانے میں مہاتما گاندھی خالص ہندو تصورات کے مبلغ بن کے آئے تھے۔ ان کا سارا زور عدم تشدد یعنی اہمسا پر تھا اور انہوں نے مزاحمت کا ایک نیا طریقہ رائج کیا تھا کہ وہ احتجاج کے طور پر مرن برت رکھتے، پورے ملک میں ایک سنسنی پھیل جاتی اور پھر فیس سیونگ کی کوئی سبیل نکل آتی۔

Read more

بیانیہ تبدیل نہیں ہوا

ہر نسل کے وقفہ حیات میں ایک ایسا مرحلہ آتا ہے جسے خاموش خود کلامی کہا جا سکتا ہے۔ ایسے خیالات جو احاطہ سماعت میں آ بھی جائیں تو گوش سماعت نہیں ملتا۔ جن سے مکالمہ ممکن تھا، ان کے تودہ ہائے خاک پر گھاس اگ آئی ہے۔ نئی دنیا کے اپنے رنگ، اپنے اطوار اور اپنے خواب ہوتے ہیں۔ اقبال گیانی تھے۔ ”آتش رفتہ کے سراغ“ اور ”کھوئے ہوؤں کی جستجو“ کے رموز سمجھتے تھے لیکن انہیں بھی اکتوبر

Read more

نئی تخلیقی صنف ” عشرہ” کا ظہور اور اس کی مقبولیت

تاریخی طور پر نظم کسی ایک ہیئت میں نہیں لکھی گئی۔ پابند نظم کی کئی صورتیں مسدس، مخمس، ثلاثی وغیرہ کے ناموں سے مقبول رہی ہیں جن میں مختلف مصرعوں میں قافیے کی ترتیب کا اہتمام بنیادی حیثیت رکھتا تھا۔ آزاد نظم کے فروغ کے بعد سانیٹ اور ترائیلے کو بھی فروغ دینے کی کوشش کی گئی جو زیادہ پابندیوں کی حامل قدرے پیچیدہ صورتیں تھیں لیکن مسدس اور سانیٹ کیا، مخمس اور ترائیلے کیا، ہر گزرتے لمحے کے ساتھ

Read more

پی ٹی ایم، ٹی ٹی پی، حکومت اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال

مصنف: شازار جیلانی اور رشید یوسفزئی ”اگر ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات میں مطلوبہ نتائج ملنے میں ناکامی ہوئی تو پاکستان کے پاس دوسرے آپشنز بھی موجود ہیں“ افغانستان سے فراغت پانے والے پاکستانی سفیر منصور علی خان کے ساتھ بات چیت میں سب سے زیادہ اہم نکتہ یہی تھا۔ اس قسم کی ملفوف دھمکی سن کر ذہن عموماً عسکری آپشن کی طرف نکل جاتا ہے لیکن عسکری آپشن تو آخری اور ڈو اینڈ ڈائی ہوتا ہے، جو پہلے

Read more

”سمے کا دھارا“ از یوسف خالد : ایک تعارف

”سمے کا دھارا“ یوسف خالد کی نثری نظموں کا مجموعہ ہے جو 2022 میں مثال پبلشرز فیصل آباد سے شائع ہوا۔ اس مجموعے کا انتساب معروف شاعرہ ڈاکٹر صغری صدف کے نام ہے۔ اس مجموعے میں 43 نظمیں موجود ہیں۔ ڈاکٹر سکندر حیات میکن کا مضمون ”یوسف خالد ایک نفیس تخلیق کار“ اور ڈاکٹر عبد العزیز ملک کا لکھا فلیپ اس کتاب کی زینت ہے۔ یوسف خالد ایک کہنہ مشق شاعر ہیں ان کا تخلیقی سفر چا دہائیوں پر مشتمل

Read more

مقبولیت کی گھڑی

انسانی دماغ کی ساخت ہی کچھ ایسی ہے کہ یہ ہر شے کو اس کی ضد سے پہچانتا ہے، ین سے یانگ کو، خیر سے شر کو، اور حرکت سے جمود کو۔ خواہ آپ Saussure کے بائنری اوپوزٹس کے نظریے سے کلی طور پر متفق ہوں نہ ہوں، خیال اور زبان دونوں کی اساس یہی اصول سمجھا جاتا ہے۔ اوراسی قاعدہ کے تحت ادب اور فلم کا تار وپود بھی عاشقِ صادق اور رقیبِ رو سیاہ یعنی ہیرو اور ولن

Read more

یا استاد

مشکل وقت میں انسان یا تو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور یا پھر اپنے استاد کو. لیکن مجھے اپنے استاد کو یاد کرنے کی ضرورت نہیں اس لیے کہ وہ میری زندگی کی سرگزشت کا حصہ ہے, میری ہڈ بیتی ہے. میں اسے نہ بھی یاد کروں تو وہ مجھے یاد رہتا ہے. یہ ان استادوں میں سے نہیں جو ہمیں کلاس روم میں درسی کتابیں پڑھاتے ہیں, یہ وہ استاد ہے جو ہمیں زندگی کرنا سکھاتا ہے.

Read more

تاریخ کا کوئی اسکرپٹ نہیں ہوتا

< p dir=”rtl”> ہماری نسل ابھی دونوں ہتھیلیوں سے سیاسی شعور کی ادھ کھلی آنکھیں مل رہی تھی کہ جنرل ضیا الحق آن پہنچے۔ خدا مرحوم کے درجات دستور کے آرٹیکل چھ کی حد تک بلند فرمائے، انہوں نے قوم کے ساتھ جو کیا، سو کیا، ہم پر ایک احسان عظیم فرما گئے۔ انہوں نے ہمیں کم عمری ہی میں آمریت کی پیچ دار اندھیری گلیوں اور مذہب فروش سیاست کے مکر و فریب سے شناسا کر دیا۔ 1977 میں

Read more

"پوٹھوہار: خطہ دل ربا” پر اردو کے صاحب طرز ادیب شکیل عادل زادہ کی رائے

یوں ڈاکٹر شاہد صدیقی کو دیکھیے تو وہ ایک سادہ وضع، خوش اطوار و خوش گفتار شخص، ایک معلّم اور ادیب۔ ان کی تحریریں پڑھیے تو کیا ہمہ جہت، ہمہ صفت، رنگا رنگ شخصیت۔ ادب و شعر، موسیقی، تاریخ، تعلیم، فلم، سیاحت، طرح طرح کے ناقابلِ فراموش مناظر، واقعات اور کرداروں سے ان کا نہاں خانہ آباد ہے۔ گورڈن کالج پنڈی سے انگریزی میں ماسٹرز کیا تھا اور پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ سول سروس کی شہنشہی کے لیے راستے

Read more

میں تو اپنے ہی ’پروردگان‘ کی سازش کا شکار ہو گیا” احمد ندیم قاسمی“

لیجیے، اس بار ”ہم سب“ کے توسط سے ندیم خطوط پیش خدمت ہیں۔ یہ سات خط ممتاز شاعر و ادیب اور مدیر فنون جناب احمد ندیم قاسمی نے سن دو ہزار ایک اور سن دو ہزار چھ کے دوران تحریر کیے۔ جہاں تک اس قدآور ادبی شخصیت کی ادبی زندگی کا تعلق ہے تو ترقی پسند تحریک کی صورت حال، محترم وزیر آغا اور فیض صاحب سے تعلقات کے حوالے سے بھی اور ادبی گروہ بندیوں کے سبب جنم لینے

Read more

برطانوی حملہ آور بمقابلہ دیگر اقوام: وجاہت صاحب سے اختلاف کے ساتھ

محترم المقام جناب وجاہت مسعود صاحب اور جناب رضوان رضی صاحب کو احقر العباد اپنے اساتذہ کا درجہ دیتا ہے، جن سے اس طالب علم نے تاریخ، ادب، فلسفہ، سیاسیات اور دیگر کئی علوم کو سیکھا۔ بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ان دو اساتذہ صاحبان کی ہی بدولت احقر کو اختلاف رائے اور احترام انسانیت جیسے وصف کو استعمال کر کے اپنا نکتہ نظر دوسرے تک پہنچانے کا ملکہ بھی ملا۔ چنانچہ اسی تناظر میں وجاہت

Read more

شاعروں کی حس مزاح

شاعر بلا کی حس مزاح رکھتے ہیں۔ ان کے لئے زندگی بھلے کٹھن اور مشکل سہی لیکن ان کے اندر ایک چھوٹے بچے کی برجستگی اور شرارت بھی چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ ماضی کے کچھ مشہور شاعروں کے مسکراہٹ بکھیرنے والے چند قصے جو مختلف کتابوں میں درج ہیں، وہ میں یہاں نقل کر دیتا ہوں۔ پہلے غالب سے شروع کرتے ہیں۔ سید صاحب عالم نے، جو ایک خانقاہ کے بزرگ تھے، غالبؔ کو ایک خط لکھا۔ ان کی تحریر

Read more

”امراؤ جان“ کے کردار کا نفسیاتی مطالعہ

کہانی کے بیج کی تخلیق اسی روز ہی ہوئی تھی جس روز خدائے واحد نے کائنات کو وجود بخشا تھا۔ مگر کہانی کے اس بیج کو جڑ تب نصیب ہوئی جب خدا کے حکم سے عزرائیل نے آدم کی تخلیق کی خاطر مٹی سے مٹی کو جدا کیا۔ کہانی کو وجود کا پیرہن تب نصیب ہوا، جب آدم کو مسجود ملائک دیکھ کر عزازیل نے تکبر کا قصد کیا۔ کہانی کو بیان کرنے کے مختلف ڈھنگ اپنائے جاتے رہے۔ کسی

Read more

مائتھالوجیکل اسٹوریز۔ ایک جہان حیرت۔ قسط نمبر 2

ہم گنیش جی کی بات کر رہے تھے۔ قرآن فرماتا ہے کہ دوسروں کے جھوٹے خداؤں کو بھی برا نہ کہو۔ تو اب چاہے کوئی بت ہے یا جو بھی ہے ہمیں دوسروں کے مذہبی جذبات کا خیال کرتے ہوئے انھیں اچھی طرح مخاطب کرنا چاہیے۔ صرف ایک یہی عمل ہے جو دوسروں کے لیے ہمارے دل میں نرم گوشہ پیدا کر سکتا ہے۔

گنیش جی اپنے پریوار میں اکیلے نہیں ہیں۔ وہ پورا خاندان ہے۔ شیو شنکر، ماتا پاروتی ان کا بیٹا کارتک یا کارتکیہ (یہ ستاروں کے ایک نکھشتر اور دیسی مہینوں میں سے ایک نام ہے جو انہی سے منسوب ہے ) اور گنیش۔ یہ پریوار سچ تھا یا نہیں لیکن شیو جی تاریخی سچ ہیں۔ خیر یہ کوئی فیصلہ کن رائے نہیں ہے محققین کو اس پر مزید ریسرچ کرنے کی ضرورت ہے۔

Read more

وقار حسین: ’احمد پور شرقیہ گزیٹئر‘ کے خواب سے ’وزیر آباد ڈائجسٹ‘ کی تکمیل تک

زیست کے اس سفر میں ہمیں کئی لوگ ملتے ہیں۔ کچھ بچھڑ جاتے ہیں، جب کہ بہت سے چہرے طاق نسیاں کی زینت بن جاتے ہیں لیکن ان میں سے کچھ خوب صورت لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی دل ستاں یادیں الوہی چراغ کی صورت ہمارے آنکھوں میں لو دیتی ہیں اور خوش بو بن کر دل و دماغ کو مہکائے رکھتی ہیں۔ ایسے سندر لوگوں کی باز آفرینی ہماری زندگی کی ہم سفر بن کر تلخی ایام

Read more

’لاڈلے‘ سے خوفزدہ حکومت عوام کو کیا ریلیف دے گی؟

لندن میں وزیر اعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے رہبر نواز شریف سے ملاقات کی ہے جس کے بعد خبر آئی ہے کہ پارٹی لیڈروں نے وقت مقررہ سے پہلے انتخابات نہ کروانے کے کا عزم کیا ہے۔ دوسری طر ف عمران خان نے تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کے دوران پارٹی لیڈروں کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی تیاری کرنے کی ہدایت کی ہے اور متنبہ کیا ہے کہ کوئی لیڈر انہیں ’بائی

Read more

قافلہ کا جشن آزادی پڑاؤ اور سید فخرالدین بلے کی شاہکار نظم ”مٹی کا قرض“ (10)

جب احمد ندیم قاسمی صاحب نے اپنی شاہکار نظم ایک درخواست مکمل فرمائی تو حاضرین محفل نے قاسمی صاحب سے دعائیہ نظم خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے عطا فرمانے کی گزارش کی۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیے۔ خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے وہ فصل گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے برسوں یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو یہاں جو سبزہ اگے وہ ہمیشہ سبز رہے

Read more

اردو ادب میں رزمیہ شاعری

ہندوستان میں امیر تیمور کے زمانے سے عزا داری اور تعزیہ کی روایت کا آغاز ہوا اسی طرح ”مجلس شام غریباں“ جو عزا داری کا ایک اہم حصہ ہے کی ابتدا لکھنؤ میں شروع ہوئی جو عرب سے آئے دو افراد کی مرہون منت ہے۔ یہ حضرات انیسویں صدی کے اوائل میں ہندوستان آئے اور لکھنؤ کے ایک امام باڑے میں مقیم تھے یوم عاشور کی شام کو یہ دونوں عرب مہمان امام باڑے ہی میں تھے وہیں مولانا سید

Read more

سیاسی جماعتوں کا ڈھانچہ کیسا ہونا چاہئے

پاکستان کے مسائل پر اگر غور و فکر کیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ہمارے ہاں قانون سازی کرنے والا طبقہ عوامی مسائل کا نہ تو ادراک رکھتا ہے اور نہ ہی اس کی سیاسی و سماجی بصیرت اتنی ہے کہ وہ ان مسائل کے حل کے لیے کوئی قابل عمل لائحہ عمل دے سکے اب چاہے وہ طبقہ سول و غیر سول بیوروکریسی میں سے ہو یا پھر عوام کے ووٹوں سے ”منتخب“ ہونے والے افراد،

Read more

جہنم کی ائر کنڈیشننگ کا ٹھیکہ

استاد یوسفی نے آب گم کے پیش لفظ میں سنہ اسی کی دہائی کے اواخر کے حالات پر یہ جملہ لکھا تھا کہ پاکستان کے حالات کو بہتر بنانا گویا جہنم کی ائر کنڈیشننگ کا ٹھیکہ لینا ہے۔ یہ اس آدمی کا تبصرہ تھا جو پاکستان بننے سے ٹوٹنے تک ملک کے معاشی حالات براہ راست ایک بینک میں اعلی عہدیدار کی حیثیت سے دیکھتا رہا اور ایک نامور اور حساس ادیب کے طور پر اس معاشرے کے سیاسی اور

Read more

ناول صفر کی توہین، سلسلہ کلامیہ اور الحاد پرستی کے تناظر میں

اشعر نجمی شاعر ہیں۔ ادیب ہیں۔ ادبی جریدہ اثبات کے مدیر ہیں اشعر نجمی کا ناول صفر کی توہین اس وقت زیر بحث ہے۔ ایسے حساس موضوع پر قلم اٹھانا ہمت کا کام ہے اشعر نجمی نے اس ناول کے ذریعے قاری کے ذہن کو جھنجھوڑنے کی جو کوششیں کی ہے قابل ستائش ہیں۔ اس ناول کو سلسلہ کلامیہ اور الحاد پرستی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ سلسلہ کلامیہ وہ علم ہے جس سے مذہبی عقائد کو عقلی دلیلوں سے

Read more

کیا آپ ماہر نفسیات ولیم جیمز کی شخصیت اور نظریات سے واقف ہیں؟

ہم سب جانتے ہیں کہ بیسویں صدی میں انسانی نفسیات نے بہت ترقی کی۔ اس صدی میں بہت سے فلاسفروں ’دانشوروں اور محققوں نے نفسیات کے علم میں گرانقدر اضافے کیے۔ ان دانشوروں میں سے بعض سگمنڈ فرائڈ اور کارل ینگ کی طرح شہرت اور مقبولیت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے لیکن بہت سے گمنام بھی رہے۔ ان گمنام دانشوروں میں سے ایک ولیم جیمز ہیں۔ چونکہ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا اور نفسیات اور روحانیات کے

Read more

علم نجوم کی سائنسی اور قانونی حیثیت

قسمت اور مستقبل کا حال بتانے کو کچھ لوگ علم کہتے ہیں اور بہت سے لوگ اس پر یقین بھی رکھتے ہیں۔ جن میں سیاستدان اور مشہور شخصیات بھی شامل ہیں اور آج کل پاکستان کی سیاست میں اس کی بنیاد پر بڑے بڑے مشہور ٹی وی چینلز پر نام نہاد نجومیوں کو بلا کر پروگرام کیے جاتے ہیں اور پھر ان کی تشہیر بھی کی جاتی ہے اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی سچائی کے بھی خود

Read more

احمد جاوید کا ناول جینی

کارل مارکس۔ اک نابغہ کہ جس نے اپنی فکر و فلسفہ سے اک عالم کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ کہیں ہدف ملامت ٹھہرائے گئے تو کہیں مسیحا قرار دیے گئے۔ اقبال انہیں مسیح بے صلیب اور کلیم بے تجلی قرار دیتے ہیں تو بعضوں کا مذہب ان کا محض نام لینے سے بھرشٹ ہوتا ہے۔ تاہم ہر دو صورتوں میں ان کے افکار کی اہمیت مسلمہ ہے کہ جس سے چشم پوشی ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان

Read more

ماحولیاتی تبدیلیوں کی خبر رکھنے کی ضرورت

پاکستان کی آبادی 23 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ صنعتی اعتبار سے مگر ہم نسبتاََ پسماندہ ہیں۔ کارخانوں کی چمنیوں سے نکلا دھواں دنیا بھر میں فضا اور ماحول کو جس بے دردی سے تباہ کر رہا ہے اس میں ہمارا حصہ ایک فی صد سے بھی کم ہے۔جدید صنعتی ممالک کی پھیلائی غارت گری مگر ہمارے گلیشئر تباہ کر رہی ہے۔ یہ چلن جاری رہا تو آئندہ دس برسوں کے دوران پاکستان میں شدید تر سیلاب آتے رہیں گے۔

Read more

کتاب : گابرئیل گارشیا مارکیز اُردو دنیا میں

کتاب : گابرئیل گارشیا مارکیز اردو دنیا میں مصنف : عذرا یاسمین پبلشر : بکس اینڈ ریڈر، ملتان سن اشاعت : 2022ء قیمت : 490 صفحات : 176 مبصر : ڈاکٹر تہمینہ عباس ”گابرئیل گارشیا مارکیز اردو دنیا میں“ ڈاکٹر عذرا یاسمین کا مقالہ ہے جو انھوں نے ڈاکٹر قاضی عابد کی زیر نگرانی بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے کیا۔ اس کتاب میں گابرئیل گارشیا مارکیز کی شخصیت، ان کی تحریروں اور ہندوستانی معاشرت اور لاطینی امریکا کی معاشرت

Read more

مشورہ دینے اور لینے والے

آپ فیس بک پہ یا اصل زندگی میں کسی معاملے میں اپنے احباب سے مشورہ مانگ لیں تو جواب میں احباب مشوروں کی لائن لگا دیتے ہیں یہ دیکھے اور سمجھے بغیر کہ کون سا مشورہ کتنا کارآمد اور قابل قبول ہے۔ * اگر تو آپ مشورہ مانگنے والے ہیں تو اس بات کا خیال رکھیں کہ جس شعبے سے متعلقہ مشورہ مانگ رہے ہیں، اس شعبے کے ماہرین کی رائے کو باقی سب پہ فوقیت دیں۔ مثلاً اگر آپ

Read more

قافلہ کا جشن آزادی پڑاؤ اور سید فخرالدین بلے کی شاہکار نظم ”مٹی کا قرض“ (9)

احمد ندیم قاسمی صاحب اور علامہ سید غلام شبیر بخاری صاحب کی حسین یادوں پر مشتمل باتوں کو تمام تر شرکائے قافلہ پڑاؤ بہت محو ہو کر سن رہے تھے۔ اداکار محمد علی صاحب نے بھی اپنی یادوں کا دفتر کھول دیا اللہ جانے کب کب اور کہاں کہاں کی باتیں انہیں یاد آ گئیں۔ شوٹنگ کے سلسلے میں انہیں اپنے بلوچستان کے دورے بھی یاد آ گئے اور فخرالدین بلے بھائی صاحب کے ہاں کوئٹہ، قلات اور خضدار میں

Read more

برطانوی پاکستانی: کیا گل کھلا رہے ہیں

سمندر پار پاکستانیوں کی غالب تعداد خلیجی ممالک میں مزدوری اور نچلے درجہ کے شعبوں سے وابستہ ہے۔ ان ممالک میں شہریت نہیں دی جاتی اس لئے ”سمندر پار“ وجود اقامہ کی سالانہ تجدید کا محتاج ہوتا ہے۔ بیرون ملک مستقلاً آباد رہنے والوں میں سب سے بڑا حصہ برطانوی پاکستانیوں کا ہے جن کا براہ راست اثر پاکستانی سیاست، ادب اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری پر پڑتا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔ آخر بابائے قوم محمد علی جناح بھی

Read more

اہرام آرزو میری نظر میں

  ادب کی دنیا کا ایک روشن اور متحرک ستارہ جو اپنی پوری آب و تاب سے چمک کر دوسروں کو منور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہ میرے نزدیک آج کا چمکتا دمکتا ستارا آصف عمران صاحب ہیں۔ جو اپنی قلم کے ذریعے اس آبیاری کے فریضہ کو ہمہ وقت پورا کرنے میں مگن اور عصر حاضر کی ضرورت بھی ہے۔ ان کی کتاب ”اہرام آرزو“ جب میرے ہاتھوں میں جو بدست آصف عمران صاحب 23 مئی 2022 کو

Read more

”طاقت اور سماج“ :ایک تعارف

معاصر فکری منظر نامے میں قاسم یعقوب کا نام ان لکھاریوں میں شامل ہوتا ہے جنھیں قلم و قرطاس سے رشتہ استوار کیے ابھی طویل عرصہ نہیں گزرا۔ قلیل وقت میں تخلیقی اور تنقیدی سطح پر انھوں نے کئی اہم کتب دنیائے علم و ادب کو دان کی ہیں جن میں ”اردو شاعری پر جنگوں کے اثرات“ ، ”تنقید کی شعریات“ ، ”دیکھ چکا میں موج موج“ ، ”ریت پر بہتا پانی“ اور ایک ناول ”خلط ملط“ خاص طور پر

Read more

آواز دوست : تعارف و اہم شخصیات

آواز دوست مختار مسعود کی کتاب ہے جو پیشے کے اعتبار سے ایک بیوروکریٹ تھے۔ اس کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے حصہ اول ”مینار پاکستان“ کے عنوان سے اور حصہ دوئم ”قحط الرجال“ کے عنوان سے۔ اصناف ادب کے حوالے سے اس کتاب کو رپورتاژ میں شمار کیا جاتا ہے۔ رپورتاژ ایک صحافتی صنف ہے جسے بطور ادبی صنف صرف اردو ادب میں برتا گیا۔ لفظ Reportage انگریزی میں report کے ہم معنی ہے لیکن اگر

Read more

کئی ہزار برس کا قصہ

ایتھنز کی گلیوں میں دیو جانس کلبی ہاتھ میں لالٹین لیے گھومتا تھا۔ وہ سینوپ میں پیدا ہوا تھا، سقراط کے فلسفے سے جنم لینے والی تین بڑی تحریکوں میں کلبیت نے آنے والے دور پر بڑا اثر ڈالا۔ یونانی اس کے لیے ”سنیسزم“ کی اصطلاح استعمال کرتے تھے۔ رہبانیت بھی اسی کی آغوش میں پروان چڑھی۔ پرانی دھات سے بنی ایک لالٹین جس کی مدھم سی روشنی رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں بھی ہلکا سا خلل ہی پیدا

Read more

ماحولیاتی تبدیلیاں اور ساون کا بدلتا تصور

آج سے کچھ برس قبل آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں رہائش کے شروعاتی دنوں میں اکثر ایسا ہوتا تھا کہ ہلکی پھلکی بارش میں اکثر میں اپنے مقامی کلاس فیلوز سے جب یہ کہتا تھا کہ آج موسم بہت اچھا ہے تو وہ حیرت کا اظہار کرتے کہ آج تو موسم خاصا خراب ہے میرے مقامی اور یورپین کلاس فیلوز کے پاس اچھے موسم کا تصور چمکتے سورج اور نکھری نکھری دھوپ سے تھا لیکن چونکہ میرا بچپن سندھ کے ایک سیمی ایرڈ زون کے گاؤں میں گزرا تھا جو کہ اچھڑو تھر ریگستان کے پہلو میں واقع ہے جہاں بارشیں بہت کم ہوتی تھیں اور بچوں کو کاغذ کی کشتیاں بنانے کے لیے ساون کا طویل انتظار کرنا پڑتا تھا جو کہ کسی سال تو بغیر برسے ہی گزر جاتا تھا۔

Read more

”ٹیب سٹی“ ہاؤسنگ سوسائٹی: ایم ٹی جے برانڈ کی ایک اور پیشکش؟

”لوگوں کو اتنا مذہبی بنا دو کہ وہ محرومیوں کو قسمت سمجھیں، ظلم کو آزمائش سمجھ کر صبر کر لیں۔ حق کے لیے آواز اٹھانا گناہ سمجھیں، غلامی کو اللہ کی مصلحت قرار دیں اور قتل کو موت کا معین دن سمجھ کر چپ رہیں“ مجھے ان لائنوں کا ریفرنس نہیں ملا کہ کس دور اندیش نے سمندر کو کوزے میں بند کیا ہے مگر غربت و آزمائش جسے ہم آسمانی رضا سمجھتے ہوئے ساری زندگی صابر و شاکر رہنے

Read more

ڈاکٹر مبارک علی کی کتاب: یورپ کا عروج

کتاب یورپ کا عروج ڈاکٹر مبارک علی کی تصنیف ہے۔ اس کتاب کی ہفتم اشاعت 2017 میں تاریخ پبلیکیشنز لاہور نے شائع کی ہے۔ ڈاکٹر مبارک علی ایک محقق اور تاریخ نویس ہیں جنہوں نے تاریخ کے مختلف موضوعات پہ متعدد کتابیں لکھی ہیں۔ یورپ کی ترقی اور اس کے عروج میں ایک مثبت پہلو تو یہ ہے کہ اس کے پاس ایک تو ان تمام تہذیبوں کا علمی و ادبی اور ثقافتی سرمایہ ہے کہ جو اس سے پہلے

Read more

امیرن کے کردار کا تجزیاتی و نفسیاتی مطالعہ

قصہ یا کہانی انسانی زندگی کا سب سے اہم پہلو ہے۔ کائنات کے کینوس میں کہانی کے جرثومے اس وقت ظاہر ہوئے جب آدم کو مسجود ملائک ٹھہرایا گیا اور عزازیل نے آدم کو مسند نشین دیکھ کر تکبر کا ورد کیا۔ کہانی کی تخلیق کے بعد انسان نے اس کو بیان کرنے کے کئی ڈھنگ اپنائے۔ کسی نے داستان کو چھیڑا تو کسی نے ناول کے پنوں میں زندگی کی شمع روشن کی۔ کوئی کہانی کا رخ موڑ کر

Read more

موجین کا سفر

کم سی انگ اوک جب بس نے پہاڑ کے گرد موڑ کاٹا تو میں نے ایک سائن بورڈ دیکھا جس پر لکھا تھا ”موجین 10 کلو میٹر“ ہمیشہ کی طرح یہ سائن بورڈ سڑک کے کنارے بلند جھاڑیوں کے درمیان نمایاں نظر آتا تھا۔ میری توجہ نشست پر براجمان لوگوں کی ایک بار پھر شروع ہو جانے والی گفتگو پر مبذول ہو گئی۔ (a) ”اب بھی دس کلو میٹر باقی ہیں“ (b) ”ہاں، ہم تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہاں ہوں

Read more

محمد اختر مسلمؔ۔ ابو جی کی یاد میں

وہ ہستی جس نے زمانے کے سرد و گرم سے ہمیں محفوظ رکھا جس کے وجود میں رحمت خداوندی ہم پر سایہ فگن رہی، اسے دنیا سے رخصت ہوئے آٹھ سال بیت گئے۔ ابو جی 17 ستمبر 2014ء کو وفات پا گئے تھے۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔ تقریباً عشاء کے وقت وہ اپنے پروردگار کے حضور حاضری کے لیے روانہ ہوئے اور اس جہاں کو قیامت تک کے لیے خیرباد کہا۔ ان کا انتقال راولپنڈی میں میرے پاس ہوا۔

Read more

مسی ساگا کی گلیوں میں مرزا یار پھرے سفر نامہ کینیڈا ( 2 )

دورہ آنتاریو کے آخری دو دن مسی ساگا میں مرزا یاسین بیگ کے ساتھ گزرے۔ ہم ان کی سدا بہار، ہنستی کھلکھلاتی اور شگفتہ شخصیت سے دو دن تک خوب محظوظ ہوئے۔ ان کا گھر مسی ساگا میں اس گلی کی بغل میں ہے جس کا نام مسی ساگا کے پہلے مئیر رابرٹ اسپیک کے نام پر رکھا گیا ہے۔ مرزا صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں بتایا : ”اس بات کا انکشاف مجھ پر اس وقت ہوا جب میں مسی ساگا کے مئیر کے بارے میں کوئی تحقیق کر رہے تھا۔ وہ دن اور آج کا دن میں کبھی اس گلی میں ننگے پاؤں نہیں گیا، کیلا کھا کر پھینکنے کی جسارت کی اور نہ کبھی تھوکنے کی۔“

Read more

راہی، موسے والا اور استخار ساہی

اسی کی دہائی میں جہاد کا فرمان جاری ہوا تو مرد مومن کی مملکت خداداد میں ادب اور فنون لطیفہ کے لیے زمین تنگ ہو گئی۔ ملک کی ثقافت، کلچر، قانون اور تاریخ کو دوبارہ سے مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہوا۔ ایسے میں سیالکوٹ والے وحید مراد کی چاکلیٹ ہیرو لک کے ساتھ رومانوی فلمیں بنانا ممکن نہ رہا۔ موضوعات کے گرد گھیرا تنگ ہوا تو گنڈاسے سے کٹی اڑتی گردنیں اور خون میں لت پت لاشوں کے علاوہ سنسر بورڈ کی قینچی ہر اس چیز پر تیزی سے چلی جس سے شعور پیدا ہونے کا ذرا سا بھی اندیشہ تھا۔ یوں مرد مومن کی نئی وضع کردہ ثقافت میں لوہری اور بھنگڑہ حرام ہو گئے، لیکن انجمن کے ٹھمکے اور سلطان راہی کی بڑھکیں حلال ٹھہریں۔

Read more

سندھ کے سرتاج شاعر: شاہ عبداللطیف بھٹائی

شاہ عبد اللطیف بھٹائی، سندھی زبان کے سرتاج شاعر کہے جاتے ہیں۔ وہ نہ فقط سندھ کے سب سے بڑے شاعر ہیں بلکہ برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ بھی مانے جاتے ہیں۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے اللہ اور اس کے حبیب، حضور اکرم ﷺ کے پیغام کو عام لوگوں تک پہنچایا۔ واقعہ کربلا، تاریخ، ثقافت اور رومانوی داستانوں سمیت انہوں نے امن، اتحاد اور جدوجہد کا پیغام عام کیا۔ یہی وجہ ہے کہ تین صدیوں سے ان کا کلام ایک روشن ستارے کی طرح بلندی پر جگمگا رہا ہے۔

Read more

لاڈلا اگر گھر کو آگ لگانا چاہے تو؟

لاڈلا بچہ عموماً اسے کہتے ہیں کہ جو چاہے کوئی بھی نقصان کرے، کتنی بھی الٹی فرمائش کیوں نہ کرے، ماں باپ بیچارے مارے الفت کے سب ماننے کو تیار ہوں۔ اس کو ڈانٹ ڈپٹ سے پرہیز کریں۔ اس کو سزا دینے سے اجتناب کریں، اس کی غلطیوں پر پردہ ڈالیں، اس کی خامیوں کو اپنے سر لے لیں۔ ایسے ماں باپ باقی بچوں کی تادیب تو ہیں مگر لاڈلے کو اس کی تمام تر خامیوں کے باوجود گود میں

Read more

کیا آپ سائیں سچا کی تخلیقات اور نظریات سے واقف ہیں؟

سائیں سچا ایک ایسے ادیب ’شاعر اور دانشور ہیں جو نوجوانی میں ہی پاکستان سے انگلستان اور پھر انگلستان سے سویڈن ہجرت کر گئے۔ وہ نصف صدی سے مغربی دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ بیک وقت اردو‘ پنجابی ’انگریزی اور سویڈش چار زبانوں میں نہ صرف لکھتے ہیں بلکہ ترجمے بھی کرتے ہیں۔ وہ چونکہ شہرت سے بے نیاز خاموشی سے اپنا سچ کاغذ پر رقم کرتے رہتے ہیں اس لیے انہیں وہ مقبولیت حاصل نہیں ہوئی جس کے وہ بجا طور پر مستحق ہیں۔

Read more

متحدہ قومیت کے خلاف مضبوط مورچہ

سرسید احمد خاں کی وفات کے بعد سید امیر علی ان کے مشن کو آگے لے کر چلے۔ وہ ہائی کورٹ میں محرر تھے اور اس منصب سے ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست میں فعال ہو گئے۔ وہ ایک ماہر مؤرخ بھی تھے اور چوٹی کے دانش ور بھی۔ ان کی تصنیف Spirit of Islam (روح اسلام) اہم حلقوں میں بڑے اشتیاق سے پڑھی جاتی تھی جو فکر تازہ کو پروان چڑھاتی تھی۔ انہوں نے سنٹرل نیشنل محمڈن ایسوسی ایشن کی

Read more

منٹو کی کالی شلوار کے بعد اب "الٹی شلوار اور الٹا آزار بند”

پروجیکٹ عمران کے مالکان نے جب مہاتما کی ”بوم بوم“ کو فائنل ٹچ دینے کے لئے انتخابات سے پہلے ”مجسمہ صادق و امین“ کو گاؤں گاؤں اور شہر شہر بھیج کر بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کر کے عوام کو بیوقوف بنانے کا ٹاسک دیا تو سرکار میونسپل اسٹیڈیم میاں چنوں میں تشریف لائے تھے۔ ہمارے کچھ دوست بھی مہاتما کا بڑے قریب سے دیدار کرنے کے لئے اسٹیج کے بالکل سامنے موجود تھے، ایک دوست نے یادگار کے طور

Read more

چارلس برطانیہ کے نئے بادشاہ بن گئے

اپنی والدہ ملکہ الزبتھ دوم کی وفات کے ساتھ ہی ان کے جانشین اور بڑے بیٹے شہزادہ چارلس برطانیہ کے نئے بادشاہ بن گئے ہیں تاہم انھیں بادشاہ کا تاج پہننے سے قبل کئی روایتی مراحل سے گزرنا ہو گا۔

Read more

وسیم تارڑ کا سفر نامہ ’‘ قونیہ مجھے بلا رہا تھا ”

  ’‘ اس دنیا میں انسان کی حیثیت ایک ذرے سے بھی کم ہے کہ اس ذرے نے ہمیشہ قائم رہنا ہے۔ جب کہ انسان نے جلد مٹ جانا ہے ”نوجوان وسیم تارڑ کے سفر نامے کے آغاز میں ہی اس فقرے نے مجھے چونکایا۔ یہ 2019 ء کی بات ہے کہ نوجوان وسیم تارڑ کو ترک وزارت خارجہ کی طرف سے ترکی آنے کی دعوت ملی مگر بربنائے تقدیر وہ ترکی جانے والے اس سرکاری وفد میں شامل نہ

Read more

خالد سہیل صاحب سے ایک ملاقات

محترمہ و معظمہ و مکرمہ جنابہ راحیلہ خان صاحبہ! یہ میری خوش بختی کہ آپ کینیڈا تشریف لائیں اور میری ’ہم سب‘ کے ادبی خاندان کی ایک اور ادیبہ سے ملاقات ہوئی۔ ہم نے نہ صرف مل کر کھانا کھایا بلکہ ادبی و فلسفیانہ موضوعات پر تبادلہ خیال بھی کیا۔ دو سال پیشتر میں نے جب ’ہم سب‘ پر آپ کے کالم پڑھنے شروع کیے تھے تو میں ان پر اپنی رائے دینے سے کتراتا تھا۔ مجھے یہ ڈر رہتا

Read more

انوار زیدی، کچھ یادیں

”ساتھی انجمن محبان وطن دوبارہ فعال کرنے کی کوشش جاری ہے“ ”آج ایک دار المطالعہ کا آغاز ہو گیا ہے“ ”ڈاکٹر رشید حسن خان میموریل کلینک کے سلسلہ میں ساتھیوں سے ملاقات ہے، کوشش ہے کہ ڈاکٹر ساتھیوں کا تعاون مل جائے“ ”این ایس ایف کے کونسل سیشن کے لئے ساتھیوں نے لاہور بلایا تھا، وہاں جا رہا ہوں“ ”فیصل آباد میں پرانے کسان ساتھیوں سے ملاقات ہے، ایک ہفتہ کے لئے وہاں قیام رہے گا“ ”این ایس ایف کے

Read more

انسان آزادی اور امن

ایک نوجوان نے ایک مرد جہاندیدہ سے پوچھا ’ کیا میں آزاد ہوں اور ہوں تو کتنا آزاد ہوں؟‘ بزرگ نے فرمایا ’اپنا دایاں پاؤں ہوا میں اٹھاؤ‘ نوجوان نے بڑی آسانی سے دایاں پاؤں اٹھا لیا۔ پھر بزرگ نے فرمایا ’اب اپنا بایاں پاؤں اٹھاؤ‘ نوجوان نے بہت کوشش کی لیکن نہ اٹھا سکا بزرگ نے مسکراتے ہوئے کہا ’بس تم اتنے آزاد ہو‘ سب انسان آزاد ہیں لیکن وہ آزادی محدود ہے۔ قوانین فطرت اس حد کا تعین

Read more

عمران خان اور منٹو کا افسانہ ’ننگی آوازیں‘

ادب ہو یا فنون عالیہ کی کوئی دوسری شاخ، تخلیقی عمل زندگی کی کلیت کا احاطہ کرتا ہے۔ فن کے پیچاک نام نہاد شرفا کی منافقت زدہ اخلاقیات کے متحمل نہیں ہوتے۔ روایات کہنہ کی کتر بیونت سے تیار کی گئی قبا زندگی کی نہاں گہرائیوں اوربسیط آفاق کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ وکٹورین اخلاقیات کے علمبردار ڈپٹی نذیر احمد کا کردار نصوح شیخ سعدی کی گلستان کو سوختنی قرار دیتا ہے، دوسری طرف امیر مینائی فرماتے ہیں، ’پسند آئی

Read more

کتابیں، کچھوے اور دوستیاں سفرنامہ کینیڈا (1)

ڈاکٹر سہیل زبیری اور ڈاکٹر خالد سہیل کی مشترکہ کتابی کاوش ”مذہب سائنس اور نفسیات“ کی تقریب رونمائی کے سلسلے میں، 6 اگست سے 14 اگست تک ہم کینیڈا کے صوبے آنتاریو میں تھے۔ مجوزہ تقریب 7 اگست کو بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی تو کینیڈا کی معروف ادبی تنظیم ’فیملی آف دی ہارٹ‘ کے روح رواں ڈاکٹر خالد سہیل کے توسط سے سیر و تفریح اور تنظیم کے احباب کے ساتھ ادبی نشستوں کا سلسلہ چل نکلا، جو

Read more

کماری والا ناول میں ثقافتی سماجی اور ساختی عناصر

علی اکبر ناطق شاعر، افسانہ نگار اور ناول نگار ہیں۔ ان کا پہلا ناول نو لکھی کوٹھی بے حد مقبول ہوا۔ ہر معاشرے کی تہذیب اور ثقافت اس کے ادب سے چھلکتی ہے۔ یہ ہی کلامیہ بعض اوقات قاری پر متاثر کن اثرات چھوڑتا ہے۔ ادب کا معاشرتی اور ثقافتی پس منظر اس ناول کماری والا میں علی اکبر ناطق نے سادہ کلامیہ کے ذریعے بیان کیا ہے۔ اسی کی دہائی کے واقعات جو کہ سیاسی، سماجی، ثقافتی، مذہبی اور

Read more

قافلہ کا جشن آزادی پڑاؤ اور سید فخرالدین بلے کی شاہکار نظم ”مٹی کا قرض“ ( 7 ) ساتویں قسط

داستان گو : ظفر معین بلے جعفری سید فخرالدین بلے صاحب کا شکیل بدایونی کو عاجزانہ انداز میں یہی جواب ہوتا تھا کہ میں کسی کے جذبوں کی ترجمانی نہیں کر سکتا، صرف اپنی فکر کو شعر کا ملبوس دے سکتا ہوں۔ کوئی اور نوجوان ہوتا تو سوچتا اب میرے گیت لتا، آشا اور محمد رفیع کی زبان پر ہوں گے۔ غیر معمولی شہرت میرے قدم چومے گی لیکن بلے اس طرح نہیں سوچتا تھا۔ نہ کبھی ایسا سوچا جناب

Read more

نجف سے کربلا۔ محترم توقیر کھرل کا سفر نامہ

انسان اور تجسس ہم عمر ہیں۔ تجسس کے بغیر انسانی ارتقا ممکن ہی نہیں۔ دنیا میں جتنے بھی دانشور، محققین اور موجد گزرے وہ تجسس کی راہوں کے راہی تھے۔ تجسس کی دنیا کے اکثر شہکار انسانی اذہان کے فانوس میں چراغ بن کر جلتے ہیں۔ یہ تجسس ہی ہے جس نے ابن بطوطہ اور مارکو پولو کو دربدر خاک چھاننے پر مجبور کیا۔ آج ان کے سفرنامے بین الاقوامی تاریخ و ادب کا حصہ ہیں۔ آج سے صدیوں پہلے

Read more

کلام اقبال کی عصری معنویت

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے کہا تھا حفظ اسرار کا فطرت کو ہے سودا ایسا رازداں پھر نہ کرے گی کوئی پیدا ایسا ”شیکسپیئر“ نظم میں مندرجہ بالا شعر شیکسپیئر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے علامہ صاحب نے رقم کیا تھا مگر دیکھا جائے تو ان کا یہ شعر خود ان پر بھی صادق آتا ہے۔ علامہ اقبال کی وفات کو ایک صدی ہونے میں چند ہی برس باقی ہیں لیکن آج بھی ان کے کلام کو اسی شد

Read more

جماعت اسلامی کا 81 واں یوم تاسیس

26 اگست 1941 ء کی بات ہے۔ مفکر اسلام سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی دعوت پر ایک بڑی اسلامی تحریک کی بنیاد رکھنے کے لئے لاہور کے اسلامیہ پارک میں 75 شخصیات کا اجتماع ہوا جس میں کلمہ توحید کی بنیاد پر اسلامی تحریک کی بنیاد رکھی گئی 75 بنیادی ارکان نے جماعت اسلامی کے نام سے تنظیم قائم کی آج اس جماعت ارکان کی تعداد 42 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ گزشتہ 81 سال دوران سید ابو اعلیٰ مودودیؒ،

Read more

نجم الدین احمد کے ناول ”سہیم“ کا تجزیاتی مطالعہ

نجم الدین احمد کا تعلق سید ہاشمی گھرانے سے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا خاندان بھارت کے ضلع ’حصار‘ سے ہجرت کر کے پاکستان آیا۔ یہاں ابتدا میں مختلف شہروں میں عارضی قیام کیا۔ جھنگ، مظفرآباد اور ساہیوال کے بعد یہ خاندان بہاولنگر پہنچا اور یہاں مستقل سکونت پذیر ہوا۔ والد کا نام بدر الدین احمد تھا جو کہ حکیم تھے۔ والدہ کا نام صدیقن بی بی تھا جو کہ گھریلو خاتون۔ نجم الدین احمد خود اپنے خاندان

Read more

لالہ فہیم کے گھر آئی غیر قانونی آفت

اس قدرتی آفت کے زمانے میں لالہ فہیم کی بہن گھر سے خیمہ اور راشن مانگنے نہیں نکلی، وہ نکلی ہے اس ریاست سے سوال پوچھنے جو ایک مسلسل غیر قدرتی، غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر انسانی آفت بن کر ہمارے گھروں کو اپنے کارندے بھیج کر اجاڑنے پہنچ جاتی ہے۔

Read more

علی مطہر اشعر مرحوم، تعارف و انتخاب کلام

کوئی ابہام نہ رہ جائے سماعت کے لئے بات کی جائے تو تصویر بنا دی جائے اس شعر کے خالق غزل کے ممتاز و معروف شاعر سید علی مطہر اشعر نقوی دو ستمبر 2022 کو ہم سے جدا ہو گئے۔ ان کی عمر تقریباً ”85 سال تھی وہ شکار پور ( متحدہ ہندوستان ) میں پیدا ہوئے اور تقسیم ہند کے بعد اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کر کے واہ میں آباد ہوئے۔ انٹر میڈیٹ تک تعلیم بھی یہیں حاصل

Read more

اولاد کی تربیت کے اجزائے ترکیبی

اولاد کی تربیت کا حاصل اس کی پوری زندگی ہے اسی لیے اس کا زمانہ بچپن سے لڑکپن تک کم و بیش پندرہ برس ابتداء سے انتہاء تک مختلف پیرائیوں، ترکیبوں اور اوقات پر مشتمل ہوتا ہے۔ تربیت کی بے پناہ اہمیت کے پیش نظر اس کی ماہیت اور کیفیت پر ہر وقت تربیت کنندہ کی گہری نظر رہنی چاہیے کیونکہ اس میں کمی بیشی مختلف نتائج کا سبب بنتی ہے جس کا اثر بہت دور رس ہے۔ اگر تربیت

Read more

تصورِ خودی اور علامہ محمد اقبال

”خودی“ فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں خود مختاری، خود پرستی، انانیت، خود سری اور خود رائی۔ اقبال کے ہاں خودی کا لفظ تکبر یا غرور کے معنوں میں نہیں آیا۔ ان کے ہاں خودی احساس غیرت مندی کا نام ہے۔ اپنی انا کو شکست سے محفوظ رکھنے کا، حرکت و توانائی کو زندگی کا ضامن سمجھنے کا دوسروں کا سہارا تلاش کرنے کی بجائے اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کا نام ہے۔ تصور خودی کو اقبال

Read more

غزل گائیکی اور آج کا پاکستان

غزل گائیکی کی تاریخ قریبا نصف صدی سے زیادہ کے عرصے پر محیط ہے۔ اس کی جنم بھومی یہی خطہ ہے جو اب بھارت اور پاکستان کہلاتا ہے۔ ہر دو ممالک کے لوگوں نے اس صنف گائیکی کو بہت پسند کیا اور مختلف ادوار میں غزل گائیکوں نے اپنے فن کا لوہا منوایا جن میں بیگم اختر، استاد امانت علی خاں، نصرت فتح علی خاں، مہدی حسن خاں، استاد غلام علی خاں، ملکۂ ترنم نور جہاں، فریدہ خانم، لتا منگیشکر،

Read more

سفرنامہ "باسفورس” پر اظہار خیال

امجد پرویز ساحل کی کتاب ”باسفورس“ پر اظہار خیال کرنا میرے لیے باعث مسرت ہے۔ اس مسرت کی کئی وجوہات ہیں کیونکہ ان کی شخصیت میں ادب کی کئی اصناف کے رنگ موجود ہیں۔ کیونکہ وہ نثری ادب میں میرے ہمسفر قلمی دوست ہیں۔ اس سلسلے میں ان کا قلم رواں دواں ہے۔ وہ کئی اصناف پر طبع آزمائی کرچکے ہیں۔ ان کی پہلی اور بنیادی صفت یہ ہے، پہلے خوب پڑھتے ہیں پھر لکھتے ہیں۔ ان کے ادبی ذوق

Read more

قافلہ کا جشن آزادی پڑاؤ اور سید فخرالدین بلے کی شاہکار نظم ”مٹی کا قرض“ ( 6 ) چھٹی قسط

جیسے ہی سید فخرالدین بلے صاحب نے اپنی شاہکار نظم ”مٹی کا قرض“ مکمل کی اس کے ساتھ ہی اس نظم پر شرکائے قافلہ پڑاؤ کی جانب سے گفتگو کا آغاز ہو گیا۔ علامہ سید غلام شبیر بخاری علیگ صاحب نے احمد ندیم قاسمی صاحب اور کلیم عثمانی صاحب کو متوجہ فرماتے ہوئے کہا کہ مختار مسعود صاحب، مشتاق احمد یوسفی صاحب اور میرے علاوہ دیگر بہت سے محبان سید فخرالدین بلے علیگ کو یہ بھی ایک اعزاز حاصل ہے کہ

Read more

عالمگیریت کے ادب پر اثرات

عالمگیریت کا یہ واحد شعبہ سمجھا جاتا ہے جس کا تیسرے درجے کے ممالک کو بے پناہ فائدہ ہوا ہے۔ با ظاہر اگر دیکھا جائے تو عالمگیریت کا ادب سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا اور یہ سچ بھی ہے کہ کوئی ادب تخلیق نہیں ہوا۔ تہذیبوں کا تصادم، سلطنتوں کے خاتمے اور اس میں لکھی گئی تواریخ میں عالمگیریت کی رمق ضرور پائی جاتی ہے ؛ مگر ہم اسے ادب نہیں کہہ سکتے۔ ویسے بھی دوسری اصطلاحات ادب کا

Read more

جائیں تو جائیں کہاں

میرا یہ شبہ اب یقین میں بدلنا شروع ہوگیا ہے کہ رواں برس کے اپریل میں وطن عزیز کے وزیر اعظم منتخب ہوجانے کے بعد نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کے صدر اب آئندہ انتخاب جیتنا تو کیا اس میں حصہ لینے کی فکر میں بھی مبتلا نہیں رہے۔ کسی زمانے میں کبھی کبھار کینیڈا سے اچانک پاکستان درآنے والے ایک موسمی انقلابی ’’سیاست نہیں ریاست بچائو‘‘ کا نعرہ بلند کیا کرتے تھے۔ وہ اپنے خواب کو

Read more

اختر کا شمار

ادب کا تعلق براہ راست انسان کی زندگی سے ہے جو انسان کی جسمانی، ذہنی اور روحانی تربیت اور اصلاح کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔ جب انسان کا داخلی تعلق مزید مضبوط اور شوق سے قائم ہو جائے تو زندگی میں نئی شروعات اور پرورش کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ اس کا اثر براہ راست اردگرد ماحول بلکہ اندرونی اور بیرونی لحاظ سے معلوم ہوتا ہے۔ اس نقطہ نظر کے لحاظ سے ڈاکٹر اختر شمار کا حوالہ میرے سامنے

Read more

خط بنام نیرہ نور

پیاری نیرہ نور جی! آپ سے دل اور روح کا تعلق ہے۔ پھولوں جیسی نرم فطرت والی پروقار سی شخصیت تھیں آپ۔ سنجیدگی آپ کے حسن کا انمٹ حصہ تھی۔ شاید آپ جنم سے ہی ایسی ہوں گی۔ آپ سے ملاقات کی تمنا ہمیشہ دل کی گہرائیوں میں موجزن رہی۔ مگر بے درد زمانے کی وجہ سے ایک لکیر جو عام آدمی اور فنکار کے درمیان کھنچی رہتی ہے کبھی یہ تمنا پوری نہ ہوئی۔ سوچا بھی نہیں تھا کہ

Read more

حلالہ کروائیں: چسکا خواتین و حضرات اجتناب برتیں

”جو لوگ ضرورت مند ہیں وہ حضرات ہم سے حلالہ کے لیے رابطہ کریں۔ آپ کی خواہش کے مطابق حلالہ کیا جائے گا۔ چسکا خواتین و حضرات اپنا اور میرا قیمتی وقت ضائع مت کریں۔ ضرورت مند افراد رابطہ کریں ” اس میں ضرورت مند کسے کہا گیا ہے؟ خواہش کے مطابق حلالے کے بندوبست سے کیا مراد ہے؟ چسکا پسند خواتین و حضرات کس سیارے کے باسی ہیں؟ کیا صاحب اشتہار حلالہ ایکسپرٹ یا اس فیلڈ کا کوئی خاص

Read more

عبدالمجید کھوکھر یادگار لائیبریری: رسائل و جرائد کا فقید المثال گنجینہ

کائنات کی وسعت کا اندازہ لگانا انسانی عقل کے بس کی بات نہیں تو بالکل اسی طرح انسان اور اس کے ممکنات کا پوری طرح ادراک ناممکن عمل ہے۔ انسان کی داخلی دنیا وہ راز ہے جس سے کوئی دوسرا بندہ پردہ نہیں اٹھا پایا۔ ہر انسان دوسرے سے اپنی طبع، شوق، مزاج، پسند نا پسند کی بنیاد پر مختلف ہے اس لیے مکمل تعریف نہیں ہو پاتی۔ عموماً ہر انسان دوسرے کو اپنی ضروریات اور مطلب کی تکمیل کی

Read more

زلفوں کے سائے میں“ تجزیاتی مطالعہ

جس روز عناصر اربعہ؛ پانی، ہوا، مٹی اور آگ کا مرکب تیار کر کے پتلا بنایا گیا اور اس کے اندر روح پھونکی گئی، اسی روز لفظ ”جنگ“ کو وجود حاصل ہو گیا۔ اس لفظ کو مفہوم کا پیراہن تن نصیب ہوا جب آدم کو لائق مسجود ٹھہرایا گیا اور عزازیل نے آدم کو خلیفہ کے روپ میں مسند نشین دیکھ کر تکبر کا ورد کیا۔ لفظ ”جنگ“ کو مفہوم کا پیراہن ملتے ہی یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں

Read more

جب ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف بغاوت میں طوائفوں کے کوٹھے باغیوں کی پناہ گاہ بنے

طوائفیں برصغیر کے ثقافتی ورثے کا ایک اٹوٹ حصہ تھیں جن کا ان کے فن، فارسی اور اردو ادب اور شاعری کے حوالے سے انتہائی احترام کیا جاتا۔ گو کہ وہ مغل دور سے پہلے بھی شرفا کی تفریح طبع کا سامان کرتی تھیں اور مغلیہ دور حکومت میں انھیں عروج حاصل ہوا۔

Read more

”کائنات کے بیک یارڈ سے“ : کی نظمیں :چند تاثرات

صنوبر الطاف، معاصر ادبی منظرنامے میں زرخیز تخیل اور فکری ارفعیت کے حامل تخلیق کاروں کی صف اول میں شامل ایسی شاعرہ ہیں جنھوں نے کم وقت میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ان کی تخلیقیت کے معیار کا اندازہ معاصر ادبی رسائل میں اشاعت پذیر ہونے والی ان کی تخلیقی اور تنقیدی تحریروں کے معیار سے لگایا جا سکتا ہے۔ ان کی تحریریں ایسے خیالات اور احساسات کی حامل ہیں کہ ان میں حیات آفریں اقدار کی

Read more

”جلے ہوئے آسماں کے پرندے“ کا ادبی تجزیہ!

کتاب سے میرا تعارف شائع ہونے سے چند سال پہلے ہی ہو چکا تھا جب زاہد امروز کی چند نظمیں ”اسلام پورہ میں ایک بدروح افسردہ ہے“ اور ”نظم کے لئے غسل واجب نہیں“ پڑھیں۔ یہ نظمیں انسانی کیفیات، حقیقت، بے بسی اور عصر حاضر کی جدیدیت لئے اپنی الگ تاثیر رکھتی تھیں۔ کہیں رومان نہیں تھا، لفاظی نہیں۔ زاہد امروز کی نظمیں اپنے موضوعات، امیجری، خاص اسلوب اور منفرد استعاراتی نظام کی وجہ سے اپنی الگ شناخت رکھتی ہیں۔

Read more

مدراس کا ایک قدیم روایتی گیت اور رقص:  اعضا کی ناقابلِ فراموش شاعری

1999ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ ٹیکسٹائل کانفرنس چنائی کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں منعقد ہوئی جس میں چالیس ممالک سے سو کے قریب لوگ شریک ہوئے۔ پاکستان سے ہم تین لوگ تھے۔ جن میں عمر صاحب اور میرے علاوہ کریسنٹ گروپ کے ایک ڈائریکٹر بھی شامل تھے۔ انھوں نے ایک سیشن کی صدارت بھی کی ، جو ہمارے لیے ایک اعزاز تھا۔ کانفرنس میں بے شمار

Read more

نیرہ نور: وہ تتلیوں کے، جگنوؤں کے دیس جانے والی

نیرہ نور بے تکان باتوں کے درمیان ایک وقفے کی دین تھیں۔ یہ سال 1985ء کی بات ہے۔ شاہ نواز فاروقی اور میں نے شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی میں داخلہ لیا۔ یہ بڑے اعزاز کی بات تھی۔ ایک سبب اس اعزاز کا یہ تھا کہ ہم بی اے نہیں بی اے آنرز کے طالب علم تھے۔ بی اے آنرز ہونے میں ایسی کیا خاص بات ہے، ایک اتفاق نے یہ راز سمجھایا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب

Read more

ادب میں تراجم کی تاریخ اور اہمیت

زبانوں کی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ زبانوں کے تراجم اپنی اہمیت کے اعتبار سے تین ادوار میں تقسیم کیے جا سکتے ہیں۔ پہلا دور، دور قدیم ہے۔ یہ وہ دور تھا جب انسانوں نے غاروں سے نکل کر دریاؤں کے کنارے بستیاں بسانی شروع کیں تھیں۔ اس دور میں ایسی ہی دیگر بستیوں کے مکینوں سے رابطے کے لیے ان کو ایک دوسرے کی بولی سمجھنے کی ضرورت تھی۔ دنیا کی سب سے پہلی تہذیب، سمیری،

Read more

اقبال کا تصورِ عشق

مسلمانوں کے ہاں صدیوں سے عشق کی دو اصطلاحیں رائج ہیں عشق حقیقی اور عشق مجازی۔ عاشق حقیقی سے مراد وہ عشق لیا جاتا ہے جو پاک ہو اور اس کے اندر جنسیت کا کوئی شبہ نہ ہو۔ یعنی خدا تعالیٰ کی ذات سے عشق۔ کلاسیکی شاعری میں عشق سے مراد عاشق اور محبوب کے درمیان تعلق کا ہونا ہے۔ اس میں ہجر و وصال کے قصوں کا بیان تھا۔ رونے دھونے کا عمل تھا۔ نالے اور آہوں کا بیان

Read more

ریفارمیشن – تحریک اصلاح کلیسا

قدیم رومن سلطنت کے شہنشاہ قسطنطین  کا 313 ع میں عیسائیت مذہب اختیار کرنے اور پھر 391 ع میں اس کے ایک جانشین تھیوڈوسس کا عیسائیت کو رومن سلطنت کا مذہب قرار دینے سے اس کا پھیلاؤ تیزی سے ہونے لگا یوں رومن چرچ کی اہمیت اور اثر بھی بڑھ گیا اس کے قواعد اور تنظیم میں تبدیلیاں کی گئیں۔ سقوط روم ( مغربی رومن سلطنت کے خاتمے ) کے بعد بتدریج اس کا دائرہ عمل اور طاقت بوجوہ بڑھتی

Read more

لالہ فہیم بلوچ: کتاب کا وارث گمشدہ

گزشتہ روز متاثرین کے لیے کراچی سے نصیر آباد سامان روانہ کر کے حب چوکی پہنچنے کے بعد مجھے دنیا کی مقبول ترین سماجی ویب سائٹ ٹویٹر استعمال کرنے کا موقع ملا۔ کچھ ٹویٹس کا جواب دینے کے بعد میری نظر ایک ٹویٹ پر پڑی جس پر لکھا ہوا تھا۔ ادارہ علم و ادب پبلشرز کے منیجر لالہ فہیم بلوچ کو سندھ پولیس کراچی اردو بازار سے اپنے ساتھ لے گئی۔ بلوچستان کا نگہبان ہونے کے ناتے مجھے بہت غصہ

Read more

کیا آپ اندر سے خالی ہیں؟

مجھ سے میرے کلینک میں ایک ستر سالہ مریض ملنے آیا۔ کہنے لگا میرے پاس سب کچھ ہے۔ ایک بڑا سا گھر ایک قیمتی کار ایک خوبصورت کشتی اور شہر سے دور ایک کاٹیج میں نے چند سال پیشتر اپنے بزنس سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی کیونکہ میرے پاس بینک میں اتنی رقم جمع ہو گئی تھی کہ میں بقیہ عمر آرام سے زندگی گزار سکتا تھا۔ مجھے کوئی مالی پریشانی نہیں ہے لیکن پھر بھی ایک مسئلہ ہے۔ اور

Read more

سورہ یاسین

’ سوہنا ایتھایں تاں مینڈا دم گھٹدا ای‘ (میری جان یہاں تو میرا دم گھٹتا ہے) ’ ایہہ تاں مٹھی قید آھی‘ (یہ تو میٹھی قید ہے) پٹھانے خان نے اسلام آباد سی ڈی اے ہوسٹل کے ایر کنٖڈیشن کمرے میں بچھے آرام دہ بستر پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ پٹھانے خان جب کسی پروگرام کے سلسلے میں اسلام آباد آتا تو اکثر میرے گھر میں ٹھہرتا۔ میرے گھر میں کوئی مہمان خانہ تو نہیں تھا لیکن ایک بڑا لاؤنج تھا

Read more

ادب، سماج، ثقافت، انقلاب اور دانشور: ”تھنکرز، ڈریمرز، اینڈ ڈوارز“ پہ ایک نظر

ڈاکٹر عارف آزاد کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب اپنے اندر فکر، نظریات، مزاحمت اور معاصر رجحانات کا ایک جہاں سموئے ہوئے ہیں۔ اتنے وسیع اور متنوع موضوعات کو ایک کتاب میں یوں پرونا کہ ہر موتی اپنی انفرادی شناخت برقرار رکھتے ہوئے اس بڑی تصویر کا حصہ نظر آئے ڈاکٹر صاحب کا ہی خاصہ ہے۔ جیسے فرانسس بیکن کے مضامین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ’ڈسپرسڈ میڈیٹیشنز‘ ہیں ڈاکٹر صاحب نے بھی ’ہائی کلچر‘

Read more