ہمارے یہاں مستشرقین کے بارے میں ہمیشہ سے ایک کشش سی رہی ہے۔ جس قدر انہیں ہمارے بارے میں جاننے کی جستجو ہوتی ہے ، اس سے کہیں زیادہ ہمیں ان غیر زبان کے لوگوں کے بارے میں جاننے کی خواہش ہوتی ہے۔ پروفیسر ڈیوڈ میتھوز کی شخصیت بھی ایسی ہی تھی۔
آج سے تقریباً نصف صدی پہلے کی بات ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے مشہور و معروف ڈاؤننگ کالج کے باہر ایک نوجوان انگریز طالب علم نے اپنی سگریٹ سلگائی اور انگلستان کی مسلسل اور تھکا دینے والی بارش سے بچنے کے لیے خود کو ذرا سا سائبان کے نیچے کر لیا۔ اسی اثنا میں ایک اور طالب علم، جو اپنی شکل اور وضع قطع سے جنوبی ایشیا کا رہنے والا معلوم ہوتا تھا، اس کے نزدیک آ کر کھڑا ہو گیا۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب دو سگریٹ پینے والے کھلی فضاء میں سگریٹ کے کش لگاتے ہیں تو بل کھاتے ہوئے دھوئیں کے درمیان نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔
انہوں نے اپنے اسی دوست سے برصغیر کی زبانوں کے بارے میں کچھ ابتدائی معلومات حاصل کیں اور انٹرویو دینے چلے گئے۔ وہاں ان کے موضوع پر سوالات کے بعد انٹرویو لینے والی پروفیسر نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کسی جنوبی ایشیائی زبان سے بھی واقف ہیں تو ڈیوڈ نے ایک رباعی جو انہوں نے اپنے پاکستانی دوست سے سیکھی تھی، اسے مکمل اعتماد کے ساتھ پڑھ کر سنا دی۔ خاتون نے کہا آپ کو تو بہت اچھی اردو آتی ہے۔
ڈیوڈ کی قسمت نے ان کا ساتھ دیا چونکہ وہاں اور کوئی ان سے بہتر امیدوار موجود نہ تھا لہٰذا ان کی ڈگریوں اور بنیادی قابلیت کی بناء پر لندن یونیورسٹی کے شعبۂ لسانیات میں ان کا تقرر ہو گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ڈیوڈ نے جو رباعی اپنے انٹرویو کے دوران سنائی تھی اس کا دور دور تک اردو زبان سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ وہ رباعی عمر خیام کی تھی۔
Read more